Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 15

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 15

–**–**–

اچانک گرم ہوا کہ جھونکے تیز ہونے لگے، ریت اڑنے لگی اور اس کے ساتھ عورتوں کے رونے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ دو یا تین عورتیں اونچی آواز میں رو رہی تھیں۔ مارکونی کے ساتھی گھبرا گئے۔ مارکونی نے کان کھڑے کیے۔ ایک ساتھی نے کہا… ”اس دوزخ میں کوئی عورت زندہ نہیں ہوسکتی۔ یہ بدروحیں ہیں”۔

”یہ کچھ بھی نہیں ہے”… مارکونی نے کہا… ”بدروحیں بھی نہیں، زندہ عورتیں بھی نہیں۔ یہ ہوا کی پیدا کی ہوئی آوازیں ہیں۔ اس علاقے میں بعض ٹیلوں میں لمبے لمبے سوراخ ہیں جو دونوں طرف کھلتے ہیں اور بعض چٹانوں کی شکل ایسی ہے کہ ان سے تیز ہوا کے جھونکے گزرتے ہیں تو اس قسم کی آوازیں پیدا ہوتی ہیں جو تم سن رہے ہو۔ نیچے اتنی گہری اور اتنی وسیع کھائی ہے اس پر یہ ننگے پہاڑ کھڑے ہیں۔ یہ آوازوں میں گونج پیدا کرتے ہیں۔ یہ گونج ہر طرف بھٹکتی رہتی ہے، ڈرو نہیں”۔

مگر اس کے ساتھیوں پر ایسا خوف طاری ہوگیا تھا جس پر وہ قابو نہیں پاسکتے تھے۔ یہ آوازیں ہوا کی نہیں تھیں۔ قریب ہی کہیں عورتیں یا بدروحیں رو رہی تھیں۔ انہوں نے مارکونی کا پیش کیا ہوا فلسفہ تسلیم نہ کیا۔ آوازیں ہی ایسی تھیں۔ ہوا تیز ہوتی جارہی تھی۔ ٹیلوں سے اور زمین سے ریت کے ہلکے ہلکے بادل اڑنے لگے تھے جن سے اب زیادہ دور تک نظر نہیں آسکتا تھا۔ مارکونی نے اس قدرتی دیوار پر پہلا قدم رکھا جو اس بھیانک نشیب میں کھڑی تھی۔ وہاں جگہ اتنی کچی تھی کہ ریت اور مٹی میں پائوں دھنس گیا۔ اس نے دوسرا پائوں آگے رکھا اور نیچے دیکھا۔ گہرائی دیکھ کر وہ سر سے پائوں تک کانپ گیا۔ اب اس گہرائی کی تہہ بالکل ہی نظر نہیں آتی تھی کیونکہ ریت اڑ رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس کی تہہ ہے ہی نہیں۔ مارکونی چند قدم آگے چلا گیا۔ وہاں اس کے دائیں یا بائیں کوئی ٹیلا نہیں تھا۔ وہ تو جیسے ہوا میں کھڑا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکوں نے اس کے جسم کو دھکیل دھکیل کر اس کا توازن بگاڑ دیا۔ رونے کی آوازیں اور بلند ہوگئیں۔

اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا… ”آرام آرام سے پائوں جماتے آئو۔ نیچے بالکل نہ دیکھنا۔ یہ تصور کرتے آنا کہ تم زمین پر چل رہے ہو”۔

اس کے دونوں ساتھیوں پر پہلے ہی خوف طاری تھا۔ دیوار پر تین چار قدم آگے گئے تو ہوا کی تندی نے ان کے پائوں اکھاڑ دئیے۔ ان کے جسم ڈولنے لگے۔ مارکونی ان کی حوصلہ افزائی کررہا تھا اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا۔ وہ وسط میں پہنچ گئے اور وہاں مارکنی نے دیکھا کہ دیوار ٹوٹی ہوئی ہے اور ذرا نیچے چلی گئی ہے۔ وہاں چوڑائی اتنی کم تھی کہ کھڑے ہوکر چلا نہیں جاسکتا تھا۔ مارکونی بیٹھ گیا اور گھوڑے کی سواری کی پوزیشن میں ٹانگیں ادھر ادھر کرکے آگے کو سرکنے لگا۔ دیوار کی چوڑائی کم اور گول ہوتی جارہی تھی۔ مارکونی نیچے کو سرک گیا۔ اس کے پیچھے اس کا ایک ساتھی بھی آگے چلا گیا۔ اچانک تیسرے ساتھی کی بے حد گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… ”مارکونی مجھے پکڑنا”… مگر اس تک کوئی نہ پہنچ سکا۔ وہ ایک طرف لڑھک گیا تھا۔ کوئی سہارا نہ ہونے کی وجہ سے وہ گر پڑا۔ اس کی چیخیں سنائی دیتی رہیں جو دور ہی دور ہوتی گئیں۔ پھر دھمک کی آواز آئی، چیخیں بند ہوگئیں۔ انجام ظاہر تھا۔ مارکونی نے نیچے دیکھا۔ کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ گر کر مرنے والے کی چیخوں کی گونج ابھی تک اس دہشت ناک ویرانے میں بھٹک رہی تھی۔

”مجھے اپنے ساتھ رکھو مارکونی!”… دوسرے ساتھی نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی… ”میں ایسی موت نہیں مرنا چاہتا”۔

مارکونی نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور آگے بڑھنے لگا۔ دیوار اوپر اٹھ رہی تھی۔ مارکونی بیٹھے بیٹھے آگے بڑھتا گیا۔

کچھ بھی نظر نہیں آتا تھا۔ گر کر مرنے والے کی چیخوں کی گونج ابھی تک اس دہشت ناک ویرانے میں بھٹک رہی تھی۔

”مجھے اپنے ساتھ رکھو مارکونی!”… دوسرے ساتھی نے کہا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی… ”میں ایسی موت نہیں مرنا چاہتا”۔

مارکونی نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور آگے بڑھنے لگا۔ دیوار اوپر اٹھ رہی تھی۔ مارکونی بیٹھے بیٹھے آگے بڑھتا گیا۔

٭ ٭ ٭

ایک وہ محاذ تھا جس پر نورالدین زنگی لڑ رہا تھا۔ اس نے کرک کا قلعہ فتح کرکے وہاں کے اور مضافات کے علاقوں میں انتظامات مکمل کرلیے تھے۔ اس کے گشتی دستے دور دور تک گشت کرتے تھے تاکہ صلیبی کسی طرف سے جوابی حملے کے لیے آئیں تو قبل از وقت اطلاع مل جائے۔ ان دستوں کا تصادم صلیبی دستوں سے ہوتا رہتا تھا۔ زنگی تمام انتظامات سلطان ایوبی کی فوج کے حوالے کرکے بغداد واپس جانے کی تیاریاں کرنا چاہتا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے انتظار میں تھا مگر سلطان ایوبی دوسرے محافظ پر لڑ رہا تھا جو صلیبیوں اور ان کے پیدا کردہ غداروں نے مصر میں کھول رکھا تھا۔ یہ محاذ زیادہ خطرناک تھا۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز محاذ پر لڑنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ وہ خوب مقابلہ کررہا تھا مگر اسے ابھی پتا نہیں چلا تھا کہ ایک محاذ اور بھی کھل گیا ہے۔ یہ تھا ”فرعونوں کے مدفنوں کی تلاش”۔

شام کے کھانے کے بعد سلطان ایوبی اس کمرے میں گیا، جہاں وہ اپنے سالاروں اور دیگر حکام کو اکٹھا کرکے احکامات اور ہدایات دیا کرتا تھا۔ وہاں فوج کے اعلیٰ کمانڈروں کے علاوہ علی بن سفیان اور غیاث بلبیس بھی تھے۔ سلطان ایوبی کو اسی روز نورالدین زنگی کا ایک طویل تحریری پیغام ملا۔ اس نے اس پیغام کے ضروری حصے کمانڈروں کو سنائے۔ زنگی نے لکھا تھا… ”عزیز صلاح الدین اللہ تعالیٰ تمہیں زندہ سلامت رکھے۔ اسلام کو تمہاری بہت ضرورت ہے۔ کرک اور گردوپیش کے علاقے دشمن سے صاف ہوچکے ہیں۔ گشتی دستے جاتے ہیں تو صلیبیوں کا کوئی دستہ کبھی کبھی ہمارے کسی دستے سے الجھ پڑتا ہے۔ صلیبی مجھ پر یہ رعب ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ابھی یہیں ہیں۔ تمہارے تیار کیے ہوئے چھاپہ مار دستے تعریف کے قابل ہیں۔ یہ بہت دور تک چلے جاتے ہیں تم نے ان پر جو محنت کی ہے وہ اس کا صلہ دے رہے ہیں۔ تمہارے جاسوس ان سے بھی دلیر اور عقل مند ہیں۔ ان کی نظروں سے میں اتنی دور بیٹھا ہوا دشمن کی ہر ایک حرکت دیکھ رہا ہوں۔”

”تازہ اطلاع یہ ہے کہ صلیبی شاید جوابی حملہ نہ کریں۔ وہ ہمیں انگیخت کررہے ہیں کہ ہم آگے جاکر ان پر حملہ کریں۔ تم جانتے ہو کہ بیت المقدس جو ہماری منزل ہے اور قبلۂ اول جو ہمارا مقصود ہے کتنی دور ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تم

ان فاصلوں سے اور ان مسافتوں سے گھبرانے والے انسان نہیںہو لیکن فاصلے زیادہ نہیں، دشواریاں اور رکاوٹیں زیادہ ہیں۔ بیت المقدس تک ہمیں بہت سے قلعے سرکرنے ہوں گے۔ ان میں چند ایک قلعے تو بہت مضبوط ہیں۔ صلیبیوں نے قبلۂ اول کا دفاع دور دور کی قلعہ بندیوں کی صورت میں بہت مضبوط کررکھا ہے۔ جاسوسوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ صلیبی اس کوشش میں ہیں کو یونانیوں، بازنطینیوں اور اطالویوں کا بحری بیڑہ متحدہ ہوجائے اور مصر پر حملہ آور ہوکر شمالی علاقے میں فوجیں اتار دے۔ تمہیں اس صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ پیش بندی کرلو۔ تمہارے پاس دور مار آتشیں، گولے پھینکنے والی منجنیقیں زیادہ ہونی چاہئیں۔ میں یہ مشورہ دوں گا کہ شمالی علاقے کی زمین اجازت دے تو دشمن کے بحری بیڑے کو ساحل تک آنے دو۔ وہاں مزاحمت نہ کرو، دشمن کو اس خوش فہمی میں مبتلا کردو کہ اس نے تمہیں بے خبری میں آن دبوچا ہے۔ فوجیں اتر آئیں تو جہازوں پر آگ برسائو اور صلیبی فوج کو اپنی پسند کے میدان میں گھسیٹ لائو”…

میں تمہاری مجبوریوں سے بے خبر نہیں ہوں۔ تمہارے قاصد نے تمام حالات بتائے ہیں۔ رب کعبہ کی قسم، صلیبیوں کی ساری بادشاہیاں طوفان کی طرح آجائیں تو بھی امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔ امت لہو دینا جانتی ہے۔ یہ سرفروشوں کی امت ہے مگر ایمان فروشوں نے ہمی زنجیریں ڈال رکھی ہیں۔ تم قاہرہ میں قید ہوگئے ہو میں بغداد سے نہیں نکل سکتا۔ عورت، شراب اور زرودولت نے ہماری صفوں میں شگاف کرڈالے ہیں۔ اگر ہمارے گھر میں سکون اور اعتماد ہوتا تو ہم دونوں صلیب کا مقابلہ کرتے مگر کفار نے ایسا طلسم پیدا کیا ہے کہ مسلمان بھی کافر ہوگئے ہیں۔ یہ کافر مسلمان اتنے مردہ ہوچکے ہیں کہ یہ احساس بھی نہیں رکھتے کہ ان کا دشمن ان کی بیٹیوں کی عصمت سے کھیل رہا ہے۔ کرک کے مسلمان بہت بری حالت میں تھے۔ صلیبیوں نے ان پر جو مظالم ڈھائے، وہ سنو تو لہو کے آنسو روئو۔ میں اپنی قوم کے غداروں کو کیسے سمجھائوں کہ دشمن کی دوستی دشمنی سے زیادہ خطرناک ہے…

”تم نے افسوس کا اظہار کیا ہے کہ تمہارے اپنے بھائی اور اچھے اچھے حاکم اور کمان دار تمہارے ہاتھوں قتل ہو رہے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی! افسوس اس پر نہیں کہ وہ تمہارے ہاتھوں قتل ہوئے، افسوسناک امر یہ ہے کہ وہ غدار ہوئے اور یہ بھی افسوسناک ہے کہ صلیبی خوش ہورہے ہوں گے کہ وہ مسلمانوں کو مسلمان کے ہاتھوں قتل کرا رہے ہیں۔ تم غداروں کو بخش نہیں سکتے۔ غدار کی سزا قتل ہے… میں تمہار انتظار کررہا ہوں۔ تم جب آئو تو تمہارے ساتھ فوج زیادہ ہونی چاہیے۔ صلیبی تمہیں قلعہ بندیوں میں لڑا کر تمہاری طاقت زائل کرنا چاہتے ہیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیت المقدس کے راستے میں ہی تم بے دست پا ہوجائو۔ تم جب آئو تو مصر کے اندرونی حالات کو پوری طرح قابو میں کرکے آنا۔ سوڈانیوں کی طرف سے چوکنا رہنا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے سامنے کچھ مالی مسائل بھی ہیں۔ میں تمہاری مدد کرنے کی کوشش کروں گا۔ بہتر ہے کہ اپنے مسائل خود ہی حل کرنے کی کوشش بھی کرو کہ قاہرہ سے جدی نکل آئو لیکن اندر اور باہر کے حالات دیکھ کر وہاں سے نکلنا۔ اللہ تمہارا حامی ہے”۔

٭ ٭ ٭

صلاح الدین ایوبی نے مجلس کے حاضرین کو یہ پیغام پڑھ کر سنایا اور انہیں یہ امید افزا خبریں سنائیں کہ فوج میں شامل ہونے کے لیے دیہاتی علاقے سے لوگ آنے لگے ہیں۔ توہم پرستی کی جو مہم دشمن نے شروع کی تھی وہ ختم کردی گئی ہے لیکن کہیں کہیں اس کے اثرات باقی ہیں۔ ایک فتور مسجدوں سے بھی اٹھا تھا۔ اسے بھی دبا لیا گیا ہے۔ تین چار اماموں نے انہیں توہمات کو جو صلیبیوں نے ہمارے مذہب میں شامل کرنے کی کوشش کی تھی، لوگوں کے ذہنوں میں ڈالنا شروع کر

دیا تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خدا کا ایلچی بنا لیا تھا۔ ہمارے سامنے ایسے لوگ آئے ہیں جو کسی مصیبت کے وقت براہ راست خدا سے دعا مانگنے کے بجائے اماموں کو نذرانے دیتے رہے کہ وہ ان کے لیے دعا کریں۔ یہ وہم پھیلا دیا گیا تھا کہ عام آدمی خدا سے کچھ نہیں مانگ سکتا، نہ خدا اس کی سنتا ہے۔ سلطان ایوبی نے کہا…… ”میں نے ان اماموں کو مسجدوں سے نکال دیا ہے اور مسجدیں ایسے اماموں کے حوالے کردی ہیں جن کے نظریات اور عقیدے قرآن کے عین مطابق ہیں۔ وہ اب لوگوں کو یہ سبق دے رہے ہیں کہ مسلمان کا خدا عالم اور بے علم کے لیے، امیر اور غریب کے لیے، حاکم اور رعایا کے لیے ایک جیسا ہے۔ وہ ہر کسی کی دعا سنتا ہے۔ اچھے عمل کی جزا اور برے عمل کی سزا دیتا ہے۔ میں اپنی قوم میں یہی قوت اور یہی جذبہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اور خدا کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ میرے دوستو! تم نے دیکھ لیا ہے کہ تمہارا دشمن صرف میدان جنگ میں نہیں لڑ رہا۔ وہ تمہارے دلوں میں نئے عقیدے ڈال رہا ہے۔ یہودی اس مہم میں پیش پیش ہے۔ یہودی اب کبھی تمہارے آمنے سامنے آکر نہیں لڑے گا۔ وہ تمہارے ایمان کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس عمل میں اتنی جلدی کامیاب نہیں ہوسکتا لیکن وہ ناکام بھی نہیں ہوگا۔ وہ وقت آئے گا جب خدا کی دھتکاری ہوئی یہ قوم مسلمانوں کو کمزور دیکھ کر ایسی چال چلے گی کہ اپنے مقصد کو پالے گئی۔ اس کا خنجر سلطنت اسلامیہ کے سینے میں اتر جائے گا۔ اگر اپنی تاریخ کو اس ذلت سے بچانا چاہتے ہو تو آج ہی پیش بندی کرلو۔ اپنی قوم کے قریب جائو۔ اپنے آپ کو حاکم اور قوم کو محکوم سمجھنا چھوڑ دو۔ ان میں اتنا وقار پیدا کرو کہ یہ قومی وقار پر جانیں قربان کردیں”۔

سلطان ایوبی نے بتایا کہ صلیبیوں کے پاس عورت اور دولت ہے اور ہمارے ہاں ان دونوں کا لالچ موجود ہے۔ ہمارے سامنے ایک مہم یہ بھی ہے کہ قوم کے دل سے عورت اور دولت کا لالچ نکال دیں۔ اس کے لیے ایمان کی مضبوطی کی ضرورت ہے۔

”امیر محترم!” ایک اعلیٰ کمانڈر نے کہا… ”ہمیں دولت کی ضرورت بھی ہے، اخراجات پورے کرنے مشکل ہورہے ہیں۔ ہمیں بعض کاموں میں مشکل پیش آتی ہے”۔

”میں یہ مشکل آسان کردوں گا”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”تمہیں یہ حقیقت ہمیشہ کے لیے قبول کرنی پڑے گی کہ مسلمانوں کے پاس دولت کی اور فوج کی کمی رہی ہے اور رہے گی۔ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علی و آلہ وسلم نے پہلی جنگ تین سو تیرہ مجاہدین کی طاقت سے لڑی تھی۔ اس کے بعد مسلمان جہاں بھی لڑے، اسی تناسب سے لڑے۔ مسلمانوں کے پاس دولت کی کمی کبھی نہیں رہی۔ دولت چند ایک افراد کے گھروں میں چلی گئی۔ اب بھی ہماری قوم کا یہی حال ہے۔ چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے جو مالک مسلمان ہیں، ان کے پاس دولت کے ڈھیر پڑے ہیں”۔

”دولت کے ڈھیر یہاں بھی پڑے ہیں، سالاراعظم”۔ غیاث بلبیس نے کہا… ”اگر آپ اجازت دیں تو ہم ایک نئی مہم شروع کرسکتے ہیں… آپ کو معلوم ہے کہ مصر خزانوں کی سرزمین ہے۔ یہاں جو فرعون بھی مرا وہ اپنا تمام تر خزانہ اپنے ساتھ زمین کے نیچے لے گیا۔ وہ خزانے کس کے تھے؟ یہ اس غریب مخلوق کی دولت تھی جسے بھوکا رکھ کر اس سے سجدے کرائے گئے۔ اس دور کے انسان نے فرعون کو خدا صرف اس لیے کہا تھا کہ وہ انسان بھوکا تھا۔ اس کی قسمت فرعونوں کے ہاتھ میں تھی۔ اس کی زندگی اور موت بھی فرعونوں نے اپنے ہاتھ میں لے لی تھی۔ انسانوں سے زمین کھدوا کر اور پہاڑ کٹوا کر فرعونوں نے اپنے زمین دوز مقبرے بنائے، تو وہ ایسے جیسے ان کے محل تھے۔ ان میں انہوں نے وہ دولت ڈھیر کرلی جو لوگوں کی تھی۔ اگر آپ اجازت دیں تو ہم فرعونوں کے زمین دوز مقبروں اور مدفنوں کی تلاش شروع کردیں اور

خزانے ملک اور قوم کی خاطر استعمال کریں”۔

غیاث بلبیس کی تائید میں کئی آوازیں اٹھیں…” یہی صحیح ہے امیر محترم! ہم نے اس سے پہلے کبھی غور ہی نہیں کیا تھا”… ہم اس مہم میں فوج کو استعمال کرسکتے ہیں… ”شہری آبادی سے ایک لشکر جمع کیا جاسکتا ہے”… ہاں ہاں، غیر فوجیوں کو استعمال کیا جائے اور انہیں اجرت دی جائے”۔

مجلس میں ہنگامہ سا بپا ہوگیا۔ ہر کوئی کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا اگر کوئی خاموش تھا تو وہ صلاح الدین ایوبی تھا۔ مجلس میں بہت دیر بعد یہ احساس پیدا ہوا کہ ان کا امیر اور سالار اعظم خاموش ہے۔ مجلس پر بھی خاموشی طاری ہوگئی۔ سلطان ایوبی نے سب پر نگاہ ڈالی اور کہا…”میں اس مہم کی اجازت نہیں دے سکتا جس کی تجویز غیاث بلبیس نے پیش کی ہے”… مجلس پر سناٹا طاری ہوگیا۔ کسی کی توقع نہیں تھی کہ سلطان ایوبی اس تجویز کو ٹھکرا دے گا۔ اس نے کہا… ”میں نہیں چاہتا کہ مرنے کے بعد تاریخ مجھے قبر چور اور مقبروں کا ڈاکو کہے۔ تاریخ نے مجھے ذلیل کیا تو اس میں تمہاری بھی ذلت ہوگی۔ آنے والی نسلیں کہیں گی کہ صلاح الدین ایوبی کے مشیر اور وزیر بھی قبر چور تھے۔ صلیبی اس الزام کو خوب اچھالیں گے اور تمہاری قربانیوں اور جذبۂ اسلام کو ڈکیتی اور راہزنی کا نام دے کر تمہیں تمہاری ہی نسلوں میں رسوا کردیں گے اور تم ہی نہیں، ہماری تاریخ ذلیل اور رسوا ہوجائے گی”۔

”گستاخی معاف امیر محترم!”… علی بن سفیان نے کہا… ”تھوڑے سے عرصے کے لیے مصر صلیبیوں کے قبضے میں آیا تھا۔ انہوں نے سب سے پہلے یہاں کے خزانوں کی تلاش شروع کی تھی۔ قاہرہ کے مضافات میں ہم نے جن کھنڈروں سے صلیبی تخریب کاروں اور فدائیوں کا ایک گروہ پکڑا تھا، وہ کسی فرعون کا مدفن تھا۔ وہاں سے وہ سب کچھ لے گئے تھے۔ صلیبیوں کی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہی، ورنہ وہ یہاں کے تمام خزانے نکال کر لے جاتے۔ محترم غیاث بلبیس نے ٹھیک کہا ہے کہ یہ خزانے اگر کسی کی ملکیت ہیں تو وہ فرعون نہیں تھے۔ ان کے مالک اس وقت کے انسان تھے۔ میں یہ مشورہ پیش کرنے کی جرأت ضرور کروں گا کہ یہ خزانے نکال کر آج کے انسان کی فلاح وبہبود اور وقار کے لیے استعمال کیے جائیں”۔

”اور میں تمہیں یہ بھی بتا دوں”… سلطان ایوبی نے کہا… ”کہ یہ خزانے تمہارے سامنے آئے تو تم بھی فرعون بن جائو گے۔ انسان کو یہ جرأت کس نے دی تھی کہ وہ اپنے آپ کو خدا سمجھے؟… دولت اور دولت کی ہوس نے۔ انسان کو انسان کے آگے سجدہ کس نے کرایا تھا؟… مفلسی اور بھوک نے۔ تم صلیبیوں کی بات کرتے ہو کہ انہوں نے فرعونوں کے ایک مدفن کو لوٹا۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ جب پہلے فرعون کی لاش تمام تر خزانے کے ساتھ زمین میں دبائی گئی تھی، قبر چوری اسی وقت شروع ہوگئی تھی۔ انسان وحشیوں اور درندوں کی طرح پہلے فرعون کے مدفن پر ٹوٹ پڑے تھے۔ ان کا دین اور ایمان صرف دولت بن گیا تھا پھر فرعون مرکز اپنے خزانے زمین میں لے جاتے رہے اور قبر چوری باقاعدہ پیشہ بن گئی۔ اس کے بعد ہر فرعون نے اپنی زندگی میں ہی اپنا مدفن کسی ایسی جگہ تیار کرایا کہ کوئی اسے کھول نہ سکے اور جب فرعونوں کا دور ختم ہوگیا تو مصر جس کے قبضے میں بھی آیا اس نے اس چھپے ہوئے خزانوں کی تلاش شروع کردی۔ میں جانتا ہوں کہ فرعونوں کے بہت سے مدفن ایسے ہیں جن کے متعلق کوئی جانتا ہی نہیں کہ کہاں ہیں۔ وہ زمین دوز محل ہیں۔ قیامت تک مصر کے حکمران اور حملہ آور ان مدفنوں کو ڈھونڈتے رہیں گے”…

”ان تمام حکومتوں کو زوال کیوں آیا؟ صرف اس لیے کہ ان کی توجہ خزانوں پر مرکوز ہوگئی تھی۔ رعایا کو یہ تاثر دیا گیا کہ دولت ہے تو عزت ہے۔ ہاتھ خالی ہے تو تم بھی اور تمہاری بیٹیاں بھی ان کی ہیں جن کے پاس دولت ہے…

میرے رفیقو! صلاح الدین ایوبی کو اس قطار میں کھڑا نہ کرو۔ میں اپنی قوم کو یہ تاثر دینا چاہتا ہوں کہ اصل دولت قومی وقار اور ایمان ہے لیکن یہ تاثر صرف اس صورت میں پیدا کیا جاسکتا ہے کہ میں خود اور تم سب جو حکومت کے ستون ہو، دل سے دولت کا لالچ نکال دو”۔

”ہم ان خزانوں کی تلاش ذاتی لالچ کے لیے نہیں کرنا چاہتے”۔ ایک کمانڈر نے کہا… ”ہم قومی ضروریات کے پیش نظر یہ مہم شروع کرنا چاہتے ہیں”۔

”میں جانتا ہوں میرا انکار تم میں سے کسی کو پسند نہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”میری بات سمجھنے کے لیے تمہیں اپنے ذہن بالکل خالی کرنے ہوں گے۔ میری عقل مجھے بتا رہی ہے کہ باہر سے آئی ہوئی دولت جو قومی ضروریات کے لیے آئی ہو، حاکموں کے ایمان متزلزل کرتی ہے۔ یہ دولت کی لعنت ہے اگر میرے پاس گھوڑا خریدنے کے لیے رقم نہیں ہوگی تو میں فوج کے ساتھ پیدل بیت المقدس جائوں گا۔ گھوڑا خریدنے کے لیے مردوں کے کفن اتار کر نہیں بیچوں گا۔ میرا مقصد بیت المقدس کو صلیبیوں سے آزاد کرانا ہے۔ گھوڑا خریدنے کے لیے رقم کا حصول میرا مقصد نہیں۔ تم جب خزانوں کی تلاش کرنے لگو گے تو قوم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے طور پر چوری چھپے مقبروں کو اکھاڑنے لگیں گے۔ مصر میں ایسا ہوتا آیا ہے اور جب یہ خزانے تمہارے سامنے آئیں گے تو تم ایک دوسرے کے اگر دشمن نہ ہوئے تو ایک دوسرے کو شک کی نگاہوں سے ضرور دیکھو گے۔ جہاں خزانے آجاتے ہیں، وہاں انسانی محبت ختم ہوجاتی ہے۔ حقوق العباد کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ ان زروجواہرات نے انسان کو خدا بنایا تھا۔ وہ عذاب کہاں ہیں؟ آسمانوں پر نہیں، زمین کے نیچے ہے۔ میرے رفیقو! میں ایک نئے جرم کی بنیاد نہیں ڈالنا چاہتا۔ ان خزانوں سے بچو۔ یہ خزانوں کے لالچ کا ہی کرشمہ ہے کہ تمہاری صفوں میں غدار بھی موجود ہیں۔ تم دو غداروں کو قتل کرتے ہو تو چار اور پیدا ہوجاتے ہیں۔ اپنی تقدیر، اپنی تدبیر سے بنائو۔ تم مسلمان ہو، اپنی قسمت کفار کے ہاتھوں میں نہ دو۔ ورنہ سب غدار ہوجائو گے۔ فرعون مرچکے ہیں۔ انہیں زمین کی تہوں میں دبا رہنے دو”۔

”آپ کے حکم کے بغیر ہم ایسی کوئی مہم شروع نہیں کریں گے”۔ کسی نے کہا۔

”غیاث!” سلطان ایوبی نے غیاث بلبیس سے مسکرا کر پوچھا… ”آج تمہیں ان پوشیدہ خزانوں کا خیال کیسے آگیا ہے؟ مجھے یہاں آئے چار سال ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے یہ تجویز کیوں پیش نہ کی”۔

”میں نے ایسا کبھی نہیں سوچا تھا امیر محترم!” غیاث بلبیس نے کہا… ”تقریباً دو مہینے ہوئے کتب خانے کے محرر نے مجھے بتایا تھا کہ پرانے کاغذات میں سے کچھ کاغذات گم ہوگئے ہیں۔ میں نے ان کاغذات کی نوعیت اور اہمیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ ایسے اہم نہیں تھے کہ تلاش ضروری سمجھی جائے۔ یہ کچھ نقشے سے تھے اور فرعونوں کے وقتوں کی تحریریں تھیں۔ بہت ہی بوسیدہ اور کرم خوردہ کاغذات اور کپڑے تھے۔ محرر نے جب فرعونوں کا نام لیا تو مجھے خیال آیا کہ ان تحریروں اور نقشوں میں فرعونوں کے خفیہ مقبروں کے متعلق معلومات ہوسکتی ہیں۔ میں نے وہ پلندے دیکھے، جن میں سے کاغذات گم ہوئے تھے۔ میں نے یہ سوچ کر زیادہ توجہ نہیں دی کہ ان تحریروں کو آج کون پڑھ اور سمجھ سکتا ہے”۔

”تم نے صحیح نہیں سوچا عیاث بلبیس!” سلطان ایوبی نے کہا… ”مصر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان تحریروں اور اشاروں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان کاغذوں اورنقشوں کی چوری حیران کن نہیں۔ یہ چوری خزانے کے کسی لالچی نے کی ہوگی۔ ان کاغذوں کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں، مجھے چور کے ساتھ دلچسپی ہے۔ وہ کوئی تمہارا ہی رفیق نہ ہو۔ اس چور کا سراغ لگائو’

”تم نے صحیح نہیں سوچا عیاث بلبیس!” سلطان ایوبی نے کہا… ”مصر میں ایسے لوگ موجود ہیں جو ان تحریروں اور اشاروں کو سمجھ سکتے ہیں۔ ان کاغذوں اورنقشوں کی چوری حیران کن نہیں۔ یہ چوری خزانے کے کسی لالچی نے کی ہوگی۔ ان کاغذوں کے ساتھ مجھے کوئی دلچسپی نہیں، مجھے چور کے ساتھ دلچسپی ہے۔ وہ کوئی تمہارا ہی رفیق نہ ہو۔ اس چور کا سراغ لگائو”۔

”مجھے شبہ ہونے لگا ہے کہ ان کاغذوں کی کچھ اہمیت ضرور ہے”۔ علی بن سفیان نے کہا… ”میں محترم

غیاث بلبیس کے ساتھ بات کرچکا ہوں۔ بہت دنوں سے ہمارے مخبر اور شہر کے اندر کے جاسوس ہمیں کسی پراسرار سرگرمی کی اطلاع دے رہے ہیں۔ قدومی یہاں کی ایک مشہور رقاصہ ہے، جسے امیروں کی محفلوں کی شمع کہا جاتا ہے، پانچ چھ دنوں سے غائب ہے۔ ایک رقاصہ کا شہر سے غیرحاضر ہوجانا کوئی اہم واقعہ نہیں ہوا کرتا لیکن قدومی کو میں نے خاص طور پر نظر میں رکھا ہوا ہے۔ میرے مخبروں نے بتایا ہے کہ اس کے ہاں اجنبی اور مشکوک سے دو آدمی آتے رہے ہیں۔ پھر قدومی کے گھر سے ایک روز ایک پردہ پوش عورت کو نکلتے دیکھا گیا۔ وہ ایک اجنبی تاجر مسافر کے ساتھ جارہی تھی۔ مجھے شک ہے کہ قدومی بھیس بدل کر نکل گئی ہے۔ دوسرے مخبروں کی اطلاعوں سے پتا چلتا ہے کہ کچھ آدمی جنوب کی طرف مشکوک حالت میں جاتے دیکھے گئے ہیں۔ ان سرگرمیوں سے مجھے شک ہوتا ہے کہ ان کا تعلق ان گمشدہ کاغذات کے ساتھ بھی ہوسکتا ہے اور یہ شبہ بھی ہے کہ یہ صلیبی تخریب کار ہوں گے۔ جو کچھ بھی ہے ہم ان سرگرمیوں کا کھوج لگا رہے ہیں”۔

”ضرور کھوج لگائو”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”اور ان خزانوں کو اپنے ذہنوں سے اتار دو۔ میں جانتا ہوں کہ قوم کی فلاح وبہبود کے لیے اور صلیبیوں سے فیصلہ کن جنگ لڑنے کے لیے ہمیں مالی استحکام کی ضرورت ہے مگر میں کسی سے مدد نہیں مانگوں گا۔ محترم نورالدین زنگی نے مالی امداد کا وعدہ کیا ہے۔ میں یہ امداد بھی قبول نہیں کروں گا۔ مالی امداد سگے بھائی سے ملے تو بھی انسانی صلاحیتوں کے لیے محنت اور دیانت داری کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے پھر انسان خزانوں کی تلاش میں مارا مارا پھرنے لگتا ہے۔ مصر کی زمین بانجھ نہیں ہوگئی۔ محنت کرو کہ یہ زمین تمہیں ثمر دے۔ قوم کو بتائو کہ حکومت پر اس کے حقوق کیا ہیں تاکہ وہ اپنے آپ کو رعایا سمجھنا چھوڑ دے اور قوم کو یہ بھی بتائو کہ اس کے فرائض کیا ہے اگر قوم نے فرائض سے نگاہیں پھیر لیں تو حقوق پامال ہوجائیں گے۔ تم جس زمین کی پاسبانی میں خون نہیں بہائو گے اور جس کے وقار کے لیے پسینہ نہیں بہائو گے، وہ تمہارا حق کبھی ادا نہیں کرے گی۔ پھر اس ملک کے حکمران باہر کے خزانوں کی تلاش میں نکل کھڑے ہوں گے اور قوم افراد میں منتشر ہوکر کفار کی غلام ہوجائے گی”۔

٭ ٭ ٭

جن خزانوں کو سلطان صلاح الدین ایوبی ہاتھ لگانے سے بھی گریز کرتا تھا، ان تک اس کے اپنے ہی ایک جرنیل کے بھیجے ہوئے پچاس آدمی پہنچ گئے تھے۔ مارکونی، اسماعیل، قدومی اور ایک اور صلیبی شام کو پہنچے۔ ان کے باقی ساتھی جو الگ الگ ٹولیوں میں روانہ ہوئے تھے، اسی رات پہنچنا شروع ہوئے اور آدھی رات کے بعد پورے پچاس آدمی پہنچ گئے۔ جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے، یہ جگہ ایسی تھی جس کے قریب سے کبھی کوئی مسافر نہیں گزرا تھا۔ جگہ ڈرائونی ہونے کے علاوہ کسی راستے پر پڑتی ہی نہیں تھی۔ یہ چونکہ سرحد سے دور تھی، اس لیے سرحدی دستوں کی نظر میں بھی نہیں تھی۔ مارکونی نے رات کو ہی سب کو اس خطے کے اندر پہنچا دیا تاکہ باہر سے کوئی دیکھ ہی نہ سکے اور انہیں مکمل آرام دینے کے لیے کہا کہ وہ جتنی دیر سو سکتے ہیں، سوجائیں۔ یہاں سے آگے پیدل جانا ہوگا اور یہ سفر جسم کے بجائے اعصاب کو زیادہ تھکائے گا۔ مارکونی خود قدومی کے ساتھ اپنے خیمے میں چلا گیا۔

وہ سب اس وقت جاگے جب سورج ان ٹیلوں کے اوپر آگیا جس کے دامن میں سب سوئے ہوئے تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ وہ کون کون سا سامان، اوزار اور ہتھیار وغیرہ اپنے ساتھ لیں۔ ان میں مضبوط رسے، کدالیں اور موٹی موٹی سلاخیں تھیں اور ہتھیاروں میں تیروکمان اور تلواریں۔ راستے کی مشکلات کے متعلق بھی اس نے سب کو بتا دیا۔ اس دیوار کے متعلق بھی انہیں ذہنی طور پر تیار کردیا، جس سے اس کا ایک ساتھی گر کر ہمیشہ کے لیے لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس نے

انہیں رونے کی آوازوں سے بھی خبردار کردیا جو اس علاقے میں سنائی دیتی تھیں۔ اونٹوں کو ساتھ نہیں لے جایا جاسکتا تھا۔ ان کی دیکھ بھال کے لیے اس نے صرف ایک آدمی پیچھے رہنے دیا۔ قدومی کو بھی وہ ساتھ نہیں لے جاسکتا تھا۔ اسے توقع تھی کہ کہیں کوئی راستہ اندر جانے کے لیے مل ہی جائے گا اور وہ قدومی کو اس راستے سے لے جائے گا۔ قدومی کی حفاظت کے لیے بھی ایک آدمی کی ضرورت تھی۔ اس کے لیے صرف اسماعیل موزوں آدمی تھا۔

مارکونی نے اسماعیل سے کہا… ”تم قدومی کے لیے یہیں رہو گے لیکن یہ خیال رکھنا کہ تمہاری حیثیت اس لڑکی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔ اس کے آرام اور حفاظت کے تم ذمہ دار ہوگے۔ میں بہت جلدی واپس آرہا ہوں، تم دونوں کو ساتھ لے جائوں گا”۔

وہ اپنی پارٹی کو ساتھ لے کر چل پڑا۔ اس راستے سے وہ واقف ہوچکا تھا۔ بے خوف وخطر چلتا گیا، جوں جوں یہ آدمی آگے بڑھتے جارہے تھے ان پر خوف مسلط ہوتا جارہا تھا۔ وہ صحرائوں سے پوری طرح واقف تھے مگر ایسا خطہ اور اس قسم کے پہاڑ انہوں نے کبھی نہیں دیکھے تھے اور وہ جب اس جگہ پہنچے جہاں رونے کی آوازیں آتی تھیں تو سب بدک کر خلائوں میں دیکھنے لگے۔ بلاشک وشبہ عورتیں رو رہی تھیں۔ ان آدمیوں میں دو تین ایسے بھی تھے جنہوں نے اس علاقے کے متعلق وہ تمام ڈرائونی کہانیاں سن رکھی تھی جو بہت مدت سے مشہور تھیں۔ انہوں نے اپنے صلیبی ساتھیوں کو بھی یہ کہانیاں سنا کر ڈرا دیا۔ وہ سب ڈر کی گرفت میں پہلے ہی تھے لیکن انہیں جو انعام بتایا گیا تھا، اس میں اتنی طاقت تھی جو ان کے خوف کو دبا رہی تھی۔ اس کے علاوہ وہ صلیب کے تنخواہ دار ملازم بھی تھے اور مارکونی ان کا افسر تھا۔ وہ انعام اور حکم کی پابندی کے تحت چلے جارہے تھے۔رونے کی آوازوں پر وہ بدکے تو مارکونی نے انہیں بتایا کہ یہ عورتیں یا عورتوں کی بدروحیں نہیں، یہ ہوا کی آوازیں ہیں مگر وہ ڈرتے رہے اور ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر آگے ہ ی آگے بڑھتے گئے۔

اس وقت سورج غروب ہورہا تھا، جب وہ اس وسیع اور بے انتہا گہرے نشیب تک پہنچے جو انہیں قدرتی دیوار پر چل کر پار کرنا تھا۔ مارکونی کو وہاں کچھ مشکل پیش آئی۔ دیوار پر پائوں رکھنے سے سب گھبراتے تھے۔ مارکونی آگے آگے چلا۔ وہ ایک بار اس خطرے سے گزر چکا تھا۔ اس کے پیچھے دوسرے آدمی نے دیوار پر قدم رکھا اور پھر باقی بھی چل پڑے۔ سورج اس جہنم میں ہی روپوش ہوگیا تھا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ کھائی کی گہرائی نظر نہیں آتی تھی۔ مارکونی دیوار عبور کرگیا۔ اسے ایسی چیخ سنائی دی جو تہہ کی طرف جارہی تھی۔ ذرا دیر بعد ایک اور ہیبت ناک چیخ سنائی دی۔ یہ بھی دور نیچے جاکر ایک دھیمی سی دھمک میں خاموش ہوگئی۔ ایسی پانچ چیخیں سنائی دیں… یہ گروہ جب دیوار سے گزر کر کچھ آگے جا جمع ہوا تو اس میں پانچ آدمی نہیں تھے۔ مارکونی نے انہیں بتایا کہ اس سے آگے کوئی ایسا خطرہ نہیں ہے اور وہ منزل کے قریب آگئے ہیں۔ اس نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ ان کی واپسی اس راستے سے نہیں ہوگی بلکہ سیدھا اور آسان راستہ مل جائے گا۔

رات بہت گہری ہوچکی تھی، جب وہ اس جگہ پہنچے جس کے نیچے وسیع سرسبز خطہ تھا، مارکونی نے تمام آدمیوں کو وہاں سے تھوڑی دور چھپا دیا۔ دو آدمی اپنے ساتھ لیے اور باقی سب سے کہا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ کھا کر سوجائیں۔ انہیں ضرورت کے وقت جگایا جائے گا۔ مارکونی دو آدمیوں کو ساتھ لے کر اس جگہ کی دیکھ بھال کے لیے چلا گیا۔ نیچے موت کا سکوت تھا۔ کہیں ہلکی سی روشنی بھی نظر نہیں آتی تھی۔ وہ اور زیادہ قریب جانے سے ڈرتا تھا۔ اس نے حملہ صبح کے لیے ملتوی کردیا اور اپنے آدمیوں کے پاس واپس آگیا۔

قدومی اور اسماعیل اکیلے رہ گئے تھے۔ قدومی ان ہنگامہ خیز محفلوں کی عادی تھی جن میں شراب اور دولت پانی کی طرح بہتی تھی۔ مارکونی اسے اس ہولناک ویرانے میں لے آیا تھا اور اسے ایک آدمی کے ساتھ تنہا چھوڑ گیا تھا۔ اسماعیل اسے جانتا تھا۔ وہ اسماعیل سے واقف نہیں تھی۔ اسماعیل جرم وگناہ کی دنیا کا انسان تھا۔ اس کی شکل وصورت اتنی اچھی اور طبیعت اتنی شگفتہ تھی کہ قدومی نے اسے کوئی عام آدمی نہ سمجھا لیکن اسماعیل اس کے ساتھ بات کرنے سے گریز کررہا تھا۔ شام کے وقت اس نے قدومی کو بھنا ہوا گوشت گرم کرکے دیا اور شراب بھی اس کے آگے رکھ کر کہا کہ کھانا کھا کر سوجانا۔ کوئی ضرورت ہوتو خیمے سے بلا لینا۔ وہ باہر نکل گیا۔ قدومی نے کھانا کھالیا۔ شراب بھی حسب عادت پی لی لیکن تنہائی اسے پریشان کرنے لگی۔ اسے اپنے حسن اور نازو ادا پر چونکہ فخر تھا اس لیے اسے توقع تھی کہ اسماعیل اس کے قریب ہونے کی کوشش کرے گا۔ اس فخر میں تکبر اور غرور زیادہ تھا مگر اسماعیل نے اس کی طرف ایسی کوئی توجہ نہ دی جس کی قدومی کو توقع تھی۔

قدومی کو نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ اپنے خیمے سے نکلی اور اسماعیل کے خیمے میں چلی گئی۔ وہ ابھی جاگ رہا تھا۔ قدومی کے لیے اس نے دیا جلا دیا اور پوچھا کہ وہ کیوں آئی ہے؟ قدومی نے کہا کہ اس کی طبیعت گھبرا رہی تھی۔ وہ اس کے پاس بیٹھ گئی اور پوچھا… ”تم شاید مسلمان ہو”۔

”تمہیں مذہب سے کیا دلچسپی ہوسکتی ہے؟” … اسماعیل نے جواب دیا… ”تمہاری دلچسپی انسانوں کے ساتھ ہے کسی کے مذہب کے ساتھ نہیں۔ میرا نام اسماعیل ہے اور میرا کوئی مذہب نہیں رہا”۔

”اوہ!”… قدومی نے مسکراہٹ اور حیرت سے کہا… ”توتم ہو اسماعیل۔ احمر درویش کے خاص آدمی”۔ اس نے پوچھا… یہ آدمی کون ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟ وہ مارکونی کے متعلق پوچھ رہی تھی۔ کہنے لگی… ”اس نے اپنا نام سلیمان سکندر بتایا ہے لیکن یہ مسلمان معلوم نہیں ہوتا”۔

”یہ مصری بھی نہیں”… اسماعیل نے کہا… ”اور یہ سوڈانی بھی نہیں اور سلیمان سکندر اس کا نام نہیں”۔

”پھر یہ کون ہے؟”… قدومی نے پوچھا… ”اس کا اصلی نام کیا ہے؟”

”میں اس نام نہیں بتا سکتا”… اسماعیل نے کہا… ”یہ راز چھپائے رکھنے کے لیے مجھے معاوضہ ملتا ہے… تمہیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہونی چاہیے کہ یہ کون ہے۔ تم منہ مانگی اجرت پر اس کی تفریح طبع کے لیے آئی ہو۔ یہ تمہارا پیشہ ہے۔ اس نے تمہیں خزانے میں سے کچھ حصہ دینے کا وعدہ کیا دیا ہوگا”۔

”وہ تو میرا حق ہے”… قدومی نے کہا… ”اس نے مجھے جو اجرت دی ہے، وہ اس خطرناک بیابان میں ساتھ آنے کے لیے بہت ہی تھوڑی ہے۔ میں تو خزانے میں سے حصہ لینے کے وعدے پر ساتھ آئی ہوں”۔

”کیا تمہیں یقین ہے کہ تمہیں وہ حصہ دے دے گا؟”… اسماعیل نے پوچھا… ”اور کیا تمہیں یقین ہے کہ اسے وہ خزانہ مل جائے گا جس کا حصہ وصول کرنے کے لیے تم آئی ہو؟”

”میں اتنی قیمتی لڑکی ہوں کہ لوگ مجھے خزانوں کے عوض خریدنا چاہتے ہیں”… قدومی نے غرور کے لہجے میں کہا… ”یہ شخص تو میری قیمت ادا ہی نہیں کرسکتا۔ میں ایسے امیر زادوں اور شہزادوں کو اپنا غلام بنا کے رکھا کرتی ہوں”۔

”کب تک؟”… اسماعیل نے مسکرا کر کہا… ”زیادہ سے زیادہ دوسال۔ اس کے بعد تمہاری قیمت اتنی گر جائے گی کہ تم گلیوں میں پاگلوں کی طرح دوڑتی پھرو گی، تمہیں پوچھے گا کوئی نہیں، جن کے پاس خزانے ہیں انہیں اور ایک قدومی مل جائے گی۔ تم جیسی کئی مل جائیں گی… سنو قدومی! اتنا غرور نہ کرو”۔

”کیوں نہ کروں؟”… قدومی نے کہا… ”یہ شخص جو اپنا نام سلیمان سکندر بتاتا ہے، میرے طلسم میں ایسا گرفتار ہے کہ اس نے مجھے قسمیں کھا کر کہا تھا کہ وہ صرف میرے لیے خزانے کی تلاش میں جارہا ہے۔ وہ مجھے سکندریہ لے جائے گا جہاں ہم سمندر کے کنارے محل بنائیں گے۔ پھر میں رقاصہ نہیں رہوں گی، کیا تمہیں اس میں کچھ شک ہے؟”

”شک نہیں مجھے یقین ہے کہ اس نے بہت بڑا جھوٹ بولا ہے”… اسماعیل نے کہا… ”میں اپنی اجرت کے لیے اس کے ساتھ آیا ہوں۔ احمر درویش کا کہنا میرے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے ساتھ جائو، میں آگیا۔ یہ میرا پیشہ ہے۔ میں کرائے کا گناہ گار ہوں۔ میں اجرت پر قتل بھی کیا کرتا ہوں مگر میں جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ میں کبھی پکڑا ہی نہیں گیا۔ احمر درویش مجھے بچا لیتا ہے۔ مجھ میں دوسری خوبی یا خرابی یہ ہے کہ میں عورت کا احترام کرتا ہوں۔ مجھے معلوم نہیں میں ایسا کیوں کرتا ہوں۔ عورت پردہ دار ہو یا عصمت فروش، میں اس کی عزت کرتا ہوں۔ میں عورت کو دھوکہ نہیں د ے سکتا۔ میں تمہیں بھی دھوکے میں نہیں رکھوں گا۔ میں تمہیں یہ بتا دینا اپنا اخلاقی فرض سمجھتا ہوں کہ یہ خزانہ تمہارے لیے محل تعمیر کرنے کے لیے نہیں نکالا جا رہا۔ یہ مصر کی جڑیں کاٹنے کے لیے استعمال ہوگا۔ یہاں صلیبی حکومت قائم کی جائے گی۔ مسجدوں کو گرجے بنایا جائے گا اور اگر ایسا نہ ہوا تو یہ خزانہ مصر سے باہر چلا جائے گا۔ مجھے معلوم ہے تمہیں مصر کے ساتھ کوئی دلچسپی نہیں، مجھے بھی نہیں، ہم دونوں پیشہ ور ہیں۔ گناہ ہمارا پیشہ ہے۔ میں تمہیں صرف دو باتیں بتانا چاہتا تھا جو بتا چکا ہوں۔ ایک بار پھر سن لو۔ تمہارے حسن اور جوانی کی عمر بہت تھوڑی رہ گئی ہے۔ دوسری بات یہ کہ تمہیں یہ شخص اپنے ساتھ تفریح اور عیاشی کے لیے لایا ہے۔ اس کی نظر میں تم ایک طوائف ہو۔ اگر اس نے تم پر کرم کیا تو ایک دو ہیرے تمہارے ہاتھ میں دے دے گا اور اگر اس نے کسی کے لیے محل تعمیر کیا بھی تو وہ کوئی نوخیز لڑکی ہوگی۔ وہ تم نہیں ہوگی۔ تمہارے چہرے پر مجھے بال جیسی باریک دو لکیریں نظر آرہی ہیں جو آج اچھی لگتی ہیں، تھوڑے ہی دنوں بعد یہ گہری ہوکر تمہاری قدروقیمت ختم کردیں گی”۔

اسماعیل کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی اور اس کے بولنے کا انداز ایسا تھا جس میں طنز نہیں تھا، دھوکہ اور فریب نہیں تھا۔ ایک اپنائیت سی تھی اور ایسی حقیقت جو قدومی نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ اسے توقع تھی کہ اسماعیل اس پر ڈورے ڈالے گا مگر اس نے اسے ذرا بھی اہمیت نہ دی۔ اس کے بجائے اسے یہ تاثر دے دیا کہ اس کی اہمیت دو روز کی مہمان ہے۔ قدومی تو اپنے حسن کی تعریفیں سننے کی عادی تھی۔ اپنے آپ کو قلوقطرہ کاثانی سمجھتی تھی۔ اسماعیل نے ایساتاثر پیدا کیا جسے قدومی دھتکار نہ سکی۔ اسماعیل کا انداز ہی ایسا تھا کہ اس کا پیدا کیا ہوا تاثر اس کے دل کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ رات گزرتی جارہی تھی اور قدومی کی آنکھوں سے نیند غائب ہوتی جارہی تھی۔ وہ اسماعیل کے ساتھ باتوں میں رات گزارنا چاہتی تھی۔ اس خواہش کو وہ دبا نہ سکی۔ اسماعیل نے اسے مایوس نہ کیا۔ رات کا آخری پہر تھا، جب قدومی کی آنکھ لگ گئی۔

اس کی آنکھ کھلی تو وہ اسماعیل کے خیمے میں تھی اور اسماعیل خیمے سے باہر کمبل میں لپٹا سویا ہوا تھا۔ قدومی نے اسے جگایا اور کہا… ”میں نے خواب دیکھا ہے۔ عجیب سا خواب تھا۔ پوری طرح یاد نہیںرہا، کوئی مجھے کہہ رہا تھا کہ سلیمان سکندر کے خزانے کی نسبت اسماعیل کی باتیں زیادہ قیمتی ہیں”… وہ ہنس پڑی۔ اس کی ہنسی میں رقاصہ کا تضع نہیں، ایک معصوم لڑکی کی سادگی تھی۔

سورج نکلنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی۔ مارکونی اپنے آدمیوں کو اس سرسبز نشیب کے اوپر اپنی سکیم کے مطابق موزوں جگہوں پر چھپا چکا تھا۔ صبح روشن ہوئی تو نیچے ننگے آدمی اور عورتیں نظر آنے لگیں۔ مارکونی نے اپنے ایک دلیر اور نڈر

آدمی کو نیچے جانے کے لیے تیار کرکھا تھا۔ اسی ڈھلان سے جس سے اس کا ایک ساتھی لڑھک کر نیچے گرا اور اس پراسرار قبیلے کی ضیافت بن گیا تھا۔ مارکونی نے اپنے اس آدمی کو نیچے لڑھک جانے کو کہا۔ وہ ڈھلان کے اوپر بیٹھا اور نیچے سرک گیا۔ کچھ آگے جاکر وہ قلابازیاں کھانے لگا اور زمین پر جاپڑا۔ وہ اٹھ کر چل پڑا۔ تین چار ننگے آدم خوروں نے اسے دیکھ لیا اور اسے پکڑنے کے لیے دوڑے۔ وہ خوشی سے چلا رہے تھے۔ وہ جب اس آدمی کے قریب آئے تو اوپر سے چار تیر نکلے اور ان کے سینوں میں اتر گئے۔ ادھر سے دو اور ننگے مرد دوڑے آئے، وہ بھی تیروں کا نشانہ بن گئے۔ مارکونی نے اوپر ایک چٹان کے ساتھ رسہ بندھوا دیا تھا جسے اس نے ڈھلان سے نیچے پھینک کر اپنے آدمیوں سے کہا کہ اسے پکڑ کر سب ایک دوسرے کے پیچھے نیچے اتر جائیں۔

سب نیچے چلے گئے۔ مارکونی نے اوپر سے رسہ کھول کر نیچے پھینک دیا اور ڈھلان سے لڑھکتا ہوا نیچے چلا گیا۔ یہ سارا گروہ تلواریں نکال کر آگے کو دوڑ پڑا۔ چند اور ننگے مرد سامنے آئے، انہیں بھی کاٹ دیا گیا۔ جو ذرا دور تھے، وہ الٹے پائوں بھاگے۔ نیچے سے سرسبز علاقے کے کئی ایک حصے تھے۔ مارکونی نے دیکھا کہ بھاگنے والے ایک حصے میں چلے گئے تھے۔ وہ ان کے پیچھے گیا۔ اسے ان آدمیوں کا واویلا سنائی دے رہا تھا۔ ان کی چیخ وپکار پر وہ ان کے تعاقب میں گیا۔ اس کے باقی آدمی خون خرابہ کررہے تھے۔ وہ خود ان دو آدمیوں کے تعاقب میں رہا… تھوڑی ہی دور اسے آدمی نظر آگئے۔ وہ اب دو نہیں تین تھے۔ وہ تینوں ایک چٹان پر چڑھ رہے تھے۔ مارکونی نے ان کے پیچھے دوڑتے کچھ فاصلہ رکھا۔ وہ تینوں چٹان کی دوسری طرف اتر گئے۔ وہ بھی چٹان پر چڑھ گیا۔ دوسری طرف اسے سیاہ پہاڑی کا دامن نظر آیا۔ وہاں ایک غار کا دہانہ تھا جس میں جھک کر گزرا جاسکتا تھا۔ مارکونی اس غار میں چلا گیا۔ اس نے تلوار ہاتھ میں لے رکھی تھی۔

اندر سے غار کھلتا جارہا تھا۔ اسے اس میں کسی کے دوڑنے کی ہلکی ہلکی آہٹ سنائی دے رہی تھی۔ وہ دوڑتا گیا۔ یہ غار نہیں سرنگ تھی جو معلوم نہیں قدرتی تھی یا فرعون ریمینس نے مرنے سے پہلے بنوائی تھی۔ سرنگ کے کئی موڑ تھے اور اندر گھپ اندھیرا۔ اسے بولنے کی آوازیں سنائی دیں۔ وہ دوڑتا گیا اور اسے دور سامنے روشنی کا ایک گولا نظر آیا۔ اس میں اسے تین آدمی دوڑتے دکھائی دئیے۔ وہ غار کا دوسرا دہانہ تھا۔ وہ انہیں قتل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس کی سکیم کامیاب ہورہی تھی۔ وہ تینوں غار سے نکل گئے۔ وہ بھی غار سے نکل گیا۔ تینوں میں ایک آدمی گر پڑا۔ مارکونی نے جاکر دیکھا۔ یہ وہی بوڑھا آدمی تھا جس نے اسے اس روز دیکھا تھا جس رو زاس کا ساتھی نیچے گر پڑا اور آدم خوروں کے ہاتھوں میں مارا گیا تھا۔ وہ بہت ہی بوڑھا تھا۔ زیادہ دوڑ نہیں سکتا تھا۔ غار سے باہر ریتلے اور پتھریلے ٹیلے اور چٹانیں تھیں۔ ایک طرف سیاہ پہاڑ دور اوپر تک چلا گیا تھا۔ مارکونی نے بوڑھے کو سہارا دے کر اٹھایا اور اس کے بھاگتے ہوئے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کرکے اشاروں میں اسے سمجھایا کہ ان آدمیوں کو واپس بلائو۔

بوڑھے نے انہیں پکارا۔ وہ رکے تو انہیں اپنی طرف بلایا۔ اس نے مارکونی کے ساتھ مصری زبان میں بات کرتے ہوئے کہا… ”میں تمہاری زبان بولتا اور سمجھتا ہوں۔ مجھے قتل کرکے تمہیں کچھ حاصل نہ ہوگا”۔

مارکونی بھی مصری زبان بولتا اور سمجھتا تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ”میں تمہیں قتل نہیں کرنا چاہتا، تمہارے ان آدمیوں کو بھی قتل نہیں کروں گا۔ مجھے باہر جانے کا راستہ بتا دو”۔

”کیا تم یہاں سے نکلنا چاہتے ہو؟”… بوڑھے نے پوچھا۔

”ہاں”… مارکونی نے جواب دیا… ”میں تمہاری بادشاہی سے نکل جانا چاہتا ہوں”۔

بوڑھے نے اپنے آدمیوں سے کچھ کہا۔ وہ دونوں بہت ہی ڈرے ہوئے تھے۔ بوڑھے نے مارکونی سے کہا… ”اس کے ساتھ جائو۔ یہ تمہیں سیدھے راستے پر ڈال دیں گے”۔

بوڑھا ساتھ چل پڑا۔ وہ ٹیلوں کے درمیان سے گزرے، ایک ٹیلے کے اوپر گئے اور ایسی ہی کچھ بھول بھلیوں میں سے گزر کر وہ کھلے صحرا میں پہنچ گئے۔ مارکونی نے دیکھا کہ کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ یہاں کوئی راستہ ہے جو اندر کی پراسرار دنیا میں لے جاتا ہے۔ بوڑھے نے اسے کہا… ”تم اب چلے جائو، ورنہ خدا کا قہر تمہیں بھسم کردے گا”… مارکونی نے تینوں کو ساتھ لیا اور یہ کہہ کر اپنے ساتھ واپس لے گیا کہ وہ اپنے آدمیوں کو بھی باہر لائے گا۔ مارکونی کے ہاتھ میں ننگی تلوار تھی جس سے وہ تینوں ڈر رہے تھے۔ وہ اس کے ساتھ واپس چل پڑے۔مارکونی نے راستہ اور اس کے موڑ اچھی طرح دیکھ لیے۔ وہ پھر غار کے دہانے میں داخل ہوئے اور اس میں گزرتے سرسبز دنیا میں پہنچ گئے۔ بوڑھا اسے اس جگہ لے گیا جہاں مارکونی کے ساتھی کو آگ پر بھون کر کھایا گیا تھا۔ مارکونی کے ساتھی اسے ڈھونڈ رہے تھے۔ کئی ایک ننگی لاشیں پڑی تھیں۔ بچوں کو بھی قتل کردیا گیا تھا۔ بوڑھے نے یہ قتل عام شاید پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ رک گیا اور بڑے تحمل سے مارکونی سے پوچھا… ”ان بے گناہوں کو کاٹ کر تم نے کیا پایا؟”

”اور تم ہمارے آدمی کو بھون کر کھا گئے تھے”… مارکونی نے پوچھا… ”اس نے تمہارا کیا بگاڑا تھا؟”۔

”وہ گناہ گار دنیا کا انسان تھا”… بوڑھے نے کہا… ”اس نے ہماری مقدس سلطنت میں آکر اسے ناپاک کردیا تھا”۔

”تم لوگ یہاںکیوں رہتے ہو؟”… مارکونی نے پوچھا… ”فرعون ریمینس دوم کا مدفن کہاں ہے؟”

”میں ان دونوں سوالوں کا جواب نہیں دوں گا”… بوڑھے نے جواب دیا۔

مارکونی نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ ان کی عورتوں کو لے آئو۔ اس نے حملے سے پہلے اپنے آدمیوں سے کہہ دیا تھا کہ وہ کسی عورت کو قتل نہ کریں اور نہ چھیڑیں۔ انہیں یرغمال کے طور پر پکڑ لیں۔ مارکونی کے ساتھی دس گیارہ عورتوں کو سامنے لے آئے۔ ان میں دو تین بوڑھی، باقی جوان، نوجوان اور تین کمسن بچیاں تھیں۔ وہ مادر زاد ننگی تھیں۔ ان کے رنگ گندمی اور صاف تھے۔ شکل وصورت بھی سب کی اچھی تھی۔ ان کے بال کمر تک گئے ہوئے تھے اور ان میں چمک تھی۔

”کیا تم پسند کرو گے کہ تمہاری عورتوں کو تمہارے سامنے بے عزت کرکے انہیں قتل کردیا جائے؟”… مارکونی نے بوڑھے سے پوچھا۔

”کیا تم اس سے پہلے مجھے قتل نہیں کردو گے؟… بوڑھے نے پوچھا”۔

”نہیں!”… مارکونی نے جواب دیا۔

”سنو گناہ گار دنیاکے انسان!”… بوڑھے نے کہا… ”تمہاری عورتیں کپڑوں میں ڈھکی رہتی ہیں۔ تم انہیں پردوں میں چھپا چھپا کر رکھتے ہو مگر وہ بے حیائی سے باز نہیں آتی۔ تم عورت کی خاطر سلطنتیں قربان کردیتے ہو۔ عورت کو نچاتے ہو اور انہیں گناہوں کا ذریعہ بناتے ہو۔ ہماری عورتیں ننگی رہتی ہیں مگر بے حیائی نہیں کرتیں۔ کوئی مرد کسی دوسرے مرد کی عورت کو اس نظر سے نہیں دیکھتا جس نظر سے تم نے میری دنیا کی عورتوں کو دیکھا ہے۔ میں تو تمہاری نظر بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ تم خدائے مقدس ریمینس کے خزانے لوٹ لو، میری بیٹیوں کی عزت پر ہاتھ نہ ڈالنا”۔

”میں وعدہ کرتا ہوں کہ مجھے ان پہاڑوں کا بھید بتا دو”… مارکونی نے کہا… ”میں تمہاری عزت تمہارےحوالے کردوں گا”۔

”ڈاکو کے وعدے پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا”… بورڑھے کے ہونٹوں پر طنز کی مسکراہٹ آگئی۔ اس نے کہا ”جس آدمی کے دل میں دولت کی لالچ ہوتی ہے اس کی آنکھ میں غیرت نہیں ہوتی۔ اس زبان پر وعدے آتے ہیں اور اسی زبان سے ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ تم اس دنیا کے انسان ہو جہاں دولت پر اپنی بیٹیاں قربان کی جاتی ہیں اور سنو میرے اجنبی دوست! تم مصری نہیں ہو۔ تمہاری آنکھوں میں سمندر کی چمک ہے، نیل کے پانی کی نہیں۔ تمہارے جسم سے مجھے سمندر پار کی بو آتی ہے”۔

”میں ریمینس کے مدفن کی تلاش میں آیا ہوں”… مارکونی نے اسے غصے سے کہا… ”مجھے وہ مدفن بتا دو”۔

”میں بتا دوں گا”… بوڑھے نے کہا… ”اس سے پہلے میں تمہیں یہ بتا دینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ مدفن کے اندر جاکر تم زندہ باہر نہیں آسکو گے”۔

”کیا تمہارے آدمی اندر چھپے ہوئے ہیں جو مجھے قتل کردیں گے؟”

”نہیں!”… بوڑھے نے جواب دیا… ”تمہیں قتل کرنے کے لیے میرے پاس کوئی آدمی نہیں رہا۔ تمہارے اپنے آدمی تمہیں قتل کریں گے۔ تمہاری لاش یہاں سے کوئی نہیں لے جائے گا”۔

”تم غیب دان ہو؟”… مارکونی نے پوچھا… ”آنے والے وقت کی خبر دے سکتے ہو؟”

”نہیں!”… بوڑھے نے جواب دیا… ”میں نے گزرا ہوا وقت دیکھا ہے جس نے گزرے ہوئے وقت کو عقل اور دل کی نظر سے دیکھا ہو وہ آنے والے وقت کی خبر دے سکتا ہے۔ موت تمہاری آنکھوںمیں آکر بیٹھ گئی ہے”۔

مارکونی نے قہقہہ لگا کر کہا… ”تم جنگلی ہو بڈھے! مجھے بتائو وہ مدفن کہاں ہے جس کی تلاش میں میں اتنی دور سے آیا ہوں”۔

”تمہارے سامنے ہے”… بوڑھے نے کہا… ”وہ اوپر، آئو”۔

مارکونی نے کچھ سوچا اور اپنے آدمیوں سے کہا… ”ان عورتوں کو عزت سے رکھو۔ اس بوڑھے کے ساتھ گپ شپ لگاتے رہو اور اس کے ان دونوں آدمیوں کو بھی کچھ نہ کہنا۔ ان کے ساتھ دوستی پیدا کرلو۔ میں قدومی اور اسماعیل کو لینے جارہا ہوں”۔

مارکونی اس راستے سے باہر نکل گیا جو اسے بوڑھے نے دکھایا تھا۔ اس اس سمت کا اندازہ تھا جدھر سے وہ اس ہولناک علاقے میں داخل ہوا تھا۔ وہ اس طرف چل پڑا۔ اس نے کم وبیش دو میل سفر طے کیا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ اس مقام پر پہنچ گیا ہے، جہاں سے وہ اپنے گروہ کے ساتھ اندر گیا تھا وہ اپنے خیمے تک گیا۔ اس نے اسماعیل اور قدومی کو ایک ہی خیمے میں اکٹھے بیٹھے دیکھا۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ حکم کے لہجے میں اسماعیل سے کہا… ”میں نے تمہیں کہا تھا کہ اپنی حیثیت میں رہنا۔ اس کے پاس بیٹھے تم کیا کررہے ہو؟”

”کیا میں اس ویرانے میں اکیلی بیٹھی رہتی؟”… قدومی نے کہا… ”میں نے خود اسے اپنے پاس بلایا ہے”۔

”تمہیں میں اپنے ساتھ صرف اور صرف اپنے لیے لایا ہوں”… مارکونی نے غصے سے کہا… ”میں تمہیں اپنی اجرت دے رہا ہوں۔ میں تمہیں کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ اپنے گھر میں اپنے پاس سو آدمیوں کو بلائو۔ یہاں تم میری لونڈی ہو”۔

گزشتہ رات اسماعیل نے اس پرخلوص دل سے ایسا تاثر طاری کردیا تھا کہ اس کے دل میں مارکونی کے خلاف شک اور ناپسندیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اسے وہ اب اپنا ایک گاہک سمجھنے لگی تھی۔ اب مارکونی نے اسے اپنی لونڈی کہہ دیا تو اس کے دل میں مارکونی کے خلاف نفرت پیدا ہوگئی۔ اس نے اچھے اور برے انسان میں فرق دیکھ لیا تھا۔ حالانکہ اسماعیل نے اسے بالکل نہیں کہا تھا کہ وہ اچھا آدمی ہے بلکہ یہ کہا تھا کہ وہ کرائے کا گناہ گار اور اجرت لے کر قتل کرنے والا آدمی ہے۔ قدومی مارکونی کو دھتکار نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ اپنی طے کی ہوئی اجرت پر آئی تھی جو وہ وصول کرکے گھر رکھ آئی تھی۔ آگے خزانے کے کچھ حصے کا وعدہ تھا جو مشکوک نظر آتا تھا۔ اس نے برداشت نہ کیا کہ مارکونی اسماعیل کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرے۔

اسماعیل مارکونی کو خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔ اس نے مارکونی کو بازو سے پکڑا اور ذرا پرے لے جاکر دھیمی سی آواز میں کہا… ”احمر درویش نے تمہیں شاید میرے متعلق کچھ بھی نہیں بتایا۔ میرے متعلق تم کچھ بھی نہیں جانتے۔ میں تمہیں اچھی طرح جانتا ہوں۔ تم میرے ملک اور میری قوم کی جڑیں کاٹنے آئے ہو۔ میں اتنا بڑا گناہ گار ہوں کہ کرائے پر تمہارا ساتھ دے رہا ہوں۔ میں تمہیں اپنا بادشاہ تسلیم نہیں کرسکتا۔ اپنی پوری اجرت لوں گا اور اگر خزانہ برآمد ہوگیا تو اپنا حصہ الگ وصول کروں گا”۔

”تم ایسی باتیں احمر درویش کے ساتھ کرنا”… مارکونی نے اسے کمانڈروں کی طرح کہا… ”یہاں تم میرے ماتحت ہو۔ خزانہ جو نکلے گا وہ میری تحویل میں ہوگا۔ میں اسے جہاں چاہوں لے جائوں”۔

”سنو سلیمان سکندر!”… اسماعیل نے پہلے کی طرح دھیمی آواز اور ہلکے سے تبسم سے کہا… ”میں جانتا ہوں تم مارکونی ہو، سلیمان سکندر نہیں ہو۔میں ایک عادی مجرم ہوں۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہاری باتیں مجھے مجرم سے مصری مسلمان بنا دیں گی اور میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ مسلمان قومی جذبے کا اتنا اندھا ہوتا ہے کہ اگر مسلمان کی لاش میں یہ جذبہ پیدا ہوجائے تو لاش بھی اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ تمہارا فائدہ اسی میں ہے کہ مجھے مجرم رہنے دو”۔

مارکونی نے محسوس کرلیا کہ یہ شخص بہت گہرا ہے اور پیچیدہ بھی، اس لیے اس سے اس موقع پر دشمنی مول لینی اچھی نہیں۔ اس نے اسماعیل کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اور دوستوں کی طرح مسکرا کر کہا… ”تم بلاوجہ کسی غلط فہمی میں پڑ گئے ہو۔ میں دراصل یہ نہیں چاہتا کہ یہ طوائف تمہارے یا میرے دماغ پر سوار ہوجائے۔ یہ بہت چالاک عورت ہے۔ یہ ہم دونوں میں غلط فہمی پیدا کرکے خزانے پر ہاتھ مارنا چاہتی ہے۔ مجھے اپنا دشمن نہ سمجھو۔ احمر درویش نے تمہیں بتایا نہیں کہ اس نے تمہارے متعلق کیا سوچ رکھا ہے”۔

”کیا تمہیں امید ہے کہ خزانہ مل جائے گا؟”

”مل گیا ہے”… مارکونی نے جواب دیا… ”میں تم دونوں کو لینے آیا ہوں”۔

اسماعیل اسے بڑی گہری نظروں سے دیکھتا رہا۔ قدومی بھی اسے دیکھتی رہی۔ اس کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار بڑے نمایاں تھے۔ مارکونی نے اس آدمی کو آواز دی جسے وہ اونٹوں کی دیکھ بھال کے لیے چھوڑ گیا تھا۔ اسے کہا کہ وہ اونٹوں کو ایک دوسرے کے پیچھے باندھ کر لے آئے۔ خیمے بھی لپیٹ لیے گئے۔

٭ ٭ ٭

مارکونی انہیں وہاں لے گیا جہاں اس کے دوسرے آدمی تھے اور جہاں فرعون ریمینس کا خفیہ مدفن تھا۔ قدومی نے ایسی سرسبز جگہ دیکھی تو بہت حیران ہوئی۔ ایک اونچی پہاڑی کے دامن میں ننھی سی جھیل تھی۔ پہاڑی کے نیچے سے پانی پھوٹتا تھا۔ یہ قدرت کا کرشمہ تھا۔ مارکونی ننگے قبیلے کے بوڑھے سردار کے پاس چلا گیا۔ اسے مدفن کا سراغ لگانا تھا۔ قدومی اسماعیل کے ساتھ ادھر ادھر ٹہلنے لگی۔ اسے ایک چھوٹے سے بچے کی لاش پڑی دکھائی دی۔ بچہ ننگا تھا اور اس کا جسم خون میں نہایا ہوا تھا۔ قدومی خوف سے کانپنے لگی۔ کچھ اور آگے گئے تو دو لاشیں اکٹھی پڑی تھیں۔ یہ بڑی عمرکے آدمیوں کی تھیں۔ دونوں میں تیر پیوست تھے اور جب وہ اسماعیل کے ساتھ فراخ جگہ گئی جہاں مارکونی کے آدمی اوپر سے اترے تھے، وہاں اسے کئی اور لاشیں نظر آئیں۔ ان میں پانچ چھ لاشیں بچوں کی بھی تھیں۔ تمام لاشوں کے منہ اور آنکھیں کھلی ہوئیں اور چہروں پر اذیت اور کرب کے بھیانک تاثرات تھے۔ قدومی کسی بڑی ہی حسین دنیا کی عورت تھی۔ اس نے ایسا ہیبت ناک منظر کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا۔ ایک بہت ہی چھوٹے سے بچے کی لاش دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔

مارکونی کے تین چار آدمی چیخ سن کر دوڑے آئے۔ قدومی کو چکر آگیا تھا اور اسماعیل نے اسے تھام لیا تھا۔ مارکونی کے آدمیوں کو بتایا گیا کہ وہ لاشیں دیکھ کر ڈر گئی ہے۔ ایک آدمی اس کے لیے پانی لینے کو دوڑا۔ قدومی جلدی سنبھل گئی۔ اس نے پوچھا کہ یہ مرنے والے کون تھے اور انہیں کیوں قتل کیا گیا ہے؟ قدومی نے اسماعیل کی طرف دیکھا۔ اس کا رنگ پیلا پڑ گیا تھا۔ اسماعیل نے کہا… ”ہم سے یہ لوگ اچھے تھے جو اس خزانے کی رکھوالی کررہے تھے۔ یہ ننگے آدم خور دیانت دار تھے جنہوں نے جان دے دی، خزانے کا بھید نہ بتایا۔ اگر یہ فرعون کا مدفن اکھاڑ کر مال ودولت نکال لے جاتے تو انہیں کون پکڑ سکتا تھا مگر یہ دیانت دار تھے۔ ہم ڈاکو اور قاتل ہیں جو اپنے آپ کو مہذب سمجھتے ہیں۔ یہ مارکونی کی کارستانی ہے”۔

”میں اس خزانے میں سے کچھ بھی نہیں لوں گی جس کی خاطر ان معصوم بچوں اور بے گناہ آدمیوں کو اس بے دردی سے قتل کیا گیا ہے”… قدومی نے کہا… ”ان کے پاس کوئی ہتھیار نظر نہیں آتا۔ یہ نہتے تھے”۔

اس وقت مارکونی بوڑھے کے ساتھ ایک چٹان کے پیچھے گیا ہوا تھا۔ بوڑھے نے اسے کہا… ”اوپر چلے جائو، وہاں تمہیں ایک بہت بڑا پتھر جو یہیں سے نظر آرہا ہے، اسے تم چٹان ہی سمجھ رہے ہو اگر اسے وہاں سے ہٹا سکو تو تمہیں اس دنیا کا دروازہ نظر آئے گا جس میں ریمینس دوم کا تابوت اور اس کا خزانہ رکھا ہے۔ اس چٹان کو اس وقت سے کسی نہیں ہلایا جب سے یہاں یہاں رکھی گئی ہے۔ پندرہ صدیوں سے اس چٹان کو کسی نے چھوا بھی نہیں۔ ہم پندرہ صدیوں سے اس کی رکھوالی کررہے ہیں۔ میں تمہیں ریمینس کی موت کے واقعات اس طرح سنا سکتا ہوں جیسے وہ کل میرے سامنے مرا ہو۔ یہ مجھے باپ اور دادا نے سنائے تھے۔ دادا کو اس کے باپ اور دادا نے سنائے تھے اور اس طرح پندرہ صدیوں کی باتیں میرے سینے میں آئیں جو میں نے اپنے قبیلے کو سنا دی ہیں ”۔

”میں یہ باتیں بعد میں سنوں گا”… مارکونی نے بیتاب ہوکر کہا اور وہ چٹان پر چڑھ گیا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اوپر کی مخروطی چٹان الگ ہے یا الگ کی جاسکتی ہے۔ اس نے ادھر ادھر سے دیکھنے کی کوشش کی مگر اسے کوئی ایسی جگہ نظر نہ آئی جس سے یہ چٹان الگ معلوم ہوتی ہے۔ وہ نیچے اتر آیا۔

”میں جانتا ہوں، تم یقین نہیں کرو گے کہ اس چٹان کے دو حصے ہیں”… بوڑھے نے کہا… ”اوپر کا حصہ جو پیچھے پہاڑ کے ساتھ ملا ہوا ہے، پہاڑ اور چٹان کا حصہ معلوم ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیں۔ یہ انسانی ہاتھوں کا کمال ہے۔ اس کی ساخت قدرتی لگتی ہے لیکن یہ انسانوں کی کاریگری ہے۔ ریمینس نے یہ اپنی نگرانی میں بنوایا تھا۔ اس کے نیچے اور پہاڑ کے سینے میں جو دنیا آباد ہے، وہ ریمینس نے اپنی زندگی میں تیار کرائی تھی اور اسے باہر کی دنیا کے انسانوں سے تاقیامت چھپائے رکھنے کے لیے اس نے یہ چٹان بنوائی، رکھوا کر دیکھی اور ان آدمیوں کو قید میں ڈال دیا تھا جنہوں نے اس کا مدفن

اور چٹان تیار کی تھی۔ وہ مرگیاتو اس کا تابوت یہاں لایا گیا۔ اس کا ضرورت کا سامان اندر رکھا گیا۔ کاریگروں کو قید سے نکال کر اوپر چٹان رکھوائی گئی اور ان تمام آدمیوں کو قتل کردیا گیا۔ بارہ آدمیوں کو یہاں غاروں میں آباد کیا گیا۔ انہیں مصر کی بارہ خوبصورت عورتیں دی گئیں۔ انہیں غاروں میں رہنے کو کہا گیا۔ ان کے ذمے اس جگہ کی رکھوالی تھی۔ آج تم نے جنہیں قتل کردیا اور میں جو زندہ ہوں، انہی بارہ آدمیوں اور بارہ عورتوں کی نسل سے ہیں”۔

”اس چٹان کو ہم وہاں سے ہٹا کس طرح سکتے ہیں؟”… مارکونی نے پوچھا۔

”تمہاری آنکھیں کہاں ہیں؟”… بوڑھے نے پوچھا… ”تمہاری عقل کہاں ہے؟”… اور اس نے کہا… ”چٹان کی چوٹی دیکھو۔ کیا تم اسے رسے کے ساتھ سے نہیں باندھ سکتے؟ اگر تمہارے آدمیوں میں طاقت ہے تو مل کر رسے کو کھینچیں تو چٹان نیچے آسکتی ہے”۔

مارکونی مدفن کو بہت جلد بے نقاب کرنے کے لیے بیتاب تھا۔ اس نے اپنے آدمیوں کو بلایا۔ رسے منگوائے اور دو رسے اوپر والی چٹان کی ابھری ہوئی چوٹی کے ساتھ بندھوا دئیے۔ اس نے تمام آدمیوں سے کہا کہ نیچے سے رسہ پوری طاقت سے کھینچیں۔ وہ خود اوپر چلا گیا۔ نیچے سے جب سب نے زور لگایا تو اس نے دیکھا کہ بڑی چٹان ہل رہی تھی۔ ایک بار یہ اتنی زیادہ ہل گئی کہ اسے اس کے نیچے خلا نظر آگیا۔ اس کا حوصلہ بڑھ گیا۔ اس نے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ اس کے آدمیوں نے اور زور لگایا تو چٹان سرک گئی۔ مارکونی نے اپنے آدمیوں کو ذرا آرام کرنے کو کہا۔سورج سیاہ پہاڑ کے پیچھے چلا گیا تھا۔ مارکونی کے پاس شراب کا ذخیرہ تھا۔ اس نے شراب کا مشکیزہ منگوا کر کہا پیو اور اس چٹان کو کنکر کی طرح نیچے پھینک دو۔

سب شراب پر ٹوٹ پڑے۔ مارکونی نے پرجوش لہجے میں کہا… ”میں آج رات تمہیں دو اونٹ بھون کر کھلائوں گا”… تھوڑی دیر بعد شراب نے سب کی تھکن دور کردی اور ان میں نئی تازگی آگئی۔ اتنے میں سورج افق سے بھی نیچے چلا گیا تھا۔ مشعلیں جلا کررکھ لی گئیں اور سب نے ایک بار پھر زور لگانا شروع کیا۔ مارکونی اوپر کھڑا تھا۔ اسے مشعلوں کی ناچتی روشنی میں چٹان کا بالائی حصہ آگے کو جھکتا اور کچھ سرکتا نظر آیا۔ اس نے اور زیادہ جوش سے نعرے لگانے شروع کردئیے۔ اچانک چٹان مہیب آواز کے ساتھ سرک گئی اور الٹ کر نیچے کو لڑھک گئی جہاں مارکونی کے آدمی تھے وہ جگہ تنگ تھی۔ ان کے پیچھے بھی ایک پتھریلی ٹیکری تھی۔ اوپر سے چٹان اتنی تیزی سے آئی کہ نیچے سے آدمی بھاگ نہ سکے۔ روشنی بھی کم تھی۔ پہاڑوں اور چٹانوں میں گھری ہوئی یہ دنیا بیک وقت کئی ایک چیخوں سے لرز اٹھی اور سکوت طاری ہوگیا۔ مارکونی دوڑتا نیچے آیا۔ ایک مشعل اٹھا کر دیکھا۔ گری ہوئی چٹان کے نیچے سے خون بہہ رہا تھا۔ کسی کا ہاتھ نظر آرہا تھا، کسی کی ٹانگ اور کسی کا سر اورکچھ ایسے بھی تھے جو درمیان میں نیچے آگئے تھے۔

مارکونی کو کسی کے دوڑنے کی آہٹیں سنائی دیں۔ کوئی بچ بھی گئے تھے، وہ بھاگ گئے تھے۔ اس نے ٹیکری پر دیکھا، وہاں چار انسان کھڑے تھے۔ ایک بوڑھا تھا، دوسرا اسماعیل، تیسرا مارکونی کا ایک ساتھی جو ہانپ رہا تھا۔ وہ بھاگا نہیں تھا اور چوتھا انسان قدومی تھی جو سراپا خوف بنی کھڑی تھی۔ مارکونی آہستہ آہستہ ٹیکری پر آیا۔ اس نے چاروں کو باری باری دیکھا۔ سب خاموش تھے۔ سب سے پہلے بوڑھا بولا۔ اس نے کہا… ”میں نے تمہیں خبردار کردیا تھا کہ مجھے تمہاری آنکھوں میں موت نظر آرہی ہے۔ میں نے اپنے فرض کو نظر انداز کرکے تمہیں یہ بھید بتا دیا تھا کہ یہ موت کا بھید ہے اور موت میرا فرض پورا کردے گی… کیا تم واپس چلے جائو گے؟”

”نہیں!”… مارکونی نے آہستہ سے کہا… ”میرے یہ ساتھی میرے ساتھ ہیں، یہ میرا ساتھ دیں گے”۔ اس

نے ان سے پوچھا… ”معلوم ہوتا ہے، کوئی زندہ نکل گئے ہیں، کون کون بھاگا ہے؟”

”مجھ سے پوچھو”… بوڑھے نے کہا… ”تمہارے چار آدمی میرے دو آدمیوں کے ساتھ بھاگ گئے ہیں۔ میرے آدمی انہیں باہر کا راستہ نہیں بتائیں گے۔ انہیں اب اندر بھٹک بھٹک کر مرنا ہے۔ بہتر ہوتا کہ وہ چٹان کے نیچے آکر مرجاتے۔ یہ موت آسان تھی۔ آج رات کے لیے یہ کام بند کردو۔ میں صبح تمہیں اندر لے جائوں گا”۔

مارکونی پر اس حادثے کا کوئی اثر معلوم نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بوڑھے کو اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ اسماعیل نے بوڑھے کو ایک چادر دی جو اس نے اپنے اوپر ڈال لی۔ قدومی پر خاموشی طاری تھی۔ وہ ان عورتوں کو بھی دیکھ چکی تھی جنہیں مارکونی نے یرغمال بنا کے رکھا ہوا تھا۔ وہ اب کسی اور جگہ تھیں۔

”تم میرے ایک آدمی کو کھا گئے تھے”۔ مارکونی نے کہا۔ ”اس سے پہلے تم نے کتنے انسان کھائے ہیں؟”

”جتنے ہاتھ لگ سکے”… بوڑھے نے جواب دیا… ”میں بتا نہیں سکتا کہ ہمارے نسل میں انسانی گوشت کب داخل ہوا جو تاریخ میرے کانوں میں ڈالی گئی ہے اس میں پندرہ صدیوں پرانی ایک پیشن گوئی شامل ہے۔ کسی نے کہا تھا کہ جو لوگ خدائے ریمینس کے مدفن کی حفاظت کریں گے، انہیں ریگزار اپنی ٹھنڈی آغوش میں رکھے گا۔ انہیں پانی اور خواہش سے آزاد کردے گا۔ انہیں یہ بھی ضرورت نہیں رہے گی کہ وہ اپنے ستر ڈھانپیں۔ ان کے دلوں میں ایک دوسرے کی محبت ہوگی۔ ان میں کوئی لالچ نہیں ہوگا۔ لالچ ہی انسان کو قاتل، ڈاکو اور بددیانت بناتا ہے۔ وہ کبھی دولت کا لالچ کرتا ہے اور کبھی عورت کا۔ اس کا دین نہیں رہتا۔ لالچ فساد کی جڑ ہے۔ ہمیں اس لعنت سے آزاد کردیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ایک وقت آئے گا کہ ریمینس کے محافظ انسان کا گوشت کھائیں گے۔ یہاں سے باہر جائیں گے۔ انسان کا شکار کھیلیں گے اور کوئی جانور ملے تو اسے بھی کھائیں گے اگر نہیں کھائیں گے تو ان کی نسل ختم ہوجائے گی”۔

”کیا تم آج بھی فرعونوں کو خدا سمجھتے ہو؟”… قدومی نے بوڑھے سے پوچھا۔

”انسان بڑی کمزور چیز ہے۔ اپنے خدا بدلتا رہتا ہے”… بوڑھے نے کہا… ”اور کبھی انسان خود ہی خدا بن جاتا ہے۔ اس وقت تم لوگ میرے خدا ہو کیونکہ میری جان اور میری بچیوں کی عزت جو تمہاری قید میں ہیں، تمہارے ہاتھ میں ہے۔ میں نے تم پر یہ راز تمہیں خدا سمجھ کر فاش کردیا ہے کیونکہ میں مرنے سے ڈرتا ہوں اور اپنی بچیوں کو بے آبرو کرنے سے ڈرتا ہوں۔ فرعون نے بھی تمہاری طرح اپنے وقت کی مخلوق کی گردن پر بھوک اور بیگار کی چھری رکھ کر کہا تھا کہ میں خدا ہوں۔ انسان نے مجبور ہوکر کہا… ”ہاں! تم ہی خدا ہو”… بھوک اور مفلسی انسان کو حقیقت سے بہت دور لے جا کر پھینک دیتی ہے۔ اس کے اندر کا انسان مرجاتا ہے۔ جسے حقیقی خدا نے اشرف المخلوقات کہا تھا، اس کا صرف جسم رہ جاتا ہے جسے پیٹ کی آگ جلاتی ہے تو وہ اس انسان کے آگے سجدے کرنے لگتا ہے جو اس کے پیٹ کی آگ ٹھنڈی کرتا ہے۔ انسان کی اسی کمزوری نے بادشاہ پیدا کیے۔ ڈاکو اورراہزن پیدا کیے۔ انسان کو حاکم اور محکوم، ظالم اور مظلوم بنایا۔ لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو بھوک نے بدی سے آشنا کیا۔ یہ غلط ہے۔ انسان کو بدکار زروجواہرات نے بنایا ہے… تم کون ہو؟ کیا ہو؟”۔ اس نے قدومی سے پوچھا… ”ان میں سے کس کی بیوی ہو؟ ان میں سے کسے اپنا آدمی کہہ سکتی ہو؟”… بوڑھے کو معلوم ہوچکا تھا کہ قدومی قاہرہ کی رقاصہ ہے۔ قدومی اس کے سوال سے پریشان ہوگئی۔ وہ پہلے پریشان تھی۔ بوڑھے کے سوال نے اس کا پسینہ نکال دیا۔ بوڑھے نے اسے خاموش دیکھ کر کہا… ”تم اپنے حسین چہرے اور جوانی کی بدولت اپنے آپ کو خدا سمجھتی ہو اور تمہاری خواہش کرنے والے تمہیں خدا کہتے ہیں۔ مجھے جنگلی اور وحشی نہ سمجھو۔ میرے پاس کپڑے ہیں جو میں پہن کر کبھی کبھی قاہرہ جایا کرتا ہوں… تمہاری مہذب دنیا کو دیکھتا ہوں، پھر واپس آکر کپڑے اتار دیتا ہوں۔ میں نے تمہاری دنیا میں بگھیوں پر شہزادے سیر کرتے دیکھے ہیں۔ تمہاری طرح شہزادیاں دیکھی ہیں۔ ناچنے اور گانے والی بھی دیکھی ہیں اور انہیں جو نچاتے ہیں، انہیں بھی دیکھا ہے۔ میں نے فرعونوں کے وقتوں کی باتیں سنی ہیں اور آج کے وقت کے فرعون بھی دیکھے ہیں۔ ان سب کا انجام بھی دیکھا ہے۔ تمہارا انجام بھی جو تمہیں ابھی نظر نہیں آرہا، دیکھ رہا ہوں۔ تم نے خزانے کی لالچ میں اتنے بے گناہ انسانوں کا خون کیا۔ اس گناہ کی سزا سے بچ نہیں سکو گے۔ فرعون بھی نہیںبچ سکے تھے۔ میں صبح تمہیں اندر لے جائوں گا۔ ان کا انجام دیکھنا۔ وہ خدا ہوتے تو ان کا یہ انجام نہ ہوتا۔ خدا وہ ہوتا ہے جو انجام تک پہنچایا کرتا ہے، انجام تک پہنچا نہیں کرتا۔ میں نے اس انسان کو کبھی خدا نہیں مانا جو آج پہاڑی کے نیچے ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا ہوا ہے۔ میں اور میرا قبیلہ اس کی حفاظت نہیں کررہے۔ ہم نے دنیا کے لالچ سے بچنے کے لیے اپنا ایک عقیدہ بنالیا ہے۔ ہم اس عقیدے کی حفاظت کررہے ہیں”۔

بوڑھا ٹھہری ٹھہری آواز میں بولتا جارہا تھا۔ قدومی اسے دیکھ رہی تھی اور بوڑھے کی باتوں میں اسے اپنا انجام نظر آرہا تھا۔ مارکونی کے ہونٹوں پر طنزیہ سی مسکراہٹ تھی۔ وہ شراب پی رہا تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا… ”تم اپنی عورتوں کے پاس جائو، صبح جلدی اٹھنا۔ ہمیں اندر جانا ہے”۔

بوڑھا چلا گیا تو مارکونی نے قدومی سے کہا… ”آئو ہم بھی سوجائیں”۔

”میں تمہارے ساتھ نہیں جائوں گی”… قدومی نے کہا۔

مارکونی اس کی طرف لپکا۔ قدومی پیچھے ہٹ گئی۔ مارکونی نے اسے دھمکی دی۔ اسماعیل اس کے آگے آگیا۔ اس نے کچھ نہیں کہا۔ مارکونی کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور مارکونی پیچھے ہٹ گیا۔ وہ جب چلا گیا تو قدومی اسماعیل کے سینے پر سر پھینک کر بچوں کی طرح رونے لگی۔

٭ ٭ ٭

صبح جاگے تو مارکونی نے بوڑھے کو ڈھونڈا، بوڑھا وہاں نہیں تھا۔ عورتوں کو دیکھا، وہ بھی غائب تھیں۔ انہیں آوازیں دیں۔ ادھر ادھر دیکھا۔ ان میں سے کوئی بھی نظر نہ آیا۔ مارکونی کو اب ان کی اتنی ضرورت نہیں تھی۔ مدفن کا دہانہ کھل چکا تھا۔ بوڑھا اگر وہاں ہوتا بھی تو اسے معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہے۔ مارکونی نے اسماعیل، اپنے ساتھی اور قدومی کو اپنے ساتھ لیا اور وہ سب اس چٹان پر چڑھ گئے جہاں مدفن کے اندر جانے کا دہانہ تھا۔ مارکونی نیچے اترا۔ یہ ایک کشادہ گڑھا تھا، جو سرنگ بن کر ایک طرف چلا گیا تھا۔ وہ مشعلیں ساتھ لے گئے تھے، جو جلائی گئیں۔ کچھ دور آگے جاکر سرنگ بند ہوگئی۔ مارکونی نے وہاں الٹی کدال ماری تو ایسی آوازیں آئی جیسے اس کے پیچھے جگہ کھوکھلی ہے۔یہ پتھر کا چوکور دروازہ تھا۔ اس پر ضربیں لگائی گئیں تو کناروں سے خلا نظر آنے لگی۔ سلاخوں اور ہتھوڑوں وغیرہ کی مدد سے اس تراشے ہوئے پتھر کو ہلا لیا گیا اور بہت سی محنت اور مشقت کے بعد اس چوکور پتھر نے اس طرح راستہ دے دیا کہ پیچھے کو گرا۔ اس کے وزن کا یہ عالم تھا کہ اس کے گرنے سے زلزلے کا جھٹکا محسوس ہوا۔ اندر سے پندرہ سولہ صدیوں کی بدبو جھکڑ کی طرح باہر آئی۔ سب پیچھے کو بھاگے اور انہوں نے ناک منہ پر کپڑے لپیٹ لیے۔ ذرا دیر بعد مشعلوں کے ساتھ اندر گئے۔ چند قدم آگے سیڑھیاں نیچے جاتی تھیں۔

سیڑھیوں پر انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیوں کے پنجر پڑے تھے۔ ان کے ساتھ برچھیاں اور ڈھالیں بھی تھیں۔ یہ پہرہ داروں کی ہڈیاں تھیں۔ انہیں اندر زندہ پہرے پر کھڑا کرکے مدفن کے منہ پر اتنی وزنی سل جما دی گئی تھی۔ سیڑھیاں انہیں دور نیچے لے گئیں۔ یہ ایک وسیع کمرہ تھا۔ یہ زمین پتھریلی تھی۔ کاریگروں نے لمبی مدت صرف کرکے دیواریں اور چھت اس طرح تراشی تھی کہ یہ بیسیویں صدی کی عمارت معلوم ہوتی تھی۔ وہاں ایک بڑی ہی خوش نما کشتی رکھی تھی جس کے بادبان لپٹے ہوئے تھے۔ کشتی میں بھی انسانی کھونپڑیاں اور ہڈیاں پڑی تھیں۔ یہ ملاحوں کی تھیں۔ ایک تاریک راستہ جو کا ریگری سے تراشا گیا تھا، ایک اور کمرے میں لے گیا۔ وہاں ایک سجی سجائی گھوڑا گاڑی کھڑی تھی۔ اس کے آگے آٹھ گھوڑوں کی کھونپڑیاں اور ہڈیاں بکھری ہوئی تھی اور بگھی کی آگلی سیٹ پر انسانی ہڈیوں کا ڈھیر تھا۔ اس کمرے میں کئی اور ہڈیوں کے پنجر تھے۔ اس سے آگے ایک اور کمرہ تھا جو صحیح معنوں میں شیش محل تھا۔ چھت اونچی اور دیواروں پر چتر کاری کی گئی تھی۔ ایک دیوار کے ساتھ سیڑھیاں اور ان پر ایک پتھر کی کرسی اور کرسی پر ریمینس کا بت بیٹھا ہواتھا۔ یہ بھی پتھر کا تھا۔

سیڑھیوں پر ہڈیوں کے پنجر اور کھونپڑیاں پڑی تھیں۔ قدومی نے ایک کھونپڑی کے ساتھ موتیوں کا ایک ہار دیکھا جس کے ساتھ ایک نیلا ہیرا تھا۔ کانوں میں ڈالنے والے زیورات تھے اور انگوٹھیاں بھی چند اور ڈھانچوں کے ساتھ اس نے ہار اور زیورات دیکھے۔ مارکونی نے ایک ہار اٹھایا، ڈیڑھ ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی ان موتیوں اور ہیروں کی چمک مانند نہیں پڑی تھی۔ مشعل کی روشنی سے ہیرے رنگا رنگ شعاعیں دیتے تھے۔ مارکونی ہار قدومی کے گلے میں ڈالنے لگا تو قدومی چیخ کر اسماعیل کے پیچھے ہوگئی۔ مارکونی نے قہقہہ لگا کر کہا… ”میں نے کہا تھا کہ تمہیں ملکہ قلوپطرہ بنائوں گا۔ ڈرو مت قدومی! یہ سب ہار تمہارے ہیں”۔

”نہیں!”… قدومی نے لرزتی کانپتی آواز میں کہا… ”نہیں! میں نے ان کھونپڑیوں اور ہڈیوں میں اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ یہ بھی مجھ جیسی تھیں۔ یہ اس ”خدا” کی محبوبہ کا ہار ہے جو یہیں کہیں مرا پڑا ہے۔ میں نے ان کا انجام دیکھ لیا ہے جنہیں تکبر نے ”خدا” بنایا ہے۔ میں نے اپنا خدا دیکھ لیا ہے”… وہ اس قدر گھبرائی ہوئی تھی کہ اس نے اسماعیل کو گھسیٹتے ہوئے کہا… ”مجھے یہاں سے لے چلو۔ مجھے لے چلوں یہاں سے۔ میں ہڈیوں کا پنجر ہوں”… اس کے گلے میں اپنا ہار تھا۔ اس نے یہ ہار اتار کر ہڈیوں پر پٹخ دیا۔ انگلیوں سے بیش قیمت انگوٹھیاں اتار کر پھینک دیں اور چلانے لگی… ”میں نے اپنا انجام دیکھ لیا ہے۔ میں نے خدا دیکھ لیا ہے، مجھے یہاں سے لے چلو”۔

مارکونی ایک اور کمرے میں جاچکا تھا۔ اسماعیل نے قدومی سے کہا… ”ہوش میں آئو، ہم چلے گئے تو یہ سارا خزانہ دونوں صلیبی اٹھالے جائیں گے”… اسماعیل کو ایک اور راستہ نظر آگیا۔ مشعل اس کے ہاتھ میں تھی۔ وہ قدومی کو اس طرف لے گیا اور وہ ایک اور فراخ کمرے میں داخل ہوئے۔ وسط میں ایک چبوترے پر تابوت رکھا تھا، چہرہ ننگا تھا۔ یہ فرعون ریمینس دوم جس کے آگے لوگ سجدے کرتے تھے۔ لاش حنوط کی ہوئی تھی۔ چہرہ بالکل صحیح تھا۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھی۔ اسماعیل اس چہرے کو بہت دیر تک دیکھتا رہا۔ قدومی نے بھی دیکھا، پھر انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ انہوں نے ادھر دھر دیکھا تو وہاں بھی ہڈیوں کے پنجر نظر آئے اور وہیں انہیں بڑے خوش نما بکس بھی دکھائی دئیے۔ ایک بکس کا ڈھکنا کھلا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس میں سونے کے زورات اور ہیرے پڑے تھے۔ ان پر ایک انسانی بازو کی ہڈی اور ایک ہاتھ کی ہڈیاں پھیلی ہوئی تھی۔ بکس کے ساتھ کھونپڑی اور باقی ہڈیاں پڑی تھیں۔

”آہ انسان!”… اسماعیل نے کہا… ”اس شخص نے مرنے سے پہلے یہ زیورات اور ہیرے اٹھانے کی کوشش کی۔ اسے امید ہوگی کہ یہاں سے نکل بھاگے گا مگر دم گھٹنے سے خزانے کے اوپر مرگیا۔ بوڑھے نے ٹھیک کہا تھا کہ انسان کی دشمن بھوک نہیں ہوس ہے”۔ اس نے بکس کی طرف ہاتھ بڑھا کر کہا… ”قدومی! تم بھی ہوس لے کے آئی ہو، میں تمہیں کچھ دے دوں”۔

”نہیں اسماعیل!”… قدومی نے اس کا ہاتھ روکتے ہوئے کہا… ”میری ہوس مرچکی ہے، قدومی مرچکی ہے”۔

اسماعیل نے پھر بھی بکس میں ہاتھ ڈالا۔ قدومی نے چلا کر کہا… بچواسماعیل!۔

اسماعیل استاد تھا۔ وہ ایک طرف گر کر لڑھک گیا اور اٹھا، اس نے دیکھا کہ مارکونی تلوار سونپے اس پر حملے آور ہوا تھا۔ اس کی تلوار کا وار بکس پر پڑا۔ مارکونی کی آواز سنائی دی… ”یہ میرا خزانہ ہے”… اتنے میں مارکونی کا ساتھی بھی آگیا۔ اسماعیل کے پاس خنجر تھا، جس سے وہ تلوار کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ قدومی کو قریب ہی ایک برچھی پڑی نظر آگئی۔ مارکونی اسماعیل پر وار کررہا تھا جو وہ مشعل سے روک رہا تھا۔ مارکونی کے ساتھی نے بھی اسماعیل پر حملہ کیا۔ دونوں صلیبی خزانہ دیکھ کر پاگل ہوچکے تھے۔ قدومی کو انہوں نے نہیںدیکھا کہ وہ کیا کررہی ہے۔ جوں ہی مارکونی کی پیٹھ قدومی کی طرف ہوئی، قدومی نے پوری طاقت سے برچھی اس کے پہلو میں اتار دی۔ برچھی نکال کر ایک اور وار کیا اور اسے لڑھکا دیا۔ اس کا ایک ہی ساتھی رہ گیا۔ وہ قدومی پر تلوار کا وار کرنے کو لپکا تو اسماعیل نے خنجر سے اس کے پہلو سے پیٹ چیر ڈالا۔

قدومی جو خزانے میں سے حصہ لینے گئی تھی، اپنے گلے کا ہار بیش قیمت دو انگوٹھیاں اور کانوں کے زیورات وہاں پھینک کر اسماعیل کے ساتھ باہر نکل آئی۔ دہانے والے دروازے سے نکلتے ہوئے اسماعیل نے جلتی ہوئی مشعل اندر ہی پھینک دی۔ وہ دونوں ان اشیاء کے علاوہ بہت کچھ اندر ہی پھینک آئے تھے۔ قدومی کو جب باہرکی تازہ ہوا لگی تو اس نے اسماعیل سے کہا… ”ہم کہاں سے آئے ہیں؟ کیا تم مجھے پہچان سکتے ہو؟ میں کون ہوں؟”

”میں بھی کچھ ایسے ہی محسوس کررہا ہوں”۔ اسماعیل نے کہا۔ ”ہم شاید سارے گناہ اندر ہی پھینک آئے ہیں”۔

اس علاقے سے باہر نکلنے کا راستہ انہیں معلوم تھا۔ وہ باہر نکل گئے۔ باہر تھوڑے سے اونٹ کھڑے تھے، باقی معلوم نہیں کہا غائب ہوگئے تھے۔ وہ دو اونٹوں پر بیٹھے اور قاہرہ کی سمت روانہ ہوگئے۔

٭ ٭ ٭

وہ اگلی رات تھی۔ آدھی رات گزر گئی تھی، جب غیاث بلبیس نے قدومی اور اسماعیل کی ساری داستان ہر ایک تفصیل کے ساتھ سن کر لمبی آہ بھری اور کہا… ”مجھے صلاح الدین ایوبی کی باتیں اب صحیح معلوم ہورہی ہیں۔ اس نے کہا تھا ان خزانوں سے دور رہو”۔

غیاث بلبیس شہری امور کا کوتوال تھا۔ اسماعیل اور قدومی اسے اچھی طرح جانتے تھے۔ وہ گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتے تھے۔ وہ صحرا سے لوٹ کر احمر درویش کے پاس جانے کے بجائے غیاث بلبیس کے پاس چلے گئے اور اسے ساری واردات سنا کر بتایا کہ اس کا اصل سرغنہ احمر درویش ہے۔ غیاث بلبیس نے اسی وقت علی بن سفیان کو اپنے پاس بلا لیا۔ اسے یہ واردات سنائی۔ احمر معمولی حیثیت کا آدمی نہیں تھا۔ ان دونوں نے سلطان ایوبی کو جا جگایا اور اجازت مانگی کہ وہ احمر درویش کو گرفتار کرلیں۔ انہیں اجازت مل گئی۔ انہوں نے فوج کے کچھ آدمی ساتھ لیے اور احمر درویش کے گھر چھاپہ مارا۔ سارے گھر کی تلاشی لی۔ وہاں سے وہ نقشے اور کاغذات برآمد ہوئے جو پرانی دستاویزات کے پلندے سے غائب تھے۔

صبح علی بن سفیان اور غیاث بلبیس کے ساتھ فوج کے ایک بڑے دستے کو اس پراسرار علاقے کی طرف بھیجا

گیا، جہاں ریمینس کا مدفن تھا۔ سلطان ایوبی نے حکم دیا تھا کہ ثبوت وغیرہ دیکھ کر مدفن کو اس طرح بند کردیا جائے جس طرح پہلے تھا۔ کسی کو اندر نہ جانے دیا جائے۔ اسماعیل رہنمائی کررہا تھا۔ وہاں گئے تو وہ جگہ خونچکاں کہانی بیان کررہی تھی۔ فوج کی مدد سے مدفن کے دہانے کو اسی وزنی چوکور پتھر سے بند کردیا گیا۔ جو نیچے پڑی تھی۔ اسے فوج کی ایک بڑی جمعیت نے رسوں اور زنجیروں سے اوپر کیا اور فرعون ایک بار پھر نظروں سے اوجھل ہوگیا مگر اب وہ اپنے جیسے دو اور گناہ گاروں کی لاشیں اپنے مدفن میں لے گیا۔

اسکے ساتھ ھی جب حزانہ ملا بھی حتم ھوا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: