Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 14

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 14

–**–**–

ان چند ہی دنوں میں صلاح الدین ایوبی نے جو احکام نافذ کیے اور جو اقدام کیے، وہ انقلابی تھے۔ اتنے انقلابی کہ اس کے قریبی دوست اور مرید بھی چونک اٹھے۔ اس نے سب سے پہلے ان افسروں کے گھروں پر چھاپے مروائے اور تلاشی لی جو علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کی مشتبہ فہرست میں تھے۔ ان میں دو تین مرکزی کمان کے اعلیٰ حاکم تھے۔ ان کے گھروں پر زروجواہرات، دولت اور بڑی خوبصورت غیرملکی لڑکیاں برآمد ہوئیں۔ بعض کے گھروں میں ایسے ملازم تھے جو سوڈان کے تجربہ کار جاسوس تھے اور بھی کئی ایک ثبوت مل گئے۔ ان سب کو سلطان صلاح الدین ایوبی نے عہدے اور رتبے کا لحاظ کیے بغیر غیرمعین مدت کے لیے قید خانے میں ڈال دیا اور حکم دیا کہ ان کے ساتھ اخلاقی مجرموں جیسا سلوک کیا جائے۔ اس اقدام سے اس کی مرکزی کمان اور مجلس مشاورت کی چند ایک اہم آسامیاں خالی ہوگئیں۔ اس نے ذرہ بھر پروا نہ کی۔

سلطان ایوبی نے دوسرا حملہ اس گروہ پر کیا جو اپنے آپ کو مذہب کا اجارہ دار بنائے ہوئے تھا۔ سلطان ایوبی کو مشیروں نے خلوص نیت سے مشورہ دیا کہ مذہب ایک نازک معاملہ ہے۔ لوگ مسجدوں کے اماموں کے مرید ہیں، رائے عامہ خلاف ہوجائے گی۔ سلطان ایوبی نے پوچھا… ”ان میں کتنے ہیں جو مذہب کی روح کو سمجھتے ہیں؟ لوگ ان کے مرید صرف اس لیے بن گئے ہیں کہ ان کی ساری کوششیں اسی پر مرکوز ہیں کہ لوگ ان کے مرید بن جائیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ امام اپنی عظمت قائم کرنے کے لیے لوگوں کو اصل مذہب سے بے بہرہ رکھتے ہیں۔ قوم کی بہترین درس گاہ مسجد ہے۔ مسجد کی چاردیواری میں بٹھا کر کسی کے کان میں ڈالی ہوئی کوئی بات روح تک اتر جاتی ہے۔ یہ مسجد کے تقدس کا اثر ہے مگر یہاں مسجد کا استعمال غلط ہورہا ہے۔ مسجدوں میں امام پیر اور مرشد بنتے جارہے ہیں۔ اگر میں نے مسجدوں میں باعمل عالم نہ رکھے تو کچھ عرصے بعد لوگ اماموں، پیروں اور مرشدوں کی پرستش کرنے لگیں گے۔ یہ بے علم اور بے عمل عالم اپنے آپ کو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنا لیں گے اور اسلام کے زوال کا باعث بنیں گے”۔

سلطان ایوبی نے اپنے ایک مفکر اور باعمل عالم زین الدین علی نجاالواعظ کو مشورے کے لیے بلایا۔ اس عالم

نے اپنا جاسوسی کا ایک ذاتی نظام قائم کرکھا تھا ور ایک بار اس نے صلیبیوں کی ایک بڑی ہی خطرناک سازش بے نقاب کرکے بہت سے آدمی گرفتار کرائے تھے۔ وہ مذہب کو اور مذہب میں جو تخریب کاری ہورہی ہے، اسے بہت اچھی طرح سمجھتا تھا۔ اس نے یہ کہہ کر سلطان ایوبی کا حوصلہ بڑھا دیا کہ اگر آج آپ مذہب کو تخریب کاری سے آزاد نہیں کریں گے تو کل آپ کو یہ حقیقت قبول کرنی پڑے گی کہ قوم آپ کی رہنمائی اور حکم کو قبول کرنے سے پہلے نام نہاد مذہبی پیشوائوں سے اجازت لیا کرے گی۔ اس وقت تک صلیبی مسلمانوں کے مذہبی نظریات میں توہم پرستی اور رسم ورواج کی ملاوٹ کرچکے ہیں… سلطان ایوبی نے فوری طور پر تحریری حکم نافذ کردیا کہ زین الدین علی بن نجاالواعظ کی زیرنگرانی ملک کی تمام مسجدوں کے اماموں کی علمی اور معاشرتی جانچ پڑتال ہوگی اور نئے امام مقرر کیے جائیں گے۔ نئے اماموں کے تقرر کے لیے سلطان ایوبی نے جو شرائط لکھیں، ان میں امام کا عالم ہونے کے علاوہ فوجی یا سابق فوجی یا عسکری تربیت یافتہ ہونا ضروری قرار دے دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی فلسفۂ جہاد اور عسکری جذبے کو مذہب اور مسجد سے الگ نہیں کرنا چاہتا تھا۔

اس نے ملک میں ایسے تمام کھیل تماشے اور تفریح کے ذرائع اور طریقے جرم قرار دے دئیے جن میں جوئے بازی اور تخریبی سکون کا پہلو نکلتا تھا۔ اس کے حکم سے علی بن سفیان کے محکمے نے تفریح گاہوں اور ان کے زیرزمین حصوں پر چھاپے مارے، جہاں سے اٹلی کے مصوروں کی بنائی ہوئی ننگی تصویریں برآمد ہوئیں۔ بہت سے لوگ گرفتار کیے گئے، جنہیں ملک دشمنی اور دشمن کا آلۂ کار بننے کے الزام میں تمام عمر کے لیے تہہ خانوں میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بجائے سلطان ایوبی نے تیغ زنی، تیر اندازی ، گھوڑ سواری، بغیر ہتھیار لڑائی، کشتی جسے پنجہ آزمائی کہتے تھے اور ایسے ہی چند ایک کھیلوں کے مقابلوں کا سرکاری انتظام کردیا۔ پہلے مقابلے میں خود گیا اور اول آنے والوں کو اعلیٰ نسل کے گھوڑے تک انعام میں دئیے۔ اس نے درس گاہوں اور مسجدوں میں تعلیمی مقابلوں کا اہتمام کیا۔

سرحدی دستوں پر اس نے زیادہ توجہ دی تھی۔ اسے معلوم ہوچکا تھا کہ شہروں اور دارالحکومت سے دور رہنے والے لوگ نظریاتی تخریب کاری کا شکار جلدی ہوتے ہیں اور وہی سب سے پہلے دشمن کے حملے یا سرحدی جھڑپوں کی زد میں آتے ہیں۔ ان لوگوں کے نظریاتی اور جسمانی تحفظ کے لیے اس نے خصوصی انتظام کیے۔ اس نے سرحدوں پر جو دستے بھیجے تھے، ان کے کمانڈروں کو اس نے خود ہدایات دیں اور بڑے ہی سخت احکام دئیے تھے۔ یہ تمام کمانڈر جذبے اور ذہانت کے لحاظ سے ساری فوج میں منتخب کیے گئے تھے۔ رشد بن مسلم انہی میں سے تھا، جسے محمود کا اشارہ ملا کہ ایک تخریب کار پکڑا ہے تو وہ پورے کا پورا دستہ لے کر اٹھ دوڑا تھا۔ اگر پرانا کمانڈر ہوتا تو اس وقت صلیبیوں یا سوڈانیوں کی دی ہوئی شراب میں بدمست ہوتا اور تخریب کار اپنے سرغنہ کی رہائی کے لیے گائوں میں تباہی پھیلا کر غائب ہوچکے ہوتے۔

اب رشد بن مسلم، محمود بن احمد اور امام جس کا نام یوسف بن آذر تھا۔ اس کے کمرے میں بیٹھے، اس شعبدہ باز کی کہانی سنا رہے تھے، جسے لوگ قتل کرچکے تھے۔ علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس نے تینوں سے ساری واردات سن لی تھی اور سلطان ایوبی کے پاس لے گیا تھا۔ سلطان ایوبی خاموش تھا کہ اتنی خطرناک نظریاتی یلغار کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا گیا ہے مگر علی بن سفیان نے کہا… ”صرف یلغار ختم ہوئی ہے، اس کے اثرات ختم کرنے کے لیے لمبا عرصہ درکارہے۔ مجھے جو تفصیل معلوم ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ سرحدی دیہات سے ہمیں فوجی بھرتی نہیں مل رہی۔ سرحد کے ساتھ ساتھ رہنے والے لوگ سوڈانیوں کے دوست بن گئے ہیں۔ وہ امارت مصر کے خلاف ہوگئے ہیں۔ جہاد کا جذبہ ختم ہوچکا ہے۔ وہ لوگ غلہ اور مویشی ہمیں نہیں دیتے۔ سوڈانیوں کو بخوشی دیتے ہیں۔ مسجدیں ویران ہوگئی ہیں، لوگ توہم پرست ہوکر شعبدہ بازوں

پیروں وغیرہ کی پرستش کرنے لگے ہیں۔ ہمیں ان لوگوں کے ذہنوں کو اپنے صحیح راستے پر لانے کے لیے باقاعدہ مہم شروع کرنی پڑے گی۔ اگر اس صلیبی شعبدہ باز اور اس کے گروہ کو لوگ قتل نہ کردیتے تو ہم اسے سارے علاقے میں گھماتے پھراتے ”۔

سلطان ایوبی نے اپنے انقلابی احکامات میں سرحدی علاقوں کو خاص طور پر شامل کررکھا تھا۔ اب اس نے اس طرف اور زیادہ توجہ دینے کا فیصلہ کیا۔ اس کے لیے سب سے زیادہ شدید سردردی یہ تھی کہ تقی الدین اور اس کی فوج کو سوڈان سے نکالنا تھا۔ قاہرہ پہنچتے ہی وہ منصوبہ بندی میں مصروف ہوگیا تھا۔ راتوں کو سوتا بھی نہیں تھا۔ وہ خود سوڈان کے محاذ پر نہیں جاسکتا تھا کیونکہ مصر کے اندرونی حالات اس کی توجہ کے محتاج تھے۔ اس نے قاہرہ میں آکر تقی الدین کو یہ اطلاع دینے کے لیے کہ وہ قاہرہ آگیا ہے، ایک قاصد بھیج دیا تھا۔ قاصد واپس آچکا تھا۔ اس نے بتایا تھا کہ تقی الدین کا جانی نقصان خاصا ہوچکا ہے اور کچھ نفری دشمن کے جھانسے میں آکر یا جنگ کی صورتحال سے گھبرا کر ادھر ادھر بھاگ گئی ہے۔ قاصد نے بتایا کہ تقی الدین اپنی باقی مادہ فوج کو یکجا کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے مگر دشمن اس کے سر پر موجود رہتا ہے۔ تقی الدین کو جوابی حملہ کرنے کا موقع نہیں ملتا۔ اسے اتنی سی مدد کی ضرورت ہے کہ دشمن پر حملے کرنے کے لیے چند دستے مل جائیں تاکہ وہ اپنی فوج کو واپس لاسکے۔

سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تین چار چھاپہ مار دستے اور چند ایک وہ دستے جنہیں جوابی حملہ کرنے اور گھوم پھر کر لڑنے کی خصوصی مشق کرائی گئی تھی، سوڈان بھیج دیئے تھے۔ وہ ہر حملہ دشمن کے عقب میں جاکر کرتے اور دشمن کا نقصان کرکے اور اسے بکھیر کر ادھر ادھر ہوجاتے تھے۔ چھاپہ ماروں نے دشمن کو زیادہ پریشان کیا۔ ان کا مقصد یہی تھا کہ دشمن کو تقی الدین کے تعاقب سے ہٹایا جائے۔ وہ خلاف توقع بہت جلدی کامیاب ہوگئے۔ ان کی اہلیت اور شجاعت کے علاوہ ان کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ دشمن کی فوج تھکی ہوئی تھی اور صحرا بڑا ہی دشوار اور گرم تھا۔ گھوڑے اور اونٹ جواب دے رہے تھے۔

سوڈان کا حملہ بری طرح ناکام ہوا۔ کامیابی صرف یہ ہوئی کہ تقی الدین کو، اس کی مرکزی کمان کے سالاروں وغیرہ اور دستوں کو اور بچی کھچی فوج کو ایسی تباہی سے بچا لیا گیا جو ان کی قسمت میں لکھ دی گئی تھی۔ تقی الدین جب مصر کی سرحد میں داخل ہوا تو اسے پتا چلا کہ وہ سوڈان میں آدھی فوج ضائع کرآیا ہے۔

٭ ٭ ٭

ادھر کرک جل رہا تھا، نورالدین زنگی کے کاریگروں نے ضرورت کے مطابق دور مار منجنیقیں بنا لی تھیں، جن سے قلعے کے اندر پتھر کم اور آگ زیادہ پھینکی جارہی تھی۔ صلاح الدین ایوبی اندر کے چند ایک ہدف بتا آیا تھا۔ ان میں رسد کا ذخیرہ بھی تھا۔ آگ کے پہلے گولے قلعے کی اس طرف پھینکے گئے جس طرف سے رسد کا ذخیرہ ذرا قریب تھا۔ خوش قسمتی سے گولے ٹھکانے پر گئے۔ اندر سے شعلے جو اٹھے انہوں نے زنگی کی فوج کا حوصلہ بڑھا دیا۔ مسلمانوں نے دور مار تیروکمان بھی تیار کرلیے تھے۔ انہیں استعمال کرنے کے لیے غیرمعمولی طور پر طاقتور سپاہی استعمال کیے جارہے تھے لیکن آٹھ دس تیر پھینک کر سپاہی بے ہوحال ہوجاتا تھا۔ زنگی نے ایک اور دلیرانہ کارروائی کی۔ اس نے نہایت دلیر سپاہی چن لیے اور انہیں حکم دیا کہ قلعے کے دروازے پر ٹوٹ پڑیں۔ انہیں دروازہ توڑنے کے موزوں اوزار دئیے گئے۔

جانبازوں کا یہ دستہ دروازے کی طرف دوڑا تو اوپر سے صلیبیوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ کئی جانباز شہید اور زخمی ہوگئے۔ زنگی نے دور مار تیر اندازوں کو وہاں اکٹھا کیا اور عام تیر اندازوں کا بھی ایک ہجوم بلا لیا۔ ان سب کو مختلف زاویوں پر مورچہ بند کرکے دروازے کے اوپر والی دیوار کے حصے پر مسلسل تیر پھینکنے کا حکم دیا۔ حکم کی تعمیل شروع ہوئی تو

اتنے تیر برسنے لگے جن کے پیچھے دیوار کا بالائی حصہ نظر نہیں آتا تھا۔ جانبازوں کی ایک اور جماعت دروازے کی طرف دوڑی۔ زنگی نے تیروں کی بارش اور تیز کرادی۔ ذرا دیر بعد دیوار پر لکڑیوں سے بندھے ہوئے ڈرم نظر آئے۔ یہ جلتی لکڑیوں اور کوئلوں سے بھرے ہوئے تھے، جونہی انہیں باہر کو انڈیلنے والوں کے سر نظر آئے وہ سر تیروں کا نشانہ بن گئے۔ ایک دو ڈرم باہر کو گرے باقی دیوار پر ہی الٹے ہوگئے۔ وہاں سے شعلے اٹھے جن سے پتا چلتا تھا کہ آگ پھینکنے والے اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔

زنگی کے کسی کمانڈر نے زنگی کے حملے کا یہ طریقہ دیکھ لیا۔ وہ گھوڑا سرپٹ دوڑا کر قلعے کے پچھلے دروازے کی طرف چلا گیا اور وہاں کے کمانڈر کو بتایا کہ سامنے والے دروازے پر کیا ہورہا ہے۔ ان دونوں کمانڈروں نے وہی طریقہ پچھلے دروازے پر آزمانا شروع کردیا۔ پہلے ہلے میں مجاہدین کا جانی نقصان زیادہ ہوا لیکن جوں جوں مجاہدین گرتے تھے، ان کے ساتھی قہر بن کر دروازے کی طرف دوڑتے تھے۔ تیر اندازوں نے صلیبیوں کو اوپر سے آگ نہ پھینکنے دی۔ زنگی نے حکم دیا کہ منجنیقیں قلعے کے اندر آگ پھینکیں۔ زنگی کی فوج نے دونوں دروازوں پر دلیرانہ حملے دیکھے تو فوج کسی کے حکم کے بغیر دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک حصہ قلعے کے سامنے چلا گیا اور دوسرا عقبی دروازے کی طرف۔ دونوں طرف دیوار پر تیروں کی ایسی بارش برسائی گئی کہ اوپر کی مزاحمت ختم ہوگئی۔ دونوں دروازے توڑ لیے گئے۔ زنگی کی فوج اندر چلی گئی۔ شہر میں خون ریز جنگ ہوئی، وہاں کے باشندوں میں بھگدڑ مچ گئی۔

اس بھگدڑ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صلیبی حکمران اور کمانڈر قلعے سے نکل گئے۔ شام تک صلیبی فوج نے ہتھیار ڈال دئیے۔ زنگی نے قیدی مسلمانوں کو کھلے اور بند قید خانوں سے نکالا پھر صلیبی حکمرانوں کو سارے شہر میں تلاش کیا مگر کوئی ایک بھی نہ ملا۔

یہ ١١٧٣ء کی آخری سہ ماہی تھی، جب کرک کا مضبوط قلعہ سر کرلیا گیا اور مسلمانوں کو بیت المقدس نظر آنے لگا۔

جب خزانہ مل گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صلیبیوں کی یہ کانفرنس اپنی نوعیت کی پہلی ہنگامہ خیز کانفرنس تھی۔ وہ ہر شکست کے بعد ہر فتح کے بعد، ہر پسپائی اور کامیاب پیش قدمی کے بعد مل بیٹھتے تھے۔ تبادلۂ خیالات کرتے اور شراب پیتے تھے۔ عورت اور شراب کے بغیر وہ سمجھتے تھے کہ جنگ جیتی ہی نہیں جاسکتی۔ اپنی بیٹیوں کو مسلمانوں کے علاقوں میں جاسوسی، تخریب کاری اور مسلمان حکام کی کردار کشی کے لیے بھیج دیتے تھے اور خود اپنے قبضے میں لیے ہوئے علاقوں سے مسلمان لڑکیاں اغوا کرکے انہیں تفریح کا ذریعہ بناتے تھے۔ جاسوسوں نے جب انہیں یہ بتایا تھا کہ صلاح الدین ایوبی کہتا ہے کہ صلیبی عصمتوں کے بیوپاری اور مسلمان عصمتوں کے محافظ ہیں تو صلیبی حکمران اور کمانڈر بہت ہنستے تھے، ان میں سے کسی نے سلطان ایوبی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شخص اتنی سی بات نہیں سمجھ سکتا کہ جس طرح صلیب کے بیٹے سپاہی بن کر جسم استعمال کرتے ہیں، اسی طرح صلیب کی بیٹیاں بھی مسلمانوں کو بے کار کرنے کے لیے اپنا جسم استعمال کرتی ہیں۔ کسی اور نے کہا تھا کہ صلاح الدین ایوبی کو ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ اس کی قوم کے بے شمار چھوٹے چھوٹے حکمرانوں، قلعہ داروں اور سالاروں کو ہماری ایک ایک لڑکی اور سونے کے سکوں کی ایک ایک تھیلی ایسی شکست دے چکی ہے جس پر وہ لوگ فخر کررہے ہیں اور اس شکست سے لطف اٹھا رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی ہم سے اسلام کی عصمت کس طرح بچائے گا؟

یہ صلیبیوں کی پہلی کانفرنس کی باتیں ہیں مگر ١١٧٣ء کے آخر میں بیت المقدس میں صلیبی سربراہ اکٹھے ہوئے تو ان پر کچھ اور ہی موڈ طاری تھا۔ انہوں نے سلطان ایوبی کا مذاق نہ اڑایا۔ کسی کے ہونٹوں پر بھولے سے بھی مسکراہٹ نہ آئی اور کسی کو یہ بھی یاد نہ رہا کہ وہ جب مل بیٹھتے ہیں تو شراب کا دور بھی چلا کرتا ہے۔ کرک سے وہ بڑے ہی شرمناک طریقے سے پسپا ہوئے تھے۔ ان میں ریجنالڈ بھی تھا جو کرک کا قلعہ دار بلکہ مالک تھا۔ وہ جنگجو تھا، فن حرب وضرب کا ماہر تھا۔ سلطان ایوبی کی فوج کے ساتھ اس نے اپنے زرہ پوش لشکر سے متعدد بار لڑائیاں لڑی تھیں۔ اس محفل میں ریمانڈ بھی تھا جس نے کرک کے محاصرے کے دوران صلاح الدین ایوبی کی فوج کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ ان دونوں نے ایسا پلان بنایا تھا جس کے متعلق وہ بجا طور پر خوش فہمیوں میں مبتلا تھے مگر سلطان ایوبی نے کرک کا محاصرہ قائم رکھا، ریمانڈ کا محاصرہ ایسے انداز میں توڑا کہ ریمانڈ کا لشکر محاصرے میں آگیا۔ اس کی رسد تباہ ہوگئی اور اس کی فوج اپنے زخمی گھوڑوں اور اونٹوں کو مار مار کر کھاتی رہی۔ آخر اس کی آدھی سے زیادہ فوج کٹ گئی، کچھ گرفتار ہوئی اور باقی پسپا ہوگئی۔

ریجنالڈ خوش نصیب تھا کہ نورالدین زنگی کے سرفروشوں نے قلعہ سرکرلیا تو اندر کی بھگدڑ میں ریجنالڈ بچ کر نکل گیا، ورنہ وہ اس کانفرنس میں شمولیت کے لیے زندہ نہ ہوتا۔ اس محفل میں صلیبیوں کے ان جنگجو سرداروں کی تعداد بھی خاصی تھی۔ جنہیں ”نائٹ” کہا جاتا تھا۔ یہ ایک خطاب تھا جو بادشاہ کی طرف سے عطا کیا جاتا اور اس کے ساتھ سر سے پائوں تک زرہ بکتری دی جاتی تھی۔ اس کانفرنس میں عکرہ کا پادری بھی تھا اور ان میں مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن فلپ آگسٹس بھی تھا۔ نائٹوں اور دیگر کمانڈروں کے ساتھ ساتھ اس کانفرنس میں صلیبیوں کی متحدہ انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن اور اس کے دو تین معاون بھی تھے۔ ابتداء میں اس ہجوم پر خاموشی چھائی رہی جیسے وہ ایک دوسرے کے سامنے بات کرتے گھبراتے ہوں۔ آخر فلپ آگسٹس نے زبان کھولی جس سے محفل میں زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ اس نے ”محافظ صلیب اعظم” کو کانفرنس کی صدارت پیش کرکے اسی سے درخواست کی کہ وہ خطاب کرے۔

”ان لوگوں سے مخاطب ہوتے ہوئے مجھے شرم محسوس ہورہی ہے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑیں، عہد توڑے اور بیت المقدس میں ز ندہ اور تندرست آبیٹھے”۔ عکرہ کے پادری نے کہا… ”میں یسوع مسیح کے آگے شرمسار ہوں اور میں صلیب کو دیکھتا ہوں تو میری نظریں جھک جاتی ہیں۔ کیا تم سب نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلفیہ عہد نہیں کیا تھا کہ اس کے دشمنوں کا خاتمہ کرو گے، خواہ اس میں تمہیں جانیں بھی قربان کرنی پڑیں؟ کیا تم نے حلف نہیں اٹھایا تھا کہ اسلام کا نام ونشان مٹانے کے لیے جان اور مال کی اور اپنے جسموں کے اعضا کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرو گے؟ تم میں کتنے ہیں جن کے جسموں پر ہلکی سے خراشیں بھی آئی ہوں؟ کوئی ایک بھی نہیں۔ تم شوبک مسلمانوں کو دے کر بھاگے۔ اب تم کرک دے کر بھاگ آئے ہو۔ میں اس حقیقت سے بھی بے خبر نہیں کہ جو میدان میں اترتے ہیں، وہ شکست بھی کھاسکتے ہیں۔ دو فتوحات کے بعد ایک شکست کوئی معنی نہیں رکھتی مگر یکے بعد دیگرے شکستیں اور دو پسپائیاں مجھے یقین دلا رہی ہیں کہ صلیب یورپ میں قید ہوگئی ہے اور وہ وقت بھی آنے والا ہے جب یورپ کے کلیسائوں میں مسلمانوں کی اذانیں گونجیں گی”۔

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 10

”ایسا کبھی نہیں ہوگا”… فلپ آگسٹس نے کہا… ”صلیب اعظم کے محافظ! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ شکست کے کچھ اسباب تھے جن پر ہم غور کرچکے ہیں اور اب آپ کی موجودگی میںمزید غور کریں گے؟”

”اور شاید تم اس پر غور نہ کرو کہ اب مسلمانوں کی منزل بیت المقدس ہوگی”… فلپ آگسٹس نے کہا… ”ہم نے مسلمانوں میں اتنے غدار پیدا کرلیے ہیں جو صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو بیت المقدس کے راستے پر ڈال کر انہیں راستے میں ہی پیاسا مار ڈالیں گے”۔

”پھر یہ کون سے مسلمان ہیں جنہوں نے تم سے دو اتنے مضبوط قلعے لے لیے ہیں؟”… صلیب اعظم کے محافظ نے کہا… ”اس حقیقت کو مت بھولو کہ مسلمان انتہا پسند قوم ہے۔ مسلمان غداری پر آتا ہے تو اپنے بھائیوں کی گردن پر چھری چلا دیتا ہے مگر اس میں جب قومی جذبہ بیدار ہوجاتا ہے تو اپنی گردن کاٹ کر گناہوں کا کفارہ ادا کردیا کرتا ہے۔ مسلمان اگر غدار بھی ہوجائے تو اس پر اعتماد نہ کرو، دور نہ جائو، گزرے ہوئے صرف دس سالوں کے واقعات پر نظر ڈالو۔ اسلام کے غداروں نے تمہیں کتنے علاقے دلوائے ہیں؟ کیا تم میں ہمت ہے کہ مصر میں قدم رکھو؟ آج مسلمان فلسطین میں بیٹھے ہیں، کل تمہارے سینے پر بیٹھے ہوں گے۔ یاد رکھو میرے دوستو! اگر صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نے تم سے بیت المقدس لے لیا تو وہ تم سے یورپ بھی لے لے گا لیکن سوال فلسطین اور یورپ کا نہیں، سوال زمین کے ٹکڑوں کا نہیں، اصل مسئلہ صلیب اور اسلام کا ہے۔ یہ دو مذہبوں اور نظریوں کی جنگ ہے۔ دو میں سے ایک کو ختم ہونا ہے۔ کیا تم صلیب کا خاتمہ پسند کرو گے؟”

”نہیں مقدس باپ، ایسا کبھی نہیں ہوگا”… محفل میں جوش وخروش پیدا ہوگیا… ”اتنی زیادہ مایوسی کی کوئی وجہ نہیں”۔

”پھر تم ان وجوہات پر غور کرو جو تمہاری پسپائی کا باعث بنی ہیں”… محافظ صلیب اعظم نے کہا… ”میں تمہیں جنگ کے متعلق کوئی سبق نہیں دے سکتا۔ میں نظریات کے محاظ کا سپاہی ہوں۔ میں کلیسا کا محافظ ہوں۔ مجھے کلیسا کی کنواریوں کی قسم دس کٹر مسلمان میرے سامنے لے آئو، انہیں صلیب کا پجاری بنالوں گا۔ ذرا اس پر غور کرو کہ تمہارے اتنے بڑے لشکر جو زرہ پوش بھی ہیں، مسلمانوں کی مختصر سی فوج کا مقابلہ کیوں نہیں کرسکتے؟ تمہارے پانچ سو سواروں کو ایک سو پیادہ مسلمان شکست دے دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ مسلمان مذہب کے جنون سے لڑتے ہیں۔ وہ تمہارے مقابلے میں آتے ہیں تو قسم کھا لیتے ہیں کہ فتح یا موت۔ میں نے سنا ہے کہ ان کے چھاپہ مار تمہارے عقب میں چلے جاتے ہیں اور تمہاری کمر توڑ کر تمہارے تیروں سے چھلنی ہوجاتے ہیں یا نکل جاتے ہیں۔ ذرا سوچو کہ دس دس بارہ بارہ آدمی تمہارے ہزاروں کے لشکر میں کس طرح گھس آتے ہیں؟ یہ محض مذہبی جنون ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا بھی ان کے ساتھ ہے اور خدا کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ ہے۔ ایسی دلیرانہ کارروائیوں میں وہ اپنے کمانڈروں سے نہیں قرآن سے حکم لیتے ہیں۔ میں نے قرآن کا مطالعہ بہت غور سے کیا ہے۔ ہمارے خلاف جنگ کو قرآن جہاد کہتا ہے اور ہر مسلمان پر جہاد فرض کردیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ جہاد کو نماز یعنی عبادت پر فوقیت حاصل ہے… تم بھی جب تک اپنے آپ میں یہی جنون پیدا نہیں کرو گے، اسلام کا تم کچھ نہیں بگاڑ سکتے”۔

٭ ٭ ٭

کچھ ایسے ہی جذباتی اور حقیقی الفاظ تھے جن سے عکرہ کے پادری نے اپنے شکست خوردہ حکمرانوں اور کمانڈروں کو بھڑکانے اور ان میں نئی روح پھونکنے کی کوشش کی اور وہ یہ کہہ کر چلا گیا کہ اب آپس میں بحث ومباحثہ کرو کہ تمہاری شکست کے اسباب کیا تھے اور اس کی ذمہ داری کس کس پر عائد ہوتی ہے اور اس شکست کو فتح میں کس طرح بدلنا ہے۔ بیت المقدس کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنالو۔ صلاح الدین ایوبی فرشتہ نہیں۔ تمہاری طرح ایک انسان ہے۔ اس کی طاقت صرف اس میں ہے کہ اس کا ایمان پکا ہے۔

پادری کے جانے کے بعد کانفرنس میں جو گرما گرمی پیدا ہوئی، وہ اس لحاظ سے تاریخی نوعیت کی تھی کہ اس میں کچھ فیصلے کیے گئے۔ ان میں ایک فیصلہ یہ تھا کہ جوابی حملہ نہ کیا جائے بلکہ ایوبی اور زنگی کے لیے انگیخت پیدا کی جائے کہ وہ پیش قدمی کریں اور حملے جاری رکھیں۔ انہیں مستقر سے دور لایا جائے اور بکھیر کر لڑایا جائے۔ اس طرح ان کی رسد کے راستے لمبے اور غیر محفوظ ہوجائیں گے۔ اس کے ساتھ یہ فیصلہ ہوا کہ یونانیوں، بازنطینیوں اور فرینکوں کو فوری طور پر تیار کیا جائے کہ سمندر کی طرف سے مصر پر بحری حملہ کریں اور ساحل پر فوج اتار کر مصر کے شمال مشرق کے اتنے سے علاقے پر قبضہ کرلیں جسے مضبوط مستقر )اڈا( بنا لیا جائے۔ اسے فلسطین کے دفاع اور مصر پر جارحیت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اہم فیصلہ یہ ہوا کہ اسلامی علاقوں میں اخلاق کی تخریب کاری تیز کردی جائے اور نظریاتی حملے اور شدید کردئیے جائیں۔

جیسا کہ پچھلے باب میں بیان کیا جاچکا ہے کہ مصر میں صلیبیوں کی اہم مہم تباہ کردی گئی تھی جو سرحدی علاقے میں توہمات پیدا کرنے کے لیے عروج پر پہنچ گئی تھی۔ صلیبی جاسوسوں نے وہاں سے آکر اطلاع دے دی تھی کہ وہ مہم ناکام ہوچکی ہے اور جن مسلمانوں کو زیراثر لے لیا گیا تھا، انہوں نے ہی مہم کے افراد کو ہلاک کردیا ہے… اس کانفرنس میں یہ انکشاف پیش کیا گیا کہ مقبوضہ علاقوں میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے۔ وہ مجبور ہوکر قافلوں کی صورت میں ترک وطن کرتے ہیں تو راستے میں ان کے قافلے لوٹ لیے جاتے ہیں۔ مال اور مویشی چھین لیے جاتے ہیں اور لڑکیوں کو

اغوا کرلیا جاتا ہے۔ کانفرنس میں اس اقدام کو ضروری سمجھا گیا۔ مسلمانوں کو ختم کرنے کا یہ بھی ایک اچھا طریقہ تھا۔ یہ نسل کشی کی مہم تھی جو صلیبیوں نے بہت عرصے سے جاری کررکھی تھی۔ پہلے بھی بیان کیا جاچکا ہے کہ مسلمان کی کمسن اور خوبصورت بچیوں کو اغوا کرکے صلیبی انہیں بے حیائی اور چرب زبانی کی تربیت دے کر انہیں پالیتے پوستے اور جب وہ جوان ہوجاتیں، انہیں مسلمانوں میں غداری کے جراثیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔

کانفرنس میں یہ بھی طے ہوا کہ مسلمانوں میں عیسائیت کی تبلیغ کی جائے۔ اس کے لیے بے شمار دولت کی ضرورت تھی جو خرچ تو کی جارہی تھی لیکن کچھ دشواریاں پیدا ہوگئی تھی۔ ایک یہ تھی کہ رقم اونٹوں کے ذریعے بھیجی جاتی تھی۔ کئی بار ایسے ہوا کہ مصر کے کسی سرحدی دستے نے پکڑ لیا یا اونٹ لوٹ لیے گئے۔ ضرورت یہ محسوس کی گئی تھی کہ کوئی ایسا ذریعہ مل جائے جس سے رقم اور انعامات کی دیگر قیمتی اشیاء اسی ملک سے دستیاب ہوجائیں، جہاں استعمال کرنی ہوں۔ خاصے عرصے سے اس مسئلے پر سوچ وبچار ہورہا تھا۔ صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا کمانڈو، ہرمن، علی بن سفیان کی طرح غیرمعمولی ذہانت کا مالک تھا۔ اس نے کبھی کا سوچ رکھا تھا کہ مصر کی زمین اپنے اندر اس قدر خزانے چھپائے ہوئے ہے جس سے ساری دنیا کو خریدا جاسکتا ہے مگر ان خزانوں تک پہنچنا آسمان سے ستارے توڑ لانے کے برابر تھا۔ یہ خزانے فرعونوں کے مدفنوں میں محفوظ تھے۔ تاریخ فرعونوں کی اس رسم سے کبھی بھی بے خبر نہیں رہی کہ جب کوئی فرعون مرتا تھا تو اس کے ساتھ شاہانہ ضروریات کا تمام سامان اس کے ساتھ دفن کردیا جاتا تھا۔

مرے ہوئے فرعون کو قبر چند گز چوڑی نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ زمین کے نیچے ایک محل تعمیر ہوجاتا تھا۔ فرعون اپنی زندگی میں اپنا مدفن تیار کرالیا کرتے تھے اور جگہ ایسی منتخب کرتے تھے جس تک اس کی موت کے بعد کوئی رسائی حاصل نہ کرسکے۔ مرنے کے بعد مدفن کو اس طرح بند کردیا جاتا تھا کہ معماروں کے سوا کسی کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ اسے کھولا کس طرح جاسکتا ہے۔ مرنے والے کے لواحقین معماروں کو قتل کردیا کرتے تھے۔ فرعونوں کا ایک عقیدہ تو یہ تھا کہ وہ خدا ہیں اور دوسرا یہ کہ مرنے کے بعد انہیں یہی جاہ وجلال حاصل ہوگا۔ چنانچہ پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر اور پھر پہاڑ کے نیچے زمین کی کھدائی کرکے محل جیسے ہال اور دیگر کمرے بنوا کر اس محل میں زیادہ سے زیادہ ہیرے جواہرات رکھوا دئیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ بگھیا مع گھوڑوں اور بگھی بانوں کے اور کشتیاں مع ملاحوں کے اندر رکھ دی جاتی تھیں۔ خدمت کے لیے کنیزیں اور غلام اور بیویاں بھی ساتھ ہوتی تھیں۔ اس طرح صورتحال یہ بن جاتی تھی کہ ایک انسان کی لاش کے ساتھ جہاں بے انداز مال ودولت دفن ہوجاتا تھا وہاں بہت سے انسان زندہ اندر بھیج کر باہر سے مدفن کا منہ بند کردیا جاتا تھا۔ تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ دم گھٹنے سے کس طرح مرتے ہوں گے۔ فرعونوں کی لاشوں کو مصالحے وغیرہ لگا کر حنوط کیا جاتا تھا۔ ہزاروں سال گزر جانے کے بعد آج بھی ان کی لاشیں محفوظ ہیں، جن میں کچھ لندن کے عجائب خانے میں پڑی ہیں۔

فرعونوں کا دور ختم ہوا تو مصر کی حکومت جس کے بھی ہاتھ آئی اس نے فرعونوں کے مدفن تلاش کرنے کی کوشش کی۔ یہ مہم ناممکن کی حد تک مشکل ثابت ہوئی۔ مدفنوں کو تلاش کرنا ہی ایک مسئلہ تھا۔ اس کے بعد آج تک یہ مہم جاری ہے۔ مصر نے تاریخ میں بہت سی بادشاہیاں دیکھیں۔ ہر بادشاہ نے مدفن تلاش کیے جسے جو ہاتھ لگا لے اڑا۔ سب سے زیادہ حصہ انگریزوں کے ہاتھ آیا کیونکہ انگریزوں نے وہاں موجودہ دور میں اپنا اثر قائم کیا تھا جب سائنس ترقی کرچکی تھی۔ سائنس نے اور کھدائی کے مشینی طریقوں نے انگریزوں کی بہت مدد کی۔ پھر بھی کہتے ہیں کہ مصر کی زمین فرعونوں کے خزانوں سے ابھی تک مالامال ہے اور مصر کی تاریخ میں اگر غور سے جھانکیں تو اس میں ایسے پراسرار اور خوفناک واقعات

ملتے ہیں کہ وہ رونگٹے کھڑے کردیتے ہیں۔ کچھ ذاتی طور پر کسی فرعون کی تلاش میں نکلے۔ ان میں سے بعض مدفن میں داخل ہوبھی گئے مگر معلوم نہ ہوسکا کہ کہاں غائب ہوگئے۔ ان میں سے جو بچ کر نکلے وہ دوسرے کے لیے سراپا عبرت بن گئے۔ اسی لیے یہ عقیدہ آج بھی قائم ہے کہ فرعون خدا تو نہیں تھے لیکن ان کے پاس مرکر بھی کوئی ایسی طاقت موجود ہے جو ان کے مدفنوں میں جانے والوں کو عبرتناک سزا دیتی ہے۔ لوگوں نے اس عقیدے کو اس لیے تسلیم کیا ہے کہ جس بادشاہ نے بھی کسی فرعون کے مدفن میں ہاتھ ڈالا، اس کی بادشاہی کوزوال آیا۔ بعض نے فرعونوں کو نحوست کا حامل کہا ہے۔

صلاح الدین ایوبی کے دور سے پہلے ہی صلیبیوں کو معلوم تھا کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔ یہ وجہ بھی تھی کہ وہ مصر پر قابض ہونا چاہتے تھے۔ سلطان ایوبی کو شکست دینا آسان نظر نہ آیا تو انہوں نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ ان مدفنوں کی تلاش مصریوں سے کرائی جائے اور خزانے نکلوا کر استعمال کیے جائیں۔ انہیں کسی طرح یہ پتا چل گیا تھا کہ مصری حکومت کے پرانے کاغذات میں ایسی تحریریں اور نقشے موجود ہیں جن میں بعض مدفنوں کے متعلق معلومات درج ہیں۔ ان کاغذات تک پہنچنا آسان نہیں تھا۔ صلیبیوں نے مصر میں بڑے ذہین جاسوس بھیجے تھے، جو صرف یہ معلوم کرسکتے تھے کہ یہ کاغذات کہاں ہیں اور کس طرح اڑائے جاسکتے ہیں مگر اس شعبے کے سربراہ کو اپنی گرفت میں لینا ممکن نہ تھا۔ ان دنوں جب سلطان ایوبی شوبک اور کرک کی جنگوں میں الجھا ہوا تھا اور اس کی غیرحاضری میں مصر سازشوں کی زرخیز زمین اور بغاوت کا آتش فشاں بن چکا تھا، صلیبیوں کے ماہر سراغ رساں ہرمن نے کامیابی حاصل کرلی تھی کہ سلطان ایوبی کی فوج کے ایک اعلیٰ کمانڈر احمر درویش کو اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا۔ احمر سوڈانی تھا، اس کے خلاف کوئی ایسی شکایت نہیں تھی کہ وہ غدار ہے۔ سلطان ایوبی کو اس پر اعتماد تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کی زیرکمان لڑائیاں لڑی تھیں اور کمانڈروں کی صف میں نام پیدا کیا تھا۔

بعد کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ یہ کمال میر یا ایستھینا نام کی ایک صلیبی لڑکی کا تھا کہ اس نے احمر کے دماغ میں سوڈان کی محبت، سلطان ایوبی کی مخالفت اور سوڈان میں مصر کے سرحدی علاقے میں سے کچھ حصے کی خودمختار ریاست کا لالچ پیدا کیا تھا۔ وہ تھا تو مسلمان لیکن صلیبیوں نے اس کے دماغ میں ڈ ال دیا تھا کہ وہ پہلے سوڈانی بعد میں مسلمان ہے۔ اب جبکہ نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ توڑ لیا تھا اور سلطان ایوبی مصر میں غداروں کا قلع قمع کررہا تھا۔ احمر درویش نے صلیبی جاسوسوں کے ساتھ کئی ایک ملاقاتیں کرلی تھیں۔ اس نے کسی کو شک تک نہیں ہونے دیا تھا ک وہ دشمن کے ساتھ سازباز کررہا ہے۔ اس نے مرکزی دفاتر میں اتنا اثرورسوخ پیدا کررکھا تھا کہ وہ پرانی دستاویزات تک پہنچ گیا۔ وہاں سے اس نے جو کاغذات چوری کرائے، ان میں بظاہر اوٹ پٹانگ سی لکیروں کا ایک نقشہ تھا۔ دراصل یہ کاغذات نہیں کپڑے اورکاغذ کے درمیان کی کوئی چیز تھی۔ ایسے ہی چند ایک اور کپڑے یا کاغذ تھے جن پر فرعونوں کے وقتوں کی عجیب وغریب تحریریں تھیں، جنہیں پڑھنا اور سمجھنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ یہ کسی کو دکھائی بھی نہیں جاسکتی تھی۔ بہر حال کسی طرح ان تحریروں کے معنی واضح کرلیے گئے۔ انکشاف یہ ہوا کہ قاہرہ سے تقریباً اٹھارہ کوس دور ایک پہاڑی علاقہ ہے جو خوفناک ہے، بے کار ہے اور جس کے اندر شاید درندے بھی نہیں جاتے ہوں گے۔ اس کے اندر کہیں ایک فرعون کا مدفن ہے۔

یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ یہ تحریر کہاں تک صحیح اور بامعنی ہے۔ اس میں لکیروں میں ہاتھ سے بنی ہوئی چند ایک تصویریں بھی تھیں۔ کہانی کا کچھ حصہ ان تصویروں میں چھپا ہوا تھا۔ احمر نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا تھا۔ اس فرعون کا نام ریمینس دوم تھا۔ اس کے مدفن کی تلاش اور کھدائی کے لیے صلیبیوں نے قاہرہ میں چند ایک ہوشیار، دانشمند اور جفاکش جاسوس بھیج دئیے تھے۔ ان کا سربراہ مارکونی اطالوی تھا جسے سیاحت اور کوہ پیمائی کا تجربہ تھا۔ احمر نے ان آدمیوں کو کامیابی

سے بہروپ چڑھا دئیے تھے کہ قاہرہ میں انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ دو کو تو اس نے اپنے گھر میں ملازم رکھ لیا تھا۔ اس کے عوض احمر درویش سے یہ سودا ہوا تھا کہ وہ مدفن سے زروجواہرات نکالے، انہیں اپنے پاس رکھے۔ سلطان ایوبی کے خلاف تخریب کاری میں استعمال کرے، فدائیوں کو منہ مانگی اجرت دے۔ سلطان ایوبی کوقتل کرائے اور جب مصر صلیبیوں یا سوڈانیوں کے قبضے میں آجائے گا تو اسے ایک خودمختار ریاست بنا دی جائے گی، جس میں کچھ حصہ سوڈان کا کچھ مصر کا شامل ہوگا۔ اسے یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس تلاش کے دوران اگر سلطان ایوبی صلیبیوں پر یا سوڈانیوں پر حملہ کرے تو احمر اپنے زیرکمان دستوں کو سلطان ایوبی کی جنگی چالوں کے الٹ استعمال کرے۔

احمر درویش کا دماغ اتنے بڑے لالچ کے جادو کی گرفت میں آچکا تھا اور اس نے مارکونی کو ان دو صلییوں کے ساتھ جو اس کے نوکروں کے بہروپ میں اس کے گھر میں تھے، نقشہ دے کر مدفن کی تلاش کی مہم پر روانہ کردیا تھا۔ ایک جاسوس کی وساطت سے اس نے ہرمن کو اطلاع بھیج دی تھی کہ تلاش شروع ہوچکی ہے۔ ہرمن نے اس کانفرنس میں صلیبی حکمرانوں وغیرہ کو بتا دیا کہ اگر یہ مدفن بے نقاب ہوگیا تو اس سے برآمد ہونے والی دولت سے مصر کی جڑیں مصریوں کے ہی ہاتھوں کھوکھلی کی جاسکیں گی۔

٭ ٭ ٭
١١٧٤ء کی پہلی سہ ماہی کے آخری دن تھے، قاہرہ سے اٹھارہ کوس دور ایک جگہ تین اونٹ کھڑے تھے۔ ہر اونٹ پر ایک آدمی سوار تھا۔ ان کے چہرے ڈھکے ہوئے تھے، ایک سوار نے چغے کے اندر سے ایک گول کیا ہوا چوڑا کاغذ نکالا۔ اسے کھول کر غور سے دیکھا اور اپنے ساتھیوں سے کہا… ”جگہ یہی ہے” … اس کے اشارے پر تینوں اونٹ آگے چل پڑے۔ وہ ٹیلے آمنے سامنے دیواروں کی طرح کھڑے تھے۔ ان کے درمیان ایک اونٹ گزرنے کا راستہ تھا۔ تینوں ایک قطار میں اندر چلے گئے۔ اندر کی پہاڑیوں کی شکل وصورت ایسی تھی جیسے کوئی بہت ہی وسیع عمارت ہو جس کی چھتیں غائب ہوں۔ ریت کے لامحدود سمندر میں یہ پہاڑی علاقہ تین چار میلوں میں پھیلا ہوا تھا۔ باہر ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ان کے پیچھے سخت مٹی کی پہاڑیاں اور ان کے پیچھے ٹوٹی پھوٹی دیواروں کی طرح پہاڑیاں تھیں جن میں بعض بہت چوڑے اور گول ستونوں کی طرح ایک ہزار فن بلندی تک گئی ہوئی تھیں۔ سورج غروب ہونے کے بعد جب شام ابھی گہری نہیں ہوتی تھی، یہ علاقہ بہت سے بھوتوں کی طرح نظر آیا کرتا تھا۔ اس کے اندر جانے کی کسی نے کبھی جرأت نہیں کی تھی۔ کوئی جرأت کرتا بھی تو کیوں کرتا۔ اندر جانے کی کسی کو کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی تھی۔ صحرا کے مسافروں کی ضرورت صرف پانی ہوا کرتی تھی۔ ایسے خشک پہاڑوں اور چٹانوں کے اندر جو دن کے وقت دور سے شعلوں کی طرح نظر آتے تھے، پانی کا ذرا سا دھوکہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔

Read More:  Nakhreeli Mohabbatain by Seema Shahid – Episode 6

یہ جگہ کسی راستے میں بھی نہیں پڑتی تھی، میلوں دور سے نظر آنے لگتی تھی۔ لوگ اس کے متعلق کچھ ڈرائونی سی کہانیاں سنایا کرتے تھے جن میں ایک یہ تھی کہ یہ شیطان بدروحوں کا مسکن ہے۔ خدا نے جب آسمان سے شیطان کو دھتکارا تھا تو شیطان یہیں اترا تھا۔ اس علاقے کی چونکہ فوجی اہمیت بھی نہیں تھی، اس لیے فوجوں نے بھی کبھی اس کے اندر جانے کی ضرورت محسوس نہیں کی تھی۔ ایسے علاقے کے اندر ریت، موت اور صحرائی درندوں کے سوا اور ہو ہی کیا سکتا تھا۔ اس کے ہولناک خطے کی تاریخ میں غالباً یہ پہلے تین انسان تھے جو اس کے اندر چلے گئے تھے۔ انہیں وہیں جانا تھا کیونکہ ہزاروں سال پرانا نقشہ اسی جگہ کی نشاندہی کررہا تھا۔ صرف ایک لکیر شک پیدا کرتی تھی۔ یہ ایک ندی کی لکیر تھی مگر وہاں کوئی ندی نہیں تھی۔ اس جگہ اب ایک بڑا ہی لمبا نشیب نظر آتا تھا جس کی چوڑائی بارہ چودہ گز تھی۔ اس کے اندر کی ریت کی شکل وصورت بتاتی تھی کہ صدیوں پہلے یہاں سے پانی گزرتا رہا ہے۔ اسی نشیب نے جو قریب ہی کہیں ختم ہونے کے بجائے دریائے نیل کی طرف چلا گیا تھا، شتر سواروں کو یقین دلایا تھا کہ وہ جس جگہ کی تلاش میں ہیں، وہ یہی ہے۔

ان سواروں میں ایک مارکونی اطالوی تھا اور دو اس کے ساتھی تھے، تینوں صلیبی تھے۔ انہیں سلطان ایوبی کے ایک کمانڈر احمر درویش نے فرعون ریمینس دوم کے مدفن کی تلاش کے لیے بھیجا تھا۔ نقشے کے مطابق وہ صحیح جگہ پر آگئے تھے۔ اب اندر جاکر یہ دیکھنا تھا کہ یہ جگہ کس حد تک صحیح ہے۔ مارکونی نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اپنے آپ کو خدا سمجھنے والے فرعون اپنی آخری آرام گاہ ایسے جہنم میں بنانے کی سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ احمر اور ہرمن نے ہمیں ایک بے کار آزمائش میں ڈ ال دیا ہے۔ اس کے ساتھیوں نے اسے اپنا کمانڈر سمجھتے ہوئے کوئی مشورہ نہ دیا۔ وہ حکم کے پابند تھے۔ مارکونی سخت جان صلیبی تھا۔ ہمت ہارنے کا قائل نہ تھا۔ وہ آگے آگے چلتا رہا۔ وہ جوں جوں اندر جارہے تھے، چٹانوں کی شکلیں بدلتی جارہی تھیں۔ ان کا رنگ گہرا بادامی بھی تھا، کہیں بھی اور کہیں کہیں ان کا رنگ مٹیالال بھی تھا۔ ان میں ریتلی سلوں کی چٹانیں تھیں اور مٹی کے سیدھے کھڑے ٹیلے بھی۔ ڈھلانوں سے ریت بہتی نظر آتی تھی۔

بہت آگے جاکر یہ وادی بند ہوگئی۔ مارکونی نے دائیں طرف دیکھا، ایک ٹیلا درمیان سے اس طرف پھٹا ہوا تھا جیسے زلزلے نے دیوار میں شگاف کردیا ہو۔ شگاف میں سے جھانکا، یہ ایک گلی تھی جو دور تک چلی گئی تھی۔ اونٹ کا گزرنا مشکل نظر آتا تھا۔ مارکونی نے اپنا اونٹ شگاف کی گلی میں داخل کردیا۔ اس کے گھٹنے دونوں طرف ٹیلوں کی دیواروں سے لگتے تھے۔ اس نے ٹانگیں سمیٹ کر اونٹ کی کوہان پر رکھ دیں۔ پچھلے سواروں نے بھی ایسا ہی کیا۔ اونٹوں کے پہلو دائیں بائیں لگتے تھے تو مٹی نیچے گرتی تھی۔ ٹیلا دو حصوں میں کٹ کر دور تک چلا گیا تھا۔ اونٹوں کے ہچکولوں سے یوں لگتا تھا جیسے ٹیلے کے دونوں حصے مل رہے ہوں اور دونوں مل کر اونٹوں کو سواروں سمیت پیس ڈالیں گے۔ آگے جاکر اوپر دیکھا تو دور اوپر ٹیلے کے دونوں حصوں کی چوٹیاں آپس میں مل گئی تھیں۔ آگے اندھیرا سا تھا لیکن دور آگے روشنی سی نظر آتی تھی جس سے امید بندھ گئی کہ وہ گلی وہاں ختم ہوجائے گی اور آگے جگہ فراخ ہے۔

گلی نے اب سرنگ کی صورت اختیار کرلی تھی جس میں اونٹوں کے پائوں کی آوازیں ڈرائونی سے گونج پیدا کرتی تھیں۔ مارکونی بڑھتا گیا۔ وہاں یہی ایک راستہ تھا اس لیے غلطی کا امکان کم تھا۔ سامنے روشنی کا جو دھبہ تھا، وہ پھیل رہا تھا، سرنگ ختم ہورہی تھی… اور جب وہ سرنگ کے دہانے پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ اونٹ سواروں سمیت نہیں گزر سکیں گے۔ سوار اونٹوں کی گردنوں پر آکر نیچے اتر کیونکہ پہلوئوں سے نہیں اترا جاسکتا تھا۔ اونٹوں کو بڑی مشکل سے باہر نکالا گیا۔ آگے دیکھا تو چاروں طرف کسی پرانے قلعے کی بڑی ہی بلند دیواریں نظر آئیں مگر یہ قلعہ قدرتی تھا۔ پہاڑیوں کی شکل ایسی تھی کہ تین چار سو گز تک ڈھلان تھی اور وہاں سے پہاڑیاں سیدھی اوپر کو اٹھ گئی تھیں، بعض اونچی تھیں، بعض کم بلند۔ معلوم ہوتا تھا جیسے ہر جگہ ہر طرف سے بند ہو۔ گھوم پھر کر دیکھا تو ایک پہاڑی کے ساتھ اتنی جگہ تھی جس پر پیدل چلا جاسکتا تھا۔

مارکونی نے اونٹوں کو بٹھا دیا اور پیدل چل پڑے۔ پہاڑی گولائی میں ہوگئی تھی۔ پائوں جما کر رکھنا پڑتا تھا کیونکہ ریت اور مٹی تھی جس سے پائوں ڈھلان کی طرف ہوکر گرا سکتا تھا۔ یہ دراصل کوئی باقاعدہ راستہ نہیں تھا۔ چلنے کی صرف جگہ تھی۔ زمین اور ٹیلے بتا رہے تھے کہ صدیوں سے یہاں کسی انسان نے قدم نہیں رکھا۔ یہ چلنے کی جگہ یا راہ آگے گئی تو مارکونی اور اس کے ساتھیوں کے دل اچھل کر حلق تک آگئے۔ ڈھلان سخت ہوگئی تھی اور نیچے جا کر کسی بڑی ہی اونچی دیوار کی منڈیر بن گئی تھی۔ دائیں طرف پہاڑی تھی جس کے پہلو میں وہ قدم جما جما کر چل رہے تھے مگر بائیں طرف زمین دور نیچے چلی گئی تھی۔ یہ ایک وسیع اور بہت ہی گہری کھائی تھی۔ وہاں سے گرنے کا نتیجہ صرف موت تھا۔ کھائی کے دوسرے کناروں پر اسی طرح کے پہاڑ تھے جس کے ساتھ ساتھ وہ چل رہے تھے۔

ایسے خطرناک مقام پر آکر مارکونی کے ایک ساتھی نے اس سے پوچھا… ”کیا تمہیں یقین ہے کریمینس فرعون کا جنازہ اس جگہ سے گزارا گیا ہوگا؟”

”احمر درویش نے یہی راستہ بتایا ہے”… مارکونی نے کہا… ”جہاں تک میں نقشے کو سمجھ سکا ہوں، ہمارے گزرنے کا یہی راستہ ہے۔ ریمینس کا تابوت کسی اور طرف سے گزارا گیا تھا۔ ہمیں وہ راستہ معلوم کرنا ہے۔ وہ کوئی خفیہ راستہ تھا جو صدیوں کی آندھیوں اور زمین کی تبدیلیوں نے بند کردیا ہوگا۔ اگر وہ راستہ مل گیا تو ہم مدفن تک پہنچ جائیں گے”۔

”اگر زندہ رہے تو!”۔

”میں اس کے متعلق یقین تو نہیں دلا سکتا”… مارکونی نے کہا… ”یہ یقین دلا سکتا ہوں کہ مدفن مل گیا تو تم دونوں کو مالا مال کردوں گا”۔

راستہ چوڑا ہوگیا اور کھائی ختم ہوگئی۔ اب وہ دو ایسی پہاڑیوں کے درمیان جارہے تھے جن کے دامن ملے ہوئے تھے مگر کچھ ہی دور آگے پہاڑیاں مل گئی تھیں۔ وہ وہاں تک پہنچے تو انہیں بائیں طرف اوپر چڑھنا پڑا۔ کوئی ایک سو گز اور گوپر جاکر انہیں ایک گلی سی نظر آئی جو نیچے کو جارہی تھی۔ وہاں سے اردگرد دیکھا تو دور دور تک پہاڑیوں کے ستون اوپر کو گئے ہوئے تھے۔ منظر ہیبت ناک تھا۔ وہ نیچے اترتے گئے۔ یہ گلی کئی ایک موڑ مڑ کر انہیں ایک فراخ جگہ لے گئی جو گولائی میں تھی۔ یہاں کی گرمی ناقابل برداشت تھی۔ چوٹیوں کے قریب پہاڑیوں میں چمک سی تھی۔ وہاں کی مٹی میں کسی دھات کی آمیزش تھی۔ اس کی تپش سے گرمی زیادہ تھی۔ ہر طرف پہاڑیاں تھیں، سوائے چند گز جگہ کے۔ وہاں گئے تو خوف سے تینوں پیچھے ہٹ گئے۔ وہ بہت گہرا نشیب تھا۔ وسعت بھی زیادہ تھی۔ اس کی تہہ پر ریت چمک رہی تھی اور سورج کی تپش اتنی زیادہ تھی کہ ریت سے دھواں سا اٹھتا اور لرزتا نظر آتا تھا۔ اس سے اس کی گہرائی کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔

اس اتنے گہرے نشیب کے آمنے سامنے کے کناروں کو ایک قدرتی دیوار ملاتی تھی۔ یہ نیچے سے اوپر تک تھی۔ یہ دراصل مٹی اور ریت کا دیوار نما ٹیلا تھا جو نیچے سے بھی اتنا ہی چوڑا تھا جتنا اوپر سے۔ اس کی چوڑائی ایک گز سے کم تھی۔ کہیں سے گولائی میں تھی جس پر چلنا خطرناک تھا۔ اگر مارکونی کو پار جانا ہی تھا تو یہی ایک راستہ تھا جو پل صراط کی مانند تھا۔ اس کی لمبائی پچاس گز سے زیادہ ہی تھی۔ مارکونی کے ایک ساتھی نے اسے کہا… ”میرا خیال ہے اس دیوار پر چلنے کے بجائے تم خودکشی کا کوئی بہتر طریقہ اختیار کروگے”۔

”خزانے راستے میں پڑے نہیں ملا کرتے”… مارکونی نے کہا… ”ہمیں اس راستے سے پار جانا ہے”۔

”اور پھسل کر نیچے جہنم کی آگ میں گرنا ہے”… دوسرے ساتھی نے کہا۔

”کیا ہم نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف نہیں اٹھایا کہ صلیب کی عظمت اور اسلام کی بیخ کے لیے جانیں قربان کردیں گے؟”… مارکونی نے کہا… ”کیا میدان جنگ میں ہمارے ساتھی صلیب پر جانیں قربان نہیں کررہے؟ میں بزدلوں کی طرح یہیں سے واپس ہوکر احمر درویش کو یقین دلا سکتا ہوں کہ اتنی صدیاں گزر جانے کے بعد اب تمام راستے بند ہوچکے ہیں، جہاں ندی تھی، وہاں چٹانیں ہیں اور جہاں نقشہ چٹانیں دکھاتا ہے وہاں کچھ بھی نہیں ہے مگر میں بزدل نہیں بنوں گا،

جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میرے دل پر خوف طاری ہوچکا ہے۔ میں اس کے خلاف لڑ رہا ہوں، میرے خوف میں اضافہ نہ کرو دوستو! اگر تم میرا ساتھ نہیں دو گے تو صلیب سے دھوکہ کرو گے اور اس کی سزا بڑی اذیت ناک ہوگی۔ میں تمہارے آگے آگے چلتا ہوں، جہاں پھسلنے کا خطرہ محسوس کرو وہاں اس طرح بیٹھ جانا جس طرح گھوڑے پر بیٹھتے ہیں۔ پھر آگے سرکتے رہنا”۔

یہ مطالبہ کہ وہ ایک رقاصہ کو اپنے ساتھ رکھے گا، کوئی عجیب یا غیرمعمولی مطالبہ نہ تھا۔ البتہ قدومی کو اپنے ساتھ لے جانا کچھ عجیب سا تھا۔ قدومی ایک جواں سال رقاصہ تھی جو صرف امراء اور دولت مند افراد کے ہاں جاتی تھی۔ وہ سوڈان کی رہنے والی تھی اور مسلمان تھی۔ وہ خوبصورت تو تھی ہی مگر اس کے نازو ادا میں جو جادو تھا، اس نے بڑے بڑے لوگوں کے دماغ خراب کررکھے تھے۔ سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا کہ قدومی مارکونی کے ساتھ صحرا میں چلی جائے گی۔ مارکونی اس کے بغیر جانے پر راضی نہیں ہورہا تھا۔ احمر درویش کو آخر یہ وعدہ کرنا پڑا کہ وہ قدومی کو اس کے ساتھ بھیج دے گا۔

اسی روز پچاس آدمیوں کی تلاش شروع ہوگئی۔ قاہرہ میں صلیبی جاسوسوں اور تخریب کاروں کی کمی نہیں تھی۔ مارکونی زیادہ تر آدمی انہی میں سے اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا کیونکہ وہ اس کے اعتماد کے آدمی تھے۔ احمر بھی اسی گروہ کے آدمیوں کا انتخاب کرنا چاہتا تھا۔ سلطان ایوبی کے اس جرنیل نے اپنا ایک تخریب کار گروہ تیار کررکھا تھا۔ یہ سب مسلمان تھے۔ ان کے اغراض ومقاصد صلیبیوں والے تھے۔ احمر درویش نے اپنا ایمان نیلام کرکے ان چند ایک مسلمانوں کو بھی ایمان فروش بنا دیا تھا۔ یہ سب صلاح الدین ایوبی کے دشمن بن گئے تھے اور ان کا اٹھنا بیٹھنا حسن بن صباح کے فدائیوں کے ساتھ شروع ہوگیا تھا۔

قدومی کے پاس مارکونی خود احمر درویش کا پیغام لے کر گیا۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا، وہ فوجی حاکم تھا اور مصر پر عملاً فوج کی حکومت تھی۔ ویسے بھی قدومی احمر کے زیراثر تھی۔ اس نے بادل نخواستہ ہاں کردی لیکن مارکونی نے اسے یہ بتا کر کہ وہ فرعون کے مدفن میں سے ہیرے جواہرات نکالنے جارہا ہے، قدومی پر ایسا نشہ طاری کردیا کہ وہ فوراً روانہ ہونے کو تیار ہوگئی۔ مارکونی منجھا ہوا چالاک اور ہوشیار آدمی تھا۔ اس نے قدومی کو ملکہ قلوپطرہ بنا دیا۔ قدومی ایک رقاصہ تھی جس کے کوئی جذبات نہیں تھے۔ اسے اپنے جسم، اپنے حسن، اپنے فن اور زروجواہرات سے پیار تھا۔ وہ ان عورتوں میں سے تھی جو اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتی ہیں کہ ان کے حسن وجوانی کو کبھی زوال نہیں آئے گا۔ مارکونی نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ فرعون کے مدفن سے برآمد ہونے والا خزانہ کہاں اور کیوں صرف کیا جائے گا۔

پچاس آدمیوں کی تلاش میں پندرہ بیس دن لگ گئے۔ ان میں زیادہ تعداد صلیبی تخریب کاروں کی تھی۔ باقی مسلمان تھے۔ وہ بھی صلیبیوں کے ہی تخریب کار تھے۔ سب اونٹوں پر سوار ہوکر قاہرہ سے نکل گئے تھے لیکن وہ اکٹھے روانہ نہ ہوئے۔ تین تین چار چار کی ٹولیوں میں مسافروں اور تاجروں کے روپ میں نکلے۔ قدومی کو ایک پردہ دار بیوی کے بہروپ میں لے جایا گیا۔ مارکونی اس کا خاوند بنا، ان دونوں کے ساتھ دو آدمی تھے۔ ایک صلیبی تھا اور دوسرا مسلمان جس کا نام اسماعیل تھا۔ یہ احمر کے خاص آدمیوں میں سے تھا۔ اپنی ضرورت پر اور کرائے پر بھی ہر جرم کر گزرتا تھا۔ کرائے کے قاتلوں میں سے بھی تھا۔ معاشرے میں اس کی کوئی حیثیت اور عزت نہیں تھی لیکن حیثیت والے لوگ اسے سلام کرتے تھے۔ مارکونی بھی اسے اچھی طرح جانتا تھا اور اس مہم میں اسے قابل اعتماد سمجھتا تھا۔ یہ سب الگ الگ راستوں سے روانہ ہوئے تھے۔ انہیں اٹھارہ کوس دور وہ جگہ بتا دی گئی تھی جہاں انہیں اکٹھا ہونا تھا۔ ان کے پاس تیروکمان اور تلواریں تھیں۔

رسے اور کھدائی کا سامان تھا۔

سب سے پہلے مارکونی، اسماعیل، قدومی اور ان کا ایک صلیبی ساتھی وہاں پہنچے تھے۔ مارکونی انہیں اس پہاڑی علاقے کے اندر لے گیا تھا۔ سورج غروب ہوچکا تھا اور انہوں نے خیمے لگا لیے تھے۔ اسی رات ان کے ساتھیوں کو پہنچ جانا تھا۔ اسماعیل قدومی کو جانتا تھا۔ قدومی اس سے واقف نہیں تھی۔

٭ ٭ ٭

رونے کی آوازیں بدستور آرہی تھیں اور ان کے تیسرے ساتھی کی چیخوں کی گونج اس طرح بھٹک رہی تھی جیسے اوپر جاکر ان کے اوپر منڈلا رہی ہو… دیوار کچھ چوڑی ہوگئی۔ مارکونی نے گھوم کر اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑا اور اسے اوپر کرلیا۔ آگے وہ ذرا اطمینان سے چل سکتے تھے لیکن ہوا کے جھونکے اتنے تیز تھے کہ ان کے لیے توازن قائم رکھنا ذرا مشکل تھا۔ وہ آہستہ آہستہ بڑھتے گئے اور دیوار ختم ہوگئی۔ آگے زمین اور پہاڑیاں کچھ سخت تھیں۔ دو چٹانوں کے درمیان تنگ سا راستہ تھا۔ وہ اس میں داخل ہوگئے۔ مارکونی کے ساتھی نے اس سے پوچھا… ”جیفرے مرچکا ہوگا؟ اسے بچایا یا دیکھا نہیں جاسکتا؟”

مارکونی نے اس کی طرف دیکھا۔ آہ بھری اور نفی میں سرہلایا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے کچھ کہے بغیر اپنے ساتھی کے کندھے پر تھپکی دی اور آگے چل پڑا۔ یہ بھی ایک گلی سی تھی جو فراخ ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نے اپنے ساتھی سے کہا… ”ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم جہاں جاتے ہیں وہاں ایک ہی راستہ ملتا ہے۔ ایک سے زیادہ راستے ہوں تو بھٹک جانے کا خطرہ ہوتا ہے”۔

یہ گلی ختم ہوگئی۔ آگے جگہ کشادہ ہوتے ہوتے بہت ہی کھل گئی اور زمین اوپر کو اٹھتی گئی۔ ہوا ابھی تک تیز تھی۔ مارکونی کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ اس ہیبت ناک علاقے میں کتنی دور اور اندر پہنچ گیا ہے۔ اسے صرف یہ احساس رہ گیا تھا کہ دنیا سے اس کا رشتہ منقطع ہوچکا ہے۔ وہ صلیب کے نام پر دیوانہ ہوا جارہا تھا۔ فرعون کا مدفن تلاش کرنے کا مقصد اس کے سامنے یہی تھا کہ اس سے نکلے ہوئے خزانوں سے مسلمانوں کو خرید کر انہیں سلطنت اسلامیہ کے ہی خلاف استعمال کیا جائے گا اور دنیا میں صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ وہ اپنے ڈرے ہوئے ساتھی کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ ہوا اسی طرف سے آرہی تھی، پہاڑوں کی چوٹیاں دائیں بائیں کوہٹ گئی تھیں اور سامنے آسمان نظر آرہا تھا۔ مارکونی چڑھائی چڑھ رہا تھا، وہ رک گیا اور ہوا کو سونگھ کر بولا… ”تم بھی سونگھو، ہوا میں جو بو ہے وہ صحرا کی نہیں”۔

”تمہارا دماغ جواب دے رہا ہے”۔ اس کے ساتھی نے کہا… ”صحرا میں صحرا کی بو نہیں ہے تو اور کس کی ہے؟ تم اطالوی ہو شاید؟ شاید تمہیں اپنے گھر کی بو آرہی ہے”۔

مارکونی کے چہرے پر کچھ اور تاثر تھا، وہ ہوا کو سونگھ رہا تھا۔ اس نے اپنے ساتھی سے کہا… ”تم شاید ٹھیک کہتے ہو، میرے دماغ پر صحرا کی صعوبت کا اثر ہوگیا ہے۔ یہاں پانی نہیں ہوسکتا۔ میں شاید خیالوں میں کھجوروں، سبزے اور پانی کی بو سونگھ رہا ہوں۔ میں اس بو سے اچھی طرح واقف ہوں۔ یہ میرا تجربہ ہے مگر میرے سونگھنے کی حس مجھے دھوکہ دے رہی ہے۔ اس جہنم میں پانی کی بوند بھی نہیں ہوسکتی”۔

”مارکونی!” اس کے ساتھی نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روک لیا اور کہا… ”میں بھی ایک بو سونگھ رہا ہوں، موت کی بو۔ مجھے موت اپنی طرف بڑھتی ہوئی محسوس ہورہی ہے۔ آئو دوست! جدھر سے آئے ہیں، ادھر ہی لوٹ چلیں اگر تم سمجھتے ہو کہ میں بزدل ہوں تو مجھے میدان جنگ میں بھیج دو۔ ایک سو مسلمانوں کو کاٹنے سے پہلے نہیں مروں گا”۔

Read More:  Mohabbat aur ibadat Novel by Chanda Ali – Last Episode 3

مارکونی زیادہ باتیں کرنے والا آدمی نہیں تھا۔ اس نے اپنے ساتھی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا… ”ہم ایک سو نہیں، ایک ہزار مسلمانوں کو کاٹیں گے اور مریں گے نہیں۔ میرے ساتھ آئو”۔

وہ ساتھی کو لے کر چڑھائی چڑھنے لگا۔ چڑھائی زیادہ اونچی نہیں تھی، زمین آہستہ آہستہ اوپر اٹھ رہی تھی۔ سورج آگے نکل گیا تھا۔ سائے لمبے ہوتے جارہے تھے، ان دونوں کو تھکن نے چور کردیا تھا… وہ آگے کو جھکے ہوئے بڑھتے گئے اور اوپر اٹھی ہوئی انتہائی بلندی تک پہنچ گئے۔ ریت نے اس کی آنکھیں بھر دی تھیں۔ مارکونی نے آنکھیں مل کر دیکھا۔ آگے ڈھلان تھی اور چھوٹی چھوٹی ٹیکریاں۔ وہ ایک نیکری پر چڑھ گیا۔ اس نے اپنے ساتھی کو آواز دی اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا… ”تم اگر ریگستان سے اچھی طرح واقف ہو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ سراب نظر آیا کرتے ہیں۔ سامنے دیکھو اور بتائو کہ یہ سراب تو نہیں؟”

اس کے ساتھی نے دیکھا، آنکھیں بند کیں، کھولیں اور غور سے دیکھا۔ اس نے کہا… ”یہ سراب نہیں ہوسکتا”۔ وہ واقعی سراب نہیں تھا۔ انہیں کھجوروں کے کئی ایک درختوں کی چوٹیاں نظر آرہی تھیں۔ پتے ہرے تھے۔ درخت نشیبی جگہ میں معلوم ہوتے تھے اورکچھ دور بھی تھے۔ مارکونی ٹیکری سے آگے چلا گیا۔ وہ اب دوڑ رہا تھا، اس کا ساتھی اس کے پیچھے پیچھے جارہا تھا، وہاں عجیب وغریب شکلوں کی ٹیکریاں تھیں۔ بعض ایسی جیسے کوئی انسان گھنٹوں میں سردے کر بیٹھا ہو۔ کچھ بڑی تھیں، کچھ چھوٹی۔ مارکونی ان میں سے راستہ تلاش کرتا دوڑتا جارہا تھا۔ سورج پہاڑیوں کی چوٹیوں کے قریب چلا گیا۔ مارکونی کا سانس پھولنے لگا۔ اس کا ساتھی قدم گھسیٹتا جارہا تھا۔ مارکونی اچانک رک گیا اور آہستہ آہستہ یوں پیچھے ہٹنے لگا جیسے اس نے کوئی ڈرائونی چیز دیکھ لی ہو۔ اس کا ساتھی اس سے جاملا اور حیرت سے اسے دیکھنے لگا۔

٭ ٭ ٭

ان دونوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ انہیں ایک نشیب نظر آرہا تھا۔ یہ کم وبیش ایک میل وسیع اور عریض تھا۔ اس کے اردگرد مٹی اور ریت کی اونچی اونچی قدرتی دیواریں تھیں۔ گہرائی کا یہ علاقہ سرسبزتھا۔ کچھ اونچا نیچا بھی تھا، وہاں کھجوروں کے بہت سے درخت تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہاں پانی کی بہتات تھی۔ ایسے جہنم میں ایسا سرسبز گوشہ فریب نگاہ نہیں تھا۔ وہ اسی خطے کی بو تھی جو مارکونی نے سونگھی تھی۔ مارکونی کو اس جگہ سے کچھ آگے ایسی پہاڑیاں نظر آرہی تھیں جو ریت اور مٹی کی نہیں بلکہ پتھروں اور پتھریلی سلوں کی تھیں۔ ان کا رنگ سیاہی مائل تھا۔ اس جہنمی خطے کے باہر سے یہ پہاڑیاں نظر نہیں آتی تھیں اور اس سرسبز جگہ کا تو کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔

مارکونی نے تیزی سے بیٹھ کر اپنے ساتھی کو بھی بازو سے پکڑ کر بٹھا دیا۔ انہیں ایک اور عجیب وغریب چیز نظر آگئی تھی۔ یہ دو انسان تھے جو نشیب میں اسی طرف آرہے تھے۔ وہ سر سے پائوں تک ننگے تھے، ان کے رنگ گہرے بادامی اور ان کے چہرے اچھے خاصے تھے۔ کہیں سے ایک عورت نکلی۔ وہ کسی اور طرف جارہی تھی، وہ بھی سر سے پائوں تک ننگی تھی۔ اس کے بال بکھرے ہوئے اور کمر تک لمبے تھے۔ شکل وصورت سے یہ لوگ حبشی اور جنگی نہیں لگتے تھے۔

”یہ بدروحیں ہیں”۔ مارکونی کے ساتھی نے کہا… ”یہ انسان نہیں ہوسکتے۔ مارکونی! سورج غروب ہونے والا ہے، اٹھو، پیچھے کو بھاگ چلیں۔ رات کو یہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے”۔

مارکونی انہیں بدروحیں سمجھتے ہوئے بھی کہہ رہا تھا کہ یہ انسان ہوسکتے ہیں۔ وہ یقین کرنا چاہتا تھا کہ یہ کون لوگ ہیں۔ وہ ہوا میں اڑ نہیں رہے تھے، زمین پر چل رہے تھے۔ دور انہیں تین بچے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے دوڑتے نظر آئے۔ ان سب کی حرکتیں ایسی تھیں جن سے یقین ہوتا تھا کہ یہ انسان ہیں۔ مارکونی پیٹ کے بل سرکتا آگے چلا گیا۔ اس کا

ساتھی بھی اس کے پہلو میں جالیٹا۔ وہ جہاں لیٹ کر دیکھ رہے تھے، وہاں کی دیوار عمودی نہیں کچھ ڈھلانی تھی اور ریت زیادہ تھی۔ مارکونی کے ساتھی نے غالباً اور آگے ہونے کی کوشش کی یا جانے کیا ہوا، وہ نیچے کو سرک گیا اور لڑھکتا ہوا نیچے جاپڑا۔ وہاں سے اوپر آنا ممکن نہیں تھا۔ مارکونی پیچھے کو سرک کر ایک ایسی ٹیکری کی اوٹ میں ہوگیا جہاں سے وہ نیچے دیکھ سکتا تھا۔ یہ ڈھلان جہاں سے صلیبی گرا تھا، تیس چالیس گز اونچی ہوگی۔ مارکونی نے اپنے ساتھی کو اٹھتے دیکھا، وہ ڈھلان پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ مارکونی اس کی کوئی مدد نہیں کرسکتا تھا۔

وہ دو ننگے آدمی جو اسی طرف آرہے تھے، دوڑ پڑے۔ مارکونی نے انہیں اوپر سے دیکھ لیا۔ اس کے ساتھی نے نہ دیکھا، مارکونی اسے آواز نہیں دے سکتا تھا کیونکہ وہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہاں کوئی اور انسان بھی ہے۔ ان دو آدمیوں نے مارکونی کے ساتھی کو پیچھے سے دبوچ لیا۔ اس کے پاس خنجر تھا اور ایک چھوٹی تلوار بھی مگر ہتھیار نکالنے کا موقع نہ ملا۔ ان آدمیوں نے اسے نیچے گرالیا۔ وہ عورت جو کہیں جارہی تھی، دوڑتی آئی۔ ادھر سے بچے بھی آگئے۔ انہوں نے اپنی زبان میں کسی کو پکارا۔ معلوم نہیں کہاں سے دس بارہ آدمی سب ننگے تھے، دوڑتے آئے۔ ایک نے مارکونی کے ساتھی کی کمر سے تلوار نکال لی۔ اسے گرالیا گیا اور مارکونی نے دیکھا کہ تلوار سے اس کے ساتھی کی شہ رگ کاٹ دی۔ سب آدمی ناچنے لگے۔ وہ کچھ گا بھی رہے تھے اور ہنس بھی رہے تھے۔ اتنے میں ایک ضعیف العمر انسان آگیا۔ اس کے ہاتھ میں اپنے قد جتنا لمبا عصا تھا۔ اسے دیکھ کر سب ایک طرف ہٹ گئے۔

یہ بوڑھا بھی ننگا تھا۔ اس کے عصا کے اوپر والے سرے پر دو سانپوں کے پھن بنے ہوئے تھے۔ یہ فرعونوں کا امتیازی نشان ہوا کرتا تھا۔ بوڑھے نے مارکونی کے ساتھی کے جسم کو ہاتھ لگایا۔ وہ اب تڑپ نہیں رہا تھا، مرچکا تھا۔ بوڑھے نے ایک ہاتھ ہوا میں بلند کیا اور آسمان کی طرف دیکھ کر کچھ کہا۔ تمام ننگے انسان جن میں چند ایک عورتیں بھی تھیں اور بچے بھی، سجدے میں گر پڑے۔ بوڑھا ابھی تک کچھ بول رہا تھا۔ اس نے ہاتھ پھر اوپر کیا اور سب سجدے سے سراٹھا کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ بوڑھے کو ڈھلان کی طرف اشارے کرکے بتایا جارہا تھا کہ یہ آدمی ادھر سے نیچے آیا ہے۔ بوڑھے کے اشارے پر وہ لوگ مارکونی کے ساتھی کی لاش کو اٹھا لے گئے۔ مارکونی کو یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ یہ پراسرار انسان اوپر آکر ہر طرف دیکھیں گے کہ نیچے گرنے والے کے ساتھی بھی اوپر ہوں گے وہ کچھ دیر وہیں سے نیچے دیکھتا رہا۔

پھر سورج غروب ہوگیا۔ مارکونی نے موت کو قبول کرلیا اور فیصلہ کرلیا کہ وہ اس جگہ اور ان لوگوں کے بھید کو پانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے ایک ہاتھ میں خنجر اور دوسرے ہاتھ میں چھوٹی تلوار لے لی اور ادھر ادھر دیکھتا ایک اور سمت چل پڑا۔ شام اندھیری ہوتی جارہی تھی۔ وہ اوپر ہی اوپر سے اس طرف جارہا تھا جس طرف وہ اس کے ساتھی کو لے گئے تھے۔ وہاں کوئی آہٹ اور کوئی آواز نہیں تھی۔ ڈرائونا ساسکوت تھا۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتا آگے ہی آگے چلتا گیا۔ وہ نشیب کی گولائی کے ساتھ ساتھ جارہا تھا۔ اسے دھیمی دھیمی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ جب یہ آوازیں بلند ہوگئیں تو یہ ناچنے اور گانے کا ترنم اور ہنگامہ تھا۔ وہ ان آوازوں کی سمت گیا تو اسے ایک اور منظر نظر آیا۔ بائیں طرف ایک اور وسیع نشیبی جگہ تھی۔ کئی مشعلیں جل رہی تھیں، وہاں بھی سبزہ تھا، جہاں کم وبیش پچیس مرد، عورتیں اور بچے آہستہ آہستہ ناچ اور گا رہے تھے۔ ان کے درمیان بہت سی آگ جل رہی تھی۔ اس کے ذرا اوپر ایک انسانی لاش سر اور پائوں سے باندھ کر زمین کے متوازی لٹکائی ہوئی تھی۔ اسے گھمایا جارہا تھا۔ یہ مارکونی کا ساتھی تھا جسے بھونا جارہا تھا۔ مارکونی یہ ہولناک منظر دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ بوڑھے نے اس کے ساتھی کے جسم سے گوشت کاٹ کر سب میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔

مارکونی کے دل پر ایسا گہرا اثر ہوا کہ وہاں سے ادھر کو واپس چل پڑا، جدھر سے آیا تھا۔ اسے راستہ یاد تھا۔ وہ چوکنا ہوکر چلا جارہا تھا۔ وہ اس دیوار پر پہنچا جو تصوروں سے زیادہ گہرے نشیب میں کھڑی تھی۔ یہیں اس کا ایک ساتھی گرا تھا۔ وہ جب دیوار کے درمیان اس جگہ پہنچا جہاں سے اس کا ساتھی گرا تھا، اسے دور نیچے غرانے اور بھونکنے کی دبی دبی آوازیں سنائی دیں۔ وہ سمجھ گیا کہ صحرائی لومڑیاں اس کے ساتھی کو کھا رہی ہیں۔ اس کے دوسرے ساتھی کو تو انسان کھا گئے تھے۔ اب ہوا تیز نہیں تھی۔ وہ تاریکی میں سنبھل سنبھل کر چلتا اور سرکتا دیوار سے گزر گیا… رات کے پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچا، جہاں تین اونٹ بیٹھے تھے۔ اس نے اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اونٹوں کے ساتھ بندھا ہوا پانی پی لیتا۔ وہ ایک اونٹ پر بیٹھا۔ دو اونٹوں کو ساتھ لیا اور چل پڑا۔

وہ تاریکی میں سنبھل سنبھل کر چلتا اور سرکتا دیوار سے گزر گیا… رات کے پچھلے پہر وہ اس جگہ پہنچا، جہاں تین اونٹ بیٹھے تھے۔ اس نے اتنا بھی انتظار نہ کیا کہ اونٹوں کے ساتھ بندھا ہوا پانی پی لیتا۔ وہ ایک اونٹ پر بیٹھا۔ دو اونٹوں کو ساتھ لیا اور چل پڑا۔

٭ ٭ ٭

وہ اگلے دن کی شام تھی جب مارکونی ایک معزز مصری سودا گر کے روپ میں احمر درویش کے گھر میں داخل ہوا۔ احمر نے اسے دیکھتے ہی پوچھا… ”تم اکیلے ہو، وہ دونوں کہاں ہیں؟”

مارکونی جواب دینے کے بجائے بیٹھ گیا۔ اس کے تو ہوش ہی ٹھکانے معلوم نہیں ہوتے تھے۔ اس نے احمر کو اپنے سامنے بٹھا لیا اور اسے ایک ایک لمحے لمحے اور ایک ایک قدم کی روئیداد سنائی۔ احمر کو مارکونی کے دو ساتھیوں کے مرنے کا ذرہ بھر افسوس نہ ہوا۔ اس نے جب سنا کہ ایک ساتھی کو ننگے آدم خوروں نے کھا لیا ہے تو اس نے خوشی سے اچھل کر پوچھا… ”کیا تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا کہ ان میں سے کسی کے بھی جسم پر کپڑا نہیں تھا؟… بوڑھے کے عصا پر دو سانپوں کے پھن تم نے دیکھے تھے؟… تم نے اچھی طرح دیکھا تھا کہ ان لوگوں نے ہمارے آدمی کا گوشت کھالیا تھا؟”

”میں خواب کی باتیں نہیں سنا رہا”۔ مارکونی نے جھنجھلا کر کہا… ”مجھ پر جو بیتی ہے، میں وہ سنا رہا ہوں۔ میں نے یہ اپنی آنکھوں دیکھا ہے جو سنا رہا ہوں”۔

”فرعون بھی یہی سنا رہے ہیں جو تم نے سنایا ہے”۔ احمر درویش نے اٹھ کر مارکونی کے کندھوں پر ہاتھ رکھا اور اسے مسرت کی شدت سے جھنجھوڑتے ہوئے کہا… ”تم نے بھید پالیا ہے۔ مارکونی! یہی ہیں وہ لوگ جن کی مجھے تلاش تھی۔ یہ قبیلہ سولہ صدیوں سے وہاں آباد ہے۔ یہ لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ زمانہ انہیں انسان کا گوشت کھانے پر مجبور کردے گا۔ تم یہ تحریریں نہیں پڑھ سکتے۔ میں نے پڑھ لی ہیں۔ لکھا ہے کہ خزانوں کی حفاظت سانپ کیا کرتے ہیں لیکن میرے مدفن کی حفاظت انسان کریں گے جو صدیوں بعد سانپ اور درندے بن جائیں گے۔ میرے مدفن کی حدود میں کوئی انسان داخل ہوگا اسے میرے محافظ کھاجایا کریں گے۔ وقت اور زمانہ انہیں ننگا کردے گا لیکن میں نے جہاں اپنا دوسری دنیا کا گھر بنایا ہے وہ جگہ اس کی ستر پوشی کرے گی۔ باہر کا کوئی مردان کی عورت پر نظر نہیں ڈال سکے گا جو نظر ڈالے گا وہ وہاں سے زندہ نہیں جاسکے گا”۔

”میں زندہ واپس آگیا ہوں”۔ مارکونی نے کہا۔

”اس لیے کہ تم نیچے نہیں گئے”۔ احمر نے کہا… ”تم نے جن سیاہ رنگ کے پتھریلے پہاڑوں کا ذکر کیا ہے، وہ پہاڑ اپنے دامن میں کہیں ریمینس کی حنوط کی ہوئی لاش اور خزانے چھپائے ہوئے ہیں… اور یہ ننگے لوگ؟… ان کے آبائو اجداد اور ریمنس کے وقت سے وہاں پہرہ دے رہے ہیں۔ وہ مرتے رہے، ان کی نسل آگے بڑھتی رہی اور پندرہ سولہ صدیاں گزر گئیں۔ میں بتا نہیں سکتا کہ وہ زندہ کس طرح رہتے ہیں۔ شاید درندوں کی طرح صحرا کے مسافروں کے شکار میں رہتے اور

انہیں بھون کر کھالیتے ہیں، وہاں پانی کی افراط ہے۔ کھجوروں کی کمی نہیں۔ ان کا زندہ رہنا حیران کن نہیں، وہ آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہیں اگر ان کے عقیدے ٹوٹ چکے ہوتے تو وہ وہاں نہ ہوتے… تم نے ان کے پاس کوئی ہتھیار دیکھے تھے؟”

”نہیں!”۔

”ان کی تعداد کا کچھ اندازہ”۔

”رات کو جب اکٹھے تھے تو پچیس تھے”۔

”وہ اس سے زیادہ ہو بھی نہیں سکتے”۔ احمر درویش نے کہا۔

”ہاں!” مارکونی نے کہا… ”میں نے ان کے پاس دو اونٹ بھی دیکھے تھے۔ اونٹ زیادہ بھی ہوسکتے ہیں مگر میں نے صرف دو دیکھے تھے”۔

”پھر وہ باہر آتے ہوں گے”۔ احمر درویش نے کہا… ”وہ باہر ضرور آتے ہوں گے۔ مسافروں کو پکڑنے کے لیے انہیں باہر آنا ہی پڑتا ہوں… سنو مارکونی! غور سے سنو۔ وہاں کوئی ایسا سیدھا راستہ ضرور ہے جس سے وہ باہر آتے اور اندر جاتے ہوں گے۔ یہ پہاڑوں کا کوئی خفیہ راستہ ہوگا۔ میں نے تمہیں جو راستہ بتایا تھا۔ وہ آنے جانے کا ایسا راستہ نہیں جس سے بار بار آیا جایا جاسکے۔ وہاں کوئی اور راستہ ہے جو ان ننگے آدم خوروں سے معلوم کیا جاسکتا ہے۔ میں اس کی ترکیب سوچ چکا ہوں۔ ترکیب یہ ہے کہ وہاں باقاعدہ حملہ کیا جائے۔ ہوسکتا ہے ہمیں اس دیوار نما ٹیلے سے جس سے تمہارے ایک ساتھی گر کر مرا ہے اور آدمی گرا کر مارنے پڑیں لیکن یہ قربانی ضروری ہے۔ بتائو پچیس تیس نہتے آدمیوں کو جن میں بچے اور عورتیں بھی ہیں مارنے کے لیے اور ان میں دو تین کو زندہ پکڑنے کے لیے تمہیں کتنے آدمی درکار ہیں؟ کم سے کم بتائو۔ تم ان آدمیوں کے رہنما اور سربراہ ہوگے”۔

”میں ترکیب سمجھ گیا ہوں”۔ مارکونی نے کہا… ”ایک ترکیب میرے دماغ میں بھی آئی ہے۔ ہم انہیں قتل کرسکتے ہیں۔ دو تین کو زندہ پکڑ سکتے ہیں لیکن میں آپ کو یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ وہ اس جگہ کے تمام بھید ہمیں بتا دیں گے۔ اپنے قبیلے کو مرتا دیکھ کر وہ بھی مرنے کے لیے تیار ہوجائیں گے لیکن بتائیں گے کچھ نہیں۔ میں ایسی ترکیب کروں گا کہ ان میں سے ایک دو آدمی باہر کو بھاگ اٹھیں اور ان کا تعاقب کیا جائے۔ راستہ معلوم ہوجائے گا”۔

”تم دانشمند ہو مارکونی!” … احمر درویش نے کہا… ”بتائو کتنے آدمی ہوں؟”

”پچاس!” مارکونی نے جواب دیا اور کہا… ”زیادہ تر آدمی میرے منتخب کیے ہوئے ہوں گے۔ میں انہیں تلاش کرلوں گا مگر مہم کے آغاز سے پہلے میں اپنی شرطیں پیش کرنا چاہتا ہوں”۔

”تمہیں منہ مانگا انعام ملے گا”۔ احمر نے کہا۔

”مجھے خزانے سے حصہ ملنا چاہیے”۔ مارکونی نے کہا… ”اتنی خطرناک مہم میرے فرائض میں شامل نہیں۔ میں جاسوس اور تخریب کار ہوں۔ مجھے خزانے کی تلاش کے لیے نہیں بھیجا گیا۔ یہ آپ کی ذاتی مہم ہے۔ میں انعام نہیں منہ مانگا حصہ لوں گا۔ اگر آپ کا منصوبہ کامیاب ہوگیا تو آپ کو ایک ریاست کی حکمرانی مل جائے گی۔ میں جاسوس کا جاسوس رہوں گا”۔

”یہ مہم اور یہ منصوبہ ذاتی نہیں”۔ احمر درویش نے کہا… ”یہ مصر، صلیب اور سوڈان کی حکمرانی کا منصوبہ ہے”۔

مارکونی اپنے مطالبہ پر قائم رہا۔ احمر مجبور ہوگیا۔ اسے احساس تھا کہ مارکونی کے سوا ریمینس کے مدفن تک کوئی اور نہیں پہنچ سکتا۔ اس کے مطالبے ماننے کے سوا کوئی چارہ کار نہ تھا۔ مارکونی نے کہا… ”معلوم نہیں مجھے کتنے دن صحرا میں

رہنا پڑے۔ میں ایسی سخت اور خشک خوراک پسند نہیں کروں گا۔ مجھے دو تین اونٹ فالتو دئیے جائیں جو میں اور میرے ساتھی بھون کر کھا سکیں اور مجھے قدومی دی جائے”۔

”قدومی؟” احمر درویش نے حیرت سے کہا… ”اتنی نازک اور ایسی اعلیٰ درجے کی رقاصہ کو تمہارے ساتھ ایسی خطرناک مہم میں روانہ کردوں؟ وہ جانے پر بھی راضی نہیں ہوگی”۔

”اسے زیادہ معاوضہ پیش کریں، وہ راضی ہوجائے گی”۔ مارکونی نے کہا… ”میں اس کے لیے ایسا انتظام کروں گا کہ وہ محسوس ہی نہیں کرسکے گی کہ وہ صحرا میں ہے اور کسی خطرناک مہم میں شریک ہے۔ میں اس کی قدروقیمت سے واقف ہوں”۔

یہ اس دور کا واقعہ ہے جب دولت مند تاجر اپنی چہیتی بیویوں کو سفر میں اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ اپنی بیویوں میں سے کوئی پسند نہ ہوتو کسی من پسند طوائف یا رقاصہ کو منہ مانگا معاوضہ دے کرہمسفر بنا لیتے تھے۔ فوجوں کے کمانڈر بھی جنگ کے دوران اپنی بیویوں یا کرائے کی خوبصورت عورتوں کو ساتھ رکھا کرتے تھے۔ اس دور میں خوبصورت اور جوان عورت کوسونے سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں اور یہودیوں نے سلطنت اسلامی کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے عورت کا استعمال کیا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: