Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 2

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 2

–**–**–

ساتویں لڑکی

،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،­،،،،،،،،،،

صلیبیوں کے بحری بیڑے اور افواج کو بحیرئہ روم میں غرق کرکے صلا ح الدین ایوبی ابھی مصر کے ساحلی علاقے میں ہی موجود تھا ۔ سا ت دن گزر گئے تھے ۔ صلیبیوں سے تاوان وصول کیا جا چکا تھا ، مگر بحیرئہ روم میں ابھی تک بچے کھچے بحری جہازوں کو ، کشتیوں کو نگل اور انسانوں کو اُگل رہا تھا۔ صلیبی ملاح اور سپاہ جلتے جہازوں سے سمندر میں کود گئے تھے ۔ دور سمندر کے وسط میں سات روز بعد بھی چند ایک جہازوں کے بادبان پھڑپھڑاتے نظر آتے تھے ۔ ان میں کو ئی انسان نہیں تھا ۔ پھٹے ہوئے بادبانوں نے جہازوں کو سمندر کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا ۔ صلا ح الدین ایوبی نے اِن کی تلاشی کیلئے کشتیاں روانہ کر دی تھیں اور ہدایت دی تھی کہ اگر کوئی جہار یا کشتی کام کی ہو تو وہ رسوں سے گھسیٹ لائیں اور جو اس قابل نہ ہوں، اِن میں سے سامان اور کام کی دیگر چیزیں نکال لائیں ۔ کشتیاں چلی گئی تھیں اور جہازوں سے سامان لا یا جا رہا تھا۔ ان میں زیادہ تر اسلحہ اور کھانے پینے کا سامان تھا یا لاشیں ۔

سمندر میں لاشوں کا یہ عالم تھا کہ لہریں نہیں اُٹھا اُٹھا کر ساحل پر پٹخ رہی تھیں ۔ ان میں کچھ تو جلی ہوئی تھیں اور کچھ مچھلیوں کی کھائی ہوئی۔ بہت سی ایسی تھیں جن میں تیر پیوست تھے۔ صلا ح الدین ایوبی نے صلیبیوں کے تیروں، نیزوں ، تلواروں اور دیگر اسلحہ کا معائنہ بڑی غور سے کیا تھا اور انہیں اپنے اسلحہ کے ساتھ رکھ کر مضبوطی اور مار کامقابلہ کیا تھا زندہ لوگ بھی تختوں اور ٹوٹی ہوئی کشتیوں پر تیرتے ابھی سمندر سے باہر آرہے تھے ۔ ان بھوکے ، پیاسے ، تھکے اور ہارے ہوئے لوگوں کو لہریں جہاں کہیں ساحل پر لا پھینکتی تھیں ، وہ ہیں نڈھال ہو کر گر پڑتے اور مسلمان انہیں پکڑ لاتے تھے ۔ ساحل کی میلوں لمبائی میں یہی عالم تھا ۔ صلا ح الدین ایوبی نے اپنی سپاہ کو مصر کے سارے ساحل پر پھیلا دیا تھا اور انتظام کیا تھا کہ جہاں بھی کوئی قیدی سمندر سے نکلے ، اسے وہیں خشک کپڑے اورخوراک دی جائے اور جو زخمی ہوں ان کی مرہم پٹی بھی وہیں کی جائے ۔ اس اہتمام کے بعد قیدیوں کو ایک جگہ جمعہ کیا جا رہا تھا ۔

صلا ح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ساحلی علاقے میں گھوم پھر رہا تھا ۔ وہ اپنے خیمے سے کوئی دو میل دور نکل گیا تھا ۔ آگے چٹانی علاقہ آ گیا ۔ چٹانوں کی ایک سمت اور عقت میں صحرا تھا ۔ یہ سر سبز صحرا تھا جہاں کھجور کے علاوہ دوسری اقسام کے صحرائی درخت اور جھاڑیاں تھیں ۔ صلا ح الدین ایوبی گھوڑے سے اُترا اور پیدل چٹانوں کے دامن میں چل پڑا ۔ محافظ دستے کے چار سوار اس کے ساتھ تھے ۔ اس نے اپنا گھوڑا محافظوں کے حوالے کیا اور انہیں وہیں ٹھہرنے کو کہا۔اس کے ساتھ تین سالار تھے ۔ ان میں اس کا رفیقِ خاص بہائو الدین شداد بھی تھا ۔وہ اس معرکے سے ایک ہی روز پہلے عرب سے اس کے پاس آیا تھا ۔انہوں نے بھی گھوڑے محافظوں کے حوالے کیے اور سلطان کے ساتھ ساتھ چلنے لگے ۔ موسم سرد تھا ۔ سمندر میں تلاطم نہیں تھا ۔ لہریں آتی تھیں اور چٹانوں سے دور ہی سے واپس چلی جاتی تھیں ۔ ایوبی ٹہلتے ٹہلتے دُور نکل گیا اور محافظ دستے کی نظروں سے اوجھل ہو گیا ۔ اس کے آگے ، پیچھے اور بائیں طرف اونچی نیچی چٹانیں اور دائیں طرف ساحل کی ریت تھی۔ وہ ایک چٹان پر کھڑا ہوگیا ، جس کی بلندی دو اڑھائی گز تھی ۔ اس نے بحیرئہ روم کی طرف دیکھا ۔ یو ں معلوم ہوتا تھا جیسے سمندر کی نیلاہٹ سلطان ایوبی کی آنکھوں میں اُتر آئی ہو ۔ اس کے چہرے پر فتح و نصرت کے مسرت تھی اور اس کی گردن کچھ زیادہ ہی تن گئی تھی ۔

اس نے ناک سکیڑ کر کپڑا ناک پر رکھ لیا ۔ بولا ” کس قدر تغفن ہے ” …………اس کی اور سالاروں کی نظریں ساحل پر گھومنے لگیں ۔ پھڑپھڑانے کی آواز سنائی دیں۔پھر ہلکی ہلکی چیخیں اور سیٹیاں سنائی دیں ۔ اوپر سے تین چار گدھ پر پھیلائے اُترتے دکھا ئی دئیے اور چٹان کی اوٹ میں جدھر ساحل تھا ، اُترتے گئے ۔ ایوبی نے کہا ………………..­ ” لاشیں ہیں” ……………. اُدھر گیا تو پندرہ بیس گز دور گدھ تین لاشوں کو کھا رہے تھے ، ایک گدھ ایک انسانی کھوپڑی پنجوں میں دبوچ کر اُڑا اور جب فضا میں چکر کاٹا تو کھوپڑی اس کے پنجوں سے چھوٹ گئی اور صلا ح الدین ایوبی کے سامنے آن گری۔ کھوپڑی کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں جیسے صلا ح الدین ایوبی کو دیکھ رہی ہوں ۔ چہرے اور بالوں سے صاف پتہ چلتا تھا کہ کسی صلیبی کی کھوپڑی ہے۔ ایوبی کچھ دیر کھوپڑی کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے اپنے سالاروں کی طرف دیکھا اور کہا …………… ”ان لوگوں کو کھوپڑی مسلمانوں کی کھوپڑیوں سے بہتر ہیں ۔ یہ ان کھوپڑیوں کا کمال ہے کہ ہماری خلافت عورت اور شراب کی ندر ہوتی جا رہی ہے ”۔

”صلیبی چوہوں کی طرح سلطنتِ اسلامیہ کو ہڑپ کرتے چلے جارہے ہیں ” ۔ ایک سالا ر نے کہا ۔

” اور ہمارے بادشاہ انہیں جزیہ دے رہے ہیں ” ………..شداد نے کہا ………. ” فلسطین پر صلیبی قابض ہیں ۔

سلطان! کیا ہم اُمید رکھ سکتے ہیں کہ ہم فلسطین سے انہیں نکا ل سکیں گے ”۔

” خدا کی ذات سے مایوس نہ ہو شداد ” ………… صلا ح الدین ایوبی نے کہا ۔

” ہم اپنے بھائیوں کی ذات سے مایوس ہو چکے ہیں ” ………… ایک اور سالار بولا ۔

” تم ٹھیک کہتے ہو ” ……… سلطان ایوبی نے کہا ……… ” حملہ جو باہر سے ہوتا ہے ، اسے ہم روک سکتے ہیں ۔ کیا تم میں سے کوئی سوچ بھی سکتاتھا کہ کفار کے اتنے بڑے بحری بیڑے کو تم اتنی تھوڑی طاقت سے نذرِ آتش کرکے ڈبو سکو گے ؟تم نے شاید اندازہ نہیں کیا کہ اس بیڑے میں جو لشکر آرہا تھا ، وہ سارے مصر پر مکھیوں کی طرح چھا جاتا ۔ اللہ نے ہمیں ہمت دی اور ہم نے کھلے میدان میں نہیں بلکہ صرف گھات لگا کر اس لشکر کو سمندر کی تہہ میں گم کر دیا ، مگر میرے دوستو ! حملہ جو اندر سے ہوتا ہے اسے تم اتنی آسانی سے نہیں روک سکتے ۔ جب تمہارا اپنا بھائی تم پر وار کرے گا تو تم پہلے یہ سوچو گے کہ کیا تم پر واقعی بھائی نے وار کیاہے ؟تمہارے بازو میں اسکے خلاف تلوار اُٹھانے کی طاقت نہیں ہوگی ۔ اگر تلوار اُٹھائو گے اور اپنے بھائی سے تیغ آزمائی کرو گے تو دشمن موقع غنیمت جان کر دونوں کو ختم کر دے گا ”۔

وہ آہستہ آہستہ ساحل پر چٹان کے ساتھ ساتھ جا رہا تھا ۔ چلتے چلتے رُک گیا۔ جھک کر ریت سے کچھ اُٹھایا اور ہتھیلی پر رکھ کر سب کو دکھایا ۔ یہ ہتھیلی جتنی بڑی صلیب تھی جو سیاہ لکڑی کی بنی ہوئی تھی ۔ اُس کے ساتھ ایک مضبوط دھاگہ تھا ۔ اُس نے ان لاشوں کے بکھرے ہوئے اعضاء کو دیکھا ، جنہیں گدھ کھا رہے تھے ۔ پھر کھوپڑی کو دیکھا جو گدھ کے پنجوں سے اُس کے سامنے گری تھی ۔ وہ تیز تیز قدم اُٹھاتا کھوپڑ ی تک گیا ۔ تین گدھ کھوپڑی کی ملکیت پر لڑ رہے تھے ۔ صلا ح الدین ایوبی کو دیکھ کر پرے چلے گئے ۔ سلطان ایوبی نے صلیب کھوپڑی پر رکھ دی اور دوڑ کر اپنے سالاروں سے جا ملا ۔ کہنے لگا ……..” میں نے صلیبیوں کے ایک قیدی افسر سے باتیں کی تھیں۔ اس کے گلے میں بھی صلیب تھی ۔ اس نے بتایا کہ صلیبی لشکر میں جو بھی بھرتی ہوتا ہے اس سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف لیا جاتا ہے کہ وہ صلیب کے نام پر جان کی بازی لگا کر لڑے گا اور وہ روئے زمین سے آخری مسلمان کو بھی ختم کر کے دم لے گا ۔ اس حلف کے بعد ہر لشکری کے گلے میں صلیب لٹکا دی جاتی ہے ۔ یہ صلیب مجھے ریت سے ملی ہے۔ معلوم نہیں کس کی تھی ۔ میں نے اس کھوپڑی پر رکھ دی ہے تا کہ اس کی روح صلیب کے بغیر نہ رہے ۔ اس نے صلیب کی خاطر جان دی ہے۔ سپاہی کو سپاہی کے حلف کا احترام کرنا چاہیے ”۔

”سلطان !” …… شداد نے کہا …… ” یہ تو آ پ کو معلوم ہے کہ صلیبی یروشلم کے مسلمان باشندوں کا کتنا کچھ احترام کررہے ہیں ۔ وہاں سے مسلمان بیوی بچوں کو ساتھ لے کر بھاگ رہے ہیں۔ہماری بیٹیوں کی آبرو لوٹی جا رہی ہے ۔ ہمارے قیدیوں کو انہوں نے ابھی تک نہیں چھوڑا ۔ مسلمان جانوروں کی سی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ کیا ہم ان عیسائیوں سے انتقام نہیں لیں گے ؟

”انتقام نہیں ”………… صلاح الدین ایوبی نے کہا……… ” ہم فلسطین لیں گے مگر فلسطین کے راستے میں ہمارے اپنے حکمران حائل ہیں ”….. وہ چلتے چلتے رُک گیا اور بولا ……. ” کفار نے صلیب پر ہاتھ رکھ کر سلطنتِ اسلامیہ کے خاتمے کا حلف اُٹھایا ہے ۔ میں نے اپنے اللہ کے حضور کھڑے ہو کر اور ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر قسم کھائی ہے کہ فلسطین ضرور لوں گا اور سلطنتِ اسلامیہ کی سرحدیں اُفق تک لے جائوں گا مگر میرے رفیقو! مجھے اپنی تاریخ کا مستقبل کچھ روشن نظر نہیں آتا ۔ ایک وقت تھا کہ عیسائی بادشاہ تھے اورہم جنگجو۔ اب ہمارے بزرگ بادشاہ بنتے جارہے ہیں اور عیسائی جنگجو۔ دونوں قوموں کا رحجان دیکھ کر میں کہہ رہا ہوں کہ ایک وقت آئے گا جب مسلمان بادشاہ بن جائیں گے ، مگر عیسائی ان پرحکومت کریں گے ۔ مسلمان سی میں بد مست رہیں گے کہ ہم بادشاہ ہیں ، آزاد ہیں مگر وہ آزاد نہیں ہوں گے ۔ میں فلسطین لے لوں گا مگر مسلمانوں کا رحجان بتا رہا ہے کہ وہ فلسطین گنوا بیٹھیں گے ۔ عیسائیوں کی کھوپڑی بڑی تیز ہے ….. پچاس ہزار سوڈانی لشکر کون پال رہا تھا ! ہماری خلافت اپنی آستین میں ناجی نام کا سانپ پالتی رہی ہے ۔ میں پہلا امیر مصر ہوں جس نے دیکھا ہے کہ یہ لشکر ہمارے لیے نہ صرف بیکار ہے ، بلکہ خطرناک بھی ہے ۔ اگر ناجی جاخط پکڑا نہ جاتا تو آج ہم سب اس لشکر کے ہاتھوں مارے جا چکے ہوتے یااس کے قیدی ہوتے ……..”

اچانک ہلکا سا زناٹہ سنائی دیا اور ایک تیر صلاح الدین ایوبی کے دونوں پائوں کے درمیان ریت میں لگا ۔جدھر سے تیر آیاتھا ، اِس طرف سلطان ایوبی کی پیٹھ تھی………

.سالاروں میں سے بھی کوئی اُدھر نہیں دیکھ رہا تھا ۔ سب نے بِدک کر اس طرف دیکھا ، جدھر سے تیر آیاتھا ۔ اُدھر نوکیلی چٹانیں تھیں ۔تینوں سالار اور صلاح الدین ایوبی دوڑ کر ایک ایسی چٹان کی اوٹ میں ہوگئے جو دیوار کی طرح عمودی تھی ۔ انہیں توقع تھی کہ اور بھی تیر آئیں گے ۔ تیروںکے سامنے میدان میں کھڑے رہنا کوئی بہادری نہیں تھی ۔ شداد نے منہ میں انگلیاں رکھ کر زور سے سیٹی بجائی ۔ محافظ دستہ پابر کاب تھا ۔ان کے گھوڑوں کے سرپٹ ٹاپو سنائی دئیے ۔ اس کے ساتھ ہی تینوں سالار اس طرف دوڑ پڑے جس طرف سے تیر آیاتھا۔ وہ بکھر کر چٹانوں پر چڑھ گئے ۔ چٹانیں زیادہ اونچی نہیں تھیں ۔ صلاح الدین ایوبی بھی ان کے پیچھے گیا۔ ایک سالار نے اسے دیکھ لیا اور کہا ……. ” سلطان ! آپ سامنے نہ آئیں ” مگر سلطان ایوبی رُکا نہیں ۔

محافظ پہنچ گئے ۔ صلاح الدین ایوبی نے انہیں کہا ……….. ”ہمارے گھوڑے یہیں چھوڑدو اور چٹانوں کے پیچھے جائو ۔اُدھر سے ایک تیر آیا ہے، جو کوئی نظر آئے اسے پکڑلائو ”۔

سلطان ایوبی چٹان کے اوپر گیاتو اُسے انچی نیچی چٹانیں دُور دُور تک پھیلی ہوئی نظر آئیں ۔ وہ اپنے سالاروں کو ساتھ لیے پچھلی طرف اُتر گیا اور ہر طرف گھوم پھر کر اور چٹانوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ کسی انسان کا نشان تک نظر نہ آیا ۔ محافظ چٹانی علاقے کے اندر ، اوپر اور اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑارہے تھے ۔ صلاح الدین ایوبی نیچے اُتر کے وہاں گیا جہاں ریت میں تیر گڑھا ہو تھا ۔ اس نے اپنے رفیقوں کو بلایا اور تیر پر ہاتھ مارا، تیر گر پڑا ۔ سلطان ایوبی نے کہا …….. ” دُور سے آیا ہے اس لیے پائوں میں لگا ہے ، ورنہ گردن یا پیٹھ میں لگتا ۔ ریت میں بھی زیادہ نہیں اُترا ” … اس نے تیر اُٹھا کر دیکھا اور کہا … ” صلیبیوں کا ہے ، حشیشین کا نہیں ”۔

”سلطان کی جان خطرے میں ہے ” ……… ایک سالا ر نے کہا ۔

” اور ہمیشہ خطرے میں رہے گی ”………… صلاح الدین ایوبی نے ہنس کر کہا …… ..”میں بحیرئہ روم میں کفار کی وہ کشتیاں دیکھنے نکلا تھا جو ملاحوں کے بغیر ڈول رہی ہیں ، مگر میرے عزیز دوستو! کبھی نہ سمجھنا کہ صلیبیوں کی کشتی ڈول رہی ہے ، وہ پھر آئیں گے ۔ گھٹائوں کی طرح گرجتے آئیں گے اور برسیں گے بھی ، لیکن وہ زمین کے نیجے سے اور پیٹھ کے پیچھے سے بھی وار کریں گے ۔ ہمیں اب صلیبیوں سے ایسی جنگ لڑنی ہے جو صرف فوجیں نہیں لڑیں گی ۔ میں جنگی تربیت میں ایک اضافہ کر رہا ہوں ۔ یہ فنِ حرب و ضرب کا نیا باب ہے ۔ اسے جاسوسوں کی جنگ کہتے ہیں ”۔

سلطان صلاح الدین ایوبی تیر ہاتھ میں لیے گھوڑے پر سوار ہوگیا اور اپنے کیمپ کی طرف چل پڑا ۔ اس کے سالار بھی گھوڑوں پر سوار ہوگئے ۔ ان میں سے ایک نے سلطان کے دائیں طرف اپنا گھوڑا کر دیا ، ایک نے بائیں کو اور ایک نے اپنا گھوڑا اس کے با لکل پیچھے اور قریب رکھا ، تا کہ کسی بھی طرف سے تیر آئے تو صلاح الدین ایوبی تک نہ پہنچ سکے

صلاح الدین ایوبی نے اس تیر پر ذرا سی بھی پریشانی کا اظہار نہ کیا جو کسی نے اسے قتل کرنے کیلئے چلایا تھا ۔اپنے رفیق سالاروں کو اپنے خیمے میں بٹھائے ہوئے وہ بتا رہا تھا کہ جاسوس اورشب خون مارنے والے دستے کس قدر نقصان کرتے ہیں ۔ وہ کہہ رہا تھا ………. ”میں علی بن سفیان کو ایک ہدایت دے چکا ہوں ، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں ہوسکا ، کیونکہ فوراً ہی مجھے اس حملے کی خبر ملی اور عمل درآمد دھرا رہ گیا ۔ تم سب فوری طور پر یوں کرو کہ اپنے سپاہیوں اور ان کے عہدے داروں میں سے ایسے افراد منتخب کرو جو دماغی اور جسمانی ًلحاظ سے مضبوط اور صحت مند ہوں ۔ باریک بین ، دور اندیش، قوت فیصلہ رکھنے والے جانباز قسم کے آدمی چنو۔ میں نے علی کو ایسے آدمیوں کی جو صفات بتائیں تھیں وہ سب سن لو ۔ اُن میں اونٹ کی مانند زیادہ سے زیادہ دِن بھوک اور پیاس برداشت کرنے کی قوت ہو ۔ چیتے کی طرح جھپٹنا جانتے ہوں ، عقاب کی طرح ان کی نظریں تیز ہوں ، خرگوش اور ہرن کی طرح دوڑ سکتے ہوں۔ مسلح دشمن سے ہتھیار کے بغیر بھی لڑ سکیں ۔ ان میں شراب اور کسی دوسری نشہ آور چیز کی عادت نہ ہو۔ کسی لالچ میں نہ آئیں ۔ عورت کتنی ہی حسین مل جائے اور زر و جواہرات کے انباران کے قدموں میں لگا دئیے جائیں ، وہ نظر اپنے فرض پر رکھیں ………

”اپنے دوستوں اور ان کے کمان داروں کو خاص طور پر ذہن نشین کرایں کہ عیسائی بڑی ہی خوب صورت اور جوان لڑکیوں کو جاسوسی کے لیے اور فوجوں میں بے اطمینانی پھیلانے کے لیے اور عسکریوں کو جذبے کے لحاظ سے بیکار کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں ۔ میں نے مسلمانوں میں یہ کمزوری دیکھی ہے کہ عورت کے آگے ہتھیار ڈال دیتے ہیں ۔ میں مسلمان عورت کو اس مقاصد کے لیے دشمن کے علاقے میں کبھی نہیں بھیجوں گا ۔ہم عصمتوں کے محافظ ہیں ، عصمت کو ہتھیار نہیں بنائیں گے ۔ علی بن سفیان نے چند ایک لڑکیاں رکھی ہوئی ہیں ، لیکن وہ مسلمان نہیں اور وہ عیسائی بھی نہیں ،مگر میں عورت کاقائل نہیں ”۔

محافظ دستے کاکمانڈر خیمے میں آیا اور اطلاع دی کہ محافظ کچھ لڑکیوں اور آدمیوں کے ساتھ لائے ہیں ۔ سلطان ایوبی باہر نکلا ۔ اس کے تینوں سالار بھی تھے ۔ باہر پانچ آدمی کھڑے تھے ، جن کے لمبے چغے ، دستاریں اور ڈیل ڈول بتا رہی تھی کہ تاجر ہیں اور سفر میں ہیں ۔ان کے ساتھ سات لڑکیاں تھیں ۔ ساتوں جوان تھیں اور ایک سے ایک بڑھ کر خوب صورت ۔ ان محافظوں میں سے ایک نے جو سلطان پر تیر چلانے والے کی تلاش میں گئے تھے بتایا تھا کہ انہوں نے تمام علاقہ چھان مارا ، انہیں کوئی آدمی نظر نہیں آیا ۔ دور پیچھے گئے تو یہ لوگ تین اونٹوں کے ساتھ ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے ۔

” کیا ان کی تلاشی لی ہے؟” …………. ایک سالا ر نے پوچھا ۔

” لی ہے ” ……….. محافظ نے جواب دیا …………. ” یہ کہتے ہیں کہ تاجر ہیں ۔ ان کا سارا سامان کھلواکر دیکھا ہے ۔ جامہ تلاشی بھی لی ہے ۔ ان کے پاس ان خنجروں کے سوا اور کوئی ہتھیار نہیں ” ……… اس نے پانچ خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دئیے ۔

” ہم مراکش کے تاجر ہیں ” …………… ایک تاجرنے کہا ……….. ” سکندریہ تک جائیں گے ۔ دو روز گزرے ہمارا قیام یہاں سے دس کوس پیچھے تھا ۔ پرسوں شام یہ لڑکیاں ہمارے پاس آئیں ۔ ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سِسلی کی رہنے والی ہیں ۔ انہیں عیسائی فوج کاایک کماندار گھروں سے پکڑ کر ساتھ لے آیا اور ایک بحری جہاز میں جا سوا ر کیا ۔ ان کے ماں باپ غریب ہیں ۔یہ کہتی ہیں کہ بے شمار جہاز اور کشتیاں چل پڑیں ۔ لڑکیوں والے جہاز میں چند اور کماندار قسم کے آدمی تھے اور اُن کی فوج بھی تھی ۔ وہ سب ان لڑکیوں کے ساتھ شراب پی کر عیش و عشرت کرتے رہے ۔ اس ساحل کے قریب آئے تو جہازوں پر آگ کے گولے گرنے لگے۔ تمام لوگ جہازوں سے سمندر میں کودنے لگے ۔ ان لڑکیوں کو انہوں نے ایک کشتی میں بٹھا کر جہاز سے سمندر میں اُتار دیا ۔ یہ بتاتی ہیں کہ انہیں کشتی چلانی نہیں آتی تھی ۔ کشتی سمندر میں ڈولتی اور بھٹکتی رہی ۔ پھر ایک روز خود ہی ساحل سے آلگی ۔ ہمارا قیام ساحل کے ساتھ تھا ۔ یہ ہمارے پاس آگئیں ۔ بہت ہی بُری حالت میں تھیں ۔ ہم نے انہیں پناہ میں لے لیا ۔ انہیں ہم دھتکار تو نہیں سکتے تھے ۔ ہمیں کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان کا کیا کریں ۔ پچھلے پڑائو سے یہاں تک انہیں ساتھ لائے ہیں ۔ یہ سوار آگئے اور ہمارے سمامان کی تلاشی لینے لگے ۔ ہم نے ان سے تلاشی کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی امیرِ مصر کا حکم ہے ۔ ہم نے ان کی منت سماجت کی کہ ہمیں اپنے سلطان کے حضور لے چلو ۔ ہم عرض کریں گے کہ ان لڑکیوں کو اپنی پناہ میں لے لیں ۔ ہم سفر میں ہیں ۔ انہیں کہا ں کہاں لیے پھیریں گے ”

لڑکیوں سے پوچھا تو وہ سِسلی کی زبان بول رہی تھیں ۔ وہ ڈری ڈری سی لگتی تھیں ۔ ان میں سے دو تین اکٹھی ہی بولنے لگیں ۔ صلاح الدین ایوبی نے تاجروں سے پوچھا کہ ان کی زبان کون سمجھتاہے ؟ ایک نے بتایا کہ صرف میں سمجھتا ہوں ۔ یہ التجا کر رہی ہے کہ سلطان انہیں پناہ میں لے لے ۔ کہتی ہیں کہ ہم تاجروں کے قافلے کے ساتھ نہیں جائیں گی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ راستے میں ڈاکو ہمیں اُٹھا کر لے جائیں ۔ اِدھر جنگ بھی ہو رہی ہے ۔ ہر طرف عیسائیوں اور مسلمانوں کے سپاہی بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں ۔ ہمیں سپاہیوں سے بہت ڈر آتا ہے ۔ ہمیں جب گھروںسے اُٹھایا گیا تھا تو ہم سب کنواری تھیں ۔ ان فوجیوں نے بحری جہاز میں ہمیں طوائفیں بنائے رکھا ہے ۔

ایک لڑکی نے کچھ کہا تو اس کی زبان جاننے والے تاجر نے سلطان ایوبی سے کہا ……..” یہ کہتی ہے کہ ہمیں مسلمانوں کے بادشاہ تک پہنچا دو ۔ ہو سکتا ہے اس کے دل میں رحم آجائے”۔

ایک اور لڑکی بول پڑی ۔ اس کی آواز رندھیائی ہوئی تھی۔ تاجر نے کہا…….” یہ کہتی ہے کہ ہمیں عیسائی سپاہیوں کے حوالے نہ کیا جائے ۔ میں مسلمان ہو جائوں گی ، بشرطیکہ کوئی اچھی حیثیت والا مسلمان میرے ساتھ شادی کر لے ” ۔

دو تین لڑکیاں پیچھے کھڑی منہ چھپانے کی کوشش کر رہی تھیں ۔ ان کے چہروں پر گھبراہٹ تھی ۔ بات کرتے شرماتی یا ڈرتی تھیں۔

صلاح الدین ایوبی نے تاجر سے کہا …………” انہیں کہو کہ یہ عیسائیوں کے پاس نہیں جانا چاہتیں ۔ ہم انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کر سکتے ۔ یہ لڑکی جو کہہ رہی ہے کہ مسلمان ہو جائے گی ، بشرطیکہ کوئی مسلمان اس کے ساتھ شادی کر لے ، اسے کہو کہ میں اس کی پیشکش قبول نہیں کر سکتا ، یہ خوف اور مجبوری کے عالم میں اسلام قبول کرنا چاہتی ہے ۔ انہیں بتائو کہ انہیں مجھ پر اعتماد ہے تو میں انہیں اسلام کی بیٹیوں کی طرح پناہ میں لیتا ہوں ۔ اپنے دارالحکومت میں جا کر یہ انتظام کردوں گا کہ انہیں عیسائی راہبوں یا کسی پادری کے پاس بجھوادوں گا ۔

ادری یروشلم میں ہوں گے ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب عیسائی قیدیوں کو آزادکیا جائے گا تو میں کوشش کروں گا کہ ان کی شادیاں قابلِ اعتماد اور اچھی حیثیت کے قیدیوں کے ساتھ کردوں۔ انہیں یہ بھی بتادو کہ کسی مسلمان کو ان سے ملنے کی اجازت نہیں ہوگی اور نہ انہیں اجازت ہوگی کہ کسی مسلمان سے ملیں ۔ ان کی ضروریات اور عزت کا خیال رکھا جائے گا”۔

تاجرنے لڑکیوں کو ان کی زبان میں سلطان ایوبی کی ساری باتیں بتائیں تو ان کے چہروں پر رونق آگئی۔ وہ ان شرائط پر رضا مند ہوگئیں۔ تاجر شکریہ ادا کر کے چلے گئے ۔ صلاح الدین ایوبی نے لڑکیوں کے لیے الگ خیمہ لگانے اور خیمے کے باہر ہر وقت ایک سنتری موجود رہنے کا حکم دیا ۔ وہ خیمے کی جگہ بتانے ہی لگا تھا کہ چھ صلیبی سلطان ایوبی کے سامنے لائے گئے ۔ وہ بہت ہی بُر ی حالت میں تھے ۔ان کے کپڑے بھیگے ہوئے تھے ۔ کپڑوں پرخون بھی تھا ، ریت بھی۔ ان کے چہرے لاشوں کی مانند تھے ۔ ان کے متعلق بتایا گیا کہ ڈیڑھ دومیل دورساحل پر بے سُدھ پڑے تھے ۔ وہ ٹوٹی ہوئی کشتی پر تیر رہے تھے ۔ ایک دن کشتی پانی بھرجانے سے ڈوب گئی ۔ یہ سب تیر کر ساحل تک پہنچے ۔ کشتی میں بائیس آدمی سوار ہوئے تھے ۔ صرف یہ چھ زندہ بچے ۔ ان سے چلا نہیں جاتا تھا ۔ یہ صلیبی لشکرکے سپاہی تھے ۔ وہ سب ڈھڑام سے بیٹھ گئے۔ ان میں سے ایک چہرے مہرے سے لگتا تھا کہ معمولی سپاہی نہیں ہے ، وہ کراہ رہا تھا ۔ اس کے کپڑوں پر خون کا ایک دھبہ بھی نہ تھا، مگر زخمیوں سے زیادہ تکلیف میں معلوم ہوتا تھا۔ اس نے ساتوں لڑکیوں کو غور سے دیکھا اور پھر کراہنے لگا ۔

یہ صلاح الدین ایوبی کا حکم تھا کہ ہر ایک قیدی اسے دکھایا جائے ، چونکہ قیدی ابھی تک سمندر سے بچ بچ کر نکل رہے تھے ، اس لیے ہر ایک قیدی سلطان ایوبی کے سامنے لایا جا تا تھا۔اس نے قیدیوں کو بھی دیکھا۔ کسی سے کوئی بات نہ کی البتہ اس قیدی کو جو سب سے زیادہ کراہ رہاتھا اور جس کے جسم پر کوئی زخم بھی نہ تھا ، سلطان نے غور سے دیکھا اور آہستہ سے اپنے سالاروں سے کہا ………… ” علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا ۔ ان تمام قیدیوں سے جو اب تک ہمارے پاس آچکے ہیں ، بہت کچھ پوچھنا ہے ۔ ان سے معلومات لینی ہیں ”۔اس نے اس قیدی کی طرف دیکھ کرکہا …….. ” یہ آدمی کماندار معلوم ہوتا ہے ۔ اسے نظر میں رکھنا اور جب بھی علی بن سفیان آئے تو اسے کہنا کہ اس سے تفصیلی پوچھ گچھ کرے۔ معلوم ہوتا ہے اسے اندر کی چوٹیں آئی ہیں ۔شاید پسلیاں ٹوٹی ہوئی ہیں ……….. انہیں فوراً زخمی قیدیوں کے خیموں میں پہنچا دو ۔ انہیں کھلائو اور ان کی مرہم پٹی کرو ”۔

قیدیوں کو اس طرف لے جایا گیا جس طرف زخمی قیدیوں کے خیمے تھے ۔ لڑکیاں انہیں جاتا دیکھتی رہیں، پھر ان لڑکیوں کو بھی لے گئے ۔ فوج کے خیموں سے تھوڑی دور لڑکیوں کے لیے خیمہ نصب کیا جارہاتھا، وہاں سے کو ئی سو قدم دور زخمی قیدیوں کے خیمے تھے، وہاں بھی ایک خیمہ گاڑ ا جارہا تھا اور چھ نئے زخمی قیدی زمین پر لیٹے ہوئے تھے ۔ لڑکیاں ان کی طرف دیکھ رہی تھیں۔ دونوں خیمے کھڑے ہو گئے۔ لڑکیاں اپنے خیمے میں چلی گئیں اور زخمیوں کے اُن کے اپنے خیمے میں لے گئے ۔ ایک سنتری لڑکیوں کے خیمے کے باہر کھڑا ہو گیا ۔ لڑکیوں کے لیے کھانا آگیا جو انہوں نے کھا لیا ۔ پھر ایک لڑکی خیمے سے نکل کر اس خیمے کی طرف دیکھنے لگی جس میں نئے چھ زخمی قیدیوں کے لے گئے تھے ۔ اس کے چہرے پر اب گھبراہٹ اورخوف کا کوئی تاثر نہیں تھا ۔سنتری نے اسے دیکھا اور اسے نے سنتری کو دیکھا ۔ لڑکی نے مُسکرا کر اشارہ کیا کہ وہ زخمیوں کے خیمے کی طرف جانا چاہتی ہے ۔ سنتری نے سر ہلا کر اسے روک دیا ۔ لڑکیوں کو خیمے سے دُور جانے یا کسی سے ملنے کی اجازت نہیں تھی ۔لڑکیوں اور چھ زخمیوں کے خیموں کے درمیان بہت سے درخت تھے ۔ بائیں طرف مٹی کا ایک ٹیلا تھا جس پر جھاڑیا ں تھیں ۔

سورج غروب ہوگیا ۔ پھر رات تاریک ہونے لگی ۔ کیمپ کے غل غپاڑے پر نیند غالب آنے لگی اور پھر زخمیوں کے کراہنے کی آوازیں رات کے سکوت میں کچھ زیادہ ہی صاف سنائی دینے لگیں۔ دور پرے بحیرئہ روم کا شور دبی دبی مسلسل گونج کی طرح سنائی دے رہا تھا ۔ صلاح الدین ایوبی کے اس جنگی کیمپ میں جاگنے والوں میں چند ایک سنتری تھے یا وہ زخمی قیدی جنہیں زخم سونے دیتے تھے یا صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے اندر دِن کا سماں تھا ، وہاں کسی کو نیند نہیں آئی تھی ۔ سلطان ایوبی کے تین سالار اس کے پاس بیٹھے تھے اور باہر محافظ دستہ بیدار تھا۔

سلطان ایوبی نے ایک بار پھر کہا ……….” علی بن سفیان ابھی تک نہیں آیا ” ……….. اس کے لہجے میں تشویش تھی ۔ اس نے کہا ……….” اس کا قاصد بھی نہیں آیا”۔

”اگر کوئی گڑبڑ ہوتی تو اطلاع آچکی ہوتی ” ………. ایک سالار نے کہا …………. ” معلوم ہوتا ہے وہاں سب ٹھیک ہے ”۔

”اُمید تو یہی رکھنی چاہیے ”…………. صلاح الدین ایوبی نے کہا …….. ” لیکن پچاس ہزار کے لشکر نے بغاوت کردی تو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا ۔ وہاں نفری ڈیڑھ ہزار سوار اور دو ہزار سات سو پیادہ ہیں ۔ان کے مقابلے میں سوڈانی بہتر اور تجربہ کار عسکری ہیں اور تعداد میں بہت زیادہ ”۔

” ناجی اور اس کے سازشی ٹولے کے خاتمے کے بعد بغاوت ممکن نظر نہیں آتی ”۔ ایک اور سالار نے کہا ۔ ” قیادت کے بغیر سپاہی بغاوت نہیں کریں گے ”۔

”پیش بندی ضروری ہے ” ………… صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ” لیکن علی آجائے تو پتہ چلے گا کہ پیش بندی کس قسم کی کی جائے ”۔

صلیبیوں کو روکنے کیلئے تو سلطان ایوبی خود آیا تھا لیکن دارالحکومت میں سوڈانی فوج کی بغاوت کا خطرہ تھا۔ علی بن سفیان کو سلطان ایوبی نے وہیں چھوڑ دیا تھا ، تا کہ وہ سوڈانی لشکر پر نظر رکھے اور بغاوت کو اپنے خصوصی فن سے دبانے کی کوشش کرے ۔اسے اب تک صلاح الدین ایوبی کے پاس آکر وہاں کے احوال و کوائف بتانے تھے مگر وہ نہیں آیاتھا ۔ جس سے سلطان ایوبی بے چین ہوا جارہا تھا ۔

وہ جب اپنے سالاروں کے ساتھ قاہرہ کی صورتِ حال کے متعلق باتیں کر رہا تھا ، اس کا تمام کیمپ گہری نیند سو چکا تھا مگر وہ ساتوں لڑکیاں جاگ رہی تھیں ، جنہیں سلطان ایوبی نے پناہ میں لے لیا تھا۔ ایک بار سنتری نے خیمے کا پردہ اُٹھاکر دیکھا ، اندر دیا جل رہا تھا ۔ پردہ ہٹتے ہی لڑکیاں خراٹے لینے لگیں ۔ سنتری نے دیکھا وہ پوری سات ہیں اور سو رہی ہیں تو اس نے پردہ گرایا اور خیمے کے ساتھ لگ کر بیٹھ گیا ۔ خیمے کے پردے کے ساتھ جو لڑکی تھی اس نے نیچے سے پردہ ذرا اوپر اُٹھایا ۔ پردہ آہستہ سے چھوڑکر اس نے ساتھ والی کے کان میں کہا …….’ ‘بیٹھ گیا ہے ”………… ساتھ والی نے اگلی لڑکی کے کا ن میں کہا …….’ ‘بیٹھ گیا ہے ”………… اور اس طرح کانوں کانوں میں یہ اطلاع ساتوں لڑکیوں تک پہنچ گئی کہ سنتری بیٹھ گیا ہے۔ ایک لڑکی جو خیمے کے دوسرے دروازے کے ساتھ تھی آہستہ سے اُٹھ کر بیٹھی اور بستر سے نکل گئی ۔ بستر زمین پر بچھے تھے ۔ اس لیے اوپر لینے والے کمبل اس طرح بستر پر ڈال دئیے جیسے ان کے نیچے لڑکی لیٹی ہوئی ہے ۔

وہ پائوں پر سرکتی خیمے کے دروازے تک گئی ۔ پردہ ہٹایا اور باہر نکل گئی ۔ باقی چھ لڑکیوں نے آہستہ آہستہ خرانے لینے شروع کر دئیے ۔ سنتری کو معلوم تھا کہ یہ سمندر سے بچ کر نکلی ہئی پناہ گزین لڑکیاں ہیں ، کوئی خطرناک قیدی تو نہیں ۔ وہ بیٹھ کر اونگھتا رہا ۔ لڑکی دبے پائوں ایسے رُخ پر ٹیلے کی طرف چلتی گئی جس رُخ سے اس کے اور سنتری کے درمیان خیمہ حائل رہا ۔ٹیلے کے پاس پہنچ کر اس نے اُس خیمیکا رُخ کر لیا جس میں چھ نئے قیدی رکھے گئے تھے ۔ رات تاریک تھی ، وہاں کچھ درخت تھے ۔ سنتری اب اُدھر دیکھتا بھی تو اسے لڑکی نظر نہ آتی ۔ لڑکی بیٹھ گئی اور پائوں سے سرک سرک کر آگے بڑھنے لگی ۔ آگے ریت کی ڈھیریاں سی تھیں ۔ وہ اُن کی اوٹ میں سرکتی ہوئی خیمے کے قریب پہنچ گئی ، مگر وہاں ایک سنتر ٹہل رہا تھا۔ لڑکی ایک ڈھیری کے پاس لیٹ گئی ۔ سنتری اسے سیاہ سائے کی طرح نظر آرہا تھا ۔ وہ اب دو سنتریوں کے درمیان تھی ۔ ایک اس کے اپنے خیمے کا اور دوسرا زخمیوں کے خیمے کا ۔

وہ اب دو سنتریوں کے درمیان تھی ۔ ایک اس کے اپنے خیمے کا اور دوسرا زخمیوں کے خیمے کا ۔ اسے ڈر یہ تھا کہ زخمیوں کا سنتری اس کی طرف آگیا تو وہ پکڑی جائے گی ۔

بہت دیر انتظار کے بعد سنتری دوسرے زخمیوں کی طرف چلا گیا ۔ لڑکی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل چلتی خیمے تک پہنچ گئی اور پر دہ اُٹھا کر اندر چلی گئی ۔ اندر اندھیرا تھا ۔ دو تین زخمی آہستہ آہستہ کراہ رہے تھے ۔ شاید ان میں سے کسی نے خیمے کا پردہ اُٹھتا دیکھ لیا تھا ۔ اس نے نحیف آواز میں پوچھا………. ”کون ہے ”…… لڑکی نے منہ سے ”شی ” کی لمبی آواز نکالی اورسرگوشی میں پوچھا ………….. ”رابن کہاں ہے؟ ”……….. اسے جواب ملا ……….. ”اُدھر سے تیسرا”………….­.. لڑکی نے تیسرے آدمی کے پائوں ہلائے تو آواز آئی ”کون ہے ”…… لڑکی نے جواب دیا ………… ”موبی ” ۔

رابن اُٹھ بیٹھا ۔ ہاتھ لمبا کر کے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اسے اپنے بستر میں گھسیٹ لیا ۔ اسے اپنے پاس لٹا کر اوپر کمبل ڈال دیا ۔ بولا ……….” سنتری نہ آجائے ، میرے ساتھ لگی رہو ”……….. اس نے لڑکی کو اپنے ساتھ لگا لیا اور کہا ………… ” میں اس اتفاق پر حیران ہو رہا ہوں کہ ہماری ملاقات ہو گئی ہے ۔ یہ ایک معجزہ ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔ ہم نے بہت بُری شکست کھائی ہے ، لیکن یہ سب دھوکا تھا ”……….. یہ وہی زخمی قیدی تھا جو دوسروں سے الگ تھلگ اور چہرے مہرے سے جسم جثّے سے معمولی سپاہی نہیں بلکہ اعلیٰ رتبے کا لگتا تھا ۔ صلاح الدین ایوبی نے بھی کہا تھا کہ یہ کوئی معمولی سپاہی نہیں ، اس پرنظر رکھنا ، علی بن سفیان اس سے تفتیش اور تحقیقات کرے گا۔

” کتنے زخمی ہو ؟” لڑکی نے اس سے پوچھا ………… ” کوئی ہڈی تو نہیں ٹوٹی ؟”

” میں بالکل ٹھیک ہوں ” …………. رابن نے جواب دیا ……….. ” خراش تک نہیں آئی ۔ انہیں بتایا ہے کہ اندر کی چوٹیں ہیں اور سینے کے اندر شدید درد ہے ، لیکن میں بالکل تندرست ہوں ”۔

” پھر یہاں کیوںآ گئے؟ ” …………. لڑکی نے پوچھا ۔

” میں نے بہت کوشش کی کہ مصر میں داخل ہوجائوں اورسوڈانی لشکر تک پہنچ سکوں لیکن ہر طرف اسلامی فوج پھیلی ہوئی ہے ۔ کوئی راستہ نہیں ملا ۔ ان پانچ زخمیوں کو اکٹھا کیا اور ان کے ساتھ زخمی بن کریہاں آگیا ۔ اب فرار کی کوشش کروں گا جو ابھی ممکن نظر نہیں آتی ”………….. اس نے ذرا غصے سے کہا ……….” مجھے دو سوالوں کا جواب دو ۔ ایوبی کو میں نے زندہ دیکھا ہے ، کیوں ؟ کیا تیر ختم ہوگئے تھے یا وہ حرام خور بزدل ہو گئے ہیں ؟اور دوسرا سوال یہ ہے کہ تم سات کی سات لڑکیاں مسلمانوں کی قید میں کیوں آگئیں ؟ کیا وہ پانچوں مر گئے ہیں یا بھاگ گئے ہیں ؟”

” وہ زندہ ہیں رابن ! ” …….. موبی نے کہا …….” تم کہتے ہو کہ خدائے یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظورہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ہمارا خدا ہمیں کسی گناہ کی سزا دے رہا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی اسے لیے زندہ ہے کہ تیر اس کے پائوں کے درمیان ریت میں لگا تھا ” ۔

” کیا تیر کسی لڑکی نے چلایا تھا ؟” ………. رابن نے پوچھا ………… ” کرسٹوفر کہا ں تھا؟”

” اُسی نے تیر چلایا تھا مگر ………”

” کرسٹوفر کا تیر خطا گیا ؟” …………. رابن نے حیرت سے تڑپ کر پوچھا ……….. ” وہ کرسٹوفر جس کی تیر اندازی نے شاہ آگسٹسن کو حیران کر دیا اور اس کی ذاتی تلوار انعام میں لی تھی ، یہاں آکر اس کا نشانہ اتنا چوک گیا کہ چھ فٹ لمبا اور تین فٹ چوڑا صلاح الدین ایوبی اس کے تیر سے بچ گیا؟ بد بخت کے ہاتھ ڈر سے کانپ گئے ہوںگے ”۔

” فاصلہ زیادہ تھا ” ………… موبی نے کہا ………. ” اور کرسٹوفر کہتا تھا کہ تیر کمان سے نکلنے ہی لگا تھا کہ کھلی ہوئی آنکھ میں مچھر پڑ گیا۔ اسی حالت میں تیر نکل گیا ”۔

”پھر کیا ہوا ؟”

” جو ہونا چاہیے تھا ”……. مو بی نے کہا ……….” صلاح الدین ایوبی ساحل پر گیا تھا تو اس کے تین کمانڈر تھے اور چار محافظوںکا دستہ تھا۔ وہ ہر طرف پھیل گئے ۔ یہ تو ہماری خوش قسمتی تھی کہ علاقہ چٹانی تھا ، کرسٹوفر بچ کے نکل آیا اور پھر ہمیں اتنا وقت مل گیا کہ ترکش اور کمان ریت میں دبا کر اوپر اونٹ بٹھا دیا ۔ سپاہی آگئے تو کرسٹو فر نے انہیں بتایا کہ وہ پانچوں مراکش کے تاجر ہیں اور یہ لڑکیاں سمندر سے نکل کر ہماری پناہ میں آئی ہیں ۔ مسلمان سپاہیوں نے ہمارے سامان کی تلاشی لی ۔ انہیں تجارتی سامان کے سوا کچھ بھی نہ ملا ۔ وہ ہم سب کو سلطان ایوبی کے سامنے لے گئے ۔ ہم نے یہ ظاہر کیا کہ ہم سسلی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتیں ۔ کرسٹوفر نے ایوبی سے کہا کہ وہ ہماری زبان جانتا ہے ۔ ہم ساتوں لڑکیوں نے چہروں پر گھبراہٹ اور خوف پیدا کر لیا ”۔

موبی نے رابن کو وہ ساری باتیں سنائیں جو سلطان ایوبی کے ساتھ ہوئی تھیں ۔ یہ سات لڑکیاں اور پانچ آدمی جو مراکشی تاجروں کے بھیس میں تھے، حملے سے دو روز پہلے ساحل پر اُتر گئے تھے۔ پانچوں آدمی صلیبیوں کے تجربہ کار جاسوس اور کمانڈو تھے اور لڑکیاں بھی جاسوس تھیں۔ جاسوسی کے علاوہ ان کے ذمے یہ کام بھی تھا کہ مسلمان سالاروں کو اپنے جال میں پھانسیں ۔ وہ خوبصورت تو تھیں ہی ، انہیں جاسوسی اور ذہنوں کی تخریب کاری کی خاص ٹریننگ دی گئی تھی۔ اس ٹریننگ میں اداکاری خاص طور پر شامل تھی ۔ پانچ مردوں کا یہ مشن تھا کہ صلاح الدین ایوبی کو ختم کرنا اور ناجی کے ساتھ رابطہ رکھنا ۔ یہ لڑکیا ں مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ، لیکن انہوں نے ظاہر نہیں ہونے دیا ۔ رابن اس شعبے کا سربراہ تھا ۔ اسے ناجی تک پہنچنا تھا ، مگر صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان کی چال نے یہاں کے حالات کا رُخ ہی اُلٹا کر دیا ۔

”کیا تم صلاح الدین ایوبی کو جال میں نہیں پھانس سکتیں ؟”………رابن نے پوچھا ۔

” ابھی تو یہاں پہلی رات ہے ” ……….. موبی نے کہا ………….. ” اس نے ہمارے متعلق جو فیصلہ دیا ہے ، اگر وہ سچے دِل سے دیا ہے تو اس کامطلب یہ ہے کہ وہ مرد نہیں پتھر ہے ، اگر اُسے ہمارے ساتھ کوئی دلچسپی ہوتی تو کسی ایک لڑکی کو اپنے خیمے میں بلا لیتا ………اسے قتل کرنا بھی آسان نہیں ۔ وہ ایک ہی بار ساحل پر آیاتھا ، مگر تیر خطا گیا ۔ وہ سالاروں اور محافظوں کے نرغے میں رہتا ہے ۔ اِدھر ایک سنتری ہمارے سر پر کھڑا ہے اور محافظوں کے پور ے دستے نے صلاح الدین ایوبی کے خیمے کو گھیر رکھا ہے ”۔

”وہ پانچوں کہاں ہیں ؟” ……………. رابن نے پوچھا ۔

” تھوڑی دور ہیں ؟”…………. موبی نے جواب دیا …………..” وہ ابھی یہیں رہیں گے ”۔

”سنو موبی !”………. رابن نے کہا ………… ” اس شکست نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔ میرے ضمیر پر اتنا بوجھ آپڑا ہے ، جیسے اس شکست کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے ۔ صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف تو سب سے لیا گیا ہے، لیکن ایک سپاہی کے حلف میں اور میرے حلف میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔ میرے رتبے کو سامنے رکھو۔ میرے فرائض کو دیکھو ۔ آدھی جنگ مجھے زمین کے نیچے اور پیٹھ کے پیچھے سے وار کر کے جیتنی تھی، مگر میں اور تم سا ت اور وہ پانچ اپنا فرض ادا نہیں کر سکے ۔ مجھ سے یہ صلیب جواب مانگ رہی ہے ” ……….. اس نے گلے میں ڈالی ہوئی صلیب ہاتھ میں لے کہا ۔ …… ” میں اسے اپنے سینے سے جدا نہیں کر سکتا ” ………… اس نے موبی کے سینے پر ہاتھ پھیر کر اس کی صلیب ہاتھ میں لے لی اور کہا ……….. ” تم اپنے ماں باپ کو دھوکہ دے سکتی ہو ، اس صلیب سے آنکھیں نہیں چُرا سکتیں۔ اس نے جو فرض تمہیں سونپا ہے ، وہ پورا کرو۔ خدا نے تمہیں جو حُسن دیا ہے ، وہ چٹانوں کو پھاڑ کر تمہیں راستہ دے دے گا ۔ میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ ہماری اچانک اور غیر متوقع ملاقات اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے۔ ہمارے لشکر بحیرئہ روم کے اُس پار اکٹھے ہو رہے ہیں ۔ جو مرگئے ، سو مر گئے ، جو زندہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ شکست نہیں دھوکا تھا۔ تم اپنے خیمے میں واپس جائو اور ان لڑکیوں سے کہو کہ خیمے میں نہ پڑی رہیں ۔ با ر بار صلاح الدین ایوبی سے ملیں ۔ اس کے سالاروں سے ملیں ۔ بے تکلفی پیدا کریں۔ مسلمان ہونے کاجھانسہ دیں ۔ آگے وہ جانتی ہیں کہ انہیں کیا کرنا ہے ”۔

” سب سے پہلے تو یہ معلوم کرنا ہے یہ ہوا کیا ہے ؟” …………. موبی نے کہا ………. ” کیا سوڈانیوں نے ہمیں دھوکہ دیا ہے ؟” ۔

” میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا ”……….. رابن نے کہا ……. ” میں نے حملے سے بہت پہلے مصر میں پھیلائے ہوئے اپنے جاسوسوں سے جو معلومات حاصل کیں تھیں ، وہ یہ ہیں کہ صلاح الدین ایوبی کو سوڈانیوں کے پچاس ہزار محافظ لشکر پر بھروسہ نہیں ، حالانکہ یہ مسلمانوں کے وائسرائے مصر کی اپنی فوج ہے۔ ایوبی نے آکر مصر ی فوج تیار کر لی ہے ۔ سوڈانی اس میں شامل نہیں ہونا چاہتے ۔ ان کے کمانڈر ناجی نے ہم سے مدد طلب کی تھی ۔ میں نے اس کا خط دیکھا تھا اور میں نے تصدیق کی تھی کہ یہ خط ناجی کا ہی ہے اور میں کوئی دھوکہ نہیں مگر ہمارے ساتھ تاریخ کا سب سے بڑا دھوکہ ہوا ہے ۔ مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ یہ کیسے ہوا ؟ کس نے کیا ؟ میں یہ چھان بین کیے بغیر واپس نہیں جا سکتا ۔ شاہ آگسٹسن نے بڑے فخر سے کہا تھا کہ میں مسلمانوں کے گھروں کے اند ر کے بھید معلوم کر کے ان کی بنیادیں ہلا دوں گا ۔ اب تصور کرو موبی ! شہنشاہ کے دِل پر کیا گزر ہی ہوگی ۔ وہ مجھے سزائے موت سے کم کیا سزا دے گا ! صلیب کا قہر مجھ پر الگ نازل ہوگا ”۔

” میں سب جانتی ہوں ” ………. موبی نے کہا ……… ” جذباتی باتیں نہ کرو ، عمل کی بات کرو ، مجھے بتائو میں کیا کروں ”۔

رابن کے اعصاب پر اپنا فرض اور شکست کا احساس اس حد تک غالب تھاکہ اسے یہ بھی احساس نہیں تھا کہ موبی جیسی دِل کش لڑکی جس کے ایک ایک نقش اور جسم کے انگ انگ میں شراب کا طلسم بھرا ہوا تھا ، اس کے سینے سے لگی ہوئی ہے اور اس کے ریشم جیسے ملائم اور لمبے بال اس کے آدھے چہرے کو ڈھانپے ہوئے ہیں ۔ رابن نے ان بالوں کے لمس کو ذرا سا محسوس کیا اور کہا ……….” موبی ! تمہارے یہ بال ایسی مظبوط زنجیریں ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے گرد لپٹ گئیں تو وہ تمہارا غلام ہو جائے گا ، لیکن تمہیں سب سے پہلا جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ کرسٹوفر اور اس کے ساتھیوں سے کہو کہ وہ تاجروں کے بھیس میںناجی کے پاس پہنچیں اور معلوم کریں کہ اس کے لشکر نے بغاوت کیوں نہیں کی اور یہ راز فاش کس طرح ہوا کہ اس سے فائدہ اُٹھا کر صلاح الدین ایوبی نے گنتی کے چند ایک دستے گھات میں بٹھا کر ہماری تین افواج کا بیڑہ غرق کر دیا اور انہیں یہ بھی کہو کہ معلوم کریں کہ ناجی صلاح الدین ایوبی سے ہی تو نہیں مل گیا ؟ اور ان نے ہمارا یہی حشر کرانے کیلئے ہی تو خط نہیں لکھا ؟ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو ہمیں اپنے جنگی منصوبوں میں ردو بدل کرنا ہوگا ۔ مجھے یہ یقین ہو گیا ہے کہ اسلامیوں کی تعداد کتنی ہی تھوڑی کیوں نہ ہو ، انہیں ہم آسانی سے شکست نہیں دے سکتے ۔ ضروری ہو گیا ہے کہ ان کے حکمرانوں کااور عسکری قیادت کا جذبہ ختم کیا جائے ۔ ہم نے تم جیسی لڑکیاں عربوں کے حرموں میں داخل کر دی ہیں ” ۔

” تم نے بات پھر لمبی کر دی ہے ” ………… موبی نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا …………. ” ہم اپنے گھر میں ایک بستر پر نہیں لیٹے ہوئے کہ بڑے مزے سے ایک دوسرے کو کہانیاں سناتے رہیں ۔ ہم دشمن کے کیمپ میں قید اور پابند ہیں ۔ باہر سنتری پھر رہے ہیں ، رات گزر تی جا رہی ہے ۔ ہمارے پاس لمبی باتوں کا وقت نہیں ۔ ہمارا مشن تباہ ہو چکا ہے ۔ اب بتائو کہ ان حالات میں ہمارا مشن کیا ہونا چاہیے۔ ہم سات لڑکیاں اور چھ مرد ہیں ۔ ہم کیا کریں ۔ ایک یہ کہ ناجی کے پاس جائیں اور اس کے دھوکے کی چھان بین کریں ، پھر کسے اطلاع دیں ؟ تم کہاں ملو گے ؟” ۔

” میں یہاں سے فرار ہوجائوں گا ” ………… رابن نے کہا …………. ” لیکن فرار سے پہلے اس کیمپ ، اس کی نفری اور ایوبی کے آئندہ عزائم کے متعلق تفصیل معلوم کروں گا ۔ اس شخص کے متعلق ہمیں بہت چوکنا رہنا ہوگا ۔ اس وقت اسلامی قوم میں یہ واحد شخض ہے جو صلیب کیلئے خطرہ ہے ، ورنہ اسلامی خلافت ہمارے جال میں آتی چلی جا رہی ہے ۔ شاہ ایملرک کہتا تھا کہ مسلمان اتنے کمزور ہو گئے ہیں کہ اب ان کو ہمیشہ کیلئے اپنے پائوں میں بٹھانے کیلئے صرف ایک ہلے کی ضرورت ہے ، مگر اس کا یہ عزم محض خوش فہمی ثابت ہوا ۔ مجھے یہاں رہ کر ایوبی کی کمزور رگیں دیکھنی ہیں اور تمہیں پانچ آدمیوں کے ساتھ مل کر سوڈانی لشکر کو بھڑکانا اور بغاوت کرانی ہے ۔ نہایت ضروری یہ ہے کہ ایوبی زندہ نہ رہے ، اگر وہ زندہ رہے تو ہمارے اس قیدخانے میں زندہ رہے ، جہا ں وہ عمر کے آخری گھڑی تک سورج نہ دیکھ سکے اور رات کو آسمان کا اسے ایک بھی تارہ نظر نہ آئے ………. تم پہلے اپنے خیمے میں جائو اور اپنی چھ لڑکیوں کو ان کا کام سمجھا دو۔ انہیں خاص طور پر ذہن نشین کرادو کہ اُس آدمی کا نام علی بن سفیان ہے جسے اِن ریشمی بالوں، شربتی آنکھوں اور اتنے دلکش جسموں سے ایسے بیکار کرنا ہے کہ صلاح الدین ایوبی کے کام کا نہ رہے اور اگر ہو سکے تو اس کے اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان ایسی غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں ۔ تم سب اچھی طرح جانتی ہو کہ دو مردوں میں غلط فہمی اور دشمنی کس طرح پیدا کی جاتی ہے ………….. جائو اور لڑکیوں کو مکمل ہدایت دے کر کرسٹوفر کے پاس پہنچو ۔ اسے میرا سلام کہنا اور یہ بھی کہنا کہ تیرے تیر کو ایوبی پر آکر ہی خطا ہونا تھا ؟ اب اس گناہ کاکفارہ ادا کرو اور جو کام تمہیں سونپا گیا ہے ، وہ سو فیصد پور ا کرو ” ۔

رابن نے موبی کے بالوں کوچوم کر کہا ……….”تمہیں صلیب پر اپنی عزت بھی قربان کرنا پڑے گی ، لیکن خدائے یسوع مسیح کی نظروں میں تم مریم کی طرح کنواری رہو گی ۔ اسلام کو جڑ سے اُکھاڑنا ہے ۔ ہم نے یروشلم لے لیا ہے ۔ مصر بھی ہمارا ہوگا
موبی رابن کے بستر سے نکلی اور خیمے کے پردے کے پاس جا کر پردہ اُٹھایا ، باہر جھانکا ، اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ آیا ۔ وہ باہر نکل گئی اور خیمے کی اوٹ سے دیکھا کہ سنتری کہاں ہے۔ اسے دور کسی کے گنگنانے کی آواز سنائی دی ۔ یہ سنتری ہی ہو سکتا تھا۔ موبی چل پڑی ۔ درختوں سے گزرتی قدم قدم پر پیچھے دیکھتی وہ ٹیلے تک پہنچ گئی اور اپنے خیمے کا رُخ کر لیا ۔ نصف راستہ طے کیاہوگا کہ اسے دو آدمیوں کی دبی دبی باتوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں ۔یہ آوازیں اس کے خیمے کے قریب معلوم ہوتی تھیں ۔ اسے یہ خطرہ نظر آنے لگا کہ سنتری نے معلوم کر لیا ہے کہ ایک لڑکی غائب ہے اور وہ کسی دوسرے سنتری یا اپنے کمانڈر کو بلا لایاہے۔ اس نے سوچا کہ خیمے میں جانے کی بجائے ان پانچ ساتھیوں کے پاس چلی جائے جو مراکشی تاجر وں کے بھیس میں کوئی ڈیڑھ ایک میل دور خیمہ زن تھے مگر اسے یہ خیال بھی آگیاکہ اس کی کی گمشدگی سے باقی لڑکیوں پر مصیبت آجائے گی ۔ وہ تھیں تو پوری چالاک ، پھر بھی ان پر پابندیاں سخت ہونے کاخطرہ تھا اور کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ موبی ذرا اور آگے چلی گئی تا کہ ان دو آدمیوں کی باتیں سن سکے۔ ان کی زبان وہ سمجھتی تھی ۔ یہ تو اس نے دھوکو دیا تھا کہ وہ سسلی کی زبان کے سوااورکوئی زبان نہیں سمجھتی

وہ آدمی خاموش ہوگئے ۔ موبی دبے پائوں آگے بڑھی۔ اسے بائیں طرف قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے چونک کر دیکھا ۔ درختوں کے درمیان اسے ایک سیاہ سایہ جو کسی انسان کاتھا ، جاتا نظر آیا ۔ اس نے رخ بدل لیا اورٹیلے کی طرف آنے لگا ۔ موبی کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتی تھی ۔ وہ ٹیلے پر چڑھنے لگی۔ ٹیلا اونچا نہیں تھا ۔ فورا ہی اوپرچلی گئی ۔ وہ تھی تو بہت ہوشیار ، لیکن ہر انسان، ہر قدم پر پوری احتیاط نہیں کر سکتا ۔ وہ ٹیلے کی چوٹی پر کھڑی ہوگئی۔ اس کے پس منظر میں ستاروں سے بھرا ہوا آسمان تھا ۔ سمندر اور صحرا کی فضا رات کو آئینے کی طرح شفاف ہوتی ہے ۔ درختوں میں جاتے ہوئے آدمی نے ٹیلے کی چوٹی پر ٹنڈ منڈ درخت کے تنے کی طرح کا ایک سایہ دیکھا ۔ موبی نے پہلو اس آدمی کی طرف کردیا ۔ اس کے بل کھلے ہوئے تھے ، جنہیں اس نے ہاتھ سے پیچھے کیا۔ اس کی ناک ، سینے کا ابھار اور لمبا لبادہ تاریکی میں بھی راز کو فاش کرنے لگا ۔ یہ آدمی سنتریوں کا کماندار تھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت کیمپ کے گشت پر نکلا اور سنتریوں کو دیکھتا پھر رہا تھا ۔ یہ سنتریوں کی تبدیلی کا وقت تھا ۔ کماندار اس لیے زیادہ چوکس تھا کہ سلطان ایوبی تین سالاروں کے ساتھ کیمپ میں موجود تھا ۔ سلطان ڈسپلن کا بڑا ہی سخت تھا ۔ ہر کسی کو ہر لمحہ خطرہ لگا رہتا تھا کہ سلطان رات کو اٹھ کر گشت پر آجائے گا ۔ کماندار سمجھ گیا کہ ٹیلے پر کوئی لڑکی کھڑی ہے ۔ اسی شام کمان داروں کو خبردار کیا گیا تھا کہ صلیبیوں نے جاسوسی اور تخریب کاری کیلئے لڑکیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ لڑکیا ں صحرائی خانہ بدوشوں کے بہروپ میں بھی ہو سکتی ہیں اور ایسی غریب لڑکیوں کے بھیس میں بھی جو فوجی کیمپوں میں کھانے کی بھیگ مانگنے آتی ہیں اور یہ لڑکیاں اپنے آپ کو مغویہ اور مظلوم ظاہر کر کے پناہ مانگ سکتی ہیں ۔ کمانداروں کو بتایا گیا تھا کہ آج رات سات لڑکیاں سلطان کی پناہ میں آئی ہیں، جنہیں بظاہر رحم کرکے مگر انہیں مشتبہ سمجھ کر پناہ میں لے لیا گیا ہے ۔ اس کے کماندار نے یہ احکام سن کر اپنے ایک ساتھی سے کہا تھا ……..”اللہ کرے ایسی کوئی لڑکی مجھ سے پناہ مانگے”…….. اور وہ دونوں ہنس پڑھے تھے ۔ اب آدھی رات کے وقت جب ساراکیمپ سو رہاتھا ، اسے ٹیلے پر ایک لڑکی کا ہیولا نظر آرہا تھا۔ پہلے تو وہ ڈرا کہ یہ چڑیل یا جن ہو سکتا ہے ۔ اس نے نئے سنتری کو لڑکیوں کے خیمے پر کھڑا کرکے اسے بتایا تھا کہ اندر سات لڑکیاں ہیں ۔ اس نے پردہ اُٹھا کر دیکھا تو دئیے کی روشنی میں اسے سات بستر نظر آئے تھے۔ ہر لڑکی نے منہ بھی کمبلوں میں ڈھانپ رکھا تھا ۔ سردی زیادہ تھی ۔ اس نے اندر جا کر یہ نہیں دیکھا کہ ساتواں بستر خالی ہے اور اس پر کمبل اس طرح رکھے گئے ہیں جیسے ان کے نیچے لڑکی سو ئی ہوئی ہو۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ ساتویں لڑکی ٹیلے پر اس کے سامنے کھڑی ہے ۔ وہ کچھ دیر سوچتارہا کہ اسے آواز دے یا اس تک خود جائے یا اگر و ہ جن یاچڑیل ہے تو اس کے غائب ہونے کا انتظار کرے ۔ تھوڑی سی دیر کے انتظار کے بعدبھی لڑکی غائب نہ ہوئی ،بلکہ وہ تین قدم آگے چلی اور پھر پیچھے کو چل پڑی اور پھر رُک گئی۔ کماندار جس کا نام فخر المصری تھا ، آہستہ آہستہ ٹیلے تک گیا اور کہا ……”کون ہو تم ؟ نیچے آئو”۔ لڑکی نے ہرن کی طرح چوکڑی بھری اور ٹیلے کی دوسری طرف اُتر گئی۔ فخر کو یقین آگیاکہ کوئی انسان ہے ، جن چڑیل نہیں ۔ وہ تنومند مرد تھا ۔ ٹیلا اونچا نہیں تھا ۔ وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ٹیلے پر چڑھ گیا ۔ اُدھر بھی اندھیرا تھا ۔ رات کی خاموشی میں اسے لڑکی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ ٹیلے سے دوڑتا اُترا اور لڑکی کے پیچھے گیا ۔ لڑکی اور تیز دوڑ پڑی ۔ فاصلہ بہت کم تھا لیکن فخر مرد تھا ، فوجی تھا ، چیتے کی رفتا ر سے دوڑرہا تھا

۔ ٹیلے کے پیچھے اُونچی نیچی زمین خشک جھاڑیاں اور کہیں کہیں کو ئی درخت تھا ۔ بہت سا دوڑ کر فخر المصری نے محسوس کیا کہ اس کے آگے تو کوئی بھی نہیں ۔ اِس نے رُک کر اِدھر اُدھر دیکھا ۔ اسے پنے پیچھے اور بہت سا بائیں کو لڑکی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ وہ تربیت یافتہ لڑکی تھی ، جہاں اسے حُسن اور شباب کے استعمال کی تربیت دی گئی تھی ، وہا ں اسے فوجی ٹریننگ بھی دی گئی تھی اور خنجر زنی کے دائو پیچ بھی سکھائے گئے تھے۔ وہ ایک درخت کی اوٹ میں چھپ گئی تھی ۔ فخر آگے گیا تو وہ دوسری طرف دوڑ پڑی ۔ یہ تعاقب آنکھ مچولی کی مانند تھا۔ فخر کو اندھیراپریشان کر رہا تھا۔ موبی کے قدم خاموش ہوجاتے تو وہ رُک جاتا ۔ قدموں کی آواز سنائی دیتی تو وہ دوڑ پڑتا ۔ غصے سے وہ بائولا ہوا جارہاتھا ۔ اس نے یہ جان لیا تھا کہ یہ کوئی جوان لڑکی ہے ، اگر بڑی عمر کی ہوتی تو اتنی تیز اور اتنا زیادہ نہ بھاگ سکتی ۔ تعاقب میں فخر دو میل فاصلہ طے کر گیا ۔ موبی نے جھاڑیوں اور اونچی نیچی زمین سے بہت فائدہ اُٹھایا ۔ اس کے مرد ساتھیوں کا ڈیرہ قریب آگیاتھا۔ وہ دوڑتی ہوئی وہاں تک جا پہنچی ۔ اس نے اپنے آدمیوں کو آوازیں دیں ۔ و ہ گھبرا کر جاگے اور خیمے سے باہر آئے ۔ ایک نے مشعل جلالی ۔ یہ ڈنڈے کے سرے پر لپٹے ہوئے کپڑے تھے۔ ان کی آگ کی روشنی بہت زیادہ تھی ۔ فخر نے تلوار سونت لی اور ہانپتا کانپتا ان کے سامنے جا کھڑا ہوا

اس نے دیکھا کہ یہ پانچ آدمی لباس سے سفری تاجر نظر آتے ہیں اور مسلمان لگتے ہیں۔ لڑکی ان میں سے ایک کی ٹانگوں کو دونوں بازوئوں میں مضبوطی سے پکڑے بیٹھی ہوئی تھی ۔ مشعل کے ناچتے شعلے میں اس کے چہرے پر گھبراہٹ اور خوف نظر آ رہا تھا ۔ اس کا سینہ اُبھراور بیٹھ رہا تھا ۔ اس کی سانسیں بُری طرح اُکھڑ ی ہوئی تھیں ۔”یہ لڑکی میرے حوالے کر دو”………….فخ ر المصری نے حکم کے لہجے میں کہا ۔”یہ ایک نہیں”…………. ایک آدمی نے التجا کے لہجے میں جواب دیا ………….”ہم نے تو سات لڑکیاں آپ کے سلطان کے حوالے کی ہیں ۔ آپ اسے لے جا سکتے ہیں”۔”نہیں”…………. …. موبی نے اس کی ٹانگوں کو اور مضبوطی سے پکڑتے ہوئے ، روتے ہوئے اور خوف زدہ لہجے میںکہا ………..”میں اس کے ساتھ نہیں جائوں گی ۔ یہ لوگ عیسائیوں سے زیادہ وحشی ہیں ۔ ان کا سلطان انسان نہیں سانڈ ہے ، درندہ ہے ۔ اس نے میری ہڈیاں بھی توڑ دی ہیں ۔ میں اس سے بھاگ کر آئی ہوں”۔”کون سلطان؟”……. …… فخر نے حیران سا ہو کر پوچھا ۔”وہی جسے تم صلاح الدین ایوبی کہتے ہو”……….. …موبی نے جواب دیا ۔ وہ اب مصر کی زبان بول رہی تھی ۔”یہ لڑکی جھوٹ بول رہی ہے”………. فخر نے کہا اور پوچھا ………..”یہ ہے کو ن ؟ تمہاری کیا لگتی ہے ؟”۔”اندر آجائو دوست ! باہر سردی ہے”………. ایک آدمی نے فخر سے کہا ………..”تلوار نیام میں ڈال لو ۔ ہم تاجر ہیں ۔ ہم سے آپ کو کیاخطرہ ۔ آئو۔ اس لڑکی کی بپتا سن لو”……. اس نے آہ بھر کر کہا ……….”میں آ پ کے سلطان کو مردِ مومن سمجھتا تھا مگر ایک خوبصورت لڑکی دیکھ کر وہ ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ وہ باقی چھ لڑکیوں کا بھی یہی حشر کر رہا ہوگا”۔”ان کا یہ حشر دوسرے سالاروں نے کیا ہے”…………. .. موبی نے کہا ……..”شام کو ان بے چاریوں کو اپنے خیمے میں لے گئے تھے اور انہیں بے سُدھ کر کے خیمے میں ڈال دیا ۔ وہ خیمے میں بے ہوش پڑی ہیں”۔ فخرالمصری تلوار نیام میں ڈال کر ان کے ساتھ خیمے میں چلا گیا ۔ اندر جا کر بیٹھے تو آدمی نے آگ جلا کر قہوے کے لیے پانی رکھا اور مس میں جانے کیا کچھ ڈالتا رہا ۔ دسرے آدمی نے فخر سے پوچھا کہ اس کا رُتبہ کیا ہے ۔ اس نے بتایا کہ وہ کمان دار اور عہدے دارہے ۔انہوں نے اس کے ساتھ بہت سی باتیں کیں جن سے انہوں نے اندازہ کر لیا کہ یہ شخص عام قسم کا سپاہی نہیں اور ذمہ دار فرد ہے ۔ ذہین اور دلیر بھی ہے ۔ ان لوگوں میں سے ایک نے (کرسٹوفر تھا) فخر کو سات لڑکیوں کی بالکل وہی کہانی سنائی جو انہوں نے صلاح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ انہوں نے فخر کو یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی نے من کے متعلق کیا کہا تھا ۔ ان لڑکیوں نے سلطان کو پیشکش بھی کی تھی کہ وہ اپنے گھروں کو تو واپس نہیں جا سکتیں اور عیسائیوں کے پاس بھی نہیں جانا چاہتیں ، اس لیے وہ مسلمان ہونے کو تیار ہیں ، بشرطیکہ کوئی اچھے رتبوں والے عسکری اُن کے ساتھ شادی کر لیں ۔ ہم نے سنا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کردار کے لحاظ سے پتھر ہے ۔ ہم ہر روز سفر پر رہنے والے تاجر ہیں ، انہیں کہاں ساتھ لیے لیے پھرتے ۔ اُنہیں سلطان کے حوالے کر دیا گیا ، مگر سلطان نے اس لڑکی کے ساتھ جو سلوک کیا ، وہ اس کی زبانی سن لو

فخر المصری نے لڑکی کی طرف دیکھا تو لڑکی نے کہا ……”ہم بہت خوش تھیں کہ خدا نے ہمیں ایک فرشتے کی پناہ دی ہے ۔ سورج غروب ہونے کے بعد سلطان کا ایک محافظ آیا اور مجھے کہا کہ سلطان بلارہا ہے ۔ میں باقی چھ لڑکیوں کی نسبت ذرا زیادہ خوبصورت ہوں ۔ مجھے توقع نہیں تھی کہ تمہارا ایوبی بُری نیت سے بلا رہا ہے ، میں چلی گئی ۔ سلطان ایوبی نے شراب کی صراحی کھولی ۔ ایک پیالہ اپنے آگے رکھا اور ایک مجھے دیا ۔ میں عیسائی ہوں ، شراب سو بار پی ہے ۔ بحری جہاز میں عیسائی کمان داروں نے میرے جسم کو کھلونہ بنائے رکھا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی بھی میرے جسم کے ساتھ کھیلنا چاہتا تھا۔ اب اور مرد میرے لیے کوئی نئی چیزیں نہیں تھیں، لیکن ایوبی کو میں فرشتہ سمجھتی تھی ۔ میں اس کے جسم کو اپنے ناپاک جسم سے دور رکھنا چاہتی تھی ، مگر وہ ان عیسائیوں سے بدتر نکلا، جو مجھے بحری جہاز میں لائے تھے اور جب اُن کا جہاز ڈوبنے لگا تو انہوں نے ہمیں ایک کشتی میں ڈال کر سمندر میں اُتار دیا ۔ ان میں سے کسی نے ہمارا ساتھ نہ دیا۔ ہمارے جسم چچوڑے ہوئے اور ہڈیاں چٹخی ہوئی تھیں ……”خدانے ہمیں بچالیا اور اس آدمی کی پناہ میں پھینک دیا جو فرشتے کے روپ میں درندہ ہے ۔ مجھے سلطان نے ہی بتایاتھا کہ میرے ساتھ کی باقی چھ لڑکیاں اس کے سالاروں کے خیموں میں ہیں ۔ میں نیت سلطان کے پائوں پکڑ کر کہا کہ میرے ساتھ شادی کرلو۔ اس نے کہا اگر تم مجھے پسند کرتی ہوتو شادی کے بغیر تمہیں اپنے حرم میں رکھ لوں گا…اس نے میرے ساتھ وحشیوں کا برتائو کیا ۔ شراب میں بد مست تھا۔ اس نے مجھے اپنے ساتھ لٹالیا، جوں ہی اس کی آنکھ لگی ۔ میں وہاں سے بھاگ آئی ۔ اگر میری بات کا اعتبار نہ آئے تو زس کے محافظوں سے پوچھ لو”۔ اس دوران ایک آدمی نے فخر کو قہوہ پلایا۔ ذراسی دیر بعد فخر کا مزاج بدلنے لگا۔ اس نے نفرت سے قہقہہ لگایا اور کہا…”ہمیں حکم دیتے ہیں کہ عورت اور شراب سے دور رہو اور خود شراب پی کر راتیں عورتوں کے ساتھ گزارتے ہیں”۔ فخر محسوس ہی نہ کر سکا کہ لڑکی کی کہانی محض بے بنیاد ہے اور نہ ہی وہ محسوس کر سکا کہ اس کا مزائج کیوں بدل گیاہے۔اُسے حشیش پلادی گئی تھی ۔ اس پر ایسا نشہ طاری ہوچکاتھا جسے وہ نشہ نہیں سمجھتا تھا۔ وہ اب اپنے تصوروں میں بادشاہ بن چکاتھا۔ لڑکی کے چہرے پر مشعل کے شعلے کی روشنی ناچ رہی تھی ۔ اس کے بکھرے ہوئے سیاہی مائہل بھورے بال چمک رہے تھے ۔وہ فخر کو پہلے سے زیادہ حسین نظر آنے لگی ۔ اس نے بے تاب ہوکر کہا……”تم اگر چاہوتو میں تمہیں’پناہ میں لیتاہوں”۔”نہیں”…لڑکی ڈر کر پیچھے ہٹ گئی اور بولی …”تم بھی میرے ساتھ اپنے سلطان جیسا سلوک کرو گے۔ تم مجھے اپنے خیمے میں لے جائوگے اور میں ایک بار پھر تمہارے سلطان کے قبضے میں آجائوں گی”۔”ہم تو اب دوسری چھ لڑکیوں کو بھی بچانے کی سوچ رہے ہیں”……ایک تاجر نے کہا……”ہم ان کی عزت بچانا چاہتے تھے مگر ہم سے بھول ہوئی”۔ فخر المصری کی نگاہیں لڑکی پر جمی ہوئی تھیں۔ اس نے اتنی خوب صورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی تھی ۔خیمے میں خاموشی طاری ہوگئی ، جسے کرسٹو فرنے توڑا ۔ اس نے کہا۔”تم عرب سے آئے ہویا مصری ہو؟””مصری”……فخرنے کہا……”میں دو جنگیں لڑچکاہوں۔اسی لیے مجھے یہ عہدہ دیاگیاہے ۔””سوڈانی فوج کہاں ہے ، جس کا سالارناجی ہے؟”……کرسٹوفر نے پوچھا۔”اُس فوج کا ایک سپاہی بھی ہمارے ساتھ نہیں آیا”……فخر نے جواب دیا۔”جانتے ہو ایسا کیوں ہواہے ؟……کرسٹو فرنے کہا ……”سوڈانیوں نے صلاح الدین ایوبی کی امارات اور کمان کو تسلیم نہیں کیا۔ وہ فوج اپنے آپ کو آزاد سمجھتی ہے ۔ناجی نے سلطان ایوبی کو بتادیاتھا کہ وہ مصر سے چلے جائیں ، کیونکہ وہ غیر ملکی ہیں ۔اسی لیے ایوبی نے مصریوں کی فوج بنائی اور لڑانے کے لیے یہاں لے آیا۔ اس نے تم لوگوں کو شرافت اور نیکی کا جھانسہ دیا اور خود عیش کررہاہے ۔ کیا تمہیں مالِ غنیمت ملاہے ؟……اگر تمہیں ملا بھی تو سونے چاندی کے دو دو ٹکڑے مل جائیں گے ۔ صلیبیوں کے جہازوں سے بے بہا خزانہ سلطان ایوبی کے ہاتھ آیاہے ۔ وہ سب رات کے اندھیرے میں سینکڑوں اونٹوں پر لاد کر قاہراہ روانہ کردیاگیاہے ، جہاں سے دمشق اور بغداد چلاجائے لگا۔سوڈانی لشکر کو سلطان نہتہ کر کے غلاموں میں بدل دینا چاہتا ہے ،پھر عرب سے فوج آجائے گی اور تم مصری بھی غلام ہوجائوگے.
اس عیسائی کی ہر ایک بات فخر المصری کے دل میں اُتر تی جارہی تھی ۔ اثر باتو ں کا نہیں ، بلکہ موبی کے حسن اور حشیش کا تھا۔ عیسائیوں نے یہ حربہ حسنِ بن صباح کے حشیشین سے سیکھا تھا۔موبی کو بالکل توقع نہیں تھی کہ یہ صورتِ حال پیدا ہوجائے گی کہ ایک مصری اس کے تعاقب میں اس کے دام میں آجائے گا۔انہیں معلوم ہوگیا کہ فخر مصر کی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا ۔موبی نے اپنے پانچوں ساتھیوں کو سنانا شروع کردیا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کرکے زخمیوں کے خیمے میں پڑا ہے اور اس نے کہا ہے کہ ناجی سے مل کر معلوم کروکہ اس نے بغاوت کیوں نہیں کی یا اس نے عقب سے صلاح الدین ایوبی پر حملہ کیوں نہیں کیا اور یہ بھی معلوم کرو کہ اس نے ہمیں دھوکہ تو نہیں دیا؟ وہ باتیں کررہی تھی تو فخر نے پوچھا ……”یہ کیا کہہ رہی ہے ؟” ”یہ کہہ رہی ہے ”……ایک نے جواب دیا……”اگر یہ شخص یعنی تم صلاح الدین کی فوج میں نہ ہوتے تو یہ تمہارے ساتھ شادی کرلیتی ۔یہ مسلمان ہونے کو بھی تیار ہے ،لیکن کہتی ہے کہ اسے اب مسلمانوں پر بھروسہ نہیں رہا”۔ فخر نے بے تابی سے لپک کر لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف گھسیٹ کر کہا ”اگر میں بادشاہ ہوتا تو خدا کی قسم تمہاری خاطر تخت اور تاج قربان کردیا ۔اگر شرط یہی ہے کہ میں صلاح الدین ایوبی کی دی ہوئی تلوار پھینک دوں تو یہ لو” ……اس نے کمر بند سے تلوار کھولی اور نیام سمیت لڑکی کے قدموں میں رکھ دی ۔ کہا ……”میں اب سے ایوبی کا سپاہی اور کمان دار نہیں ہوں ”۔ ”مگر ایک شرط اور بھی ہے ”……لڑکی نے کہا ……”میں اپنا مذہب تمہاری خاطر ترک کردیتی ہوں ، لیکن صلاح الدین ایوبی سے انتقام ضرور لوں گی ”۔ ”کیا اسے میرے ہاتھ سے قتل کرانا چاہتی ہو؟”فخر نے پوچھا ۔ لڑکی نے اپنے آدمیوں کی طرف دیکھا ۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ آخر کرسٹوفر نے کہا……”ایک صلاح الدین ایوبی نہ رہا تو کیا فرق پڑے گا؟ایک اور سلطان آجائے گا۔ وہ بھی ایساہی ہوگا ۔ مصریوں کو آخر غلام ہی ہونا پڑے گا۔ تم ایک کام کرو۔ سوڈانیوں کے سالارناجی کے پاس پہنچو اور یہ لڑکی اس کے سامنے کر کے اسے بتائو کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اصل میں کیا ہے اور اس کے ارادے کیا ہیں ؟” ان لوگوں کویہ تو علم تھا کہ ناجی کا صلیبیوں کے ساتھ رابطہ ہے اور موبی اس کے ساتھ بات کرے گی ، لیکین انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ناجی اور اس کے معتمد سالار خفیہ طریقے سے مروائے جاچکے ہیں ۔ اس تک لڑکی کوہی جانا تھا۔ اس کا اکیلے جانا ممکن نہیں تھا۔ اتفاق سے انہیں فخر المصری مل گیا۔ لہٰذا اسی کو استعمال کرنے کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ آدمی چونکہ سلطان ایوبی کی نظر میں آگئے تھے ، اس لیے بھی اس کی نظر میں رہنا چاہتے تھے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے موبی سے سن لیاتھا کہ ان کے شعبہ جاسوسی اور تخریب کاری کا سربراہ رابن اسی کیمپ میں ھے اور فرار ہوگا، اس لیے وہ اسے مدد دینے کے لیے بھی وہاں موجود رہنا چاہتے تھے ۔ان کے ارادے معلوم نہیں کیا تھے ۔ صلاح الدین ایوبی پر چلایا ہوا اِن کاتیر خطا گیا تو انہیں سلطان ایوبی کے سامنے لے جایا گیا تھا۔ ان کا بہروپ اور ڈرامہ کا میاب رہا، لیکن ان کا مشن تباہ ہوگیا تھا۔ لہٰذا اب وہ بدلی ہوئی صورتِ حال اور اتفاقات سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کررہے تھے ۔ فخر المصری حسن اور حشیش کے جال میں آگیا تھا۔اس نے واپس کیمپ میں نہ جانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔

اسکو یہ مشورہ دیاگیا کہ وہ لڑکی کولے کر روانہ ہوجائے ، اُن لوگوں نے اسے اپنا ایک اونٹ دے دیا۔ پانی کا ایک مشکیزہ دیا اور تھیلے میں کھاتے کا بہت ساراسامان ڈال دیا۔ ان اشیاء میں کچھ ایسی تھیں جن میں حشیش ملی ہوئی تھی ۔ موبی کو ان کا علم تھا۔ فخر کو ایک لمبا چغہ اور تاجرروں والی دستار پہنادی گئی ۔ لڑکی اونٹ پر سوار ہوئی ۔ اس کے پیچھے فخر سوار ہوگیا اور اونٹ چل پڑا ۔ فخر گرد و پیش سے بے خبر تھا اور وہ اپنے ماضی سے بھی بے خبر ہوگیاتھا۔صرف یہ احساس اس پر غالب تھا کہ روئے زمین کی حسین ترین لڑکی اس کے قبضے میں ہے ، جس نے سلطان کو ٹھکرا کر اسے پسند کیا ہے ۔ فخر نے موبی کو دونوں بازوئوں میں لے کر اس کی پیٹھ اپنے سینے سے لگالی ۔ موبی نے کہا……”تم عیسائی کمان داروں اور اپنے سلطان کی طرح وحشی تو نہیں بنوگے ؟میں تمہاری ملکیت ہوں ۔ جو چاہو کرو، مگر میں پھر تم سے نفرت کروں گی ”۔ ”کہو تو میں اونٹ سے اُتر جاتاہوں ”۔ فخر نے اسے اپنے بازوئوں سے نکال کر کہا……”مجھے صرف یہ بتادو کہ تم مجھے دل سے چاہتی ہو یا محض مجبوری کے عالم میں میری پناہ لی ہے ؟” ”پناہ تو میں ان تاجروں کی بھی لے سکتی تھی ”۔موبی نے جواب دیا……”لیکن تم مجھے اتنے اچھے لگے کہ تمہاری خاطر مذہب تک چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا”……اس نے جذباتی باتیں کرکے فخر کے اعصاب پر قبضہ کر لیا اور رات گزرتی چلی گئی ۔ سفر کم و بیش پانچ دینوں کا تھا، لیکن فخر المصری عام راستوں سے ہٹ کر جارہاتھا، کیونکہ وہ بھگوڑا فوجی تھا۔ موبی کو نیند آنے لیگی ۔ اس نے سر یچھے فخر کے سینے پر رکھ دیا اور گہری نیند سوگئی ۔اونٹ چلتارہا، فخر جاگتارہا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ ٭ ٭ ٭

صلاح الدین ایوبی صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہواہی تھا کہ دربان نے اطلاع دی کہ علی بن سفیان آیاہے ۔ سلطان دوڑ کر باہر نکلا۔ اس کے منہ سے علی بن سفیان کے سلام کے جواب سے پہلے یہ الفاظ نکلے ……”اُدھر کی کیا خبر ہے ؟”

”ابھی تک خیریت ہے ”……علی بن سفیان نے جواب دیا ……”مگر سوڈانی لشکر میں بے اطمینانی بڑھتی جارہی ہے ۔میں نے اس لشکر میں اپنے جو مخبر چھوڑے تھے ، ان کی اطلاعوں سے پتہ چلتاہے کہ ان کے ایک بھی کماندار نے قیادت سنبھال لی تو بغاوت ہوجائے گی ۔” صلاح الدین ایوبی اسے اپنے خیمے میں لے گیا۔علی بن سفیان کہہ رہاتھا……”ناجی اور اس کے سرکردہ سالاروں کو تو ہم نے ختم کردیا ہے ، لیکن وہ مصری فوج کے خلاف سوڈانیوں میں نفرت کا جوزہر پھیلا گئے تھے ، اس کا اثر ذرہ بھر کم نہیں ہوا۔ ان کی بے اطمینانی کی دوسری وجہ اُن کے سالاروں کی گمشدگی ہے ۔ میں نے اپنے مخبروں کی زبانی یہ خبر مشہور کرادی ہے کہ اُن کے سالار بحیرۂ روم کے محاذ پر گئے ہوئے ہیں ، مگر امیرِ محترم !مجھے شک ہوتاہے کہ سوڈانیوں میں شکوک اور شبہات پائے جاتے ہیں ۔ جیسے انہیں علم ہوگیاہے کہ ان کے سالاروں کو قید کرلیاگیاہے اور مار بھی دیاگیاہے ”۔ ”اگر بغاوت ہوگئی تو مصر میں ہمارے جو دستے ہیں ، وہ اسے دباسکیں گے؟”۔صلاح الدین ایوبی نے پوچھا……”کیا وہ پچاس ہزار تجربہ کار فوج کا مقابلہ کر سکیں گے ؟……مجھے شک ہے ”۔ ”مجھے یقین ہے کہ ہماری قلیل فوج سوڈانیوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی ”۔علی بن سفیان نے کہا……”میں اس کا بندوبست کر آیاہوں ۔میں نے عالی مقام نور الدین زنگی کی طرف دو تیز رفتار قاصد بھیج دئیے ہیں ۔ میں نے پیغام بھیجا ہے کہ مصر میں بغاوت کی فضا پیدا ہورہی ہے اور ہم نے جو فوج تیار کی ہے ، وہ تھوڑی ہے اور اس میں سے آدھی فوج محاذ پر ہے ۔ متوقعہ بغاوت کو دبانے کے لیے ہمیں کمک بھیجی جائے ”۔ ”مجھے اُدھر سے کمک کی اُمید کم ہے ”۔سلطان ایوبی نے کہا……”پر سوں ایک قاصد یہ خبر لایاتھا کہ زنگی نے فرینکوں پر حملہ کردیا تھا۔ یہ حملہ انہوں نے ہماری مدد کے لیے کیا تھا۔ فرینکوں کے اُمراء اور فوجی قائدین بحیرۂ روم میں صلیبیوں کے اتحادی بیڑے میں تھے اور فرینکوں کی کچھ فوج مصر میں داخل ہوکر عقب سے حملہ کرنے اور ہمارے سوڈانی لشکر کی پشت پناہی کے لیے مصر کی سرحد پر آگئی تھی ۔ محترم زنگی نے ان کے ملک پر حملہ کر کے اُن کے سارے منصوبے کو ایک ہی وار میں برباد کردیاہے اور شاہ فرینک کے بہت سے علاقے پر قبضہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے صلیبیوں سے کچھ رقم بھی وصول کی ہے ”۔ صلاح الدین ایوبی خیمے کے اندر ٹہلنے لگا۔ جژباتی لیجے میں بولا……”سلطان زنگی کے قاصد کی زبانی وہاں کے کچھ ایسے حالات معلوم ہوئے ہیں جنہوں نے مجھے پریشان کررکھا ہے ”۔ ”کیا اب صلیبی اُدھر یلغار کریں گے ؟”علی بن سفیان نے پوچھا ۔ ”مجھے صلیبیوں کی یلغار کی ذرہ بھر پروا نہیں ”۔ سلطان ایوبی نے جواب دیا……”پریشانی یہ ہے کہ کفار کی یلغار کو روکنے والے شراب کے مٹکوں میں ڈوب گئے ہیں ۔اسلام کے قلعے کے پاسبان حرم میں قید ہوگئے ہیں۔عورت کی زلفوں نے انہیں پابہ زنجیر کردیاہے ۔ علی !چچا اسد الدین شیر کوہ کو اسلام کی تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔ کاش وہ آج زندہ ہوتے ۔ میدانِ جنگ میں مجھے وہی لائے تھے ۔ ہم نے دستے کی کمان کی ہے ۔ میں اُن کے ساتھ صلیبیوں محاصرے میں تین مہینے رہاہوں ۔ مجھے شیر کوہ ہمیشہ سبق دیا کرتے تھے کہ گھبراہٹ اور خوف سے بچنا۔ تائید ایزدی اور رضائے الٰہی کا قائل رہنا اور اسلام کا علم بلند رکھنا ۔ میں شیر کوہ کی کمان میں مصریوں اور صلیبیوں کی مشترک فوج کے خلاف بھی لڑاہوں ۔ سکندر یہ میں محاصرے میں رہاہوں ۔شکست میرے سر پر آگئی تھی ۔ میرے مٹھی بھر عسکری بددِل ہوتے جارہے تھے ۔ میں نے کس طرح اُن کے حوصلے اور جذبے تروتازہ رکھے ؟یہ میراخداہی بہتر جانتا ہے ۔ تاآنکہ چچا شیر کوہ نے حملہ آور ہوکر محاصرہ توڑا……تم یہ کہانی اچھی طرح جانتے ہو۔ ایمان فروشوں نے کفار کے ساتھ مل کر ہمارے لیے کیسے کیسے طوفان کھڑے کیے ، مگر میں گھبرایا نہیں ۔ دِل نہیں چھوڑا”۔ ”مجھے سب کچھ یاد ہے سلطان !”……علی بن سفیان نے کہا……”اس قدر معرکہ آرائیوں اور قتل و غارت کے بعد توقع تھی کہ مصری راہِ راست پر آجائیں گے ، مگر ایک غدار مرتاہے تو ایک اور اس کی جگہ لے لیتا ہے ۔ میرا مشاہدہ یہ ہے کہ غدار کمزور خلافت کی پیداوار ہوتے ہیں ۔ اگر فاطمی خلافت حرم میں گم نہ ہوجاتی تو آج آپ صلیبیوں سے یورپ میں لڑرہے ہوتے ، مگر ہمارے غدار بھائی انہیں سلطنتِ اسلامیہ سے باہرنہیں جانے دے رہے ۔ جب بادشاہ عیش و عشرت میں پڑجائیں تو رعایا میں سے بھی کچھ لوگ بادشاہی کے خواب دیکھنے لگتے ہیں ۔ وہ کفار کی طاقت اور مدد حاصل کرتے ہیں ۔ ایمان فروشی میں وہ اس قدر اندھے ہوجاتے ہیں کہ کفار کے عزائم اور اپی بیٹیوں کی عصمتوں تک کو بھلادیتے ہیں ”۔ ” مجھے ہمیشہ انہی لوگوں سے ڈرآتاہے ”۔ صلاح الدین ایوبی نے کہا۔”اللہ نہ کرے ، اسلام کانام جب بھی ڈوبا مسلمانوں کے ہاتھوں سے ڈوبے گا۔ ہماری تاریخ غداروں کی تاریخ بنتی جارہی ہے ۔ یہ رجحان بتارہاہے کہ ایک روزمسلمان جو برائے نام مسلمان ہوں گے ، اپنی سرزمین کفار کے حوالے کردیں گے ۔ اگر اسلام کہیں زندہ رہاتو وہاں مسجدیں کم اور قحبہ خانے زیادہ ہوں گے ۔ ہماری بیٹیاں صلیبیوں کی طرح بال کھلے چھوڑ کر بے حیا ہوجائیں گی ۔ کفار انہیں اسی راستے پر ڈال رہے ہیں ،بلکہ ڈال چکے ہیں ……اب مصر سے پھر وہی طوفان اُٹھ رہاہے ۔ علی !تم اپنے محکمے کو اور مضبوط اور وسیع کرلو۔ میں نے اپنے رفیقوں سے کہہ دیاہے کہ دشمن کے علاقوں میں جاکر شبخون مارنے اور خبریں لانے کے لیے تنو مند اور ذہین جوانوں کا انتخاب کرو۔ صلیبی اس محاذ کو مضبوط اور پُر اثر بنارہے ہیں ، تم فوری طور پر جاسوسی کرو، جنگ کی تیاری کرو……فوری طور پر کرنے والا کام یہ ہے کہ سمندرسے کئی ایک صلیبی بچ کر نکلے ہیں۔ ان میں زیادہ تر زخمی ہیں اور جو زخمی نہیں ، وہ کئی کئی دِن سمندر میں ڈوبنے اور تیر نے کی وجہ سے زخمیوں سے بد تر ہیں ۔ ان سب کا علاج معالجہ ہورہاہے ۔میں نے سب کو دیکھا ہے ، تم بھی انہیں دیکھ لو اور اپنی ضرورت کے مطابق ان سے معلومات حاصل کرو”۔

سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کرنا شتے کے لیے کہا اور علی بن سفیان سے کہا……”کل کچھ زخمی اور کچھ بھلی لڑکیاں میرے سامنے لائی گئی تھیں ۔ چھ تو سمندر سے نکلے ہوئے قیدی ہیں ۔ ان میں ایک پر مجھے شک ہے کہ وہ سپاہی نہیں ۔رتبے اور عہدے والا آدمی ہے ۔ سب سے پہلے اسے ملو، پانچ تاجر سات عیسائی لڑکیوں کو ساتھ لائے تھے”……اس نے علی بن سفیان کو لڑکیوں کے متعلق وہی کچھ بتایا جو تاجروں نے بتایاتھا۔ سلطان ایوبی نے کہا……”میں نے لڑکیوں کو دراصل حراست میں لیا ہے ، لیکن انہیں بتایا ہے کہ میں انہیں پناہ میں لے رہاہوں۔لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ وہ غریب گھرانوں کی لڑکیاہیں اور پھر ان کا یہ بیان کہ انہیں ایک جلتے ہوئے جہاز میں سے کشتی میں بٹھا کر سمندر میں اُتارا گیا اور کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ۔ مجھے شکوک میں ڈال رہاہے ۔ میں نے انہیں الگ خیمے میں رکھا ہے اور سنتری کھڑا کر دیاہے ۔ تم ناشتے کے فوراً بعد اس قیدی اور ان لڑکیوں کو دیکھو”۔

آ خر میں صلاح الدین ایوبی نے مُسکراکر کہا……”کل دِن کے وقت ساحل پر ٹہلتے ہوئے مجھ پر ایک تیر چلایا گیاتھا، جو میرے پائوں کے درمیان ریت میں لگا”……اس نے تیر علی بن سفیان کو دے کر کہا ……”علا قہ چٹانی تھا۔ محافظ تلاش اور تعاقب کے لیے بہت دوڑے ، مگر انہیں کوئی تیر انداز نظر نہیں آیا۔ اس علاقے سے انہیں یہ پانچ تاجر ملے ، جنہیں محافظ میرے پاس لے آئے ۔ انہوں نے یہ سات لڑکیا بھی میرے حوالے کیں اور چلے گئے ”۔

”اور وہ چلے گئے ؟”علی بن سفیان نے حیرت سے کہا……”آپ نے انہیں جانے کی اجازت دے دی ؟”

”محافظون نے ان کے سامان کی تلاشی لی تھی ”… سلطان ایوبی نے کہا……”اُن سے ایسی کوئی چیز برآمد نہیں ہوئی جس سے اُن پر شک ہوتا”۔

علی بن سفیان تیر کو غور سے دیکھتا رہا اور بولا……”سلطان اور سراغ رساں کی نظر میں بڑا فرق ہو تاہے ۔ میں سب سے پہلے ان تاجروں کو پکڑنے کی کوشش کروں گا”۔

علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کے خیمے سے باہر نکلا تو دربان نے اسے کہا ……”یہ کمان دار اطلاع لایا ہے کہ کل سات عیسائی لڑکیاں قید میں آئی تھیں ۔اُن میں سے ایک لاپتہ ہے ۔کیا سلطان کو یہ اطلاع دینا ضروری ہے ؟۔یہ کوئی اہم واقعہ تو نہیں کہ سلطان کو پریشان کیا جائے ”۔

علی بن سفیان گہری سوچ میں پڑگیا۔ کمان دار جو اطلاع دینے آیاتھا ، اس نے علی بن سفیان کے قریب آکر آہستہ سے کہا……ایک عیسائی لڑکی کا لاپتہ ہوجانا تو اتنا اہم واقعہ نہیں ، مگر اہم یہ ہے کہ فخر المصری نام کا کماندار بھی رات سے لاپتہ ہے ۔رات کے سنتریوں نے بتایا ہے کہ وہ لڑکویں کے خیمے تک گیاتھا، وہاں سے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا اور پھر کہیں نظر نہیں آیا ۔ رات وہ گشت پر نکلاتھا ”۔

علی بن سفیان نے ذرا سوچ کر کہا……”یہ اطلاع سلطان تک ابھی نہ جائے ۔ رات کے اُس وقت کے تمام سنتریوں کو اکٹھا کرو، جب فخر گشت پر نکلا تھا”…… اس نے سلطان ایوبی کے محافظ دستے کے کمان دار سے کہا کہ کل سلطان کے ساتھ جو محافظ ساحل تک گئے تھے ، انہیں لائو۔ وہ وہیں تھے ۔ چاروں سامنے آگئے تو علی بن سفیان نے انہیں کہا……”کل جہاں تم نے تاجروں اور لڑکیوں کو دیکھا تھا، وہاں فوراً پہنچو۔ اگر وہ تاجر ابھی تک وہیں ہیں تو انہیں حراست میں لے لو اور وہیں میرا انتظار کرو اور اگر جاچکے ہوں تو فوراً وا پس آئو”۔

محافظ روانہ ہوگئے تو علی بن سفیان لڑکیوں کے خیمے تک گیا۔ چھ لڑکیاں باہر بیٹھی تھی اور سنتری کھڑا تھا۔ عی نے لڑکیوں کو اپنے سامنے کھڑا کر کے عربی زبان میں پوچھا …… ”ساتویں لڑکی کہاں ہے ؟”
لڑکیوں نے ایک دوسری کے منہ کی طرف دیکھا اور سر ہلائے ۔ علی بن سفیان نے کہا…”تم سب ہماری زبان سمجھتی ہو”۔

لڑکیاں اسے حیران سا ہوکے دیکھتی رہیں ۔علی اُن کے چہروں اور ڈیل ڈول سے شک میں پڑگیا تھا۔وہ لڑکیوں کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور عربی زبان میں کہا……”ان لڑکیوں کے کپڑے اُتار کر ننگا کردو اور بارہ وحشی قسم کے سپاہی بلا لائو”۔

تمام لڑکیاں بدک کر پیچھے کو مُڑیں ۔ دو تین نے بیک وقت بولنا شروع کردیا، وہ عربی زبان بول رہی تھیں……”لڑکیوں کے ساتھ تم ایسا سلوک نہیں کر سکتے ”……ایک نے کہا…… ”ہم تمہارے خلاف نہیں لڑیں”۔

علی بن سفیان کی ہسنی نکل گئی ۔اس نے کہا……”میں تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کروں گا۔ تم نے جس طرح ایک ہی دھمکی سے عربی بولنی شروع کردی ہے ،اب بغیر کسی دھمکی کے یہ بتا دو کہ ساتویں لڑکی کہاں ہے”……سب نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔علی نے کہا……”میں اس سوال کا جواب لے کر رہوں گا۔ تم نے سلطان پر ظاہر کیا ہے کہ تم ہماری زبان نہیں جانتیں ، اب تم ہماری زبان ہماری طرح بول رہی ہو۔ کیا میں تمہیں چھوڑدوں گا؟”……اس نے سنتری سے کہا……”انہیں خیمے کے اندر بٹھا دو”۔

رات کے سنتری آگئے تھے ۔ فخر المصری کی گشت کے وقت کے سنتریوں سے علی بن سفیان نے پوچھ گچھ کی ۔ آخر لڑکیوں کے خیمے والے سنتری نے بتایا کہ فخر رات اُسے یہاں کھڑا کر کے زخمیوں کے خیموں کی طرف گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اسے اس کی آواز سنائی دی ……”کون ہوتم ؟نیچے آئو”……سنتری نے اُدھر دیکھا تو اندھیرے میں اسے کچھ بھی نظر نہ آیا ۔ سامنے مٹی کے ٹیلے پر اُسے ایک آدمی کا سایہ نظر آیا اور وہ سایہ وہیں غائب ہوگیا۔

علی بن سفیان فوراً وہاں گیا۔ یہ ٹیلہ ساحل کے قریب تھا۔ اس کی مٹی ریتلی تھی ۔ ایک جگہ سے صاف پتہ چل رہاتھا کہ وہاں کوئی اوپر گیا ہے ۔ وہاں زمین پر دو قسم کے پائوں کے نشان تھے ۔ ایک نشان تو مرد کا تھا، جس نے فوجیوں والا جو تا پہن رکھا تھا۔ دوسرا نشان چھوٹے جوتے کا تھا اور زنانہ لگتا تھا۔ زمین کچی اور ریتلی تھی تھی۔ زنانہ نشان جدھر سے آیاتھا، علی بن سفیان اُدھر کو چل پڑا۔یہ نشان اُسے اس خیمے تک لے گئے جہاں موبی رابن سے ملی تھی ۔ اس نے خیمے کا پردہ اُٹھا یا اور اندر چلا گیا۔

اس کی چہرہ شناس نگاہوں نے زخمی قیدیوں کو دیکھا۔سب کے چہرے بھانپے ۔ رابن بیٹھا ہوا تھا۔اس نے علی بن سفیان کو دیکھا اور فوراً ہی کر اہنے لگا،جیسے اسے دردکا اچانک دورہ پڑا ہو۔علی نے اسے کندھے سے پکڑ کر اُٹھا لیا اور خیمے سے باہر لے گیا۔ اس سے پوچھا……”رات کو ایک قیدی لڑکی اس خیمے میں آئی تھی ،کیوں آئی تھی ؟”……رابن اسے ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جن میں حیرت تھی اور ایسا تاثر بھی جیسے وہ کچھ سمجھا ہی نہ ہو۔ علی بن سفیان نے اُسے آہستہ سے کہا……”تم میری زبان سمجھتے ہو دوست!میں تمہاری زبان سمجھتا ہوں ۔بول سکتاہوں ، لیکن تمہیں میری زبان میں جواب دینا ہوگا”……رابن اس کا منہ دیکھتا رہا۔علی نے سنتری سے کہا۔”اسے خیمے سے باہر رکھو”۔

علی بن سفیان خیمے کے اندر چلاگیا اور قیدیوں سے اُن کی زبان میں پوچھا ۔ ”رات کو لڑکی اس خیمے میں کتنی دیر رہی تھی ؟اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالو”۔

سب چپ رہے ،مگر ایک اور دھمکی سے ایک زخمی نے بتادیا کہ لڑکی خیمے میں آئی تھی اور رابن کے پاس بیٹھی یا لیٹی رہی تھی ۔ یہ زخمی سمندر سے جلتے جہاز سے کودا تھا۔اس نے آگ کا بھ اور پانی کا بھی قہر دیکھا تھا۔ وہ اتبا زخمی نہیں ،جتنا خوف زدہ تھا۔ وہ کسی اور مصیبت میں پڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اس نے بتا یا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ رابن اور لڑکی کے درمیان کیا باتیں ہوئی اور لڑکی کون تھی ۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ رابن کا عہدہ کیا ہے ۔ وہ اس کے صرف نام سے واقف تھا۔ا س نے یہ بھی بتادیا کہ رابن اس کیمپ میں آنے تک بالکل تندرست تھا۔ یہاں آکر وہ اس طرح کراہنے لگا، جیسے اُسے اچانک کسی بیماری کا دورہ پڑگیا ہو۔

علی بن سفیان ایک محافظ کی راہنمائی میں اُن پانچ آدمیوں کو دیکھنے چلاگیا جو تاجروں کے بہروپ میں کچھ دُور خیمہ زن تھے ۔محافظوں نے انہیں الگ بٹھا رکھا تھا۔علی کو انہوں نے پہلی اطلاع یہ دی کہ اُن کے پاس کل دو اونٹ تھے ، مگر آج ایک ہی ہے ۔ یہی اشارہ کافی تھا۔ وہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے کہ دوسرا اونٹ کہاں ہے ۔ دوسرے اونٹ کے پائوں کے نشان مل گئے ۔ علی بن سفیان نے انہیں کہا……”تمہاراجُرم معمولی چوری چکاری نہیں ہے ۔تم ایک پوری سلطنت اور اس کی تمام ترآبادی کے لیے خطرہ ہو۔ا سلیے میں تم پر ذرہ بھر رحم نہیں کروں گا۔ کیا تم تاجر ہو؟”

”ہاں”……سب نے سر ہلا کر کہا……”ہم تاجر ہیں جناب ! ہم بے گناہ ہیں ”۔

علی بن سفیان نے کہا……”اپنے ہاتھوں کی اُلٹی طرف میرے سامنے کرو”۔ پانچوں نے ہاتھ اُلٹے کر کے آگے کردئیے ۔علی نے سب کے بائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور شہادت کی اُنگلی کی درمیانی جگہ کو دیکھا اور ایک آدمی کو کلائی سے پکڑ کر گھسیٹ لیا ۔اسے کہا……”کمان اور ترکش کہاں چھپا رکھی ہے؟” اس آدمی نے معصوم بننے کی بہت کوشش کی ۔علی نے سلطان ایوبی کے ایک محافظ کو اپنے پاس بلا کر اس کے بائیں ہاتھ کی اُلٹی طرف اسے دکھائی ۔اس کے انگوٹھے کے اُلٹی طرف اُس جگہ جہاں انگوٹھا ہتھیلی کے ساتھ ملتا ہے ، یعنی جہاں جوڑ ہوتاہے ، وہاں ایک نشان تھا۔ ایسا نشان اس آدمی کے انگوٹھے کے جوڑ پر بھی تھا۔علی نے اسے اپنے محافظ کے متعلق بتایا……”یہ سلطان ایوبی کا بہترین تیر انداز ہے اور یہ نشان اس کا ثبوت ہے کہ یہ تیر زنداز ہے ”۔ اس کے انگوٹھے کی اُلٹی طرف ایک مدھم سانشان تھا، جیسے وہاں بار بار کوئی چیز رگڑی جاتی رہی ہو۔ یہ تیروں کی رگڑ کے نشان تھے ۔تیر دائیں ہاتھ سے پکڑا جاتا ہے ۔کمان بائیں ہاتھ سے پکڑی جاتی ہے ، تیر کا اگلا حصہ بائیں ہاتھ کے انگوٹھے پر ہوتاہے اور جب تیر کمان سے نکلتا ہے تو انگوٹھے پر رگڑ کھا جاتا ہے ۔ایسا نشان ہر ایک تیر انداز کے ہاتھ میں ہوتاتھا۔ علی بن سفیان نے کہا…… ”ان پانچ میں تم اکیلے تیر انداز ہو۔کمان اور ترکش کہاں ہے؟”…… پانچوں چپ رہے ۔علی نے ان پانچ میں سے ایک کو پکڑ کر محافظوں سے کہا…… ”اس کو اُس درخت کے ساتھ باند ھ دو”۔ اسے کھجور کے درخت کے ساتھ کھڑا کرکے باندھ دیاگیا۔علی نے اپنے تیر انداز کے کان میں کچھ کہا۔ تیر انداز نے کندھے سے کمان اُتار کر اس میں تیر رکھا اور درخت سے بندھے ہوئے آدمی کا نشانہ لے کر تیر چھوڑا ۔ تیر اس آدمی کی دائیں آنکھ میں اتر گیا ۔وہ تڑپنے لگا۔ علی نے باقی چار سے کہا……”تم میں کتنے ہیں جو صلیب کی خاطر اس طرح تڑپ تڑپ کر جان دینے کو تیار ہیں ؟اس کی طرف دیکھو”……انہوں نے دیکھا۔ وہ آدمی چیح رہاتھا، تڑپ رہاتھا، اس کی آنکھ سے خون بُری طرح بہہ رہاتھا۔ ”میں تم سے وعدہ کرتاہوں ”…… علی بن سفیان نے کہا…… ”کہ باعزت طریقے سے تم سب کو سمندر پار بھیج دوں گا……”دوسرے اونٹ پر کون گیا ہے ؟کہاں گیا ہے ؟” ”تمہارا اپنا ایک کمان دار ہمارا ایک اونٹ ہم سے چھین کر لے گیا ہے ”……ایک آدمی نے کہا۔ ”اور ایک لڑکی بھی ”۔ علی بن سفیان نے کہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد علی بن سفیان کے فن نے اُن سے اعتراف کروالیا کہ وہ کون ہیں اور کیا ہیں ، مگر انہوں نے یہ جھوٹ بولا کہ لڑکی رات خیمے سے بھاگ آئی تھی اور اس نےبتایا کہ صلاح الدین ایوبی نےرات اسے اپنے خٰمے میں رکھا تھا، اس نے شراب پی رکھی تھی اور لڑکی کو بھی پلائی تھی اور لڑکی گھبراہٹ اور خوف کے عالم میں آئی تھی ۔ اس کے تعاقب میں فخر المصری نام کا ایک کمان دار آیا اور اس نے جب لڑکی کی باتیں سنیں تو اسے ہمارے اونٹ پر بٹھا کر زبردستی لے گیا۔ انہوں نے وہ تمام بہتان علی بن سفیان کو سنائے جو لڑکی نے سلطان ایوبی پر لگائے تھے ۔ علی نے مُسکراکر کہا ……”تم پانچ تربیت یافتہ عسکری اور تیر انداز اور ایک آدمی تم سے لڑکی بھی لے گیا اور اونٹ بھی ”……اس نے انہی کی نشاندہی پر زمین میں دبائی ہوئی کمان اور ترکش بھی نکلوالی ۔ ان چاروں کو خیمہ گاہ میں بھجوادیا گیا۔ پانچواں آدمی تڑپ تڑپ کر مرچکا تھا۔ اونٹ کے پائوں کے نشان صف نظر آرہے تھے ۔ علی بن سفیان نے نہایت سرعت سے دس سوار بلائے اور انہیں اپنی کمان میں لے کر اس طرف روانہ ہوگیا، جدھر اونٹ گیاتھا، مگر اونٹ کی روانگی اور اس کے تعاقب میں علی بن سفیان کی روانگی میں ، چودہ پندرہ گھنٹوں کا فرق تھا، اونٹ تیر تھا اور اسے آرام کی بھی زیادہ ضرورت نہیں تھی ۔اونٹ ، پانی اور خوراک کے بغیر چھ سات دِن تروتازہ رہ سکتا ہے ۔ا سکے مقابلے میں گھوڑوں کو راستے میں کئی بار آرام، پانی اور خوراک کی ضرورت تھی ۔ان عناصر نے تعاقب ناکام بنادیا۔اونٹ نے چودہ پندرہ گھنٹوں کا فرق پورا نہ ہونے دیا۔ فخر المصری نے تعاقب کے پیشِ نظر قیام بہت کم کیاتھا۔ علی بن سفیان کو راستے میں صرف ایک چیز ملی ، یہ ایک تھیلا تھا۔ اس نے رُک کر تھیلا اُٹھایا ،کھول کر دیکھا، اس میں کھانے پینے کی چیزیں تھیں ۔ اسی تھیلے میں ایک اور تھیلا تھا۔ اس میں بھی وہی چیزیں تھیں ۔علی بن سفیان کے سونگھنے کی تیز حس نے اسے بتادیا کہ ان اشیاء میں حشیش ملی ہوئی ہے ۔راستے میں اُسے دوجگہ ایسے آثار ملے تھے ، جن سے پتہ چلتا تھا کہ یہاں اونٹ رُکا ہے اور سوار یہاں بیٹھے ہیں ۔کھجوروں کی گٹھلیاں ، پھلوں کے بیج اور چھلکے بھی بکھرے ہوئے تھے ۔تھیلے نے اسے شک میں ڈال دیا۔ اس کے ذہن میں یہ شک نہ آیا کہ فخرالمصری کو حشیش کے نشے میں لڑکی اپنے محافظ کے طور پر ساتھ لے جارہی ہے ۔تاہم اس نے تھیلا اپنے پاس رکھا ، مگر تھیلے کی تلاشی اور قیام نے وقت ضائع کردیاتھا۔ ٭ ٭ ٭

فخر المصری اور موبی منزل پر نہ بھی پہنچتے اور راستے میں پکڑے بھی جاتے تو کوئی فرق نہ پڑتا ۔سوڈنی لشکر میں ناجی ،اوروش اور ان کے ساتھی جو زہر پھیلا چکے تھے وہ اثر کر گیا تھا۔ فاطمی خلافت کے وہ فوجی سربراہ جو برائے نام جرنیل اور دراصل حاکم بنے ہوئے تھے ،سلطان صلاح الدین ایوبی کو ایک ناکام امیر اور بے کار حاکم ثابت کرنا چاہتے تھے ۔ مسلمان حکمران حرم میں اُن لڑکیوں کے اسیر ہوگئے تھے ۔حکومت کا کاروبار خود ساختہ افسر چلارہے تھے ، من مانی اور عیش و عشرت کررہے تھے ۔وہ نہیں چاہتے تھے کہ صلاح الدین ایوبی جیسا کوئی مذہب پسند اور قوم پرست قائد قوم کو جگا دے اور حکمرانوں اور سلطانوں کو حرم کی جنت سے باہر لاکر حقائق کی دُنیا میں لے آئے ۔ سلطان ایوبی کے پہلے معرکوں سے جو اس نے اپنے چچا شیر کوہ کی قیادت میں لڑے تھے ، یہ لوگ جان چکے تھے کہ اگر یہ شخص اقتدار میں آگیا تو اسلامی سلطنت کو مذہت اور اخلاقیات کی پابندیوں میں جکڑلے گا۔ لہٰذا انہوں نے ہروہ داو کھیلا جو سلطان ایوبی کو چاروں شانے چت گرا سکتا تھا۔ انہوں نے درپردہ صلیبیوں سے تعاون کیا اور ان کے جاسوسوں اور تخریب کاروں کے لیے زمین ہموار کی اور اس کے راستے میں چٹانیں کھڑی کیں ۔اگر نور الدین زنگی نہ ہوتا تو آج نہ صلاح الدین ایوبی کا تاریخ میں نام ہوتا ، نہ آج نقشے پر اتنے زیادہ اسلامی ممالک نظر آتے..
نور الدین زنگی نے ذراسے اشارے پر بھی سلطان ایوبی کو کمک اور مدد بھیجی ۔صلیبیوں نے مصری فوج کے سوڈانیوں کے بلاوے پر بحیرۂ روم سے حملہ کیا تو نورالدین زنگی نے اطلاع ملتے ہی خشکی پر صلیبیوں کی ایک مملکت پر حملہ کر کے اُن کے اس لشکر کو مفلوج کردیا جو مصر پر حملہ کرنے کے لیے جارہاتھا۔یہ تو سلطان ایوبی کا نظامِ جاسوسی ایسا تھا کہ اس نے صلیبیوں کا بیڑہ غرق کردیا۔ اب علی بن سفیان نے زنگی کی طرف برق رفتار قاصد یہ خبر دینے کے لیے دوڑادئیے تھے کہ سوڈانیوں کی بغاوت کا خطرہ ہے اور ہماری فوج کم بھی ہے ، دوحصوں میں بٹ بھی گئی ہے ۔قاصد پہنچ گئے تھے اور نورالدین زنگی نے خاصی فوج کو مصرکی طرف کوچ کا حکم دے دیاتھا۔ بعض مورخین نے اس فوج کی تعداد دوہزار سوار اور پیادہ لکھی ہے اور کچھ اس سے زیادہ بتاتے ہیں ۔بہر حال زنگی نے اپنی مشکلات اور ضرورتیات کی پروانہ کرتے ہوئے سلطان ایوبی کی مشکلات اور ضروریات کو اہمیت اور اولیت دی ، مگر اس کی فوج کو پہنچنے کے لیے بہت دِن درکار تھے ۔ مسلمان نام نہاد فوجی اور دیگر سرکردہ شخصیتوں نے دیکھا کہ مصر میں سلطان ایوبی کے خلاف بے اطمینانی اور بغاوت پھوٹ رہی ہے تو انہوں نے اسے ہوادی ۔ در پردہ سوڈانیوں کو اُکسایا اور اپنے مخبروں کے ذریعے یہ بھی معلوم کرلیا کہ سوڈانیوں کے سالاروں کو مرواکر خفیہ طریقے سے دفن کردیاگیاہے ۔ سوڈانی لشکر کے کم رتبے والے کمان دار سالار بن گئے اور صلاح الزین ایوبی کی اس قلیل فوج پر حملہ کرنے کے منصوبے بنانے لگے ، جو مصر میں مقیم تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی آدھی فوج اور سلطان کی دار الحکومت سے غیر حاضری سے فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے ۔ منصوبہ ایسا تھا کہ جس کے تحت پچاس ہزار سوڈانی فوجی سیاہ گھٹا کی طرح مصر کے آسمان سے اسلام کے چاند کو روپوش کرنے والی تھی ۔

علی بن سفیان قاہرہ پہنچ گیا۔ وہ جن کے تعاقب میں گیاتھا، اُن کا اُس سے آگے کوئی سراح نہیں مل رہاتھا۔ اس نے اپنے اُن جاسوسوں کو بلایاجو اس نے سوڈنی ہیڈ کوارٹر اور فوج میں چھوڑ رکھے تھے ۔ان میں سے ایک نے بتایا کہ گزشتہ رات ایک اونٹ آیاتھا۔ اندھیرے میں جو کچھ نظر آسکا، وہ دوسوار تھے ،ایک عورت اور ایک مرد ۔جاسوس نے یہ بھی بتایاکہ وہ کون سی عمارت میں داخل ہوئے تھے ۔علی بن سفیان کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ وہاں چھاپہ مارتا۔ سوڈانی فوج سلطنتِ اسلامیہ کی فوج تھی، کوئی آزاد فوج نہیں تھی ،مگر علی نے اس خدشے کے پیش نظر چھاپہ نہ مارا کہ یہ جلتی پر تیل کاکام کرے گا۔ اس کا مقصد صرف یہ نہیں تھا کہ موبی اور فخر المصری کو گرفتار کرنا ہے ،بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ سوڈانی قیادت کے عزائم اور آئندہ منصوبے معلوم کیے جائیں ، تاکہ پیش بندی کی جاسکے ۔ اس نے اپنے جاسوسوں کو نئی ہدایات جاری کیں۔جاسوسوں میں غیر مسلم لڑکیا بھی تھیں، جو عیسائی یا یہودی نہیں تھیں۔ یہ قحبہ خانوں کی بڑی ذہین اور تیز طرار لڑکیا تھیں ،مگر علی بن سفیان نے ان پر کبھی سو فیصد بھروسہ نہیں کیاتھا، کیونکہ وہ دوغلا کھیل بھی کھیل سکتی تھیں ۔ ان لڑکیوں سے بھی اُس لڑکی )موبی (کا سراغ نہ مل سکا جس کے تعاقت میں علی آیاتھا۔ ٭ ٭ ٭

چار روز علی بن سفیان دارالحکومت سے باہر مارامارا پھر تارہا۔ اس کا دائرہ کار سوڈانی فوجی قیادت کے ارد گرد کا علاقہ تھا۔ پانچویں رات وہ باہر کھلے آسمان تلے بیٹھا اپنے دوجاسوسوں سے رپورٹ لے رہاتھا۔ اس کے تمام آدمیوں کو معلوم ہوتاتھا کہ کس وقت وہ کہاں ہوتا ہے ۔اُس کے گروہ کا ایک آدمی ایک آدمی کو ساتھ لیے اُس کے پاس آیا اور کہا……”یہ اپنا نام فخر ی المصری بتاتا ہے ، جھاڑیوں میں ڈگمگاتا، گرتا اور اُٹھتا تھا۔ میں نے اس سے بات کی تو کہنے لگا کہ مجھے میری فوج تک پہنچا دو۔ اس سے اچھی طرح بولا بھی نہیں جاتا”……اس دوران فخر المصری بیٹھ گیاتھا۔ ”تم وہی کمان دار ہو جو محاذ سے ایک لڑکی کے ساتھ بھاگے ہو؟” ۔علی بن سفیان نے اُس سے پوچھا ۔ ”میں سلطان کی فوج کا بھگوڑا ہوں ”……فخر نے ہکلائی لڑکھڑاتی زبان میں کہا……”سزائے موت کا حق دار ہوں ، لیکن میری پوری بات سن لیں ، ورنہ تم سب کو سزائے موت ملے گی ”۔ علی بن سفیان اُس کے لب و لہجے سے سمجھ گیا کہ یہ شخص نشے میں ہے یا نشے کی طلب نے اس کا یہ حال کررکھا ہے ۔وہ اسے اپنے دفتر میں لے گیا اور اسے وہ تھیلا دکھایا جو اسے راستے میں پڑا ملاتھا۔ پوچھا ……”یہ تھیلا تمہارا ہے؟اور تم اس سے یہ چیزیں کھاتے رہے ہو؟” ”ہاں ”……فخر المصری نے جواب دیا……”وہ مجھے اسی سے کھلاتی تھی ”۔ اس کے سامنے وہ تھیلا بھی پڑاتھا جو تھیلے کے اندرسے نکلا تھا۔علی نے اس میں سے چیزیں نکال کر سامنے رکھ لی تھیں ۔فخر نے یہ چیزیں دیکھیں تو جھپٹ کر مٹھائی کی قسم کا ایک ٹکڑا اُٹھا لیا۔ علی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پر اپناہاتھ رکھ دیا۔ فخر نے بے تابی سے کہا……”خدا کے لیے مجھے یہ کھانے دو۔ میری جان اور روح اسی میں ہے ”……مگر علی نے اُس سے وہ ٹکڑا ھین لیا اور اسے کہا……”مجھے ساری واردات سنائو، پھر یہ ساری چیزیں اُٹھا لینا”۔ فخر المصری نڈھال اور بے جان ہواجارہاتھا۔ علی بن سفیان نے اُسے ایک سفوف کھلادیا جو حشیش کا توڑ تھا۔ فخر نے اسے تمام تر واقعہ سنادیا کہ وہ کیمپ سے لڑکی کے تعاقب میں کس طرح گیاتھا۔ تاجروں نے اُسے قہوہ پلایا تھا،جس کے اثر سے وہ کسی اور ہی دُنیا میں جاپہنچا تھا۔ تاجروں )صلیبی جاسوسوں (نے اُس سے جو باتیں کی تھیں ، وہ بھی ا س نے بتائیں اور پھر لڑکی کے ساتھ اس نے اونٹ پر جو سفر کیا تھا، وہ اس طرح سنایا کہ وہ مسلسل چلتے رہے ۔اونٹ نے بڑی اچھی طرح ساتھ دیا۔رات کو وہ تھوڑی دیر قیام کرتے تھے۔ لڑکی اسے کھانے کو دوسرے تھیلے میں سے چیزیں دیتی تھی۔وہ اپنے آپ کو باد شاہ سمجھتاتھا۔ لڑکی نے اسے اپنی محبت کا یقین دلایا اور شادی کا وعدہ کیاتھا اور شرط یہ رکھی تھی کہ وہ اسے سوڈانی کمان دار کے پاس پہنچادے۔ وہ راستے میں ہی لڑکی کو شادی کے بغیر بیوی بنانے کی کوشش کرتا رہا، لیکن لڑکی اسے اپنی بانہوں میں لے کر پیار اور محبت سے ایسے ارادے اور خواہش کو ماردیتی ۔ فخری نے محسوس تک نہ کیا کہ لڑکی اسے حشیش اور اپنے حسن و شباب کے قبضے میں لیے ہوئے ہے ۔تیسرے پڑاو میں جب انہوں نے کھانے پینے کے لیے اونٹ روکا تو تھیلا غائب پایا جو اونٹ کے دوڑ نے سے کہیں گر پڑا تھا۔ لڑکی نے اسے کہا کہ واپس چل کر تھیلا ڈھونڈ لیتے ہیں ،لیکن فخر المصری نے کہا کہ وہ بھگوڑا فوجی ہے، خدشہ ہے کہ اس کا تعاقب ہورہاہوگا۔ لڑکی ضد کرنے لگی کہ تھیلا ضرور ڈھونڈیں گے۔ فخر نے اسے یقین دلایا کہ بھوکا مرنے کا کوئی خطرہ نہیں ، راستے میں کسی آبادی سے کچھ لے لیں گے ، مگر لڑکی آبادی کے قریب جانا نہ چاہتی تھی اور کہتی تھی کہ واپس چلو۔ فخر المصری نے اُسے زبردستی اونٹ پر بٹھالیا اور اس کے پیچھے بیٹھ کر اونٹ کو اُٹھایا ور دوڑا دیا۔ وہ سفر کی تیسری رات تھی ۔اگلی شام وہ شہر سے باہر سوڈانیوں کے ایک کمان دار کے ہاں پہنچ گئے ، مگر فخر المصری اپنے سر کے اندر ایسی بے چینی محسوس کرنے لگا، جیسے کھوپڑی میں کیڑے رینگ رہے ہوں۔ آہستہ آہستہ وہ حقیقی دُنیا آگیا۔ وہ سمجھ نہ سکا کہ یہ حشیش نہ ملنے کا اثر ہے ۔اُس کی تصوراتی بادشاہی اور ذہن میں بسائی ہوئی جنت تھیلے میں کہیں ریگزار میں گرگئی تھی ۔ لڑکی نے اُس کے سامنے کمان دار کو صلیبیوں کا پیغام دیا اور اسے بغاوت پر اُکسایا۔ فخر پاس بیٹھا سنتا رہا اور اُس کے ذہن میں کیڑے بڑے ہوکر تیزی سے رینگنے لگے ۔ نشہ اتر چکا تھا ۔چانچہ اُس نے بے خوف و خطر کمان دار سے یہ بھی کہہ دیا کہ سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے درمیان یہ غلط فہمی پیدا کرنی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نیک بنے پھر تے ہیں مگر عورت اور شراب کے دلدادہ ہیں۔ اُن کی اس طویل گفتگو میں بغاوت کی باتیں بھی ہوئیں۔ اس وقت تو فخر المصری پوری طرح بیدار ہو چکاتھا، لیکن سر کے اندر کی بے چینی اسے بہت پریشان کررہی تھی ۔لڑکی نے کمان دار سے کہا کہ اگر بغاوت کرنی ہے تو وقت ضائع نہ کریں۔ سلطان ایوبی محاذ پر ہے اور اُلجھا ہواہے ۔لڑکی نے یہ جھوٹ بولا کہ صلیبی تین چار دنوں بعد دوسرا حملہ کرنے والے ہیں۔سلطان ایوبی کو یہاں سے بھی فوج محاذ پر بلانی پڑے گی۔ کمان دار نے لڑکی کو بتایا کہ چھ سات دنوں تک سوڈانی لشکر یہاں کی فوج پر حملہ کردے گا۔ فخر یہ ساری گفتگو سنتارہا۔ آدھی رات کے بعد اُسے الگ مرے میں بھیج دیاگیا جہاں اُس کے سونے کا انتظام تھا۔ لڑکی اور کمان دار دوسرے کمرے میں رہے ۔درمیان میں دروازہ تھا جو بند کردیاگیا ۔اسے نیند نہیں آرہی تھی۔اُس نے دروازے کے ساتھ کان لگائے تو اُسے ہنسی کی آزوازیں سنائی دیں،پھر لڑکی کے یہ الفاظ سنائی دئیے……”اسے حشیش کے زور پر یہاں تک لائی ہوں اور اس کی محبوبہ بنی رہی ہوں۔مجھے ایک محافظ کی ضرورت تھی ۔حشیش کا تھیلا راستے میں گر پڑاہے۔ اگر صبح اسے ایک خوراک نہ ملی تو یہ پریشان کرے گا”…… اس کے بعد فخر نے دوسرے کمرے سے جو آوازیں سنیں ، وہ اسے صاف بتارہی تھیں کہ شراب پی جارہی ہے اور بد کاری ہورہی ہے۔ بہت دیر بعد اُسے کمان دار کی آواز سنائی دی……”یہ آدمی اب ہمارے لیے بے کار ہے ۔ اسے قید میں ڈال دیتے ہیں یا ختم کرادیتے ہیں ”……لڑکی نے اس کی تائید کی ۔ فخر المصری پوری طرح بیدار ہوگیا اور وہاں سے نکل بھاگنے کی سوچنے لگا۔رات کا پچھلا پہر تھا۔ وہ اس کمرے سے نکلا۔ اس کا دماغ ساتھ نہیں دے رہاتھا۔ کبھی تو دماغ صاف ہوجاتا، مگر زیادہ دیر ماو ف رہتا۔ صبح کی روشنی پھیلنے تک وہ خطرے سے دُور نکل گیا تھا ۔ اسے اب دوہرے تعاقب کا خطرہ تھا ۔ دونوں طرف اسے موت نظر آرہی تھی ۔ اپنی فوج کے ہاتھوں گرفتار ہوجاتا تو بھی مجرم تھا اور اگر سوڈانی پکڑ لیتے تو فوراً قتل کر دیتے ۔ وہ دن بھر فرعونوں کے کھنڈروں میں چھپا رہا ۔ حشیش کی طلب ، خوف اور غصہ اُس کے جسم و دماغ کے بے کا ر کر رہا تھا ۔ رات تک وہ چلنے سے بھی معذور ہو ا جا رہا تھا ۔ پھر اُسے یہ بھی احساس نہ رہا کہ دِن ہے یا رات اور وہ کہاں ہے ۔ اس کے دماغ میں یہ اِرادہ بھی آیا کہ اس عیسائی لڑکی کو جا کر قتل کر دے ۔ یہ سوچ بھی آئی کہ اونٹ یا گھوڑا مل جائے اور وہ محاز پر سلطان ایوبی کے قدموں میں جا گرے ۔ مگر جو بھی سوچ آتی تھی ، اس پر اندھیرا چھا جاتا تھا جو اُس کی آنکھوں کے سامنے ہر چیز تاریک کر دیتا تھا ۔ اسی حالت میں اسے یہ آدمی ملا ۔ وہ چونکہ جاسوس تھا ، اس لیے تربیت کے مطابق اُس نے فخرالمصری کے ساتھ دوستی اور ہمدردی کی باتیں کیں اور اسے علی بن سفیان کے پاس لے آیا ۔

تصدیق ہو گئی کہ سوڈانی لشکر حملہ اور بغاوت کرے گا اور یہ کسی بھی لمحے ہو سکتا ہے ۔ علی بن سفیان سوچ رہا تھا کہ مقامی کمانڈروں کو فوراً چوکنا کرے اور سلطان ایوبی کو اطلاع دے، مگر وفت ضائع ہونے کا خطرہ تھا ۔ اتنے میں اسے پیغام ملاکہ صلاح الدین ایوبی بلا رہے ہیں ۔ وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔
وہ حیران ہو کر چل پڑا کہ سلطان کو تو وہ محاظ پر چھوڑ آیا تھا ۔ وہ سلطان ایوبی سے ملا تو سلطان نے بتایا … ” مجھے اطلاع مل گئی تھی کہ ساحل پر صلیبی جاسوسوں کا ایک گروہ موجود ہے اور اُن میں سے کچھ اِدھر بھی آگئے ہوں گے ۔ محاظ پر میرا کوئی کام نہیں رہ گیا تھا ۔ میں کمان اپنے رفیقوں کو دے کر یہاں آگیا ۔ دِل اس قد ر بے چین تھا کہ میںیہاں بہت بڑا خطرہ محسوس کر رہا تھا ۔ یہاں کی کیا خبر ہے ؟” علی بن سفیان نے اُسے ساری خبر سنا دی اور کہا …” اگر آپ چاہیں تو میں زبان کا ہتھیار استعمال کر کے بغاوت کو روکنے کی کوشش کروں یا سلطان زنگی کی مدد آنے تک ملتوی کرادوں ۔ میں جاسوسوں کو ہی استعما ل کر سکتا ہوں ۔ ہماری فوج بہت کم ہے ۔ حملے کو نہیں روک سکے گی ”۔ سلطان ایوبی ٹہلنے لگا ۔ اُس کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ گہری سوچ میں کھو گیا تھا اور علی بن سفیا ن اسے دیکھ رہا تھا ۔ سلطان نے رُک کر کہا …… ” ہاں علی !تم اپنی زبان اور اپنے جاسوس استعمال کرو ، لیکن حملے کو روکنے کیلئے نہیں ، بلکہ حملے کے حق میں ۔ سوڈانیوں کو حملہ کرنا چاہیے ، مگر رات کے وقت جب ہماری فوج خیموں میں سوئی ہوئی ہوگی ”۔ علی بن سفیان نے حیرت سے سلطان کو دیکھا ۔ سلطان نے کہا ……” یہاں کے تمام کمانداروں کو بلوالو اور تم بھی آجائو ” …… سلطان ایوبی نے علی بن سفیان کو یہ ہدایت بڑی سختی سے دی …… ” یہ سب کو بتا دینا کہ میرے متعلق اُس کے سوا کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ میں محاظ سے یہاں آگیا ہوں ۔ سوڈانیوں سے میری یہاں موجودگی کو پوشیدہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ میں بڑی احتیاط سے خفیہ طریقے سے آیا ہوں ”۔ تین راتیں بعد …… قاہر ہ تاریک رات کی آغوش میں گہری نیند میں سویا ہوا تھا ۔ ایک روز پہلے قاہرہ کے لوگوں نے دیکھا تھا کہ اُن کی فوج جو مصر سے تیا ر کی گئی تھی ، شہر سے باہر جا رہی تھی ۔ انہیں بتایا گیا تھا کہ فوج جنگی مشقوں کیلئے شہر سے با ہر گئی ہے ۔ نیل کے کنارے جہاں ریتلی چٹانیں اور ٹیلے ہیں وہاں دریا اور ٹیلوں کے درمیان فوج نے جا کر خیمے گاڑ دئیے تھے ۔ فوج پیادہ بھی تھی ، سوار بھی …… رات کا پہلا نصف گزر رہا تھا کہ قاہرہ کے سوئے ہوئے باشندوں کو دُور قیامت کا شور سنائی دیا ۔ گھوڑوں کے سرپٹ بھاگنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ سوئے ہوئے لوگ جاگ اُٹھے ، وہ سمجھے کہ فوج جنگی مشق کر رہی ہے ، مگر شور قریب آتا اور بلند ہوتا گیا ۔ لوگوں نے چھتوں پر چڑھ کر دیکھا ۔ آسمان لال سرخ ہو رہا تھا ۔ بعض نے دیکھا کہ دور دریائے نیل سے آگ کے شعلے اُٹھتے اور تاریک رات کا سینہ چاک کر تے خشکی پر کہیں گرتے تھے ۔ پھر شہر میں سینکڑوں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دئیے۔ شہر والوں کو ابھی معلوم نہیں تھا کہ یہ جنگی مشق نہیں ، باقاعدہ جنگ ہے اور جو آگ لگی ہوئی ہے ، اس میں سوڈانی لشکر کا خاصا بڑا حصہ زندہ جل رہا ہے ۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی ایک بے مثال چال تھی ۔ اس نے دارالحکومت میں مقیم قلیل فوج کو دریائے نیل جور ریتلے ٹیلوں کے درمیان وسیع میدان میں خیمہ زن کر دیا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے فن کا مظاہر ہ کیا تھا ۔ ا س نے سوڈانی لشکر میں اپنے آدمی بھیج کر بغاوت کی آگ بھڑکا دی تھی اور اس کے کمانداروں سے یہ فیصلہ کروالیا تھا کہ رات کو جب سلطان کی فوج گہری نیند سوئی ہوئی ہوگی ، اس پر سوڈانی فوج حملہ کر دے گی اور صبح تک ایک ایک سپاہی کا صفایا کر کے دارالحکومت پر بے خوف و خطر قابض ہوجائے گی اور سوڈانی فوج کا دوسرا حصہ بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم فوج پر حملہ کرنے کیلئے روانہ کر دیا جائے گا …… اس فیصلے اور منصوبے کے مطابق سوڈانی فوج کا ایک حصہ نہایت خفیہ طریقے سے رات کو بحیرئہ روم کے محاظ کیطرف روانہ کر دیا گیا اور دوسرا حصہ دریائے نیل کے کنارے خیمہ زن فو ج پر ٹوٹ پڑا ۔ اس فوج نے سیلاب کی طرح ایک میل وسیت میں پھیلی ہوئی خیمہ گاہ پر ہل بول دیا اور بہت ہی تیزی سے اس علاقے میں پھیل گی ۔ اچانک خیموں پر آگ اور تیل کے بھیگے ہوئے کپڑوں کے جلتے گولے برسنے لگے۔ نیل بھی آگ برسا نے لگا ۔ خیموں کو آگ لگ گئی اور شعلے آسمان تک پہنچنے لگے ۔ سوڈانی فوج کو خیموں میں سلطان ایوبی کی فوج کا نہ کوئی سپاہی ملا ، نہ گھوڑا ، نہ کوئی سوار۔ اس فوج کو وہاں تمام خیمے خالی ملے ۔ کوئی مقابلے کیلئے نہ اُٹھا اور اچانک آگ ہی آگ پھیل گئی ۔ انہیں معلوم نہ تھا کہ سلطان ایوبی نے رات کے پہلے پہر خیموں سے اپنی فوج نکال کر ریتلے ٹیلوں کے پیچھے چھپا دیا تھا اور خیموں میں خشک گھاس کے ڈھیر لگوا دئیے تھے ۔ خیموں پر اور اندر بھی تیل چھڑک دیا تھا ۔ اس نے کشتیوں میں چھوٹی منجنیقیں رکھوا کر شام کے بعد ضرورت کی جگہ بجھوا دی تھیں ۔ جونہی سوڈانی فوج خیمہ گاہ میں آئی سلطان کی چھپی ہوئی فوج نے آگ والے تیر اور نیل سے کشتیوں میں رکھی ہوئی منجنیقوںنے آگ کے گولے پھینکنے شروع کر دئیے۔ خیموں کو آگ لگی تو گھاس اور تیل نے وہاں دوزخ کا منظر دیا ۔ سوڈانیوں کے گھوڑے اپنے پیادہ سپاہیوں کو روندنے لگے ۔ سپاہیوں کے لیے آگ سے نکلنا نا ممکن ہو گیا ۔ چیخوں نے آسمان کا جگر چاک کر دیا ۔ اس قدر آگ نے رات کو دِن بنا دیا ۔ سلطان ایوبی کو مٹھی بھر فوج نے آگ میں جلتی سوڈانیوں کی فوج نے گھیرے میں لے لیا ، جو آگ سے بچ کر نکلتا تھا ، وہ تیروں کا نشانہ بن جاتا تھا ، جو فوج بچ گئی ، وہ بھاگ نکلی ۔ اُدھر سوڈانیوں کی جو فوج محاظ کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے جا رہی تھی ، اُس کا بھی صلاح الدین ایوبی نے انتظام کر رکھا تھا ۔ چند ایک دستے گھات لگا ئے بیٹھے تھے۔ اِن دستوں نے اُس فوج کے پچھلے حصے پر حملہ کر کے ساری فوج میں بھگڈر مچادی ۔ یہ دستے ایک حملے میں جو نقصان کر سکتے تھے، کر کے اندھیرے میں غائب ہو گئے ۔ سوڈانی فوج سنبھل کر چلی تو پچھلے حصے پر پھر ایک اور حملہ ہوا ۔ یہ برق رفتار سوار تھے جو حملہ کر کے غائب ہو گئے ۔ صبح تک اس فوج کے پچھلے حصے پر تین حملے ہوئے ۔ سوڈانی سپاہی اسی سے بدل ہو گئے۔ انہیں مقابلہ کرنے کا تو موقع ہی نہیں ملتا تھا ۔ دن کے وقت کمانداروں نے بڑی مشکل سے فوج کا حوصلہ بحال کیا ، مگر رات کو کوچ کے دوران اُن کا پھر وہی حشر ہوا ۔ دوسری رات تاریکی میں اُن پر تیر بھی برسے ۔ انہیں اندھیرے میں گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنائی دیتی تھیں جو اُن کی فوج کے عقب میں کشت و خون کرتی دور چلی جاتی تھیں ۔ تین چا ر یورپی مورخوں نے جن میں لین پول اور ولیم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں ، لکھا ہے کہ دشمن کی کثیر نفری پر رات کے وقت چند ایک سواروں سے عقبی حصے پر شب خون مارنا اور غائب ہو جانا سلطان ایوبی کی ایسی جنگی چال تھی جس نے آگے چل کر صلیبیوں کو بہت نقصان پہنچایا۔ اس طرح سلطان ایوبی دشمن کی پیش قدمی کی رفتار کو بہت سست کر دیتا تھا اور دشمن کو مجبور کر دیتا تھا کہ وہ اُ س کی پسند کے میدان میں لڑے جہاں سلطان ایوبی نے جنگ کا پانسہ پلٹنے کا انتظام کر رکھا ہوتا تھا ۔ ان مورخین نے سلطان ایوبی کے ان جانبازسواروں کی جرأ ت اور برق رفتاری کی بہت تعریف کی ہے ۔ آج کے جنگی مبصر ، جن کی نظر جنگوں کی تاریخ پر ہے ، رائے دیتے ہیں کہ آج کے کمانڈو اور گوریلا آپریشن کا موجد صلاح الدین ایوبی ہے ۔ وہ اس طریقئہ جنگ سے دشمن کے منصوبے درہم برہم کر دیا کرتا تھا ۔ سوڈانیوں پر اس یہی طریقہ آزمایا اور صرف دو راتوں کے بار بار شب خون سے اس نے سوڈانی سپاہیوں کا لڑنے کا جذبہ ختم کر دیا ۔ ان کی قیادت میں کوئی دماغ نہ تھا ۔ یہ قیادت فوج کو سنبھال نہ سکی ۔ اس فوج میں علی بن سفیان کے بھی آدمی سوڈانی سپاہیوں کے بھیس میں موجود تھے ۔ انہوں نے یہ افواہ پھیلادی کہ عرب سے ایک لشکر آرہا ہے جو انہیں کاٹ کر رکھ دے گا ۔ انہوں نے بددلی اور اور فرار کا رحجان پیدا کرنے میں پوری کامیابی حاصل کی ۔ فوج غیر منظم ہو کر بکھر گئی۔ نیل کے کنارے اس فوج کا جو حشر ہوا ، وہ عبرت ناک تھا ……یہ افواہ غلط ثابت نہ ہوئی کہ عرب سے فوج آرہی ہے ۔ نورالدین زنگی کی فوج آگئی جس کی نفری بہت زیادہ نہیں تھی ۔ بعض مورخین نے دو ہزار سوار اور دہ ہزار پیادہ لکھی ہے ۔ بغض کے اعدادو شمار اس کے کچھ زیادہ ہیں ۔ تا ہم صلاح الدین ایوبی کو سہارا مل گیا اور اُس نے فوراً اس کمک کی قیادت سنبھال لی ۔ اس کیفیت میں جب کہ سوڈانیوں کا پچاس ہزار لشکر سلطان ایوبی کے آگ کے پھندے میں اور اُدھر صحرا میں شب خونوں کی وجہ سے بد نظمی کا شکار ہو گیا تھا ، یہ تھورڑی سی کمک بھی کافی تھی ۔ سلطان ایوبی اس کمک سے اور اپنی فوج سے سوڈانیوں کا قتلِ عام کر سکتا تھا ، لیکن اُس نے ڈپلو میسی سے کام لیا ۔ سوڈانی کمان کے کمانداروں کو پکڑا اور انہیں ذہن نشیں کرایا کہ اُن کے لیے تباہی کے سوا کچھ نہیںرہا ، لیکن وہ انہیں تباہ نہیں کرے گا ۔ کمانداروں نے اپنا حشر دیکھ لیا تھا ۔ وہ اب سلطان کے عتاب اور سزا سے خائف تھے ، لیکن سلطان نے انہیں بخش دیا اور سزا دینے کی بجائے سوڈانیوں کی بچی کچھی فوج کو سپاہیوں سے کاشت کاروں میں بدل دیا ۔انہیں زمینیں دیں اور کھیتی باڑی میں انہیں سرکاری طور پر مدد دی اور پھر انہیں یہ اجازت بھی دے دی کہ ان میں سے جو لوگ فوج میں بھرتی ہونا چاہتے ہیں، ہو سکتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو یوں دانشمندی سے ٹھکانے لگانے لگا کر صلاح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج اور اپنی فوج کو یکجا کرکے اس میں وفادار سوڈانیوں کو بھی شامل کر کے ایک فوج منظم کی اور صلیبیوں پر حملے کے منصوبے بنانے لگا ۔اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ اپنے جاسوسوں اور شب خون مارنے والے جانبازوں کے دستے فوراً تیار کرے۔ اُدھر صلیبیوں نے بھی جاسوسی اور تخریب کاری کا انتظام مستحکم کرنا شروع کردیا ۔

صلاح الدین ایوبی کے دور کے واقع نگاروں کی تحریروں میں ایک شخص سیف اللہ کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے کہ اگر کسی انسان نے سلطان ایوبی کی عطاعت کی ہے تو وہ سیف اللہ تھا۔ سلطان ایوبی کے گہرے دوست اور دستِ راست بہائوالدین شداد کی اس ڈائری میں جو آج بھی عربی زبان میں محفوظ ہے، سیف اللہ کا ذکر ذرا تفصیل ہے ملتا ہے ۔ یہ شخص جس کا نام کسی باقاعدہ تاریخ میں نہیں ملتا ، صلاح الدین ایوبی کی وفات کے بعد سترہ سال زندہ رہا ۔واقع نگار لکھتے ہیں کہ ا س نے عمر کے یہ آخری سترہ سال سلطان ایوبی کی قبر کی مجاوری میں گزارے تھے۔ اس نے وصیت کی تھی کہ وہ مر جائے تو اسے سلطان کے ساتھ دفن کیا جائے ، مگر سیف اللہ کی کو ئی حیثیت نہیں تھی ۔ وہ ایک گمنام انسان تھا ، جسے عام قبرستان میں دفن کیا گیا اور وہ وقت جلدی ہی آگیا کہ اس قبرستان پر انسانوں نے بستی آباد کر لی اور قبرستان کا نام و نشان مٹا ڈالا ۔

تاریخی لحاظ سے سیف اللہ کی اہمیت یہ تھی کہ وہ سمندر پار سے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا تھا ۔ اُس وقت اس کا نام میگناناماریوس تھا ۔ اُس نے اسلام کا صرف نام سنا تھا ۔ اسے کچھ علم نہیں تھا کہ اسلام کیسا مذہب ہے ۔ صلیبیوں پے پروپیگنڈے کے مطابق اسے یقین تھا کہ اسلام ایک قابلِ نفرت مذہب اور مسلمان ایک قابلِ نفرت فرقہ ہے جو عورتوں کا شیدائی اور انسانی گوشت کھانے کا عادی ہے ۔ لہٰذا میگناناماریوس جب کبھی مسلمان کا لفظ سنتا تھا تو وہ نفرت سے تھوک کر دیا کرتا تھا ۔ وہ بے مثال جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جب صلاح الدین ایوبی تک پہنچا تو میگناناماریوس قتل ہو گیا اور اس کے مُردہ وجود سے سیف اللہ نے جنم لیا ۔

تاریخ میں ایسے حکمرانوں کی کمی نہیں، جنہیں قتل کیا گیا یا جن پر قاتلانہ حملے ہوئے ، لیکن سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ کی اُن معدود ے چند شخصیتوں میں سے ہے ، جسے قتل کرنے کی کوششیں دشمنوں نے بھی کیں اور اپنوں نے بھی ، بلکہ اپنوں نے اسے قتل کرنے کی غیروں سے زیادہ سازشیں کیں۔ یہ امر افسوس ناک ہے کہ سلطان ایوبی کی داستانِ ایمان فروز کے ساتھ ساتھ ایمان فروشوں کی کہانی بھی چلتی ہے۔ اسی لیے صلاح الدین ایوبی نے بارہا کہا تھا ۔ ” تاریخ اسلام وہ وقت جلدی دیکھے گی ، جب مسلمان رہیں گے تو مسلمان ہی لیکن اپنا ایمان بیچ ڈالیں گے اور صلیبی ان پر حکومت کریں گے ”۔

آج ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں ۔

سیف اللہ کی کہانی اُس وقت سے شروع ہوتی ہے ، جب سلطان ایوبی نے صلیبیوں کا متحد بیڑہ بحیرئہ روم میں نذرِ آب و آتش کیا تھا۔ ان کے کچھ بحری جہاز بچ کر نکل گئے تھے ۔ سلطان ایوبی بحیرئہ روم کے ساحل پر اپنی فوج کے ساتھ موجود رہا اور سمندرمیں سے زندہ نکلنے والے صلیبیوں کو گرفتار کرتا رہا ۔ ان میں سات لڑکیاں بھی تھیں جن کا تفصیلی ذکر آپ پڑھ چکے ہیں ۔ مصر میں سلطان کی سوڈانی سپاہ نے بغاوت کر دی جسے سلطان نے دبا لیا ۔ اُسے سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی کمک بھی مل گئی ۔ وہ اب صلیبیوں کے عزائم کو ختم کرنے کے منصوبے بنانے لگا۔

بحیرئہ روم کے پار روم شہر کے مضافات میں صلیبی سربراہوں کی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ ان میں شاہ آگسٹس تھا،شاہ ریمانڈ اور شہنشائی ہفتم کا بھائی رابرٹ بھی ۔ اس کانفرنس میں سب سے زیادہ قہر و غضب میں آیا ہوا ایک شخص تھا جس کا نام ایملرک تھا ۔ وہ صلیبیوں کے اس متحدہ بیڑے کا کمانڈر تھا جو مصر پر فوج کشی کے لیے گیا تھا مگر صلاح الدین ایوبی ان پر ناگہانی آفت کی طرح ٹوٹ پڑا اور اس بیڑے کے ایک بھی سپاہی کو مصر کے ساحل پر قدم نہ رکھنے دیا ۔ مصر کے ساحل پر جو صلیبی پہنچے ، وہ سلطان ایوبی کے ہاتھ میں جنگی قیدی تھے۔صلیبیوں کی کانفرنس میں ایملرک کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس کا بیڑہ غرق ہوئے پندرہ دِن گزر گئے تھے۔ وہ پندرہویں دن اٹلی کے ساحل پر پہنچا تھا ۔ سلطان ایوبی کے آتشیں تیر اندازوں نے اس کے جہاز کے بادبان اور مستول جلا ڈالے تھے۔ یہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ اس کے ملاحوں اور سپاہیوں نے آگ پر قابو پا لیا تھا اور وہ جہاز کو بچا لے گئے تھے مگر بادبانوں کے بغیر جہاز سمندر پر ڈولتا رہا۔ پھر طوفان آگیا۔اس کے بچنے کی کوئی صورت نہیں رہی تھی ۔ بہت سے کچے کھچے جہاز اور کشتیاں اس طوفان میں غرق ہوگئی تھیں ۔ یہ ایک معجزہ تھا کہ ایملرک کا جہاز ڈولتا، بھٹکتا ، ڈوب ڈوب کر اُبھرتا اٹلی کے ساحل سے جا لگا ۔ اس میں اس کے ملاحوں کابھی کمال شامل تھا ۔ انہوں نے چپوئوں کے زور پر جہاز کو قابومیں رکھاتھا ۔

ساحل پر پہنچتے ہی اس نے ان تمام ملاحوں اور سپاہیوں کے بے دریغ انعام دیا ۔ صلیبی سربراہ وہیں اس کے منتظر تھے۔ وہ اس پر غور کرنا چاہتے تھے کہ انہیں دھوکہ کس نے دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ شک سوڈانی سالار ناجی پر ہی ہو سکتا تھا ۔اسی کے خط کے مطابق انہوں نے حملے کے لیے بیڑہ روانہ کیا تھا مگر ان کے ساتھ ناجی کا تحریری رابطہ پہلے بھی موجود تھا ۔ انہوں نے ناجی کے اس خط کی تحریرپہلے دو خطوں سے ملائی تو انہیں شک ہوا کہ یہ کوئی گڑبڑ ہے ۔ انہوں نے قاہرہ میں جاسوس بھیج رکھے تھے مگر ان کی طرف سے بھی کوئی اطلاع نہیں ملی تھی ۔ انہیں یہ بتانے والا کوئی نہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ناجی اور اس کے سازشی سالاروں کو خفیہ طریقے سے مروا دیا اور رات کی تاریکی میں گمنام قبروں میں دفن کر دیا تھا اور صلیبی سربراہوں اور بادشاہوں کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ جس خط پر انہوں نے بیڑہ روانہ کیا تھا ، وہ خط ناجی کا ہی تھا ، مگر حملے کی تاریخ سلطان ایوبی نے تبدیل کر کے لکھی تھی ۔ جاسوسوں کو ایسی معلومات کہیں سے بھی نہیں مل سکتی تھیں۔

یہ کانفرنس کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکی ۔ ایملرک کے منہ سے بات نہیں نکلتی تھی ۔ وہ شکست خوردہ تھا ۔ غصے میں بھی تھا اور تھکا ہوا بھی تھا ۔ کانفرنس اگلے روز کے لیے ملتوی کر دی گئی تھی ……رات کے وقت یہ تمام سربراہ شکست کا غم شراب میں ڈبو رہے تھے ۔ایک آدمی اس محفل میں آیا ۔ اسے صرف ریمانڈ جانتا تھا ۔ وہ ریمانڈ کا قابلِ اعتماد جاسوس تھا ۔ وہ حملے کی شام مصر کے ساحل پر اُترا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دیر بعد صلیبیوں کا بیڑہ آیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے یہ بیڑہ سلطان ایوبی کی قلیل فوج کے ہاتھوں تباہ ہوا تھا ۔

یہ جاسوس مصر کے ساحل پر رہا اور اس نے بہت سی معلومات مہیا کر لی تھیں ۔ ریمانڈ نے اس کا تعارف کرایا تو سب اس کے گرد جمع ہو گئے ۔ اس جاسوس کو معلوم تھا کہ صلیبی سربراہوں نے سلطان ایوبی کو قتل کرانے کیلئے رابن نام کا ایک ماہر جاسوس سمندر پار بھیجاتھا اور اس کی مدد کے لیے پانچ آدمی اور سات جوان اور خوبصورت لڑکیاں بھیجی گئی تھیں ۔ اس جاسوس نے بتایا کہ رابن زخمی ہونے کا بہانہ کر کے صلاح الدین ایوبی کے کمیپ میں پہنچ گیا تھا ۔

اس کے پانچ آدمی تاجروں کے بھیس میں تھے۔ ان میں کرسٹوفر نام کے ایک آدمی نے ایوبی پر تیر چلایا مگر تیر خطا گیا ۔ پانچوں آدمی پکڑے گئے اور ساتوں لڑکیاں بھی پکڑی گئیں۔ انہوں نے کہانی تو اچھی گھڑلی تھی ۔ سلطان ایوبی نے لڑکیوں کو پناہ میں لے لیا اور پانچوں آدمی کو چھوڑ دیا تھا ، مگر ایوبی کا ماہر سراغ رساں جس کا نام علی بن سفیان ہے ،اچانک آگیا ۔ اس نے سب کو گرفتار کر لیا اور اور پانچ میں سے ایک آدمی کو سب کے سامنے قتل کر اکے دوسروں سے اقبالِ جرم کروالیا۔ جاسوس نے کہا ……” میں نے اپنے متعلق بتایا تھا کہ ڈاکٹر ہوں، اس لیے سلطان نے مجھے زخمیوں کی مرہم پٹی کی ڈیوٹی دے دی ۔ وہیں مجھے یہ اطلاع ملی کہ سوڈانیوں نے بغاوت کی تھی جو دبالی گئی ہے اور سوڈانی افسروں اور لیڈروں کو ایوبی نے گرفتار کر لیا ہے ۔ رابن ، چارآدمی اور چھ لڑکیاں ایوبی کی قید میں ہیں ، لیکن ابھی تک ساحل پر ہیں ۔ ساتویں لڑکی جو سب سے زیادہ ہوشیار ہے ، لاپتہ ہے ۔ اُس کا نام موبینا ارتلاش ہے ، موبی کہلاتی ہے ۔ ایوبی بھی کیمپ میں نہیں ہے اورر اس کا سراغ رساں علی بن سفیان بھی وہاں نہیں ہے ۔میں بڑی مشکل سے نکل کر آیا ہوں ۔ بڑی زیادت اُجرت پر تیز رفتار کشتی مل گئی تھی ۔ میں یہ خبر دینے آیا ہوں کہ رابن ، اس کے آدمی اور لڑکیاں موت کے خطرے میں ہیں ۔ مردوںکا فکر ہمیں نہیں کرنا چاہیے ، لڑکیوں کا بچانا لازمی ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ سب جوان ہیں اور چنی ہوئی خوبصورت ہیں ۔ مسلمان ان جو حال کر رہے ہوں گے ، اس کا آپ تصور کر سکتے ہیں ”۔

”ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ”……شاہ آگسٹس نے کہا۔

” اگر مجھے یقین دلا دیا جائے کہ لڑکیوں کو جان سے مار دیا جائے گا تو میں یہ قربانی ینے کیلئے تیاری ہوں ”…… ریمانڈ نے کہا…… ” مگر ایسا نہیں ہوگا، مسلمان اس کے ساتھ وحشیوں کا سلوک کر رہے ہوں گے ۔ لڑکیاں ہم پر لعنت بھیج رہی ہوں گی ، میں انہیں بچانے کی کوشش کروں گا ”۔

”یہ بھی ہو سکتا ہے ”……رابرٹ نے کہا …… ” کہ مسلمان ان لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کر کے ہمارے خلاف جاسوسی کیلئے استعمال کرنے لگیں ۔ بہر حال ہمارا یہ فرض ہے کہ انہیں قید سے آزاد کروائیں ۔ میں اس کے لیے آپنا آدھا خزانہ خرچ کرنے کے لیے تیار ہوں ”۔

” یہ لڑکیاں صرف اس لیے قیمتی نہیں کہ یہ لڑکیاں ہیں ”…… جاسوس نے کہا…… ” وہ دراصل تربیت یافتہ ہیں ۔ اتنے خطرناک کام کے لیے ایسی لڑکیاں ملتی ہی کہاں ہیں ۔ آپ کسی جوان لڑکی کو ایسے کام کیلئے تیار نہیں کر سکتے کہ وہ دشمن کے پاس جا کر اپنا آ پ دشمن کے حوالے کر دے۔دشمن کی عیاشی کا ذریعہ بنے اور جاسوس اور تخریب کاری کرے ۔ اس کام میں عزت تو سب سے پہلے دینی پڑتی ہے اوریہ خطرہ توہروقت لگا رہتا ہے کہ جوں ہی دشمن کو پتہ چلے گا کہ یہ لڑکی جاسوس ہے تو اسے اذیتیں دی جائیں گی ،پھر اسے جان سے مار دیا جاگے گا ۔……ان لڑکیوں کو ہم نے زرِ کثیر صرف کرکے حاص کیا ۔ پھر ٹریننگ دی تھی اور انہیں بڑی محنت سے مصر اور عرب کی زبان سکھائی تھی ۔ ایک ہی بار تجربہ کار لڑکیوں کو ضائع کرنا عقل مندی نہیں ”۔

” کیا تم کہہ سکتے ہو کہ لڑکیوںکو ایوبی کے کیمپ سے نکالا جا سکتا ہے ؟” ……آگسٹس نے پوچھا ۔

” جی ہاں !”…… جاسوس نے کہا…… ” نکالاجا سکتا ہے ؟”…… اس کے لیے غیر معمولی طور پر دلیر اور پختہ کار آدمیوں کی ضرورت ہے مگر یہ بھی وہ سکتا ہے کہ وہ ایک دو دنوں تک رابن ، اس کے چار آدمیوں اور لڑکیوں کے قاہرہ جا ئیں ۔ وہاڈ سے نکلان۔وہاں سے نکالنا بہت ہی مشکل ہوگا ۔ اگر ہم وقت ضائع نہ کریں تو ہم انہیں کیمپ میں ہی لے جائیں گے ۔ آپ مجھے بیس آدمی دے دیں۔ میں ان کی رہنمائی کروں گا ، لیکن آدمی ایسے ہوں جو جان پر کھیلنا جانتے ہوں ”۔

” ہمیں ہر قیمت پر ان لڑکیوں کو واپس لانا ہے ”…… ایملرک نے گرج کر کہا ۔ اس پر بحیرئہ روم میں جو بیتی تھی ، اس کا وہ انتقام لینے کو پاگل ہوا جا رہا تھا ۔ وہ صلیبیوں کے متحدہ بیڑے اور اس بیڑے میں سوار لشکر کا سپریم کمانڈر بن کراس اُمید پر گیاتھا کہ مصر کی فتح کا سہرا اس کے سر بندھے گا ، مگر صلا ح الدین ایوبی نے اسے مصر کے ساحل کے قریب بھی نہ جانے دیا ۔ وہ جلتے ہوئے جہاز میں زندہ جل جانے سے بچا تو طوفان نے گھیر لیا ۔ اب بات کرتے اس کے ہونٹ کانپتے تھے اور وہ زیادہ تر باتیں میز پر مکے مار کر یا اپنی ران پرزورزور سے ہاتھ مار کر اپنے جذبات کااظہار کر رہا تھا ۔ اس نے کہا ……” میں لڑکیوں کو بھی لائوں گا اور صلاح الدین ایوبی کو قتل بھی کروائوں گا ۔ میں انہی لڑکیوں کو مسلمانوں کی سلطنت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے استعمال کروں گا ”۔

” میں سچے دل سے آپ کی تائید کرتا ہوں شاہ ایملرک !”…… ریمانڈ نے کہا …… ” ہمیں تربیت یافتہ لڑکیوں کو اتنی آسانی سے ضائع نہیںکرنا چاہیے نہ ہم کریں گے۔ آپ سب کواچھی طرح معلوم ہے کہ شام کے حرموں میں ہم کتنی لڑکیاں داخل کر چکے ہیں ۔ کئی مسلمان گورنر اور امیر ان لڑکیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ بغداد میں یہ لڑکیاں اُمراء کے ہاتھوں ایسے متعدد افراد کو قتل کراچکی ہیں جو صلیب کے خلاف نعرہ لے کر اُٹھے تھے۔ مسلمانوں کی خلافت کو ہم نے عورت اور شراب سے تین حصوںمیں تقسیم کر دیا تھا ۔ ان میں اتحاد نہیں رہا۔ وہ عیش و عشرت میں غرق ہوتے جارہے ہیں ۔ صرف دو آدمی ہیں جو اگر زندہ رہے تھے ہمارے لیے مستقل خطرہ بنے رہیں گے ۔ ایک نورالدین زنگی اور دوسرا صلاح الدین ایوبی ۔ اگر ان دونوں میں سے ایک بھی زیادہ دیر تک زندہ رہا تو ہمارے لیے اسلام کہ ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اگر صلاح الدین ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت دبالی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ شخص اُس حد سے زیادہ خطرناک ہے ، جس حد تک ہم اسے سمجھتے رہے ہیں ۔ ہمیں میدانِ جنگ سے ہٹ کر تخریب کاری کا محاذ بھی کھولنا پڑے گا ۔ مسلمانوں میں تفرقہ اور بے اطمینانی پھیلانے کے لیے ہمیں ان لڑکیوں کی ضرورت ہے ”۔

” ہمیں اپنے کامیاب تجربوں سے فائدہ اُٹھانا چاہیے ”…… لوئی ہفتم کے بھائی رابرٹ نے کہا……” عرب میں ہم مسلمانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اُٹھا چکے ہیں ۔ مسلمان عورت، شراب اور دولت سے اندھا ہو جاتا ہے۔ مسلمان کو مارنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اسے مسلمان کے ہاتھوں مروائو۔ مسلمان کو ذہنی عیاشی کا سامان مہیا کردو تو وہ اپنے دین اور ایمان سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ تم مسلمان کا ایمان آسانی سے خرید سکتے ہو ”……اس نے عرب کے کئی امراء اور وزراء کی مثالیں دیں جنہیں صلیبیوں نے عورت، شراب اور دولت سے خرید لیا تھا اور انہیں اپنا درپردہ دوست بنا لیا تھا ۔

کچھ دیر مسلمانوں کی کمزوریوں کے متعلق باتیں ہوئیں پھر لڑکیوں کو آزاد کرانے کے عملی پہلوئوں پر غور ہوا۔ آخریہ طے پا یا کہ بیس نہایت دلیر آدمی اس کام کے لیے روانہ کیے جائیں اور وہ اگلی شام تک روانہ ہوجائیں ۔ اسی وقت چار پانچ کمانڈروں کو بلا لیاگیا ۔ انہیں اصل مقصد او مہم بتا کر کہا گیاکہ بیس آدمی منتخب کریں۔ کمانڈروں نے تھوڑی دیر اس مہم کے خطروں کے متعلق بحث مباحثہ کیا ۔ ایک کمانڈر نے کہا …… ” ہم پہلے ہی ایک ایسی فورس تیار کر رہے ہیں جو مسلمانوں کے کیمپوں پر شب خون مارا کرے گی اور ان کی متحرک فوج پر بھی رات کو حملے کر کے پریشان کرتی رہے گی۔ اس فورس کے لیے ہم نے چند ایک آدمی منتخب کیے ہیں ”۔

” لیکن یہ آدمی سو فیصد قابلِ اعتماد ہونے چاہئیں ”… آگسٹس نے کہا ۔” وہ ہماری تمہاری نظروں سے اوجھل ہو کر ہی کام کریں گے ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کچھ نہ کریں اور واپس آ کر کہیں کہ وہ بہت کچھ کر کے آئے ہیں ”۔

” آپ یہ سن کر حیران ہوں گے” …… ایک کمانڈر نے کہا ……” کہ ہماری فوج میں ایسے سپاہی بھی ہیں جنہیں ہم نے جیل خانوں سے حاصل کیا ہے ، یہ ڈاکو ،چور اور رہزن تھے۔ انہیں بڑی بڑی لمبی سزائیں دی گئی تھیں ۔ انہیں جیل خانوں میں ہی مرنا تھا ۔ ہم نے ان سے بات کی تو وہ جو ش و خروش سے فوج میں آگئے ۔ آپ کو شاید یہ معلوم کرکے بھی حیرت ہو کہ ناکام حملے میں ان سزایافتہ مجرموں نے بڑی بہادری سے کئی جہاز بچائے ہیں …… میں لڑکیوں کو مسلمانوں سے آزاد کرنے کی مہم میں ایسے تین آدمی بھیجوں گا ”۔

مورخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں میں عیش و عشرت کا رحجان بڑھ گیا اور اتحاد ختم ہو رہا تھا ۔ عیسائیوں نے مسلمانوں کو اخلاقی تباہی تک پہنچانے میں ذہنی عیاشی کا ہر سامان مہیا کیا …… اب انہیں یہ توقع تھی کہ مسلمانوں کو ایک ہی حملے میں ختم کر دیں گے، چنانچہ ان کے خلاف عیسائی دُنیا میں نفرت کی طوفانی مہم چلائی گئی اور ہر کسی کو اسلام کے خلاف جنگ میں شریک ہونے کی دعوت دی گئی ۔ اس کے جواب میں معاشرے کے ہر شعبے کے لوگ صلیبی لشکر میں شامل ہونے لگے۔ ان میں پادری بھی شامل ہوئے اور عادی مجرم بھی گناہوں سے توبہ کر کے مسلمانوں کے خلاف مسلح ہو گئے ۔ بعض ملکوں کے جیل خانوں میں جو مجرم لمبی قید کی سزائیں بھگت رہے تھے ، وہ بھی فوج میں بھرتی ہوگئے ۔ ان مجرموں کے متعلق عیسائیوں کا تجربہ غالباً اچھا تھا ، جس کے پیش نظر ایک کمانڈر نے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کے لیے قیدی مجرموں کا انتخا ب کیا تھا ۔

صبح تک بیس انتہائی دلیر اور ذہین آدمی چن لیے گئے ۔ ان میں میگناناماریوس بھی تھا جسے روم کے جیل خانے سے لایا گیا تھا ۔ اس جاسوس کوجو ڈاکٹر کے بہروپ میں سلطان ایوبی کے کیمپ رہا اور فرار ہو کر آیا تھا ، اس کمانڈو پارٹی کا کمانڈر اور گائیڈ مقرر کیا گیا ۔ ا س پارٹی کو یہ مشن دیاگیا کہ لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے نکالنا ہے ۔ اگر رابن اور اس کے چار ساتھیوں کو بھی آزاد کرایا جا سکے تو کرالینا، ورنہ ان کے لیے کوئی خطرہ مول لینے کی ضرورت نہیں ۔ دوسرا مشن تھا ، صلا ح الدین ایوبی کا قتل۔ اس پارٹی کو کوئی عملی ٹریننگ نہ دی گئی ۔ صرف زبانی ہدایات اور ضروری ہتھیار دے کر اسی روز ایک بادبانی کشتی میں ماہی گیروں کے بھیس میں روانہ کر دیا گیا ۔
جس وقت یہ کشتی اٹلی کے ساحل سے روانہ ہوئی۔صلاح الدین ایوبی سوڈانیوں کی بغاوت مکمل طور پر دبا چکا تھا ۔ سوڈانیوں کے بہت سے کماندار مارے گئے یا زخمی ہو گئے تھے اور بہت سے سلطان ایوبی کے دفترکے سامنے کھڑے تھے ۔ انہوں نے ہتھیار ڈال کر شکست اور سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ۔ وہ سلطان کے حکم کے منتظر تھے۔ سلطان اندر بیٹھا اپنے سالاروں وغیرہ کو احکام دے رہا تھا۔علی بن سفیان بھی موجود تھا۔ اس فتح میں اس کا بہت عمل دخل تھا۔ صلیبیوں کو شکست دینے میں بھی اس کے نظامِ جاسوسی نے بہت کام کیا تھا ، بلکہ یہ دونوں کامیابیاں جاسوسی کے نظام کی ہی کامیابیاں تھیں۔ سلطان ایوبی کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔ اس نے علی بن سفیان سے کہا ……”علی ! ہمیں ان جاسوس لڑکیوں اور اُن کے ساتھیوں کے متعلق سوچنے کا وقت ہی نہیں ملا ۔ وہ ابھی تک ساحل پر قیدی کیمپ میں ہیں ۔ ان سب کو فوراً یہاں لانے کا بندوبست کرو اور تہ خانے میں ڈال دو ”۔

” میں ابھی پیغام بھجوا دیتا ہوں ” … علی بن سفیا ن نے کہا ……” ان سب کہ یہاں پہرے میں بلوا لیتا ہوں …سلطان ! آپ شاید ساتویں لڑکی کو بھول گئے ہیں ۔ وہ سوڈانیوں کے ایک کماندار بالیان کے پاس تھی ۔ اسی لڑکی سے جاسوسوں اور بغاوت کا انکشاف ہوا تھا ۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ بالیان ان کمانداروں میں نہیں ہے جو باہر موجود ہیں اور وہ زخمیوں میں بھی نہیں ہے اور وہ مرے ہوئوںمیں بھی نہیں ہے ۔ مجھے شک ہے کہ ساتویں لڑکی جس کانام فخرالمصری نے موبی بتایا تھا ، بالیان کے ساتھ کہیں روپوش ہوگئی ہے ”۔

” اپنا شک رفع کروعلی ”… سلطان ایوبی نے کہا …” یہاں مجھے اب تمہاری ضرورت نہیں ہے۔ بالیان لاپتہ ہے تو وہ بحیرئہ روم کی طرف نکل گیا ہوگا ۔ صلیبیوں کے سوا اسے اور کون پناہ دے سکتا ہے ۔ بہر حال ان جاسوسوں کو تہہ خانوں میں ڈالو اور اپنے جاسوس فوراً تیار کرکے سمندر پار بھیج دو ”۔

” زیادہ ضرورت تہ یہ ہے کہ اپنے جاسوس اپنے ہی ملک میں پھیلا دئیے جائیں ”۔ یہ مشورہ دینے والا سلطان نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی فوج کا سپہ سالار تھا ۔ اس نے کہا … ” ہمیں صلیبیوں کی طرف سے اتنا خطرہ نہیں، جتنا اپنے مسلمان امراء سے ہے ۔ اپنے جاسوس ان کے حرموں میں داخل کر دئیے جائیں تو بہت سی سازشیں بے نقاب ہوں گی ”۔ اُس نے تفصیل سے بتایا کہ یہ خود ساختہ حکمران کس طرح صلیبیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ۔ سلطان زنگی اکثر پریشان رہتے ہیں کہ باہر کے حملوں کو روکیں یا اپنے گھر کو اپنے ہی چراغ سے جلنے سے بچائیں ۔

صلاح الدین ایوبی نے یہ روائیداد غور سے سنی اور کہا …” اگر تم لوگ جن کے پاس ہتھیار ہیں ، دیانت دار اور اپنے مذہب سے مخلص رہے تو باہر کے حملے اور اندر کی سازشیں قوم کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ۔ تم اپنی نظریں سرحدوں سے دور آگے لے جائو ۔ سلطنت اسلامیہ کی کوئی سر حد نہیں ۔ تم نے جس روز اپنے آپ کو اور خدا کے اس عظیم مذہبِ اسلام کو سرحدوں میں پابند کرلیا اور اس روز سے یوں سمجھو کہ تم اپنے ہی قید خانے میں قید ہوجائو گے ۔ پھر تمہاری سرحدیں سکڑنے لگیں گی۔ اپنی نظریں بحیرئہ روم سے آگے لے جائو۔ سمندر تمہارا راستہ نہیں روک سکتے ۔ گھر کے چراغوں سے نہ ڈرو، یہ تو ایک پھونک سے گل ہو جائیں گے ۔ ان کی جگہ ہم ایمان کے چراغ روشن کریں گے”۔

” ہمیں اُمید ہے کہ ہم ایمان فروشی روک لیں گے، سلطانِ محترم !”… سالار نے کہا … ” ہم مایوس نہیں ”۔

” صرف دو لعنتوں سے بچو میرے عزیز رفیقو!” سلطان ایوبی نے کہا …” مایوسی اور ذہنی عیاشی ۔ انسان پہلے مایوس ہوتا ہے ، پھر ذہنی عیاشی کے ذریعے راہِ فرار اختیار کرتا ہے ”۔

اس دوران علی بن سفیان جا چکا تھا ۔ اس نے فوراً ایک قاصد بحیرئہ روم کے کیمپ کی طرف اس پیغام کے ساتھ روانہ کر دیا کہ رابن، اس کے چار ساتھیوں اور لڑکیوں کو گھوڑوں یا اونٹوں پر سوار کر کے بیس محافظوں کے پہرے میں دارالحکومت کو بھیج دو …قاصد کو روانہ کر کے اس نے اپنے ساتھ چھ سات سپاہی لیے اور کماندار بالیان کی تلاش میں نکل گیا ۔ ان نے ان سوڈانی کمانداروں سے جو باہر بیٹھے تھے، بالیان کے متعلق پوچھ لیا تھا ۔ سب نے کہا تھا کہ اسے لڑائی میں کہیں بھی نہیں دیکھا گیاتھا اور نہ ہی وہ اس فوج کے ساتھ گیا تھا جو بحیرئہ روم کی طرف سلطان کی فوج پر حملہ کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی ۔ علی بن سفیان بالیان کے گھر گیا تو وہاں اس کی بوڑھی خادمائوں کے سوا اور کوئی نہ تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ بالیان کے گھر میں پانچ لڑکیاں تھیں ۔ ان میں جس کی عمر ذرا زیادہ ہوجاتی تھی ، اسے وہ غائب کر دیتا اور اس کی جگہ جوان لڑکی لے آتا تھا ۔ ان خامائوں نے بتایا کہ بغاوت سے پہلے اس کے پاس ایک فرنگی لڑکی آئی تھی جو غیر معمولی طور پر خوبصورت اور ہوشیارتھی ۔ بالیان اس کا غلام ہو گیا تھا ۔ بغاوت کے ایک روز بعد جب سوڈانیوں نے ہتھیار ڈال دئیے تو بالیان رات کے وقت گھوڑے پر سوار ہوا، دوسرے گھوڑے پر اس فرنگی لڑکی کو سوار کیا اور معلوم نہیں دونوں کہاں روانہ ہوگئے ۔ ان کے ساتھ سات گھوڑ سوار تھے۔ حرم کی لڑکیوں کے متعلق بوڑھیوں نے بتایا کہ وہ گھر میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلی گئی ہیں ۔

علی بن سفیان وہاں سے واپس ہوا توایک گھوڑا سرپٹ دوڑتا ہوا آیا اور علی بن سفیان کے سامنے رُکا۔ اس پر فخرالمصری سوار تھا۔ کود کر گھوڑے سے اُترا اور ہانپتی کانپتی آواز میں بولا … ” میں آپ کے پیچھے آیا ہوں ۔ میں بھی اسی بدبخت بالیان اور اس کافر لڑکی کو ڈھونڈ رہا تھا ۔ میں ان سے انتقام لوں گا ۔ جب تک ان دونوں کو اپنے ہاتھوں قتل نہیں کرلوں گا ، مجھے چین نہیں آئے گا ۔ میں جانتا ہوں کہ وہ کدھر گئے ہیں ۔ میں نے ان کا پیچھا کیا ہے لیکن ان کے ساتھ سات مسلح محافظ تھے ، میں اکیلا تھا ۔ وہ بحیرئہ روم کی طرف جا رہے ہیں ، مگر عام راستے سے ہٹ کر جارہے ہیں ”… اس نے علی بن سفیان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر کہا۔ ” خدا کے لیے مجھے صرف چار سپاہی دے دیں ، میں ان کے تعاقت میں جائوں گا اور انہیں ختم کرکے آئوں گا ”۔

علی بن سفیان نے اسے اس وعدے سے ٹھنڈا کیا کہ وہ اسے چار کی بجائے بیس سوار دے گا ۔ وہ ساحل سے آگے اتنی جلدی نہیں جا سکتے ۔ میرے ساتھ رہو۔ علی بن سفیان مطمئن ہوگیا کہ یہ تو پتہ چل گیاہے کہ وہ کسطرف گئے ہیں ۔

٭ ٭ ٭

اُس وقت بالیان اسی صلیبی لڑکی کے ساتھ جس کا نام موبی تھا، ساحل کی طرف جانے والے عام راستے سے ہٹ کر دور جا چکا تھا ۔ان علاقوں سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ سوڈانی فوج اور اس کے کمانداروں کو صلاح الدین ایوبی نے معافی دے دی ہے ۔ ایک تو وہ سلطان کے عتاب سے بھاگ رہا تھا اور دوسرے یہ کہ وہ موبی جیسی حسین لڑکی کو چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ دنیا کی حسین لڑکیاں صرف مصر اور سوڈان میں ہی ہیں مگر اٹلی کی اس لڑکی کے حسن اور دِل کشی نے انے اندھا کر دیا تھا ۔ اس کی خاطر وہ اپنا رُتبہ ، اپنا مذہب اور اپنا ملک ہی چھوڑ رہا تھا لیکن اُسے یہ معلوم نہیں تھا کہ موبی اس سے جان چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ وہ جس مقصد کے لیے آئی تھی ، وہ ختم ہو چکا تھا ۔ گو مقصد تباہ ہوگیا تھا ، تاہم موبی اپنا کام کر چکی تھی ۔ اس کے لیے اس نے اپنے جسم اور اپنی عزت کی قربانی دی تھی ۔ وہ ابھی تک اپنی عمر سے دُگنی عمر کے آدمی کی عیاشی کاذریعہ بنی ہوئی تھی ۔

بالیان اس خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ موبی اسے بُری طرح چاہتی ہے مگر موبی اس سے نفرت کرتی تھی ۔ وہ چونکہ مجبور تھی ، اسی لیے اکیلی بھاگ نہیں سکتی تھی ۔ وہ اس مقصد کے لیے بالیان کو ساتھ لے ہوئے تھی کہ اسے اپنی حفاظت کی ضرورت تھی ۔ اسے بحیرئہ روم پار کرنا تھا یا رابن تک پہنچنا تھا ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ رابن اور اس کے ساتھ جو تاجروں کے بھیس میں تھے ، پکڑے جا چکے ہیں ۔ اس مجبوری کے تحت وہ بالیان کے ہاتھ میں کھلونا بنی ہوئی تھی ۔ وہ کئی بار اسے کہہ چکی تھی کہ تیز چلو اور پڑائو کم کرورنہ پکڑے جائیں گے لیکن بالیان جہاں اچھی جگہ دیکھتا رُک جاتا ۔ اس نے شراب کا ذخیرہ اپنے ساتھ رکھ لیا تھا۔

ایک رات موبی نے ایک ترکیب سوچی ۔ اس نے بالیان کو اتنی زیادہ پلادی کہ وہ بے سدھ ہوگیا ۔ ان کے ساتھ جو سات محافظ تھے ، وہ کچھ پر ہوے سو گئے تھے ۔ موبی نے دیکھا تھا کہ ان میں سے ایک ایسا ہے جو ان ہے اور سب پر چھایا رہتا ہے۔ بالیان زیادہ تر اسی کے ساتھ ہر بات کرتا تھا ۔ موبی نے اسے جگایا اور تھوڑی دور لے گئی ۔ اسے کہا …” تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں کون ہوں ، کہاں سے آئی ہوں اور یہاں کیوں آئی تھی ۔ میں تم لوگوں کے لیے مدد لائی تھی تا کہ تم صلاح الدین ایوبی جیسے غیر ملکیوں سے آزاد ہو سکو مگر تمہارا یہ کماندار بالیان اس قدر عیاش آدمی ہے کہ اس نے شراب پی کر بد مست ہو کر میرے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دیا ۔ بجائے اس کے کہ وہ عقل مندی سے بغاوت کا منصوبہ بناتا اور فتح حاصل کرتا ، اس نے مجھے اپنے حرم کی لونڈی بنا لیا اور اندھا دھند فوج کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایسی لاپرواہی سے حملہ کروایا کہ ایک ہی رات میں تمہاری اتنی بڑی فوج ختم ہوگئی۔

” تمہاری شکست کا ذمہ دار یہ شخص ہے ۔ اب یہ میرے ساتھ صرف عیاشی کے لیے جا رہا ہے اور مجھے کہتا ہے کہ میں اسے سمندر پار لے جائوں ، اسے اپنی فوج میں رُتبہ دلائوں اور اس کے ساتھ شادی کر لوں ، مگر مجھے اس شخص سے نفرت ہے ۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر مجھے شادی کرنی ہے اور اپنے ملک میں لے جا کر اسے فوج میں رُتبہ دلانا ہے تو مجھے ایسے آدمی کا انتخاب کرنا چاہیے جو میرے دل کو اچھ لگے ۔ وہ آدمی تم ہو ، تم جوان ہو، دلیر ہو، عقل مند ہو، میں نے جب سے تمہیں دیکھا ہے ، تمہیں چاہ رہی ہوں۔ مجھے اس بوڑھے سے بچائو۔ میں تمہاری ہوں۔ سمندر پار لے چلو ۔ فوج کا رُتبہ اورمال و دولت تمہارے قدموں میں ہوگا مگر اس آدمی کو یہیں ختم کر دو۔ وہ سویا ہوا ہے ، اسے قتل کردو اور آئو نکل چلیں ”۔

اس نے محافظ کے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔ محافظ اس کے حسن میں گرفتار ہوگیا ۔ اس نے دیوانہ وار لڑکی کو اپنے بازئوں میں جکڑ لیا۔ موبی اس جادوگری میں ماہر تھی ۔ وہ ذرا پرے ہٹ گئی۔ محافظ اس کی طرف بڑھا تو عقب سے ایک برچھی اس کی پیٹھ میں اُتر گئی۔ اس کے منہ سے ہائے نکلی اور وہ پہلو کے بل لڑھک گیا ۔ برچھی اس کی پیٹھ سے نکلی اور اسے آواز سنائی دی …”نمک حرام کو زندہ رہنے کا حق نہیں ”۔ لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ وہ اُٹھی اور اتنا ہی کہنے پائی تھی کہ تم نے اسے قتل کر دیا ہے کہ پیچھے سے ایک ہاتھ نے اس کے بازو کو جکڑ لیا اور جھٹکا دے کر اپنے ساتھ لے گیا ۔ اسے بالیان کے پاس پھینک کر کہا …” ہم اس شخص کے پالے ہوئے دوست ہیں ۔ ہماری زندگی اسی کے ساتھ ہے ۔ تم ہم میں سے کسی کو اس کے خلاف گمراہ نہیں کر سکتی ۔ جو گمراہ ہوا اس نے سزا پا لی ہے ”۔

بالیان شراب کے نشے میں بے ہوش پڑا تھا ۔

” تم لوگوں نے یہ بھی سوچا ہے کہ تم کہاں جا رہے ہو؟”…موبی نے پوچھا۔

” سمندر میں ڈوبنے ”… ایک نے جواب دیا …” تمہارے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیںہے ، جہاں تک بالیان جائے گا ، ہم وہیں تک جائیں گے ”… اور وہ دونوں جا کر لیٹ گئے ۔

دوسرے دن بالیان جاگا تو اسے رات کا واقعہ بتایا گیا ۔موبی نے کہا کہ وہ مجھے جان کی دھمکی دے کر اپنے ساتھ لے گیا تھا ۔ بالیان نے اپنے محافظوں کو شاباش دی ، مگر ان کی یہ بات سنی اَن سنی کر دی کہ یہ لڑکی اسے گمراہ کر کے لے گئی تھی اور انہوں نے اس کی باتیں سنی تھیں ۔ وہ موبی کے حسن اور شراب میں مدہوش ہو کر سب بھول گیا۔ موبی نے اسے ایک بار پھر کہا کہ تیز چلنا چاہیے مگر بالیان نے پروا نہ کی ۔ وہ اپنے آپ میں نہیں تھا۔ موبی اب آزاد نہیں ہو سکتی تھی ۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ لوگ اپنے دوستوں کو قتل کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔

علی بن سفیان نے نہ جانے کیا سوچ کر ان کا تعاقب نہ کیا ۔ بغاوت کے بعد کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے وہ سلطان ایوبی کے ساتھ بہت مصروف ہو گیا تھا ۔

٭ ٭ ٭

ساحل کے کیمپ سے رابن ، اس کے چاروں ساتھیوں اور چھ لڑکیوں کو پندرہ محافظوں کی گارڈ میں قاہر ہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ قاصد ان سے پہلے روانہ ہو چکا تھا ۔ قیدی اونٹوں پر تھے اور گارڈ گھوڑوں پر۔ وہ معمول کی رفتار پر جارہے تھے اور معمول کے مطابق پڑائو کر رہے تھے ۔وہ بے خوف و خطر جا رہے تھے وہاں کسی دشمن کے حملے کا ڈر نہیں تھا۔ قیدی نہتے تھے اور ان میں چھ لڑکیاں تھیں ۔ کسی کے بھاگنے کا ڈر بھی نہیں تھا ، مگر وہ یہ بھول رہے تھے کہ یہ قیدی تربیت یافتہ جاسوس ہیں بلکہ لڑاکے جاسوس تھے۔ ان میں جو تاجروں کے بھی میں پکڑے گئے تھے وہ چنے ہوئے تیر انداز اور تیغ زن تھے اور لڑکیاں محض لڑکیاں نہیں تھیں جنہیں وہ کمزور عورت ذات سمجھ رہے تھے ۔ ان لڑکیوں کی جسمانی دِلکشی ، یورپی رنگت کی جاذبیت ، جوانی اور ان کی بے حیائی ایسے ہتھیار تھے جو اچھے اچھے جابر حکمرانوں سے ہتھیار ڈلوا لیتے تھے ۔

محافظوں کا کمانڈر مصری تھا۔ اس نے دیکھا کہ ان میں چھ میں سے ایک لڑکی اس کی طرف دکھتی رہتی ہے اور وہ جب اسے دیکھتا ہے لڑکی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ جاتی ہے ۔یہ مسکراہٹ اس مصری کو موم کر رہی تھی ۔ شام کے وقت انہوں پہلا پڑائو کیا تو سب کو کھانا دیا گیا ۔ اس لڑکی نے کھانا نہ کھایا ۔ کمانڈر کو بتایاگیا تو اس نے لڑکی کے ساتھ بات کی ۔ لڑکی اس کی زبان بولتی اور سمجھتی تھی ۔ لڑکی کے آنسو نکل آئے۔ اس نے کہا کہ وہ اس کے ساتھ علیحدگی میں بات کرنا چاہتی ہے ۔

رات کو جب سو گئے تو کمانڈر اُٹھا۔ اس نے لڑکی کو جگایا اور الگ لے گیا ۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ ایک مظلوم لڑکی ہے ، اسے فوجیوں نے ایک گھر سے اغوا کیا اور اپنے ساتھ رکھا ۔پھر اسے جہاز میں اپنے ساتھ لائے جہاں وہ ایک افسر کی داشتہ بنی رہی ۔ دوسری لڑکیوں کے متعلق اس نے بتایا کہ ان کے ساتھ اس کی ملاقات جہاز میں ہوئی تھی ۔ انہیں بھی اغوا کرکے لایا گیا تھا ۔ اچانک جہازوں پر آگ برسنے لگی اور جہاز جلنے لگے۔ ان لڑکیوں کو ایک کشتی میں بٹھا کر سمندر میں ڈال دیا گیا ۔ کشتی انہیں ساحل پر لے آئی ، جہاں انہیں جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا گیا ۔

یہ وہی کہانی تھی جو تاجروں کے بھیس میں جاسوسوں نے ان لڑکیوں کے متعلق صلاح الدین ایوبی کو سنائی تھی ۔ مصری گارڈ کمانڈر کو معلوم نہیں تھا ۔ وہ یہ کہانی پہلی بار سن رہا تھا ۔اسے تو حکم ملا تھا کہ یہ خطرناک جاسوس ہیں۔ انہیں قاہرہ لے جاکر سلطان کے ایک خفیہ محکمے کے حوالے کرنا ہے ۔ اس حکم کے پیش نظر وہ ان لڑکیوںکی یا اس لڑکی کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔اس نے لڑکی کو اپنی مجبوری بتادی ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ لڑکی کی ترکش میں ابھی بہت تیر باقی ہیں ۔ لڑکی نے کہا ۔ ” میں تم سے کوئی مدد نہیں مانگتی ، تم اگر میری مدد کر و گے تومیں تمہیں روک دوں گی ، کیونکہ تم مجھے اتنے اچھے لگتے ہو کہ میں اپنی خاطر تمہیں کسی مصیبت میں نہیں ڈالنا چاہتی ۔ میرا کو غم خوار نہیں ۔ میں ان لڑکیوں کو بالکل نہیں جانتی اور ان آدمیوں کو بھی نہیں جانتی۔ تم مجھے رحم دِل بھی لگتے ہو اور میرے دِل کو بھی اچھے لگتے ہو، اس لیے تمہیں یہ باتیں بتا رہی ہوں ”۔

اتنی خوبصورت لڑکی کے منہ سے اس قسم کی باتیں سن کر کون سا مرد اپنے آپ میں رہ سکتا ہے ۔ یہ لڑکی مجبور بھی تھی۔ رات کی تنہائی بھی تھی ۔ مصری کی مردانگی پگھلنے لگی۔ اس نے لڑکی کے ساتھ دوستانہ باتیں شروں کر دیں۔لڑکی نے ایک اور تیر چلایا اور صلاح الدین ایوبی کے کردار پر زہر اُگلنے لگی۔ اس نے کہا …” میں نے تمہارے گورنر صلاح الدین ایوبی کو مظلومیت کی یہ کہانی سنائی تھی۔ مجھے اُمید تھی کہ وہ میرے حال پر رحم کرے گا ، مگر اس نے مجھے اپنے خیمے میں رکھ لیا اور شراب پی کر میرے ساتھ بدکاری کرتا رہا۔ اس وحشی نے میرا جسم توڑ دیا ہے ۔ شراب پی کر وہ اتنا وحشی بن جاتا ہے کہ اس میں انسانیت رہتی ہی نہیں ”۔

مصر کی کا خون خولنے لگا ۔ اس نے بدک کر کہا …” ہمیں کہا گیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی مومن ہے ، فرشتہ ہے ، شراب اور عورت سے نفرت کرتا ہے ”۔

” مجھے اب اسی کے پاس لے جایا جا رہا ہے ”… لڑکی نے کہا … ” اگر تمہیں یقین نہ آئے تو رات کو دیکھ لینا کہ میں کہاں رہوں گی ۔ وہ مجھے قید خانے میں نہیں ڈالے گا ، اپنے حرم میں رکھ لے گا ۔ مجھے اس آدمی سے ڈر آتا ہے ‘ …اس قسم کی بہت سے باتوں سے لڑکی نے اس مصری کے دل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کر دی اور وہ پوری طرح مصری پر چھا گئی۔ اس کے دل اور دماغ پر قبضہ کر لیا ۔ مصری کو معلوم نہیں تھا کہ یہی ان لڑکیوں کا ہتھیار ہے ۔ لڑکی نے آخر میں کہا … ” اگر تم مجھے اس ذلیل زندگی سے نجات دلا دو تو میں ہمیشہ کیلئے تمہاری ہو جائو ں گی اور میرا باپ تمہیں سونے کی اشرفیوں سے مالا مال کر دے گا ”۔ اُس نے اس کا طریقہ یہ بتایا …” میرے ساتھ سمندر پار بھاگ چلو۔ کشتیوں کی کمی نہیں ۔ میرا باپ بہت امیر آدمی ہے ۔ میں تمہارے ساتھ شادی کر لوں گی اور میرا باپ تمہیں نہایت اچھا مکان اور بہت سی دولت دے گا ۔ تم تجارت کر سکتے ہو ”۔

مصری کہ یہ یادر رہ گیا کہ وہ مسلمان ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اپنا مذہب ترک نہیں کر سکتا ۔ لڑکی نے ذرا سوچ کر کہا …” میں تمہارے لیے اپنا مذہب چھوڑ دوں گی ”… اس کے بعد وہ فرار اور شادی کا پروگرام بنانے لگے ۔ لڑکی نے اسے کہا … ” میں تم پر زور نہیں دیتی ، اچھی طرح سوچ لو ۔ میں صرف جاننا چاہتی ہوں کہ میرے دل میں تمہاری جو محبت پیدا ہوگئی ہے ، اتنی تمہارے دل میںبھی پیدا ہوئی ہے یا نہیں۔ اگر تم مجھے قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہو تو سوچ لو اور کوشش کرو کہ قاہر ہ تک ہمارا سفر لمبا ہوجائے۔ ہم ایک بار وہاں پہنچ گئے تو پھر تم میری بو بھی نہیں سونگھ سکو گے ”۔

لڑکی کا مقصد صرف اتنا سا تھا کہ سفر لمبا ہو جائے اور تین دنوں کی بجائے چھ دن راستے میں ہی گزر جائیں ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ رابن اور اس کے ساتھی فرار کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ وہ اس کوشش میں تھے کہ رات کو سوئے ہوئے محافظوں کے ہتھیار اُٹھا کر انہیں قتل کیا جائے ۔ جو نا ممکن سا کام تھا یا اُن کے گھوڑچرا کر بھاگا جائے۔ ابھی تو پہلا ہی پڑائو تھا۔ اُن کی ضرورت یہ تھی کہ سفر لمبا ہو جائے تا کہ اطمینان سے سوچ سکیں اور عمل کر سکیں ۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے اس لڑکی کو استعمال کیا ، وہ محافظوں کے کمانڈر کو قبضے میں لے لے ۔ لڑکی نے پہلی ملاقات میں ہی یہ مقصد حاصل کر لیا اورمصری کو منہ مانگی قیمت دے دی ۔ مصری کو ایسا بڑا رُتبے والا آدمی نہیں تھا ۔ معمولی سا عہدے دار تھا۔ اس نے کبھی خواب میں بھی اتنی حسین لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔ کہاں ایک جیتی جاگتی لڑکی جو اس کے تصوروں سے بھی زیادہ خوبصورت تھی ، اس کی لونڈی بن گئی تھی ۔ وہ اپنا آپ، اپنا فرض اور اپنا مذہب ہی بھول گیا ۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی لڑکی سے الگ نہیں ہونا چاہتا تھا۔

اس پاگل پن میں اُس نے صبح کے وقت پہلا حکم یہ دیا کہ جانور بہت تھکے ہوئے ہیں ، لہٰذا آج سفر نہیں ہوگا ۔ محافظوں اور شتربانوں کو اس حکم سے بہت خوشی ہوئی ۔ وہ محاذ کی سختیوں سے اُکتائے ہوئے تھے۔ انہیں منزل تک پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں تھی ۔ وہ دن بھر آرام کرتے رہے۔گپ شپ لگاتے رہے اور انکاکمانڈر اس لڑکی کے پاس بیٹھا بدمست ہوتا رہا۔ دن گزر گیا ، رات آئی اور جب سب سو گئے تو مصر ی لڑکی کو ساتھ لیے دُور چلا گیا ۔ لڑکی نے اُسے آسمان پر پہنچا دیا ۔

صبح جب یہ قافلہ چلنے لگا تو مصری کمانڈر نے راستہ بدل دیا ۔ اپنے دستے سے اس نے کہا کہ اس طرف اگلے پڑائو کے لیے بہت خوبصورت جگہ ہے ۔ قریب ایک گائوں بھی ہے جہاں مرغیاں اور انڈے مل جائیں گے۔ اس کا دستہ اس پر بھی خوش ہوا کہ کمانڈر انہیں عیش کرا رہا ہے ۔ البتہ اس دستے میں دو عسکری ایسے بھی تھے جوکمانڈر کی ان حرکتوں سے خوش نہیں تھے ۔ انہوں نے اسے کہا کہ ہمارے پاس خطرناک قیدی ہیں ۔ یہ سب جاسوس ہیں ۔ انہیں بہت جلدی حکومت کے حوالے کر دینا چاہیے ۔ بلاوجہ سفر لمبا کرنا ٹھیک نہیں ۔ مصری نے انہیں یہ کہہ کر چپ کروادیا کہ یہ میری ذمہ داری ہے کہ جلدی پہنچوں یا دیر سے۔ جواب طلبی ہوئی تو مجھ سے ہوگی۔ دونوں خاموش ہوگئے ، لیکن وہ الگ جا کر آپس میں کھسر پسر کرتے رہے ۔

٭ ٭ ٭

دوپہر کے بعد انہیں دُور آگے بہت سے گدھ اُڑتے اور اُترتے نظر آئے ۔ یہ اس کی نشانی تھی کہ وہاںکوئی مُردار ہے۔وہ علاقہ مٹی اور ریت کے ٹیلوں کا تھا۔ صحرائی درخت بھی تھے۔ چلتے چلتے وہ ان ٹیلوں میں داخل ہوگئے ۔ راستہ اوپر ہوتا گیا اور ایک بلند جگہ سے انہیں ایک میدان نظر آیا جہاں گِد ھوں کے غول اُترتے ہوئے شور برپا کر رہے تھے ۔ ذرا اور آگے گئے تو نظر آیا کو لاشیں ہیں ، بدبو بھی تھی ۔ یہ اُن سوڈانیوں کی لاشیں تھیں جو بحیرئہ روم کے ساحل پر مقیم سلطان ایوبی کی فوج پر حملہ کرنے چلے تھے۔سلطان ایوبی کے جانباز سواروں نے راتوں کے ان کے عقبی حصے پر حملے کر کے یہ کشت و خون کیا اور سوڈانی فوج کو تتر بتر کر دیا تھا۔یہاں سے آگے میلوں وسعت پر لاشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ سوڈانیوں کو اپنی لاشیں اُٹھانے کی مہلت نہیں ملی تھی ۔ قیدیوں اور محافظوں کا قافلہ چلتا رہا اور ذرا سا رُخ بدل کر لاشوں اور گدھوں سے ہٹ گیا ۔

قافلہ جب وہاں سے گزر رہا تھا تو انہوں نے دیکھا کہ لاشوں کے اردگرد اُن کے ہتھیار بھی بکھرے ہوئے تھے ۔ ان میں کمانیں اور ترکش تھے۔ بر چھیاں ، تلواریں اور ڈھالیں بھی تھیں ۔ قیدیوں نے یہ ہتھیار دیکھ لیے ۔ انہوں نے آپس میںباتیں کیں اور رابن نے اس لڑکی سے کچھ کہا جس نے مصری کمانڈر پر قبضہ کر رکھا تھا ۔ لاشیں اور ہتھیار دُور دُور تک پھیلے ہوئے تھے۔ دائیں طرف ٹیلوں کے قریب سر سبز جگہ تھی ۔ پانی بھی نظر آرہا تھا ۔ سبزہ ٹیلوں کے اوپر تک گیا ہوا تھا ۔ لڑکی نے کمانڈر کو اشارہ کیا تو وہ اس کے قریب چلا گیا ۔ لڑکی نے کہا …” یہ جگہ بہت اچھی ہے ۔ یہیں رُک جاتے ہیں ”…مصری نے قافلے کا رُخ پھیر دیا اور سر سبز ٹیلے کے قریب پانی کے چشمے پر جا روکا۔ رات یہیں بسر کرنی تھی ۔سب گھوڑوں اور اونٹوں سے اُترے ، جانور پانی پر ٹوٹ پڑے۔ رات گزارنے کے لیے اچھی جگہ دیکھی جانے لگی ۔ دو ٹیلوں کے درمیان جگہ کشادہ بھی تھی اور وہاںسبزہ بھی تھا ۔ یہی جگہ منتخب کر لی گئی ۔

جب رات کا اندھیرا گہرا ہوا تو سب سو گئے ۔ مصری جگ رہا تھا اور لڑکی بھی جاگ رہی تھی ۔اس رات اسے خاص طور پر جاگنا اور مصری کمانڈر کو پوری طرح مدہوش کرنا تھا ۔ اسے جب خراٹوں کی آوازیں سنائی دینے لگیں تو وہ مصری کے پاس چلی گئی ۔ اسی لڑکی کی خاطر وہ سب سے الگ اور دُور ہٹ کر لیٹا تھا ۔ لڑکی اسے ٹیلے کی اوٹ میں لے گئی اورر وہاں سے اور زیادہ دُور جانے کی خواہش ظاہر کی ۔ مصری اس کی خواہشوں کا غلام ہو گیا ۔ اسے احساس تک نہ ہوا کہ آج رات لڑکی اُسے ایک خاص مقصد کے لیے دور لے جارہی ہے ۔ وہ اس کے ساتھ ساتھ چلتا رہا اور لڑکی اسے تین ٹیلوں سے بھی پرے لے گئی ۔ وہ رُکی اور مصری کو بانہوں میں لے لیا ۔ مصری بے خود ہو گیا ۔

اُدھر رابن نے جب دیکھا کہ کمانڈر جا چکا ہے اور دوسرے محافظ گہری نیند سوئے ہوئے ہیں تو اس نے لیٹے لیٹے اپنے ایک ساتھی کو جگا یا۔ اس نے ساتھ والے کو جگایا ۔ اس طرح رابن کے چاروں ساتھی جاگ اُٹھے … محافظ اُن سے ذرا دُور سوئے ہوئے تھے ۔ مصری کمانڈر کو لڑکی نے اتنا بے پروا کر دیا تھا کہ رات کو وہ سنتری کھڑا نہیں کرتا تھا ۔ پہلے رابن پیٹ کے بل رینگتا ہوا محافظوں سے دور چلا گیا ۔ اس کے بعد اس کے چاروں ساتھی بھی چلے گئے ۔ ٹیلے کی اوٹ میں ہو کر وہ تیز تیز چلنے لگے اور لاشوں تک پہنچ گئے ۔ ٹٹول ٹٹول کر انہوںنے تین کمانیں اور ترکش اُٹھائے اور ایک ایک برچھی اُٹھالی ۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے لڑکی سے کہا تھا کہ وہ کمانڈر سے یہی کہے کہ یہاں پڑائو کیا جائے ۔ وہ ہتھیار لے کر واپس ہوئے ، اب وہ اکٹھے تھے ۔

وہ سوئے ہوئے محافظوں کے قریب جا کھڑے ہوئے ۔ رابن نے ایک محافظ کے سینے میں برچھی مارنے کے لیے برچھی ذرا اُوپر اُٹھائی ۔ باقی چاربھی ایک ایک محافظ کے سر پر کھڑے تھے ۔ یہ نہایت کامیاب چال تھی۔ وہ بیک وقت چار محافظوں کو ختم کر سکتے تھے اور باقی گیارہ کے سنبھلنے تک انہیں بھی ختم کرنا مشکل نہیں تھا۔ پیچھے تین شتربان تھے اور مصری کمانڈر ۔ وہ آسان شکار تھے ۔ رابن نے جونہی برچھی اُوپر اُٹھائی ، زناٹہ سا سنائی دیا اور ایک تیر رابن کے سینے میں اُتر گیا ۔ اس کے ساتھ ہی ایک تیر رابن کے ساتھی کے سینے میں لگا ، وہ ڈولے ۔ ان کے تین ساتھی ابھی دیکھ ہی رہے تھے کہ یہ کیا ہوا ہے کہ دو تیر اور آئے اور دو اور قیدی اوندھے ہوگئے ۔ آخری قیدی بھاگنے کے لیے پیچھے کو مُڑا تو ایک تیر اس کے پہلو میں اُترگیا ۔ یہ کام اتنی خاموشی سے ہوگیا کہ ان محافظوں میں سے کسی کی آنکھ ہی نہ کھلی جن کے سروں پر موت آن کھڑی ہوئی تھی ۔

تیر انداز آگے آگئے ۔انہوں نے مشعلیں روشن کیں۔ یہ دو محافظ تھے جنہوں نے اپنے کمانڈر سے کہا تھا کہ انہیں منزل پر پہنچنا چاہیے۔وہ دیانت دار تھے ۔وہ سوئے ہوئے تھے ، جب چاروں قیدی ان کے قریب سے گزرے تو اُن میں سے ایک کی آنکھ کھل گئی تھی ۔ اس نے اپنے ساتھی کو جگایا اور قیدیوں کا تعاقب دبے پائوں کیا ۔ انہوں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اگر قیدیوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انہیں تیروں سے ختم کر دیں گے ، مگر اس سے پہلے وہ دیکھنا چاہتے تھے کہ یہ کیا کرتے ہیں ۔ اندھیرے میں انہیں جو کچھ نظر آتا رہا ، وہ دیکھتے رہے ۔ قیدی ہتھیار اُٹھا کر واپس آئے تو دونوں محافظ آکر ٹیلے کے ساتھ چھپ کر بیٹھ گئے ۔ جونہیں قیدیوں نے محافظوں کو برچھیاں مارنے کے لیے برچھیاں اُٹھائیں ، انہوں نے تیر چلا دئیے ۔ پھر چاروں کو ختم کر دیا ۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو آواز دی تو اسے لا پتہ پایا۔ اس آواز سے لڑکیاں جاگ اُٹھیںاور باقی محافظ بھی جاگے۔ لڑکیوں نے اپنے آدمیوں کی لاشیں دیکھیں۔ ہر ایک لاش میں ایک تیر اُترا ہوا تھا۔ لڑکیاں خاموشی سے لاشوں کو دیکھتی رہیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ آدمی آج رات کیا کریں گے ۔

مصری کمانڈر وہاں نہیں تھا اور ایک لڑکی بھی غائب تھی ۔

محافظوں کو معلوم نہیں تھا کہ جب ان قیدی جاسوسوں کے سینوں میں تیر داخل ہوئے تھے ، بالکل اسی وقت اُن کے مصری کمانڈر کی پیٹھ میں ایک خنجر اُتر گیا تھا ۔ اُس کی لاش تیسرے ٹیلے کے ساتھ پڑی تھی اس رات صحرا کی ریت خون کی پیاسی معلوم ہوتی تھی ۔ مصری کمانڈر اپنے محافظ دستے اور قیدیوں سے بے خبر اس لڑکی کے ساتھ چلا گیا اور لڑکی اسے خاصا دور لے گئی تھی ۔ اسے معلوم تھا کہ اس کے ساتھی ایک خونی ڈرامہ کھیلیں گے ۔ لڑکی مصری کو ایک ٹیلے کے ساتھ لے کے بیٹھ گئی ۔

اسی ٹیلے سے ذرا پرے بالیان اور اس کے چھ محافظوں نے پڑائو ڈال رکھا تھا ۔ اُن کے گھوڑے کچھ دور بندھے ہوئے تھے ۔ بالیان موبی کو ساتھ لیے ٹیلے کی طرف آگیا ۔ اس کے ہاتھ میں شراب کی بوتل تھی ۔ موبی نے نیچے بچھانے کے لیے دری اُٹھا رکھی تھی ۔ بالیان محافظوں سے دُور جا کر عیش و عشرت کرنا چاہتی تھا۔ اس نے دری بچھا دی اور موبی کو اپنے ساتھ بٹھا لیا ۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ رات کے سکوت میں انہیں قریب سے کسی کی باتوں کی آواز یں سنائی دیں ۔ وہ چونکے اور دم سادھ کر سننے لگے ۔آواز کسی لڑکی کی تھی ۔ بالیان اور موبی دبے پائوں اس طر ف آئے اور ٹیلے کی اوٹ سے دیکھا ۔ انہیں دو سائے بیٹھے ہوئے نظر آئے ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ ایک عورت اور ایک مرد ہے ۔ موبی اور زیادہ قریب ہوگئی اور غور سے باتیں سننے لگی ۔ مصری کمانڈر کے ساتھ اس لڑکی نے ایسی واضح باتیں کیں کہ موبی کو یقین ہوگیا کہ یہ اس کی ساتھی لڑکی ہے اور یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسے قاہرہ لے جایا جارہا ہے ۔

مصر ی نے جو حرکتیں اور باتیں کیں ، وہ تو بالکل ہی صاف تھیں ۔ کسی شک کی گنجائش نہیں تھی ۔ موبی جان گئی تھی کہ یہ مصری اس لڑکی کو اس کی مجبوری کے عالم میں عیاشی کا ذریعہ بنا رہا ہے۔ موبی نے یہ بالکل نہ سوچا تھا کہ اردگرد کوئی اور بھی ہوگا اور اس نے جو ارادہ کیا ہے ، اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اس نے پیچھے ہٹ کر بالیان کے کان میں کچھ کہا …… ” یہ مصری ہے اور یہ میرے ساتھ کی ایک لڑکی کے ساتھ عیش کر رہا ہے ۔ اس لڑکی کو بچالو۔ یہ مصری تمہارا دشمن ہے اور لڑکی تمہاری دوست ”…… اس نے بالیان کو اور زیادہ بھڑکانے کے لیے کہا ۔” یہ بڑی خوبصورت لڑکی ہے ، اسے بچالو اور اپنے سفری حرم میں شامل کرلو

بالیان شراب پئے ہوئے تھا ۔ اس نے کمر بند سے خنجر نکالا اور بہت تیزی سے آگے بڑھ کر خنجر مصری کمانڈر کی پیٹھ میں گھونپ دیا۔ خنجر نکال کر اسی تیزی سے ایک اور وار کیا ۔ لڑکی مصری سے آزاد ہو کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ موبی دوڑی اور اُسے آواز دی ۔ وہ دوڑ کر موبی سے لپٹ گئی۔ موبی نے اس سے پوچھا کہ دوسری کہاں ہیں ۔ اس نے رابن اور دوسرے ساتھیوں کے متعلق بھی بتایا اور یہ بھی کہا کہ وہ پندرہ محافظوں کے پہرے میں ہیں ۔ بالیان دوڑتا گیا اور اپنے چھ ساتھیوں کو بلا لایا۔ اُن کے پاس کمانیں اور دوسرے ہتھیار تھے۔ اتنے میں قیدیوں کے محافظوں میں سے ایک اپنے مصری کمانڈر کو آوازیں دیتا اِدھر آیا۔ بالیان کے ایک ساتھی نے تیر چلایا اور اس محافظ کو ختم کر دیا ۔ وہ لڑکی انہیں اپنی جگہ لے جانے کے لیے آگے آگے چل پڑی ۔

بالیان کو آخری ٹیلے کے پیچھے روشنی نظر آئی ۔ اس نے ٹیلے کی اوٹ میں جا کر دیکھا ۔ وہاں بڑی بڑی دو مشعلیں جل رہی تھیں۔ ان کے ڈنڈے زمین میں گڑھے ہوئے تھے ۔ اس کے اوپر والے سروں پر تیل میں بھیگے ہوئے کپڑے لپٹے ہوئے تھے ، جو جل رہے تھے ۔ بالیان اپنے ساتھیوں کے ساتھ اندھیرے میں تھا ۔ اسے روشنی میں پانچ لڑکیاں الگ کھڑی نظر آرہی تھیں اور محافظ بھی دکھائی دے رہے تھے۔ ان کے درمیان پانچ لاشیں پڑی تھیں ، جن میں تیر اُترے ہوئے تھے ۔ موبی اور دوسری لڑکی کی سسکیاں نکلنے لگیں۔ موبی کے اُکسانے پربالیان نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ تمہارا شکار ہے ، تیروں سے ختم کر دو ۔ ان کی تعداد اب چودہ تھی ۔ یہ اُن کی بد قسمتی تھی کہ وہ روشنی میں تھے۔

بالیان کے ساتھیوں نے کمانوں میں تیر ڈالے۔ تمام تیر ایک ہی بار کمانوں سے نکلے ۔ دوسرے ہی لمحے کمانوں میںچھ اور تیر آچکے تھے۔ ایک ہی با قیدیوں کے چھ محافظ ختم ہو گئے ۔ باقی ابھی سمجھ نہ سکے تھے کہ یہ تیر کہاں سے آئے ہیں ۔ چھ اور تیروں نے چھ اور محافظوں کر گرا دیا ۔ باقی دو رہ گئے تھے۔ اُن میں سے ایک اندھیرے میں غائب ہوگیا ۔ دوسرا ذرا سست نکلا اور وہ بھی سوڈانیوں کے بیک وقت تین تیروں کا شکار ہو گیا ۔ تین شتربان رہ گئے تھے، جو سامنے نہیں تھے۔ وہ اندھیرے میں کہیں اِدھر اُدھر ہوگئے ۔ مشعلوں کی روشنی میں اب لاشیں ہی لاشیں نظر آرہی تھیں۔ ہر لاش ایک ایک تیر لیے ہوئے تھی اورء ایک میںتین تیر پیوست تھے۔ موبی دوڑ کر لڑکیوں سے ملی ۔ اتنے میں ایک گھوڑے کی سرپٹ دوڑنے کی آوازیں سنائی دی ، جو دور نکل گئیں ۔ بالیان نے کہا …… ”یہاں رُکنا ٹھیک نہیں ۔ ان میں ایک بچ کر نکل گیا ہے ۔ وہ قاہرہ کی سمت گیا ہے ، فوراً یہاں سے نکلو ”۔

انہوں نے محافظوں کے گھوڑے کھولے اور اپنی جگہ لے گئے ، وہاں جا کر دیکھا ایک گھوڑا بمع زین غائب تھا ۔ اسے بچ کر نکل جانے والا محافظ لے گیا تھا ۔ وہ اپنے گھوڑوں تک نہیں جا سکا تھا ۔ چھپ کر اُدھر چلاگیا ، جہاں اسے آٹھ گھوڑے بندھے نظر آئے ۔ زینیں پاس ہی پڑی تھیں ۔ اُس نے ایک گھوڑے پر زین کسی اور بھاگ نکلا ۔ بالیان نے چودہ گھوڑوں پر زینیں کسوائیں ۔ سامان دو گھوڑوں پر لادا اور باقی گھوڑے ساتھ لیے اور روانہ گئے ۔ لڑکیوں نے موبی کو سنایا کہ اُن پرکیا بیتی ہے اور انہیں کہاں لے جایا رہا تھا ۔ اُنہوں نے یہ بھی بتایا کہ رابن اور اس کے ساتھی لاشوں کے ہتھیار اُٹھا نے گئے تھے ، مگرمعلوم نہیں کہ وہ کس طرح مارے گئے ۔

موبی نے کہا …… ” ایوبی کے کیمپ میں میری اور رابن کی ملاقات اچانک ہوگئی تھی ۔ اس نے کہا تھا کہ مجھے یو ں نظر آرہا تھا کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ، ورنہ ہم اس طر ح خلافِ توقع نہ ملتے۔ آج ہماری ملاقات بالکل خلافِ توقع ہوگئی ہے ، لیکن میں یہ نہیں کہوں گی کہ یسوع مسیح کو ہماری کامیابی منظور ہے ۔خدائے یسوع مسیح ہم سے ناراض معلوم ہوتا ہے ۔ ہم نے جس کا م میں ہاتھ ڈالا وہ چوپٹ ہوا ۔ بحیرئہ روم میں ہماری فوج کو شکست ہوئی اور مصر میں ہماری دوست سوڈانی فوج کو شکست ہوئی ۔ اِدھر رابن اور کرسٹوفر جیسے دلیر اور قابل آدمی اور ان کے اتنے اچھے ساتھی مارے گئے ۔ معلوم نہیں ، ہمارا کیا انجام ہوگا ”۔

” ہمارے جیتے جی تمہیں کوئی ہاتھ نہیں لگا سکتا ”۔ بالیان نے کہا ……” میرے شیروں کا کمال تم نے دیکھ لیا ہے ”۔

٭ ٭ ٭

جس وقت قیدیوں کا قافلہ لاشوں کے پاس ٹیلوں میں رُکا تھا ۔ اُس وقت ساحل پر سلطان ایوبی کی فوج کے

کیمپ میں تین آدمی داخل ہوئے ۔ وہ اٹلی کی زبان بولتے تھے۔ ان کا لباس بھی اٹلی کے دیہاتیوں جیسا تھا ، ان کی زبان کوئی نہیں سمجھتا تھا ۔ اٹلی کے جنگی قیدیوں سے معلوم کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اٹلی سے آئے ہیں اور اپنی لڑکیوں کو ڈھونڈتے پھر رہے ہیں ۔ یہ یہاں کے سالار سے ملنا چاہتے ہیں ۔ انہیں بہائوالدین شداد کے پاس پہنچا دیا گیا ۔ صلاح الدین ایوبی کی غیر حاضری میں شداد کیمپ کمانڈر تھا ۔ اٹلی کا ایک جنگی قیدی بلایا گیا ۔ وہ مصر کی زبان بھی جانتا تھا ۔ اس کی وساطت سے ان آدمیوں کے ساتھ باتیں ہوئیں ۔ اِن تین آدمیوں میں ایک ادھیڑ عمر تھا اور دو جوان تھے۔ تینوں نے ایک ہی جیسی بات سنائی ۔ تینوں کی ایک ایک جوان بہن کو صلیبی فوجی اُن کے گھروں سے اُٹھا لائے تھے۔ انہیں کسی نے بتایا تھا کہ وہ لڑکیاں مسلمانوں کے کیمپ میں پہنچ گئی ہیں ۔ یہ اپنی بہنوں کی تلاش میں آئے ہیں

انہیں بتایا گیا تھا کہ یہاں سات لڑکیاں آئی تھیں ۔انہوں نے یہی کہانی سنائی تھی مگر ساتوں جاسوس نکلیں ۔ ان تینوں نے کہا کہ ہماری بہنوں کا جاسوسی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ۔ ہم توغریب اور مظلوم لوگ ہیں ۔کسی سے کشتی مانگ کر اتنی دور آئے ہیں۔ ہم غریبوں کی بہنیں جاسوسی کی جراأت کیسے کر سکتی ہیں۔ ہمیں اِن سات لڑکیوں کا کچھ پتہ نہیں ۔ معلوم نہیں، وہ کون ہوں گی ۔ ہم تو اپنی بہنوںکو ڈھونڈ رہے ہیں ۔

” ہمارے پاس اور کوئی لڑکی نہیں ”۔ شداد نے بتایا ۔” یہی سات لڑکیاں تھیں، جن میں سے ایک لاپتہ ہو گئی تھی اور باقی چھ کو پرسوں صبح یہاں سے روانہ کر دیا گیا ہے ۔ اگر انہیں دیکھنا چاہتے ہو تو قاہرہ چلے جائو ۔ ہمارا سلطان رحم دِل انسان ہے ، تمہیں لڑکیاں دکھا دے گا ”۔

”نہیں ”۔ایک نے کہا ……” ہماری بہنیں جاسوس نہیں ۔ وہ سات کوئی اورہوں گی۔ ہماری بہنیں سمندر میں ڈوب گئی ہوں گی یا ہمارے ہی فوجیوں نے انہیں اپنے پاس رکھا ہوا ہوگا ”۔

بہائو الدین شداد نیک خصلت انسان تھا۔ اُس نے ان دیہاتیوں کی مظلومیت سے متا ثر ہو کر اُن کی خاطر تواضع کی اور انہیں عزت سے رخصت کیا ۔ اگر وہاںعلی بن سفیان ہوتا تو ان تینوں کو اتنی آسانی سے نہ جانے دیتا۔ اس کی سراغ رساں نظریں بھانپ لیتیں کہ یہ تینوں جھوٹ بول رہے ہیں …… تینوں چلے گئے ۔ کسی نے بھی نہ دیکھا کہ وہ کہاں گئے ہیں ۔ وہ چلتے ہی چلے گئے اور شام تک چلتے ہی رہے ۔ کیمپ سے دُورکہاں کوئی خطرہ نہ تھا ، وہ چٹانوں کے اندر چلے گئے ۔ وہاں ان جیسے اٹھارہ آدمی بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ ان تینوں میں جو اُدھیڑ عمر تھا ، وہ میگنا ناماریوس تھا ۔ یہ صلیبیوں کی وہ کمانڈو پارٹی تھی جسے لڑکیوں کو آزاد کرانے اور اگر ممکن ہو سکے تو سلطان ایوبی کو قتل کرنے کا مشن دیا گیا تھا ۔ان تینوں نے کیمپ سے کچھ اور ضروری معلومات بھی حاصل کرلی تھیں ۔ یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ صلاح الدین ایوبی یہاں نہیں قاہرہ میں ہے ۔ شداد کے ساتھ باتیں کرتے ، جہاں انہیں یہ معلوم ہوگیا تھا کہ لڑکیاں قاہرہ کو روانہ کر دی گئی ہیں ، وہاں انہوں نے یہ بھی معلوم کر لیا تھا کہ ان کے ساتھ پانچ مرد قیدی بھی ہیں ۔

یہ پارٹی ایک بڑی کشتی میں آئی تھی ۔ انہوں نے کشتی ساحل پرایک ایسی جگہ پر بانددی تھی جہاں سمندر چٹان کو کاٹ کر اندر تک گیا ہوا تھا ۔ ان لوگوں کو اب قاہرہ کے لیے روانہ ہونا تھا ، مگر سواری نہیں تھی ۔ یہ تین آدمی جو کیمپ میں گئے تھے ، یہ بھی دیکھ آئے تھے کہ اس فوج کے گھوڑے اور اونٹ کہاں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دیکھاتھا کہ کیمپ سے جانور چوری کرنا آسان نہیں ۔ اکیس گھوڑے یااونٹ چوری نہیں کیے جاسکتے تھے۔ ابھی سورج طلوع ہونے میںبہت دیر تھی ۔ وہ پیدل ہی چل پڑے ۔ اگر انہیں سواری مل جاتی تو وہ قیدیوں کو راستے میں ہی جا لینے کی کوشش کرتے ۔ اب وہ یہ سوچ کر پیدل چلے کہ قاہر میں جا کر قیدیوں کو چھڑانے کی کوشش کریں گے۔ سب جانتے تھے کہ یہ زندگی اور موت کی مہم ہے ۔ صلیبی فوج کے سربراہوں اور شاہوں نے انہیں کامیابی کی صورت میں جو انعام دینے کا وعدہ کیا تھا ، وہ اتنا زیادہ تھا کہ کوئی کام کیے بغیر اپنے کنبوں سمیت ساری عمر آرام اور بے فکری کی زندگی بسر کر سکتے تھے ۔

میگناناماریوس کو جیل خانے سے لایا گیا تھا ۔ اُسے ڈاکہ زنی کے جرم میں تیس سال سزائے قید دی گئی تھی ۔ اس کے ساتھ دو اور قیدی تھے جن میں ایک کی سزا چوبیس سال اور دوسرے کی ستائیس سال تھی ۔ اُس زمانے میں قید خانے قصاب خانے ہوتے تھے ۔ مجرم کو انسان نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ بڑی ظالمانہ مشقت لی جاتی اور میویشیوں کی طرح کھانے کو بے کار خوراک دی جاتی تھی ۔ قیدی رات کو بھی آرام نہیں کر سکتے تھے ۔ایسی قید سے موت بہتر تھی ۔ ان تینوں کو انعام کے علاوہ سزا معاف کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ۔۔ صلیب پرحلف لے کر انہیں اس پارٹی میں شامل کیا گیا تھا ۔ جس پادری نے اُن سے حلف لیا تھا ، اس نے انہیں بتایا تھا کہ وہ جتنے مسلمانوں کو قتل کریں گے ، اس سے دس گناہ ان کے گناہ بخشے جائیں گے اور اگر انہوں نے صلاح الدین ایوبی کو قتل کیا تو اُن کے تمام گناہ بخش دئیے جائیں گے اور اگلے جہان خدائے یسوع مسیح انہیں جنت میں جگہ دیں گے ۔

یہ معلوم نہیں کہ یہ تینوں قید خانے کے جہنم سے آزاد ہونے کے لیے موت کی اس مہم میں شامل ہوئے تھے یا اگلے جہاں جنت میںداخل ہونے کے لیے یا انعام کا لالچ انہیں لے آیا تھا یا وہ نفرت جو اُن کے دِلوں میں مسلمانوں کے خلاف ڈالی گئی تھی ۔ بہر حال وہ عزم کے پختہ معلوم ہوتے تھے اور اُن کا جوش و خروش بتا رہا تھا کہ وہ کچھ کر کے ہی مصر سے نکلیں گے یا جانیں قربان کردیں گے ۔ اقی اٹھارہ تو فوج کے منتخب آدمی تھے ۔ انہوں نے جلتے ہوئے جہازوں سے جانیں بچائی تھیں اور بڑی مشکل سے واپس گئے تھے۔ یہ مسلمانوں سے اس ذلت آمیز شکست کا انتقام لینا چاہتے تھے۔ انعام کا لالچ تو تھا ہی …… یہی جذبہ تھا جس کے جوش سے وہ اَ ن دیکھی منزل کی سمت پیدل ہی چل پڑے ۔

دوپہر کے وقت ایک گھوڑا سوار صلاح الدین ایوبی کے ہیڈ کواٹر کے سامنے جا رُکا ۔ گھوڑے کا پسینہ پھوٹ رہا تھا اور سوار کے منہ سے تھکن کے مارے بات نہیں نکل رہی تھی ۔ وہ گھوڑے سے اُترا تو گھوڑے کاسارا جسم بڑی زور سے کانپا ۔ گھوڑا گر پڑا اور مر گیا ۔ سوار نے اسے آرام دئیے بغیر اور پانی پلائے بغیر ساری رات اور آدھا دن مسلسل دوڑایا تھا ۔ سلطان ایوبی کے محافظوں نے سوار کو گھیرے میں لے لیا ۔ اُسے پانی پلایا اور جب وہ بات کرنے کے قابل ہوا تو اس نے کہا کہ کسی سالار یا کماندار سے ملا دو …… سلطان ایوبی خود ہی باہر آگیا تھا ۔ سوار اُسے دیکھ کر اُٹھا اور سلام کرکے کہا ……” سلطان کا اقبال بلند ہو ۔ بُری خبر لایا ہوں ”…… سلطان ایوبی اسے اندر لے گیا اور کہا ……” خبر جلدی سے سنا ئو ”۔

”قیدی لڑکیاں بھاگ گئی ہیں ۔ ہمارا پورا دستہ مارا گیا ہے ” ۔ اس نے کہا ……” مرد قیدیوں کو ہم نے جان سے مار دیا ہے۔ میں اکیلا بچ کر نکلا ہوں ۔ مجھے یہ معلوم نہیں کہ حملہ آور کون تھے ۔ ہم مشعلوں کی روشنی میں اور وہ اندھیرے میں ۔ اندھیرے سے تیر آئے اور میرے تمام ساتھی ختم ہوگئے ”۔

یہ قیدیوں کے محافظوں کے دستے کا وہ آدمی تھا جو اندھیرے میں غائب ہو گیا تھا اور سوڈانیوںکا گھوڑا کھول کر بھاگ آیا تھا ۔ اس نے گھوڑے کو بلاروکے سرپٹ دوڑایا تھا اور اتنا طویل سفر آدھے سے بھی تھوڑے وقت میں طے کر لیا تھا ۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے علی بن سفیان اور فوج کے ایک نائب سالار کو بلایا ۔ وہ آئے تو اس آدمی سے کہا کہ وہ اب ساری بات سنائے۔ اُس نے کیمپ سے روانگی کے وقت سے بات شروع اور اپنے کمانڈر کے متعلق بتایا کہ وہ ایک قیدی لڑکی کے ساتھ دِل بہلاتا رہا اور قیدیوںسے لاپروا ہو گیا ، پھر راستے میں جو کچھ ہوتا رہا اور آخر میں جو کچھ ہوا ، اُس نے سنا دیا ، مگر وہ یہ نہ بتا سکا کہ حملہ آور کون تھے ۔

سلطان ایوبی نے علی بن سفیان اور نائب سالارسے کہا ……” اس کامطلب یہ ہے کہ صلیبی چھاپہ مار مصر کے اندر موجو دہیں ”۔

” ہو سکتا ہے ”۔ علی بن سفیان نے کہا ……” یہ صحرائی ڈاکو بھی ہو سکتے ہیں ۔ اتنی خوبصورت چھ لڑکیاں ڈاکوئوں کے لیے بہت بڑی کشش تھی ”۔

” تم نے اس کی بات غور سے نہیں سنی ”۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ” اس نے کہا ہے کہ مرد قیدی لاشوں کے ہتھیار اُٹھا لائے تھے اور محافظوں کو قتل کرنے لگے تھے۔ محافظوں میں سے دو نے انہیں تیروں سے ہلاک کر دیا ۔ اس کے بعد اُن پر حملہ ہوا ۔ اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے صلیبی چھاپہ مار اُن کے تعاقب میں تھے ”۔

” وہ کوئی بھی تھے سلطانِ محترم !” نائب سالار نے کہا ۔ ” فوری طور پر کرنے والا کام یہ ہے کہ اس عسکری کو راہنمائی کے لیے ساتھ بھیجا جائے اور کم از کم بیس گھوڑا سوار جو تیز رفتار ہوں ، تعاقب کے لیے بھیجے جائیں۔ یہ بعد کی بات ہے کہ وہ کون تھے ”۔

” میں اپنے ایک نائب کو ساتھ بھیجوں گا ” ۔ علی بن سفیان نے کہا ۔

”اس عسکری کو کھانا کھلائو ”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ” اسے تھوڑی دیر آرام کرلینے دو۔ اتنی دیر میں بیس سوار تیار کرو اور تعاقب میں روانہ کر دو۔ اگر ضرورت سمجھو تو زیادہ سوار بھیج دو ”۔

” میں نے جہاں گھوڑا کھولا تھا ، وہاں آٹھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے ”۔ محافظ نے کہا ……” وہاں کوئی انسان نہیں تھا ۔حملہ آور وہی ہو سکتے ہیں ، اگر گھوڑے آٹھ تو وہ بھی آٹھ ہی ہوں گے ”۔

چھاپہ ماروں کی تعداد زیادہ نہیں ہو سکتی ”۔ نائب سالار نے کہا …… ” ہم انشاء اللہ انہیں پکڑ لیں گے ”۔

” یہ یاد رکھو کہ وہ چھاپہ مار ہیں ”۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ” اور لڑکیاں جاسوس ہیں ، اگر تم ایک جاسوس یا چھاپہ مار کو پکڑ لو تو سمجھ لو کہ تم نے دشمن کے دو سو عسکری پکڑ لیے ہیں ۔ میں ایک جاسوس کو ہلاک کرنے کے لیے دشمن کے دو سو عسکریوں کو چھوڑ سکتا ہوں ۔ ایک عورت کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی مگر ایک جاسوس اور تخریب کار عورت اکیلی پورے ملک کا بیڑہ غرق کر سکتی ہے ۔ یہ لڑکیاں بے حد خطرناک ہیں ، اگر وہ مصر کے اندر رہ گئیں تو تمہارا پورے کا پورا لشکر بے کار ہو جائے گا ۔ ایک جاسوس یا جاسوسہ کو پکڑنے یا جان سے مارنے کے لیے اپنے ایک سو سپاہی قربان کر دو ۔ یہ سودا پھر بھی سستا ہے ۔ چھاپہ مار اگر نہ پکڑے جائیں تو مجھے پروا نہیں اِن لڑکیوں کو ہر قیمت پر پکڑنا ہے ۔ ضرورت سمجھو تو تیروں سے انہیں ہلاک کر دو ۔ زندہ نکل کر نہ جائیں ”۔

ایک گھنٹے کے اندر اندر بیس تیز رفتار سوار روانہ کر دئیے گئے ۔ اس کا راہنما یہ محافظ تھا اور کمانڈر علی بن سفیان کا ایک نائب زاہدین تھا ۔ ان سواروں میں فخرالمصری کو علی بن سفیان کے خاص طور پر شامل کیا تھا ۔ یہ فخر کی خواہش تھی کہ اسے بالیان کے تعاقب کے لیے بھیجا جائے۔ یہ تو نہ علی بن سفیان کو علم تھا ، نہ فخر المصری کو کہ جن کے تعاقب میں سوار جا رہے ہیں ، وہ بالیان ، موبی اور ان کے چھ وفادار ساتھی ہیں ۔

ادھر سے یہ بیس سوار روانہ ہوئے جن میں اکیسواں ان کا کمانڈر تھا ۔ ان کا ہدف لڑکیاں تھیں اور انہیں چھڑا کر لے جانے والے ۔ ادھر سے صلیبیوں کے بیس کمانڈو آرہے تھے جن میں اکیسواں اُن کا کمانڈر تھا ۔ ان کا بھی ہدف یہی لڑکیاں تھیں ، مگر ان کی کمزوری یہ تھی کہ وہ پیدل آرہے تھے ۔ دونوں پارٹیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ جن کے تعاقب میں وہ جا رہے ہیں ، وہ کہاں ہیں ۔

صلیبیوں کی کمانڈو پارٹی اگلے روز سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے خاصہ فاصلہ طے کر چکی تھی ۔ راستہ اُوپر چڑھ رہا تھا ، وہ علاقہ نشیب و فراز کا تھا ۔ یہ لوگ بلندی پر گئے تو انہیں دور ایک میدان میں جہاں کھجور کے بہت سے درختوں کے ساتھ دوسری قسم کے درخت بھی تھے ، بے شمار اُونٹ کھڑے نظر آئے ۔ انہیںبٹھا بٹھا کر اُن سے سامان اُتارا جا رہا تھا ۔ بارہ چودہ گھوڑے بھی تھے۔ ان کے سوار فوجی معلوم ہوتے تھے ، باقی تمام شتر بان تھے ۔ یہ اکیس صلیبی رُک گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، جیسے انہیں یقین نہ آرہا ہو کہ وہ اونٹ اور گھوڑے ہیں ۔ یہی ان کی ضرورت تھی ۔ اُن کے کمانڈر نے پارٹی کا روک لیا اور کہا ……”ہم سچے دل سے صلیب پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر آئے ہیں ۔ وہ دیکھو صلیب کا کرشمہ …… یہ معجزہ ہے ۔ خدا نے آسمان سے تمہارے لیے سواری بھیجی ہے ۔ تم میں سے جس کے دِل میں کسی بھی گناہ کا یا فرض سے کوتاہی کا یا جان بچا کر بھاگنے کا خیال ہے ، وہ فوراً نکال دو ۔ خدا کا بیٹا جو مظلوموں کا دوست اور ظالموں کا دشمن ہے ، تماری مدد کے لیے آسمان سے اُتر آیا ہے ۔

سب کے چہروں پر تھکن کے جو آثا رتھے ، وہ غائب ہو گئے اور چہروں پر رونق آگئی ۔ انہوں نے ابھی اس پہلو پر غور ہی نہیں کیا تھا کہ اتنے میں بے شمار اونٹوں اور گھوڑوں میں سے جن کے ساتھ اتنے زیادہ فوجی اور شتر بان ہیں ، وہ اپنی ضرورت کے مطابق جانور کس طرح حاصل کریں گے ۔

یہ ایک سو کے لگ بھگ اونٹوں کا قافلہ تھا جو محاذ پر فوج کے لیے راشن لے جا رہا تھا ۔ چونکہ ملک کے اندر دشمن کا کوئی خطر ہ نہیں تھا ، اس لیے قافلے کی حفاظت کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا گیا تھا ۔ صرف دس گھوڑا سوار تھا بھیج دئیے گئے تھے ۔ شتر بان نہتے تھے۔ ابھی چھاپہ مار اور شب خون مارنے والے میدان میں نہیں آئے تھے ۔ صلیبیوں کے یہ اکیس آدمی پہلے چھاپہ مار تھے یا اس سے پہلے صلاح الدین ایوبی نے شب خون کا وہ طریقہ آزمایا تھا جس میں تھوڑے سے سواروں نے سوڈانیوں کی فوج کے عقبی حصے پر حملہ کیا اور غائب ہو گئے تھے ۔

اس ”وار کرو اور بھاگو ” کے طریقہ جنگ کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے سلطان ایوبی نے تیز رفتار ، ذہین اور جسمانی لحاظ سے غیر معمولی طور صحت مند عسکریوں کے دستے تیار کرنے کا حکم دے دیا تھا اور دشمن کے ملک میں لڑاکا جاسوس بھیجنے کی سکیم بھی تیار کر لی تھی ، لیکن صلیبیوں کو ابھی شب خون اور چھاپوں کی نہیں سوجھی تھی ۔کسی نجی قافلے کو ڈاکو بعض اوقات لوٹ لیا کرتے تھے ۔ سرکاری قافلے ہمیشہ محفوظ رہتے تھے ۔ اسی لیے فوجیوں کے رسد کے قافلے بے خوف و خطر رواں دواں رہتے تھے ۔ اس سے پہلے بھی اسی محاذ کے لیے دو بار رسد کے قافلے جا چکے تھے اور اسی علاقے سے گزرے تھے ۔ لہٰذا حفاظتی اقدامات کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی تھی ۔

یہ قافلہ بھی خطروں سے بے پروا محاذ کو جا رہا تھا اور رات کے لیے یہاں پڑائو کر رہا تھا ۔ اس سے تھوڑی ہی دور قافلے کے لیے بہت بڑا خطرہ آرہا تھا ۔ صلیبی کمانڈر نے اپنی پارٹی کو ایک نشیب میں بٹھا لیا اور دو آدمیوں سے کہا کہ وہ جا کر یہ دیکھیں کہ قافلے میں کتنے اُونٹ ، کتنے گھوڑے ، کتنے مسلح آدمی اور خطرے کیاکیا ہیں۔ پھر وہ رات کو حملہ کرنے کی سکیم بنانے لگا ۔ اُن کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں تھی ۔ جذبے کی بھی کمی نہیں تھی ۔ ہر ایک آدمی جان پر کھیلنے کو تیا ر تھا ۔

نصف شب سے بہت پہلے وہ دو آدمی واپس آئے جو قافلے کو قریب سے دیکھنے گئے تھے ۔ انہوں نے بتایا کہ قافلے کے ساتھ دس مسلح سوار ہیں جو ایک ہی جگہ سوئے ہوئے ہیں ۔ گھوڑے الگ بندھے ہوئے ہیں ۔ شتربان ٹولیوں میں بٹ کر سوئے ہوئے ہیں ۔ سامان میں زیاد ہ تر بوریاں ہیں ۔ شتر بانوں کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ۔

یہ بڑی اچھی معلومات تھیں ۔ کام مشکل نہیں تھا ۔

قافلے والے گہری نیند سوئے ہوئے تھے ۔ دس عسکریوں کی آنکھ بھی نہ کھلی کہ تلواروں اور خنجروں نے انہیں کاٹ کر رکھ دیا ۔ صلیبی چھاپہ ماروں نے یہ کام اتنی خاموشی اور آسانی سے کر لیا کہ بیشتر شتربانوں کی آنکھ ہی کھلی اور جن کی آنکھ کھلی و ہ سمجھ ہی نہ پائے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ، جس کے منہ سے آواز نکلی وہ اس کی زندگی کی آخری آواز ثابت ہوئی ۔ چھاپہ ماروں نے شتربانوں کو ہراساں کرنے کے لیے چیخنا شروع کر دیا ۔ سوئے ہوئے شتر بان گھبرا کر ہڑ بڑا کر اُٹھے ۔ اُونٹ بھی بدک کر اُٹھنے لگے ۔ صلیبیوں نے شتربانوں کا قتلِ عام شروع کر دیا ۔ بہت تھوڑے بھاگ سکے ۔ صلیبی کمانڈر نے چلا کر کہا …… ” یہ مسلمانوں کا راشن ہے ، تباہ کر دہ ۔ اونٹوں کوبھی ہلاک کر دو ” ……انہوں نے اونٹوں کے پیٹوں میں تلواریں گھونپنی شروع کر دیں ۔ اونٹوں کے واویلے سے رات کانپنے لگی ۔ کمانڈر نے گھوڑے دیکھے ۔ بار ہ تھے، دس سواروں کے لیے دو فالتو ۔ اُس نے نو اُونٹ الگ کر لیے ۔

سورج طلوع ہوا تو پڑائو کا منظر بڑا بھیانک تھا ۔ بے شمار لاشیں بکھری ہوئی تھیں ۔ بہت سے اونٹ مر چکے تھے ۔ کئی تڑپ رہے تھے ۔ کچھ ادھر ادھر بھاگ رہے تھے ۔ آٹا اور کھانے کا دیگر سامان خون میں بکھرا ہوتا تھا ۔ بارہ کے بارہ گھوڑے غائب تھے اور وہاں کوئی زندہ انسان موجود نہیں تھا ۔ چھاپہ مار دُور نکل گئے تھے۔ اس کی سواری کی ضرورت پوری ہو گئی تھی ۔ اب وہ تیز رفتاری سے اپنے شکار کو ڈھونڈ سکتے تھے ۔

٭ ٭ ٭

شکار دُور نہیںتھا ۔ بالیان کا دماغ پہلے ہی موبی کے حسن و جوانی اور شراب نے مائوف کر رکھا تھا ۔ اب اس کے پاس سات حسین اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ وہ خطروں کو بھول ہی گیا تھا ۔ موبی اس بار بارکہتی تھی کہ اتنا زیادہ کہیں رُکنا ٹھیک نہیں، جتنی جلدی ہو سکے ، سمندر تک پہنچنے کی کوشش کرو ، ہمارا تعاقب ہو رہا ہوگا ، مگر بالیان بے فکرے بادشاہوں کی طرح قہقہ لگا کر اس کی بات سنی اَن سنی کر دیتا تھا ۔ لڑکیوں کو جس رات آزاد کرایا گیا تھا ، اس سے اگلی رات وہ ایک جگہ رُکے ہوئے تھے۔ بالیان نے موبی سے کہا کہ ہم سات مرد ہیں اور تم سات لڑکیاں ہو۔ میرے ان چھ دوستوں نے میرا ساتھ بڑی دیانت داری سے دیا ہے ۔ میں اُن کی موجودگی میں تمہارے ساتھ رنگ رلیاں مناتا رہا، پھر بھی وہ نہیں بولے ۔ اب میں انہیں انعام دینا چاہتا ہوں۔ تم ایک ایک لڑکی میرے ایک ایک دوست کے حوالے کر دو اور انہیں کہو کہ یہ تمہاری وفاداری کا تحفہ ہے۔

”یہ نہیں ہو سکتا ” ……موبی نے غصے سے کہا ……” ہم فاحشہ نہیں ہیں ۔ میری مجبوری تھی کہ میں تمہارے ہاتھ میںکھلونا بنی رہی ۔ یہ لڑکیاں تمہاری خریدی ہوئی لونڈیاں نہیں ہیں ”۔

” میں نے تمہیں کسی وقت بھی شریف لڑکی نہیں سمجھا”۔ بالیان نے کہا ……”تم سب ہمارے لیے اپنے جسموں کا تحفہ لائی ہو ۔ یہ لڑکیاں معلوم نہیں کتنے مردوں کے ساتھ کھیل چکی ہیں۔ ان میں ایک بھی مریم نہیں ”۔

” ہم اپنا فرض پورا کرنے کے لیے جسموں کا تحفہ دیتی ہیں ”۔ موبی نے کہا …… ” ہم عیاشی کے لیے مردوں کے پاس نہیں جاتیں ۔ ہمیں ہماری قوم اور ہمارے مذہب نے ایک فرض سونپاہے ۔ اس فرض کی ادائیگی کے لیے ہم اپنا جسم ، اپنا حسن اور اپنی عصمت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ ہمارا فرض پورا ہو چکا ہے ۔ اب تم جو کچھ کہہ رہے ہو ، یہ عیاشی ہے جو ہمیں منظور نہیں ۔ جس روز ہم عیاشی میں اُلجھ گئیں ، اس روز سے صلیب کا زوال شروع ہو جائے گا ۔ صلیب ٹوٹ جائے گی ۔ ہم اپنی عصمت کے شیشے توڑ دیتی ہیں تاکہ صلیب نہ ٹوٹے۔ ہمیں ٹریننگ دی گئی ہے کہ ایک مسلمان سربراہ کو تباہ کرنے کے لیے دس مسلمانوں کے ساتھ راتیں بسر کرنا جائز اور کارِ ثواب ہے ۔ مسلمانوں کے ایک مذہبی پیشوا کو اپنے جسم سے ناپاک کرنے کو ہم ایک عظیم کارِ خیر سمجھتی ہیں ۔

” تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم صلیب کی بقاء کے لیے مجھے استعمال کر رہی ہو ” ۔ بالیان کے احساسات آہستہ آہستہ جاگنے لگے……”کیا تم مجھے صلیب کا محافظ بنانا چاہتی ہو ؟”

” کیا تم ابھی تک شک میں ہو ؟” موبی نے کہا …… ” تم نے صلیب کے ساتھ کیوں دوستی کی ؟”

” صلاح الدین ایوبی کی حکمرانی سے آزاد ہونے کے لیے ”۔ بالیان نے کہا …… ” صلیب کی حفاظت کے لیے نہیں ۔ میں مسلمان ہوں ، لیکن اس سے پہلے میں سوڈانی ہوں ”۔

” میں سب سے پہلے صلیبی ہوں ”۔ موبی نے کہا …… ” میں عیسائی ہوں اور اس کے بعد اُس ملک کی بیٹی ہوں جہاں میں پیدا ہوئی تھی ”۔ موبی نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا ……” اسلام کوئی مذہب نہیں ۔ اسی لیے تم اپنے ملک کو اس پر ترجیح دے رہے ہو۔ یہ تمہاری نہیں ، تمہارے مذہب کی کمزوری ہے۔ تم میرے ساتھ سمندر پار چلو تو میں تمہیں اپنا مذہب دکھائوں گی ۔ تم اپنے مذہب کو بھول جائو گے ”۔

” میں اس مذہب پر لعنت بھیجوں گا جو اپنی بیٹیوں کو غیر مردوں کے ساتھ راتیں بسر کرنے اور شراب پینے کو ثواب کا کام سمجھتا ہے ”۔ بالیان اچانک بیدا ہوگیا ۔ اس نے کہا ……” تم نے اپنی عصمت مجھ سے نہیں لُٹائی ، بلکہ میری عصمت لوٹی ہے۔ میں نے تمہیں نہیں ، بلکہ تم نے مجھے کھلونا بنائے رکھا ہے ”۔

” ایک مسلمان کا ایمان خریدنے کے لیے عصمت کوئی زیادہ قیمت نہیں ”۔ لڑکی نے کہا …… ” میں نے تمہاری عصمت نہیں لوٹی ، تمہارا ایمان خریدا ہے، مگر تمہیں راستے میں بھٹکتا ہوا چھوڑ کر نہیںجائو ں گی ۔ تمہیںایک عظیم روشنی کی طرف لے جا رہی ہوں ، جہاں تمہیں اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آئے گی ”۔

” میں اس روشنی میں نہیں جائو ں گا ”۔ بالیان نے کہا ۔

” دیکھو بالیان ! ” موبی نے کہا ……” مرد، جنگجو مرد وعدے اور سودے سے نہیں پھرا کرتے ۔ تم میرا سودا قبول کر چکے ہو۔ میں نے تمہارا ایمان خرید کر شراب میں ڈبو دیا ہے اورتمہیں منہ مانگی قیمت دی ہے۔ اتنے دِنوں سے میں تمہاری لونڈی اور بے نکاحی بیوی بنی ہوئی ہوں ۔ اس سودے سے پھرو نہیں ۔ ایک کمزور لڑکی کو دھوکہ نہ دو ”۔

” تم نے مجھے وہ عظیم روشنی یہیں دکھا دی ہے جو تم مجھے سمندر پار لے جا کر دکھانا چاہتی ہو ”۔ بالیان نے کہا ……” مجھے اپنا مستقبل اور اپنی عاقبت ہیروں کی طرح چمکتی نظر آنے لگی ہے ”…… موبی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو بالیان نے گرج کر بولا ۔ ”

کہنے کی کوشش کی تو بالیان نے گرج کر بولا ۔ ” خاموش رہو لڑکی ! صلاح الدین ایوبی میرا دشمن ہو سکتا ہے ، لیکن میں اس رسول ۖ کا دشمن نہیں ہو سکتا جس کا صلاح الدین ایوبی بھی نام لیوا ہے۔ میں اس رسول ۖ کے نام پر مصر اور سوڈان قربان کر سکتا ہوں ۔ اس کے عظیم اورمقدس نام پر میں صلاح الدین ایوبی کے آگے ہتھیار ڈال سکتا ہوں ”۔

” میں تم کو کئی بار کہہ چکی ہوں کہ شراب کم پیا کرو ”۔ موبی نے کہا …… ” ایک شراب اور دوسرے رات بھر جاگنا اور میرے جسم کے ساتھ کھیلتے رہنا ۔ دیکھو تمہارا دماغ با لکل بے کا ہو گیا ہے ۔ تم یہ بھی بھول گئے ہو کہ میں تمہاری بیوی ہوں ”۔

” میں کسی فاحشہ صلیبی کا خاوند نہیں ہو سکتا ” ۔ اس کی نظر شراب کی بوتل پر پڑی ، اس نے بوتل اُٹھا کر پڑے پھینک دی اور اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس نے اپنے دوستوں کو بلایا ۔ وہ دوڑتے ہوئے آئے ۔ اُس نے کہا ۔ ” یہ لڑکیاں اور یہ لڑکی بھی تمہاری قیدی ہیں ، انہیں واپس قاہرہ لے چلو ”۔

” قاہرہ ؟ ” ایک نے حیران ہو کرکہا ۔ ”آپ قاہر ہ جانا چاہتے ہیں ؟”

”ہاں !”اس نے کہا …… ” قاہرہ ! حیران ہونے کی ضرورت نہیں ۔ اس ریگزار میں کب تک بھٹکتے رہو گے ؟ کہاں جائو گے ؟ چلو ۔ گھوڑوں پر زینیں کسو اور ہر لڑکی کو ایک ایک گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ کر لے چلو ”۔

٭ ٭ ٭

صحرا میں اونٹ کا سفر بے آواز ِپا ہوتا ہے۔گھوڑوں کے پاپو ئوں کی ہلکی ہلکی آوازیں سنائی دیتی ہیں ، لیکن اونٹ کے پائوں خدا نے ایسے بنائے ہیں کہ ہلکی سی آواز بھی پیدا نہیں ہوتی ۔ بالیان جس وقت موبی کے ساتھ باتیں کر رہا تھا ، اسے محسوس تک نہ ہوا کہ ایک اونٹ ایک چھوٹے سے ریتلے ٹیلے کی اوٹ میں کھڑا اِن دونوں کو اور چھ لڑکیوں کو اور چھ آدمیوں کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ صلیبی کمانڈو پارٹی کا ایک آدمی تھا ۔ اس پارٹی کا کمانڈر عقل مند آدمی تھا ۔ بالیان کے ڈیرے سے تقریباً نصف میل دُور اس نے پڑائو کیا تھا ۔ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کا شکار اُس سے نصف میل دُور ہے ۔ اس نے فوجی دانش مندی سے کام لیتے ہوئے رات کو تین آدمیوں کو یہ ڈیوٹی دی تھی کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر دُور دُور تک گھو م آئیں اور جہاں انہیں کوئی خطرہ یا کام کی کوئی چیز نظر آئے ، آکر اطلاع کریں ۔ اس کام کے لیے اونٹ ہی موزوں سواری تھی ، کیونکہ اس کے پائوں کی آواز نہیں ہوتی ۔ تینوں سوار مختلف سمتوں کو چلے گئے تھے ۔ یہ سارا علاقہ ایسا تھا کہ پڑائو کے لیے نہایت اچھا تھا ، اس لیے کمانڈر نے سوچا تھا کہ یہاں کسی اورنے بھی ڈیرے ڈال رکھے ہوں گے۔

ایک شتر سوار کو روشنی سی نظر آئی تو و اس طرف چل پڑا ۔ یہ ایک چھوٹی مشعل تھی جو بالیان کے عارضی کیمپ میں جل رہی تھی ۔ شتر سوا رآگے گیا تو ایک ٹیلے کے پیچھے ہو گیا ۔ یہ اتنا ہی اونچا تھا کہ اونٹ پر سوار ہو کر آگے دکھا جا سکتا تھا ۔ اونٹ اور سواراس کے پیچھے چھپ گئے تھے ۔ اسے ہلکی ہلکی روشنی میں لڑکیاں نظر آئیں جو بالیان کے فوجی دوستوں کے ساتھ گپ شپ لگا رہی تھیں ۔ اُن سے کچھ دُور ایک اور لڑکی ایک آدمی کے ساتھ باتیں کر تی نظر آئی ۔ ذرا پرے بہت سے گھوڑے بندھے ہوئے تھے ۔ ان میں وہ گھوڑے بھی تھے جو اِن لوگوں نے قیدیوں کے محافظوں کو قتل کر کے حاصل کیے تھے۔

صلیبی شتر سوا ر نے اونٹ کو موڑا ۔ کچھ دُور تک آہستہ آہستہ چلا اور پھر اونٹ دوڑا دیا ۔ اونٹ کے لیے نصف میل کا فاصلہ کچھ بھی نہیں تھا ۔ سوا نے اپنی پارٹی کو خوش خبری سنائی کو شکار ہمارے قدموں میں ہے ۔ کمانڈر نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا ۔ شتر سوا ر سے ہدف کی تفصیل پوچھی اور پارٹی کو پیدل چلا دیا ۔ گھوڑوں کے قدموں کی آواز سے شکار کے چوکنا ہوجانے کا خطرہ تھا …… جس وقت یہ پارٹی بالیان کے ڈیرے تک پہنچی ، بالیان حکم دے چکا تھا کہ ایک ایک لڑکی گھوڑے کی پیٹھ پر باندھ دو ۔ اس کے دوست حیرت ذدہ ہو کہ بالیان کو دیکھ رہے تھے کہ اس کا دماغ خراب ہو گیا ہے ۔ انہوں نے اس کے ساتھ بحث شروع کر دی اور وقت ضائع ہوتا رہا ۔ بالیان نے انہیں بڑی مشکل سے قائل کیا وہ جو کچھ کہہ رہا ہے ، ہوش ٹھکانے رکھ کر کہہ رہا ہے اور قاہرہ چلے جانے میں ہی عافیت اور مصلحت ہے ۔

لڑکیاں پریشانی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھیں۔بالیان کے آدمیوں نے گھوڑوں پر زینیں ڈالیں اور لڑکیوں کو پکڑ لیا ۔ اچانک اُن پر آفت ٹوٹ پڑی ۔بالیان نے بلند آواز سے بار بار کہا ……” ہم ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں ۔ لڑکیوں کو قاہر ہ لے جا رہے ہیں ”……وہ حملہ آوروں کو سلطان ایوبی کے فوجی سمجھ رہا تھا ، لیکن ایک خنجر نے اس کے دِل میں اُتر کر اُسے خاموش کر دیا ۔ اس کے دوست اتنے زیادہ آدمیوں کے ایسے اچانک حملے کا مقابلہ نہ کر سکے ۔ سنبھلنے سے پہلے ہی ختم ہو گئے ۔ صلیبیوں کا چھاپہ کامیاب تھا ۔ لڑکیاں آزاد ہو چکی تھیں۔ چھاپہ مار انہیں فوراً اپنی جگہ لے گئے ۔ انہوں نے کمانڈر کو پہچان لیا ۔ وہ بھی ان کی پارٹی کا جاسوس تھا ۔ انہوں نے رات وہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا اور پہرے کے لیے دو سنتری کھڑے کر دئیے جو ڈیرے کے ارد گرد گھومنے لگے ۔

سلطان ایوبی کے بھیجے ہوئے سوار ، اس جگہ سے ابھی دُور تھے ، جہاں قیدی لڑکیاں بالیان کے آدمیوں نے رہا کرائیں تھیں ۔ رات کو بھی چلے جا رہے تھے ۔ وہ تعاقب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتے تھے ۔ راہنما اُن کے ساتھ تھا ۔ وہ راستہ اور جگہ بھولا نہیں تھا ۔ وہ انہیں اس جگہ لے گیا جہاں اُن پر حملہ ہوا تھا ۔ ایک مشعل جلا کردیکھا گیا ، وہاں رابن اور اس کے ساتھیوں کی لاشیں اور اُن کے محافظوں کی لاشیں پڑی تھیں ۔ یہ چیری پھاڑی اور کھائی ہوئی تھیں ۔ اُس وقت بھی صحرائی لومڑیاں اور گیڈر انہیں کھا رہے تھے ۔ سواروں کو دیکھ کر یہ درندے بھاگ گئے۔ دن کے وقت انہیں گدھ کھاتے رہے تھے ۔ محافظ اپنے کمانڈر کو اُس جگہ لے گیا جہاں سے اس نے گھوڑا کھولا تھا ۔ وہاں سے مشعل کی روشنی میں زمین دیکھی گئی تھی۔ گھوڑوں کے قدموں کے نشان نظر آرہے تھے اور سمت کی نشان دہی کر رہے تھے ، جدھر یہ گئے تھے ، مگر رات کے وقت ان نشانوں کو دیکھ دیکھ کر چلنا بہت مشکل تھا ۔ وقت ضائع ہونے کا اور بھٹک جانے کا ڈر تھا ۔ رات کو وہیں قیام کیا گیا۔

صلیبی پارٹی کے کیمپ میں سب جاگ رہے تھے ۔ وہ بہت خوش تھے ۔ کمانڈر نے فیصلہ کیا تھا کہ سحر کی تاریکی میں بحیرئہ روم کی طرف روانہ ہو جائیں گے۔ اس وقت میگناناماریوس نے کہا کہ مقصد ابھی پورا نہیں ہوا ۔ صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنا باقی ہے۔ کمانڈر نے کہا کہ یہ اُس صورت میں ممکن تھا کہ وہ لڑکیوں کے پیچھے قاہرہ چلے جاتے ۔ اب وہ قاہرہ سے بہت دور ہیں ، اس لیے قتل کی مہم ختم کی جاتی ہے ۔

” یہ میری مہم ہے ، جسے موت کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا ”۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ‘ ‘ میں نے صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے کا حلف اُٹھایا تھا۔ مجھے ایک ساتھی اور ایک لڑکی کی ضرورت ہے ”۔

” یہ فیصلہ مجھے کرنا ہے کہ ہمیں کیا کرنا ہے ” …… کمانڈر نے کہا …… ” سب پر فرض ہے کہ میرا حکم مانیں ”۔

” میں کسی کے حکم کا پابند نہیں ” ۔ میگنا ناماریوس نے کہا ۔” تم سب خدا کے حکم کے پابند ہو ”۔

کمانڈر نے اُسے ڈانٹ دیا ۔ میگنا ناماریوس کے پاس تلوار تھی ۔ و ہ اُٹھ کھڑا ور کمانڈر پر تلوار سونت لی ۔

میں کسی کے حکم کا پابند نہیں ” ۔ میگنا ناماریوس نے کہا ۔” تم سب خدا کے حکم کے پابند ہو ”۔

کمانڈر نے اُسے ڈانٹ دیا ۔ میگنا ناماریوس کے پاس تلوار تھی ۔ و ہ اُٹھ کھڑا ور کمانڈر پر تلوار سونت لی ۔ اُن کے ساتھی درمیان میں آگئے ۔ میگنا ناماریوس نے کہا …… ‘ ‘ میں خدا کا دھتکارا ہوا انسان ہوں ۔ میں گناہ اور بے انصافی کے درمیان بھٹک رہا ہوں ۔ کیا تم جانتے ہو ، مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں قید کیوں کیا گیا تھا ؟ پانچ سال گزرے میری ایک بہن جس کی عمر سولہ سال تھی ، اغوا کر لی گئی تھی ۔ میں غریب آدمی ہوں ، میرا باپ مر چکا ہے ، ماں اندھی ہے ، میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ، محنت مشقت کر کے میں ان سب کا پیٹ پالتا تھا ۔ میں نے گرجے میں صلیب پر لٹکے ہوئے یسوع مسیح کے بت سے بہت دفعہ پوچھا تھا کہ میں غریب کیوں ہوں ؟میں نے کبھی گناہ نہیں کیا ۔ میں دیانت داری سے اتنی محنت کرتا ہوں ، مگر میرے کنبے کے پیٹ پھر بھی خالی رہتے ہیں ۔ میری ماں کو خدا نے کیوں اندھا کیا ہے ؟ یسوع مسیح نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور جب کنوری بہن اغوا ہو گئی تو میں نے گرجے میں جا کر کنواری مریم کی تصویر سے پوچھا تھا کہ میری کنواری بہن کے کنوارے پن پر تجھے ترس کیوں نہیں آیا ؟وہ معصوم تھی ۔ اس پر خدا نے یہ ظلم کیا تھا کہ اسے خوبصورتی دے دی تھی ۔ مجھے یسوع مسیح نے بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔مجھے کنواری مریم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔

” ایک روز مجھے ایک بہت ہی امیر آدمی کے نوکر نے بتایا کہ تمہاری بہن اس امیر آدمی کے گھر میں ہے۔ وہ عیاش آدمی ہے ۔ کنواریوں کو اغوا کرتا ہے ، تھوڑے دن اُس کے ساتھ کھیلتا ہے اور انہیں کہیں غائب کر دیتا ہے ، لیکن وہ آدمی بادشاہ کے دربار میں بیٹھتا ہے ۔ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں ۔ بادشاہ نے اُسے رُتبے کی تلوار دی ہے ۔ گناہ گار ہوتے ہوئے خدا اس پر خوش ہے ۔ دُنیا کا قانون اُس کے ہاتھ میں کھلونا ہے ……میں اس کے گھر گیا اور اپنی بہن واپس مانگی۔ اس نے مجھے دھکے دیکر اپنے محل سے نکال دیا۔میں پھر گرجے میں گیا ۔یسوے مسیح کے بت اور کنواری مریم کی تصویر کے آگے رویا ۔خدا کو پکارا ۔مجھے کسی نے جواب نہیں دیا ۔میں گرجے میں اکیلا تھا۔ پادری آگیا۔اس نے مجھے ڈانٹ کر گرجے سے نکال دیا ۔کہنے لگا ………..یہاںسے دو تصویریں چوری ہو چکی ہیں ،نکل جائو ، ورنہ پولیس کے حوالے کر دوں گا ……….میں نے حیران ہوکر اس سے پوچھا ………کیا یہ خدا کا گھر نہیں ہے ؟ …………اس نے جواب دیا ………….تممجھ سے پوچھے بغیر خدا کے گھر میں کیسے آئے ۔اگر گناہوں کی معافی مانگنی ہے تو میرے پاس آئو ۔اپنا گناہ بیان کرو ۔میں خدا سے کہوں گا کہ تمہیں بخش دے ۔تم خدا سے براہِ راست کوئی بات نہیں کرسکتے ۔جائونکلو یہاں سے ………..اور میرے دوستو !مجھے خدا کے گھر سے نکال دیا گیا ۔

وہ ایسے لہجے میں بول رہا تھا کہ سب پر سناٹا طاری ہوگیا ۔لڑکیوں کے آنسو نکل آئے ۔صحرا کی رات کے سکوت میں اس کی باتوں کا تاثر سب پر طلسم بن کر طاری ہو گیا ۔

وہ کہہ رہا تھا ……” میں پادری کو ، یسوع مسیح کے بت کو ، کنواری مریم کی تصویر کو اور اُس خدا کو جو مجھے گرجے میں نظر نہیں آیا ، شک کی نظروں سے دیکھتا نکل آیا ۔ گھر گیا تو اندھی ماں نے پوچھا ۔ ” میری بچی آئی یا نہیں ؟ میری بیوی نے پوچھا ، میرے بچوں نے پوچھا ۔میں بھی بت اور تصویر کی طرح چپ رہا ، مگر میرے اندر سے ایک طوفان اُٹھا اور میں باہر نکل گیا۔ میں سارا دن گھومتا پھرتا رہا۔ شام کے وقت میں نے ایک خنجرخریدا اور دریا کے کنارے ٹہلتا رہا۔ رات اندھیری ہوگئی اور بہت دیر بعد میں ایک طرف چل پڑا ۔ مجھے اس محل کی بتیاں نظر آئیں جہاں میری بہن قید تھی ۔ میں بہت تیز چل پڑا اور اس محل کے پچھواڑے چلا گیا ۔ میں اتنا چالاک اور ہو شیار آدمی نہیں تھا ، لیکن مجھ میں چالاکی آ گئی ۔ میں پچھلے دروازے سے اندر چلا گیا۔ محل کے کسی کمرے میں شور شرابا تھا ۔ شاید کچھ لوگ شراب پی رہے تھے ۔ میں ایک کمرے میں داخل ہوا تو ایک نوکر نے مجھے روکا ۔ میں نے خنجر اس کے سینے میں رکھ دیا اور اپنی بہن کا نام بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے ۔ نوکر مجھے اندرکی سیڑھیوں سے اوپر لے گیا اور ایک کمرے میں داخل کرکے کہا کہ یہاں ہے۔ میں اندر گیا تو میرے پیچھے دروازہ بند ہوگیا۔ کمرہ خالی تھا ……

” دروازہ کھلا اور بہت سے لوگ اندر آگئے۔ اُن کے پاس تلواریں اور ڈنڈے تھے ۔ میں نے کمرے کی چیزیں اُٹھا اُٹھا کر اُن پر پھینکنی شروع کر دیں۔ بہت توڑ پھوڑ کی ۔ انہوں نے مجھے پکڑ لیا ۔ مجھے مارا پیٹا اور میں بے ہوش ہو گیا ۔ ہوش میں آیا تو میں ہتھکڑیوں اور بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا ۔ میرے خلاف الزام یہ تھے کہ میں نے ڈاکہ ڈالا ، بادشاہ کے درباری کا گھر برباد کیا اور تین آدمیوں کو قتل کی نیت سے زخمی کیا۔ میری فریاد کسی نے نہ سنی اور مجھے تیس سال سزائے قید دے کر قید خانے کے جہنم میں پھینک دیا ۔ ابھی پانچ سال پورے ہوئے ہیں ۔ میں انسان نہیں رہا۔ تم قید خانے کی سختیاں نہیں جانتے ۔ دن کے وقت مویشیوں جیسا کا م لیتے ہیں اور رات کوکتوں کی طرح زنجیر ڈال کر کوٹھریوں میں بند کر دیتے ہیں ۔ مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ میر ی اندھی ماں زندہ ہے یا مر چکی ہے ۔ بیوی بچوں کا بھی کچھ پتہ نہیں تھا ۔ مجھے خطرناک ڈاکو سمجھ کر کسی سے ملنے نہیں دیا جاتا تھا ……

” میں ہر رقت سوچتا رہتا تھا کہ خدا سچا ہے یا میں سچا ہوں۔ سنا تھا کہ خدا بے گناہوں کو سزا نہیںدیتا ، مگر مجھے خدا نے کس گناہ کی سزادی تھی ؟ میرے بچوں کو کس گنا ہ کی سزا دی تھی ؟ میں پانچ سال اسی اُلجھن میں مبتلا رہا ۔ کچھ دِن گزرے، فوج کے دو افسر قید خانے میں آئے ۔ وہ اس کا م کے لیے جس ہم آئے ہوئے ہیں ، آدمی تلاش کر رہے تھے ۔ میں اپنے آپ کو پیش نہیں کرنا چاہتا تھا ، کیونکہ یہ بادشاہوں کی لڑائی جھگڑے تھے۔ مجھے کسی بادشاہ کے ساتھ دلچسپی نہیں تھی ، لیکن میں نے جب سنا کہ چند ایک عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کرانا ہے تو میرے دل میں اپنی بہن کاخیال آگیا۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسلمان قابلِ نفرت قوم ہے۔ میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کرائوں گا تو خدا اگر سچا ہے تو میری بہن کو اُس ظالم عیسائی کی پنجے سے چھڑا دے گا ، پھر فوجی افسروں نے کہا کہ ایک مسلمان بادشاہ کو قتل کرنا ہے تو میں نے اسے جزا کا کام سمجھا اور اپنے آپ کو پیش کر دیا ، مگر شرط یہ رکھی کہ مجھ اتنی رقم دی جائے جو میں اپنے کنبے کو دے سکوں ۔ انہوں نے رقم دینے کا وعدہ کیا اور یہ بھی کہا کہ اگر تم سمندر پار مارے گئے تو تمہارے کنبے کو اتنی زیادہ رقم دی جائے گی کہ ساری عمر کے لیے وہ کسی کے محتاج نہیں رہیں گے ”۔

اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف اشارہ کرکے کہا …… ” یہ دو میرے ساتھ قیدخانے میں تھے۔ انہوں نے بھی اپنے آپ کو پیش کر دیا ۔ ہم سے سینکڑوں باتیں پوچھیں گئیں ۔ ہم تینوں نے انہیں یقین دلادیا کہ ہم اپنی قوم اور اپنے مذہب کو دھوکہ نہیں دیں گے۔ میں نے دراصل اپنے کنبے کے لیے اپنی جان فروخت کر دی ہے ۔ قید خانے سے نکالنے سے پہلے ایک پادری نے ہمیں بتایا کہ مسلمانوں کا قتل عام تمام گناہ بخشوا دیتا ہے اور عیسائی لڑکیوں کو مسلمانوں کی قید سے آزاد کرائو گے تو سیدھے جنت میں جائو گے ۔ میں نے پادری سے پوچھا کہ خدا کہاں ہے ؟اس نے جو جواب دیا ، اس سے میری تسلی نہ ہوئی ۔ میں نے صلیب پر ہاتھ رکھکر حلف اُٹھایا۔ہمیں باہر نکالا گیا ، مجھے میرے گھر لے گئے ۔ میرے گھر والوں کوانہوں نے بہت سی رقم دی ۔ میں مطمئن ہو گیا۔ اب میرے دوستو ! مجھے اپنا حلف پورا کرنا ہے ۔ میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ میرا خدا کہاں ہے ۔ کیاایک مسلمان بادشاہ کو قتل کر کے خدا نظر آ جائے گا ”۔

” تم پاگل ہو ” کمانڈر نے کہا ۔”تم نے جتنی باتیں کی ہیں ، ان میں مجھے عقل کی ذرا سی بھی بو نہیں آئی ”۔

” اس نے بڑی اچھی باتیں کیں ہیں ”۔اس کے ایک ساتھی نے کہا ۔”میں اس کا ساتھ دوں گا ”۔

” مجھے ایک لڑکی کی ضرورت ہے ” ۔ میگنا نا ماریوس نے لڑکیوں کی طرف دیکھ کر کہا ۔” میں لڑکی کی جان اور عزت کا ذمہ دار ہوں ۔ لڑکی کے بغیر میں صلاح الدین ایوبی تک نہیں پہنچ سکوں گا ۔ میں جب سے آیا ہوں ۔ سوچ رہا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی کے ساتھ تنہائی میں کس طرح مل سکتا ہوں ”۔

موبی اُٹھ کر اس کے ساتھ جا کھڑی ہوئی اور بولی … … ” میں اس کے ساتھ جائوں گی ”۔

” ہم تمہیں بڑی مشکل سے آزاد کرا کے لائیں ہیں موبی !” کمانڈر نے کہا …… ” میں تمہیں ایسی خطرناک مہم پر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ”۔

مہم پر جانے کی اجازت نہیں دے سکتا ”۔

” مجھے اپنی عصمت کا انتقام لینا ہے ”۔ موبی نے کہا …… ” میں صلاح الدین ایوبی کی خواب گاہ میں آسانی سے داخل ہو سکتی ہوں ۔ مجھے معلوم ہے کہ مسلمان کا رُتبہ جتنا اونچا ہوتا ہے ، وہ خوبصورت لڑکیوں کا اتنا ہی شیدائی ہو جاتا ہے ۔ صلاح الدین ایوبی کو محسوس تک نہ ہوگا کہ وہ اپنی زندگی میں آخری لڑکی دیکھ رہا ہے ”۔

بہت دیر بحث اور تکرار کے بعد میگنا نا ماریوس اپنے ایک ساتھی اور موبی کے ساتھ اپنی پارٹی سے رخصت ہوا ۔ سب نے انہیں دعائوں کے ساتھ الوداع کہا ۔انہوں نے دو اونٹ لیے ۔ ایک پر موبی سوائی ہوئی اور دوسرے پر دونوں مرد ۔ اُن کے پاس مصر کے سکے تھے اور سونے کی اشرفیاں بھی ۔ دونوں مردوں نے چغے اوڑھ لیے تھے ۔ میگنا نا ماریوس کی داڑھی خاصی لمبی ہو گئی تھی ۔ قید خانے میں دھوپ میں مشقت کر کرکے اس کا رنگ اٹلی کے باشندوں کی طرح گورا نہیں رہا تھا ۔ سیاہی مائل ہوگیا تھا ۔اس سے اس پر یہ شک نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ یورپی ہے ۔ بھیس بدلنے کے لیے انہیں کپڑے دے کر بھیجا گیا تھا ، مگر ایک رکاوٹ تھی جس کا بظاہر کوئی علاج نہیں تھا ۔ وہ یہ کہ میگناناماریوس اٹلی کی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتا تھا ۔ موبی مصر کی زبان بول سکتی تھی ۔ دوسرا جو آدمی ان کے ساتھ گیاتھا ، وہ بھی مصر کی زبان نہیں جانتا تھا ۔ انہیں اس کا کو ئی علا ج کرنا تھا ۔

وہ رات کو ہی چل پڑے ۔ موبی راستے سے واقف ہو چکی تھی ۔ وہ قاہر ہ سے ہی آئی تھی ۔ میگنا نا ماریوس نے اس پر بھی ایک چغہ ڈال دیا اور اس کے سر پر دوپٹے کی طرح چادر اوڑھ دی ۔

٭ ٭ ٭

صبح کی روشنی میں سلطان ایوبی کے اُن سواروں کا دستہ جو اُن کے تعاقب میں گیاتھا ، گھوڑوں کے کھرے دیکھ کر روانہ ہوگیا ۔ یہ بہت سے گھوڑوں کے نشان تھے ، جو چھپ ہی نہیں سکتے تھے ۔ صبح سے پہلے صلیبیوں کے پارٹی لڑکیوں کو ساتھ لے کر چل پڑی ۔اُن کی رفتار خاصی تیز تھی ۔ ان کے تعاقب میں جانے والوں کا سفر رُک گیا ، کیونکہ رات کے وقت وہ زمین کو دیکھ نہیں سکتے تھے ، مگر صلیبیوں نے سفر جاری رکھا ۔ وہ آدھی رات کے وقت پڑائو کر نا چاہتے تھے ، وہ بہت جلدی میں تھے ۔

صبح کے دھندلکے میں صلیبی جو آدھی رات کے وقت رُکے تھے ، چل پڑے ۔ اُن کے تعاقب میں جانے والوں کی پارٹی صبح کی روشنی میں روانہ ہوئی ۔ میگناناماریوس نے عقل مندی کی تھی کہ وہ اونٹوں پر گیا تھا ۔ اونٹ بھوک اور پیاس کی پرواہ نہیں کرتا ۔ رُکے بغیر گھوڑے کی نسبت بہت زیادہ سفر کر لیتا ہے ۔ اس سے میگناناماریوس کا سفر تیز ی سے طے ہو رہا تھا ۔

سورج غروب ہونے میںابھی بہت دیر تھی ، جب انہیں لاشیں نظر آئیں ۔ علی بن سفیان کے نائب نے بالیان کی لاش پہچان لی ۔ اُس کا چہرہ سلامت تھا ۔ اُس کے قریب اس کے چھ دوستوں کی لاشیں پڑی تھیں ۔ گِدھوں اور درندوں نے زیادہ تر گوشت کھا لیا تھا ۔ سوار حیران تھے کہ یہ کیا معاملہ ہے ۔ خون بتا تا تھا کہ انہیں مرے ہوئے زیادہ دِن نہیں گزرے ۔ اگر یہ بغاوت کی رات مرے ہوتے تو خون کا نشان تک نہ ہوتا اور اُ ن کی صرف ہڈیاں رہ جاتیں ۔ یہ ایک معمہ تھا جسے کوئی نہ سمجھ سکا ، وہاں سے پھر گھوڑوں کے نشان چلے ۔ سواروں نے گھوڑے دوڑا دئیے ۔ نصف میل تک گئے تو اونٹوں کے پائوں کے نشان بھی نظر آئے ۔ وہ بڑھتے ہی چلے گئے ۔ سورج غروب ہوا تو بھی نہیں رُکے ، کیونکہ اب مٹی کے اونچے نیچے ٹیلوں کا علاقہ شروع ہو گیا تھا ، جس میں ایک راستہ بل کھاتا ہوا گزرتا تھا ۔ اس کے علاوہ وہا ں سے گزرنے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا ۔

صلیبی اسی راستے سے گزرے تھے اور بحیرئہ روم کی طر ف چلے جا رہے تھے ۔ ٹیلوں کا علاقہ دُور تک پھیلا ہوا تھا ، وہاں سے تعاقب کرنے والے نکلے تو رُک گئے ، کیونکہ آگے ریتلا میدان آ گیا تھا ۔

صبح کے وقت چلے تو کسی نے کہا کہ سمندر کی ہوا آنے لگی ہے ۔ سمندر دُور نہیں تھا مگر صلیبی ابھی تک نظر نہیں آئے تھے ۔ راستے میں ایک جگہ کھانے کے بچے کھچے ٹکڑوں سے پتہ چلا کہ رات یہاں کچھ لوگ رُکے تھے ۔ گھوڑے بھی یہاں باندھے گئے تھے ۔ پھر یہ گھوڑے وہاں سے چلے ۔ زمین کو دیکھ تعاقب کرنے والوں نے گھوڑوں کوایڑ یں لگا دیں۔ سورج اپنا سفر طے کرتا گیا اور آگے نکل گیا ۔ گھوڑوں کو ایک جگہ آرام دیا گیا ۔ پانی پلایا اور یہ دستہ روانہ ہو گیا ۔ سمندر کی ہوائیں تیز ہوگئی تھیں اور ان میں سمندر کی بُو صاف محسوس ہوتی تھی ۔ پھر ساحل کی چٹانیں نظر آنے لگیں۔ زمین بتا رہی تھی کہ گھوڑے آگے آگے جا رہے ہیں اور یہ بے شمار گھوڑے ہیں ۔

ساحل کی چٹانیں گھوڑوں کی رفتار سے قریب آرہی تھیں ۔ تعاقب کرنے والوں کو ایک چٹان پر دو آدمی نظر آئے ۔ وہ اس طرف دیکھ رہے تھے ۔ وہ تیزی سے سمندر کی طرف اُتر گئے ۔ گھوڑے اور تیز ہو گئے ۔ چٹانوں کے قریب گئے تو انہیں گھوڑے روکنے پڑے ، کیونکہ کئی جگہوں سے چٹانوں کے پیچھے جایا جا سکتا تھا ۔ایک آدمی کو چٹان پر چڑھ کر آگے دیکھنے کو بھیجا گیا ۔ وہ آدمی گھوڑے سے اُتر کر دوڑتا گیا اور ایک چٹان پر چڑھنے لگا ۔ اوپر جا کر اس نے لیٹ کر دوسری طرف دیکھا اور پیچھے ہٹ آیا ۔ وہیں سے اس نے سواروں کو اشارہ کیا کہ پیدل آئو ۔ سوار گھوڑوں سے اُترے اور دوڑتے ہوئے چٹان تک گئے ۔ سب سے پہلے علی بن سفیان کا نائب اوپر گیا ۔ اس نے آگے دیکھا اور دوڑ کر نیچے اُترا۔ اس نے اپنے دستے کو بکھیر دیا اور انہیں مختلف جگہوں پر جانے کو کہا ۔

دوسری طرف سے گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ صلیبی وہاں موجود تھے ۔ یہ وہ جگہ تھی، جہاں سمندر چٹانوں کو کاٹ کر اندر آجاتا تھا ۔ اس پارٹی نے اپنی کشتی وہاں باندھی تھی ۔وہ گھوڑوں سے اُتر کر کشتی میں سوار ہو رہے تھے ۔ کشتی بہت بڑی تھی ۔ لڑکیاں کشتی میں سوار ہو چکی تھیں ۔ گھوڑے چھوڑ دئیے گئے تھے ۔ اچانک اُن پر تیر برسنے لگے ۔ تمام کو ہلاک نہیں کرنا تھا ۔ انہیں زندہ پکڑنا تھا ۔ بہت سے کشتی سے کود گئے اور کشتی کے چپو مارنے لگے ۔ پیچھے جو رہ گئے وہ تیروں کا نشانہ بن گئے تھے ۔ کشتی میں جانے والوں کو للکارا گیا ، مگر وہ نہ رُکے ، وہاں سمندر گہرا تھا ۔ کشتی آہستہ آہستہ جاری تھی ۔ اِدھر سے اشارے پر تیر اندازوں نے کشتی پر تیر برسا دئیے ۔ چپوئوں کی حرکت بند ہو گئی ۔ تیروں کی دوسری باڑ گئی ، پھر تیسری اور چوتھی باڑ لاشوں میں پیوست ہوگئی ۔ اُن میں اب کوئی بھی زندہ نہیں تھا ۔ کشتی وہیں ڈولنے لگی ۔ سمندر کی موجیں ساحل کی طرف آتیں اور چٹانوں سے ٹکڑا کر واپس چلی جاتی تھیں ۔ ذرا سی دیر میں کشتی ساحل پر واپس آگئی ۔ سوارو ں نے نیچے جا کر کشتی پکڑ لی ، وہاں صرف لاشیں تھیں ، بعض کو دو دو تیر لگے تھے ۔

کشتی کو باندھ دیا گیا اور سواروں کا دستہ محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ۔ کیمپ دُور نہیں تھا ۔
میگنا نا ماریوس قاہرہ کی ایک سرائے میں قیام پذیر تھا ۔ اس سرائے کا ایک حصہ عام اور کمترمسافروں کے لیے تھا اور دوسرا حصہ امراء اور اونچی حیثیت کے مسافروں کے لیے ۔ اس حصے میں دولت مند تاجر بھی قیام کرتے تھے ۔ اُن کے لیے شراب اور ناچنے گانے والیاں بھی مہیا کی جاتی تھیں ۔ میگنا نا ماریوس اسی خاص حصے میں ٹھہرا ۔ موبی کو اُس نے اپنی بیوی بتایا اور اپنے ساتھی کو معتمد ملازم ۔ موبی کی خوبصورتی اور جوانی نے سوائے والوں پر میگنا نا ماریوس کا رعب طاری کر دیا ۔ ایسی حسین اور جوان بیوی کسی بڑے دولت مند ہی کی ہو سکتی تھی ۔ سرائے والوں نے اس کی طرف خصوصی توجہ دی ۔ موبی نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے صلاح الدین ایوبی کے گھر اور دفتر کے متعلق معلومات حاصل کر لیں ۔ اس نے یہ بھی معلوم کر لیا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کو معافی دے دی ہے اور سوڈانی فوج توڑ دی ہے ۔ اسے یہ بھی پتہ چل گیاکہ سوڈانی سالاروں اور کمانداروںوغیرہ کے حرم خالی کر دئیے گئے ہیں اور یہ بھی کہ انہیں زرعی زمینیں دی جارہی ہیں ۔

یہ میگنا نا ماریوس کی غیر معمولی دلیری تھی یا غیر معمولی حماقت کہ وہ اس ملک کی زبان تک نہیںجانتاتھا ۔ پھر بھی انتے خطرناک مشن پر آگیا تھا ۔ اُسے اس قسم کے قتل کی اور اتنے بڑے رتبے کے انسان تک رسائی حاصل کرنے کی کوئی ٹریننگ نہیں دی گئی تھی ۔ وہ ذہنی لحاظ سے انتشار اور خلفشار کا مریض تھا ، پھر بھی وہ صلاح الدین ایوبی کو قتل کرنے آیا، جس کے اردگرد محافظوں کا پورا دستہ موجود رہتا تھا۔ اس کے دستے کے کمانڈر نے اسے کہا تھا کہ تم پاگل ہو، تم نے جتنی باتیں کی ہیں ۔ ان میں ذرا سی بھی عقل کی بو نہیں آئی ۔ مظاہر میگنا نا ماریوس پاگل ہی تھا ۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بڑے آدمیوں کو قتل کرنے والے عموماً پاگل ہوتے ہیں ۔ اگر پاگل نہیں تو اُن کے ذہنی توازن میں کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوتی ہے ۔ یہی کیفیت اٹلی کے اس سزا یافتہ آدمی کی تھی ۔ اس کے پاس ایک ہتھیار ایسا تھا جو ڈھال کا کام بھی دے سکتا تھا ۔ یہ تھی موبی ۔ موبی مصر کی صرف زبان ہی نہیں جانتی تھی ، بلکہ اُسے اور اس کی مری ہوئی چھ ساتھی لڑکیوںکو مصری اور عربی مسلمانوں کے رہن سہن، تہذیب و تمدن اور دیگر معاشرتی اونچ نیچ کے متعلق لمبے عرصے کے لیے ٹریننگ دی گئی تھی ۔ وہ مسلمان مردوں کی نفسیات سے بھی واقف تھی ۔ اداکاری کی ماہر تھی اور سب سے بڑی خوبی یہ کہ وہ مردوں کو انگلیوں پر نچانا اور بوقتِ ضرورت اپنا پورا جسم ننگا کرکے کسی مرد کو پیش کرنا جانتی تھی ۔

یہ تو کوئی بھی نہیں بتا سکتا کہ بند کمرے میں میگنا نا ماریوس ، موبی اور ان کے ساتھی نے کیاکیا باتیں کیں اور کیا منصوبہ بنایا ۔ البتہ ایسا ثبوت پرانی تحریروں میں ملتا ہے کہ تین چار روزسرائے میں قیام کے بعد میگنا نا ماریوس باہر نکلا ، تو اس داڑھی دُھلی دھلائی تھی ۔ اس کے چہرے کا رنگ سوڈانیوں کی طرح گہرا بادامی تھا ، جو مصنوعی ہو سکتا تھا ، لیکن مصنوعی لگتا نہیں تھا ۔ اس نے معمولی قسم کا چغہ اور سر پر معمولی قسم کا رومال اورعمامہ باند ھ رکھا تھا ۔ موبی سر سے پائوں تک سیاہ برقعہ نما لبادے میں تھی اور اس کے چہرے پر باریک نقاب اس طرح پڑا تھا کہ ہونٹ اور ٹھوڑی ڈھکی ہوئی تھی خ پیشانی تک چہرہ ننگا تھا۔ پیشانی پر اس کے بھورے ریشمی بال پڑے ہوئے تھے اور اس کا حسن ایسا نکھرا ہوا تھاکہ راہ جاتے لوگ رُک کر دیکھتے تھے۔ ان کا ساتھی معمولی سے لباس میں تھا ، جس سے پتہ چلتا تھا کہ نوکر ہے۔ سرائے کے باہر دو نہایت اعلیٰ نسل کے گھوڑے کھڑے تھے ۔ یہ سرائے والوں نے میگنا نا ماریوس کے لیے اُجرت پر منگوائے تھے ، کیونکہ اُس نے کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ سیر کے لیے جانا چاہتا ہے ۔ میگنا نا ماریوساور موبی گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور جب گھوڑے چلے تو ان کاساتھی نوکروں کی طرح پیچھے پیچھے چل پڑا ۔

صلاح الدین ایوبی اپنے نائبین کو سامنے بٹھائے سوڈانیوں کے متعلق احکامات دے رہا تھا ۔ وہ یہ کام بہت جلدی ختم کرنا چاہتا تھا ،کیو نکہ اُس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ سلطان زنگی کی بھیجی ہوئی فوج، مصر کی نئی فوج اور وفادار سوڈانیوں کو ساتھ ملا کر ایک فوج بنائے گا اور فوری طور پر یروشلم پر چڑھائی کرے گا ۔ بحیرئہ روم کی شکست کے بعد ، جبکہ سلطان زنگی نے فرینکوں کو بھی شکست دے دی تھی ، ایک لمبے عرصے تک صلیبیوں کے سنبھلنے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ ان کے سنبھلنے سے پہلے ہی سلطان ایوبی ان سے یروشلم چھین لینے کا منصوبہ بنا چکا تھا ۔ اس سے پہلے وہ سوڈانیوں کو زمینوں پر آباد کر دینا چاہتا تھا ، تا کہ کھیتی باڑی میں اُلجھ جائیں اور ان کی بغاوت کا امکان نہ رہے ۔

نئی فوج کی تنظیمِ نو اور ہزار سوڈانیوں کو زمینوں پر آباد کرنے کا کام آسان نہیں تھا ۔ ان دونوں کاموں میں خطرہ یہ تھا کہ سلطان ایوبی کی فوج اوراپنی انتظامیہ میں ایسے اعلیٰ افسر موجود تھے جو اُسے مصر کی امارت کے سرابراہ کی حیثیت سے نہیں دیکھ سکتے تھے۔ سوڈانیوں کی فوج کو توڑ کربھی سلطان ایوبی نے اپنے خلاف خطرہ پیدا کر لیا تھا ۔ اس فوج کے چندایک اعلیٰ حکام زندہ تھے ۔ انہوں نے سلطان ایوبی کی اطاعت قبول کر لی تھی ، مگر علی بن سفیان کی انٹیلی جنس بتا رہی تھی کہ بغاوت کی راکھ میں ابھی کچھ چنگاریاں موجود ہیں ۔

انٹیلی جنس کی رپورٹ یہ بھی تھی کہ ان باغی سربراہوں کی اپنی شکست کا اتنا افسوس نہیں ، جتنا صلیبیوں کی شکست کا غم ہے ، کیونکہ وہ بغاوت دب جانے کی بعد بھی صلیبیوں سے مدد لینا چاہتے تھے اور مصرکی انتظامیہ اور فوج کے دو تین اعلیٰ حکام کو سوڈانیوں کی شکست کا افسوس تھا ، کیونکہ وہ آس لگائے بیٹھے تھے کہ صلاح الدین ایوبی مارا جائے گا ییا بھاگ جائے گا ۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا ، لیکن سلطان ایوبی کاایمان مضبوط تھا ۔ اس نے مخالفین سے واقف ہوتے ہوئے بھی اُن کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی ۔ اُن کے ساتھ نرمی اورخلوص سے پیش آتا رہا۔ کسی محفل میں اُس نے ان کے خلاف کوئی بات نہ کی اورجب کبھی اس نے ماتحتوں سے اور فوج سے خطاب کیا توایسے الفاظ کبھی نہ کہے کہ میں اپنے مخالفین کو مزہ چکھادوں گا۔ کبھی دھمکی آمیز یا طنزیہ الفاظ استعمال نہیں کیے ۔ البتہ ایسے الفاظ اکثر اس کے منہ سے نکلتے تھے ……” اگر کسی ساتھی کو ایمان بیچتا دیکھو تو اُسے روکو ۔ اسے یاد دلائو کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کرو تاکہ وہ دشمن کے اثر سے آزاد ہوجائے ” …… لیکن در پردہ مخالفین کی سر گرمیوں سے باخبر رہتا تھا ۔ علی بن سفیان کا محکمہ بہت ہی زیادہ مصروف ہوگیا تھا ۔ سلطان ایوبی کو زیرِ زمین سیاست کی اطلاعیں باقاعدگی سے دی جارہی تھیں ۔

اب اس محکمے کی ذمہ داری اور زیادہ بڑھ گئی تھی۔ محافظوں اور شتربانوں کے قتل کی اطلاع بھی قاہرہ آچکی تھی ۔ اس سے پہلے جاسوسوں کا گروہ جس میں لڑکیاں بھی تھیں ۔ محافظوں سے نا معلوم افراد نے آزاد کرالیا تھا ۔ ان دو واقعات نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ ملک میں صلیبی جاسوس اور چھاپہ مار موجود ہیں اور یہ بھی ظاہر ہوتا تھا کہ انہیں یہاں کے باشندوں کی پشت پناہی اور پناہ حاصل ہے ۔ ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی تھی کہ چھاپہ مار وں اور لڑکیوں کو عین اس وقت ختم کر دیا گیا ہے ، جب وہ کشتی میں سوار ہو رہے تھے ۔ چھاپہ ماروں کی سرگرمیوں کوروکنے کے لیے فوج کے دو دستے سارے علاقے میں گشت کے لیے گزشتہ شام روانہ کر دئیے گئے اور انٹیلی جنس کے نظام کو اور زیادہ وسیع کر دیاگیاتھا ۔

صلاح الدین ایوبی قدرے پریشان بھی تھا ۔ وہ کیا عزم لے کر مصر میں آیاتھا اور اب سلطنت اسلامیہ کے استحکام اور وسعت کے لیے اس نے کیا کیا منصوبے بنائے تھے ، مگر اُس کے خلاف زمین کے اوپرسے بھی اور زمین کے نیچے سے بھی ایسا طوفان اُٹھا تھا کہ اسکے منصوبے لرزنے لگے تھے ۔ اُسے پریشانی یہ تھی کہ مسلمان کی تلوار مسلمان کی گردن پر لٹک رہی تھی ۔ ایمان کا نیلام ہونے لگا تھا ۔سلطنت اسلامیہ کی خلافت بھی سازشوں کے جال میں اُلجھ کر سازشوں کا حصہ اور آلئہ کار بن گئی تھی ۔ زن اور زر نے عرب سر زمین کو ہلاڈالاتھا ۔ سلطان ایوبی اس سے بھی بے خبر نہیں تھا کہ اسے قتل کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ، لیکن اس پر وہ کبھی پریشان نہیں ہواتھا ۔ کہا کرتا تھا کہ میری جان اللہ کے ہاتھ میںہے ۔ اس کی ذاتِ باری کوجب زمین پرمیرا وجود بیکار لگے گاتو مجھے اُٹھالے گا۔لہٰذا اس نے اپنے طور پر اپنی حفاظت کا کبھی فکر نہیں کیاتھا۔ یہ تو اُس کی فوجی انتظامیہ کا بندو بست تھا کہ کہ اسکے گرد محافظوں کے دستے اور انٹیلی جنس کے آدمی موجود رہتے تھے اور علی بن سفیان تو اس معاملے میں بہت چوکس تھا ۔ایک تو یہ اُس کی ڈیوٹی تھی ، دوسرے یہ کہ وہ سلطان ایوبی کو اپنا پیرو مُرشد ضرور سمجھتا تھا ۔

اس روز سلطان ایوبی نائبین کو احکامات اور ہدایات دے رہا تھا ، جب دو گھوڑے اس کے محافظ دستے کی بنائی ہوئی حد پررُکے۔ انہیں محافظوں کے کمانڈر نے روک لیا تھا۔ سوار میگناناماریوس اور موبی تھے ۔وہ گھوڑے سے اُترے تو گھوڑوں کی باگیں ان کے ساتھی نے تھام لیں ۔ موبی نے کمانڈر سے کہا کہ وہ اپنے باپ کو ساتھ لائی ہے۔ سلطان ایوبی سے ملنا ہے ۔ کمانڈر نے میگناناماریوس سے بات کی اور ملاقات کی وجہ پوچھی ۔ میگناناماریوس نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہ ہو۔ وہ یہ زبان نہیں سمجھتا ہی تھا۔ موبی نے اپنا نام اسلامی بتایا تھا ۔ ان نے کمانڈر سے کہا …… ” اس سے بات کرنا بے کار ہے، یہ گونگا اور بہرہ ہے …… ملاقات کا مقصد ہم سلطان ایوبی کو یااس کے کسی بڑے افسر کو بتائیں گے ”۔

علی بن سفیان باہر ٹہل رہاتھا ۔ اس نے میگناناماریوس اورموبی کو دیکھا تو ان کے پاس آگیا۔ اس نے اسلام و علیکم کہا تو موبی نے وعلیکم السلام کہا۔ کمانڈر نے اسے بتایا کہ یہ سلطان سے ملنا چاہتے ہیں ۔ علی بن سفیان نے میگناناماریوس سے ملاقات کی وجہ پوچھی تو موبی نے اسے بتایا کہ یہ میرا باپ ہے ، گونگا اور بہرہ ہے۔ علی بن سفیان نے انہیں بتایاکہ سلطان ابھی بہت مصروف ہیں ، فارغ ہو جائیں گے تو اُن سے ملاقات کا وقت لیا جائے گا ۔ اس نے کہا ……” آپ ملاقات کا مقصد بتائیں ۔ہو سکتا ہے کہ آپ کا کا م سلطان سے ملے بغیر ہو جائے ۔ سلطان چھوٹی چھوٹی شکایتوں کے لیے ملاقات کاوقت نہیں نکال سکتے۔ متعلقہ محکمہ از خود ہی شکایت رفعہ کر دیتا ہے ”۔

” کیا سلطان ایوبی اسلام کی ایک مظلوم بیٹی کی فریاد سننے کے لیے وقت نہیں نکا ل سکیں گے ؟”…… موبی نے کہا ……”مجھے جو کچھ کہنا ہے ، وہ میںانہی سے کہوں گی ”۔

” مجھے بتائے بغیر آپ سلطان سے نہیں مل سکیں گی ”…… علی بن سفیان نے کہا ۔” میں سلطان تک آپ کی فریاد پہنچائوں گا ۔ وہ ضروری سمجھیں گے تو آپ کو اندر بلا لیں گے” …… علی بنی سفیان انہیں اپنے کمرے میں لے گیا ۔

موبی نے شمالی علاقے کے کسی قصبے کا نام لے کرکہا ……”دو سال گزرے سوڈانی فوج وہاں سے گزری ۔ میں بھی لڑکیوں کے ساتھ فوج دیکھنے کے لیے باہر آگئی ۔ ایک کماندار نے اپنا گھوڑا موڑا اورمیرے پاس آکر میرا نام پوچھا ۔ میں نے بتایا تو اس نے میرے باپ کو بلایا ۔ اسے پرے لے جا کر کوئی بات کی ، کسی نے کماندار سے کہا کہ یہ گونگا اور بہرہ ہے ۔ کماندار چلا گیا ۔ شام کے بعد چار سوڈانی فوجی ہمارے گھر آئے اور مجھے زبردستی اُٹھا کر لے گئے اور کماندار کے حوالے کردیا ۔اس کا نام بالیان تھا ۔ وہ مجھے اپنے ساتھ لے آیا او ر حرم میں رکھ لیا ۔ اُس کے پاس چار اور لڑکیاں تھیں۔میں نے اسے کہاکہ میرے ساتھ باقاعدہ شادی کرلے، لیکن اس نے مجھے شادی کے بغیر ہی بیوی بنائے رکھا ۔ دوسال اس نے مجھے اپنے پاس رکھا ۔ سوڈانی فوج نے بغاوت کی تو بالیان چلا گیا ۔ معلوم نہیں مارا گیا ہے یا قید میں ہے ۔ آپ کی فوج اس کے گھر میں آئی اور ہم سب لڑکیوں کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا تم سب آزاد ہو ……

میں اپنے گھر چلی گئی۔ میرے باپ نے شادی کرنی چاہی تو سب نے مجھے قبول کرنے سے انکار کر دیا ۔ کہتے ہیں کہ یہ حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ہے ، وہاں لوگوں نے میرا جینا حرام کر دیا ہے ۔ ہم سرائے میں ٹھہرے ہیں۔ سنا تھا کہ سلطان سوڈانیوں کو زمینیں اور مکان دے رہے ہیں ۔ مجھے آپ بالیان کی داشتہ یا اس کی بیوی سمجھ کہ یہاں زمین اور مکان دے دیں ، تا کہ میںاُس قصبے سے نکل آئوں۔ ورنہ میں خود کشی کر لوں گی یا گھر سے بھاگ کر کہیں طوائف بن جائوںگی ”۔

”اگر آپ کو زمین سلطان سے ملے بغیر مل جائے تو سلطان سے ملنے کی کیا ضرورت ہے ؟”…… علی بن سفیان نے کہا۔

”ہاں! ”…… موبی نے کہا ……”پھر بھی ملنے کی ضرورت ہے ۔ اُسے آپ عقیدت بھی کہہ سکتے ہیں ۔ میں سلطان کو صرف یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی سلطنت میں عورت کھلونا بنی ہوئی ہے ۔ دلت مندوں اور حاکموں کے ہاں شادی کا رواج ختم ہو گیا ہے۔ خدا کے لیے عورت کی عصمت کو بچائو اور عورت کی عظمت کو بحال کرو ۔ سلطان سے یہ کہہ کر شاید میرے دل کو سکون آجائے گا ”۔

میگناناماریوس اس طرح خاموش بیٹھا رہا ، جیسے اس کے کان میں کوئی بات نہیں پڑ رہی۔ علی بن سفیان نے موبی سے کہا کہ سلطان کو اجلاس سے فارغ ہونے دیں پھر ان سے ملاقات کی اجازت لی جائے گی ۔ یہ کہہ کر علی بن سفیان باہر نکل گیا ۔ وہ بہت دیر بعد آیااور کہا کہ وہ سلطان سے اجازت لینے جا رہا ہے ۔ وہ سلطان ایوبی کے کمرے میں چلا گیا اورخاصی دیر بعد آیا۔ اس نے موبی سے کہا کہ اپنے باپ کو سلطان کے پاس لے جائو ۔ اس نے انہیں سلطان ایوبی کا کمرہ دکھا دیا ۔ کمرے میں داخل ہونے سے پہلے دونوں نے باہر کی طرف دیکھا ۔ وہ غالباً قتل کے بعدوہاں سے نکلنے کا راستہ دیکھ رہے تھے ۔

٭ ٭ ٭

سلطان کمرے میں اکیلا تھا ۔ اس نے دونوں کو بٹھایا اور موبی سے پوچھا ۔” کیا تمہار باپ پیدائشی گونگا اور بہرہ ہے ؟”

”ہاں سلطانِ محترم !”…… موبی نے جواب دیا ……”یہ اس کا پیدائشی نقص ہے ”۔

سلطان ایوبی بیٹھا نہیں ، کمرے میں ٹہلتا رہا اور بولا …… ”میں نے تمہاری شکایت اور مطالبہ سن لیا ہے۔ مجھے تمہارے ساتھ پوری ہمدردی ہے ۔ میں تمہیں یہاں زمین بھی دوں گا اور مکان بھی بنوا دوں گا ۔ سنا ہے تم کچھ اور بھی مجھ سے کہنا چاہتی ہو ”۔

” اللہ آپ کا اقبال بلند کرے !”…… موبی نے کہا……” آپ کو بتا دیا گیا ہوگا کہ میرے ساتھ کوئی آدمی شادی نہیں کرتا ۔ لوگ مجھے حرم کی چچوڑی ہوئی ہڈی ، فاحشہ اور بدکار کہتے ہیں اور میرے باپ کو کہتے ہیں کہ اس نے بیٹی بیچ ڈالی تھی ۔ آپ مجھے زمین اور مکان تو دے دیں گے ، لیکن مجھے ایک خاوند کی ضرورت ہے ، جو میری عزت کی رکھوالی کرے ”…… اس نے جھجک کر کہا ……” میں ایسی بات کہنے کی جرأ ت نہیں کر سکتی ، لیکن اپنی ماں کی عرضداشت آپ تک پہنچانا چاہتی ہوں کہ آپ اگر میری شادی نہیں کرا سکتے تو مجھے اپنے حرم میں رکھ لیں ۔ آپ میری عمر، میری شکل و صورت اور میرا جسم دیکھیں ۔ کیا میں آپ کے قابل نہیں ہوں ؟” یہ کہہ کر اس نے میگناناماریوس کے کندھے پرہاتھ رکھ کر دوسرا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا اور سلطان ایوبی کی طرف اشارہ دیا ۔ یہ اشارہ شاید پہلے سے طے شدہ تھا ۔ میگناناماریوس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر سلطان ایوبی کی طرف کیے اور پھر موبی کے ہاتھ پکڑ کر سلطان ایوبی کی طرف بڑھایا، جیسے وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری بیٹی قبول کر لو ۔

” میرا کو ئی حرم نہیں لڑکی !” …… سلطان ایوبی نے کہا …”میں ملک سے حرم ، قحبہ خانے اور شراب ختم کر رہا ہوں ” …… بات کرتے کرتے اس نے اپنی جیب سے ایک سکہ نکالا اورہاتھ میں اُچھالنے لگا ۔ اس نے کہا …… ” میں عورت کی عزت کا محافظ بنناچاہتاہوں ”…… یہ کہتے کہتے وہ دونوں کی پیٹھ پیچھے چلا گیا اور سکہ ہاتھ سے گرا دیا ۔

ٹن کی آواز آئی تو میگناناماریوس نے چونک کر پیچھے دیکھا اور پھر فوراً ہی سامنے دیکھنے لگا ۔

صلاح الدین ایوبی نے تیزی سے اپنے کمر بند سے ایک فٹ لمبا خنجر نکا ل کر اس کی نوک میگناناماریوس کی گردن پر رکھ دی اور موبی نے سے کہا ۔

” یہ شخص میری زبان نہیں سمجھتا ۔ اُسے کہو کہ اپنے ہاتھ سے اپنا ہتھیار پھینک دے ۔اس نے ذرا سی پس و پیش کی تو یہاں سے تم دونوں کی لاشیں اُٹھائی جائیں گی ”۔

موبی کی آنکھیں حیرت اور خوف سے کھل گئیں ۔ اس نے اداکاری کا کمال دکھانے کی کوشش کی اور کہا ……”میرے باپ کو ڈرا دھمکا کر آپ مجھ پر کیوں قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔ میں تو خود ہی اپنے آپ کو پیش کر رہی ہوں ”۔

” تم جب محاظ پر میرے سامنے آئی تھیں تو تم میری زبان نہیں بولتی تھیں ”۔ سلطان ایوبی نے کہا اورخنجر کی نوک میگناناماریوس کی گردن پر رکھے رکھی ۔ اُس نے کہا ……” کیا تم اتنی جلدی یہاں کی زبان بولنے لگی ہو ؟ …… اس کہو کہ ہتھیار فوراً باہر نکال دے ”۔

موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے کچھ کہا تو اُس نے چغے کے اندر ہاتھ ڈال کر خنجر باہر نکالا جو اتنا ہی لمبا تھا جتنا سلطان ایوبی کا تھا ۔ سلطان نے اس کے ہاتھ سے خنجر لے لیا اور اپنا خنجر اس کی گردن سے ہٹا کر کہا ……” باقی چھ لڑکیاں کہاں ہیں ؟”۔

” آپ نے مجھے پہچاننے میں غلطی کی ہے ”…… موبی نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا ……” میرے ساتھ اورکوئی لڑکی نہیں ہے ۔ آپ کون سی چھ لڑکیوںکی بات کر رہے ہیں ؟”

” مجھے خدا نے آنکھیں دی ہیں ” …… سلطان ایوبی نے کہا …… ” اور خدا نے مجھے ذہن بھی دیا ہے ، جس میں وہ چہرے نقش ہو جاتے ہیں جنہیں ایک بار آنکھ دیکھ لیتی ہے ۔ تمہارا چہرہ جو آدھا نقاب میں ہے ، میں نے پہلے بھی دیکھا ہے …… تمہیں اور تمہارے اس ساتھی کو خدا نے اتنا ناقص ذہن دیا ہے کہ جس کام کے لیے تم آئے تھے ، تم اس قابل نہیں ۔ سرائے میں تم دونوں میاں اور بیوی تھے ۔ یہاں آکر تم باپ اوربیٹی بن گئے ، مگر تم ہو کچھ بھی نہیں اور تمہارا ایک ساتھی باہر گھوڑوں کے پاس کھڑا ہے ، وہ تمہارا نوکر نہیں ۔ اسے گرفتار کر لیا گیا ہے ”۔

یہ کمال علی بن سفیان کا تھا ۔ اسے موبی نے بتایا تھا کہ وہ سرائے میں ٹھہرے ہوئے ہیں ۔ وہ ان دونوں کو اپنے کمرے میں بٹھا کر باہر نکل گیا اور گھوڑوے پر سوار ہو کر سرائے میں چلا گیا تھا۔ سرائے والوں سے اُس نے ان کے حلیے بتا کر پوچھا تو اسے بتایا گیا تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں اور ان کے ساتھ ان کا نوکر ہے ۔ اسے یہ بھی بتایا گیا کہ انہوں نے بازار سے کچھ کپڑے بھی خریدے تھے ، جن میں لڑکی کا برقعہ نما چغہ اور جوتے بھی تھے ۔انہوں نے علی بن سفیان سے کہا تھا کہ وہ میاں بیوی ہیں۔اس نے اور کوئی تفتیش نہیں کی ۔ ان کے کمرے کا تالا توڑ کر ان کے سامان کی تلاشی لی ۔ اس سے چند ایسی اشیاء برآمد ہوئیں جنہوں نے شک کو یقین میں بدل دیا ۔ علی بن سفیان سمجھ گیا کہ سلطان ایوبی سے ان کا تنہائی میں ملنے کا مطلب کیا ہوسکتا ہے ۔ اس نے ان کے گھوڑے دیکھے تھے ۔ اعلیٰ نسل کے تیز رفتار گھوڑے تھے ۔ سرائے والے سے ان کے گھوڑوں کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے بتایا کہ یہ تینوں مسافر اونٹوںپر آئے تھے اور یہ گھوڑے لڑکی نے یہ کہہ کر منگوائے تھے کہ نہایت اچھے ہوں اور تیز رفتار ہوں ۔ سرائے والوں نے یہ بھی بتایا تھا کہ لڑکی کا خاوند گونگا معلوم ہوتا ہے ، وہ کسی سے بات نہیں کرتا ۔ دراصل وہ یہاں کی زبان نہیں جانتا تھا ۔

علی بن سفیان نے واپس آکر دیکھا کہ اجلاس ختم ہو گیاہے تو وہ سلطان ایوبی کے پاس چلا گیا۔ اسے ان کے متعلق بتایا اور وہ کہانی بھی سنائی جو لڑکی نے اسے سنائی تھی ۔ پھر سرائے سے معلومات اس نے حاصل کی تھیں اور ان کے سامان سے جو مشکوک چیزیں برآمد کیں تھیں ، وہ دکھائیں اور اپنی رائے یہ دی کہ آپ کو قتل کرنے آئے ہیں ۔ آپ سے تنہائی میں ملنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے یہ منصوبہ بنایا ہوگا کہ آپ کو قتل کرکے نکل جائیں گے ۔ جتنی دیر میں کسی کو پتہ چلے گا، اتنی دیر میں وہ تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہو کر شہر سے دُور جا چکے ہوں گے اور یہ بھی ہو سکتا ہے یہ لوگ آپ کو اتنی خوبصورت لڑکی کے چکر میں ڈال کر خواب گاہ میں قتل کرنا چاہتے ہوں گے۔

سلطان ایوبی سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر کہا …… ” انہیں ابھی گرفتار نہ کرو ۔ میرے پاس بھیج دو ”۔

علی بن سفیان نے انہیں اندر بھیج دیا اور خود سلطان ایوبی کے کمرے کے دروازے کے ساتھ لگا کھڑا رہا ۔اس نے محافظ دستے کے کمانڈر کو بلا کر کہا …… ” ان دونوں گھوڑوں کو اپنے گھوڑوں کے ساتھ باندھ دو اور زینیں اُتار دو اور ان کے ساتھ جو آدمی ہے ، اسے حراست میں بٹھا لو ۔ اس کے تلاشی لو ۔ اس کے کپڑوں کے اندر خنجر ہوگا ۔ وہ اس سے لے لو ”۔

ان احکام پر عمل ہوگیا ۔ میگناناماریوس کا ساتھی گرفتار ہو گیا ۔ اس سے ایک خنجر برآمد ہوا ۔ گھوڑوں پر بھی قبضہ کر لی گیا۔

اور جب انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں داخل کیا گیا تو باتوں باتوں میں سلطان نے ایک سکہ فرش پر پھینک کر یقین کر لیا کہ یہ شخص بہرہ نہیں ۔ سکے کی آواز پر اس نے فوراً پیچھے مُڑ کر دیکھا تھا ۔

صلاح الدین ایوبی نے لڑکی سے کہا ……” اسے کہو کہ میری جان صلیبیوں کے خدا کے ہاتھ میں نہیں ، میرے اپنے خدا کے ہاتھ میں ہے ”۔

موبی نے اپنی زبان میں میگناناماریوس سے بات کی تو اس نے چونک کر کچھ کہا ۔ موبی نے سلطان ایوبی سے کہا ……” یہ کہتا ہے ، کیا آپ کا خدا کوئی اور ہے اور کیامسلمان بھی خدا کو مانتے ہیں ؟”

” اسے کہو کہ مسلمان اس خدا کو مانتے ہیں جو سچا ہے اور سچے عقیدے والوں کو عزیز رکھتا ہے ”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ” مجھے کس نے بتایا ہے کہ تم دونوں مجھے قتل کرنے آئے ہو ؟ …… میرے خدا نے ، اگر تمہارا خدا سچا ہوتا تم تمہارا خنجر مجھے ہلاک کر چکا ہوتا ۔ میرے خدا نے تمہارا خنجر میرے ہاتھ میں دے دیا ہے ”۔ اس نے ایک تلوار کہیں سے نکالی اور چند اشیاء انہیں دکھا کر کہا ……” یہ تلوار اور چیزیں تمہاری ہیں ۔ یہ تمہارے ساتھ سمندر پار سے آئی ہیں ۔ تم سے پہلے یہ مجھ تک پہنچ گئی ہیں ”۔

میگناناماریوس حیرت سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔ اس کے آنکھیں اُبل کر باہر آگئیں ، جتنی باتیں ہوئیں ، وہ موبی کی وساطت سے ہوئی۔ میگناناماریوس نے بولنا شروع کر دیا اور وہ صرف اپنی زبان بولتا اور سمجھتا تھا ۔ خدا کے متعلق یہ باتیں سن کر اس نے کہا…… ” یہ شخص سچے عقید ے کا معلوم ہوتاہے ۔ میں اس کی جان لینے آیا تھا ، لیکن اب میری جان اس کے ہاتھ میں ہے ۔ اسے کہو کہ تمہارے سینے میں ایک خدا ہے ، وہ مجھے دکھائے ۔ میں اس خدا کو دیکھنا چاہتا ہوں ، جس نے اسے اشارہ دیا ہے کہ ہم اسے قتل کرنے آئے ہیں ”۔

سلطان ایوبی کے پاس اتنی لمبی چوڑی باتوں کا وقت نہیں تھا ۔ اُسے چاہیے تھا کہ ان دونوں کو جلاد کے حوالے کر دیتا، لیکن اس نے دیکھا کہ یہ شخص بھٹکا ہوا معلوم ہوتا ہے ، اگر یہ پاگل نہیں تو یہ ذہنی طو پر گمراہ ضرور ہے ، چنانچہ اس نے اس کے ساتھ دوستانہ انداز میں باتیںشروع کر دیں ۔ اس دوران علی بن سفیان اندر آگیا ۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ سلطان خیریت سے تو ہے ، سلطان ایوبی نے مُسکرا کر کہا ۔ ” سب ٹھیک ہے علی ! میں نے ان سے خنجر لے لیا ہے ” …… علی بن سفیان سکون کی آہ بھر کر باہر چلا گیا ۔

میگناناماریوس نے کہا ……” پیشتر اس کے کہ سلطان میری گردن تن سے جدا کردے ، میں اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی مہلت چاہتا ہوں”۔

میگناناماریوس نے کہا ……” پیشتر اس کے کہ سلطان میری گردن تن سے جدا کردے ، میں اپنی زندگی کی کہانی سنانے کی مہلت چاہتا ہوں”۔

سلطان ایوبی نے اجازت دے دی ۔ میگناناماریوس نے بالکل وہ کہانی جورات صحرا میں اس نے اپنے پارٹی کمانڈر اور اپنے ساتھیوں کو سنائی تھی ، من و عن سلطان ایوبی کو سنا دی ۔ اب کے اس نے صلیب پر لٹکتے ہوئے حضرت عیسٰی علیہ السلام کے بُت ، کنواری مریم کی تصویر اور پادریوں کے اُس خدا سے جس سے وہ پادری کی اجازت کے بغیر با ت بھی نہیں کر سکتا تھا ، بیزاری کا اظہار اور زیادہ شدت سے کیا اور کہا ……” مرنے سے پہلے مجھے خدا کی ایک جھلک دکھا دو ۔ میرے خدا نے بچوں کو بھوکا مار دیا ہے ، میری ماں کو اندھا کر دیا ہے ، میری بہن کو شرابی وحشیوں کا قیدی بنا دیا ہے اور مجھے تیس سالوں کے لیے قید خانے میں بند کر دیا ہے ، میں وہاں سے نکلا تو موت کے منہ میں آپڑا ۔ سلطان ! میری جان تیرے ہاتھ میں ہے ، مجھے سچا خدا دکھا دے ، میں اس سے فریاد کروں گا ، اس سے انصاف مانگوں گا ”۔

” تیری جان میرے ہاتھ میں نہیں ”۔سلطان ایوبی نے کہا …… ” میرے خدا کے ہاتھ میں ہے ، اگر میرے ہاتھ میں ہوتی تو اس وقت تک تم میرے جلاد کے پاس ہوتے ، میں تمہیں وہ سچا خدا دکھا دوں گا ، جو تیری گردن مارنے سے مجھے روک رہا ہے ، لیکن تجھے اس خدا کا سچا عقیدہ قبول کرنا ہوگا، رونہ خدا تمہاری فریاد نہیں سنے گا اور انصاف بھی نہیں ملے گا ”……سلطان ایوبی نے اس کا خنجر اس کی گود میں پھینک دیا اور خود اس کے پاس جا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے کھڑا ہوگیا ۔ موبی سے کہا …… ” اسے کہو میں اپنی جان اس کے حوالے کرتا ہوں ۔ یہ خنجر میری پیٹھ میں گھونپ دے ”۔

میگناناماریوس نے خنجر ہاتھ میں لے لیا ۔ اسے غور سے دیکھا ۔ سلطان ایوبی کی پیٹھ پر نگاہ دوڑائی ۔ اُٹھا اور سلطان کے سامنے چلا گیا ۔ اسے سر سے آئوں تک دیکھا ۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی جلالی شخصیت کا اثر تھا یا سلطان کی آنکھوں کی چمک میں اُسے سچا خدا نظر آگیا کہ اس کے ہاتھ کانپے ۔ اس نے خنجر سلطان ایوبی کے قدموں میں رکھ دیا ۔ وہ دوزانو بیٹھ گیا اور سلطان کے ہاتھ چوم کر زارو قطار رونے لگا ۔ ……موبی سے کہا……” اسے کہو کہ یا تو یہ خود خدا ہے یا اس نے خدا کو اپنے سینے میں قید کر رکھا ہے ۔ اسے کہو مجھے اپنا خدا دکھا دو ”۔

سلطان ایوبی نے اُسے اُٹھایا اور سینے سے لگا کر اپنے ہاتھ سے اس کے آنسو پونچھے ۔

وہ تو بھٹکا ہوا انسان تھا ۔ اس کے دل میں مسلمانوں کے خلاف نفرت بھر دی گئی تھی اور اسلا م کے خلاف زہر ڈالا گیاتھا ۔ پھر حالات نے اسے اپنے مذہب سے بیزا ر کیا۔ یہ ایک قسم کا پاگل پن تھا اور ایک تشنگی تھی جو اسے ایسی خطرناک مہم پر لے آئی تھی ۔ سلطان ایوبی اُسے بے گناہ سمجھتا تھا ، لیکن اسے آزاد بھی نہ کیا ، بلکہ اپنے پاس رکھ لیا ۔ موبی باقاعدہ ٹریننگ لے کر آئی تھی اور مفرور جاسوسہ تھی ۔ یہ وہ ساتویں لڑکی تھی جس نے صلیبیوں کا پیغام سوڈانیوں تک پہنچایا اور بغاوت کرائی تھی ۔ وہ ملک کی دشمن تھی ۔ اسے اسلامی قانون نہیں بخش سکتا تھا ۔ سلطان نے اُسے اور اس کے ساتھی کو علی بن سفیان کے حوالے کر دیا ۔ تفتیش میں دونوں نے اقبالِ جرم کر لیا اور یہ بھی بتا دیا کہ رسد کے قافلے کو انہوں نے ہی لوٹا تھا اور لڑکیوں کو بھی انہوں نے آزاد کرایااور محافظ دستے کو ہلاک کیا تھا اور بالیان اور اس کے ساتھیوں کو بھی انہوں نے ہلاک کیا تھا ۔

یہ تفتیش تین دن جاری رہی ۔ اس دوران میگناناماریوس کا دماغ روشن ہو چکا تھا ۔ ایک بار اس نے سلطان ایوبی سے پوچھا ……” کیا آپ نے اس لڑکی کو مسلمان کر کے اپنے حرم میں رکھ لیا ہے ؟”

”آج شام کو اس کا جواب دوں گا ”…… سلطان ایوبی نے جواب دیا ۔

شام کے وقت سلطان ایوبی نے میگناناماریوس کو ساتھ لیا اور کچھ دُور جا کر ایک احاطے میں لے گیا ۔لکڑی کے دو تختے پڑے تھے ۔ ان پر سفید چادریں پڑی ہوئی تھیں۔ سلطان ایوبی نے چادروں کو ایک طرف سے اُٹھایا اور میگناناماریوس کو دکھایا ، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ اس کے سامنے موبی کی لاش پڑی تھی اور دوسرے تختے پر اس کے ساتھی کی لاش تھی ۔ سلطان ایوبی نے موبی کے سر پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کھینچا ، گردن کندھے سے جدا تھی ۔ اس نے میگناناماریوس سے کہا ……” میں اسے بخش نہیںسکتا تھا ، تم اسے اپنے ساتھ لائے تھے کہ میں اس کے حسن اور جسم پر فدا ہوجائوں گا ، مگر اس کا جسم مجھے ذرا بھر اچھا نہیں لگا ، یہ ناپاک جسم تھا ۔ یہ اب مجھے اچھا لگ رہا ہے ۔ جب جبکہ اس جسم سے اتنی حسین شکل و صورت جدا ہوچکی ہے ۔ مجھے یہ بہت اچھی لگ رہی ہے ۔ اللہ اس کے گنا ہ معاف کرے ”۔

”سلطان!”…… میگناناماریوس نے پوچھا …… ”آپ نے مجھے کیوں بخش دیا ؟”

” اس لیے کہ تم مجھے قتل کرنے آئے تھے ”……سلطان ایوبی نے جواب دیا ……” مگر یہ میری قوم کے کردار کو قتل کرنے آئی تھی اورر تمہارا یہ ساتھی بھی سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بہت سے لوگوں کا قاتل بنا اور تم نے میرا خون بہا کر خدا کو دیکھنا چاہا تھا ”۔

چند دِنوں بعد میگناناماریوس سیف اللہ بن گیا جو بعد میں سلطان ایوبی کے محافظ دستے میں شامل ہوا اور جب سلطان ایوبی خالقِ حقیقی سے جا ملا ، تو سیف اللہ نے زندگی کے آخری سترہ برس سلطان صلاح الدین ایوبی کی قبر پر گزار دئیے۔ آج کسی کو بھی معلوم نہیں کہ سیف اللہ کی قبر کہاں ہے۔

٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: