Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 3

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 3

–**–**–

“داستان ایمان فروشوں کی” Part ‎3
جلد اول”دوسری بیوی”

قاہرہ سے ڈیڑھ دومیل دور جہاں ایک طرفٍ ریت کے ٹیلے اور باقی ہر طرف صحراریت کے سمندر کی مانند اُفق تک پھیلا ہواتھا، انسانوں کے سمندر تلے دب گیا تھا۔ یہ لاکھوں انسانوں کا ہجوم تھا۔ ان میں شتر سوار بھی تھے اور گھوڑا سوار بھی ۔ بہت سے لوگ گدھوں پر بھی سوار تھے ۔ تعداد ان کی زیادہ تھی ،جن کے پاس کوئی سواری نہیں تھی ۔ لاتعداد ہجوم چار پانچ دنوں سے صحرا کی اس وسعت میں جمع ہونا شروع ہوگیا تھا۔ قاہرہ کے بازاروں میں بھیڑ اور رونق زیادہ ہوگئی تھی ۔ سرائے بھر گئی تھی ۔ یہ لوگ دور دور سے اس سرکاری منادی پر آئے تھے کہ چھ سات روز بعد قاہرہ کے مضافاتی ریگستان میں مصر ی فوج گھوڑ سواری ، شتر سواری، دوڑتے گھوڑوں اور اونٹوں سے تیر اندازی اور بہت سے جنگی کمالات کا مظاہرہ کرے گی ۔منادی میں یہ اعلان بھی کیاگیاتھا کہ غیرفوجی لوگ بھی ان مظاہروں میں جس کسی کو چاہیں تیغ زنی ، کُشتی ، دوڑتے گھوڑوں کی لڑائی اور تیر اندازی وغیرہ کے لیے للکار کر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔

یہ منادی صلاح الدین ایوبی نے کرائی تھی ۔ اس کے دومقاصد تھے ۔ ایک یہ کہ لوگوں کو فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیب ملے گی اور دوسرے یہ کہ جولوگ ابھی تک سلطان کو فوجی لحاظ سے کمزور سمجھتے ہیں ،ان کے شکوک رفع ہوجائیں ۔ سلطان ایوبی کو جب یہ اطلاعیں ملنے لگیں کہ لوگ چھ روز پہلے ہی تماشہ گاہ میں جمع ہونا شروع ہوگئے ہیں تو وہ بہت خوش ہوا مگر علی بن سفیان پریشان سا نظر آتاتھا۔ اس نے سلطان کے آگے اس پریشانی کا اظہار کربھی دیاتھا۔ سلطان ایوبی نے مسرت سے اُسے کہاتھا……”اگر تماشائیوں کی تعداد لاکھ ہوجائے تو ہمیں پانچ ہزار سپاہی تو مل ہی جائیں گے ”۔

”محترم امیر!”علی بن سفیان نے کہا…”میں تماشائیوں کے ہجوم کو کسی اور زاویے سے دیکھ رہاہوں ۔ میرے اندازے کے مطابق اگر تماشائیوں کی تعداد ایک لاکھ ہوئی تو اس میں ایک ہزار جاسوس ہوں گے ۔ دیہات سے عورتیں بھی آرہی ہیں ۔ان میں زیادہ تر سوڈانی ہیں ۔ان میں اکثر کا رنگ اتنا گوراہے کہ عیسائی عورت ان میں چھپ سکتی ہے ”۔

”میں تمہاری اس مشکل کو اچھی طرح سمجھتا ہوں علی ! ”سلطان نے کہا……”لیکن تم جانتے ہوکہ میں نے جس میلے کا انتظام کیاہے ، وہ کیوں ضروری ہے۔ تم اپنے محکمے کو اور زیادہ ہوشیار کردو”۔

”میں اس کے حق میں ہوں !” ……علی بن سفیان نے کہا……”یہ میلہ بہت ہی ضروری ہے ۔ میں نے اپنی پریشانی آپ کو پریشان کرنے کے لیے نہیں بتائی ، صرف یہ اطلاع پیش کی ہے کہ یہ میلہ اپنے سات کیا خطرہ لارہاہے ۔ قاہرہ میں عارضی قحبہ خانے کھل گئے ہیں جو ساری رات شائقین سے بھرے رہتے ہیں ۔تماشائیوں میں سے بعض نے شہر کے باہر خیمے نصب کر لیے ہیں ۔میرے گروہ نے مجھے اطلاع دی ہے کہ ان میں بھی قمار بازوں اور عصمت فروشوں کے خیمے موجود ہیں ۔کل میلے کا دن ہے ۔ ناچنے گانے والیوں نے تماشائیوں سے دولت کے ڈھیر اکٹھے کر لیے ہیں ”۔

”میلہ ختم ہوجائے گا تو یہ غلات بھی ہجوم کے ساتھ ہی صاف ہوجائے گی ”۔سلطان ایوبی نے کہا……”میںاس پر پابندی عائد نہیں کرنا چاہتا ۔ مصر کی اخلاقی حالات اچھی نہیں ۔ رقص اور عصمت فروشی ایک دو دنوں میں ختم نہیں کی جاسکتی ۔ ابھی مجھے زیادہ سے زیادہ تماشائیوں کی ضرورت ہے ۔مجھے فوج تیار کرنی ہے اور تم جانتے ہو علی ! ہمیں بہت زیادہ فوج کی ضرورت ہے ۔ میں نے فوج اور انتظامیہ کے سربراہوں کے افلاس میں یہ ضرورت وضاحت سے بیان کردی تھی ”۔

”میں آپ کو اس وضاحت سے روک نہیں سکاتھا، امیر محترم !”……علی بن سفیان نے کہا……”میری سراغ رساں نگاہوں میں ان سربراہوں میں نصف ایسے ہیں جو ہمارے وفادار نہیں ۔آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان میں کچھ ایسے ہیں جو آپ کو اس گدّی پر نہیں دیکھنا چاہتے اور باقی جو ہیں اُن کی دل چسپیاں سوڈانیوں کے ساتھ ہیں ۔میں نے ان میں سے ہر ایک کے پیچھے ایک ایک آدمی چھوڑ رکھاہے ۔ میرے آدمی مجھے ان کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں ”۔

”کسی کی کوئی خطرناک سرگرمی سامنے آئی ہے ؟سلطان ایوبی نے پوچھا۔

”نہیں ۔ ”علی بن سفیان نے جواب دیا……”سوائے اس کے ، کہ یہ لوگ اپنی حیثیت اور رتبوں کو فراموش کرکے راتوں کو مشکوک خیموں میں اور اُن مکانوں میں جاتے ہیں جو عارضی قحبہ خانے اور رقص گاہیں بن گئے ہیں ۔دونے تو ناچنے والی لڑکیوں کو گھروں میں بھی بلایا ہے …… ان سے زیادہ میرا دماغ اُن دوبادبانی کشتیوں پر گھوم رہاہے جو دس روز گزرے ، بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ دیکھی گئی تھیں”۔

”اُن میں کیاخاص بات تھی ؟”…… سلطان ایوبی نے پوچھا ۔

اس وقت تک بحیرۂ روم کے ساحل سے فوج کو واپس بلالیاگیاتھا، وہاں ڈھکی چھپی جگہوں پر دودو فوجی سمندر پر نظر رکھنے کے لیے بٹھا دئیے گئے تھے ۔علی بن سفیان نے ماہی گیروں اور صحرائی خانہ بدوشوں کے لباس میں ساحلی پر انٹیلی جنس کے چند آدمی مقرر کردئیے تھے ۔ یہ اہتمام ایک تو اس لیے کیاگیا تھا کہ صلیبی اچانک حملہ نہ کردیں اور دوسرے اس لیے کہ ادھر سے صلیبیوں کے جاسوس نہ آسکیں ، مگر ساحل بہت لمبا تھا۔ کہیں کہیں چٹانیں بھی تھیں ، جہاں سمند ر اند آجاتاتھا۔ سارے ساحل پر نظر نہیں رکھی جاسکتی تھی ۔دس روز گزرے ایسی ہی ایک جگہ سے جہاں سمندر چٹانوں کے اندر آیاہوا تھا، دو بادبانی کشتیاں نکلتی دیکھی تھیں ۔ وہ شاید رات کو آئی تھیں۔

انہیں جاتا دیکھ کر سلطان کے دو سوار سر پٹ گھوڑے دوڑاتے اس جگہ پہنچے ، جہاں سے کشتیاں نکل کر گئی تھیں ۔ وہاں کچھ بھی نہ تھا۔کوئی انسان نہیں تھا اور کشتیاں سمندر میں دور چلی گئی تھی کشتیوں اور بادبانوں کی ساخت بتاتی تھی کہ یہ مصر کے ماہی گیروں کی نہیں ۔ سمندر پار معلوم ہوتی تھیں۔ سوار تھوڑی دُور تک صحرا میں گئے ۔ انہیں کسی انسان کا سراغ نہیں ملا۔انہوں نے قاہرہ اطلاع بھجوادی تھی کہ ساحل کے ساتھ دو مشکوک کشتیاں دیکھی گئی ہیں ۔ علی بن سفیان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ ریگزار میں انہیں ڈھونڈ لیتا جو کشتیوں میں سے اُترے تھے ۔ اطلاع پہنچتے پہنچتے تین دِن گزرگئے تھے ۔یہ بھی یقین نہیں تھا کہ کشتیوں سے کون اُترا ہے ۔

علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے اس سوال کے جواب میں کہ ان کشتیوں میں کیا خاص بات تھی،یہ وضاحت کردی اور کہا……”ہم میلے کی منادی ڈیڑھ مہینے سے کرارہے ہیں۔ ڈیڑھ مہینے میں خبریورپ کے وسط تک پہنچ سکتی ہے اور وہاں سے جاسوس آسکتے ہیں ۔ مجھے یقین کی حد تک شک ہے کہ تماشائیوں کے ساتھ صلیبیوں کے جاسوس میلے میں آگئے ہیں ۔قاہرہ میں اس وقت لڑکیاں عارضی طور پر نہیں ، مستقل طور پر فروخت ہورہی ہیں ۔ سلطان سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے خریدار معمولی حیثیت کے لوگ نہیں ہوسکتے ۔ ان خریداروں میں قاہرہ کے تاجر، ہماری انتظامیہ اور فوج کے سربراہ اور نامی گرامی بردہ فروش شامل ہیں ۔بکنے والی لڑکیوں میں صلیبیوں کی جاسوس لڑکیاں ہوسکتی ہیں اور یقینا ہوں گی”۔

سلطان ایوبی ان اطلاعوں سے پریشان نہ ہوا۔ بحیرۂ روم میں صلیبیوں کو شکست دئیے تقریباًایک سال گزر گیاتھا۔ علی بن سفیان نے سمندر پار جاسوسی کا انتظام کررکھاتھا جو مضبوط اور سوفیصد قابلِ اعتماد نہیں تھا۔ تاہم یہ اطلاع مل گئی تھی کہ صلیبیوں نے مصر میں جاسوس اور تخریب کار بھیج رکھے ہیں ۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہوسکا تھا کہ مصر کے متعلق ان کے منصوبے کیا ہیں ۔ بغداد اور دمشق سے آنے ولی اطلاعوں سے پتہ چلاتھا کہ صلیبیوں نے زیادہ تر دبائو ادھر ہی رکھا ہواہے ۔ وہاں خصوصاً شام میں ، وہ مسلمان اُمرا کو عیاشیوں اور شراب میں ڈبوتے چلے جارہے تھے ۔سلطان نور الدین زنگی کی موجود گی میں صلیبی ابھی براہِ راست ٹکرلینے کی جرأت نہیں کررہے تھے ۔بحیرۂ روم میں جب صلاح الدین ایوبی نے اُن کا بیڑہ بمع لشکر غرق کردیاتھا ، اُدھر عرب میں سلطان زنگی نے صلیبیوں کی مملکت پر حملہ کرکے انہیں صلح پر مجبور کیا اور جزیہ وصول کرلیاتھا۔ اس معرکے میں بہت سے صلیبی سلطان زنگی کی قید میں آئے تھے ۔جن میں رینالٹ نام کا ایک صلیبی سالار بھی تھا۔ سلطان زنگی نے ان قیدیوں کو رہا نہیں کیا تھا، کیونکہ صلیبیوں نے مسلمان جنگی قیدیوں کو شہید کردیاتھا۔ اس کے علاوہ صلیبی عہد شکنی بھی کرتے تھے ۔

سلطان ایوبی کو اطمینان تھا کہ اُدھر سلطان زنگی سلطنتِ اسلامیہ کی پاسبانی کررہاہے ، پھر بھی وہ فوج تیار کررہاتھا تاکہ صلیبیوں سے فلسطین لیاجائے اور عرب کی سر زمین کو کفار سے پاک کیا جائے ۔ اس کے ساتھ ہی وہ مصر کا دفاع مضبوط کرنا چاہتاتھا۔ بیک وقت حملے اور دفاع کے لیے بے شمار فوج کی ضرورت تھی ۔ مصر میں بھرتی کی رفتار سلطان ایوبی کے عزائم کے مطابق سست تھی ۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ سوڈانیوں کی جو فوج توڑ دی گئی تھی ، اس کے کماندار اور عہدے دار دیہات میں سلطان ایوبی کے خلاف پروپیگنڈا کرتے پھر رہے تھے ۔ اس فوج میں سے تھوڑی سی تعداد سلطان کی فوج میں وفاداری کا حلف اُٹھا کر شامل ہوگئی تھی۔ کچھ فوج مصر سے تیار کرلی گئی تھی اور کچھ سلطان زنگی نے بھیج دی تھی ۔ مصر کے لوگوں نے ابھی یہ فوج نہیں دیکھی تھی، نہ ہی انہوں نے سلطان ایوبی کو دیکھا تھا ۔سلطان ایوبی نے اس میلے کا علان کرکے اپنے فوجی سربراہوں اور اُن کے ماتحت کمان داروں وغیرہ کو ہدایت دی تھی کہ وہ باہر سے آئے ہوئے لوگوں سے ملیں اور پیار و محبت سے ان کا اعتماد حاصل کریں ۔ انہیں باور کرائیں کہ وہ انہی میں سے ہیں اور ہم سب کا مقصد یہ ہے کہ خدا اور رسول ۖ کی سلطنت کو دُور دُور تک پھیلا نا اور ا سے صلیبی فتنے سے پاک کرنا ہے ۔

میلے سے ایک روز پہلے علی بن سفیان ،سلطان کو جاسوسوں کے خطرے سے آگاہ کررہاتھا۔اس نے کہا…… ”امیرِ محترم ! مجھے جاسوسوں کا کوئی ڈر نہیں ، دراصل خطرہ اپنے ان کلمہ گو بھائیوں سے ہے جو کفار کے اس زمین دوز حملے کو کامیاب بناتے ہیں ۔اگر ان کا ایمان مضبوط ہوتو جاسوسوں کا پورا لشکر بھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ میلے کے تماشائیوں میں جو ناچنے والی لڑکیا ں نظر آرہی ہیں ۔وہ صلیبیوں کا جال ہیں، تاہم میرا گروہ دِن رات مصروف ہے”۔

”اپنے آدمیوں سے یہ کہہ دو کہ کسی جاسوس کو جان سے نہ ماریں ”……سلطان ایوبی نے کہا…”زندہ پکڑو ۔ جاسوس دشمن کے لیے آنکھ اور کان ہوتاہے ،لیکن ہمارے لیے وہ زبان ہے ۔وہ تمہیں اُن کی خبریں دے گا، جنہوں نے اُسے بھیجاہے ”۔

٭ ٭ ٭

میلے کی صبح طلوع ہوئی ۔ وہ میدان بہت ہی وسیع تھا جس کے تین اطراف تماشائیوں کا ہجوم تھا،جس طرف ریت کے ٹیلے تھے ادھر کسی کو نہیں جانے دیاگیاتھا۔ جنگی دف بجنے لگے ۔گھوڑوں کے ٹاپوں کی آوازیں اس طرح سنائی دیں ، جیسے سیلابی دریا آرہاہو۔ گرد آسمان کی طرف اُٹھ رہی تھی ۔ یہ دو ہزار سے زیادہ گھوڑے تھے۔ پہلا گھوڑا سوار میدان میں داخل ہوا۔یہ صلاح الدین ایوبی تھا ۔ اس کے دونوں طرف علم بردار تھے اور پیچھے سواروں کا دستہ تھا ۔ گھوڑوں پر پھول دار چادری ڈالی گئی تھیں ۔ہر سوار کے ہاتھ میں برچھی تھی ۔ بر چھی کے چمکتے ہوئے پھل کے ساتھ رنگین کپڑے کی چھوٹی سی جھنڈی تھی۔ ہر سوار کی کمر سے تلوار لٹک رہی تھی ۔ گھوڑے دُلکی چال آرہے تھے ۔ سوار گردنیں تانے اور سینے پھیلائے بیٹھے تھے ۔ اُن کے چہروں پر جلالی تاثر تھا۔ یوں معلوم ہوتاتھاجیسے یہ تماشائیوں کے دم بخو د ہجوم سے ا علیٰ و برتر ہوں ۔اُن کی آن بان دیکھ کر تماشائیوں پر خاموشی طاری ہوگئی تھی ۔ ان پر رعب چھا گیا تھا ۔

تماشائی نیم دائرے میں کھڑئے تھے ۔ ان کے پیچھے تماشائی گھوڑوں پر بیٹھے تھے اور ان کے پیچھے کے تماشائی اونٹوں پر بیٹھے تھے۔ ایک ایک گھوڑے اور ایک ایک اونٹ پر دودو تین تین آدمی بیٹھے تھے ۔ ان کے آگے ایک جگہ شامیانہ لگایا گیا تھا، جس کے نیچے کر سیاں رکھی تھی۔ یہاں اونچی حیثیت والے تماشائی بیٹھے تھے۔ ان میں تاجر بھی تھے ۔ سلطان کی حکومت کے افسر اور شہر کے معززین بھی ۔ان میں قاہرہ کی مسجدوں کے امام بھی بیٹھے تھے۔ انہیں سب سے آگے بٹھایا گیا تھا،کیونکہ سلطان ایوبی مذہبی پیشوائوں اور علماء کا اس قدر احترام کرتاتھا کہ ان کی موجودگی میں ان کی اجازت کے بغیر بیٹھتا نہیں تھا۔ ان میں سلطان کے وہ افسر بھی بیٹھے تھے جو انتظامیہ کے تھے ، لیکن ان کا تعلق فوج سے تھا۔سلطان نے انہیں خاص طور پر کہا تھا کہ ان زعماء میں بیٹھ کر ان کے ساتھ دوستی پیدا کریں ۔ان میں خادم الدین البرق تھا ۔علی بن سفیان کے بعد یہ دوسرا آدمی تھا جو سلطان ایوبی کے خفیہ منصوبوں ، مملکت اور فوج کے ہر راز سے واقف تھا۔ اس کاکام ہی ایسا تھا اور اس کا عہدہ سالار جتنا تھا۔ جنگ کے منصوبے اور نقشے اسی کے پاس ہوتے تھے ۔ اس کی عمر چالیس سال کے قریب تھی۔ وہ عرب کے مردانہ حسن اور جلال کا پیکر تھا۔ جسم توا نا اور چہرہ ہشاش بشاش تھا۔

البرق کے ساتھ ایک لڑکی بیٹھی تھی ۔ بہت ہی خوب صورت لڑکی تھی۔ وہ نوجوان تھی ۔لڑکی کے ساتھ ایک آدمی بیٹھا تھا جس کی عمر ساٹھ سال سے کچھ زیادہ تھی۔ وہ کوئی امیر کبیر لگتاتھا۔البرق کئی بار اس لڑکی کی طرف دیکھ چکاتھا۔ ایک بار لڑکی نے بھی اسے دیکھا تو مسکرادی ۔ پھر اس نے بوڑھے کی طرف دیکھا تو اس کی مُسکراہٹ غائب ہوگئی۔
گھوڑے تماشائیوں کے سامنے سے گزرگئے تو شتر سوار آگئے ۔ اونٹوں کو گھوڑوں کی طرف رنگ دار چادروں سے سجایا گیا تھا۔ ہر سوار کے ہاتھ میں ایک لمبا نیزہ اور اس کے پھل سے ذرانیچے تین تین انچ چوڑے اور ڈیڑ ھ ڈیڑھ فٹ لمبے دورنگے کپڑے جھنڈیوں کی طرف بندھے ہوئے تھے۔ ہوا میں وہ پھڑ پھڑ اتے بہت ہی خوب صورت لگتے تھے ۔ہر سوار کے کندھوں سے ایک کمان آویزاں اور اقونٹ کی زین کے ساتھ رنگین ترکش بندھی تھی۔ اونٹوں کی گردنیں خم کھا کر اوپر کو اُٹھی ہوئیں اور سر جیسے فخر سے اونچے ہوگئے تھے ۔ سواروں کی شان نرالی تھی ۔گھوڑ سواروں کی طرح ہر شتر سوار سامنے دیکھ رہاتھا۔ اُن کی آنگیں بھی دائیں بائیں نہیں دیکھتی تھیں۔ یہ اونٹ انہی اونٹوں جیسے تھے جن پر تماشائی بیٹھے ہوئے تھے، لیکن فوجی ترتیب ،فوجی چال اور فوجی سواروں کے نیچے وہ کسی اور جہان کے لگتے تھے۔

البرق نے اپنے پاس بیٹھی ہوئی لڑکی کو ایک بار پھر دیکھا ۔اب کے لڑکی نے اسے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا ۔اس کی آنکھوں میں ایسا جادو تھاکہ البر ق نے اپنے آپ میں بجلی کا جھٹکا محسوس کیا۔

لڑکی کے ہونٹوں پر شرم و حیا کا تبسم آگیا اور اس نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے بوڑھے کو دیکھا تو اس کا تبسم نفرت میں بدل گیا۔ البرق کی ایک بیوی تھی، جس میں سے اُس کے چار بچے تھے۔ وہ شاید اس بیوی کو بھول گیاتھا۔ وہ لڑکی کے اس قدر قریب بیٹھا تھا کہ لڑکی کا اُٹھا ہوا ریشمی نقاب ہوا سے اُڑ کر کئی بار البرق کے سینے سے لگا۔ ایک بار ا س نے نقاب ہاتھ سے پرے کیا تو لڑکی نے شرما کر معذرت کی ۔البرق مسکرایا ، منہ سے کچھ نہ کہا۔

شتر سواروں کے پیچھے پیادہ فوج آرہی تھی۔ ان میں تیر اندازوں اور تیغ زنوں کے دستے تھے۔اُ ن کی ایک ہی جیس چال ، ایک ہی جیسے ہتھیار اور ایک ہی جیسا لباس تماشائیوں پر وہی تاثر طاری کررہاتھا۔ جو سلطان ایوبی کرنا چاہتا تھا۔ سپاہیوں کے چہروں پر تندرستی اور توانائی کی رونق تھی اور وہ خوش و خرم اور مطمئن نظر آتے تھے ۔یہ ساری فوج نہیں ، صرف منتخب دستے تھے ۔ ان کے پیچھے منجنیقیں آرہی تھیں، جنہیں گھوڑے گھسیٹ رہے تھے ۔ ہر منجنیق دستے کے پیچھے ایک ایک گھوڑ اگاڑی تھی جس میں بڑے بڑے پتھر اور ہانڈیوں کی قسم کے برتن رکھے تھے ۔ ان میں تیل جیسی کوئی چیز بھری ہوئی تھی جو منجنیقوں سے پھینکی جاتی تھی ۔ جہاں یہ برتن گرتاتھا وہ کئی ٹکڑوں میں ٹوٹ کر سیال مادے کو بہت سی جگہ پر بکھیر دیتا تھا۔ اس پر آتشیں تیر چلائے جاتے تو سیال مادہ شعلے بن جاتاتھا ۔

سلطان ایوبی کی قیادت میں یہ سوار اور پیادہ دستے ، نیم دائرے میں کھڑے اور بیٹھے ہوئے تماشائیوں کے آگے سے دُور آگے نکل گئے ۔ صلاح الدین ایوبی راستے میں سے واپس آگیا۔ اُس کے گھوڑے کے آگے علم برداروں کے گھوڑے ، دائیں ، بائیں اور پیچھے محافظو ںکے گھوڑے اور اُن کے پیچھے نائب سالاروں کے گھوڑے تھے۔ سلطان نے گھوڑا روک لیا، کود کر اُترا اور تماشائیوں کو ہاتھ ہوا میں لہرالہرا کر سلام کرتا شامیا نے کے نیچے چلاگیا،وہاں بیٹھے ہوئے تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔سلطان ایوبی نے سب کو سلام کیا اور اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔

سوار اور پیادہ دستے دُور آگے جاکر ٹیلوں کے عقب میں چلے گئے ۔ میدان خالی ہوگیا۔ ایک گھوڑا سوار سرپٹ گھوڑا دوڑ اتا آیا۔ اس کے ایک ہاتھ میں گھوڑے کی لگام اور دوسرے میں اونٹ کی رسی تھی ۔ اونٹ گھوڑے کی رفتار کے ساتھ دوڑتا آرہاتھا۔میدان کے وسط میں آکر گھوڑسوار گھوڑے پر کھڑا ہوگیا۔ اس نے باگیں چھوڑدیں ۔ وہ اُچھل کر اونٹ کی پیٹھ پر کھڑا ہوگیا، وہاں سے کود کر گھوڑے پر سوار ہوا۔گھوڑے اور اونٹ کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آیاتھا۔ گھوڑے کی پیٹھ سے وہ اونٹ کی پیٹھ پر چلا گیااور دُور آگے جاکر غائب ہوگیا۔

خادم الدین البرق دائیں کو ذراساجھکا۔ اُس کے منہ اور لڑکی کے سر کے درمیان دو تین انچ کا فاصلہ رہ گیاتھا۔ لڑکی نے اسے دیکھا ۔البرق مُسکرایا۔ لڑکی شرماگئی ۔بوڑھے نے دونوں کو دیکھا۔ اس کے بوڑھے ماتھے کے شِکن گہرے ہوگئے ۔

اچانک ٹیلوں کے پیچھے سے ہانڈ یوں کی طرح کے مٹی کے وہ برتن جو گھوڑا گاڑیوں پر لدے ہوئے تھے ،اوپر کو جاتے ، آگے آتے اور میدان میں گرتے نظر آئے ۔بر تن ٹوٹتے تھے تو تیل اچھل کر بکھر جاتاتھا۔کم و بیش ایک سو برتن گرے اور اُن سے نکلا ہوا مادہ تقریباٍ ایک سو گز لمبائی اور اسی قدر چوڑائی میں بکھر گیا۔ایک ٹیلے پر چھ تیر انداز نمودار ہوئے ۔انہوں نے جلتے ہوئے فلیتوں والے تیر چلائے جو سیال مادے والی جگہ گڑگئے ۔ فوراً وہ تمام جگہ ایک ایسا شعلہ بن گئی جو گھوڑے کی پیٹھ تک بلند اور کوئی ایک سو گز تک پھیلا ہواتھا۔ ایک طرف سے چار گھوڑ سوار گھوڑے پوری رفتار سے دوڑتے آئے ۔ شعلے کے قریب آکر وہ رُکے نہیں ۔رفتار کم بھی نہ کی ۔ چاروں شعلے میں چلے گئے ۔ تماشائی دم بخود تھے کہ وہ جل جائیں گے مگر وہ اتنے وسیع شعلے میں دوڑتے نظر آرہے تھے ۔آخر وہ چاروں شعلے میں سے نکل گئے ۔تماشائیوں نے داد و تحسین کا وہ شور بلند کیا کہ آسمان پھٹنے لگا۔ دوسواروں کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی تھی ۔ دونوں بھاگتے گھوڑوں سے ریت پر گرے اور تھوڑی دور لڑھکنیاں کھاتے گئے ۔ان کے کپڑوں کی آگ بجھ گئی۔

البرق اس شور و غل اور سواروں کے کمالات سے نظریں پھیرے ہوئے لڑکی کودیکھ رہاتھا۔لڑکی اس کی طرف دیکھتی اور ذراسا مسکراکر بوڑھے کو دیکھنے لگتی تھی۔ بوڑھا اُٹھ کر جانے کیوں چلاگیا۔ لڑکی اسے جاتا دیکھتی رہی ۔البر ق کو معلوم تھاکہ لڑکی بوڑھے کے ساتھ آئی ہے ۔ اس نے لڑکی سے پوچھا۔

”تمہارے والد صاحب کہاں چلے گئے ہیں؟”

”یہ میرا باپ نہیں ”……لڑکی نے جواب دیا……”میرا خاوند ہے ”۔

”خاوند؟”……البرق نے حیرت سے پوچھا……”کیا یہ شادی تمہارے والدین نے کرائی ہے ؟”

”اس نے مجھے خریداہے ”……لڑکی نے اُداس لہجے میں کہا۔

”وہ کہاں گیاہے ؟”……البرق نے پوچھا۔

”ناراض ہوکر چلاگیاہے ”…لڑکی نے جواب دیا…”اسے شک ہوگیاہے کہ میں آپ کو دلچسپی سے دیکھتی ہوں ”

”کیا تم واقعی مجھے دلچسپی سے دیکھتی ہو؟”……البر ق نے رومانی انداز سے پوچھا۔

لڑکی کے ہونٹوں پر شرمیلی سی مُسکراہٹ آگئی ۔دھیمی سی آواز میں بولی ۔ ”میں اس بوڑھے سے تنگ آگئی ہوں۔اگر کسی نے مجھے اس سے نجات نہ دلائی تو میں خود کشی کرلوں گی”۔

میدان میں سوار اور پیادہ فوجی حیران کن کرتب دکھارہے تھے اور حرب و ضرب کے مظاہرے کرہے تھے ۔ تماشائیوں نے جنگی مظاہرے پہلے کبھی نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے صرف سوڈانی فوج دیکھی تھی جو خزانے کے لیے سفید ہاتھی بنی ہوئی تھی ۔ اس کے کمان دار بادشاہوں کی طرف باہر نکلتے تھے ۔ ان کے ساتھ اگر فوج کا دستہ ہوتو وہ دیہات کے لیے مصیبت بن جاتے تھے۔ مویشی تک کھول کر لے جاتے تھے ۔ کسی کے پاس اچھی نسل کا اونٹ ، گھوڑا دیکھتے تو زبردستی لے جاتے تھے۔ لوگوں کے دِل میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ فوج رعایا پر ظلم و تشدد کرنے کے لیے رکھی جاتی ہے ،لیکن سلطان کی فوج بہت مختلف تھی ۔ایک تو وہ دستے تھے جو مظاہرے میں شریک تھے ۔باقی فوج کو سلطان کی ہدایات کے مطابق تماشائیوں میں پھیلادیاگیا تاکہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل کر ان پر یہ تاثر پیدا کریں کہ فوجی ان کے بھائی ہیں اور انہی میں سے ہیں ۔بد تمیزی یا بد اخلاقی کرنے والے فوجی کے لیے بڑی سخت سزا مقرر کی گئی تھی۔

خادم الدین البرق جو سلطان ایوبی کی جنگی مشاورتی محکمے کا سربراہ اور راز داں تھا، سلطان کی ہدایات اور میلے کے شور و غل سے بالکل ہی لاتعلق ہوگیاتھا۔ لڑی ایک جادو بن کر اس کی عقل پر غالب آگئی تھی ۔اس نے لڑکی میں دلچسپی کا ظہار کیا، اسے لڑکی نے قبول کرلیاتھا۔ اس سے دونوں کے لیے سہولت پیدا ہوگئی ۔ البرق نے کہیںملنے کو کہا تو لڑکی نے جواب دیا کہ وہ خریدی ہوئی لونڈی ہے اور بوڑھے نے اسے قید میں رکھا ہواہے ۔وہ اس پر ہر وقت نظر رکھتا ہے ۔لڑکی نے یہ بھی بتایا کہ بوڑھے کے گھر چار بیویاں ہیں … البرق نے اپنے رُتبے کو فراموش کردیا۔ عشق باز نوجوان کی طرح اُس نے ملاقات کی وہ جگہیں بتانی شروع کردیں جہاں آوارہ آدمیوں کے سوا کوئی نہیں جاتا تھا۔ ان جگہوں میں ایک جگہ لڑکی کو پسند آگئی۔ یہ شہر سے باہر قدیم زمانے کاکوئی کھنڈر تھا۔ البرق نے لڑکی سے یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ اسے بوڑھے سے آزاد کرانے کی کوشش کرے گی..
تیسری رات البرق گھر سے نکلا وہ حاکموں کی شان سے گھر سے نکلاکرتاتھا،مگراس رات وہ چوروں کی طرح باہر نکلا۔ اِدھر اُدھر دیکھا اور ایک طرف چل پڑا ۔ قاہرہ پر سکوت طاری تھا۔ فوجی میلہ ختم ہوئے دو دِن گزرگئے تھے ۔ باہر سے آئے ہوئے تماشائی جاچکے تھے۔ سرکاری حکم کے تحت عارضی قحبہ خانے اٹھا دئیے گئے تھے۔ علی بن سفیان کا محکمہ اب یہ سراغ لگاتا پھر رہاتھا کہ باہر سے آئی ہوئی کتنی لڑکیا ں اور کتنے مشکوک لوگ شہر یا مضافاتی دیہات میں رہ گئے ہیں ۔میلے کا مقصد پورا ہوگیا تھا۔ دوہی دنوں میں چار ہزار جوان فوج میں بھرتی ہوگئے تھے اور مزید بھرتی کی توقع تھی۔

البرق شہر سے نکل گیا اور اس نے اُس کھنڈر کا رُخ کیا جہاں لڑکی کو آناتھا۔ صحرائی گیدڑوں کے سوا زمین و آسمان گہری نیند سوگئے تھے ۔ لڑکی نے البرق سے کہاتھا کہ وہ بوڑھے کی قیدی ہے اورو ہ اُس پر ہر وقت نظررکھتا ہے ، پھر بھی البرق اس اُمید پر جارہاتھا کہ لڑکی ضرور آئے گی ۔ممکنہ خطروں سے نمٹنے کے لیے اس کے پاس ایک خنجر تھا۔ عورت ایسا جادو ہے کہ جس پر طاری ہوجائے وہ کسی کی پرواہ ہیں کیا کرتا ۔عقل و دانش اس کا ساتھ چھوڑ جاتے ہیں ۔ البرق پختہ عمر کا آدمی تھا مگر وہ نادان نوجوان بن گیا تھا،اسے اندھیرے میں کھنڈر کے قریب ایک تاریک سایہ، سر سے پائوں تک لبادے میں لپٹا ہوا نظر آیا اور کھنڈر کے کھڑے سیاہ بھوت میں جذب ہوگیا تو وہ تیز تیز چلتا کھنڈر میں پہنچا گری ہوئی دیوار کے شگاف سے وہ اندر آگیا۔ آگے اندھیرہ کمرہ تھا۔ چھت میں بڑی زور سے کوئی بہت بڑا پرندہ پھڑ پھڑا یا۔ البرق نے ہوا کے تیز جھونکے محسوس کیے اور اچانک اس کے منہ پر تھپڑ پڑا اس کے ساتھ ہی اسے ”چی چی”کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ وہ جان گیا کہ یہ بڑے چمگادڑ ہیں جن کے پنجے اس کا منہ نوچ ڈالیں گے۔ وہ بیٹھ گیا اور پائوں پر سر کتا کمرے سے نل گیا ۔ کمرہ اڑتے چمگادڑوں سے بھر گیا تھا۔

آگے صحن تھا، جس کے ارد گرد گول برآمدہ تھا۔ البرق نے یہ بھی نہ سوچا کہ ایک خریدی ہوئی قیدی لڑکی جس پر ہر وقت نظر رکھی جاتی ہے،اس ہیبت ناک کھنڈر میں کیسے آئے گی، مگر برآمدے میں اس کے قدموں کی دبی دبی آہٹ نے اسے بتادیاکہ یہاں کوئی موجود ہے ۔اس نے کمر سے خنجر نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔ اس کے سر پر چمگادڑ اُڑ رہے تھے، پھڑ پھڑانے کی آوازیں ڈرائونی تھیں ۔ البرق نے آہستہ سے پکارا……”آصفہ!”…… لڑکی نے اُسے اپنانام بتادیا تھا اور میلے میں یہ بھی بتادیاتھا کہ وہ کس طرح فروخت ہوئی ہے ۔

”آپ آگئے ؟”……اسے آصفہ کی آواز سنائی دی۔ وہ برآمدے میں سے دوڑتی آئی اور البرق کے ساتھ چپک گئی ۔کہنے لگی…… ”آپ کی خاطر جان کو خطرے میں ڈال کر آئی ہوں ۔مجھے جلدی واپس جانا ہے ۔بوڑھے کو شراب میں نیند کا سفوف پلاآئی ہوں ۔وہ جاگ نہ اُٹھے ”۔

”کیا تم اُسے شراب میں زہر نہیں پلاسکتی ؟”……البرق نے پوچھا۔

”میں نے کبھی قتل نہیں کیا”…… آصفہ نے کہا……”میں نے تو کبھی یہ بھی نہیں سوچاتھا کہ اس طرح کسی غیر مرد سے ملنے اس ڈرائونے کھنڈر میں آئوں گی۔”

البرق نے اسے بازوئوں میں جکڑ لیا…اچانک ان کے پیچھے برآمدہ روشن ہوگیا، جس کمرے میں سے البرق گزر کر آیاتھا، اس میں سے دومشعلیں نکلیں ۔یہ لکڑیوں کے سروں پر تیل بھیگے ہوئے کپڑے لپیٹ کر بنائی گئی تھیں۔ اُن کے شعلے خاصے بڑے تھے۔ البرق نے آصفہ کو اپنے پیچھے کرلیا۔ اس کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ کیا یہ کھنڈر میں رہنے والی بدروحیں تھیں ؟یا لڑکی کے تعاقب میں اس کا خاوند آگیاتھا؟… البرق ابھی سوچ ہی رہاتھا کہ ایک آواز گرجی …”دونوں کو قتل کردو”۔

مشعلیں قریب آئیں تو اُن کے ناچتے شعلوں میں البرق اور آصفہ کو چار آدمی نظر آئے ۔ایک کے ہاتھ میں برچھی اور تین کے پاس تلواریں تھیں ۔ انہوں نے مشعلیں زمین میں گاڑ دیں۔ کھنڈر کا صحن روشن ہوگیا۔ چاروں آدمی البرق کے گرد بھوکے بھیڑیوں کی طرح آہستہ آہستہ چکر میں چلنے لگے۔ آصفہ اس کے پیچھے تھی۔ برآمدے میں سے ایک اور آواز آئی…… ”مل گئے ؟زندہ نہ چھوڑنا”……یہ لڑکی کے بوڑھے خاوند کی آواز تھی۔

آصفہ البرق کے عقب سے آگے آگئی ۔ اس نے حقارت اور غصے بوڑھے سے کہا……”آگے آئو اور مجھے قتل کردو۔ میں تم پر لعنت بھیجتی ہون ۔میں اپنی مرضی سے یہاں آئی ہوں ”

چاروں مسلح آدمی اِن کے گرد کھڑے تھے ۔برچھی والے نے برچھی آہستہ آہستہ آصفہ کی طرف کی اور اس کی نوک اس کے پہلو لگا کر کہا……”مرنے سے پہلے برچھی کی نوک دیکھ لو،لیکن تم سے پہلے یہ شخص تڑپ تڑپ کر تمہارے سامنے مرے گا، جس کی خاطر تم یہاں آئی ہو”۔

آصفہ نے جھپٹا مار کر برچھی پکڑلی اور جھٹکادے کر برچھی چھین لی۔ آصفہ البرق سے الگ ہوگئی اور للکار کر کہا……”آئو، آگے آئو۔ میں دیکھتی ہوں کہ تم مجھ سے پہلے اس آدمی کو کس طرح قتل کرتے ہو”۔

البرق خنجر آگے کیے اس کے سامنے آگیا۔ لڑکی نے برچھی سے اس پروار کیا جس سے اس نے برچھی چھینی تھی۔وہ آدمی پیچھے کو بھاگا۔ اس کے ساتھیوں نے البرق پر حملہ کرنے کی بجائے صرف پینترے بدلے ۔وہ البرق کو آسانی سے قتل کر سکتے تھے، مگر وہ بڑھ کر حملہ نہیں کررہے تھے ۔آصفہ کی للکار گرج رہی تھی ۔ وہ بڑھ کروار کرتی تھی ، مگر وار خالی جاتاتھا۔ البرق نے ایک آدمی پر خنجر سے حملہ کیا تو دو آدمی اس کے پیچھے آئے ۔آصفہ ایک ہی جست میں اس کے پیچھے ہوگئی ۔اُس کے ہاتھ میں لمبی برچھی تھی جو تلوار کا مقابلہ کر سکتی تھی ۔ خنجر تلوار کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ بوڑھا ایک طرف کھڑا اپنے آدمیوں کو للکاررہاتھا۔ تھوڑی سی دیر انہوں نے البر ق اور آصفہ پر حملے کیے۔ آصفہ اُن پر ٹوٹ پڑتی تھی ۔ البرق وار بچاتا تھا اور خنجر سے وار کرنے کی کوشش کرتاتھا، مگر عجیب امر یہ تھا کہ لڑکی کے حملوں کے باوجود کوئی زخمی نہیں ہوا۔ بوڑھے کے آدمیوں نے بھی تیغ زنی کے جوہر دکھائے ، مگر البرق اور آصفہ کو خراش تک نہ آئی ۔ اتنے میں بوڑھ نے کہا ”رُک جائو”……اور لڑائی بند ہوگئی ۔

”میں ایسی بے وفا لڑکی کو گھر میں نہیں رکھنا چاہتا”……بوڑھے نے کہا……”مجھے معلوم نہیں تھاکہ یہ اتنی دلیر اور بہادر ہے، اگر اسے میں زبردستی لے بھی گیا تو یہ مجھے قتل کردے گی”۔

”میں تمہیں اس کی پوری قیمت دوں گا”……البرق نے کہا……”کہو، تم نے اسے کتنے میں خریدا تھا”۔

بوڑھا ہاتھ بڑھا کر آگے بڑھا اور البرق سے ہاتھ ملا کر بولا……”میرے پاس دولت کی کمی نہیں ۔ میں یہ لڑکی تمہیں بخش دیتا ہوں ۔اسے تمہارے ساتھ اتنی محبت ہے کہ تمہاری خاطر اتنے سارے آدمیون کے مقابلے میں آگئی ہے ۔ میں اسے اس لیے بھی تمہارے حوالے کرتاہوں کہ یہ جنگجو نسل کی لڑکی ہے ۔ میں تاجر اور سودا گرہوں ۔یہ کسی تم جیسے جنگجو کے گھر میں اچھی لگے گی ۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ تم سلطان صلاح الدین ایوبی کی حکومت کے حاکم ہو۔ میں سلطان کا وفادار اور مرید ہوں ۔ میں تمہیں ناراض نہیں کرناچاہتا، جائو۔ میں نے اسے طلاق دی اور اسے تم پر حلال کردیا……چلو، دوستو! انہیں اکیلا چھوڑ دو”……وہ مشعلیں اُٹھا کر چلے گئے ۔

البرق کی حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس کے پائوں تلے زمین ہلنے لگی ۔اسے یقین نہیں آرہاتھا ۔وہ اسے بوڑھے کا فریب سمجھ رہاتھا۔ اسے یہ خطرہ نظر آرہاتھا کہ یہ لوگ راستے میں گھات لگاکر ان دونوں کو قتل کریں گے ۔ آصفہ کے ہاتھ میں برچھی تھی ، وہ البرق نے لے لی اور کچھ دیر بعدکھنڈر سے نکلے ۔ وہ دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتے تیز تیز چلنے لگے۔ذراسی آہٹ سنائی دیتی تو وہ چونک کر رُک جاتے ۔ ہر طرف اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کرتے اور آہستہ آہستہ چل پڑتے ۔ شہر میں داخل ہوئے تو ان کی جان میں جان آئی ۔ آصفہ نے رک کر بازو البرق کے گلے میں ڈال دئیے اور پوچھا۔”آپ کو مجھ پر اعتماد ہے یا نہیں ؟……البرق نے اسے سینے سے لگالیا۔ اس پر جذبات کا اتنا غلبہ تھا کہ کچھ بول نہ سکا۔ لڑکی نے اسے بے دام خرید لیاتھا۔اسے یہ تو اب پتہ چلا تھا کہ لڑکی اسے کیسی دیوانگی سے چاہتی ہے اور کتنی بہادر ہے ۔دراصل وہ لڑکی کے حسن پر مر مٹا تھا۔اُس کی بیوی اس کی ہم عمر تھی ۔آصفہ کو دیکھ کر اس نے محسوس کیا کہ وہ بیوی اس کے کام کی نہیں رہی ۔

اُس دور میں جب عورت فروخت ہوتی تھی ، گھر میں بیوی کی کوئی حیثیت نہیں تھی ۔ بیک وقت چار بیویاں تو خاوند اپنا حق سمجھتا تھا، لیکن جو پیسے والے تھے ، وہ دو دو چار خوب صورت لڑکیا ں بغیر نکاح کے رکھ لیتے تھے ۔ مسلمان اُمراء کو عورت نے ہی تباہ کیاتھا۔ ان کے ہاںیہ بھی رواج تھا کہ ایک آدمی کی بیویاں خاوند کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ڈھونڈ ڈھونڈ کر خوب صورت لڑکیاں خاوند کو بطور تحفہ پیش کرتی تھیں ۔

البرقی جب آصفہ کو ساتھ لیے گھر میں داخل ہواتو سب سوئے ہوئے تھے ۔صبح اس کی بیوی نے اپنے خاوند کے پلنگ پر اتنی حسین لڑکی دیکھی تو اسے ذرہ بھر محسوس نہ ہوا کہ اس کا سہاگ اُجڑ گیاہے ،بلکہ وہ خوش ہوئی کہ اس کے اتنے اچھے خاوند کو اتنی خوب صورت لڑکی مل گئی ہے ۔ اسکے آجانے سے وہ کچھ فرائض سے سبکدوش ہوئی تھی ۔البرق کی حیثیت ایسی تھی کہ وہ ایسی ایک اور بیوی یا داشتہ رکھ سکتا تھا۔

صلاح الدین ایوبی مسلمانوں کو عورت سے اور عورت کو مسلمانوں سے آزاد کرناچاہتا تھا۔ وہ ایک خاوند ایک بیوی کا حکم نافذ کرنا چاہتاتھا ، مگر ابھی وہ ہر اُس امیر اور وزیر کو دشمن بنانے سے ڈرتاتھا جس نے کئی کئی لڑکیوں کوگھروں میں رکھاہوا تھا۔عورت کے خریدار یہی لوگ تھے۔ انہی کی دولت سے عورت کھلی منڈی میں نیلام ہوتی تھی ۔اغوا کی وارداتیں ہوتی تھیں ۔قتل اور خون خرابے ہوتے تھے اور اُمراء اور حاکموں کی زن پرستی کا ہی نتیجہ تھا کہ عیسائیوںاور یہودیوں نے لڑکیون کی وساطت سے سلطنتِ اسلامیہ کی جڑوں میں زہر بھردیاتھا۔ اس کے علاوہ سلطان ایوبی کو یہ احساس بھی پریشان کیے رکھتا تھا کہ یہی عورت مردوں کے دوش بدوش کفار کے خلاف لڑاکرتی تھی ، مگر اب یہ عورت جہاد میں مرد کے لیے آدھی قوت تھی ، مرد کی تفریح اور عیاشی کا ذریعہ بن گئی ہے ۔ اس سے صرف یہ نہیں ہوا کہ قوم کی آدھی جنگی قوت ختم ہوگئی ہے ، بلکہ عورت ایک ایسا نشہ بن گئی ہے جس نے قوم کی مرادنگی کو بیکار کردیاہے ۔

سلطان ایوبی عورت کی عظمت بحال کرنا چاہتا تھا ۔اُس نے ایک منصوبہ تیار کررکھا تھا جس کے تحت وہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کو باقاعدہ فوج میں بھرتی کرنا چاہتا تھا۔ اسی کے تحت حرم بھی خالی کرنے تھے ، مگر ایسے احکام وہ اسی صورت میں نافذ کرسکتاتھا کہ سلطنت کی خلافت یا امارت اس کے ہاتھ آجائے ۔ یہ مہم بڑی دشوار تھی ۔ اس کے دشمنوں میں اپنو ں کی تعداد زیادہ تھی اور وہ جانتا تھا کہ قوم میں ایمان فروشوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ۔ اسے یہ معلوم نہیں ہواتھا کہ اس کا ایک معتمد خاص اور حکومت کے رازو ں کا رکھوالا ،خادم الدین البرق بھی ایک نوجوان حسینہ کو گھر لے آیاہے اور یہ لڑکی اس کے اعصاب پر ایسی بُری طرح چھا گئی ہے کہ وہ اب فرائض سلطنت سے بے پرواہوسکتاہے ۔

فوجی میلے میں مصر کے لوگ سلطان ایوبی کی فوجی طاقت سے مرعوت نہیں ہوئے ،بلکہ اسے اسلامی اور مصری فوج سمجھ کر اس سے متاثر ہوئے تھے ۔سلطان ایوبی تقریر یں کرنے والا حاکم نہیں تھا، لیکن اس دن اتنے بڑے اجتماع سے اس نے خطاب کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے کہا کہ یہ فوج قوم کی عصمت کی محافظ اور اسلام کی پاسبان ہے ۔ اس نے صلیبیوں کے عزائم تفصیل سے بیان کیے اور مصریوں کو بتایا کہ عرب میں مسلمان اُمراء اور حاکمون کی تعیش پرستی کی وجہ سے صلیبیوں نے وہاں مسلمان کا جینا حرام کررکھا ہے ۔ وہ قافلوں کو لوٹ لیتے ہیں ، مسلمان لڑکیون کو اغوا کرکے بے آبرو کرتے ،پھر انہیں بیچ ڈالتے ہیں ……سلطان ایوبی نے لوگوں کو قومی جذبے سے آگاہ کرکے انہیں کہا کہ وہ فوج میں بھرتی ہوکر اپنی بیٹیوں کی عصمت اور اسلام کی عظمت کی پاسبانی کریں۔ سلطان کی تقریر میں جوش تھا اور ایسا تاثر کہ تماشائیوں کے دلوں میں ہلچل مچ گئی اور اسی روز جوان آدمی فوج میں بھرتی ہونے لگے۔

دس روز تک بھرتی ہونے والوں کی تعداد چھ ہزار ہوگئی ۔اس میں کم و بیش ڈیڑھ ہزار جوان اپنے اونٹ ساتھ لائے اور ایک ہزار کے قریب گھوڑوں اور خچروں سمیت آئے ۔ سلطان نے انہیں جانوروں کا معاوضہ فوری طور پر اداکردیا اور فوج نے ان کی ٹریننگ شروع کردی ۔

میلے کے تین ماہ بعد……

سلطان کی فوج میں تین جرائم کی رفتار بڑھنے لگی ……چوری ، جواء بازی اور رات کی غیر حاضری……یہ جرائم اس سے پہلے بھی ہوتے تھے ، لیکن نہ ہونے کے برابر تھے ۔ فوجی میلے کے بعد یہ وبا کی صورت اختیار کرنے لگے۔ ان تینوں کی بنیاد جواء بازی تھی ۔چوری کی وارداتیں اسی تک محدود تھیں کہ سپاہی سپاہی کی کوئی ذاتی چیز چرا کر بازار میں بیچ ڈالتا تھا، مگر ایک رات فوج کے تین گھوڑے غائب ہوگئے ۔سواروں اور سپاہیوں کی تعداد پوری تھی ۔کوئی بھی غیر حاضر نہیں تھا، اگر اس نقصان کو نظر انداز کردیاجاتا تو اگلی بار دس گھوڑے چوری ہوجاتے ۔ اعلیٰ حکام تک رپورٹ پہنچی ۔انہوں نے فوجوں کو تنبیہ کی ، سزاسے ڈرایا ، خدا سے ڈرایا مگر یہ تینوں جرائم بڑھتے گئے۔

ایک رات ایک سپاہی پکڑا گیا۔ وہ کہیں سے کیمپ میں آرہاتھا۔ اس سے پہلے رات کو غیر حاضر ہونے والے سپاہی چوری چھپے سنتریوں سے بچ کر نکل جاتے اور بچتے بچاتے آجاتے تھے، لیکن یہ سپاہی لڑکھڑاتا آرہاتھا ۔ سنتری نے اسے دیکھ لیا اور اُسے پکارا ۔ سپاہی رُک گیا اور گر پڑا ۔ سنتری نے دیکھا کہ یہ خون میں نہایا ہواتھا۔ اسے اُٹھا کر اپنے عہدے دار کے پاس لے گیا۔ اس کی مرہم پٹی کی گئی ، مگر وہ زندہ نہ رہ سکا۔ مرنے سے پہلے اس نے بتایا کہ وہ اپنے ایک ساتھی سپاہی کو قتل کر آیا ہے اور اس کی لاش کیمپ سے نصف کوس دور ایک خیمے میں پڑی ہے ۔اس کے بیان کے مطابق وہاں تین خیمے تھے ۔وہ لوگ خانہ بدوش تھے ۔ان کے پاس خوب صورت عورتیں تھیں ۔ وہ ان عورتوں کی نمائش فوجیوں میں کرتے تھے ۔ رات کو سپاہی وہاں تک پہنچ جاتے تھے ، وہ دوسروں کو بتاتے تو وہ بھی چلے جاتے ۔

وہ خانہ بدوش صرف عصمت فروش نہیں تھے ۔ ان کی ہر عورت اپنے ہر فوجی گاہک کو یہ تاثر دیتی تھی کہ وہ اس پر فدا ہے اور اس کے ساتھ شادی کر لے گی ۔بعد کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ انہوں نے سپاہیوںمیں رقابت پیدا کردی تھی۔اسی کا نتیجہ تھا کہ یہ دوسپاہی خانہ بدوشوں کے خیمے میں لڑپڑے ۔ ایک مارا گیا اور دوسرا زخمی ہوکر آیا اور بیان دے کر مرگیا۔

دوسرے سپاہی کی لاش لانے کے لیے آدمی روانہ کردئیے گئے ۔ ان کے ساتھ ایک کمان دار بھی تھا۔ مرنے والے سپاہی نے راستہ اور جگہ بتادی تھی ۔ وہاں گئے تو دیکھا کہ سپاہی کی لاش پڑی ہے ۔ خیمے نہیں ہیں ، وہاں کے نشان بتارہے تھے کہ یہاں سے خیمے اُکھاڑے گئے ہیں ۔ رات کے وقت اُن کی تلاش ممکن نہیں تھی ۔ سپاہی کی لاش اُٹھالائے ۔اس حادثے کی رپورٹ سلطان ایوبی کو دی گئی اور یہ بھی بتایا گیا کہ فوج میں جرائم بڑھ گئے ہیں اور تین گھوڑے بھی چوری ہوچکے ہیں ۔سلطان نے علی بن سفیان کو بلا کر کہا کہ وہ سپاہیوں کے بھیس میں اپنے سراغ رساں فوج میں شامل کرکے معلوم کرے کہ یہ جرائم کیوں بڑھ گئے ہیں ۔سلطان نے اس سلسلے میں البرق کو بھی حکم دیا۔

اس ”کیوں ”کا جواب شہر کے اندر موجود تھا، جہاں تک علی بن سفیان کے سراغ رساں کی رسائی محال تھی ۔ یہ ایک بہت بڑا قلعہ نما مکان تھا۔ مصریوں کا ایک کنبہ نہیں ،بلکہ پورا خاندان اس میں رہتاتھا۔ اس مکان اور مکینوں کو شہر میں عزت حاصل تھی ، کیونکہ یہاں خیرات بہت تقسیم ہوتی تھی ۔ناداروں کو یہاں سے مالی مدد ملتی تھی ۔فوجی میلے میں اس خاندان نے سلطان ایوبی کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں فوج کے لیے پیش کی تھی ۔ یہ سودا گر خاندان تھا۔ مصرمیں سلطان ایوبی کے آنے سے پہلے یہ مکان سوڈانی فوج کے بڑے رتبے والوں اور انتظامیہ کے حاکموں کی مہمان گاہ بنارہاتھا۔ سوڈانیوں کو سلطان ایوبی نے آکر ختم کردیا تو اس خاندان کی وفاداریاں حکومت کے ساتھ رہیں اور یہ سلطان ایوبی کا وفادار ہوگیا۔

جس روز سلطان ایوبی نے البرق اور علی بن سفیان کو حکم دیا کہ وہ فوج میں جرائم کی وبا کی وجوہات معلوم کریں ، اس سے اگلی رات اس مکان کے ایک کمرے میں دس بارہ آدمی بیٹھے تھے ۔شراب کا دور چل رہاتھا۔ کمرے میں ایک بوڑھا آڈمی داخل ہوا۔اسے دیکھ کر سب اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ا سکے ساتھ ایک بڑی خوب صورت لڑکی تھی جس کا آدھا چہرہ نقاب میں تھا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی دروازہ بند کردیاگیا اور لڑکی نے نقاب اُٹھادیا ۔وہ بوڑھے کے ساتھ بیٹھ گئی ۔

”کل امیرِ مصر تک اطلاع پہنچ گئی ہے کہ فوج میں جوئے بازی اور بدکاری بڑھ گئی ہے ”۔ بوڑھے نے کہا……”ہماری آج کی یہ نشست بہت اہم ہے ۔امیرے نے سپاہیوں کے بھیس میں فوج میں سراغ رساں شامل کرنے کا حکم دے دیاہے ۔ ہمیں ان سراغ رسانوں کو ناکام کرنا ہے ۔تازہ اطلاع بڑی ہی اُمید افزاہے ۔ دومصری سپاہیوں نے ایک عورت پر لڑ کر ایک دوسرے کو قتل کردیاہے ،یہ ہمای کامیابی کی ابتدا ہے ۔”

”تین مہینون میں صرف ایک مسلمان سپاہی نے دوسرے کو قتل کیا اور خود بھی قتل ہواہے ”۔ ایک آدمی نے بوڑھے کی بات کاٹ کر کہا……”کامیابی کی یہ رفتار بہت سست ہے۔ کامیابی ہم اسے کہیںگے جب ایوبی کا کوئی نائب سالار اپنے سالار کو قتل کردے گا”۔

” میں کامیابی اسے کہوں گا کہ جب کو ئی سالار یا نائب سالار صلاح الدین ایوبی کو قتل کرد ے گا ”۔ بوڑھے نے کہا ……”مجھے معلوم ہے کہ ایک ہزار سپاہی قتل ہوجائیں تو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہمارامطمعِ نظر ایوبی کا قتل ہے ۔آپ سب کو پچھلے سال کے دونوں واقعات یاد ہوں گے۔ساحل پر سلطان ایوبی پر تیر چلایا گیا اور وہ خطا گیا۔ روم سے آدمی آئے ، وہ ایسے ناکام ہوئے کہ سب کے سب مارے گئے اور ایک بد بخت مسلمان ہوگیا۔ اس سے کیا ظاہر ہوتاہے ؟……یہ کہ سلطان کو قتل کرنا آسان نہیں جتنا آپ لوگ سمجھتے ہیں ۔یہ بھی ہوسکتاہے کہ ایوبی قتل ہوجائے تو اس کا جانشین اس سے زیادہ سخت اور کٹر مسلمان ثابت ہو۔ اس لیے یہ طریقہ زیادہ بہتر ہے کہ اس کی فوجوں کو اس خوب صورت تباہی کے راستے پر ڈال دو ، جس پر صلیب کے پرستاروں نے بغداد اور دمشق کے مسلمان اُمراء اور حاکموں کو ڈال دیاہے ”۔

”صلیب کے پرستاروں اور سوڈا نیوں کو شکست کھائے ایک سال گزر گیاہے ”۔ ایک نے کہا……”اس ایک سال میں آپ نے کیاکیاہے؟……محترم !آپ بڑا لمبا راستہ اختیار کررہے ہیں ۔دو آدمیوں کا قتل بے حد لازمی ہے ۔ایک صلاح الدین ایوبی ، دوسرا علی بن سفیان ”۔

”اگر علی بن سفیان کو ختم کردیاجائے تو ایوبی اندھا اور بہرہ ہوجائے گا”۔ ایک اور نے کہا۔

”میں نے وہ آنکھیں حاصل کرلی ہیں جو سلطان ایوبی کے سینے کے ہر ایک راز کو دیکھ سکتی ہیں”۔ بوڑھے نے کہااور اس لڑکی کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا جو اس کے ساتھ آئی تھی ۔بوڑھے نے کہا……”یہ ہیں وہ آنکھیں ۔دیکھ لو اِن آنکھوں میں کیا جادو ہے ۔تم سب نے صلاح الدین ایوبی کے ایک حاکم خادم الدین البرق کانام سنا ہوگا۔تم میں سے بعض نے اسے دیکھا بھی ہوگا۔ صرف دو آدمی ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے سینے میں دیکھ سکتے ہیں ۔ایک علی ، دوسرا البرق ۔علی بن سفیان کو قتل کرنا حماقت ہوگیا، میں نے جس طرح البرق پر قبضہ کر لیاہے ،اسی طرح علی پر بھی کرلوں گا”۔

”البرق آپ کے قبضے میں آچکاہے ؟……ایک نے پوچھا ۔

”ہاں! ”بوڑھے نے لڑکی کے ریشمی بالوں کو ہاتھ سے چھیڑ کر کہا……”میں نے اسے اِن زنجیروں میں جکڑ لیاہے ۔ میں نے آج آپ سب کو چند اور باتیں بتانے کے علاوہ یہ خوش خبری بھی سنانے کے لیے بلایاہے ۔ہمیں جلدی برخاست ہوناہے ،کیونکہ ہم سب کا ایک جگہ اکٹھا ہونا ٹھیک نہیں ۔اس لڑکی کو تم سب شاید جانتے ہو۔ مجھے بالکل اُمید نہیں تھی کہ یہ اتنی اُستادی سے یہ ڈرامہ کھیل لے گی۔اس کی عمر دیکھئے ،پختہ نہیں ہے ۔ میںنے پورے ایک سال ایسے موقع کی تلاش میں مارا مارا پھر تارہا کہ علی بن سفیان یا البرق کو یادونوں کو پھانس سکوں ۔میں ان سے ملا کبھی نہیں ،کیونکہ میں ان کی شناخت میں نہیں آنا چاہتاتھا تھا۔ فوجی حکام کو سلطان شہریوں سے دور رکھتا تھا۔آخر اس نے فوجی میلے کا علان کیا اور مجھے پتہ چل گیا کہ اس نے اپنے فوجی کمان داروں ، سالاروں اور عہدے داروں سے کہاہے کہ میلے میں وہ شہریوں میں بیٹھیں اور ان سے باتیں کریں اور ان پر اپنا رعب نہیں ، بلکہ اعتماد پیدا کریں ۔ مجھے علی بن سفیان کہیں نظر نہیں آیا۔ اس لڑکی کو میں ساتھ لے گیا تھا، البرق نظر آگیا۔ اس کے ساتھ دوکرسیاں خالی تھیں ۔ میں نے لڑکی کو اس کے پاس بٹھادیا۔ اسے میں آٹھ مہینوں سے استادی طریقے سکھارہاتھا۔ مجھے اپنا بوڑھا خاوند اور اپنے آپ کو خرید ی ہوئی مظلوم لڑکی بتاکر اس نے البرق جیسے مومن کو اپنی خوب صورتی میں گرفتار کرلیا۔ ملاقات کا وقت اور جگہ طے کرلی ۔ میں نے اسے بتایا کہ اسے کھنڈر میں کیاناٹک کھیلناہے ۔لڑکی کھنڈر میں چلی گئی ۔میں چار آدمیوں کے ساتھ وہاں موجود تھا۔ دوآدمی اس وقت یہاں موجود ہیں ۔دوکو آپ سب نہیں جانتے ۔ وہ ہمارے گروہ کے آدمی ہیں۔اس نے البرق پر ثابت کردیا کہ یہ اس کی خاطر جان دے دے گی۔ ہمارے چاروں ساتھیوں نے البرق پر اور اس پر تلواروں سے حملے کیے ۔ اس نے برچھی کے وار کیے ۔یہ ناٹک اس قدر حقیقی معلوم ہوتاتھا کہ البرق کو شک تک نہ ہوا۔ کم بخت کے دماغ میں یہ بھی نہ آئی کہ تلواروں کے اور برچھی کے اتنے وار ہوئے ، مگر کوئی زخمی تک نہ ہوا۔میں نے یہ کہہ کر یہ کھیل ختم کیا کہ یہ لڑکی اتنی بہادر ہے کہ کسی بہادر کے پاس ہی اچھی لگتی ہے ۔ میں نے اسے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے البرق کے حوالے کردیا”۔

”میں نے اسے اپنا نام آصفہ بتارکھاہے ”۔ لڑکی نے کہا……”میں حیران ہوں کہ اتنی پختہ عمر کا حاکم اتنی آسانی سے میرے جال میں پھنس گیاہے ۔میں نے اسے شراب کا عادی بنادیاہے ۔اس نے کبھی نہیں پی تھی ۔ پہلی بیوی اسی گھر میں رہتی ہے ۔ا سکے بچے بھی ہیں ، لیکن وہ سب کو جیسے بھول گیاہے ”……لڑکی نے محفل کو تفصیل سے بتایا کہ اس نے کیسے کیسے طریقوں سے سلطان ایوبی کے اس معتمد خاص کی عقل کو اپنی مٹھی میں لے رکھا ہے ۔

”ان تین مہینوں میں یہ لڑکی مجھے صلاح الدین ایوبی کے کئی قیمتی راز دے چکی ہے ”۔بوڑھے نے کہا…… ”سلطان ایوبی بہت زیادہ فوج تیار کررہاہے ۔ اس میں سے وہ آدھی مصر میں رکھے گا اور باقی نصف کو اپنی کمان میں عیسائی باد شاہوں کے خلاف لڑانے کے لیے جائے گا۔ اس کی نظر یروشلم پر ہے ، لیکن البرق سے اس لڑکی نے جو راز لیے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ سلطان سب سے پہلے اپنے مسلمان حکمرانوں اور قلعہ داروں کو متحد کرے گا ۔ ان کے اتحاد کو صلیب کے پرستاروں نے بالکل اسی طرح بکھیر دیاہے جس طریقے سے ہم نے البرق کو اپنے قبضے میں لیاہے ”۔

”تو کیا ہم یہ سمجھیں کہ البرق اب ہمارے گروہ کافرد ہے؟”……ایک آدمی نے پوچھا۔

”نہیں ”۔بوڑھے نے جواب دیا۔ ”وہ سچے دِل سے ایوبی کا وفادار ہے ۔ وہ اتناہی وفادار اس لڑکی کا بھی ہے۔یہ لڑکی سلطان ، قوم اور اسلام کی وفاداری کا اظہار ایسے والہانہ طریقے سے کرتی ہے کہ البرق اسے ، قوم کی جانباز بیٹی سمجھتا ہے ۔ا س لڑکی کے حسن و جوانی اور محبت کے عملی اظہار کا جادو الگ ہے ۔ البرق کو ہم اپنے ساتھ نہیں ملاسکتے ۔ ضرورت ہی کیا ہے ۔وہ پوری طرح ہمارے ہاتھوں میں کھیل رہاہے ”۔

”سلطان ایوبی اور کیا کرنا چاہتاہے؟”۔اس گروہ کے ایک رُکن نے پوچھا۔

”اس کے ذہن میںسلطنتِ اسلامیہ ہے ”۔ بوڑھے نے کہا۔”وہ صلیب کی سلطنت میں اسلام کا جھنڈا گاڑنے کا منصوبہ بناچکاہے ۔ہمارے ان جاسوسوں کو جو سمند رپار سے آئے ہیں ،ایوبی نے گرفتار اور بے کار کرنے کے لیے علی بن سفیان کی نگرانی میں ایک بہت بڑا گروہ تیار کیاہے۔ البرق سے حاصل کی ہوئی اطلاعات کے مطابق اس نے جانبازوں کی ایک الگ فوج تیار کی ہے ، جسے وہ صلیبی ملکوں میں بھیج کر جاسوسی اور تباہی کرائے گا۔ اس فوج کی ٹریننگ شروع ہوچکی ہے ۔صلاح الدین ایوبی کے منصوبے بہت خطرناک ہیں ۔ انہی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اس نے فوجی میلے کا ڈھونگ رچایا اور چھ سات ہزار جوان بھرتی کر لیے ہیں ۔لوگ ابھی تک بھرتی ہورہے ہیں ۔بھرتی ہونے والوں میں سوڈانی بھی ہیں ۔مجھے اوپر سے جو ہدایات ملی ہیں ،وہ یہ ہیں کہ ایوبی کی فوج میں بدکاری کے بیج بونے ہیں ۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں عورت اور جواء داخل کردو”۔

بوڑھے نے بتایا کہ اس نے فوجی میلے کے فوراً بعد اپنے آدمی بھرتی کرادئیے تھے ۔انہوں نے بڑی خوبی سے فوج میں جواء شروع کرادیاہے ۔جواء اور عورت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو چوری اور قتل تک لے جاتی ہیں ۔اس نے دوسرا طریقہ یہ بتایا کہ عصمت فروش عورتوں کو ٹریننگ دے کر فوجی کیمپوں کے ارد گرد چھوڑدیاگیاہے ، جو یہ ظاہرنہیں ہونے دیتیں کہ وہ پیشہ ور ہیں ۔انہوں نے سلطان کے فوجیوں کو بدی کے راستے پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ ان میں رقابت بھی پیدا کردی ہے ۔بوڑھے نے کہا……”اس کی کامیابی پر سوں سامنے آئی ہے۔دوسپاہی ایک عورت کے خیمے میں بیک وقت پہنچ گئے ۔دونوں لڑپڑے اور ایک دوسرے کو بُری طرح زخمی کردیا۔ایک تو خیمے میں ہی مرگیا۔ دوسرے کے متعلق پتہ چلا کہ کیمپ میں جاکر مرگیاہے ……یہ رپورٹ سلطان ایوبی تک پہنچ گئی ہے۔ اس نے علی بن سفیان اور البرق کو حکم دیاہے کہ فوجوں میں اپنے سراغ رساں بھیج کر معلوم کریں کہ جواء بازی ، چوری چکاری اور بدکاری کیوں بڑھتی جارہی ہے۔لہٰذا آپ سب ان تمام عورتوں سے جو اسی کام میں مصروف ہیں ،کہہ دیں کہ کیمپوں کے قریب نہ جائیں ”۔

اسی مجلس میں یہ بھی بتایا گیا کہ آصفہ جس کا اصلی نام کچھ اور تھا، پانچویں ، چھٹی رات اس بوڑھے کو اطلاعیں دینے جاتی ہے جو وہ البرق سے حاصل کرتی ہے ، جس رات اُسے باہر نکلنا ہوتاہے ،وہ البرق کو شراب میں ایک خاص سفوف گھول کر پلادیتی ہے۔ا سکے اثر سے صبح تک اس کی آنکھ نہیں کھل سکتی ۔ مجلس میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ مصرکے شہریوں اور قصبوں میں خفیہ قحبہ خانے اور قمار خانے قائم کردئیے گئے ہیں ۔ان کے اثرات اُمید افزا ہیں ۔تربیت یافتہ عورتیں اچھے اچھے گھرانوں کے نوجوانوں کو بدکاری کے راستے پر ڈالتی جارہی ہیں ۔اب کوشش یہ کی جائے گی کہ مسلمان لڑکیون میں بھی بے حیائی کا رجحان پیدا کیا جائے۔

یہ محفل جو جاسوسوں کا ایک خفیہ اجلاس تھا، برخاست ہوئی ۔ وہ سب اکٹھے باہر نہ نکلے ۔ایک آدمی باہر جاتاتھا۔ دس پندرہ منٹ بعد دوسرا آدمی نکلتاتھا۔ بوڑھا بھی چلاگیاتھا۔ صرف آصفہ اور ایک آدمی رہ گیا ۔آصفہ نے نقاب میں چہرہ چھپایا اور اس آدمی کے ساتھ نکل گئی ۔
البرق نے آصفہ کو ایک راز بناکے رکھا ہواتھا۔ اس نے ابھی کسی کونہیں بتایا تھا کہ اس نے دوسری شادی کرلی ہے ۔دوسری شادی معیوب نہیں تھی ،لیکن وہ ڈرتاتھا کہ دوست مذاق کریں گے کہ اتنا عرصہ ایک بیوی کے ساتھ گزار کر چالیس سال کی عمر میں نوجوان لڑکی کے ساتھ شادی کرلی ،مگر یہ بھید چھپ نہ سکا۔ علی بن سفیان نے شہر میں اور فوجی کیمپوں کے ارد گرد اپنے جاسوس پھیلارکھے تھے ۔اسے یہ اطلاعیں مل رہی تھی کہ فوجی میلے کے بعد شہر میں بھی جواء اور بدکاری بڑھ رہی ہے۔ ایک روز ایک سراغ رساں نے علی بن سفیان کو یہ رپورٹ دی کہ گزشتہ تین مہینوں میں اس نے چار بار دیکھا ہے کہ خادم الدین البرق کے گھر سے رات اُس وقت جب سب سوجاتے ہیں ،ایک عورت سیاہ لبادے میں لپٹی ہوئی نکلتی ہے۔وہ تھوڑی دور جاتی ہے تو ایک آدمی اس کے ساتھ ہوجاتاہے ۔سراغ رساں نے بتایا کہ دوبار اس نے یہیں تک دیکھا، تیسری بار اس نے اس عورت کا پیچھا کیا، وہ اس آدمی کے ساتھ ایک مکان میں چلی گئی ۔وہاں سے کچھ دیر بعد نکلی اور اُس آدمی کے ساتھ واپس چلی گئی۔

اس سراغ رساں نے بتایا کہ اس نے اس عورت کو گزشتہ رات گھر سے نکلتے ،ایک آدمی کے ساتھ جاتے دیکھا تو تعاقب کیا۔وہ اسی مکان میں داخل ہوگئی ۔ذراسی دیر بعد وہ ایک آدمی کے ساتھ مکان سے نکلی ۔وہ دونوں شہر کے ایک بہت بڑے مکان میں داخل ہوگئے ۔سراغ رساں مکان سے دُور دُور رہا۔بہت ساوقت گزرجان کے بعد اس مکان سے ایک ایک کرکے گیارہ آدمی نکلے ۔ آخر میں ہ عورت ایک آدمی کے ساتھ نکلی ۔سراغ رساں اندھیرے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ان کے تعاقب میں گیا۔ البرق کے مکان سے کچھ دُور آدمی ایک اور طرف چلا گیااور عورت البرق کے مکان میں داخل ہوگئی۔

سراغ رساں البرق جیسے حاکم کے گھر کے متعلق کوئی بات کہنے کی جرأت نہیں کرسکتاتھا، لیکن علی بن سفیان کی ہدایات اور احکام بڑے ہی سخت تھے۔ اس نے اپنے جاسوسوں ، مخبروں اور سراغ رسانوں سے کہہ رکھاتھا کہ وہ سلطان ایوبی کی کسی حرکت کو شک سے دیکھیں تو بھی اسے بتائیں اور وہ کسی کے رتبے کا لحاظ نہ کریں ،جہاں انہیں کسی قسم کا شک ہو،خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو،وہ علی بن سفیان کو تفصیل سے بتائیں ۔یہ سبق جاسوسی کی ٹریننگ میں شامل تھا کہ جاسوسی کی کامیابی کا دارومدار ایسی ہی حرکتوں اور با توں سے ہوتاہے ،جنہیں بے معنی سمجھ کر نظر انداز کردیاجاتاہے۔

اس سراغ رساں نے چار مرتبہ جو مشاہدہ کیاتھا، وہ علی بن سفیان کے لیے اہم تھا، وہ البرق کی بیوی ک اچھی طرح جانتاتھا، وہ ایسی عورت نہیں تھی کہ راتوں کو کسی غیر مرد کے ساتھ باہر جائے ۔البرق کی کوئی جوان بیٹی بھی نہیں تھی۔ یہ تو کسی کو بھی علم نہ تھا کہ البرق نے ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ شاد کر لی ہے ۔اس نے اس مسئلے پر بہت غور کیا، اُسے یہ خیال بھی آگیا کہ البرق اس کا دوست بھی ہے ۔اُسے حق پہنچتا تھاکہ اس کے دوست کے گھر میں کوئی گڑبڑہے اس کے لیے کچھ کرے ،مگر اس کے ذہن میں جوسوچ غالب تھی ،وہ یہ تھی کہ شہر میں مشکوک عورتوں کا ریلا سا آگیاتھا۔ کہیں ایسا تونہیں کہ البرق کسی بدکار عورت کے چکر میں میں آگیاہو؟ایک طریقہ اس کے دماغ میں آگیا۔ اس نے اپنے محکمے کی ایک عورت کو اس روپ میں البرق کے گھر میں بھیجا کہ وہ ایک مظلوم عورت ہے ۔ا س کا خاوند مرگیاہے اور اس کے بیٹے آوارہ ہوگئے ہیں ، لہٰذا اس کی اعانت کی جائے ۔

ہدایت کے مطابق یہ عورت اُس وقت البرق کے گھر میں گئی جب وہ گھر میں نہیں تھا۔ دوسری ہدایت کے مطابق و ہ سارے گھر میں پھری تو اُسے آصفہ نظر آگئی۔ یہ عورت البرق کی پہلی بیوی سے ملی ۔اپنی ”فریاد” پیش کی اور کہا کہ وہ ) البرق کی پہلی بیوی( البرق سے اس کی سفارش کرے ۔باتوں باتوں میں اس نے کہا ……”آپ کی بیٹی کی شادی ہوگئی ہے یا ابھی کنواری ہے؟” ……اسے جواب ملا ……”یہ میری بیٹی نہیں ، میرے خاوند کی دوسری بیوی ہے ۔تین مہینے ہوئے انہوں نے شادی کی ہے”۔

علی بن سفیان کے لیے یہ اطلاع حیران کن تھی۔اس کے دل میں یہی شک پیدا ہوگیا کہ رات کو باہر جانے والی اس کی نئی بیوی ہوسکتی ہے ۔علی نے ایک اور عورت کے ہاتھ البرق کی پہلی بیوی کو پیغام بھیجاکہ وہ اُسے کہیں باہر ملنا چاہتا ہے ، مگر البرق کو پتہ نہ چلے ، اس نے یہ بھی کہلا بھیجا کہ ان کے گھر کے متعلق کوئی بہت ہی ضروری بات کرنی ہے۔ علی نے ملاقات کے لیے ایک جگہ بھی بتادی اور وقت وہ بتا دیا جب البر ق دفتر میں مصروف ہوتاتھا…… وہ آگئی ۔علی بن سفیان کے دل میں اس معزز عورت کا بہت ہی احترام تھا ۔اس نے البرق کی بیوی سے کہا کہ اسے معلوم ہوا ہے کہ البرق نے دوسری شادی کرلی ہے ۔بیوی نے جواب دیا……”خدا کا شکر ہے کہ اس نے دوسری شادی کی ہے ۔چوتھی اور پانچویں نہیں کی”۔

باتیں کرتے کرتے علی بن سفیان نے پوچھا ۔”وہ کیسی ہے؟”

”بہت خوب صورت ہے ”۔بیوی نے جوا ب دیا۔

”شریف بھی ہے ؟”…… علی بن سفیان نے پوچھا ……”آپ کو اس پر کسی قسم کا شک تو نہیں؟…… کچھ دیر تک وہ گہری سوچ میں پڑی رہی ۔علی نے کہا……”اگر میں یہ کہوں کہ وہ کبھی کبھی رات کو باہر چلی جاتی ہے تو آپ بُرا تو نہ جانیں گی ؟”

وہ مُسکرائی اور کہنے لگی……”میں خود پریشان تھی کہ یہ بات کس سے کروں ۔ میرے خاوند کا یہ حال ہے کہ اس کا غلام ہوگیاہے ۔ مجھ سے تو اب بات بھی نہیں کرتا۔ میں اس لڑکی کے خلاف خاوند کے ساتھ بات کروں تو وہ مجھے گھر سے نکال دے ۔وہ سمجھے گا کہ میں حسد سے شکایت کررہی ہوں ۔یہ لڑکی صاف نہیں ۔ ہمارے گھر میں شراب کی بو بھی کبھی نہیں آئی تھی ۔ اب وہاں مٹکے خالی ہوتے ہیں ”۔

”شراب ؟” علی بن سفیان نے چونک کر پوچھا……”البرق شراب بھی پینے لگاہے ؟”

”صرف پیتا نہیں ”۔بیوی نے کہا ……”بد مست اور مدہوش ہوجاتا ہے۔میں نے چھ بار اس لڑکی کو رات کے وقت باہر جاتے اور بہت دیر بعد آتے دیکھا ہے ۔میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جس رات لڑکی کو باہر جاناہوتا ہے ،ا س رات البرق بے ہوش ہوتاہے ۔صبح بہت دیر سے اُٹھتا ہے ۔ لڑکی بدمعاش ہے ۔اسے دھوکہ دے رہی ہے”۔

”لڑکی بدمعاش نہیں”۔ علی بن سفیان نے کہا…”وہ جاسوس ہے۔و ہ البرق کو نہیں ، قوم کو دھوکہ دے رہی ہے”۔

”جاسوس ؟” بیوی نے چونک کر کہا……”میرے گھر میں جاسوس ؟” وہ اُٹھ کھڑی ہوئی ۔دانت پیس کر بولی……”آپ جانتے ہیں کہ میں شہید کی بیٹی ہوں ۔البرق پکا مسلمان تھا ۔ اس نے زندگی اسلام کے نام پر وقف کررکھی تھی۔میں بچوں کو جہاد کے لیے تیار کرہی ہوں اور آپ کہتے ہیں کہ میرے بچوں کا باپ ایک جاسوس لڑکی کے قبضے میں آگیا ہے۔ میں اپنے بچوں کے باپ کو قربان کرسکتی ہوں ، قوم اور اسلام کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔ میں دونوں کو قتل کردوں گی”۔

علی بن سفیان نے اسے بڑی مشکل سے ٹھنڈا کیا اور اسے سمجھا یا کہ ابھی یہ یقین کرنا ہے کہ یہ لڑکی جاسوس ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ البرق بھی جاسوسوں کے گروہ میں شامل ہوگیاہے یا اسے شراب پلا کر صرف استعمال کیاجارہاہے ۔ اس عورت کو یہ بھی بتایا گیا کہ جاسوسوں کو قتل نہیں ، گرفتار کیا جاتاہے اور ان کے دوسرے ساتھیوں کے متعلق پوچھا جاتاہے ۔ علی بن سفیان نے اسے کچھ ہدایات دیں اور اُسے کہا کہ وہ لڑکی کی ہر حرکت پر نظر رکھے ……یہ عورت چلی گئی ۔یوں معلوم ہوتاتھا جیسے علی بن سفیان کی ہدایات پر ٹھنڈے دل سے عمل کرے گی ، مگر اس کی چال اور اسکے انداز سے یہ بھی معلوم ہوتاتھا کہ کسی بھی وقت بے قابوہوجائے گی ۔ وہ حرم کی عورت نہیں تھی، وہ خاوند کی وفادار بیوی اور ملک و ملت پر جان نثار کرنیوالی قوم کی بیٹی تھی۔

٭ ٭ ٭

خادم الدین البرق اور علی بن سفیان صرف رفیق کار ہی نہیں تھے۔ ان کی گہری دوستی بھی تھی۔وہ ہم عمر تھے ۔ انہوں نے اکٹھے معرکے لڑے تھے۔ دونوں سلطان ایوبی کے پرانے ساتھی تھے ۔ اتنی گہری دوستی کے باوجود البرق نے علی بن سفیان سے دوسری شادی چھپا رکھی تھی ۔علی کو معلوم ہواتو اس نے البرق کے ساتھ اس ضمن میں کوئی بات نہیں کی۔ وہ اس کی بیوی کی وساطت سے اس کے گھر کا معمہ حل کرنے کی کوششوں میں لگا ہواتھا۔ اس نے البر ق کے مکان اور اُس مکان کے درمیان اپنے جاسوسوں میں اضافہ کردیا تھا، جہاں البرق کی نئی بیوی رات کو جایا کرتی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی کے ساتھ باتیں کیے دو راتیںگزر گئی تھیں ۔ لڑکی باہر نہیں نکلی تھی۔ جاسوس پوری پوری رات بیدار رہے تھے۔

تیسری رات، نصف شب سے ذرا پہلے علی بن سفیان گہری نیند سویا ہوا تھا۔ اس نے اپنے عملے اور اپنے ملازموں سے کہہ رکھا تھا کہ وہ جب چاہیں اسے جگا سکتے ہیں۔وہ ان حاکموں سے مختلف تھا جو کسی کو آرام میں مخل ہونے کی اجازت نہیں دیتے تھے ۔اُس رات علی کو ملازم نے گہری نیند سے بیدار کیا اور کہا……”عمرآیا ہے،گھبرایا ہواہے”۔

علی بن سفیان کمان سے نکلے ہوئے تیر کی طرح کمرے سے نکلا ،صحن دوتین چھلانگوں میں عبور کیا اور ڈیوڑھی سے باہر نکل گیا۔ اس کے عملے کا ایک آدمی باہر کھڑا تھا۔اس نے کہا …… ”ملا زم کو دوڑائیں ۔دس بارہ سوار فوراً منگوائیں۔ اپنا گھوڑا جلدی تیار کریں،پھر آپ کو بتاتا ہوں کہ کیا ہواہے”۔

علی بن سفیان نے ملاز کو چودہ مسلح سوار اور اپنا گھوڑا اور تلوار لانے کو دوڑا یا اور عمر سے پوچھا…”کہو کیا بات ہے”۔

عمر اور آذر نام کے دوجاسوس آصفہ کو دیکھنے کے لیے متعین تھے۔ علی بن سفیان نے انہیں حکم دے رکھا تھا کہ لڑکی گھر سے نکل کر کہیں جائے تو اسے فوراً اطلاع دی جائے ۔ عمر بڑی خطرناک اطلاع لے کر آیا۔ اس نے بتایا کہ تھوڑی دیر گزری ، البرق کے گھر سے سیاہ چادر میں سر سے پائوں تک لپٹی ہوئی ایک عورت نکلی ۔پچاس ساٹھ گز آگے گئی تو البرق کے گھر سے اسی لباس میں ایک اور عورت نکلی ۔وہ بہت تیز تیز اگلی عورت کے پیچھے چلی گئی۔جب اُس سے ذرا دُور رہ گئی تو اگلی عورت رُک گئی۔ دونوں جاسوس چھپے ہوئے تھے۔ انہیں کوئی دیکھ نہ سکا۔ وہ تعاقب بھی چھپ کر کرتے تھے دونوں عورتوں میں نہ جانے کیا بات ہوئی۔ ان میں سے ایک نے تالی بجائی، کہیں قریب سے ایک آدمی نکلا ۔اس نے بعد میں آنے والی عورت کو پکڑنا چاہا۔ عورت نے اس پر کسی ہتھیار کا وار کیا جو اندھیرے میں نظر نہیں آتا تھا۔ا س آدمی نے بھی اس پر کسی ہتھیار سے وار کیا۔

جو عورت پہلے آئی تھی، اس کی آواز سنائی دی……”اِسے اُٹھا کر لے چلو”……دوسری عورت نے اس پر وار کیا۔ اس کی چیخ سنائی دی۔ دوسری عورت نے اس پر ایک اور وار کیا اور آدمی کا وار بچایا بھی ۔ دونوں عورتیں زخمی ہوگئیں تھیں ۔عمر علی بن سفیان کو اطلاع دینے دوڑ پڑا۔آذر وہیں چھپا رہا۔اُسے یہ دیکھنا تھا کہ یہ لوگ کہاں جاتے ہیں۔

علی بن سفیان نے اس قسم کے ہنگامی حالات کے لیے تیز رفتار اور تجربہ کار لڑا کا سواروں کا ایک دستہ تیار رکھا ہوا تھا۔ یہ سوار اپنے گھوڑوں کے قریب سوتے تھے ۔ زینیں اور ہتھیار اُن کے پاس رہتے تھے ۔ انہیں یہ مشق کرائی جاتی تھی کہ رات کے وقت ضرورت پڑنے پر وہ چند منٹوں میں تیار ہوکر ضرورت کی جگہ پہنچیں ۔وہ اس قدر تیز ہوگئے تھے کہ علی بن سفیان کے ملازم نے دستے کے کمان دار کو اطلاع دی کہ چودہ سوار بھیج دو تو وہ علی بن سفیان کے کپڑے بدلنے اور اس کا گھوڑا تیار ہونے تک پہنچ گئے ۔

علی بن سفیان کی قیادت اور عمر کی راہنمائی میں وہ واردات کی جگہ پہنچے ۔دوسواروں کے ہاتھوں میں ڈنڈوں کے ساتھ تیل میں بھیگے ہوئے کپڑوں کی مشعلیں تھی، وہاں دو لاشیں پڑی تھیں ۔علی بن سفیان نے گھوڑے سے اُتر کر دیکھا، ایک البرق کی پہلی بیوی تھی ،دوسرآ ذر تھا، عمر کا ساتھی۔دونوں زندہ تھے اور خون میں ڈوبے ہوئے تھے ۔آذر نے بتایا کہ وہ البرق کی بیوی کو پھینک کر چلے گئے تو وہ اس کے پاس گیا۔ اچانک پیچھے سے کسی نے اُس پر خنجر کے تین وار کیے۔ وہ سنبھل نہ سکا،حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر نے بتایا کہ دوسری عورت البرق کے گھر کی طرف نہیں گئی، بلکہ اُدھر گئی ہے، جہاں وہ پہلے جایا کرتی تھی ۔عمر کو اس گھر کا علم تھا۔

علی بن سفیان نے دو سواروں سے کہا کہ وہ دونوں زخمیوں کو فوراً جراح کے پاس لے جائیں اور ان کا خون روکنے کی کوشش کریں ۔ باقی سواروں کو وہ عمر کی راہنمائی میں اُس مکان کی طرف لے گیا ،جہاں آصفہ پہلے کئی بار جاتے دیکھی گئی تھی ۔ وہ پرانے زمانے کا بڑا مکان تھا۔ اس سے ملحق کئی اور مکان تھے۔ پچھواڑے سے گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز آئی ۔علی نے اپنے سواروں کو مکان کے دونوں طرف سے پیچھے بھیجا۔دوسواروں کو مکان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا کہ کوئی بھی اندر سے نکلے تو اسے پکڑ لو، بھاگنے کی کوشش کرے تو پیچھے سے تیر مارو اور ختم کردو۔

سوار ابھی چکر کاٹ کر پچھواڑے کی طرف جاہی رہے تھے کہ دوڑتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دینے لگے۔ علی بن سفیان نے ایک سوار سے کہا…”سر پٹ جائو، اپنے کمان دار سے کہو کہ اس مکان کو گھیرے میں لے کر اندر داخل ہو جائیں ، اندر کے تمام افراد کو گرفتار کرلے”… سوار کیمپ کی طرف روانہ ہوگیا۔علی بن سفیان نے بلند آواز سے اپنے جاسوسوں کو حکم دیا…”ایڑ لگائو، تعاقب کرو۔ ایک دوسرے کو نظر میں رکھو”۔…اور اس نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ۔یہ رسالے کے چنے ہوئے گھوڑے تھے اور ان کے سوار سلطان ایوبی سے کئی بار خراجِ تحسین حاصل کرچکے تھے ۔مفرور بھی شاہ سوار معلوم ہوتے تھے ۔اُن کے گھوڑوں کے ٹاپو بتاتے تھے کہ اچھی نسل کے بہت تیز دوڑنے والے گھوڑے ہیں۔یہ شہر کا علاقہ تھا، جہاں مکان کی رکاوٹیں تھیں ۔گلیاں تھیں ،جو گھوڑوں کی دوڑ کے لیے کشادہ نہیں تھیں ،اِن سے آگے کھلا میدان تھا۔

اندھیرے میں گھوڑے نظر نہیں آتے تھے ۔ اُن کی آوازوں پر تعاقب ہورہاتھا۔ وہ جب کھلے میدان میں گئے تو اُن کا چھپنا مشکل ہوگیا ۔اُفق کے پس منظر میں وہ سایوں کی طرح صاف نظر آنے لگے۔وہ چار تھے۔ انہوں نے کم و بیش ایک سو گز کا فاصلہ حاصل کرلیاتھا۔ وہ پہلو بہ پہلو جارہے تھے ۔علی بن سفیان کے حکم پر دوسواروں نے اسی رفتار سے گھوڑے دوڑآتے ہوئے تیر چلائے ۔تیر شاید خطا گئے تھے ، بھاگنے والے دانش مند معلوم ہوتے تھے ۔تیر ان کے قریب سے یا درمیان سے گر ے تو انہوں نے گھوڑے پھیلادئیے۔وہ اکٹھے جارہے تھے ۔ان کے گھوڑے کھلنے لگے۔ نہایت اچھے طریقے سے گھوڑے ایک دوسرے سے خاصے دور ہٹ گئے ۔ علی بن سفیان کا دستہ بہت تیز تھا، فاصلہ کم ہوتا جارہاتھا،مگر بھاگنے والوں کے گھوڑے اور زیادہ ایک دوسرے سے ہٹتے جارہے تھے۔ آگے کھجور کے پیڑو ں کا جھنڈ آگیا۔اُن کے گھوڑے وہاں اس طرح ایک دوسرے سے دورہٹ گئے کہ دو دائیں طرف اور دو کھجوروں کے بائیں طرف ہوگئے ۔یہ جگہ اونچی تھی، گھوڑے اوپر اُٹھے اور غائب ہوگئے ۔

تعاقب کرنے والے بلند ی پر گئے تو انہیں آگے جو بھاگتے سائے نظر آئے ،وہ ایک دوسرے سے بہت ہی دُور ہوگئے تھے ۔پھر وہ اتنی دور دور ہوگئے کہ ان کے رُخ ہی بدل گئے ۔علی بن سفیان جان گیا کہ وہ اس کے سواروں کو منتشر کرنا چاہتے ہیں ۔ علی نے بلند آواز سے کہا…”ہر سوار کے پیچھے تقسیم ہوجائو۔ ایک دوسرے کو بتادو۔ ایڑ لگائو، فاصلہ کم کرو، کمانوں میں تیر ڈال لو”۔

سوار تقسیم ہوگئے ۔سب نے کندھوں سے کمانیں اُتار کر تیر ڈال لیے اور تقسیم ہوکر ایک ایک گھوڑے کے پیچھے گئے ۔ ان کے گھوڑوں کی رفتار اور تیز ہوگئی ۔ٹاپوئوں کے شور و غل میں کمانوں سے تیر نکلنے کی آوازیں سنائی دیں ۔ کسی نے للکار کر کہا……”ایک کو مارلیا، گھوڑا بے قابو ہوگیاہے ”……ادھر علی بن سفیان کے ساتھ جو دوسوار تھے ،انہوں نے بیک وقت تیر چلائے ۔ اندھیرے میں تیر خطاجانے کاڈر تھا اور تیر خطا جابھی رہے تھے ۔ پھر بھی انہوں نے ایک اور گھوڑے کو نشانہ بنالیا۔ یہ گھوڑا بے قابو ہوکر اور گھوم کر پیچھے کو آیا ۔ ایک سوار نے اس کی گردن میں برچھی ماری ۔ دوسرے نے اپنے گھوڑے سے جھک کر اس کے پیٹ میں برچھی داخل کردی ،مگر گھوڑا توانا تھا، گرانہیں۔سوار زندہ پکڑ ناتھا۔ علی کے ایک سوار نے بازو بڑھا کر ایک سوار کی گردن جکڑ لی نیچے گھوڑا زخمی تھا۔ وہ رُکتے رُکتے رک گیا۔ اس پر ایک آدمی سوار تھااور ایک لڑکی جسے سوار نے آگے بٹھا رکھا تھا۔ لڑکی شاید بے ہوش تھی۔

صحرا کی تاریک رات میں اب کسی سر پٹ دوڑ تے گھوڑے کے ٹاپو نہیں سنائی دیتے تھے ۔سواروں کی آوازیں اور دُلکی چلتے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دیتے تھے۔ سوار ایک دوسرے کو پکار رہے تھے ۔ان کی آوازوں سے پتہ چلتاتھا کہ انہوں نے بھاگنے والوں کو پکڑ لیاہے۔ علی بن سفیان نے سب کو اکٹھا کرلیا۔ بھاگنے والے پکڑے گئے تھے۔ ان کے دوگھوڑے زخمی تھے۔ ان گھوڑوں کو مرنے کے لیے صحرامیں چھوڑدیاگیا۔ بھاگنے والے پانچ تھے۔ چار آدمی اور ایک لڑکی۔ لڑکی گر پڑی تھی ۔ بھاگنے والوں میں سے ایک نے کہا……”ہمارے ساتھ تم لوگ جو سلوک کرنا چاہوکر لو ، مگر یہ لڑکی زخمی ہے۔ہم اُمید رکھیں گے کہ تم اسے پریشان نہیں کروگے”َ

ایک گھوڑے کی زین کے ساتھ مشعل بندھی ہوئی تھی ۔کھول کر جلائی گئی ۔لڑکی کو دیکھا گیا۔ بہت ہی خوب صورت اور نوجوان لڑکی تھی ۔اس کے کپڑے خون سے سرخ ہوگئے تھے۔ اس کے کندھے پر، گردن کے قریب ،خنجر کا گہرا زخم تھا۔ اس سے اتناخون نکل گیا تھا کہ لڑکی کا چہرہ لاش کی طرح سفید اور آنکھیں بند ہوگئی تھیں۔ علی بن سفیان نے زخم میں ایک کپڑا ٹھونس کر اوپر ایک اور کپڑا باندھ دیا اور اُسے ایک گھوڑے پر ڈال کر سوار سے کہا کہ جلدی جرّاح تک پہنچے ۔ وہاں جلدی کا تو سوال ہی نہیں تھا،وہ شہر سے میلوں دُور نکل گئے تھے ۔قیدیوں میں ایک بوڑھا تھا۔

یہ قافلہ جب قاہرہ پہنچا تو صبح طلوع ہورہی تھی ۔ سلطان کو رات کے واقعہ کی اطلاع مل گئی تھی ۔علی بن سفیان ہسپتال گیا ۔جراح اور طبیب قیدی لڑکی کی مرہم پٹی میں اور ہوش میں لانے میں مصروف تھے ۔سوار نے اسے تھوڑی دیر پہلے پہنچا دیاتھا۔ البرق کی پہلی بیوی اور آذر ہوش میں آگئے تھے،مگر اُن کی حالت تسلی بخش نہیں تھی۔سلطان ایوبی ہسپتال میں موجود تھا۔ اس نے علی بن سفیان کو الگ کرکے کہا۔”میں بہت دیر سے یہاں ہوں۔میں نے البرق کو بلانے کے لیے دو آدمی بھیجے تو اس نے عجیب بات بتائی ہے۔وہ کہتاہے کہ البرق ہوش میں نہیں ۔اس کے کمرے میں شراب کے پیالے اور صراحی پڑی ہے ۔کیا وہ شراب بھی پینے لگاہے؟اُسے اتنا بھی ہوش نہیں کہ اس کی بیوی گھر سے باہر زخمی پڑی ہے۔میں نے اس کی بیوی سے ابھی کوئی بات نہیں کی ۔طبیب نے منع کردیاہے”۔

”اس کی ایک نہیں، دوبیویاں زخمی ہیں”……علی بن سفیان نے کہا ……”یہ لڑکی جسے ہم نے صحرا سے جا کر پکڑا ہے، البرق کی دوسری بیوی ہے۔ذرازخمیوں کو بولنے کے قابل ہونے دیں۔ہم نے بہت بڑا شکار ماراہے”۔

البرق سورج نکلنے کے بعد جاگا۔ ملازم کے بتانے پر وہ دوڑتا آیا۔اس کی دونوں بیویاں زخمی پڑی تھیں ۔ اسے چاروں جاسوس دکھائے گئے۔ وہ بوڑھے کو دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ اسے وہ آصفہ کا بوڑھا خاوند سمجھتارہاتھا۔ سلطان ایوبی نے یہ واردات اپنی تحویل میں لے لی، کیونکہ یہ جاسوسوں کے پورے گروہ کی واردات تھی اور اس میں اس کا معتمد ملوث تھا جسے فوج کے تمام راز اور آئندہ منصوبے معلوم تھے۔

جوں ہی زخمی بیان دینے کے قابل ہوئے ، ان سے بیان لیے گئے ۔ان سے یہ کہانی یوں بنی کہ البرق کی پہلی بیوی کو جب علی بن سفیان نے بتایا کہ اس کے خاوند کی دوسری بیوی مشتبہ چال چلن کی ہے اور وہ جاسوس معلوم ہوتی ہے تو وہ سخت غصے کے عالم میں گھر چلی گئی۔ وہ اپنے خاوند کو اور آصفہ کو قتل کردینا چاہتی تھی، لیکن علی بن سفیان نے اُسے کہاتھا کہ جاسوسوں کو زندہ پکڑا جاتاہے،تاکہ ان کے چھپے ہوئے ساتھیوں کا سراغ لیاجاسکے۔ اس نے اپنے آپ پر قابو پایا اور آصفہ پر گہری نظر رکھنے لگی۔ اس نے رات کا سونا بھی ترک کردیا تھا

موقع دیکھ کر اس نے ان کے سونے والے کمرے کے اس دروازے میں چھوٹا سا سوراخ کرلیا جو دوسرے کمرے میں کھلتاتھا۔ رات کو اس سوراخ میں سے انہیں دیکھتی رہتی تھی۔دو راتیں تو اس نے یہی دیکھا کہ لڑکی البرق کو شراب پلاتی تھی اور عریانی کا پورا مظاہرہ کرتی تھی ۔ وہ سلطان ایوبی کی باتیں ایسے انداز سے کرتی تھی جیسے وہ اس کا پیر اور مرشد ہو۔ صلیبیوں کو بُرا بھلا کہتی اور وہی باتیں کرتی جو سلطان ایوبی کے جنگی منصوبے میں شامل تھیں۔البرق اسے بتاتا تھا کہ سلطان کیا کررہاہے اور کیا سوچ رہاہے ۔

البرق کی پہلی بیوی نے دوراتیں یہی کچھ دیکھا اور سنا ۔تیسری رات وہ ناٹک کھیلاگیا جس کا البرق کی پہلی بیوی کو بے تابی سے انتظار تھا۔ آصفہ نے البرق کو شراب پلانی شروع کی اور اسے بالکل حیوان بنادیا۔ آصفہ دونوں پیالے اُٹھا کر اور یہ کہہ کر دوسرے کمرے میں چلی گئی…”دوسری لاتی ہوں”…وہ واپس آئی تو پیالوں میں شراب تھی۔اس نے ایک پیالہ البرق کودے دیا ۔ دوسرا خود منہ سے لگا لیا۔ اس کے بعد اس نے بے حد ننگی حرکتیں کیں اور البرق بے سدھ لیٹ گیا ۔ آصفہ نے کپڑے پہنے اور البرق کو آہستہ آہستہ بلایا۔ وہ نہ بولا، پھر اسے ہلایا۔ ہاتھ سے اس کے پپوٹے اوپر کیے،مگر ااس کی آنکھیں نہ کھلیں ۔اس نے پیالے دوسرے کمرے میں لے جا کر شراب میں بے ہوش کرنے والی کوئی چیز البرق کے پیالے میں ملادی تھی۔

آصفہ نے کپڑے پہنے ۔اوپر سیاہ چادر اس طرح لے لی کہ سر سے پائوں تک چھپ گئی ۔ آدھی رات ہونے کوتھی۔ اس نے قندیل بجھائی اور باہر نکل گئی۔پہلی بیوی آگ بگولہ ہوگئی۔ اس نے خنجر اُٹھایا۔ اوپر لباد اوڑھا، وہ کمرے سے نکلنے لگی تو دیکھا کہ آصفہ ایک ملازمہ کے ساتھ کُھسر پُھسر کررہی تھی۔ اس سے پتہ چلا کہ ملازمہ کو اس نے ساتھ ملارکھاتھا۔ آصفہ باہر نکل گئی ۔ملازمہ اپنے کمرے میں چلی گئی۔پہلی بیوی بڑے دروازے سے باہر نکل گئی ۔ وہ تیزتیز چلتی آصفہ کے تعاقب میں گئی۔وہ اس کے قدموں کی آہٹ پر جارہی تھی۔وہ صرف یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ وہ کہاں جارہی ہے۔آصفہ کو شاید اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دی تھی۔ وہ رُک گئی۔پہلی بیوی اندھیرے میں اچھی طرح دیکھ نہ سکی ۔وہ آصفہ کے قریب چلی گئی اور رُک گئی۔ اچانک آمنے سامنے آجانے سے پہلی بیوی فیصلہ نہ کر سکی کہ کیا کرے ۔ اس کے منہ سے نکل گیا…”کہاں جارہی ہوآصفہ؟

پہلی بیوی کو معلوم نہ تھا کہ لڑکی کی حفاظت کے لیے آدمی چھپ چھپ کر اس کے ساتھ جاتاہے جو کسی کو نظر نہیں آتا۔ آصفہ نے اپنے ہاتھ پر پاتھ مارا اور البرق کی پہلی بیوی سے ہنس کر کہا…” آپ میرے پیچھے آئی ہیں یا کہیں جارہی ہیں؟”…اتنے میں پیچھے سے کسی نے پہلی بیوی کو بازوئوں میں جکڑ لیا، مگر اس عورت نے گرفت مضبوط ہونے سے پہلے ہی جسم کو زور سے جھٹکادیا اور آزاد ہوگئی ۔اس نے تیزی سے خنجر نکال لیا۔ اس کے سامنے ایک آدمی تھا۔ عورت نے اس پر وار کیا جو وہ بچاگیا۔ آدمی نے ایسا وار کیا کہ خنجر عورت کے پہلو میں اُترگیا۔ اس آدمی نے دیکھ لیاتھا کہ عورت کے پاس خنجر ہے۔وہ فوراً پیچھے ہٹ گیا۔ پہلی بیوی نے آصفہ پر حملہ کیا اور خنجر اس کی گردن اور کندھے کے درمیان اُتاردیا۔لڑکی نے زور سے چیخ ماری۔ آدمی نے پہلی بیوی پر وار کیا جو یہ عورت پھرتی سے بچاگئی ۔ اس نے وار کیاتو اس آدمی نے اس کابازو اپنے بازو سے روک لیا ۔

آصفہ گرپڑی تھی ۔البرق کی پہلی بیوی کوبھی گہرا زخم آیاتھا جو پہلو سے پیٹ تک چلاگیا تھا۔ وہ ڈگمگانے لگی ۔وہ آدمی آصفہ کو اُٹھا کر کہیں چلا گیا۔ علی بن سفیان کے دوجاسوس عمر اور آذر چھپ کر دیکھ رہے تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ دوسری عورت کون ہے ۔عمر اس آدمی کے پیچھے چھپ چھپ کر گیا جو آصفہ کو اُٹھالے گیاتھا۔ وہ اسی مکان میں لے گیا جہاں وہ جایا کرتی تھی ۔وہاں سے عمر علی بن سفیان کو اطلاع دینے چلاگیا۔آذر نے بتایا کہ وہ وہیں چھپا رہا۔ زخمی عورت وہیں پڑی تھی وہاں اور کوئی نہ تھا۔ آذر اس عورت کے پاس جاکر بیٹھ گیاپیچھے سے کسی نے اس پر خنجر سے تین وار کیے اور حملہ آور بھاگ گیا۔ آذر وہیں بے ہوش ہوگیا۔

شام تک البرق کی پہلی بیوی آذر کی حالت بگڑ گئی ۔جراحوںاور طبیبوں نے بہت کوشش کی ،مگر وہ زندہ نہ رہ سکے۔ البرق کی بیوی نے علی بن سفیان سے کہاتھا کہ میں اپنے خاوند کو قربان کرسکتی ہوں اسلام اورقوم کی عزت کو قربان ہوتا نہیں دیکھ سکتی ۔اس نے قوم کے نام پر جان دے دی۔

سلطان ایوبی کے حکم سے خادم الدین البرق کو قید خانے میں ڈال دیاگیا ۔اس نے یقین دلانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اس نے یہ جرم دانستہ نہیں یا۔وہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں بے وقوف بن گیاتھا، مگر یہ ثابت ہوچکاتھا کہ اس نے حکومت اور فوج کے راز شراب اور حسین لڑکی نشے میں دشمن کے جاسوسوں تک پہنچائے ہیں ۔سلطان ایوبی قتل کا جرم بخش سکتاتھا ۔شراب خوری اور عیاشی کا اور دشمن کو راز دینے کے رائم نہیں بخشا کرتاتھا۔

آصفہ سے اس روز کوئی بیان نہ لیاگیا۔ اس پر زخم کا اتنا اثر نہیں تھا، جتنا خوف کا تھا۔وہ جاسوس لڑکی تھی ۔ سپاہی نہیں تھی ۔ا سے شہزادی کے کے روپ میں شہزادوں سے بھید لینے کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے سو٢چا بھی نہ تھا کہ اس کا یہ حشر بھی ہوسکتاہے ۔اس پر زیادہ خوف اس کا تھا کہ وہ مسلمانوں کی قیدی ہے اور مسلمان اسے بہت خراب کریں گے۔ ایک خطرہ یہ بھی اسے نظر آیاتھا کہ مسلمان اس کے زخم کا علاج نہیں کریں گے۔ا س نے اس خطرے کا اظہار ہر اُس آدمی سے کیا جو س کے قریب گیا۔ وہ ڈرے ہوئے بچے کی طرح روتی تھی ۔ علی بن سفیان نے اسے بہت تسلی دی کہ اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو کسی مسلمان زخمی عورت کے ساتھ کیاجاتاہے ، مگر وہ سلطان ایوبی سے ملنا چاہتی تھی ۔ آخر سلطان کو بتایا گیا۔

سلطان ایوبی اس کے پاس اور اس کے سر پر ساتھ رکھ کر کہا کہ اس حالت میں وہ اسے اپنی بیٹھی سمجھتا ہے ۔

”میں نے سناتھا کہ سلطان ایوبی تلوار کا نہیں ،دل کا بادشاہ ہے”……آصفہ نے روتے ہوئے کہا……”اتنا بڑا بادشاہ جسے شکست دینے کے لیے عیسائیوں کے سارے بادشاہ اکٹھے ہوگئے ہیں ۔ایک مجبور لڑکی کو دھوکا دیتے اچھا نہیں لگتا ……ان لوگوں سے کہو کہ مجھے فور اً زہر دے دیں۔ میں اس حالت میں کوئی اذیت برداشت نہیں کرسکوں گی”۔

”کہو تو میں ہروقت تمہارے پاس موجود رہوں گا”…… سلطان ایوبی نے کہا۔”میں تمہیں دھوکہ بھی نہیں دوں گا، اذیت بھی نہیں دوں گا، مگر وعدہ کرو کہ تم بھی مجھے دھوکہ نہیں دوگی، تم ذرا اور بہتر ہولو، طبیب نے کہاہے کہ تم ٹھیک ہو جائوگی۔ اگر تمہیں اذیت دینی ہوتی تو میں اسی حالت میں قید خانے میں ڈال دیتا ۔تمہارے زخم پر نمک ڈالا جاتا۔ تم چیخ چیخ اور چلاچلا کر اپنے جرم اور اپنے ساتھیوں سے پردے اُٹھاتی، مگر ہم کسی عورت کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کیاکرتے۔البرق کی بیوی مرگئی ہے،لیکن تمہیں زندہ رکھنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے”۔

”میں ٹھیک ہوجائوں گی تو میرے ساتھ کیا سلوک کروگے؟”اس نے پوچھا۔

”یہاں تمہیں کوئی مرد اس نظر سے نہیں دیکھے گا کہ تم ایک نوجوان اور خوب صورت لڑکی ہو”……سلطان ایوبی نے کہا……”تم یہ خدشہ دل سے نکال دو۔ تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اسلامی قانون میں لکھاہے”۔

اس مکان کی تلاشی لی گئی تھی جہاں آصفہ جایا کرتی تھی ۔ وہ کسی کا گھر نہیں تھا۔ جاسوسوں کا اڈہ تھا۔ اندر اصطبل بناہواتھا ۔ اندر سے پانچ آدمی برآمد ہوئے تھے ،انہیں گرفتار کرلیاگیا تھا۔ان پانچ نے ان چاروں نے جنہیں تعاقب میں پکڑا گیاتھا، جرم کا اعتراف کرنے سے انکار کردیا۔ آخر انہیں اس تہہ خانے میں لے گئے جہاں پتھر بھی بول پڑتے تھے۔بوڑھے نے تسلیم کرلیا کہ اس نے اس لڑکی کو دانے کے طور پر پھینک کر البرق کو پھانسا تھا۔ اس نے سارا ناٹک سنادیا۔دوسروں نے بھی بہت سے پردے اُٹھائے ا ور اس مکان کا راز فاش کیا، جسے شہر کے لوگ احترام کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔اس مکان میں بہت سی لڑکیاں رکھی گئی تھیں جو دومقاصد کے لیے استعمال ہوتیں۔ایک جاسوسی لیے اور حاکموں اور اونچے گھرانے کے مسلمان نوجوانوں کے اخلاق تباہکرنے کے لیے وہ جاسوسوں اور تخریب کاروں کا اڈہ تھا۔

ان جاسوسوں نے یہ بھی بتایا کہ سلطان ایوبی کی فوج میں انہوں نے اپنے آدمی بھرتی کرادئیے ہیں ،جنہوں نے سپاہیوں میں جوئے بازی کی عادت پیدا کردی ہے ۔وہ ہاری ہوئی بازی جیتنے کے لیے ایک دوسرے کے پیسے چراتے اور چور بنتے جارہے ہیں ۔ شہر میں انہوں نے پانچ سو سے کچھ زیادہ فاحشہ عورتیں پھیلادی ہیں جو نوجوانوں کو پھانس کر انہیں عیاشی کی راہ پر ڈال رہی ہیں ۔خفیہ قمار خانے بھی کھول دئیے گئے ہیں ۔ان لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن سوڈانیوں کو سلطان کے خلاف بھڑ کایا جارہاہے، جنہیں فوج سے نکال دیاگیاتھا۔ سب سے اہم انکشاف یہ تھا کہ انہوں نے چھ ایسے مسلمان افسروں کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کی حکومت میں اہم حیثیت رکھتے تھے مگر سلطان ایوبی کے خلاف کام کررہے تھے ۔ آصفہ عیسائی لڑکی تھی اس کانام فلیمنگو بتایا گیا۔ وہ یونانی تھی ۔اسے تیرہ سال کی عمر سے اس کام کی ٹریننگ دی جارہی تھی۔ اسے مصر کی زبان سیکھائی گئی ۔ایسی سینکڑوں لڑکیاں مسلمان علاقوں میں استعمال کرنے کے لیے تیار کی گئی تھیں، جنہیں چوری چھپے اِدھر بھیجا گیاتھا۔

اس لڑکی نے بھی کچھ نہ چھپایا۔ پندرہ روز بعد اس کا زخم ٹھیک ہوگیا۔اسے جب بتایا گیا کہ اُسے سزائے موت دی جارہی ہے تو اس نے کہا……”میںخوشی سے یہ سزاقبول کرتی ہوں ۔میں نے صلیب کا مشن پورا کردیا ہے”……اسے جلاد کے حوالے کردیاگیا۔

دوسروں کی ابھی ضرورت تھی ۔ان کی نشاند ہی پر چند اور لوگ پکڑے گئے ، جن میں چند ایک مسلمان بھی تھے۔ان سب کو سزائے موت دی گئی ۔البرق کو ایک سو بید کی سزادی گئی جو وہ برداشت نہ کرسکا اور مرگیا۔ا سکے بچوں کو سلطان ایوبی نے سرکاری تحویل میں لے لیا۔ ان کے لیے سرکاری خرچ پر ملازہ اور اتالیق مقرر کیے گئے ۔وہ البرق کے بچے نہیں ، ایک مجاہدہ کے بچے تھے ۔ان کی ماں شہید ہوگئی تھی۔

دوسری بیوی کا قصہ یہیں تمام ہوتا ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: