Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 17

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 17

–**–**–

اسلام کی بقا کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی

مئی ١١٧٤ء کا دن دنیائے اسلام کا ایک تاریک دن تھا۔ نورالدین زنگی کی میت کو ابھی غسل بھی نہیں دیا گیا تھا کہ بہت سے انسانوں کے چہرے مسرت سے چمک اٹھے تھے۔ یہ صلیبی نہیں تھے، یا یوں کہیے کہ صرف صلیبی نہیں تھے جو زنگی کے انتقال پر پرسرور تھے، ان میں مسلمان بھی تھے جو صلیبیوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی خوش نظر آتے تھے۔ یہ مسلمان ریاستوں اور جاگیروں کے امراء اور حاکم تھے۔ وہ سب زنگی کے گھر جمع ہوگئے تھے۔ وہ جنازے کے لیے آئے تھے۔ ان میں سے بعض بے چین تھے جیسے زنگی کے انتقال سے غم زدہ ہوں مگر بے چینی یہ تھی کہ وہ زنگی کو شام سے پہلے پہلے دفن کردینا چاہتے تھے۔ وہ اکٹھے تو ہوگئے تھے لیکن ان کے دل پھٹے ہوئے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو شکی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان لوگوں کا مذہب ایک، خدا ایک، رسول ایک، قرآن ایک اور دشمن ایک تھا مگر ہر ایک کا دل دوسرے سے الگ اور جدا تھا۔ ان کی مثال ایک درخت کی ٹہنیوں کی سی تھی جو ٹوٹ کر درخت سے الگ ہوگئی ہوں اور اب الگ الگ اپنے آپ کو ہرا بھرا رکھنے کی توقع لیے ہوئے ہوں۔

وہ دور دراصل جاگیرداری اور نوابی کا تھا۔ بعض مسلمان ریاستیں ذرا وسیع تھیں اور باقی چھوٹی چھوٹی… ان کے حکمران امیر کہلاتے تھے۔ یہ لوگ مرکزی خلاف کے تحت تھے۔ اسلام کے کسی بھی دشمن کے خلاف جنگ ہو تو یہ امراء خلافت کو مالی اور فوجی مدد دیتے تھے مگر یہ مدد صرف مدد تک محدود رہتی تھی، اس میں کوئی ملی جذبہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ امن اور سکون سے عیش وعشرت کرنے کی خاطر خلافت کا مطالبہ پورا کردیتے تھے۔ عیش وعشرت کی خاطر وہ اپنے سب سے بڑے )بلکہ واحد( دشمن صلیبیوں سے درپردہ دوستی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ ان میں سے بعض نے صلیبیوں کے ساتھ درپردہ معاہدے کر بھی رکھے تھے لیکن نورالدین زنگی کا وجود صلیبیوں کے راستے میں ایک چٹان تھا۔ وہ مسلمان امراء کو کئی بار شرمسار کرچکا تھا اور اس نے انہیں ذہن نشین کرانے کی سرتوڑ کوشش کی تھی کہ صلیبی انہیں اسلامی وحدت سے توڑ کر ہڑپ کرتے جائیں گے مگر صلیبیوں کی مہیا کی ہوئی یورپی شراب، نوجوان لڑکیوں اور سونے کی اینٹوں میں اتنی قوت تھی، جس نے ان کے کان بند اور عقل سربمہر کررکھی تھی۔ زنگی کی آواز جیسے پتھروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی۔

وہ سب سے پہلے جاگیردار اور نواب تھے، امیر اور حاکم تھے اور ان کے بعد اگر مذہب کی بات چل نکلے تو وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے۔ ان کا اگر دین تھا تو وہ ان کی ریاستیں اور جاگیریں تھیں۔ یہی ان کا ایمان تھا۔ وہ اسلامی وحدت کے قائل نہیں تھے۔ جنگ کے سخت خلاف تھے کیونکہ انہیں خطرہ محسوس ہونے لگتا تھا کہ صلیبی ان کی جاگیروں پر قبضہ کرلیں گے۔ ان کے علاوہ ان کے دلوں میں یہ ڈر بھی تھا کہ ان کی رعایا نے اپنے دشمن کو پہچان لیا تو اس میں روحانی بیداری اور قومی وقار بیدار ہوجائے گا، پھر رعایا ان کی نوابی کے لیے خطرہ بن جائے گی۔ حقیقت یہ تھی کہ رعایا ان کے لیے مستقل خطرہ تھی۔ لوگوں میں قومی وقار موجود تھا۔ زنگی کی فوج انہیں لوگوں کی فوج تھی۔ اس کے مجاہدوں نے دس گنا دشمن کا مقابلہ بھی کیا تھا۔ یہ جذبے کا کرشمہ تھا۔ امراء کو یہ جذبہ ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ لہٰذا وہ زنگی کو بھی پسند نہیں کرتے تھے اور صلاح الدین ایوبی کو تو وہ اپنا دشمن سمجھتے تھے۔ اب زنگی فوت ہوگیا تو وہ خوش تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس قوم میں اب کوئی زنگی نہیں رہا اور جہاد بھی زنگی کے ساتھ ہی دفن ہوجائے گا۔

زنگی دفن ہوگیا، صلیبیوں پر مسلمانوں کی جو دہشت طاری تھی، وہ ختم ہوگئی۔ ان کے دل میں اب صلاح الدین ایوبی کا کانٹا رہ گیا تھا جس کے متعلق اب وہ اتنے فکر مند نہیں تھے، جتنے زنگی کی زندگی میں تھے۔ اب سلطان ایوبی اکیلا رہ گیا تھا۔ اسے مدد اور کمک دینے والا زنگی مرگیا تھا۔ صلیبیوں کو اصل خوشی تو اس پر ہوئی کہ زنگی کے بعد سرکردہ امراء وزاء نے زنگی کے کمسن بیٹے الملک الصالح کو گدی پر بٹھا دیا تھا جس کی عمر گیارہ سال تھی۔ یہ انتخاب ان امراء نے کیا تھا جو در پردہ صلیبیوں کے دوست تھے۔ ان طرح سلطانی کی گدی صلیبیوں کے ہاتھ آگئی تھی۔ ان امراء میں گمشتگین نام کا ایک امیر جو دراصل قلعہ دار )قلعے کا گورنر( تھا اور دوسرا سیف الدین والئی موصل تھا۔ دمشق کا حاکم شمس الدین بن عبدالمالک تھا۔ الجزیرہ اور نواحی علاقوں پر نورالدین زنگی کے بھتیجے کا راج تھا۔ ان کے علاوہ کئی اور جاگیر دار تھے۔ ان سب نے خود مختاری کا اعلان کردیا۔ وہ بظاہر خلافت کے ماتحت تھے لیکن عملاً آزاد ہوگئے تھے۔ وہ اپنی اپنی جگہ بہت مسرور تھے مگر محسوس نہ کرسکے کہ وہ ذروں کی طرح بکھر کر صلیبیوں کا آسان شکار بن گئے ہیں۔

زنگی کی وفات سے عالم اسلام کو جو نقصان پہنچا تھا، اسے زنگی کی بیوی نے محسوس کیا۔ سلطان ایوبی نے محسوس کیا اور ان لوگوں نے محسوس کیا جن کے دلوں میں اسلام کی عظمت زندہ تھی۔

٭ ٭ ٭

اس حادثے کو بہت دن گزر چکے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا۔ کمرے میں مصطفی جودت نام کا ایک اعلیٰ فوجی افسر بیٹھا بول رہا تھا۔ مصطفی ترک تھا۔ وہ نورالدین زنگی کی فوج میں منجنیقوں کا کمانڈر تھا۔ زنگی کی وفات کے بعد اس نے عالم اسلام میں جو تباہ کن انقلاب دیکھا، اس نے اسے تڑپا دیا۔ اس نے یہ کہہ کر لمبی چھٹی لے لی کہ اسے ترکی گئے کئی سال گزر گئے ہیں، لہٰذا وہ ترکی اپنے گھر جانا چاہتا ہے۔ وہ دمشق سے روانہ ہوا، قاہرہ پہنچ گیا اور سلطان ایوبی کے پاس چلا گیا۔ مصطفی ان فوجی افسروں میں سے تھا جو افسر کم اور مسلمان زیادہ ہوتے ہیں۔ اسے معلوم تھا کہ زنگی کے بعد صرف سلطان ایوبی ہے جو عظمت اسلام کی پاسبانی کرسکتا ہے اور کرے گا۔ اسے ڈر تھا کہ سلطان ایوبی کو اس طرف کے حالات کا علم نہیں ہوگا۔ چنانچہ وہ سلطان ایوبی کو وہاں کے حالات سنا رہا تھا۔

”…اور فوج کس حال میں ہے؟” سلطان ایوبی نے اس سے پوچھا۔

”محترم زنگی مرحوم نے فوج میں جو جذبہ پیدا کیا تھا، وہ زندہ ہے”… مصطفی نے جواب دیا… ”مگر یہ جذبہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکے گا۔ آپ جانتے ہیں کہ صلیبیوں کے سیلاب کو صرف فوج نے روک رکھا ہے۔ محترم زنگی مرحوم کی زندگی میں عملاً فوج حکومت کررہی تھی۔ جنگی منصوبے اور فیصلے فوج کے ہاتھ میں تھے لیکن یہ اقدام خلافت کے احکام کے خلاف تھا۔ اب ہم خلافت کے پابند ہوگئے ہیں۔ ہم اپنے آپ کوئی کارروائی نہیں کرسکتے اگر خلیفہ کوئی جنگی منصوبہ بنائے گا ہی نہیں تو فوج کیا کرے گی؟ صلیبی جانتے ہیں کہ مسلمان امراء میں وہ غیرت ہی نہیں جو قومی عظمت کی خاطر لڑاتی اور مرواتی ہے اور لوگ جانیں قربان کرتے ہیں۔ صلیبیوں نے امراء کی غیرت خرید لی ہے اور اب وہ سالاروں کو خریدنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کی تخریبی سرگرمیاں فوج میں بھی اور قوم میں بھی شروع ہوگئی ہیں اگر یہ عمل جلدی نہ روکا گیا تو صلیبی فوجی حملے کے بغیر ہی سلطنت اسلامیہ کے مالک بن جائیں گے۔ سلطنت اسلامیہ جاگیروں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ امراء کو اب راہ راست پر نہیں لایا جاسکتا۔ وہ صلیبیوں کی شراب میں ڈوب گئے ہیں۔ انہوں نے وہاں لڑکیوں کی فوج اتار دی ہے۔ آپ سن کر حیران ہوں گے کہ یہ لڑکیاں امراء کے حرموں میں رہتی ہیں۔ ان کے کہنے پر جشن منائے جاتے ہیں، جن میں سرکردہ فوجی افسروں کو مدعو کرکے یہ لڑکیاں انہیں بے حیائی سے اپنے جال میں پھانس رہی ہیں”۔

”اور اس کے بعد میں جانتا ہوں کیا ہوگا”… سلطان ایوبی نے کہا… ”فوجیوں کو نشے اور بدکاری کا عادی بنایا جائے گا”۔

”بنایا جارہا ہے”۔ مصطفی نے کہا… ”حشیشین بھی اپنی کارروائیوں میں مصروف ہوگئے ہیں۔ اب یوں ہوگا کہ جو سالار یا نائب سالار صلیبیوں کی دشمنی دل سے نہیں نکالے گا اور جہاد کا قائل رہے گا، حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کے ہاتھوں پراسرار طریقے سے قتل کرادیا جائے گا”۔

مصطفی نے سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا کہ کون سا امیر کیا کررہا ہے۔ اس تفصیل کا لب لباب یہ تھا کہ امراء جہاں خودمختار ہوگئے تھے، وہاں انہوں نے ایک دوسرے کو دشمن سمجھنا شروع کردیا تھا۔ انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف فوجی تیاریاں شروع کردی تھیں۔ صلیبی اس نفاق اور چپقلش کو ہوا دے رہے تھے۔

”آپ نے اچھا کیا ہے جو مجھے وہاں کے حالات بتانے آگئے ہیں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”اگر آپ نہ آتے تو مجھے ان تفصیلات کا علم نہ ہوتا، البتہ یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ گیارہ سال کے بچے کو سلطان بنا کر وہ لوگ کیا کرنا چاہتے ہیں”۔

”اور آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟” مصطفی نے پوچھا… ”اگر آپ نے فوری کارروائی نہ کی تو سمجھ لیں کہ سلطنت اسلامیہ کا سورج ڈوب چکا ہے۔ آپ کی کارروائی صرف جنگی ہونی چاہیے”۔

”یہ دن بھی مجھے دیکھنا تھا کہ میں بھائیوں کے خلاف جنگی کارروائی کی سوچوں گا”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”میں اس سے ڈرتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد غدار تاریخ میں یہ نہ لکھ دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی خانہ جنگی کا مجرم تھا”۔

”اگر آپ اس ڈر سے قاہرہ میں بیٹھے رہے تو تاریخ آپ پر یہ شرمناک الزام عائد کرے گی کہ نورالدین زنگی مرگیا تھا تو سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھی دم نکل گیا تھا۔ اس نے مصر پر اپنی گرفت مضبوط ر کھنے کے لیے سلطنت اسلامیہ کو قربان کردیا تھا”۔

”ہاں!” سلطان ایوبی نے کہا… ”یہ الزام زیادہ شرمناک ہوگا۔ میں ہر پہلو پر غور کرچکا ہوں، مصطفی! اگر میں جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہوں تو میں یہ نہیں دیکھوں گا کہ میرے گھوڑے تلے کون روندا جاتا ہے۔ میری نگاہ میں وہ کلمہ گو کفار سے بدتر ہے جو کافر کو دوست سمجھتا ہے… آپ واپس چلے جائیں۔ میں نے علی بن سفیان کو وہاں بھیج رکھا ہے لیکن یاد رہے کہ وہ جاسوسوں کے بھیس میں گیا ہے۔ وہاں کسی کو معلوم نہیں ہوسکے گا کہ علی بن سفیان ان کے درمیان گھوم پھر رہا ہے اور جائزہ لے رہا ہے کہ وہاں کس قسم کی کارروائی کی ضرورت ہے۔ آپ جاکر یہ دیکھیں کہ کون کون سا سالار مشکوک ہے۔ علی بن سفیان کے ساتھ بہت سے آدمی گئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ انہیں وہاں کیا کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی میں نے تمام امراء کی طرف اس پیغام کے ساتھ ایلچی بھیجے ہیں کہ امراء ان حالات میں جبکہ صلیبی ان کے سر پر بیٹھے ہیں، ایک محاذ پر مورچہ بند ہوجائیں اور آپس کے اختلافات مٹانے کی کوشش کریں۔ مجھے امید نہیں کہ وہ پیغام کو سمجھنے کی کوشش کریں گے لیکن میں انہیں صرف ایک بار بتا دینا چاہتا ہوں کہ سیدھا راستہ کون سا ہے، میں انہیں یہ نہیں بتائوں گا کہ انہوں نے میرے کہے پر عمل نہ کیا تو میں کیا کروں گا”۔

مصطفی جودت کو رخصت کرکے سلطان ایوبی نے اپنے دربان کو چند ایک سالاروں اور انتظامیہ کو حکام کے نام لے کر کہا کہ انہیں جلدی سے اس کے پاس بھیجا جائے۔ یہ اس کی ہائی کمانڈ تھی، جسے اس نے بلایا تھا۔

٭ ٭ ٭

قاضی بہائوالدین شداد جو صلاح الدین ایوبی کا دست راست اور ہمراز دوست تھا اور جو اس کی مجلس مشاورت میں اعلیٰ رتبہ اور مقام رکھتا تھا، اپنی یادداشتوں میں لکھتا ہے… ”صلاح الدین ایوبی کو خدا نے فولاد کے اعصاب عطا کیے تھے۔ اس نے اپنی شخصیت اور کردار کو اس قدر مضبوط بنا رکھا تھاکہ پہاڑوں جیسے صدمے ہنس کھیل کر برداشت کرلیتا تھا۔ عزم کا ضدی اور مستقل مزاج تھا۔ امیر ہو یا غلام وہ ہر کسی کا یکساں احترام کرتا تھا۔ البتہ کسی کو دوسروں سے ممتاز سمجھتا تو صرف بہادری اور شجاعت کی بنا پر سمجھتا تھا۔ اس کے قریب رہنے والے اس سے دو طرح کا تاثر لیتے تھے۔ ایک رعب کا دوسرا محبت کا۔ اس کے سپاہی جب میدان جنگ میں اسے دیکھتے تھے تو دشمن پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ ایک بار یوں ہوا کہ ایک خادم نے دوسرے خادم پر جوتا اتار کر پھینکا۔ صلاح الدین ایوبی کمرے سے نکل رہا تھا۔ جوتا اسے جالگا۔ دونوں خادم تھرتھر کانپنے لگے لیکن صلاح الدین ایوبی نے دونوں طرف سے منہ پھیر لیا اور آگے نکل گیا۔ یہ کردار کی عظمت کا مظاہرہ تھا۔ دوست تو دوست، دشمن اس کے سامنے آتے تو اس کے مرید بن جاتے تھے”۔

نورالدین زنگی کی موت نے سلطنت اسلامیہ کو تاریخ کے سب سے بڑے خطرے میں ڈال دیا تھا۔ اس خطرے کا سب سے زیادہ خطرناک پہلو یہ تھا کہ اپنے ہی امیر اور وزیر صلیبیوں کے دوست اور اسلام کے دشمن ہوگئے تھے۔ مصر کے اندرونی حالات ابھی پوری طرح نہیں سنبھلے تھے، صلاح الدین ایوبی مصر سے نہیں نکل سکتا تھا۔ ایسے حالات میں وہ یہی کرسکتا تھا کہ سلطنت اسلامیہ کے دفاع کا ارادہ دل سے نکال دے اور صرف مصر کے دفاع کو مضبوط رکھے لیکن میرا یہ دوست ذرہ بھر نہ گھبرایا۔ اس ضمن میں میرے ساتھ بات کرتے ہوئے اس نے کہا… ”اگر میں اسلام کی پاسبانی سے دستبردار ہوجائوں تو روز محشر صلیبیوں کے ساتھ اٹھایا جائوں گا”… اسلام کی پاسبانی اور فروغ کو وہ فرمان خداوندی سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو کبھی حاکم یا حکمران نہیں سمجھا۔ مجھے صلاح الدین ایوبی کی نوجوانی بھی یاد ہے۔ جب وہ پوری طرح عیش وعشرت میں ڈوب گیا تھا۔ وہ شراب بھی پیتا اور رقص کے سرور کا دلدادہ تھا۔ موسیقی اور رقص کی باریکیوں اور گہرائیوں کو سمجھتا اور نسوانی حسن کو دل کھول کر خراج تحسین پیش کرتا اور تعیش کے لیے حسین ترین لڑکی کا انتخاب کرتا تھا۔ کبھی کسی کے وہم وگمان میں نہیں آیا تھا کہ یہ نوجوان چند ہی سال بعد اسلام کا سب سے بڑا علمبردار اور اسلام کے دشمنوں کے لیے برق اور طوفان بن جائے گا۔ اپنے چچا کے ساتھ وہ صلیبیوں کے خلاف پہلے ہی معرکے میں گیا تو اس نے سب کو حیران کردیا اور جب وہ اس معرکے سے واپس آیا تو اس نے پہلا کام یہ کیا کہ عیش وعشرت پر لعنت بھیجی اور اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کردی۔ اس نے قوم کو اور اپنی فوج کو یہ نعرہ دیا کہ سلطنت اسلامیہ کی کوئی سرحد نہیں…

اسے اس بدلی ہوئی کیفیت میں دیکھنے والے تسلیم نہیں کرتے تھے کہ وہ کبھی عیاش بھی ہوا کرتا تھا۔ کردار کی بلندی اور پختگی اس کو کہتے ہیں کہ اپنے نفس اور نفسانی خواہشات کو مار دیا جائے۔ یہ پختگی صلاح الدین ایوبی کے کردار میں تھی۔ دونوں کی محفلوں میں وہ کہا کرتا تھا… ”مجھے کافروں نے مسلمان بنایا ہے اگر ہم اپنے ان نوجوانوں کو جو مذہب سے منحرف ہوگئے ہیں، کافر کی ذہنیت دکھا دیں تو وہ راہ راست پر آجائیں گے۔ دشمن کے ساتھ انہیں پیار کے جو سبق دئیے جارہے ہیں، وہ انہیں قومی وقار سے محروم کررہے ہیں۔ میں اپنی قوم کو اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث یاد کرانا چاہتا ہوں کہ ”اپنے آپ کو جان لو کہ تم کون ہو اور کیا ہو اور اپنے دشمن کو اچھی طرح پہچان لو کہ وہ کون ہے اور کیا ہے اور تمہارے متعلق وہ کیا ارادے رکھتا ہے”… اس کے کردار کا رخ دشمن نے ہی بدلا تھا… صلاح الدین ایوبی اپنے مقصد اور عزم میں اس حد تک مگن رہا کہ اس نے کبھی سوچا ہی نہ تھا کہ وہ عالم اسلام کا سب سے بڑا قائد ہے۔ مصر کا حاکم کل ہے اور فن حرب وضرب کا ایسا استاد کہ صلیبیوں کے کمانڈر متحد ہوکر بھی، اس سے خائف رہتے ہیں۔ اس کی مالی حالت یہ تھی کہ وہ حج نہیں کرسکا۔ جہاد نے اسے مہلت نہ دی۔ آخری عمر میں اس کی یہی ایک خواہش رہ گئی تھی کہ حج پر جائے مگر اب اس کے پاس اتنی رقم نہیں تھی۔ وہ جب فوت ہوا تو اس کی ذاتی متاع صرف سنتالیس درہم چاندی کے اور ایک ٹکڑا سونے کا تھا۔ اس کی جائیداد صرف ایک مکان تھا جو اس کے باپ دادا کا تھا۔

یہ اس کے کردار کی پختگی کا حیران کن مظاہرہ تھا کہ اس نے جب اپنے سالاروں وغیرہ کو کانفرنس کے لیے بلایا تو اس کے چہرے پر گھبراہٹ یا پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا۔ کانفرنس کے حاضرین پر خاموشی طاری تھی۔ انہیں یہ توقع تھی کہ سلطان ایوبی گھبرایا ہوا ہوگا مگر اس نے مسکرا کر سب کو دیکھا اور کہا… ”میرے رفیقو! تم نے بڑے ہی دشوار اور پیچیدہ حالات میں میرا ساتھ دیا ہے۔ آج ایسے حالات نے ہمیں للکارا ہے جو بظاہر ہمارے قابو میں آنے والے نہیں لیکن یاد رکھو اگر ہم نے ان حالات پر قابو نہ پایا تو ہم سب کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے اور خدا کے حضور بھی رسوائی۔ دنیا میں تاریخ ہماری قبروں پر لعنت بھیجے گی اور روز محشر وہ شہید ہمیں شرمسار کریں گے جنہوں نے اسلام کی آبرو پر جانیں قربان کی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب جانیں قربان کردیں”… اس تمہید کے بعد اس نے اپنے اعلیٰ حکام کو ہر ایک تفصیل بتائی اور کہا کہ اب انہیں اپنے بھائیوں کے خلاف لڑنا پڑے گا۔ اس نے سب کے چہروں کا جائزہ لیا، کچھ دیر خاموش رہا۔ سب کے چہروں کے رنگ بدل گئے تھے۔ اسے اطمینان ہوگیا کہ یہ حکام ہر صورتحال میں اس کا ساتھ دیں گے۔ اس نے کہا… ”میرا پہلا اقدام یہ ہے کہ میں اپنی خودمختاری کا اعلان کرتاہوں، میں اب مرکزی خلافت کا پابند نہیں رہناچا ہتا لیکن میں یہ اعلان تم سب کی اجازت کے بغیر نہیں کروں گا۔ مجھے اجازت دینے یا نہ دینے سے پہلے ایک دو پہلوئوں پر غور کرلو۔ ایک یہ کہ خلافت عملاً ختم ہوچکی ہے، جیسا کہ میں نے تمہیں بتایا کہ خلیفہ گیارہ سال کا بچہ ہے۔ اس پر تین چار امراء نے قبضہ کررکھا ہے۔ یہ امراء صلیبیوں کے دوست ہیں، لہٰذا آپ کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگنی چاہیے کہ خلافت صلیبیوں کی گود میں چلی گئی ہے۔ اب ہماری فکر خلافت کے خلاف ہے اگر تم خودمختار اور آزاد نہیں ہوتے تو تمہیں خلیفہ کے حکم ماننے پڑیں گے اور یہ حکم سلطنت اسلامیہ کے لیے تباہ کن ہوں گے۔ کیا ان حالات میں یہ اقدام صحیح نہیں ہوگا کہ میں مصر کو خلافت سے آزاد کردوں اور اس کے بعد تمہارا ہر قدم ایسا آزادانہ ہو جو اسلام کی بقا کے لیے ضروری ہو؟”

”کیا آپ خلافت کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں؟” ایک سالار نے پوچھا۔

”میں نے ابھی فیصلہ نہیں کیا”۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا… ”کل پرسوں تک میرے وہ ایلچی واپس آجائیں گے جنہیں میں نے امراء کی طرف بھیج رکھا ہے۔ اگر مجھے جنگی کارروائی کا فیصلہ کرنا پڑا تو گریز نہیں کروں گا”۔

”آپ مصر کو خودمختار مملکت قرار دے دیں”۔ ایک حاکم نے کہا… ”ہم گیارہ سال کے بچے کو خلیفہ تسلیم نہیں کرسکتے”۔

”تو کیا تم سب مجھے سلطان مصر تسلیم کروگے؟” صلاح الدین ایوبی نے پوچھا۔

تمام حاضرین نے بیک زبان کہا کہ وہ اسے سلطان مصر تسلیم کرتے ہیں۔ صلاح الدین ایوبی نے اسی وقت خودمختاری کا اعلان کردیا اور مصر کو آزاد مملکت قرار دے دیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی اسے اسی وقت قانون کے مطابق سلطان کا خطاب مل گیا۔

”میں امت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نہیں، میدان جنگ کا بادشاہ ہوں”۔ سلطان ایوبی نے کہا… ”تم نے دیکھا ہے کہ میں صلیبیوں کے لشکر کے درمیان گھومتا پھرتا رہا ہوں۔ میں نے دس دس جانبازوں سے دس دس ہزار لشکروں کو تہہ وبالا کیا ہے مگر اپنے بھائیوں کے خلاف جنگ کی سوچتا ہوں تو تمام جنگی چالیں ذہن سے نکل جاتی ہیں۔ میری تلوار نیام سے باہر نہیں آتی۔ مجھے اور تم سب کو یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ ہم آپس میں لڑیں اور صلیبی تماشا دیکھیں”۔

”یہ تماشہ ہمیں دکھانا ہی پڑے گا، سلطان محترم!” ایک سالار نے کہا… ”اگر اپنے بھائیوں پر الفاظ کا اثر نہ ہو تو تلوار استعمال کرنی ہی پڑے گی۔ ہم میں سے کوئی بھی خلافت کی گدی کا خواہشمند نہیں۔ ہم جو کچھ کریں گے اسلام کی خاطر کریں گے، ذاتی مفاد کی خاطر نہیں”۔

سلطان ایوبی نے اس سے پہلے دو ایلچی دمشق، حلب، موصل اور دوتین اور ریاستوں کے امراء کی طرف بھیج رکھے تھے۔ اس نے سب کو طویل پیغام بھیجا تھا جس میں اس نے سب کو صلیبی خطرے سے آگاہ کیا اور انہیں متحدہ ہونے کی تلقین کی تھی۔ وہ انہیں اسلامی وحدت کا قائل کرنا چاہتا تھا۔ دونوں ایلچی مایوس واپس آگئے۔ کسی ایک بھی امیر نے اس کے پیغام کو قبول نہیں کیا تھا بلکہ بعض نے مذاق اڑایا تھا۔ ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ سب سے پہلے خلیفہ کے دربار میں گئے۔ پیغام پیش کیا تو خلیفہ نے خود پڑھنے کے بجائے ان امراء کے حوالے کردیا جن کے ہاتھوں میں وہ کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔ انہوں نے ہی اسے خلافت کی گدی پر بٹھایا تھا۔ ان امراء نے سلطان ایوبی کا پیغام پڑھا۔ آپس میں کھسر پھسر کی اور ایک نے خلیفہ سے کہا کہ صلاح الدین ایوبی صلیبیوں کے خلاف جنگ کا بہانہ کرکے تمام مسلمان ریاستوں کو ایک ریاست بنانے کی سوچ رہا ہے۔ اس کے بعد وہ اس ریاست کا حکمران بنے گا۔ دوسرا امیر بول پڑا۔ اس نے بھی گیارہ سال کی عمر کے خلیفہ کو سلطان ایوبی کے خلاف بھڑکایا اور کہا… ”آپ اسے حکم دے سکتے ہیں کہ جنگ کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ صرف خلیفہ کرسکتا ہے۔ اگرصلاح الدین ایوبی خلیفہ کی حکم عدولی کرے تو آپ اسے معزول کرکے واپس بلا سکتے ہیں۔ مصر کی امارت کسی اور کے حوالے کی جاسکتی ہے”۔

کمسن خلیفہ نے ایلچیوں کو یہی حکم دیا اور کہا… ”صلاح الدین ایوبی سے کہنا کہ وہ ہمارے حکم کا انتظار کرے۔ یہ فیصلہ ہم کریں گے کہ اسلامی وحدت کی ضرورت ہے یا نہیں”۔

”صلاح الدین ایوبی کے پاس فوج ہے، اس میں زنگی مرحوم کے بھیجے ہوئے بہت سے دستے ہیں”۔ ایک امیر نے خلیفہ سے کہا… ”اسے حکم بھیجا جائے کہ وہ دستے واپس بھیج دے۔ اسے اپنی مرضی سے فوج کے استعمال کی اجازت نہیں ملنی چاہیے”۔

”اسے کہنا کہ وہ دستے، سوار اور پیادہ، جو اسے خلافت کی طرف سے دئیے گئے تھے، وہ واپس کردے”۔ خلیفہ نے کہا… ”اور تم لوگ اب جاسکتے ہو”۔

”اور ایوبی سے کہنا کہ آئندہ خلیفہ کو اس قسم کے پیغام بھیجنے کی جرأت نہ کرے”۔ ایک اور امیر نے کہا۔

ایلچیوں نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ دوسرے امراء کے پاس گئے۔ سب نے پیغام کا مذاق اڑایا، بعض نے سلطان ایوبی کے خلاف توہین آمیز الفاظ بھی کہے۔ ایلچی واپس آگئے۔ سلطان ایوبی کے چہرے پر کوئی تبدیلی نہ آئی جیسے اسے ایسے ہی جواب کی توقع تھی۔ اسے دراصل علی بن سفیان کا انتظار تھا جسے اس نے خفیہ دمشق بھیج رکھا تھا۔ فوجی جاسوسی اور سراغ رسانی کا یہ ماہر اپنے ساتھ کم وبیش ایک سو لڑاکا جاسوس لے کر دمشق گیا تھا۔ یہ لوگ تاجروں کے قافلے کی صورت میں تاجروں کے بھیس میں گئے تھے۔ سلطان ایوبی کو ان کی بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی۔ نورالدین زنگی کی وفات کی اطلاع کے فوراً بعد سلطان ایوبی کو یہ اطلاع ملی کہ امیروں نے خودمختاری کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اطلاع بھیجنے والا کوئی معمولی سا انسان نہیں تھا، بلکہ نورالدین زنگی کی بیوی تھی جو نئے خلیفہ کی ماں تھی۔ اس نے خفیہ طور پر اپنا ایک قاصد قاہرہ کی طرف دوڑا دیا تھا۔ اس نے سلطان ایوبی کو وہی حالات بتائے جو زنگی کی وفات کے بعد وہاں پیدا ہوگئے تھے۔

اس نے سلطان ایوبی کو کہلا بھیجا تھا… ”اسلام کی آبرو آپ کے ہاتھ میں ہے۔ میرے کمسن بیٹے کو خلیفہ بنا دیا گیا ہے۔ لوگ میرااحترام کرنے لگے ہیں کیونکہ میں خلیفہ کی ماں ہوں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ میں خوش قسمت ماں ہوں مگر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ میرے بیٹے کو خلیفہ نہیں بنایا گیا بلکہ مجھ سے میرا بیٹا چھین لیا گیا ہے۔ سیف الدین امیر موصل نے اور دوسرے تمام امیروں نے میرے بیٹے کے گرد گھیرا ڈال لیا ہے۔ میرے خاوند کے بھتیجوں نے بھی خودمختاری کااعلان کردیا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں اپنے ہاتھوں اپنے بیٹے کو قتل کردوں لیکن اس کے نتائج سے ڈرتی ہوں، آپ آجائیں۔ یہ آپ بہتر سمجھتے ہیں کہ آپ کس طرح آئیں گے اور کیا کریں گے۔ میں آپ کو خبردار کرنا چاہتی ہوں کہ آپ نے اس طرف توجہ نہ دی یا وقت ضائع کیا تو قبلۂ اول پر تو صلیبی قابض ہیں ہی، خانہ کعبہ پر بھی ان کا قبضہ ہوجائے گا۔ کیا ان لاکھوں شہیدوں کا خون رائیگاں جائے گا جنہوں نے زنگی کی اور آپ کی قیادت میں جانیں قربانی کی ہیں؟ آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے زیراثر کیوں نہیں رکھتی؟ میں اس کا جواب دے چکی ہوں۔ امراء نے میرا بیٹا مجھ سے چھین لیا ہے۔ اپنے باپ کی وفات کے بعد وہ صرف ایک بار میرے پاس آیا تھا۔ وہ میرا بیٹالگتا ہی نہیں تھا۔اسے شاید حشیش پلائی گئی تھی۔ وہ بھول چکا ہے کہ میں اس کی ماں ہوں… بھائی صلاح الدین ایوبی! جلدی آئو۔ دمشق کے لوگ آپ کا استقبال کریں گے۔ مجھے اسی قاصد کی زبانی جواب دیں کہ آپ کیا کریں گے یا کچھ بھی نہیں کریں گے؟”

سلطان ایوبی نے قاصد کو اسی وقت بھیج دیا تھا۔ اس نے زنگی کی بیوہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ بڑا سنگین اقدام کرے گا لیکن سوچ سمجھ کر قدم اٹھائے گا۔ قاصد کو واپس بھیجنے کے فوراً بعد سلطان ایوبی علی بن سفیان کو دمشق، موصل، حلب، یمن اور تمام تر اسلامی علاقوں میں جاکر وہاں کا جائزہ لینے کے لیے کہا۔ یہ کوئی سرکجاری نوعیت کا دورہ نہیں تھا۔ علی بن سفیان کو جاسوسوں کے انداز سے بہروپ میں وہاں جانا تھا۔ اس کا کام یہ تھا کہ معلوم کرے کہ مسلمان امراء جو خودمختاری کا اعلان کرچکے ہیں، کیا ارادے رکھتے ہیں۔ صلیبیوں کے ساتھ ان کا رابطہ ہے یا نہیں۔ خلیفہ کی فوج کا رجحان کیا ہے۔ کیا اس فوج کو خلیفہ کے ایسے احکام کی خلاف ورزی کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے جو اسلام کے لیے نقصان دہ اور دشمن کے لیے سود مند ہوں؟ اور علی بن سفیان کو یہ بھی معلوم کرنا تھا کہ ان علاقوں کے عوام کے جذبات اور نظریات کیا ہیں اور کیا فدائی بھی خلیفہ کے ساتھ مل گئے ہیں؟ یہ جائزہ بھی لینا تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا کسی اور مسلمان علاقے پر فوج کشی کرے تو وہاں کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔

سلطان ایوبی کی کامیابی کا راز یہی تھا کہ وہ اندھیرے میں نہیں چلتا تھا۔ اسے جہاں جانا ہوتا، اپنے جاسوسی کے نظام کے ذریعے وہاں کے احوال وکوائف، دشواریوں اور خطروں کا جائزہ لے لیتا تھا۔ جیسا کہ پہلی کہانیوں میں بتایا جاچکا ہے کہ اس کا جاسوسی کا نظام بہت تیز اور ہوشیار تھا۔ اس کے جاسوس جہاں اداکاری اور بہروپ دھارنے کی مہارت رکھتے تھے، وہاں وہ ماہر چھاپہ مار )گوریلے اور کمانڈو( بھی تھے۔ اسی لیے انہیں لڑاکا جاسوس کہا جاتا تھا۔ وہ بغیر ہتھیاروں کی لڑائی کے بھی ماہر تھے۔ علی بن سفیان کو خدا نے جاسوسی اور سراغ رسانی کا وصف پیدائش کے ساتھ ہی عطا کیا تھا۔ اب زنگی کی وفات کے بعد اسلامی ممالک کے حالات مخدوش ہوگئے اور صلیبی خطرہ سر پر آگیا تو اسے سلطان ایوبی کے اس حکم کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئی کہ ان بدلے ہوئے حالات کا جائزہ لینا ہے اور یہ جائزہ کس طرح لینا ہے۔ اسے معلوم تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اس کی لائی ہوئی رپورٹ کے مطابق کوئی کارروائی کرے گا اور یہ کارروائی بقائے اسلام کے لیے بے حد ضروری ہوگی۔

٭ ٭ ٭

یہاں ہم کہانی کو کچھ دن پیچھے لے جاتے ہیں۔ جب علی بن سفیان قاہرہ سے روانہ ہوا تھا، اس نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر اپنے لڑاکا جاسوسوں میں سے کم وبیش ایک سو افراد کو منتخب کیا۔ انہیں مشن بتایا اور کہا کہ اسلام کی آبرو ان سے بہت بڑی قربانی مانگ رہی ہے اور اس مشن میں انہیں اپنی مہارت کا پورا پورا استعمال کرنا ہے۔ ان ایک سو آدمیوں کو تاجروں کا لباس پہنایا گیا۔ علی بن سفیان مصنوعی داڑھی کے ساتھ قافلے کا سردار بنا۔ انہوں نے اونٹوں پر مختلف اقسام کا سامان لاد لیا جو انہیں دمشق وغیرہ کی منڈیوں میں بیچنا اور اس کے بدلے وہاں سے سامان لانا تھا۔ ان کے ساتھ بہت سے اونٹ اور چند ایک گھوڑے تھے۔ تجارتی سامان میں اس پارٹی نے تلواروں اور برچھیوں جیسے ہتھیار چھپا رکھے تھے۔ اس میں آتش گیر مادہ بھی تھا اور آگ لگانے کا دیگر سامان بھی۔ یہ قافلہ رات کے وقت قاہرہ سے روانہ ہوا اور طلوع سحر تک بہت دور نکل گیا۔

کچھ دیر آرام کرکے قافلہ پھر روانہ ہو۔ علی بن سفیان بہت جلدی منزل پر پہنچنا چاہتا تھا۔ سورج غروب ہوگیا تو بھی اس نے قافلے کو نہ روکا۔ رات خاصی گزر چکی تھی جب ایک بڑی موزوں جگہ آگئی، یہ سرسبز خطرہ تھا اور وہاں اونچی نیچی چٹانیں بھی تھیں۔ ظاہر ہے کہ وہاں پانی بھی تھا۔ قافلہ آرام اور پانی کے لیے رک گیا۔ یہ لوگ تاجر نہیں فوجی تھے۔ ان کی ہر حرکت میں ڈسپلن تھا، احتیاط تھی اور ٹریننگ کے مطابق وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔ اونٹ اور گھوڑے بھی ایسے تربیت یافتہ تھے کہ انسانوں کی طرح خاموش تھے۔ علی بن سفیان نے چٹانوں اور ٹیلوں کے اندر جانے کے بجائے باہر ہی پڑائو کیا۔ فوجی دستوں کے مطابق دو آدمیوں کو پانی کی تلاش کے لیے بھیجا گیا۔ سب نے ہتھیار نکال لیے تھے کیونکہ ان دنوں سفر میں دو خطرے تھے۔ ایک خطرہ صحرائی ڈاکوئوں کا تھا اور دوسرا صلیبیوں کے چھاپہ مار دستوں کا۔ ان کے یہ دستے دراصل ڈاکو ہی تھے جو مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹتے پھرتے تھے۔

دو آدمی اس خطے کے اندر چلے گئے، انہیں یہ بھی دیکھنا تھا کہ یہاں دشمن کے چھاپہ ماروں یا گشتی دستوں نے قیام نہ کررکھا ہو۔ کچھ دور اندر گئے تو کہیں روشنی کا دھوکہ سا ہوا۔ وہ آگے گئے اور ایک ٹیلے پر چڑھ گئے۔ انہیں بڑی اچھی جگہ نظر آئی جو میدانی سی تھی، وہاں پانی بھی تھا۔ ہریالی بھی تھی اور کھجور کے درخت بھی تھے، وہاں دو مشعلیں جل رہی تھیں۔ ان کی روشنی میں انہیں چھ سات آدمی اور چار لڑکیاں نظر آئیں۔ بہت خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ انہوں نے آگ بھی جلا رکھی تھی جس پر وہ گوشت بھون رہے تھے اور پیالوں میں وہ کچھ پی رہے تھے جو شراب ہی ہوسکتی تھی۔ ذرا پرے گھوڑے اور تین چار اونٹ بندھے تھے۔ بہت سارا سامان بھی ایک طرف پڑا تھا۔ علی بن سفیان کے دونوں آدمی چھپ کر قریب چلے گئے۔ رات کے سکوت میں ان لوگوں کی باتیں صاف سنائی دے رہی تھیں۔ ان کا ہنسی مذاق بتا رہا تھا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں۔ لڑکیاں بے حیائی کی حرکتیں بھی کررہی تھیں۔ ان دونوں آدمیوں نے انہیں نظرانداز نہ کیا۔ واپس آکر علی بن سفیان کو بتایا۔

علی بن سفیان گیا اور چھپ کر قریب سے دیکھا۔ ان آدمیوں اور لڑکیوں کی زبان کچھ اور تھی جو علی بن سفیان سمجھتا تھا۔ وہ عیسائی تھے۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ وہ ان لوگوں کے پاس چلا جائے اور معلوم کرے کہ وہ کون ہیں اور کہاں جا رہے ہیں یا ان کی نقل وحرکت دیکھتا رہے۔ اس کے ساتھ ایک سو لڑاکا جاسوس تھے۔ اسے ان چھ سات آدمیوں اور چار لڑکیوں سے کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہ انہیں سراغ رساں نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اسے شک ہوگیا تھا کہ یہ صلیبی جاسوس اور تخریب کار ہیں اور کسی اسلامی مملکت میں جارہے ہیں۔ اگر ایسا ہی تھا تو یہ اس کے مطلب کے لوگ تھے۔ وہ اور زیادہ قریب ہونے کے لیے ٹیلے کے اوپر اوپر سرکتا ہوا آگے گیا تو ٹھٹھک کر رک گیا۔ وہاں ٹیلہ ختم ہوجاتا تھا۔ اسے اپنے بالکل نیچے دو آدمی نظر آئے جن کے منہ اور سر سیاہ کپڑوں میں لپٹے ہوئے تھے۔ وہ ٹیلے کی اوٹ سے ان آدمیوں اور لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے۔ وہ بلاشک وشبہ صحرائی ڈاکو تھے اور ان کی نظر لڑکیوں پر تھی۔ یہ دو نقاب پوش پیچھے ہٹ آئے۔ انہوں نے آپس میں جس زبان میں باتیں کیں، وہ علی بن سفیان کی مادری زبان تھی۔

”ان کے پاس ہتھیار ہیں”… ایک ڈاکو نے کہا۔

”ہاں”… دوسرے نہ کہا…”میں نے دیکھ لیا ہے۔ ان کی تلواریں سیدھی ہیں۔ یہ عیسائی ہیں”۔

”یہ عام قسم کے مسافر معلوم نہیں ہوتے”۔

”انہیں سوجانے دو، سب کو بلا لاتے ہیں”۔

”ہم آٹھ آدمی انہیں سوتے میں ہی پکڑ سکتے ہیں”۔

”پکڑنے کی کیا ضرورت ہے۔ آدمیوں کو سوتے میں ختم کردیں گے اور لڑکیوں کو گھوڑوں پر ڈال لیں گے”۔

وہ دونوں اپنے ساتھیوں کو بلانے کے لیے چل پڑے۔ علی بن سفیان نے چھپ چھپ کر ان کا تعاقب کیا۔ وہ کسی اور راستے سے باہر نکل گئے۔ وہاں ان کے گھوڑے کھڑے تھے۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ علی بن سفیان کا قافلہ اسی طرف قیام کیے ہوئے تھے جدھر ڈاکو نہیں گئے تھے۔ علی بن سفیان کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا کہ وہ ان لوگوں کو خبردار کردے یا انہیں اپنے قافلے میں لے جائے۔ گہری سوچ بچار کے بعد اس نے ایک طریقہ سوچ لیا۔ اپنے آدمیوں میں واپس آیا۔ بیس بائیس آدمیوں کو برچھیوں سے مسلح کرکے اپنے ساتھ لے گیا۔ انہیں موزوں جگہوں پر تیار کھڑا کردیا اور اچھی طرح سمجھا دیا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ وہ خود بھی چوکس اورہوشیار رہا اور ادھر ادھر گھومتا رہا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ڈاکو کس وقت آئیں گے۔ اس نے دیکھا کہ لڑکیاں اور ان کے ساتھ آدمی سو گئے ہیں۔ صرف ایک آدمی برچھی ہاتھ میں لیے ٹہلتا رہا۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ لوگ تربیت یافتہ ہیں۔ اس آدمی کو انہوں نے سنتری کھڑا کیا تھا۔ مشعلیں جلتی رہیں۔

٭ ٭ ٭

سحر ہوچلی تھی جب ٹیلوں کے اندر گھوڑوں کے چلنے کی آہٹ سنائی دی۔ سب ہوشیار ہوگئے۔ لڑکیوں کا سنتری بدل گیا تھا۔ اب دوسرا آدمی پہرہ دے رہا تھا۔ ڈاکو ٹیلوں کے درمیان تھے اور علی بن سفیان اور اس کے آدمی ٹیلوں کے اوپر تھوڑی دیر بعد آٹھ نو ڈاکو اس جگہ داخل ہوئے جہاں ان کا شکار سویا ہوا تھا۔ سنتری گھبرا گیا۔ اس نے جلدی سے اپنے ساتھیوں کو جگایا۔ ڈاکوئوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال لیا اور گھوڑوں سے کود آئے۔ لڑکیوں کے ساتھ آدمی جاگ اٹھے مگر ڈاکوئوں نے انہیں ہتھیار اٹھانے کی مہلت نہ دی۔ ایک نے للکار کر کہا… ”اپنا سامان اور لڑکیاں ہمارے حوالے کردو اور اپنی جانیں بچائو”… اس نے لڑکیوں سے کہا… ”تم اس طرف آجائو، ماری جائو گی”… دو ڈاکوئوں نے انہیں دھکیل کر ایک طرف کردیا۔ ان کے آدمی نہتے تھے۔ پھر بھی دو نے مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔ وہ واقعی تربیت یافتہ تھے۔ بے جگری سے لڑے۔

علی بن سفیان کی آواز پر جو اس نے پہلے مقرر کررکھی تھی، اس کے آدمی عقابوں کی طرح ٹیلوں سے اترے اور ڈاکو ابھی سمجھ ہی نہ پائے تھے کہ یہ کون لوگ ہیں، ایک ایک برچھی ایک ایک ڈاکو کے جسم میں داخل ہوچکی تھی۔ اس سے پہلے ڈاکوئوں کے ہاتھوں لڑکیوں کے ساتھ کے دو آدمی مارے جا چکے تھے، جس کا علی بن سفیان کو کوئی افسوس نہیں تھا، وہ غالباً یہی چاہتا تھا کہ ان میں سے دو آدمیوں کا خون ہوجائے تاکہ دوسروں پر، خصوصاً لڑکیوں پر دہشت طاری ہوجائے۔ علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو ٹیلوں پر چڑھا دیاا ور ان لوگوں کے پاس بیٹھ گیا۔ لڑکیاں بہت ہی ڈری ہوئی تھیں۔ ان کے سامنے دو لاشیں اپنے ساتھیوں کی اور نو لاشیں ڈاکوئوں کی پڑی تھیں۔ علی بن سفیان نے ان کی زبان میں ان آدمیوں اور لڑکیوں سے باتیں شروع کردیں۔ وہ لوگ اس کے اس قدر ممنون تھے جیسے اس کے مرید بن گئے ہوں۔ اس نے انہیں موت کے منہ سے نکالاتھا۔ ان سے اس نے پوچھا کہ وہ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جارہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا تو علی بن سفیان مسکرایا اور بولا… ”اگر تم لوگ مجھ سے یہ سوال پوچھتے تو میں بھی ایسا ہی غلط جواب دیتا۔ میں تمہاری تعریف کروں گا کہ اتنی خوفزدگی میں بھی تم نے اپنا پردہ نہیں اٹھایا”۔

”تم کہاں سے آئے ہو؟”… ایک نے اس سے پوچھا… ”اور کہاںجارہے ہو؟”

”جہاں سے تم آئے ہو”… علی بن سفیان نے جواب دیا… ”اور وہیں جارہا ہوں جہاں تم جارہے ہو۔ہمارے کام مختلف ہیں، منزل ایک ہی ہے”۔

انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، حیران سے ہوئے اور علی بن سفیان کو دیکھنے لگے۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ اس نے کہا… ”کیا تم نے دیکھا تھا کہ میں نے کیسی چال سے ان ڈاکوئوں کو ختم کردیا ہے؟ کیا کوئی مسافر یا کوئی قافلہ ایسی چال چل سکتا ہے؟ کیا یہ ایک تربیت یافتہ کمانڈر کی استادی نہیں جو میں نے دکھائی ہے؟”

”تم مسلمان فوجی بھی ہوسکتے ہو؟”

”میں صلیب کا سپاہی ہوں”… علی بن سفیان نے جواب دیا۔

”کیا تم اپنی صلیب دکھا سکتے ہو؟”

”کیا تم اپنی اپنی صلیب مجھے دکھا سکتے ہو؟”… علی بن سفیان نے پوچھاا ور سب کی طرف دیکھ کر کہا… ”تم نہیں دکھا سکتے۔ تمہارے پاس صلیبیں نہیں ہیں، کیونکہ جس کام کے لیے تم جارہے ہو، اس میں صلیب ساتھ نہیں رکھی جاسکتی۔ میں تم سے تمہارے نام نہیں پوچھوں گا۔ اپنا نام بھی نہیں بتائوں گا۔ اپنا کام بھی نہیں بتائوں گا۔ صرف یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم ایک ہی منزل کے مسافر ہیں اور ہم سے معلوم نہیں کون کون اپنے وطن کو واپس لوٹ سکے گا۔ ہم ضرور کامیاب ہوں گے۔ خداوند یسوع مسیح نے جس طرح مجھے اور میرے آدمیوں کو تمہاری مدد کے لیے بھیجا ہے، یہ نشانی ہے کہ تم صحیح راستے پر ہو اور تم کامیاب ہوگے۔ نورالدین زنگی کی موت اس حقیقت کی نشانی ہے کہ دنیا پر صلیب کی حکومت ہوگی۔ مسلمانوں کا کون سا امیر رہ گیا ہے جو ہمارے جال میں نہیں آگیا؟ میں تمہیں یہی نصیحت کروں گا کہ ثابت قدم رہنا”… اس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا… ”تمہارا کام سب سے زیادہ خطرناک اور نازک ہے۔ خداوند یسوع مسیح تمہارے قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔ ہم جو مرد ہیں، وہ اپنی جان دے کر دنیا کی مشکلات سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ تمہاری کوئی جان نہیں لیتا۔ تم سے آبرو کی قربانی لی جاتی ہے اور یہی سب سے بڑی قربانی ہے”۔

علی بن سفیان استاد تھا۔ اس کی زبان میں ایسا طلسم تھا کہ وہ سب دم بخود ہوگئے۔ تھوڑی سی دیر میں اس نے ان سے کہلوالیا کہ وہ صلیبی ہیں اور تخریب کاری کے لیے دمشق اور دیگر علاقوں میں جارہے ہیں۔ وہ بھی تاجروں کے بھیس میں تھے۔ علی بن سفیان صلیبیوں کے نظام جاسوسی کی خفیہ باتیں اور اصطلاحیں جانتا تھا۔ اس وقت تک وہ بے شمار صلیبی جاسوس پکڑ کر ان سے اقبال جرم کروا چکا تھا۔ اس نے جب ان اصطلاحوں میں باتیں کیں تو لڑکیوں اور ان کے ساتھ آدمیوں کو نہ صرف یہ یقین ہوگیا کہ وہ صلیبی جاسوس ہے بلکہ وہ اسے جاسوسوں کا کمانڈر سمجھنے لگے۔ اس نے انہیں بتایا کہ اس کے ساتھ ایک سو آدمی ہیں۔ا ن میں لڑاکا جاسوس بھی ہیں اور فدائی بھی جو دمشق وغیرہ میں ان اعلیٰ افسروں کو قتل کرنے یا غائب کرنے جارہے ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے مکتب فکر کے پیروکار ہیں۔ اس نے انہیں بتایا کہ وہ لمبے عرصے سے مصر میں کام کررہا تھا۔ اب اسے ادھر بھیجا جارہا ہے۔

اس گروہ نے علی بن سفیان کے سامنے اپنا پردہ اٹھا دیا ور ایک مشکل پیش کی۔ وہ یہ تھی کہ ان کا کمانڈر ڈاکوئوں کے ہاتھوں مارا گیا تھا۔ وہ ان علاقوں میں پہلے بھی آچکا تھا، جہاں وہ جارہے تھے۔ اس کے مارے جانے کے بعد وہ اندھے ہوگئے تھے۔ انہیں ایک رہنما کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے انہیں تسلی دی کہ وہ اپنے مشن سے ہٹ کر ان کی رہنمائی کرے گا، وہ اسے اپنا مشن بتا دیں۔ انہوں نے بتادیا۔ انہیں چند ایک سالاروں کے نام بتا کر کہا گیا تھا کہ ان تک تحفے پہنچانے ہیں اور لڑکیوں کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ ایسے سالاروں اور امیروں تک رسائی حاصل کرنی ہے جو صلیبیوں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ انہیں صلیبیوں کا دوست بنانا ہے۔

”اس مرحلے میں آکر میرا اور تمہارا کام ایک ہوجاتا ہے”… علی بن سفیان نے کہا… ”مجھے ان سالاروں اور قائدین کو ختم کرنا ہے جو دل سے صلیب کی دشمنی نہیں نکال رہے… تم دمشق میں کہاں قیام کرو گے؟”

”تم دیکھ رہے ہو کہ ہم تاجر بن کر جارہے ہیں”… ایک نے جواب دیا… ”دمشق کے قریب جا کر یہ لڑکیاں باپردہ مسلمان عورتیں بن جائیں گی۔ ہم سرائے میں قیام کریں گے۔ وہاں سے تاجروں کے بھیس میں سالاروں وغیرہ تک جائیں گے”۔

٭ ٭ ٭

اگلی صبح علی بن سفیان کا قافلہ دمشق کی سمت جارہا تھا۔ یہ صلیبی آدمی اور لڑکیاں بھی اس قافلے میں شامل ہوگئی تھیں۔ جانوروں میں ڈاکوئوں کے گھوڑوں کا اضافہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں نے علی بن سفیان کو اپنا لیڈر بنا لیا تھا۔ ان کی نظر میں وہ صلیبی تھا۔ اس نے انہیں کہا تھا کہ وہ اس کے کسی آدمی کے ساتھ بات نہ کریں کیونکہ ان میں مسلمان بھی ہیں جو بیشک فدائی اور تخریب کار ہیں لیکن ان کا کوئی بھروسہ نہیں۔ راستے میں علی بن سفیان نے ان صلیبیوں کو اپنے ساتھ رکھا اور ان سے باتیں پوچھتا رہا۔ اسے کام کی بہت سی باتیں معلوم ہوگئیں۔

اگلے روز قافلہ دمشق میں داخل ہوا۔ علی بن سفیان کی ہدایت پر سرائے میں جانے کے بجائے قافلے نے ایک میدان میں خیمے گاڑ دئیے۔ لوگوں کا ہجوم جمع ہوگیا۔ باہرسے جب تاجروں کے قافلے آتے تھے تو لوگ ان کے گرد جمع ہوجایا کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مال دکانوں میں جانے سے پہلے قافلے سے ہی خرید لیا جائے، وہاں سے کم قیمت پر اشیاء مل جاتی تھیں۔ علی بن سفیان نے اعلان کیا کہ دس گھوڑے بھی بکائو ہیں۔ اس ہجوم میں دمشق کے تاجر اور دکاندار بھی تھے۔ دوچار گھنٹوں میں وہاں میلہ لگ گیا۔ علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں سے کہہ دیا کہ وہ مال روکے رکھیں اور جلدی فروخت نہ کریں۔ اتنا زیادہ ہجوم دیکھ کر اس نے اپنے چند ایک ذہین آدمیوں سے کہا کہ وہ لوگوں میں گھل مل جائیں اور ان کے خیالات معلوم کریں۔ یہ آدمی اس کام کے ماہر تھے۔ وہ چغے اتار کر ہجوم میں شامل ہوگئے۔ ان میں سے دو تین شہر میں چلے گئے۔

علی بن سفیان اور اس کے تمام آدمیوں نے مغرب کی نماز مختلف مسجدوں میں تقسیم ہوکر پڑھی۔ صلیبیوں کو وہ خیمہ گاہ میں چھوڑ گئے تھے۔ مسجدوں میں انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ وہ قاہرہ سے آئے ہیں اور تاجر ہیں۔ لوگوں کے ساتھ گپ شپ کے انداز میں انہوں نے ان کے خیالات معلوم کرلیے۔ لوگوں کے خیالات اور جذبات امید افزا تھے۔ ان میں کچھ بھڑکے ہوئے بھی تھے۔ وہ نئے خلیفہ اور امراء کے خلاف باتیں کرتے تھے اور ان میں اونچی حیثیت کے لوگ بھی تھے جو جانتے تھے اور سمجھتے تھے کہ دنیائے اسلام کو صلیب للکار رہی ہے اور اپنی خلافت عیاش امراء کے ہاتھ آگئی ہے۔ وہ بہت پریشان تھے اور کہتے تھے کہ زنگی کے بعد صرف صلاح الدین ایوبی ہے جو اسلام کا نام زندہ رکھ سکتا ہے۔

علی بن سفیان نے اپنے آدمیوں کو بتا دیا تھا کہ یہ لڑکیاں اور آدمی صلیبی ہیں اور ان پر یہی ظاہر کرتے رہیں کہ ہم سب صلیب کے مشن پر آئے ہیں۔ انہیں کوئی شک نہیں ہوا تھا۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ وہ ا ج رات آرام کریں اور اس کی ہدایت کا انتظار کریں۔ رات کو وہ ایک سالار توفیق جواد کے گھر چلا گیا۔ وہ تاجروں کے بھیس میں تھا اور مصنوعی داڑھی لگا رکھی تھی۔ اس نے دربان سے کہا کہ اندر اطلاع دو کہ قاہرہ سے آپ کا ایک دوست آیا ہے۔ دربان نے اندر اطلاع دی تو علی بن سفیان کو اندر بلا لیا گیا۔ توفیق جواد اسے پہچان نہ سکا۔ علی بن سفیان نے بات کی تو توفیق جواد نے اسے پہچان لیا اور گلے لگا لیا۔ علی بن سفیان کو اس شخص پر بھروسہ تھا۔ اس نے اپنے آنے کا مقصد بتایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ کچھ صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو پھانس لایا ہے اور اب یہ سوچنا ہے کہ انہیں کس طرح استعمال کیا جائے۔

”اس سے پہلے مجھے یہ بتائو کہ یہاں کے اندرونی اور بیرونی حالات کیا ہیں؟” … علی بن سفیان نے اس سے پوچھا… ”قاہرہ میں بڑی تشویشناک خبریں پہنچی ہیں”۔

توفیق جواد نے ان تمام خبروں کی تصدیق کی جو قاہرہ پہنچی تھیں۔ اس نے کہا… ”علی بھائی! تم اسے خانہ جنگی کہو گے لیکن صلیبی خطرے کو روکنے کے لیے صلاح الدین ایوبی کو خلافت کے خلاف فوج کشی کرنی پڑے گی”۔

”اگر ہم قاہرہ سے فوج لائیں تو کیا یہاں کی فوج ہمارا مقابلہ کرے گی؟” علی بن سفیان نے پوچھا۔

”تم لوگ حملے کے انداز سے نہ آئو”… توفیق جواد نے کہا… ”صلاح الدین ایوبی یہ ظاہر کریں کہ وہ خلیفہ سے ملنے آئے ہیں اور خلیفہ کی تعظیم کے لیے فوج کے کچھ دستے ساتھ لائے ہیں اگر امراء کی نیت ٹھیک ہوئی تو وہ استقبال کریں گے، دوسری صورت میں ان کا ردعمل سامنے آجائے گا۔ جہاں تک یہاں کی فوج کا تعلق ہے، میں وثوق سے کہتا ہوں کہ یہ فوج تمہارا مقابلہ نہیں کرے گی بلکہ تمہارا ساتھ دے گی مگر یہ بھی ذہن میں رکھو کہ تم جتنا وقت ضائع کروں گے یہ فوج اتنی تم سے دور ہٹتی جائے گی۔ اس فوج کا وہ جذبہ مارنے کی کوششیں شروع ہوگئی ہیں جو اسلامی فوج کی اصل قوت ہے۔ تم جانتے ہو علی بھائی! حکمران جو عیش وعشرت کے دلدادہ ہوتے ہیں، وہ سب سے پہلے دشمن کے ساتھ سمجھوتہ کرتے ہیں تاکہ جنگ وجدل کا خطرہ ٹل جائے۔ پھر وہ فوج کو کمزور کرتے ہیں اور ایسے سالاروں کو منظور نظر بناتے ہیں جو خدائی احکام کے بجائے ان کی خواہشات کے پابند ہوں۔ وہ صلاح الدین ایوبی جیسے سالاروں کو پسند نہیں کرتے، یہ عمل یہاں شروع ہوچکا ہے۔ ہمارے اعلیٰ رتبوں کے چند ایک فوجی افسر اپنے جذبے اور ایمان سے دست بردار ہوچکے ہیں۔ ابھی مجھ جیسے ایسے سالار بھی ہیں جو صلیبیوں کو کبھی دوست نہیں کہیں گے اور نورالدین زنگی کے جذبہ جہاد کو زندہ رکھیں گے مگر وہ اپنے طور پر خلافت کے احکام کے بغیر کیا کرسکتے ہیں؟”

”کیا میں سلطان ایوبی سے یہ کہہ دوں کہ یہاں کی فوج ہمارا ساتھ دے گی؟”… علی بن سفیان نے پوچھا۔

”ضرور کہہ دو”… توفیق جواد نے جواب دیا… ”البتہ خلیفہ کے محافظ دستے )باڈی گارڈز( اور امراء کے محافظ دستے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ ان دستوں کی نفری کم نہیں اور ان میں چنے ہوئے سپاہی ہیں۔ جب سے زنگی فوت ہوئے ہیں، ان دستوں کی خاطر ومدارت پہلے سے زیادہ ہونے لگی ہے۔ انہیں غالباً جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے”۔

”یہاں کے لوگوں میں مجھے جو قومی جذبہ نظر آیا ہے، اس سے مجھے توقع ہے کہ ہم یہاں آئے تو کامیاب ہوں گے”… علی بن سفیان نے کہا۔

”قوم اتنی جلدی بے حس نہیں ہوسکتی”… توفیق جواد نے کہا… ”جس قوم نے اپنے بیٹے شہید کرائے ہوں، وہ اپنے دشمن کو کبھی نہیں بخشتی اور جس فوج نے دشمن سے دو دو ہاتھ کیے ہوں، اسے اتنی جلدی سرد نہیں کیا جاسکتا مگر حکمرانوں کے پاس ایسے ایسے ہتھکنڈے ہوتے ہیں جو قوم اور فوج کو مردہ کردیا کرتے ہیں۔ اب قوم اور فوج میں نفاق پیدا کیا جارہا ہے۔ قوم کی نظر میں فوج کو گرایا جارہا ہے”۔

”میں محترم نورالدین زنگی کی بیوہ سے ملنا چاہتا ہوں”… علی بن سفیان نے کہا… ”وہ خلیفہ کی والدہ بھی ہیں۔ انہوں نے سلطان ایوبی کی خدمت میں پیغام بھیجا تھا کہ وہ اسلام کی آبرو کو بچائیں… کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ انہیں یہاں بلا لیا جائے؟”

”کل ہی ان سے ملاقات ہوئی تھی”… توفیق جواد نے کہا… ”میں انہیں بلا سکتا ہوں۔ تمہارا نام سن کر وہ فوراً آجائیں گی”۔

توفیق جواد نے اپنی خادمہ کو بلا کر کہا کہ خلیفہ کی والدہ کے ہاں جائو، میرا سلام کہنا ور ان کے کان میں کہنا کہ قاہرہ سے کوئی آیا ہے۔

٭ ٭ ٭

جب علی بن سفیان توفیق جواد کے پاس بیٹھا تھا، اس وقت اس کی خیمہ گاہ میں رونق تھی۔ رات خاصی گزر گئی تھی۔ خریداروں کا ہجوم بہت دیر ہوئی جاچکا تھا۔ علی بن سفیان کے ایک سو آدمیوں نے لمبا سفر طے کیا تھا۔ وہ بازار سے دنبے اور بکرے لے آئے تھے، جنہیں ذبح کرکے وہ کھا رہے تھے اور ہنسی مذاق میں مصروف تھے۔ لڑکیاں ایک خیمے میں تھی۔ صلیبی مرد علی بن سفیان کے آدمیوں کے ساتھ بیٹھے تھے۔ انہوں نے شراب نکال لی، تاکہ محفل کی رونق دوبالا ہوجائے۔ انہوں نے سب کو شراب پیش کی تو سب نے انکار کردیا۔ صلیبی حیران ہوئے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایا تھا کہ ان میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی جو مسلمان تھے، ان کے متعلق بتایا گیا تھا کہ فدائی ہیں، یعنی وہ برائے نام مسلمان ہیں۔ اصل میں وہ حسن بن صباح کے فرقے کے تھے جو شراب کو حرام نہیں سمجھتے تھے۔ صلیبیوں کو کچھ شک ہوا۔ وہ آخر تربیت یافتہ جاسوس تھے۔ انہوں نے دو چار اور ایسی نشانیاں دیکھ لیں جن سے ان کا شک پختہ ہوگیا۔ وہ ایک ایک کرکے وہاں سے اس طرح اٹھنے لگے جیسے خیمے میں سونے جارہے ہوں۔

انہوں نے لڑکیوں سے کہا کہ وہ اپنے فن کا مظاہرہ کریں اور دیکھیں کہ یہ کون لوگ ہیں۔ ایک لڑکی نے یہ کام اپنے ذمے لے لیا۔ وہ یہ کہہ کر باہر نکلی کہ یہ خیمہ خالی کردو۔ وہ کچھ دیر ادھر ادھر گھومتی پھرتی رہی۔ بہت دیر بعد علی بن سفیان کا ایک آدمی اٹھ کر اس کی طرف آیا۔ وہ معلوم نہیں کیوں اٹھا تھا۔ لڑکی نے اسے روک لیا اور کہا کہ خیمے میں بیٹھے بیٹھے اس کا دل گھبرا رہا تھا۔ اس لیے باہر نکل آئی۔ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا جانتی تھی۔ اس آدمی کو اس نے ایسی باتوں میں جکڑ لیا کہ وہ بھول ہی گیا کہ وہ کس طرف جارہا تھا۔ لڑکی نے کہا… ”یہ آدمی جو ہمارے ساتھ ہیں، بہت برے آدمی ہیں، ہم تمہاری طرح یہاں کسی اورکام سے آئی ہیں لیکن یہ ہمیں بہت پریشان کرتے ہیں۔ کیا ایسے ہوسکتا ہے کہ میرے خیمے میں آکر سوئو؟ میں ان سے بچی رہوںگی”… اور اس نے ایسی اداکاری کی کہ یہ آدمی موم ہوگیا اور اس کے ساتھ اس کے خیمے میں چلا گیا۔

خیمے میں چھوٹی قندیل جل رہی تھی۔ لڑکی نے روشنی میں اس آدمی کو دیکھا تو بڑی ہی پرکشش اور جذباتی مسکراہٹ سے کہا… ”اوہ! تم تو بہت خوبصورت آدمی ہو۔ تم میری حفاظت کرسکو گے”۔ اس نے شراب کی چھوٹی سی صراحی اٹھا کر کہا…”تھوڑی سی پیوئو گے؟”

”نہیں!”

”کیوں؟”

”میں مسلمان ہوں”۔

”اگر اتنے پکے مسلمان ہو تو صلیب کے لیے مسلمانوں کے خلاف جاسوسی کرنے کیوں آئے ہو؟”

وہ آدمی چونکا۔ اس نے کہا… ”اس کی مجھے اجرت ملتی ہے”۔

لڑکی جتنی خوبصورت تھی، اس سے کہیں زیادہ چالاک تھی۔ اپنے یہ دونوں ہتھیار استعمال کرکے اس نے علی بن سفیان کے اس آدمی کے دل ودماغ پر قبضہ کرلیا۔ اس نے کہا… ”شراب نہ پیو، شربت پی لو”۔ وہ دوسرے خیمے میں چلی گئی اور ایک پیالہ اٹھا لائی۔ اس آدمی نے پیالہ ہاتھ میں لے کر منہ سے لگایا تو مسکرا کر پیالہ رکھ دیا۔ لڑکی سے پوچھا… ”اس میں کتنی حشیش ڈالی ہے؟”

لڑکی کو دھچکہ سا لگا لیکن سنبھل گئی اور بولی… ”زیادہ نہیں۔ اتنی سی ڈالی ہے جتنی تمہیں ذرا سی دیر کے لیے بے خود کردے”۔

”کیوں؟”

”کیونکہ میں تم پر قبضہ کرنا چاہتی ہوں”… اس نے سنجیدگی سے کہا… ”اگر تمہیں میری باتیں بری لگیں تو اپنا خنجر میرے دل میں اتار دینا۔ میں تمہیں اتفاقیہ نہیں ملی تھی۔ میں نے تمہیں اٹھتے اور ادھر آتے دیکھ لیا تھا۔ میں تمہارے راستے میں کھڑی ہوگئی تھی۔ سفر کے دوران میں تمہیں بڑی غور سے دیکھتی رہی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے ہم کبھی اکٹھے رہے ہیں اور ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ تم میرے دل میں اتر گئے ہو۔ تم نے دیکھا ہے کہ میں نے تمہیں شراب پیش کی تھی، خود نہیں پی تھی۔ میں شراب نہیں پیتی کیونکہ میں مسلمان ہوں۔ یہ لوگ مجھے زبردستی پلاتے ہیں”۔

وہ چونک کر بولا… ”تم ان کافروں کے ساتھ کیسے آگئیں؟”

”بارہ سال سے ان کے ساتھ ہوں”… لڑکی نے جواب دیا۔ ”میں یروشلم کی رہنے والی ہوں۔ اس وقت میری عمرہ بارہ سال تھی۔ جب مجھے باپ نے فروخت کیا تھا۔ مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرے خریدار عیسائی ہیں۔ انہوں نے مجھے اس کام کی ٹریننگ دی جس کے لیے میں آئی ہوں۔ میں دمشق اور بغداد کا نام سنا کرتی تھی اور یہ نام مجھے اچھے لگتے تھے۔ اس سرزمین پر قدم رکھا ہے تو اس کی ہوائوں نے میرے اندر میرا مذہب بیدار کردیا ہے۔ میں مسلمان ہوں۔ مسلمانوں کی تباہی کے لیے میں کوئی کام نہیں کرسکوں گی”… اس نے جذباتی لہجے میں کہا… ”میرا دل رو رہا ہے، میری روح رو رہی ہے”… اس نے اس آدمی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر اپنے سینے پر رکھ لیے اور کہا… ”تم بھی مسلمان ہو، آئو بھاگ چلیں۔ مجھے جہاں لے جائو گے، چلوں گی۔ ریگستان میں لیے پھرو گے تو خوشی سے تمہارے ساتھ رہوں گی۔ تم بھی اپنی قوم کو دھوکہ دینے سے باز آجائو۔ ہمارے پاس سونے کے بہت سے سکے ہیں۔ مجھے معلوم ہے کہاں پڑے ہیں۔ آسانی سے چرالائوں گی”۔

علی بن سفیان کا یہ آدمی تھا تو عقل مند لیکن لڑکی کے جھانسے میں آگیا۔ اسے اپنی ڈیوٹی یاد آگئی تھی۔ اسی لیے اس نے حشیش نہیں پی تھی۔ وہ حشیش کی بو سے واقف تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا کہ وہ اور اس کی پارٹی یہاں کیا کرنے آئی ہے۔ لڑکی نے بتادیا۔ اس آدمی نے کہا… ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم یہاں مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دے سکو گی۔ اگر تم سچے دل سے اس کام سے متنفر ہوگئی ہو تو تم خوش قسمت ہو کہ تم ہمارے دھوکے میں آگئی ہو۔ اب تم ہمارے ساتھ رہو گی۔ ہم میں سے کوئی بھی صلیب کا جاسوس نہیں۔ہم سب مصر کی فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں”… لڑکی جوش مسرت سے اس کے ساتھ لپٹ گئی۔ اس آدمی نے کہا… ”میں اپنے کمانڈر سے کہوں گا کہ تمہیں دوسری لڑکیوں سے الگ رکھے اور کسی امیر وغیرہ کے حوالے نہ کرے”۔

لڑکی بیتابی سے اس کے ہاتھ چومنے لگی۔ اس کا فریب کامیاب ہوگیا۔ علی بن سفیان کا اتنا ہوشیار جاسوس ایک لڑکی کے فریب کا شکار ہوگیا۔

”ذرا ٹھہرو”… لڑکی نے کہا… ”میں دیکھ آئوں کہ میرے ساتھی سو گئے ہیں یا نہیں”… وہ خیمے سے نکل گئی۔

علی بن سفیان سالار توفیق جواد کے گھر بیٹھا نورالدین زنگی کی بیوہ کا انتظار کررہا تھا۔ اسلام کے عظیم مجاہد کی بیوہ نے قاصد کے ذریعے صلاح الدین ایوبی تک اپنے جذبات پہنچا دیئے تھے پھر بھی اس سے ملنا ضروری تھا۔ بہت سی معلومات لینی اور اقدام طے کرنے تھے۔ کچھ دیر بعد یہ پرعظمت عورت آگئی۔ وہ سیاہ اوڑھنی میں تھی۔ علی بن سفیان کو پہچان نہ سکی کیونکہ وہ مصنوعی داڑھی میں تھا۔ جب پہچان لیا تو اس کے آنسو بہنے لگے۔ کہنے لگی… ”یہ وقت بھی ہماری قسمت میں لکھا تھا کہ ہم ایک دوسرے کو یوں چھپ کر اور بہروپ دھار کر ملیں گے۔ تم یہاں سراونچا کرکے آیا کرتے تھے۔ اب اس حال میں آئے ہو کہ کوئی تمہیں پہچان نہ لے اور میں گھر سے اس احتیاط سے نکلی ہوں کہ کوئی میرے پیچھے یہ دیکھنے کے لیے نہ آئے کہ میں کہاں جارہی ہوں”۔

علی بن سفیان کے آنسو بہہ رہے تھے۔ جذبات کا ایسا غلبہ ہوا کہ وہ بہت دیر بول ہی نہ سکا۔ زنگی کی بیوہ نے کہا… ”علی بن سفیان! میں نے یہ لباس اپنے خاوند کے ماتم کے لیے نہیں پہنا، میں اس غیرت کے ماتم میں ہوں جو میری قوم کا زیور ہے۔ ان چھوٹے چھوٹے حکمرانوں نے میرے بیٹے کو آلۂ کار بنا کر قومی غیرت صلیبیوں کے قدموں میں ڈال دی ہے۔ تمہیں شاید معلوم نہ ہو، کل خلیفہ کے حکم سے اس صلیبی بادشاہ کو جسے میرے خاوند نے جنگی قیدی بنایا تھا، رہا کردیا گیا ہے۔ یہ رینالڈ تھا جسے چند ہی مہینے پہلے نورالدین زنگی نے بے شمار صلیبی سپاہیوں کے ساتھ ایک لڑائی میں پکڑا تھا۔ اسے اور دوسرے قیدیوں کو زنگی کرک سے یہاں لے آئے تھے۔ زنگی بہت خوش تھے۔ کہتے تھے کہ میں صلیبیوں کے ساتھ ایسی سودا بازی کرکے اس صلیبی حکمران کو چھوڑ دوں گا جو ان کی کمر توڑ دے گی۔ ایک بادشاہ اور اعلیٰ کمان دار کی گرفتاری معمولی سی بات نہیں ہوتی۔ ہم اس کے بدلے صلیبیوں سے اپنی شرائط منوا سکتے تھے مگر کل میرا بیٹا میرے پاس آیا اور بڑی خوشی سے کہا۔

”ماں! میں نے صلیبی حکمران کو اور اس کے ساتھ تمام صلیبی قیدیوں کو رہا کردیا ہے”… میرے دل پر ایسی چوٹ پڑی کہ میں بہت دیر اپنے آپ سے باہر رہی۔ بیٹے سے پوچھا کہ ان جنگی قیدیوں کے عوض تم نے اپنے جنگی قیدی رہا کرا لیے ہیں؟ بیٹے نے بچوں کا سا جوا دیا۔ کہنے لگا کہ ہم ان قیدیوں کو لے کے کیا کریں گے۔ ہم آئندہ کسی سے لڑائی نہیں کریں گے”۔

”میں نے بیٹے سے کہا کہ تم آئندہ اپنے باپ کی قبر پر نہ جانا۔ تم جب مرو گے تو میں تمہیں اس قبرستان میں دفن نہیں کروں گی جس میں تمہارا باپ دفن ہے۔ اس قبرستان میں وہ شہید بھی دفن ہیں جو صلیبیوں کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے۔ تمہیں وہاں دفن کرکے میں ان کی توہین نہیں کرنا چاہتی… لیکن میرا بیٹا بچہ ہے۔ وہ کچھ نہیں سمجھتا۔ صلیبیوں نے اپنے حکمران اور جنگی قیدیوں کو رہا کراکے اسلام کے منہ پر تھپڑ مارا ہے۔ میں حیران ہوں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی قاہرہ میں بیٹھا ہوا کیا کررہا ہے۔ وہ کیوں نہیں آتا؟ علی بن سفیان! صلاح الدین ایوبی کیا سوچ رہا ہے؟ اسے کہنا تمہاری ایک بہن تمہاری غیرت کا ماتم کررہی ہے۔ اسے کہنا کہ وہ سیاہ لباس اس روز اتارے گی جس روز تم دمشق میں داخل ہوکر مجھے دکھا دو گے کہ تم نے ملت اسلامیہ کی آبرو ان عیاش اور ایمان فروشوں سے چھین لی اور اسے بچا لیا ہے ورنہ میں اسی لباس میں مرجائوں گی اور وصیت کرجائوں گی کہ مجھے اسی لباس میں دفن کیا جائے۔ کفن نہ پہنایا جائے۔ میں روز قبامت اپنے خاوند اور خدا کے سامنے سفیدکفن میں نہیں جانا چاہتی”۔

”میں ان جذبات کو اچھی طرح سمجھتا ہوں”… علی بن سفیان نے کہا… ”آئیے، حقیقت کی بات کریں۔ سلطان ایوبی آپ کی ہی طرح بیتاب اور بے چین ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ ہمیں کوئی کارروائی جذبات اور اشتعال کے زیراثر نہیں کرنی چاہیے۔ یہاں کے حالات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ ہم اس کوشش میں ہیں کہ خانہ جنگی نہ ہو۔ اس کی ایک ہی صورت ہے، وہ یہ کہ قوم ہمارا ساتھ دے۔ فوج کے متعلق توفیق جواد مجھے یقین دلا چکے ہیں کہ ہماری فوج کے خلاف نہیں لڑے گی۔ البتہ محافظ دستے مقابلہ کریں گے”۔

”قوم آپ کے ساتھ ہے”… زنگی کی بیوہ نے کہا… ”میں عورت ہوں، میدان جنگ میں نہیں جاسکی۔ میں ایک اورمحاذ پر لڑتی رہی ہوں۔ میں نے قوم کی عورتوں میں ملی جذبہ اس حد تک پیدا کررکھا ہے کہ آپ کسی بھی وقت انہیں میدان جنگ میں لے جاسکتے ہیں۔ میرے انتظامات کے تحت یہاں کی تمام نوجوان لڑکیاں تیغ زنی اور تیز اندازی کی مہارت رکھتی ہیں۔ عورتوں نے اپنے بچوں، بھائیوں، باپوں اور خاوندوں کو شعلے بنا رکھا ہے۔ میں نے جن عورتوں کے ہاتھوں انہیں تربیت دی ہے، وہ میرے ہاتھ میں ہیں۔ اگر نوبت خانہ جنگی تک آگئی تو ہر گھر کی عورتیں خلیفہ کی فوج کے خلاف مورچہ بنا لیں گی۔ اگر صلاح الدین ایوبی فوج لے کے آئے تو میرا خلیفہ بیٹا اور اس کے حاشیہ بردار اپنے آپ کو تنہا پائیں گے۔ تم جائو علی بھائی! فوج لائو۔ یہاں کے حالات مجھ پر چھوڑو۔ قوم کی طرف سے تم پر ایک بھی تیر نہیں چلے گا۔ اگر تم ضرورت سمجھو کہ میرے بیٹے کو قتل کردیا جائے تو بھول جانا کہ وہ نورالدین زنگی کا اور میرا بیٹا ہے۔ میں اپنے بیٹے کے جسم کے ٹکڑے کرالوں گی، سلطنت اسلامیہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھ سکوں گی”۔

توفیق جواد نے بھی علی بن سفیان کو یقین دلایا کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی۔ اس کے بعد انہوں نے سکیم بنائی کہ سلطان ایوبی کس طرح آئے گا اور یہاں کیا ہوگا۔ یہ طے ہوا کہ سلطان ایوبی خاموشی سے آئے گا اور خلیفہ اور اس کے حاشہ برداروں کو بے خبری میں آن لے گا۔

وہ صلیبی لڑکی جس نے علی بن سفیان کے ایک آدمی سے معلوم کرلیا تھا کہ یہ ایک سو آدمی صلیب کے آدمی نہیں، اسے خیمے میں اکیلا چھوڑ کر اور اسے یہ کہہ کر چلی گئی کہ وہ دیکھنے جارہی ہے کہ اس کے ساتھ سو گئے ہیں یا نہیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو یہ بتایا کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ یہ سب مصری فوج کے لڑاکا جاسوس ہیں اور ان کا کمانڈر علی بن سفیان ہے جو سراغ رسانی اور جاسوسی کا ماہر سربراہ ہے۔ اس انکشاف نے ان صلیبیوں کو چونکا دیا اور وہ سوچنے لگے کہ انہیں کیا کرنا چاہیے۔ ان کے لیے وہاں رکنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ لڑکی اس مصری جاسوس کے پاس چلی گئی تاکہ اسے پھانسے رکھے۔ ایک صلیبی باہر نکلا اور علی بن سفیان کو ڈھونڈنے لگا مگر وہ اسے نہ ملا۔ اس وقت علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر بیٹھا ہوا تھا۔ یہ صلیبی یہی معلوم کرنا چاہتا تھا کہ علی بن سفیان یہیں ہے یا کہیں گیا ہوا ہے۔ اسے غیر حاضر دیکھ کر صلیبی نے خطرہ محسوس کیا کہ علی بن سفیان ان کی گرفتاری کا انتظام کرنے گیا ہے۔ اس نے اپنے ساتھیوں کوجاکر بتایا کہ وہاں سے فوراً نکلنے کی ترکیب کریں۔ رات آدھی گزر گئی تھی۔ یہ لوگ شہر سے ناواقف تھے۔ دن کے وقت وہ اپنی منزل ڈھونڈ سکتے تھے۔ رات کو لڑکیوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرنا مناسب نہیں تھا۔

ایک نے مشورہ دیا کہ سرائے میں چلتے ہیں۔ وہاں جاکر کہیں گے کہ ہم قاہرہ کے تاجر ہیں، باہر کھلے میدان میں سو نہیں سکتے۔ اس لیے سرائے میں رات گزارنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایک آدمی کو چوری چھپے اس کام کے لیے بھیج دیا کہ سرائے تلاش کرے اور وہاں سے معلوم کرے کہ رات کے وقت چار آدمیوں اور چار عورتوں کو جگہ مل سکتی ہے یا نہیں اگر جگہ مل جائے تو وہ یہاں سے اکیلے اکیلے نکلیں اور سرائے میں پہنچ جائیں۔ ان کے لیے سامان ایک مسئلہ تھا۔ یہ بظاہر تجارتی سامان تھا لیکن اس میں زروجواہرات اور تحفے تھے جو وہ صلیبیوں کی طرف سے امراء کے لیے لائے تھے۔ وہ چونکہ امراء کے پاس جانے کے لیے آئے تھے، اس لیے انہیں ایسا کوئی خطرہ نہ تھا کہ پکڑے جائیں گے۔ انہوں نے بہروپ اس لیے دھار رکھا تھا کہ امراء کے سوا اور کوئی انہیں نہ پہچان سکے۔ امراء سے مل کر انہیں وہیں رہنا اور تخریب کاری کرنی تھی، اس لیے وہ اپنی اصلیت چھپائے رکھنا چاہتے تھے۔

ان کا بھیجا ہوا آدمی سرائے کی تلاش میں جارہا تھا۔ گلیاں اور بازار ویران تھے۔ اسے کوئی آدمی نظر نہیں آرہاتھا، جس سے وہ پوچھتا کہ سرائے کہاں ہیں، کچھ دیر ادھر ادھر مارے مارے پھرنے کے بعد اسے سامنے سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔ اندھیرے میں اتنا ہی پتا چلتا تھا کہ وہ کوئی انسان ہے۔ وہ قریب آیا تو صلیبی نے اس سے سرائے کے متعلق پوچھا۔ اس نے سر اور آدھے چہرے پر چادر سی ڈال رکھی تھی۔ اس نے صلیبی کو بتایا کہ سرائے شہر کے دوسرے سرے پر ہے۔ پھر اس سے پوچھا کہ وہ اتنی رات گئے سرائے کیوں ڈھونڈ رہا ہے۔ ایسے وقت میں اس کے لیے سرائے کا دروازہ نہیں کھلے گا۔ صلیبی نے اسے بتایا کہ وہ آج تاجروں کے قافلے کے ساتھ آئے ہیں۔ ان کے ساتھ چار عورتیں ہیں جنہیں وہ خیموں میں نہیں رکھنا چاہتے۔

”ہاں، یہ ایک مسئلہ ہے”… اس آدمی نے کہا… ”تمہیں شام سے پہلے بندوبست کرلینا چاہیے تھا۔ آئو، میں تمہاری کچھ مدد کرتا ہوں۔ تم پردیسی ہو۔ یہاں سے جاکر یہ نہ کہو کہ دمشق میں تمہاری مستورات کھلے میدان میں پڑی رہی تھیں۔ مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔ مستورات کو ساتھ لے آئو۔ میں سرائے کھلوا کر جگہ دلوا دوں گا”۔

وہ آدمی صلیبی کے ساتھ چل پڑا اور دونوں قافلے کی خیمہ گاہ تک پہنچ گئے۔ صلیبی نے اسے ایک جگہ روک کر کہا… ”تم یہیں ٹھہرو۔ میں انہیں لے کر آتا ہوں”… یہ کہہ کر وہ خیمہ گاہ کے ایک طرف سے گھوم کر کہیں غائب ہوگیا۔ صلیبیوں کے خیمے دوسری طرف اور ذرا ہٹ کر تھے۔ اس آدمی نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ ایک آدمی اس کے ساتھ آیا ہے جو انہیں سرائے میں جگہ دلا دے گا۔ اس کے ساتھی کچھ گھبرائے۔ یہ آدمی بھی دھوکہ دے سکتا تھا لیکن وہ ایسے جال میں پھنس گئے تھے جس سے نکلنے کے لیے انہیں کوئی نہ کوئی تو خطرہ مول لینا ہی تھا۔ مصری جاسوس جو صلیبی لڑکی کے جھانسے میں آگیا تھا، اس نے لڑکی کو یہاں تک بتا دیا تھا کہ خلیفہ اور امراء صلیبیوں کے زیراثر آگئے ہیں، اس لیے علی بن سفیان بہروپ میں

اس لیے علی بن سفیان بہروپ میں ایک سو لڑاکا جاسوسوں کے ساتھ آیا ہے اور ان کا مشناس لیے علی بن سفیان بہروپ میں ایک سو لڑاکا جاسوسوں کے ساتھ آیا ہے اور ان کا مشن یہ ہے کہ یہاں کا جائزہ لیں کہ صلیبی اثرات کہاں تک پہنچے ہیں اور کیا صلاح الدین ایوبی کے لیے جنگی کارروائی ضروری ہے یا نہیں۔

لڑکی نے علی بن سفیان کا یہ مشن اپنے ساتھیوں کو بتادیا تھا۔ یہ بڑی ہی کارآمد اطلاع تھی جو صلیبی جاسوس رات ہی کٹھ پتلی خلیفہ تک پہنچا کر خراج تحسین حاصل کرنا چاہتے تھے اور یہ اطلاع وہ اپنے صلیبی حکمرانوں تک بھی پہنچانا چاہتے تھے تاکہ وہ صلاح الدین ایوبی کا راستہ روکنے کا بندوبست کرلیں۔ ان صلیبی جاسوسوں نے یہ ارادہ بھی کیا کہ وہ علی بن سفیان اور اس کی پوری جماعت کو خلیفہ کے حکم سے گرفتار کرادیں۔ انہوں نے اس لڑکی کو بہت ہی خراج تحسین پیش کیا جس نے مصری جاسوس کے سینے سے یہ راز نکلوا لیا تھا۔ یہ مصری اب لڑکی کے خیمے میں گہری نیند سویا ہوا تھا اور لڑکی خیمے میں نہیں بلکہ اپنے ساتھیوں کے پاس تھی۔

انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ علی بن سفیان کے تمام آدمی سوئے ہوئے ہیں۔ سب اکٹھے نکل چلیں۔ سامان اور جانوروں کو یہیں رہنے دو۔ کل صبح ہوتے ہی وہ مصری جاسوسوں کو پکڑا دیں گے پھر ان کا سامان انہیں مل جائے گا۔ وہ خیمہ گاہ سے بھاگنا اس لیے چاہتے تھے کہ انہیں ڈر تھا کہ علی بن سفیان رات کو لڑکیاں غائب کردے گا یا ان سب کو مروا دے گا یا کوئی دھوکہ دے گا۔ بہرحال رکنا ٹھیک نہیں تھا۔ وہ سب خیمہ گاہ سے پرے پرے دبے پائوں چل پڑے اور اس جگہ پہنچے جہاں ان کا ایک ساتھی ایک آدمی کو کھڑا کرگیا تھا مگر وہ آدمی وہاں نہیں تھا۔ وہ سب ادھر ادھر دیکھ ہی رہے تھے کہ بیٹھے ہوئے اونٹوں کی اوٹ میں سے بہت سے آدمی اٹھے اور صلیبیوں کو گھیرے میں لے لیا۔ انہیں ایک طرف لے گئے اور مشعلیں جلائی گئیں۔ علی بن سفیان نے ان سے پوچھا کہ وہ کہاں جارہے ہیں۔ انہوں نے جھوٹ بولے، علی بن سفیان نے پوچھا… ”وہ آدمی کون تھا جو سرائے کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا؟”

ایک صلیبی نے کہا… ”وہ میں تھا”۔

”اور جس سے تم نے سرائے کا راستہ پوچھا تھا”… علی بن سفیان نے کہا… ”وہ میں تھا”۔

یہ محض اتفاق تھا اور اللہ کا کرم کہ علی بن سفیان توفیق جواد کے گھر سے واپس آرہا تھا۔ یہ صلیبی سرائے کی تلاش میں جارہا تھا۔ اس نے علی بن سفیان سے ہی سرائے کا راستہ پوچھا۔ اگر روشنی ہوتی تو صلیبی اسے پہچان لیتا۔ ایک تو اندھیرا تھا، دوسرے علی بن سفیان نے سر پر رومال یا چادر ڈال رکھی تھی۔ صلیبی کی ایک بات سن کر وہ جان گیا کہ انہیں کسی طرح پتا چل گیا ہے کہ وہ دھوکے میں آگئے ہیں۔ لہٰذا اب بھاگنے کی فکر میں ہیں۔ علی بن سفیان کو معلوم تھا کہ یہ صلیبی بے شک جاسوس ہیں لیکن انہیں یہاں امراء میں سے کوئی نہ کوئی پناہ میں لے لے گا۔ چنانچہ اس نے صلیبی کو خوش اخلاقی کا جھانسہ دے کر پھانس لیا اور اس کے ساتھ خیمہ گاہ تک چلا گیا۔ وہ سوچتا رہا کہ اب اسے کیا کارروائی کرنی چاہیے۔ صلیبی نے اس پر یہ کرم کیا کہ اسے اپنے خیموں سے دور کھڑا کرگیا۔

علی بن سفیان نے فوراً اپنے دو تین آدمیوں کو جگالیا اور نہایت عجلت سے انہیں بتایا کہ انہیں کیا کرنا ہے۔ ہدایات دے کر وہ خود صلیبیوں کے خیموں تک گیا۔ وہ سب لڑکیوں سمیت ایک خیمے میں جمع ہوگئے تھے۔ علی بن سفیان نے دبے پائوں قریب جاکر ان کی باتیں سنیں۔ وہ صرف یہ جان سکا کہ صلیبی جاسوسوں کو اس کا مشن معلوم ہوگیا ہے لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ یہ راز فاش کس طرح ہواہے۔ اتنی دیر میں اس کے بہت سے آدمی اس کی دی ہوئی ہدایت کے مطابق برچھوں سے مسلح ہوکر اونٹوں کی اوٹ میں جاکر بیٹھ چکے تھے۔ صلیبیوں کو وہیں آنا تھا۔ وہ جوں ہی وہاں پہنچے، علی بن سفیان بھی آگیا ور سب کو گھیر کر پکڑ لیا گیا۔

”دوستو!”… علی بن سفیان نے انہیں کہا… ”تمہاری جاسوسی بہت کمزور ہے، تمہیں ابھی بہت سی تربیت کی ضرورت ہے۔ کیا جاسوس اس طرح سنسان گلیوں میں پھرا کرتے ہیں؟ اور کیا جاسوس کسی اجنبی کو پہچانے بغیر بات کیا کرتے ہیں؟ یہ فن مجھ سے سیکھو”۔

”اگر آپ یہ فن اپنے آدمیوں کو سکھام دیں تو زیادہ بہتر ہوگا”… ایک صلیبی نے کہا… ”کیا آپ ہماری اس مہارت کی تعریف نہیں کریں گے کہ ہم نے آپ کے ایک آدمی سے آپ کی اصلیت معلوم کرلی ہے؟ یہ تو قسمت کا کھیل ہے۔ آپ جیت گئے، ہم ہار گئے۔ اگر ہمارا قائد مارا نہ جاتا تو ہم یوں بھٹک نہ جاتے”۔

”مجھے وہ آدمی بتائو گے جس نے راز فاش کیا ہے؟”… علی بن سفیان نے پوچھا۔

”اس خیمے میں سویا ہوا ہے”… ایک لڑکی نے ایک خیمے کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا… ”وہ میرے دھوکے میں آگیا تھا”۔

”یہ باتیں اب قاہرہ میں چل کر ہوں گی”… علی بن سفیان نے کہا۔

صبح طلوع ہوئی تو لوگوں نے دیکھا کہ تاجروں کا قافلہ جارہا تھا۔ اونٹوں پر جہاں تجارتی سامان لدا ہوا تھا، وہاں خیمے بھی لدے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان اور اس کے ایک سو آدمیوں کے سوا کسی کو علم نہ تھا کہ لپٹے ہوئے خیموں میں چار لڑکیاں اور چار آدمی لپٹے ہوئے ہیں۔ علی بن سفیان نے روانگی سے کچھ دیر پہلے سحر کی تاریکی میں ایک ایک صلیبی کو ایک ایک خیمے میں لپیٹ کر اونٹوں پر لاد کر باندھ دیا تھا۔ اسے کوئی فکر نہیں تھی کہ وہ دم گھٹنے سے مرجائیں گے یا زندہ رہیں گے۔ قافلہ دمشق سے نکل گیا اور جب شہر اتنی دور پیچھے رہ گیا کہ نظر بھی نہیں آتا تھا، اس نے صلیبیوں کو خیموں سے نکالا۔ سب زندہ تھے۔ لڑکیوں کو اونٹوں پر اور مردوں کو گھوڑوں پر سوار کرلیا گیا۔ صلیبیوں نے رہائی کے لیے وہ تمام زروجواہرات اور سونے کے ٹکڑے پیش کیے جو وہ خلیفہ اور امراء کے لیے لائے تھے۔ علی بن سفیان نے کہا… ”یہ ساری دولت تو میرے ساتھ ہی جارہی ہے”۔

٭ ٭ ٭

اس وقت ریمانڈ نام کا ایک صلیبی تریپولی کا حکمران تھا۔ یہ وہی علاقہ ہے جو آج لبنان کہلاتا ہے۔ دوسرے صلیبی حکمران یروشلم اور گردونواح میں تھے۔ نورالدین زنگی کی وفات پر وہ سب بہت خوش تھے۔ وہ ایک کانفرنس کرچکے تھے۔ انہوں نے اپنے منصوبوں پر نظرثانی کرلی تھی، اس کے مطابق فرنگیوں کا ایک کمانڈر سیرز اپنی فوج حلب تک لے گیا۔ حلب کا امیر شمس الدین تھا۔ سیرز نے اسے پیغام بھیجا کہ وہ حلب اس کے حوالے کردے یا صلح نامے پر دستخط کرکے تاوان ادا کرے۔ شمس الدین نے اس ڈر سے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال دئیے کہ دمشق اور موصل کے امراء سے جنگ میں الجھا ہوا دیکھ کر اس کی مملکت پر قبضہ کرلیں گے۔ اس ایک ہی کامیابی سے صلیبی دلیر ہوگئے۔وہ جان گئے کہ یہ مسلمان امراء ایک دوسرے کی مدد کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے دشمن ہیں، چنانچہ انہوں نے جنگ کے بغیر ہی مسلمانوں کہ تہ تیغ کرنے کا منصوبہ بنا لیا تھا۔ انہیں خطرہ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی سے تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے کردار سے آگاہ تھے۔انہیں ڈر یہ تھا کہ سلطان ایوبی دمشق یا ان علاقوں میں کہیں بھی آگیا تو وہ تمام امراء کو متحدہ کرلے گا۔ چنانچہ وہ امراء کو بہت جلدی اپنے اتحادی بنا لینے کی کوشش کررہے تھے۔ ریمانڈ نے خلیفہ المالک الصالح کو ایک ایلچی کے ذریعے تحائف کے ساتھ یہ پیشکش بھی بھیج دی تھی کہ وہ اسے ضرورت کے وقت فوجی مدد دے گا۔

اسلام کی بقا اور آبرو کچے دھاگے سے لٹک رہی تھی۔ اس کا دارومدار سلطان صلاح الدین ایوبی کے اقدام پر تھا۔ ایک ساعت جو گزر جاتی تھی، اسلام کو تباہی کے قریب لے جاتی تھی۔ سلطان ایوبی قاہرہ میں علی بن سفیان کا انتظار کررہا تھا۔ اسے علی بن سفیان کی رپورٹ کے مطابق کچھ فیصلہ کرنا تھا۔ وہ بغداد، دمشق اور یمن وغیرہ پر فوج کشی کے لیے ذہنی طور پر تیار ہوچکا تھا۔ اس کے لیے مشکل یہ تھی کہ مصر کے اندرونی حالات ٹھیک نہیں تھے اور فوج کم تھی۔ وہ مصر سے زیادہ سے زیادہ نہیں بلکہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے جاسکتا تھا اور یہی ایک خطرہ تھا جو اسے پریشان کررہا تھا کہ اتنی کم فوج سے وہ کیا کامیابی حاصل کرسکے گا۔ اس کے باوجود اس نے فوج کشی کے سوا دوسرا کوئی اقدام سوچا ہی نہیں۔ وہ دن میں ایک دو بار اپنے مکان کی چھت پر جاکر اس سمت دیکھا کرتا تھا جس سمت سے علی بن سفیان کو آنا تھا۔ وہ افق پر نظریں گاڑ دیتا تھا۔

ایک روز اسے افق پر گرد کے بادل نظر آئے جو زمین سے اٹھے اور اوپر ہی اوپر اٹھتے اور پھیلتے گئے۔ سلطان ایوبی اوپر ہی کھڑا رہا۔ گرد کا بادل آگے ہی آگے آتا گیا، پھیلتا گیا… اور پھر اس میں سے گھوڑوں اور اونٹوں کے ہیولے نظر آنے لگے۔ وہ علی بن سفیان کا قافلہ تھا۔ اس نے راستے میں بہت تھوڑے پڑائو کیے تھے۔ اسے جب قاہرہ کے مینار نظر آنے لگے تو اس نے اونٹ اور گھوڑے دوڑادئیے۔ اسے احساس تھا کہ گزرتے ہوئے لمحوں کی قیمت کیا ہے اور اس کے انتظار میں سلطان صلاح الدین ایوبی رات کو سوتا بھی نہیں ہوگا۔

پھر وہ لمحہ آگیا جب گرد سے اٹا ہوا علی بن سفیان سلطان ایوبی کے سامنے کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے اسے نہانے دھونے کی مہلت نہ دی۔ وہ خبریں سننے کے لیے بیتاب تھا۔ اس کے لیے کھانا وغیرہ وہیں لانے کا حکم دے کر اسے دفتر میں لے گیا۔ علی بن سفیان نے اسے تفصیلی رپورٹ دی۔ نورالدین زنگی کی بیوہ کا پیغام، اس کے جذبات اور تاثرات سنائے۔ سالار توفیق جواد سے جو بات چیت ہوئی تھی وہ سنائی اور آخر میں بتایا کہ وہ دمشق سے ایک تحفہ لایا ہے۔ یہ تحفہ چار صلیبی جاسوس مرد اور چار لڑکیاں تھیں۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا… ”میں شام سے پہلے پہلے کچھ قیمتی معلومات ان لوگوں سے حاصل کرلوں گا”۔

”تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں فوجی طاقت استعمال کرنی پڑے گی”۔ سلطان ایوبی نے کہا۔

”کرنی پڑے گی اور ہم ضرور کریں گے”… علی بن سفیان نے کہا… ”مجھے امید ہے کہ خانہ جنگی نہیں ہوگی”۔

سلطان ایوبی نے اپنے دو ایسے فوجی مشیروں کو بلایا جن پر اسے کلی طور پر اعتماد تھا۔ وہ آئے تو اس نے انہیں کہا… ”میں تم سے اب جو بھی بات کروں، وہ اپنے سینے میں اتار لینا۔ تم دونوں کے علاوہ علی بن سفیان تیسرا آدمی ہوگا جو اس راز سے واقف ہوگا”… اس نے انہیں دمشق اور دیگر تمام اسلامی ریاستوں اور جاگیروں کے احوال وکوائف سنائے۔ علی بن سفیان کی لائی ہوئی رپورٹ سنائی اور کہا… ”اللہ کی فوج اللہ کے حکم کی تعمیل کیا کرتی ہے۔ امیر اور خلیفہ کی اطاعت ہم پر فرض ہے لیکن امیر اور خلیفہ ہی اللہ کے عظیم مذہب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ناموس کے دشمن ہوجائیں تو اللہ کے سپاہی پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امت رسول اللہ کی ناموس کو بچائیں۔ اور میرا وجود ملک وملت کے لیے خطرے اور بدنامی کا باعث بنے تو تمہارا فرض ہے کہ میرا سر میرے دھڑ سے جدا کردو یامجھے بیڑیاں پہنا کر قید خانے میں پھینک دو اور ملک میں احکام خداوندی نافذ کرو۔ آج یہی فرض ہم پر عائد ہوگیا ہے۔ ہمارا خلیفہ قومی غیرت اور وقار سے دستبردار ہوکر اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ان سے مدد مانگ رہا ہے۔ ان کے جاسوسوں کو پناہ دے رہا ہے۔ اس کے حاشیہ بردار عیش وعشرت میں ڈوب گئے ہیں۔ سلطنت اسلامیہ کے حصے بخرے کررہے ہیں۔ شمس الدین والی حلب نے صلیبیوں کے آگے ہتھیار ڈال کر تاوان ادا کیا اور صلح کرلی ہے اور صلیبی عالم اسلام پر حاوی ہوتے جارہے ہیں تو کیا ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہوگیا کہ ہم فوجی طاقت سے خلیفہ کو اس مقدس گدی سے اٹھائیں اور اسلام کی آبرو بچائیں؟”

”بالکل فرض ہوگیا ہے”۔ دونوں مشیروں نے بیک زبان کہا۔

”اب ہمارا اقدام جو کچھ بھی ہوگا وہ ہم چاروں کے درمیان راز ہوگا”۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ان کے ساتھ اپنے سوچے ہوئے اقدام کی منصوبہ بندی شروع کردی۔

صلیبی جاسوسوں اور لڑکیوں کو علی بن سفیان اپنے مخصوص تہہ خانے میں لے گیا اور انہیں کہا… ”تم ایسے جہنم میں داخل ہوگئے ہو جہاں تم زندہ بھی نہیں رہو گے اور مرو گے بھی نہیں۔ اپنے جسموں کو ہڈیوں کا ڈھانچہ بنا کر جو باتیں تم میرے سامنے اگلو گے وہ اسی صحتمندی کی حالت میں بتا دو اور اس جہنم سے رہائی حاصل کرو۔ میں تمہیں سوچنے کا موقعہ دیتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آئوں گا”۔

وہ جب انہیں بیڑیاں ڈالنے کا حکم دے رہا تھا تو ایک صلیبی نے کہا… ”ہم ساری باتیں بتا دیں گے، ہمیں سزا دینے سے پہلے یہ درخواست سن لیں کہ ہم تنخواہ پر کام کرنے والے ملازم ہیں۔ سزا حکم دینے والوں کو ملنی چاہیے۔ ہم جو مرد ہیں، سختیاں برداشت کرلیں گے، ہم ان لڑکیوں کو اذیت سے بچانا چاہتے ہیں”۔

”انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگائے گا”۔ علی بن سفیان نے کہا… ”تم میرا کام آسان کردو گے تو لڑکیاں تمہارے ساتھ رہیں گیں۔ اس تہہ خانے سے تم سب کو نکال لیا جائے گا اور باعزت نظربندی میں رکھا جائے گا”۔

انہوں نے جو انکشاف کیے ان سے ان تمام حالات کی تصدیق ہوگئی جو نورالدین زنگی کی وفات کے بعد پیدا ہوگئے تھے۔

٭ ٭ ٭

تین روز بعد…

مصر کی سرحد سے بہت دور شمال مشرق کی سمت مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں اور گھاٹیوں کا وسیع خطہ تھا، جس میں کہیں کہیں سبزہ بھی تھا اور پانی بھی۔ یہ خطہ قافلوں اور فوجوں کے عام راستوں سے ہٹ کر تھا۔ اس کے اندر ایک جگہ بے شمار گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ ان سے ذرا پرے سوار سوئے ہوئے تھے اور ان سے الگ ہٹ کر چھوٹا سا ایک خیمہ لگا ہوا تھا جس کے اندر ایک آدمی سویا ہوا تھا۔ تین چار آدمی ٹیلوں کے اوپر ٹہل رہے تھے اور تین چار آدمی اس خطے کے باہر بکھر کر گھوم پھر رہے تھے… خیمے میں سویا ہوا آدمی سلطان صلاح الدین ایوبی تھا۔ ٹیلوں پر اور ٹیلوں کے باہر گھومنے پھرنے والے آدمی سنتری تھے اور جو سوار سوئے ہوئے تھے، وہ سلطان ایوبی کے سوار تھے۔ ان کی تعداد سات سو تھی۔

صلاح الدین نے بڑی گہری سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ کم سے کم فوج اپنے ساتھ لے کر دمشق جائے گا۔ اگر اس کا استقبال ایک سلطان کی حیثیت سے ہوا تو زبانی بات چیت کرے گا اور اگر مزاحمت ہوئی تو وہ اسی نفری سے مقابلہ کرے گا۔ علی بن سفیان نے اسے یقین دلایا تھا کہ خلیفہ اور امراء کے محافظ دستوں نے مزاحمت کی تو سالار توفیق جواد اپنی فوج سلطان ایوبی کے حوالے کردے گا۔ زنگی کی بیوہ نے یقین دلایا تھا کہ شہر کے لوگ سلطان ایوبی کا استقبال کریں گے لیکن سلطان ایوبی نے اپنے آپ کو خوش فہمیوں میں کبھی مبتلا نہیں ہونے دیا تھا۔ اس نے یہ فرض کرکے فیصلہ کیا تھا کہ وہ سات سو سواروں کے ساتھ جہاں جارہا ہے، وہاں کا ہر ایک سپاہی اور بچہ بچہ اس کا دشمن ہے۔ اس نے اپنے رسالے )گھوڑ سوار دستوں( میں سے وہ سات سو سوار منتخب کیے تھے جو بہت سے معرکے لڑ چکے تھے، ان میں چھاپہ مار سوار بھی تھے جو دشمن کے عقب میں معرکے لڑنے کا تجربہ رکھتے تھے۔ جنگی مہارت کے علاوہ یہ سوار جذبے کے جنونی تھے جن کی آنکھیں صلیب کا نام سن کر لال سرخ ہوجایاکرتی تھیں۔ آج کی فوجی زبان میں یہ ”کریک ٹروپس” تھے۔

قاہرہ سے ان سواروں کو سلطان ایوبی نے رات کے وقت خفیہ طریقے سے نکالا تھا۔ وہ ایک ایک دو دو کرکے نکلے تھے اور قاہرہ سے بہت دور ایک پہلے سے بتائی ہوئی جگہ اکٹھے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی بھی خفیہ طریقے سے قاہرہ سے نکلا تھا۔ صرف علی بن سفیان اور دو خصوصی فوجی مشیروں کو اس کا علم تھا۔ سلطان ایوبی کا محافظ دستہ بدستور قاہرہ میں اس کے گھر اور ہیڈکوارٹر میں مستعد رہتا تھا۔ اس سے یہ تاثر دیا جارہا تھا کہ سلطان ایوبی یہیں ہے۔

تمام یورپی اور مسلمان مورخین اس پر متفق ہیں کہ سلطان ایوبی نے سات سو سوار منتخب کیے۔ خفیہ طریقے سے شہر سے نکلا اور دمشق کو روانہ ہوا۔ قاہرہ اور گردونواح میں صلیبی جاسوس موجود تھے۔ ان میں مصری مسلمان بھی تھے جن میں کچھ سرکاری ملازمت میں بھی تھے مگر کسی کو خبر تک نہ ہوئی کہ قاہرہ سے سلطان ایوبی اور سات سو سوار غائب ہیں۔ مورخین لکھتے ہیں کہ سلطان ایوبی دمشق میں داخل ہونے تک اپنی نقل وحرکت کو راز میں رکھنا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے وہ رات کو سفر کرتا اور دن کو کہیں چھپ جاتا تھا۔ سات سو گھوڑوں اور سواروں کو چھپانا ممکن نہیں تھا لیکن سلطان ایوبی ریگزار کا بھیدی تھا۔ ایسے راستے سے جارہا تھا جدھر سے کوئی قافلہ نہیں جایا کرتا تھا اور وہ چھپنے کی جگہ ڈھونڈ لیتا تھا۔ دو یورپی مورخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس خفیہ سفر کے دوران وہ سواروں کے ساتھ عام سپاہیوں کی طرح گھلا ملا، گپ شپ لگاتا اور باتوں باتوں میں انہیں آگ کے بگولے بناتا رہا۔ اس کے ساتھ انہیں سمجھاتا رہا کہ آگے حالات کیا ہیں اور کیا ہوسکتے ہیں۔ اس نے سواروں کو کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں کیا، کوئی جھوٹی امید نہیں دلائی، انہیں خطروں سے آگاہ کرتا رہا۔ سلطان ایوبی کی شخصیت اورکردار میں جو جلال تھا، وہ ہر ایک سوار کی روح میں اتر گیا اور سوار اڑ کر دمشق پہنچنے کے لیے بیتاب ہوگئے۔

مورخہ میں البتہ یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ ١١٧٤ء کا کون سا مہینہ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ جولائی کامہینہ تھا، بعض نے نومبر لکھا ہے۔ بہرحال یہ واقعہ نورالدین زنگی کی وفات کے بعد کا ہے۔ اگر وقائع نگاروں کی تحریروں میں چھوٹے چھوٹے واقعات غور سے پڑھے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سلطان ایوبی ستمبر کے ابتدائی دنوں میں دمشق کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس نے مصر کی ہائی کمانڈ خفیہ طور پر اپنے دو مشیروں کے سپرد کردی تھی۔ سوڈان کی طرف کی سرحد پر مورچہ بندی اور دفاعی انتظامات مزید مضبوط کردئیے تھے۔ شمال کی طرف بحریہ کو حکم دیا گیا تھا کہ ہر وقت، دن رات، سمندر میں دور دور تک کشتیاں گشت کرتی رہیں اور جنگی جہاز بحری سپاہیوں کے ساتھ ہر لمحہ تیاری کی حالت میں رہیں۔ سلطان ایوبی نے اپنے جانشینوں سے کہہ دیا تھا کہ کسی بھی طرف سے حملہ آئے تو وہ اس کے حکم کا انتظار نہ کریں۔ اس نے یہ بھی حکم دے دیا تھا کہ سرحد پر دشمن ذرا سی بھی گڑ بڑ کرے تو شدید قسم کی جوابی کارروائی کرو۔ ہر وقت جارحیت کے لیے تیار رہو۔ اگر ضرورت محسوس ہو تو سوڈان کے اندر جاکر مصر کا دفاع کرو۔

سلطان ایوبی مصر کو اپنی فوج اور خدا کے حوالے کرکے چوری چھپے سات سو سواروں کے ساتھ دمشق جارہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: