Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 16

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 16

–**–**–

اسلام کی پاسبانی کب تک کرو گے؟

صلیبیوں کا سن ١١٧٤ء دنیائے اسلام کے لیے اچھا ثابت نہ ہوا۔ یہ مسلمانوں کا سن ٥٦٩ہجری تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان نے سال کے آغاز میں یہ خبر سنائی کہ عکرہ میں اپنا ایک جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا ہے۔ یہ اطلاع ایک اور جاسوس لایا تھا جو ان دونوں کے ساتھ تھا۔ یہ جاسوس کچھ قیمتی معلومات بھی لایا تھا لیکن ایک جاسوس کی شہادت اور دوسرے کی گرفتاری نے سلطان ایوبی کو پریشان کردیا۔ علی بن سفیان بھانپ گیا کہ سلطان ایوبی کچھ زیادہ ہی پریشان ہوگیا ہے۔ فوجی سراغ رسانی اور جاسوسی کا یہ ماہر سربراہ جانتا تھا کہ سلطان ایوبی نے سینکڑوں فوجیوں کی شہادت پر بھی کبھی پریشانی اور افسوس کا اظہار نہیں کیا لیکن ایک چھاپہ مار یا کسی ملک میں بھیجے ہوئے ایک جاسوس کی شہادت کی خبر سن کر اس کا چہرہ بجھ جایا کرتا تھا۔

اب ایک جاسوس کی شہادت اور ایک کی گرفتاری کی اطلاع پر علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے چہرے پر رنج کا تاثر دیکھا تو اس نے کہا… ”امیر محترم! آپ کا چہرہ اداس ہوتاہے تو لگتا ہے سارا عالم اسلام ملول ہوگیا ہے۔ اسلام کی آبرو جانوں کی قربانی مانگتی ہے۔ ایک دن ہم دونوں کو بھی شہید ہونا ہے۔ ہمارے دو جاسوس ضائع ہوگئے ہیں تو میں دو اور بھیج دوں گا۔ یہ سلسلہ رک تو نہیں جائے گا”۔

”یہ سلسلہ رک جانے کا مجھے خدشہ نہیں علی!” سلطان ایوبی نے رنجیدہ سی مسکراہٹ سے کہا… ”کسی چھاپہ مار کی شہادت میرے ذہن میں یہ سوچ بیدار کردیتی ہے کہ ایک یہ سرفروش ہیں جو ہماری نظروں سے اوجھل، وطن سے دور، اپنے بیوی بچوں، بہن بھائیوں اور ماں باپ سے دور دشمن کے ملک میں تن تنہا اپنا فرض ادا کرتے ہیں اور جان کی قربانی دیتے ہیں اور ایک یہ ایمان فروش ہیں جو گھروں میں بادشاہوں کی طرح رہتے، عیش وعشرت کرتے اور اسلام کی جڑیں کاٹنے میں اپنے دشمن کا ہاتھ بٹاتے ہیں”۔

”کیا آپ پسند فرمائیں گے کہ سالاروں، نائب سالاروں اور تمام کمان داروں کو باقاعدہ وعظ دئیے جایا کریں؟” علی بن سفیان نے کہا… ”آپ انہیں مہینے میں ایک بار اسلام کی عظمت اور صلیبیوں کے عزائم کے متعلق وعظ دیا کریں۔ میرا خیال ہے کہ جن کا رجحان دشمن پروری کی طرف ہے، انہیں بتایا جائے کہ ان کا دشمن کون ہے اور کیسا ہے تو وہ اپنے خیالات میں تبدیلی پیدا کرلیں گے”۔

”نہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”جب انسان ایمان بیچنے پر آتا ہے تو اس کے آگے قرآن رکھ دو تو وہ اس مقدس کتاب کو اٹھا کر ایک طرف رکھ دے گا۔ ایک طرف صرف الفاظ ہوں اور دوسری طرف دولت، عورت اور شراب تو انسان الفاظ سے متاثر نہیں ہوتا۔ الفاظ نشہ دے سکتے ہیں، بادشاہی نہیں دے سکتے۔ ہماری قوم کے غدار بچے نہیں، وہ گنوار اور جاہل نہیں۔ وہ سب حاکم ہیں۔ فوج اور حکومت کے اونچے عہدے کے لوگ ہیں۔ وہ سپاہی نہیں۔ دشمن کے ساتھ سازباز حاکم ہی کیا کرتے ہیں۔ سپاہی لڑتے اور مرتے ہیں۔ انہیں جھانسے دے کر بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ میں کسی کو وعظ اور خطبہ نہیں دوں گا۔ خطبے دینے والے حکمران دراصل کمزور اور بددیانت ہوتے ہیں۔ وہ قوم کا دل الفاظ سے اور جوشیلے خطبوں سے پرچایا کرتے ہیں۔ خطبے اور تقریریں کمزوری کی علامت ہوتی ہیں۔ میں فوج اور قوم سے یہ نہیں کہوں گا کہ ہم فاتح اور خوشحال ہیں۔ میں حالات کو بدلوں گا پھر حالات بتائیں گے کہ ہم امیر ہیں یا غریب، فاتح ہیں یا شکست خوردہ۔ قوم اور فوج مجھے سے اناج مانے گی تو میں انہیں الفاظ کی خوراک نہیں دوں گا۔ غداروں کو میں سزا دوں گا۔ انہیں جینے کے حق سے محروم کردوں گا۔ علی بن سفیان! مجھے الفاظ میں نہ الجھائو۔ اگر مجھے بولنے کی عادت پڑ گئی تو میں جھوٹ بولنا بھی شروع کردوں گا”۔

مصر میں بغاوت کا جو خطرہ پیدا ہوگیا تھا، وہ ختم کردیا گیا تھا۔ اعلیٰ عہدوں کے چند ایک حاکم پکڑے گئے اور سزا پاچکے تھے۔ دونے خود ہی سلطان ایوبی کے پاس آکر اقبال جرم کیا اور معافی لے لی تھی۔ سلطان ایوبی کا یہ کہنا بالکل صحیح تھا کہ غداری اور بے اطمینانی پیدا کرنے کے ذمہ دار مفادپرست حاکم ہوتے ہیں۔ فوج اور قوم کو گمراہ کرکے سبز باغ دکھائے جاتے اور بغاوت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ مصر میں ١١٧٤ء کے آغاز تک فوج میں بغاوت کا نام ونشان تک نہ رہا تھا۔ البتہ صلیبی جاسوسی اور تخریب کاری میں بدستور مصروف تھے۔ صلیبیوں کے جاسوس اور تخریب کار مصر میں موجود اور سرگرم تھے۔ یہ سلسلہ روکا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ سلطان ایوبی نے بھی اپنے جاسوس ان علاقوں میں بھیج رکھے تھے جو صلیبیوں کے قبضے میں تھے۔ سلطان ایوبی اس زمین دوز جنگ کا ماہر تھا۔

پاک فلسطین کی سرزمین کا ایک مقام تھا جو اس لحاظ سے اہم تھا کہ وہاں صلیبیوں کا سب سے بڑا پادری ہے جسے صلیب اعظم کا محافظ کہا جاتا تھا، رہتا تھا۔ وہیں سے صلیبی کمانڈر ہدایات اور حوصلہ افزائی حاصل کرتے تھے اور عکرہ اس دور میں صلیبیوں کی ہائی کمانڈ کا ہیڈ کوارٹر بن گیا تھا۔ جب نورالدین زنگی نے کرک کا قلعہ فتح کرلیا تو صلیبی عکرہ کو ہیڈکوارٹر بنا کر بیت المقدس کو سلطان ایوبی اور نورالدین زنگی سے بچانے کی سکیمیں بنا رہے تھے۔ وہاں کے حالات معلوم کرنے اور دشمن کی سکیم کی اطلاع کرک میں زنگی کو یا قاہرہ میں سلطان ایوبی کو پہنچانے کے لیے تین جاسوس بھیج دئیے گئے تھے۔ ان کا کمانڈر عمران نام کا ایک نڈر اور ذہین جاسوس تھا۔ یہ علی بن سفیان کا انتخاب تھا۔

یہ تینوں نہایت خوبی سے عکرہ میں داخل ہوگئے تھے۔ جیسا کہ پہلے سنایا جاچکا ہے کہ سلطان ایوبی نے شوبک کا قلعہ اور شہر فتح کیا تو وہاں سے بے شمار عیسائی اور یہودی کرک کی طرف بھاگ گئے تھے۔ مسلمانوں نے کرک پر چڑھائی کرکے یہ شہر بھی لے لیا تو وہاں سے بھی غیرمسلم بھاگے اور مختلف مقامات پر چلے گئے۔ ان دونوں مفتوحہ جگہوں کے اردگرد کے علاقوں کے بھی عیسائی اور یہودی بھاگ گئے تھے۔ سلطان ایوبی کا انٹیلی جنس کا محکمہ بھی اپنی فوج کے ساتھ تھا۔ علی بن سفیان کی ہدایت کے مطابق کئی جاسوس عیسائیوں کے بہروپ میں عیسائیوں کے علاقوں میں بھیج دئیے گئے۔ ان میں سے تین کو یہ مشن دیا گیا کہ وہ عکرہ سے جنگی معلومات حاصل کرکے قاہرہ بھیجیں۔ انہیں وہاں صلیبی فوج کی نقل وحرکت پر نظر رکھنی تھی۔ غیرمسلم آبادی میں مسلمان فوج کی دہشت بھی پھیلانی تھی اور یہ اطلاع بھی دینی تھی کہ وہاں کس قسم کی تباہ کاری )سبوتاژ( کی جاسکتی ہے۔

یہ تینوں لٹے پٹے عیسائیوں کے بہروپ میں عکرہ داخل ہوگئے۔ ان دنوں وہاں یہ حالت تھی کہ عیسائیوں اور یہودیوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ وہ سب ہراساں تھے اور پناہیں ڈھونڈ رہے تھے۔ پناہ کے بعد روزگار کا مسئلہ تھا۔ عمران اور ان کے دونوں جاسوسوں کو وہاں عیسائیوں کی حیثیت سے پناہ مل گئی۔ تینوں ذہین اور تربیت یافتہ تھے۔ عمران سیدھا بڑھے پادری کے پاس چلا گیا۔ اپنے آپ کو کسی ایسے علاقے کا پناہ گزین ظاہر کیا جس پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ اس نے اس طرح باتیںکیں جیسے اس پر مذہب کا جنون طاری ہے اور وہ خدا کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کی بیوی اور بچے مسلمانوں کے ہاتھوں مارے گئے ہیں۔ اسے ان بچوں کا اور بیوی کا کوئی غم نہیں، اس نے بیتابی سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ کلیسا کی خدمت کرنا چاہتا ہے کیونکہ اس نے سنا ہے کہ خدا اور روحانی سکون کلیسا میں ہے۔ اس نے اپنانام جان گنتھر بتایا۔

”…اور میں نے تو اسلام قبول کر ہی لیا تھا”۔ عمران نے پادری سے کہا… ”ان کے ایک مولوی نے کہا تھا کہ خدا مسجد میں ہے، میری بیوی اور میرے بچے مجھ سے نالاں اور شاکی تھے کہ میں کوئی کام کاج نہیں کرتا تھا۔ خدا اور روحانی سکون کی تلاش میں مارا مارا پھرتا رہتا تھا۔ میں خدا کے وجود پر یقین رکھتا ہوں۔ وہ خدا ہی تھا جس نے میری بیوی کو مسلمانوں کے ہاتھوں مروا کر اپنی پناہ میں لے لیا کیونکہ جو اس کا خاوند تھا، اسے روٹی نہیں دیتا تھا۔ وہ خدا ہی تھا جس نے میرے بچوں کو بھی سنبھال لیا کیونکہ وہ ماں کے بغیر رہ نہیں سکتے تھے اور میں جو ان کا باپ تھا، ان کی طرف سے بے پروا تھا۔ میں مسلمان ہوچلا تھا مگر مسلمانوں نے میرے معصوم بچوں کو مار ڈالا۔ انہوں نے ہم پر بہت مظالم ڈھائے۔ میں جان گیا کہ خدا مسلمان کے سینے میں نہیں ہے، کہیں اور ہے”۔

اس نے اچانک پادری کے کندھے تھام کر اسے جھنجھوڑا اور دانت پیس کر پوچھا… ”مقدس باپ! مجھے بتائو میں پاگل تو نہیں ہوگیا؟ میں اپنی جان اپنے ہاتھوں لے لوں گا۔ میں اگلے جہان تمہارا گریبان پکڑ کر خدا کے سامنے لے جائوں گا اور کہوں گا کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہیں، ایک ڈھونگ تھا۔ اس نے مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکے دئیے ہیں”۔

اس کی ذہنی کیفیت ایسی ہوگئی کہ صلیب اعظم کا محافظ چونک پڑا۔ اس نے عمران کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ”تم میرے غمزدہ بیٹے ہو۔ خدا تمہارے اپنے سینے میں ہے جو تمہیں خدا کے بیٹے کے معبد میں نظر آئے گا۔ تم عیسائی ہو جان گنتھر! تم اسی مذہب اور اسی روپ میں خدا کو پالو گے۔ تم جائو، ہر صبح میرے پاس آجایا ک رو۔ میں تمہیں خدا دکھا دوں گا”۔

”میں کہیں نہیں جائوں گا مقدس باپ!”۔ عمران نے کہا… ”میرا کوئی گھر نہیں، دنیا میں میرا کوئی نہیں رہا۔ مجھے اپنے پاس رکھیں۔ میں آپ کی اور خدا کے بیٹے کی معبد کی اتنی خدمت کروں گا، جتنی آپ نے بھی نہیں کی”۔

عمران نے علی بن سفیان سے تربیت لی تھی۔ اسے اور اس کے ساتھیوں کو چونکہ صلیبیوں کے راز معلوم کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اس لیے انہیں عیسائیت کے متعلق گرجوں کے اندر کے آداب اور طور طریقوں کے متعلق نہ صرف معلومات دی گئیں بلکہ ریہرسل کو ایسی خوبی سے عملی شکل دی کہ بڑا پادری اور اس کے چیلے چانٹے اس سے بہت متاثر ہوئے اور اسے گرجے میں رکھ لیا۔ عمران نے پادری کی خدمت ایسا والہانہ انداز سے شروع کردی کہ وہ پادری کا خصوصی ملازم بن گیا چونکہ وہ ذہین بھی تھا، اس لیے اس نے پادری کے دل پر قبضہ کرلیا۔ پادری نے تسلیم کرلیا کہ یہ شخص غیرمعمولی طور پر ذہین ہے لیکن اس پر مذہب کا جنون اتنی شدت سے طاری ہوگیا ہے کہ اس کی ذہانت بے کار ہورہی ہے۔ پادری نے اس کی تعلیم وتربیت شروع کردی۔

٭ ٭ ٭

عمران کا ایک ساتھی ایک عیسائی تاجر کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ کرک سے بھاگا ہوا عیسائی ہے جہاں اس کا سارا خاندان مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ اس نے اپنی داستان غم ایسے جذباتی انداز سے سنائی کہ تاجر نے اسے اپنے پاس ملازم رکھ لیا۔ وہ رحیم ہنگورہ نام کا سوڈانی مسلمان تھا۔ عمران کی طرح ذہین، دلیر اور خوبرو۔ اس نے اس تاجر کا انتخاب سوچ سمجھ کرکیا تھا۔ اس نے چند دن صرف کرکے دیکھا تھا کہ وہاں صلیبی فوج کے افسر آتے ہیں اور فوج کے لیے

سامان خریدتے ہیں۔ ٹریننگ اور اپنی عقل کے زور پر وہ تاجر کا قابل اعتماد ملازم بن گیا۔ چند دنوں بعد تاجر نے اسے گھر کے کام بھی دینے شروع کردئیے۔ رحیم نے ایلی مور نام کے عیسائی سے تاجر کے گھر والوں پر بھی اپنا اثر قائم کرلیا۔ اس کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ اس نے تاجر کی بیوی، اس کی جوان بیٹی اور بیٹے کو ایسے انداز سے اپنی تباہی کی کہانی سنائی تھی کہ ان سب کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کا مکان انہی کے مکان جیسا تھا، ایسی ہی سجاوٹ تھی، ایسا ہی سامان تھا۔ اعلیٰ نسل کا ایک گھوڑا تھا۔ تاجرکی بیٹی جیسی خوبصورت جوان بہن تھی۔ اس کے گھر میں حاجت مندوں کو نوکر رکھا جاتا اور بھوکوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔ اب خدا نے یہ دن دکھایا ہے کہ میں نوکری کررہا ہوں۔

تاجرکی بیٹی ایلس اس سے کچھ زیادہ ہی متاثر ہوئی۔ وہ رحیم سے اس کی بہن کے متعلق ہی پوچھتی رہی۔ رحیم نے کہا… ”وہ بالکل تمہاری طرح تھی۔ تمہیں دیکھ کر مجھے بہن اور زیادہ یاد آنے لگی ہے اگر وہ مرجاتی تو اتنا غم نہ ہوتا۔ غم یہ ہے کہ مسلمان اسے اٹھا لے گئے ہیں۔ تم سمجھ سکتی ہو کہ اس کا کیا حال ہورہا ہوگا۔ مجھے اب یہی غم کھائے جارہا ہے کہ اسے مسلمانوں سے کس طرح رہائی دلائوں۔ کبھی دل میں زیادہ ابال اٹھا تو شاید میں پاگلوں کی طرح وہیں جا پہنچوں، جہاں بہن کو چھوڑ آیا ہوں۔ بہن تو نہیں ملے گی، مجھے موت مل جائے گی۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا”۔

ماں بیٹی نے ضرور سوچا ہوگا کہ اتنا خوبرو جوان جوانی کی عمر میں ہی غم میں گھلنے لگا ہے اور اس کی جذباتی حالت بتا رہی ہے کہ اس کا غم ہلکا نہ کیا گیا تو یہ پاگل ہوجائے گا یا خودکشی کرلے گا۔ ایلس جو تاجر کی جوان اور غیرشادی شدہ بیٹی تھی، رحیم کے درد کو اپنے دل میں محسوس کرنے لگی۔ یہاں تک کہ رحیم جب باہر نکلا تو ایلس نے کسی بہانے باہر جاکر رحیم کو راستے میں روک لیا اور کہا وہ ان کے گھر آتا رہا کرے۔ اس نے رحیم سے کچھ جذباتی باتیں کرکے اس کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کی۔ ماں بیٹی نے تاجر سے بھی کہا کہ اس آدمی کا خیال رکھے۔ دراصل رحیم کی شکل وصورت اور ڈیل ڈول ایسی تھی کہ وہ کسی اونچے اور کھاتے پیتے خاندان کا بیٹا لگتا تھا۔ اس تاثر میں اگر کوئی کسر تھی تو وہ اس کی زبان اور اداکاری سے پوری ہوجاتی تھی جس کی اسے ٹریننگ دی گئی تھی۔

تین چار روز بعد وہ تاجر کے پاس بیٹھا تھا کہ اسے اپنا ایک ساتھی جاسوس رضا الجاوہ نظر آگیا۔ رحیم اس کے پیچھے پیچھے گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلتے اس سے پوچھا کہ وہ کیا کررہا ہے۔ معلوم ہوا کہ اسے کوئی ٹھکانہ نہیں ملا۔ رضا تجربہ کار گھوڑ سوار تھا اور گھوڑے پالنے اور سنبھالنے کی مہارت رکھتا تھا۔ رحیم اسے تاجر کے پاس لے آیا اور اس کا تعارف فرانسس کے نام سے کراکے کہا کہ یہ بھی کرک کا لٹا پٹا عیسائی ہے۔ اسے کہیں نوکر کرادیا جائے۔ رحیم نے کہا یہ گھوڑوں کے سائیسوں کا انچارج تھا۔ یہی کام کرسکتا ہے۔ تاجر نے کہا کہ اس کے پاس بڑے بڑے فوجی افسر آتے رہتے ہیں۔ ان کی وساطت سے وہ فرانسس کو ملازمت دلا دے گا… دو تین روز بعد رضا کو اس اصطبل میں ملازمت مل گئی جہاں فوج کے بڑے افسروں کے گھوڑے رہتے تھے۔

تاجر کے پاس فوج کے افسر آتے رہتے اور وہ ان کے پاس جاتا رہتا تھا۔ رحیم نے دیکھا کہ تاجر ان افسروں کو شراب اور حشیش کے علاوہ چوری چھپے عورتیں بھی دیا کرتا تھا، اس طرح اس نے ان سب کو اپنی مٹھی میں لے رکھا تھا۔ رحیم تاجر کو صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خلاف بڑھکاتا رہتا اور اس خواہش کا اظہار کرتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج پورے عرب اور مصر پر قابض ہوجائے اور کوئی مسلمان زندہ نہ رہے۔ اس خواہش میں وہ بعض اوقات اتنا بیتاب اور بے قابو نظر آتا تھا جیسے عکرہ کے مسلمانوں کا خون پی لے گا۔ تاجر اسے تسلی دیتا رہتا تھا کہ صلیبی فوج اس کی خواہش پوری کردے گی۔ وہ صلیبی فوج کے ان افسروں کو بھی برا بھلا کہنے لگتا تھا جو عکرہ میں بیٹھے عیش کررہے تھے۔ ان جذباتی باتوں کے ساتھ ساتھ رحیم عقلمندی کی باتیں بھی کرتا تھا اور مسلمانوں کو شکست دینے کے لیے ایسے جنگی نقشے اور منصوبے بناتا تھا کہ تاجر اسے غیرمعمولی طور پر دانشمند سمجھتا تھا۔ ایسے ہی جذبات اور دانشمند باتوں کا نتیجہ تھا کہ تاجر نے اسے وہ فوجی راز دینے شروع کردئیے جو اسے فوجی افسروں سے حاصل ہوتے تھے۔

اس کے ساتھ ہی ایلس رحیم کی گرویدہ ہوگئی۔ رحیم نے ابتدا میں اسے بھی اپنے فرض کی ایک کڑی سمجھا لیکن ایلس کے والہانہ پن نے رحیم کے دل میں اس کی محبت پیدا کردی۔ رحیم نے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اپنا فرض پورا کرکے وہ ایلس کو اپنے ساتھ قاہرہ لے جائے گا اور اسے مسلمان کرکے اس کے ساتھ شادی کرلے گا مگر ابھی دونوں کو معلوم نہیں تھا کہ صلیبی فوج کا ایک بڑا افسر اس لڑکی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

رضا الجاوہ بھی تربیت یافتہ جاسوس تھا۔ اصطبل میں اسے فوج کے کسی بڑے افسر کا گھوڑا مل گیا تھا۔ اس افسر نے محسوس کیا کہ رضا عام قسم کا سائیس نہیں بلکہ عقل ودانش بھی رکھتا ہے۔ وہ باتیں ہی ایسی کرتا تھا، جب کبھی یہ افسر اصطبل میں آتا تو رضا اس سے پوچھتا۔ ”صلاح الدین ایوبی کو آپ کب شکست دے رہے ہیں؟” اور پھروہ بتاتا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج میں کیا خوبیاں اور صلیبی فوج میں کیا خامیاں ہیں۔ ایک روز اس نے کوئی ایسی بات کہہ دی جو اگر کوئی جنگی امور کا ماہر نہ کہے تو کم از کم ایک سائیس کے دماغ میں نہیں آسکتی۔ اس افسر نے اسے کہا۔ ”تم کون ہو؟ تمہارا پیشہ سائیسی نہیں ہوسکتا”۔

”آپ کو کس نے بتایا ہے کہ میرا پیشہ سائیسی ہے؟ ”رضا نے کہا ”میں کرک میں گھوڑوں کا مالک تھا۔ میں خود تو فوج میں نہیں تھا، میرے دو گھوڑے جنگ میں گئے تھے۔ یہ تو زمانے کے انقلاب ہیں کہ گھوڑوں کا مالک آج اصطبل میں سائیس ہے۔ مجھے اس کا کوئی غم نہیں، اگر آپ صلاح الدین ایوبی کو شکست دے دیں تو میں باقی عمر آپ کے جوتے صاف کرتے گزار دوں گا”۔

”صلاح الدین ایوبی کی قسمت میں شکست لکھ دی گئی ہے فرانسس!” اس نے رضا سے کہا۔

”لیکن کیسے؟” رضا نے کہا… ”اگر ہمارے بادشاہوں نے کرک اور شوبک پر حملہ کیا اور مسلمانوں کو اسی طرح محاصرے میں لے کر شکست دینے کی کوشش کی جس طرح انہوں نے ہمیں محاصرے میں لیا تھا تو آپ کامیاب نہیں ہوں گے۔ صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی جنگ کے استاد ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ انہوں نے ہماری فوج کو قلعوں سے دور روکنے کا اہتمام کررکھا ہے۔ عقل مندی اس میں ہوگی کہ حملہ کسی ایسی سمت سے کیا جائے جو ایوبی کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو۔ ایوبی اور زنگی قلعوں میں بیٹھے رہیں اور آپ مصر پر چھا جائیں”۔

”ایسے ہی ہوگا”۔ افسر نے معنی خیز مسکراہٹ سے کہا… ”سمندر میں کوئی قلعہ نہیں ہوتا، مصر کے ساحل پر کوئی قلعہ نہیں۔ مصر پر اب صلیب کی حکمرانی ہوگی”۔

یہ ابتدا تھی۔ اس کے بعد رضا نے اس افسر سے کئی ایک راز کی باتیں معلوم کرلیں۔ دشمن اپنا جنگی راز تفصیل سے بیان نہیں کیا کرتا۔ ہوشیار جاسوس اشاروں میں باتیں اگلوا لیتا اور ان اشاروں کو اپنے فن کے مطابق جوڑ کر وہ کہانی بنا لیتا ہے جسے راز کہتے ہیں۔

٭ ٭ ٭

رحیم اور رضا ہر اتوار کو صبح گرجے میں جاتے اور عمران سے ملاقات کرلیتے اور اسے اپنی رپورٹیں بھی دیا کرتے تھے۔ رحیم نے عمران کو بتا دیا تھا کہ تاجر کی بیٹی ایلس اسے بڑی شدت سے چاہنے لگی ہے۔ عمران نے اسے کہا کہ وہ اس کی محبت کو ٹھکرائے نہیں، ورنہ اسے اس جگہ سے نکال دیا جائے اور یہ احتیاط بھی کرے کہ اس کی محبت میں ہی نہ گم ہوجائے مگر رحیم ایلس کے حسن وجوانی میں گم ہوتا چلا جارہا تھا۔ لڑکی نے اسے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ان کی شادی صرف اس صورت میں ہوسکتی ہے کہ وہ عکرہ سے بھاگ چلیں کیونکہ کوئی فوجی افسر لڑکی کے باپ کے ساتھ دوستانہ گانٹھ رہا تھا۔ رحیم نے عمران کو یہ صورتحال نہ بتائی۔

عمران نے پادری کا قرب اور اعتماد اس حد تک حاصل کرلیا تھا کہ اس کا ہمراز درباری بن گیا تھا۔ وہ پادری سے ایسے سوال پوچھتا تھا جن میں ذہانت کی پختگی اور علم کی تشنگی ہوتی تھی۔ پادری اپنی فراغت کے اوقات میں اسے مذہب کے سبق دیا کرتا تھا۔ وہ عمران کو یہ ذہن نشین کرا رہا تھا کہ عیسائیت کا یہ فرض ہے کہ کرۂ ارض سے اسلام کا وجود ختم کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے جنگ کی جائے اور جو بھی ذریعہ کامیاب ہوسکتا ہے، استعمال کیا جائے۔ ضروری نہیں کہ مسلمانوں کو قتل کیا جائے۔ انہیں ہر ذریعے سے عیسائیت میں لانے کی کوشش کی جائے۔ اگر وہ عیسائیت قبول نہ کریں تو ان کے ذہنوں سے اسلام بھی نکال دیا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان میں بدی کا بیج بو دیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اپنی عورتوں کو استعمال کیا جائے۔ یہ عورتیں مسلمان عورتوں میں بدکاری پیدا کریں اور جون لڑکیاں مسلمان نوجوانوں اور ان کے حکمرانوں اور حاکموں کا کردار تباہ کریں۔ چونکہ یہودی بھی مسلمانوں کے دشمن ہیں اور وہ اپنی عورتوں کو استعمال کرتے ہیں، اس لیے مسلمانوں کو تباہ کاری کے لیے یہودی عورتوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مقصد یہ سامنے رکھا جائے کہ مسلمانوں کا نام ونشان مٹانا ہے۔ پھر ہر طریقہ اختیار کیا جائے، وہ خواہ دوسروں کی نظر میں ناجائز، ظالمانہ اور شرمناک ہی کیوں نہ ہو۔

عمران پادری سے ایسی باتیں سنتا اور اطمینان کا اظہار کرتا رہتا تھا۔ وہاں فوجی افسر اور حکومت کے افسر بھی آتے رہتے تھے۔ ان دنوں چونکہ صلیبیوں کو یکے بعد دیگرے دو میدانوں میں شکست کھا کر بھاگنا پڑا تھا، اس لیے عکرہ میں ہر کسی کی زبان پر یہی سوال تھا کہ جوابی حملہ کب کیا جائے گا۔ پادری کی ذاتی محفل میں تو اور کوئی بات ہوتی ہی نہیں تھی۔ عمران وہاں سے قیمتی راز حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا جارہا تھا۔ اس نے یہ بھی معلوم کرلیا کہ صلیبی حکمرانوں میں اتفاق اور اتحاد نہیں ہے۔ ان کی اپنی بادشاہیاں اور سلطنتیں تھیں، وہ چونکہ ہم مذہب تھے، اس لیے صلیب پر ہاتھ رکھ کر انہوں نے اسلام کے خاتمے کی جنگ شروع کردی تھی مگر اندر سے وہ پھٹے ہوئے تھے۔ ان میں ایسے بھی تھے جو درپردہ مسلمانوں کے ساتھ صلح اور معاہدہ کرکے اپنی صلیبی بھائیوں کے ساتھ مل کر جنگ کی تیاریاں بھی کرتے رہتے تھے۔ ان میں قابل ذکر سیزر مینوئل تھا جس نے ایک میدان میں نورالدین زنگی کے ساتھ صلح کرکے تاوان ادا کیا اور مسلمانوں کے جنگی قیدی رہا کردئیے تھے۔ اب سیزر مینوئل دوسرے حکمرانوں کو بڑھکا رہا تھا کہ وہ سب مل کر زنگی پر حملہ کریں۔ حملے کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک زنگی پر اور دوسرا مصر پر۔ اس وقت زنگی کرک میں تھا۔

بہر حال پادری ان کے نفاق پر پریشان رہتا تھا۔ عمران نے اسے یہ نہ کہا کہ جو قوم اپنی لڑکیوں کو بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتی، اس کے افراد ایک دوسرے کو دھوکہ دینے سے کیوں گریز کریں گے۔ میدان میں ہار کر زمین دوز جنگ لڑنے والی قوم کی اخلاقی حالت یہی ہوسکتی ہے کہ اپنے بھائیوں سے بھی دغا اور فریب کریں۔ عمران نے اپنے ذہن میں یہ بات سلطان ایوبی کو بتانے کے لیے محفوظ کرلی کہ اگر اسلام کی صفوں میں غدار نہ ہوں تو صلیبیوں کو فیصلہ کن شکست دے کر ان سے یورپ بھی لیا جاسکتا ہے۔ غدار مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری بن گئے تھے۔ عکرہ کا پادری اور صلیبی حکمران مسلمانوں کی اس کمزوری پر بہت خوش تھے۔ عمران کو وہاں پتا چلا کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کے کردار میں تخریب کاری کی مہم اور تیز کردی ہے۔ اسے مسلمانوں کی چھوٹی چھوٹی ریاستوں کے حکمرانوں کے نام بھی معلوم ہوگئے جو درپردہ صلیبیوں کے اتحادی بن چکے تھے۔ انہیں صلیبی بے دریغ یورپ کی شراب، دولت اور جوان لڑکیاں سپلائی کررہے تھے۔

عمران اور رضا تو اپنے فرائض میں مگن تھے مگر رحیم فرض کے راستے سے ہٹتا جارہا تھا۔ اس کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ اسے تاجر کے گھر کا ہی کوئی کام دیا جائے۔ ایلس کی محبت نے اسے اندھا کرنا شروع کردیا تھا۔ چند دنوں بعد ایلس نے اسے بتایا کہ اس کی شادی ایک ایسے فوجی افسر کے ساتھ کی جارہی ہے جو عمر میں اس سے بہت بڑا ہے۔ بڑا نہ بھی ہوتا تو ایلس رحیم کے سوا کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ اپنی ماں سے منوا چکی تھی کہ اس افسر کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔ اس کا باپ نہیں مانتا تھا۔ وہ ان فوجی افسروں سے ہی دولت کما رہا تھا۔ اپنی لڑکی دینے سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔ ایلس نے ایک روز اپنے گلے میں ڈالی ہوئی صلیب رحیم کے ہاتھ پر رکھ کر اس پر اپنا ہاتھ رکھا اور صلیب کی قسم کھائی تھی کہ وہ رحیم کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کرے گی۔ رحیم نے بھی صلیب پر ایسی ہی قسم کھائی تھی۔

ایک روز پادری کے پاس چار پانچ فوجی افسر آئے اور اس کے خاص کمرے میں جابیٹھے۔ عمران نے ان کے چہروں کے تاثرات سے محسوس کیا کہ کوئی خاص بات ہے۔ عمران پادری کے کمرے میں چلا گیا۔ ایک فوجی افسر بات کرتے چپ ہوگیا۔ پادری نے عمران سے کہا… ”جان گنتھر! تم کچھ دیر باہر ہی رہو۔ ہم کوئی ضروری باتیں کررہے ہیں”۔

عمران دوسرے کمرے میں چلا گیا اور دروازے کے ساتھ کان لگا دئیے۔ وہ لوگ آہستہ آہستہ بول رہے تھے، پھر بھی کام کی باتیں عمران کی سمجھ میں آگئیں۔ جب فوجی افسر چلے گئے تو عمران وہاں سے ادھر ادھر ہوگیا تاکہ پادری کو شک نہ ہو۔ اس نے یہ ارادہ بھی کیا کہ اسی وقت بھاگ جائے اور کہیں رکے بغیر قاہرہ پہنچے اور سلطان ایوبی کو اطلاع کردے کہ حملہ روکنے کی تیاری کرلے مگر پادری نے اسے بلا کر ایسے کام پر لگا لیا کہ وہ فوری طور پر بھاگ نہ سکا۔ اس کے علاوہ اسے رحیم اور رضا سے بھی رپورٹیں لینی تھیں۔ ممکن تھا کہ ان کے کانوں میں بھی یہ خبر پہنچی ہو ، جو اس نے سنی ہے۔ اس نے سوچا کہ ان سے تصدیق ہوجائے تو تینوں اکٹھے عکرہ سے نکل جائیں۔ اس کام کے لیے وہ تین چار روز انتظار کرسکتا تھا لیکن اس کی بیتابی اسے ٹکنے نہیں دے رہی تھی۔

دوسرے دن رضا کے پاس گیا۔ رضا اسے اصطبل میں ملا۔ اس نے پوچھا کہ اسے کوئی نئی خبر ملی ہے؟ رضا نے بتایا کہ کچھ غیرمعمولی سی سرگرمی نظر آرہی ہے اور اس نے اڑتے اڑتے سنی ہے کہ صلیبی جوابی حملہ خشکی کے راستے نہیں کریں گے۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمندر کی طرف سے آئیں گے۔ اب یہ معلوم کرنا ہے کہ ان کے حملے کی تفصیل کیا ہے۔ عمران نے اسے بتایا کہ اس حملے کو صلیبی فیصلہ کن بنانا چاہتے ہیں۔ا س نے جو کچھ سنا تھا، وہ رضا کو سنا دیا اور اسے یہ مشن دیا کہ وہ اس حملے کی تفصیلات معلوم کرے۔ عمران صرف تصدیق کرنا چاہتا تھا، ورنہ وہ تفصیل سے تو آگاہ ہو ہی چکا تھا۔ اس نے رضا سے کہا کہ اب وہ ایک آدھ دن میں یہاں سے روانگی کی تیاری کرے۔ ان کا فرض پورا ہوچکا ہے۔ واپسی کے لیے انہیں گھوڑوں یا اونٹوں کی بھی ضرورت تھی، جو انہیں کہیں سے چوری کرنے تھے۔

عمران رحیم سے ملنا چاہتا تھا تاکہ اسے بھی چوکنا کرکے واپسی کی تیاری کے لیے کہہ دے لیکن رات ہوچکی تھی اور وہ اس کے ٹھکانے پر جانا نہیں چاہتا تھا کیونکہ تاجر نے اسے رہنے کے لیے جو جگہ دے رکھی تھی وہاں جانا ٹھیک نہیں تھا۔ عمران گرجے چلا گیا۔

وہ اگر رحیم کے پاس جاتا بھی تو وہ اسے نہ ملتا۔ وہ اپنے ٹھکانے میں بھی نہیں تھا اور وہ عکرہ میں بھی نہیں تھا۔ جب عمران اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے پریشان ہورہا تھا۔ اس وقت ایلس نے رحیم کو کسی اور ہی پریشانی میں ڈال رکھاتھا۔ ہوا یوں تھا کہ صلیبیوں نے رقص اور کھانے کی محفل منعقد کی تھی۔ ایلس کے امیدوار نے اسے اپنے ساتھ رقص کے لیے کہا تو ایلس نے اسے ٹھکرا دیا اور وہ اس سے کم عمر کے افسروں کے ساتھ ناچتی رہی۔ اس کے امیدوار نے اس کے باپ سے شکایت کی۔ اس کا باپ بھی اس محفل میں موجود تھا، جہاں شراب کی صراحیاں خالی ہورہی تھیں۔ باپ نے ایلس کو ڈانٹ کر کہا کہ وہ اپنے منگیتر کی توہین نہ کرے اور اس کے ساتھ ناچے۔ ایلس ناراض ہوکر گھر چلی گئی اور باپ کو یہ فیصلہ سنا آئی کہ وہ اس بوڑھے کے ساتھ شادی نہیں کرے گی۔

Read More:  Shahzadi Jolia Novel By Rizwan Ali Ghuman – Episode 2

اس کا باپ اور امیدوار اس کے پیچھے گئے۔ وہ دور جاچکی تھی۔ گھر جاکر دیکھا، وہ وہاں نہیں تھی۔ تلاش کرتے کرتے وہ رحیم کے کمرے سے برآمد ہوئی۔ باپ نے اس سے پوچھا کہ وہ یہاں کیا کررہی ہے۔ اس نے تنک کر جواب دیا کہ وہ جہاں چاہے جاسکتی ہے اور جہاں چاہے بیٹھ سکتی ہے۔ اس کے امیدوار کو شک ہوا کہ یہاں معاملہ گڑبڑ ہے۔ ایلس کو باپ گھر لے گیا۔ امیدوار نے رحیم سے پوچھا کہ یہ لڑکی یہاں کیوں آئی تھی… رحیم نے جواب دیا کہ وہ پہلے بھی یہاں آیا کرتی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ امیدوار بڑا افسر تھا، اس نے رحیم کو دھمکی دی کہ وہ یہاں سے چلا جائے ورنہ اسے زندہ نہیں رہنے دیا جائے۔ رحیم کے جسم میں جوانی کا خون تھا۔ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ معاملہ بگڑ گیا۔ تاجر نے آکر بیچ بچائو کرادیا۔ ایلس کے امیدوار نے کہا کہ وہ اس آدمی کو یہاں دیکھنا نہیں چاہتا۔

دوسرے دن تاجر نے رحیم سے کہا کہ وہ اسے ملازمت میں نہیں رکھ سکتا کیونکہ فوج کے اتنے بڑے افسر کو ناراض کرکے وہ اپنا کاروبار تباہ نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے رحیم کو یہ نصیحت کی کہ وہ وہاں سے چلا جائے کیونکہ فوجی افسر اسے کسی جرم کے بغیر قید خانے میں ڈال سکتا ہے۔ رحیم بھول چکا تھا کہ وہ کس مقصد کے لیے یہاں آیا ہے۔ اس نے ایلس کو اپنے ذاتی وقار کامسئلہ بنا لیا۔ اس کے امیدوار کی دھمکی کا وہ عملی جواب دینا چاہتا تھا۔ تاجر اپنی دکان میں تھا۔ رحیم اس کے گھر گیا۔ ایلس سے ملا اور اسے بتایا کہ اس کے باپ نے اسے نوکری سے نکال دیا ہے۔ ایلس اس کے ساتھ بھاگ جانے کو تیار ہوگئی۔ بھاگنے کا وقت شام کے بعد کا مقرر کیا گیا، جب اس کا باپ گھر نہیں ہوتا تھا۔

رات کو اس وقت جب عمران رضا کے پاس بیٹھا اس راز کے متعلق باتیں کررہا تھا، جس کے لیے انہوں نے جان کا خطرہ مول لے رکھا تھا۔ رحیم ایلس کے انتظار میں شہر سے باہر اس جگہ کھڑا تھا جو اسے ایلس نے بتائی تھی۔ ایلس نے اسے کہا تھا کہ وہ باپ کے گھوڑے پر آئے گی اور وہ دونوں ایک ہی گھوڑے پر بھاگیں گے۔ وہ بے صبری سے ایلس کا انتظار کررہا تھا اور ڈر رہا تھا کہ وہ باپ کا گھوڑا کس طرح چرا کر لاسکے گی… لڑکی نے گھوڑا چرا لیا تھا۔ اس پر زین ڈال کر کس لی تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ہوکر نکل بھی آئی تھی۔ رحیم نے جب اسے دیکھا تو اسے یقین نہ آیا کہ یہ ایلس ہے۔ اس کی آواز پر وہ گھوڑے پر اس کے پیچھے سوار ہوگیا۔ کچھ دور تک انہوں نے گھوڑے کی رفتار آہستہ رکھی۔ شہر سے دور جاکر رحیم نے گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ کچھ دیر بعد وہ عکرہ سے کافی دور جاچکے تھے۔

٭ ٭ ٭

آدمی رات کے وقت وہ ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں پانی تھا۔ رحیم نے اس خیال سے گھوڑا روک لیا کہ اسے پانی پلا لیا جائے اور آرام بھی کرلے۔ اسے معلوم تھا کہ آگے بہت دور تک پانی نہیں ملے گا۔ اسے یہ یقین ہوگیا تھا کہ وہ پکڑے نہیں جائیں گے۔ کسی کو کیا خبر کہ وہ کس طرف گئے ہیں۔ اس نے ایلس سے کہا کہ آرام کرلیں۔ سحر کی تاریکی میں روانہ ہوجائیں گے۔

”تم بیت المقدس کا راستہ جانتے ہو؟” ایلس نے پوچھا۔

انہوں نے عکرہ سے بھاگتے وقت یہ طے کیا ہی نہیں تھا کہ انہیں کہاں جانا ہے۔ اب لڑکی نے بیت المقدس کا نام لیا تو رحیم نے کہا… ”بیت المقدس کیوں؟ میں تمہیں وہاں لے جائوں گا جہاں تمہارے تعاقب میں کوئی آنے کی جرأت ہی نہیں کرے گا”۔

”کہاں؟” ایلس نے پوچھا۔

”مصر”۔ رحیم نے جواب دیا۔

”مصر؟” ایلس نے حیرت زدہ ہوکے پوچھا… ”وہ تو مسلمانوں کا ملک ہے، وہ ہمیں زندہ نہیں چھوڑیں گے”۔

”مسلمانوں کو تم نہیں جانتی ایلس!” رحیم نے کہا۔ ”مسلمان بڑی رحم دل قوم ہے۔ تم چل کے دیکھنا”۔

”نہیں!” ایلس نے بدک کر کہا… ”مجھے مسلمانوں سے ڈر آتا ہے۔ بچپن سے مجھے مسلمانوں کے متعلق بڑی غلیظ باتیں بتائی گئی ہیں۔ ہمارے ہاں مائیں اپنے بچوں کو مسلمانوں سے ڈرایا کرتی ہیں۔ مجھے مسلمانوں سے نفرت ہے”۔وہ ڈررہی تھی اور رحیم کے ساتھ لگ گئی تھی۔ اس نے کہا… ”مجھے بیت المقدس لے چلو۔ وہاں ہم شادی کرلیں گے۔ بیت المقدس کدھر ہے؟ میں سمت بھول گئی ہوں”۔

”میں مصر کی طرف جارہا ہوں”۔ رحیم نے کہا۔

ایلس بگڑ گئی اور پھر رونے لگی۔

”تم مسلمانوں سے نفرت کرتی ہو؟”

”بہت زیادہ!”

”اور مجھے سے تمہیں محبت ہے؟”

”بہت زیادہ!”

”اور اگر میں تمہیں یہ بتا دوں کہ میں مسلمان ہوں تو تم کیا کرو گی؟”

”میں ہنسوں گی”۔ ایلس نے کہا… ”مجھے تمہارے لطیفے اور مذاق بہت اچھے لگتے ہیں”۔

”میں مذاق نہیں کررہا ایلس!” رحیم نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔ میں مسلمان ہوں اور ذرا اس قربانی پر غور کرو جو مجھ سے تمہاری محبت نے کرائی ہے۔ میں یہ قربانی بخوشی دے رہا ہوں”۔

”کیسی قربانی؟” ایلس نے کہا… ”تم تو پہلے ہی بے گھر تھے۔ اب ہم اپنا گھر بنائیں گے”۔

”نہیں ایلس!” رحیم نے کہا… ”میں اب بے گھر ہوا ہوں۔ تم اپنے گھر سے بھاگی ہو۔ میرے ساتھ شادی کرکے تم اپنا گھر بسا لوگی لیکن میرا کوئی ٹھکانہ نہیں ہوگا۔ میں اپنے فرض کا بھگوڑا ہوں۔ میں اپنی فوج کا بھگوڑا ہوں… میں جاسوس ہوں۔ عکرہ میں جاسوسی کرنے آیا تھا مگر تمہاری محبت پر میں نے اپنا فرض قربان کردیا ہے”۔

”تم مجھے ڈرا رہے ہو”۔ ایلس نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”چلو سو جائو۔ میں تمہیں جلدی جگا دوں گی”۔

”میں تمہیں ڈرا نہیں رہا ایلس!” رحیم نے کہا… ”میرا نام رحیم ہنگور ہے، ایلی مور نہیں۔ میں تمہیں دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہیں جہاں رکھوں گا، پورے آرام میں رکھوں گا۔ تمہیں تمہارے باپ کے گھر والی بادشاہی نہیں دے سکوں گا لیکن تکلیف بھی نہیں ہونے دوں گا۔ تمہاری زندگی آرام سے گزرے گی”۔

”مجھے اسلام قبول کرنا پڑے گا؟” ایلس نے پوچھا۔

”تو اس میں کیا ہرج ہے؟” رحیم نے کہا… ”تم ایسی باتیں نہ سوچو، وقت ضائع ہورہا ہے۔ سوجائو۔ ہمارا سفر بڑا لمبا ہے۔ باتوں کے لیے بہت وقت ہے”۔

وہ لیٹ گیا۔ ایلس بھی لیٹ گئی۔ ذرا سی دیر بعد ایلس کو رحیم کے خراٹے سنائی دینے لگے۔ اسے نیند نہیں آرہی تھی۔ وہ گہری سوچوںمیں کھو گئی تھی۔

٭ ٭ ٭

رحیم کی آنکھ کھلی تو صبح کا اجالا سفید ہوچکا تھا۔ وہ گھبرا کر اٹھا۔ اسے اتنی دیر نہیں سونا چاہیے تھا، آنکھیں مل کر ادھر ادھر دیکھا۔ وہاں گھوڑا بھی نہیں تھا۔ ایلس بھی نہیں تھی۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، ایک ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا۔ صحرا کی ویرانی کے سوا اسے کچھ بھی نہیں نظر نہ آیا۔ اس نے ایلس کو آواز دی۔ کوئی جواب نہ ملا۔ وہ سوچوں میں کھوگیا، ایک خیال یہ آیا کہ ان کے تعاقب میں کوئی آگیا ہوگا اور وہ ایلس کو سوتے میں اٹھا کر لے گیا ہے۔ اس صورت میں رحیم کو زندہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اسے وہ لوگ قتل کر جاتے یا اسے اغوا کے جرم میں پکڑ لے جاتے۔ حیرت اس پر تھی کہ وہ ایلس کو ایسی خاموشی سے اٹھا کر لے گئے کہ رحیم کی آنکھ ہی نہ کھلی۔ دوسری صورت یہ تھی کہ ایلس خود بھاگ گئی ہے کہ اس نے رحیم کو صرف اس لیے ٹھکرا دیا ہے کہ وہ مسلمان ہے۔

ایلس جہاں کہیں بھی گئی اور اسے جو کوئی بھی لے گیا، رحیم کو اب یہ سوال پریشان کرنے لگا کہ وہ کہاں جائے، عکرہ واپس جانا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ قاہرہ جانے سے بھی ڈرتا تھا۔ اس نے اپنا فرض پورا نہیں کیا تھا۔ اس نے اپنے کمانڈر عمران کو نہیں بتایا تھا کہ وہ جارہا ہے۔ سوچ سوچ کر اس نے ایک بہانہ گھڑ لیا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اب قاہرہ کے بجائے کرک چلا جائے اور وہاں بتائے کہ اسے پہچان لیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہے اور جاسوس ہے۔ وہ بڑی مشکل سے بھاگ کر وہاں سے نکلا ہے۔ اسے مہلت نہیں ملی کہ عمران یا رضا کو اطلاع دے سکتا کہ اس کی گرفتاری کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے… یہ اچھا بہانہ تھا۔ اسے معلوم تھا کہ اسے کوئی یہ تو نہیں کہے گا کہ کوئی ثبوت اور شہادت لائو۔

وہ پانی پی کر کرک کی سمت چل پڑا۔ اسے ایلس کی گمشدگی پریشان کررہی تھی اور اسے افسوس ہورہا تھا کہ اسے کبھی بھی پتا نہ چل سکے گا کہ ایلس کہاں غائب ہوگئی ہے۔

وہ بمشکل تین میل چلا ہوگا کہ اسے دوڑتے گھوڑوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیں۔ اس نے پیچھے دیکھا، گرد کا بادل اڑا آرہا تھا۔ اس نے ادھر ادھر دیکھا، چھپنے کی کوئی جگہ نہیں تھی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوار کون ہیں۔ اسے یہی معلوم تھا کہ وہ خود کون ہے۔ یہی خطرناک پہلو تھا۔ وہ گھوڑوں کے راستے سے ہٹ کر چلتا گیا۔ گھوڑے قریب آگئے، تب اس نے دیکھا کہ وہ صلیبی تھے اور انہوں نے گھوڑے اس کی طرف موڑ لیے تھے۔ وہ نہتا تھا۔ بھاگنے کی بھی کوئی صورت نہیں تھی۔ سواروں نے اسے گھیر لیا۔ اس نے ان میں سے ایک کو پہچان لیا۔ وہ ایلس کا امیدوار تھا۔ اس نے رحیم سے کہا… ”مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تم عیسائی نہیں ہو”۔

اسے پکڑ لیا گیا اور اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ کر اسے ایک سوار نے لاش کی طرح گھوڑے پر ڈال لیا۔ گھوڑے عکرہ کی سمت روانہ ہوگئے۔ یہ وہ وقت تھا جب عمران رحیم سے ملنے گیا تو وہ اسے نہ ملا۔ تاجر کے ایک نوکر نے اسے بتایا کہ اسے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔ عمران شش وپنج میں پڑ گیا۔ رحیم جا کہاں سکتا تھا۔ اس کے پاس کیوں نہیں آیا؟… عمران گرجے میں واپس چلا گیا۔ رضا سے وہ شام کے بعد مل سکتا تھا۔ انہیں رحیم کو ڈھونڈنا تھا۔ یہ خطرہ بھی محسوس کیا گیا کہ وہ گرفتار نہ ہوگیا ہو۔ اس صورت میں یہ خطرہ تھا کہ اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کی نشاندہی نہ کردی ہو۔ عمران کو یہ سوچ پریشان کررہی تھی کہ رحیم اگر پکڑا گیا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اور رضا بھی پکڑے جائیں۔ پکڑے جانے اور مارے جانے کا انہیں فکر نہ تھا۔ فکر یہ تھا کہ انہوں نے وہ راز حاصل کرلیا تھا جس کے لیے وہ یہاں آئے تھے اور اب انہیں یہاں سے نکلنا تھا۔

سورج غروب ہونے میں ابھی بہت دیر باقی تھی۔ رضا اصطبل سے باہر کہیں کھڑا تھا۔ چار گھوڑے اصطبل کے دروازے پر رکے، ایک سوار نے اپنے آگے کسی کو لاش کی طرح ڈال رکھا تھا، اسے اتارا گیا۔ یہ دیکھ کر رضا کا خون خشک ہوگیا کہ وہ رحیم تھا۔ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔ سواروں میں ایک بڑا افسر تھا۔ رضا اسے اچھی طرح جانتا پہچانتا تھا۔ دوسروں سے بھی وہ واقف تھا۔ رحیم کو وہ لے جانے لگے تو بڑے افسر نے رضا کو دیکھ لیا۔ اسے ”فرانسس”کے نام سے بلایا۔ رضا دوڑا گیا لیکن اس کے پائوں نہیں اٹھ رہے تھے۔ وہ سمجھ گیا کہ اسے بھی گرفتار کیا جائے گا۔

”چاروں گھوڑے اندر لے جائو”۔ اس افسر نے رضا سے کہا… ”ہمارے سائیسوں کے حوالے کردینا”… اس نے رحیم کے متعلق حکم دیا… ”اسے اس کمرے میں لے چلو”۔

رضا کو چونکہ فرانسس کے نام سے بلایا گیا تھا، اس لیے وہ جان گیا کہ رحیم نے اس کی نشاندہی نہیں کی۔ یہ صلیی افسر اسے ابھی تک سائیس فرانسس سمجھ رہے تھے۔ اس نے ایک افسر سے پوچھا۔ ”یہ کون ہے؟ اس نے چوری کی ہوگی”۔

”یہ صلاح الدین ایوبی کا جاسوس ہے”۔ ایک فوجی نے جواب دیا اور طنزیہ لہجے میں کہا… ”اب یہ تہہ خانے میں جاسوسی کرے گا، جائو گھوڑے لے جائو”۔

اس دوران رضا اور رحیم نے ایک دوسرے کو گہری نظروں سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا تھا۔ انہوں نے آنکھوں کے کچھ اشارے مقرر کررکھے تھے۔ اگر ایسی صورتحال میں دو جاسوسوں کا سامنا ہوجائے تو وہ ایک اشارہ تو یہ کرتے تھے کہ بھاگ جائو، دوسرا یہ کہ کوئی خطرہ نہیں۔ رحیم نے رضا کو ایسا ہی ایک اشارہ کیا جس سے اسے تسلی ہوگئی کہ اس نے کسی کی نشاندہی نہیں کی۔ تاہم ان کے لیے یہ خوشی کی بات نہیں تھی۔ اس کا ساتھی پکڑا گیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ تہہ خانے میں اس کا کیا حشر کیا جائے گا۔ رحیم کو اب مرنا تھا مگر بڑی ہی اذیت ناک موت مرنا تھا۔ رضا کو معلوم تھا کہ رحیم کو کون سے کمرے میں لے جایا جارہا ہے اور اس کے بعد اسے کہاں لے جائیں گے۔

عمران گرجے کے ساتھ اپنے کمرے میں پریشانی کی حالت میں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ رحیم کہاں غائب ہوگیا ہے۔ اس کے کمرے کا دروازہ کھلا، وہ رضا تھا۔ اندر آکر اس نے دروازہ بند کر دیا اور گھبرائی ہوئی سرگوشی میں کہا۔ ”رحیم پکڑا گیا ہے”… اس نے جو دیکھا تھا وہ عمران کو سنا دیا۔ رضا نے اسے یہ بھی بتا دیا کہ رحیم نے اشارے سے اسے بتا دیا ہے کہ اس نے ہماری نشاندہی نہیں کی۔

”اگر نہیں کی تو تہہ خانے میں جاکر کردے گا”۔ عمران نے کہا… ”اس دوزخ میں زبان بند رکھنا آسان نہیں ہوتا”۔ ان دونوں کے لیے یہ فیصلہ کرنا محال ہوگیا کہ وہ فوراً نکل جائیں یا ایک آدھ دن انتظار کرلیں۔ ایسے نازک

وقت میں ان سے ایک غلطی سرزد ہوگئی۔ وہ یہ تھی کہ وہ جذبات سے مغلوب ہوگئے۔ چھاپہ ماروں )کمانڈو( اور جاسوسوں کے لیے یہ ہدایت تھی کہ وہ تحمل، بردباری اور صبر سے کام لیں۔ عجلت اور جذبات سے بچیں۔ اگر ان کا کوئی ساتھی ایسے طریقے سے کہیں پھنس جائے کہ اس کی مدد کرنے میں دوسروںکے پھنسنے کا بھی خطرہ ہو تو اس کی مدد نہ کی جائے۔ رضا جذبات میں آگیا۔ اس نے کہا… ”میں رحیم جیسے خوبصورت اور دلیر دوست کو قید سے نکالنے کی کوشش کروں گا”۔

”ناممکن ہے”۔ عمران نے کہا اور اسے ایسے خطرناک ارادے سے باز رکھنے کی کوشش کرنے لگا۔

”میں چونکہ وہیں رہتا ہوں جہاں رحیم کو لے گئے ہیں۔ اس لیے دیکھوں گا کہ اسے وہاں سے نکالنا ممکن ہوسکتا ہے یا نہیں”۔ رضا نے کہا… ”میں نے وہاں اتنی دوستی پیدا کررکھی ہے کہ مجھے معلوم ہوجائے گا کہ رحیم کہاں ہے۔ اگر میں اس تک پہنچ گیا تو رحیم آزاد ہوجائے گا یا میں اس کے ساتھ ہی جائوں گا اور اگر میں بھی پکڑا گیا تو تم نکل جانا۔ راز تمہارے پاس ہیں۔ میں رحیم کے بغیر واپس نہیں جائوں گا”۔

ناممکن تھا کہ رضا رحیم کو وہاں سے آزاد کرلیتا لیکن اس کے جذبات اتنے شدید تھے کہ عمران بھی اس کاہمنوا ہوگیا اور وہ حقائق کو بھول گیا۔ رضا اسے یہ کہہ کر چلا گیا کہ رات کو کسی وقت آکر اسے بتائے گا کہ رحیم کی رہائی کی کوئی صورت ہے یا نہیں۔ اگر کوئی صورت نہ ہوئی تو وہ رات کو نکل جائیں گے۔ عمران کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ گھوڑوں کا انتظام کرلے۔ گھوڑوں کا انتظام آسان نہیں تھا۔ پادری کے باڈی گارڈوں کے گھوڑے وہاں موجود رہتے تھے۔ انہی میں سے دو یا تین گھوڑے چوری کرنے تھے۔

اس وقت تک رحیم کو قید خانے میں نہیں ڈالا گیا تھا۔ اسے انٹیلی جنس کے دو وحشی قسم کے افسروں کے حوالے کردیا گیا تھا۔ جاسوس جب پکڑا جاتا ہے تو سزا کا مرحلہ سب سے آخر میں ہوتا ہے۔ پہلے اس سے معلومات لی جاتی ہیں۔ جاسوس اکیلا نہیں ہوتا، پورا گروہ ہوتا ہے۔ گرفتار کیے ہوئے جاسوس سے یہی ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ اس کے ساتھی کہاں ہیں اور دوسرا سوال یہ پوچھا گیا کہ اس نے یہاں سے کوئی خفیہ بات معلوم کی ہے تو وہ بتا دے۔ رحیم نے جواب دیا کہ اس کے پاس کوئی راز نہیں۔ تاجر کی بیٹی ایلس کے ساتھ تعلقات کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ ایک دوسرے کو چاہتے تھے۔ ایلس کی شادی ایک بوڑھے افسر کے ساتھ کی جارہی تھی، اس لیے وہ گھرسے بھاگنے پر مجبور ہوگئی۔

”کیا تمہیں معلوم ہے کہ تم کس طرح پکڑے گئے ہو؟”

”نہیں”… رحیم نے جواب دیا… ”میں اتنا جانتا ہوں کہ میں پکڑا گیا ہوں”۔

”تم اور بھی بہت کچھ جانتے ہو”… ایک افسر نے اسے کہا… ”وہ سب کچھ بتا دو جو تم جانتے ہو، تمہیں کوئی تکلیف نہیں دی جائے گی”۔

”میں یہ جانتاہوں کہ میں اپنا فرض بھول گیا تھا”… رحیم نے کہا… ”میں اس سزا کو خوشی سے قبول کروں گا۔ مجھے جس قدر تکلیف اور جتنی اذیت دے سکتے ہو دو۔ میں اسے اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کروں گا”۔

”کیا تمہارے دل میں ابھی تک ایلس کی محبت ہے؟”

”ابھی تک ہے”… رحیم نے کہا… ”اور ہمیشہ رہے گی۔ میں اسے اپنے ساتھ قاہرہ لے جارہا تھا۔ اسے مسلمان کرکے اس کے ساتھ شادی کرنی تھی”۔

”اگر ہم یہ کہیں کہ اس نے تمہارے ساتھ دھوکہ کیا ہے تو تم مان لو گے؟”

”نہیں”… رحیم نے کہا… ”جس نے میرے لیے اپنا گھر اور اپنے عزیز چھوڑ دئیے تھے، وہ دھوکہ نہیں دے سکتی، اس کے ساتھ کسی نے دھوکہ کیا ہے”۔

”اگر ہم ایلس تمہارے حوالے کردیں تو کیا تم ہمیں بتا دو گے کے عکرہ میں تمہارے کتنے ساتھی ہیں اور وہ کہاں ہیں؟”… اس سے پوچھا گیا… ”اور یہ بھی بتا دو گے کہ تم نے یہاں سے کون سا راز حاصل کیا ہے؟”

رحیم کا سرجھک گیا۔ ایک افسر نے اس کا سر اوپر اٹھایا تو رحیم کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ افسروں کے باربار پوچھنے پر بھی وہ خاموش رہا، جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کے اندر ایسی کشمکش پیدا ہوگئی ہے جس میں وہ فیصلہ نہیں کرسکتا اس کا رویہ اور ردعمل کیا ہونا چاہیے۔ اس کی یہ کیفیت ظاہر کرتی تھی کہا س کے دل میں ایلس کی محبت بہت گہری اتری ہوئی ہے۔

”تمہیں آخر کار ہمارے تمام سوالوں کا جواب دینا ہوگا”… ایک افسر نے کہا… ”اس وقت تک تم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکے ہوگے، تم جیو گے نہ مرو گے۔ اگر پہلے ہی جواب دے دو تو ایلس تمہارے پاس ہوگی اور تم آزاد ہوگے۔ اس وقت تم قید خانے میں نہیں، یہ ایک افسر کا کمرہ ہے۔ اگر تم سوچنے کی مہلت چاہتے ہو تو آج رات تمہیں اسی کمرے میں رکھا جائے گا”۔

رحیم خاموش رہا اور خالی نظروں سے افسروں کو دیکھتا رہا۔ افسروں کو ایسا کوئی خطرہ نہیں تھا کہ وہ اس کمرے سے بھاگ جائے گا۔ برآمدے میں پہرہ تھا۔ گشتی پہرہ بھی تھا۔ رحیم بھاگ کر جا بھی کہاں سکتا تھا۔ ایک افسر نے باہر آکر اپنے ساتھی افسر سے کہا… ”تم وقت ضائع کررہے ہو، اسے تہہ خانے میں لے چلو۔ لوہے کی لال گرم سلاخ اس کے جسم کے ساتھ لگائو، ساری باتیں اگل دے گا۔ نہیں بولے گا تو بھوکا اور پیاسا پڑا رہنے دو”۔

”میرا تجربہ مختلف ہے میرے دوست!”… دوسرے افسر نے کہا… ”یہ نہ بھولو، یہ مسلمان ہے۔ تم نے اب تک کتنے مسلمان جاسوسوں سے راز اگلوائے ہیں؟ کیا تم نہیں جانتے کہ یہ کمبخت ایک بار ڈٹ جائیں تو مرجاتے ہیں، زبان نہیں کھولتے۔ یہ شخص کہہ چکاہے کہ ہماری ہر اذیت اپنے گناہ کی سزا سمجھ کر قبول کرلے گا۔ یہ کٹر مسلمان معلوم ہوتا ہے۔ یہ تہہ خانے میں جاکر بھی کہہ دے گا کہ وہ کچھ بھی نہیں بتائے گا۔ ہمارا مقصد اسے جان سے مارنا نہیں، یہ معلوم کرنا ہے کہ اس کے ساتھی کہاں ہیں اور یہ معلوم کرنا ہے کہ انہیں اس حملے کا پتا تو نہیں چل گیا جو مصر پر کرنے والے ہیں؟”

”ان کے باپ کو بھی پتا نہیں چل سکتا”… دوسرے افسر نے کہا… ”ہائی کمانڈ کے افسروں کے سواکسی کو حملے کے متعلق علم ہی نہیں۔ یہ جاسوس تاجر کی بیٹی کے عشق میں الجھا ہوا تھا۔ اسے تو دنیا کی ہوش نہیں تھی، اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے گرفتار کرایا ہے۔ یہ ابھی تک اس کی محبت میں گرفتار ہے”۔

”میں ایلس کو ہی استعمال کرنا چاہتا ہوں”… ایک نے کہا… ”اسے آج رات اسی کمرے میں رہنے دیتے ہیں، مجھے امید ہے کہ جو راز ہم کئی دنوں میں بھی نہیں اگلوا سکیں گے وہ ایلس جیسی دلکش لڑکی چند منٹوں میں اگلوائے گی”۔

”کیا اس لڑکی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے؟”

”کیا تمہیں ابھی تک شک ہے؟”… دوسرے نے کہا… ”تم نے شاید پوری بات نہیں سنی۔ ایلس نے واپس آکر جو بیان دیا ہے، وہ تم نے پورا نہیں سنا۔ اب چونکہ تفتیش ہم دونوں کے سپرد کی گئی ہے۔ اس لیے تمہارے ذہن میں ہر ایک بات واضح ہونی چاہیے۔ ایلس اس شخص کو بری طرح چاہتی تھی۔ وہ اسے ایلی مور نام کا عیسائی سمجھتی رہی۔ ایلس کا باپ اس کی شادی کمانڈر ولیسٹ میکاٹ کے ساتھ کرنا چاہتا تھا۔ وہ دراصل اپنی بیٹی رشوت کے طور پر دے رہا تھا۔ ایلس اس جاسوس کے ساتھ بھاگ گئی۔ راستے میں اس نے ایلس کو بتا دیا کہ وہ ایلی مور نہیں، رحیم ہے اور وہ مسلمان ہے۔ ایلس نے اسے مذاق سمجھا مگر رحیم نے اسے یقین دلایا کہ وہ مذاق نہیں کررہا۔ رحیم نہیں جانتاتھا کہ ایلس کے دل میں مسلمانوں کی کتنی دہشت اور حقارت بچپن سے بیٹھنی ہوئی ہے اور رحیم کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ایلس مذہب کی پکی ہے۔ ہر وقت صلیب گلے میں ڈالے رکھتی ہے۔ اس نے جان لیا کہ اس مسلمان نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا ہے اور وہ قاہرہ جاکر نہ صرف خود اسے خراب کرے گا بلکہ دوسروں سے بھی خراب کرائے گا اور آخر میں کسی کے ہاتھ فروخت کردے گا۔ ہم نے اپنے بچوں کے ذہنوں میں مسلمانوں کا جو گھنائونا تصور پیدا کررکھا ہے، وہ ایلس کے سامنے آگیا”۔

”ایلس کے دل میں مذہب کی محبت پیدا ہوگئی اور یہ محبت مسلمان کی محبت پر ایسی غالب آئی کہ اسے حقارت میں بدل دیا۔ وہ سب کچھ بھول گئی۔ وہ یہ بھی بھول گئی کہ عکرہ واپس آکر اسے بوڑھے کمانڈر کے ساتھ بیاہ دیا جائے گا۔ اسے صلیب کا یہ فرض یاد آگیا کہ مسلمان کو ہرحال میں دشمن سمجھنا اور اسلام کے خاتمے کے لیے کام کرنا ہے۔ لڑکی چونکہ ہوشیار اور دلیر ہے، اس لیے اس نے بھاگنے کا نہایت اچھا طریقہ سوچا۔ رحیم پر ظاہر نہ ہونے دیا اور لیٹ گئی۔ رحیم اطمینان سے سوگیا تو ایلس گھوڑے پر سوار ہوئی اور ایسی خاموشی سے نکل آئی کہ رحیم کو خبر تک نہ ہوئی۔ راستے سے واقف تھی۔ عکرہ پہنچ گئی اور اپنے باپ کے سامنے اقبال جرم کرکے اسے رحیم کے متعلق بتایا۔ باپ نے اسی وقت کمانڈر ولیسٹ میکاٹ کو جگایا اور اسے یہ واقعہ سنایا۔ کمانڈر نے تین سپاہی ساتھ لیے اور رحیم کے تعاقب میں گیا۔ رحیم پیدل کہاں جاسکتا تھا، پکڑا گیا اور اب یہ ہمارے ہاتھ میں ہے”۔

”رحیم کو معلوم نہیں کہ اسے ایلس نے دھوکہ دیا ہے”۔

”نہیں”… دوسرے نے کہا… ”میں اب ایلس کو استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ رحیم کو ہم نہایت اچھا کھانا کھلائیں گے”۔

٭ ٭ ٭

وہاں کے ملازموں اور دوسرے لوگوں کی زبان پر یہی موضوع تھا کہ ایک مسلمان جاسوس پکڑا گیاہے۔ رضا بھی فرانسس کے روپ میں ان ملازموں میں شامل تھا۔ وہ بھی مسلمان کو برا بھلا کہہ رہا تھا اور دوسروں کی طرح خواہش ظاہر کررہا تھا کہ جاسوس کو سرعام پھانسی دی جائے یا اسے گھوڑے کے پیچھے باندھ کر بھگا دیا جائے۔ رضا کو معلوم ہوچکا تھا کہ رحیم ابھی تک اسی کمرے میں ہے۔ سب حیران تھے کہ اسے قید خانے میں کیوں نہیں لے گئے اور جب باورچی خانے کے ایک ملازم نے انہیں بتایا کہ قیدی کے لیے افسروں کا سا کھانا گیا ہے اور وہ خود کھانا دے آیا تو سب حیرت سے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ رضا باتوں باتوں میں باورچی خانے کے اس آدمی کو الگ لے گیا اور پوچھا… ”کیا تم مذاق کررہے ہو کہ مسلمان جاسوس کو اتنا اچھا کھانا دیا گیا ہے جو افسر کھاتے ہیں، پھر وہ جاسوس نہیں ہوگا”۔

”بڑا خطرناک جاسوس ہے”… ملازم نے کہا… ”جو افسر تفتیش کررہے ہیں، میں نے ان کی باتیں سنی ہیں۔ وہ ابھی اسے کھلا پلا کر اس سے باتیں پوچھیں گے، پھر وہ کسی لڑکی کی باتیں کررہے تھے جو اس قیدی کو پھانس کر اس سے باتیں اگلوائے گی”۔

رحیم کھانا کھا چکا تو اس کے کمرے میں ایلس داخل ہوئی، دونوں افسر چلے گئے تھے۔ انہوں نے ایلس کو بلا کر اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے اور قیدی سے کیا پوچھنا ہے۔ ایلس کو دیکھ کر رحیم بہت حیران ہوا۔ اسے خواب کا دھوکہ ہوا ہوگا۔

”تم؟”… اس نے ایلس سے پوچھا… ”کیا تمہیں بھی گرفتار کرکے یہاں لایا گیا ہے؟”

”ہاں!”… ایلس نے کہا… ”میں کل رات سے قید میں ہوں”۔

”تم وہاں سے غائب کس طرح ہوئی تھی؟”… رحیم نے کہا… ”میں مان نہیں سکتا کہ تم خود بھاگ آئی تھی؟”

”میں کیوں کر بھاگ سکتی تھی”… ایلس نے کہا… ”میرا تو جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے، تم سوگئے تھے مگر مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔ میں اٹھ کر ٹہلنے لگی اور کچھ دور نکل گئی۔ کسی نے پیچھے سے میرا منہ ہاتھ سے بند کردیا اور اٹھا کر گھوڑے پر ڈال لیا۔ وہ دو آدمی تھے۔ ایک نے ہمارا گھوڑا بھی لے لیا، میرا منہ بند تھا۔ تمہیں پکار نہیں سکتی تھی، وہ مجھے یہاں لے آئے”۔

”انہیں کس نے بتایا ہے کہ میں ایلی مور نہیں، رحیم ہوں؟”… رحیم نے پوچھا… ”اور جنہوں نے تمہیں وہاں جاپکڑا تھا وہ مجھے بھی کیوں نہ پکڑ لائے؟ انہوں نے مجھے قتل کیوں نہ کردیا؟”

”میں ان سوالوں کا جواب نہیں دے سکتی”… ایلس نے کہا… ”میں خود مجرم ہوں”۔

”تم جھوٹ بول رہی ہوایلس”… رحیم نے کہا… ”تمہیں دھمکا کر میرے متعلق پوچھا گیا ہے اور تم نے ڈر کے مارے بتا دیا ہے کہ میں کون ہوں۔ مجھے تم سے کوئی شکوہ نہیں، میں کبھی برداشت نہیں کرسکتا کہ تمہیں کوئی تکلیف ہو”۔

”اگر تمہیں میری تکلیف کا خیال ہے تو یہ لوگ تم سے جو کچھ پوچھتے ہیں، وہ انہیں بتا دو”… ایلس نے کہا… ”انہوں نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہے کہ وہ تمہیں رہا کردیں گے”۔

”بات پوری کرو ایلس”… رحیم نے طنزیہ لہجے میں کہا… ”یہ بھی کہو کہ میں سب کچھ بتا دوں تو مجھے رہا کردیں گے اور تم میرے ساتھ شادی کرلوگی”۔

”شادی بھی ہوسکتی ہے”… ایلس نے کہا… ”بشرطیکہ تم عیسائی ہوجائو”۔

”کیا تم یہ امید لے کے آئی ہو کہ میں رہائی کی خاطر اپنا مذہب چھوڑ دوں گا؟”… رحیم نے کہا… ”ایلس! میں فوج کا معمولی سا سپاہی نہیں، جاسوس ہوں۔ عقل رکھتا ہوں، میں اس گناہ کی سزا بھگت رہا ہوں کہ عقل پر تمہاری محبت کو سوار کرلیا تھا۔ تم جھوٹ بول رہی ہو، جس صلیب کی تم قسمیں کھا رہی ہو، وہ گلے میں ڈال کر جھوٹ بول رہی ہو۔ کیا یہ غلط ہے کہ تم خود وہاں سے بھاگی ہو؟ کیونکہ تمہارے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھری ہوئی ہے۔ تمہیں مجھ پر اعتماد نہ رہا اور مجھے سوتا چھوڑ کر بھاگ آئیں۔ یہاں آکر تم نے اپنے بوڑھے منگیتر کو میرے پیچھے بھیج دیا۔ میرے دل میں بھی تمہاری قوم کے خلاف نفرت ہے۔ میں تمہارے قوم کو اپنا دشمن سمجھتا ہوں۔ میں نے اپنی جان تمہاری قوم کو تباہ کرنے کے لیے دائو پر لگائی ہے لیکن تمہاری محبت، محبت ہی رہے گی۔ اس پر نفرت غالب نہیں آسکے گی۔ میں نے تمہاری خاطر اپنا فرض فراموش کیا۔ اپنا مستقبل تباہ کیا مگر تم نے ناگن کی طرح ڈنگ مارا”۔

وہ ایسے انداز سے بول رہا تھا کہ ایلس کی زبان بند ہوگئی۔ اس کے دل میں رحیم کی محبت موجود تھی۔ رحیم نے جب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھیمے اور پر اثر انداز میں باتیں کیں تو یہ جوان لڑکی اپنے سینے سے اٹھتے ہوئے جذبات کے بگولے کی لپیٹ میں آگئی۔ پہلے تو اس کے آنسو پھوٹے پھر اس نے بیتابی سے رحیم کے دونوں ہاتھ تھام لیے اور روتے ہوئے کہا… ”مجھے تم سے نفرت نہیں۔ تم اپنا فرض بھول گئے تھے، میں نہ بھول سکی۔ میں مجرم ہوں، میں نے

Read More:  Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Last Episode 7

تمہیں پکڑوایا ہے۔ اس جرم کی سزا مجھے سخت ملے گی۔ مجھے چند دنوں میں اس بوڑھے کمانڈر کی بیوی بنا دیا جائے گا جو وحشی ہے اور شراب پی کر درندہ بن جاتا ہے۔ مجھے کچھ نہ بتائو ایلی مور”۔

”میںایلی مور نہیں ہوں”… رحیم نے کہا… ”میں رحیم ہوں”۔

٭ ٭ ٭

تفتیش کرنے والے دونوں افسر کہیںاور بیٹھے شراب پی رہے تھے۔ وہ مطمئن تھے کہ یہ خوبصورت لڑکی رحیم کو موم کرلے گی اور صبح سے پہلے پہلے ہمارا کام پورا کردے گی۔ وہاں صرف ایک پہرہ دار تھا جو برآمدے میں بیٹھ گیا تھا۔ کمرے کے پچھواڑے اندھیرا تھا اور اس اندھیرے میں ایک سایہ اتنی آہستہ آہستہ آگے کو سرک رہا تھا جیسے ہوا کا جھونکا رک رک کر آگے بڑھ رہا ہو۔ ادھر عمران گرجے سے ملحق اپنے کمرے میں جاگ رہا تھا۔ ذرا سی آہٹ سنائی دیتی تھی تو وہ اٹھ کر دروازے میں آجاتا تھا۔ اسے ہر آہٹ رضا کی آہٹ لگتی تھی۔ اس نے کمال ہوشیاری سے تین گھوڑے منتخب کرلیے تھے جو آٹھ گھوڑوں کے ساتھ بندھے تھے۔ اس کے زینیں بھی چوری چھپے الگ کرلی تھیں۔ اسے امید تھی کہ رضا اور رحیم آجائیں گے مگر جوں جوں رات گزرتی جارہی تھی۔ امید بھی تاریک ہوتی جارہی تھی۔ یہ حقیقت نکھرتی آرہی تھی کہ اس نے رضا کو یہ اجازت دے کر کہ رحیم کو آزاد کرائے، سخت غلطی کی تھی۔ یہ ناممکن تھا۔ وہ اب سوچ رہا تھا کہ ایک گھوڑے کھولے اور نکل جائے مگر اسے رضا کا خیال آجاتا تھا۔ رضا نے اسے کہا تھا کہ وہ رات کو آئے گا ضرور خواہ اکیلا آئے۔

اس وقت رضا موت کے منہ میں جاچکا تھا۔ وہ ایک سیاہ سایہ بن کر اس کمرے کے ایک دریچے کے پاس پہنچ گیا، جس میں رحیم بند تھا۔ اس نے کان لگا کر اندر کی باتیں سنیں۔ اسے کسی کے یہ الفاظ سنائی دئیے۔ میں تمہیں رہا نہیں کراسکتی۔ یہ لوگ جو کچھ پوچھتے ہیں، وہ بتا دو پھر میں اپنے باپ سے کہہ کر تمہارے لیے کچھ کرسکتی ہوں۔ مجھے اسی مقصد کے لیے تمہارے پاس لایا گیا ہے کہ میری محبت تم سے راز اگلوائے گی۔

دریچے کے کواڑ پر نہایت آہستہ سے کسی نے تین بار دستک دی۔ رحیم اس اشارے کو سمجھتا تھا۔ وہ حیران ہوا کہ یہ اس کا کون سا ساتھی ہوسکتا ہے۔ ایلس کچھ نہ سمجھ سکی۔ رحیم ٹہلتے ٹہلتے دریچے تک گیا اور کواڑ کھول دیا۔ رضا باہر کھڑا تھا، کود کر اندر آگیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ اس نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر ایلس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور خنجر اس کے دل میں اتار دیا۔ اسے قتل کرنا ضروری تھا، ورنہ وہ شور مچا کر انہیں پکڑا سکتی تھی۔ رضا اور رحیم دریچے سے کود کر باہر گئے اور اندھیرے سے بھاگ اٹھے۔ رضا اس جگہ سے واقف تھا۔ اس نے راستہ تو اچھا اختیار کیا تھا لیکن برآمدے میں جو پہرہ دار تھا، اس نے کسی طرف سے دو سائے بھاگتے دیکھ لیے۔ اس کے شور پر دوسرے سنتری ہوشیار ہوگئے۔ جانے کہاں سے ایک تیر آیا جو رحیم کے پہلو میں اتر گیا۔ وہ جوان اور توانا آدمی تھا، گرا نہیں۔ رضا کے ساتھ بھاگتا چلا گیا مگر زیادہ دور تک نہ جاسکا۔ اس کے قدم ڈگمگانے لگے تو رضا نے اسے اپنی پیٹھ پر ڈال لیا۔ تیر پہلو سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔

رحیم رضا سے کہنے لگا کہ وہ اسے وہین پھینک کر بھاگ جائے۔ وہ اب زندہ نہیں رہ سکتا تھا لیکن رضا اپنے دوست کو اس وقت تک اپنے آپ سے جدا نہیں کرنا چاہتا تھا، جب تک وہ زندہ تھا۔ اس نے رحیم کی ایک نہ سنی اور تاریک راستوں میں چھپتا چھپاتا چلتا گیا۔ اسے خیال آگیا کہ وہ اس جگہ سے گزر رہا ہے۔ جہاں تمام مکان مسلمانوں کے ہیں۔ اسے دور دور بھاگ دوڑ اور شور شرابہ سنائی دے رہا تھا۔ ان کا تعاقب کرنے والے کہیں اور تھے۔ رضا کو معلوم تھا کہ عکرہ کے مسلمان کیڑوں مکوڑوں کی سی زندگی گزار رہے ہیں اور صلیبیوں کی نگاہ میں ہر مسلمان جاسوس اور مشتبہ ہے۔ ذرا سے شک پر کسی بھی مسلمان کو قید خانے میں ڈال دیا جاتا ہے اور اس کے گھر کی تلاشی توہین آمیز طریقے سے لی جاتی تھی۔ رضا کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا مگر وہ رحیم کے بوجھ تلے شل ہوچکا تھا اور اسے یہ امید بھی تھی کہ شاید رحیم کی زندگی بچانے کا کوئی بندوبست ہوجائے۔

اس نے ایک دروازے پر دستک دی۔ کچھ دیر بعد دروازہ کھلا۔ رضا تیزی سے اندر چلا گیا جس نے دروازہ کھولا تھا، گھبرا گیا۔ رضا نے مختصر الفاظ میں اپنا تعارف کرایا وہاں تو صرف یہ کہہ دینا ہی کافی تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔ رضا کو پناہ مل گئی مگر رحیم شہید ہوچکا تھا۔ رضا کے کپڑے خون سے لتھڑ گئے تھے۔ اس نے گھر والوں کو سارا واقعہ سنایا اور عمران کے متعلق بھی بتایا۔ گھر میں تین مرد تھے، وہ جوش میں آگئے۔ انہوں نے رضا کے کپڑے تبدیل کردئیے۔ رحیم کی لاش کے متعلق فیصلہ ہوا کہ اسے گھر کے کسی کمرے میں دفن کردیا جائے گا۔ رضا عمران کو بلانے کے لیے چلا گیا۔

٭ ٭ ٭

رات کے اس وقت جب دنیائے اسلام گہری نیند سوئی ہوئی تھی، قوم کے غدار دشمن کی بھیجی ہوئی عورتوں اور شراب میں بدمست پڑے تھے، ان سے دور، بہت دور ایک مسلمان اسلام کی ناموس پر اپنی جان پر کھیل گیا تھا اور دو جان کی بازی لگا کر اس راز کے ساتھ عکرہ سے نکل کر قاہرہ پہنچنے کی کوشش کررہے تھے، جس پر مصر کی عزت اور اسلام کی آبرو کا دارومدار تھا۔ اس راز کو وہ خدا کی امانت سمجھتے تھے، وہاں انہیں دیکھنے والا کوئی نہ تھا کہ وہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں یا عیش کررہے ہیں لیکن انہیں یہ احساس تھا کہ انہیں خدا دیکھ رہا ہے اور وہ خدا کے حکم کی تعمیل کررہے ہیں۔

عمران کا سر اس تذبذب اور اضطراب میں دکھنے لگا تھا کہ رحیم آجائے گا یا نہیں، رضا آجائے گا یا نہیں؟؟ قاہرہ تک یہ خبر پہنچا سکے گا یا نہیں کہ مصر پر حملے کے لیے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بہت بڑا بیڑہ آرہا ہے۔ عمران اس لیے بھی قاہرہ یا کم از کم کرک جلدی پہنچنا چاہتا تھا کہ نورالدین زنگی یا سلطان ایوبی یا دونوں کسی اور طرف حملے یا پیش قدمی کی سکیم نہ بنا لیں۔ ایسی صورت میں انہیں روکنا تھا، اگر ان کی فوج کسی اور طرف نکل گئی تو مصر کا خدا ہی حافظ تھا۔ عمران کو ان سوچوں نے اس قدر پریشان کیا کہ اس نے دروازہ اندر سے بند کرکے نفل پڑھنے شروع کردئیے۔ اس شہر کی خاموشی میں کوئی سرگرمی سنائی دے رہی تھی۔ کچھ بھاگ دوڑ سی تھی۔ یہ اس کی پریشانی میں اضافہ کررہی تھی۔ اس نے دو چار نفل پڑھ کر ہاتھ خدا کے حضور پھیلا دئیے اور گڑگڑایا… ”یا خدا! مجھے اپنے فرض کی تکمیل تک زندگی عطا کر۔ میں یہ امانت ٹھکانے پر پہنچا دوں تو مجھے میرے خاندان سمیت ختم کردینا”۔

اس کے دروازے پر ویسی ہی دستک ہوئی جیسی رحیم کے دریچے پر ہوئی تھی۔ عمران نے دروازہ کھولا۔ رضا کھڑا تھا۔ اسے اندر بلا کر عمران نے دروازہ بند کردیا۔ رضا ہانپ رہا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ اس پر کیا گزری ہے اور رحیم شہید ہوچکا ہے۔ عمران نے جب یہ سنا کہ رحیم کی لاش ایک مسلمان گھرانے میں ہے جو اسے گھر میں دفن کردیں گے تو عمران پریشان ہوگیا۔ وہ عکرہ کے کسی مسلمان کو مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ رضا نے اسے بتایا کہ اس گھر میں تین مرد اور باقی عورتیں ہیں۔ انہوں نے فوراً ایک کمرے کے کونے میں کھدائی شروع کردی تھی۔ عمران اس گھر جانا چاہتا تھا تاکہ دیکھ لے کہ ان کے پکڑے جانے کا کوئی خطرہ تو نہیں۔ رضا نے اسے یقین دلایا کہ وہ ہوشیار لوگ معلوم ہوتے ہیں، سنبھال لیں گے۔

عکرہ سے نکلنا دشوار ہوگیا تھا۔ شہر کی ناکہ بندی کرلی گئی تھی۔ ایک لڑکی کا قتل اور ایک جاسوس کا فرار معمولی سی واردات نہیں تھی۔ نکلنا رات کو ہی تھا۔ ان دونوں نے یہ طے کیا کہ اکٹھے نکلیں گے اور دونوں میں سے کوئی پکڑا گیا یا دونوں پکڑے گئے تو اور جو کچھ بھی کہیں، یہ نہیں بتائیں گے کہ رحیم کی لاش کہاں ہے یا وہ مارا گیا ہے۔ اگلہ مسئلہ گھوڑوں کا تھا۔ عمران رضا کو اس جگہ لے گیا جہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے مگر دور سے دیکھا کہ محافظوں میں سے ایک وہاں ٹہل رہا تھا۔ عمران رضا کو ایک جگہ چھپا کر آگے گیا اور اس سنتری کے پاس چلا گیا۔ اس سے پوچھا کہ آج اسے پہرہ دینے کی کیا ضرورت پیش آگئی ہے۔ سنتری عمران کو جان گنتھر کے نام سے اچھی طرح جانتا تھا اور بڑے پادری کے خصوصی خادم کی حیثیت سے اس کا احترام بھی کرتا تھا۔ اس نے عمران کو بتایا کہ آج ایک مسلمان جاسوس کو پکڑا گیا تھا۔ وہ کسی لڑکی کو قتل کرکے فرار ہوگیا ہے۔ اس لیے حکم آیا ہے کہ ہوشیار رہا جائے۔

اس سنتری کی موجودگی میں گھوڑے کھولنا ممکن نہیں تھا۔ عمران نے اسے باتوں میں لگا لیا اور پیچھے ہوکر اس کی گردن بازو کے گھیرے میں لے لی۔ سنتری کا دم گھٹنے لگا۔ عمران نے اس کے پہلو سے خنجر نما تلوار کھینچ لی اور اس کے پیٹ میں گھونپ دی۔ مرنے تک اس کی گردن بازو کے شکنجے میں دبائے رکھی۔ اسے مار کر عمران نے رضا کو بلایا۔ دو گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور سوار ہوگئے۔ گرجے کے باقی محافظ کمرے میں کہیں سوئے ہوئے تھے۔ عمران اور رضا چل پڑے۔ شہر سے نکلنے کے کئی راستے تھے۔ وہ ایک طرف چل پڑے اور شہر سے نکل گئے۔ اچانک وہ گھیرے میں آگئے اور انہیں للکارا گیا۔

”ہم شہری ہیں دوستو!”… عمران نے کہا… ”ہم بھی تمہاری طرح ڈیوٹی دے رہے ہیں”۔

تین چار مشعلیں جل اٹھیں جن کی روشنی میں انہوں نے دیکھا کہ وہاں گھوڑ سواروں کا ایک دستہ تھا جو ادھر ادھر پھیلا ہوا تھا تب انہیں احساس ہوا کہ شہر کی ناکہ بندی ہوچکی ہے۔ عمران نے اپنے کپڑے نہیں دیکھے تھے۔ اس کے کپڑوں پر سنتری کا خون تھا۔ مشعل کی روشنی میں یہ خون صلیبی سواروں کو نظر آگیا۔ اس سے پوچھا گیا کہ یہ خون کس کا ہے تو عمران نے لگام کو جھٹکا دے کر گھوڑے کو ایڑی لگادی۔ رضا نے بھی ایسا ہی کیا مگر اس نے ذرا دیر کردی۔ عمران نکل گیا۔ رضا گھیرے میں آگیا۔ عمران کے پیچھے بھی تین سوار گئے۔ اسے رضا کی بلند پکار سنائی دینے لگی… ”عمران رکنا نہیں، نکل جائو۔ خدا حافظ”… عمران بہت دور تک یہ پکار سنتا رہا۔ پتا چلتا تھا جیسے وہ گھیرے سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ عمران کا گھوڑا بڑا اچھا تھا۔ اس کے دائیں بائیں سے تیر گزرنے لگے لیکن وہ تعاقب کرنے والوں کو پیچھے ہی پیچھے چھوڑتا چلا گیا۔ وہ راستے سے واقف تھا۔ اس نے کرک کا رخ کرلیا۔ گھوڑا بدلنے کی ضرورت تھی۔

جب صبح کی روشنی سفید ہورہی تھی، اس کا گھوڑا دوڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس نے پانی کی تلاش کرنے کی کوشش ہی نہ کی۔ آگے ریتلی چٹانوں کا علاقہ آگیا۔ وہ اس میں داخل ہوا ہی تھا کہ اس کے سامنے چٹان میں دو تیرلگے جس کا مطلب تھا کہ رک جائو۔ وہ رک گیا اور یہ دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی کہ اسے روکنے والے اس کی اپنی فوج کے آدمی تھے۔ اسے اپنے کمانڈر کے پاس لے گئے۔ کمانڈر نے اس کی بات سن کر اسے تازہ دم گھوڑا دیا اور دو سپاہی اس کے ساتھ کرکے اسے کرک کے راستے پر ڈال دیا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ نورالدین زنگی سے مل کر قاہرہ جائے گا۔ عکرہ سے جو خبر لایا تھا وہ زنگی تک بھی پہنچنی چاہیے تھی۔

عمران جب کرک کے قلعے میں نورالدین زنگی کے سامنے بیٹھا اپنی کہانی سنا رہا تھا۔ زنگی اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے اس خوبرو جوان کو دل میں بٹھا لینا چاہتا ہو۔ اس نے اٹھ کر بیتابی سے عمران کو سینے سے لگا لیا اور اس کے دونوں گال چوم کر پیچھے ہٹ گیا۔ اس نے اپنی تلوار نیام سے نکالی اور پھر نیام میں ڈال کر نیام کو چوما۔ اسے دونوں ہاتھ پر رکھ کر عمران سے کہا… ”اس وقت جب صلیب ایک خوفناک گدھ کی طرح چاند ستارے پر منڈلا رہی ہے، ایک مسلمان اپنے مسلمان بھائی کو تلوار سے بڑھ کر اور کوئی تحفہ نہیں دے سکتا۔ تم بغداد میں کہو، دمشق میں کہو، کہیں بھی کہو، میں تمہیں ایک محل دے سکتا ہوں۔ تم نے جو کارنامہ کر دکھایا ہے۔ اس کے صلے میں تم دولت کے انبار کے حق دار ہو لیکن میرے عزیز دوست! میں تمہارے لیے محل کھڑا نہیں کروں گا۔ تمہیں دولت کی شکل میں صلہ نہیں دوں گا کیونکہ یہی وہ چیزیں ہیں جنہوں نے مسلمانوں کو اندھا اور اپاہج کردیا ہے۔ یہ قبول کرو، میری تلوار! اور یاد رکھو اس تلوار نے بڑے بڑے جابر صلیبیوں کا خون پیا ہے۔ اس تلوار نے بہت سے قلعوں پر اسلام کا جھنڈا لہرایا ہے اور یہ تلوار اسلام کی پاسبان ہے”۔

عمران نورالدین زنگی کے آگے دوزانو بیٹھ گیا اور اس کے ہاتھوں سے تلوار لے کر چومی، آنکھوں سے لگائی اور کمر سے باندھ لی۔ وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ اس پر رقت طاری ہوگئی تھی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

”اور اپنی قدروقیمت جان لو میرے دوست!”… زنگی نے کہا… ”ایک جاسوس دشمن کے لشکر کو شکست دے سکتا ہے اور ایک غدار اپنی پوری قوم کو شکست کی ذلت میں ڈال سکتا ہے۔ تم نے دشمن کو شکست دے دی ہے۔ تم جو خبر لائے ہو یہ دشمن کی شکست کی خبر ہے۔ صلیبی انشاء اللہ مصر اور فلسطین کے ساحل سے آگے نہیں آسکیں گے اور ان کا بحری بیڑہ واپس نہیں جاسکے گا۔ یہ تمہاری فتح ہوگی اور اس کا صلہ تمہیں خدا دے گا”۔

”مجھے قاہرہ کے لیے جلدی روانہ ہوجانا چاہیے”… عمران نے کہا… ”دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ امیر مصر کو بہت دن پہلے اطلاع جانی چاہیے”۔

”تم ابھی روانہ ہوجائو”… نورالدین زنگی نے کہا… ”میں تمہیں بڑی اچھی نسل کا گھوڑا دے رہا ہوں”۔ اس نے عمران کو قاہرہ تک کا وہ راستہ بتا دیا جس پر کئی چوکیاں تھیں۔ ان پر قاصدوں کے گھوڑے بدلنے کا انتظام تھا… ”اور صلاح الدین ایوبی سے پہلی بات یہ کہنا کہ رحیم اور رضا کے خاندانوں کو اپنے خاندان میں جذب کرلو۔ ان کے خاندانوں کی کفالت کا انتظام بیت المال سے کرو”… اس نے عمران سو پوچھا… ”تم صرف جاسوسی کرسکتے ہو یا جنگ کو بھی سمجھ سکتے ہو؟”

”کچھ سوجھ بوجھ رکھتا ہوں”… عمران نے جواب دیا… ”آپ حکم دیں”۔

”پیغام لکھنے کا وقت نہیں”… زنگی نے کہا… ”صلاح الدین ایوبی سے کہہ دینا کہ مجھے کرک تمہارے حوالے کرکے بغداد جلدی واپس جانا تھا۔ اطلاع مل رہی ہیں کہ ان علاقوں میں صلیبیوں کی تخریب کاری بڑھتی جارہی ہے اور ہمارے چھوٹے چھوٹے حکمران ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں لیکن اس تازہ خبر نے مجھے رکنے پر مجبور کردیا ہے۔ چار پانچ سال پہلے تم نے بحیرۂ روم میں صلیبیوں کا بیڑہ غرق کیا تھا۔ وہ تمہارے پھندے میں آگئے تھے۔ اب وہ محتاط ہوکر آئیں گے۔ اسی لیے انہوں نے سکندریہ کے شمالی ساحل کو منتخب کیا ہے۔ اگر تم ان سے سمندر میں براہ راست ٹکر لینے کا فیصلہ کرو تو یہ تمہاری غلطی ہوگی۔ تمہارے پاس صلیبیوں جتنی بحری طاقت نہیں ہے۔ ان کے جہاز بڑے ہیں اور ہر جہاز میں بادبانوں کے علاوہ بے شمار چپو ہیں۔ چپو چلانے کے لیے ان کے پاس غلاموں کی بے انداز تعداد ہے۔ تم اتنی تعداد سے محروم ہو۔ تمہارے جہازوں کے چپو چلانے والے ملاح ہیں اور سپاہی بھی۔ سمندری جنگ میں وہ دونوں کام نہیں کرسکیں گے۔ صلیبیوں کو ساحل پر آنے دو۔ سکندریہ کو بحری لوگوں کا خطرہ ہوگا۔ آتشیں گولے شہر کو آگ لگا دیں گے۔ اس کا کوئی انتظام کرلینا”۔

”اگر دشمن نے اسی انداز سے حملہ کیا جیسا کہ عمران خبر لایا ہے تو میں دشمن کے پہلو پر ہوں گا۔ یہ اس کا بایاں پہلو ہوگا۔ تم دائیں پہلو کو سنبھالو گے اور تمہارے ذمے ایک کام یہ ہوگا کہ صلیبیوں کا کوئی جہازواپس نہ جائے۔ آگ لگا دینا اگر تمہارے پاس سمندری چھاپہ مار ہوں تو تم جانتے ہو کہ ان سے کیا کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سوڈان کی طرف سے چوکنا رہنا۔ وہ سرحد خالی نہ رہے۔ مجھے احساس ہے کہ تمہارے پاس فوج کم ہے۔ میں یہ کمی پوری کرنے کی کوشش کروں گا۔ سب سے بڑی ضرورت راز داری کی ہے۔ راز داری کی خاطر میں پیغام تحریری نہیں بھیج رہا۔ فتح کی صورت میں، میں کرک فوج کے حوالے کرکے بغداد چلا جائوں گا”۔

یہ پیغام ذہن نشین کرکے عمران قاہرہ روانہ ہوگیا۔

صلیبیوں کے سن ١١٧٤ء کے ابتدائی دن تھے جب علی بن سفیان نے صلاح الدین ایوبی کو اطلاع دی کہ عکرہ میں ایک جاسوس شہید ہوگیا ہے اور دوسرا پکڑا گیا اور ان کا کمانڈر عمران واپس آگیاہے تو جان لینے کے باوجود کہ عمران بڑا ہی قیمتی راز لایا ہے، سلطان ایوبی بجھ سا گیا۔ اس نے علی بن سفیان کے ساتھ چندایک باتیں کرکے عمران کو اندر بلایا اور آٹھ کر اسے گلے لگا لیا، پھر کہا… ”پہلے مجھے یہ بتائو کہ تمہارا ایک ساتھی شہید کس طرح ہوا اور دوسرا پکڑا کس طرح گیا ہے؟”

عمران نے پوری تفصیل سے ساری کہانی بیان کردی اور جب اس نے وہ راز بیان کیا جو وہ عکرہ سے لایا ہے تو سلطان ایوبی کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ عمران نے یہ بھی بتایا کہ وہ نورالدین زنگی کو اطلاع دے آیا ہے۔ اس نے سلطان ایوبی کو زنگی کا پیغام سنایا۔ اس سے سلطان ایوبی کا بہت سا وقت بچ گیا تھا۔ اس نے پہلا کام یہ کیا کہ رحیم اوررضا کے خاندانوں کے لیے وظیفہ مقرر کیا اور ان خاندانوں کے متعلق معلومات پیش کرنے کا کہا تاکہ اس کے مطابق ان کی مزید مدد کی جائے۔ اس کے بعد اس نے عمران سے بہت سی باتیں پوچھیں۔ عمران نے اسے بتایا کہ صلیبیوں کا بحری بیڑہ چار پانچ سال پہلے کی نسبت زیادہ ہوگا۔ حملہ ایک ماہ کے اندر اندر ہوگا۔ یورپ سے تازہ دم فوج لائی جائے گی جسے سکندریہ کے شمال میں اترنے والی فوج سکندریہ پر قبضہ کرکے اسے اڈہ اور رسد گاہ بنائے گی اور شمال کی طرف سے مصر پر حملہ آورہوگی۔ عمران کے کہنے کے مطابق صلیبیوں کی یہ توقع ہے کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالیں گے اور نورالدین زنگی اسے مدد اور کمک نہیں دے سکے گا کیونکہ راستے میں صلیبیوں کی بیت المقدس والی فوج حائل ہوگی۔

یہ ایسا طوفان تھا جو بے خبری میں آجاتا تو مصر پر صلیبیوں کا قبضہ یقینی تھا۔ سلطان ایوبی نے اسی وقت اپنے تمام سینئر کمانڈروں کو بلا لیا۔ علی بن سفیان کو اس نے یہ ہدایت دی کہ وہ دشمن کے جاسوسوں کے خلاف اپنی سرگرمیاں اور تیز کردے تاکہ اپنی فوجوں کی نقل وحرکت کے متعلق کوئی خبر باہر نہ جاسکے۔ سکندریہ کے متعلق اس نے خصوصی ہدایات دیں۔

٭ ٭ ٭

برطانیہ ابھی اس جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا۔ انگریزوں کو غالباً یہ توقع تھی کہ کسی وقت وہ اکیلے ہی مسلمانوں کو شکست دے کر ان کے علاقوں پر قابض ہوجائیں گے لیکن پوپ )سب سے بڑے پادری( کے کہنے پر انگریزوں نے صلیبیوں کو اپنے کچھ جنگی جہاز دئیے تھے۔ سپین کا تمام بیڑہ اس حملے میں شرکت کے لیے تیار تھا، فرانس، جرمنی اور بلجیم کے جہاز بھی آگئے تھے اور اس متحدہ بیڑے میں یونان اور سسلی کی جنگی کشتیاں بھی شامل تھیں۔ رسد اور اسلحہ کے لیے ماہی گیروں سے بادبانی کشتیاں لے لی گئی تھیں۔ ان میں بعض خاصی بڑی تھیں۔ اس بیڑے میں ان تمام ممالک سے تازہ دم فوج آرہی تھی جس سے صلیب پر حلف لیا گیا تھا کہ فتح حاصل کیے بغیر واپس نہیں آئے گی۔

”اگر صلاح الدین ایوبی نے ہمارا مقابلہ اپنے بحری بیڑے سے کیا تو اس کی اسے مصر جتنی قیمت دینی پڑے گی”۔

فرانسیسی بحریہ کے کمانڈر نے کہا… ”ہم جانتے ہیں کہ اس کے بحری بیڑے کی کتنی کچھ طاقت ہے”… وہ بحیرۂ روم کے دوسرے کنارے پر ایک کانفرنس میں بیٹھا کہہ رہا تھا… ”صلاح الدین ایوبی اور نورالدین خشکی پر لڑنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں یہ توقع رکھنی چاہیے کہ اس حملے کی خبر مسلمانوں کو قبل از وقت نہیں ہوگی اورصلاح الدین ایوبی کو اس وقت خبر ہوگی جس وقت ہم قاہرہ کو محاصرے میں لے چکے ہوں گے۔ نورالدین زنگی اس کی مدد کے لیے نہیں پہنچ سکے گا اور ہمارا یہ حملہ فیصلہ کن ہوگا”۔

”میں ایک بارپھر کہتا ہوں کہ سوڈانیوں کا استعمال کرنا ضروری ہے”… رینالٹ نے کہا… ”رینالٹ ایک مشہور صلیبی حکمران اور جنگجو تھا۔ اسے بیت المقدس کی طرف سے خشکی پر آنا اور حملہ کرنا تھا۔ وہ شروع سے زور دے رہا تھا کہ وہ مصر پر شمال اورمشرق سے حملہ کریں تو جنوب سے سوڈانی بھی مصر پر حملہ کردیں گے۔”

”آپ پچھلے تجربوں کو بھول جاتے ہیں”… اسلام کے سب سے بڑے دشمن فلپ آگسٹس نے کہا… ”١١٦٩ء میں ہم نے سوڈان کو بے دریغ مدد دی تھی اور اس توقع پر ہم نے سمندر سے حملہ کیاتھا کہ سوڈانی جنوب سے حملہ کریں گے اور صلاح الدین ایوبی کی فوج میں جو سوڈانی ہیں و ہ بغاوت کردیں گے مگر انہو ںنے کچھ بھی نہ کیا۔ دو سال بعد پھر انہیں مدد دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی ضائع کردی۔ اب کے پھر انہوں نے ہمیں مایوس کیا، ہم کیوں انہیں اپنے منصوبے میں شریک کریں؟ اگر مصر ہم نے اپنی طاقت سے لے لیا تو سوڈانی ہم سے حصہ مانگیں گے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ سوڈانیوں میں مسلمانوں کی تعداد کم نہیں۔ مسلمان پر بھروسہ کرنا غلطی ہے۔ اگر آپ سچے دل سے اسلام کا نام ونشان مٹانا چاہتے ہیں تو کسی مسلمان کو اپنا دوست نہ سمجھیں۔ انہیں خرید کر اپنا دوست ضرور بنائیں لیکن دل میں اس کی دشمنی قائم رکھیں”۔

”آپ ٹھیک کہتے ہیں”… ایک اور صلیبی بادشاہ نے کہا… ”آپ لوگوں نے فاطمیوں کو دوست بنایا۔ وہ صلاح الدین ایوبی کے دشمن ہوتے ہوئے بھی اسے ابھی تک قتل نہیں کرسکے۔ ہم نے انہیں بڑے بڑے قابل جاسوس اور تخریب کار دئیے جو انہوں نے اپنی غلطیوں سے پکڑوا کر مروا دئیے۔ اب ہم کسی پربھروسہ نہیں کریں گے، ہمیں اپنی جنگی طاقت پر بھروسہ کرنا چاہیے اور اب ہم کامیاب ہوں گے”۔

ان کی جنگی طاقت اتنی زیادہ تھی کہ وہ اس سے زیادہ تکبر کرنے میں حق بجانب بیڑے کا تو کوئی حساب ہی نہ تھا۔ بیت المقدس کی طرف سے جو فوج آرہی تھی۔ وہ سمندر کی طرف سے آنے والی نفری سے دگنی تھی۔ یورپی مورخوں میں تعداد کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض نے تو اس حملے کا صلیبی جنگوں میں ذکر ہی نہیں کیا، جیسے اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں تھی۔ اس حملے میں کم و بیش صلیبیوں کی چھ بادشاہیاں شامل تھیں۔ کچھ چھوٹے چھوٹے حکمران بھی تھے، جو اپنی فوجیں لے آئے تھے۔ ان میں خامی یہ تھی کہ انکی کمان متحدہ نہیں تھی، تاہم یہ لشکر نورالدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو آسانی سے شکست دے سکتا تھا۔ سلطان ایوبی کی کمزوری یہ تھی کہ اس کی فوج کم تھی۔ اس کے علاوہ مصر میں غداروں نے بدامنی پھیلا رکھی تھی اورسب سے بڑا خطرہ یہ کہ سوڈانی بھی حملہ کرسکتے تھے۔ نورالدین زنگی کو بھی کچھ ایسی ہی دشواریوں کا سامنا تھا۔ دنیائے اسلامچھوٹی چھوٹی ریاستوں می بٹی ہوئی تھیں اور یہ حکمران عیش وعشرت کے عادی ہوچکے تھے۔ صلیبیوں نے انہیں اپنے زیراثر لے رکھاتھا۔ وہ آپس میں پھٹے ہوئے تھے اور انہیں اسلام کی ناموس کا ذرہ بھر احساس نہ تھا۔

سلطان ایوبی نے اپنے سینئرکمانڈروں کو بلا کر اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔ ایک حصے کو اس نے سوڈان کی سرحد پر چلے جانے کو کہا۔ اس کے کمانڈر کو یہ ہدایت دی کہ وہ سرحد سے خاصا پیچھے خیمہ زن رہے لیکن فوج کو مختلف جگہوں پر اس طرح متحرک رکھے کہ گرد اڑتی رہے اور یہ ظاہر ہو کہ فوج کی تعداد بے حساب ہے۔ سلطان ایوبی نے خصوصی

حکم دیا کہ کسی بھی وقت فوج آرام کی حالت میں نہ رہے۔ دوسرے حصے کو سکندریہ کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن اس ہدایت کے ساتھ کہ کوچ رات کو ہوگا اور تمام پڑائو دن کے وقت ہوںگے۔ اس کے کمانڈر کو بتایا گیا کہ اسے یہ حکم بعد میں ملے گا کہ اس کی منزل کیا ہے اور آخری خیمہ گاہ کہاں ہوگی۔ تیسرے حصے کو سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ میں رکھا۔ اس نے کسی بھی کمانڈرکو نہ بتایا کہ یہ احکام کیوں دیئے جارہے ہیں۔ یہ سب نے دیکھا کہ تمام تر منجنیقیں اس فوج کو دی گئی تھیں جو سکندریہ کی طرف جارہی تھیں۔

اس کے ساتھ آٹھ روز بعد سلطان ایوبی قاہرہ میں نہیں تھااور نورالدین زنگی کرک میں نہیں تھا۔ وہ دونوں سکندریہ کے مشرق میں گھوم پھر رہے تھے مگر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ دونوں کسی ملک کے حکمران اور فوجوں کے کمانڈر ہیں اور یہ وہ انسان ہیں جو صلیبیوں کے لیے سراپا دہشت بنے ہوئے ہیں۔ وہ غریب سے دوشتربان تھے جو معلوم نہیں کہاں سے آئے تھے اور کہاں جارہے تھے۔ انہوں نے ساحل پر جاکر بحیرۂ روم کی وسعت کو نظروں سے بھانپا اور ناپا۔ وہ تین چار دن میں دور دور گھوم گئے۔ سلطان ایوبی سکندریہ اور نورالدین زنگی کرک چلاگیا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو کچھ احکام دئیے اور وہ چلا گیا۔

٭ ٭ ٭

صلیبیوں کا بیڑہ مکمل خاموشی اور راز داری سے آیا۔ بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج چل پڑی۔ دونوں کی روانگی کے اوقات میں مطابقت تھی۔ صلیبیوں نے بڑے اچھے موسم کا انتخاب کیاتھا۔ اس موسم میں سمندر خاموش رہتا ہے۔ تلاطم اور طوفان کا خطرہ نہیں ہوتا۔ صلیبی جہازوں کے کپتانوں کو مصر کا ساحل نظر آنے لگا لیکن انہیں سلطان ایوبی کا کوئی جہازنظر نہیں آرہا تھا۔ سب سے اگلے جہاز کے کپتان نے سمندر میں ماہی گیروں کی ایک کشتی دیکھی۔ اس نے جہاز ان کے قریب کرکے اوپر سے جھک کر پوچھا… ”جنگی جہاز کہاں ہیں؟ اگر غلط بتائو گے تو تمہیں ڈبو کر مار ڈالیں گے”۔

ماہی گیروں نے کہا… ”مصر کے جہاز اس طرح نہیں رکھے جاتے۔ یہاں سے بہت دور ہیں”۔

جہاز روک کر رسہ پھینکا گیا۔ دو ماہی گیر رسے کے ذریعے جہاز پر چلے گئے۔ انہوں نے کپتان کو مصر کے جنگی جہازوں کے متعلق جو معلومات دیں، وہ یہ تھیں کہ کئی جہاز مرمت ہورہے ہیں۔ جو جہاز اچھی حالت میں ہیں وہ اتنی دور ہیں کہ سکندریہ تک پہنچتے دو دن لگیںگے کیونکہ بادبانوں اور چپوئوں کے لحاظ سے وہ کمزور اور کم رفتار ہیں۔ ماہی گیر نے جو سب سے زیادہ قیمتی بات بتائی، وہ یہ تھی کہ چونکہ سلطان ایوبی بحریہ کی طرف توجہ نہیں دیتا، اس لیے جنگی ملاح عیش وعشرت میں پڑے رہتے ہیں۔ ساحل کے ساتھ جو دیہات ہیں، وہاں چلے جاتے ہیں۔ ماہی گیروں سے مچھلیاں چھین لیتے ہیں۔

صلیبی بحریہ کے رہنما کے لیے یہ معلومات خوشخبری سے کم نہ تھیں۔ اس نے اپنا جہازروک لیا اور ایک کشتی کے ذریعے اس بیڑے کے کمانڈر کے جہاز تک گیا۔ اسے اس نے یہ معلومات دیں جو اس نے دو ماہی گیروں سے لی تھیں۔ا ن کے لیے میدان صاف تھا۔ کمانڈر نے بیڑے کو وہیں روک لیا۔ وہ شام کے بعد اندھیرے میں ساحل تک پہنچنا چاہتاتھا۔ اسے وہ جگہ بتا دی گئی تھی جہاں ساحل کے ساتھ پانی اتنا گہرا تھا کہ جہاز ریت میں پھنسے بغیر ساحل تک آسکتے تھے۔ وہاں فوج کو آسانی سے اتارا جاسکتا تھا… سکندریہ کی بندرگاہ سے ایک کشتی کھلے سمندر کی طرف چلی گئی جو بظاہر ماہی گیروں کی تھی۔ ابھی سور ج غروب نہیں ہوا تھا جب یہ کشتی بیڑے تک پہنچ گئی۔ کم وبیش اڑھائی سو جنگی جہاز سمندر میں دور دور تک بکھرے ہوئے تھے۔ ماہی گیر اپنی کشتی کو بیڑے کے درمیان لے گئے اور پوچھ کر کمانڈر کے جہاز تک پہنچ گئے۔ انہوں نے کمانڈر کو بتایا کہ سکندریہ کے اندر کوئی فوج نہیں ہے۔ صرف شہری آبادی ہے اور مصری بیڑے کے جنگی جہاز یہاں سے بہت دور ہیں… یہ ماہی گیر مسلمانوں کے جاسوس تھے۔

Read More:  Ishq Dy Gunjal Novel by Maryam Dastgeer – Episode 11

رات کا پہلا پہر تھا۔ جب اگلی صف کے جنگی جہاز ساحل کی طرف بڑھے اور کسی دشواری کے بغیر ساحل پر لنگر انداز ہوگئے۔ پچھلی صف کے جہاز ان کے قریب، عقب میں آئے اور لنگر ڈال دئیے۔ تیسری صف بھی قریب آگئی۔ فوج اتارنے کا انتظام غالباً یہ تھا کہ ہر ایک جہاز کو ساحل پر نہیں آنا تھا بلکہ تمام جہازوں کو ساتھ ملا کر ان میں سے فوج کو گزر کر اترنا تھا۔ سکندریہ پر خاموشی سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اطلاع کے مطابق وہاں چونکہ فوج نہیں تھی، اس لیے قبضہ مشکل نہ تھا۔ اگلے جہازوں سے جو فوج اتری، اسے سکندریہ میں داخل ہونے کا حکم دے دیاگیا اور سپاہیوں کو بتایا گیا کہ شہر ان کا اپنا ہے، کوئی مزاحمت نہیں ہوگی۔ سپاہی دوڑ پڑے۔ انہیں شہر کو لوٹنا تھا اور ان کی نظر عورتوں پر بھی تھی۔

جونہی سپاہیوں کا یہ ہجوم شہر کے قریب آیا، شہر کے باہر دائیں اور بائیں سے شعلے اٹھے جن سے رات روشن ہوگئی۔ یہ گھاس، لکڑیوں اور کپڑوں کے انبار تھے جن پر تیل ڈالا گیا تھا۔ ان سے روشنی کا کام لینا تھا۔ شہر کی گلیوں میں بھی مشعلیں جل اٹھیں اور مکانوں کی چھتوں سے تیروں کا مینہ برسنے لگا۔ صلیبی پیچھے کو بھاگے تو دائیں اور بائیں سے ان پر تیر برسنے لگے۔ ان کے لیے سنبھلنا مشکل ہوگیا۔ زخمیوں کی چیخ وپکار سے رات لرزنے لگی۔ ان صلیبیوں کی تعداد کم وبیش دو ہزار تھی۔ ان میں سے شاید ہی کوئی زندہ پیچھے گیا ہوگا۔ صلیبی فوج جو ابھی جہازوں میں تھی، اسے آگے آنے کا حکم ملا۔ جہازوں میں صلیبیوں کی منجنیقیں آتشیں گولے پھینکنے لگیں اور دور مار تیر بھی آنے لگے۔

سب سے پیچھے والے دو تین جنگی جہازوں میں سے شعلے اٹھے۔ صلیبی کپتانوں نے پیچھے دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر سے آگے کے گولے اٹھتے ہیں اور ان کے جہازوں میں آکر گرتے ہیں۔ صلیبیوں نے خوش فہمیوں میں مبتلا ہوکر جہازوں کو ہجوم کی صورت میں اکٹھا کردیا تھا اور وہ سلطان ایوبی کے پھندے میں آگئے تھے۔ دن کے وقت اگلے جہاز کو جو ماہی گیر ملے تھے، وہ علی بن سفیان کے محکمے کے آدمی تھے۔ یہ قدرتی سی بات تھی کہ سمندر میں ماہی گیر ملے تو صلیبی کپتان نے ان سے معلومات حاصل کیں۔ ماہی گیروں نے غلط معلومات دیں۔ انہوں نے صرف یہ بات ٹھیک بتائی تھی کہ مصری بیڑہ یہاں سے دور ہے۔ وہ واقعی دور تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے امیر البحر کو بتا دیا تھا کہ وہ سمندر پر نظر رکھے۔ کسی بھی وقت حملہ آجائے گا۔ امیر البحر نے دیکھ بھال کا اچھا انتظام کررکھا تھا۔ اسے قبل از وقت پتا چل گیا تھا کہ صلیبی بیڑہ سمندر کے وسط تک آگیا ہے۔ چنانچہ امیر البحر اپنے چند ایک جنگی جہاز جن میں آتشیں گولے پھینکنے والی منجنیقیں تھیں، ایک طرف دور لے گیا تھا۔ اس نے بادبان بھی اتار لیے تھے اور مستول بھی، تاکہ دور سے جہاز نظر نہ آسکیں۔ ان کے بجائے اس نے ایک ایک چپو پر دو دو آدمی لگا دئیے تاکہ رفتار تیزرہے۔

شام کے بعد جب صلیبی بیڑہ ساحل کے قریب گیا تو امیر البحر نے مستول بھی چڑھا دئیے اور بادبان بھی اور چپوئوںکی رفتار بھی تیز رکھی اور اس طرح وہ صلیبی بیڑے کے عقب میں عین اس وقت پہنچ گیا جب صلیبیوں نے اپنے جہاز ایک دوسرے کے ساتھ ملا دئیے تھے۔ صلیبیوں کو د وسرا دھوکہ ان ”ماہی گیروں” نے دیا تھا جو سکندریہ سے روانہ ہوئے تھے۔ انہوں نے صلیبی کمانڈر سے کہا تھا کہ وہا ں کے جاسوس ہیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ سکندریہ میں کوئی فوج نہیں۔ حقیقت یہ تھی کہ شہر کے ان مکانوں میں جو سمندر کی طرف تھے، وہاں صرف فوج تھی۔ شہریوں کو محفوظ حصے میں بھیج دیا گیا تھا۔

سلطان ایوبی کا امیر البحر بہت تھوڑے جہاز لے کر گیا تھا۔ انہوں نے نقصان تو بہت کیا لیکن دشمن کے کئی ایک جہاز بچ کر نکل گئے۔ دوسروں نے مقابلہ کیا۔ جلتے جہازوں نے رات کو دن بنا دیا تھا۔ اس روشنی میں سلطان ایوبی کے جہاز بھی نظر آنے لگے تھے۔ ان میں سے ایک جہاز صلیبیوں کی منجنیقوں کی زد میں آگیا۔ امیر البحر نے اپنے جہازوں کو پیچھے ہٹانا شروع کردیا کیونکہ دشمن جہازوں کی افراط کی سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گھیرا ڈالنے کی کوشش کررہا تھا۔ سکندریہ میں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے جوش میں آکر ساحل پرہلہ بول دیا اور جہازوں پر آتشیں تیر پھینکنے لگے۔ یہ جانباز مصر کی فوج کے اس تیسرے حصے کے تھے جسے سلطان ایوبی نے اپنے ہاتھ میں رکھا تھا۔ انہیں غیر فوجی لباس میں سکندریہ میں مکانوں میں مورچہ بند کیا گیا تھا اور نہایت خاموشی سے شہریوں کو دوسرے مکانوں میں منقل کردیاگیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی عقل اور دھوکے کی جنگ لڑ رہا تھا اور کم سے کم طاقت استعمال کررہا تھا۔ اس نے ابھی خاصی نفری اپنے زیر کمان ریزرو میں رکھی ہوئی تھی۔

رات بھر یہ جنگ جاری رہی۔ سمندر میں کئی جہاز جل رہے تھے، وہاں قیامت کا منظر بنا ہوا تھا۔ صلیبی بیڑہ چونکہ زیادہ تھا بلکہ سلطان ایوبی کے جہازوں کی نسبت بہت ہی زیادہ اس لیے صلیبی جہاز تباہی سے نکل کر مسلمانوں کے جہازوں کو گھیرنے کی کوشش کررہے تھے۔ صورت گھیرے والی بن گئی تھی۔ رات کو پتا نہیں چلتا تھا کہ اپنے جہازوں کی کیفیت کیا ہے۔سلطان ا یوبی وہاں موجود تھا۔ اس نے اپنے ان جہازوں کو جنہیں اس نے محفوظہ کے طور پر رکھا ہوا تھا، حکم بھیج دیا کہ صلیبی جہازوں کو دور کا چکر کاٹ کر الجھائیں۔ رات کے پچھلے پہر باقی جہاز بھی معرکے میں شریک ہوگئے۔ اس میں بہادری تو ان ملاحوں کی تھی جو چھوٹی چھوٹی کشتیوں میں اپنے جہازوں کو تیر، آتش گیر مادہ اور گولے پہنچا رہے تھے۔ اپنے جہازوں کو ڈھونڈنا بہت ہی مشکل کام تھا۔

صبح طلوع ہورہی تھی۔ جب امیر البحر ایک کشتی میں ساحل پر آیا۔ اس کے ساتھ چند ایک بحری سپاہی تھے۔ امیر البحر کے کپڑے خون سے لال تھے اور اس کی ایک ٹانگ جھلسی ہوئی تھی۔ اس کا جہاز نذرآتش ہوگیا تھا اور وہ چند ایک جوانوں کو سمندر سے نکال لایا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو بڑی عجلت میں معرکے کی صورتحال بتائی جو مختصر یہ تھی کہ اس کے آدھے جہاز تباہ ہوچکے تھے لیکن صلیبیوں کو اتنا زیادہ نقصان پہنچایا جاچکا تھا کہ وہ زیادہ دیر لڑنے کے قابل نہیں تھے۔ سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ باقی جہازوں کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔ یہ اقدام امیر البحر کی خواہش اور ضرورت کے عین مطابق تھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ”صلیبیوں کو سب سے زیادہ نقصان وہ بوجھ دے رہا ہے جو انہوں نے جہازوں میں لاد رکھا ہے۔ رسد کے علاوہ ان کے جہازوں میں فوج بھی ہے اور بعض جہازوں میں گھوڑے ہیں۔ اس بوجھ کی وجہ سے ان کے جہاز رفتار میں نہیں آتے اور گھومنے میں دیر لگاتے ہیں۔ میرے جہاز خالی ہیں”۔

امیر البحر اتنا زیادہ زخمی تھا کہ اس کا سر ڈول رہا تھا۔ سلطان ایوبی نے اپنے طبیب اور جراح کو بلایا مگر امیر البحر نے پروانہ کی۔ سلطان ایوبی کا ہیڈکوارٹر ساحل کے چٹانی علاقے میں تھا۔ وہ ایک اونچی چٹان پر کھڑے تھے۔ سورج کی پہلی کرنوں نے سمندر اور ساحل کا جومنظر دکھایا وہ ہیبت ناک تھا۔ جہاں تک نظر جاتی تھی، سمندر میں جہازمست سانڈوں کی طرح سمندر کو چیر رہے تھے۔ بہت سے جہاز جل رہے تھے۔ بعض مستول ٹوٹ جانے اور بادبان بے کار ہوجانے سے ایک ہی جگہ کھڑے ہچکولے کھا رہے تھے۔سمندر میں بہت سے انسان تیرتے نظر آرہے تھے اور موجیں لاشوں کو ساحل پر پٹخ رہی تھیں، اپنے جہازوں کا کچھ پتا نہیں چلتا تھا۔ دور مغرب کی طرف سمندر سے مستولوں کے بالائی حصے ابھرے، پھر بادبان نظرا ئے۔ جہاز ایک صف میں ایک دوسرے سے دور دور معرکے کی طرف بڑھے آرہے تھے۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”تمہارے جہاز آرہے ہیں”… اس نے ادھر دیکھا، وہاں امیر البحر نہیں تھا۔

امیر البحر اپنے جہازوں کو آتا دیکھ کر سلطان کو بتائے بغیر چٹان سے اتر گیا تھا۔ سلطان ایوبی کو وہ اس وقت نظر آیا جب وہ ایک کشتی میں بیٹھ چکا تھا اور کشتی کا بادبان کھل چکا تھا۔ یہ دس چپوئوں کی کشتی تھی۔ سلطان ایوبی نے چلا کر اسے پکارا… ”سعدی! تم واپس آجائو۔ میں نے تمہاری جگہ ابوفرید کو بھیج دیا ہے”۔

امیر البحر دور نکل گیا تھا۔ اس نے بلند آواز سے کہا… ”یہ میری جنگ ہے۔ خدا حافظ”… اور اس کی کشتی دور ہی دور ہٹتی گئی پھر نظروں سے اوجھل ہوگئی۔

قاصد نے سلطان ایوبی کو اطلاع دی کہ سکندریہ سے شمال مشرق کی طرف تین میل دور صلیبیوں کی کچھ فوج اتر آئی ہے اور وہاں خون ریز معرکہ لڑا جارہا ہے۔ سلطان ایوبی نے وہاں جانے کے بجائے کچھ احکام جاری کردئیے اور سمندری جنگ کو دیکھتا رہا… اور اس نے یہ منظر بھی دیکھا کہ صلیبیوں کا ایک جہاز ساحل کے ذرا قریب آگیا تھا۔ سلطان ایوبی کے بیڑے کا ایک جہاز اس کے قریب آنے کی کوشش کررہا تھا۔ صلیبیوں نے تیروں کی بوچھاڑ ماری لیکن مسلمان ملاحوں نے پرواہ نہ کی۔ وہ اپنے جہاز کو صلیبی جہاز کے اتنا قریب لے آئے کہ کود کر اس میں چلے گئے اور دست بدست لڑ کر جہاز پر قبضہ کرلیا مگر یہ معرکہ اتنا سہل نہ تھا۔ جیسا بیان کیا گیا ہے۔ مسلمان بحریہ کے سرفروشوں نے خون اور جان کی بے دریغ قربانی دی۔ وہ تین تین چار چار جہازوں کے گھیرے میں لڑے۔ دشمن کے جہازوں میں کود کود کر لڑے۔ تیروں سے چھلنی ہوئے مگر اس طرح معرکے میں سے نکلنے کی نہ سوچی، جس طرح صلیبی اپنے جہاز نکالنے کی کوشش کررہے تھے۔

صلیبیوں کی کمر رات کو ہی ٹوٹ گئی تھی۔ ان کے کمانڈر صلیب کا حلف پورا کررہے تھے اور انہیں صبح تک یہ امید لڑاتی رہی کہ وہ سلطان ایوبی کی قلیل سی بحری قوت پر قابو پالیں گے لیکن اگلے دن کے پچھلے پہر تک ان کی کیفیت اتنی بگڑ چکی تھی کہ جہاز بکھر کر ادھر کو ہی جارہے تھے، جدھر سے آئے تھے۔ وہ اپنی زیادہ تر قوت مسلمانوں کے ہاتھوں تباہ کرگئے تھے اور ان کی جو تھوڑی سی فوج ساحل پر اتری تھی، وہ سکندریہ سے تین چار میل دور شمال مشرق میں کچھ کٹ گئی تھی، باقی نے ہتھیار ڈال دئیے تھے۔ سلطان ایوبی کی فوج کا دوسرا حصہ ابھی جنگ میں شریک ہی نہیں ہوا تھا۔ سلطان ایوبی کے پاس قاصد آرہے تھے، جارہے تھے اور جب اسے یقین ہوگیا کہ صلیبی ناکام ہوگئے ہیں تو اس نے فوج کے دوسرے حصے کو ایک اور محاذ دے دیا۔ عمران کی اطلاع کے مطابق بیت المقدس کی طرف سے بھی صلیبی فوج کو آنا تھا۔ اس کے لیے نورالدین زنگی گھات میں تھا، تاہم پیش بندی کے طور پر سلطان ایوبی نے دفاع مضبوط کرلیا۔ تیسرے حصے کو جو اس نے اپنے زیرکمان ریزرو میں رکھا تھا، ان صلیبیوں کو پکڑنے پر لگا دیا جو سمندر سے نکل رہے تھے۔

سورج کی آخری کرنوں نے سلطان ایوبی کو یہ منظر دکھایا کہ صلیبیوں کے وہی جہاز نظر آرہے تھے جو جل چکے تھے اور ابھی ڈوبے نہیں تھے یا وہ جنہیں پکڑ لیا گیا تھا یا ان جہازوں کے بادبان نظر آرہے تھے جو واپس جاتے ہوئے دور ہی دور ہٹتے جارہے تھے۔ اس کی اپنی بحریہ کے جہاز جو بچ گئے تھے، ساحل کی طرف آرہے تھے۔ دیکھنے والوں نے اندازہ لگایا کہ سلطان کی آدھی بحریہ مصر پر قربان ہوگئی تھی۔ کشتیاں ساحل پر آرہی تھیں۔ ان میں اپنے بحری سپاہی آتے تھے جو زخمی تھے یا سمندر سے نکالے گئے تھے۔ ان کے جہاز تباہ ہوگئے تھے۔ ایک کشتی اس چٹان کے قریب آکے ساحل سے لگی جس پر سلطان ایوبی کھڑا تھا۔ اس میں کسی کی لاش تھی۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے پوچھا… ”یہ کس کی لاش ہے؟”

”امیرالبحر سعدی بن سعد کی”۔ ایک ملاح نے جواب دیا۔

سلطان ایوبی دوڑ کر نیچے اترا۔ لاش سے کپڑا ہٹایا۔ اس کے امیر البحر کی لاش خون سے لال ہوچکی تھی۔ ملاحوں نے بتایا کہ امیر البحر نے ایک جہاز تک پہنچ کر بحریہ کی کمان لے لی تھی اور جنگ لڑاتے رہے۔ انہوں نے اس جہاز پر اپنی کمان کا جھنڈا چڑھا دیا تھا۔ غالباً یہی وجہ تھی کہ صلیبیوں کے چار جہازوں نے انہیں گھیر لیا۔ا ن میں سے دو تباہ ہوئے اور امیرالبحر کا جہاز بھی تباہ ہوگیا۔ اس وقت تک معرکہ ختم ہوچکا تھا… سلطان ایوبی نے امیرالبحر کی لاش کا ہاتھ چوما اور کہا… ”تم سمندر کے فاتح ہو، میں کچھ بھی نہیں”۔

اس نے جہاں یہ حکم دیا کہ دشمن کے جو جہاز پیچھے رہ گئے ہیں، ان سے سامان نکالا جائے، وہاں جذباتی لہجے میں کہا… ”تمام کشتیاں سمندر میں ڈال دو اور کسی شہید کی لاش سمندر میں نہ رہنے دو۔ انہیں یہیں دفن کرنا جہاں بحیرۂ روم کی ہوائیں ان کی قبروں کو ٹھنڈی رکھیں”۔

بحری شہیدوں کی تعداد کم نہیں تھی۔

٭ ٭ ٭

بیت المقدس سے صلیبیوں کی فوج کوچ کرچکی تھی اور آدھا راستہ طے کرآئی تھی۔ انہیں کچھ خبر نہیں تھی کہ ان کی بحریہ اپنے انجام کو پہنچ چکی ہے۔ اس کے قلب میں صلیبیوں کا مشہور جنگجو حکمران ریجنالٹ تھا۔ اس فوج کے بھی تین حصے تھے۔ ایک آگے تھا، دوسرا کچھ دور پیچھے درمیان میں اور تیسرا بہت دائیں کو ہٹ کر آرہا تھا۔ اس کی متحدہ کمان ریجنالٹ کے پاس تھی اور اسے یہ توقع تھی کہ وہ سلطان ایوبی کو بے خبری میں جالے گا۔ تصوروں میں اسے قاہرہ نظر آرہا تھا۔ گھوڑا گاڑیوں کے قافلے، رسد بھی ساتھ لا رہے تھے۔ سکندریہ سے بہت دور شمال مشرق میں ایک وسیع خطہ ریت اور مٹی کے ٹیلوں اور نشیب وفراز کا ہوا کرتا تھا۔ آٹھ صدیوں نے اس خطے کو اب ویسا نہیں رہنے دیا۔ اس کے قریب باقی علاقہ صحرا تھا اور اس صحرا میں پانی بھی تھا۔ ریجنالٹ نے ایک پڑائو وہاں کیا۔ اس کی فوج کا اگلاحصہ آگے نکل گیا تھا۔ دائیں طرف والا حصہ دور تھا۔ آدھی رات کا وقت ہوگا۔ ریجنالٹ کے کیمپ میں قیامت بپا ہوگئی۔ اس کے کچھ بھی پلے نہ پڑا کہ یہ قیامت آسمان سے ٹوٹی ہے یا اس کی اپنی فوج نے بغاوت کردی ہے۔

اس کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ وہ نورالدین زنگی کی گھات میں آگیا ہے۔ زنگی نے کئی دنوں سے اپنی فوج کو ٹیلوں اور نشیب وفراز کے اس علاقے میں لاکے بٹھا رکھا تھا۔ اس نے یہ سوچا تھا کہ یہاں پانی قریب ہے، اس لیے صلیبی یہاں پڑائو کریں گے۔ صلیبی فوج کا اگلا حصہ آگے نکل گیا تو زنگی کے کمانڈروں کو مایوسی ہوئی۔ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ رات کو پڑائو پر حملہ کرنا ہے۔ وہاں پڑائو نہ ہوا۔ بہت دیر بعد انہیں دور سے گرد کے بادل نظر آئے تو وہ سمجھے کہ آندھی آرہی ہے۔ صحرائی آندھی بڑی خوفناک ہوا کرتی ہے لیکن یہ آندھی نہیں صلیبی فوج کا درمیانی حصہ تھا جو اسی جگہ آکر رک گیا، جہاں نورالدین زنگی کو توقع تھی۔ صلیبیوں نے خیمے نہ لگائے کیونکہ انہیں صبح کوچ کرنا تھا۔ جانوروں کو الگ باندھ دیا گیا اور پھر سورج ڈوب گیا۔

آدھی رات کو زنگی کے دستے جو گھات میں تھے، باہر آئے، یہ سب سوار تھے۔ انہوں نے پہلے تو اندھیرے میں تیروں کا مینہ برسایا اور جب سوئے ہوئے سپاہیوں میں بھگدڑ مچی تو سواروں نے گھوڑے سرپٹ دوڑا دئیے۔ وہ اندھا دھند برچھیاں اور تلواریں چلاتے گئے اور آگے نکل گئے۔ صلیبی سنبھلنے نہ پائے تھے کہ سواروں نے پھر ہلہ بول دیا۔ صلیبیوں کے بندھے ہوئے گھوڑوں کی رسیاں کھول دی گئیں۔ یہ سب بھاگ اٹھے۔ ریجنالٹ وہاں سے بھاگ گیا اور دائیں حصے والی فوج میں جاپہنچا۔ یہ حصہ کہیں دور پڑائو کیے ہوئے تھا۔ نورالدین زنگی اسی طرف تھا۔ اس ساری فوج کی رسد پیچھے آرہی تھی۔ زنگی نے اس کے لیے الگ دستے مقرر کررکھے تھے۔ انہوں نے صبح تک رسد پر قبضہ کرلیا۔ دائیں والا حصہ رات کو ہوشیار ہوگیا تھا۔ ریجنالٹ اسے اپنے حصے کی طرف لانے لگا کیونکہ وہ اسی جگہ کو میدان جنگ سمجھتا تھا۔ صبح کے دھندلکے میں یہ فوج چل پڑی۔ نورالدین زنگی نے عقب سے اس کے پہلو پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد اس فوج کو معلوم ہی نہ ہوسکا کہ اس پر کس طرف سے حملے ہورہے ہیں۔ سلطان ایوبی کی طرح زنگی بھی جم کر نہیں لڑتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے دستوں سے حملے کراکے صلیبیوں کو بکھیرتا جارہا تھا۔

اس نے رات کو سلطان ایوبی کی طرف قاصد بھیج دیا تھا۔ ان دونوں نے سکیم پہلے ہی بنا رکھی تھی۔ زنگی کا ہر عمل اور اقدام اور دشمن کا ردعمل ان کی سکیم کے عین مطابق تھا۔ ریجنالٹ نے اپنی فوج کے اگلے حصے کو پیچھے آنے کا پیغام بھیجا۔ چار روز ریجنالٹ اور زنگی میں لامحدود وسعت میں معرکے ہوتے رہے۔زنگی نے صلیبیوں کو بکھیر لیا تھا اور ”ضرب لگائو اور بھاگو” کے اصول پر لڑ رہا تھا۔ صلیبیوں کی فوج کا آگے والا حصہ واپس ہوا تو رات کو اس کے عقب پر حملہ ہوا۔ یہ سلطان ایوبی کے چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے دو تین شب خون مارے اور غائب ہوگئے۔ پھر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ صلیبی آمنے سامنے کی جنگ لڑنے کی کوشش کررہے تھے لیکن سلطان ایوبی انہیں کامیاب نہیں ہونے دے رہا تھا۔ یہ طریقہ آسان نہیں تھا۔ چھاپہ مار اگر ایک سو کی تعداد میں جاتے تھے تو بمشکل ساٹھ واپس آتے تھے۔ اس کے لیے خصوصی مہارت، دلیری اور تیزی کی ضرورت تھی جو سلطان ایوبی نے اپنے چھاپہ مار دستوں میں پیدا کررکھی تھی۔

جنگ بہت دور دور تک پھیل گئی۔ صلیبی فوج میں نہ جمعیت رہی، نہ مرکزیت۔ انکی رسد زنگی کے قبضے میں آگئی تھی۔ میدان جنگ میں نہ کوئی سامنا، نہ عقب۔ صلیبی اس جنگ کی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے جو مسلمان لڑ رہے تھے۔ پھر کیفیت یہ ہوگئی کہ جو صلیبی سپاہی بھاگ سکے، بھاگ گئے اور جن میں تاب نہ رہی، وہ ہتھیار ڈالنے لگے۔ ریجنالٹ ہار ماننے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے کسی اور جگہ کچھ فوج اکٹھی کرلی اور اسے یہ بھی پتا چل گیا کہ زنگی کہاں ہے۔ اس نے نہایت اچھی سکیم سے وہاں حملہ کردیا۔ یہ ایک بڑاہی سخت معرکہ تھا۔ صلیبی زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے تھے۔ ریجنالٹ کی چالیں اور اپنی فوج پر کنٹرول بہت اچھا تھا مگر چوتھی پانچویں رات زنگی کے شب خون مارنے والے ایک دستے کے چند ایک جانبازوں نے جان کی بازی لگا دی اور ریجنالٹ کی ذاتی خیمہ گاہ پر جا شب خون مارا۔ یہ زنگی کی سکیم کے تحت اقدام کیا گیا تھا۔ زنگی نے چھاپہ ماروں کی للکار پر حملہ کردیا۔ اس دور میں رات کے وقت لڑائی نہیں لڑی جاتی تھی۔ یہ طرح مسلمانوں نے ڈالی تھی کہ رات کو بھی حملے جاری رکھتے تھے۔

صبح طلوع ہوئی تو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر ریجنالٹ قیدی کی حیثیت سے نورالدین زنگی کے سامنے کھڑا تھا اور زنگی اسے اپنی شرائط بتا رہا تھا۔ یہ صلیبی کمانڈر ہر شرط ماننے پر آمادہ تھا لیکن بات جب بیت المقدس پر آئی تو ریجنالٹ نے انکار کردیا۔ زنگی نے اسے کہا تھا کہ بیت المقدس ہمارے حوالے کردو اور آزاد ہوجائو… شام تک سلطان ایوبی بھی آگیا۔ ریجنالٹ کو پورے احترام کے ساتھ رکھا گیا تھا۔ سلطان ایوبی اسے بغل گیر ہوکر ملا۔

”آپ عظیم سپاہی ہیں”۔ ریجنالٹ نے سلطان ایوبی سے کہا۔

”یوں کہو کہ اسلام عظیم مذہب ہے”۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا… ”سپاہی وہی عظیم ہوتے ہیں جن کا مذہب عظیم ہوتا ہے”۔

”محترم ریجنالٹ نے مجھ سے پوچھا تھا کہ ان کا بحری بیڑہ نہیں آیا تھا؟” نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی سے کہا… ”انہیں صحیح جواب تم ہی دے سکتے ہو۔ میں تو یہاں تھا”۔

”آپ کا بحری بیڑہ پورے طمطراق سے آیا تھا”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”اور واپس بھی چلا گیا ہے۔ آپ کے بہت سے جہاز سمندر کی تہہ میں ہوں گے اور جو ڈوبے نہیں، ان کے جلے ہوئے ڈھانچے سمندر پر تیر رہے ہیں جو فوج جہازوں سے اتر آئی تھی، وہ واپس نہیں جاسکی۔ ہم نے آپ کی تمام لاشیں پورے احترام سے دفن کردی ہیں”… سلطان ایوبی اسے جنگ کی صورتحال سنا رہا تھا کہ ریجنالٹ کی آنکھیں اور منہ کھلتا جارہا تھا۔ اسے یقین بھی نہیں آرہا تھا کہ یہ روئیداد سچی ہے۔

”اگریہ سچ ہے تو آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ یہ کیونکر ممکن ہوا؟”… ریجنالٹ نے پوچھا۔

”یہ راز اس روز آپ پر فاش کروں گا جس روز فلسطین سے صلیب کا آخری سپاہی بھی نکل جائے گا”… نورالدین زنگی نے کہا… ”آپ کی یہ شکست آخری نہیں، کیونکہ آپ اس سرزمین سے نکلنے پر آمادہ نظر نہیں آتے”۔

”میں آپ کو اپنے علاقے دے دوں گا”۔ ریجنالٹ نے کہا… ”مجھے رہا کردیں۔ جنگ نہ کرنے کا معاہدہ بھی کروں گا۔ آپ کی سلطنت بہت وسیع ہوجائے گی”۔

”ہمیں اپنی سلطنت کی ضرورت نہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”ہمیں خدا کی سلطنت قائم کرنی ہے۔ اسلام کی سلطنت جس کی وسعت کا آپ تصور بھی نہیں کرسکتے۔ آپ کا مقصود اسلام کی بیخ کنی ہے جو ممکن نہیں۔ آپ نے فوجیں استعمال کردیکھی ہیں۔ بحری بیڑہ بھی آزمالیا ہے۔ اپنی بیٹیوں کو استعمال کردیکھا ہے۔ آپ نے ہماری قوم میں غدار بھی پیدا کیے ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں آپ نے کتنی کامیابی حاصل کی ہے؟”

”کیا یہ میں آپ کو یاد دلائوں کہ ہم نے اسلام کو کہاں کہاں سے نکالا ہے؟” ریجنالٹ نے کہا… ”اسلام تو بحیرۂ روم کے پاس پہنچ گیاتھا۔ سپین سے اسلام کی پسپائی کیوں ہوئی؟ روم آپ کے ہاتھ سے کیوں نکلا؟ سوڈان آپ کا کیوں دشمن ہوا؟ صرف اس لیے کہ ہم نے تمہارے اسلام کے محافظوں کو خرید لیا تھا۔ آج بھی تمہارے حکمران بھائی ہمارے زر خرید غلام ہیں۔ ان کی ریاستوں میں مسلمان رہ گئے ہیں، اسلام ختم ہوگیا ہے”۔

”ہم وہاں اسلام کو زندہ کریں گے دوست!”۔ سلطان ایوبی نے کہا۔

”آپ خواب دیکھ رہے ہیں، صلاح الدین ایوبی!” ریجنالٹ نے کہا… ”آپ دونوں کب تک زندہ رہیں گے؟ کب تک لڑنے کے قابل رہیں گے؟ اسلام کی پاسبانی کب تک کرو گے؟ میں آپ دونوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ آپ سچے دل سے اپنے مذہب کے پاسبان اور بہی خواہ ہیں لیکن آپ کی قوم میں مذہب کو نیلام کرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے اورہم خریدار ہیں۔ اگر آپ ہمارے ساتھ جنگ وجدل کے بجائے اپنی قوم کو زرپرستی، لذت پرستی اور تعیش پسندی سے بچانے کی مہم چلائیں تو ہم یہاں ایک دن نہ ٹھہر سکیں گے مگر میرے دوستو! آپ اس مہم میں کامیاب نہیں ہوں گے جس کی وجہ یہ ہے کہ عیاشی آپ کی قوم میں نہیں آئی بلکہ قوم کے سربراہ اورحکمران عیاش ہوگئے ہیں۔ اس حقیقت سے آپ چشم پوشی نہ کریں کہ جو برائی حکمرانوں کی طرف سے شروع ہوتی ہے وہ قوم میں رواج کی صورت اختیار کرجاتی ہے۔ اسی لیے ہم نے آپ کے حکمرانوں کو اپن یجال میں پھانسا ہے اور میں آپ کو یہ بھی بتا دوں کے مجھے قتل کردیں۔ مجھ جیسے چند اور صلیبی حاکموں کو قتل کردیں، اسلام کو بہرحال ختم ہونا ہے۔ ہم نے جس مرض کا زہر آپ کی قوم کی رگوں میں ڈال دیا ہے، وہ بڑھے گا، کم نہیں ہوگا”۔

وہ ایسی حقیقت بیان کررہا تھا جس سے نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی انکار نہیں کرسکتے تھے۔ تاہم وہ صلیبیوں پر بہت بڑی فتح حاصل کرچکے تھے اور ایک صلیبی بادشاہ جو صلیبیوں کا سپریم کمانڈر تھا، ان کے پاس جنگی قیدی تھا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سے قیدی ہاتھ آئے تھے۔ یہ صرف ایک جاسوس کا کارنامہ تھا جو عکرہ سے اس حملے کی خبر بروقت لے آیا تھا۔

٭ ٭ ٭

ریجنالٹ اور دوسرے تمام جنگی قیدیوں کو نورالدین زنگی کرک لے گیا اور سلطان ایوبی اس سے رخصت ہوکر قاہرہ چلا گیا۔ اس نے سوچا تک نہ تھا کہ وہ ا ب نورالدین زنگی سے کبھی نہیں مل سکے گا۔ وہ اس مسرت کے ساتھ قاہرہ گیا کہ زنگی ریجنالٹ جیسے قیمتی قیدی کو بڑی سخت شرائط منوائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ نورالدین زنگی نے بھی ذہن میں کچھ منصوبے بنائے ہوں گے مگر خدا کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ مارچ ١١٧٤ء کے ابتدائی دن تھے کہ بغداد کے کسی علاقے میں شدید زلزلہ آیا جس نے چھ سات دیہات کو تباہ کردیا۔ بغداد میں بھی نقصان ہوا۔ مورخوں نے اسے تاریخ کا سب سے زیادہ تباہ کن زلزلہ کہا ہے۔ نورالدین زنگی کے دل میں اپنے عوام کے ساتھ اتنی محبت تھی کہ ان کی امداد کے احکام جاری کرنے کے بجائے خود کرک سے چل پڑا۔ وہ ان کی دستگیری اپنی نگرانی میں کرنا چاہتا تھا، ویسے بھی اسے کرک سے جانا تھا۔ بغداد اور اردگرد کے حالات اچھے نہیں تھے۔ وہ کرک سے ریجنالٹ اور دوسرے صلیبی قیدیوں کو بھی ساتھ لیتا گیا۔

بغداد پہنچ کر اس نے سب سے پہلے زلزلے کا شکار ہونے والے لوگوں کی طرف توجہ دی۔ دارالخلافے سے باہر رہنے لگا۔ وہ دل وجان سے اپنے لوگوں کی مدد کرتا رہا۔ جہاں رات آتی وہیں رک جاتا۔ اس نے کھانے کی پروا نہ کی کہ کیسا ملتا ہے اور کس کے ہاتھ کا پکا ہوتا ہے۔ اسے تباہ حال لوگوں کی خوش حالی کا غم کھائے جارہا تھا۔ اپریل کے آخر تک اس نے تمام متاثرین کو آباد کردیا۔ جب ذرا فرصت ملی تو اس نے اپنے طبیب کو بتایا کہ وہ اپنے گلے کے اندر درد محسوس کرتا ہے۔ طبیب نے دوا دارو کیا لیکن حلق میں سوزش بڑھتی گئی۔ طبیبوں نے بہت علاج کیا لیکن مرض کا یہ عالم ہوگیا کہ وہ بات کرنے سے بھی معذور ہوگیا اور مئی ١١٧٤ کے پہلے ہفتے میں خاموشی سے جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔

یورپی مورخوں نے لکھا ہے کہ زنگی کو خناق کا عارضہ لاحق ہوگیا تھا لیکن بعض مورخوں نے وثوق سے لکھا ہے کہ زنگی کو حسن بن صباح کے فدائیوں نے زہر دیا تھا۔ ان دنوں جب زنگی زلزلے سے تباہ کیے ہوئے دیہات میں بھاگتا دوڑتا رہتا اور اس کے کھانے کے اوقات اور پکانے کے طورطریقے بے قاعدہ ہوگئے تھے۔فدائیوں نے اسے کھانے میں ایسا زہر دینا شروع کردیا تھا جس کا ذائقہ محسوس نہیں ہوتا تھا۔ یہ زہر حلق کی ایسی سوزش کا باعث بنا، جسے طبیب سمجھ ہی نہ سکے۔ جنرل محمد اکبر خان )رنگروٹ( نے اپنی انگریزی کتاب ”گوریلا وارفیئر” میں کئی بڑے بڑے اور مستند مورخوں کے حوالے سے اسی کی تصدیق کی ہے کہ نورالدین زنگی فدائیوں کا شکار ہوا تھا۔

زنگی کوئی وصیت نہ کرسکا۔ سلطان ایوبی کو کوئی پیغام نہ بھیج سکا۔ سلطان ایوبی کو اس وقت اطلاع پہنچی جب زنگی دفن ہوچکا تھا۔ دوسرے ہی دن بغداد سے ایک اور قاصد یہ اطلاع لے کے آیا کہ نورالدین زنگی کی وفات کے ساتھ ہی موصل، حلب اور دمشق کے امراء نے خودمختاری کا اعلان کردیا ہے ا ور سلطان ایوبی کو یہ اطلاع بھی ملی کہ بغداد کے امراء وزاء نے نورالدین زنگی کے بیٹے الملک الصالح کو جس کی عمر صرف گیارہ سال تھی، سلطنت اسلامیہ کا خلیفہ مقرر کردیاہے۔ سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ یہ امراء نابالغ خلیفہ کو کس راستے پر ڈالیں گے اور وہکیا گل کھلائیں گے۔

سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو بلایا اور کہا… ”تم نے پانچ مہینے گزرے، مجھے اطلاع دی تھی کہ عکرہ میں اپنا ایک جاسوس شہید ہوگیا اور دوسرا پکڑا گیا ہے تو میرا دل بیٹھ گیا تھا اور مجھے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے صلیبیوں کا یہ سال دنیائے اسلام کے لیے اچھا نہیں ہوگا… بیٹھ جائو۔ میری باتیں غورسے سنو۔ اب ہمیں اپنے بھائیوں کے خلاف لڑنا پڑے گا”۔

٭ ٭ ٭

اسکے ساتھ ھی اسلام کی پاسبانی کب تک کروگے بھی حتم ھوا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: