Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 18

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 18

–**–**–

دمشق کے قلعے سنتری پر گھوم پھر رہے تھے۔ انہیں دور افق پر گرد کے گھنے بادل اٹھتے نظر آئے جو دمشق کی طرف آرہے تھے۔ وہ کچھ دیر دیکھتے رہے۔ شاید تاجروں اور مسافروں کا کوئی بڑا قافلہ ہوگا مگر اونٹ اتنی گرد نہیں اڑاتے۔ یہ گھوڑے معلوم ہوتے تھے… گرد بہت قریب آگئی تو اس میں ذرا ذرا گھوڑے نظر آنے لگے اور پھر اوپر اٹھی ہوئی برچھیوں کی انیاں نظر آنے لگیں۔ ہر برچھی کے ساتھ کپڑے کی لمبوتری جھنڈی تھی۔ یہ بلاشک وشبہ کوئی فوج تھی اور یہ فوج خلیفہ کی نہیں ہوسکتی تھی۔ ایک سنتری نے نقارہ بجا دیا۔ قلعے کی دوسری دیواروں پر بھی نقارے بج اٹھے۔ قلعے میں جو فوج تھی وہ تیاری کی پوزیشنوں میں آگئی۔ دیواروں کے اوپر تیر اندازوں نے کمانوں میں تیر ڈال لیے۔ قلعے کا کمانڈر بھی اوپر آگیا۔ گرد اڑاتے ہوئے سوار قلعے کے قریب آگئے اور حملے کی ترتیب میں آکر رک گئے۔ قلعہ کے کمانڈر نے سواروں کے کمانڈر کا جھنڈا دیکھا تو وہ ٹھٹھک گیا۔ یہ صلاح الدین ایوبی کا جھنڈا تھا۔ قلعہ دار کو سرکاری طور پر بتایا جاچکا تھا کہ سلطان ایوبی نے خودمختاری کااعلان کردیا ہے جس کا مطلب یہ تھا کہ اگر وہ اس طرف آئے تو اسے بلاروک ٹوک شہر میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔

”آپ کس ارادے سے آئے ہیں؟” قلعہ دار نے پوچھا… ”اگر خلیفہ سے ملنا ہے تو اپنے سوار دور پیچھے لے جائیں اور اکیلے آگے آئیں”۔

”خلیفہ سے کہہ دو کہ صلاح الدین ایوبی باہر بلا رہا ہے”۔ سلطان ایوبی نے بلند آواز سے کہا… ”اور تم سن لو، میرے سوار پیچھے نہیں جائیں گے، شہر میں جائیں گے۔ خلیفہ کو اطلاع دو کہ وہ باہر نہ آیا تو بہت سے مسلمانوں کا خون اس کی گردن پر ہوگا”۔

”صلاح الدین بن نجم الدین ایوب!” قلعے کے کمان دار نے کہا… ”میں تمہیں خبردار کرتا ہوں کہ تمہارا ایک بھی سوار زندہ واپس نہیں جائے گا۔ میں خلیفہ کے حکم کا پابند ہوں۔ تمہارے لیے شہر کا کوئی دروازہ نہیں کھلے گا”۔

قلعے کے باہر جو سپاہی پہرے پر تھے، انہوں نے خلیفہ کی طرف ایک سپاہی دوڑا دیا تھا۔ یہ ان لوگوں کی ڈیوٹی تھی کہ خلیفہ کو خطرے سے آگاہ کردیں تاکہ فوج کو تیاری کا حکم دیا جائے۔ ادھر سلطان ایوبی نے اپنے سواروں کو کچھ حکم دیا۔ سواروں نے بجلی کی تیزی سے حرکت کی، وہ اور زیادہ پھیل گئے۔ سواروں نے کمانیں نکال لیں اور ان میں تیر ڈال لیے۔ ادھر دمشق شہر کابڑا دروازہ بند کردیا گیا اور شہر کی فصیل پر بھی تیر انداز تیار ہوگئے۔

قلعہ دار یعنی قلعے کا کمانڈر غالباً خلیفہ کے حکم کا یا شاید اندر سے آنے والی فوج کا انتظار کررہا تھا۔ اس نے کوئی کارروائی نہ کی۔ مقابلے کے لیے وہ تیار تھا۔ خلیفہ کو باہر کی صورتحال کی اطلاع مل گئی، وہ بچہ تھا۔ ایک بار تو جوش میں آگیا پھر گھبرا گیا۔ اس کے مشیروں نے اس کا حوصلہ بڑھایا اور اس سے حکم دلوایا کہ فوج باہر نکل کر سلطان ایوبی کو گھیرے میں لے لے اور ہتھیار ڈلوا کر سلطان ایوبی کو گرفتار کرلے۔ اس اثناء میں شہر کے لوگوں کو بھی پتا چل گیا کہ سلطان ایوبی فوج لے کر آیا ہے۔ نورالدین زنگی کی بیوہ حرکت میں آگئی۔ اس نے عورتوں کو جو زمین دوز جماعت بنا رکھی تھی، وہ بھی سرگرم ہوگئی۔ گھر گھر اطلاع پہنچ گئی کہ سلطان ایوبی آیا ہے۔ عورتیں باہر نکل آئیں اور ”خوش آمدید صلاح الدین ایوبی” کے نعرے لگانے لگیں۔ بعض نے پھول بھی اکٹھے کرلیے۔ مرد بھی نکل آئے۔ نعروں سے دمشق گونجنے لگا۔ خلیفہ کے حاشیہ برداروں کو شہریوں کا یہ رویہ پسند نہ آیا مگر شہریوں کا سیلاب شہر کے دروازے پر ٹوٹ پڑا تھا۔ لوگ شہر کی فصیل پر بھی چڑھ گئے تھے اور سلطان ایوبی کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔

خلیفہ اور اس کے حواریوں کو سب سے بڑی چوٹ یہ پڑی کہ انہیں یہ اطلاع ملی کہ فوج نے سلطان ایوبی کے مقابلے میں آنے سے انکار کردیا ہے۔ سپاہیوں تک تو حکم ہی نہیں پہنچا تھا۔ انکار کرنے والے سالار اور دیگر کمانڈر تھے۔ کمانڈروں میں کچھ ایسے تھے جو امراء کے پروردہ تھے۔ وہ اپنے دستوں کو تیاری کا حکم دینے لگے تو خلیفہ کے مخالف کمانڈروں نے انہیں خبردار کردیا کہ انہوں نے سلطان ایوبی کے خلاف ہتھیار اٹھائے تو انہیں گھوڑوں کے پیچھے باندھ کر شہر میں گھسیٹا جائے گا۔ تین چار کمانڈروں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکال لیں۔ معاملہ خون خرابے تک پہنچنے والا تھا کہ زنگی کی بیوہ آن پہنچی۔ یہ عورت پاگلوں کی طرح بھاگ دوڑ رہی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار تھی۔ گھوڑا بری طرح ہانپ رہا تھا۔ وہ دیکھنے آئی تھی کہ فوج کیا کررہی ہے۔ کہیں خانہ جنگی کی صورت تو پیدا نہیں ہوگئی؟ اس نے یہ منظر دیکھا کہ تین چار کمانڈر تلواریں نکالے ایک دوسرے کو للکار رہے تھے اور دوسرے بیچ بچائو کررہے تھے۔ ان میں توفیق جواد بھی تھا۔ زنگی کی بیوہ کو دیکھتے ہی وہ دوڑ کر اس تک گیا اور کہا… ”آپ یہاں کیا کررہی ہیں؟”

”یہاں کیا ہورہا ہے؟” اس عظیم مجاہدہ نے پوچھا… ”کیا فوج صلاح الدین ایوبی کے استقبال کے لیے جا رہی ہے یا مقابلے کے لیے؟”

زنگی کی بیوہ گھوڑے سے کود کر اتری اور ان کمانڈروں کے درمیان آگئی جو ایک دوسرے کو للکار رہے تھے۔ اس عورت نے اپنا سرنگا کردیا اور ان سے چلا کر کہا… ”بے غیرتو! پہلے اس سر کو تن سے جدا کرو، اپنی ماں کا سر اس مٹی میں پھینکو پھر کافروں کی حمایت میں لڑنا۔ تم ان بیٹیوں کو بھول گئے ہو جنہیں کافر اٹھا کر لے گئے تھے، تم اپنی ان بچیوں کو بھول گئے ہو جو کافروں کی درندگی سے مرچکی ہیں۔ تم کس کی حمایت میں ایک دوسرے کے خلاف تلواریں نکالے ہوئے ہو۔ میرے بیٹے کے وفادار کافر ہیں، آئو پہلے میری گردن اڑائو پھر ایوبی کے مقابلے میں جانا”۔

زنگی کی بیوہ کے آنسو بہہ رہے تھے، منہ سے جھاگ پھوٹ رہی تھی۔ کمانڈروں نے تلواریں نیاموں میں ڈال لیں اور سرجھکا کر ادھر ادھر ہوگئے۔

”کیا فوج نے حکم عدولی کی ہے؟” یہ خلیفہ کے ایک مشیر کی گھبرائی ہوئی آواز تھی جس نے خلیفہ کے دربار میں سناٹا طاری کردیا۔

”محافظوں کے دستے باہر نکالو”۔ ایک امیر نے غصے سے کہا۔ ”جم کر مقابلہ کرو”۔

تھوڑی ہی دیر بعد محافظوں کے دستے تیار ہوگئے۔ اس وقت شہریوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھ گیا تھا۔ عورتیں چلا رہی تھیں… ”دروازے کھول دو۔ ہماری عصمتوں کا پاسبان آیا ہے”۔ مرد نعرے لگا رہے تھے۔ محافظ دستوں کو آگے بڑھنے کا راستہ نہیں مل رہا تھا۔ اس وقت خلافت کا قاضی، کمال الدین سامنے آگیا۔ وہ خلیفہ کے دربار میں گیا۔ قاضی کی حیثیت سے سب سے اونچی اور قابل احترام سمجھی جاتی تھی۔ اس نے خلیفہ سے کہا کہ ”اگر اس نے صلاح الدین ایوبی کے مقابلے کے لیے اپنی فوج بھیجی تو شہری اس فوج پر ٹوٹ پڑیں گے۔ اس سے زیادہ تر نقصان شہریوں کا ہوگا۔ خانہ جنگی ہوگی۔ اپنے ہاتھوں اپنے بچوں اور عورتوں کو مروانے کے علاوہ سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ صلیبی فوج جو یہاں سے دور نہیں کسی مزاحمت کے بغیر اندر آجائے گی۔ پھر آپ رہیں گے نہ آپ کی خلافت۔ اینٹ سے اینٹ بج جائے گی۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ بھائی بھائی کے خلاف نہیں لڑ سکتا۔ ذرا باہر آکر لوگوں کی بیتابیاں دیکھیں۔ کیاآپ اس طوفان کو روک لیں گے؟”

Read More:  Billi by Salma Syed – Episode 16

”شہر کی چابی میرے حوالے کردیں”۔ قاضی کمال الدین نے کہا۔

چابی قاضی کے حوالے کردی گئی۔ اس نے اپنے ہاتھوں شہر کا دروازہ کھولا۔ شہریوں کا ہجوم رکے ہوئے سیلاب کی طرح باہر نکلا۔ قاضی کمال الدین نے چابی سلطان ایوبی کے حوالے کی۔ سلطان ایوبی نے دوزانو ہوکر قاضی کے ہاتھ چومے اور اس کے ساتھ شہر میں داخل ہوا اور جب نورالدین زنگی کی بیوہ سامنے آئی تو سلطان ایوبی کی سسکیاں نکل گئیں۔ زنگی کی بیوہ اس سے لپٹ گئی اور بچوں کی طرح بلبلانے لگی۔ اس کی ہچکیاں تھم نہیں رہی تھیں۔ سلطان ایوبی کے سواروں پر عورتوں نے پھول پھینکے، بلائیں لیں اور انہیں جلوس میں اندر لے گئیں۔

قلعے کی چابی بھی سلطان ایوبی کے حوالے کردی گئی۔ وہ سب سے پہلے اپنے گھر گیا۔ وہ دمشق کا رہنے والا تھا۔ بڑے جذباتی انداز سے اس پرانے سے مکان میں داخل ہوا، جہاں وہ پیدا ہوا تھا۔

٭ ٭ ٭

کچھ دیر آرام کرنے کے بعد اس نے فوج کے چھوٹے بڑے کمانڈروں کو اپنے مکان میں بلا لیا۔ ان کے ساتھ باتیں کرکے معلوم کیا کہ ان پر کس حد تک اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ فوج کی حالت اور کیفیت پوچھی اور اپنے احکام جاری کیے۔ اسی دوران اسے اطلاع ملی کہ خلیفہ اپنے وفادار مشیروں، وزیروں اور امیروں کے ساتھ لاپتہ ہوگیا ہے۔ فوج کے دو تین اعلیٰ حکام بھی اس کے ساتھ فرار ہوگئے تھے۔ سلطان ایوبی فوراً اٹھا اور فرار ہونے والوں کے گھروں پر چھاپے مروائے۔ یہ گھر دراصل محل تھے۔ بھاگنے والے اپنی جانیں بچا کر بھاگے تھے۔ ان کا مال ودولت پیچھے رہ گیا تھا۔ حرم کی عورتیں، رقاصائیں اور عیش وعشرت کا سارا سامان پیچھے رہ گیا تھا۔ سلطان ایوبی نے اس تمام دولت پر قبضہ کرکے اس میں سے کچھ بیت المال میں دے دیا اور زیادہ تر غریبوں اور اپاہجوں میں تقسیم کردیا۔

اس نے خلیفہ اور مفرور امراء وغیرہ کے تعاقب کی ضرورت محسوس نہ کی۔ اس نے مصر اور شام کی وحدت یعنی ایک سلطنت کا اعلان کردیا اور اپنے بھائی تقی الدین کو دمشق کا امیر )گورنر( مقرر کردیا۔ دوسرے حصوں کے نئے گورنر مقرر کیے اور اس سلطنت کے استحکام اور دفاک کے انتظامات میں مصروف ہوگیا مگر اس کی انٹیلی جنس کی رپورٹیں اسے بتا رہی تھیں کہ اس کے امراء جو الملک الصالح کے وفادار تھے، اسے چین سے نہیں بیٹھنے دیں گے۔ یورپی ممالک سے آئی ہوئی اطلاعات سے پتا چلا کہ صلیبی بہت بڑا لشکر تیار کررہے ہیں جس سے وہ عالم اسلام پر فیصلہ کن حملہ کریں گے۔ اس کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ اس کے اپنے امراء اسے شکست دینے کے لیے صلیبیوں کی راہ دیکھ رہے تھے۔ لہٰذا اس کے لیے ضروری تھا کہ پہلے ان باغیوں کو ٹھکانے لگائے۔ یہ معمولی سی مہم نہیں تھی۔ دمشق کی فوج کی اہلیت سے وہ واقف نہ تھا۔ اس نے فوری طور پر اس فوج کی ٹریننگ شروع کردی۔ اسے جہاں لڑنا تھا، وہ پہاڑی علاقہ تھا۔ موسم سرما میں ان پہاڑوں پر برف بھی پڑتی تھی اور موسم سرما آرہا تھا۔

قاہرہ اور دمشق میں اسے ایک فرق نمایاں طور پر نظر آرہا تھا۔ قاہرہ میں صلیبی اور سوڈانی جاسوسوں اور تخریب کاروں کے کئی خفیہ اڈے تھے اور وہاں کے لوگوں پر سلطان ایوبی کو پوری طرح بھروسہ نہیں تھا۔ دمشق میں صلیبی تخریب کار موجود تھے لیکن یہاں قوم کا بچہ بچہ اس کے ساتھ تھا بلکہ اس کے اشارے پر آگ میں کود جانے کو تیار تھا۔ اس لیے یہاں کے لوگوں کے متعلق یہ خطرہ بہت کم تھا کہ وہ دشمن کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے آلۂ کار بن جائیں گے۔ دمشق اور شام کے لوگوں نے نورالدین زنگی کے زمانے میں پروقار زندگی گزاری تھی۔ اس کی وفات کے فوراً بعد ان کا ذاتی وقار ختم ہوگیا تھا۔ نئے حکمرانوں نے انہیں رعایا بنا لیا تھا۔ امیر وزیر عیش وعشرت اور ذاتی سیاست بازیوں میں مصروف ہوگئے اور انتظامیہ کے حاکم لوگوں کے لیے وبال جان بن گئے تھے۔ قانون کا احترام ختم ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قحبہ خانے اور شراب خانے بھی کھل گئے تھے۔ چار پانچ مہینوں میں لوگوں کا جینا حرام ہوگیا تھا۔ اناج تک کی کمی ہوگئی تھی۔ لوگوں کو پتا چلا کہ اناج باہر جارہا ہے۔ امراء اور وزراء نے اناج درپردہ اپنے ہاتھ میں لے لیا تھا اور درپردہ باہر کہیں بھیج دیتے تھے۔ بازاروں میں ہر چیز کے بھائو چڑھ گئے اور لوگ تنگدستی محسوس کرنے لگے تھے۔

وہاں کے لوگ تنگدستی اور فاقہ کشی تک برداشت کرنے کو تیار تھے لیکن وہ قومی سطح سے گرنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرنے پر آمادہ نہیں ہوسکتے تھے۔ وہ محسوس کرنے لگے تھے کہ ان کے حکمران انہیں دشمن کی جھولی میں ڈال رہے ہیں۔ نورالدین زنگی کے دور حکومت میں جھونپڑیوں اور پھٹے پرانے خیموں میں رہنے والوں کو بھی معلوم ہوتا تھا کہ سرکاری سطح پر کیا ہورہا ہے۔ جنگ کی صورت میں وہ میدان جنگ کی صورتحال سے آگاہ ہوتے تھے۔ زنگی کے مرتے ہی لوگوں کو اچھوت قرار دے دیا گیا تھا۔ انہیں بتا دیا گیا تھا کہ حکومت کے امور کے متعلق کسی کو استفسار کی جرأت نہیں ہونی چاہیے۔ دو مسجدوں کے اماموں کو صرف اس لیے مسجدوں سے نکال دیا گیا تھا کہ وہ لوگوں کو غیرت اور حریت کا وعظ سنا رہے تھے۔ خلیفہ کے محل اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب آنا عوام کے لیے جرم قرار دے دیا گیا تھا۔ وہی لوگ جو نورالدین زنگی کو بھی راستے میں روک لیا کرتے اور محاذوں کی خبریں سنا کرتے تھے، اب معمولی سے سرکاری اہلکار کو بھی دیکھ کر ہٹ جایا کرتے تھے۔

لوگ گھٹن محسوس کرنے لگے تھے، جہاد کے نعرے بھی مرتے جارہے تھے۔ نعرے تو مرسکتے ہیں، جذبے اتنی جلدی نہیں مرا کرتے۔ لوگوں نے چوری چھپے مل بیٹھ کر سوچنا شروع کردیا تھا کہ وہ کیا کریں۔ نورالدین زنگی کی بیوہ نے عورتوں کی ایک جماعت بنا لی تھی۔ ان حالات اور اس گھٹن میں انہیں اطلاع ملی کہ صلاح الدین ایوبی آگیا ہے اور فوج ساتھ لایا ہے تو وہ استقبال کے لیے باہر نکل آئے اور جب انہیں پتا چلا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو اپنی فوج کے زور سے روکنا چاہتا ہے تو لوگ فوج پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔ خلیفہ کے محافظ دستوں کی انہوں نے بہت بے عزتی کی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ خلیفہ المالک الصالح اور اس کے حواری امیر چوروں کی طرح دمشق سے بھاگ گئے تھے… اور اب لوگ سلطان ایوبی پر جانیں فدا کرنے کو بیتاب تھے۔ لوگوں کی اس جذباتی کیفیت نے سلطان ایوبی کا کام آسان کردیا تھا۔

٭ ٭ ٭

عورتوں میں قومی جذبہ پہلے سے ہی تھا، اب یہ جذبہ دہکتے انگارے بن گیا۔ جواں سال لڑکیوں کا ایک وفد سلطان ایوبی کے پاس گیا اور یہ عرض داشت پیش کی کہ لڑکیوں کو محاذ پر فوج کے ساتھ بھیجا جائے اور انہیں عسکری تربیت دی جائے۔ وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کے علاوہ لڑنا بھی چاہتی تھیں۔ سلطان ایوبی نے ان کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا… ”مجھے جس روز تمہاری ضرورت پڑی، تمہیں گھروں سے نکال لوں گا۔ ابھی تمہارا محاذ گھر ہے۔ میں تمہیں گھروں کا قیدی نہیں بنانا چاہتا۔ اگر تم مائیں ہو تو بچوں کو مجاہد بنائو، اگر تم بہنیں ہو تو بھائیوں کو اسلام کے پاسبان بنائو۔ میں تمہاری عسکری تربیت کا بندوبست کروں گا مگر یہ نہ بھولنا کہ تمہیں گھروں کا نظام سنبھالنا ہے”… ایسی چند اور باتیں کرکے اسے جیسے کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے کہا… ”ایک محاذ اور ہے جس پر تم کام کرسکتی ہو۔ تم نے سنا ہوگا کہ ہم نے خلیفہ کے محل اور امیروں، وزیروں اور حاکموں کے گھروں سے بہت سی لڑکیاں برآمد کی ہیں۔ ان کی تعداد دو تین نہیں دو تین سو ہے۔ ہم نے انہیں آزاد کردیا تھا۔ وہ یہیں کہیں شہر میں یا گردونواح میں ہوں گی۔ معلوم نہیں کہ وہ کہاں کہاں کی رہنے والی تھیں اور اب کہاں کہاں خراب ہوتی پھر رہی ہیں۔ میں ان ذرا ذرا سے مسئلوں کی طرف توجہ نہیں دے سکتا۔ میرے سامنے بڑے بڑے اونچے پہاڑ کھڑے ہیں۔ میں یہ کام تمہارے سپرد کرتا ہوں کہ لڑکیوں کو تلاش کرو۔ ان میں بہت سی ایسی ہوں گی جنہیں خرید کر یا اغوا کرکے حرموں میں داخل کیا گیا ہوگا۔ اب ان کا مستقبل یہی ہے کہ وہ خفیہ قحبہ خانوں میں چلی جائیں گی۔ سرائے میں مسافروں کی خدمت کریں گی اور ذلیل وخوار ہوتی پھریں گی۔ ان کے ساتھ کوئی شادی نہیں کرے گا۔ انہیں ڈھونڈو اور ان میں کھوئی ہوئی عزت ازسرنو پیدا کرکے ان کی شادیوں کا انتظام کرو”۔

Read More:  Us Bazar Mein by Shorish kashmiri – Episode 10

لڑکیوں نے اس مہم کا آغاز کردیا۔انہوں نے اپنے گھروں کے مردوں کی مدد حاصل کرلی اور چند دنوں میں کئی ایک لڑکیاں برآمد کرکے انہیں اپنے گھروں میں رکھ کر ان کی تربیت شروع کردی۔ ان بدنصیب لڑکیوں میں سحر نام کی ایک لڑکی تھی جسے زبردستی رقاصہ بنایا گیا تھا۔ اسے ایک امیر کے گھر سے برآمد کرکے رہا کیا گیا تھا۔ اس نے ایک غریب سے گھرانے میں پناہ لے رکھی تھی۔ اتفاق سے لڑکیوں کو پتا چلا تو اسے وہاں سے لے آئیں۔ اس نے جب دیکھا کہ دمشق کی لڑکیاں باقاعدہ فوج کی طرح کام کرہی ہیں تو اس کی سوئی ہوئی غیرت بیدار ہوگئی اور اس میں جذبہ انتقام بھی پیدا ہوگیا۔ اس نے لڑکیوں کو بتایا کہ اس کے ساتھ ایک رقاصہ سرائے کے مالک کے پاس ہے۔ سحر سرائے کے مالک کو جانتی تھی۔ اس نے بتایا کہ یہ آدمی صلیبیوں کا جاسوس ہے اس نے ایک تہہ خانہ بنا رکھا ہے جہاں فدائی )حشیشین( اور صلیبی جاسوس راتوں کو جاتے ہیں۔ رقص ہوتا ہے اور شراب کے مٹکے خالی ہوتے ہیں۔ سحر کو بھی ایک رات وہاں لے جایا گیا تھا۔ اس نے کہا… ”میں ان جاسوسوں کو پکڑوا سکتی ہوں لیکن میں انہیں پکڑوانا نہیں چاہتی۔ سرائے کے مالک کو ان کے ساتھ اپنے ہاتھوں قتل کرنا چاہتی ہوں مگر یہ کام میں اکیلی نہیں کرسکتی۔ تم میرا ساتھ دو”۔

لڑکیاں تیار ہوگئیں۔ انہوں نے ایک منصوبہ تیار کرلیا۔ اس کے مطابق ایک شام سحر پردے میں سرائے کے مالک کے پاس چلی گئی۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوا۔ سحر نے کہا… ”میں فوراً تمہارے پاس پہنچ جاتی لیکن شہر میں پکڑ دھکڑ ہورہی تھی۔ مجھے ڈر تھا کہ میں تمہارے پاس آئی تو تم بھی پکڑے جائو گے۔ میں ایک غریب سے گھرانے میں یتیم لڑکی بن کر چھپی رہی۔ اب حالات صاف ہوگئے ہیں۔ تم پر کسی نے شک نہیں کیا، اس لیے تمہارے پاس آگئی ہوں”۔

سرائے کا مالک اسے اپنی رقاصہ کے پاس لے گیا۔ وہ بھی بہت خوش ہوئی۔ اس شام کے بعد وہ چند راتیں وہیں رہی۔ اس نے دیکھا کہ خلیفہ اور عیاش امراء کے چلے جانے اور سلطان ایوبی کے اتنے سخت احکام کے باوجود سرائے کے تہہ خانے میں رونق وہی تھی۔ اس میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ مسافر اپنے کمروں میں سو جاتے تھے تو تہہ خانے کی دنیا آباد ہو جاتی تھی۔ وہاں اب بھی صلیبی جاسوس اور فدائی آتے تھے۔ سحر ان کا دل لبھاتی رہی اور راتوں کو ناچتی اور انہیں شراب پلاتی رہی۔ یہ لوگ مسافروں کے بہروپ میں سرائے میں آتے تھے۔ سحر نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ رات کو سرائے کے باہر پہرے کا انتظام بھی ہوتا ہے تاکہ کوئی خطرہ نظر آئے تو تہہ خانے تک قبل از وقت اطلاع پہنچا دی جائے۔ سحر کو وہاں قید کرلیا گیا تھا۔ وہ اکیلی باہر نہیں جاسکتی تھی۔ وہ دل پر پتھر رکھ کر وہاں ناچتی رہی۔ وہ مایوس ہوگئی تھی کہ وہ انتقام لینے آئی تھی مگر قید ہوگئی۔ اس نے کسی پر اپنی مایوسی کا اظہار نہ ہونے دیا۔ اس سے یہ فائدہ ہوا کہ وہ لوگ اس پر اعتبار کرنے لگے۔ بعض راز کی باتیں بھی اس کے سامنے کرگزرتے تھے۔

ایک راتہ تہہ خانے کی محفل میں ایک صلیبی جاسوس نے سرائے کے مالک سے کہا… ”ہم ان دو لڑکیوں سے اکتا گئے ہیں، کوئی نئی چیز لائو”۔

سحر اور دوسری رقاصہ بھی وہیں تھی۔ دوسری رقاصہ کو تو افسوس ہوا ہوگا، سحر کو امید کی ایک کرن نظر آگئی۔ سرائے کے مالک نے کہا کہ ”صلاح الدین ایوبی نے ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ ا ب دمشق میں کوئی رقاصہ یا کوئی نئی چیز نہیں مل سکے گی”۔

”مل کیوں نہیں سکے گی؟” سحر نے کہا… ”جن ناچنے گانے والیوں کو امیروں کے گھروں سے پکڑ کر آزاد کردیا گیا تھا، وہ ابھی یہیں ہیں۔ میری طرح وہ بھی چھپی ہوئی ہیں اگر تم لوگ مجھے دو تین روز کے لیے باہر جانے دو تو میں انہیں پردہ دار خواتین کے بھیس میں یہاں لے آئوں گی”۔

سحر کو اس وقت تک قابل اعتماد سمجھ لیا گیا تھا۔ انہوں نے اسے اجازت دے دی اور کچھ رقم بھی دے دی۔ صبح ہوئی تو سحر پردے میں باہر نکل گئی۔

٭ ٭ ٭

چار پانچ روز بعد سرائے کے چور دروازے سے آٹھ مستورات داخل ہوئیں اور سرائے کے مالک کے کمرے میں چلی گئیں۔ مستورات نے برقعہ نما لبادے اوڑھ رکھے تھے جن میں ان کے چہرے چھپے ہوئے تھے۔ کمرے میں آکر سب نے نقاب اٹھا دئیے۔ سرائے کے مالک نے آنکھیں مل کر انہیں دیکھا۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب جوان لڑکیاں تھیں اور ایک سے ایک بڑھ کر خوبصورت۔ ان کے ساتھ سحر تھی۔ اس نے بتایا کہ ان میں سے کون کس کے پاس تھی اور یہ بھی بتایا کہ رقص دیکھ کر اور گانا سن کر تم پر مدہوشی طاری ہوجائے گی۔ اس نے کہا… ”آج رات اپنے تمام دوستوں کو تہہ خانے میں بلائو”۔

سرائے کا مالک پاگلوں کی طرح اٹھ دوڑا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو رات تہہ خانے میں آنے کو کہنے گیا تھا۔ سحر لڑکیوں کو دوسری رقاصہ کے پاس لے گئی۔ وہ رقاصہ انہیں دیکھ کر حیران ہوئی کہ وہ ان میں سے کسی کو بھی نہیں جانتی تھیں۔ اس رقاصہ نے ایک لڑکی کے ساتھ اپنی مخصوص اصطلاحوں میں بات کی تو وہ لڑکی ذرا جھینپ گئی۔ سحر نے اسے کہا… ”یہ ڈری ہوئی ہیں، میں انہیں زمین کے نیچے سے نکال کر لائی ہوں۔ رات کو ان کا فن دیکھ کر تم سمجھ جائو گی کہ یہ کون ہیں اور کہاں سے آئی ہیں”۔

وہ رقاصہ مطمئن نہ ہوئی۔ اسے کچھ شک ہوتا یا نہ ہوتا، اسے یہ افسوس ضرور تھا کہ ان لڑکیوں کے سامنے اس کی قدروقیمت ختم ہوگئی ہے۔ اس نے سحر کو اپنے کمرے میں لے جا کر کہا… ”معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ یہ نئی لڑکیاں ہیں اور خوبصورت بھی۔ ان کے مقابلے میں ہم دونوں بہت ہی پرانی نظر آئیں گی۔ ہماری قیمت اتنی گر جائے گی کہ یہ لوگ ہمیں پرانے سامان کی طرح اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ تم انہیں کہاں سے لے آئی ہو؟ کیوں لے آئی ہو تم نے بہت بڑی غلطی کی ہے”۔

Read More:  Bhayanak Aadmi by Ibne Safi – Last Episode 8

”میں دراصل اپنی مشقت کم کرنا چاہتی ہوں”۔ سحر نے جواب دیا… ”ان کے آجانے سے ہم دونوں کا کام کم ہوجائے گا”۔

دوسری رقاصہ اس کی یہ دلیل نہیں مان رہی تھی۔ سحر کے پاس اور کوئی دلیل نہیں تھی جس سے وہ اسے مطمئن کرتی۔ دونوں میں تکرار ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں آگئی اور بولی… ”میں سرائے کے مالک سے کہوں گی کہ یہ لڑکیاں ناچنے والی نہیں، یہ عصمت فروش لڑکیاں ہیں جنہیں اس نازک جگہ نہیں آنا چاہیے، کیونکہ یہ تہہ خانے کے راز کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں۔ ان نوجوان لڑکیوں کا کیا بھروسہ؟”… یہ رقاصہ بہت تجربہ کار اور چالاک تھی۔ اس نے سحر کی زبان بند کردی پھر بھی سحر اس کی بات نہیں مان رہی تھی۔ اس رقاصہ نے آخر یہ دھمکی دی… ”اگر تم انہیں یہاں سے چلتا نہیں کرو گی تو میں یہاں آنے والوں کو یہ کہہ کر یہاں آنے سے روک دوں گی کہ تم انہیں گرفتار کرانے کے لیے ان لڑکیوں کا جال پھیلا رہی ہو”۔

سحر پریشان ہوگئی۔ دوسری رقاصہ غصے میں باہر جانے کو اٹھی اور دروازے کی طرف چلی۔ سحر نے بڑی پھرتی سے اپنی قمیض کے نیچے ہاتھ ڈالا اور کمر بند سے خنجر نکال کر دوسری رقاصہ کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ وہ زخم کھا کر گھومی تو سحر نے خنجر اس کے دل میں اتار دیا اور دانت پیس کر کہا… ”میں تجھے قتل نہیں کرنا چاہتی تھی۔ بدبخت تجھے بھی میرے ہی ہاتھوں مرنا تھا”… اس نے اسی کے کپڑوں سے خنجر صاف کیا۔ رقاصہ کی لاش پر اس کے پلنگ سے بستر اٹھا کر پھینک دیا اور دروازہ باہر سے بند کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اپنے خون آلود کپڑے بدلے اور خنجر کمربند میں اڑس کر قمیض کے نیچے چھپا دیا۔

٭ ٭ ٭

رات سرائے کے مالک کے علاوہ چھ آدمی تہہ خانے کے اس کمرے میں آئے جہاں رقص اور شراب کا دور چلا کرتا تھا۔ سرائے کے مالک نے سحر سے دوسری رقاصہ کے متعلق پوچھا تو سحر نے نفرت کے لہجے میں کہا… ”وہ ان لڑکیوں کو دیکھ کر جل بھن گئی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ان سب سے زیادہ حسین سمجھتی ہے۔ آج رات وہ یہاں نہ ہی آئے تو اچھا ہے، محفل کے رنگ میں بھنگ ڈالے گی”۔

”لعنت بھیجو!” سرائے کے مالک نے کہا… ”کل اس سے نمٹ لوں گا۔ اسے پڑی رہنے دو، اپنے کمرے میں”۔

سحر نے ان چھ آدمیوں سے کہا… ”ان لڑکیوں کے پاس اچھے کپڑے نہیں ہیں۔ ان کا لباس تم سب کے ذمے ہیں۔ آج رات وہ جن کپڑوں میں ہیں، انہی میں تمہارے سامنے آئیں گی”۔

انہوںنے جب لڑکیوں کو دیکھا تو بھول گئے کہ انہوں نے کیسے کپڑے پہن رکھے ہیں۔ لڑکیاں چہروں سے پیشہ ور ناچنے والیاں لگتی ہی نہیں تھیں۔ ان کے چہرے تروتازہ اور معصوم سے تھے۔ ان کے بالوں کو بھی نہیں سجایا گیا تھا۔ ان کی کوئی حرکت ظاہر نہیں کرتی تھی کہ یہ پیشہ ور ہیں۔ ان کا انداز سیدھا سادا سا تھا۔ سحر نے انہیں کہا کہ اپنے مہمانوں کو شراب پیش کرو۔ وہ جب صراحیوں سے پیالوں میں شراب انڈیلنے لگیں تو ایک آدمی نے ایک لڑکی کو چھیڑا۔ لڑکی بدک کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس کا چہرہ لال سرخ ہوگیا۔

”سحر!” اس آدمی نے کہا… ”انہیں کہاں سے لائی ہو؟ یہ کس کے پاس تھیں؟”

سحر نے قہقہہ لگایا اور بولی… ”اپنا فن بھول گئی ہیں۔ یہ صلاح الدین ایوبی کا خوف ہے جو ان سب پر طاری ہے۔ ابھی کھل جائیں گی”۔

”صلاح الدین ایوبی!” ایک نے طنزیہ کہا… ”ہمارے جال میں وہ اب آیا ہے۔ ہم اسے اسی کے امیروں اور سالاروں سے مروائیں گے”… اس نے اپنے ایک ساتھی کے کندھے پر ہاتھ مار کر کہا… ”اس کا خنجر صلاح الدین ایوبی کے خون کا پیاسا ہے۔ جانتی ہونا اسے؟ یہ حسن بن صباح کی امت سے ہے۔ فدائی!” اس نے ایک لڑکی کے گال پر ہلکی سی تھپکی دے کر کہا… ”ایوبی کا خوف دل سے اتار دو۔ وہ چند دنوں کا مہمان ہے”۔

تھوڑی سی دیر بعد شراب رنگ دکھانے لگی اوررقص کی فرمائش ہوئی۔ لڑکیاں صراحیوں اور پیالوں کو ادھر ادھر

کرتی اور بھرتی ان چھ آدمیوں کے پیچھے ہوگئیں۔ اچانک سب نے قمیضوں کے نیچے ہاتھ ڈالے، خنجر نکالے، سحر نے بھی خنجر نکال لیا تھا۔ اس نے سرائے کے مالک پر وار کیا اور دوسریوں نے چھ آدمیوں کو پے در پے وار کرکے لڑھکا دیا۔ کسی کو بھی سنبھلنے کی مہلت نہ ملی۔ سحر ہر ایک پر وار پہ وار کیے جارہی تھی، جیسے پاگل ہوگئی ہو۔ اس نے انتقام لے لیا۔

یہ لڑکیاں شریف گھرانوں کی بیٹیاں تھیں جو سلطان ایوبی کے پاس عرض داشت لے کر گئی تھیں کہ وہ مردوں کے دوش بدوش لڑنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے ہی سحر کو ایک غریب گھرانے سے برآمد کیا تھا۔ اس نے جب لڑکیوں کو جنگی پیمانے پر کام کرتے دیکھا تو اسے سرائے کے مالک کا خیال آگیا تھا۔ اس نے لڑکیوں کو بتا دیا تھا کہ سرائے کا تہہ خانہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کا اڈا ہے۔ ان لڑکیوں کی مدد سے وہ انہیں پکڑوانا چاہتی تھی مگر وہاں گئی تو سرائے کے مالک نے اس کا باہر نکلنا بند کردیا۔ جاسوسوں کی اس فرمائش پر کہ نئی لڑکیاں لائو، اسے موقع مل گیا۔ اسے نئی لڑکیاں لانے کی اجازت مل گئی۔ اس نے ان لڑکیوں سے ذکر کیا اور کہا کہ وہ نئی لڑکیاں بن کر چلیں اور ان آدمیوں کو ختم کیا جائے۔ لڑکیاں تیار ہوگئیں، انہوں نے سکیم بنائی اور اس کے ساتھ چلی گئیں۔ انہوں نے یہ سوچا ہی نہیں کہ ان آدمیوں کو اپنے جال میں پھانس کر گرفتار کرایا جائے۔ اگر انہیں گرفتار کرایا جاتا تو ان سے بڑی قیمتی معلومات حاصل کی جاسکتی تھی اور ان سے نشاندہی کروا کے ان کے کئی اور ساتھی پکڑائے جاسکتے تھے مگر لڑکیاں جوشیلی اور جذباتی تھیں۔ وہ اتنا ہی جانتی تھیں کہ دشمن کو ہلاک کیا جاتا ہے۔ وہ جذبۂ جہاد کی تسکین کرنا چاہتی تھیں اور سحر کا سینہ جذبۂ انتقام سے پھٹ رہا تھا۔ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کرنے کو بیتاب تھی۔ اس نے دوسری رقاصہ کو اسی لیے قتل کیا تھا کہ ان لڑکیوں کی اصلیت بے نقاب ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ ان کی اصلیت تو بے نقاب ہو ہی چلی تھی۔ انہیں اس قسم کی غلیظ محفل کے طور طریقوں اور شراب پلانے کے انداز سے واقفیت ہی نہیں تھی۔ انہوں نے بروقت خنجر نکال لیے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئیں۔

وہ سب چور دروازے سے نکلیں اور اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئیں۔ ان کی رپورٹ پر کچھ دیر بعد فوج نے سرائے پر چھاپہ مارا اور تہہ خانے میں گئے، وہاں لاشیں پڑی تھیں۔ تہہ خانے کے کمروں کی تلاشی لی گئی۔ ایک کمرے سے دوسری رقاصہ کی لاش برآمد ہوئی اور سرائے کے مالک کے کمرے سے کئی ایک ثبوت ملے کہ یہ لوگ جاسوس اور تخریب کار تھے… مگر آنے والا وقت سلطان صلاح الدین ایوبی اور سلطنت اسلامیہ کے لیے تاریخ کے سب سے بڑے خطرے لارہا تھا اور سلطان ایوبی دن رات جنگی منصوبہ بندی اور فوج کی ٹریننگ میں مصروف رہتا تھا۔

٭ ٭ ٭

ختم شدہ جلد دوم

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: