Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 12

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 12

–**–**–

وہ جو مردوں کو زندہ کرتا تھا

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

مصر کے دیہاتی اس کی راہ دیکھ رہے تھے۔ ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ تھے… ”وہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے۔ دل کی بات بتاتا ہے اور آنے والے وقت کے اندھیروں کو روشن کرکے دکھاتا ہے۔ مرے ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے”۔

وہ کون تھا؟… جنہوں نے اسے دیکھا تھا، وہ اس کی کرامات سے اس قدر مسحور ہوگئے تھے کہ یہ جاننے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے تھے کہ وہ کون ہے۔ وہ تسلیم کرلیتے تھے کہ وہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے اور جو لوگ اس کی راہ دیکھ رہے تھے وہ اس سوال سے بے نیاز تھے کہ وہ کون ہے۔ قافلے گزرتے تھے تو اسی کی کرامات سناتے تھے۔ کوئی اکیلا دھکیلا مسافر کسی گائوں میں جاتا تھا تو اسی کے معجزوں کا ذکر کرتا تھا۔ بعض لوگ اسے نبی اور پیغمبر بھی کہتے تھے اور کچھ ایسے بھی تھے جو اسے بارش کا دیوتا مانتے تھے اور اس کی خوشنودی کے لیے انسانی جان کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار تھے۔ ان میں سے کوئی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے اور وہ کیسا عقیدہ ساتھ لایا ہے۔ لوگ ابھی پسماندگی کے دور میں تھے۔ علم سے بے بہرہ تھے اور قدرت کے ستم کا شکار رہتے تھے۔ انہیں جہاں امید بندھتی تھی کہ ان کے مصائب کا حل موجود ہے، وہاں جا سجدے کرتے تھے۔ ان کی اکثریت مسلمان تھی۔ اسلام کی روشنی وہاں تک پوری آب وتاب سے پہنچی تھی۔ مسلمانوں نے مسجدیں بھی بنا رکھی تھی۔ رب کعبہ کے حضور پانچوں وقت سجدے بھی کرتے تھے مگر اسلام کے سچے عقیدے کو پختہ کرنے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ ان کے امام بے علم تھے جو اپنی امامت کو برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کو عجیب وغریب باتیں بتاتے رہتے تھے۔ قرآن کو انہوں نے )نعوذباللہ( کالے علم کی ایک کتاب بنا ڈالا تھا اور ایسا تاثر پیدا کررکھا تھا کہ قرآن کو صرف امام سمجھ سکتا ہے۔ چنانچہ یہ مسلمان قرآن کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتے تھے۔

ان اماموں نے لوگوں کے دلوں میں ”غیب” کا ایک لفظ بٹھا دیا تھا اور انہیں باور کرادیا تھا کہ جو کچھ بھی ہے وہ غیب میں ہے اور غیب میں جھانکنے کی قدرت صرف امام کو حاصل ہے۔ اماموں نے انسان کو ایک کم زور چیز بنا دیا تھا۔ اس مقام سے وسوسے اور توہمات پیدا ہوئے۔ صحرائی آندھیوں کی چیخوں میں انہیں اس مخلوق کی آوازیں سنائی دینے لگیں جو امام کہتے تھے کہ انسانوں کو نظر نہیں آسکتی۔ بیماریاں جنات اور شرشرار بن گئیں۔ امام معالج اور عامل بن گئے جنہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے قبضے میں جنات ہیں۔ انسان ”غیب کی سزا” سے اتنے خوف زدہ رہنے لگے کہ ان کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ کمزور پڑ گیا اور وہ ہر اس آواز پر لبیک کہنے لگے جو انہیں غیب کی مخلوق اور غیب سے سزا سے بچانے کا یقین دلاتی تھی… یہی وجہ تھی کہ لوگ بیتابی سے اس کی راہ دیکھ رہے تھے جو آسمان سے آیا ہے اور مرے ہوئوں کو اٹھا دیتا ہے۔

وہ مصر کے اس دیہاتی علاقے میں وارد ہوا تھا جو جنوب مغرب کی سرحد کے ساتھ تھا۔ اس زمانے میں سرحد کا کوئی واضح وجود نہیں تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے کاغذوں پر ایک لکیر کھینچ رکھی تھی لیکن وہ بھی کہا کرتا تھا کہ دین اسلام کی اور سلطنت اسلامیہ کی کوئی سرحد نہیں۔ دراصل سرحد عقیدوں کے درمیان تھی جہاں تک اسلام کی گرفت تھی، وہ اسلامی

سلطنت تھی اور جہاں سے غیراسلامی نظریات شروع ہوتے تھے، وہ علاقہ غیر کہلاتا تھا۔ مصر کے جس آخری گائوں میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی، وہ امارت مصر کا آخری اور سرحدی گائوں سمجھا جاتا تھا۔ اسی باعث صلیبی ملت اسلامی کے نظریات پر حملے کِرتے اور اسلامی عقیدوں کو کمزور کرکے وہاں اپنے عقائد ِکا غلبہ پیدا کرتے تھے۔ اس سے ثابت ہوتا تھا کہ اس وقت سرحدوں کی حیثیت جغرافیائی کم اور نظریاتی زیادہ تھی۔ اس دور کے واقعات سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ غیرمسلموں نے غلبۂ اسلام کے ساتھ ہی مسلمانوں پر نظریاتی حملے شروع کردیئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مسلمان جنگ کو جہاد کہتے ہیں اور قرآن نے مسلمانوں پر جہاد فرض کردیا ہے۔ یہاں تک کہ حالات کے تقاضے کے پیش نظر جہاد کو نماز پر فوقیت حاصل ہے اور یہ بھی کہ کسی غیرمسلم سلطنت میں مسلمان باشندوں پر ظلم وستم ہورہا ہو تو دوسری سلطنتوں کے مسلمانوں پر یہ اقدام فرض ہو جاتا ہے کہ مظلوم رعایا کو غیرمسلموں کے ظلم وستم سے بچائیں، خواہ اس مقصد کے لیے جنگی کارروائی کرنی پڑے۔

انہی قرآنی احکام نے مسلمانوں میں عسکری جذبہ پیدا کیا تھا جس کا اثر یہ تھا کہ مسلمان جس ملک پر فوج کشی کرتے یا جس میدان میں بھی لڑتے تھے ان کے ذہن میں جنگ کا مقصد واضح ہوتا تھا۔ گو ان پر مال غنیمت حلال قرار دیا گیا تھا لیکن ان کے ہاں لوٹ مار جنگ کے مقاصد میں شامل نہیں ہوتی تھی، نہ ہی وہ مال غنیمت کے لالچ سے لڑتے تھے۔ اس کے برعکس صلیبیوں کی جنگ ملک گیری کی ہوس کی آئینہ دار ہوتی اور وہ لوٹ مار پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹنے کا کام بھی صلیبی فوج کے حوالے کردیا گیا تھا۔ صلیبیوں کو اس کا یہ نقصان اٹھانا پڑتا تھا کہ ہر میدان میں ان کی جنگی طاقت مسلمانوں کی نسبت پانچ سے دس گنا ہوتی تھی مگر وہ مٹھی بھر مسلمانوں سے شکست کھا جاتے تھے۔ شکست نہ کھائیں تو فتح بھی حاصل نہ کرسکتے تھے۔ وہ جان گئے تھے کہ قرآن کے احکام نے مسلمانوں میں جنگی جنون پیدا کررکھا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نام پر لڑتے اور جانیں قربان کرتے ہ یں۔ صلیبیوں کے جرنیلوں میں کچھ ایسے بھی تھے جو مسلمانوں پر مذہبی جنون کی گرفت کمزور کرنے کی ترکیبیں سوچتے اور ان پر عمل کرتے تھے، وہ جان گئے تھے کہ ایک مسلمان جو دس غیر مسلموں کا مقابلہ کرتا ہے، وہ کوئی فرشتہ اور جن بھوت نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اندر اللہ کی طاقت اور اپنے عقیدے کی قوت محسوس کرتا ہے جو اسے کسی لالچ سے اور اپنی جان سے بھی بے نیاز کردیتی ہے۔ چنانچہ صلاح الدین ایوبی سے بہت پہلے ہی یہودی اور صلیبی عالموں اور مفکروں نے مسلمانوں کی عسکری روح کو مردہ کرنے کے لیے ان کی کردار کشی شروع کردی تھی اور ان کے مذہبی عقائد میں پرکشش ملاوٹ کرکے ان کے ایمان کو کمزور کرنا شروع کردیا تھا۔

صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کی بدنصیبی یہ تھی کہ وہ جب صلیبیوں کے خلاف اٹھے تو اس وقت تک صلیبیوں کی نظریاتی یلغار بہت حد تک کامیاب ہوچکی تھی۔ اسلام کے دشمنوں نے اس یلغار کو دو طرفہ استعمال کیا تھا۔ اوپر کے طبقے کو جس میں حکمران، امراء اور وزراء وغیرہ تھے۔ دولت، عورت اور شراب کا دلدادہ بنا دیا تھا اور نیچے یعنی پسماندہ لوگوں میں توہم پرستی اور مذہب کے خلاف وسوسے پیدا کردیئے تھے جس طرح زنگی اور ایوبی نے فن حرب وضرب میں نئے تجربے کیے اور نئی چالیں وضع کیں، اسی طرح صلیبیوں نے درپردہ کردار کشی کے میدان میں نئے طریقے دریافت کیے۔ تین چار یورپی مورخین نے یہاں تک لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بعض صلیبی حکمرانوں نے میدان جنگ کو اہمیت دینی ہی چھوڑ دی تھی۔ وہ اس نظریئے کے قائل ہوگئے تھے کہ جنگ اس طریقے سے لڑو کہ مسلمانوں کی جنگی طاقت زائل ہوتی رہے۔ زور دار حملہ ان کے مذہبی عقائد پر کرو اور ان کے دلوں میں ایسے وہم پیدا کردو جو مسلمان قوم اور فوج کے درمیان بداعتمادی اور حقارت پیدا کردیں۔ اس مکتبہ فکر کے صلیبی مفکروں میں فلپ آگسٹس سرفہرست تھا۔ یہ صلیبی حکمران اسلام

دشمنی کو اپنے مذہب کا بنیادی اصول سمجھتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ہماری جنگ صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی سے نہیں، یہ صلیب اور اسلام کی جنگ ہے جو ہماری زندگی میں نہیں تو کسی نہ کسی وقت میں ضرور کامیاب ہوگی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کی اٹھتی ہوئی نسل کے ذہن میں قومیت کے بجائے جنسیت بھر دو اور انہیں ذہنی عیاشی میں ڈبو دو۔

آگسٹس اپنے مشن کی کامیابی کے لیے میدان جنگ میں مسلمانوں کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح کرلینے سے بھی گریز نہیں کرتا تھا۔ ہم جس دور یعنی ١١٦٩ء کے لگ بھگ کی کہانی سنا رہے ہیں، اس وقت وہ نورالدین زنگی کے ہاتھوں شکست کھا کر مفتوحہ علاقے واپس کرچکا تھا۔ اس نے زنگی کو تاوان بھی دیا تھا اور جنگ نہ کرنے کے معاہدے پر دستخط کرکے جزیہ دے رہا تھا مگر جنگی قیدیوں کے تبادلے میں اس نے چند ایک معذور مسلمان سپاہی واپس کیے۔ تندرست قیدیوں کو اس نے قتل کردیا تھا اور اب وہ کرک کے قلعے میں اسلام کی بیخ کنی کے منصوبے بنا رہا تھا۔ اس کے ذہن میں اسلام دشمنی خبط کی صورت اختیار کرگئی تھی۔ اس کی بعض چالیں ایسی خفیہ ہوتی تھیں کہ اس کے اپنے صلیبی حکمران اور جرنیل بھی اسے شک کی نگاہوں سے دیکھنے لگے تھے۔ اس پر اپنے ساتھیوں نے یہ الزام عائد کیا کہ وہ اندر سے مسلمانوں کا دوست ہے اور ان کے ساتھ سودا بازی کررہا ہے۔ ایک یورپی مورخ آندرے آزون کے مطابق اس الزام کے جواب میں ایک بار آگسٹس نے کہا تھا… ”ایک مسلمان حکمران کو پھانسنے کے لیے میں اپنی کنواری بیٹیوں کو بھی اس کے حوالے کرنے سے گریز نہیں کروں گا۔ تم مسلمانوں کے ساتھ صلح نامے اور دوستی کے معاہدے کرنے سے گھبراتے ہو، کیونکہ اس میں تم اپنی توہین کا پہلو دیکھتے ہو، تم یہ نہیں سوچتے کہ مسلمان کو میدان جنگ کی نسبت صلح کے میدان میں مارنا آسان ہے۔ ضرورت پڑے تو اس کے آگے ہتھیار ڈال کر صلح نامہ کرو، معاہدہ کرو اور گھر آکر معاہدے اور صلح نامے کے الٹ ردعمل کرو۔ کیا میں ایسا نہیں کررہا؟ کیا تم نہیں جانتے کہ میرے خون کے رشتے کی دو لڑکیاں، دمشق کے ایک شیخ کے حرم میں ہیں؟ کیا اس شیخ سے تم لڑے بغیر بہت سارا علاقہ لے نہیں چکے؟ کیا اس نے دوستی کا حق ادا نہیں کیا؟ وہ مجھے اپنا دوست سمجھتا ہے اور میں اس کا جانی دشمن ہوں۔ میں ہر ایک غیرمسلم سے کہوں گا کہ مسلمانوں کے ساتھ معاہدے کرو اور انہیں دھوکہ دے کر مارو”۔

٭ ٭ ٭

یہ تھی وہ صلیبی ذہنیت جو ایک کامیاب سازش کے تحت سلطنت اسلامیہ کی جڑوں کو دیمک کی طرح کھا رہی تھی۔ اسی سازش کا یہ نتیجہ تھا کہ مصر میں بغاوت کی چنگاری شعلہ بننے لگی تھی جسے سرد کرنے کے لیے سلطان صلاح الدین ایوبی کو کرک کا محاصرہ اس حالت میں اٹھانا پڑا، جب وہ صلیبیوں کی ایک سوار فوج کو قلعے سے باہر شکست دے چکا تھا۔ اسے محاصرہ نورالدین زنگی کے حوالے کرکے اپنی فوج سمیت قاہرہ جانا پڑا۔ وہ دل برداشتہ تو نہیں تھا لیکن دل پر ایسا بوجھ تھا جو اس کے چہرے پر صاف نظرآرہا تھا۔ اس کی فوج کے سپاہی اس خیال سے مطمئن تھے کہ انہیں آرام کے لیے قاہرہ لے جایا جارہا ہے لیکن دستوں کے وہ کمان دار جو سلطان ایوبی کے عزم اور لڑنے کے لیے طریق کار کو سمجھتے تھے، حیران تھے کہ اس نے نورالدین کو فوج سمیت کیوں بلایا اور محاصرہ کیوں اٹھایا ہے۔ وہ تو فتح یا شکست تک لڑنے کا قائل تھا۔ اس کے ہیڈکوارٹر کے دو تین سالاروں کے سوا کسی کو علم نہیں تھا کہ مصر کے حالات بہت خراب ہوگئے ہیں اور سوڈان میں تقی الدین کا حملہ ناکام ہوگیا ہے اور اسے خیریت سے پیچھے ہٹانا ہے۔ سلطان ایوبی کے ساتھ علی بن سفیان بھی تھا۔ وہی مصر کے اندرونی حالات کی رپورٹ لے کر آیا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کرک سے کوچ کے حکم کے ساتھ یہ حکم بھی دیا تھا کہ راستے میں بہت کم پڑائو کیے جائیں گے اور کوچ بہت تیز ہوگا۔ اس حکم سے سب کو شک ہوا تھا کہ کچھ گڑبڑ ہے۔ سفر کی پہلی شام آئی۔ فوج رات بھر کے لیے رک گئی۔ سلطان ایوبی کا خیمہ نصب ہوگیا تو اس نے اپنے اعلیٰ کمانڈروں اور اپنی مرکزی کمان کے عہدیداروں کو بلایا۔ اس نے کہا… ”آپ میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں معلوم نہیں کہ میں نے محاصرہ کیوں اٹھایا ہے اور میں کو قاہرہ کیوں لے جارہا ہوں۔ بے شک محاصرہ ٹوٹا نہیں، آپ میں کوئی بھی پسپا نہیں ہوا لیکن میں اسے اگر شکست نہیں تو پسپائی ضرور کہوں گا۔ میرے رفیقو! ہم پسپا ہورہے ہیں اور آپ یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آپ کو پسپا کرنے والے آپ کے اپنے بھائی ہیں، اپنے رفیق ہیں، وہ صلیبیوں کے رفیق بن چکے ہیں اور انہوں نے بغاوت کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اگر علی بن سفیان اس کے نائب اور غیاث بلبیس چوکس نہ ہوتے تو آج آپ مصر نہ جاسکتے۔ وہاں صلیبیوں اور سوڈانیوں کی حکمرانی ہوتی۔ ارسلان جیسا حاکم صلیبیوں کا آلۂ کار نکلا، وہ الادریس کے دو جوان بیٹے مروا کر خودکشی کرچکا ہے۔ اگر ارسلان غدار تھا تو آپ اور کس پر بھروسہ کریں گے؟”

حاضرین پر سناٹا طاری ہوگیا۔ بے چینی اور اضطراب ان کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے خاموش ہوکر سب کو دیکھا۔ اس دور کا ایک وقائع نگار قاضی بہائوالدین شداد کسی غیرمطبوعہ تحریر کے حوالے سے لکھتا ہے کہ دو قندیلوں کی کانپتی ہوئی روشنی میں سب کے چہرے اس طرح نظر آرہے تھے جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہوں۔ وہ آنکھ بھی نہیں جھپکتے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ سے زیادہ اس کا لب ولہجہ اور انداز ان پر اثر انداز ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی کی آواز میں روز والا جوش نہیں بلکہ لرزہ سا تھا جو سب کو ڈرا رہا تھا۔ اس نے کہا… ”میں یہ کہہ کر کہ آپ میں بھی غدار ہیں، معافی نہیں مانگوں گا۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ قرآن پر حلف اٹھائو کہ آپ اسلام اور سلطنت اسلامیہ کے وفادار ہیں۔ ایمان بیچنے والے قرآن ہاتھ میں لے کر بھی وفاداری کا یقین دلایا کرتے ہیں۔ میں آپ کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ انسان جو مسلمان نہیں وہ آپ کا دشمن ہے۔ دشمن جب آپ کے ساتھ محبت اور دوستی کا اظہار کرتا ہے تو اس میں اس کی دشمنی چھپی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ آپ کو آپ کے بھائیوں کے خلاف اور آپ کے مذہب کے خلاف استعمال کرتا ہے اور جہاں اسے مسلمانوں پر حکومت کرنے کا موقع ملتا ہے، وہ مسلمان مستورات کی عصمت دری اور اسلام کی بیخ کنی کرتا ہے۔ یہی اس کا مقصد ہے، ہم جو جنگ لڑ رہے ہیں یہ ہماری ذاتی جنگ نہیں۔ یہ ذاتی حکمرانی قائم کرنے کے لیے کسی ملک پر قبضے کی کوشش نہیں۔ یہ دو عقیدوں کی جنگ ہے۔ یہ کفر اور اسلام کی جنگ ہے۔ یہ جنگ اس وقت تک لڑی جاتی رہے گی جب تک کفر یا اسلام ختم نہیں ہوجاتا”۔

”گستاخی معاف سالاراعظم!” ایک سالار نے کہا… ”اگر ہمیں ثابت کرنا ہے کہ ہم غدار نہیں ہیں تو ہمیں مصر کے حالات سے آگاہ کریں۔ ہم عمل سے ثابت کریں گے کہ ہم کیا ہیں۔ ارسلان فوج کا نہیں انتظامیہ کا حاکم تھا۔ آپ کو غدار انتظامی شعبوں میں ملیں گے، فوج میں نہیں۔ کرک قلعے کا محاصرہ آپ نے اٹھایا ہے، ہم نے نہیں۔ محترم زنگی کو آپ نے بلایا ہے، ہم نے نہیں۔ ہمارا امتحان میدان جنگ میں ہوسکتا ہے، پرامن کوچ میں نہیں… مصر میں کیا ہورہا ہے”۔

صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان کی طرف دیکھا اور کہا… ”علی! انہیں بتائو وہاں کیا ہورہا ہے”۔

علی بن سفیان نے کہا… ”غداروں نے دشمن کے ساتھ مل کر سوڈان کے محاذ کے لیے رسد روک لی ہے۔ منڈیوں سے غلہ غائب کردیا ہے۔ دیہاتی علاقوں میں اجنبی لوگ آکر غلہ اور خوردونوش کی دیگر اشیاء خرید کر لے جاتے ہیں، گوشت ناپید کردیا گیا ہے۔ رسد اگر بھیجی جاتی ہے تو دانستہ تاخیر کی جاتی ہے۔ یوں بھی ہوا کہ رسد بھیج کر دشمن کو اطلاع دے دی گئی۔ دشمن نے رسد کے قافلے کو راستے میں روک لیا۔ شہر میں بدکاری عام ہوگئی ہے۔ جوئے بازی کے ایسے دلچسپ طریقے رائج ہوگئے ہیں جن کے ہمارے لڑکے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ دیہاتی علاقوں سے فوج کو بھرتی نہیں ملتی اور جانور بھی نہیں ملتے۔ فوج میں بے اطمینانی پیدا ہوگئی ہے، ہمارے قومی کردار کو تباہ کرنے کے سامان پیدا کردیئے گئے ہیں۔ انتظامیہ کے حکام چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمران بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ انہیں یہ لالچ صلیبیوں نے دے رکھی ہے۔ ان حاکموں کو باہر سے بے دریغ دولت مل رہی ہے چونکہ سلطنت اور امارت کا انتظام انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے، اس لیے انہوں نے ایسی فضا پیدا کردی ہے جو دشمن کے لیے سازگار ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک صورت یہ پیدا ہوگئی ہے کہ دیہائی علاقوں میں عجیب وغریب عقیدے پھیل رہے ہیں۔ لوگ غیراسلامی اصولوں کے قائل اور پابند ہوتے جارہے ہ یں۔ اس میں خطرہ یہ ہے کہ ہمیں فوج انہی علاقوں سے ملتی ہے اور ہماری موجودہ فوج انہی علاقوں سے آئی ہے۔ بے بنیاد اور غیراسلامی عقیدے فوج میں بھی آگئے ہیں”۔

”کیا آپ نے اس کا تدارک نہیں کیا؟” حاضرین میں سے کسی نے پوچھا۔

”جی ہاں!” علی بن سفیان نے کہا… ”میرا تمام ترشعبہ مجرموں کے سراغ لگانے اور انہیں پکڑنے میں مصروف ہے۔ میں نے اپنے جاسوس اور مخبر دیہاتی علاقوں میں بھی پھیلا رکھے ہیں مگر دشمن کی تخریب کاری اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اس کے آدمیوں کو پکڑنا بہت مشکل ہوگیا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے مسلمان بھائی دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کو پناہ اور تحفظ دیتے ہیں۔ کیا آپ یہ سن کر حیران نہیں ہوں گے کہ دیہاتی علاقوں کی بعض مسجدوں کے امام بھی دشمن کی تخریب کاری میں شامل ہوگئے ہیں”۔

”یہ تو ہونہیں سکتا کہ میں انتظامیہ فوج کے سپرد کردوں”… سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا… ”فوج جس مقصد کے لیے تیار کی گئی ہے، یہ اسی کی تکمیل کا فرض ادا کرتی رہے تو سلطنت کے لیے بھی بہتر ہوتا ہے اور فوج کے لیے بھی۔ جس طرح ایک کوتوال سالار کے فرائض سرانجام نہیں دے سکتا۔ البتہ ہر سالار کو یہ ضرور معلوم ہونا چاہیے کہ کوتوال کیا کررہے ہیں۔ ہر سالار کو باخبر رہنا چاہیے کہ انتظامیہ کیا کررہی ہے۔ کیا واقعی فرائض میں کوتاہی تو نہیں ہورہی؟… میرے رفیقو! ہمیں خدا نے تاریخ کی سب سے زیادہ کڑی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ مصر کے حالات آپ نے سن لیے ہیں۔ سوڈان کا حملہ ناکام ہوگیا ہے۔ تقی الدین اپنی غلطیوں کی بدولت سوڈان کے صحرا میں پھنس کے رہ گیا ہے۔ اس کی فوج چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں بکھر گئی ہے۔ اس کی پسپائی بھی ممکن نظر نہیں آتی۔ میں کہہ نہیں سکتا کہ محترم زنگی کرک فتح کرلیں گے یا نہیں لیکن اسے بھی میں اپنی ناکامی کہتا ہوں۔ آپ انتہائی مشکل حالات میں بھی میدان جنگ میں دشمن کو شکست دے سکتے ہیں مگر دشمن نے جس محاذ پر حملہ کیا ہے، اس پر دشمن کو شکست دینا آپ کے لیے بظاہر آسان نظر نہیں آتا۔ آپ تیغ زن ہیں۔ صحرائوں کا سینہ چیر سکتے ہیں مگر مجھے خطرہ نظر آرہا ہے کہ صلیبیوں کے اس محاذ پر آپ ہتھیار ڈال دیں گے”۔

حاضرین میں چند ایک جوشیلی اور پرعزم آوازیں سنائی دیں۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”اس وقت جو فوج مصر میں ہے وہ جب شوبک اور کرک کے محاذ سے مصر گئی تھی تو اس کے کمان داروں اور عہدیداروں کا جذبہ بالکل ایسا ہی تھا جیسا آج آپ کا ہے مگر قاہرہ پہنچ کر جب انہوں نے د شمنوں کے سبز باغ دیکھے تو بغاوت کے لیے تیار ہوگئے۔ اب اس فوج کی کیفیت یہ ہے کہ آپ اس پر بھروسہ نہیں کرسکتے”۔

”ہم ایسے ایک ایک کمان دار اور عہدیدار کو قتل کرکے دم لیں گے”۔ ایک سالار نے کہا۔

”ہم سب سے پہلے اپنی صفوں کو غداروں سے پاک کریں گے”۔ ایک اور نے کہا۔

”اگر میرا بیٹا صلیبیوں کا دوست نکلا تو میں اپنی تلوار سے اس کا سرکاٹ کر آپ کے قدموں میں رکھ دوں گا”۔ ایک بوڑھے نائب سالار نے کہا۔

”میں اس قسم کی جوشیلی اورجذباتی باتوں کا قائل نہیں”… سلطان ایوبی نے کہا۔

حاضرین کا جوش غضب ناک ہوگیا۔ یہ وہ لوگ تھے جو سلطان ایوبی کے سامنے بات کرنے سے ڈرا کرتے تھے مگر اب یہ سن کر کہ ان کی فوج کی وہ نفری جو مصر میں ہے، دشمن کی تخریب کاری کا شکار ہوکر اپنی سلطنت کے خلاف بغاوت پر اتر آئی ہے تو وہ لوگ آگ بگولہ ہوگئے۔ ایک نے سلطان ایوبی کو یہاں تک کہہ دیا… ”آپ ہمیں ہمیشہ تحمل سے سوچنے اور بردباری سے عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر بعض حالات ایسے ہوتے ہیں جنہیں تحمل اور بردباری اور زیادہ بگاڑ دیتی ہے۔ ہمیں اجازت دیں کہ قاہرہ تک ہم ایک بھی پڑائو نہ کریں۔ ہم آرام اور خوراک کے بغیر متواتر سفر کریں گے۔ ہم اس فوج کو نہتہ کرکے قید کرلیں گے”۔

صلاح الدین ایوبی کے لیے ان حکام پر قابو پانا محال ہوگیا۔ اس نے کچھ اور باتیں کہہ سن کر مجلس برخواست کردی۔ علی الصبح فوج نے کوچ کیا۔ یہ کوچ ترتیب سے ہورہا تھا۔ سلطان ایوبی اپنے عملے کے ساتھ الگ تھلگ جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ علی بن سفیان اس کے ساتھ نہیں تھا۔ شام تک فوج کو دو مرتبہ کچھ دیر کے لیے روکا گیا۔ شام گہری ہونے کے بعد بھی فوج چلتی رہی۔ رات کا پہلا پہر ختم ہورہا تھا، جب سلطان ایوبی نے رات کے قیام کے لیے فوج کو روکا۔ سلطان کھانے سے فارغ ہوا تو علی بن سفیان آگیا۔

”سارا دن کہاں رہے علی؟”… سلطان ایوبی نے پوچھا۔

”گزشتہ رات میرے دل میں ایک شک پیدا ہوگیا تھا”… علی بن سفیان نے جواب دیا… ”اس کی تصدیق یا تردید کے لیے سارا دن فوج میں گھومتا پھرتا رہا”۔

”کیسا شک؟”

”آپ نے رات دیکھا نہیں تھا کہ تمام سالار، کمان دار اور عہدیدار کس طرح اس فوج کے خلاف بھڑک اٹھے تھے جو مصر میں ہے؟”… علی بن سفیان نے کہا… ”مجھے شک ہونے لگا تھا کہ یہ اپنے اپنے دوستوں کو بھی اسی طرح بھڑکائیں گے۔ میرا شک صحیح ثابت ہوا۔ انہوں نے تمام تر فوج کو مصر کی فوج کے متعلق ایسی باتیں بتائی ہیں کہ تمام فوج انتقامی جذبے سے مشتعل ہوگئی ہے۔ میں نے سپاہیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ ہم محاذوں پر زخمی اور شہید ہوتے ہیں اور ہمارے ہی ساتھی قاہرہ میں عیش کرتے اور اسلامی پرچم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا چاہتے ہیں۔ ہم جاتے ہی انہیں ختم کریں گے۔ پھر سوڈان میں پھنسی ہوئی فوج کی مدد کو پہنچیں گے۔ قابل صد احترام امیر! اگر ہم نے کوئی پیش بندی نہ کی تو قاہرہ میں پہنچتے ہی خانہ جنگی شروع ہوجائے گی۔ ہماری یہ فوج انتقامی جذبے کے زیراثر غصے میں ہے اور ہماری مصر والی فوج پہلے ہی بغاوت کے بہانے ڈھونڈ رہی ہے”۔

”مجھے اس پر تو خوشی ہے کہ مسلسل معرکوں کی تھکی ہوئی اس فوج میں یہ جذبہ پیدا ہوگیا ہے”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”مگر ہمارا دشمن یہی چاہتا ہے کہ ہماری فوج دو حصوں میں بٹ کر آپس میں ٹکرا جائے”۔ وہ گہری سوچ میں پڑ گیا، پھر کہنے لگا… ”جب ہم قاہرہ سے خاصا دور ہوں گے تو میں ذمہ دار اور ذہین قاصد بھیج کر مصر والی فوج کو کسی دوسرے راستے سے کرک کی سمت کوچ کا حکم دے دوں گا۔ شاید میں خود آگے چلا جائوں اور اس فوج کو کوچ کرادوں تاکہ یہ فوج جو ہمارے ساتھ ہے جب وہاں پہنچے تو وہاں اسے اس فوج کا کوئی سپاہی نظر نہ آئے۔ تم نے اچھا کیا ہے علی! میری توجہ ادھر نہیں گئی تھی”۔

وہ پراسرار غیب دان جس کے متعلق سرحد کے دیہاتی علاقوں میں مشہور ہوگیا تھا کہ آسمان سے آیا ہے، خدا کا دین لایا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے، اپنے مصاحبوں کے قافلے کے ساتھ سفر کرتا تھا۔ جنہوں نے اسے دیکھا تھا وہ کہتے تھے کہ وہ بوڑھا نہیں، اس کی داڑھی بھورے رنگ کی اور چہرے کی رنگت گوری بتائی جاتی تھی۔ اس نے سر کے بال بڑھا رکھے تھے۔ لوگ بتاتے تھے کہ اس کی شربتی آنکھوں میں پورے چاند جیسی چمک ہے اور اس کے دانت ستاروں کی طرح سفید اور شفاف ہیں۔ اس کا قد اونچا اور جسم گٹھا ہوا بتایا جاتا تھا اور وہ بولتا تھا تو سننے والے مسحور ہوجاتے تھے۔ اس کے ساتھ بہت سے مصاحب اور بہت سے اونٹ تھے۔ سامان والے اونٹ الگ تھے جن میں سے بعض پر بڑے بڑے مٹکے لدے ہوتے تھے۔ اس کا قافلہ آبادی سے دور رکتا اور وہ وہیں لوگوں سے ملتا تھا۔ کسی آبادی میں نہیں جاتا تھا۔ وہ ایک جگہ سے کوچ کرتا تو اس کے آگے آگے کچھ لوگ اونٹ اور گھوڑے بھگا دیتے اور راستے میں آنے والے لوگوں اور بستیوں میں خبر کردیتے تھے کہ وہ آرہا ہے، یہ لوگ ہر کسی کو اس کی کرامات اور روحانی قوتوں کے کرشمے سناتے تھے۔ لوگ کئی کئی دن اس کے راستے میں بیٹھے رہتے تھے۔

جس رات علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا کہ محاذ سے قاہرہ کو جانے والی فوج مصر میں مقیم فوج کے خلاف مشتعل ہوگئی، اس رات وہ غیب دان قاہرہ سے بہت دور ایک نخلستان میں خیمہ زن ہوا۔ اس کا ایک اصول یہ تھا کہ چاندنی راتوں میں کسی سے نہیں ملتا تھا۔ دن کے دوران کسی کے ساتھ بات نہیں کرتا تھا۔ اندھیر راتیں اسے پسند تھیں۔ اس کی محفل ایسی قندیلوں سے روشن ہوتی تھی جن میں سے ہر ایک کا رنگ دوسری سے مختلف تھا۔ ان روشنیوں کا بھی ایک تاثر تھا جو حاضرین محفل کے لیے طلسماتی تھا۔ وہ جہاں خیمہ زن ہوا تھا اس کے کچھ دور ایک بستی تھی جس میں زیادہ تر مسلمان اور کچھ سوڈانی حبشی رہتے تھے۔ اس بستی میں ایک مسجد بھی تھی جہاں کا امام ایک خاموش طبیعت انسان تھا۔ ایک جواں سال آدمی کوئی ڈیڑھ دو مہینوں سے اس کے پاس دینی تعلیم حاصل کرنے آیا کرتا تھا۔ یہ آدمی جو اپنا نام محمود بن احمد بتاتا تھا کسی دوسری بستی سے مسجد میں جایا کرتاتھا۔ اس کی دلچسپی امام مسجد اور اس کے علم کے ساتھ تھی مگر اس کی ایک دلچسپی اور بھی تھی۔ یہ ایک جوان لڑکی تھی جس نے اسے اپنا نام سعدیہ بتایا تھا۔ سعدیہ کو محمود اتنا اچھا لگا کہ وہ اسے کئی بار اپنی بکریوں کا دودھ پلا چکی تھی۔

ان کی پہلی ملاقات بستی سے دور ایک ایسی جگہ ہوئی تھی جہاں سعدیہ اپنی چار بکریاں اور دو اونٹ چرانے اور انہیں پانی پلانے کے لیے لے گئی تھی۔ محمود وہاں پانی پینے کے لیے رکا تھا۔ سعدیہ نے اس سے پوچھا تھا کہ کہاں سے آیا ہے اور کہاں جارہا ہے؟ محمود نے کہا تھا کہ نہ کہیں سے آرہا ہوں، نہ کہیں جارہا ہوں۔ سعدیہ سادگی سے ہنس پڑی تھی۔ جواب ہی کچھ ایسا تھا۔ سعدیہ نے محمود سے قدرتی سا سوال پوچھا… ”مسلم یا سوڈانی؟”… محمود نے جواب دیا کہ وہ مسلمان ہے تو سعدیہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی تھی۔ محمود نے اسے اپنا صحیح ٹھکانہ نہیں بتایا تھا۔ اس کے ساتھ کچھ ایسی باتیں کیں جو سعدیہ کو اچھی لگی تھیں۔ سعدیہ اس سے سوڈان کی جنگ کے متعلق پوچھنے لگی۔ اس کے انداز سے پتا چلتا تھا کہ اسے اسلامی فوج کے ساتھ دلچسپی ہے۔ اس نے جب صلاح الدین ایوبی کے متعلق پوچھا تو محمود نے اس کی ایسی تعریفیں کیں جیسے سلطان صلاح الدین ایوبی انسان نہیں، خدا کا اتارا ہوا فرشتہ ہے۔ سعدیہ نے پوچھا… ”کیا صلاح الدین

ایوبی اس سے زیادہ مقدس اور برگزیدہ ہے جو آسمان سے اترا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کردیتا ہے؟”

”صلاح الدین ایوبی مرے ہوئوں کو زندہ نہیں کرسکتا”۔ محمود نے جواب دیا۔

”ہم نے سنا ہے کہ جو لوگ زندہ ہوتے ہیں، انہیں صلاح الدین ایوبی مار ڈالتا ہے”۔ سعدیہ نے شکی لہجے میں کہا… ”لوگ یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہے اور ہماری طرح کلمہ اور نماز پڑھتا ہے؟”

”تمہیں کس نے بتایا ہے کہ وہ لوگوں کو مار ڈالتا ہے؟”

”ہمارے گائوں میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں اور وہ بتا جاتے ہیں کہ صلاح الدین ایو بی بہت برا آدمی ہے”۔ سعدیہ نے کہا۔

”تمہاری مسجد کا امام کیا بتاتا ہے؟” محمود نے بتایا۔

”وہ بہت اچھی باتیں بتاتا ہے”۔ سعدیہ نے کہا… ”وہ سب کو کہتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اسلام کی روشنی سارے مصر اور سوڈان میں پھیلانے آیا ہے اور اسلام ہی خدا کا سچا دین ہے”۔

محمود اس کے ساتھ اسی موضوع پر باتیں کرتا رہا تھا۔ سعدیہ سے اسے پتا چلا کہ اس کے گائوں میں ایسے آدمی آتے رہتے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان بتاتے ہیں مگر باتیں ایسی کرتے ہیں کہ کئی لوگوں کے دلوںمیں اسلام کے خلاف شکوک پیدا ہوگئے ہیں۔ محمود نے سعدیہ کے شکوک رفع کردیئے اور اپنی ذات، میٹھی زبان اور شخصیت کا اس پر ایسا اثر پیدا کیا کہ سعدیہ نے بیتابی سے کہا کہ وہ اکثر یہیں بکریاں چرانے آیا کرتی ہے اور محمود جب کبھی ادھر سے گزرے تو اسے ضرور ملے۔ محمود اسے جذبات اور حقائق کے درمیان بھٹکتا چھوڑ کر اس کے گائوں کی طرف چلا گیا۔ سعدیہ یہ سوچتی رہ گئی کہ وہ کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ اور کہاں جارہا ہے؟ اس کا لباس اسی علاقے کا تھا مگر اس کی شکل وصورت اور اس کی باتیں بتاتی تھیں کہ وہ اس علاقے کا رہنے والا نہیں… سعدیہ کے شکوک صحیح تھے۔ محمود بن احمد دیہاتی علاقے کا رہنے والا نہیں تھا۔ سکندریہ شہر کا باشندہ تھا اور علی بن سفیان کی داخلی جاسوسی )انٹیلی جنس( کا ایک ذہین کارکن تھا۔ وہ کئی مہینوں سے اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے سرحدی دیہات میں گھوم پھر رہا تھا۔ اس نے کھانے پینے اور رہنے کا انتظام خفیہ رکھا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ چند اور جاسوس بھی تھے جو اس علاقے میں پھیلے ہوئے تھے۔ وہ کبھی کبھی اکٹھے ہوتے اور ان کے جو مشاہدات ہوتے تھے، وہ اپنے کسی ایک ساتھی کے سپرد کرکے اسے قاہرہ بھیج دیتے تھے۔ اس طرح علی بن سفیان کے شعبے کو پتا چلتا رہتا تھا کہ سرحدی علاقے میں کیا ہورہا ہے۔

محمود بن احمد کو سعدیہ مل گئی تو اس نے اس لڑکی کے ساتھ بھی ایسی باتیں کیں جن سے اسے گائوں اور گردوپیش کے علاقے کے لوگوں کے خیالات کا علم ہوسکتا تھا۔ اس نے سعدیہ کے گائوں کی مسجد کے امام کے متعلق خاص طور پر پوچھا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ دو گائوں میں اس نے ایسے امام مسجد دیکھے تھے جو اسے مشکوک سے لگتے تھے۔ وہاں کے لوگوں سے اسے پتا چلا تھا کہ یہ دونوں امام نئے نئے آئے ہیں۔ اس سے پہلے ان مسجدوں میں امام تھے ہی نہیں۔ دونوں جہاد کے خلاف وعظ سناتے اور قرآن کی آیات پڑھ کر غلط تفسیریں بیان کرتے تھے اور یہ دونوں پراسرار غیب دان کو برحق بتاتے اور لوگوں میں اس کی زیارت کا اشتیاق پیدا کرتے تھے۔ محمود اور اس کے دو ساتھیوں نے ان دونوں اماموں کے متعلق رپورٹ قاہرہ کو بھیج دی تھی اور اب وہ سعدیہ کے گائوں جارہا تھا۔ اسے یہ سن کر بہت خوشی ہوئی تھی کہ اس گائوں کا امام سلطان ایوبی کا مرید اور اسلام کا علمبردار ہے۔ اس نے اسی مسجد کو اپنا ٹھکانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا –

وہ مسجد میں گیا اور امام سے ملا۔ اپنا جھوٹا تعارف کراکے اس نے کہا کہ وہ مذہبی علم کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ امام نے اسے تعلیم دینے کا وعدہ کیا اور اسے مسجد میں رہنے کی پیشکش کی۔ محمود مسجد میں قید نہیں ہونا چاہتا تھا۔ اس نے امام سے کہا کہ وہ دوتین روز بعد اپنے گھر جایا کرے گا۔ اس نے امام کو بھی اپنا نام نہیں بتایا تھا۔ امام نے اس سے نام پوچھا تو اس نے کچھ اور نام بتادیا۔ یہ پوچھا کہ وہ کہاں کا رہنے والا ہے تو اس نے اور کسی سرحدی گائوں کا نام بتا دیا۔ امام مسکرایا اور آہستہ سے بولا… ”محمود بن احمد! مجھے خوشی ہوئی ہے کہ تم اپنے فرائض سے بے خبر نہیں۔ سکندریہ کے مسلمان فرض کے پکے ہوتے ہیں”۔

محمود ایسا چونکا جیسے بدک اٹھا ہو۔ وہ سمجھا کہ یہ امام صلیبیوں کا جاسوس ہے لیکن امام نے اسے زیادہ دیر تک شک میں نہ رہنے دیا اور کہا… ”میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے کم از کم تمہارے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کردینا چاہیے۔ میں تمہارے ہی محکمے کا آدمی ہوں۔ میں تمہارے تمام ساتھیوں کو جو اس علاقے میں ہیں، جانتا ہوں۔ مجھے تم میں سے کوئی بھی نہیںجانتا۔ میں محترم علی بن سفیان کے اس عملے کا آدمی ہوں جو دشمن پر نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے جاسوسوں پر بھی نظر رکھتا ہے۔ میں امام بن کر جاسوسی کا کام کررہا ہوں”۔

”پھر میں آپ کو دانشمند آدمی نہیں کہوں گا؟”۔ محمود بن احمد نے کہا… ”آپ نے جس طرح میرے سامنے اپنے آپ کو بے نقاب کیا ہے، اس طرح آپ دشمن کے کسی جاسوس کے سامنے بھی بے نقاب ہوسکتے ہیں”۔

”مجھے یقین تھا کہ تم میرے آدمی ہو”۔ امام نے کہا… ”ضرورت ایسی آپڑی ہے کہ تمہیں اپنا اصلی روپ بتانا ضروری سمجھا۔ میرے ساتھ دو محافظ ہیں جو یہاں کے باشندوں کے بہروپ میں گائوں میں موجود رہتے ہیں۔ مجھے زیادہ آدمیوں کی ضرورت ہے۔ اچھا ہوا کہ تم آگئے ہو۔ اس گائوں میں دشمن کے تخریب کار آرہے ہیں۔ تم نے اس آدمی کے متعلق سنا ہوگا جس کے متعلق مشہور ہوگیا ہے کہ وہ مستقبل کے اندھیرے کی خبر دیتا ہے اور مرے ہوئوں کو زندہ کرتا ہے۔ یہ گائوں بھی اس کی ان دیکھی کرامات کی زد میں آگیاہے۔ میں نے گائوں والوں کو شروع میں بتایا تھا کہ یہ سب جھوٹ ہے اور لاشوں میں کوئی انسان جان نہیں ڈال سکتا مگر اس کی شہرت کا جادو اتنا سخت ہے کہ لوگ میرے خلاف ہونے لگے ہیں۔ میں سنبھل گیا کیونکہ میں اس مسجد سے نکلنا نہیں چاہتا۔ مجھے ایک اڈے اور ٹھکانے کی ضرورت ہے۔ یہاں کے گمراہ کیے ہوئے لوگوں کو اسلام کا سیدھا راستہ بھی دکھانا ہے۔ پندرہ بیس روز گزرے، رات کو دو آدمی میرے پاس آئے۔ میں اکیلا تھا۔ ان دونوں کے چہروں پر نقاب تھے۔ انہوں نے مجھے دھمکی دی کہ میں یہاں سے چلا جائوں۔ میں نے انہیں کہا کہ میرا اور کوئی ٹھکانہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو درس بند کردو اور اس کی باتیں کرو جو آسمان سے آیا ہے اور خدا کا سچا مذہب لایا ہے۔ میں دونوں کا مقابلہ کرسکتا تھا۔ ہتھیار ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہوں لیکن میں لڑ کر قتل کرکے یا قتل ہوکر اپنا فرض پورا نہیں کرسکتا تھا۔ میں نے عقل سے کام لیا اور انہیں یہ تاثر دیا کہ آج سے وہ مجھے اپنا آدمی سمجھیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ان کی باتوں پر عمل کرے گا تو اسے ایک انعام یہ ملے گا کہ اسے قتل نہیں کیا جائے گا اور دوسرا یہ کہ اسے اشرفیاں دی جائیں گی”۔

”پھر آپ نے اپنے وعظ اور خطے کا رنگ بدل دیا ہے؟” محمود نے پوچھا۔

”کسی حد تک”۔ امام نے جواب دیا… ”میں اب دونوں قسم کی باتیں کرتا ہوں۔ مجھے اشرفیوں کی نہیں۔ اپنی جان کی ضرورت ہے۔ میں اپنا فرض ادا کیے بغیر مرنا نہیں چاہتا۔ میں گائوں سے باہر جاکر تمہیں یا تمہارے کسی ساتھی کو ڈھونڈنا بھی نہیں چاہتا کیونکہ اس کی جان بھی خطرے میں پڑ جاتی۔ خدا نے خود ہی تمہیں میرے پاس بھیج دیا ہے۔ میرے

محافظ اس رات میرے پاس نہیں تھے۔ اب تم ہی میرے ساتھ رہو۔ تم میرے شاگرد کی حیثیت سے میرے ساتھ رہوگے۔ تم سیدھی سادی گنواروں کی سی باتیں کیا کرنا۔ گائوں میں چار پانچ آدمی ایسے ہیں جو ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔ اگر ہمیں قریب کوئی سرحدی دستہ مل جائے تو ہمارا مقصد پورا ہوسکتا ہے مگر ہمارے سرحدی دستوں کے کسی کمان دار پر بھروسہ کرنا بڑا خطرناک ہے۔ دشمن نے اشرفیوں اور عورتوں سے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا ہے۔ وہ تنخواہ ہمارے خزانے سے لیتے اور کام دشمن کا کرتے ہیں”۔

محمود بن احمد اس کے پاس رک گیا۔ اسی روز امام نے اسے اپنے دونوں محافظوں سے ملا دیا۔

شام کو جب سعدیہ مسجد میں امام کے لیے کھانا لے کر آئی تو محمود کو دیکھ کر ٹھٹھک گئی اور مسکرائی۔ محمود نے پوچھا… ”میرے لیے کھانا نہیں لائو گی؟” سعدیہ کھانا امام کے حجرے میں رکھ کر دوڑی گئی اور روٹی کے ساتھ ایک پیالے میں بکریوں کا دودھ بھی لے آئی۔ وہ چلی گئی تو امام نے محمود سے کہا… ”یہ علاقے کی سب سے زیادہ خوبصورت لڑکی ہے۔ ذہین بھی ہے اور کم عمر بھی۔ اس کا سودا ہورہا ہے”۔

”سودا یا شادی؟”

”سودا”… امام نے کہا… ”تم جانتے ہو کہ ان لوگوں کی شادی دراصل سودا ہوتا ہے مگر سعدیہ کا سیدھا سودا ہورہا ہے۔ ہمیں اس کے متعلق پریشان نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن خریدار مشکوک لوگ ہیں۔ وہ یہاں کے رہنے والے نہیں۔ یہ وہی لوگ معلوم ہوتے ہیں جو مجھے دھمکی دے گئے ہیں۔ تم اچھی طرح سمجھ سکتے ہو کہ وہ اس لڑکی کو اپنے رنگ میں رنگ کر ہمارے خلاف استعمال کریں گے۔ اس لیے اسے بچانا ضروری ہے اور اس لیے بھی اسے بچانا ضروری ہے کہ یہ لڑکی مسلمان ہے۔ ہمیں سلطنت کے ساتھ ساتھ سلطنت کی بچیوں کی عصمت کی حفاظت بھی کرنی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ سودا نہیں ہوسکے گا۔ سعدیہ کے باپ کو میں نے اپنا مرید بنا رکھا ہے لیکن وہ غریب اور تنہا آدمی ہے اور رسم ورواج سے بھاگ بھی نہیں سکتا۔ بہرحال سلطنت اور سعدیہ کی عصمت کے محافظ ہمارے سوا اور کوئی نہیں”۔

اس کے بعد محمود امام کا شاگرد بن گیا۔ دن گزرنے لگے اور اس کی ملاقاتیں سعدیہ کے ساتھ ہونے لگیں۔ لڑکی چراگاہ میں چلی جاتی اور محمود وہاں پہنچ جاتا تھا۔ ان کی بے تکلفی بڑھ گئی تو محمود نے سعدیہ سے پوچھا کہ وہ کون لوگ ہیں جو اسے خریدنا چاہتے ہیں۔ سعدیہ انہیں نہیں جانتی تھی۔ اس کے لیے وہ اجنبی تھے۔ انہوں نے اس طرح آکر دیکھا تھا جس طرح گائے، بھینس کو خریدنے سے پہلے دیکھا جاتا ہے۔ سعدیہ کو اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کسی کی بیوی نہیں بنے گی۔ اسے عرب کا کوئی دولت مند تاجر یا کوئی امیر یا وزیز اپنے حرم میں رکھ کر قید کرلے گا۔ جہاں وہ اپنا گھر بسائے بغیر بوڑھی ہوکر مر جائے گی یا اسے ناچنا سکھا کر تفریح کی چیز بنا لیا جائے۔ اس نے اپنے گائوں کے فوجیوں سے ایسی لڑکیوں کے بہت قصے سنے تھے۔ وہ اتنے پسماندہ علاقے میں رہتے ہوئے بھی ذہین تھی اور اپنا برا بھلا سوچ سکتی تھی۔ اس نے محمود کو دیکھا تو اسے دل میں بٹھا لیا اور اس نے جب یہ دیکھا کہ محمود اسے چاہنے لگا ہے تو اس نے دل میں یہ ارادہ پختہ کرلیا کہ وہ فروخت نہیں ہوگی۔ وہ جانتی تھی کہ خریداروں سے بچنا اس کے لیے ممکن نہیں۔ ایک روز اس نے محمود سے پوچھا… ”تم مجھے خرید نہیں سکتے؟”

”خرید سکتا ہوں”… محمود نے کہا… ”لیکن میں جو قیمت دوں گا وہ تمہارے باپ کو منظور نہیں ہوگی”۔

”کتنی قیمت دوگے؟”

”میرے پاس دینے کے لیے اپنے دل کے سوا کچھ بھی نہیں”… محمود بن احمد نے جواب دیا… ”معلوم نہیں تم

دل کی قیمت جانتی ہو یا نہیں”۔

”اگر تمہارے دل میں میری محبت ہے تو میرے لیے یہ قیمت بہت زیادہ ہے”… سعدیہ نے کہا… ”تم ٹھیک کہتے ہو کہ میرے باپ کو یہ قیمت منظور نہیں ہوگی لیکن میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میرا باپ مجھے بیچنا بھی نہیں چاہتا، اس کی مجبوری یہ ہے کہ وہ غریب ہے اور اکیلا ہے۔ میراکوئی بھائی نہیں، میرے خریداروں نے میرے باپ کو دھمکی دی ہے کہ اس نے ان کی قیمت قبول نہ کی تو وہ مجھے اغوا کرلیں گے”۔

”تمہارا باپ اتنی زیادہ قیمت کیوں قبول نہیں کرتا؟”… محمود نے پوچھا… ”لڑکیوں کو بیچنے کا تو یہاں رواج ہے”۔

”باپ کہتا ہے کہ وہ لوگ مسلمان نہیں لگتے”… سعدیہ نے کہا… ”میں نے بھی باپ سے کہہ دیا ہے کہ میں کسی غیرمسلم کے پاس نہیں جائوں گی”… اس نے بیتاب ہوکر کہا… ”تم اگر مجھے اپنے ساتھ لے جانے کے لیے تیار ہوتو میں ابھی تمہارے ساتھ چل پڑوں گی”۔

”میں تیار ہوں”… محمود نے کہا۔

”توچلو”… سعدیہ نے کہا… ”آج ہی رات چلو”۔

”نہیں”… محمود کے منہ سے نکل گیا… ”میں اپنا فرض پورے کیے بغیر کہیں بھی نہیں جاسکتا”۔

”کیسا فرض؟”… سعدیہ نے پوچھا۔

محمود بن احمد چونکا۔ وہ سعدیہ کو نہیں بتا سکتا تھا کہ اس کا فرض کیا ہے۔ اس نے منہ سے نکلی ہوئی بات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی مگر سعدیہ اس کے پیچھے پڑ گئی۔ محمود کو اچانک یاد آگیا۔ اس نے کہا … ”میں امام سے مذہبی تعلیم لینے آیا ہوں۔ اس کی تکمیل کے بغیر میں کہیں نہیں جائوں گا”

”اس وقت تک مجھے معلوم نہیں کہاں پہنچا دیا جائے گا”… سعدیہ نے کہا۔

محمود فرض کو ایک لڑکی پر قربان کرنے پر آمادہ نہ ہوسکا۔ اس کے دل میں یہ شک بھی پیدا ہوا کہ یہ لڑکی دشمن کی جاسوس بھی ہوسکتی ہے جسے اسے بے کار کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ لہٰذا اس نے سعدیہ کے متعلق چھان بین کرنا ضروری سمجھا۔

٭ ٭ ٭

صلاح الدین ایوبی کی فوج قاہرہ سے آٹھ دس میل دور تھی۔ اسے بتا دیا گیا تھا کہ فوج مشتعل ہے اور مصر کی فوج پر ٹوٹ پڑے گی۔ سلطان ایوبی نے وہاں پڑائو کا حکم دے دیا اور سپاہیوں میں گھومنے پھرنے لگا۔ وہ خود سپاہیوں کے جذبات کا جائزہ لینا چاہتا تھا۔ وہ ایک سوار کے پاس رکا تو کئی سوار اور پیادہ اس کے گرد جمع ہوگئے۔ اس نے ان کے ساتھ غیرضروری سی باتیں کیں تو ایک سوار بول پڑا۔ اس نے پوچھا… ”گستاخی معاف سالاراعظم! یہاں پڑائو کی ضرورت نہیں تھی۔ ہم شام تک قاہرہ پہنچ سکتے تھے”۔

”تم لوگ لڑتے لڑتے آئے ہو”… سلطان ایوبی نے کہا… ”میں تمہیں اس کھلے صحرا میں آرام دینا چاہتا ہوں”۔

”ہم لڑتے آئے ہیں اور لڑنے جارہے ہیں”… سوار نے کہا۔

”لڑنے جارہے ہیں؟”… سلطان ایوبی نے انجان بنتے ہوئے پوچھا… ”میں تو تمہیں قاہرہ لے جارہا ہوں، جہاں تم اپنے دوستوں سے ملوگے”۔

”وہ ہمارے دشمن ہیں”… سوار نے کہا… ”اگر یہ سچ ہے کہ ہمارے دوست بغاوت کرنے پر تلے ہوئے ہیں تو وہ ہمارے دشمن ہیں”۔

”صلیبیوں سے بدترین دشمن”… ایک اور سپاہی نے کہا۔

”کیا یہ سچ نہیں سالاراعظم کہ قاہرہ میں غداری اور بغاوت ہورہی ہے؟”… کسی اور نے پوچھا۔

”کچھ گڑبڑ سنی ہے”… سلطان ایوبی نے کہا… ”میں مجرموں کو سزا دوں گا”۔

”آپ پوری فوج کو کیا سزا دیں گے؟”… ایک سوار نے کہا… ”سزا ہم دیں گے، ہمیں کمان داروں نے قاہرہ کے سارے حالات بتا دیئے ہیں۔ ہمارے ساتھی شوبک اور کرک میں شہید ہوئے ہیں۔ دونوں شہروں کے اندر ہماری بیٹیوں اور بہنوں کی عصمت دری ہوئی ہے اور کرک میں ابھی تک ہورہی ہے۔ ہمارے ساتھی قلعے کی دیواروں سے دشمن کی پھینکی ہوئی آگ میں زندہ جل گئے ہیں۔ قبلہ اول پر کافروں کا قبضہ ہے اور ہماری فوج قاہرہ میں بیٹھی عیش کررہی ہے۔ آپ کے خلاف بغاوت کی تیاری کررہی ہے، جنہیں شہیدوں کا پاس نہیں، اپنی بیٹیوں کی عصمتوں کا خیال نہیں، انہیں زندہ رہنے کا بھی حق نہیں۔ ہم جانتے ہیں وہ اسلام کے دشمن کے دوست بن گئے ہیں۔ ہم جب تک غداروں کی گردنیں اپنے ہاتھوں نہیں کاٹیں گے ہمیں شہیدوں کی روحیں معاف نہیں کریں گے۔ ذرا ان زخمیوں کودیکھئے، جنہیں ہم اپنے ساتھ لارہے ہیں کسی کی ٹانگ نہیں، کسی کا بازو نہیں۔ کیا یہ اس لیے ساری عمر کے لیے اپاہج ہوگئے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور ہمارے دوست دشمن کے ہاتھ میں کھیلیں؟”۔

”ہم انہیں اپنے ہاتھوں سزا دیں گے”… اور پھر ایسا شور سپا ہوگیا کہ ساری فوج وہاں جمع ہوگئی۔ صلاح الدین ایوبی کے لیے اس جوش وخروش پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ وہ سپاہیوں کے جوش اور جذبے کو سرد کرکے ان کا دل بھی نہیں توڑنا چاہتا تھا۔ اس نے انہیں صبرو تحمل کی تلقین کی۔ کوئی حکم نہ دیا۔ اپنے خیمے میں گیا۔ مشیروں اور نائبین کو بلا کر کہا کہ یہ فوج اگلے حکم تک یہیں پڑائو کرے گی۔ اس نے کہا… ”میں نے دیکھ لیا ہے کہ خانہ جنگی ہوگی، فوج کا آپس میں ٹکرا جانا دشمن کے لیے فائدہ مند ہوتا ہے۔ میں آج رات قاہرہ جارہا ہوں۔ کسی کو معلوم نہ ہوسکے کہ میں یہاں نہیں ہوں۔ سپاہیوں کے جوش کو سرد کرنے کی بھی کوشش نہ کی جائے”۔

اس نے ضروری احکام اور ہدایات دے کر کہا۔ ”ہماری قاہرہ والی فوج جو بغاوت پر آمادہ ہے، میری نظر میں بے گناہ ہے اور ہماری قوم کے وہ نوجوان جو جوئے اور ذہنی عیاشی کے عادی ہوتے جارہے ہیں، وہ بھی بے گناہ ہیں۔ فوج کو ہمارے اعلیٰ حکام نے غلط باتیں بتا کر بھڑکایا ہے۔ انہی حکام کے ایماء پر دشمن نے ہمارے ملک کے سب سے بڑے شہر میں ذہنی عیاشی کے سامان پھیلائے ہیں۔ اس اخلاقی تباہ کاری کو فروغ صرف اس لیے حاصل ہوا ہے کہ ہماری انتظامیہ کے وہ حکام جنہیں اس تخریب کاری کو روکناتھا، وہ اسے پھیلانے میں شریک ہیں۔ دشمن انہیں اجرت دے رہا ہے، جب کسی قوم کے سربراہ اور امراء دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے لگتے ہیں تو اس قوم کا یہی حشر ہوتا ہے۔ ہماری فوج سوڈان کے ظالم صحرا میں بکھری ہوئی لڑرہی ہے، کٹ رہی ہے، سپاہی بھوکے اور پیاسے مرررہے ہیں اور ہمارے حاکم ان کی کمک، رسد اور ہتھیار روکے بیٹھے ہیں۔ کیا یہ دشمن کی سازشیں نہیں جسے ہمارے اپنے بھائی کامیاب کررہے ہیں؟ اس سے دشمن ایک فائدہ اٹھا رہا ہے کہ تقی الدین اور اس کے وہ عسکری جو جذبہ جہاد سے لڑ رہے ہیں، وہ مررہے ہیں اور نوبت ہتھیار ڈالنے تک آگئی ہے اور دوسرا فائدہ یہ کہ ہماری قوم کو بتایا جائے گا کہ یہ دیکھو تمہاری فوج شکست کھا گئی ہے کیونکہ یہ اسی قابل تھی۔ ہمارے بعض

بھائی مصر کی امارت پر قابض ہونے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ سب سے پہلے فوج کو قوم کی نظروں میں رسوا اور ذلیل کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ من مانی کرسکیں۔ مجھے امارت کے ساتھ چپکے رہنے کی کوئی خواہش نہیں اگر میرے مخالفین میں سے کوئی مجھے یہ یقین دلا دے کہ وہ میرے عزم کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا تو میں اس کی فوج میں سپاہی بن کر رہوں گا مگر ایسا کون ہے؟ یہ لوگ اپنی باقی زندگی بادشاہ بن کر گزارناچاہتے ہیں، خواہ دشمن کے ساتھ سازباز کرکے بادشاہی ملے اور میں اپنی زندگی میں قوم کو اس مقام پر لانا چاہتا ہوں، جہاں وہ اپنے دین کے دشمنوں کے سرپر پائوں رکھ کر بادشاہی کرے۔ ہمارے ان لالچی اور غدار حاکموں کی نظر اپنے حال پر اپنے آج پر ہے۔ میری نظر قوم کے مستقبل پر ہے”۔

اس نے بولتے بولتے توقف کیا اور کہا… ”میرا گھوڑا فوراً تیار کرو”… اس نے ان افراد کے نام لیے جنہیں اس کے ساتھ جانا تھا۔ اس نے کہا … ”نہایت خاموشی سے ان سب کو بلائو اور انہیں قاہرہ چلنے کے لیے کہو۔ میرا خیمہ یہیں لگا رہنے دو تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ میں یہاں نہیں ہوں”… اس نے گہرا سانس لیا اور کہا… ”میں آپ کو سختی سے ذہن نشین کراتا ہوں کہ جو فوج بغاوت کے لیے تیار ہے، میں اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کروں گا۔ تم میں سے کوئی بھی اس فوج کے خلاف کدورت نہ رکھے۔ اسی طرح اپنے نوجوانوں کو بھی قابل نفرت نہ سمجھنا۔ میں ان کے خلاف کارروائی کروں گا جو فوج اور قوم کو گمراہ اور ذلیل کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ یہی فوج جب اپنے دشمن کے سامنے آئے گی اور دشمن اس کا تیروں سے استقبال کرے گا تو فوج کو یاد آئے گا کہ وہ اللہ کی فوج ہے۔ دماغ سے بغاوت کے کیڑے نکل جائیں گے۔ آپ جب اپنے بچوں کو اپنے دین کا دشمن دکھائیں گے تو ان کا ذہن ازخود جوئے سے ہٹ کر جہاد کی طرف آجائے گا۔ میں آپ کو صاف الفاظ میں بتا دیتا ہوں کہ اسلام اور سلطنت اسلامیہ کی بقاء اور وقار فوج کے بغیر ممکن نہیں۔ میں صلیبیوں اور یہودیوں کے عزائم اور ان کے طرز جنگ اور ان کی زمین دوز کارروائیوں کو دیکھ کر کہہ سکتا ہوں کہ وہ اسلام کی فوج کو کمزور کرکے اسلام کا خاتمہ کریں گے جس رو زاور جس دور میں کسی بھی مسلمان ملک کی فوج کمزور ہوگئی، وہ ملک اپنی آزادی اور اپنا وقار کھو بیٹھے گا۔ کسی بھی دور میں کوئی مسلمان مملکت مضبوط اور باوقار فوج کے بغیر زندہ نہیں رہ سکے گی۔ ہمارا آج کا غلط اقدام اسلام کے مستقبل کو تاریک کردے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ آنے والی نسلیں ہماری لغزشوں، ناکامیوں اور کامیابیوں سے فائدہ اٹھائیں گی یا نہیں”۔

”امیرمصر!”… ایک مشیر نے کہا… ”اگر ہمارے بھائی غداری کے فن میں ہی مہارت حاصل کرتے رہے تو آنے والی نسلیں غلام ہوں گی۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوگا کہ آزادی کسے کہتے ہیں اور قومی وقار کیا ہے۔ کیا ہمارے پاس اس کا کوئی علاج ہے؟”

”قوم کا ذہن بیدار کرو”… سلطان ایوبی نے کہا… ”قوم کو رعایا نہ کہو، قوم کا ہر فرد اپنی جگہ بادشاہ ہوتا ہے۔ کسی بھی فرد کو قومی وقار سے محروم نہ کرو۔ ہمارے امراء اور حاکموں میں چونکہ بادشاہ اور خلیفہ بننے کا جنون سوار ہے۔ اس لیے وہ قوم کو رعایا بنا کر اسے اپنے اقتدار کے استحکام کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ یاد رکھو، قوم جسموں کا مجموعہ نہیں، جسے تم مویشیوں کی طرح ہانگتے پھرو۔ قوم میں دماغ بھی ہے، روح بھی ہے اور قومی وقار بھی ہے۔ قوم کی ان خوبیوں کو ابھارو تاکہ قوم خود سوچے کہ اچھا کیا اور برا کیا ہے۔ اچھا کون اور برا کون ہے۔ اگر قوم محسوس کرے کہ صلاح الدین ایوبی سے بہتر امیر موجود ہے جو سلطنت اسلامیہ کے تحفظ کے ساتھ اسے سمندروں سے پار بھی وسعت دے سکتا ہے تو قوم کا کوئی بھی فرد مجھے راستے میں روک لے اور جرأت سے کہے کہ صلاح الدین ایوبی! تم یہ مسند خالی کردو، ہم نے تم سے بہتر آدمی ڈھونڈ لیا ہے۔

قوم میں یہ سوچ بھی اور جرأت بھی اور مجھ میں فرعونیت نہ ہو کہ اپنے خلاف بات کرنے والے کی گردن مار دوں۔ مجھے یہی خطرہ نظر آرہا ہے کہ ملت اسلامیہ ایسے ہی فرعونوں کی نذر ہوجائے گی۔ قوم کو رعایا اور مویشی بنادیا جائے گا پھر مسلمان مسلمان نہیں رہیں گے یا برائے نام مسلمان ہوں گے۔ مذہب تو شاید ان کا یہی رہے گا مگر تہذیب وتمدن صلیبیوں کا ہوگا”۔

اتنے میں ایک محافظ نے اندر آکر بتایا کہ گھوڑا تیار ہے اور جن تین چار نائب سالاروں کو بلایا گیا تھا، وہ بھی آگئے ہیں۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساتھ چار محافظ لیے۔ باقی محافظ دستے سے کہا کہ وہ اس کے خالی خیمے پر پہرہ دیتے رہیں اور کسی کو پتا نہ چلنے دیں کہ وہ یہاں نہیں ہے۔ اس نے اپنے ساتھ جانے والے عملے سے کہا کہ وہ خاموشی سے فلاں جگہ پہنچ جائیں، وہ ان سے آملے گا۔ اس نے اپنا قائم مقام مقرر کیا اور باہر نکل گیا

٭ ٭ ٭

صحرا تاریک تھا۔ چودہ گھوڑے سرپٹ دوڑے جارہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی تاریکی چھٹنے سے پہلے قاہرہ پہنچ جانا چاہتا تھا۔ علی بن سفیان کو اس نے اپنے ساتھ رکھا تھا۔ اس کی فوج پڑائو میں گہری نیند سوگئی تھی۔ جاگنے والے سنتریوں کو بھی علم نہیں ہوسکتا تھا کہ ان کا سالار اعلیٰ نکل گیا ہے۔ قاہرہ والوں کے تو وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ سلطان ایوبی مصر میں داخل ہوچکا ہے… رات کا پچھلا پہر تھا، جب سلطان ایوبی کا قافلہ قاہرہ میں داخل ہوا۔ اسے کسی سنتری نے نہ روکا، وہاں کوئی سنتری تھا ہی نہیں۔ سلطان ایوبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ”یہ ہے بغاوت کی ابتدائ۔ شہر میں کوئی سنتری نہیں۔ فوج سوئی ہوئی ہے، بے پروا، بے نیاز، حالانکہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں اور دشمن کے حملے کا خطرہ ہر لمحہ موجود ہے”۔

اپنے ٹھکانے پر پہنچتے ہی ایک لمحہ آرام کیے بغیر اس نے مصر کے قائم مقام سالار اعلیٰ کو بلا لیا۔ الادریس کو بھی بلا لیا جس کے دونوں جوان بیٹوں کو غداروں نے دھوکے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں قتل کرادیا تھا۔ قائم مقام سالار اعلیٰ سلطان ایوبی کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ سلطان ایوبی نے الادریس سے افسوس کا اظہار کیا۔ الادریس نے کہا… ”میرے بیٹے میدان جنگ میں جانیں دیتے تو مجھے خوشی ہوتی۔ وہ دھوکے میں مارے گئے ہیں”… اس نے کہا… ”یہ وقت میرے بیٹوں کے ماتم کرنے کا نہیں، آپ نے مجھے کسی اور مقصد کے لیے بلایا تھا۔ حکم فرمائیں”۔

قائم مقام سالار اعلیٰ محب اسلام تھا۔ ان دونوں سے سلطان ایوبی نے قاہرہ کے اندرونی حالات کے متعلق تفصیلی رپورٹ لی اور پوچھا کہ ان کی نظر میں کون کون سے حاکم مشتبہ ہیں۔ وہ فوجی حکام کے متعلق خاص طور پر پوچھ رہا تھا۔ اسے چند ایک نام بتائے گئے۔ اس نے احکام دینے شروع کردیئے جن میں اہم یہ تھے کہ مشتبہ حکام کو قاہرہ میں مرکزی کمان میں رہنے دیا جائے اور تمام فوج کو سورج نکلنے سے پہلے کوچ کی تیاری میں جمع کرلیا جائے اور بھی بہت سی ہدایات دے کر سلطان ایوبی نے ایک پلان تیار کرنا شروع کردیا۔ کچھ ہدایات علی بن سفیان کو دے کر اسے فارغ کردیا۔ کچھ دیر بعد فوج کے کیمپ میں ہڑبونگ مچ گئی۔ فوج کو قبل از وقت جگا لیا گیا تھا۔ فوج اور انتظامیہ کے مشتبہ حکام کو صلاح الدین ایوبی کے ہیڈکوارٹر میں بلا لیا گیا تھا۔ وہ حیران تھے کہ یہ کیا ہوگیا ہے۔ انہیں اتنا ہی پتا چلا تھا کہ سلطان ایوبی آگیا ہے۔ انہوں نے اس کا گھوڑا بھی دیکھ لیا تھا لیکن انہیں سلطان ایوبی نظر نہیں آرہا تھا اور سلطان ایوبی انہیں ابھی ملنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ اس نے انہیں کوچ تک فوج سے الگ رکھنے کا بندوبست کردیا تھا۔ یہی اس کا مقصد تھا۔

ابھی صبح کی روشنی صاف نہیں ہوئی تھی۔ فوج ترتیب سے کھڑی کردی گئی۔ پیادوں اور سواروں کی صفوں کے پیچھے رسد اور دیگر سامان سے لدے ہوئے اونٹ تھے۔ سلطان ایوبی نے فوج کو یہ ٹریننگ خاص طور پر دی تھی کہ جب بھی فوج کوچ کا حکم ملے تو فوج ایک گھنٹے کے اندر اندر مع رسد اور دیگر سامان کے قافلے کے ساتھ تیار ہوجائے۔ اسی ٹریننگ اور مشق کا کرشمہ تھا کہ فوج طلوع صبح کے ساتھ ہی کوچ کے لیے تیار ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی اپنے گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اس کے ساتھ مصر کا قائم مقام سالار اعلیٰ بھی تھا۔ سلطان ایوبی نے فوج کو ایک نظر دیکھا اور ایک صف کے سامنے سے گزرنے لگا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی اور اس کے منہ سے باربار یہ الفاظ نکلتے تھے… ”آفرین، صد آفرین۔ اسلام کے پاسبانو تم پر اللہ کی رحمت ہو”… صلاح الدین ایوبی کی شخصیت کا اپنا ایک اثر تھا جسے ہر ایک سپاہی محسوس کررہا تھا۔ اس کے ساتھ اس کی مسکراہٹ اور دادو تحسین کے کلمے سپاہیوں پر اس اثر کو اور زیادہ گہرا کررہے تھے۔ امیر اور سالار اعلیٰ کا سپاہیوں کے اتنا قریب جانا ہی کافی تھا۔

تمام فوج کا معائنہ کرکے سلطان صلاح الدین ایوبی نے مکمل طور پر بلند آواز سے فوج سے خطاب کیا۔ اس وقت کی تحریروں میں اس کے جو الفاظ محفوظ ملتے ہیں وہ کچھ اس طرح تھے… ”اللہ کے نام پر کٹ مرنے والے مجاہدو! اسلام کی ناموس تمہاری تلواروں کو پکار رہی ہے۔ تم نے شوبک کا مضبوط قلعہ جو کفر کا سب سے زیادہ مضبوط مورچہ تھا، ریت کا ٹیلہ سمجھ کر توڑ ڈالا تھا۔ تم نے صلیبیوں کو صحرائوں میں بکھیر کر مارا اور جنت الفردوس میں جگہ بنا لی ہے۔ تمہارے ساتھ، تمہارے عزیز دوست تمہارے سامنے شہید ہوئے۔ تم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے دفن کیا۔ ان چھاپہ مار شہیدوں کو یاد کرو جو دشمن کی صفوں کے پیچھے جاکر شہید ہوئے۔ تم ان کا جنازہ نہ پڑھ سکے۔ ان کی لاشیں بھی نہ دیکھ سکے۔ تم تصور کرسکتے ہو کہ دشمن نے ان کی لاشوں کے ساتھ کیا سلوک کیا ہوگا۔ شہیدوں کے یتیم بچوں کو یاد کرو۔ ان کی بیویوں کو یاد کرو جن کے سہاگ خدا کے نام پر قربان ہوگئے ہیں۔ آج شہیدوں کی روحیں تمہیں للکار رہی ہیں۔ تمہاری غیرت کو اور تمہاری مردانگی کو پکار رہی ہیں۔ دشمن نے کرک کے قلعے کو اتنا مضبوط کرلیا ہے کہ تمہارے کئی ساتھی دیواروں سے پھینکی ہوئی آگ میں جل گئے ہیں، تم اگر وہ منظر دیکھتے تو سرکی ٹکروں سے قلعے کی دیواریں توڑ دیتے۔ وہ آگ میں جلتے رہے اور دیوار میں شگاف ڈالنے کی کوشش کرتے رہے۔ موت نے انہیں مہلت نہ دی…”

”عظمت اسلام کے پاسبانو! کرک کے اندر تمہاری بیٹیوں اور تمہاری بہنوں کی عصمت دری ہورہی ہے۔ بوڑھوں سے مویشیوں کی طرح مشقت لی جا رہی ہے۔ جوانوں کو قید میں ڈال دیا گیا ہے۔ مائوں کو بچوں سے الگ کردیا گیا ہے مگر میں کہ جس نے پتھروں کے قلعے توڑے ہیں، مٹی کا قلعہ سر نہیں کرسکا۔ میری طاقت تم ہو، میری ناکامی تمہاری ناکامی ہے”… اس کی آواز اور زیادہ بلند ہوگئی۔ اس نے بازو اوپر کرکے کہا… ”میرا سینہ تیروں سے چھلنی کردو، میں ناکام لوٹا ہوں مگر میری جان لینے سے پہلے میرے کان میں یہ خوشخبری ضرور ڈالنا کہ تم نے کرک لے لیا ہے اور اپنی عصمت بریدہ بیٹیوں کو سینے سے لگا لیا ہے”۔

اس وقت کا ایک وقائع نگار الاسدی لکھتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے گھوڑے اپنے سواروں کی جذباتی کیفیت کو سمجھتے تھے۔ سوار خاموش تھے لیکن کئی گھوڑے بڑی زور سے ہنہنائے، تڑاخ تڑاخ کی آوازیں سنائی دیں۔ سوار باگوں کو زور زور سے جھٹک کر اپنی بیتابی اورجذبہ انتقام کی شدت کا اظہار کررہے تھے۔ ان کی زبانیں خاموش تھیں۔ ان کے چہرے لال سرخ ہوکر ان کے جذبات کی ترجمانی کررہے تھے۔ سلطان ایوبی کے الفاظ تیروں کی طرح ان کے دلوں میں اترتے جارہے تھے۔ بغاوت کی چنگاریاں بجھ چکی تھیں۔ سلطان ایوبی کامقصد پورا ہورہا تھا۔

”سلطنت اسلامیہ کی عصمت کے محافظو! تم کفار کے لیے دہشت بن گئے ہو، تمہاری تلواروں کو کند کرنے کے لیے آج صلیبی اپنی بیٹیوں کی عصمت اور حشیش استعمال کررہے ہیں۔ تم نہیں سمجھتے کہ صلیبی اپنی ایک بیٹی کی عصمت لٹا کر ایک ہزار مجاہدین کو بے کار کردیتے ہیں اور اپنے علاقوں میں اپنی ایک بیٹی کے بدلے ہماری ایک ہزار بیٹیوں کو بے آبرو کرتے ہیں۔ تمہارے درمیان ایک فاحشہ عورت بھیج کر ہماری سینکڑوں بیٹیوں کو فاحشہ بنا لیتے ہیں۔ جائو اور اپنی بیٹیوں کی عصمتوں کو بچائو۔ تم کرک جارہے ہو جس کی دیواروں کے گھیرے میں قرآن کے ورق بکھرے ہوئے ہیں اور جہاں کی مسجدیں صلیبیوں کے لیے بیت الخلا بن گئی ہیں۔ وہ صلیبی جو تمہارے نام سے ڈرتے ہیں، آج تم پر قہقہے لگا رہے ہیں۔ شوبک تم نے لیا تھا اور کرک بھی تم ہی لوگے”۔

سلطان ایوبی نے فوج پر یہ الزام عائد نہیں کیا کہ وہ گمراہ ہوگئی ہے اور بغاوت پر آمادہ ہے۔ اس نے کسی کے خلاف شک وشبے کا اشارہ بھی نہیں کیا۔ اس کے بجائے فوج کے جذبے اور غیرت کو ایسا للکارا کہ فوج جو حیران تھی کہ اسے اتنی سویرے کیوں جگایا گیا ہے۔ اب اس پر حیران تھی کہ اسے کرک کی طرف کوچ کا حکم کیوں نہیں دیا جاتا۔ تمام تر فوج مشتعل ہوگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے اعلیٰ اور ادنیٰ کمانڈروں کو بلایا اور انہیں کوچ کے متعلق ہدایات دیں۔ کوچ کے لیے کوئی اور راستہ بتایا۔ راستہ اس راستے سے بہت دور تھا جس پر محاذ کی فوج آرہی تھی۔ کوچ کرنے والی فوج کے ساتھ سلطان ایوبی نے اپنے وہ کمانڈر بھیج دیئے جنہیں وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ انہیں نے خفیہ طور پر ہدایات دے دی تھیں۔ فوج کو جب کوچ کا حکم ملا تو سپاہیوں کے نعرے قاہرہ کے درودیوار کو ہلانے لگے۔ سلطان ایوبی کا چہرہ جذبات کی شدت سے دمک رہا تھا۔

جب فوج اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو اس نے ایک قاصد کو پیغام دے کر اس پڑائو کی طرف روانہ کردیا جہاں محاذ سے آنے والی فوج رکی ہوئی تھی۔ قاصد کو بہت تیز جانے کو کہا گیا۔ پیغام یہ تھا کہ پیغام ملتے ہی فوج کو قاہرہ کے لیے کوچ کرادیا جائے۔ فاصلہ آٹھ دس میل تھا۔ قاصد جلدی پہنچ گیا۔ اسی وقت کوچ کا حکم مل گیا۔ غروب آفتاب کے بعد فوج کے ہر اول دستے قاہرہ میں داخل ہوگئے۔ ان کے پیچھے باقی فوج بھی آگئی۔ اسے رہائش کے لیے وہی جگہ دی گئی جہاں گزشتہ رات تک کوچ کرجانے والی فوج قیام پذیر تھی۔ سپاہیوں کو کمانڈروں نے بتانا شروع کردیا کہ پہلی فوج کو محاذ پر بھیج دیا گیا ہے۔ آنے والی فوج بھڑکی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں ٹھنڈا کرنے کا انتظام کررکھا تھا۔ سلطان ایوبی نے دانشمندی سے فوجی بغاوت کا خطرہ بھی ختم کردیا اور خانہ جنگی کا امکان بھی نہ رہنے دیا۔ اس نے اعلیٰ کمانڈروں کو بلا لیا اور اس فوجی حاکم کو بھی بلایا جو سرحدی دستوں کا ذمہ دار تھا۔ اس نے یہ معلوم کرکے کہ سرحد پر کتنے دستے ہیں اور کہاں کہاں ہیں، اتنی ہی نفری کے دستے تیار کرکے علی الصبح مطلوبہ جگہوں کو بھیجنے کا حکم دیا۔ اسے بتایا جا چکا تھا کہ سرحدی دستے ملک سے غلہ اور فوجی ضروریات کا دیگر سامان باہر بھیجنے میں دشمن کی مدد کررہے ہیں۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ان دستوں کے کمانڈروں کو خصوصی احکامات دئیے اور سرحد سے واپس آنے والے پرانے دستوں کے متعلق اس نے حکم دیا کہ انہیں قاہرہ میں لانے کے بجائے باہر سے ہی محاذ پر بھیج دیا جائے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: