Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 11

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 11

–**–**–

میرے فلسطین میں آوں گا

صلاح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے غیر معمولی طور پر مستحکم مستقر کرک پر ایسی بے خبری میں حملہ کیا تھا کہ صلیبیوں کو اس وقت خبر ہوئی جب سلطان ایوبی کی فوج کرک کو محاصرے میں لے چکی تھی لیکن محاصرہ مکمل نہیں تھا۔ یہ سہ طرفہ محاصرہ تھا۔ جاسوسوں نے سلطان ایوبی کو یقین دلایا تھا کہ کرک شہر کے مسلمان باشندے ان چھاپہ ماروں کے ساتھ جنہیں سلطان ایوبی نے پہلے ہی شہر میں داخل کردیا تھا، اندر سے قلعے کی دیوار توڑ دیں گے۔ محاصرے کے چوتھے پانچویں روز اندر سے ایک جاسوس نے باہر آکر سلطان ایوبی کو یہ اطلاع دی کہ تمام چھاپہ مار اور چند ایک مسلمان شہری دیوار توڑنے کی کوشش میں شہید ہوگئے ہیں۔ ان میں مسلمان لڑکیاں بھی تھیں اور ان میں ایک عیسائی لڑکی بھی شامل ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی کو یہ بھی بتایا گیا کہ کسی ایمان فروش مسلمان نے اس جانباز جماعت میں شامل ہوکر دشمن کو اطلاع دے دی تھی جس کے نتیجے میں دشمن نے گھات لگائی اور ساری کی ساری جماعت کو شہید کردیا۔ یہ اطلاع بھی دی گئی کہ اب اندر سے دیوار توڑنے کی امیدیں ختم ہوچکی ہیں۔

امیدیں ختم ہونی ہی تھیں، صلیبیوں نے جب دیکھا کہ دیوار توڑنے والوں میں کرک کے مسلمان نوجوانوں اور لڑکیوں کی لاشیں تھیں تو انہوں نے مسلمانوں کی پکڑ دھکڑ اندھا دھند شروع کردی۔ لڑکیوں تک کو نہ بخشا۔ جوانوں کو بیگار کیمپ میں، بوڑھوں کو ان کے اپنے گھروں میں اور جوان لڑکیوں کو قلعے کی فوجی بارکوں میں قید کردیا۔ ان میں سے کچھ لڑکیوں نے خودکشی بھی کرلی تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ کفار ان کے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ صلاح الدین ایوبی کو بھی یہی غم کھانے لگا کہ کرک کے مسلمانوں کو یہ قربانی بہت مہنگی پڑے گی۔ اس نے جب ان جانبازوں کی خبر سنی تو اپنے نائبین سے کہا… ”یہ کارستانی صرف ایک ایمان فروش مسلمان کی ہے۔ اس ایک غدار نے اسلام کی اتنی بڑی فوج کو بے بس کردیا ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے اللہ کے نام پر جانیں قربان کردیں، ایک یہ مسلمان ہیں جنہوں نے اللہ کا ایمان کفار کے قدموں میں رکھ دیا ہے۔ یہ غدار اسلام کی تاریخ کا رخ پھیر رہے ہیں”… سلطان ایوبی غصے سے اٹھ کھڑا ہوا اور اپنی ران پر گھونسہ مار کر بولا… ”میں کرک کو بہت جلدی فتح کروں گا اور ان غداروں کو سزا دوں گا”۔

سلطان ایوبی کی انٹیلی جنس کا افسر زاہدان خیمے میں داخل ہوا، اس وقت سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ … ”آج رات کو محاصرہ مکمل ہوجانا چاہیے۔ میں آپ کو ابھی بتاتا ہوں کہ کون سے دستے کرک کے پیچھے بھیجے جائیں”۔

”مداخلت کی معافی چاہتا ہوں امیر مصر!”… زاہدان نے کہا… ”اب شاید آپ محاصرہ مکمل نہیں کرسکیں گے۔ ہم نے کچھ وقت ضائع کردیا ہے”۔

”کیا تم کوئی نئی خبر لائے ہو؟”… سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سے پوچھا۔

”آپ نے جس کامیابی سے دشمن کو بے خبری میں آن لیا تھا، اس سے آپ پورا فائدہ نہیں اٹھا سکے”۔ زاہدان نے جواب دیا۔ وہ ایسے بے دھڑک انداز سے بول رہا تھا جیسے اپنے سے چھوٹے عہدے کے آدمی کو ہدایات دے رہا ہو۔ سلطان ایوبی نے اپنے تمام سینئر اور جونئیر کمانڈروں اور تمام شعبوں کے سربراہوں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ اسے بادشاہ سمجھ کر فرشی سلام نہ کیا کریں، مشورے دلیری اور خوداعتمادی سے دیں اور نکتہ چینی کھل کر کیا کریں۔ زاہدان انہی ہدایات پر عمل کررہا تھا۔ اس کے علاوہ وہ انٹیلی جنس کا سربراہ تھا۔ اس کی حیثیت ایسی آنکھ کی سی تھی جو اندھیروں میں بھی دیکھ لیتی تھی اور وہ ایسا کان تھا جو اپنے جاسوسوں کے ذریعے سینکڑوں میل دور دشمن کی سرگوشیاں بھی سن لیا کرتا تھا۔ سلطان ایوبی کو اس کی اہمیت کا احساس تھا۔ وہ جانتا تھا کہ کامیاب جاسوسی کے بغیر جنگ نہیں جیتی جاسکتی۔ خصوصاً اس صورتحال میں جہاں صلیبیوں نے سلطنت اسلامی میں جاسوسوں اور تخریب کا جال بچھا رکھا تھا۔ سلطان ایوبی کو نہایت اعلیٰ اور غیرمعمولی طور پر ذہین اور تجربہ کار جاسوسوں کی ضرورت تھی۔ اس میدان میں وہ پوری طرح کامیاب تھا۔ اس کی انٹیلی جنس کے تین افسر علی بن سفیان اور اس کے دو نائب حسن بن عبداللہ اور زاہدان جانباز قسم کے سراغ رساں اور جاسوس تھے۔ انہوںنے اس محاذ پر صلیبیوں کے کئی وار بے کار کیے تھے۔

”آپ کو معلوم تھا کہ صلیبیوں نے جہاں کرک کا دفاع مضبوط کررکھا ہے وہاں بہت سی فوج کرک سے دور خیمہ زن کرکھی ہے”۔ زاہدان نے کہا… ”آپ کو یہ بھی بتا دیا گیا تھا کہ اس فوج کو باہر سے محاصرہ توڑنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ جاسوسوں کی اطلاع صاف بتا رہی تھیں کہ اب صلیبی قلعے سے باہر لڑیں گے پھر بھی آپ نے فوری طور پر محاصرہ مکمل نہیں کیا۔ اس سے دشمن نے فائدہ اٹھا لیا ہے”۔

”تو کیا انہوں نے حملہ کردیا ہے؟” سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیتابی سے پوچھا۔

”آج شام تک ان کی فوج اس مقام پر آجائے گی جہاں ہماری کوئی فوج نہیں”۔ زاہدان نے جواب دیا… ”میرے جاسوس جو اطلاع لائے ہیں وہ یہ ہیں کہ صلیبی فوج گھوڑ سوار اور شتر سوار ہوگی۔پیادہ دستے بہت کم ہیں، وہ محاصرے کی جگہ پر آجائیں گے اور دائیں بائیں حملے کریں گے۔ اس کا نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ ہمارا محاصرہ ٹوٹ جائے گا۔ صلیبیوں کی تعداد بھی زیادہ بتائی جاتی ہے”۔

”میں تمہیں اور تمہارے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو یہ اطلاع لائے ہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”میں جانتا ہوں یہ کام کتنا دشوار اور خطرناک ہے۔ میں تم سب کو یقین دلاتا ہوں کہ صلیبی ہمارے محاصرے کا جو خلا پر کرنے اور محاصرے توڑنے آرہے ہیں میں انہیں اسی خلا میں گم کردوں گا۔ مجھے اللہ کی مدد پر بھروسہ ہے اگر تم میں کوئی غدار نہیں تو اللہ تمہیں فتح عطا فرمائے گا”۔

”ابھی وقت ہے”۔ ایک نائب سالار نے کہا… ”اگر آپ حکم دیں تو ہم محفوظہ کے تین چار دستے صلیبیوں کے پہنچنے سے پہلے بھیج دیتے ہیں۔ محاصرے کا خلا پر ہوجائے گا اور صلیبیوں کا حملہ ناکام ہوجائے گا”۔

سلطان ایوبی کے چہرے پر پریشانی یا اضطراب کا ہلکا سا تاثر بھی نہیں تھا۔ اس نے زاہدان سے پوچھا… ”اگر تمہاری اطلاع بالکل صحیح ہے تو کیا تم بتا سکتے ہو کہ صلیبی فوج کس وقت حملے کے مقام پر پہنچے گی؟”

”ان کی پیش قدمی خاصی تیز ہے”۔ زاہدان نے جواب دیا… ”ان کے ساتھ خیمے اور رسد نہیں آرہی۔ پیچھے آرہی ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ راستے میں کوئی پڑائو نہیں کریں گے اگر وہ اسی رفتار پر آتے رہے تو رات گہری ہونے تک پہنچ جائیں گے”۔

”خدا کرے کہ وہ راستے میں نہ رکیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”مگر وہ تھکے ہوئے اور بھوکے پیاسے گھوڑوں اور اونٹوں کے ساتھ حملہ نہیں کریں گے۔ حملے کے مقام پر آکر جانوروں کو آرام اور خوراک دیں گے۔ اس دوران وہ دیکھیں گے کہ ہم نے جو محاصرہ کررکھا ہے اس میں خلا ہے یا نہیں۔ صلیبی اتنے کوڑھ مغز نہیں کہ ایسی پیش بینی اور پیش بندی نہ کریں”… سلطان ایوبی نے اپنے عملے کے دو تین حکام کو بلایا اور انہیں نئی صورتحال سے آگاہ کرکے کہا… ”صلیبی ہمارے جال میں آرہے ہیں، قلعے کے عقب میں ہم نے محاصرے میں جو خلا چھوڑ دیا ہے اسے اور زیادہ کھلا کردو۔ دائیں اور بائیں کے دستوں سے کہہ دو کہ ان پر عقب سے حملہ آرہا ہے۔ اپنے پہلوئوں کو مضبوط کرلیں اور دشمن کو اپنے درمیان آنے دیں۔ کوئی تیرانداز حکم کے بغیر کمان سے تیر نہ نکالے”۔

اس قسم کے احکام کے بعد سلطان ایوبی نے پیادہ اور سوار تیراندازوںکے چند ایک دستوں کو جو اس نے ریزرو میں رکھے ہوئے تھے، سورج غروب ہوتے ہی ایسے مقام پر چلے جانے کو کہا جو صلیبیوں کے حملے کے ممکنہ مقام کے قریب تھا۔ وہ علاقہ میدانی نہیں تھا اور صحرا کی طرح ریتلا بھی نہیں تھا۔ وہ ٹیلوں، چٹانوں اور گھاٹیوں کا علاقہ تھا۔ سلطان ایوبی نے چھاپہ مار دستوں کے کمانڈر کو بھی بلا لیا تھا۔ اسے اس نے یہ کام سونپا کہ صلیبیوں کی فوج کے پیچھے فلاں راستے سے یہ رسد آرہی ہے جو رات کو راستے میں تباہ کرنی ہے۔ ایسے اور کئی ایک ضروری احکامات دے کر سلطان ایوبی خیمے سے نکلا، اپنے گھوڑے پر سوار ہوا۔ اپنے عملے کے ضروری افراد کو ساتھ لیا اور محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔

٭ ٭ ٭

صلاح الدین ایوبی خوش فہمیوں میں مبتلا ہونے والا انسان نہیں تھا۔ اس نے دور سے محاصرے کا جائزہ لیا اور اپنے عملے سے کہا… ”صلیبیوں سے یہ قلعہ لینا آسان نہیں۔ محاصرہ بڑے لمبے عرصے تک قائم رکھنا پڑے گا”۔ اس نے دیکھا کہ قلعے کی سامنے والی دیوار سے تیروں کا مینہ برس رہا ہے۔ قلعے کے دروازے تک پہنچانا ناممکن تھا… سلطان ایوبی کی فوج تیروں کی زد سے دور تھی۔ جوابی تیر اندازی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ سلطان ایوبی قلعے کے پہلو کی طرف گیا وہاں اسے ایک ولولہ انگیز منظر نظر آیا۔ اس کا ایک دستہ حیران کن تیزی سے قلعے کی دیوار پر تیر برسا رہا تھا۔ چھ منجنیقیں آگ پھینک رہی تھیں۔ دیوار پر جہاں تیر اور آگ کے گولے جارہے تھے وہاں کوئی صلیبی نظر نہیں آرہا تھا۔ وہ دبک گئے تھے۔ سلطان ایوبی دور کھڑا دیکھتا رہا۔ اس کے تقریباً چالیس سپاہی ہاتھوں میں برچھیاں اورکدالیں اٹھائے دیوار کی طرف سرپٹ دوڑ پڑے اور دیوار تک پہنچ گئے۔ قلعے کی دیوار پتھروں اور مٹی کی تھی۔ انہوں نے دیوار توڑنی شروع کردی۔ اسی مقصد کے لیے اوپر تیر اور آگ کے گولے برسائے جارہے تھے کہ اوپر سے دشمن ان پر دیوار توڑتے وقت تیر نہ چلا سکے۔

سلطان ایوبی کے منہ سے بے اختیار نکلا… ”آفرین”… مگر اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ قلعے کی دیوار پر للکار سنائی دی۔ عین اس جگہ کے اوپر سے جہاں سلطان ایوبی کے جانبز دیوار توڑ رہے تھے۔ بہت سے صلیبیوں کے سر اور کندھے نظر آئے۔ پھر بڑے بڑے ڈول اور ڈرم نظر آئے۔ یہ الٹا دئیے گئے۔ ان میں جلتی ہوئی لکڑیاں اور انگارے نکلے جو ان مجاہدین پر گرے جو نیچے دیوار توڑ رہے تھے۔ مجاہدین نے آگے جاکر تیر برسانے شروع کردیئے جن میں متعدد صلیبی گھائل ہوگئے۔ دیوار کی کسی اور طرف سے تیر آئے جنہوں نے مجاہدین تیر اندازوں کو زخمی اور شہید کردیا پھر دونوں طرف سے اس قدر تیر برسنے لگے کہ ہوا میں اڑتے ہوئے تیروں کا جال تن گیا۔ جانباز دیوار توڑ رہے تھے۔ یہ کام آسان نہیں تھا کیونکہ دیوار بہت ہی چوڑی تھی۔ نیچے سے اس کی چوڑائی اوپر کی نسبت زیادہ تھی۔ ان جانبازوں پر اوپر سے تیر نہیں چلایا جاسکتا تھا مگر ان پر جلتی لکڑیاں اور دہتے انگارے پھینکے جارہے تھے۔ آگ کے ڈول اور ڈرم پھینکنے والوں میں بظاہر کوئی بھی مسلمان تیر اندازوں سے بچ کر نہیں جاتا تھا لیکن وہ تیر کھا کر گرنے سے پہلے آگ انڈیل دیتے تھے۔

نیچے یہ عالم تھا کہ آگ بھڑک رہی تھی اور دیوار توڑنے والے شعلوں اور انگروں میں بھی دیوار توڑ رہے تھے۔ تیروں کا تبادلہ ہورہا تھا۔ آخر دیوار توڑنے والے جھلس گئے اور ان میں سے چند ایک اس حالت میں پیچھے کو دوڑے کہ ان کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ دیوار سے ہٹے ہی تھے کہ اوپر سے تیر آئے جو ان کی پیٹھوں میں اتر گئے۔ اس طرح ان میں سے کوئی زندہ واپس نہ آسکا۔ دس اور مجاہدین دیوار کی طرف دوڑے اور دشمن کے تیروں میں سے گزرتے ہوئے دیوار تک پہنچ گئے۔ انہوں نے بڑی پھرتی سے دیوار کے بہت سے پتھر نکال لیے۔ اوپر سے ان پر بھی آگ کے ڈرم اور ڈول انڈیل دیئے گئے۔ آگ پھینکنے والوں سے دو اتنا اوپر اٹھ گئے تھے کہ مجاہدین کے تیر سینوں میں کھا کر وہ پیچھے گرنے کے بجائے آگے کو گرے اور دیوار سے سیدھے نیچے اپنی ہی پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے مگر دیوار توڑنے والوں میں سے بھی کوئی زندہ نہ بچا۔

سلطان ایوبی نے اپنے گھوڑے کو ایڑی لگائی اور اس دستے کے کمانڈر کے پاس جاکر کہا… ”تم پر اور تمہارے جانبازوں پر اللہ کی رحمت ہو۔ اسلام کی تاریخ ان سب کو ہمیشہ یاد رکھے گی جو اللہ کے نام پر جل گئے ہیں۔ اب یہ طریقہ چھوڑ دو، پیچھے ہٹ آئو۔ اتنی تیزی سے انسان اور تیر ختم نہ کرو۔ صلیبی اس قلعے کے لیے اتنی زیادہ قربانی دے رہے ہیں جس کا میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا”۔

”اور ہم بھی اتنی زیادہ قربانی دیں گے جس کا صلیبی تصور نہیں کرسکتے”۔ کمانڈر نے کہا… ”دیوار یہیں سے ٹوٹے گی اور ہم آپ کو یہیں سے اندر لے جائیں گے”۔

”اللہ تعالیٰ تمہاری آرزو پوری کرے”۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا… ”اپنے مجاہدین کو بچا کر رکھو، صلیبی باہر سے حملہ کررہے ہیں، تمہیں شاید باہر لڑنا پڑے گا۔ محاصرہ مضبوط رکھو۔ ہم صلیبیوں کو اندر بھوکا ماریں گے”۔

اس دستے کو پیچھے ہٹا لیا گیا مگر کمانڈر نے سلطان ایوبی سے کہا… ”سالاراعظم کی اجازت ہو تو میں شہیدوں کی لاشیں اٹھوا لوں؟ اس مقصد کے لیے مجھے پھر یہی طریقہ اختیار کرنا پڑے گا”۔

”ہاں!” سلطان ایوبی نے کہا… ”اٹھوا لو۔ کسی شہید کی لاش باہر نہ پڑی رہے”۔

سلطان ایوبی وہاں سے چلا گیا۔ اس جانباز دستے نے جس طرح اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھائیں وہ ایک ولولہ انگیز منظر تھا۔ جتنی لاشیں اٹھانی تھیں، اتنے ہی مجاہدین شہید ہوگئے۔ سلطان ایوبی دور نکل گیا تھا۔ جنگ کے دوران وہ اپنا پرچم ساتھ نہیں رکھا کرتا تھا تاکہ دشمن کو معلوم نہ ہوسکے کہ وہ کہاں ہے۔ وہ اپنی فوج سے دور ہٹ گیا اور بہت دور جا کر وہ ٹیلوں، چٹانوں اور گھاٹیوں کے علاقے میں چلا گیا۔ وہ گھوڑے سے اترا اور ایک ٹیلے پر جاکر لیٹ گیا تاکہ اسے دشمن نہ دیکھ سکے۔ اسے قلعہ اور شہر کی دیوار نظر آرہی تھی اور کم وبیش ایک میل لمبا وہ علاقہ بھی نظر آرہا تھا جہاں ابھی اس کی فوج نہیں پہنچی تھی۔ اس نے ٹیلوں کے علاقے کا جائزہ لیا، ہر جگہ گھوما پھرا۔

اسی جائزے اور دیکھ بھال میں سورج غروب ہوگیا۔ وہ وہیں رہا۔ شام گہری ہوئی تو اسے اطلاع دی گئی کہ اس کے حکم کے مطابق پیادہ اور سوار تیراندازوں کے دستے آرہے ہیں۔ اس نے اپنے قاصد سے کہا کہ کمانڈروں کو بلایا جائے… جب کمانڈر اس کے پاس آئے تو چھاپہ مار دستے کا کمانڈر بھی ان کے ساتھ تھا۔ اسے سلطان ایوبی نے راستہ بتا کر اپنے ہدف پر چلے جانے کو کہا، پھر وہ دوسرے کمانڈروں کو ہدایات دینے لگا۔

٭ ٭ ٭
آدھی گزری تھی کہ دور سے گھوڑوں کی آوازیں اس طرح سنائی دینے لگیں جیسے سیلاب بند توڑ کر آرہا ہو۔ چاند پورا تھا، چاندنی شفاف تھی۔ صلیبیوں کے گھوڑ سوار ٹیلوں اور چٹانوں سے کچھ دور تک آگئے۔ ان کے پیچھے شتر سوار تھے۔ ان کی تعداد کے متعلق مورخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ غیر مسلم مورخوں نے تعداد تین ہزار سے کم بیان کی ہے۔ مسلمان مورخ پانچ سے آٹھ ہزار تک بتاتے ہیں۔ اس وقت کے وقائع نگاروں کی جو تحریریں دستیاب ہوسکی ہیں وہ کم سے کم تعداد دس ہزار اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہزار بتاتے ہیں۔ ان کا کمانڈر ایک مشہور صلیبی حکمران ریمانڈ تھا۔ دو مورخوں نے کمانڈر کا نام رینالٹ لکھا ہے لیکن وہ ریمانڈ تھا۔ وہ اسی حملے کے لیے لمبے عرصے سے وہاں سے دور خیمہ زن تھا۔ اسے اب رات کو یہ صبح ہوتے ہی سلطان ایوبی کی اس فوج پر حملہ کرنا تھا جس نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا تھا۔

صلیبی سوار گھوڑوں اور اونٹوں سے اترے، گھوڑوں کے ساتھ دانے کی تھیلیاں تھیں جو گھوڑوں کے آگے لٹکا دی گئیں۔ سواروں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے جانور کے ساتھ رہیں اور زیادہ دیر کے لیے سو نہ جائیں۔ جانوروں کے لیے چارہ اور پانی کے مشکیزے پیچھے آرہے تھے۔ صلیبیوں نے یہ سوچا تھا کہ مسلمانوں پر عقب سے اچانک حملہ کرکے گھوڑوں کو قلعے کے اندر سے پانی پلائیں گے۔ سلطان ایوبی کے دیدبان صلیبیوں کو بڑی اچھی طرح دیکھ رہے تھے اور گھبرا بھی رہے تھے کیونکہ صلیبیوں کی طاقت بہت زیادہ تھی۔ اتنی زیادہ طاقت سے وہ محاصرہ توڑ سکتے تھے۔

صحرا بھی دھنلی تھی، صلیبیوں کو سوار ہونے، برچھیاں اور تلواریں تیار رکھنے کا حکم ملا۔ یہ دراصل حملے کا حکم تھا۔ وہ ایک بڑی ہی لمبی صف کی صورت میں آگے بڑھے، جونہی اگلی صف نے ایڑی لگائی، عقب سے تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں، جن سواروں کو تیر لگے، وہ گھوڑوں پر ہی اوندھے ہوگئے یا گر پڑے اور جن گھوڑوں کو تیر لگے وہ بے قابو ہوکر بھاگ اٹھے۔ اونٹ بھی چلے ہی تھے کہ ان میں بھگدڑ مچ گیا۔ صلیبی کمانڈر سمجھ نہ سکے کہ یہ ہوا کیا ہے اور ان کی ترتیب بکھرتی کیوں جارہی ہے۔ انہوں نے غصے کی حالت میں چلانا شروع کردیا۔ زخمی گھوڑوں اور اونٹوں نے جو واویلا بپا کیا اس نے ساری فوج پر دہشت طاری کردی۔ صبح کا اجالا صاف ہوا تو ریمانڈ کو معلوم ہوا کہ وہ سلطان ایوبی کے گھیرے میں آگیا ہے۔ اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کتنی ہے۔ وہ اسے بہت زیادہ سمجھ رہا تھا۔ ایسی صورتحال کے لیے وہ تیار نہیں تھا۔ اس نے حملہ رکوا دیا لیکن اس کے سواروں کی اگلی صف اس خلاکے قریب پہنچ چکی تھی جہاں اس پورے لشکر کو پہنچنا تھا۔

محاصرے والی فوج کو پہلے ہی خبردار کردیا گیا تھا۔ وہ اسے حملے کے استقبال کے لیے تیار تھی۔ اس کے مجاہدین نے گرد کے بادل زمین سے اٹھتے اور اپنی طرف آتے دیکھے تو وہ تیار ہوگئے۔ گرد قریب آئی تو اس میں سے گھوڑ سوار نمودار ہوئے۔ مجاہدین نے اپنے آپ کو حملہ روکنے کی ترتیب میں کرلیا۔ وہ دائیں اور بائیں تھے۔ جونہی گھوڑے ان کے درمیان آئے، مجاہدین پہلوئوں سے ان پر ٹوٹ پڑے۔ تب صلیبی سواروں کو احساس ہوا کہ وہ اپنے لشکر سے کٹ گئے ہیں اور ان کا لشکر اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی اس معرکے کی کمان اور نگرانی خود کررہا تھا۔ صلیبی پیچھے کو مڑے تاکہ مقابلہ کریں لیکن سلطان ایوبی نے انہیں یہ چال چل کر بہت مایوس کیا کہ صلیبیوں کا کوئی دستہ سرپٹ رفتار سے کسی طرف حملہ کرتا تھا تو آگے مزاحمت نہیں ملتی تھی۔ البتہ پہلوئوں اور عقب سے اس پر تیر برستے تھے۔ صلیبی کمانڈروں نے اپنے لشکر کو چھوٹے چھوٹے دستوں میں تقسیم کردیا۔ سلطان ایوبی کے کمانڈروں نے اس کی ہدایت کے مطابق آمنے سامنے کے مقابلے کی نوبت ہی نہ آنے دی۔ صلیبیوں کے گھوڑے تھکے ہوئے تھے۔ بھوکے اور پیاسے بھی تھے۔ انہیں جنگ روکنی پڑی۔ وہ چارے اور پانی کے منتظر تھے۔ رسد کو صبح تک پہنچ جانا چاہیے تھا۔

دوپہر تک رسد نہ پہنچی۔ چند ایک سوار دوڑے گئے لیکن وہ مسلمان تیر اندازوں کا شکار ہوگئے۔ اگر وہ زندہ پیچھے چلے بھی جاتے تو انہیں رسد نہ ملتی۔ وہ رات کو ہی سلطان ایوبی کے چھاپہ مار دستے کی لپیٹ میں آگئی تھی۔ اس دستے نے بڑی کامیابی سے شب وخون مارا اور رسد تباہ کردی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے محفوظہ میں سے مزید دستے بلا لیے اور ریمانڈ کے لشکر کو گھیرے میں لے لیا۔ اگر مسلمانوں کی تعداد صلیبیوں جتنی ہوتی تو وہ حملہ کرکے صلیبیوں کو ختم کردیتے۔ سلطان ایوبی اپنی نفری ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے اس لشکر کو لڑاتے لڑاتے ٹیلوں اور گھاٹیوں کے علاقے میں لے جا کر گھیرے میں لے لیا۔ اسے معلوم تھا کہ جوں جوں وقت گزرتا جائے گا صلیبی بے کار ہوتے جائیں گے مگر صلیبیوں کو بڑی کامیابی سے گھیر ے میں لے کر اسے خود بھی نقصان ہورہا تھا۔ اس نے جہاں صلیبیوں کی اتنی بڑی قوت کو باندھ لیا تھا وہاں اس کے اپنے بہت سے ریزور دستے بھی بندھ گئے تھے۔ انہیں اب وہ کسی اور طرف استعمال نہیں کرسکتا تھا۔

اس علاقے کے اندر پانی موجود تھا، جو جانوروں کو کچھ عرصے کے لیے زندہ رکھنے کے لیے کافی تھا۔ فوج کوزندہ رکھنے کے لیے زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کا گوشت کافی تھا۔ سلطان ایوبی نے شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔ صلیبی چین سے نہیں بیٹھے۔ ہر روز کسی نہ کسی جگہ جھڑپ ہوتی تھی اور دن گزرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی نے قلعے اور شہر کے گرد گھومنا شروع کردیا۔ کہیں سے بھی دیوار توڑنے کی صورت نظر نہیں آر ہی تھی۔

٭ ٭ ٭

محاصرے کا سولہواں سترھواں روز تھا، شام کے وقت سلطان ایوبی اپنے خیمے میں بیٹھا اپنے نائبین وغیرہ کے ساتھ اس مسئلے پر باتیں کررہا تھا کہ قلعے کو توڑنے کی کیا صورت اختیار کی جائے۔ محافظ نے اندر آکر اطلاع دی کہ سوڈان کے محاذ سے قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی تڑپ کر بولا… ”اسے فوراً اندر بھیج دو”… اور اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے نکل گیا… ”اللہ کرے یہ کوئی اچھی خبر لایا ہو”۔

قاصد اندر آیا تو سلطان ایوبی نے فوراً پہچان لیا کہ یہ قاصد نہیں، کسی دستے کا کمانڈر ہے۔ سلطان ایوبی نے بیتابی سے پوچھا… ”کوئی اچھی خبر لائے ہو؟… بیٹھ جائو”۔

کمانڈر نے نفی میں سر ہلایا اور بولا… ”جس رنگ میں سالار اعظم دیکھیں، خبر اس لیے اچھی نہیں کہ ہم سوڈان میں فتح حاصل نہیں کرسکے اور اس لحاظ سے خبر اچھی ہے کہ ہم نے ابھی شکست نہیں کھائی اور پسپا نہیں ہوئے”۔

”اس کا مطلب یہ ہوا کہ شکست اور پسپائی کے آثار بھی نظر آرہے ہیں”۔ سلطان ایوبی نے پوچھا۔

”صاف نظر آرہے ہیں”۔ کمانڈر نے جواب دیا… ”میں آپ کا حکم لینے آیا ہوں کہ ہم کیا کریں۔ ہمیں کمک کی شدید ضرورت ہے۔ اگر ہماری یہ ضرورت پوری نہ ہوئی تو پسپائی کے بغیر چارہ نہیں”۔

سلطان ایوبی نے پورا پیغام سننے سے پہلے اس کے لیے کھانا منگوایا اور کہا کہ کھائو اور پیغام سناتے جائو۔ سلطانایوبی کی غیرحاضری میں اس کا بھائی تقی الدین مصر کا قائم مقام امیر مقرر ہوا تھا۔ اس نے سوڈان اور مصر کی سرحد کے قریب فرعونوں کے زمانے کے کھنڈروں میں صلیبیوں کا پیدا کردہ ایک بڑا ہی خطرناک نظریہ اور ڈرامہ پکڑا تھا اور اس کے فوراً بعد اس نے یہ سوچ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہاں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ مشیروں اور سالاروں نے اسے کہا تھا کہ وہ سلطان ایوبی سے اجازت لے کر حملہ کریں مگر تقی الدین نے یہ کہہ کر سوڈان پر حملہ کردیا تھا کہ وہ اپنے بھائی کو اس لیے پریشان نہیں کرنا چاہتے کہ وہ صلیبیوں کے اتنے طاقتور لشکر کے خلاف لڑ رہا ہے۔ اس نے جوش میں آکر حملہ تو کردیا تھا لیکن یہ کمانڈر پیغام لایا تھا کہ سوڈان میں شکست صاف نظر آرہی ہے۔ عام قاصد کے بجائے تقی الدین نے ایک کمانڈر کو اس لیے بھیجا تھا کہ وہ سلطان ایوبی کو محاذ کی صحیح صورتحال فنی نقطہ نگاہ سے سنا سکے۔ اس سے پہلے سلطان ایوبی کو صرف یہ اطلاع ملی تھی کہ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کردیا ہے۔

کمانڈر نے جو واقعات سلطان ایوبی کو سنائے وہ مختصراً یہ تھے کہ تقی الدین نے حقائق پر نظر ر کھنے کے بجائے جذبے اور جذبات سے مغلوب ہوکر حملے کا حکم دے دیا۔ اس کا جذبہ وہی تھا جو اس کے بھائی سلطان ایوبی کا تھا لیکن دونوں بھائیوں کی جنگی فہم وفراست میں فرق تھا۔تقی الدین نے جو فیصلہ کیا نیک نیتی اور اسلامی جذبے کے تحت کیا مگر وہ اس حقیقت کو نظر انداز کرگیا کہ دشمن پر سوچے سمجھے بغیر ٹوٹ پڑنے کو جہاد یا جنگ نہیں کہتے۔ اس نے سوڈان میں پھیلائے ہوئے اپنے جاسوسوں کی رپورٹوں پر بھی پوری طرح غور نہ کیا۔ ان کی صرف اس اطلاع پر توجہ مرکوز رکھی کہ سوڈانیوں کو صلیبی کمانڈر ٹریننگ دے رہے ہیں اور وہاں حملے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں۔ تقی الدین نے دشمن کو تیاری کی حالت میں دبوچ لینے کا فیصلہ کرلیا مگر اس قسم کی انتہائی اہم معلومات حاصل نہ کیں کہ سوڈانیوں کی جنگی طاقت کتنی ہے؟ وہ کتنی طاقت لڑائیں گے اور کتنی ریزو میں رکھیں گے؟ ان کے ہتھیار کیسے ہیں؟ سوار کتنے اور پیادہ کتنے ہیں؟ اور سب سے زیادہ اہم مسئلہ یہ تھا کہ میدان جنگ کس قسم کا اور مصر سے کتنی دور ہوگا اور رسد کے انتظامات کیا ہوں گے؟

وہ خرابیاں تو ابتداء میں ہی سامنے آگئیں، ایک یہ کہ سوڈانیوں نے بلکہ صلیبی کمانڈروں نے تقی الدین کو سرحد پرروکا نہیں۔ اسے بہت دور تک سوڈان کے اس علاقے تک جانے کے لیے راستہ دے دیا جو بڑا ہی ظالم صحرا تھا اور جہاں پانی نہیں تھا۔ دوسرا نقصان یہ سامنے آیا کہ تقی الدین کی فوج دراصل صلاح الدین ایوبی کی چالوں پر لڑنے والی فوج تھی جو انتہائی کم تعداد میں دشمن کے بڑے بڑے دستوں کو تہس نہس کردیا کرتی تھی۔ اس فوج کو صرف سلطان ایوبی استعمال کرسکتا تھا۔ سلطان ایوبی آمنے سامنے کی ٹکر سے ہمیشہ گریز کرتا تھا۔ وہ متحرک قسم کی جنگ لڑتا تھا۔ تقی الدین لشکر کشی کا قائل تھا۔ اس فوج میں تجربہ کار اور جانباز چھاپہ مار دستے بھی تھے لیکن ان کا صحیح استعمال سلطان ایوبی جانتا تھا۔ سوڈان میں جاکر یوں ہوا کہ فوج ایک لشکر کی صورت میں بندھی رہی اور دشمن اپنی چال چل گیا۔ دشمن تقی الدین کو اپنی پسند کے علاقے میں لے گیا اور اس کی فوج پر سلطان ایوبی کے انداز کے شب وخون مارنے شروع کردیئے۔ تقی الدین کے جانوروں اور جوانوں کو پانی کی ایک بوند بھی نہیں ملتی تھی۔ چھاپہ مار دستوں کے کمانڈروں نے اسے کہا کہ وہ انہیں صحرا میں آزاد چھوڑ دے مگر تقی الدین نے اسے خدشے کے پیش نظر انہیں کوئی کارروائی نہ کرنے دی کہ جمعیت اور مرکزیت ختم ہوجائے گی۔

جب رسد کا مسئلہ سامنے آیا تو یہ تکلیف دہ احساس ہوا کہ وہ اتنی دور چلے آئے ہیں جہاں تک رسد کو پہنچتے کئی دن لگیں گے اور رسد کا راستہ محفوظ بھی نہیں۔ ہوا بھی ایسے ہی کہ رسد کے پہلے ہی قافلے کی اطلاع ملی کہ دشمن نے اسے تباہ نہیں کیا بلکہ تمام تر رسد اور جانور اڑالے گیا ہے۔ اس حادثے کی اطلاع پر چھاپہ مار دستوں کے ایک سینئر کمانڈر اور تقی الدین میں گرما گرمی ہوگئی۔ کمانڈر نے کہا کہ وہ لڑنے آئے ہیں اور لڑیں گے لیکن اس طرح نہیں کہ دشمن شب وخون مار رہا ہے۔ رسد لوٹ کر لے گیا ہے اور ہم مرکزیت کے پابند بیٹھے رہیں۔ تقی الدین نے حکم کے لہجے میں سخت کلامی کی تو کمانڈر نے کہا… ”آپ تقی الدین ہیں، صلاح الدین نہیں۔ ہم اس عزم اور اس طریقے سے لڑیں گے جو ہمیں صلاح الدین ایوبی نے

سکھایا ہے۔ ہم چھاپہ مار ہیں۔ ہم دشمن کے پیٹ کے اندر جاکر اس کا پیٹ چاک کیا کرتے ہیں۔ آپ کا یہ لشکر بھوکا مرررہا ہے اور رسد دشمن لے گیا ہے۔ ہم دشمن کی رسد لوٹ کر اپنی فوج کو کھلانے کے عادی ہیں”۔

۔ ہم چھاپہ مار ہیں۔ ہم دشمن کے پیٹ کے اندر جاکر اس کا پیٹ چاک کیا کرتے ہیں۔ آپ کا یہ لشکر بھوکا مرررہا ہے اور رسد دشمن لے گیا ہے۔ ہم دشمن کی رسد لوٹ کر اپنی فوج کو کھلانے کے عادی ہیں”۔

وقائع نگار لکھتے ہیں کہ تقی الدین کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ وہ جانتا تھا کہ چھاپہ ماروں کا یہ کمانڈر کس جذبے سے پاگل ہوا جارہا ہے۔ اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ”میں ذات باری تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔ میں ان جانبازوں کو جو فلسطین میں لڑتے ہوئے آئے ہیں، ناحق موت کے منہ میں نہیں دھکیلنا چاہتا”۔

”پھر آپ کو حملہ بھی نہیں کرنا چاہیے تھا”۔ کمانڈر نے کہا… ”ہم میں کون ہے جو اللہ کے نام پر جان دینے کے یے تیار نہیں، ہم موت کے منہ میں آچکے ہیں اور یہی مسلمان کی شان ہے کہ وہ موت کے منہ میں جاکر اپنے آپ کو اللہ کے قریب محسوس کرتا ہے۔ آپ جذبات سے نکلیں، ہم دشمن کے جال میں آچکے ہیں”۔

تقی الدین کوئی ایسا اناڑی بھی نہیں تھا، اسے سلطان ایوبی کے یہ الفاظ یاد تھے کہ اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر کسی کو حکم نہ دینا ور میدان جنگ میں جاکر اپنی غلطیوں سے چشم پوشی نہ کرنا۔ اس نے اس کمانڈر کی سخت کلامی کو گستاخی نہ سمجھا اور اسی وقت تمام اعلیٰ کمانڈروں کو بلا کر جنگ کی صورتحال اور آئندہ اقدام کے متعلق بات چیت کی۔ فیصلہ ہوا کہ چھاپہ ماروں کو جوابی کارروائیاں کرنے کے لیے پھیلا دیا جائے۔ رسد کے راستے کو بھی چھاپہ مار اپنی حفاظت میں لے لیں۔ فوج کے متعلق یہ فیصلہ ہوا کہ اسے تین حصوں میں تقسیم کرکے دشمن پر تین اطراف سے حملہ کیا جائے۔ تقی الدین نے اپنے پاس جو محفوظہ رکھا وہ خاصا کم تھا۔ اس تقسیم ا ور ترتیب سے یہ فائدہ ہوا کہ فوج اس علاقے سے نکل گئی جہاں پانی نہیں تھا۔ ریت اور ٹیلوں کا سمندر تھا مگر فوج بکھر گئی۔ دشمن نے تینوں حصوں پر حملے کرکے انہیں اور زیادہ بکھیر دیا۔ جانی نقصان بہت ہونے لگا، نہایت تیزی سے کمانڈروں نے اپنے اپنے دستوں کو الگ الگ کرکے اسی نوعیت کی جنگ شروع کردی جو انہیں سلطان ایوبی نے سکھائی تھی مگر صاف پتا چل رہا تھا کہ وہ جیت نہیں سکیں گے۔ انہوں نے جذبہ قائم رکھا۔ رسد اور کمک کا سوال ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ شب وخون مارتے اور کھانے پینے کے لیے کچھ حاصل کرلیتے تھے۔ چھاپہ مار دستے نہایت جانبازی سے شب وخون مارتے دشمن کا نقصان کرتے اور جو ہاتھ لگتا وہ مختلف دستوں تک پہنچا دیتے تھے۔

Read More:  Peer e Kamil Novel By Umera Ahmed – Episode 23

مرکزی کمان ختم ہوچکی تھی، تقی الدین اپنے عملے کے ساتھ بھاگتا دوڑتا رہتا تھا۔ جذبے کی حد تک وہ مطمئن تھا۔ اسے کہیں سے بھی ایسی اطلاع نہ ملی کہ کسی دستے یا جماعت نے ہتھیار ڈال دیئے ہوں۔ جنگ چھوٹے چھوٹے معرکوں اور جھڑپوں میں تقسیم ہوتے ہوتے آدھے سوڈان تک پھیل گئی۔ مسلمان کمانڈروں نے فردً فرداً یہ فیصلہ کرلیا کہ وہ چھاپہ مار قسم کی جنگ لڑتے رہیں گے۔ سوڈان سے نکلیں گے نہیں۔ دشمن کا نقصان بھی ہورہا تھا۔ ایک وقت آگیا، جب دشمن پریشان ہوگیا کہ مسلمانوں کو سوڈان سے کس طرح نکالا جائے۔ مسلمان فوجی صحرائوں، بیابانوں اور دیہاتی آبادیوں میں پھیل گئے تھے۔ اب مرکز کو یہ بھی پتا نہیں چلتا تھا کہ جانی نقصان کتنا ہوچکا ہے اور کتنی نفری باقی ہے۔ یہ اندازہ ضرور ہورہا تھا کہ دشمن بھی مصیبت میں مبتلا ہے اور اب وہ مصر پر حملہ نہیں کرسکے گا مگر اس طریقہ جنگ سے کوئی ٹھوس فائدہ حاصل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ کوئی علاقہ فتح نہیں کیا جاسکتا تھا۔ فوج مرتی جارہی تھی۔

ان حالات میں تقی الدین نے سلطان ایوبی کو اپنے ایک کمانڈر کی زبانی پیغام بھیجا۔ اس نے کہا کہ سوڈان کی مہم صرف اسی صورت میں کامیاب ہوسکتی ہے کہ اسے کمک مل جائے۔ اس کی تمام فوج چھاپہ مار پارٹیوں میں بٹ گئی تھی۔ ان پارٹیوں کی کارروائیوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے مزید فوج کی ضرورت تھی۔ تقی الدین نے سلطان ایوبی سے پوچھا تھا کہ کمک نہ مل سکے تو کیا وہ سوڈان میںبکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے مصر واپس آجائے؟ مصر میں جو فوج تھی وہ مصر کے اندرونی حالات اور سرحدوں کی حفاظت کے لیے بھی ناکافی تھی۔ اسے محاذ پر لے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ سلطان ایوبی پسپائی کا قائل نہیں تھا۔ اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ اپنے بھائی کو پسپائی کا حکم دے یا نہیں لیکن حقائق اسے مجبور کررہے تھے۔ وہ کمک نہیں دے سکتا تھا۔ وہ خود کمک کی ضرورت محسوس کررہا تھا۔ وہ گہری سوچ میں کھوگیا۔

٭ ٭ ٭

تقی الدین کے اس قاصد نے سلطان ایوبی کی صورتحال تو بتا دی لیکن صلیبیوں اور سوڈانیوں نے وہاں جو ایک اور محاذ کھول دیا تھا، وہ نہ بتایا۔ غالباً اس کمانڈر کو معلوم نہ ہوگا۔ ایسے انکشافات بہت بعد میں ہوئے تھے۔ تقی الدین کی فوج دس دس بارہ بارہ کی ٹولیوں میں بکھر کر لڑ رہی تھی۔ بعض علاقوں میں خانہ بدوشوں کے جھونپڑے اور خیمے بھی تھے۔ بعض جگہیں ہری بھری اور سرسبز بھی تھیں اور بیشتر علاقے بنجر، ویران اور ریگستان تھے۔ ایک شام تین چھاپہ مار مجاہدین واپس اپنے ایک سینئر کمانڈر کے پاس آئے۔ ان میں دو زخمی تھے۔ انہوں نے سنایا کہ ان کی پارٹی میں اکیس افراد تھے اور بائیسواں پارٹی کمانڈر تھا۔ دن کے وقت یہ پارٹی ایک جگہ چھپی ہوئی تھی۔ پارٹی کمانڈر ادھر ادھر اس طرح ٹہل رہا تھا جیسے پہرہ دے رہا ہو یا کسی کی راہ دیکھ رہا ہو۔ ایک سوڈانی شتر سوار گزرا اور پارٹی کمانڈر کو دیکھ کر رک گیا۔ کمانڈر اس کے پاس گیا اور معلوم نہیں اس کے ساتھ کیا باتیں کیں۔ شتر سوار چلا گیا تو پارٹی کمانڈر نے اپنے اکیس جانبازوں کو یہ خوشخبری سنائی کہ دو میل دور ایک گائوں ہے جہاں مسلمان رہتے ہیں۔ اس شتر سوار نے پارٹی کو اپنے گائوں میں مدعو کیا ہے۔ رات کو گائوں والے پارٹی کو اپنا مہمان رکھیں گے اور دشمن کی ایک جمعیت کی جگہ بھی بتائیں گے۔

تمام جانباز بہت خوش ہوئے۔ کھانا دانہ ملنے کے علاوہ دشمن پر حملے کا موقع بھی مل رہا تھا۔ سورج غروب ہوتے ہی یہ سب اس گائوں کی طرف چل دیئے۔ وہاں جا کے دیکھا کہ صرف تین جھونپڑے تھے۔ادھر ادھر درخت تھے اور پانی بھی تھا۔ سپاہیوں کو جھونپڑوں کے باہر ڈیرے ڈالنے کو کہاگیا۔ پارٹی کمانڈر ایک جھونپڑے میں چلاگیا۔ باہر مشعلیں جلا دی گئیں اور سب کو کھانا دیا گیا۔ پارٹی کمانڈر نے کہاکہ سب سو جائو، حملے کے وقت انہیں جگالیا جائے گا۔ تھکے ہوئے ساہی سو گئے۔ یہ تین جو واپس آئے ان میں سے ایک سو نہ سکا یا اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسے ایک جھونپڑے میں عورتوں کے قہقہوں کی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے جھانک کر دیکھا۔ جھونپڑے میں پارٹی کمانڈر دو نہایت حسین لڑکیوں کے ساتھ ہنس کھیل رہا تھا اور شراب چل رہی تھی۔ لڑکیاں صحرائی لباس میں تھیں لیکن صحرائی لگتی نہیں تھیں۔ اس سپاہی کو باہرکچھ دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔ چاندنی میں اس نے دیکھا کہ بہت سے آدمی آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں برچھیاںاور تلواریں تھیں۔ سپاہی جھونپڑے کی اوٹ میں ہوگیا اور دیکھتارہا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ جھونپڑے میں کوئی داخل ہوا۔ اس کی آواز سنائی دی… ”کیوں بھائی کام کردیں؟”… پارٹی کمانڈر نے کہا… ”تم آگئے؟ سب سوئے ہوئے ہیں، ختم کردو”… اور لڑکیوں کے قہقہے سنائی دیئے۔

وہ آدمی جو آرہے تھے سوئی ہوئی پارٹی پر ٹوٹ پڑے۔ کچھ تو سوتے میں ختم ہوگئے اور جو جاگ اٹھے انہوں نے مقابلہ کیا۔ یہ سپاہی چھپاہوا دیکھتا رہا۔ اسے اپنے دو ساتھی بھاگتے نظر آئے۔ موقعہ دیکھ کر یہ سپاہی بھی بھاگ اٹھا اور اپنے دو ساتھیوں سے جاملا۔ وہ دونوں زخمی تھے۔ کسی نے ان کا تعاقب نہ کیا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکاکہ پارٹی کمانڈر شتر سوار کے دیئے ہوئے لالچ میں آگیا تھا یا وہ پہلے سے ہی دشمن کا ایجنٹ تھا اور اپنے آدمیوں کو مروانے کا موقعہ دیکھ رہا تھا۔ بہرحال یہ انکشاف ہوا کہ دشمن نے بکھرے ہوئے مسلمان دستوں کو ختم کرنے یا اپنے ہاتھ میں کرنے کے لیے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔ دشمن انسانی فطرت کی کمزوریوں کو استعمال کررہا تھا۔ ان حالات میں لڑنے والے سپاہی کو پیٹ اور جنس کی بھوک بہت پریشان کیاکرتی ہے۔ دشمن مجاہدین کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر حملے الگ کررہا تھا ور نفسیاتی ہتھیار بھی استعمال کررہا تھا۔ ایسے چند اور واقعات ہوئے۔ مجاہدین کو خبردار کیا گیا کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں۔

ایسے بہت سے واقعات میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ چھاپہ مار دستے کا ایک کمانڈر عطاالہاشم ایک جگہ بیٹھا ہوا تھا، اس کا دستہ تین چار پارٹیوں میں بکھراہوا تھا۔ یہ مصر سے آنے والی رسد کا راستہ تھا۔ عطاالہاشم نے اپنے صرف ایک دستے سے جس کی نفری ایک سو سے کچھ کم تھی، رسد کے تمام تر راستے کو محفوظ کردیا تھا۔ رسد پر چھاپہ مارنے والے دشمن کا اس نے بہت نقصان کیا تھا۔ اس کے جانباز اچانک جھپٹ پڑے تھے۔ سوڈانیوں نے انہیں ختم کرنے کے بہت جتن کیے لیکن پانچ چھ جانبازوں کو شہید کرنے کے سوا کوئی کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ عطاالہاشم ٹیلوں میں ڈھکی ہوئی ایک جگہ پر بیٹھا تھا۔ اس کے ساتھ چھ سات جانباز تھے۔ یہ اس نے ہیڈکوارٹر بنا رکھا تھا۔ اسے صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں دو لڑکیاں ایک ادھیڑ عمر آدمی کے ساتھ نظر آئیں۔ عطاالہاشم کو دیکھ کر تینوں اس کے پاس آگئے۔ لڑکیاں سوڈانی معلوم ہوتی تھیں لیکن انہوں نے جو لباس پہن رکھا تھا وہ بہروپ لگتا تھا۔ ان کے چہروں پر گرد تھی، چہرے اداس تھے اور تھکن بھی معلوم ہوتی تھی۔ لڑکیاں ادھیڑ عمر آدمی کے پیچھے ہوگئیں۔ یہ جھجک اور شرم کا اظہار تھا۔

اس آدمی نے کچھ مصری اور کچھ سوڈانی زبان میں کہا کہ وہ مسلمان ہے اور یہ دونوں اس کی بیٹیاں ہیں۔ وہ بھوک سے مررہے ہیں۔ اس نے کھانے کے لیے کچھ مانگا۔ عطاالہاشم سوڈان کی زبان جانتا تھا۔ وہ چھاپہ مار تھا۔ سوڈانی علاقے میں کمانڈو کارروائیوں کی کامیابی کے لیے اس نے سوڈانی زبان سیکھی تھی۔ اس کے پاس خوراک کی کمی نہیں تھی۔ وہ رسد کا محافظ تھا۔ دو تین بار رسد گزری تھی جس میں سے اس نے اپنے دستے کے یلے بہت سارا راشن پانی اپنے پاس رکھ لیا تھا۔ اس نے ان تینوں کو کھانا دیا اور پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں؟ اور کہاں جارہے ہیں؟۔ اس آدمی نے کسی گائوں کا نام لے کر کہا کہ ان کا گائوں جنگ کی زد میں آگیا ہے۔ کبھی سوڈانی آجاتے تھے تو کبھی مسلمان۔ دونوں گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں چھوڑتے تھے۔ وہ ان لڑکیوں کو فوجیوں سے چھپاتا پھرتا تھا، آخر تنگ آکر گھر سے نکل کھڑا ہوا۔ وہ لڑکیوں کی عزت بچانا چاہتا تھا۔ اس نے بتایا کہ چونکہ وہ مسلمان ہے، اس لیے اس کوشش میں ہے کہ مصر چلا جائے مگر ممکن نظر نہیں آتا۔ اس نے عطاالہاشم سے کہا کہ وہ انہیں مصر پہنچا دے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے پوچھا … ”تم لوگ اس جگہ کب تک رہو گے؟”

”جب تک رہوں، تم تینوں کو اپنے ساتھ رکھوں گا”… عطاالہاشم نے جواب دیا۔

”آپ ان دونوں لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں”… ادھیڑ عمر آدمی نے کہا… ”میں چلا جاتا ہوں”۔

”میں یہ دیکھ کر حیران ہورہی ہوں کہ آپ کی زندگی کتنی دشوار ہے”… ایک لڑکی نے معصوم لہجے میں کہا اور پوچھا… ”آپ کو اپنا گھر اور بیوی بچے یاد نہیں آتے؟”

”سب یاد آتے ہیں”… عطاالہاشم نے جواب دیا… ”لیکن میں اپنے فرض کو نہیں بھول سکتا”۔

یوں معلوم ہوتا تھا جیسے کھانا کھا کر پانی پی کر ان کے جسموں میں نئی جان اور نئی روح پیدا ہوگئی ہو۔ ایک لڑکی تو خاموش رہی، دوسری کی زبان رواں ہوگئی۔ اس نے جتنی بھی باتیں کیں ان میں عطاالہاشم اور اس کے جانبازوں کے لیے ہمدردی تھی۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آپ لوگ وطن سے اتنی دور آکر اپنی جانیں کیوں ضائع کرتے ہیں؟
عطاالہاشم اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے تینوں کو اٹھایا اور اپنے آدمیوں کو بلایا۔ انہیں کہا کہ اس سوڈانی کے پائوں رسیوں سے باندھ کر میرے گھوڑے کے پیچھے باندھ دو۔ انہوں نے اسے گرا کر پائوں باندھ دیئے اور گھوڑا کھول لائے۔ رسی کا ایک سرا گھوڑے کی زین کے ساتھ باندھ دیا۔ عطاالہاشم نے ایک سپاہی سے کہا کہ گھوڑے پر سوار ہوجائے۔ وہ سوار ہوگیا۔ عطاالہاشم نے لڑکیوں کو اکٹھا کھڑا کرکے دو تیر انداز بلائے۔ انہیں کہا کہ میرے اشارے پر لڑکیوں کی آنکھوں کے درمیان ایک ایک تیر چلا دیں اور گھوڑ سوار گھوڑے کو ایڑی لگا دے۔ گھوڑے کے پیچھے سوڈانی بندھا ہوا زمین پر پڑا تھا۔ اسے معلوم تھا کہ گھوڑا دوڑے گا تو اس کا کیا حشر ہوگا۔ تیر اندازوں نے ایک ایک تیر کمانوں میں ڈال لیا اور گھوڑ سوار نے باگیں تھام لیں۔ عطاالہاشم نے سوڈانی لڑکیوں اور آدمی سے کہا… ”میں تم تینوں کو صرف ایک بار کہوں گا کہ اپنی اصلیت بتا دو جس مقصد کے لیے آئے ہو، صاف بتا دو، ورنہ اپنے انجام کے لیے تیار ہوجائو”۔

خاموشی طاری ہوگئی۔ لڑکیوں نے گھوڑے کے پیچھے بندھے ہوئے اپنے ساتھی کو دیکھا۔ وہ بھی خاموش تھا۔ انہوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں آپس میں مشورہ کرلیا۔ سوڈانی نے کہا کہ وہ اپنا آپ ظاہر کردے گا۔ عطاالہاشم اس کے پاس بیٹھ گیا اور کہا کہ وہ سچ بولے گا تو اسے کھولا جائے گا۔ اس آدمی نے کہا… ”اوپتھر دل انسان! تیرے پاس اتنی خوبصورت لڑکیاں لایا ہوں اور تو انہیں تیروں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ انہیں اپنے پاس رکھ اور اپنے دستے کو سمیٹ کر یہاں سے چلا جا۔ اگر یہ قیمت تھوڑی ہے تو اپنی قیمت بتا۔ سونے کے سکے مانگ، کچھ اور مانگ۔ شام سے پہلے لادوں گا”۔

عطا الہاشم اٹھا اور سوار سے کہا… ”گھوڑا دلکی چال پندرہ بیس قدم چلائو”۔

گھوڑا چل پڑا۔ چند قدم آگے گیا تو سوڈانی بلبلا اٹھا۔ عطاالہاشم نے کہا… ”رک جائو”… گھوڑا رکا تو عطاالہاشم نے اس کے پاس جاکر کہا کہ وہ سیدھی باتیں کرنے پر آجائے۔ وہ مان گیا۔ اس نے بتا دیا کہ وہ سوڈانی جاسوس ہے اور صلیبیوں نے اسے ٹریننگ دی ہے۔ لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ مصر کی پیدائش ہیں اور صلیبیوں نے انہیں تخریب کاری کے فن کا ماہر بنا رکھا ہے۔ عطاالہاشم نے اس کے پائوں کھول دیئے اور اسے اپنے پاس بٹھا کر باتیں پوچھیں۔ اس نے بتایا کہ اسے یہ کام دیا گیا ہے کہ سوڈان میں پھیلے ہوئے مسلمان کمانڈروں کو لڑکیوں یا سونے چاندی کا چکمہ دے کر انہیں اور ان کے سپاہیوں کو ختم یا قید کرادیا جائے یا انہیں اپنے ہاتھ میں لیا جائے۔ اس نے بتایا کہ عطاالہاشم نے رسد کا راستہ ایسی خوبی سے محفوظ کررکھا تھا کہ صلیبی اور سوڈانی چھاپہ ماروں کا جانی نقصان بھی ہوا اور رسد بھی نکل گئی۔ اسے یہ مشن دے کر بھیجا گیا تھا کہ عطاالہاشم کو ان لڑکیوں سے اندھا کرکے اسے قتل کردے یا اسے ایسے پھندے میں لے آئے کہ اسے قتل یا قید کرلیا جائے اور اگر وہ ایمان کا کچا ثابت ہوا تو اسے اپنے ساتھ ملا لیا جائے گا۔ یہ سوڈانی حیران تھا کہ عطاالہاشم نے اتنی خوبصورت لڑکیوں کو قبول نہیں کیا۔ اس نے جب عطاالہاشم سے پوچھا کہ اس نے لڑکیوں اور زرد جواہرات کی پیشکش کو کیوں ٹھکرا دیا ہے تو عطاالہاشم نے مسکرا کر کہا۔ ”کیونکہ میں ایمان کا کچا نہیں”۔

عطاالہاشم نے لڑکیوں کو بھی اپنے پاس بلا لیا۔ زیادہ باتیں کرنے والی نے پوچھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ عطاالہاشم نے بتایا کہ انہیں وہ کل صبح اپنے ہیڈکوارٹر میں سالار اعلیٰ تقی الدین کے پاس لے جائے گا یا بھیج دے گا۔ اس نے سوڈانی کو لڑکیوں سمیت اس ہدایت کے ساتھ اپنے آدمیوں کے حوالے کردیا کہ انہیں الگ الگ رکھا جائے۔ ان کی تلاشی لی گئی۔ تینوں کے پاس ایک ایک خنجر تھا۔ آدمی کے پاس ایک پوٹلی تھی جس میں حشیش بندھی ہوئی تھی۔

سورج غروب ہونے والا تھا جب اس کے دستے کی ایک ٹولی واپس آگئی۔ اس نے ٹولی کو کچھ دور تک پھیلا دیا۔ اس نے ہر کسی کو بتا دیا کہ یہ تینوں جاسوس اور تخریب کار ہیں۔ ہوسکتا ہے ان کے ساتھیوں کو معلوم ہوکہ یہ یہاں ہیں اور انہیں چھڑانے کے لیے حملہ کریں۔ ان انتظامات کے بعد وہ آرام کے لیے لیٹ گیا۔ وہ جگہ نشیب وفراز کی تھی۔ اس نے لیٹنے سے پہلے دیکھ لیا تھا کہ اس کے سپاہیوںنے لڑکیوں اور مرد کو کس طرح لٹایا ہے۔ وہ خود ایک ٹیلے کے ساتھ لیٹا جہاں وہ اپنے سپاہیوں کو نہیں دیکھ سکتا تھا۔ اس کی آنکھ لگ گئی۔ کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ذہن میں یہ دو لڑکیاں آگئیں۔ وہ اس سوچ میں کھو گیا کہ یہ کتنی خوبصورت اور بظاہر کیسی معصوم سی لڑکیاں ہیں اور ان سے کتنا غلیظ اور کتنا خطرناک کام کرایا جارہا ہے اگر یہ کسی مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی ہوتیں تو کسی باعزت گھرانے میں دلہنیں بن کر جاتیں۔ اسے اپنی بیوی یاد آگئی جو دلہن بن کر اس کے گھر آئی تھی تو انہی کی طرح جوان اور دلکش تھی۔ اپنی بیوی کی یاد اسے رومان انگیز تصورت میں لے گئی۔ اس ویران صحرا میں جہاں وہ موت کے ساتھ آنکھ مچولی کھیل رہا تھا، ان تصوروں نے اس پر نشہ طاری کردیا۔ میدان جنگ میں سپاہی ایسے ہی تصوروں اور بڑی ہی دلکش یادوں سے دل بہلایا کرتے ہیں۔

چاندنی نکھر آئی تھی، صحرا کی چاندنی بڑی ہی شفاف اور خنک ہوا کرتی ہے۔ اس کی خنکی میں ایسا تاثر ہوتا ہے جو ذہن اور دل سے موت کے خوف کو دھو ڈالتا ہے۔ عطاالہاشم اٹھا اور اس انداز سے خراماں خراماں اس جگہ گیا جہاں لڑکیاں سوئی ہوئی تھیں، جیسے وہ حفاظتی انتظام کا معائنہ کرنے جارہا ہو۔ وہ اکٹھی سورہی تھیں۔ ان کے اردگرد سپاہی سوئے ہوئے تھے۔ سوڈانی آدمی کچھ دور تین سپاہیوں کے نرغے میں سویا ہوا تھا۔ عطاالہاشم نے ایک لڑکی کے پائوں کو اپنے پائوں سے دبایا۔ لڑکی کی آنکھ کھل گئی۔ عطاالہاشم کو چاندی میں پہچان کر وہ اٹھ بیٹھی۔ عطاالہاشم نے اسے اٹھنے اور ساتھ چلنے کا اشارہ کیا۔ لڑکی اس مسرت کے ساتھ اٹھی کہ اس پتھر جیسے کمانڈر پر اس کی جواں نسوانیت کا جادو چل گیا ہے۔ وہ اس کے ساتھ چل پڑی۔ عطاالہاشم نے دیکھا کہ اس کے سپاہی کیسی بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں کہ انہیں یہ خبر بھی نہیں کہ کوئی آدمی ان کے درمیان سے لڑکی کو اٹھا کر لے جارہا ہے۔ اسے اپنے سپاہیوں پر غصے کے بجائے ترس آگیا جو ایک غیر یقینی سے جنگ لڑرہے تھے۔ کسی باقاعدہ کمان اور کنٹرول کے باوجود وہ نظم وضبط کی پابندی کررہے تھے۔

لڑکی کو وہ اپنی جگہ لے گیا۔ لڑکی کے سر پر اب اوڑھنی نہیں تھی۔ چاندنی اس کے بکھرے ہوئے بالوں کو سونے کے تاروں کا رنگ دے رہی تھی۔ وہ کچھ دیر لڑکی کو دیکھتا رہا اور لڑکی اسے دیکھتی رہی۔ لڑکی نے نشیلی سے آواز میں مسکرا کر کہا… ”میں حیران ہوں کہ آپ ڈر کیوں رہے ہیں۔ مجھے آپ کے پاس آپ ہی کے لیے لایا گیا ہے۔ کیا آپ میری ضرورت محسوس نہیں کرتے؟”… وہ اسے چپ چاپ دیکھتا رہا جیسے بت بن گیا ہو۔ لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کے ساتھ لگا لیا اور بولی… ”میں جانتی ہوں آپ نے مجھے کیوں بلایا ہے، آپ کیا سوچ رہے ہیں؟”

”میں سوچ رہاں ہوں کہ تمہارا باپ میری طرح کا ایک مرد ہوگا”… عطاالہاشم نے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑا کر کہا… ”میں بھی باپ ہوں۔ ہم دونوں باپوں میں زمین اور آسمان جتنا فرق ہے۔ وہ باپ کتنا بے غیرت ہے اور میں ہوں کہ غیرت کی پاسبانی کے لیے اپنے بچوں کو یتیم کرنے کی کوشش کررہا ہوں”۔

”میرا کوئی باپ نہیں”… لڑکی نے کہا… ”دیکھا ہوگا، اس کی صورت یاد نہیں”۔

”مرگیا تھا؟”

”یہ بھی یاد نہیں”۔

”اور ماں؟”

”کچھ بھی یاد نہیں”… لڑکی نے کہا… ”یہ بھی یاد نہیں کہ میں کس گھر میں پیدا ہوئی تھی یا کسی خانہ بدوش کے خیمے میں … مگر یہ وقت ایسی بے مزہ باتیں کرنے کا نہیں”۔

”ہم سپاہی یادوں سے مزے حاصل کیا کرتے ہیں”… عطاالہاشم نے کہا… ”میں چاہتا ہوں کہ تمہارے ذہن میں بھی تمہارے ماضی کی چند ایک یادیں تازہ کردوں”۔

”میں خود ایک حسین یاد ہوں”… لڑکی نے کہا… ”جس کے ساتھ تھوڑا سا وقت گزار جاتی ہوں، وہ ہمیشہ یاد رکھتا ہے۔ میری اپنی کوئی یاد نہیں”۔

”اپنے آپ کو حسین نہیں، ایک غلیظ یاد کہو”… عطاالہاشم نے کہا… ”مجھے تمہارے جسم سے صلیبیوں کے سوڈانیوں کے مسلمانوں کے اور بڑے ہی غلیظ انسانوں کے گناہوں کی بو آرہی ہے۔ تم میرے قریب آئوگی تو مجھے متلی آجائے گی۔ تمہیں کوئی مرد یاد نہیں رکھتا۔ تم جیسی لڑکیوں کے شکاری آج یہاں اور کل وہاں ہوتے ہیں۔ دوسرا شکار مل جاتا ہے تو پہلے کو بھول جاتے ہیں۔ تمہارا یہ حسن چند دنوں کا مہمان ہے۔ تم میری قید میں ہو۔ میں تمہارا یہ چہرہ اسی وقت سزا کے طور پر زخمی کرکے ہمیشہ کے لیے مکروہ بنا سکتا ہوں مگر ایسی ضرورت نہیں۔ یہ صحرا شراب، حشیش اور بدکاری تمہیں سال کے اندر اندر مرجھایا ہوا پھول بنا دے گی جسے لوگ اٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں۔ یہ صلیبی اور یہ سوڈانی تمہیں بھیک مانگنے کے لیے باہر نکال دیں گے۔ تم بڑے ہی گھٹیا انسانوں کے لیے تفریح کا ذریعہ بن جائو گی”… ”میری ایک بیٹی ہے جو تم سے دو تین سال چھوٹی ہوگی۔ اس کی شادی ایک باعزت جوان کے ساتھ ہوگی جو میری طرح کمر سے تلوار لٹکا کر بڑی اچھی نسل کے گھوڑے پر سوار ہوا کرے گا۔ وہ میری طرح میدان جنگ کا شہزادہ ہوگا۔ میری بیٹی دلہن بنے گی۔ اپنے خاوند کے دل میں اور اس کے گھر میں راج کرے گی۔ لوگ میری بیٹی کو ایک نظر دیکھنا چاہیں گے مگر دیکھ نہیں سکیں گے۔ میں بھی اس پر فخر کیا کروں گا اور اس کا خاوند اس کے ساتھ اتنی محبت کرے گا کہ وہ بوڑھی ہوجائے گی تو بھی محبت ختم نہیں ہوگی، بڑھے گی۔ تمہیں دیکھنے کے لیے کوئی بھی بیتاب نہیں ہوتا کیونکہ تم ایک ننگا بھید ہو، تمہاری عزت کسی کے دل میں نہیں اور کوئی بھی نہیں جو تمہیں محبت کے قابل سمجھے گا”۔

”آپ میرے ساتھ ایسی باتیں کیوں کررہے ہیں؟”… لڑکی نے ایسی آواز میں پوچھا جو اس کی اپنی نہیں لگتی تھی۔

”میں تمہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ تم جیسی بیٹیاں مقدس ہوتی ہیں”… عطاالہاشم نے جواب دیا… ”ہم مسلمان لوگ بیٹی کو اللہ کا پیغام سمجھتے ہیں اگر تم عصمت اور مذہب کے معنی سمجھ لو تو تم پر اللہ کی رحمت برس جائے گی مگر تم سمجھ نہیں سکو گی کیونکہ تم اس محبت سے واقف نہیں جو روح کی گہرائیوں تک پہنچا کرتی ہے۔ تم بدنصیب ہو۔ تم نے مردوں کی ہوس دیکھی ہے، محبت نہیں دیکھی”۔

عطاالہاشم آہستہ آہستہ بولتا رہا۔ اس کے لب ولہجے اور انداز کا اپنا ایک تاثر تھا لیکن لڑکی اس پر حیران ہورہی تھی کہ یہ بھی دوسرے مردوں کی طرح مرد ہے مگر اس نے اس کے حسن کو ذہ بھر اہمیت نہیں دی۔ عطاالہاشم جذباتی لحاظ سے پتھر بھی نہیں تھا۔ وہ تو سرتاپا جذبات میں ڈوبا ہوا تھا۔ لڑکی نے بیتاب سا ہوکر کہا… ”آپ کی باتوں میں ایسا نشہ اور خمار ہے جو میں نے شراب اور حشیش میں نہیں پایا۔ مجھے آپ کی کوئی بھی بات سمجھ نہیں آرہی لیکن ہر ایک بات دل میں اترتی جارہی ہے”… لڑکی ذہین تھی۔ اس قسم کی تخریب کاری کے لیے ذہین ہونا لازمی تھا۔ مردوں کو انگلیوں پر نچانے کی اسے بچپن سے ٹرینگ دی گئی تھی مگر اس مرد نے اس ناگن کا زہر ملا دیا۔ اس نے عطاالہاشم سے بہت سی باتیں پوچھیں جن میں کچھ مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے لہجے اور انداز میں اب پیشہ وارانہ اداکاری نہیں رہی تھی۔ وہ اپنے قدرتی رنگ میں باتیں کررہی تھی۔ اس نے پوچھا… ”مجھے آپ لوگ کیا سزا دیں گے؟”

”میں تمہیں کوئی سزا نہیں دے سکتا”… عطاالہاشم نے کہا… ”کل صبح تمہیں اپنے سالار اعظم کے حوالے کردوں گا”۔

”وہ میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا؟”

”جو ہمارے قانون میں لکھا ہے”۔

”آپ مجھ سے نفرت کرتے ہیں؟”

”نہیں”۔

”میں نے سنا ہے کہ مسلمان ایک سے زیادہ بیویاں رکھتے ہیں”… لڑکی نے کہا… ”اگر آپ مجھے اپنی بیوی بنا لیں تو میں آپ کا مذہب قبول کرکے ساری عمر آپ کی خدمت کروں گی”۔

”میں تمہیں بیٹی بنا سکتا ہوں، بیوی نہیں”… عطاالہاشم نے کہا… ”کیونکہ تم میرے ہاتھوں میں مجبور ہو، تم میری پناہ میں بھی ہو اور میری قید میں بھی”۔

وہ باتوں میں مصروف تھے۔ لڑکی کا ساتھی مرد تین سپاہیوں کے نرغے میں لیٹا ہوا تھا مگر وہ جاگ رہا تھا۔ اس نے عطانالہاشم کو دیکھ لیا تھا کہ وہ لڑکی کو جگا کر لے گیا ہے۔ وہ خوش تھا کہ لڑکی عطاالہاشم کو چکمہ دے کر قتل کردے گی یا اسے یہاں سے کہیں دور لے جائے گی۔ وہ لیٹا ہوا لڑکی کی واپسی کا انتظار کرتا رہا۔ بہت دیر بعد اس نے سپاہیوں کو دیکھا، وہ بے ہوش ہوکے سوئے ہوئے تھے۔ انہیں بے ہوش ہونا ہی تھا کیونکہ اس سوڈانی نے شام کے بعد ان سپاہیوں کے ساتھ گپ شپ شروع کردی تھی اور انہیں ہنستے کھیلتے حشیش پلا دی تھی۔ اس حشیش کی ایک پوٹلی تو برآمد کرلی گئی تھی لیکن اس نے تھوڑی سی حشیش اپنے چغے میں کہیں رکھی تھی۔ وہاں نکال کر اس نے تین سپاہیوں کو پلا دی وہ چونکہ اس نشے کے عادی نہیں تھے، اس لیے بے ہوشی کی نیند سوگئے۔ یہ سوڈانی رات کو بھاگنے کے جتن کررہا تھا۔

اس نے دیکھا کہ لڑکی عطاالہاشم کے پاس بیٹھی ہوئی ہے اور بہت دیر گزر گئی ہے تو وہ سمجھا کہ لڑکی اس مسلمان کمانڈر کو دور نہیں لے جاسکی، لہٰذا اس شخص کو یہیں ختم کردیا جائے۔ وہ واپس گیا اور سوئے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک کی کمان اور ترکش میں سے تین چار تیر لے آیا۔ راستے میں چند فٹ اونچی جگہ تھی جس کی اوٹ میں وہ عطاالہاشم کو نظر نہیں آسکتا تھا۔ وہ اس لیے بھی نظر نہیں آسکتا تھا کہ اس طرف عطاالہاشم کی پیٹھ تھی۔ لڑکی کا منہ ادھر ہی تھا لیکن وہ اپنے آدمی کو دیکھ نہیں سکی تھی۔ وہ آدمی تیروکمان لے کر آیا تو لڑکی کو چاندنی میں اس کا سر اور کندھے نظر آئے پھر اسے کمان نظر آئی۔ عطاالہاشم اپنی موت سے بے خبر بیٹھا تھا۔ اس کا خنجر نیام میں پڑا ہوا تھا ور نیام قریب ہی رکھی تھی۔ لڑکی نے نیام اٹھا کر خنجر نکال لیا۔ عطاالہاشم جھپٹ کر اس سے خنجر چھیننے ہی لگا کہ لڑکی نے نہایت تیزی سے گھٹنوں کے بل ہوکر اپنے آدمی کی طرف پوری طاقت سے خنجر پھینکا۔

فاصلہ چند گز تھا۔ ادھر سے آہ کی آواز سنائی دی۔ خنجر سوڈانی کی شہ رگ میں اتر گیا تھا اور اس نے زخمی ہوتے ہی تیر چلا دیا تھا۔ نشانہ چونک جانا ضروری تھا۔ تیر کا زنانہ عطاالہاشم کے قریب سے گزرا اور دھک کی آواز سنائی دی۔ اس نے دیکھا کہ تیر لڑکی کے سینے میں اتر گیا تھا۔ وہ دوڑ کر اس کی طرف گیا جس طرف خنجر گیا اور تیر آیا تھا۔ وہاں سوڈانی اپنی شہ رگ سے خنجر نکال رہ اتھا۔ اس نے خنجر نکال لیا اور اٹھا۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ حملہ کرے گا۔ عطاالہاشم نے اچھل کر اس کے پہلو میں دونوں پائوں جوڑ کر مارے۔ سوڈانی دور جاپڑا۔ عطاالہاشم بھی گرا اور فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔ سوڈانی نہ اٹھ سکا۔ اس کی شہ رگ سے خون ابل ابل کر نکل رہا تھا۔ عطاالہاشم نے خنجر اٹھایا اور لڑکی کے پاس گیا۔ لڑکی سینے میں اپنے ہی ساتھی اور محافظ کا تیر لیے اطمینان سے پڑی تھی۔ وہ ابھی زندہ تھی۔ تیر نکالنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔

لڑکی نے عطاالہاشم کا ہاتھ پکڑ لیا اور کراہتی ہوئی آواز میں بولی… ”میں نے تمہاری جان بچائی ہے، اس کے عوض اپنے خدا سے کہنا کہ میری روح کو اپنی پناہ میں لے لے۔ میرے جسم کی طرح میری روح بھی ان صحرائوں میں نہ بھٹکتی رہے۔ میری عمر گناہوں میں گزری ہے، مجھے یقین دلائو کہ خدا اس ایک نیکی کے بدلے میرے سارے گناہ بخشش دے گا۔ میرے سر پر اسی طرح ہاتھ پھیرو جس طرح اپنی بیٹی کے سر پر پھیرا کرتے ہو”۔

عطاالہاشم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا…”اللہ تیرے گناہ بخش دے، تجھ سے گناہ کروائے گئے ہیں تو بے گناہ ہے۔ تجھے کسی نے نیکی کی روشنی دکھائی ہی نہیں”۔

لڑکی نے درد کی شدت سے کراہتے ہوئے عطاالہاشم کا ہاتھ بڑی مضبوطی سے پکڑ لیا اور بڑی تیزی سے بولنے لگی۔ اس نے کہا… ”یہاں سے تین کوس دور سوڈانیوں کا ایک اڈا ہے، وہ لوگ آپ سب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور غور سے سنو۔ آپ کی فوج اتنی زیادہ پھیل گئی ہے کہ اس کی قسمت میں اب موت یا قید ہے۔ آپ کے ہر ایک کمانڈر اور ہر ایک ٹولی کے پیچھے مجھ جیسی لڑکیاں یا مرد لگے ہوئے ہیں۔ میں اس لڑکی کے ساتھ آپ کے چار کمانڈروں کو پھانس کر ختم کراچکی ہوں۔ مصر کی فکر کرو۔ صلیبیوں نے وہاں بڑے ہی خطرناک اور خوبصورت جال بچھا دیئے ہ یں۔ آپ کی قوم اور فوج میں ایسے مسلمان حاکم موجود ہیں جو صلیبیوں کے تنخواہ دار جاسوس اور ان کے وفادار ہیں۔ انہیں مجھ جیسی لڑکیاں اور بے پناہ دولت دی جارہی ہے۔ مصر کو بچائو۔ سوڈان سے نکل جائو۔ اپنے غداروں کو پکڑرو۔ میں کسی کا نام نہیں جانتی جو معلوم تھا، بتا دیا ہے۔ آپ پہلے مرد ہیں جس نے مجھے بیٹی کہا ہے۔ آپ نے مجھے باپ کا پیار دیا ہے۔ میں اس کا معاوضہ یہی دے سکتی ہوں کہ آپ کو خطروں سے آگاہ کردوں۔ اپنے بکھرے ہوئے دستے کو اکٹھا کرلو اور حملہ روکنے کے لیے تیار ہوجائو۔ دو تین دنوں میں آپ پر حملہ ہوگا۔ فاطمیوں اور فدائیوں سے بچو۔ انہوں نے مصر میں بہت سے ایسے حاکموں کے قتل کا منصوبہ تیار کرلیا ہے جو صلاح الدین ایوبی اور اپنی قوم کے وفادار ہیں”۔

لڑکی کی آواز ڈوبتی اور رکتی گئی اور ایک لمبے سانس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ صبح طلوع ہوئی تو عطاالہاشم دونوں لاشوں اور زندہ لڑکی کو ساتھ لے کر تقی الدین کے پاس چلا گیا۔ اسے سارا واقعہ سنایا اور لڑکی کی آخری باتیں بھی سنائیں۔ تقی الدین پہلے ہی پریشان تھا۔ وہ سٹپٹا اٹھا۔ اس نے کہا… ”اپنے بھائی کی اجازت اور ہدایت کے بغیر میں پسپا نہیں ہونا چاہتا۔ میں نے ایک ذمہ دار ذہین کمانڈر کو کرک بھیجا ہے۔ اس کی واپسی تک ثابت قدم رہو”۔

٭ ٭ ٭

سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کی بیان کی ہوئی جنگی صورتحال پر غور کیا تو اپنے مشیروں کو بلا کر انہیں بھی تفصیل سنائی۔ اس نے کہا…”بکھری ہوئی فوج کو یکجا کرکے پیچھے ہٹانا آسان کام نہیں۔ دشمن انہیں یکجا نہیں ہونے دے گا۔ پسپائی سے اس فوج کے جذبے پر بھی برا اثر پڑے گا جو مصر میں ہے اور جو یہاں میرے ساتھ ہے اور قوم کا دل ٹوٹ جائے گا مگر حقائق سے فرار بھی ممکن نہیں۔ اپنے آپ کو فریب دینا بھی خطرناک ہے۔ حقائق کا تقاضہ یہ ہے کہ تقی الدین اپنی فوج کو واپس لے آئے۔ ہم اسے کمک نہیں دے سکتے۔ ہم کرک کا محاصرہ اٹھا کر اس کی مدد کو نہیں پہنچ سکتے۔ میرے بھائی نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ بڑی ہی قیمتی فوج ضائع ہورہی ہے”۔

”یہ ذاتی وقار کا مسئلہ نہیں بننا چاہیے”… ایک اعلیٰ حکام نے کہا… ”ہمیں سوڈان کی جنگ سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ قائدین اور حکام کے غلط فیصلوں سے فوج بدنام ہورہی ہے۔ ہمیں قوم کو صاف الفاظ میں بتا دینا چاہیے کہ سوڈان میں ہماری ناکامی کی ذمہ داری فوج پر عائد نہیں ہوتی”۔

”بلاشبہ یہ میرے بھائی کی غلطی ہے”… سلطان ایوبی نے کہا… ”اور یہ میری غلطی بھی ہے کہ میں نے تقی الدین کو اجازت دی تھی کہ حالات کے مطابق وہ جو کارروائی مناسب سمجھے مجھ سے پوچھے بغیر کر گزرے۔ اس نے اتنی بڑی کارروائی حقائق کا جائزہ لیے بغیر کردی اور اپنے آپ کو دشمن کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا۔ میں اپنی اور اپنے بھائی کی لغزشوں کو اپنی قوم سے اور نورالدین زنگی سے چھپائوں گا نہیں۔ میں تاریخ کو دھوکہ نہیں دوں گا۔ میں اپنے کاغذات میں تحریر کرائوں کہ اس شکست کی ذمہ دار فوج نہیں، ہم تھے۔ ورنہ ہماری تاریخ کو آنے والے حکمران ہمیشہ دھوکہ دیں گے۔ میں سلطنت اسلامیہ کے آنے والے حکمرانوں کے لیے یہ مثال قائم کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنی لغزشوں پر پردہ ڈال کر بے گناہوں کو تاریخ میں ذلیل نہ کریں۔ یہ ایسی غلطی اور ایسا فریب ہے کو کرۂ ارض پر اسلام کو پھیلنے کے بجائے سکڑنے پر مجبور کرے گا”۔

Read More:  Es Manjdhar Main Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Lat Episode 8

سلطان ایوبی کا چہرہ لال ہوگیا، اس کی آواز کانپنے لگی۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے وہ اپنی زبان سے پسپائی کا لفظ کہنا نہیں چاہتا۔ وہ کبھی پسپا نہیں ہوا تھا۔ اس نے بڑے ہی مشکل حالات میں جنگیں لڑی تھیں مگر اب حالات نے اسے مجبور کردیا تھا۔ اس نے تقی الدین کے بھیجے ہوئے کمانڈر سے کہا… ”تقی الدین سے کہنا کہ اپنے دستوں کو سمیٹو اور انہیں تھوڑی تھوڑی نفری میں پیچھے بھیجو، جہاں دشمن تعاقب میں آئے وہاں جم کر لڑو اور اس انداز سے لڑو کہ دشمن تمہارے تعاقب میں مصر میں داخل نہ ہوجائے۔ دستے جو مصر میں پہنچ جائیں، نہیں اکٹھا رہنے کا حکم دو تاکہ مصر پر دشمن حملہ کرے تو اسے روک سکو۔ محفوظ پسپائی کے لیے چھاپہ ماروں کو استعمال کرو۔ کسی دستے کو دشمن کے گھیرے میں چھوڑ کر نہ آنا۔ میں پسپائی بڑی مشکل سے برداشت کررہا ہوں۔ میں یہ خبر برداشت نہیں کرسکوں گا کہ تمہارے کسی دستے نے ہتھیار ڈال دیئے۔ پسپائی آسان نہیں ہوتی۔ پیش قدمی کی نسبت محفوظ اور باعزت پسپائی بہت مشکل ہے۔ حالات پر نظر رکھنا، تیز رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھنا۔ میں تحریری پیغام نہیں بھیج رہا ہوں کیونکہ خطرہ ہے کہ تمہارا قاصد راستے میں پکڑا گیا تو دشمن کو معلوم ہوجائے گا کہ تم پسپا ہورہے ہو”۔

سلطان ایوبی نے قاصد کمانڈر کو بہت سی ہدایات دیں اور رخصت کردیا۔ اس کے گھوڑے کے قدموں کی آواز ابھی سنائی دے رہی تھی کہ زاہدان خیمے میں داخل ہوا اور کہا کہ قاہرہ سے ایک قاصد آیا ہے۔ سلطان ایوبی نے اسے اندر بلا لیا۔ وہ انٹلی جنس کا عہدیدار تھا۔ وہ مصر کے اندرونی حالات کے متعلق حوصلہ شکن خبر لایا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہاں دشمن کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ علی بن سفیان اپنے پورے محکمے کے ساتھ شب وروز مصروف رہتا ہے۔ حالات ایسے ہوگئے ہیں کہ فوجی بغاوت کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

سلطان ایوبی کے چہرے کا رنگ ایک بار تو اڑ ہی گیا۔ اگر صرف مصر کا غم ہوتا تو وہ پرواہ نہ کرتا۔ اس نے مصر کو بڑے ہی خطرناک حالات سے بچایا تھا۔ صلیبیوں اور فاطمیوں کی تخریب کاری کی بڑی ہی کاری ضربیں بے کار کی تھیں۔سمندر کی طرف سے صلیبیوں کا بڑا ہی شدید حملہ روکا تھا۔ خلیفہ تک کو معزول کرکے نتائج کا سامنا دلیری اور کامیابی سے کیا تھا مگر اب کرک کو محاصرے میں لے کر وہ وہاں پابجولاں ہوگیا تھا۔ وہاں سے اس کی غیرحاضری میدان جنگ کا پانسہ اس کے خلاف پلٹ سکتی تھی۔ کرک کے محاصرے کے علاوہ اس نے قلعے کے باہر صلیبیوں کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ یہ فوج گھیرا توڑنے کی کوشش میں حملے پہ حملہ کیے جارہی تھی، وہاں خون ریز جنگ لڑی جارہی تھی۔ سلطان ایوبی اپنی خصوصی چالوں سے دشمن کے لیے آفت بنا ہوا تھا۔ ایسی جنگ اس کی نگرانی کے بغیر نہیں لڑی جاسکتی تھی۔

ادھر سوڈان کی صورتحال نے بھی مصر کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ یہ ایک اضافی مسئلہ پیدا ہوگیا تھا۔ سلطان ایوبی کو یہ خطرہ نظر آرہا تھا کہ تقی الدین نے بھاگنے کے انداز سے پسپائی کی تو دشمن کی فوج اس کی فوج کو وہیں ختم کردے گی اور سیدھی مصر میں داخل ہوجائے گی۔ مصر میں جو فوج تھی وہ حملہ روکنے کے لیے کافی نہیں تھی۔ ادھر کرک کے محاصرے کی کامیابی یا جلدی کامیابی مخدوش نظر آرہی تھی۔ دونوں محاذوں کی کیفیت میں مصر میں بغاوت کے خطرے کی خبر ایسی چوت تھی جس نے سلطان ایوبی کے پائوں ہلا دئیے۔ وہ کچھ دیر سرجھکائے ہوئے خیمے میں ٹہلتا رہا، پھر اس نے کہا… ”میں صلیبیوں کی تمام تر فوج کا مقابلہ کرسکتا ہوں۔ اس فوج کا بھی جو انہوں نے یورپ میں جمع کر رکھی ہے مگر میری قوم کے یہ چند ایک غدار مجھے شکست دے رہے ہیں۔ کفار کے یہ حواری اپنے آپ کو مسلمان کیوں کہلاتے ہیں؟ وہ غالباً جانتے ہیں کہ انہوں نے مذہب تبدیل کرلیا تو عیسائی انہیں یہ کہہ کر دھتکار دیں گے کہ تم غدار ہو، ایمان فروش ہو، اپنے مذہب میں رہو، ہم سے اجرت لو اور اپنی قوم سے غداری کرو”… وہ خاموش ہوگیا۔ اس کے خیمے میں جو افراد موجود تھے وہ بھی خاموش تھے۔ سلطان ایوبی نے سب کو باری باری دیکھا اور کہا… ”خدا ہم سے بڑا ہی سخت امتحان لینا چاہتا ہے۔ اگر ہم سب ثابت قدم رہے تو ہم خدا کے حضور سرخرو ہوں گے”۔

اس نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ بات کہہ دی لیکن اس کا چہرہ بتا رہا تھا کہ اس پر گھبراہٹ طاری ہے جسے وہ چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔

٭ ٭ ٭

سلطان ایوبی کو اتنا ہی بتایا گیا تھا کہ مصر میں بغاوت کا خطرہ ہے اور صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے۔ اسے تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ تفصیلات بڑی ہی خوفناک تھیں۔ اس کی غیرحاضری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلمان حکام میں سے تین چار صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے تھے۔ تقی الدین نے سوڈان پر حملہ کیا تو چند دن بعد اس نے رسد مانگی۔ قاصد نے کہا تھا کہ زیادہ سے زیادہ رسد فوراً بھیج دی جائے مگر دو روز تک کوئی انتظام نہ کیا گیا جو حاکم رسد کی فراہمی اور ترسیل کا ذمہ دار تھا، اس سے بازپرس ہوئی تو اس نے یہ اعتراض کیا کہ بیک وقت دو محاذ کھول دئیے گئے ہیں۔ دو محاذوں کو رسد کہاں سے دی جاسکتی ہے۔ ایک یہ طریقہ ہے کہ مصر میں جو فوج ہے اسے بھوکا رکھا جائے، بازار سے سارا اناج اٹھا کر قاہرہ کے باشندوں کے لیے قحط پیدا کیا جائے اور محاذوں کا پیٹ بھرا جائے۔

یہ ایک اعلیٰ رتبے کا حاکم تھا، مسلمان تھا اور سلطان ایوبی کے مصاحبوں میں سے بھی تھا۔ اس کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اس کی بات سچ مان لی گئی کہ اناج وغیرہ کی واقعی کمی ہے تاہم اسے کہا گیا کہ جس طرح ہوسکے محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کی رسد ضرور پہنچے۔ اس حاکم نے انتظام کردیا مگر دو اور دن ضائع کردئیے۔ پانچویں روز رسد کا قافلہ روانہ ہوا۔ یہ اونٹوں اور خچروں کا بڑا ہی لمبا قافلہ تھا۔ مشورہ دیا گیا کہ قافلے کے ساتھ فوج کا ایک گھوڑا دستہ حفاظت کے لیے بھیجا جائے۔ اسی حاکم نے جو رسد فراہم کرنے کا ذمہ دار تھا، فوج کا دستہ بھیجنے پر اعتراض کیا اور جواز یہ پیش کیا کہ تمام راستہ محفوظ ہے۔ اس کے علاوہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے۔ چنانچہ رسد حفاظتی دستے کے بغیر بھیج دی گئی۔ روانگی کے چھ روز بعد اطلاع آگئی کہ رسد راستے میں ہی )سوڈان میں( دشمن کے گھات میں آگئی ہے۔ سوڈانی، رسد بمعہ جانوروں کے لے گئے ہیں اور انہوں شتربانوں کو قتل کردیا ہے۔

قاہرہ ہیڈکوارٹر کے بالائی حکام پریشان ہوگئے۔ رسد کا ضائع ہوجانا، معمولی سی چوٹ نہیں تھی۔ سوڈانی میدان جنگ میں فوج کی ضرورت کا احساس ان کی پریشانی میں اضافہ کررہا تھا۔ انہوں نے ذمہ دار حاکم سے کہا کہ وہ فوری طور پر اتنی ہی رسد کا انتظام کرے۔ اس نے کہا کہ منڈی میں اناج کی قلت ہوگئی ہے۔ تاجروں سے کہا جائے کہ اناج مہیا کریں۔ تاجروں سے بات ہوئی تو انہوں نے اپنے گودام کھول کر دکھا دئیے، سب خالی تھے۔ گوشت کے لیے ایک بھی دنبہ، بکرا، بیل، گائے یا کوئی اور جانور نظر نہیں آتا تھا۔ معلوم ہوا کہ مصر میں جو فوج ہے، اسے بھی پورا راشن نہیں مل رہا جس سے فوجوں میں بے اطمینانی پھیل رہی ہے۔ تاجروں نے بتایا کہ دیہات سے مال آہی نہیں رہا۔ علی بن سفیان کی جاسوسی کا انتظام بڑا اچھا تھا۔ یہ انکشاف جلدی ہوگیا کہ باہر کے لوگ دیہات میں آتے ہیں اور وہ اناج اور بکرے وغیرہ منڈی کی نسبت زیادہ دام دے کر خرید لے جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اناج وغیرہ ملک سے باہر جارہا تھا۔ تب سب کو یاد آیا کہ تین چار سال قبل سلطان ایوبی نے مصر کی پہلی فوج کو جس میں سوڈانی باشندوں کی اکثریت تھی، بغاوت کے جرم میں توڑ کر اس کے افسروں اور سپاہیوں کو سرحد کے ساتھ ساتھ قابل کاشت اراضی دے کر کاشتکار بنا دیا تھا۔ وہ لوگ اب مصری حکومت کو اور منڈیوں کو اناج دیتے ہی نہیں تھے۔ یہ سوڈان پر حملے کا ردعمل تھا۔ یہ انقلاب چھ سات دنوں میں آگیا تھا۔ اناج کی فراہمی کا کام فوج کو سونپا گیا۔ دن رات کی باگ دوڑ سے تھوڑا سا اناج ہاتھ آیا جو فوج کی حفاظت میں سوڈان کے محاذ کو روانہ کردیا گیا۔

بالائی حکام کے لیے رسد کا مسئلہ بہت ٹیڑھا ہوگیا۔ اس سے پہلے ایسی قلت کبھی نہیں ہوئی تھی۔ انہیں یہ ڈر بھی تھا کہ سلطان ایوبی نے رسد مانگ لی تو کیا جواب دیں گے۔ سلطان ایوبی کبھی بھی تسلیم نہیں کرے گا کہ مصر میں اناج کا قحط پیدا ہوگیا ہے۔ اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے تین حکام کی ایک کمیٹی بنائی گئی۔ ان میں انتظامیہ کے بڑے عہدے کا ایک حاکم، سلیم الادریس تھا۔ اس دور کی غیرمطبوعہ تحریروں کے مطابق الادریس اس کمیٹی کا سربراہ تھا۔ دوسرے دو اس سے ایک ہی درجہ کم عہدے کے غیر فوجی یعنی شہری انتظامیہ کے حاکم تھے۔ رات کے وقت یہ تینوں پہلے اجلاس میں بیٹھے تو دو نے الادریس سے کہا کہ سلطان ایوبی نے دو محاذ کھول کر سخت غلطی کی ہے اور تقی الدین ہاری ہوئی جنگ لڑ رہا ہے۔

”فلسطین مسلمانوں کی سرزمین ہے”… سلیم الادریس نے کہا۔

”ہم سے حقیقت چھپائی جارہی ہے”۔… دوسرے نے کہا… ”صلاح الدین ایوبی قابل قدر شخصیت ہے لیکن آپس میں سچ بات کرنے سے ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ ایوبی کو ملک گیری کی ہوس چین سے بیٹھنے نہیں دے رہی۔ وہ ایوبی خاندان کو شاہی خاندان بنانا چاہتا ہے۔ صلیبیوں کی فوج ایک طوفان ہے۔ ہم اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اگر صلیبی ہمارے دشمن ہوتے تو وہ فلسطین کے بجاے مصر پر قبضہ کرتے۔ ان کے پاس اتنی زیادہ فوج ہے کہ ہماری اس چھوٹی سی فوج کو اب تک کچل چکے ہوتے۔ وہ ہمارے نہیں صلاح الدین ایوبی کے دشمن ہیں”۔

”آپ کی باتیں میرے لیے ناقابل برداشت ہیں”… الادریس نے کہا… ”بہتر ہے کہ ہم جس مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں اس کے متعلق بات کریں”۔

”یہ باتیں میرے لیے بھی ناقابل برداشت ہیں”… ایک نے کہا…”لیکن ایک آدمی کی خواہشات پر ہمیں پوری قوم کے مفاد کو قربان نہیں کرنا چاہیے۔ آپ دونوں محاذوں کے لیے رسد کی بات کرنا چاہتے ہیں۔ رسد کی حالت آپ نے دیکھ لی ہے کہ نہیں مل رہی۔ سوڈان کا محاذ ٹوٹ رہا ہے۔ میں نے یہ سوچا ہے کہ ہم اس محاذ کی رسد روک لیں۔ اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ تقی الدین پیچھے ہٹ آئے گا اور فوج مرنے سے بچ جائے گی”۔

”یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم رسد نہ بھیجیں تو تقی الدین مجبوری کے عالم میں گھیرے میں آجائے”… الادریس نے کہا۔ ”ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہماری فوج دشمن کے آگے ہتھیار ڈال دے”۔

”آپ کیا سوچ کر یہ باتیں کررہے ہیں؟” سلیم الادریس نے پوچھا۔

”میری سوچ بڑی صاف ہے”۔ اس نے جواب دیا۔ ”صلاح الدین ایوبی ہم پر فوجی حکومت ٹھونسنا چاہتا ہے۔ وہ صلیبیوں سے مسلسل محاذ آرائی کرکے قوم کو بتانا چاہتا ہے کہ قوم کی سلامتی کی ضامن صرف فوج ہے اور قوم کی قسمت فوج کے ہاتھ میں ہے اگر ایوبی امن پسند ہوتا تو صلیبیوں اور سوڈانیوں کے ساتھ جنگ نہ کرنے اور صلح جوئی سے رہنے کا معاہدہ کرلیتا”۔

الادریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ سلطان ایوبی کے خلاف اور صلیبیوں کی حمایت میں کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔ اجلاس میں گرما گرمی ہوگئی۔ کمیٹی کے دو ممبر اسے بات بھی نہیں کرنے دے رہے تھے۔ اس نے آخر تنگ آکر کہا… ”میں اجلاس برخواست کرتا ہوں۔ کل ہی میں آپ کی رائے اور تجاویز قلم بند کرکے محاذ پر امیر مصر کو بھیج دوں گا”… وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا

وہ سلطان ایوبی کے خلاف اور صلیبیوں کی حمایت میں کوئی بات سننا نہیں چاہتا تھا۔ اجلاس میں گرما گرمی ہوگئی۔ کمیٹی کے دو ممبر اسے بات بھی نہیں کرنے دے رہے تھے۔ اس نے آخر تنگ آکر کہا… ”میں اجلاس برخواست کرتا ہوں۔ کل ہی میں آپ کی رائے اور تجاویز قلم بند کرکے محاذ پر امیر مصر کو بھیج دوں گا”… وہ غصے میں اٹھ کھڑا ہوا۔

ایک ممبر وہاں سے چلا گیا، دوسرا جس کا نام ارسلان تھا، الادریس کے ساتھ رہا۔ ارسلان کا شجرۂ نسب سوڈانیوں سے ملتا تھا۔ اس نے الادریس سے کہا… ”آپ شخصیت پرست اور جذباتی مسلمان ہیں، میں نے حقیقت بیان کی اور آپ ناراض ہوگئے۔ میں اب آپ کو یہ مشورہ دیتا ہوں کہ میرے خلاف صلاح الدین ایوبی کو کچھ نہ لکھنا۔ آپ کے لیے اچھا نہ ہوگا”… اس کے لہجے میں چیلنج اور دھمکی تھی۔ الادریس نے اس کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو ارسلان نے کہا… ”اگر آپ پسند فرمائیں تو میں آپ کے ساتھ علیحدہ میں بات کروں گا”۔

”یہیں کرلو”۔ الادریس نے کہا۔

”میرے گھر چلیں”۔ ارسلان نے کہا… ”کھانا میرے ساتھ کھائیں مگر یہ خیال رکھیں کہ یہ ملاقات ایک راز ہوگی”۔

الادریس اس کے ساتھ اس کے گھر چلا گیا۔ اندر گیا تو اسے یوں لگا جیسے کسی بادشاہ کے محل میں آگیا ہو۔ ارسلان اتنی زیادہ اونچی حیثیت کا حاکم نہیں تھا۔ دونوں کمرے میں بیٹھے ہی تھے کہ ایک خوبصورت لڑکی نہایت خوبصورت صراحی اور چاندی کے دو پیالے چاندی کے گول تھا میں رکھے ہوئے اندرآئی اور ان کے آگے رکھ دیا۔ الادریس نے بو سے جان لیا کہ یہ شراب ہے۔ اس نے پوچھا … ”ارسلان! تم مسلمان ہو اور شراب پیتے ہو؟”… ارسلان مسکرا دیا اور بولا… ”ایک گھونٹ پی لیں آپ اس حقیقت کو سمجھ جائیں گے جو میں آپ کو سمجھانا چاہتا ہوں”۔

دو سوڈانی حبشی اندر آئے۔ ان کے ہاتھوں میں چمکتی ہوئی طشتریوں میں کھانا تھا۔ کھانا لگ چکا تو الادریس حیرت سے ارسلان کو دیکھنے لگا۔ ارسلان نے کہا… ”حیران نہ ہوں محترم الادریس! یہ شان وشوکت آپ کو بھی مل سکتی ہے، میں بھی آپ کی طرح پارسا ہوا کرتا تھا مگر اب اس طرح کی دو لڑکیاں میرے گھر میں ہیں۔ دمشق اور بغداد کے امیروں اور وزیروں کے گھروں میں جاکر دیکھو۔ انہوں نے اس طرح کی حسین اور جوان لڑکیوں سے حرم بھر رکھے ہیں وہاں شراب بہتی ہے”۔

”یہ لڑکیاں، یہ دولت اور یہ شراب صلیبیوں کی کرم نوازیاں ہیں”۔ الادریس نے کہا… ”عورت اور شراب نے سلطنت اسلامیہ کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں”۔

”آپ صلاح الدین ایوبی کے الفاظ میں باتیں کرتے ہیں”۔ ارسلان نے کہا… ”یہی آپ کی بدنصیبی ہے”۔

”تم کیا کہنا چاہتے ہو؟”… الادریس نے جھنجھلا کر پوچھا۔ ”مجھے شک ہے کہ تم صلیبیوں کے جال میں آگئے ہو”۔

”میں فوج کا غلام نہیں بننا چاہتا”۔ ارسلان نے کہا ”میں فوج کو غلام بنانا چاہتا ہوں، اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ سوڈان میں تقی الدین کو رسد اور کمک نہ دی جائے۔ اسے دھوکہ دیا جائے کہ کمک آرہی ہے۔ اسے جھوٹی امیدوں پر لڑاتے رہو، حتیٰ کہ وہ ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوجائے۔ ظاہر ہے سوڈانی اسے قتل کردیں گے اور اس کی فوج ہمیشہ کے لیے ادھر ہی ختم ہوجائے گی۔ ہم فوج کو شکست کا ذمہ دار ٹھہرا کر اسے قوم کی نظروں میں ذلیل کردیں گے۔ پھر قوم صلاح الدین ایوبی کی فوج سے بھی متنفر ہوجائے گی… آپ میری بات سمجھنے کی کوشش نہیں کررہے۔ آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ اس کا آپ کو اتنا اور ایسا معاوضہ ملے گا جس کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے”۔

”میں تمہارا مطلب سمجھ گیا ہوں”۔ الادریس نے کہا… ”تم اتنی خطرناک باتیں اتنی دلیری سے کس طرح کررہے ہو؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میں تمہیں گرفتار کرکے غداری کی سزا دلا سکتا ہوں”۔

”کیا میں یہ نہیں کہہ سکوں گا کہ آپ مجھ پر جھوٹا الزام عائد کررہے ہیں”۔ ارسلان نے کہا… ”صلاح الدین ایوبی میرے خلاف ایک لفظ نہیں سنے گا”۔

الادریس سٹپٹا اٹھا۔ وہ حیران تھا کہ اتنے بڑے عہدے کا حاکم کس قدر شیطان ہے اور وہ کتنی دلیری سے باتیں کررہا ہے۔ دراصل الادریس خود مردمومن تھا۔ وہ سمجھ ہی نہیں سکتا تھا کہ ایمان کو نیلام کردینے والے ذلت کی کن پستیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے پاس ارسلان کو پابند کرنے اورراہ راست پر لانے کا ایک ہی ذریعہ تھا۔ وہ ارسلان کے عہدے سے زیادہ بڑے عہدے کا حاکم تھا۔ اس نے ارسلان سے کہا… ”میں جان گیا ہوں کہ تم کیا کہنا چاہتے ہو اور تم کیا کررہے ہو تم جس جرم کے مرتکب ہورہے ہو، اس کی سزا موت ہے۔ میں تمہیں یہ رعایت دیتا ہوں کہ سات روز کے اندر اپنا رویہ درست کرلو اور دشمن سے تعلقات توڑ کر مجھے یقین دلا دو کہ تم خلافت بغداد اور اپنی قوم کے وفادار ہو۔ میں تمہیں رسد کی ذمہ داری سے سبکدوش کرتا ہوں۔ یہ انتظام ہم خود کرلیں گے۔ اگر مجھے ضرورت محسوس ہوئی تو میں تمہیں اس محل میں جو تمہیں صلیبیوں نے بنا دیا ہے، نظر بند کردوں گا۔ سات دن بڑی لمبی رعایت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آٹھویں روز تمہیں جلاد یہاں سے نکالے”۔

الادریس اٹھ کھڑا ہوا، اس نے دیکھا کہ ارسلان مسکرا رہا تھا۔ ارسلان نے کہا… ”محترم الادریس! آپ کے دو بیٹے ہیں، دونوں جوان ہیں”۔

”ہاں!”الادریسنے کہا اور پوچھا ”کیا ہے میرے بیٹوں کو؟”

”کچھ نہیں!” ارسلان نے کہا ”میں آپ کو یاد دلا رہا ہوں کہ آپ کے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی آپ کی کل اولاد ہے”۔

الادریس اس اشارے کو سمجھ نہ سکا۔ اس نے کہا… ”شراب نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے”… اور وہ باہر نکل گیا۔

٭ ٭ ٭

ارسلان کے گھر سے نکل کر الادریس علی بن سفیان کے گھر چلا گیا اور اسے ارسلان کی باتیں سنائیں۔ علی بن سفیان نے اسے بتایا کہ ارسلان اس کی مشتبہ فہرست میں ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل رہا تاہم وہ جاسوسوں کی نظر میں ہے۔ الادریس بہت پریشان تھا اور حیران بھی کہ ارسلان اتنی دلیری سے غداری کا مرتکب ہورہا ہے۔ علی بن سفیان نے اسے بتایا کہ وہ اکیلا نہیں، غداری منظم طریقے سے ہورہی ہے۔ اس کے جراثیم فوج میں بھی پھیلا دئیے گئے ہ یں۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ سوڈان کے محاذ کے لیے رسد کا تھا۔ الادریس نے اسے بتایا کہ اس نے ارسلان کو اس ذمہ داری سے سبکدوش کردیا ہے اور رسد کا انتظام اب خود کرنا ہے۔ علی بن سفیان نے اسے بتایا کہ ایک سازش کے تحت دیہات سے اناج اور بکرے وغیرہ سرحد سے باہر بھجوائے جارہے ہیں۔ منڈی میں غلے اور دیگر سامان خوردونوش کا مصنوعی قحط پیدا کردیا گیا ہے۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے جاسوسوں اور مخبروں کو یہ کام دے رکھا ہے کہ رات کو ادھر ادھر گھومتے رہا کریں۔ جہاں کہیں انہیں اناج کی ایک بوری بھی جاتی نظر آئے، پکڑ لیں۔ طویل بات چیت کے بعد انہوں نے رسد کے انتظام کا کوئی طریقہ سوچ لیا۔

سلیم الادریس اس قومی مہم اور اپنے فرائض میں اس قدر مگن تھا کہ اس کے ذہن سے ارسلان کا یہ اشارہ نکل گیا کہ تمہارے دو جوان بیٹے ہیں اور یہی تمہاری کل اولاد ہے۔ الادریس کو اپنے بیٹوں کے کردار پر بھروسہ تھا مگر جوانی اندھی ہوتی ہے۔ قاہرہ میں سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں بدکاری کی ایک لہر آئی تھی جس نے نوجوان ذہن کو لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ دو تین سال پہلے بھی ایسی ہی ایک لہر آئی تھی جس پر جلدی ہی قابو پالیا گیا تھا۔ اب یہ لہر زمین کے نیچے سے آئی اور کام کرگئی۔ یہ مختلف کھیل تماشوں کی صورت میں آئی جن میں شعبدہ بازی اور کھیلوں کی صورت میں جوأ بازی شامل تھی۔ یہ لوگ خیمے اور شامیانے تان کر تماشہ دکھاتے تھے جس میں کچھ بھی قابل اعتراض نہیں تھا مگر شامیانوں کے اندر خفیہ خیمے تھے۔ جہاں اکیلے اکیلے نوجوان کو اشارے سے بلایا جاتا تھا۔ ان سے پیسے لے کر کپڑوں پر بنی ہوئی دستی تصویریں دکھانے کا کام لڑکیاں کرتی تھیں جن کی مسکراہٹ اور انداز دعوت گناہ ہوتی تھی۔

وہیں نوجوانوں کو تھوڑی تھوڑی حشیش پلائی جاتی تھی۔ یہ شرمناک اور خطرناک سلسلہ زمین کے اوپر چل رہا تھا مگر اسے پکڑ کوئی نہیں سکتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ جو کوئی یہ تصویریں دیکھ کر یا حشیش کا ذائقہ چکھ کر آتا تھا وہ اپنے گناہ کو چھپائے رکھتا تھا۔ اس گناہ میں لذت ایسی تھی کہ جانے والے باربار جاتے تھے۔ وہ اس لیے بھی باہر کسی سے ذکر نہیں کرتے تھے کہ حکومت تک بات پہنچ گئی تو انہیں نشہ آور لذت سے محروم کردیا جائے گا۔ اس لذت پرستی کا شکار نوجوان اورفوجی ہورہے تھے۔ ان کے لیے در پر وہ وہ قحبہ خانے بھی کھول دئیے گئے۔ کردار کشی کی یہ مہم کس قدر کامیاب تھی؟… اس کا جواب کرک کے قلعے میں صلیبیوں کی انٹیلی جنس اور نفسیاتی جنگ کا ماہر جرمن نژاد ہرمن اپنے حکمرانوں کو ان الفاظ میں دے رہا تھا۔

”سپین کے مصوروں نے جو تصویریں بنائی ہیں، یہ لوہے کے بنے ہوئے مردوں کو بھی مٹی کے بت بنا دیتی ہیں”۔ اس نے ایک مرد اور ایک عورت کی ایک فحش تصویر حاضرین کو دکھائی۔ یہ بڑے سائز کی تصویر تھی جو برش سے دلکش رنگوں میں بنائی گئی تھی۔ صلیبی حکمرانوں نے تصویر دیکھ کر ایک دوسرے کے ساتھ ننگے مذاق شروع کردئیے۔ ہرمن نے کہا… ”میں نے ایسی بے شمار تصویریں بنوا کر مصر کے بڑے بڑے شہروں میں ان کی خفیہ نمائش کا انتظام کردیا ہے۔ وہاں سے ہماری کامیابی کی اطلاعیں آرہی ہیں۔ میں نے قاہرہ کی نوجوان نسل میں حیوانی جذبہ بھڑکا دیا ہے۔ یہ ایسا طاقتور جذبہ ہے جو مشتعل ہوجائے تو انسانی جذبوں کو جن میں قومی جذبہ خاص طور پر شامل ہے، تباہ کردیتا ہے۔ ان تصویروں نے مصر میں مقیم مسلمان فوج کو ذہنی اور اخلاقی لحاظ سے بے کارکرنا شروع کردیا ہے۔ ان تصویروں کی لذت نشہ بھی مانگتی ہے۔ اس کا انتظام بھی کردیا ہے۔ میرے تخریب کاروں اور جاسوسوں کے گروہ نے صحرائی لڑکیوں کی پوری فوج قاہرہ اور دوسرے قصبوں میں داخل کردی ہے۔ یہ لڑکیاں دیمک کی طرح صلا الدین ایوبی کی قوم اور فوج کو کھا رہی ہیں۔ وہ وجوہات کچھ اور تھیں جب میری مہم قاہرہ میں پکڑی گئی تھی۔ اب میں نے کچھ اور طریقے آزمائے ہیں جو کامیاب ہورہے ہیں۔ اب وہاں کے مسلمان خود میری مہم کی حفاظت کریں گے اور اسے تقویت دیں گے۔ وہ اس ذہنی عیاشی کے عادی ہوگئے ہیں، تھوڑے ہی عرصے بعد میں ان کے ذہنوں میں ان کی اپنی ہی قوم اور اپنے ہی ملک کیخلاف زہر بھر نا شروع کردوں ۔
”صلاح الدین ایوبی بہت ہوشیار آدمی ہے”۔ حاضرین سے کسی نے کہا۔ ”وہ جونہی مصر پہنچا تمہاری اس مہم کو جڑ سے اکھاڑ دے گا”۔

”اگر وہ مصر پہنچا تو…” ہرمن نے کہا… ”اس سوال کا جواب آپ ہی دے سکتے ہیں کہ آپ اس کا محاصرہ کامیاب ہونے دیں گے یا نہیں۔ بے شک اس نے ریمانڈ کی فوج کو قلعے سے باہر گھیرے میں لے رکھا ہے اور قلعہ اس کے محاصرے میں ہے لیکن یہ گھیرا اور یہ محاصرہ اسی کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ آپ یہاں فیصلہ کن جنگ نہ لڑیں۔ ایوبی کا محاصرہ کیے رکھنے دیں تاکہ وہ یہیں پابند رہے اور مصر نہ جاسکے۔ سوڈان میں ہمارے کمانڈروں نے تقی الدین کی فوج کو نہایت کامیابی سے بکھیر دیا ہے۔ وہ اب نہ لڑ سکتا ہے، نہ وہاں سے نکل سکتا ہے۔ مصر کی منڈیوں کا اور وہاں کی کھیتیوں کا غلہ میں نے غائب کرادیا ہے۔ آپ کی دی ہوئی دولت آپ کو پورا صلہ دے رہی ہے۔ ایوبی کا ایک وفادار حاکم ارسلان دراصل آپ کا وفادار ہے۔ وہ ہمارے ساتھ پورا تعاون کررہا ہے۔ اس کے کچھ اور ساتھی بھی ہمارے ساتھ ہیں”۔

”ارسلان کو کتنا معاوضہ دیا جارہا ہے؟”۔ فلپ آگسٹس نے پوچھا۔

”جتنا ایک مسلمان حاکم کا دماغ خراب کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے”۔ ہرمن نے جواب دیا… ”عورت اور شراب، دولت اور حکومت کا نشہ کسی بھی مسلمان کا ایمان خرید سکتا ہے۔ وہ میں نے خرید لیا ہے… میں آپ کو یہ بتا رہا تھا کہ اب صلاح الدین ایوبی مصر جائے گا تو اسے وہاں کی دنیا بدلی ہوئی نظر آئے گی وہ جس نوجوان نسل کی بات فخر سے کیا کرتا ہے وہ مسلمان ہوتے ہوئے اسلام کے لیے بے کار ہوگی۔ اس کی سوچیں اور اس کا کردار ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ یہ نسل جنسی جذبے کی ماری ہوگی۔ یہی حال اس فوج کا ہوگا جسے وہ مصر چھوڑ آیا ہے۔ اس فوج میں میرے تخریب کاروں نے اتنی زیادہ بے اطمینانی پھیلا دی ہے کہ وہ بغاوت سے بھی گریز نہیں کرے گی۔ میں آج یہ دعویٰ وثوق سے کرسکتا ہوں کہ آپ سے

پہلے میں اپنا محاذ ختم کرچکا ہوں گا۔ دشمن کے کردار اور اخلاق کو تباہ کردینے سے فوجوں کے حملوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی”۔

ہرمن کی اس حوصلہ افزا رپورٹ پر صلیبی حکمران بہت خوش ہوئے، فلپ آگسٹس نے وہی عزم دہرایا جس کا اظہار وہ کئی بار کرچکا تھا۔ اس نے کہا …”ہماری لڑائی صلاح الدین ایوبی سے نہیں اسلام سے ہے۔ ایوبی بھی مرجائے گا، ہم بھی مرجائیں گے لیکن ہمارا جذبہ اور عزم زندہ رہنا چاہیے تاکہ اسلام بھی مرجائے اور دنیا پر صلیب کی حکمرانی ہو۔ اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ ایسا محاذ کھولا جائے جہاں سے مسلمانوں کے نظریات اور کردار پر حملہ کیا جائے۔ میں ہرمن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ اس نے محاذ نہ صرف کھول دیا ہے بلکہ حملہ کرکے ایک حد تک کامیابی بھی حاصل کرلی ہے”۔

٭ ٭ ٭

سلیم الادریس کے بھی دو بیٹے جوان تھے۔ ایک کی عمر سترہ سال اور دوسرے کی اکیس سال تھی۔ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ بھی لذت پرستی کے اس طوفان کی لپیٹ میں آگئے تھے یا نہیں، جو صلیبی تخریب کار قاہرہ میں لائے تھے۔ البتہ یہ ثبوت بعد میں ملا کہ بڑے بیٹے کے در پردہ تعلقات ایک جوان اور خوبصورت لڑکی کے ساتھ تھے۔ یہ لڑکی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتی تھی اور بے پردہ رہتی تھی۔ کسی بڑے خاندان کی لڑکی تھی۔ ان کی ملاقاتیں خفیہ ہوتی تھیں جس روز ارسلان نے الادریس سے کہا تھا کہ تمہارے دو بیٹے جوان ہیں اس سے اگلے روز اس لڑکی نے الادریس کے بڑے بیٹے سے کہا کہ ایک نوجوان اسے بہت پریشان کرتا ہے۔ وہ جدھر جاتی ہے اس کا پیچھا کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں بھی دیتا ہے۔ اس بڑے بیٹے نے لڑکی سے پوچھا کہ نوجوان کون ہے تو لڑکی نے نہ بتایا۔ بات گول کرگئی کہنے لگی کہ اس نے زیادہ پریشان کیا تو اسے بتا دے گی۔

بعد کے انکشافات سے پتا چلا کہ اسے کوئی نوجوان پریشان نہیں کرتا تھا بلکہ وہ خود نوجوانوں کو پریشان اور خراب کرتی پھر رہی تھی۔ اس نے جس شام بڑے بیٹے سے یہ شکایت کی کہ اس سے اگلے ہی روز اس نے الادریس کے چھوٹے بیٹے کو جس کی عمر سترہ سال تھی، اپنے جال میں پھانس لیا اور ایسی والہانہ اور بیتابانہ محبت کا اظہار زبانی اور عملی طور پر کیا کہ لڑکا اپنا آپ اس کے حوالے کربیٹھا۔ دو درپردہ ملاقاتوں کے بعد اس نے اسے بھی بتایا کہ ایک نوجوان اسے بہت پریشان کرتا ہے اور اسے اغوا کی دھمکیاں دیتا ہے۔ لڑکے کا خون جوش میں آگیا۔ اس نے پوچھا کہ وہ کون ہے تو لڑکی نے کہا کہ اگر اس نے زیادہ پریشان کیا تو بتائوں گی۔ اسی شام وہ اس لڑکے کے بڑے بھائی سے ملی اور اسے کہا کہ وہ نوجوان مجھے زیادہ پریشان کرنے لگا ہے۔ وہ تمہارے متعلق کہتا ہے کہ اسے میں ایسے طریقے سے قتل کروں گا کہ کسی کو پتا ہی نہیں چل سکے گا۔ لڑکی نے کہا… ”تم خنجر اپنے پاس رکھا کرو”۔

دوسری شام کی ملاقات میں اس نے چھوٹے بھائی کو اسی طرح مشتعل کیا اور اسے کہا کہ وہ خنجر اپنے پاس رکھا کرے۔ چنانچہ دونوں بھائی اس حقیقت سے بے خبر کہ وہ ایک ہی لڑکی کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ خنجر اپنے پاس رکھنے لگے۔ لڑکی دونوں سے الگ الگ ملتی رہی۔ صرف پانچ دنوں میں لڑکی نے دونوں بھائیوں کو پہلے حیوان، پھر درندہ بنا دیا۔ اس شام اس نے بڑے بھائی کو شہر سے ذرا باہر ایک اندھیری جگہ ملنے کو کہا۔ چھوٹے بھائی کو بھی اس نے وہی وقت اور وہی جگہ بتائی اور دونوں سے یہ بھی کہا کہ وہ نوجوان جو مجھے پریشان کیا کرتا ہے۔ آج کہہ گیا ہے کہ شام کو جہاں بھی جائو گی مجھے وہاں پائو گی۔ میں تمہارے چاہنے والے کو تمہارے سامنے قتل کروں گا۔ لڑکی نے کہا… ”میں نے اسے کہا ہے کہ اگر تم اتنے دلیر ہو تو شام کو اس جگہ آجانا۔ اگر تم نے اسے قتل کردیا تو میں تمہاری ہوجائوں گی”۔ دونوں بھائی خون ریز معرکہ لڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 19

شام کو بڑا بھائی خنجر لیے اس جگہ پہنچ گیا جو اس لڑکی نے بتائی تھی۔ اس نے ایسی استادی کا مظاہرہ کیا کہ جگہ اندھیری کا انتخاب کیا اور یہ بھی خیال رکھا کہ دونوں بھائی اس کے پہنچنے سے پہلے ہی اکٹھے ہوکر ایک دوسرے کو پہچان نہ لیں۔ وہ وہاں پہنچی تو بڑے بھائی کو وہاں موجود پایا۔ اسے بتایا کہ وہ نوجوان میرے پیچھے آرہا ہے۔ بڑے بھائی نے خنجر نکال لیا اور فوراً ہی بعد چھوٹا بھائی آگیا۔ لڑکی نے بڑے بھائی سے کہا کہ وہ آگیا ہے لیکن میں نہیں چاہتی کہ خون خرابہ ہو میں اسے کہتی ہوں کہ وہ چلا جائے۔ یہ کہہ کر وہ چھوٹے بھائی کے پاس گئی اور اسے کہا کہ وہ پہلے سے موجود ہے اور اس کے ہاتھ میں خنجر ہے۔ چھوٹے بھائی کی عقل پر جوانی کا تازہ خون سوار تھا۔ اس نے خنجر نکالا اور اندھیرے میں اپنے بھائی کی طرف دوڑا۔ بڑے بھائی نے حملہ آور کو اتنی تیزی سے آتے دیکھا تو وہ بھی تیزی سے آگے بڑھا۔ بھائیوں نے ایک دوسرے پر رقابت کے جوش میں بڑے گہرے وار کیے۔ وہ گر کر اٹھے اور ایک دوسرے کو لہولہان کرتے رہے۔ لڑکی انہیں بھڑکاتی رہی۔

علی بن سفیان کے شعبے کے آدمی رات کو گشت پر رہتے تھے۔ اتفاق سے ایک گھوڑ سوار گشت پر ادھر آنکلا۔ لڑکی بھاگ اٹھی۔ گھوڑ سوار نے اسے دور نہ جانے دیا اور پکڑ کر واپس لے گیا۔ وہاں دونوں بھائی زمین پر پڑے، آخری سانسیں لے رہے تھے۔ لڑکی نے ان سے لاتعلقی کے اظہار کی بہت کوشش کی لیکن اس آدمی نے اسے نہ چھوڑا۔ لڑکی کے دئیے ہوئے لالچ کو بھی اس نے قبول نہ کیا۔ اس نے پکار پکار کر گشتی پہرہ داروں کو بلا لیا۔ اس وقت تک دونوں بھائی مرچکے تھے۔ لڑکی کو اسی وقت علی بن سفیان کے پاس لے گئے۔ لاشیں بھی لائی گئیں۔ روشنی میں دیکھا تو دونوں بھائی تھے۔ سلیم الادریس کو اطلاع دی گئی۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے جوان بیٹوں کی لاشیں دیکھ کر اس کا کیا حشر ہوا ہوگا۔ لڑکی نے الٹے سیدھے بیان دئیے مگر وہ اس سوال کا جواب دینے سے گریز کررہی تھی کہ وہ کس کی بیٹی ہے اور کہاں رہتی ہے۔ الادریس بہت بری ذہنی حالت میں تھا۔ اس نے غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں کہا… ”اسے شکنجے میں ڈالو علی، اس طرح یہ کچھ نہیں بتائے گی”۔

”بتانے کے لیے ہے ہی کیا”۔ لڑکی نے بھی غصے میں کہا۔ بڑے بھائی کی لاش کی طرف اشارہ کرکے بولی۔ ”اس نے مجھے بلایا تھا، میں چلی گئی۔ اوپر سے )چھوٹا بھائی( آگیا۔ دونوں نے خنجر نکال لیا اور لڑ پڑے۔ میں ڈر کے مارے بھاگ اٹھی اور ایک گھوڑ سوار نے مجھے پکڑ لیا۔ میں اپنے باپ کا نام اس لیے نہیں بتاتی کہ اس کی بھی رسوائی ہوگی”۔

علی بن سفیان کا دماغ حاضر تھا۔ اسے یاد آگیا کہ ارسلان اور الادریس کی آپس میں ترش کلامی ہوئی تھی۔ ارسلان اس کے مشتبہ کی فہرست میں تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ اس کے گھر کے اندر کیا ہورہا ہے۔ اس نے الادریس کو آنکھ سے اشارہ کرکے کہا… ”یہ لڑکی کوئی بھی ہے، یہ قاتل نہیں، یہ دو جوانوں کو اکیلے قتل نہیں کرسکتی۔ اس نے سچ بات بتا دی ہے۔ میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا”۔ اس نے لڑکی سے کہا… ”جائو تم آزاد ہو، آئندہ کسی کے ساتھ اتنی دور نہ جانا، ورنہ قتل ہوجائو گی”۔

لڑکی بڑی تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ علی بن سفیان نے اپنے دو مخبروں سے کہا کہ ان میں سے ایک لڑکی کا راستہ دیکھ کر دوسرے راستے سے ارسلان کے گھر کے بڑے دروازے سے ذرا دور چھپ جائے اور دوسرا ایسے طریقے سے لڑکی کا تعاقب کرے کہ لڑکی کو پتا نہ چلے اور وہ جہاں بھی جائے فوراً اطلاع دی جائے۔ دونوں آدمی چلے گئے۔ لڑکی تیز تیز قدم اٹھاتی جارہی تھی اور اس کا تعاقب ہورہا تھا۔ علی بن سفیان کا شک ٹھیک ثابت ہوا۔ لڑکی ارسلان کے گھر چلی گئی۔ وہاں ایک آدمی موجود تھا۔ اس نے آکر اطلاع دی کہ لڑکی اس گھر میں داخل ہوئی ہے۔ جب الادریس کو معلوم ہوا کہ لڑکی کا تعلق ارسان کے گھر سے ہے تو اس نے علی بن سفیان کو بتایا کہ ارسلان نے اسے کہا تھا کہ تمہارے دو جوان بیٹے ہیں مگر الادریس یہ اشارہ نہیں سمجھ سکا تھا۔ صاف ظاہر ہوگیا کہ یہ ارسلان کی کارستانی ہے۔ دونوں بھائیوں کو اسی نے اس عجیب وغریب طریقے سے ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرایا ہے۔ الادریس نے حاکم اعلیٰ کو اطلاع دی۔ پولیس کا سربراہ غیاث بلبیس بھی آگیا۔ علی بن سفیان کو بھی خصوصی اختیارات حاصل تھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ارسلان کے گھر چھاپہ مار کر اسے گھر میں ہی نظر بند کردیا جائے۔

”اب میں سلیم الادریس کو بتائوں گا کہ میں کیوں اتنی دلیری سے باتیں کرتا ہوں”۔ ارسلان نے اس لڑکی کی کامیابی کی روئیداد سن کر کہا… ”میں اسے بتائوں گا کہ میں کیا کرسکتا ہوں”۔ اس نے لڑکی کو شراب پیش کی اور دونوں کامیابی کا جشن منانے لگے۔

ان کا جشن ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بغیر اطلاع کے کوئی اندر آگیا۔ یہ الادریس تھا۔ اس نے ارسلان اور لڑکی کو نشے اور عریانی کی حالت میں دیکھا اور لڑکی کو پہچان لیا۔ ارسلان نے نشے کی حالت میں کہا… ”اپنے بیٹوں کو قتل کراکے تم میرے ہاتھوں قتل ہونے آئے ہو؟… دربان کہاں ہے؟ یہ شخص میری جنت میں بغیر اجازت کیوں کر آگیا ہے؟”

اتنے میں شہر کا وہ حاکم اعلیٰ اندر آیا جس کے پاس امیر مصر کے اختیارات تھے۔ اس کے ساتھ غیاث بلبیس اور علی بن سفیان تھے۔ لڑکی کو گرفتار کرلیا گیا۔ ارسلان کے تمام ملازموں اور گھر کے دیگر افراد کو باہر نکال کر اس کے محل جیسے مکان کے اندر اور باہر فوج کا پہرہ کھڑا کردیا گیا۔ اس کے گھر میں ایک تہہ خانہ برآمد ہوا جو بہت ہی وسیع اور گہرا تھا۔ وہاں سے تیر کمانوں اور برچھیوں کے انبار نکلے۔ ایک ڈھیر خنجروں کا تھا، آتش گیر مادہ بھی تھا۔ ایک صندوق میں حشیش اور زہر برآمد ہوئے۔ ایک اور کمرے میں سونے کی اینٹیں اور اشرفیوں کی تھیلیاں برآمد ہوئیں۔ اس نے اپنی پرانی دو بیویوں اور ان کے بچوں کو کہیں اور بھیج رکھا تھا۔ گھر میں تین لڑکیاں تھیں۔ تینوں ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت تھیں اور تینوں غیرمسلم تھیں۔ رات ہی رات ملازموں کی چھان بین کرلی گئی۔ ان میں تین صلیبیوں کے جاسوس نکلے۔

”کیا تم خود بتائو گے کہ تمہارے عزائم کیا ہے؟” حاکم اعلیٰ نے ارسلان سے پوچھا… ”یہ مال ودولت اور اسلحہ کے یہ انبار تمہیں سزائے موت دلانے کے لیے کافی ہیں”۔

”پھر سزائے موت دے دو”۔ اس نے نشے کی حالت میں کہا… ”اگر مجھے جان ہی دینی ہے تو خاموشی سے کیوں نہ مرجائوں؟”

”خدا کی نگاہ میں یہ بہت بڑی نیکی ہوگی کہ تم ہمیں اور اس کے نام لیوائوں کو خطروں سے آگاہ کردو”۔ حاکم اعلیٰ نے کہا… ”مجھے امید ہے کہ اسی نیکی کے بدلے خدا تمہارے اتنے گناہ بخش دے گا”۔

”تم لوگ تو مجھے نہیں بخشو گے”۔ ارسلان نے کہا۔

”سلطان ایوبی اس سے بھی بڑے گناہ بخش دیا کرتا ہے”۔ علی بن سفیان نے کہا… ”آپ کے بچنے کی صورت پیدا ہوسکتی ہے۔ آپ بتا دیں کہ یہاں کس قسم کی تخریب کاری ہورہی ہے۔ کچھ اور لوگ گرفتار کرادیں”۔

وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ باقی لوگ ادھر ادھر بیٹھے تھے۔ الادریس نے اپنی خنجر نما تلوار کمر سے باندھ رکھی تھی۔ ارسلان خاموشی سے ٹہلتے ٹہلتے اس کے قریب گیا اور بڑی ہی تیزی سے اس کی میان سے تلوار نکال کر اپنے سینے اور پیٹ کے درمیان رکھی، پیشتر اس کے ہاتھ سے تلوار چھینی جاتی، اس نے دستے پر دونوں ہاتھ رکھ کر پوری طرقت سے تلوار اپنے پیٹ میں گھونپ لی۔ وہ اپنے بستر پر گرا۔ دوسرے آدمی تلوار اس کے پیٹ سے نکالنے لگے تو اس نے کہا… ”رہنے دو، میری دو تین باتیں سن لو۔ مرجائوں گا تو تلوار نکال لینا۔ میں نے اپنے آپ کو سزا دے دی ہے۔ میں زندہ صلاح الدین ایوبی کے سامنے نہیں جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ مجھے اپنا وفادار دوست سمجھتا تھا… میں تمہارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ تلوار اپنا کام کرچکی ہے۔ ہوش کرو، مصر سخت خطرے میں ہے۔ مصر میں جو فوج ہے وہ بغاوت کے لیے تیار ہے۔ فوجوں کی رسد کو میں نے ناپید کیا ہے۔ سپاہیوں کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ملتا۔ صلیبی تخریب کاروں نے فوج میں یہ بات پھیلا دی ہے کہ محاذوں پر بکرے، اناج اور شراب جارہی ہے اور وہاں کے سپاہیوں کو مال غنیمت سے مالا مال کرکے عیاشی کرائی جارہی ہے… میرے گروہ میں اچھے عہدوں کے لوگ ہیں۔ میں کسی کا نام نہیں بتائوں گا۔ فاطمی اور فدائی تباہ کاری کی پوری تیاری کرچکے ہیں۔ تم بغاوت کو روک نہیں سکو گے۔ نئی فوج لائو، حالات تمہاری قابو سے…”۔ وہ فقرہ مکمل کیے بغیر مرگیا۔

اس کے گھر سے جو تین لڑکیاں برآمد ہوئی تھیں وہ بھی اس کے فقرے کو مکمل نہ کرسکیں۔ انہوں نے اپنے متعلق بتا دیا کہ انہیں اخلاقی تخریب کاری اور مردوں کو پھانس کر استعمال کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ ارسلان کے گھر راتوں کو محفلیں جما کرتی تھیں، جس میں فوج اور انتظامیہ کے افسر آیا کرتے تھے۔ ان کی خفیہ ملاقاتیں اور اجلاس ان لڑکیوں کے بغیر ہوتے تھے۔ لڑکیوں نے یہ تصدیق کردی کہ مصر میں بغاوت کے لیے زمین ہموار کردی گئی ہے جس لڑکی نے دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرادیا تھا اس نے قتل کی ساری کہانی سنا دی جو بیان کی گئی ہے۔ اس نے بتایا کہ وہ الادریس کے بڑے بیٹے کو پہلے ہی اپنے جال میں محبت کا جھانسہ دے کر لے چکی تھی۔ اسے ارسلان اپنے باپ الادریس کے خلاف استعمال کرنا چاہتا تھا لیکن ارسلان نے منصوبہ بدل دیا اور لڑکی سے کہا کہ دونوں بھائیوں کو ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرادو۔

ایک ہی رات میں تقریباً اڑھائی سو اونٹ مرکزی دفتر کے سامنے لائے گئے۔ ان پر غلہ اور خوردونوش کا دیگر سامان لدا ہوا تھا۔ یہ اونٹ تین چار قافلوں کی صورت میں مختلف جگہوں سے پکڑے گئے تھے۔ اناج وغیرہ کو سرحد سے باہر جانے سے روکنے کے لیے گشتی پارٹیوں کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ ان کی پہلی کامیابی تھی۔ ان قافلوں کے ساتھ جو آدمی تھے، انہوں نے شہر کے چند ایک بیوپاریوں کے نام بتائے۔ ان بیوپاریوں نے تمام غلہ اور دیگر سامان زیرزمین کرلیا تھا۔ آدھی رات کے بعد وہ یہ سامان باہر کے اجنبی تاجروں کے ہاتھ بیجتے تھے۔ ان آدمیوں نے دیہاتی علاقوں میں بھی چند ایک جگہوں کی نشاندہی کی جہاں اجنبی سے تاجر موجود رہتے اور تمام تر رسد اکٹھی کرکے لے جاتے تھے۔ شتر بانوں میں سے بعض نے سرحد کی ایک جگہ بتائی جہاں سے یہ قافلے سوڈان جایا کرتے تھے۔ وہاں ایک سرحدی دستہ موجود تھا۔ انکشاف ہوا کہ اس دستے کا کمانڈر دشمن سے باقاعدہ معاوضہ یا رشوت لیتا اور قافلے گزار دیتا تھا۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ یہ اہتمام ارسلان کی زیرکمان ہورہا تھا۔

٭ ٭ ٭

یہ ان سینکڑوں میں سے چند ایک واقعات ہیں جو سلطان ایوبی کی غیرحاضری میں مصر کو لپیٹ میں لیے ہوئے

تھے۔ الادریس اور دیگر اعلیٰ حکام نے ارسلان کی غداری اور الادریس کے بیٹوں کی موت اور دیگر واقعات پر غور کرنے کے لیے اجلاس منعقد کیا۔ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس نے یہ مشورہ پیش کیا کہ حالات اتنے بگڑ گئے ہیں کہ ان کے بس میں نہیں رہے۔ پیشتر اس کے کہ مصر میں بغاوت ہوجائے یا فاطمیوں کے اور فدائیوں کے ہاتھوں کوئی اعلیٰ شخصیت قتل ہوجائے۔ سلطان ایوبی کو مکمل حالات سے آگاہ کردیا جائے اور انہیں مشورہ دیا جائے کہ ممکن ہوسکے تو وہ کرک کا محاصرہ اپنے نائبین کے سپرد کرکے قاہرہ آجائیں۔ ایک قاصد کو تو پہلے ہی بھیج دیا گیا تھا مگر اسے تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ اب سنگین وارداتیں ہوگئیں تو اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ علی بن سفیان محاذ پر سلطان ایوبی کے پاس جائے۔

کرک کے محاصرے کو دو مہینے گزر گئے تھے مگر کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی۔ صلیبیوں نے دفاع کے غیرمعمولی انتظامات کررکھے تھے۔ ایک انتظام یہ تھا کہ شہر میں سامان خوردونوش کا ذخرہ کافی تھا۔ ایک جاسوس نے اندر سے تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر باہر پھینکا تھا جس میں تحریر تھا کہ اندر خوراک کی کمی نہیں۔ مسلمان باشندوں پر اتنی سخت پابندیاں عائد کردی گئی تھیں کہ ان کے گھروں کی دیواریں بھی ان کے خلاف مخبری اور جاسوسی کرتی تھیں۔ اس لیے اندر تخریب کاری ممکن نہیں ہورہی تھی ورنہ خوراک کا ذخیرہ تباہ کردیا جاتا۔ شہر میں سلطان ایوبی کے جاسوسوں کی بھی کمی تھی۔ وہ کبھی کبھی رات کے وقت تیر کے ساتھ پیغام باندھ کر اور موقع محل دیکھ کر باہر کو تیر چلا دیتے تھے۔ فوجوں کو حکم تھا کہ ایسا تیر نظر آئے تو وہ اپنے کمانڈر تک پہنچا دیں۔ صلیبیوں نے محاصرہ توڑنے کی کوششیں ترک کردی تھیں۔ وہ سلطان ایوبی کی طاقت زائل کرتے جارہے تھے۔ سلطان ایوبی ان کی چال سمجھ گیا تھا۔ اس کے جواب میں اس نے بھی اپنا طریقہ بدل دیا تھا۔

صلیبیوں کی یہ کوشش ناکام ہوچکی تھی کہ انہوں نے باہر سے حملہ کیا تھا۔ سلطان ایوبی اس حملے کے لیے تیار تھا۔ اس نے نہایت اچھی چال سے اس فوج کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اس فوج کو گھیرے میں آئے ڈیڑھ مہینہ گزر گیا تھا۔ گھیرے میں آئی ہوئی فوج گھیرا توڑنے کے لیے ہر طرف حملے کرتی تھی۔ سلطان ایوبی اس کا کوئی حملہ کامیاب نہیں ہونے دے رہا تھا۔ البتہ گھیرا کئی میلوں پر پھیل گیا تھا۔ وہ علاقہ سرسبز تھا، اس لیے صلییوں کو پانی اور جانوروں کو چارہ مل جاتا تھا۔ ان کے جانور مرتے تھے تو اسے وہ کھالیتے تھے، مگر یہ کافی نہیں تھا۔ ہزاروں گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے یہ چارہ کافی نہیں تھا۔ پانی کے لیے وہاں کوئی ندی یا دریا نہیں تھا۔ تین چار چشمے تھے جن میں سے دو ڈیڑھ مہینے میں ہی خشک ہوگئے تھے۔ صلیبی سپاہیوں میں بددلی پیدا ہوگئی تھی۔ انہیں غذا بہت کم ملتی تھی اور پانی کے لیے بہت دور جانا پڑتا تھا۔ رات کو سلطان ایوبی کے چھاپہ مار گروہ ان پر شب وخون مارتے اور نقصان کرتے رہتے تھے۔ ڈیڑھ ماہ میں یہ فوج آدھی رہ گئی تھی۔ ان کے جانوروں میں بھی دم نہیں رہا تھا۔ صلیبی حکمران ریمانڈ جو اس فوج کا کمانڈر تھا، سخت پریشانی کے عالم میں انتظار کررہا تھا کہ صلیبی حملہ کرکے اسے سلطان ایوبی سے چھڑائیں گے مگر اس کی مدد کو کوئی نہیں آرہا تھا۔

سلطان ایوبی چاہتا تو چاروں طرف سے حملہ کرکے اس فوج کو شکست دے سکتا تھا لیکن اس سے اپنا جانی نقصان بھی ہونا لازمی تھا اور جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کا خطرہ بھی تھا۔ سلطان ایوبی اپنی طاقت زائل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ صلیبیوں کو آہستہ آہستہ مار رہا تھا۔ اسے یہ نقصان ضرور ہورہا تھا کہ اس کی فوج کا تیسرا حصہ اس صلیبی فوج کو گھیرے میں رکھنے میں الجھ گیا تھا۔ اسے وہ شہر کے محاصرے کی کامیابی کے لیے استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ اس کے پاس ابھی ریزرو دستے موجود تھے اور وہ سوچ رہا تھا کہ قلعہ توڑنے کے لیے وہ انہیں استعمال کرے۔ وہ اب محاصرے کو اور زیادہ طول دینا نہیں چاہتا تھا۔ اس دور میں محاصرے عموماً طویل ہوا کرتے تھے۔ ایک ایک شہر کو دو دو سال تک بھی محاصرے میں رکھا گیا ہے۔ چھ سات ماہ کا محاصرہ طویل نہیں سمجھا جاتا تھا لیکن سلطان ایوبی محاصرے کو طول دینے کا قائل نہیں تھا۔ وہ ان حملہ آوروں میں سے بھی نہیں تھا جو کسی ملک کے دارالحکومت کا محاصرہ کرکے اندر والوں کو پیغام بھیجا کرتے تھے کہ اتنی مقدار زر وجواہرات کی، اتنے ہزار گھوڑے اور اتنی عورتیں باہر بھیج دو، ہم چلے جائیں گے۔ سلطان ایوبی عرب کی سرزمین سے صلیبیوں کو نکالنا چاہتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ یہ سرزمین اسلام کا سرچشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کرے گا اور وہ اپنی عمر کو بہت کم سمجھا کرتا تھا۔ یہ الفاظ اس نے بارہا کہے تھے کہ میں یہ کام اپنی مختصر سی عمر میں پورا کردینا چاہتا ہوں ورنہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مسلمان امراء اس مقدس خطے کو صلیبیوں کے ہاتھ بیچتے چلے جارہے ہیں۔

ایک رات وہ اپنے خیمے میں گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس نے یہاں تک سوچا تھا کہ قلعے کے اردگرد اتنی فراغ سرنگیں کھدوائی جائیں جن میں پیادہ سپاہی گزر سکیں۔ کچھ اور طریقے بھی اس کے ذہن میں آئے وہ اب چند دنوں میں کرک پر قبضہ کرلینا چاہتا تھا۔ اس کیفیت میں علی بن سفیان اس کے خیمے میں داخل ہوا۔ اسے دیکھ کر سلطان ایوبی خوش نہیں ہوا کیونکہ اسے اطلاع مل چکی تھی کہ مصر کے حالات خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ چہرے پر تشویش کے آثار لیے سلطان ایوبی علی بن سفیان سے بغل گیر ہوکر ملا اور کہا… ”تم میرے لیے یقینا کوئی خوشخبری نہیں لائے”۔

”بظاہر خیریت ہے”۔ علی بن سفیان نے کہا… ”مگر خوشخبری والی بات بھی کوئی نہیں”۔ اس نے مصر کے حالات اور واقعات سنانے شروع کردیئے۔ علی بن سفیان جیسا ذمہ دار حاکم سلطان ایوبی سے کچھ بھی نہیں چھپا سکتا تھا۔ نہ ہی وہ اسے خوش فہمیوں میں مبتلا کرسکتا تھا۔ حالات کا تقاضا یہ تھا کہ لگی لپٹی رکھے بغیر بات کی جائے۔ علی بن سفیان نے تقی الدین کی غلطیوں اور سلطان ایوبی کی بھی ایک دو غلطیوں کا کھل کر ذکر کیا۔ ارسلان کی غداری کا قصہ اور الادریس کے جوان بیٹوں کی موت کا حادثہ سن کر سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔ اگر اسلان مرنہ چکا ہوتا تو سلطان ایوبی کبھی یقین نہ کرتا کہ اس کا یہ حاکم جسے وہ اپنا وفادار سمجھتا ہے، غداری کرسکتا ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ دوست اس سے غداری کرچکے تھے۔

”اگر ارسلان ذرا سی دیر اور زندہ رہتا تو باقی راز بھی بے نقاب کردیتا۔” علی بن سفیان نے کہا… ”اس کے آخری فقرے سے جو موت نے پورا نہ ہونے دیا، صاف ثبوت ملتا ہے کہ مصر میں بغاوت ہونے ہی والی ہے۔ مصر میں ہماری جو فوج ہے، اسے ذہنی لحاظ سے پست کردیا گیا ہے۔ میری جاسوسی بتاتی ہے کہ کمان دار تک غلط فہمیوں اور بے اطمینانی کا شکار ہوگئے ہیں۔ فوج کے لیے غلے اور گوشت کی قلت پیدا کرکے یہ بے بنیاد بات پھیلا دی گئی ہے کہ تمام تر رسد محاذوں پر بھیجی جارہی ہے اور یہ بھی کہ فوج کا مال حاکم بیچ کر کھارہے ہیں۔ دشمن کی سازش پوری طرح کامیاب ہے”۔

”دشمن کی سازش اسی ملک میں کامیاب ہوتی ہے جہاں کے چند ایک افراد دشمن کا ساتھ دینے پر اتر آتے ہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا۔ ”اگر ہمارے اپنے بھائی دشمن کا آلۂ کار بن جائیں تو ہم دشمن کا کیا بگاڑ سکتے ہیں۔ میں جس طرح اللہ کے ان شیروں کے جذبے کے زور پر اور ان کی جانیں قربان کرکے صلیبیوں کو میدان جنگ میں ناکوں چنے چبوا رہا ہوں، اسی طرح میرے حاکم بھی پکے مسلمان ہوتے تو آج قبلہ اول آزاد ہوتا اور ہماری اذانیں یورپ کے کلیسائوں میں گونج رہی ہوتی مگر میں مصر میں قید ہوکے رہ گیا ہوں، میرے جذبے اور میرا عزم زنجیروں میں جکڑے گئے ہیں”۔ اس نے کچھ دیر کی گہری خاموشی اور سوچ کے بعد کہا… ”مجھے سب سے پہلے ان غداروں کو ختم کرنا ہوگا ورنہ یہ قوم کو دیمک کی طرح کھاتے رہیں گے”۔

”میں یہ مشورہ لے کر آیا ہوں کہ اگر محاذ آپ کو اجازت دے تو مصر چلئے”۔

”میں حقائق سے چشم پوشی نہیں کرسکتا علی!” سلطان ایوبی نے کہا… ”لیکن میں یہ اظہار کیے بغیر بھی نہیں رہ سکتا کہ میرے ہاتھوں سے صلیبیوں کی گردن اور فلسطین چھڑانے والے میرے بھائی ہیں۔ علی بن سفیان! اگر میں نے غداروں کو اسلام کے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے والے مسلمانوں کو ابھی ختم نہ کیا تو یہ کبھی ختم نہ ہوں گے اور ہماری تاریخ کو یہ گروہ ہمیشہ شرمسار کرتا رہے گا۔ قوم میں ہر دور میں یہ گروہ موجود رہے گا جو دین اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی کرکے اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرتا رہے گا”۔ اس نے پوچھا سوڈان کے محاذ کی کیا خبر ہے؟ میں نے تقی الدین کو پیغام بھیج دیا کہ اس محاذ کو سمیٹنا شروع کردو۔

”مصر میں کسی کو بھی معلوم نہیں کہ آپ نے یہ حکم دیا ہے”۔ علی بن سفیان نے کہا۔

”اور کس کو معلوم ہونا بھی نہیں چاہیے”۔ سلطان ایوبی نے کہا اس نے دربان کو بلایا اور کہا۔ ”کاتب کو فوراً بلا لائو”۔

کاتب کاغذ اور قلمدان لے کر آیا تو سلطان ایوبی نے کہا۔ ”لکھو… قابل صد احترام نورالدین زنگی…’

وہ قاصد بڑا ہی تیز رفتار تھا جس نے سلطان ایوبی کا پیغام اگلی رات کے آخری پہر بغداد میں نورالدین زنگی تک پہنچا دیا۔ سلطان ایوبی نے اسے کہا تھا کہ راستے میں ہر چوکی پر اسے تازہ دم گھوڑا مل جائے گا لیکن وہ گھوڑا صرف تبدیل کرے خود آرام اور کھانے کے لیے نہ رکے۔ کہیں بھی گھوڑا آہستہ نہ چلے۔ اگر رات کو نورالدین زنگی کے پاس پہنچے تو دربان سے کہہ دے کہ انہیں جگا دے۔ اگر زنگی خفگی کا اظہار کرے تو کہہ دینا کہ صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ ہم سب جاگ رہے ہیں۔ قاصد جب نورالدین زنگی کے دروازے پر پہنچا تو محافظ دستے نے اسے روک دیا اور کہا کہ پیغام صبح دیا جائے گا۔ قاصد نے گھوڑے تو کئی بدلے تھے مگر کہیں پانی کا ایک گھونٹ ینے کے لیے بھی نہیں رکا تھا۔ تھکن، بھوک، پیاس اور دو راتوں کی بیداری سے وہ لاش بن گیا تھا۔ زبان پیاس سے اکڑ گئی تھی۔ وہ پائوں پر کھڑا نہیں ہوسکتا تھا اور اس کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی۔ اس نے اشاروں میں بتایا کہ پیغام بہت ضروری ہے۔ نورالدین زنگی نے بھی سلطان ایوبی کی طرح اپنے خصوصی عملے، دربان اور اپنے باڈی گارڈز کے کمانڈر کو کہہ رکھا تھا کہ کوئی ضروری بات یا پیغام ہو تو اس کی نیند اور آرام کی پروا نہ کی جائے۔

قاصد کی حالت دیکھ کر باڈی گارڈز نے اندر جاکر نورالدین زنگی کی خواب گاہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر آگیا اور پیغام اور قاصد کو ملاقات کے کمرے میں لے گیا۔ قاصد کمرے میں داخل ہوتے ہی گر پڑا۔ زنگی نے اپنے ملازموں کو بلایا اور قاصد کی دیکھ بھال کرنے کو کہا۔ اس نے پیغام پڑھنا شروع کیا۔ سلطان ایوبی نے لکھا تھا۔

”آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، میرا پیغام آپ کو خوش نہیں کرے گا۔ آپ کے لیے خوشی اور اطمینان کی بات صرف یہ ہے کہ میں نے حوصلہ نہیں چھوڑا۔ آپ کے ساتھ کیا ہوا عہد پورا کررہا ہوں۔ آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو تمام حالات سنائوں گا۔ میں نے کرک کو محاصرے میں لے رکھا ہے، ابھی کامیابی نہیں ہوئی۔ اتنی کامیابی حاصل کرچکا ہوں کہ صلیبیوں کی ایک فوج نے شاہ ریمانڈ کی سرکردگی میں باہر سے مجھ پر حملہ کیا تھا۔ میں نے محفوظہ سے اسے گھیرے میں لے لیا ہے۔ اب تک اس کی آدھی فوج ختم کرچکا ہوں۔ بھوکے صلیبی اپنے گھوڑوں اور اونٹوں کو کھا رہے ہیں جو انہیں اتنی دور سے یہاں لائے تھے۔ میں اس کوشش میں ہوں کہ ریمانڈ کو زندہ پکڑ لوں مگر کرک کا محاصرہ لمبا ہوتا جارہا ہے۔ صلیبیوں کا دماغ اور طریقہ جنگ پہلے سے بہت بہتر ہے۔ میں محاصرے کو کامیاب کرنے کے طریقے سوچ رہا تھا اور مجھے امید تھی کہ میرے جانباز مجاہد قلعہ توڑ لیں گے وہ جس جذبے سے لڑ رہے ہیں وہ آپ کو حیران کردے گا مگر سوڈان میں میرا بھائی تقی الدین ناکام ہوگیا ہے۔ اس کی غلطی کہ اس نے اجنبی صحرا میں جاکر فوج کو پھیلا دیا ہے۔ وہ مدد مانگ رہا ہے۔ میں نے اسے محاذ سمیٹنے اور واپس آنے کو کہہ دیا ہے۔ مصر سے آئی ہوئی خبریں اچھی نہیں، غداروں اور ایمان فروشوں نے دشمن کا آلۂ کار بن کر مصر میں بغاوت اور صلیبی یلغار کے لیے راستہ صاف کردیا ہے۔ علی بن سفیان کو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ خود میرے پاس آیا ہے۔ میں اس کے مشورے کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ میں مصر چلا جائو… محترم! میں کرک کا محاصرہ اٹھا نہیں سکتا ورنہ صلیبی کہیں گے کہ صلاح الدین پسپا بھی ہوسکتا ہے۔ دشمن کی گردن میرے ہاتھ میں ہے۔ آئیے اور یہ گردن آپ اپنے ہاتھ میں پکڑ لیں، اپنی فوج ساتھ لائیں، میں اپنی فوج مصر لے جائوں گا۔ ورنہ مصر بغاوت کا شکار ہوجائے گا۔ امید ہے کہ آپ میرے دوسرے پیغام کا انتظار نہیں کریں گے”۔

نورالدین زنگی نے ایک لمحہ بھی انتظار نہ کیا۔ شب خوابی کے لباس میں ہی مصروف کار ہوگیا۔ فوجی حکام کو بلا لیا۔ انہیں احکام دیئے اور دن ابھی آدھا بھی نہیں گزرا تھا کہ اس کی فوج کرک کی سمت کوچ کرچکی تھی۔ زنگی وہ مرد مجاہد تھا جس کا نام سن کر صلیبی بدک جاتے تھے۔ اس کے سینے میں ایمان کی شمع روشن تھی۔ وہ فن حرب وضرب کا ماہر تھا۔ اس نے راستے میں کم سے کم پڑائو کیے اور اتنی جلدی محاذ پر پہنچا کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا۔ اگر قاصد پہلے سے اسے اطلاع نہ دے دیتا کہ زنگی اپنی فوج کے ساتھ آرہا ہے تو دور سے گرد کے بادل دیکھ کر سلطان صلاح الدین سمجھتا کہ صلیبیوں کی فوج آرہی ہے۔ سلطان ایوبی گھوڑا سرپٹ بھگاتا استقبال کے لیے گیا۔ نورالدین زنگی اسے دیکھ کر گھوڑے سے کود آیا۔ اسلام کی عظمت کے یہ دونوں پاسبان جب گلے ملے تو جذبات کی شدت سے سلطان ایوبی کے آنسو نکل آئے۔

٭ ٭ ٭

سلطان ایوبی نے نورالدین زنگی کو تمام تر حالات اور غداروں کی ساری کارستانیاں سنائیں۔ زنگی نے کہا… ”صلاح الدین! تمہاری عمر ابھی اتنی نہیں گزری کہ چند ایک حقائق کو قبول کرسکو۔ یہ اسلام کی بدنصیبی ہے کہ غدار ہماری قوم کا لازمی حصہ بن گئے ہیں اور قوم ان سے کبھی پاک نہیں ہوگی۔ مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ ایک وقت آئے گا جب غدار قوم پر باقاعدہ حکومت کریں گے۔ دشمن کے خلاف باتیں کریں گے۔ بلند دعوے کریں گے، دشمن کو کچل دینے کے نعرے لگائیں گے، مگر قوم جان نہیں سکے گی کہ ان کے حکمران دراصل اس کے اور اس کے دین کے دشمن کے ساتھ درپردہ دوستی کرچکے ہیں۔ دشمن انہی کو ڈھال اور انہی کو تلوار بنائے گا اور ان کے ہاتھوں قوم کو مروائے گا… پریشان نہ ہو صلاح الدین! ہم حالات پر قابو پالیں گے۔ تم مصر پہنچو اور تقی الدین کو مدددے کر سوڈان سے نکالو۔ دائیں بائیں حملے کرکے دشمن کو الجھائے رکھو تاکہ تقی الدین کا کوئی دستہ کہیں گھیرے میں نہ آجائے۔ مصر میں فوجوں کو یکجا کرو اور مصر میں جو فوج ہے، اسے میرے پاس بھیج دو۔ میں اس کے دماغ سے بغاوت کا کیڑا نکال دوں گا”۔

شام کے بعد زنگی نے اپنی فوج کو کرک کے محاصرے پر لگا دیا اور سلطان ایوبی کی فوج پیچھے ہٹ آئی۔ اسے فوراً قاہرہ کے لیے کوچ کا حکم دے دیا گیا۔ کچھ غلطی وہاں ہوگئی جہاں سلطان ایوبی نے ریمانڈ کی فوج کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ زنگی نے جب وہاں اپنے دستے اس ہدایت کے ساتھ بھیجے کہ سلطان ایوبی کی فوج کی بدلی کرتی ہے تو احکام اور ہدایات پر کسی غلط فہمی کی بنا پر عمل نہ ہوسکا۔ ریمانڈ نے اتفاق سے اس سمت حملہ کیا جہاں اسے توقع تھی کہ مسلمانوں کا دستہ کمزور ہے۔ اس نے وہاں کسی کو بھی حملہ روکنے کے لیے تیار نہ پایا۔ وہ اس طرف سے نکل گیا اور کچھ فوج بھی نکل گئی۔ صلیبیوں کی بچی کھچی فوج پھنسی رہ گئی، جسے اگلے روز پتا چلا کہ ان کا حکمران کمانڈر بھاگ گیا ہے تو اس نے بھی اندھا دھند بھاگنے کی کوشش کی۔ صلیبی اپنی جانیں بچانے کے لیے لڑے۔ کچھ مارے گئے اور بعض پکڑے گئے۔ نقصان یہ ہوا کہ ریمانڈ نکل گیا۔ فائدہ یہ ہوا کہ گھیرا کامیاب رہا اور نورالدین زنگی کی فوج کا یہ حصہ کرک کے محاصرے کو کامیاب کرنے کے لیے فارغ ہوگیا۔

سلطان ایوبی جب قاہرہ کو روانہ ہونے لگا تو حسرت بھری نظروں سے کرک کو دیکھا۔ اس نے زنگی سے کہا ”تاریخ یہ تو نہیں کہے گی کہ صلاح الدین ایوبی پسپا ہوگیا تھا؟ میں نے محاصرہ اٹھایا تو نہیں!”۔

”نہیں صلاح الدین!”… نورالدین زنگی نے اس کا گال تھپکا کر کہا… ”تم نے شکست نہیں کھائی، تم جذباتی ہوگئے ہو، جنگ جذبات سے نہیں لڑی جاتی”۔

”میں آئوں گا میر ے فلسطین!”… سلطان ایوبی نے کرک کو دیکھتے ہوئے کہا… ”میں آئوں گا”۔ اس نے گھوڑے کو ایڑی لگا دی پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

نورالدین زنگی اسے دیکھتا رہا۔ وہ جب اپنے گھوڑے سمیت دور جاکر گرد میں چھپ گیا تو زنگی نے اپنے ایک نائب سے کہا… ”اسلام کو ہر دور میں ایک صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہوگی”۔

یہ واقعہ ١١٧٣ئ)٥٦٩ہجری( کے وسط کا ہے۔

٭ ٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: