Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 4

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 4

–**–**–

“داستان ایمان فروشوں کی”
جلد اول”ام عرارہ کا اغواہ”

جون ١١٧١ء کا وہ دن مصر کی گرمی سے جل رہاتھا، جس دن خلیفہ العاضد کے قاصد نے آکر صلاح الدین ایوبی کوپیغام دیا کہ خلیفہ یاد ّفرمارہے ہیں۔ سلطان ایوبی کے تیور بدل گئے۔اس نے قاصد سے کہا……”خلیفہ کو بعد از سلام کہنا کہ کوئی بہت ضروری کام ہے توبتادیں میں آجائوں گا۔اس وقت مجھے ذراسی بھی فرصت نہیں۔ انہیں یہ بھی کہنا کہ میرے سامنے جو کام پڑے ہیں ،وہ حضور کے دربار میں حاضری دینے کی نسبت زیادہ ضروری اور اہم ہیں”۔

قاصد چلاگیا اور سلطان ایوبی بے چینی سے کمرے میں ٹہلنے لگا۔ وہ فاطمی خلافت کا دورہ تھا۔ مصر میں اس خلافت کا خلیفہ العاضد تھا۔ اُس دور کا خلیفہ بادشاہ ہوتاتھا۔ جمعہ کے خطبے میں ہر مسجد میں خدا اور رسول ۖ کے بعد خلیفہ کانام لیاجاتا تھا۔ عیش و عشرت کے سوا ان لوگوں کے پاس کوئی کام نہ تھا۔ اگر نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی نہ ہوتے یاوہ بھی دوسرے امراء وزراء کی طرح خوشامدی اور ایمان فروش ہوتے تو اس دور کے خلیفوں نے تو سلطنتِ اسلامیہ کو بیچ کھایا تھا۔العاضد ایسا ہی ایک خلیفہ تھا۔صلاح الدین ایوبی مصر میں گور نر بن کر آیا تو ابتداء میں خلیفہ نے اسے کئی بار بلایاتھا۔سلطان ایوبی سمجھ گیا کہ خلیفہ اسے صرف اس لیے بلاتا ہے کہ اُسے یہ احساس رہے کہ حاکم ایوبی نہیں ، خلیفہ ہے۔وہ سلطان ایوبی کا احترام کرتاتھا۔اسے اپنے ساتھ بٹھاتاتھا،مگر اس کا انداز شاہانہ اور لب و لہجہ آمرانہ ہوتاتھا۔۔اس نے سلطان ایوبی کو جب بھی بلایا،بلامقصد بلایا اور رخصت کردیا۔ صلیبیوں کو بحیرۂ روم میں شکست دے کر اور سوڈانی فوج کی بغاوت کو ختم کرکے صلاح الدین ایوبی نے خلیفہ کو ٹالنا شروع کردیاتھا۔

اس نے خلیفہ کے محل میں جو شان و شوکت دیکھی تھی ،اس نے اس کے سینے میں آگ لگارکھی تھی۔محل میں زر و جواہرات کا یہ عالم تھا کہ کھانے پینے کے برتن سونے کے تھے۔ شراب کی صراحی اور پیالوں میں ہیرے جڑے ہوئے تھے۔حرم لڑکیوں سے بھراپڑاتھا۔ ان میں عربی، مصری ، مراکشی ،سوڈانی اور تُرک لڑکیوں کے ساتھ ساتھ عیسائی اور یہودی لڑکیاں بھی تھیں ۔یہ اس قوم کا خلیفہ تھا جسے ساری دُنیا میں اللہ کا پیغام پھیلانا تھا اور جسے دُنیائے کفر کی مہیب جنگی قوت کا سامنا تھا۔ سلطان ایوبی کو خلیفہ کی کچھ اور باتیں بھی کھائے جارہی تھیں ۔ایک یہ کہ خلیفہ کا ذاتی حفاظتی دستہ سوڈانی حبشیوں اور قبائلیوں کاتھا جن کی وفاداری مشکوک تھی۔دوسرے یہ کہ خلیفہ کے دربار میں سو ڈان کی باغی اور برطرف کی ہوئی فوج کے کمان دار اور نائب سالار خصوصی حیثیت کے مالک تھے۔

صلاح الدین ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے قصرِ خلافت میں نوکروں ااور اندر کے دیگر کام کرنے والوں کے بھیس میں اپنے جاسوس بھیج دئیے تھے۔ خلیفہ کے حرم کی دو عورتوں کو بھی اعتماد میں لے کر جاسوسی کے فرائض سونپے گئے تھے۔ ان جاسوسوں کی اطلاعوں کے مطابق ،خلیفہ سوڈانی کماند داروں کے زیر اثر تھا۔ وہ ساٹھ پینسٹھ سال کی عمر کا بوڑھا تھا، لیکن خوب صورت عورتوں کی محفل میں خوش رہتاتھا۔ اس کی اسی کمزوری سے صلاح الدین ایوبی کے مخالفین فائدہ اُٹھا رہے تھے۔١١٧١ء کے دوسرے تیسرے مہینے میں خلیفہ کے حرم میں ایک جوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کا اضافہ ہواتھا۔ حرم کی جاسوس عورتوں نے علی بن سفیان کو بتایا تھا کہ تین چار آدمی آئے تھے جو عربی لباس میں تھے۔وہ اس لڑکی کو لائے تھے۔ان کے پاس بہت سے تحفے بھی تھے۔ لڑکی بھی تحفے کے طور پر آئی تھی۔ اس کانام اُمِ عرارہ بتایا گیا تھا۔ اس میں خوبی یہ تھی کہ خلیفہ العاضد پر اس نے جادو ساکر دیاتھا۔ بہت ہی چالاک اور ہوشیار لڑکی تھی ۔

سلطان ایوبی کو قصرِ خلافت کی ان تمام خرافات کا علم تھا مگر حکومت پر اس کی گرفت ابھی اتنی مضبوط نہیں ہوتی تھی……کہ وہ خلیفہ کے خلاف کو ئی کاروائی کرسکتا۔ اس سے پہلے کے گورنر اور امیر خلیفہ کے آگے جھکے رہتے تھے ۔اسی لیے مصر بغاوتوں کی سرزمین بن گیا تھا۔ وہاں اسلامی خلافت تو تھی ، مگر اسلام کا پر چم سرنگوں ہوتاجارہاتھا۔ فوج سلطنتِ اسلامیہ کی تھی، مگر سوڈانی جرنیل شہر ی حکومت کی باگ ڈور ہاتھ میں لیے ہوئے تھے۔ اور ان کا رابطہ صلیبیوں کے ساتھ تھا۔ انہی کی بدولت قاہرہ اور اسکندریہ میں عیسائی کنبے آباد ہونے لگے تھے۔ ان میں جاسوس بھی تھے۔ صلاح الدین ایوبی نے سوڈانی فوج کو تو ٹھکانے لگادیاتھا، لیکن ابھی چند ایک سوڈانی جرنیل موجود تھے جو کسی بھی وقت خطرہ بن کر اُبھر سکتے تھے۔ انہوں نے قصرِ خلافت میں اثر و رسوخ پیدا کررکھا تھا۔

سلطان ایوبی خلافت کی تعیش پر ست گدّی کو اس ڈر سے نہیں چھیڑ نا چاہتاتھا کہ خلافت کے متعلق کچھ لوگ جذباتی تھے اور کچھ حامی تھے۔ ان میں خوشامدیوں کے ٹولے کی اکثریت تھی۔اس اکثریت میں وہ اعلیٰ حکام بھی تھے جو مصر کی امارت کی توقع لگائے بیٹھے تھے مگر یہ حیثیت صلاح الدین ایوبی کو مل گئی ۔ سلطان ایوبی ان حالات میں جہاں ملک جاسوسوں اور غداروں سے بھرا پڑا تھا اور صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ بھی تھا،ان اعلیٰ اور ادنیٰ حکام کو اپنا دشمن نہیں بنانا چاہتا تھا جو خلافت کے پروردہ تھے، مگر جون ١١٧١ء کے ایک روز جب خلیفہ نے اسے بلایا تو اس نے اسے صاف انکار کردیا۔

اس نے دربان سے کہا……”علی بن سفیان ، بہائوالدین شداد، عیسٰی الہکاری فقہیہ اور الناصر کو میرے پاس جلدی بھیج دو”۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

یہ چاروں سلطان ایوبی کے خصوصی مشیر اور معتمد تھے ۔ سلطان ایوبی نے انہیں کہا……”ابھی ابھی خلیفہ کا قاصد مجھے بلانے آیاتھا۔ میں نے جانے سے انکار کردیاہے ۔میں نے آپ کو یہ بتانے اور رائے لینے کے لیے بلایا ہے کہ میں جمعہ کے خطبہ سے خلیفہ کانام نکلوارہاہوں ”۔

”یہ اقدام ابھی قبل ازوقت ہوگا”……شداد نے کہا……”خلیفہ کو لوگ پیغمبر سمجھتے ہیں ۔رائے عامہ ہمارے خلاف ہوجائے گی”۔

”ابھی تو لوگ اسے پیغمبر سمجھتے ہیں ”……سلطان ایوبی نے کہا……”تھوڑے ہی عرصے بعد وہ اسے خدا سمجھنے لگیں گے۔ اسے پیغمبری اور خدائی دینے والے ہم لوگ ہیں ، جو خطے میں اس کانام خدا اور رسول اکرم ۖ کے ساتھ لیتے ہیں ۔کیوں عیسٰی فقیہہ !آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟”

”میں آپ کی تائید کرتاہوں”……عیسٰی الہکاری فقہیہ نے جواب دیا……”کوئی بھی مسلمان خطبے میں کسی انسان کانام برداشت نہیں کرسکتا۔انسان بھی ایسا جو شراب ، عورت اور ہر طرح کے گناہ کا شیدائی ہے۔یہ الگ بات ہے کہ صدیوں سے خلیفہ کو پیغمبر وں کا درجہ دیاجارہاہے ، میں چونکہ شہری اور مذہبی امور کا ذمہ دار ہوں ۔اس لیے یہ نہیں بتا سکتاکہ سیاسی اور فوجی لحاظ سے آپ کے فیصلے کاردّعمل کیا ہوگا”۔

”ردّ عمل شدید ہوگا”……بہائوالدین شداد نے کہا……”اور ہمارے خلاف ہوگا۔ اسکے باوجود میں یہی مشورہ دوں گا کہ یہ بدعت ختم ہونی چاہیے یا خلیفہ کو پکا مسلمان بناکر لوگوں کے سامنے لایا جائے جو مجھے ممکن نظر نہیں آتا”۔

”رائے عامہ کو مجھ سے بہتر اور کون جان سکتاہے ”……علی بن سفیان نے کہا جو جاسوسی اور سراغ رسانی کے شعبے کا سربراہ تھا۔ اس نے ملک کے اندر جاسوسوں اور مخبروں کا جال بچھا رکھا تھا۔ اس نے کہا……”عام لوگوں نے خلیفہ کی کبھی صورت نہیں دیکھی ۔وہ العاضد کے نام سے نہیں صلاح الدین ایوبی کے نام سے واقف ہیں ۔میرے محکمے کی مصدقہ اطلاعات نے مجھے یقین دلایا ہے کہ آپ کے دو سالہ دورِ امارت میں لوگوں کی ایسی ضروریات پوری ہوگئی ہیں جن کے متعلق انہوں نے کبھی سو چا بھی نہ تھا۔ شہروں میں ایسے مطب نہیں تھے ،جہاں مریضوں کو داخل کرکے علاج کیاجاسکتا ۔ لوگ معمولی معمولی بیماریوں سے مرجاتے تھے۔اب سرکاری مطب کھول دئیے گئے ہیں ،درس گاہیں بھی کھولی گئی ہیں، تاجروں اور دکان داروں کی لوٹ کھسوٹ ختم ہوگئی ہے ،جرائم بھی کم ہوگئے ہیں اور اب لوگ اپنی مشکلات اور فریادیں آپ تک براہِ راست پہنچا سکتے ہیں ۔آپ کے یہاں آنے سے پہلے لوگ سرکاری اہل کاروں اور فوجیوں سے خوف زدہ رہتے تھے ۔ آپ نے ان کے حقوق بتا دئیے ہیں اور وہ اپنے آپ کو ملک و ملت کا حصہ سمجھنے لگے ہیں ۔خلافت سے انہیں بے انصافی اور بے رحمی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ آپ نے انہیں عدل و انصافاور وقار دیاہے ۔میں وثوق سے کہہ سکتاہوں کہ قوم خلافت کی بجائے امارت کے فیصلے کو قبول کرے گی”۔

”میں نے قوم کو عدل و انصاف اور وقار دیاہے یا نہیں ”……سلطان ایوبی نے کہا……”میں نے قوم کے حقوق اسے دئیے ہیں یا نہیں ، میں نہیں جانتا ۔میں قوم کو ایک انتہائی بیہودہ روایت نہیں دینا چاہتا۔ میں قوم کو شرک اور کفر نہیں دینا چاہتا ۔ضروری ہوگیاہے کہ اس روایت کو توڑ کر ماضی کے کوڑے کرکٹ میں پھینک دیاجائے جو مذہب کا حصہ بن گئی ہے ۔اگر یہ روایت قائم رہی تو یہ بھی ہوسکتاہے کہ کل پرسوں میں بھی اپنانام خطبے میں شامل کردوں ۔ دئیے سے دیا جلتا ہے ،لیکن میں اس دئیے کو بجھادینا چاہتاہوں جو شرک کی روشنی کو آگے چلارہاہے۔ قصرِ خلافت بدکاری کا اڈہ بناہواہے۔ خلیفہ اُس رات بھی شراب پئے ہوئے حرم کے حسن میں بدمست پڑا تھا جس رات سوڈانی فوج نے ہم پر حملہ کیاتھا، اگر میری چال ناکام ہوجاتی تو مصر سے اسلام کا پرچم اُتر جاتا۔جب اللہ کے سپاہی شہید ہو رہے تھے ، اس وقت بھی خلیفہ شراب پئے ہوئے تھا۔میں اسے احکام کے مطابق یہ بتانے گیا کہ سلطنت پر کیا طوفان آیاتھااور ہماری فوج نے اس کا دم خم کس طرح توڑ اہے تو اس نے مست سانڈکی طرح جھوم کر کہا تھا……”شاباش !ہم بہت خوش ہوئے ۔ہم تمہارے باپ کو خصوصی قاصد کے ہاتھ مبارک باد اور انعام بھیجیں گے”……میں نے اسے کہا کہ یا خلیفة المسلمین!میں نے اپنا فرض اداکیاہے ۔ میں نے یہ فرض اپنے باپ کی خوشنودی کے لیے نہیں، اللہ اور اس کے رسولۖ کی خوشنودی کے لیے اد اکیاہے ۔

اس بڈھے خلیفہ نے کہا……”صلاح الدین ایوبی !تم ابھی بچے ہو، مگر کام تم نے بڑوں والا کردکھایاہے”۔
”اس نے میرے ساتھ اس طرح بات کی تھی جیسے وہ مجھے اپنا غلام اور اپنے حکم کا پابند سمجھتا ہے ۔یہ بے دین انسان قومی خزانے کے لیے سفید ہاتھی بناہواہے ”……سلطان ایوبی نے ایک خط نکال کر سب کو دکھایا اور کہا……چھ سات دن گزرے نور الدین زنگی نے مجھے یہ پیغام بھیجا ہے ۔انہوں نے لکھا ہے کہ خلافت تین حصوں میں بٹ گئی ہے ۔بغداد کی مرکزی خلافت کا دونوں ماتحت خلیفوں پر اثر ختم ہوچکاہے۔ آپ یہ خیال رکھیں کہ مصر کا خلیفہ خود مختار حاکم نہ بن جائے۔وہ سوڈانیوں اور صلیبیوں سے بھی ساز باز کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ میں سوچ رہاہوں کہ خلافت صرف بغداد میں رہے اور ذیلی خلیفے ختم کردئیے جائیں ،لیکن میں ڈرتاہوں کہ ان لوگوں نے ہمارے خلاف سازشیں تیار کررکھی ہیں ۔اگر آپ مصر کے خلیفہ کی بادشاہی اس کے محل کے اندر ہی محدود رکھنے کی کوشش کریں گے تو میں آ پ کو فوجی اور مالی امداد دوں گا ۔احتیاط کی بھی ضرورت ہے کیونکہ مصر کے اندرونی حالات ٹھک نہیں ۔مصر میں ایک بغاوت اور بھی ہوگی۔سوڈانیوں پر کڑی نظر رکھیں”۔

سلطان ایوبی نے خط پڑھ کر کہا……”اس میں کیا شک ہے کہ خلافت سفید ہاتھی ہے۔کیا آپ دیکھتے نہیں کہ خلیفہ العاضد دورے پر نکلتا ہے تو آپ کی آدھی فوج اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف پھیلادی جاتی ہے؟لوگوں کو مجبور کیا جاتاہے کہ وہ خلیفہ کے راستے میں چادریں اور قالین بچھائیں۔خلیفہ کا حفاظتی دستہ دورے سے پہلے لوگوں کو دھمکیاں دے کر مجبور کردیتا ہے کہ ان کی عورتیں اور جوان بیٹیاں خلیفہ پر پھولوں کی پتیاں پھینکیں ۔اس کے دوروں پر خزانے کی وہ رقم تباہ کی جاتی ہے جو ہمیں سلطنتِ اسلامیہ کے دفاع اور توسیع کے لیے اور قوم کی فلاح و بہبود کے لیے درکار ہے۔اس کے علاوہ اس پہلو پر بھی غور کروکہ ہمیں مصری عوام پر،یہاں کے عیسایویں اور دیگر غیر مسلموں پر یہ ثابت کرنا ہے کہ اسلام شہنشاہوں کا مذہب نہیں۔ یہ عرب کے صحرائوں کے گڈریوں، کسانوں اور شتر بانوں کا سچامذہب ہے اور یہ انسان کو انسانیت کا وہ درجہ دینے والا مذہب ہے جو خدا کو عزیزہے”۔

”یہ بھی ہوسکتاہے کہ خلیفہ کے خلاف کا روائی کرنے سے آپ کے خلاف یہ بہتان تراشی ہونے لگے کہ خلیفہ کی جگہ آپ خود حا کم بننا چاہتے ہیں ”شداد نے کہا……”آج جھوٹ اور باطل کی جڑیں صرف اس لیے مضبوط ہوگئی ہیں کہ مخالفت اور مخالفانہ ردّعمل سے ڈر کر لوگوں نے سچ بولنا چھوڑ دیاہے ۔حق کی آواز سینوں میں دب کررہ گئی ہے۔ شاہانہ دوروں نے اور شہنشاہیت کے اظہار کے اوچھے طریقوں نے رعایا کے دلوں سے وہ وقار ختم کردیاہے جو قوم کا طرزِ امتیاز تھا۔ عوام کو بھوکا رکھ کر اور ان پر زبردستی اپنی حکمرانی ٹھونس کر انہیں غلامی کی ان زنگیروں میں باندھا جارہاہے ،جنہیں ہمارے رسول اکرم ۖ نے توڑ اتھا۔ ہمارے بادشاہوں نے قوم کو اس پستی تک پہنچا دیاہے کہ یہ بادشاہ اپنی عیاشیوں کی خاطر صلیبیوں سے دوستانہ کررہے ہیں، ان سے پیسے مانگتے ہیں اور صلیبی آہستہ آہستہ سلطنتِ اسلامیہ پر قابض ہوتے چلے جارہے ہیں آپ نے شداد ! مخالفت کی بات کی ہے ۔ہمیں مخالفت سے نہیں ڈرناچاہیے”۔

”قابلِ احترامِ امیر!” سلطان ایوبی کے نائب سالار الناصر نے کہا”ہم مخالفت سے نہیں ڈرتے ۔آپ نے ہمیں میدانِ جنگ میں دیکھا ہے۔ہم اس وقت بھی نہیں ڈرے تھے ، جب ہم محاصرے میں لڑے تھے۔ ہم بھوکے اور پیاسے بھی لڑے تھے ۔صلیبیوںکے طوفان ہم نے اس حالت میں بھی روکے تھے، جب ہماری تعداد کچھ بھی نہیں تھی، مگر میں آپ کو آپ کی ہی کہی ہوئی ایک بات یاد دلاچاہتاہوں ۔آپ نے ایک بار کہاتھا کہ حملہ جو باہر سے آتا ہے اُسے ہم قلیل تعداد میں بھی روک سکتے ہیں ،لیکن حملہ جو اندر سے ہوتاہے اور جب حملہ آور اپنی قوم کے افراد ہوتے ہیں تو ہم ایک بار چونک اُٹھتے اور سُن ہوجاتے ہیں کہ یا خدائے ذو الجلال یہ کیاہوا۔ قابلِ احترام امیرِ مصر ! جب ملک کے حاکم ملک کے دشمن ہوجائیں تو آ پ کی تلوار نیام کے اندر تڑپتی رہے گی، باہر نہیں آئے گی”۔

”آپ نے درست کہا الناصر!”…… سلطان ایوبی نے کہا……”میری تلوار نیام میں تڑپ رہی ہے۔ یہ اپنے حاکموں کے خلاف باہر نہیں آنا چاہتی ۔میرے دل میں قوم کے حکمرانوں کا ہمیشہ احترام رہاہے ۔ملک کا حکمران قوم کی عظمت کا نشان ہوتاہے ،قوم کے وقار کی علامت ہوتاہے ،لیکن آپ سب غور کریں کہ ہمارے حکمرانوں میں کتنی کچھ عظمت اور کتنا کچھ وقار رہ گیاہے۔میں صرف خلیفہ العاضد کی بات نہیں کررہا۔علی بن سفیان سے پوچھو ۔اس کا محکمہ موصل، حلب ، دمشق ، مکہ اور مدینہ منورہ کی جو خبریں لایا ہے وہ یہ ہیں کہ خلافت کی تعیش پرستی کی وجہ سے جہاں جہاں کوئی امیرحاکم ہے، وہ وہاں کا مختارِ کُل بن گیا ہے۔ سلطنتِ اسلامیہ ٹکڑوں میں بٹتی جارہی ہے۔خلافت اس قدر کمزور ہوگئی ہے کہ اس نے اُمرا اور حکام کو ذاتی سیاست بازیوں کے لیے استعمال کرنا شروع کردیاہے۔ میں اس خطرے سے بے خبر نہیں کہ قوم کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ہم جب یکجا کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ اور بکھرے گا۔ ہمارے سامنے پہاڑ کھڑے ہو جائیں گے، لیکن میں گھبرائوں گا نہیں اور مجھے اُمید ہے کہ آپ بھی نہیں گھبرائیں گے۔ میں آپ کے مشوروں کا احترام کروں گا،لیکن میں آئندہ خلیفہ کے بلاوے پر صرف اس صورت میں جائوں گا ، جب کوئی ضروری کام ہوگا۔ فوری طور پر میں خطبے سے خلیفہ کا نام اور ذکر نکلوارہاہوں”۔

سب نے سلطان ایوبی کے اس اقدام کی حمایت کی اور اسے اپنی پوری مدد اور ہرطرح کی قربانی دینے کا یقین دلایا۔ خلیفہ العاضد اس وقت اپنے ایک خصوصی کمرے میں تھا ۔ جب قاصد نے اسے بتایا کہ صلاح الدین ایوبی نے کہا ہے کہ اگر کوئی ضروری کام ہے تو میں آسکتاہوں،ورنہ میں بہت مصروف ہوں۔ خلیفہ آگ بگولہ ہوگیا۔اس نے قاصد سے کہا کہ رجب کو میرے پاس بھیج دو۔ رجب اس کے حفاظتی دستے کا کمان دار تھا جس کا عہدہ نائب سالار جتنا تھا۔ وہ مصر ی فوج کا افسر تھا۔ اسے خلیفہ کے باڈی گارڈز کی کمان دی گئی تھی۔ اس نے قصرِ خلافت اور خلیفہ کے حفاظتی دستوں میں چُن چُن کر سوڈانی حبشیوں کو رکھا تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے مخالفین میں سے اور خلیفہ کے خوشامدیوں میں سے تھا۔

اُس وقت خلیفہ کے اس خصوصی کمرے میں اُمِ عرارہ موجود تھی جب قاصد صلاح الدین ایوبی کا جواب لے کے آیاتھا۔ اس نے خلیفہ سے کہا……”صلاح الدین ایوبی آپ کا نوکر ہے، آپ نے اسے سر پر چڑھا رکھاہے،آپ کیوں نہیں اسے معزول کردیتے ہیں ؟کیوں نہیں اپنے سپاہی بھیج کر اسے حراست میں یہاں بلوالیتے ؟”

”اس لیے کہ اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے”……خلیفہ نے غصے کے عالم میں کہا……”فوج اس کی کمان میں ہے ، وہ میرے خلاف فوج استعمال کرسکتاہے”……اتنے میں رجب آگیا۔اس نے جھک کر فرشی سلام کیا۔ العاضد نے غصے سے کانپتی ہوئی آواز میں اسے کہا……”میں پہلے ہی جانتاتھا کہ یہ کم بخت خود سر اور سرکش آدمی ہے……یہ صلاح الدین ایوبی ……میں نے اسے بلایا تو یہ کہہ کر آنے سے انکار کردیاہے کہ کوئی ضروری کام ہے تو آئوں گا، ورنہ آپ کا بلاوا میرے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا ، کیونکہ میرے سامنے ضروری کام پڑے ہیں ”۔

غصے میں بولتے بولتے اسے ہچکی آئی ، پھر کھانسی اُٹھی اور اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا ۔اس کا رنگ زرد ہوگیا۔اس حالت میں کمزور سی آواز میں کہا ……”بد بخت کو یہ بھی احساس نہیں کہ میں بیمار ہوں ۔میرا دل مجھے لے بیٹھے گا۔ میرے لیے غصہ ٹھیک نہیں ۔مجھے اپنی صحت کا غم کھائے جارہاہے اور اسے اپنے کا موں کی پڑی ہے”۔

”آپ نے اسے کیوں بلایا تھا؟”……رجب نے پوچھا ……”مجھے حکم دیجئے”۔

”میں نے اسے صرف اس لیے بلایا تھا کہ اسے احساس رہے کہ اس کے سر پر ایک حاکم بھی ہے”……خلیفہ نے دِل پر ہاتھ رکھے ہوئے کراہتی ہوئی آواز میں کہا……”تم ہی نے مجھے بتایا تھا کہ کہ صلاح الدین خود مختار ہوتا جارہا ہے۔میں اسے بار بار یہاں بلانا چاہتا ہوں،تاکہ اسے اپنے پائوں کے نیچے رکھوں ۔یہ ضروری اُم عرارہ نے شراب کا پیالہ اس کے ہونٹوں سے لگا کر کہا……”آپ کو سوبار کہاہے کہ غصے میں نہ آجایا کریں۔آپ کے دِل اور اعصاب کے لیے غصہ ٹھیک نہیں”…… اس نے سونے کی ایک ڈبیہ میں سے نسواری رنگ کے سفوف میں سے ذراسا خلیفہ کے منہ میں ڈالا اور پانی پلادیا۔ خلیفہ نے اس کے بکھرے ہوئے ریشمی بالوں میں انگلیاں اُلجھا کر کہا……”اگر تم نہ ہوتی تو میرا کیا ہوتا۔ سب کو میری دولت اور رتبے سے دلچسپی ہے ۔میری ایک بھی بیوی ایسی نہیں جسے میری ذات کے ساتھ دلچسپی ہو ۔ تم تو میرے لیے فرشتہ ہو” ……اس نے لڑکی کو اپنے قریب بٹھا کر بازو اس کی کمر میں ڈال دیا۔

”خلیفة المسلمین ”!…… رجب نے کہا……”آپ بڑے ہی نرم دل اور نیک انسان ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے یہ گستاخی کی ہے ۔ آپ نے یہ بھی فراموش کردیاہے کہ وہ عربی نسل سے نہیں۔ وہ آپ کی نسل سے نہیں۔ وہ کُردہے، میں حیران ہوں کہ اسے اتنی بڑی حیثیت کس نے دے دی ہے، اگر اس میں کچھ خوبی ہے تو صرف یہ ہے کہ وہ اچھا عسکری ہے۔ میدانِ جنگ کا استاد ہے ،لڑنا بھی جانتاہے اور لڑانا بھی جانتا ہے مگر یہ وصف اتنا اہم نہیں کہ اسے مصر کی امارت سونپ دی جاتی ……اُس نے سوڈان کی اتنی بڑی اور اتنی تجربہ کار فوج یوں توڑ کر ختم کردی ہے،جس طرح بچہ کوئی کھلونہ توڑدیتاہے ۔آپ ذرا غور فرمائیں کہ کہ جب یہاں سوڈانی باشندوں کی فوج تھی، ناجی اور ادروش جیسے سالار تھے تو رعایا آپ کے کتوں کے آگے بھی سجدے کرتی تھی۔ سوڈانی لشکر کے سالار آپ کی دہلیز پر حاضر رہتے تھے۔ اب یہ حال ہے کہ آپ اپنے ایک ماتحت کو بلاتے ہیںتو وہ آنے سے انکار کردیتا ہے”۔

”رجب!” خلیفہ نے اچانک گرج کر کہا…… ”تم ایک مجرم ہو”۔

رجب کا رنگ پیلا پڑگیا۔اُم عرارہ بدک کر العاضد سے الگ ہوگئی ۔العاضد نے اسے پھر بازو کے گھیرے میں لے کر اپنے ساتھ لگالیا اور پیار سے بولا……”کیا میں نے تمہیں ڈرادیاہے؟میں رجب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ آج دوسال بعد مجھے بتارہاہے کہ ہماری پرانی فوج اور اسکے سالار اچھے تھے اور صلاح الدین ایوبی کی بنائی ہوئی فوج خلافت کے حق میں اچھی نہیں ۔کیوں رجب! تم یہ بات پہلے بھی جانتے تھے؟چپ کیوں رہے؟اب جب کہ یہ امیرِ مصر اپنی جڑیں مضبوط کر چکاہے ،مجھے بتارہے ہوکہ وہ خلافت کا باغی اور سرکش ہے”۔

”میں حضورکے عتاب سے ڈرتاتھا”……رجب نے کہا……’سلطان ایوبی کا انتخاب بغداد کی خلافت نے کیا تھا۔ یہ آپ کے مشورے سے ہی ہواہوگا۔ میں خلافت کے انتخاب کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔ آج امیرِ مصر کی گستاخی اور اس کے زیرِ اثر آپ کے دل کے دورے نے مجھے مجبور کردیاہے کہ زبان کھولوں۔ میں کب سے دیکھ رہاہوں کہ صلاح الدین ایوبی کئی بار آپ کے حضور گستاخی کر چکاہے۔ میرا فرض ہے کہ آپ کو خطروں سے آگاہ کروں اور بچائوں ”۔

اس دوران اُم عرارہ خلیفہ کے گالوں سے گال رگڑتی رہی اور اس کے انگلیوں میں اُنگلیاں اُلجھا کر بچوں کی طرح کھیلتی رہی ۔ ایک بار اس نے خلیفہ کے گالوں کو ہاتھوں میں تھا کر پوچھا……”طبیعت بحال ہوئی ؟”

خلیفہ نے اس کی ٹھوڑی کو چھیڑ تے ہوئے کہا……”دوائی نے اتنا اثر نہیں کیا، جتنا تیرے پیار نے کیا ہے۔ خدانے تجھے وہ حسن اور وہ جذبہ دیاہے جو میرے ہر روگ کے لیے اکسیر ہے”……اس نے اُمِ عرارہ کا سر اپنے سینے پرڈال کر رجب سے کہا……”روزِ قیامت جب مجھے جنت میں بھیجیں گے تو میں خدا سے کہوں گا کہ مجھے کوئی حور نہیں چاہیے، مجھے اُمِ عرارہ دے دو”۔

”اُمِ عرارہ صرف حسین ہی نہیں ”……رجب نے کہا……”یہ بہت ہوشیار اور ذہین بھی ہے۔حضور کا حرم سازشوں کا گھر بناہوا تھا۔ اس نے آکر سب کو لگام ڈال دی ہے۔اب کسی کی جرأ ت نہیں کہ کوئی عورت کسی عورت کے خلاف یا کوئی اہل کار قصرِ خلافت میں ذراسی بھی گڑ بڑکرے”۔

”جب صلاح الدین ایوبی کے متعلق بات کررہے تھے”…… اُمّ عرارہ نے کہا۔”ان کی باتیں غور سے سنیں اور صلاح الدین ایوبی کو لگام ڈالیں ”۔

”تم کیا کہہ رہے تھے رجب!” ……خلیفہ نے پوچھا ۔

”میں یہ عرض کررہاتھا کہ میں نے اس ڈر سے زبان بندرکھی کہ امیرِ مصر کے خلاف کوئی بات خلافت کو گوارہ نہ ہوگی”……رجب نے کہا……”صلاح الدین ایوبی قابل سالار ہوسکتاہے ”۔

”مجھے اس کا صرف یہی وصف پسند ہے کہ میدانِ جنگ میں وہ اسلام کا پرچم سرنگوں نہیں ہونے دیتا”خلیفہ نے کہا ……”ہمیں سلطان ایوبی جیسے ہی سالاروں کی ضرورت ہے جو خلافتِ اسلامیہ کا وقار میدانِ جنگ میں قائم رکھیں”۔

”میں گستاخی کی معافی چاہتاہوں خلیفة المسلمین !”…… رجب نے کہا……”خلافت نے ہمیں میدان ِ جنگ میں نہیں آزمایا ۔ صلاح الدین ایوبی کے متعلق میں یہ کہنے کی جرأت کروں گا کہ وہ خلافتِ اسلامیہ کے وقار کے لیے نہیں لڑتا، بلکہ اپنے وقار کے لیے لڑتا ہے ۔آپ فوج کے سالار سے ہی تک پوچھ لیں۔ صلاح الدین ایوبی انہیں یہ سبق دیتا رہتاہے کہ وہ ایسی سلطنتِ اسلامیہ کے قیام کے لیے لڑیں، جس کی سرحدیں لامحدودہوں۔ صاف ظاہر ہے کہ وہ ایسی سلطنت کے خواب دیکھ رہاہے،جس کا بادشاہ وہ خود ہوگا۔نور الدین زنگی اس کی پشت پناہی کرہاہے ۔اس نے صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لیے دوہزار سواروں اور اتنے ہی پیادہ عسکریوں کی فوج بھیجی تھی۔ کیا اس نے خلیفۂ بغداد کی اجازت سے یہ فوج بھیجی تھی؟کیا خلافت کا کوئی ایلچی آپ سے مشورہ لینے آیاتھا کہ مصر میں فوج کی ضرورت ہے یا نہیں ؟جو کچھ ہوا خلافت سے بالاتر ہوا”۔

”تم ٹھیک کہتے ہو”……خلیفہ نے کہا……”مجھ سے نہیں پوچھا گیا تھا اور مجھے خیال آیاہے کہ اُدھر سے آئی ہوئی اتنی زیادہ کمک واپس نہیں بھیجی گئی”۔

”واپس اس لیے نہیں بھیجی گئی کہ یہ کمک مصر پر گرفت مضبوط کرنے کے لیے بھیجی گئی تھی اور اسی لیے یہاں رکھی گئی ہے”……رجب نے کہا……”مصر کی پرانی فوج کے سپاہیوں کو کسان اور بھکاری بنانے کے لیے یہ کمک آئی تھی۔ ناجی، ادروش ، کاکیش ،عبدیزدان، ابی آذر اور اُن جیسے آٹھ اور سالار کہاں ہیں؟حضور نے کبھی سوچانہیں ۔ان سب کو صلاح الدین ایوبی نے خفیہ طور پر قتل کرادیاتھا۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ صلاح الدین ایوبی سے زیادہ قابل سالار تھے۔یہ قتل کس کی گردن پر ہے؟صلاح الدین ایوبی نے حاکموں کی مجلس میں کہاتھا کہ خلیفۂ مصر نے ان سب کو غداری اور بغاوت کے جرم میں سزائے موت دے دی ہے”۔

” جھوٹ ”……خلیفہ نے بھڑک کر کہا……”سفید جھوٹ ۔مجھے صلاح الدین ایوبی نے بتایاتھا کہ یہ سب غدا ر ہیں ۔میں نے اسے کہاتھا کہ گواہ لائو اور مقدمہ چلائو۔

”اس نے مقدمہ چلائے بغیر وہ فیصلہ خود کیا جو خلافت کی مُہر کے بغیر بے کار ہوتاہے ”……رجب نے کہا……”ان بد قسمت سالاروں کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے صلیبی بادشاہ سے رابطہ قائم کیاتھا۔ان کا مقصد کچھ اور تھا ، وہ یہ تھا کہ صلیبیوں سے بات چیت کرکے جنگ و جدل ختم کیا جائے اور ہم اپنے ملک اور رعایا کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کی طرف توجہ دے سکیں ۔ آپ شاید تسلیم نہ کریں، مگر یہ حقیقت ہے کہ صلیبی ہمیں اپنا دشمن نہیں سمجھتے ۔ وہ ہمارے خلاف جنگی طاقت صرف اس لیے تیار رکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی اور شیر کوہ جیسے مسلمانوں سے انہیں حملے کا خطرہ رہتاہے ۔ شیر کوہ مرگیا تو صلاح الدین ایوبی کو اپنی جگہ چھوڑ گیا۔ یہ شخص شیر کوہ کا پروردہ ہے۔اس نے ساری عمر عیسائی قوم سے لڑتے اور اسلام کے دشمن پیدا کرتے اور دشمنوں میں اضافہ کرتے گزاری ہے۔ اگرصلاح الدین ایوبی کی جگہ مصر کا امیر کسی اور کو مقرر کیاجاتا تو آج عیسائی بادشاہ آپ کے دربار میں دوستوں کی طرح آتے،قتل و غارت نہ ہوتی، اتنے پرانے اور تجربہ کار سالار قتل ہوکر گمنام نہ ہوجاتے ”۔

” مگر رجب!” …… خلیفہ نے کہا……” صلیبیوں نے بحیرۂ روم سے حملہ جو کیا تھا ؟”

” صلاح الدین ایوبی نے ایسے حالات پیداکیے تھے کہ صلیبی اپنے دفاع کے لیے حملے میں پہل کرنے پر مجبور ہوگئے”……رجب نے کہا……”صلاح الدین ایوبی کو معلوم تھا کہ حملہ آرہاہے،کیونکہ حالات اسی نے پیدا کیے تھے۔اس لیے اس نے حملہ روکنے یعنی دفاع کا انتظام پہلے ہی کررکھاتھا۔ یہ شخص فرشتہ تو نہیں تھا کہ اسے غیب کا حال معلوم ہوگیاتھا۔ اس نے ایک ایسا ناٹک کھیلاتھا جس میں ہزار ہا بچے یتیم اور ہزار ہا عورتیں بیوہ ہوگئیں۔اس پر آپ نے اسے میری موجود گی میں خراجِ تحسین پیش کیا۔پھر اس نے سوڈانی فوج کو جو آپ کی وفادار تھی،جنگی مشق کے بہانے رات کو باہر نکالا اور اندھیرے میں اس پر اپنی نئی فوج سے حملہ کردیا۔مشہور یہ کیا کہ ناجی کی فوج نے بغاوت کردی تھی۔اس پر بھی آپ نے اسے خراجِ تحسین پیش کیا ۔آپ اتنے سادہ دِل اور مخلص ہیں کہ آپ اس چال اور اس دھوکے کو سمجھ نہ سکے”۔

اس دوران اُمِ عرارہ جو عرب کے حسن کا شاہکار تھی ۔خلیفہ العاضدکے ساتھ ”بڑی معصومیت” سے کچھ ایسی فحش حرکتیں کرتی رہی کہ العاضد پر شراب کا نشہ دُگناہوگیا۔ اس کی ذہنی کیفیت اس لڑکی کے قبضے میں تھی ۔رجب کی باتیں اور دلیلیں اُس کے دماغ میں اُترتی جارہی تھیں۔اُس کی زیادہ تر توجہ اُمِ عرارہ پر مرکوز تھی۔ رجب کی باتیں تو وہ ضمنی طور پر سُن رہاتھا۔ رجب نے صلاح الدین ایوبی پر ایک انتہائی بے ہودہ وار کیا ۔ اس نے کہا……”اُس نے ایک اور فریب کاری شروع کررکھی ہے۔کسی خوب صورت اور جوان لڑکی کو پکڑ کر اس کی آبرو ریزی کرتاہے اور چند دن عیش کرکے اسے یہ کہہ کر مروادیتا ہے کہ یہ جاسوس ہے۔عیسائیوںکے خلاف قوم میں نفرت پیدا کرنے کے لیے اس نے فوج اور عوام میں یہ مشہور کر رکھاہے کہ صلیبی اپنی لڑکیوں کو مصر میں جاسوسی کے لیے بھیجتے ہیں اور وہ بدکار عورتوں کو بھی یہاں بھیجتے ہیں جو قوم کا اخلاق تباہ کرتی ہیں۔میں اسی ملک کا باشندہ ہوں۔یہاں جتنے قحبہ خانے ہیں،وہاں مصری اور سوڈانی عورتیں ہیں، اگر کوئی عیسائی عورت ہے تو وہ کسی کی جاسوس نہیں ،یہ اس کا پیشہ ہے”۔

”مجھے حرم کی تین چار لڑکیوں نے بتایا ہے کہ سلطان ایوبی نے انہیں اپنے گھر بلایا اور خراب کیاتھا”…اُمِ عرارہ نے کہا۔

خلیفہ بھڑک اُٹھا اور کہا……”میرے حرم کی لڑکیاں ؟تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا”۔

”اس لیے کہ آپ کی بیماری میں یہ خبر آپ کے لیے اچھی نہیں تھی”……اُمِ عرارہ نے کہا……”اب بھی یہ بات میرے منہ سے بے اختیار نکل گئی ہے۔ میں نے ایسا انتظام کردیاہے کہ اب کوئی لڑکی کسی کے بلانے پر باہر نہیں جاسکتی”۔

”میں اُ سے ابھی بلاکر دُرّ ے لگوائوں گا”…… خلیفہ نے کہا……”میں انتقام لوں گا”۔

”انتقام لینے کے طریقے اور بھی ہیں ”……رجب نے کہا……”اس وقت عوام صلاح الدین ایوبی کے ساتھ ہیں ۔یہ لوگ آپ کے خلاف ہوجائیں گے”۔

”تو کیا میں اپنی یہ توہین برداشت کرلوں ؟”……خلیفہ نے کہا۔

”نہیں ”……رجب نے کہا……”اگر آپ مجھے اجازت دیں اور میری مدد کریں تو میں صلاح الدین ایوبی کو اسی طرح غائب کردوں گا جس طرح اس نے مصر کی پرانی فوج کے سالاروں کو گُم کردیاہے”۔

”تم یہ کام کس طرح کروگے ؟”……خلیفہ نے پوچھا۔

”حشیشین یہ کام کردکھائیں گے ” ……رجب نے کہا……”وہ رقم بہت زیادہ طلب کرتے ہیں ”۔

”رقم کا مطالبہ جس قدر ہوگا، وہ میں دوں گا”……خلیفہ نے کہا……”تم انتظام کرو”۔ *****

دو روزبعد جمعہ تھا۔قاہرہ کی جامعہ مسجد کے خطیب کو عیسٰی الہکاری فقہیہ نے کہہ دیا تھا کہ خطبے میں خلیفہ کانام نہ لیا جائے ۔ یہ خطیب تُرک تھے، جن کاپورا نام تاریخ میں محفوظ نہیں ۔وہ امیر العالم کے نام سے مشہور تھے ۔اس دور کے دستاویزی ثبوت ایسے بھی ملے ہیں جن کے مطابق خطیب امیر العالم نے کئی بار اس بدعت کو ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا اوریہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ تھا کہ خلیفہ کا نام خطبے سے حذف کیاگیا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ صلاح الدین ایوبی کو امیر العالم نے ہی مشورہ دیا تھا کہ اس بدعت کے خاتمے کے احکام جاری کریں اور دو وقارع نگار اس کا سہرا عیسٰی الہکاری فقہیہ کے سر باندھتے ہیں ۔ہوسکتاہے یہ منصوبہ خطیب امیر العالم اور مذہبی امور کے مشیر عیسٰی الہکاری فقہیہ کے پیشِ نظر بھی ہو، لیکن صلاح الدین ایوبی کی گفتگو کی جو دستاویر ات مل سکی ہیں،اُن سے پتہ چلتاہے کہ یہ دلیرانہ اقدام سلطان ایوبی کا ہی تھا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں رہتا کہ اُس وقت سچے مسلمان موجود تھے۔

خطیب امیر العالم نے خطبے میں خلیفہ کانام نہ لیا۔ جامع مسجد میںصلاح الدین ایو بی درمیانی صفوں میں موجود تھا۔علی بن سفیان اس سے تھوڑی دُور کسی صف میں بیٹھا تھا۔سلطان ایوبی کے متعدد دیگر مشیر اور معتمد بکھر کر عوام میں بیٹھے تھے تاکہ ان کا رد عمل بھانپ سکیں ۔علی بن سفیان کے مخبروں کی بہت بڑی تعداد مسجد میں موجود تھی۔ خلیفہ کانام خطبے میں سے غائب کرنا ایک سنگین اقدام نہیں ،بلکہ خلافت کے احکام کے مطابق سنگین جرم تھا ۔اس کا ارتکاب کردیاگیا۔ سربراہوں میں سے اگر کوئی مسجد میں نہیں تھا تو وہ خلیفہ العاضد تھا۔

نماز کے بعد سلطان ایوبی اُٹھا ۔ خطیب کے پاس گیا۔ ان سے مصافحہ کیا ۔ان کے چغے کا بوسہ لیا اور کہا……”اللہ آپ کا حامی و ناصر ہے”۔ خطیب امیر العالم نے جواب دیا……”یہ حکم صادر فرماکر آپ نے جنت میں گھر بنالیا ہے”……واپس چند قدم چل کر سلطان ایوبی رُک گیا اور خطیب کے قریب جاکر کہا……”اگر آپ کو خلیفہ کا بلاوا آجائے تو اس کے پاس جانے کے بجائے میرے پاس آجانا۔ میں آپ کے ساتھ چلوں گا”۔

”اگر امیرِمصر گستاخی نہ سمجھیں ”……امیر العالم نے کہا……”تو عرض کروں کہ باطل اور شرک کے خلاف عمل اور حق گوئی اگر جرم ہے تو اس کی سزامیں اکیلا بھگتوں گا۔میں آپ کا سہارا نہیں ڈھونڈوں گا۔ خلیفہ نے بلایا تو اکیلا جائوں گا۔ میں نے خلیفہ کے نام کو آپ کے حکم سے نہیں ، خدا کے حکم سے حذف کیا ہے ۔ میں آپ کو مبارک باد پیش کرتاہوں ”۔

شام کے بعد صلاح الدین ایوبی علی بن سفیان ، بہائوالدین شداد اور چند ایک اور مشیروں سے دن کی رپورٹ لے رہاتھا۔ سارے شہر میں شہریوں کے بھیس میں مخبر اور جاسوس پھیلادئیے گئے تھے ،جنہوں نے لوگوں کی رائے معلوم کر لی تھی ۔علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ کہیں سے بھی اسے ایسی اطلاع نہیں ملی ،جہاں کسی نے یہ کہا ہو کہ خطبے میںخلیفہ کانام نہیں لیاگیا تھا۔علی بن سفیان کے بعض آدمیوں نے دو تین جگہوں پر یہ بھی کہا کہ جامع مسجد کے خطیب نے آج خطبے میں خلیفہ کانام نہیں لیا تھا، یہ اُس نے بہت بُرا کیا ہے ۔اس پر کچھ آدمی اس طرح حیران ہوئے جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ خطبے میں خلیفہ کانام لیاگیا تھا یا نہیں ۔ ان میں سے چار پانچ نے اس قسم کے خیالات کا اظہار کیا کہ اس سے کیا فرق پڑ تا ہے ۔خلیفہ خدایا پیغمبر تو نہیں ۔ ان اطلاعات سے سلطان ایوبی کو اطمینان ہوگیا کہ عوام کے جس ردِّعمل سے اسے ڈرایاگیا تھا، اس کا کہیں بھی اظہار نہیں ہوا۔

صلاح الدین ایوبی نے اسی وقت سلطان نو رالدین زنگی کے نام پیغام لکھا ، جس میں اسے اطلاع دی کہ اس نے جمعے کے خطبے میں سے خلیفہ کانام نکلوادیا ہے۔عوام کی طرف سے اچھے ردِّ عمل کا اظہار ہواہے۔لہٰذا آپ بھی مرکزی خلافت کو خطبے سے خارج کردیں ۔ اب لُبِ لباب کا طویل پیغام لکھ کر اُس نے حکم دیا کہ قاصد کو علی الصبح روانہ کردیاجائے جو یہ پیغام نور الدین زنگی کو دے کر واپس آجائے ۔اس کے بعد اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ خلیفہ کے محل میں جاسوسوں کو چوکنا کردیاجائے۔وہاں ذراسی بھی مشکوک حرکت ہوتو فوراً اطلاع دیں ۔رجب کو سلطان ایوبی جانتاتھا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ رجب خلیفہ کا منہ چڑھانائب سالار ہے ۔سلطان ایوبی نے علی بن سفیان سے کہا……”رجب کے ساتھ ایک آدمی سائے کی طرح لگا رہنا چاہیے ”۔

اُس رات خلیفہ کی محفل عیش و طرب میں رجب نہیں تھا۔ وہ سلطان ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے چلاگیا تھا۔ اسے حسن بن صباح کے حشیشین سے ملنا تھا۔ خلیفہ روز مرہ کی طرح باہر کی دُنیا سے بے خبر اور اُمِ عرارہ کے طلسماتی حسن اور ناز و ادا میں گم تھا۔ اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا کہ خطبے میں سے اس کا نام حذف ہوچکا ہے ۔وہ خوش تھاکہ صلاح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام ہونے والا ہے ۔ اُمِ عرارہ نے اسے جلدی سلا نے اور بے ہوش کرنے کے لیے زیادہ شراب پلادی اور شراب میں خواب آور سفوف بھی ملادیا ۔ اس بوڑھے سے جلدی چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے وہ یہی نسخہ استعمال کیا کرتی تھی۔اُسے سلا کر اور قندیلیں بجھاکر وہ کمرے سے نکل گئی ۔وہ اپنے مخصوص کمرے کی طرف جارہی تھی جس میں رجب رات کو چوری چھپے اس کے پاس آیا کر تاتھا۔

وہ کمرے میں داخل ہوئی ہی تھی کہ کواڑوںکے پیچھے سے کسی نے اس پر کمبل پھینکا ۔اس کی آواز بھی نہ نکلنے پائی تھی کہ اس کے منہ پر جہاں پہلے ہی کمبل لپٹ گیاتھا، ایک اور کپڑا باندھ دیاگیا ۔ اسے کسی نے کندھوں پر ڈال لیا اور کمرے سے نکل گیا۔ یہ دو آدمی تھے ۔وہ محل کی بھول بھلیوں اور چور راستوں سے واقف معلوم ہوتے تھے ۔ وہ اندھیری سیڑھیوں پرچڑھ گئے ۔اوپر سے انہوں نے رسہ باندھ کر نیچے لٹکا یا۔ لڑکی کو کندھوں پر ڈالے ہوئے وہ آدمی رسے سے نیچے اُتر گیا ۔اس کے پیچھے دوسرا اُترا اور دونوں اندھیرے میں غائب ہوگئے ۔ کچھ دور چار گھوڑے کھڑے تھے اور ان کے پاس دوآدمی بیٹھے ہوئے تھے۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو اندھیرے میں آتے دیکھا اور یہ بھی دیکھ لیا کہ ایک نے کندھے پر کچھ اُٹھا رکھاہے۔وہ گھوڑوں کو آگے لے گئے ۔سب گھوڑوں پر سوار ہوگئے ایک سوار نے لڑکی کو اپنے آگے ڈال لیا۔ ان میں سے کسی نے کہا……”گھوڑوں کو ابھی دوڑانا نہیں ۔ٹاپو سارے شہر کو جگادیں گے”……گھوڑے آہستہ آہستہ چلتے گئے اور شہر سے نکل گئے ۔

”یہ صلاح الدین ایوبی کاکام ہے”۔

”امیرِ مصر کے سو ا ایسی جرأت اور کوئی نہیں کرسکتا”۔

”اس کے سوا اور ہو ہی کون سکتا ہے”۔

قصرِ خلافت میں یہی شور و غوغا بپاتھا کہ اُمِّ عرارہ کو صلاح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے۔ رجب واپس آگیا تھا۔ محل کے کونے کونے کی تلاشی لی جاچکی تھی۔ محافظ دستہ کمان داروں کے عتاب کا نشانہ بناہواتھا۔ خود کمان دار بھی سپاہیوں کی طرح تھر تھر کانپ رہے تھے۔ ایک لڑکی کا اغوا معمولی واردات نہیں تھی اور لڑکی بھی ایسی جسے خلیفہ حرم کا ہیرا سمجھتاتھا ۔ محل کے پچھواڑے سے ایک رسّہ لٹک رہاتھا۔ زمین پر پائوں کے نشان تھے ۔ جو تھوڑی دُور جا کر گھوڑوں کے نشانات میں ختم ہوگئے تھے ۔ان سے یہ ثبوت مل گیاتھا کہ لڑکی کو رسّے سے اُتارا گیا ہے ۔ اس شک کا اظہار بھی کیاگیا کہ لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ گئی ہے۔خلیفہ نے اس شک کو مسترد کردیاتھا ۔ وہ کہتاتھا کہ اُمِّ عرارہ اس پر جان چھر کتی تھی۔

”یہ صلاح الدین ایوبی کاکام ہے ”……رجب نے العاضد سے کہا……” قصرِ خلافت میں ہر کسی کی زبان پر یہی الفاظ ہیں کہ اس کے سوا اور کوئی بھی ایسی جرأت نہیں کرسکتا”۔

ہر کسی کے کانوں میں یہ الفاظ رجب نے ہی ڈالے تھے۔اسے جونہی اُمِّ عرارہ کی گمشدگی کی اطلاع ملی تھی، اس نے سارے محل میں گھوم پھر کر ہر کسی سے لڑکی کے متعلق پوچھا اور ہر کسی سے کہاتھا……”یہ سلطان ایوبی کاکام ہے ”……قصرِ صدارت کے اعلیٰ حاکم سے ادنیٰ ملازم تک انہی الفاظ کو دہرائے چلے جارہے تھے اور رجب یہ الفاظ خلیفہ العاضد کے کانوں میں پڑے تو اُس نے ذرہ بھر سوچنے کی ضرورت نہ سمجھی کہ یہ الزام بے بنیاد ہوسکتاہے ۔اس کے کانوں میں یہ تو پہلے ہی ڈالا جاچکاتھا کہ سلطان ایوبی عورتوں کا شیدائی ہے۔ اُمِّ عرارہ نے اسے یہ بتایاتھا کہ صلاح الدین ایوبی حرم کی چار لڑکیوں کو خراب کر چکاہے۔خلیفہ نے اسی وقت اپنے خصوصی قاصد کو بلایا اور اُسے کہا کہ امیرِ مصر کے پاس جائو اور اسے کہوکہ پردے میں لڑکی واپس کردو،میں کوئی کاروائ نہیں کرونگا
جس وقت خلیفۂ قاصد کو یہ پیغام دے رہاتھا، اس وقت قاہرہ سے دس بارہ میل دُور تین شتر سوار قاہرہ کی طرف خراماں خراماں آرہے تھے ۔ وہ مصرکی فوج کے گشتی سنتری تھے۔مصر کے سیاسی حالات چونکہ اچھے نہیں تھے۔جاسوسوں اور تخریب کاروں کی سرگرمیاں رُکنے کی بجائے بڑھتی جارہی تھیں ۔سلطان ایوبی کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ملک میں غداری اور بغاوت کی چنگاریاں بھی سلگ رہی ہیں ۔ اُس سوڈانی فوج کی طرف سے جسے اُس نے بر طرف کردیاتھا، خطرہ پوری طرح ٹلانہیں تھا۔ اس فوج کے کمان دار ، عہدے دار اور سپاہی تجربہ کار عسکری تھے۔کسی بھی وقت ملک کے لیے خطرہ بن سکتے تھے ۔ سب سے بڑا خطرہ تو یہ تھا کہ سلطان ایوبی کے مخالفین نے صلیبیوں سے دوستانہ کر رکھاتھا۔ان کے جاسوسوں کو وہ پناہ ، اڈہ اور مدد مہیا کرتے تھے ۔ان خطرات کے پیشِ نظر دار الحکومت سے بہت دُور دُور اور ہر طرف فوج کے چند ایک دستے رکھے گئے تھے۔ان کے گشتی سنتری دن رات صحرائوں اور ٹیلوں ٹیکریوں کے علاقوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر گشت کرتے رہتے تھے ،تاکہ آنے والے خطرے کی اطلاع قبل ازوقت دی جاسکے۔

وہ تین شتر سوار انہی دستوں کے گشتی سنتری تھے جو اپنی ذمہ داری کے علاقے میں گشت کرکے واپس آرہے تھے۔آگے مٹی اور پتھروںکی پہاڑیوں اور چٹانوں کا وسیع علاقہ تھا۔وہ ایک وادی میں سے گزررہے تھے ،انہیں کسی عورت کی آہ و زار سنائی دی۔ مردانہ آوازیں بھی سنائی دیں ۔ان سے صاف پتہ چلتاتھا کہ لڑکی پر زبردستی کی جارہی ہے۔ ایک شتر سوار اُترا اور اس چٹان پر چڑھ گیا ، جس کی دوسری طرف آوازیں آرہی تھی اس نے چھپ کر دیکھا،اُدھر چار گھوڑے کھڑے تھے اور چار آدمی بھی تھے۔ چاروں سوڈانی حبشی تھے……ایک بڑی ہی خوب صورت لڑکی تھی، جو دوڑی جارہی تھی۔ ایک حبشی نے اسے پکڑلیا اور اسے بازوئوں میں دبوچ کر اُٹھا لیا اور اُسے اپنے ساتھیوں کے درمیان کھڑا کرکے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل ہوگیا۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ باندھ کرکہا”تم مقدس لڑکی ہو۔اپنے آپ کو تکلیف میں ڈال کر ہمیں گناہ گار نہ کرو۔ دیوتائوں کا قہر ہمیں جلا ڈالے گا یا ہمیں پتھر بنادے گا”۔

”میں مسلمان ہوں”……لڑکی نے چلا کر کہا……”تمہارے دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں، مجھے چھوڑ دو ورنہ میں تم سب کو خلیفہ کے کتوں سے بوٹی بوٹی کرادوں گی”۔

”تم اب خلیفہ کی ملکیت نہیں ”……ایک حبشی نے اسے کہا……”اب تم اس دیوتا کی ملکیت ہو جس کے ہاتھ میں آسمان کی بجلیوں کا قہر، ناگوں کا زہر اور شیروں کی طاقت ہے ۔اس نے تمہیں پسند کرلیاہے۔ اب جوکوئی تمہیں اس سے چھیننے کی کوشش کرے گا، اسے صحرا کی ریت جلا کر راکھ کردے گی”۔

ایک حبشی نے دوسرے سے کہا……”میں نے تمہیں کہاتھا کہ یہاں نہ رکو، مگر تم آرام کرنا چاہتے تھے۔ اسے بندھا ہوا چلے چلتے اور شام سے پہلے پہلے منزل پر پہنچ جاتے”۔

”کیا ہمارے گھوڑے تھک نہیں گئے تھے؟”……حبشی نے جواب دیا……”ہم ساری رات کے جاگے ہوئے نہیں تھے؟اسے پھر باندھ لو اور چلو”۔

اس نے لڑکی کو دبوچ لیا۔اچانک اس کی پیٹھ میں ایک تیر اُتر گیا۔اُس کی گرفت لڑکی سے ڈھیلی ہوگئی ۔لڑکی اُسے دھکادے کر بھاگنے لگی تو دوسرے آدمی نے اسے پکڑ کر گھسیٹا اور گھوڑوں کی اوٹ میں ہوگیا۔ ایک اور تیر آیا جو ایک آدمی کی گردن میں لگا۔ وہ آدمی بُری طرح تڑپنے لگا،جس آدمی نے لڑکی کو پکڑا تھا، و ہ گھوڑے کی باگ پکڑ کر لڑکی اور گھوڑے کو نشیبی جگہ لے گیا، جو بالکل قریب تھی۔ایک حبشی اور بھی رہ گیاتھا، وہ بھی دوڑ کر نشیب میں اُترگیا……یہ تیر اُس شتر سوار سنتری نے چلائے تھے جو چٹان پر چڑھ گیا تھا ۔اس نے بعد میں جو بیان دیا، اس میں اس نے کہاتھا کہ وہ دیوتائوں کے نام سے ڈر گیا تھا، لیکن لڑکی نے جب یہ کہا کہ میں مسلمان ہوں اور میں دیوتائوں پر لعنت بھیجتی ہوں تو سنتری کا ایمان بیدار ہوگیا۔ لڑکی نے جب خلیفہ کانام لیا تو سنتری سمجھ گیا کہ یہ حرم کی لڑکی ہے۔اس کالباس ، اس کی شکل و صورت اور اس کی ڈیل ڈول بتارہی تھی کہ یہ معمولی درجے کی لڑکی نہیں ،اسے اغوا کیا جارہاہے اور اسے سوڈان میں لے جاکر فروخت کیاجائے گا۔ سنتری کو یہ معلوم تھا کہ تھوڑے دنوں بعد سوڈانی حبشیوں کا ایک میلہ لگنے والا ہے ،جس میں لڑکیوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔

فوج کو سلطان ایوبی نے یہ حکم دے رکھا تھا کہ عورت کی عزت کی حفاظت کی جائے گی ۔ایک عورت کی عزت کو بچانے کے لیے ایک درجن آدمیوں کے قتل کی بھی اجازت تھی۔ سنتری نے یہ ساری باتیں سامنے رکھ کر فیصلہ کرلیا کہ اس لڑکی کو بچانا ہے۔اس نے دو تیر چلائے اور دو حبشی مار ڈالے ۔اس نے غلطی یہ کی کہ باقی دو حبشیوں کو پکڑنے کے لیے نیچے اُتر آیا۔اپنے اونٹ پر سوار ہوا، اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بردہ فروشوں کا تعاقب کرنا ہے۔وہ تینوں اونٹوں کو دوڑاتے دوسری طرف گئے مگر انہیں چٹان کا چکر کاٹ کر جانا پڑا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ اونٹ گھوڑے کا تعاقب کر سکتاہے یا نہیں۔ان تینوں میں سے تیر کمان صرف اسی سنتری کے پاس تھا ۔باقی دو کے پاس برچھیا ں اور تلواریں تھیں ۔

وہ اس جگہ پہنچے جہاں لڑکی اور حبشیوں کو دیکھا گیا تھا تو وہاں دو لاشوں کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ سوڈانی حبشی لڑکی کو بھی لے گئے اور اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کے گھوڑوں کو بھی ۔شتر سواروں نے تعاقب میں اونٹ دوڑائے لیکن وہ ٹیلوں اور چٹانوں کا علاقہ تھا۔راستہ گھومتا اور مڑتا تھا۔ انہیں بھاگئے گھوڑوں کے ٹاپو سنائی دے رہے تھے جو دورہوتے گئے اور خاموش ہوگئے ۔شتر سواروں نے دونوں لاشیں اونٹوں پر لادیں اور واپس آگئے ۔انہیں معلوم تھا کہ یہ لاشیں کس کی ہیں۔یہ عام قسم کے بردہ فروشوں کی بھی ہوسکتی تھیں،انہیں اُٹھا لانا ضروری نہ تھا،لیکن لڑکی خلیفہ کی معلوم ہوتی تھی۔ اس لیے لاشیں اُٹھانا ضروری سمجھا گیا تا کہ یہ معلوم ہوسکے کہ اغو ا کرنے والے کون ہیں.
صلاح الدین ایوبی پریشانی اور غصے کے عالم میں ٹہل رہاتھا۔کمرے میں اس کے مشیر اور معتمد بیٹھے تھے۔یہ اس کے دوست بھی تھے ۔وہ سرجھکائے بیٹھے تھے۔ سلطان ایوبی اپنے آپ کو ہمیشہ قابو میں رکھتاتھا۔ وہ کبھی جذباتی نہیں ہواتھا،وہ غصہ پی جایا کرتاتھا اور ذہن کو پوری طرح قابو میں رکھ کر سوچا اور فیصلہ کیا کرتاتھا۔ایسے حالات نے بھی اسے آزمایاتھا، جن میں جابر جنگجو بھی ہتھیار ڈال دیا کرتے تھے ۔ وہ محاصروں میں بھی لڑا تھا اور اس حال میں بھی محاصرے میں رہاتھا کہ اس کے سپاہیوں کے حوصلے ٹوٹ گئے تھے ،قلعے میں کھانے پینے کے لیے بھی کچھ نہ رہاتھااور سپاہیوں کے ترکش بھی خالی ہوگئے تھے۔ اس کے سپاہی اس انتظار میں تھے کہ وہ ہتھیار ڈال کر انہیں اس اذیت اور موت سے بچالے گا، لیکن سلطان ایوبی نے صرف اپنا حوصلہ ہی مضبوط نہ رکھابلکہ سپاہیوں میں بھی نئی روح پھونک دی ، مگر اس روز سلطان ایوبی کو اپنے اوپر قابو نہیں رہاتھا، چہرے پر غصہ بھی تھا اور گھبراہٹ بھی ۔ یہی وجہ تھی کہ سب خاموش بیٹھے تھے ۔

”آج پہلی بار میرا دماغ میرا ساتھ چھوڑ گیا ہے ”…… اس نے کہا۔

”کیا یہ ممکن نہیں کہ آپ خلیفہ کے اس پیغام کو نظر انداز کردیں ؟”…… اس کے نائب سالار الناصر نے کہا۔

”میں اسی کوشش میں مصروف ہوں ”……سلطان ایوبی نے کہا……”لیکن الزام کی نوعیت دیکھو جو مجھ پر عائد کیاگیاہے ۔ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغوا کروائی ہے۔ استغفر اللہ ۔اللہ مجھے معاف کرے۔اس نے میری توہین میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔پیغام بلکہ دھمکی قاصد کی زبانی بھیجی ہے،وہ مجھے بلا لیتا ،میرے ساتھ براہِ راست بات کرتا”۔

”میں پھر بھی یہی مشورہ دوں گا کہ اپنے آپ کو ٹھنڈا کیجئے ”……بہائوالدین شداد نے کہا۔

”میں سوچ یہ رہاہوں کہ کیا واقعی حرم سے کوئی لڑکی اغوا ہوئی ہے”……سلطان ایوبی نے کہا……”یہ جھوٹ معلوم ہوتاہے ،اسے پتہ چل گیا ہوگا کہ میں نے خطبے سے اس کانام نکلوادیاہے۔اس کے جواب میں اس نے مجھ پر یہ الزام لگایا کر کہ میں نے اس کے حرم کی ایک لڑکی اغواکرائی ہے،انتقام لینے کی کوشش کی ہے”……سلطان ایوبی نے عیسٰی الہکاری فقیہہ سے کہا ……”ایک حکم نامہ مصرکی تمام مسجدوں کے نام جاری کردو کہ آئندہ کسی مسجد میں خطبے میں خلیفہ کا ذکر نہیں کیا جائے گا۔

”آپ اس کے ہاں چلے جائیں اور اس سے بات کریں”……الناصر نے کہا……”اسے صاف الفاظ میں بتادیں کہ خلیفہ قوم کی عزت کا نشان ہوتاہے ،لیکن اس کا حکم نہیں چل سکتا، خصوصاً اس صورتِ حال میں جب حالات جنگی ہیں اور دشمن کا خطرہ باہر سے بھی ہے اور اندر سے بھی موجود ہے ۔میں تو یہاں تک مشورہ دوں گا کہ اس کے محافظ دستے کی نفری کم کردیں ۔سوڈانی حبشیوں کی جگہ مصری دستہ رکھیں اور اس کے محل کے اخراجات کم کردیں ۔ میں اس کے نتائج سے آگاہ ہوں ، ہمیں مقابلہ کرنا ہی پڑے گا، ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے”۔

”میں نے ہمیشہ اپنے اللہ پر بھروسہ کیاہے”……سلطان ایوبی نے کہا……”خدائے ذوالجلال مجھے اس ذلت سے بھی بچالے گا”۔

دربان اندر آیا، سب نے اس کی طرف دیکھا ۔اس نے کہا۔ ”صحرا کے گشتی دستے کا کمان دار اپنے تین سپاہیوں کے ساتھ آیاہے ۔وہ سوڈانیوں کی لاشیں لائے ہیں ”۔

سب نے دربان کی مداخلت کو اچھی نظر سے نہ دیکھا ۔اس وقت سلطان ایوبی بڑے ہی اہم اور خفیہ اجلاس میں مصروف تھا، لیکن سلطان نے دربان سے کہا۔”انہیں اندر بھیج دو”……سلطان ایوبی نے اپنے دربان سے کہہ رکھا تھا کہ جب بھی اسے کوئی ملنے آئے ،وہ اسے اطلاع دے اور اگر رات اسے جگانے کی ضرورت محسوس ہوتو فوراً جگا لے۔ سلطان کوئی بات اور کوئی ملاقات التوا میں نہیں ڈالا کرتاتھا۔

عہدے دار اندر آیا۔ اس کا چہرہ گرد سے اٹا ہوا اور تھکا تھکا نظر آتاتھا۔سلطان ایوبی نے اسے بٹھایا اور دربان سے کہاکہ اس کے لیے پینے کے لیے کچھ لے آئو۔عہدے دار نے سلطان کو بتایا کہ اس کے گشتی سنتریوں نے چار سوڈانی حبشیوں سے ایک مغویہ لڑکی کو چھڑانے کی کوشش میں دو کو تیروں سے مار ڈالا ہے اور وہ لڑکی کو اُٹھا کر بھاگ گئے ہیں۔عہدے دار نے بتایا کہ سنتریوں کے بیان کے مطابق لڑکی خانہ بدوش یا کسی عام گھرانے کی نہیں تھی۔ وہ بہت ہی امیر لگتی تھی اور اس نے کہاتھا کہ وہ خلیفہ کی ملکیت ہے۔

”معلوم ہوتاہے ”……سلطان ایوبی نے کہا……”خدائے ذوالجلال میری مدد کو آگیاہے”……وہ باہر نکل گئے ۔کمرے میں بیٹھے ہوئے سب حاکم اس کے پیچھے چلے گئے ۔

باہر زمین پر دو لاشیں پڑی تھیں ۔ایک لاش پیٹ کے بل تھی۔اس کی پیٹھ میں تیر اُترا ہواتھا۔ دوسری لاش کی گردن میں تیر پیوست تھا۔ پاس تین سپاہی کھڑے تھے۔انہوں نے امیرِ مصرکو جو اُن کا سالار اعلیٰ بھی تھا، شاید پہلی بار دیکھا تھا۔وہ فوجی انداز سے سلام کرکے پرے ہٹ گیا۔ سلطان ایوبی نے ان کے سلام کا صرف جواب ہی نہیں دیا، بلکہ ان سے ہاتھ ملایا اور کہا……”یہ شکار کہاں سے مار لائے ہو مومنو؟” ……اس سنتری نے جس نے چٹان سے تیر چلا کر دو آدمیوں کو مارا تھا ۔سلطان ایوبی کو سارا واقعہ پوری تفصیل سے سنادیا۔

”کیا یہ ممکن ہوسکتاہے کہ وہ لڑکی خلیفہ کی ہی داشتہ ہو؟”……سلطان ایوبی نے اپنے مشیروں سے پوچھا۔

معلوم یہی ہوتاہے ”……علی بن سفیان نے کہا……”ان کے خنجر دیکھئے ”۔ اس نے دو خنجر سلطان ایوبی کو دکھائے ،جس وقت سپاہی واقعہ سنارہاتھا۔ علی بن سفیان لاشوں کی تلاشی لے رہاتھا۔ انہوں نے سوڈان کا قبائلی لباس پہن رکھاتھا۔ کپڑوں کے اندر ان کے کمربندتھے ،جن کے ساتھ ایک ایک خنجر تھا۔یہ خلیفہ کے حفاظتی دستے کے خاص ساخت کے خنجر تھے ۔ ان کے دستوں پر قصرِ خلافت کی مہریں لگی ہوئی تھی۔ علی بن سفیان نے کہا……”اگر انہوں نے یہ خنجر چوری نہیں کیے تو یہ دونوں قصرِ خلافت کے حفاظتی دستے کے سپاہی ہیں۔ یہ کہاجاسکتاہے کہ لڑکی وہی ہے جو خلیفہ کے حرم سے اغواہوئی ہے اور اغوا کرنے والے خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ”۔

”لاشیں اُٹھوائو اور خلیفہ کے پاس لے چلو”……سلطان ایوبی نے کہا ۔

”پہلے یقین کرلیاجائے کہ یہ واقعی خلیفہ کے محافظوں میں سے ہیں ”۔علی بن سفیان نے کہا اور وہاں سے چلاگیا۔

زیادہ وقت نہیں گزراتھا کہ علی بن سفیان کے ساتھ قصرِ خلافت کا ایک کمان دار آگیا۔ اسے دونوں لاشیں دکھائی گئیں۔ اس نے فوراً پہچان لیا اور کہا……”یہ دونوں محافظ دستے کے سپاہی ہیں ، گزشتہ تین روز سے چُھٹی پر تھے ۔ ان کی چُھٹی سات دن رہتی تھی”۔

”کو ئی اور سپاہی بھی چُھٹی پر ہے ؟”……سلطان ایوبی نے پوچھا۔

”دو اور ہیں ”۔

”کیا وہ اِن کے ساتھ چُھٹی پر گئے تھے؟”

”اکٹھے گئے تھے”۔کمان دار نے جواب دیا اور ایک ایسا انکشاف کیا جس نے سب کو چونکادیا۔اس نے کہا……”یہ سوڈان کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جو خون خواری میں مشہور ہے۔ ان میں فرعونوں کے وقت کی کچھ رسمیں چلی آرہی ہیں ۔یہ قبیلہ ہر تین سال بعد ایک جشن مناتا ہے ۔یہ ایک میلہ ہوتاہے جو تین دن اور تین راتیں رہتاہے۔دن ایسے مقرر کرتے ہیں کہ چوتھی رات چاند پوراہوتاہے ۔میلے میں وہ لوگ بھی جاتے ہیں جن کا اس قبیلے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔وہ صرف عیاشی کے لیے جاتے ہیں ۔میلے میں لڑکیوں کی خرید و فروخت کے لیے باقاعدہ منڈی لگتی ہے ۔اس میلے سے ایک ماہ پہلے ہی اِرد گرد ،بلکہ قاہرہ تک کے لوگ جن کی بیٹیاں جوان ہوگئی ہیں ،ہوشیار اور چوکس ہوجاتے ہیں ۔ وہ لڑکیوں کو باہر نہیں جانے دیتے ۔ ان دنوںخانہ بدوش بھی اس علاقے سے دور چلے جاتے ہیں۔ لڑکیاں اغواہوتی ہیں اور اس میلے میں فروخت ہوجاتی ہیں ۔ یہ چاروں سوڈانی اسی میلے کیلئے چُھٹی پر گئے تھے ۔ میلہ تین روز بعد شروع ہورہاہے ”۔

”کیا ان کے متعلق یہ کہاجاسکتاہے کہ خلیفہ کے حرم کی لڑکی انہوں نے اغوا کی ہوگی؟”……علی بن سفیان نے پوچھا۔

”میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ”۔ کمان دار نے جواب دیا ……”یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان دنوں میں اس قبیلے کے لوگ جان کا خطرہ مول لے کر بھی لڑکیا ں اغوا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ خون خوار اتنے ہیں کہ اگر کسی لڑکی کے وارث میلے میں چلے جائیں اور اپنی لڑکی لینے کی کوشش کریں تو انہیں قتل کردیاجاتا ہے۔لڑکیوں کے گاہکوں میں مصرکے امیر، وزیر اور حاکم بھی ہوتے ہیں ۔ میلے میں ایسے قحبہ خانے بھی کھل جاتے ہیں ،جہاں جواء ، شراب اور عورت کے شدائی دولت لُٹاتے ہیں ۔ اس جشن کی آخری رات بڑی پُر اسرار ہوتی ہے۔ کسی خفیہ جگہ ایک نوجوان اور غیر معمولی طور پر حسین لڑکی کو قربان کیا جاتاہے ۔ یہ کسی کو بھی معلوم نہیں کہ لڑکی کو کہاں اور کس طرح قربان کیاجاتاہے ۔یہ کام ان کا ایک مذہبی پیشوا ، جسے حبشی خدابھی کہتے ہیں ،کرتاہے ۔ اس کے ساتھ بہت تھوڑے سے خاص آدمی اور چار پانچ لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ لوگوں کو لڑکی کا کٹاہوا سر اور خون دکھایا جاتاہے ، جسے دیکھ کر یہ قبیلہ پاگلوں کی طرح ناچتا اور شراب پیتاہے ۔

٭ ٭ ٭

خلیفہ نے محافظ دستے کے ناک میں دم کررکھا تھا۔تمام تر محافظ دستہ دھوپ میں کھڑا تھا۔ سورج غروب ہونے میں کچھ دیر باقی تھی ۔ اس دستے کو صبح کھڑا کیا گیاتھا۔ کمان داروں اور عہدے داروں کو بھی کھانے کی اجازت دی گئی تھی،نہ پانی پینے کی ۔رجب بار بار آتا اور اعلان کرتا تھا کہ لڑکی محافظوں کی مدد کے بغیر اغواء نہیں کی جاسکتی تھی۔جس کسی نے اغوا میں مدددی ہے، وہ سامنے آجائے ،ورنہ تمہیں یہیں بھوکا اور پیاسا مار دیاجائے گا۔ اگر لڑکی خود باہر گئی ہوتی تو تم میں سے کسی نہ کسی نے ضرور دیکھی ہوتی ……ان دھمکیوں کا کچھ اثر نہیں ہورہاتھا۔ سب کہتے تھے کہ وہ بے گناہ ہیں ۔

خلیفہ رجب کو ٹکنے نہیں دے رہاتھا۔ اس نے رجب سے کہاتھا۔ ”مجھے لڑکی کا افسوس نہیں ، پریشانی یہ ہے کہ جو اتنے کڑے پہرے سے لڑکی کو اغوا کر سکتے ہیں ،وہ مجھے بھی قتل کرسکتے ہیں ۔مجھے یہ ثبوت چاہیے کہ لڑکی کو صلاح الدین ایوبی نے اغوا کرایا ہے ”۔

رجب نے ہی اغواکا بہتان سلطان ایوبی کے سر تھوپا تھا، مگر خلیفہ اسے کہہ رہاتھا کہ ثبوت لائو،رجب ثبوت کہاں سے لاتا،اس کی جان پر بن گئی تھی۔وہ ایک بار پھر محافظ دستے کے سامنے گیا، غصے سے وہ بائولا ہوا جارہاتھا۔ وہ کئی بار دی ہوئی دھمکی ایک بار پھر دینے ہی لگا تھا کہ دروازے پر کھڑے سنتریوں نے دروازے کھول دئیے اور اعلان کیا……”امیرِ مصر تشریف لارہے ہیں”۔

بڑے دروازے میں سلطان ایوبی کا گھوڑا داخل ہوا۔ اس کے آگے وہ محافظ سواروں کے گھوڑے تھے۔آٹھ سوار پیچھے تھے ۔ ایک دائیں اور بائیں تھا۔ ان کے پیچھے سلطان ایوبی کے حاکم اور مشیر تھے ۔ ان میں علی بن سفیان بھی تھا۔ رجب نے خلیفہ کو اطلاع بھیج دی کہ صلاح الدین ایوبی آیاہے ۔ سب نے دیکھا کہ سلطان ایوبی کے اس جلوس کے پیچھے چار پہیوں والی ایک گاڑی تھی۔جس کے آگے دو گھوڑے جُتے ہوئے تھے ۔گاڑی پر دولاشیں پڑی تھیں ۔ ایک سیدھی اور دوسری اُلٹی ۔تیر ابھی تک لاشوں میں اُترے ہوئے تھے ۔ ان لاشوں کے ساتھ وہ تین شترسوار تھے، جنہوں نے ان حبشیوں کا مارا تھا۔

خلیفہ باہر آگیا۔ سلطان ایوبی اور اس کے تمام سوار گھوڑوں سے اُترے ۔ سلطان ایوبی نے اسی احترام سے خلیفہ کو سلام کیا جس احترام کا وہ حق دار تھا۔ جھک کر اس سے مصافحہ کیا اور ہاتھ چوما۔

”مجھے آپ کا پیغام مل گیاتھا کہ میں آپ کے حرم کی لڑکی واپس کردوں ”۔ سلطان ایوبی نے کہا……”میں آپ کے دو محافظوں کی لاشیں لایاہوں ۔یہ لاشیں مجھے بے گناہ ثابت کردیں گی اور میں حضور اقدس میں یہ گزارش کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ صلاح الدین ایوبی آپ کی فوج کا سپاہی نہیں ہے، جس خلافت کی آپ نمائندگی کررہے ہیں ،وہ اس کا بھیجا ہواہے”۔

خلیفہ نے صلاح الدین ایوبی کے تیور بھانپ لیے۔اس فاطمی خلیفہ کا ضمیر گناہوں کے بوجھ سے کراہ رہاتھا۔ وہ سلطان ایوبی کی بارعب اور پُر جلال شخصیت کا سامنا کرنے کے قابل نہیں تھا۔اس نے سلطان ایوبی کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا……”میں تمہیں اپنے بیٹوں سے زیادہ عزیز سمجھتا ہوں ،صلاح الدین ایوبی اندر آئو”۔

”میری حیثیت ابھی ملزم کی ہے ”۔سلطان ایوبی نے کہا……”مجھے ابھی صفائی پیش کرنی ہے کہ میں اغوا کا ملزم نہیں ہوں ۔ خدائے ذوالجلال نے میری مددفرمائی ہے اور دولاشیں بھیجی ہیں ۔یہ لاشیں بولیں گی نہیں ، ان کی خاموشی اور ان میں اُترے ہوئے تیر گواہی دیں گے کہ صلاح الدین ایوبی اس جرم کا مجرم نہیں ہے ، جو قصرِ خلافت میں سرزد ہوا ہے۔میں جب تک اپنے آپ کو بے گناہ ثابت نہ کرلوں گا، اندر نہیں جائوں گا”……وہ لاشوں کی طرف چل پڑا۔

خلیفہ کھچا ہوا اُس کے پیچھے پیچھے گیا۔ تھوڑی دُور چار ساڑھے چار سو نفری کا محافظ دستہ کھڑا تھا ۔سلطان ایوبی نے لاشیں اُٹھوا کر اس دستے کے سامنے رکھ دیں اور بلند آواز سے کہا …… ”آٹھ آٹھ سپاہی آگے آئو اور لاشوں کو دیکھ کر بتائوکہ یہ کون ہیں ؟” …… پہلے کمان دار اور عہدے دار آئے ۔انہوں نے لاشیں دیکھ کر ان کے نام بتائے اور کہا…… ”یہ ہمارے دستے کے سپاہی تھے”……ان کے بعد آٹھ سپاہی آئے ، انہوں نے بھی لاشوں کو دیکھ کر کہا کہ یہ ان کے ساتھی تھے ۔آٹھ اور سپاہی آئے ، پھر آٹھ اور آئے ۔اسی طرح آٹھ آٹھ سپاہی آتے رہے اور بتاتے رہے کہ یہ لاشیں ان کے فلاں فلاں ساتھیوں کی ہیں ۔

”صلاح الدین ایوبی !” ……خلیفہ نے کہا……”میں نے مان لیاہے کہ یہ لاشیں قصرِ خلافت کے دو محافظوں کی ہیں ۔میں اس سے آگے سننا چاہتاہوں کہ انہیں کس نے ہلاک کیا ہے ”۔

صلاح الدین ایوبی نے اس گشتی سنتری سے ، جس نے انہیں ہلاک کیا تھا ،کہا کہ اپنا بیان دہرائے ۔اُس نے سارا واقعہ خلیفہ کو سنادیا۔ وہ ختم کرچکا تو سلطان ایوبی نے خلیفہ سے کہا……”لڑکی میرے پاس نہیں لائی گئی ۔وہ سوڈانی حبشیوں کے میلے میں فروخت ہونے کے لیے گئی ہے”۔

خلیفہ کھسیانہ ہوا جارہاتھا۔ اس نے سلطان ایوبی سے کہا کہ وہ اندر چلے ۔سلطان ایوبی نے اندر جانے سے انکار کردیا اور کہا……”میں اس لڑکی کو زندہ یا مردہ بر آمد کرکے آپ کے حضور حاضری دوںگا ۔ابھی میں اتنا ہی کہوں گا کہ حرم کی ایک ایسی لڑکی اغوا جو تحفے کے طور پر آئی تھی اور جو آپ کی منکوحہ بیوی نہیں داشتہ تھی ، میرے لیے ذرہ بھر اہمیت نہیں رکھتی ۔خداوند تعالیٰ نے مجھے اس سے اہم فرائض سونپے ہیں ”۔

”میری پریشانی یہ نہیں کہ ایک لڑکی اغواہوگئی ہے ”۔ خلیفہ نے کہا……”اصل پریشانی یہ ہے کہ اس طرح لڑکیاں اغوا ہونے لگیں تو ملک میں قانون کا کیا حشر ہوگا”۔

”اور میری پریشانی یہ ہے کہ سلطنتِ اسلامیہ اغواہورہی ہے ”۔۔سلطان ایوبی نے کہا……”آپ زیادہ پریشان نہ ہوں ۔میرا شعبہ سراغ رسانی لڑکی کو برآمد کرنے کی پوری کوشش کرے گا”۔

خلیفہ سلطان ایوبی کو ذراپرے لے گیا اور کہا……”صلاح الدین ! میں ایک عرصے سے دیکھ رہاہوں کہ تم مجھ سے کھچے کھچے رہتے ہو۔ میں نجم الدین ایوب )سلطان صلاح الدین ایوبی کے والد محترم (کا بہت احترام کرتاہوں ،مگر تمہارے دل میں میرے لیے ذرہ بھر احترام نہیں ہے اور مجھے آج بتایا گیا ہے کہ جامع مسجد کے خطیب امیر العالم نے یہ گستاخی کی ہے کہ خطبے سے میرا نام ہٹادیاہے ۔مجھے رجب نے بتایا ہے کہ میں اسے اس گستاخی کی سزا دے سکتاہوں ۔ میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس نے تمہای شہ پر تو ایسا نہیں کیا؟”

”میری شہہ پر نہیں ، میرے حکم پر اس نے خلیفہ کانام خطبہ سے حذف کیاہے ”۔ سلطان ایوبی نے کہا……”صرف آپ کانام نہیں ،بلکہ ہر اس خلیفہ کانام خطبے سے ہٹادیاگیاہے جو آپ کے بعد آئے گا اور جو اُس کے بعد آئے گا”۔

”کیا یہ حکم فاطمی خلافت کمزور کرنے کے لیے جاری کیاگیاہے ؟”خلیفہ نے پوچھا……”مجھے شک ہے کہ یہاں عباسی خلافت لائی جارہی ہے”۔

”حضور بہت بوڑھے ہوگئے ہیں ”۔سلطان ایوبی نے کہا ……”قرآن نے شراب کو اسی لیے حرام کہاہے کہ اس سے دماغ مائوف ہوجاتاہے ”……سلطان نے ذرا سوچ کر کہا……”میں نے فیصلہ کیا ہے کہ کل سے آپ کے محافظ دستے میں ردوبدل ہوگا اور رجب کو میں واپس لے کر آپ کو نیا کمان داردوں گا”۔

”لیکن میںرجب کویہاں رکھنا چاہتا ہوں ” خلیفہ نے کہا۔

”میں حضور سے درخواست کرتاہوں کہ فوجی معاملات میں دخل دینے کی کوشش نہ کریں ۔ سلطان ایوبی نے کہا اور علی بن سفیان کی طرف متوجہ ہوا جو پانچ حبشی محافظو کو ساتھ لیے آرہاتھا۔

” یہ پانچوں اُسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ” علی بن سفیان نے کہا…… ”میں نے اس دستے سے مخاطب ہو کر کہا کہ اس قبیلے کے کوئی آدمی یہاں ہوں تو باہر آجائیں ۔یہ پانچ صفوں سے باہر آگئے ۔ ان کے متعلق مجھے ان کے کمان دار نے بتایا ہے کہ پرسوں سے چُھٹی پر جا رہے تھے ۔ میں انہیں اپنے ساتھ لے جارہاہوں ۔لڑکی کے اغوا میں ان کا ہاتھ ہوسکتاہے ”۔

صلاح الدین ایوبی نے رجب کو بلا کر کہا…… ”کل یہاں دوسرا کمان دار آرہاہے ، آپ میرے پاس آجائیں گے ۔ میں آپ کو منجنیقوں کی کمان دینا چاہتا ہوں۔

رجب کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔

اُمِّ عرارہ کو گھوڑے پر ڈالئے ہوئے جب وہ دو حبشی اتنی دُور نکل گئے ،جہاں انہیں تعاقب کا خطرہ نہ رہاتو انہوں نے نے گھوڑے روک لیے ۔لڑکی ایک بار پھر آزاد ہونے کو تڑپنے لگی۔ حبشیوں نے اسے کہا کہ اس کا تڑپنا بے کار ہے۔اب اگر اُسے وہ آزاد بھی کردیں تو وہ اس ریگستان سے زندہ نہیں نکل سکے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اسے بے آبرو نہیں کرنا چاہتے ۔ اگر اُن کی نیت ایسی ہوتی تو وہ اس کے ساتھ وحشیوں جیسا سلوک کر چکے ہوتے۔ اُمِّ عرارہ حیران تھی کہ انہوں نے اسے چھیڑا تک نہیں تھا۔ انہیں تو جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ اتنی دلکش لڑکی ان کے رحم و کرم پر ہے۔ ان میں سے ایک نے جو مارا جا چکاتھا، مرنے سے پہلے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر التجا کی تھی کہ وہ تڑپ تڑپ کر اپنے آپ کو اذیت میں نہ ڈالے۔اُمِّ عرارہ نے ان سے پوچھا کہ اسے کہاں لے جایا جارہاہے تو اسے جواب دیاگیا کہ وہ اسے آسمان کے دیوتاکی ملکہ بنانے کے لیے لے جارہے ہیں۔

انہوں نے لڑکی کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور اُٹھا کر گھوڑے پر بٹھا دیا ۔اس نے آزاد ہونے کی کوشش ترک کر دی۔ اس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ کوشش بے سود ہے ۔گھوڑے چل پڑے اوراُمِّ عرارہ ایک حبشی کے آگے گھوڑے پر بیٹھی محسوس کیا کہ رات ہوگئی ہے ۔گھوڑے رُک گئے ۔اس وقت تک اس نازک لڑکی کا جسم مسلسل گھوڑ سواری سے ٹوٹ چکا تھا۔ دہشت سے اس کا دماغ بے کار ہوگیاتھا۔ اسے گھوڑے رُکتے ہی اپنے ارد گرد تین چار مردوں اور تین عورتوں کی ملی جلی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ یہ زبان اس کی سمجھ سے بالا تھی۔ یہی حبشی راستے میں اس کے ساتھ عربی زبان میں باتیں کرتے تھے۔ ان کا لہجہ عربی نہیں تھا۔

ابھی اس کی آنکھوں سے پٹی نہیں کھولی گئی تھی۔ اس کی تو جیسے زبان بھی بند ہوگئی تھی۔ اُسے کسی نے اُٹھا کر کسی نرم چیز پر بٹھا دیا۔ یہ پالکی تھی ۔پالکی اوپر کو اُٹھی اور اس کا ایک اور سفر شروع ہوگیا۔ اس کے ساتھ ہی دف کی ہلکی ہلکی گونج دار تھاپ سنائی دینے لگی اور عورتیں گانے لگیں۔اس گانے کے الفاظ تو وہ نہ سمجھ سکتی تھی، اس کی لَے میں جادو کا اثر تھا ۔یہ اثر ایسا تھا، جس نے اُمِّ عرارہ کے خوف میں اضافہ کردیا، لیکن اس خوف میں ایسا تاثر بھی پیدا ہونے لگا جیسے اس پر نشہ یا خمار طاری ہورہاہو۔ رات کی خنکی خمار میں لذت سی پیدا کررہی تھی۔ اُمِّ عرارہ نے یہ چاہتے ہوئے کہ وہ پالکی سے کود جائے اور بھاگ اُٹھے اور یہ لوگ اُسے جان سے ماردیں،اس نے ایسی جرأت نہ کی ۔وہ محسوس کررہی تھی کہ وہ ان انسانوں کے قبضے میں نہیں بلکہ کوئی اور ہی طاقت ہے جس نے اس پر قابو پالیا ہے اور اب وہ اپنی مرضی سے کوئی حرکت نہیں کر سکے گی۔

وہ محسوس کرنے لگی کہ پالکی بردار سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں ، وہ چڑھتے گئے ۔کم و بیش تیس سیڑھیاں چڑھ کر وہ ہموار چلنے لگے اور چند قدم چل کر رُک گئے ۔پالکی زمین پر رکھ دی گئی۔اُمِّ عرارہ کی آنکھوں سے پٹی کھول کر کسی نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔تھوڑی دیر بعد ان ہاتھوں کی انگلیاں کھلنے لگی اور لڑکی کو روشنیاں دکھائی دینے لگی۔ آہستہ آہستہ ہاتھ اُس کی آنکھوں سے ہٹ گئے ۔ وہ ایک ایسی عمارت میں کھڑی تھی جو ہزاروں سال پرانی نظر آتی تھی۔ گول ستون اوپر تک چلے گئے تھے ۔ایک وسیع ہال تھا جس پر فرش روشنیوں میں چمک رہاتھا ۔دیواروں کے ساتھ ڈنڈے سے لگے ہوئے تھے اور ڈنڈوں کے سروں پر مشعلو ں کے شعلے تھے ۔اندر کی فضا میں ایسی خوشبو تھی جس کی مہک اس کے لیے نئی تھی۔ دف کی ہلکی ہلکی تھاپ اور عورتوں کا گیت اسے سنائی دے رہاتھا۔ یہ تھاپ اور یہ لَے ہال میں ایسی گونج پیدا کررہی تھی، جس میں خواب کا تاثر تھا۔

اُس نے سامنے دیکھا ۔ایک چبوترہ تھا جس کی آٹھ دس سیڑھیاں تھیں ۔چبوترے پر پتھر کے بُت کا منہ اور سر تھا۔اس کی ٹھوڑی کے نیچے تھوڑی سی گردن تھی۔ٹھوڑی سے ماتھے تک یہ پتھر کا چہرہ قد آور انسان سے بھی ڈیڑھ دو فٹ اونچا تھا۔منہ کھلاہوا تھا جو اتنا چوڑا تھا کہ ایک آدمی ذراسا جھک کر اس میں داخل ہوسکتا تھا۔ منہ میں سفید دانت بھی تھے۔یوں لگتا تھا جیسے یہ چہرہ قہقہے لگا رہاہو۔ اس کے دونوں کانوں سے ڈنڈے نکلے ہوئے تھے،جن کے باہر والے سروں پر مشعلیں جل رہی تھی۔اچانک اس کی آنکھیں جو کم و بیش گز گز بھر چوڑی تھیں ،چمکنے لگیں ۔ان سے روشنی پھوٹنے لگی ۔ عورتوں کے گیت کی لَے بدل گئی ۔ دف کی تھاپ میں جوش پیدا ہوگیا ۔ پتھر کے منہ کے اندر روشنی ہوگئی ۔لمبے لمبے سفید چغے پہنے ہوئے دو آدمی جھک کر منہ سے باہر آئے۔منہ سے باہر آکر ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف کھڑا ہوگیا۔

اس کے بعد پتھر کے منہ میںسے ایک اور آدمی نمودار ہوا۔وہ بھی جھک کر باہر آیا۔وہ ذرا بوڑھا لگتا تھا۔ اس کا چغہ سرخ رنگ کاتھا اور اس کے سر پر تاج تھا۔ ایک سانپ جو مصنوعی تھا اسکے دائیں کندھے پر کنڈلی مارے اور پھن پھیلائے بیٹھا تھا اور ایک بائیں کندھے پر ۔ دونوں سانپوں کے رنگ سیاہ تھے۔ اُمِّ عرارہ پر ایسا رعب طار ی ہوا کہ وہ سُن ہوکے کھڑی رہی ۔یہ آدمی جو اس قبیلے کا مذہبی پیشوا یا پروہت تھا، چبوترے کی سیڑھیاں اُتر آیا۔ وہ آہستہ آہستہ اُمِّ عرارہ تک آیا اور دونوں گھٹنے فرش پر رکھ کر اس نے لڑکی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر چوم لیے۔ اس نے لڑکی سے عربی زبان میں کہا……”تم ہو وہ خوش نصیب لڑکی جسے میرے دیوتا نے پسند کیا ہے۔ہم تمہیں مبارک باد پیش کرتے ہیں ”۔

اُمِّ عرارہ بیدار ہوگئی ۔اس نے روتے ہوئے کہا……”میں کسی دیوتا کو نہیں مانتی ،اگر تم دیوتائوں کو مانتے ہوتو میں تمہیں انہی کا واسطہ دے کر کہتی ہوں کہ مجھے چھوڑ دو ۔مجھے یہاں کیوں لائے ہو”۔

”یہاں جو بھی آتی ہے ،یہی کہتی ہے ”۔ پروہت نے کہا……”لیکن اُس پر اس مقدس جگہ کا راز کھلتا ہے تو کہتی ہے کہ میں یہاں سے جانا نہیں چاہتی ۔میں جانتاہوں تم مسلمانوں کے خلیفہ کی محبوبہ ہو، مگر جس نے تمہیں پسند کیا ہے،،اس کے آگے دنیا کے خلیفے اور آسمانوں کے فرشتے سجدے کرتے ہیں ۔تم جنت میں آگئی ہو”۔ اس نے چغے کے اندرسے ایک پھول نکالا اور اُمِّ عرارہ کی ناک کے ساتھ لگادیا۔ اُمِّ عرارہ حرم کی شہزادی تھی۔اس نے ایسے ایسے عطر سونگے تھے جو اس جیسی شہزادیوں کے سوا اور کوئی خواب میں بھی نہیں سونگ سکتاتھا، مگر اس پھول کی بو اس کے لیے انوکھی تھی۔یہ بو اسکی روح تک اُتر گئی ۔اس کی سوچوں کا رنگ ہی بدل گیا۔اس کی نظروں کے زاویے ہی بدل گئے ۔پروہت نے کہا……”یہ دیوتا کا تحفہ ہے”…… اور اس نے پھول اس کی ناک سے ہٹالیا۔

اُمِّ عرارہ نے ہاتھ آہستہ آہستہ آگے کیا اور پروہت کا پھول والا ہاتھ پکڑ کر اپنی ناک کے قریب لے آئی۔پھول سونگھ کر خمار آلود آواز میں بولی۔”کتنا دل نشین تحفہ ہے۔آپ یہ مجھے دیں گے نہیں ؟”

”کیا تم نے تحفہ قبول کرلیاہے؟” ۔پروہت نے پوچھا ۔اس کے ہونٹوں پر مُسکراہٹ تھی۔”ہاں اُمِّ عرارہ نے جواب دیا……”میں نے یہ تحفہ قبول کرلیاہے ”……اس نے پھول کو ایک بار پھر سونگھا اور اس نے آنکھیں بند کرلیںجیسے مہک کو ا پنے وجود میں جذب کرنے کی کوشش کررہی ہو۔

”دیوتانے بھی تمہیں قبول کرلیاہے”۔ پروہت نے کہا اور پوچھا……”تم اب تک کہاں تھیں ؟”

لڑکی سوچ میں پڑگئی جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش کررہی ہو۔سر ہلا کر بولی……”میں یہیں تھی……نہیں ۔میں ایک اورجگہ تھی ……مجھے یاد نہیں کہ میں کہاں تھی”۔

”تمہیں یہاں کون لایاہے؟”

”کوئی بھی نہیں ”……اُمِّ عرارہ نے جواب دیا……”میں خود آئی ہوں”

”تم گھوڑے پر نہیں آئی تھیں؟”

”نہیں ”۔لڑکی نے جواب دیا……”میں اُڑتی ہوئی آئی ہوں”۔

”کیا راستے میں صحرا اور پہاڑ اور جنگل اور ویرانے نہیں تھے؟”

”نہیں تو!”۔ لڑکی نے جواب دیا……”ہر طرف سبزہ زار اور پھول تھے”۔

”تمہای آنکھوں پر کسی نے پٹی نہیں باندھی تھی؟”
”پٹی ؟……نہیں تو”۔لڑکی نے جواب دیا……”میری آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور میں نے رنگ برنگ پرندے دیکھے تھے،پیارے پیارے پرندے۔”

پروہت نے اپنی زبان میں بلند آواز سے کھچ کہا۔اُمِّ عرارہ کے عقب سے چار لڑکیاں آئیں ۔انہوں نے اس کے کپڑے اُتار دئیے۔وہ مادر زاد ننگی ہوگئی ۔اُس نے مُسکراکر پوچھا ……”دیوتا مجھے اس حالت میں پسند کریں گے؟”پروہت نے کہا……”نہیں تمہیں دیوتا کے پسند کے کپڑے پہنا ئے جائیں گے”……لڑکیوں نے اس کے کندھوں پر چادر سی ڈال دی جو اتنی چوڑی تھی کہ کندھوں سے پائوں تک اس کا جسم مستور ہوگیا۔اس چادر کے کناروں پر رنگ دار رسیوں کے ٹکڑے تھے۔چادر آگے کرکے ان ٹکڑوں کا گانٹھیں دے دی گئیں اور چادر نہایت موزوں چغہ بن گئی۔ اُمِّ عرارہ کے بال ریشم جیسے ملائم اور سیاہی مائل بھور ے تھے۔ایک لڑکی نے اس کے بالوں میں کنگھی کرکے اس کے شانوں پر پھیلا دئیے ۔اسکا حسن اور زیادہ بڑھ گیا۔

پروہت نے اسے مُسکراکر دیکھا اور گھوم کر پتھر کے مہیب چہرے کی طرف چل پڑا۔دولڑکیوں نے اُمِّ عرارہ کے ہاتھ تھام لیے اور پروہت کے پیچھے پیچھے چل پڑیں ۔اُمِّ عرارہ شہزادیوں کی طرح چل پڑی ۔ اس نے اِدھر اُدھر نہیں دیکھاکہ ماحول کیسا ہے۔اس کی چال میں اور ہی شان تھی۔عورتوں کاراگ اسے پہلے سے زیادہ طلسماتی اور پُر سوز معلوم ہونے لگا۔وہ پروہت کے پیچھے ،ہاتھ لڑکیوںکے ہاتھوں پر رکھے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھنے لگی۔ پروہت پتھر کے پہاڑ جیسے چہرے کے منہ میں داخل ہوگیا۔ اُمِّ عرارہ بھی تین سیڑھیاں چڑھ کر بُت کے منہ میں جھک کر داخل ہوگئی۔ دونوں لڑکیاں وہیں کھڑی رہیں ۔اُمِّ عرارہ کا ہاتھ پروہت نے تھام لیا۔ منہ کی چھت اتنی اونچی تھی کہ وہ سیدھے چل رہے تھے ۔ حلق میں پہنچے تو آگے سیڑھیاں تھیں۔ وہ سیڑھیاں اُتر گئے۔یہ ایک تہہ خانہ تھا جہاں قندیلیں روشن تھیں۔ایک کمرے میں بھی مہک تھی۔یہ کمرہ کشادہ نہیں تھا،چھت اونچی نہیں تھی۔اس کی دیوار یں اور چھت درختوں کے پتوں اور پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ فرش پر ملائم گھاس اور گھاس پر پھول بچھے ہوئے تھے۔ایک کونے میں خوشمنا صراحی اور پیالے رکھے تھے۔ پروہت نے صراحی سے دو پیالے بھرے ۔ایک اُمِّ عرارہ کو دیا ،دونوں نے پیالے ہونٹوں سے لگائے اور خالی کردئیے۔

”دیوتا کب آئے گا؟” اُمِّ عرارہ نے پوچھا۔

”تم نے ابھی اسے پہچانا نہیں ؟” پروہت نے کہا……”تمہارے سامنے کون کھڑ اہے ؟”

اُمِّ عرارہ اس کے پائوں میں بیٹھ گئی اور بولی……”ہاں ! میں نے اسے پہچان لیا ہے۔تم وہ نہیں ہو جسے میں نے اوپر دیکھا تھا۔ تم نے مجھے قبول کرلیا ہے؟”

”ہاں !” پروہت نے کہا ……”آج سے تم میری دلہن ہو”۔

٭ ٭ ٭

”میں آپ کو اور کچھ نہیں بتاسکتا ۔میرے باپ نے مجھے بتایا تھا کہ پروہت لڑکی کو پھول سونگھاتا ہے جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاہے کہ وہ کیا تھی، کہاں سے آئی ہے اور کس طرح لائی گئی ہے۔وہ پروہت کی لونڈی بن جاتی ہے اور اسے دُنیا کی گندی چیز یں بھی خوب صورت دکھائی دیتی ہیں ۔پروہت تین راتیں اسے اپنے ساتھ تہہ خانے میں رکھتا ہے”۔

یہ انکشاف ان پانچ سوڈانی حبشیوں میں سے ایک نے علی بن سفیان کے سامنے بیان کررہاتھا ،جنہیں اس نے خلیفہ کے محافظ دستے میں سے نکالاتھا۔ یہ پانچوں اسی قبیلے میں سے تھے، جس قبیلے کے وہ چاروں تھے،جنہوں نے اُمِّ عرارہ کو اغوا کیاتھا۔ اپنے ساتھ لے جاکر علی بن سفیان نے ان پانچوں سے کہاتھا کہ چونکہ وہ اسی قبیلے کے ہیں جو تیسرے سال کے آخر میں جشن مناتاہے اور وہ چُھٹی پر جارہے تھے۔ اس لیے انہیں معلوم ہوگا کہ لڑکی کس طرح اغوا ہوئی ہے۔ ان پانچوں نے کہا کہ انہیں اغوا کا علم ہی نہیں ۔علی بن سفیان نے انہیں یہ لالچ بھی دیا کہ وہ سچ بتادیں گے تو انہیں کوئی سزانہیں دی جائے گی، پھر بھی وہ لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ۔یہ قبیلہ وحشیانہ مزاج اور خون خواری کی وجہ سے مشہور تھا۔ا نہیں سزا کا ذرّہ بھر ڈرنہ تھا۔ پانچوں بہت دلیری سے انکار کررہے تھے۔ آخر علی بن سفیان کو وہ ریقے آزمانے پڑے جو پتھر کو بھی پگھلادیتے ہیں ۔

پانچوں کو الگ الگ کرکے علی بن سفیان انہیں اس جگہ لے گیا جہاں چیخیں اور آہ و بکا کوئی نہیں سنتاتھا۔ مسلسل اذیت اور تشدد سے کوئی ملزم مرجائے تو کسی کو پروانہیں ہوتی تھی۔ یہ پانچوں سوڈانی بڑے ہی سخت جان معلوم ہوتے تھے۔ وہ رات بھر اذیت سہتے رہے۔علی بن سفیان رات بھر جاگتا رہا ۔آخر انہیں اس امتحان میں ڈالا گیا جو آخری حربہ سمجھا جاتا تھا، یہ تھا”چکر شکنجہ ”۔ رہٹ کی طرح چوڑے اور بہت بڑے پہئے پر ملزم کو اُلٹا لُٹا کر ہاتھ رسیوں سے چکر کے ساتھ باندھ دئیے جاتے اور پائوں ٹخنوں سے رسیاں ڈال کر فرش میں گاڑے ہوئے کیلو ں سے کس دئیے جاتے تھے۔ پہئے کو ذراسا آگے چلایا جاتا تو ملزم کے بازو کندھوں سے اور ٹانگیں کولہوں سے الگ ہونے لگتی تھیں۔ بعض اوقات ملزم کو کھینچ کر پہئے کو ایک جگہ روک لیاجاتاتھا۔ اذیت کا یہ طریقہ ملزموں کو بے ہوش کر دیتا تھا۔

سحر کے وقت ایک ادھیڑ عمر حبشی نے علی بن سفیان سے کہا……”میں سب کچھ جانتاہوں ، لیکن دیوتا کے ڈر سے نہیں بتایا۔ دیوتا مجھے بہت بُری موت ماریں گے”۔

”کیا اس سے بڑھ کر کوئی بُری موت ہوسکتی ہے ،جو میں تمہیں دے رہاہوں؟”علی بن سفیان نے کہا……”اگر تمہارے دیوتا سچے ہوتے تو وہ تمہیں اس شکنجے سے نکال نہ لیتے ؟تم اگر مرنے سے ڈرتے ہوتو موت یہاں بھی موجود ہے ۔تم بات کرو۔ میرے ہاتھ میں ایک ایسا دیوتا ہے جو تمہیں تمہارے دیوتا سے بچالے گا”۔

یہ سوڈانی حبشی کئی باربے ہوش ہوچکاتھا۔ اسے دیوتا نہیں موت صاف نظر آرہی تھی۔علی بن سفیان نے اس کی زبان کھول لی۔ اسے شکنجے سے کھول کر کھلایا اور پلایا اور آرام سے لٹا دیا۔اس نے اعتراف کیا کہ اُمِّ عرارہ کو اُ ن کے قبیلے کے چار آدمیوں نے اغوا کیا تھا۔ وہ چاروں چُھٹی پر چلے گئے تھے۔انہوں نے اغوا کی رات اور وقت بتادیاتھا ۔یہ پانچ حبشی جو علی بن سفیان کے قبضے میں ،اُس رات پہرے پر تھے۔اغوا کرنے والوں میں سے دو کو اندر آناتھا۔انہیں بڑے دروازے سے داخل کرنے کا انتظام انہوں نے کیا تھا اور انہیں اغوا اور فرار میں پوری مدد دی تھی ۔اس حبشی نے بتایا کہ اس لڑکی کو دیوتا کی قربان گاہ پر قربان کیا جائے گا۔ہر تین سال بعد ان کا قبیلہ چار روزہ جشن مناتا ہے ،لیکن لڑکی اپنے قبیلے کی نہیں ہوتی۔شرط یہ ہے کہ لڑکی غیر ملکی ہو، سفید رنگ کی ہو،اونچے درجے کے خاندان کی اور اتنی خوب صورت ہو کہ لوگ دیکھ کر ٹھٹھک جائیں ”۔

”تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین سال بعد تمہارا قبیلہ باہر سے ایک خوب صورت لڑکی اغوا کرکے لاتاہے”۔ علی بن سفیان نے پوچھا۔

”نہیں ۔یہ غلط ہے”۔ سوڈانی حبشی نے جواب دیا……”تین سال بعد صرف میلہ لگتا ہے ۔لڑکی کی قربانی پانچ میلوں کے بعد یعنی ہر پندرہ سال بعد دی جاتی ہے۔مشہور یہی ہے کہ ہر تین سال بعد لڑکی قربان کی جاتی ہے”۔

اس نے اپنے باپ کے حوالے سے وہ جگہ بتائی جہاں قربانی دی جاتی تھی۔ پروہت کو وہ دیوتا کا بیٹا کہتاتھا،جہاں میلہ لگتا تھا ، اس سے ڈیڑ ھ ایک میل جتنی دُور ایک پہاڑی علاقہ تھا ،جہاں جنگل بھی تھا۔یہ علاقہ زیادہ وسیع اور عریض نہیں تھا۔اس کے متعلق مشہور تھا کہ وہاں دیوتا رہتے ہیں اور ان کی خدمت کے لیے جن اور پریاں بھی رہتی ہیں۔لوگ اس لیے یہ باتیں مانتے تھے کہ ہر طرف صحرا اور اس میں جزیرے کی طرح کچھ علاقہ پہاڑی اور سر سبز تھاجو قدرت کا ایک عجوبہ تھا۔یہ دیوتائوں کا مسکن ہی ہوسکتا تھا۔ اس علاقے میں فرعونوں کے وقتوںکے کھنڈر تھے،وہاں ایک جھیل بھی تھی جس میں چھوٹے مگر مچھ رہتے تھے۔

قبیلے کا کوئی آدمی سنگین جرم کرے تو اسے پروہت کے حوالے کردیاجاتاتھا۔ پروہت اسے زندہ جھیل میں پھینک دیتا ،جہاں مگر مجھ اسے کھاجاتے تھے۔پروہت انہی کھنڈروں میں رہتا تھا۔وہاں ایک بہت بڑا پتھر کا سر اور منہ تھا جس میں دیوتا رہتا تھا۔ ہر پندرھویں سال کے آخری دنوں میں باہر سے ایک لڑکی اغوا کرکے لائی جاتی جو پروہت کے حوالے کردی جاتی تھی پروہت لڑکی کو ایک پھول سونگھاتاتھا جس کی خوشبو سے لڑکی کے ذہن سے نکل جاتاتھاکہ وہ کیا تھی،کہاں سے آئی تھی اور اسے کون لایا تھا۔اس پھول میں کوئی نشہ آور بوڈالی جاتی تھی ،جس کے اثر سے وہ پروہت کو دیوتا اور اپنا خاوند سمجھ لیتی تھی۔اسے وہاں کی گندی چیزیں بھی خوب صورت دکھائی دیتی تھیں۔

لڑکی کی قربانی انہی کھنڈرات میں دی جاتی تھی۔لڑکی کو پروہت تہہ کانے میں اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ اس جگہ چار مرد اور چار خوب صورت لڑکیاں رہتی تھیں۔ ان کے سوا اور کسی کو پہاڑوں کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔لڑکی کو جب قربان گاہ پر ل جایا جاتا تو اسے احساس ہی نہیں ہوتا تھا کہ اس کی گردن کاٹ دی جائے گی۔وہ فخر اور خوشی سے مرتی تھی۔ اس کا دھڑ مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیاجاتا اور بال کاٹ کر قبیلے کے ہر گھر میں تقسیم کر دئیے جاتے تھے۔ ان بالوں کو مقدس سمجھا جاتا تھا۔لڑکی کا سر خشک ہونے کے لیے رکھ دیاجاتا تھا، جب گوشت ختم ہوکر صرف کھوپڑی رہ جاتی تو اُسے ایک غار میں رکھ دیاجاتاتھا۔ لڑکی کسی کو دکھائی نہیں جاتی تھی۔

”پندرہ سال پورے ہورہے ہیں ۔اب کے لڑکی کی قربانی دی جائے گی”……اس حبشی نے کہا……”ہم نو آدمی مصرکی فوج میں بھرتی ہوئے تھے۔ہمیں چونکہ نڈر اور وحشی سمجھا جاتاہے۔اس لیے ہمیں خلیفہ کے محافظ دستے کے لیے منتخب کرلیاگیا۔دو مہینے گزرے ہم نے اس لڑکی کو دیکھا۔ایسی خوب صورت لڑکی ہم نے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ہم سب نے فیصلہ کر لیا کہ اس لڑکی کو اُٹھالے جائیں گیاور قربانی کے لیے پیش کریں گے۔ہمارے ایک ساتھی نے جو کل ماراگیاہے۔اپنے گائوں جاکر قبیلے کے بزرگ کو بتادیاتھاکہ اس بار قربانی کے لیے ہم لڑکی لائیں گے۔ ہم نے لڑکی کو اغوا کرلیاہے”۔

یہ قصہ صلاح الدین ایوبی کو سنایا گیا تو وہ گہری سوچ میں کھوگیا۔علی بن سفیان اس کے حکم کا منتظر تھا۔سلطان ایوبی نے نقشہ دیکھا اور کہا……”اگر جگہ یہ ہے تو یہ ہماری عمل داری سے باہر ہے۔تم نے شہر کے پرانے لوگوں سے جو معلومات حاصل کی ہیں ،ان سے یہ ثابت ہوتاہے کہ فرعون تو صد یاں گزریں مرگئے ہیں ،لیکن فرعونیت ابھی باقی ہے۔ بحیثیت مسلمان ہم پر فرض عائد ہوتاہے کہ ہم اگر دُور نہ پہنچ سکیں تو قریبی پڑوس سے تو کفر اور شرک کا خاتمہ کریں۔آج تک معلوم نہیں کتنے والدین کی معصوم بیٹیاں قربان کی جاچکی ہیں اور اس میلے میں کتنی بیٹیاں اغوا ہوکر فروخت ہوجاتی ہیں۔ہمیں دیوتائوں کا تصور ختم کرنا ہے ۔لوگوں کو دیوتائوں کا تصور دے کر نام نہاد مذہبی پیشوا لڑکیا اغوا کرواکے بدکاری اور عیاشی کرتے ہیں”۔

”میرے مخبروں کی اطلاعوں نے یہ بے ہودہ انکشاف کیا ہے کہ ہماری فوج کے کئی کمان دار اور مصر کے پیسے والے لوگ اس میلے میں جاتے اور لڑکیاں خریدتے یا چند دنوں کے لیے کرائے پر لاتے ہیں”……علی بن سفیان نے کہا……”کردار کی تباہی کے علاوہ یہ خطرہ بھی ہے کہ سوڈانیوں کی برطرف فوج کے عسکری اس میلے میں زیادہ تعداد میں جاتے ہیں۔ہماری فوج اور ہمارے دوسرے لوگوں کا سوڈانی سابقہ فوجیوں کے ساتھ ملنا جلنا اور جشن منانا ٹھیک نہیں۔یہ مشترکہ تفریح ملک کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتی ہے”……علی بن سفیان نے ذراجھجک کر کہا……”اور لڑکی کو قربان ہونے سے پہلے بچانا اور خلیفہ کے حوالے کرنا، اس لیے بھی ضروری ہے کہ اسے معلوم ہوجائے کہ اس نے آپ پر اغوا کا جو الزام عائد کیاہے،وہ کتنا بے بنیاد اور لغو ہے”۔

”مجھے اس کی کوئی پروانہیں علی!”……سلطان ایوبی نے کہا……”میری توجہ اپنی ذات پر نہیں ۔مجھے کوئی کتنا ہی حقیر کہے،میں اسلام کی عظمت کے فروغ اور تحفظ کو نہیں بھول سکتا ۔میری ذات کچھ بھی نہیں اور تم بھی یاد رکھو علی!اپنی ذات سے توجہ ہٹا کر سلطنت کے استحکام اور فلاح و بہبود پر مرکوز کردو۔اسلام کی عظمت کا امین خلیفہ ہوا کرتاتھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خلیفہ اپنی ذات میں گم ہوتے گئے اور اپنے نفس کا شکار ہوگئے ۔اب ہماری خلافت اسلام کی بہت بڑی کمزوری بن گئی ہے۔صلیبی ہماری اس کمزوری کو استعمال کررہے ہیں ۔اگر تم کامیابی سے اپنے فرائض نبھانا چاہتے ہوتو اپنی ذات اور اپنے نفس سے دست بردار ہوجائو…… خلیفہ نے مجھ پر جو الزام عائد کیاہے ،اسے میں نے بڑی مشکل سے برداشت کیاہے ۔میں اوچھے وار کا جواب دے سکتاتھا، مگر میرا وار بھی اوچھا ہوتا۔پھر میں ذاتی سیاست بازی میں اُلجھ جاتا ۔مجھے خطرہ یہی نظر آرہاتھا کہ ملتِ اسلامیہ کسی دور میں جاکر اپنے ہی حکمرانوں کی ذاتی سیاست بازیوں،خود پسندی ، نفس پرستی اور اقتدار کی ہوس کی نذر ہوجائے گی”۔

”گستاخی کی معافی چاہتاہوں محترم امیر!”……علی بن سفیان نے کہا……”اگر آپ اس لڑکی کو قربان ہونے سے بچانا چاہتے ہیں تو حکم صادر فر مائیے۔وقت بہت تھوڑا ہے ۔ پرسوں سے میلہ شروع ہورہاہے ”۔

”فوج میں یہ حکم فوراً پہنچا دو کہ اس میلے میں کسی فوجی کو شریک ہونے کی اجازت نہیں ”……سلطان ایوبی نے نائب سالار کو بلاکر کہا……”خلاف ورزی کرنے والے کو اس کے عہدے اور رتبے سے قطع نظر پچاس کوڑے سر عام لگائے جائیں گے”۔

اس حکم کے بعد سکیم بننے لگی۔متعلقہ حکام کو سلطان ایوبی نے بلالیاتھا۔ اس نے سب سے کہاتھا کہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ اس طلسم کو توڑنا ہے ۔ یہ جگہ فرعونیت کی آخری نشانی معلوم ہوتی ہے……پہلے فوج کشی زیرِ بحث آئی جو اس وجہ سے خارج از بحث کردی گئی کہ اسے اس قبیلے کے لوگ اپنے اوپر باقاعدہ حملہ سمجھیں گے۔لڑائی ہوگی جس میں میلہ دیکھنے والے بے گناہ لوگ بھی مارے جائیں گے اور عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کا خطرہ بھی ہے۔یہ حل بھی پیش کیاگیا کہ اس سوڈانی حبشی کو ساتھ لے جانا پسند نہیں کیا، کیونکہ دھوکے کا خطرہ تھا۔اس وقت تک سلطان ایوبی کے حکم کے مطابق چھاپہ ماروں اور شب خون مارنے والوں کا ایک دستہ تیار کیاجاچکاتھا۔ اسے مسلسل جنگی مشقوں سے تجربہ کار بنادیا گیاتھا کہ وہ جانبازوں کا دستہ تھا، جنہیں جذبے کے لحاظ سے اس قدر پختہ بنادیاگیا تھا کہ وہ اس پر فخر محسوس کرنے لگے کہ انہیں جس مہم پر بھیجاجائے گا، اس زندہ واپس نہیں آئیں گے۔

نائب سالار الناصر اور علی بن سفیان کے مشوروں سے یہ طے ہوا کہ صرف بارہ چھاپہ مار اس پہاڑی جگہ کے اندر جائیں گے ،جہاں پروہت رہتاہے اور لڑکی قربان کی جاتی ہے ۔حبشی کی دی ہوئی معلومات کے مطابق اس رات میلے میں زیادہ رونق ہوتی ہے،کیونکہ وہ میلے کی آخری رات ہوتی ہے ۔قبیلے کے لوگوں کے سوا کسی اور کو معلوم نہیں ہوتاکہ لڑکی قربان کی جارہی ہے، جسے معلوم ہوتاہے وہ یہ نہیں جانتا کہ قربان گاہ کہاں ہے ۔ان معلومات کی روشنی میں یہ طے کیاگیا کہ پانچ سو سپاہی میلہ دیکھنے والوں کے بھیس میں تلواروں وغیر ہ سے مسلح ہوکر اس رات میلے میں موجود ہوں گے۔ان میں سے دوسو کے پاس تیر کمان ہوں گے۔اُس زمانے میں ان ہتھیاروں پر پابندی نہیں تھی۔چھاپہ ماروںکے ذہنوں میں واضح تصور کی صورت میں جگہ نقش کردی جائے گی۔ وہ براہِ راست حملہ نہیں کریں گے۔ چھاپہ ماروں کی طرح پہاڑی علاقے میں داخل ہوں گے ۔پہرہ داروں کو خاموشی سے ختم کریں گے اور اصل جگہ پہنچ کر اس وقت حملہ کریں گے جب لڑکی قربان گاہ میں لائی جائے گی۔ اس سے قبل حملے کا یہ نقصان ہوسکتاہے کہ لڑکی کو تہہ خانے میں ہی غائب یا ختم کردیاجائے گا۔

یہ معلوم ہوگیا تھا کہ قربانی آدھی رات کے وقت پورے چاند میں ہی دی جاتی ہے۔پانچ سوسپاہیوں کو اس وقت سے پہلے قربان گاہ والی پہاڑیوںکے اِرد گرد پہنچنا تھا۔چھاپہ ماروں کے لیے گھیرے میں آجانے یا مہم ناکام ہونے کی صورت میں یہ ہدایت دی گئی کہ وہ فلیتے والا ایک آتشیں تیراوپر کو چلائیں گے۔اس تیر کا شعلہ دیکھ کر یہ پانچ سو نفری حملہ کردے گی ۔

اسی وقت بارہ جانباز منتخب کر لیے گئے اور اس فوج میں سے جو دوسال پہلے نور الدین زنگی نے سلطان ایوبی کی مدد کے لیے بھیجی تھی،پانچ سوذہین اور بے خوف سپاہی ،عہدے دار اور کمان دار منتخب کر لیے گئے ۔یہ لوگ عرب سے آئے تھے ،مصر اور سوڈان کی سیاست بازیوں اور عقائد کا ان پر کچھ اثر نہ تھا۔وہ صرف اسلام سے آگاہ تھے اور یہی ان کا عقیدہ تھا۔وہ ہر اس عقیدے کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوتے تھے، جسے وہ غیر اسلامی سمجھتے تھے۔انہیں بتایا گیا کہ وہ ایک باطل عقیدے کے خلاف لڑنے جارے ہیں اور ہوسکتاہے کہ انہیں اپنے سے زیادہ نفری سے مقابلہ کرنا پڑے اور لڑائی خونریز ہو اور یہ بھی ہوسکتاہے کہ اُن کے سامنے کوئی ٹھہر ہی نہ سکے اور بغیر لڑائی کے مہم سر ہوجائے ۔انہیں سکیم سمجھادی گئی اور ان کے ذہنوں میں پہاڑی علاقے کا اور ان پہاڑویوں کی بلندی، جو زیادہ نہیں تھی اور ان میں گھر ی ہوئی قربان گاہ کا تصور بٹھادیا گیا۔بارہ جانبازوں کو بھی ان کے ہدف کا تصور دیاگیا۔انہیں ٹریننگ بڑی سختی سے دی گئی تھی۔پہاڑیوں پر چڑھنا اور ریگستانوں میں دوڑنا،بھوک اور پیاس اونٹ کی طرح برداشت کرنا ،اُن کے لیے مشکل نہیں تھا۔

قربانی کی رات کو چھ روز باقی تھے ۔تین دن اور تین راتیں چھاپہ ماروں اور پانچ سوسپاہیوں کو مشق کرائی گئی۔ چوتھے روز چھاپہ ماروں کو اونٹوں پر روانہ کردیاگیا۔اونٹوںکی میانہ چال سے ایک دن اور آدھی رات کا سفر تھا۔شتر بانوں کی حکم دیاگیا تھا کہ چھاپہ ماروں کو پہاڑی علاقے سے دُور جہاں وہ کہیں اُتار کر واپس آجائیں ۔پانچ سوکے دستے کو تماشائیوں کے بھیس میں دو دو چارچار ٹولیوں میں گھوڑوں اور اونٹوں پر روانہ کیا گیا۔ انہیں جانور اپنے ساتھ رکھنے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے کمان دار بھی اسی بھیس میں چلے گئے ۔

٭ ٭ ٭

میلے کی آخری راتھی۔

پورا چاند اُبھر تا آرہاتھا ۔صحرا کی فضا شیشے کی طرح شفاف تھی ۔میلے میں انسانوںکے ہجوم کا کوئی شمار نہ تھا۔کہیں نیم برہنہ لڑکیاں رقص کررہی تھیں اور کہیں گانے والیوں نے مجمع لگارکھا تھا۔سب سے زیادہ بھیڑ اس چبوترے کے اِردگرد تھی ،جہاں لڑکیاں نیلام ہورہی تھیں ۔ایک لڑکی کو چبوترے پر لایا جاتا ۔گاہک اسے ہر طرف سے دیکھتے ۔اس کا منہ کھول کر دانت دیکھتے ،بالوں کو اُلٹا پلٹا کر دیکھتے ،جسم کی سختی اور نرمی محسوس کرتے اور بولی شروع ہوجاتی ۔وہاں جواء بھی تھا، شراب بھی تھی ،اگر وہاں نہیں تھا تو قانون نہیںتھا۔پوری آزادی تھی ۔دُور دُور سے آئے ہوئے لوگوں کے خیمے میلے کے اِرد گرد نصب تھے ۔تماشائی مذہب اور اخلاق کی پابندیوں سے آزاد تھے ۔انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان سے تھوڑی ہی دُور جو پہاڑیاں ہیں ، ان میں ایک خوب صورت لڑکی کو ذبح کرنے کے لیے تیار کیاجارہاہے اور وہاں ایک انسان دیوتا بناہواہے۔وہ اتناہی جانتے تھے کہ ان پہاڑیوں میں گھراہوا علاقہ دیوتائوں کا پایۂ تخت ہے،جہاں جن اور بھوت پہرہ دیتے ہیں اور کوئی انسان وہاں جانے کی سوچ بھی نہیں سکتا۔

انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ ان کے درمیان اللہ کے پانچ سو سپاہی گھوم پھر رہے ہیں اور بارہ انسان دیوتائوں کے پایۂ تخت کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں ……صلاح الدین ایوبی کے بارہ چھاپہ ماروں کو بتایا گیا تھا کہ پہاڑیوں کے اندرونی علاقے میں داخل ہونے کا راستہ کہاں ہے ،لیکن وہاں سے وہ داخل نہیں ہوسکتے تھے ،کیونکہ وہاں پہرے کا خطرہ تھا۔انہیں بہت دشوار راستے سے اندر جاناتھا۔انہیں بتایا گیا تھا کہ پہاڑوں کے اِرد گرد کوئی انسان نہیں ہوگا، مگر وہاں انسان موجود تھے ،جس کا مطلب یہ تھا کہ اس حبشی نے علی بن سفیان کو غلط بتایاتھا کہ اس علاقے کے گرد کوئی پہرہ نہیں ہوتا۔ پہاڑیوں کا خطہ ایک میل بھی لمبا نہیں تھا اور اسی قدر چوڑا تھا۔وہ چونکہ تربیت یافتہ چھاپہ مارتھے ۔ اس لیے وہ بکھر کر اور احتیاط سے آگے گئے تھے ۔ایک چھاپہ مار کو اتفاق سے ایک درخت کے قریب ایک متحرک سایہ نظر آیا۔چھاپہ مار چھپتا اور رینگتا اس کے عقب میں چلاگیا۔ قریب جاکر اس پر جھپٹ پڑا۔ اس کی گردن بازو کے شکنجے میں لے کر خنجر کی نوک اس کے دِل پر رکھ دی ۔ گردن ڈھیلی چھوڑ کر اس سے پوچھا کہ تم یہاںکیا کررہے ہو اور یہاں کس قسم کا پہرہ ہے؟

وہ حبشی تھا۔چھاپہ مار عربی بول رہاتھا جو حبشی سمجھ نہیں سکتا تھا۔اتنے میں ایک اور چھاپہ مار آگیا۔اس نے بھی خنجر حبشی کے سینے پر رکھ دیا،انہوں نے اشاروں سے پوچھا تو حبشی نے اشاروں میں جواب دیا، جس سے شک ہوتاتھا کہ یہاں پہرہ موجود ہے ۔اس حبشی کی شہ رگ کاٹ دی گئی اور چھاپہ مار اور زیادہ محتاط ہوکر آگے بڑھے ۔یکلخت جنگل آگیا۔ آگے پہاڑی تھی۔چاند اوپر اُٹھتا آرہاتھا ،لیکن درختوں اور پہاڑیوں نے اندھیرا کررکھا تھا۔وہ پہاڑی پر ایک دوسرے سے ذرا دُور اوپر چڑھتے گئے ۔

اندر کے علاقے میںجہاں لڑکی کو پروہت کے حوالے کیاگیا تھااور ہی سرگرمی تھی۔ پتھر کے چہرے کے سامنے چبوترے پر ایک قالین بچھا ہواتھا۔ اس پر چوڑے پھل والی تلوار رکھی تھی ۔ اس کے قریب ایک چوڑا برتن رکھاتھا اور قالین پر بھول بکھرے ہوئے تھے ۔اس کے قریب آگ جل رہی تھی ۔ چبوترے کے چاروں کناروں پر دئیے جلا کر چراغاں کیاگیا تھا۔وہاں چار لڑکیاں گھوم پھر رہی تھیں ، ان کا لباس دودو چوڑے پتے تھے اور باقی جسم برہنہ ۔چار حبشی تھے ، جنہوں نے کندھوں سے ٹخنوں تک سفید چادریں لپیٹ رکھی تھی۔ اُمِّ عرارہ تہہ خانے میں پروہت کے ساتھ تھی ۔پروہت اس کے بالوں سے کھیل رہاتھا اور وہ مخمور آواز میں کہہ رہی تھی ……”میں انگوک کی ماں ہو، تم انگوک کے باپ ہو،میرے بیٹے مصر اور سوڈان کے بادشاہ بنیں گے۔میرا خون انہیں پلادو۔میرے لمبے لمبے سنہری بال ان کے گھروں میں رکھ دو ۔تم مجھ سے دور کیوں ہٹ گئے ہو، میرے قریب آئو”……پروہت اس کے جسم پر تیل کی طرح کوئی چیز مَلنے لگا ۔

انگوک غالباً اس قبیلے کانام تھا۔ایک عربی لڑکی کونشے کے خمار نے اس قبیلے کی ماں اور پروہت کی بیوی بنادیاتھا۔ وہ قربان ہونے کے لیے تیار ہوگئی تھی ۔ پروہت آخری رسوم پوری کررہاتھا۔

بارہ چھاپہ مار رات کے کیڑوں کی طرح رینگتے ہوئے پہاڑیوں پر چڑھتے ،اُترتے اور ٹھوکریں کھاتے آرہے تھے ۔بہت ہی دشوار گزار علاقہ تھا۔بیشتر جھاڑیاں خاردار تھیں ۔چاند سر پر آگیاتھا۔انہیں درختوں میں سے روشنی کی کرنیں دکھائی دینے لگیں ۔ان کرنوں میں انہیں ایک حبشی کھڑا نظر آیا ، جس کے ایک ہاتھ میں برچھی اور دوسرے میں لمبوتری ڈھال تھی ۔وہ بھی دیوتائوں کے پایۂ تخت کا پہرہ دار تھا۔اسے خاموشی سے مارنا ضروری تھا ۔وہ ایسی جگہ کھڑا تھا،جہاں اس پر عقب سے حملہ نہیں کیا جاسکتاتھا۔ آمنے سامنے کا مقابلہ موزوں نہیں تھا۔ ایک چھاپہ مار جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا ۔ دوسرے نے اس کے سامنے ایک پتھر پھینکا ، جس نے گر کر اور لڑھک کر آواز پیدا کی ۔حبشی بدکا اور اس طرف آیا۔وہ جوں ہی جھاڑی میں چھپے ہوئے چھاپہ مار کے سامنے آیا، اُس کی گردن ایک بازو کے شکنجے میں آگئی اور ایک خنجر اس کے دِل میں اُترگیا۔ چھاپہ مار کچھ دیر وہاں رُکے اور احتیاط سے آگے چل پڑے ۔

اُمِّ عرارہ قربانی کے لیے تیار ہوچکی تھی۔پروہت نے آخری بار اسے اپنے سینے سے لگایا اور اس کا ہاتھ تھام کر سیڑھیوں کی طرف چل پڑا ۔باہر کے چار حبشی مردوں اور لڑکیوں کو پتھر کے سر اور چہرے کے منہ میں روشنی نظر آئی تو وہ منہ کے سامنے سجدے میں گرگئے ۔پروہت نے اپنی زبان میں ایک اعلان کیا اور منہ سے اُترآیا ۔اُمِّ عرارہ اس کے ساتھ تھی۔ اسے وہ قالین پر لے گیا۔مرد اور لڑکیا ں اس کے اِرد گرد کھڑی ہوگئیں ۔اُمِّ عرارہ نے عربی زبان میں کہا……”میں انگوک کے بیٹوں اور بیٹیوں کے لیے اپنی گردن کٹوارہی ہوں ۔ میں ان کے گناہوں کا کفارہ ادا کررہی ہوں ۔میری گردن کاٹ دو۔ میرا سر انگوک کے دیوتا کے قدموں میں رکھ دو۔ دیوتا اس سر پر مصر اور سوڈان کا تاج رکھیں گے”……چاروں آدمی اور لڑکیاں ایک بار پھر سجدے میں گر گئیں ۔پروہت نے اُمِّ عرارہ کو قالین پر دوزانو بٹھا کر اس کا سر آگے جُھکا دیا او روہ تلوار اُٹھالی ،جس کا پھل پورے ہاتھ جتنا چوڑا تھا۔

ایک چھاپہ مار جو سب سے آگے تھا ، رُک گیا۔اس نے سر گوشی کرکے پیچھے آنے والے کو روک لیا۔پہاڑی کی بلندی سے انہیں چبوترہ اور پتھر کا سر نظر آیا……چبوترے پر ایک لڑکی دو زانو بیٹھی تھی ۔جس کا سر جھکاہواتھا۔شفافچاندنی ، چراغاں اور بڑی مشعلوں نے سورج کی روشنی کا سماں بنارکھاتھا۔ لڑکی کے پاس کھڑے آدمی کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ دوزانو بیٹھی ہوئی لڑکی برہنہ تھی۔اس کے جسم کا رنگ بتارہاتھا کہ حبشی قبیلے کی لڑکی نہیں ۔چھاپہ ماردُور تھے اور بلندی پر بھی تھے، وہاں سے تیر خطاجانے کا خطرہ تھا، مگر وہ جس پہاڑی پر تھے ۔اس کے آگے ڈھلان نہیں تھی ، بلکہ سیدھی دیوار تھی ، جس سے اُتر ناناممکن تھا۔وہ جان گئے کہ لڑکی قربان کی جارہی ہے اور اسے بچانے کے لیے وقت اتنا تھوڑاہے کہ وہ اُڑ کر نہ پہنچے تو اسے بچانہیں سکیںگے ۔ انہوں نے چوٹی سے نیچے دیکھا۔چاندنی میں انہیں ایک جھیل نظر آئی ۔انہیں بتایاگیا تھا کہ وہاں ایک جھیل ہے جس میں مگر مجھ رہتے ہیں ۔

دائیں طرف ڈھلان تھی ،لیکن وہ بھی تقریباً دیوار کی طرح تھی ۔وہاں جھاڑیاں اور درخت تھے ۔ انہیں پکڑ پکڑ کر اور ایک دوسرے کے ہاتھ تھام کر دوہ ڈھلان اُترنے لگے ۔ان میں سے آخری جانباز نے اتفاق سے سامنے دیکھا۔چاندنی میں سامنے کی چوٹی پر اسے ایک حبشی کھڑا نظر آیا۔اس کے ایک ہاتھ میں ڈھال تھی اور دوسرے ہاتھ میں برچھی ، جو اس نے تیر کی طرح پھینکنے کے لیے تان رکھی تھی۔چھاپہ ماروں پر چاندنی نہیں پڑرہی تھی ۔حبشی ابھی شک میں تھا۔آخری چھاپہ مارنے کمان میں تیر ڈالا ۔رات کی خاموشی میں کمان کی آواز سنائی دی ۔تیر حبشی کی شہ رگ میں لگا او روہ لڑھکتا ہوا،نیچے آرہا۔چھاپہ مار ڈھلان اُترتے گئے ۔گرنے کاخطرہ ہر قدم پر تھا۔

٭ ٭ ٭

پروہت نے تلوار کی دھار اُمِّ عرارہ کی گردن پر رکھی اور اوپر اُٹھائی۔لڑکیوں اور مردوں نے سجدے سے اُٹھ کردو زانوں بیٹھتے ہوئے پُر سوز اور دھیمی آواز میں کوئی گانا شروع کردیا۔یہ ایک گونج تھی جو اس دُنیا کی نہیں لگتی تھی ۔ پہاڑیوں میں گھری ہوئی اس تنگ سی وادی میں ایسا طلسم طاری ہوا جارہاتھا جو باہر کے کسی بھی انسان کو یقین دِلا سکتا تھا کہ یہ انسانوں کی نہیں ،دیوتائوں کی سرزمین ہے ……پروہت تلوار کو اوپر لے گیا۔اب تو ایک دوسانسوں کی دیر تھی ۔تلوار نیچے کو آنے ہی لگی تھی کہ ایک تیر پروہت کی بغل میں دھنس گیا۔اس کا تلوا روالا ہاتھ ابھی نیچے نہیں گراتھا کہ تین تیر بیک وقت اس کے پہلو میں اُتر گئے ۔لڑکیوں کی چیخیں سنائی دیں ۔مرد کسی کو آواز دینے لگے ۔تیروں کی ایک اور باڑ آئی جس نے دو مردوں کو گرادیا۔لڑکیاں جدھر منہ آیا، دوڑ پڑیں ۔ اُمِّ عرارہ اس شور و غل اور اپنے ارد گرد تڑپتے ہوئے اور خون میں ڈوبے ہوئے جسموں سے بے نیاز سر جھکائے بیٹھی تھی۔

چھاپہ مار بہت تیز دوڑتے آئے ۔چبوترے پر چڑھے اوراُمِّ عرارہ کو ایک نے اُٹھا لیا۔وہ ابھی تک نشے کی حالت میں باتیں کررہی تھی۔ایک جانباز نے اپنا کرتہ اُتا ر کر اسے پہنا دیا ۔اسے لے کر چلے ہی تھے کہ ایک طرف سے بارہ حبشی برچھیاں اور ڈھالیں اُٹھائے دوڑتے آئے ۔چھاپہ مار بکھرگئے ۔ان میں چار کے پاس تیر کمانیں تھیں ۔انہوں نے تیر برسائے ۔باقی چھاپہ مار ایک طرف چھپ گئے اور جب حبشی آگے آئے تو عقب سے ان پر حملہ کردیا۔ایک تیر انداز نے کمان میں فلیتے والا تیر نکالا ۔فلیتے کو آگ لگائی اور کمان میں ڈال کر اوپر کو چھوڑدیا۔تیر دُور اوپر جاکر رُکا تو اس کا شعلہ جو رفتا ر کی وجہ سے دب گیاتھا، رفتار ختم ہوتے ہی بھڑکا اور نیچے آنے لگا۔

میلے کی رونق ابھی ماند نہیں پڑی تھی ۔تماشایوں میں سے پانچ سو تماشائی میلے سے الگ ہوکر اس پہاڑی خطے کی طرف دیکھ رہے تھے۔ انہیں دُور فضا میں ایک شعلہ سا نظر اآیا جو بھڑک کر نیچے کو جانے لگا۔ وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہوئے ۔ان کے کمان دار ساتھ تھے ۔پہلے تو وہ آہستہ آہستہ چلے تاکہ کسی کو شک نہ ہو ۔ذرا دُور جاکر انہوں نے گھوڑے دوڑادئیے ۔ تماشائی میلے میں شراب ، جوئے اور ناچنے گانے والی لڑکیوں اور عصمت فروش عورتوں میں اتنے مگن تھے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان کے دیوتائوں پر کیا قیامت ٹو ٹ پڑی ہے ۔

چھاپہ مارنے اس خطرے کی وجہ سے آتشیں تیر چلادیاتھا کہ حبشیوں کی تعداد زیادہ ہوگئی ،مگر فوج وہاں پہنچی تو وہاں بارہ تیرہ لاشیں حبشیوں کی اور دو لاشیں چھاپہ مار شہیدوں کی پڑی تھیں ۔وہ برچھیوں سے شہید ہوئے تھے۔کمان داروں نے وہاں کاجائزہ لیا ۔پتھر کے منہ میں گئے اور تہہ خانے میںجاپہنچے ،وہاں انہیں جو چیزیں ہاتھ لگیں ،وہ اُٹھالیں۔اُن میں ایک پھول بھی تھا جو قدرتی نہیں ، بلکہ کپڑے سے بنایا گیا تھا۔احکام کے مطابق فوج کووہیں رہنا تھا،لیکن پہاڑیوں میں چھپ کر ۔چھاپہ ماروں نے اُمِّ عرارہ کو گھوڑے پر ڈالا اور قاہرہ کی طرف روانہ ہوگئے۔

صبح طلوع ہوئی ۔

میلے کی رونق ختم ہوگئی تھی ۔بیشتر تماشائی رات شراب پی پی کر ابھی تک مدہوش پڑے تھے ۔دوکان دار جانے کے لیے مال اسباب باندھ رہے تھے ۔لڑکیوں کے بیوپاری بھی جارہے تھے ۔صحرا میں روانہ ہونے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں ۔ میلے کے قریب جو گائوں تھا وہاں کے لوگ بے تابی سے اس لڑکی کے بالوں کا انتظار کررہے تھے ،جسے رات قربان کیاگیاتھا۔اس قبیلے کے لوگ جودُور دراز دیہات کے رہنے والے تھے ،پہاڑی جگہ سے دور کھڑ ے دیوتائوں کے مسکن کی طرف دیکھ رہے تھے۔ ان کے بڑے بوڑھے انہیں بتارہے تھے کہ ابھی پروہت آئے گا۔ وہ دیوتائوں کی خوشنودی کا پیغام دے گا اور ان میں بال تقسیم کرے گا، مگر ابھی تک کوئی نہیں آیا تھا۔ دیوتائوں کے مسکن پر سکوت طاری تھا۔ اس منتظر ہجوم کو معلوم نہ تھا کہ وہاں فوج مقیم ہے اور اب وہاںسے دیوتائوں کا کوئی پیغام نہیں آئے گا……دن گزرتاگیا۔قبیلے کے جن نوجوانوں نے قربانی کی باتیں سنی تھیں ،انہیں شک ہونے لگا کہ یہ سب جھوٹ ہے ۔دِن گزر گیا۔ سورج انہی پہاڑیوں کے پیچھے جا کر ڈوب گیا۔کسی میں اتنی جرأت نہیںتھی کہ وہ وہاں جاکر دیکھتا کہ پروہت کیوں نہیں آیا۔

٭ ٭ ٭

”طبیب کو بلالائو”……سلطان ایوبی نے کہا……”لڑکی پر نشے کا اثر ہے ”۔

اُمِّ عرارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی ……”میں انگوک کی ماں ہوں ۔تم کون ہو؟تم دیوتا نہیں ہو۔ میرا شوہر کہاں ہے ۔میرا سرکا ٹو اور دیوتا کو دے دو۔مجھے میرے بیٹوں پر قربان کردو”……وہ بولے جارہی تھی ،مگر اب اس پر غنودگی بھی طاری ہورہی تھی ۔اس کا سرڈول رہاتھا۔

”طبیب کو بلالائو”……سلطان ایوبی نے کہا……”لڑکی پر نشے کا اثر ہے ”۔

اُمِّ عرارہ اس کے سامنے بیٹھی تھی اور کہہ رہی تھی ……”میں انگوک کی ماں ہوں ۔تم کون ہو؟تم دیوتا نہیں ہو۔ میرا شوہر کہاں ہے ۔میرا سرکا ٹو اور دیوتا کو دے دو۔مجھے میرے بیٹوں پر قربان کردو”……وہ بولے جارہی تھی ،مگر اب اس پر غنودگی بھی طاری ہورہی تھی ۔اس کا سرڈول رہاتھا۔

طبیب نے آتے ہی اس کی کیفیت دیکھی اور اسے کوئی دوائی دے دی ۔ذراسی دیر میں اس کی آنکھیں بند ہوگئیں ۔ اسے لٹا دیاگیااور وہ گہری نیند سوگئی ۔سلطان ایوبی کو تفصیل سے بتایا گیا کہ پہاڑی خطے میں کیا ہوا اور وہاں سے کیا ملاہے ۔اس نے اپنے نائب سالا الناصر اور بہائوالدین شداد کو حکم دیا کہ پانچ سوسوارلے جائیں ،ضروری سامان لے جائیںاور اس بُت کو مسمار کردیں ، مگر اس جگہ کو فوج کے گھیرے میں رکھیں ۔حملے کی صورت میں مقابلہ کریں ۔اگر وہ لوگ دب جائیں اور لڑنہ سکیں تو انہیں وہ جگہ دکھا کر پیار اور محبت سے سمجھائیں کہ یہ محض ایک فریب تھا۔

شداد نے اپنی ڈائری میں جو عربی زبان میں لکھی گئی تھی،اس واقعہ کو یوں بیان کیا ہے کہ وہ پانچ سو سواروں کے ساتھ وہاں پہنچا ۔راہنمائی اس فوج کے کمان دار نے کی جو پہلے ہی وہان موجود تھا۔سینکڑوں سوڈانی حبشی دُور دُور کھڑے تھے۔ان میں سے بعض گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار تھے ۔ان کے پاس برچھیاں ،تلواریں اور کمانیں تھیں ۔ہم نے اپنے تمام تر سواروں کو اس پہاڑی جگہ کے اِرد گرد اس طرح کھڑا کردیا کہ ان کے منہ باہر کی طرف اور ان کی کمانون میں تیر تھے اور جن کے پاس کمانیں نہیں تھیں ، ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں ۔خطرہ خون ریز لڑائی کاتھا۔ میں الناصر کے ساتھ اندر گیا۔بُت کودیکھ کر میں نے کہا کہ فرعونوں کی یاد گار ہے ۔حبشیوں کی لاشیں پڑی تھیں ۔ہر جگہ گھوم پھر کر دیکھا، دو پہاڑیوں کے درمیان ایک کھنڈر تھا ،جوفرعونوں کے وقتوں کی خوشنما عمارت تھی ۔دیواروں پر اُس زمانے کی تحریریں تھیں ۔ الفاظ لکیروں والی تصویروں کی مانند تھے ۔کوئی شبہہ نہ رہاکہ یہ فرعونوں کی جگہ تھی ……دیوار جیسی ایک پہاڑی کے دامن میں جھیل تھی ، جس کے اندر اور باہر دو دو قدم لمبے مگر مچھ تھے ۔جھیل کا پانی پہاڑی کے دامن کو کاٹ کر پہاڑی کے نیچے چلاگیاتھا۔ پانی کے اوپر پہاڑی کی چھت تھی ۔جگہ خوف ناک تھی ۔ہمیں دیکھ کر بہت سارے مگر مچھ کنارے پر آگئے اور ہمیں دیکھنے لگے۔

میں نے سپاہیوں سے کہا،حبشیوں کی لاشیں جھیل میں پھینک دو، یہ بھوکے ہیں ۔وہ لاشیں گھسیٹ کر لائے اور جھیل میں پھینک دیں ،مگر مچھوں کی تعداد اکا اندازہ نہیں ،پوری فوج تھی ۔لاشوں کے سر باہر رہے اور یہ سر پانی میں دوڑتے پہاڑی کے اندر چلے گئے ۔پھر پروہت کی لاش آئی ۔اس نے دوسرے انسانوں کو مگر مچھوں کے آگے پھینکا تھا، ہم نے اسے بھی جھیل میں پھینک دیا……وہ سپاہی چار سوڈانی لڑکیوں کو لائے ۔وہ کہیں چھپی ہوئی اور عریاں تھیں۔کمرکے ساتھ ایک پتہ آگے اور پیچھے بندھاہواتھا۔میںنے اور الناصر نے منہ پھیر لیے ۔سپاہیوںسے کہاکہ انہیں مستور کرو۔ جب ان کے جسم کپڑون میں چھپ گئے تو دیکھا کہ وہ بہت خوب صورت تھیں ۔روتی تھیں ،ڈرتی تھیں۔ہمارے ترجمان کو انہوں نے وہاں کاحال اپنی زبان میں بیان کیا جو بہت شرم ناک تھا۔مسلمان کو عورت ذات کا یہ حال برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ عورت اپنی ہو،کسی اور کی ہو،کافر ہو ،اسلام اسے بیٹی کہتاہے ۔ان چار لڑکیوں کا بیان ظاہر کرتاتھا کہ وہ فرعونوں کو خدامانتی ہیں ۔ان کا قبیلہ انسان کو خدامانتا ہے ۔

یہ جگہ خوش نما تھی ۔سارے صحرا میں سر سبز تھی ۔اندر پانی کا چشمہ تھا،جس نے جھیل بنائی ،درخت تھے،جنہوں نے سایہ دیا۔کسی فرعون کو یہ مقام پسند آیا تو اسے تفریح کا مقام بنایا ۔اپنی خدائی کے ثبوت میں یہ بُت بنایا۔ اس میں تہہ خانہ رکھا اور یہاں عیش کی ۔آسمان نے کوئی اور رنگ دکھایا۔ سورج اُدھر سے اِدھر ہوگیا۔فرعونوں کے ستارے ٹوٹ گئے اور مصر میں دوسرے باطل مذہب آئے ۔ آخر میں حق کی فتح ہوئی اور مصرنے کلمہ ”لا الٰہ الااللہ ” سُنا اور خدا کے حضور سرخرو ہوا،لیکن کسی نے نہ جاناکہ باطل ان پہاڑیوں میں زندہ رہا۔الحمد للہ ،ہم نے خدائے عز وجل سے راہنمائی لی ۔ باطل کا یہ نقش بھی اُکھاڑا اور اس ریگزار کو پاک کیا۔

اس جگہ کو سواروں کے گھیرے میں لے کر فوج نے پتھر کے اس ہیبت ناک بُت کو مسمار کردیا، چبوترہ بھی گرادیا، تہہ خانہ ملبے سے بھر دیا۔باہر سینکڑوں حبشی حیران اور خوف زدہ کھڑے تھے کہ یہ کیا ماجرہ ہے ۔ان سب کو بلاکر اندر لے جایا گیا کہ یہاں کچھ بھی نہیں تھا۔چاروں لڑکیاںاُن کے حوالے کی گئیں ۔چاروں کے باپ اور بھائی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے اپنی اپنی لڑکی لے لی ۔انہیں بتایا گیا کہ یہاں ایک بد کار آدمی رہتاتھا، وہ مگر مچھوں کو کھلادیاگیاہے ۔ان سینکڑوں حبشیوں کو اکٹھا بٹھا کر ان کی زبان میں وعظ دیاگیا۔ وہ سب خاموش رہے ۔انہیں اسلام کی دعوت دی گئی ۔وہ پھر بھی خاموش رہے ۔ کبھی کبھی شک ہوتاتھا، جیسے ان کی آنکھوں میں خون اُتر آیاہے ۔ انہیں یہ الفاظ دھمکی کے لہجے میں کہے گئے……”اگر تم سچے خدا کو دیکھنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں دکھائیں گے ۔اگر تم اسی جگہ کو جہاں تم بیٹھے ہو،اپنے جھوٹے خدائوں کا گھر کہتے رہو گے تو ہم ان پہاڑوں کو بھی ریزہ ریزہ کرکے ریت کے ساتھ ملادیں گے ،پھر تم دیکھو گے کہ کون سا خدا سچاہے”۔

اُ دھر قاہرہ میں اُمِّ عرارہ ہوش میں آچکی تھی ۔وہ اپنی داستان سناچکی تھی ،جو اوپر بیان کی گئی ہے ۔کبھی وہ کہتی تھی کہ اس نے کوئی خواب دیکھا ہے ۔اُسے ساری باتیں یاد آگئیں تھیں ۔اس نے بتایا کہ پروہت اسے دِن رات بے آبرو کرتا تھا اور پھول کئی بار اس کی ناک کے ساتھ لگاتاتھا۔ اُمِّ عرارہ کو بتایا گیا کہ اس کی گردن کٹنے والی تھی ، اگر چھاپہ مار بروقت نہ پہنچ جاتے تو اس کا سر غار میں اور جسم مگر مچھوں کے پیٹ میں ہوتا۔نازک سی ، یہ حسین لڑک خوف سے کانپنے لگی۔ اس کے آنسو نکل آئے اس نے سلطان ایوبی کے ہاتھ چوم لیے اور کہا……”خدانے مجھے گناہوں کی سزادی ہے ،میں اپنے گناہوں کا اعتراف کرنا چاہتی ہوں ۔خدا کے لیے مجھے پناہ میں لے لیں ”……اس کی ذہنی کیفیت بہت ہی بُری تھی ۔

اس نے شام کے ایک دولت مند تاجر کانام لے کر کہا کہ وہ اس کی بیٹی ہے ۔یہ مسلمان تاجر تھا ۔اس کا دوستانہ شام کے امیروں کے ساتھ تھا۔اُس وقت کے امیر ایک ایک شہر یا تھوڑے تھوڑے رقبے کے خطوں کے حکمران ہواکرتے تھے ،جو مرکزی امارت کے ماتحت تھے ۔مرکزی امارت ، مرکزی وزارت اور خلافت کے ماتحت ہوتی تھی ۔یہ امراء دسویں صدی کے بعد پوری طرح عیاشیوں میں ڈوب گئے تھے ۔بڑے تاجروں سے دوستی رکھتے تھے ، ان کے ساتھ کاروبار بھی کرتے اور رشوت بھی لیتے تھے ۔ ان کے حرموں میں لڑکیوں کی افراط رہتی اور شراب بھی چلتی تھی ۔ اُمِّ عرارہ ایسے ہی ایک دولت مند تاجر کی بیٹی تھی جو اپنے باپ کے ساتھ بارہ تیرہ سال کی عمر میں امراء کی رقص و سرور کی محفلوں میں جانے لگی تھی۔ باپ غالباً دیکھ رہاتھا کہ لڑکی خوب صورت ہے ،اس لیے وہ اسے لڑکپن میں ہی امراء کی سوسائٹی کا عادی بنانے لگاتھا۔ اُمِّ عرارہ نے بتایا کہ وہ چودہ سال کی ہوئی تو امراء نے اس میں دلچسپی لینی شروع کردی تھی ۔دونے اسے بڑے قیمتی تحفے بھی دئیے ۔وہ گناہوں کی اسی دُنیا کی ہوکے رہ گئی۔

عمر کے سولہویں سال وہ باپ کو بتائے بغیر ایک امیر کی در پردہ داشتہ بن گئی ،مگر رہتی اپنے گھر میں تھی ۔ وہ دولت میں جنی پلی تھی ،شرم و حیا سے آشنا نہیں تھی۔ دو تین سال بعد وہ باپ کے ہاتھ سے نکل گئی اور آزادی سے دو اور امراء سے تعلقات پیدا کر لیے ۔ اس نے خوب صورتی ، چرب زبانی اور مردوں کو انگلیوں پر نچانے میں نام پیدا کرلیا ۔باپ نے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا۔گذشتہ چھ سال سے اسے ایک اور ہی قسم کی ٹریننگ ملنے لگی تھی ۔ یہ تین امراء نے مل کر سازش کی تھی،جس میں اس کا باپ بھی شریک تھا۔اسے خلافت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی ٹریننگ دی جارہی تھی ۔آگے چل کر اس سازش میں ایک صلیبی بھی شامل ہوگیا۔یہ امراء خود مختار حاکم بننے کے خواب دیکھ رہے تھے ۔صلیبیو ںکی مدد کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ اُمِّ عرارہ کو نورالدین زنگی اور خلافت کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کے لیے بھی استعمال کیاگیا تھا۔ صلیبیوں نے اس مہم میں تین عیسائی لڑکیاں شامل کرکے ایک زمین دو زمحاذ بنالیا۔

انہوں نے جب دیکھا کہ مصر میں صلاح الدین ایوبی نے نام پیدا کرلیاہے اور اس نے دو ایسے کارنامے کر دکھائے ہیں، جس نے اسے مصر کا وزیر اور امیر نہیں ،بلکہ بادشاہ بنادیاہے تو اُمِّ عرارہ کو خلیفہ العاضدکی خدمت میں تحفے کے طور پر بھیجاگیا۔اسے مہم یہ دی گئی کہ خلیفہ کے دِل میں صلاح الدین ایوبی کے خلاف دشمنی پیدا کرے اور سابق سوڈانی فوج کے جو چند ایک حکام فوج میں رہ گئے ہیں ،انہیں العاضد کے قریب کرکے سوڈانیوں کو ایک اور بغاوت پر آمادہ کرے۔اسے دوسری مہم یہ دی گئی تھی کہ خلیفہ العاضد کو آمادہ کرے کہ سوڈانی جب بغاوت کریں تو انہیں ہتھیاروں اور ساز و سامان سے مدد دے اور اگر ممکن ہوسکے تو صلاح الدین ایوبی کی فوج کا کچھ حصہ باغی کرکے سوڈانیوں سے ملادے ۔خلیفہ اور کچھ نہ کرسکے تو اپنا محافظ دستہ سوڈانیوں کے حوالے کرکے خود سلطان ایوبی کے پاس جاپناہ لے اور اسے کہے کہ اس کے محافظ باغی ہوگئے ہیں ۔مختصر یہ کہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف ایسا محاذ قائم کرنا تھا جو اُسے مصر سے بھاگنے پر مجبور کردے اور باقی عمر گمنامی میں گزاردے ۔

اُمِّ عرارہ نے سلطان ایوبی کو بتایا کہ وہ مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ،لیکن باپ نے اسے مسلمانون کی ہی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی اور سلطنتِ اسلامیہ کے اُمراء نے اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر اپنی ہی سلطنت کو تباہ کرنے کی کوشش کی ۔اس لڑکی نے خلیفہ العاضد کا دماغ اپنے قبضہ میں لے لیااور سلطان ایوبی کے خلاف کردیاتھا۔ رجب کو وہ سازش میں شریک کرچکی تھی ۔رجب نے دو اور فوجی حکام کو اپنے ساتھ ملالیاتھا۔ رجب نے اس سلسلے میں یہ کام کیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں وہ مصریوں کی جگہ سوڈانی رکھتا جارہاتھا۔ اُمِّ عرارہ کو خلیفہ کے پاس لائے ابھی دو اڑھائی مہینے ہوئے تھے ،وہ قصرِ خلافت پر غالب آگئی تھی اور حرم کی ملکہ بن گئی تھی ۔اس نے یہ انکشاف بھی کیا کہ خلیفہ سلطان ایوبی کو قتل کرانا چاہتا ہے اور رجب نے حشیشین سے مل کر قتل کا انتظام کردیاہے ۔

یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ سلطان ایوبی نے خلیفہ کے بے کار وجود اور عیش پرستی سے تنگ آکر اس کے خلاف کاروائی شروع کردی تھی اور یہ بھی اتفاق تھا کہ اُمِّ عرارہ کو وہی لوگ اغوا کرکے لے گئے ،جنہیں وہ سلطان ایوبی کے خلاف لڑا نا چاہتی تھی اور یہ اتفاق تو بڑاہی اچھا تھا کہ سلطان ایوبی نے رجب سے محافظ دستے کی کمان لے لی اور وہان اپنی پسند کا ایک نائب سالار بھیج دیا تھا، مگر ان اتفاقات نے حالات کا دھارا موڑ کر سلطان ایوبی کے لیے ایک خطرہ پیدا کردیا۔سلطان ایوبی نے اُمِّ عرارہ کو اپنی پناہ میں رکھا۔لڑکی بُری طرح پچھتا رہی تھی اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنا چاہتی تھی۔ قدرت نے ایک ایسا دھچکہ دے کر اس کا دماغ درست کردیاتھا۔ سلطان ایوبی ٹھنڈے دِل سے سوچنے لگا کہ اس سازش میں جو حکام شامل ہیں ، ان کے ساتھ وہ کیا سلوک کرے۔

دوسرے دن النا صر اور بہائوالدین شداد فرعونوں کا آخری نشان مٹاکر فوج واپس لے آئے

.

آٹھ دِنوں بعد……

رات کا پچھلا پہر تھا۔سلطان ایوبی کے جاگنے میں ابھی کچھ دیر باقی تھی ۔ اُسے ملازم نے جگادیااور کہا کہ الناصر،علی بن سفیان اور دو اور نائب آئے ہیں ۔سلطان اُچھل کر اُٹھا اور ملاقات کے کمرے میں چلاگیا۔ان حکام کے ساتھ ان دستوں میں سے ایک کا کمان دار بھی تھا، جو شہر سے دُور گشت کرتے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کو بتایاگیا کہ کم و بیش چھ ہزار سوڈانی جن میں برطرف سوڈانی فوج کے افراد ہیں اور اس وحشی قبیلے کے بھی جس کے عقیدے کو ملیا میٹ کیاگیا تھا۔مصرکی سرحد میں داخل ہوکر ایک جگہ پڑائو کیے ہوئے ہیں ۔اس کمان دار نے یہ عقل مندی کی کہ عام لباس میں دوشتر سوار یہ معلوم کرنے کے لیے بھیجے کہ اس لشکر کا کیا ارادہ ہے ۔ان شتر سواروں نے اپنے آپ کو مسافر ظاہر کیا اور معلوم کرلیا کہ یہ لشکر قاہرہ پر حملہ کرنے جارہاہے۔ شتر سواروں نے لشکر کے سربراہوں سے مل کر صلاح الدین ایوبی کے خلاف باتیں کیں اور کہا کہ وہ بہت سے آدمیوں کو اس لشکر میں شامل کرنے کے لیے لائیں گے۔ یہ کہہ کر وہ رخصت ہوآئے ۔ ان کی اطلاع کے مطابق یہ لشکر اِدھر اُدھر سے مزید نفری کا منتظر تھا اور اسے اگلے روز وہاں سے کوچ کرناتھا۔

سلطان ایوبی نے پہلا حکم یہ دیا کہ خلیفہ کے محافظ دستے میں صرف پچاس سپاہی اور ایک کمان دار رہنے دو۔باقی تمام دستے کو چھائونی میں بلالو۔ اگر خلیفہ احتجاج کرے تو کہہ دینا کہ یہ میرا حکم ہے ۔سلطان نے علی بن سفیان سے کہاکہ اپنے شعبے کے کم از کم سو آدمی جو سوڈانی زبان اچھی طرح بول سکتے ہیں ۔ سوڈانی باغیوں کے بھیس میں اس کمان دار کے ساتھ ابھی روانہ کردو۔ کمان دار سے کہا کہ یہ سوآدمی ان دو شتر سواروں کے ساتھ سوڈانیوں کے لشکر میں شامل ہوں گے ۔یہ دو شتر سوار سنتری بتائیں گے کہ وہ وعدے کے مطابق مدد لائے ہیں ۔ان کے لیے ہدایات یہ دیں کہ وہ لشکر کی پیش قدمی کے متعلق اطلاع دیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ رات کے وقت اس لشکر کے جانور اور رسد کہاں ہوتی ہے۔ سلطان ایوبی نے الناصر سے کہا کہ تیز رفتار گھوڑ سوا چھاپہ ماروں اور چھوڑی منجنیقوں کے دستے تیار رکھو۔

”میں نے سوچاتھا کہ سیدھی ٹکر لے کر سوڈانیوں کو شہر سے دور ہی ختم کیاجائے ”۔الناصر نے کہا۔

”نہیں !” ۔سلطان ایوبی نے کہا……”یاد رکھنا الناصر !اگر دشمن کو پہلو سے لو ۔عقب سے لو، ضرب لگائواور بھاگو، دشمن کی رسد تباہ کرو، جانور تباہ کرو، دشمن کو پریشان کرو، اس کے دستے بکھیر دو، اُسے آگے آنے کی مہلت نہ دو، اسے دائیں بائیں پھیل جانے پر مجبور کردو،اگر سامنے سے ٹکر لینا چاہتے ہوتو یہ نہ بھولوکہ یہ صحرا ہے ۔سب سے پہلے پانی کی جگہ پر قبضہ کو۔ سورج اور ہوا کے رُخ کو دشمن کے خلاف رکھو ۔اسے پریشان کرکے اپنی پسند کے میدان میں لائو۔میں تمہیں عملی سبق دوںگا ۔اس لشکر کی یہ خواہش میں پوری نہیں ہونے دوں گا کہ وہ قاہرہ تک پہنچے یا میری فوج اس کے آمنے سامنے جا کر لڑے ”……اس نے علی بن سفیان سے کہا……”تم جن ایک سو آدمیوں کو لشکر میں شامل ہونے کے لیے بھیجو گے،انہیں کہنا کہ وہ سوڈانیوں میں یہ افواہ پھیلادیں کہ چھ ساتھ دنوں تک صلاح الدین ایوبی فلسطین پر حملہ کرنے کے لیے جارہاہے ۔ اس لیے قاہرہ پر حملہ ، اس کی غیر حاضری میں کیاجائے گا”۔

ایسی بہت سی ہدایات اور احکام دے کر سلطان ایوبی نے انہیں بتایا کہ وہ آج شام سے قاہرہ میں نہیں ہوگا۔اس نے انہیں قاہرہ سے بہت دُور ایک جگہ بتائی ۔وہ اپنا ہیڈکوار ٹر دشمن کے قریب رکھنا چاہتا تھاتاکہ جنگ اپنی نگرانی میں لڑا سکے۔ سب نے ملاقات کے کمرے میں ہی صبح کی نماز پڑھی اور سلطان ایوبی کے احکام پر کاروائی شروع ہوگئی۔

سلطان ایوبی تیاری کے لیے اپنے کمرے میں چلاگیا۔

٭ ٭ ٭

سوڈانیوں کے لشکر میں اضافہ ہوتا جارہاتھا۔ دوسال گزرے ،ان کی ایک بغاوت بُری طرح ناکام ہوچکی تھی۔ دوسری کوشش کی تیاریاں اسی وقت شروع ہوگئی تھیں ۔صلیبیوں نے مدد کا وعدہ کررکھاتھا اور جاسوسوں کی بہت بڑی تعداد مصر میں داخل کردی تھی۔سوڈانیوں کا حملہ ایک نہ ایک روز آنا ہی تھا،لیکن یہ اچانک آگیا۔وجہ یہ تھی کہ سلطان ایوبی نے ایک سوڈانی قبیلے کے مذہب پر فوجی حملہ کیااور اس کے دیوتائوں کا مسکن تباہ کردیاتھا۔یہ وجہ معمولی نہیں تھی۔مصر میں جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے مخالفین تھے، انہوں نے اس کے اس اقدام کو اس کے خلاف استعمال کیا ۔سوڈانی فوج کے برطرف کیے ہوئے باغی کمان داروں کو بھی موقع مل گیا۔یہ فوراً حرکت میں آگئے ۔ان میں مصری مسلمان بھی تھے ۔انہوں نے اُس قبیلے کے مذہبی جذبات کو بھڑکایا اور انہیں کہاکہ ان کا مذہب سچاہے اور اگر وہ سلطان ایوبی کے خلاف اُٹھیں گے تو ان کے دیوتا اپنی توہین کا انتقام لینے کے لیے ان کی مدد کریں گے۔انہوں نے پانچ سات دنوں میں لشکر جمع کرلیاور قاہرہ پر حملے کے لیے چل پڑے ۔جوں جوں اِدھر اُدھر کے لوگوں کو پتہ چلتاتھا، وہ اس لشکر میں شامل ہوتے جاتے تھے ۔

دوشتر سواروں کے ساتھ جب ایک سو مسلح آدمی اس لشکر میں شامل ہوئے ،یہ لشکر سرحد سے آگے آگیاتھااور ایک جگہ پڑائو کیے ہوئے تھے۔ سلطان ایوبی رات کے وقت اتنا آگے چلاگیا، جاں اسے اس لشکر کی نقل و حرکت کی اطلاع جلدی مل سکتی تھی ۔ ان سو آدمیوں نے حملہ آوروں کے سربراہوں کو بتایا کہ صلاح الدین ایوبی چند دنوں تک فلسطین کی طرف کوچ کررہاہے۔ سربراہ بہت خوش ہوئے ۔انہوں نے یہ پڑائو دو دن اور بڑھادیا۔ اگلی رات سلطان ایوبی کو اس لشکر کی پہلی اطلاعیں ملیں ۔

اس سے اگلی رات اس نے پچاس سوار اور پانچ منجنیقیں بھیجیں ،جن کے ساتھ آتش گیر مادے والی ہانڈیاں تھیں۔ انہیں ایک گھوڑا کھینچتا تھا۔آدھی رات کے وقت جب سوڈانی لشکر سویا ہوا تھا،ان کے اناج کے ذخیرے پر ہانڈیاں گرنے لگیں ۔ معاً بعد آتشیں تیر اآئے اور مہیب شعلے اُٹھنے لگے ۔لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔منجنیقوں کو وہاں سے فوراً پیچھے بھیج دیا گیا۔ پچاس سواروں نے تین چار حصوں میں تقسیم ہوکر گھوڑے سرپٹ دوڑائے اور لشکر کے پہلوئوں کے آدمیوں کو کچلتے اور برچھیوں سے زخمی کرتے غائب ہوگئے ۔ لشکریوں کو سنبھلنے کا موقعہ نہ ملا۔آگ کے شعلوں سے جہاں اناج کا ذخیرہ جل رہاتھا، وہاں اونٹ اور گھوڑے بدک کر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔سلطان ایوبی کے سوار ایک بار پھر آئے اور تیر برساتے گزر گئے ۔ وہ اس کے بعد نہیں آئے۔

دوسرے دن اطلاع ملی کہ سوڈانیوںکے کم و بیش چار سو آدمی آگ سے ،گھوڑوں اور اونٹوں کی بھگدڑ سے اور چھاپہ مار سواروں کے حملوں سے مارے گئے ہیں ۔تمام تر اناج جل گیا اور تیروں کا ذخیرہ بھی نذر آتش ہوگیاتھا۔ لشکر نے وہاںسے کوچ کیا اور رات ایسی جگہ پڑائو کیا،جہاں اِدھر اُدھر مٹی کے ٹیلے تھے ۔اس جگہ شب خون کا خطرہ نہیں تھا۔اب رات کو گشتی دستے بھی پڑائوسے دُور دُور گشت کرتے رہے ،مگر حملہ پھر بھی ہوا۔اس کا انداز بھی گزشتہ رات جیسا تھا۔لشکر کے سربراہوں کو معلوم نہیں تھا کہ ان کے دوگشتی دستے سلطان ایوبی کے چھاپہ ماروں کی گھات میں آگئے تھے اور مارے گئے ہیں ۔تیر اندازوں نے ٹیلوں سے آتشیں تیر چلائے اور غائب ہوگئے ۔سحر کا دھند لکہ نکھر نے تک یہ شب خون جاری رہے۔ ان سے گزشتہ رات کی نسبت زیادہ نقصان ہوا۔

شام کو علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کو اپنے جاسوسوں کی لائی ہوئی یہ اطلاع دی کہ کل دن کے وقت سوڈانی لشکر اس انداز سے پیش قدمی کرے گا کہ شب خون مارنے والوں کا ٹھکانہ معلوم کرکے اسے ختم کیاجائے ۔ سلطان ایوبی نے اپنے قریب کچھ فوج رکھی تھی ۔اس نے رات کے وقت حملہ نہ کرایا۔ اسے معلوم تھا کہ اب دشمن چوکنا ہوگا۔ اگلے روز اس نے چار سو پیادہ سپاہی سوڈانیوں کے لشکر کے دائیں طرف نصف میل دور بھیج دئیے اور چار سو بائیں طرف ۔انہیں یہ ہدایت دی کہ وہ آگے کو چلتے جائیں ۔دونوں دستے جنگی ترتیب میں سوڈانیوں کے پہلو سے گزرے تو سوڈانیوں نے اس خطرے کے پیش نظر اپنے پہول پھیلادئیے کہ یہ دستے پہلو پر یا عقب سے حملہ کریں گے ۔ سلطان ایوبی کی ہدایت کے مطابق اُس کے کماندار اپنے دستوں کو پرے ہٹاتے گئے ۔سوڈانی دھوکے میں آگئے ۔ انہوں نے اپنے لشکر کو دائیںبائیں پھیلادیا۔اچانک سلطان ایوبی کے پانچ سو سواروں نے ٹیلوں کی اوٹ سے نکل کر سوڈانیوں کے وسط میں ہلہ بول دیا۔یہاں ان کی اعلیٰ کمان تھی۔ گھوڑ سواروں کا یہ حملہ اچانک اور بے حد شدید تھا۔سارے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔پہلوئوں سے پیادہ تیر اندازوں نے تیر برسانے شروع کردئیے ۔اس طرح صرف تیرہ سو نفری کی فوج نے کم و بیش چھ ہزار لشکر کو بھگدڑ میں مبتلا کرکے ایسی شکست دی کہ صحرا لاشوں سے اَٹ گیا اور سوڈانی قید میں بھی آئے اور بھاگے بھی۔بھاگنے والوں کی تعداد تھوڑی تھی۔

یہ سوڈانیوں کی دوسری بغاوت تھی جو سلطان ایوبی نے انہی کے خون میں ڈبو دی۔ اب کے سلطان ایوبی نے ڈپلومیسی سے کام نہیں لیا۔ اس نے جنگی قیدیوں سے معلومات حاصل کرکے ان تمام کمان داروں اور دیگر حکام کو قید میں ڈال دیا جو در پردہ بغاوت کی سازش میں شریک تھے۔ تخریب کاروں کی بھی نشاندہی ہوگئی ۔انہیں سزائے موت دی گئی۔رجب جیسے نائب سالاروں کو ہمیشہ کے لیے قید خانے میں ڈال دیاگیا۔ سلطان ایوبی حیران اس پر ہوا کہ بعض ایسے حکام اس سازش میں شریک تھے،جنہیں وہ اپنا وفادار سمجھتاتھا۔ اس نے اپنے معتمد سالاروں اور دیگر حکام سے کہہ دیا کہ مصر کے دفاع اور سلطنت کے استحکام کے لیے سوڈان پر حملہ اور قبضہ ضروری ہوگیاہے۔

اس نے خلیفہ العاضد سے محافظ دستہ واپس لے کر اسے معزول کردیا اور اعلان کر دیا کہ اب مصر خلافتِ عباسیہ کے تحت ہے اور یہ بھی کے خلافت کی گدی بغداد میں ہوگی۔ سلطان ایوبی نے اُمِّ عرارہ کو آٹھ محافظوں کے ساتھ نورالدین زنگی کے حوالے کرنے کے لیے روانہ کردیا۔

٭ ٭ ٭

ام عرارہ کا اغوا کا قصہ بھی یہی ختم ھوا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: