Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 5

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 5

–**–**–

“داستان ایمان فروشوں کی”
جلد اول‎ ‎
“لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی”

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کمرے ٹہلتے ہوئے آہ بھری اورکہا ……”قوم متحد ہو سکتی ہے اور ہو بھی جاتی ہے ۔ قوم کا شیرازہ امراء اور حکام بکھیرا کرتے ہیں یا وہ خود ساختہ قائد جو امیر، وزیر یا حاکم بننا چاہتے ہیں ۔ تم نے دیکھ لیا ہے علی ! مصر کے لوگوں کی زبان پر ہمارے خلاف کوئی شکایت نہیں ۔ غداری اور تخریب کاری صرف بڑے لوگ کر رہے ہیں ۔ ان بڑے لوگوں کو میری ذات کے ساتھ کوئی عداوت نہیں ۔ میں انہیں اس لیے برا لگتا ہوں کہ میں اسی گدی پر بیٹھ گیا ہوں جس کے وہ خواب دیکھ رہے تھے ”۔

سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔ علی بن سفیان اور بہائو الدین شداد بیٹھے سُن رہے تھے ۔ وہ ستمبر کے پہلے ہفتے کی ایک شام تھی ۔جون اور جولائی میں سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کی بغاوت کو کچلا اور اس کے فوراً بعد العاضد کو خلافت کی گدی سے ہٹایا تھا ۔ اس سے پہلے اس نے سوڈانیوں کی بغاوت کو نہایت اچھی جنگی حکمت عملی سے دبا کر سوڈانی فوج توڑ دی تھی ۔ مگر بغاوت کرنے والے کسی بھی قائد، کمانڈر یا عسکری کو سزا نہیں دی تھی ۔ ڈپلومیسی سے کام لیاتھا ۔اس طرح اس کی جنگی اہمیت کی بھی دھاک بیٹھ گئی تھی اور ڈپلومیسی کی بھی ۔اب کے سوڈانیوں نے پھر سر اُٹھایا تو سلطان ایوبی نے اس سر کو ہمیشہ کے لیے کچل دینے کے لیے پہلے تو میدانِ جنگ میں سوڈانیوں کی لاشوں کے انبار لگا ئے، پھر جو بھی پکڑا گیا ، اس کے عہدے اور رُتبے کا لحاظ کیے بغیر اسے انتہائی سزا دی ۔ اکثریت کو تو جلاد کے حوالے کیا، باقی جو بچے انہیں لمبی قید میں ڈال دیا یا ملک بدر کر کے سوڈان کی طرف نکال دیا ۔

”آج دو مہینے ہو گئے ”……سلطان ایوبی نے کہا ……”میں سلطنت کے انتظام اورقوم کی فلاح و بہبود کی طرف توجہ نہیں دے سکا ۔ مجرم لائے جا رہے ہیں اور میں سوچ بچار کے بعد انہیںسزائے موت دیتا چلا جا رہا ہوں ۔ یوں دل کو تکلیف ہو رہی ہے جیسے میں قتل عام کررہاہوں ۔ میرے ہاتھوں مرنے والوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے ”۔

”محترم امیر!”…… بہائو الدین شداد نے کہا ۔ ” ایک کافر اور ایک مسلمان ایک ہی قسم کے گناہ کریں تو زیادہ سزامسلمان کو ملنی چاہیے کیو نکہ اس تک اللہ کے سچے دین کی روشنی پہنچی پھر بھی اس نے گناہ گیا ۔ کافر تو عقل کا بھی اندھا ہے ، مذہب کا بھی اندھا۔ آپ اس پر غم نہ کریں کہ آپ نے مسلمانوں کو سزا دی ہے۔ وہ غدار تھے۔ سلطنت اسلامیہ کے باغی تھے، انہوں نے اسلام کا نام مٹی میں ملانے کے لیے کافروں سے اتحاد کیا ”۔

” میرا اصل غم یہ ہے شداد !”…… سلطان ایوبی نے کہا ……”کہ میں حکمران بن کے مصر نہیں آیا ۔ اگر مجھے حکومت کرنے کا نشہ ہوتا تو مصر کی موجودہ فضا میرے لیے سازگار تھی ۔ جنہیں صرف امارت کی گدی سے پیار ہوتا ہے ، وہ سازشی ذہن کے حاکموں کو زیادہ پسند کرتے ہیں ۔ وہ قوم کو کچھ دئیے بغیر لوگوں کو دلکش مگر جھوٹے رنگوں کی تصویریں دکھاتے رہتے ہیں ۔ اپنے ذاتی عملے میں شیطانی خصلت افراد کو رکھتے ہیں ۔ وہ اپنے ماتحت حاکموں کو شہزادوں کا درجہ دئیے رکھتے ہیں۔اورخود شہنشاہ بن جاتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ مجھ سے یہ گدی لے لو لیکن مجھ سے وعدہ کرو کہ میرے راستے میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ ہو ۔ میں جو مقصد لے کر گھر سے نکلا ہوں وہ مجھے پورا کر لینے دو ۔ نورالدین زنگی نے ہزاروں جانوں کی قربانی دے کر اور دریائے نیل کوعرب کے مجاہدوں کے خون سے سرخ کرکے شام اور مصر کا اتحاد قائم کیا ہے ۔ مجھے اس متحد سلطنت کو وسعت دینی ہے ۔ سوڈان کو مصر میں شامل کرنا ہے ۔ فلسطین کو صلیبیوں سے چھڑانا ہے ۔صلیبیوں کو یورپ کے وسط میں لے جا کر کسی گوشے میں گھنٹوں بٹھانا ہے اور مجھے یہ فتوحات اپنی حکمرانی کے لیے نہیں اللہ کی حکمرانی کے لیے حاصل کرنی ہیں مگر مصر میرے لیے دلدل بن گیا ہے ۔ وہ کون سا گوشہ ہے جہاں سازش، بغاوت اور غداری نہیں ”۔

” ان تمام سازشوں کے پیچھے صلیبی ہیں ”……سلطان ایوبی نے کہا ……” میں حیران ہوں کہ وہ کس بے دردی سے اپنی جوان لڑکیوںکو بے حیائی کی تربیت دے کر ہمارے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ان لڑکیوں کی خوبصورتی کا اپنا جادو ہے ، ان کا طلسم ان کی زبان میں ہے ”۔

” زبان کا وار تلوار کے وار سے گہرا ہوتا ہے ”……سلطان ایوبی نے کہا ……” وہ عقل جو تمہاری کمزوریوں کو بھانپ سکتی ہے علی ! وہ اپنی زبان سے ایسے انداز سے اور ایسے موقع پر ایسے الفاظ کہلوائے گی کہ تم اپنی تلوار نیام میں ڈال کر دشمن کے قدموں میں رکھ دو گے۔ صلیبیوں کے پاس دو ہی تو ہتھیار ہیں ، الفاظ اور حیوانی جذبہ جسے انسانی جذبے پر غالب کرنے کے لیے وہ اپنی جوان اور خوبصورت لڑکیوں کو استعمال کر رہے ہیں ۔ انہوں نے مسلمان امراء اور حکام کے دلوں سے مذہب تک نکال دیا ہے ”۔

” صرف حکام نہیں امیر محترم !”…… علی بنی سفیان نے کہا ……” مصر کے عام لوگوں میں بدکاری عام ہوگی ہے ۔ یہ صلیبیوں کاکمال ہے۔ دولت مند مسلمانوں کے گھروں میں بھی بے حیائی شروع ہوگئی ہے ”۔

” یہی سب سے بڑا خطرہ ہے ” …… علی بن سفیان نے کہا ……”میں صلیبیوں کے سارے لشکر کا مقابلہ کر سکتا ہوں اور کیا ہے مگر میں ڈرتا ہوں کہ صلیبیوں کے اس وار کو نہیں روک سکوں گا اور جب میری نظریں مستقبل میں جھانکتی ہیں ، تو میں کانپ اُٹھتا ہوں۔مسلمان برائے نام مسلمان رہ جائیں گے ۔ ان میں بے حیائی صلیبیوں والی ہوگی اور ان کے تہذیب و تمدان پر صلیبی رنگ چڑھا ہوا ہوگا ۔میں مسلمانوں کی کمزوریاں جانتا ہوں ۔ مسلمان اپنے دشمن کو نہیں پہچانتے ۔ اس کے بچھائے ہوئے خوبصورت جال میں پھنس جاتے ہیں ۔میں صلیبیوں کی کمزوریاں بھی جانتا ہوں وہ بے شک مسلمان کے خلاف متحد ہو گئے ہیں لیکن ان کے اندر سے دل پھٹے ہوئے ہیں ۔ فرانسیسی اور جرمن ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔ برطانوی اور اطالوی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے ۔وہ مسلمان کو مشترک دشمن سمجھ کر اکھٹے ہیں لیکن ان میں عداوت کی حد تک اختلاف ہیں ۔ ان کا شاہ آگسٹس دوغلا بادشاہ ہے ۔ باقی بھی ایسے ہی ہیں مگر انہوں نے مسلمان امراء کو عورت کے حسن اور زرو جواہرات کی چمک دمک سے اندھا کر رکھا ہے ۔ اگر مسلمان امراء متحد ہو جائیں تو صلیبی چند دنوں میں بکھر جائیں۔ اب فاطمی خلافت کو ختم کر کے میں نے اپنے دشمنوں میں اضافہ کر لیا ہے ۔ فاطمی اپنی گدی کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور صلیبیوں کے ساتھ ساز باز کر رہے ہیں ”۔

” ان کے شاعر کو کل سزائے موت دے دی گئی ہے ” …… علی بن سفیان نے کہا ۔

” جس کا مجھے بہت افسوس ہے ”…… سلطان ایوبی نے کہا ……” عمارتہ المینی کی شاعری نے میرے دل پر بھی گہرا اثر کیاتھا۔ مگر اس نے الفاظ اور ترنم کو چنگاریاں بنا کر اسلام کے خرمن کو جلانے کی کوشش کی ہے ”۔

عمارةالمینی اس دور کامشہور شاعر تھا۔اس دور میںاور اس سے پہلے بھی لوگ شاعروں کو پیروں اور پیغمبروں جتنا درجہ دیتے تھے ۔ شاعر الفاظ اور ترنم سے فوجوں میں جذبے کی نئی روح پھونک دیا کرتے تھے ۔یہی درجہ اس مسلمان شاعر کو حاصل تھا ۔ اس نے لوگوں جو مقام پیدا کر رکھا تھا ، اسے اس نے اس طرح استعمال کرنا شروع کر دیا تھا کہ ایک طرف وہ لوگوں میں جہاد کا جذبہ پختہ کرتا تھا اور ساتھ ہی فاطمی خلافت کی غظمت کی دھاک لوگوں کے دلوں میں بٹھاتا تھا ۔ اسے فاطمی خلافت کی اتنی پشت پناہی حاصل تھی کہ اس نے سلطان ایوبی کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے آخری اشعار یہ تھے ……” مجھے فاطمی خلافت کی محبت کا طعنہ دینے والو ! مجھ پر لعنت بھیجو ۔ میں تمہیں لعنت کے لائق سمجھتا ہوں …… فاطمی محلات کی ویرانی پر آنسو بہائو ۔ ان میں رہنے والوں کو میرا پیغام دو کہ میں نے تمہارے لیے جو زخم کھائے ہیں وہ کبھی مندمل نہ ہوں گے ”۔

اس کے گھر اچانک چھاپہ مارا گیا تھا۔ وہاںسے دستاویزی ثبوت ملا تھا کہ وہ صرف فاطمی خلافت کا ہی خیر خواہ نہیں بلکہ صلیبیوں کا وظیفہ خوار بھی ہے ۔ صلیبی اسے اس مقصد کے لیے وظیفہ دیتے تھے کہ وہ مصریوں کے دلوں پر فاطمی خلافت کوغالب کرے اور سلطان ایوبی کے خلاف نفرت پیدا کرتارہے۔ اسے سزائے موت دے دی گئی تھی ۔

” جس قوم کے شاعر بھی دشمن کے وظیفہ خوار ہوں ، اس قوم کے لیے ذلت و رسوائی ہے ”…… سلطان ایوبی نے کہا۔

دربان اندر آیا اور کہا کہ معزول خلیفہ العاضد کا قاصد آیا ہے ۔ سلطان ایوبی کے ماتھے کے شکن گہرے ہو گئے ۔ اس نے کہا ……” خلافت کے سوا یہ بوڑھا مجھ سے اور کیا مانگ سکتا ہے ” …… دربان سے کہا ……” اسے اندر بھیج دو ”۔

العاضد کا قاصد اندر آیا اور کہا ……”خلیفہ کا سلام پیش کرتا ہوں ”۔

”وہ خلیفہ نہیں ہے ”…… سلطان ایوبی نے کہا……” دو مہینے ہو گئے ہیں اسے معزول ہوئے ۔ وہ اپنے محل میں قید ہے ”۔

” معافی چاہتاہوں قابل صد احترام امیر !”…… قاصد نے کہا …… ”عادت کے تحت منہ سے نکل گیا ہے ۔ العاضد نے بعد از سلام کہا ہے کہ بیماری نے بستر پر ڈال دیا ہے اٹھنا محال ہے ۔ ملنے کی خواہش ہے ۔ اگر امیر محترم تشریف لا سکیں تو احسان ہوگا ”۔

سلطان ایوبی نے بے قراری سے کہا اپنی ران پر ہاتھ مارا اور کہا ……” وہ مجھے بلا رہاہے کیونکہ وہ ابھی تک اپنے آپ کو خلیفہ سمجھتا ہے ”۔

”نہیں امیر مصر !”…… قاصد نے کہا ……” ان کی حالت بہت خراب ہے ۔ محل کے طبیب نے خطرے کااظہار کیاہے ۔ یہ ان کا دیرینہ مر ض ہے جو غم اور غصے میں تیز ہو جاتا ہے ، اب تو وہ اٹھنے سے معذور ہوگئے ہیں ” …… قاصد نے ذرا جھجک کر کہا ۔……”انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اکیلے تشریف لائیں ۔ راز کی در چار باتیں ہیں جو کسی دوسرے کی سامنے نہیں کی جاستکیں ”۔

” انہیں بعد از سلام کہنا صلا ح الدین ایوبی راز کی سب باتیں جانتا ہے ” …… سلطان ایوبی نے کہا ……”اب راز کی باتیں خدا سے کہنا ۔ اللہ آپ کو معاف کرے ”۔

قاصد مایوس ہو کر چلا گیا ۔ سلطان ایوبی نے دربان کو بلا کر کہا کہ طبیب کو بلائو ۔ اس نے علی بن سفیان اور بہائو الدین شداد سے کہا ……” اس نے مجھے اکیلا آنے کو کہا ہے ۔ کیا اس میں کوئی چال نہیں ؟ کیا میرا خدشہ غلط ہے کہ مجھے محل میں بلا کر میرا کام تمام کرنا چاہتاہے ؟ اسے مجھ پر اوچھا وار کرنا چاہیے ۔ اسے حق حاصل ہے ”۔

”آپ نے اچھا کیا نہیں گئے ”…… شداد نے کہا اور علی بنی سفیان نے تائید کی ۔

طبیب آگیا تو سلطان ایوبی نے اسے کہا ……”آپ العاضد کے پاس چلے جائیں۔ میں جانتا ہوں وہ بہت مدت سے بیمار ہے۔ معلوم ہوتاہے کہ اس کا طبیب مایوس ہوگیا ہے۔ آپ جاکر دیکھیں اور اس کا علاج کریں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ بیمار نہ ہو ، اگر ایسا ہے تو مجھے بتائیں ”۔

سابق خلیفہ العاضدکو اسی محل میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی جو اس کی خلافت کی گدی تھی ۔ اس محل کو اس نے جنت بنا رکھا تھا۔ حرم دیس دیس کی خوبصورت عورتوں سے پُر رونق تھا ۔ لونڈیوں کا ہجوم الگ تھا ۔ سینکڑوں محافظوں کا دستہ مستعد رہتا تھا ۔ فوجی کماندار حاضری میں کھڑے رہتے تھے ۔ سلطان ایوبی کے لائے ہوئے انقلاب نے اس محل کی دنیا ہی بدل ڈالی تھی ۔ خلیفہ اب خلیفہ نہیں تھا۔ محل میں عیش و عشرت کاتمام سامان جوں کا توں رہنے دیا گیا، فوجی کمانداروں اور محافظ دستے کو وہاں سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ فوج کاایک دستہ اب بھی وہاں نظر آتا تھا ۔ مگر یہ العاضد کا محافظ نہیں پہرہ دار تھا ۔ خلافت کامحل چونکہ سازشوں کامرکز تھا ، اس لیے وہاں اب پہرہ لگا دیا گیا تھا ۔ العاضد اب اپنے محل میں قید ی تھا ۔ وہ بوڑھا تھا اور دل کے مرض کا مریض تھا۔ خلافت چھن جانے کا غم، بڑھاپا، شراب اور عیش و عشرت نے اسے بستر پر ڈال دیا تھا ۔

چند دنوں میں وہ لاش کی مانند ہوگیا تھا ۔ اس کی تیماداری کے لیے دو ادھیڑ عمر عورتیں اور ایک خادم اس کے کمرے میں موجود تھا ۔ العاضد آنکھیں کھولتا ، انہیں دیکھتا اور آنکھیں بند کر لیتا تھا ۔ محل کا طبیب اسے دوائی پلا گیاتھا ۔ دو جوان لڑکیاںکمرے میں آئیں ۔ یہ العاضدکے حرم کی رونق تھیں ۔ ان میں سے ایک نے خلیفہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور اس پر جھک کر صحت کا حال احوال پوچھا ۔ دوسری نے العاضد کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اسے صحت یابی کی دعا دی ۔ دونوںلڑکیوں نے ایک دوسری کی آنکھوں میں دیکھا اور ایک نے کہا ……” آپ آرام فرمائیں ۔ ہم آپ کو بے آرام نہیں کریں گی ”……دوسری نے کہا ……” ہم ہر وقت ساتھ والے کمرے میں موجود رہتی ہیں ۔ بلا لیا کریں ”۔ اور دونوں کمرے سے نکل گئیں ۔

العاضد نے کراہ کر لمبی آہ بھری اور اپنے پاس کھڑی ادھیڑ عمر عورتوں سے کہا ……”یہ دونوں لڑکیاں میری تیماداری کے لیے نہیں آئی تھیں ۔ یہ دیکھنے آئی تھیں کہ میں کب مر رہاہوں ۔ میں جانتا ہوں انہوں نے اپنی دوستیاں لگا رکھی ہیں ۔ یہ گدھ ہیں ۔ میرے مرنے کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ان کی نظر میرے مال اور دولت پرہے۔ تم تینوں کے سوا یہاں میرا ہمدرد کون ہے ؟ …… کوئی نہیں ۔کوئی بھی نہیں ۔ فاطمی خلافت کے نعرے لگانے والے کہاں گئے !” ۔ اس نے دل پر ہاتھ رکھ لیا اور کروٹ بدل لی ۔ وہ تکلیف میں تھا ۔

اتنے میں قاصد کمرے میں آیا اورکہا ……”امیر مصر نے آنے سے انکار کر دیا ہے ”۔

”اوہ بد نصیب صلاح الدین !”…… العاضد نے کراہنے والے لہجے میںکہا ……” میرے مرنے سے پہلے ایک بار تو آجاتا ”…… صدمے نے اس کی تکلیف میں اضافہ کر دیا ۔ اس نے نحیف آواز میں رُک رُک کر کہا ……”اب تو میری لونڈیاں بھی میرے بلانے پر نہیں آتیں ۔ امیر مصر کیوں آئے گا …… مجھے گناہوں کی سزا مل رہی ہے۔ میرے خون کے رشتے بھی ٹوٹ گئے ہیں ۔ ان میں سے بھی کوئی نہیں آیا ۔ وہ میرے جنازے پر آئیں گے اور محل میں جو ہاتھ لگا اُٹھا کر چلے جائیں گے ”۔

وہ کچھ دیر کراہتا رہا ۔ دونوں تیمادار عورتیں پریشانی کے عالم میں اس کی باتیں سنتی رہیں ۔ ان کے پاس تسلی اور حوصلہ افزائی کے لیے بھی جیسے کوئی الفاظ نہیں رہے تھے ۔ ان کے چہروں پر خوف سا طاری تھا ، جیسے وہ خدا کے اس قہر سے ڈر رہی تھیں ۔ جو بادشاہ کو گدا اور امیر کو فقیر بنا دیتا ہے۔

دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا۔ ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا ۔ وہ ذرا رُک کر اندر آیا اور العاضد کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کہا ……” السلام و علیکم ۔ میں امیر مصر کا طبیب خاص ہوں ۔ انہوں نے مجھے آپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے ”۔

” کیا امیر مصر میں اتنی سی بھی مروت نہیں رہی کہ آکے مجھے دیکھ جاتا ؟” …… العاضد نے کہا ……”میرے بلانے پر بھی نہ آیا ”۔

” اس کے متعلق میں کچھ نہیں کہہ سکتا ”۔ طبیب نے کہا …… ”انہوں نے مجھے آپ کے علاج کے لیے بھیجا ہے ۔ میں یہ کہنے کی جرأت نہیں کروں گا کہ اتنے بڑے واقعہ کے بعد جس میں باقاعدہ جنگ ہوئی اور ہزاروں جانیں ضائع ہوگئیں ، امیر مصر شاید یہاں نہیں آئیں گے ۔ انہیں آپ کی صحت کا فکرضرور ہے ۔ ایسا نہ ہوتا تو وہ مجھے آپ کے علاج کا حکم دہ دیتے ۔ اس حالت میں آپ ایسی کوئی بات ذہن میں نہ لائیں جو آپ کے دل کو تکلیف دیتی ہے ورنہ علاج نہیں ہوسکے گا ”۔

”میرا علاج ہوچکا ”…… العاضد نے کہا ……”میرا ایک پیغام غور سے سن لو ۔ صلاح الدین کو لفظ بہ لفظ پہنچا دینا ۔ میری نبض سے ہاتھ ہٹا لو ۔ میںاب دنیا کی حکمت اور تمہاری دوائیوں سے بے نیاز ہوچکا ہوں ۔ سنو طبیب ! صلاح الدین نے کہنا کہ میںتمہارا دشمن نہ تھا ۔ میں تمہارے دشمنوںکے جال میں آگیاتھا ۔ یہ بدقسمتی میر ی ہے یا صلاح الدین کی کہ میں اپنے گناہوں کا اعتراف اس وقت کر رہا ہوں ۔ جب میں ایک گھڑی کا مہمان ہوں …… صلاح الدین سے کہنا کہ میرے دل میں ہمیشہ تمہاری محبت رہی ہے اور تمہاری محبت کو ہی دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں ۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں زرو جواہرات اور حکمرانی کی محبت بھی اپنے دل میں پیدا کرلی ۔ جو اسلام کے احترام پر غالب آگئی۔ آج سب نشے اُتر گئے ہیں۔ وہ لوگ جو میرے پائوں میں بیٹھا کرتے تھے ، وہ بیگانے ہوگئے ہیں ۔ وہ لونڈیاں بھی میرے مرنے کی منتظر ہیں جو میرے اشاروں پر ناچا کرتی تھیں ۔ میرے دربار میں عریاں رقص کرنے والی لڑکیاں مجھے نفرت کی نگاہوں سے دیکھتی ہیں …… انسان کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ انسان کسی انسان کے گناہوں کابوجھ اُٹھا سکتا ۔ ان کم بختوں نے مجھے خدا بنا ڈالا مگر آج جب حقیقی خدا کا بلاواآیا ہے تو مجھ پر یہ حقیقت روشن ہوئی ہے ”۔

”میں نے اس کو نجات کاذریعہ سمجھا ہے کہ اپنے گناہوںکااعتراف کر لوں اور صلاح الدین کو ایسے خطروں سے خبردار کرتاجائوں جن سے شاید وہ واق نہیں ۔ اسے کہنا کہ میرے محافظ دستے کا سالار رجب زندہ ہے اور سوڈان میں کہیں روپوش ہے ۔ وہ مجھے بتا کر گیا تھا کہ فاطمی خلافت کی بحالی کے لیے سوڈانیوں اور قابل اعتماد مصریوں کی فوج تیار کرے گا اور وو صلیبیوں سے جنگی اور مالی امداد لے گا …… صلاح الدین سے کہنا کہ اپنے محافظ دستے پر نظر رکھے ۔ اکیلا باہر نہ جائے ۔ رات کو زیادہ محتاط رہے کیونکہ رجب نے فدائیوں کے ساتھ ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاہے ۔ اسے کہنا کہ مصر تمہارے لیے آگ اُگلنے والا پہاڑ ہے۔ تم جنہیں دوست سمجھتے ہو وہ بھی تمہارے دشمن ہیںاور وہ جو تمہاری آواز کے ساتھ آواز ملا کر وسیع سلطنت اسلامیہ کے نعرے لگاتے ہیں ، میں صلیبیوں کے پالے ہوئے سانپ موجود ہیں ”۔

”تمہارے جنگی شعبے میں فیض الفاطمی بڑا حاکم ہے مگر تم نہیں جانتے کہ وہ تمہارے مخالفین میں سے ہے۔ وہ رجب کا دست راست ہے۔ تمہاری فوج میں ترک، شامی اور دوسرے عربی نسل کے جو کماندار اور سپاہی ہیں ان کے سوا کسی پر بھررسہ نہ کرنا ۔ یہ سب تمہارے وفادار اور اسلام کے محافظ ہیں ۔ مصری فوجیوں میں قابل اعتماد بھی ہیں اور بے وفا بھی ۔ تم نہیں جانتے کہ تم نے جب سوڈانی لشکر پر فیصلہ کن حملہ کیاتھا تو حملہ آور دستوں میں دو دستوں کے کماندار تمہاری چال کو ناکام کرنے کرنے لیے تمہاری ہدایات اور احکام پر غلط عمل کرنا چاہتے تھے لیکن تمہارے ترک اور عرب سپاہیوں میں جوش اور جذبہ ایسا تھا کہ اپنے کماندار کے حکم کا انتظار کیے بغیر وہ سوڈانیوں پر قہر بن کر ٹوٹے ، ورنہ یہ دو کماندار جگن کا پانسہ پلٹ کر تمہیں ناکام کردیتے ”۔

العاضد مری مری آواز میں رُک رُک کر بولتا رہا۔ طبیب نے اسے ایک دو مرتبہ بولنے سے روکا تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے چپ کرادیا ۔ اس کے چہرے پر پسینہ اس طرح آگیا تھاجیسے کسی نے پانی چھڑک دیا ہو۔ دونوں عورتوں نے اس کا پسینہ پونچھا لیکن پسینہ چشمے کی طرح پھوٹتا آرہا تھا۔اس نے چند ایک اور انتظامیہ اور فوج کے حکام کے نام بتائے جو سلطان ایوبی کے خلاف سازشوں میں مصروف تھے۔ ان میں سے زیادہ خطرناک فدائی تھے جن کا پیشہ پُر اسرار قتل تھا ۔ وہ اس فن کے ماہر تھے۔ العاضد نے مصر میں صلیبیوں کے اثر و رسوخ کی بھی تفصیل سنائی اور کہا ……”انہیںمسلماننہ سمجھنا ۔ یہ ایمان فروخت کر چکے ہیں …… صلاح الدین سے کہنا کہ اللہ تمہیں کامیاب کرے اور سرخرو کرے ، لیکن یہ یاد رکھنا کہ ایک تو وہ لوگ ہیں جو چوری چھپے تمہیں دھوکہ دے رہے ہیں اور دوسرے وہ لگو ہیں جو خوشامد سے تمہیں خدا کے بعد کا درجہ دے دیں گ۔ یہ ان لوگوں سے زیادہ خطرناک ہیں جو چوری چھپے دھوکو دیتے ہیں …… سے کہنا کہ دشمنوں کو زیر کر کے جب تم اطمینان سے حکومت کی گدی پر بیٹھو گے تو میری طرح دونوں جہاں کے بادشاہ نہ بن جانا ۔ سدا بادشاہی اللہ کی ہے۔ اسی مصر میں فرعونوں کے کھنڈر دیکھ لو ۔ میرا انجام دیکھ لو ۔ اپنے آپ کو اس انجام سے بچانا ”۔

اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس کے چہرے پر جہاں کاکرب کاتاثر تھا ۔ وہاں سکون سا بھی نظر آنے لگا ۔ اس نے بولنے کی کوشش کی مگر حلق سے خراٹے سے نکلے ۔ اس کا سر ایک طرف لڑھک گیا اور وہ ہمیشہ کے لیے خاموش گیا۔ واقعہ ستمبر ١١٧١ء کا ہے ۔

طبیب نے سلطان ایوبی کو اطلاع بجھوائی ۔ محل میں العاضد کی موت کی خبر پھیل گئی ۔ محل کے کسی گوشے سے رونا تو دورکی بات ہے ہلکی سی سسکی بھی نہ سنائی دی ۔ صرف ان دو عورتوں کے آنسو بہہ رہے تھے ۔ جو آخری وقت اس کے پاس تھیں …… سلطان ایوبی چند ایک حکام کے ساتھ فوراً محل میں آگیا۔ اس نے دیکھا کہ وہاں برآمدوںاور غلام گردشوں میںکچھ سرگرمی سی تھی ۔ اسے شک ہوا۔ اس نے محافظ دستے کے کماندار کو بلا کر حکم دیاکہ محل کے تمام کمروں میں گھوم جائو۔ تمام مردوں ، عورتوں اور لڑکیوں کوکمروں سے نکا ل کر باہر صحن میںبٹھا دو اور کسی کو باہر نہ جانے دو ۔ کسی کو کیسی ہی ضرورت کیوں نہ ہو ، اصطبل سے کوئی گھوڑا نہ کھولے ۔سلطان ایوبی نے محل پر قبضہ کرنے کا حکم دیا ۔ اس نے عجیب چیز یہ دیکھی کہ العاضد جو اپنے آپ کو بادشاہ بنائے بیٹھا تھا اور جس نے شراب اور عورت کو ہی زندگی جانا تھا ، اس کی میت پر رونے والا کوئی نہ تھا۔ محل مردوں اور عورتوں سے بھراپڑا تھا ۔ مگر کسی کے چہرے پر اداسی کا تاثر بھی نہیں تھا۔

طبیب سلطان ایوبی کو الگ لے گیا اور اسے العاضد کی آخری باتیں سنائیں۔ اس نے اپنی رائے ان الفاظ میں دی کہ آپ کو آخری وقت میںاس کے بلاوے پر آجانا چاہیے تھا ۔ سلطان ایوبی نے اسے بتایا کہ وہ اس خدشے کے پیشِ نظر نہیں آیاکہ اس شخص کا کچھ بھروسہ نہ تھا اوردوسری وجہ یہ تھی کہ اسے ایمان فروشوں سے نفرت تھی مگر اب طبیب کی زبانی العاضد کا آخری پیغام سن کر سلطان ایوبی کو سخت پچھتاوا ہونے لگا تھا ۔ وہ بہت بے چین ہوگیا تھا اور اس نے کہا ……”اگر میں آجاتا تو اس کے منہ سے کچھ اور راز کی باتیں نکلوا لیتا ۔ وہ کوئی راز سینے میں نہ لے گیا ہو ”۔

متعدد مورخین نے اپنی تحریروں میں لکھا ہے کہ العاضد بے شک عیاش اور گمراہ تھا ، اس نے سلطان ایوبی کے خلاف سازشوںکی پشت پناہی بھی کی لیکن اس کے دل میں سلطان ایوبی کی محبت بہت تھی ۔ دو مورخین نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر سلطان ایوبی العاضد کے بلاوے پرچلا جاتا تو العاضد اسے اوربھی بہت سی باتیں بتاتا۔ بہرحال تاریخ ثابت کرتی ہے کہ العاضد کے بلاوے میںکوئی فریب نہ تھا ۔ اس نے اپنی روح کی نجات کے لیے اور سلطان ایوبی کی محبت کے لیے گناہوں کی بخشش مانگنے کا یہ طریقہ اختیار کیا تھا ۔ بہت مدت تک سلطان ایوبی تاسف میںرہ گیا کہہ وہ آخری وقت العاضد کی باتیں نہ سن سکا ۔بعد میں ان تمام افراد کے خلاف الزامات صحیح ثابت ہوئے تھے جن کی العاضد نے نشاندہی کی تھی ۔

سلطان ایوبی نے ان تمام افراد کے نام علی بن سفیان کو دے کرحکم دیا کہ ان سب کے ساتھ اپنے جاسوس اور سراغرساں لگا دو لیکن کسی کم مکمل شہادت اور ثبوت کے بغیر گرفتار نہ کرنا ۔ ایسے طریقے اختیار کرو کہ وہ عین موقعہ پر پکڑے جائیں ، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کے ساتھ بے انصافی ہوجائے ۔ یہ احکام دے کر اس نے تہجیز و تکفن کے انتظامات کرائے۔ اسی شام العاضد عام قبرستا ن میں دفن کر دیا گیا جہاںتھوڑے ہی عرصے بعد قبر کا نام و نشان مٹ گیا ۔ سلطان ایوبی نے محل کی تلاشی لی ۔ وہاںسے اس قدر سونا ، جواہرت اور بیش قیمت تحائف نکلے کہ سلطان ایوبی حیران رہ گیا ۔ اس نے حرم کی تمام عورتوں اور جوان لڑکیوں کوعلی بن سفیان کے حوالے کر دیا اور حکم دیا کہ معلوم کروکون کہاں کی رہنے والی ہے۔ ان میں سے جو اپنے گھروں کو جانا چاہتی ہیں انہیں اپنی نگرانی میں گھروں تک پہنچا دو اور ان میں جو غیر مسلم اور فرنگی ہیں ان کے متعلق پوری طرح چھان بین کرکے معلوم کرو کو وہ کہاں سے آئی تھیں اور ان میں مشتبہ کون کون سی ہیں ۔ مشتبہ کو آزاد نہ کیاجائے بلکہ اس سے معلومات حاصل کی جائیں۔

سلطان ایوبی نے محل سے برآمد ہونے والا مال و دولت ان تعلیمی اداروں ، مدرسوں اور ہسپتالوں میں تقسیم کر دیا جو اس نے مصر میں کھولے تھے ۔

٭ ٭ ٭

العاضد نے مرنے سے پہلے اپنے محافظ دستے کے سالار رجب کے متعلق بتایا تھا کہ وہ سوڈان میں روپوش ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کے خلاف فوج تیار کر رہا ہے اور وہ صلیبیوں سے بھی مدد لے گا۔ علی بن سفیان نے چھ ایسے جانباز منتخب کیے جو لڑاکا جاسوس تھے ۔ ان کا کماندار رجب کو پہچانتا تھا ۔ انہیں تاجروں کے بھیس میں سوڈان روانہ کر دیا گیا ۔ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ ممکن ہو سکے تو اسے زندہ پکڑ لائیں ورنہ وہیں قتل کر دیں ۔

جس وقت یہ پارٹی سوڈان کو روانہ ہوئی اس وقت رجب سوڈان میں نہیں بلکہ فلسطین کے ایک مشہور اور مضبوط قلعے شوبک میں تھا ۔ فلسطین پر صلیبیوں کا قبضہ تھا ۔ انہوں نے اس خطے کو اڈہ بنا لیا تھا ۔ مسلمانوں پر انہوں نے عرصہ حیات تنگ کر رکھا تھا ۔ مسلمان وہاں سے کنبہ در کنبہ بھاگ رہے تھے ۔ وہاں کسی مسلمان کی عزت محفوظ نہیں تھی ۔ صلیبی ڈاکوئوں کی صورت بھی اختیار کرتے جا رہے تھے ۔ وہ مسلمانوں کے قافلوں کو لوٹ کر فلسطین میں آجاتے تھے ۔ لڑکیوں کو بھی اغواکر کے لاتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے فلسطین کو تہ تیغ کرنا چاہتا تھاتا کہ مسلمانوں کے جان و مال اور آبرو کو محفوظ کیا جا سکے ۔ اس سے بھی بڑی وجہ یہ تھی کہ قبلہ اول پر صلیبی قابض تھے ، مگر مسلمان امراء کا یہ عالم تھا کہ و ہ صلیبیوں کے ساتھ دوستی کرتے پھرتے تھے ۔ رجب بھی ایک مسلمان فوجی سربراہ تھا ۔ وہ سلطان کے خلاف مدد حاصل کرنے کے لیے صلیبیوں کے پاس پہنچ گیا تھا ۔

اس کے اعزاز میں قلعے میں رقص کی محفل گرم کی گئی تھی ۔ رجب نے یہ دیکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی کہ برہنہ ناچنے والیوں میں زیادہ تعداد مسلمان لڑکیوں کی تھی جنہیں صلیبیوں نے کمسنی میں اغوا کر لیا اور رقص کی تربیت دی تھی ۔ اپنی قوم کی بیٹیوں کو وہ کافر کے قبضے میں ناچتا دیکھتا رہا اور ان کے ہاتھوں شراب پیتا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ وہ مسلمان کماندار بھی تھے ۔ رات بھر وہ شراب اور رقص میں بدمست رہے اور صبح صلیبیوں کے ساتھ بات چیت کے لیے بیٹھے ۔ اس اجلاس میں صلیبیوں کے مشہور بادشاہ گائی لوزینان اور کونارڈ موجود تھے ۔ ان کے علاوہ چند ایک صلیبی فوج کے کمانڈر بھی تھے ۔ رات کو رجب انہیں بتا چکا تھا کہ سلطان ایوبی نے سوڈانیوں کے حبشی قبیلے کے مبعد کو مسمار کر کے ان کے پروہت کو ہلاک کر دیا ہے ۔ اس پر سوڈانیوں نے حملہ کیا جسے سلطان ایوبی نے پسپا کیا اور اسن نے خلیفہ العاضد کی خلافت ختم کر کے عباسی کا اعلان کر دیا مگر مصر میں کوئی خلیفہ نہیں رہے گا۔ رجب نے انہیں بتایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ سلطان ایوبی مصر کا خود مختار حکمران بننا چاہتا ہے ۔ رجب نے صلیبیوں کو اس اجلاس میں بتایا کہ وہ ان سے جنگی اور مالی مدد لینے آیا ہے اور وہ سوڈان جا کر فوج تیا ر کرے گا ۔ مصر میں بد نظمی او ابتری پھیلانے کے لیے بھی اس نے صلیبیوں سے مدد مانگی ۔

”فوری طور پر دو پہلو سامنے آتے ہیں جن پر ہمیں توجہ مرکوز کرنی چاہیے ”…… کونارڈ نے کہا ……”جس حبشی قبیلے کے مذہب میں صلاح الدین ایوبی نے ظالمانہ دخل اندازی کی ہے اسے انتقام کے لیے بھڑکایا جائے ۔ اس کے ساتھ سارے سوڈان میں جتنے بھی عقیدے اور مذہب ہیں ان کے پیرو کاروں کو صلاح الدین کے خلاف یہ کہہ کو مسلح کیا جائے کہ یہ مسلمان بادشاہ لوگوں کی عبادت گاہیں اور اور ان کے دیوتائوں کے بت توڑتاپھر رہا ہے۔ پیشتر اس کے کہ وہ کسی اور عقیدے پر حملہ آور ہو اسے مصر میں ہی ختم کردیا جائے ۔ اس طرح لوگوں کے مذہبی جذبات مشتعل کر کے انہیں مصر پر حملے کے لیے آسانی سے تیار کیا جاسکتا ہے ”۔

”ہم مصر کے مسلمانوں تک کو صلاح الدین کے خلاف کھڑا کر سکتے ہیں ۔ ”……ایک صلیبی کمانڈر نے کہا ……”اگر محترم رجب برا نہ مانیں تو میں انہی کے فائدے کی بات کہہ دوں ۔مسلمان میں مذہبی جنون پیدا کر کے مسلمان کو مسلمان کے ہاتھوں مروا دینا کوئی مشکل نہیں ۔ جس طرح ہمارے مذہب میں بعض پادریوں نے اپنے آپ کو گرجوں کا حکم بنا کر اپنا وجود انسان اور خدا کے درمیان کھڑا کر دیا ہے ، بالکل اسی طرح اسلام میں بھی بعض اماموں نے مسجد پر قبضہ کر کے اپنے آپ کو خدا کا ایجنٹ بنا لیاہے ۔ ہمارے پاس دولت ہے جس کے ذور پر ہم مسلمان مولوی تیار کرکے مصر کی مسجدوںمیں بٹھا سکتے ہیں ۔ ہمارے پاس ایسے عیسائی بھی موجود ہیں جو اسلام اور قرآن سے بڑی اچھی طرح واقف ہیں ۔ انہیں ہم مسلمان اماموں کے روپ میں استعمال کریں گے ۔ صلاح الدین کے خلاف کسی مسجد میں کوئی کہنے کی ضرورت نہیں ۔ ان مولویوں کی زبان سے ہم مسلمانوں میں ایسی توہم پرستی پیدا کریں گے کہ ان کے دلو ں میں صلاح الدین کی وہ عظمت مٹ جائے گی جو اس نے پیدا کر رکھی ہے ”

Read More:  Uqaab by Seema Shahid – Episode 11

” یہ مہم فوراً شرع کردینی چاہیے ”…… رجب نے کہا ……”سلطان ایوبی نے مصر میں مدرسے کھول دئیے ہیں جہاں بچوں اور نوجوانوں کو مذہب کے صحیح رُخ سے روشناس کیا جارہاہے ۔ اس سے پہلے وہاں کوئی ایسا مدرسہ نہیں تھا ۔ لوگ مسجد میں خطبے سنتے تھے ، جن میں خلیفہ کی مدح سرائی زیادہ ہوتی تھی ۔ صلاح الدین نے خطبوں سے خلیفہ کاذکر ختم کرادیاہے۔ اگر لوگوں میں علم کی روشنی اور مذہبی بیداری پیدا ہوگئی تو ہمارا کام مشکل ہو جائے گا ۔ آپ جانتے ہیںکہ حکومت کے استحکام کے لیے لوگوں کو ذہنی طور پر پسماندہ اور جسمانی طور پر محتاج رکھنا لازمی ہے ”۔

”محترم رجب !”…… ایک صلیبی کمانڈر مُسکرا کربولا ……”آپ کو اپنے ملک کے متعلق بھی علم نہیں کہ وہاں درپردہ کیاہو رہاہے ۔ ہم نے یہ مہم اسی روز شروع کردی تھی جس روز صلاح الدین نے ہمیں بحیرئہ روم میں شکست دی تھی ۔ ہم کھلی تخریب کاری کے قائل نہیں ۔ ہم ذہنوں میں تخریب کاری کیا کرتے ہیں ۔ ذرا غور فرمائیں محترم! دو سال پہلے قاہرہ میں کتنے قحبہ خانے تھے اور اب کتنے ہیں ؟ کیا ان میں بے پناہ اضافہ نہیں ہوگیا ؟ کیا دولت مند مسلمان گھرانوں میں لڑکوں اور لڑکیوں میں قابل اعتراض معاشقے شروع نہیں ہوگئے ؟ ہم نے وہاں جو عیسائی لڑکیاں بھیجی تھیں وہ مسلمان لڑکیوں کے روپ میں مسلمان مردوں کے درمیان رقابت پیدا کرکے خون خرابے کراچکی ہیں ۔ قاہرہ میں ہم نے نہایت دلکش جواء بازی رائج کردی ہے دو مسجدوں میں ہمارے بھیجے ہوئے آدمی امام ہیں ۔ وہ نہایت خوبی سے اسلام کی شکل و صورت بگاڑ رہے ہیں ۔ وہ جہاد کے معنی بگاڑ رہے ہیں ۔ ہم نے وہاں عالموں اور فاضلوں کے بھیس میں بھی کچھ آدمی بھیج رکھے ہیں جو مسلمانوں کو جنگ و جدل کے خلاف تیار کر رہے ہیں ۔ وہ دوست اور دشمن کا تصور بھی بدل رہے ہیں ۔ مجھے ذاتی طور پر یہ توقع ہے کہ مسلمان چند برسوں تک اس ذہنی کیفیت میں داخل ہو جائیں گے جہاں وہ اپنے آپ کو بڑے فخر سے مسلمان کہیں گے مگران کے ذہنوں پر ان کے تہذیب و تمدن پر صلیب کا اثر ہوگا ”۔

”صلاح الدین کا جاسوسی کا نظا مبہت ہوشیار ہے ”…… رجب نے کہا …… ”اگر اس کے شعبہ جاسوس اور سراغرسانی کے سربراہ علی بن سفیان کو قتل کر دیا جائے تو صلاح الدین اندھااور بہرہ ہوجائے ”۔

”اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ خود کچھ بھی نہیں کر سکتے ”…… کونارڈ نے کہا …… ”آپ ایک حاکم کو قتل بھی نہیں کرا سکتے ۔ اگر آپ عقل کے لحاظ سے اتنے کمزور ہیں تو آپ ہمارے آدمیوں کو بھی پکڑوا کر مروائیں گے اور ہماری دولت بھی برباد کر دیں گے ”۔

”یہ کام میں خودکر الوں گا ”…… رجب نے کہا ……”میں نے فدائیوں سے بات کرلی ہے ۔ وہ تو صلاح الدین ایوبی کے قتل کے لیے بھی تیا ر ہیں ”۔

٭ ٭ ٭

”آپ سوڈان کی طرف سے مصر کی سرحد پر بد امنی پیدا کرتے رہیں ” ۔ کونارڈ نے کہا ……”ملک کے اندر ہم ذہنی اورء دیگر اقسام کی تخریب کاری کر تے رہیں گے۔ ادھر عرب میں کئی ایک مسلمان امراء ہمارے قبضے میںآگئے ہیں ۔ ان میں سے بعض کو ہم نے اس قدر بے بس کر دیا ہے کہ ان سے ہم جزیہ وصول کرتے ہیں ۔ ہم چھوٹے چھوٹے حملے کر کے ان کی تھوڑی تھوڑی زمین پر قبضہ کرتے چلے جارہے ہیں ۔ آپ سوڈان کی طرف سے یہی چال چلیں ۔ مسلمانوں میں صرف دو شخص رہ گئے ہیں ۔ نورالدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی ۔ان کے ختم ہوتے ہی اسلامی دنیا کا سورج غروب ہوجائے گا۔ بشرطیکہ آپ لوگ ثابت قدم رہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مصر آپ کا ہوگا ” ۔

اس قسم کی بنیادی گفت و شنید کے بعد بہت دیر تک ان میں طریقہ کار اور لائحہ عمل پر بحث ہوتی رہی ۔ آخر کار رجب کو تین بڑی ہی دلکش اور بے حد چالاک لڑکیاں او سونے کے ہزار ہا سکے دئیے گئے ۔ اسے قاہرہ کے دو آدمیوں کے پتے دئیے گئے ۔ ان میں کسی ایک تک ان لڑکیوں کو خفیہ طریقے سے پہنچانا تھا ۔ ان دو آدمیوں میں سے ایک سلطان ایوبی کے جنگی شعبے کا ایک حاکم فیض الفاطمی تھا ۔ رجب کو یہ نہیں بتایا گیا کہ لڑکیوں کو کس طرح استعمال کیا جائے گا ۔ اسے اتنا ہی بتایا گیا کہ فیض الفاطمی کے ساتھ ان کا رابطہ ہے ۔ وہ لڑکیوں کا استعمال جانتا ہے اور لڑکیوں کو بھی معلوم ہے کہ انہیں کیا کرنا ہے ۔یہ تینوں عرب اور مصر کی زبان روانی سے بول سکتی تھیں ۔

اسی روز تینوں لڑکیاںاور دس محافظ رجب کے ساتھ کرکے اسے روانہ کر دیا گیا۔ اسے سب سے پہلے سوڈان کے اسی پہاڑی خطے میں جانا تھا جہاں لڑکی کی قربانی دی جاتی تھی اور جہاں سلطان ایوبی کے جانبازوں نے اُمِّ عرارہ کو حبشیوں سے چھڑا کر پروہت کو ہلاک کیا اور فرعونوں کے وقتوں کی عمارتیں تباہ کی تھیں ۔ رجب نے سوڈانیوں کی شکست اور العاضد کی خلافت سے معزولی کے بعد بھاگ کر اسی جگہ پناہ لی اور اسی جگہ کو اپنا اڈہ بنا لیا تھا ۔ اسے نے اپنے گرد حبشیوں کا وہ قبیلہ جمع کر لیا تھا جس کے پروہت کو سلطان ایوبی نے ہلاک کرایا تھا ۔ یہ لوگ ابھی تک اس جگہ کو دیوتائوں کا مسکن کہتے تھے اور پہاڑیوںکے اندر نہیںجاتے تھے ۔ اندر صرف چار بوڑھے حبشی جاتے تھے ۔ ان میں ایک اس قبیلے کا مذہبی پیشوا تھا ۔ اس نے اپنے آپ کو مرے ہوئے پروہت کا جانشیں بنالیا تھا ۔اس نے تین آدمی اپنے محاظوں کے طور پر منتخب کر لیے تھے ۔ جو اس کے ساتھ پہاڑیوں کے اندر جاتے تھے ۔ رجب نے اسی چھوٹے سے خطبے کے ایک ڈھکے چھپے گوشے کو اپنا گھر بنا لیا تھا ۔فرار ہو کر وہاں گیا اور پھر مصر میں مقیم کسی صلیبی ایجنٹ کے ساتھ فلسطین چلا گیا تھا ۔

٭ ٭ ٭

حبشیوں کا یہ قبیلہ جو انگوک کہلاتا تھا ، خوفزدہ تھا ۔ ایک تو ان کے دیوتا کی قربانی پوری نہیں ہوئی ، دوسرے ان کا پروہت مارا گیا ، تیسرے ان کے دیوتاکا بت اور مسکن ہی تباہ کر دیا گیا اور چوتھی مصیبت یہ نازل ہوئی کہ قبیلے کے سینکڑوں جوان دیوتا کی توہین کا انتقام لینے گئے تو انہیں شکست ہوئی اور زیادہ تر مارے گئے ۔ اس قبیلے کے گھر گھر میں ماتم ہورہا تھا ۔ان میں سے بعض لوگ یہ بھی سوچنے لگے تھے کہ جس نے ان کا دیوتا کا بت توڑا ہے وہ کوئی بہت ہی بڑا دیوتا ہوگا ۔ مرے ہوئے پروہت کے جانشیں نے جب اپنے قبیلے کا یہ حال دیکھا تو اس نے پہلے یہ کہا کہ دیوتا کے مگر مچھ بھوکے ہیں ، ان کے پیٹ بھرو۔ حبشیوں نے کئی ایک بکریاں مگر مچھوں کے لیے بھیج دیں ۔ ایک نے تو اونٹ پروہت کے حوالے کر دیا ۔یہ جانور کئی دن تک مگر مچھوں کی جھیل میں پھینکے جاتے رہے مگر قبیلے سے خوف کم نہ ہوا ۔

ایک رات نئے پروہت نے قبیلے کو پہاڑی جگہ سے باہر جمع کیا اور اس نے دیوتائوں تک رسائی حاصل کی ہے ۔ دیوتائوں نے یہ اشارہ دیا ہے کہ چونکہ وقت پر لڑکی کی قربانی نہیں ہوئی اس لیے قبیلے پر یہ مصیبت نازل ہوئی ہے ۔ دیوتائوں نے کہا کہ اب بیک وقت دو لڑکیوں کی قربانی دی جائے گی تو مصیبت ٹل سکتی ہے ۔ ورنہ دیوتاسارے قبیلے کو چین نہیں لینے دیں گے ۔ پروہت نے یہ بھی کہا کہ لڑکیاں انگوک نہ ہوں اور سوڈان کی بھی نہ ہوں ۔ ان کا سفید فام ہونا ضروری ہے ……اتنا سننا تھا کہ قبیلے کے بہت سے دلیر اور نڈر آدمی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ مصر سے دو فرنگی یا مسلمان لڑکیاں اٹھا لائیں گے ۔

ادھر سے رجب فلسطین سے تین صلیبی لڑکیاں دس محافظوں کے ساتھ لا رہا تھا ۔ اس کا سفر بہت لمبا تھا اور یہ سفر خطرناک بھی تھا ۔ وہ سلطان ایوبی کی فوج کا بھگوڑا اور باغی سالار تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ سرحد کے ساتھ ساتھ سلطان ایوبی نے کشتی پہرے کا انتظام کر رکھا ہے ، اس لیے وہ اپنے قافلے کو دور کا چکر کاٹ کر لا رہا تھا ۔ اس کے قافلے میں تین اونٹ تھے جن پر پانی ، خوراک اور صلیبیوں کا دیا ہوا بہت سارا سامان لدا ہوا تھا ۔ باقی سب گھوڑوں پر سوار تھے ۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد وہ دیوتائوں کے پہاڑی مسکن میں پہنچ گئے ۔ اس سے ایک ہی روز پہلے قبیلے کے پروہت نے کہا تھا کہ وہ سفید فام اور سوڈان کے باہر کی لڑکیوں کی قربانی دینی ہے ۔ رجب سب سے پہلے پروہت سے ملا۔ پروہت نے اس کے ساتھ تین سفید فام اور بہت ہی حسین لڑکیاں دیکھیں تو اس کی آنکھیں چمک اُٹھیں ۔ یہ لڑکیاں قربانی کے لیے موزوں تھیں ۔ اس نے رجب سے لڑکیوں کے متعلق پوچھا تو رجب نے اسے بتایا کہ انہیں وہ خاص مقصد کے لیے اپنے ساتھ لایا ہے ۔

رجب لڑکیوں کو پہاڑیوں کے اندر ایک ایسی جگہ لے گیا جو سر سبز اور خوشنما تھی او ر تین اطراف سے پہاڑیوں میں گھری ہوئی تھی ۔ وہاں رجب نے خیمے گاڑ دئیے تھے ۔ لڑکیوں کو چوری چھپے موقع محل دیکھ کر قاہرہ میں ان دو آدمیوں کے حوالے کرنا تھا ۔ جن کے اتے پتے اسے صلیبیوں نے دئیے تھے ۔ لڑکیوں کے آرام و آسائش کا پورا انتظام تھا ۔ رجب نے وہاں شراب کا بھی انتظام کر رکھا تھا ۔ رات اس نے سفر سے کامیاب لوٹنے کی خوشی میں جشن منایا ۔ صلیبی محافظوں کو بھی شراب پلائی ۔ لڑکیوں نے بھی پی ۔

آدھی رات کے بعد جب محافظ اور اس کے چند ایک ساتھی جو پہلے ہی وہاںموجود تھے سوگئے تو رجب نے ایک لڑکی کو بازو سے پکڑکر اپنے خیمے میں جانے لگا ۔ لڑکی اس کی نیت پھانپ گئی ۔ اس نے اسے کہا ……” میں طوائف نہیں ہوں ۔ میں یہاں صلیب کا فرض لے کر آئی ہوں ۔ میں آپ کے ساتھ شراب پی سکتی ہوں مگر بدی قبول نہیں کروںگی ”۔

رجب نے اسے ہنستے ہوئے اپنے خیمے کی طرف گھسیٹا تو لڑکی نے اپنا بازو چھڑا لیا ۔ رجب نے دست درازی کی تو الڑکی دوڑ کر اپنی ساتھی لڑکیوں کے پاس چلی گئی ۔ وہ دونوں بھی باہر آگئیں ۔ انہوں نے رجب کو سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ انہیں غلط نہ سمجھے ۔

رجب کو غصہ آگیا ۔اس نے کہا …… ” میں جانتا ہوں تم کتنی پاک بازہو۔ بے حیائی تمہارا پیشہ ہے ”۔

”اس پیشے کا استعمال ہم وہاںکرتی ہیں جہاں اپنے فرض کے لیے ضروری ہوتاہے ”۔ لڑکی نے کہا ……”ہم عیاشی کی خاطر عیاشی نہیں کیا کرتیں ”۔

رجب ان کی کوئی بات نہیں سمجھنا چاہتاتھا ۔ آخر لڑکیوں نے اسے کہا ……”ہمارے ساتھ دس محافظ ہیں ۔ وہ ہماری حفاظت کے لیے ساتھ آئے ہیں ۔ انہیں کل واپس چلے جانا ہے ۔اگر ہم نے ان کی ضرورت محسوس کی تو ہم انہیں یہاں روک سکتی ہیں یا خود یہاںسے جاسکتی ہیں ”۔

جب چپ ہوگیا مگر اس کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ لڑکیوں کو بخشے گا نہیں۔ وہ رات گزر گئی ۔ دوسرے دن رجب نے فلسطین سے ساتھ لائے ہوئے محافظوں کو رخصت کر دیا …… دن گزر گیا۔ شام کے وقت رجب لڑکیوں کے ساتھ بیٹھا ادھر ادھر کی باتیں کر رہا تھا کہ پروہت اپنے چارحبشیوں کے ساتھ آگیا۔اس نے سوڈانی زبان میں رجب سے کہا ……”ہمارے دیوتاہم سے ناراض ہیں ۔ انہوں نے دو فرنگی یامسلمان لڑکیوں کی قربانی مانگی ہے۔ یہ لڑکیاں قربانی کے لیے موزوں ہیں ۔ ان میں سے دو لڑکیاں ہمارے حوالے کر دو ”۔

رجب چکر اگیا ۔ اس نے جواب دیا ……”یہ لڑکیاں قربانی کے لیے نہیں ہیں ۔ ان سے ہمیں بہت کام لینا ہے اور انہی کے ہاتھوں ہمیں تمہارے دیوتائوں کے دشمن کو مروانا ہے ”۔

”تم جھوٹ بولتے ہو ”…… پروہت نے کہا …… ”تم ان لڑکیوں کو تفریح کے لیے لائے ہو ”۔ ہم ان میں سے دو لڑکیوں کو قربان کریں گے ”۔

رجب نے بہت دلیلیں دیں مگر پروہت نے کسی ایک بھی دلیل کو قبول نہ کیا ۔ اس کے دماغ پر دیوتا سوار تھے۔ اس نے اُٹھ کر دو لڑکیوں کے سروں پر باری باری ہاتھ رکھے اور کہا …… ”یہ دونوں دیوتا کے لیے ہیں ۔ انگوک کی نجات ان دو لڑکیوں کے ہاتھ میں ہے ”…… یہ کہہ کر وہ چلا گیا ۔ رُک کر رجب سے کہا ……”لڑکیوں کو ساتھ لے کر بھاگنے کی کوشش نہ کرنا ۔ تم جانتے ہو کہ ہم تمہیں فوراً ڈھونڈ لائیں گے ”۔

لڑکیاں سوڈان کی زبان نہیں سمجھتی تھیں ۔حبشی پروہت نے ان کے سروں پر ہاتھ رکھا ۔ رجب کو پریشان دیکھا تو انہوں نے رجب سے پوچھا کہ یہ حبشی کیا کہہ رہا تھا۔ رجب نے انہیں صاف صاف بتا دیا کہ وہ انہیں قربانی کے لیے مانگتا ہے ۔ لڑکیوں کے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ وہ تمہارے سر کاٹ کر خشک ہونے کے لیے رکھ دیں گے اور جسم جھیل میں پھینک دیں گے مگر مچھ جسموں کو کھا جائیں گے ۔ لڑکیوں کے رنگ فق ہوگئے ۔ انہوں نے رجب سے پوچھا کہ اس نے انہیں بچانے کے لیے کیا سوچا ہے۔ رجب نے جوا ب دیا ……”میں نے اسے سمجھانے کی ساری دلیلیں دے ڈالی ہیں مگر اس نے ایک بھی نہیں سنی ۔ میں ان لوگوں کے رحم و کرم پر ہوں ۔ میں تو انہیں ساتھ ملانا چاہتا ہوں ۔ یہ میری فوج میں شامل ہونے کے لیے تیا ر ہیں ۔ لیکن اپنے عقیدے کے اتنے پکے ہیں کہ پہلے دیوتائوں کو خوش کریں گے ، پھر میری بات سنیں گے ”۔

رجب کی باتوں اور انداز سے لڑکیوں کو شک ہو گیا کہ وہ انہیں بچا نہیں سکے گا ۔ یا انہیں خوش کرنے کے لیے بچانے کی کوشش نہیں کرے گا ۔ انہوں نے گزشتہ رات رجب کی نیت کی ایک جھلک دیکھ بھی لی تھی ۔ اس لیے وہ اس سے مایوس ہوگئی تھیں ۔ رجب نے انہیں رسمی طور پر بھی تسلی نہ دی کہ وہ انہیں بچا لے گا ۔ لڑکیاں خیمے میں چلی گئیں ۔ انہوں نے صورتِ حال پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچیں کہ وہ یہاں رجب کی عیاشی کا ذریعہ بننے یا حبشیوں کے دیوتا کی بھینٹ چڑھنے کے لیے نہیں آئیں ۔ وہ بے مقصد موت نہیں مرنا چاہتی تھیں ۔ انہوں نے وہاں سے فرار کا ارادا کیا ۔ فرار ہو کر فلسطین خیریت سے پہنچنا آسان کام نہ تھا مگر کوئی چارہ کار بھی نہ تھا ۔ یہ لڑکیاں صرف خوبصورت اور دلکش ہی نہیں تھیں ،گھوڑ سواری اور سپاہ گری کی بھی انہیں تربیت دی گئی تھی تا کہ ضرورت پڑے تو اپنا بچائو خود کر سکیں ۔ انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہاں سے بھاگ کر فلسطین چلی جائیں گی ۔

وہ رات خیریت سے گزر گئی ۔ دوسرے دن لڑکیوں نے اچھی طرح دیکھا کہ رات کو گھوڑے کہاں بندھے ہوتے ہیں اور وہاں سے نکلنے کا راستہ کون سا ہے۔ حبشی پروہت دن کے وقت بھی آیا او رجب کے ساتھ باتیں کر کے چلا گیا ۔ لڑکیوں نے اس سے پوچھا کہ و کیا کہہ گیا ہے۔ رجب نے انہیں بتایا کہ وہ کل رات تمہیں یہاں سے لے جائیں گے ۔ وہ مجھے دھمکی دے گیا ہے کہ میں نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو وہ مجھے قتل کر کے مگر مچھوں کی جھیل میں پھینک دیں گے ۔ لڑکیوں نے اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ فرار کا فیصلہ کر چکی ہیں کیونکہ انہیں رجب کی نیت پر شک ہوگیا تھا ۔ وہ غیر معمولی طور ذہین لڑکیاں تھیں ۔ انہوں نے رجب کے ساتھ ایسی باتیں کیں اور ایسی باتیں اس کے منہ سے کہلوائیں جن سے پتہ چلتا تھا جیسے وہ انہیں بچانے کی بجائے حبشیوں کو خوش کرنا چاہتا ہے تا وہ اسے وہیں چھپائے رکھیں اور اسے سلطان ایوبی کے خلاف فوج تیار کرنے میں مدد دیں ۔ لڑکیوں کہ یہ بھی شک ہوا کہ رجب انہیں ایسی قیمت کے عوض بچانے کی کوشش کرے گا جو وہ اسے دینا نہیں چاہتیں تھیں ۔

سارا دن اسی شش و پنچ میں گزر گیا ۔ رجب کو شک نہ ہواکہ لڑکیاں بھاگ جائیں گی ۔ اسے اس وقت بھی شک نہ ہوا ۔ جب لڑکیوں نے اسے کہا کہ ایسے جہنم نما صحرا میں ایسا سر سبز خطہ قدرت کا عجوجہ ہے ، آئو ذرا اس کی سیر کرا دو ۔ رجب انہیں گھمانے پھرانے لگا ۔ آگے وہ بھیانک جھیل آگئی جس کے کنارے پر پانچ چھ مگر مچھ بیٹھے تھے۔ جھیل کا پانی غلیظ اور بدبودار تھا ۔ایک لڑکی نے کا کہ یو معلوم ہوتا ہے جیسے پہاڑی کے اندر چشمہ ہے ۔ سب سے جب پہاڑی کی اندر دیکھا تو ایک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ پانی پہاڑی کے اندر ایک وسیع غار بنا چلا گیا تھا ۔ رجب نے کہا …… ”یہ ہیں وہ مگر مچھ جو یہاں کے مجرموں کو اور قربان کی ہوئی لڑکیوں کے جسموں کو کھاتے ہیں ”……ایسا ہولناک منظر دیکھ کر لڑکیوں کے دلوں میں فرار کا ارادہ اور زیادہ پختہ ہوگیا ۔ انہوں نے سیر کے بہانے فرار کا راستہ اچھی طرح دیکھ لیا اور ایسی نرم زمین دیکھ لی جس پر گھوڑوں کے قدموں کی آواز پیدا نہ ہو ۔ ان کی سیر کی خواہش کے پیچھے یہی مقصد تھا ۔

ادھر حبشی پروہت قریبی بستی میں بیٹھا قبیلے کو یہ خوش خبری سنا رہا تھا کہ قربانی کے لیے لڑکیاں مل گئی ہیں اور قربانی آج سے چوتھی رات دی جائے گی جو پورے چاند کی رات ہوگی ۔ اس نے کہا کہ قربانی دیوتائوں کے مسکن اور معبد کے کھنڈروں پر دی جائے گی ۔ اس کے بعد ہم یہ معبد خود تعمیر کریں گے اور جب یہ معبد تعمیر ہوجائے گا تو ہم اس قوم سے انتقام لیں گے جنہوں نے ہمارے دیوتا کی توہین کی ہے ۔

نصف شب کا عمل تھا ۔ رجب اور اس کے ساتھیوں کو لڑکیوں نے اپنے خصوصی فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے اتنی شراب پلادی تھی کہ ان کی بیداری کا خطرہ ہی ختم ہوگیا تھا۔ وہ بے ہوش پڑے تھے۔ لڑکیوں نے سفر کے لیے سامان باندھ لیا ۔تین گھوڑوں پر زینیں کسیں ، سوار ہوئیں اور اس نرم زمین پر گھوڑوں کو ڈال دیا جو انہوں نے دن کے وقت دیکھی تھی ۔ اس خطے کے ایک حصے میں چار حبشی موجو د تھے لیکن وہ سوئے ہوئے تھے اور دور تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ یہاں سے کوئی بھاگنے کی جرأت نہیں کر سکتا ۔ اگر بھاگے گا تو صحرا اسے راستے میں ہی ختم کردے گا ،مگر لڑکیاں اس سرسبز، خوشنما اور ہولناک قید خانے سے نکل گئیں ۔ وہ اسی راستے سے فلسطین جانا چاہتی تھیں جس راستے سے رجب انہیں لایا تھا ۔ وہ تھیں تو غیر معمولی طور پر ذہین اور انہیں عسکری تربیت بھی دی گئی تھی مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ صحرا میں اس قدر فریب چھپے ہوئے ہیں جو دانش مندوں کو بھی عقل کا اندھا کردیا کرتے ہیں ۔ اتنے طویل صحرائی سفر پر لوگ قافلوں کی صورت میں نکلا کرتے تھے اور ان کے پاس صحراکی ہر آفت کا مقابلہ کرنے کا اہتمام ہوتا تھا ۔

رات کے وقت سو صحرا سرد تھا ۔ تینوں لڑکیوں نے اس جگہ سے کچھ دور تک گھوڑوں کو آہستہ آہستہ چلایا،پھر ایڑ لگا دی ۔ گھوڑے سرپت دوڑنے لگے۔ بہت دور جا کر انہوں نے گھوڑوں کی رفتار کم کر دی ۔ باقی رات گھوڑے اسی رفتار پر چلتے رہے ۔ صبح طلوع ہوئی اور جب سورج اوپر آیا تو لڑکیوں کے اردگرد ری کے گول گول ٹیلے تھے اور ان سے آگے ریتلی مٹی کی اونچی اونچی پہاڑیاں کھڑی تھیں ۔ کوئی راستہ نہ تھا ۔ انہوں نے سورج سے اپنی سمت کا اندازہ کیا اور ٹیلوں کی بھول بھلیوں میں داخل ہوگئیں ۔ گھوڑے پیاسے تھے۔ ہر گھوڑے پر پانی کا ایک ایک چھوٹا مشکیزہ تھا جو ایک دن کے لیے بھی کافی نہیں تھا۔ گھوڑوں کو کہاں سے پانی پلایا جاتا ۔ لڑکیاں کسی نخلستان کی تلاش میں چلتی چلی گئیں۔ سورج اوپر اُٹھتا گیا اور صحرا کو دوزخ بناتا گیا ۔ نخلستان کا کہیں نشان اور تصور بھی نظر نہیں آتاتھا۔

رجب اور اس کے ساتھی سورج طلوع ہونے پر بھی نہ جاگے ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سوئے ہوئے تھے۔ پروہت اپنے تین حبشیوں کے ساتھ آیا۔ اس نے سب سے پہلے لڑکیوں کے خیمے دیکھے ۔ خیمہ خالی تھا ۔ اس نے رجب کو جگایا اورکہا ”دونوں لڑکیاں میرے حوالے کر دو ”…… رجب ہڑبڑا کر اُٹھا اور پروہت کو قائل کرنے کی کوشش کرنے لگا کہ وہ ان لڑکیوں کو ضائع نہ کرے۔ اس نے اسے تفصیل سے بتایا کہ ان لڑکیوں سے کیا کام لینا ہے مگر پروہت نے اس کی ایک بھی نہ مانی ۔ رجب نے اپنے ساتھیوں کو جگانا چاہا تو حبشیوں نے اسے پکڑ لیا ۔ پروہت نے پوچھا ……”لڑکیاں کہا ں ہیں ؟”

رجب نے وہیں سے لڑکیوں کو پکارا تو اسے کوئی جواب نہ ملا ۔ خیمے میں جا کر دیکھا۔ انہیں ادھر ادھر دیکھا ۔ وہ کہیں نظر نہ آئیں ۔ اچانک نظر زینوں پر پڑی ۔ تین زینیں غائب تھیں۔ گھوڑے دیکھے تو تین گھوڑے غائب تھے۔ رجب نے پروہت سے کہا …… ”وہ تمہارے ڈر سے بھاگ گئی ہیں ۔ تم نے بڑے کام کی لڑکیاںکو بھگا دیا ہے ”۔

”انہیں تم نے بھگایا ہے ”…… پروہت نے کہا اور اپنے تین حبشیوں سے رجب کے متعلق کہا ……” اسے لے جا کر باندھ دو ۔ اس نے انگوک کے دیوتا کو پھر ناراض کر دیا ہے ۔ اچھے سواروں کو بلائو اور لڑکیوں کا پیچھا کرو ۔ وہ دور نہیں جا سکتیں ”۔

رجب کے احتجاج اور منت سماجت کو نظر انداز کرتے ہوئے حبشی اسے اپنے ساتھ لے گئے اور ایک درخت کے ساتھ اس طرح باندھ دیا کہ اس کے ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے تھے ۔ اس کے سوئے ہوئے ساتھیوں کے ہتھیار اُٹھا لیے گئے ، پھر انہیں جگا کر دھمکی دی گئی کہ وہ یہاں سے ہلے تو قتل ہوجائیں گے …… تھوڑی دیر بعد چھ گھوڑ سوار اور شتر سوار آگئے ۔ انہیں لڑکیوں کے تعاقب میں روانہ کر دیا گیا ۔ریت پر تین گھوڑوں کے قدموں کے نشان صاف تھے۔ اسی سمت کو یہ حبشی سوار انتہائی رفتار سے روانہ ہوگئے ۔ لڑکیوں کو پکڑنا آسان نہیں تھا کیونکہ فرار اور تعاقب میں آٹھ دس گھنٹوں کا فرق تھا ۔ حبشی سواروں کہ یہ سہولت حاصل تھی کہ و ہ صحرا کے بھیدی تھے اور مرد تھے۔ سختیاں جھیل سکتے تھے ۔ آگے جا کر انہیں یہ مشل پیش آئی کہ ہوا چل رہی تھی جس نے ریت اُڑاُڑا کر گھوڑوں کے قدموں کے نشان غائب کر دئیے تھے ۔ پھر بھی وہ اندازے پر چلتے گئے ۔

تین چار گھنٹوں کے تعاقب کے بعد انہیں ایک طرف سے آسمان پر اُفق کے کچھ اُوپر تک مٹیالی سرخی دکھائی دی جو اُوپر کو اُٹھتی اور آگے بڑھتی آرہی تھی ۔ سواروں نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا ، گھوڑوں اور اونٹوں کو پیچھے کی طرف موڑ کر سرپٹ دوڑا دیا ۔ یہ صحرا کی وہ آندھی تھی جو بڑے بڑے ٹیلوں کو ریت کے ذروں میں بدل کر اُڑا لے جاتی ہے۔ کوئی انسان یا جانور کہیں رُک کر کھڑا رہے یا بیٹھ جائے تو ریت اس کے جسم کے ساتھ رُک رُک کر اسے زندہ دفن کر دیتی ہے اور اس پر ٹیلا کھڑا ہو جاتا ہے ۔ وہاں آندھی سے بچنے کے لیے کوئی مضبوط ٹیلا نہیں تھا ۔ وہ بھاگ کر اپنے پہاڑی خطے تک پہنچنا چاہتے تھے جو بہت ہی دور تھا ……وہاں تک آندھی پہنچ گئی تھی ۔ اسے خطے کے درخت دوہرے ہو ہو کر چیخ رہے تھے۔ جھیل کے مگر مچھ پہاڑی کے آبی غار میں جا چھپے تھے۔ پروہت ایک جگہ زمین پر گھٹنے ٹیکے ہوئے ہاتھ ہوا میں بلند کرتا اور زور زور سے زمین پر مارتا تھا ۔ ہر بار بلند آواز سے کہتا تھا ……”انگوک کے دیوتا ! اپنے قہر کو سمیٹ لے ۔ ہم دو بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تیرے قدموں میں پیش کر رہے ہیں ”…… وہ اس آندھی کو دیوتا کا قہر سمجھ رہا تھا ۔ صحرا اور آندھی کا چولی دامن کا ساتھ تھا ، لیکن سرخ اور ایسی تیز و تند آندھی کبھی کبھی چلا کرتی تھی ۔ و ہ حبشیوں کے خطرے سے تو بہت دور نکل گئی تھیں مگر صحرا کے ایسے خطرے میں آگئیں جو ان کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتا تھا ۔ ان کے لیے دوسری مصیبت یہ آئی کہ ریت کے بوچھاڑوں اور آندھی کے زناٹوں سے گھبرا کر تینوں گھوڑے منہ زور اور بے لگام ہو کر دوڑ پڑے۔ وہ چوں کہ اکھٹے بدکے تھے ، اسے لیے اکھٹے ہی دوڑتے جا رہے تھے۔ اس سے یہ فائدہ تو ہوا کہ ریت میں دب جانے کا خطرہ نہ رہا مگر یہ معلوم نہیں تھا کہ بے لگا م گھوڑے کہاں جا رکیں گے اور وہ جگہ اصل راستے سے کتنی دور ہوگی ۔ لڑکیوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ گھوڑوں کو قابومیں کر لیتیں اور گھوڑوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ زیادہ دوڑ سکتے۔ وہ پیاسے تھے اور آدھی رات سے مسلسل چل رہے تھے۔

تھکن اور پیاس گھوڑوں کے بے حال کرنے لگی۔ ایک گھوڑا منہ کے بل گرا ۔ اس کی سوار لڑکی ایسی گری کہ گھوڑا اُٹھا اور جب پھر گرا تو لڑکی اس کے نیچے آگئی۔ اسے مرنا ہی تھا ۔ کچھ اور آگے گئے تو ایک گھوڑے کا تنگ ڈھیلا ہوگیا …… زین ایک طرف لڑھک گئی اس کی سوار اسی پہلو پر گری مگر بایاں پائوں رکاب میں پھنس گیا ۔ لڑکی زمین پر گھسیٹی جانے لگی۔ تیسری لڑکی اس کی کوئی مدد نہیں کر سکتی تھی ۔ اس کا اپنا گھوڑا بے قابو تھا ۔ وہ اپنی ساتھی کی چیخیں سنتی رہی۔ پھر چیخیں خاموش ہوگئیں اور وہ لڑکی کی لاش کو گھوڑے کے ساتھ زمین پر جاتا دیکھتی رہی ۔ اس پر دہشت طاری ہوگئی ۔ وہ کتنی ہی دلیر کیوں نہ تھی ، آخر لڑکی تھی ۔ زور سے رونے لگی۔ ڈھیلی زین والا گھوڑا یکلخت رُک گیا ۔ تیسری لڑکی اپنا گھوڑا نہ روک سکی ۔ اس نے پیچھے دیکھا ۔ آندھی میں اسے کچھ نظر نہ آیا کہ اس گھوڑے کا کیا حشر ہوا۔ لڑکی تو یقینا مر چکی تھی ۔

تیسری لڑکی اکیلی رہ گئی۔ اس نے رکابوں سے پائوں پیچھے کر لیے۔ اس کی دہشت زدگی کا یہ عالم تھا کہ اس نے گھوڑے کی لگام چھوڑ کر ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کرجوڑ دئیے اور گلا پھاڑ کر خدا کر پُکارنے لگی ……”میرے عظیم خدا! آسمانوں کے خدا! میرے گناہ معاف کردے۔ میں گناہگار ہوں ۔ میرا بال بال گناہگار ہے ۔ میں گناہ کرنے آئی تھی ۔ میں نے گناہوں میں پرورش پائی ہے۔ میرے خدا! میں اس وقت بہت چھوٹی تھی جب مجھے بڑوں نے گناہوں کے راستے پر ڈالا تھا۔ انہوں نے مجھے گناہوں کے سبق دیتے جوان کیا اور کہا کہ جائو مردوں کو اپنے حُسن اور اپنے جسم سے گمراہ کرو۔ ان کے ہاتھوں انسانوں کو قتل کروائو۔ جھوٹ بولو۔ فریب دو اور بدکار بن جائو۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ صلیب کا فرض ہے۔ تم پورا کرو گی تو جنت میں جائو گی ”……وہ پاگلوں کی طرح چلا رہی تھی اور اس کے گھوڑے کی رفتار گھٹتی جا رہی تھی ۔ زارو قطار روتے ہوئے اس نے خدا سے کہا ۔ ”تیرا جو مذہب سچا ہے ، مجھے اسی کا معجزہ دکھا ”۔

اس کے عقیدے متز لزل ہوگئے تھے ۔گناہوں کے احساس نے اس کے دماغ پر قابوپالیا تھا ۔ موت کے خوف نے اسے فراموش کرادیا تھا کہ اس کا مذہب کیا ہے ۔ اسے اپنا ماضی گناہوں میں ڈوبا ہوا نظر آرہا تھا او اس کے دل میں یہ احساس بیدار ہوتا جا رہا تھا کہ وہ مردوں کے استعمال کی چیز ہے اور اسے دھوکے اور فریب کے لیے استعمال کیا جارہا ہے اور اب سزا صرف اس اکیلی کو مل رہی ہے ۔

اسے غشی کی لہر آئی اور گزر گئی۔ اس نے دھاڑ ماری اور سر کو جھٹک کر بلند آواز سے کہا …… ”میری مدد کرو میرے خدا! میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ”……اور اس کے ساتھ ہی اسے یاد آگیا کہ وہ یتیم بچی ہے ۔ موت کے سامنے انسان ماضی کی طرف بھاگتا ہے جو انسانی فطرت کا قدرتی عمل ہے۔ اس جوان لڑکی نے بھی ماضی میں پناہ لینے کی کوشش کی مگروہاں کچھ بھی نہ تھا ۔ ماں نہیں تھی ، باپ نہیں تھا ، کوئی بہن بھائی نہیں تھا ، اسے کچھ یادآیا کہ صلیبیوں نے اسے پالا اس راہ پہ ڈالا ہے جہاں وہ ایک بڑاہی حسین دھوکہ بن گئی تھی ۔ اسے اپنے آپ سے نفرت ہونے لگی۔ وہ اب بخشش چاہتی تھی ، اسے غشی آنے لگی ، گھوڑے کی رفتار سست ہو گئی تھی کہ وہ بمشکل چل رہا تھا اور اس کے ساتھ آندھی بھی تھمنے لگی تھی ۔ لڑکی ہوش کھو بیٹھی تھی .

سلطان ایوبی نے سرحد کے ساتھ ساتھ گشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ان میں سے تین دستوں کا ہیڈ کواٹر سوڈان اور مصر کی سرحد سے چار پانچ میل اندر کی طرف تھا ۔ ہیڈ کواٹر کے خیمے ایسی جگہ نصب کیے گیے تھے جہاں آندھیوں سے بچنے اوٹ تھی مگر اس آندھی نے ان کے خیمے اُکھاڑ پھینکے تھے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا ۔ آندھی رُکی تو سپاہی خیمے وغیرہ سنبھالنے میں مصروف گئے ۔ ان تین دستوں کا کمانڈر ایک تُرک احمد کمال تھا ۔ وہ ایک خربرو اور گورے رنگ کا تنو مند مرد تھا ۔ وہ بھی آندھی رُکتے ہی باہر آگیا اور ساز و سامان اور جانوروں کا جائزہ لے رہا تھا۔ فضا گرد سے صاف ہوگئی تھی ۔ ایک سپاہی نے ایک طرف اشارہ کر کے اسے کہا …… ”کماندار! وہ گھوڑا اور سوار ہمارا تو نہیں ؟”……

Read More:  Makafat e Amal Novel By Shumaila Hassan – Last Episode 13

”ہم نے ابھی لڑکیوں کو فوج میں شامل نہیں کیا”۔ احمد کمال نے جواب دیا …… وہ لڑکی معلوم ہوتی ہے۔ بال بکھرے ہوئے صاف نظر آرہے تھے ۔

وہ اسی سپاہی کو ساتھ لے کر دوڑ پڑا ۔ ایک گھوڑا سر نیچے کیے نہایت ہی آہستی آہستی آرہا تھا ۔ اسے چارے کی بو آئی تو ہیڈ کواٹر کے گھوڑوں کی طرف چل پڑا۔ گھوڑے پر ایک لڑکی اس طرح سوار تھی کہ اس کے بازو گھوڑے کی گردن کے ادھر ادھر تھے اور لڑکی آگے کو اس طرح جھکی ہوئی تھی کہ اس کاسر گھوڑے کی گردن سے ذرا پیچھے تھا ۔ لڑکی کے بال بکھر کر آگے گئے تھے۔ احمد کمال کے پہنچنے تک گھوڑا وہاں بندھے ہوئے گھوڑوں کے پاس جا کر ان کا چارہ کھانے لگا تھا ۔ احمد کمال نے لڑکی کے پائوں رکابوں سے نکا لے اور اسے گھوڑے سے اتار کر بازوئوںپر اُٹھا لیا ۔ سپاہی نے کہا ……”زندہ ہے ۔ فرنگی معلوم ہوتی ہے ۔ اس کے گھوڑے کو پانی پلائو ”…… وہ لڑکی کو اپنے خیمے میں لے گیا۔ لڑکی کے بال ریت سے اٹے ہوئے تھے۔ احمد کمال نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے پھر منہ میں پانی کے قطرے ٹپکانے لگا ۔

لڑکی نے آنکھیں کھول دیں ۔ دو چار لمحے احمد کمال کو حیرت سے دیکھتی رہی اور اچانک اُٹھ کر بیٹھ گئی ۔ احمد کمال کا رنگ گورا دیکھ کر اس نے انگریز ی میں پوچھا …… ”میں فلسطین سے ہوں ؟”…… احمد کمال نے سر ہلا کر اسے سمجھانا چاہا کہ میں یہ زبان نہیں سمجھتا ۔ لڑکی نے عربی زبان میں پوچھا …… ”تم کون ہو ؟ میں کہا ں ہوں ؟”

”میں اسلامی فوج کا معمولی سا کماندار ہوں ”۔ احمد کمال نے جواب دیا ……”اور تم مصر میں ہو ”۔

لڑکی کی آنکھیں اُبل پڑیں اور وہ اس قدر گھبرائی جیسے پھر بے ہوش ہوجائے گی ۔ احمد کمال نے کہا …… ” ڈرو نہیں ۔ سنبھالو اپنے آپ کو ”…… اس نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور کہا ……”میں جان گیا ہوں کہ تم فرنگی ہو ۔ میری مہمان ہو ۔ ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ”…… اس نے ایک سپاہی کو بلایا اور لڑکی کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔

لڑکی نے لپک کر پانی کا پیالہ اُٹھا لیا اور منہ سے لگا کر بے صبری سے پینے لگی۔ احمد کمال نے پیالہ اس کے ہونٹوں سے ہٹا کر کہا ……”آہستہ ۔ پہلے کھانا کھا لو ۔ پانی بعد میں پینا ”…… لڑکی نے گوشت کا ایک ٹکڑا اُٹھالیا۔ پھر وہ کھانا کھاتی رہی او پانی پیتی رہی ۔ ا س کے چہرے پر رونق واپس آگئی ۔

احمد کمال نے ایک خیمہ الگ لگوا رکھا تھا جو اس کا غسل خانہ تھا ۔ وہاں پانی کی کمی نہیں تھی ۔ خیمہ گاہ ایک نخلستان کے قریب تھی ۔ احمد کمال نے کھانے کے بعد لڑکی کو غسل والے خیمے میں داخل کر کے پردے باندھ دئیے۔ لڑکی نے غسل کرلی لیکن وہ بہت ہی خوف زدہ تھی کیونکہ وہ اپنے دشمن کی پناہ میں آگئی تھی جہاں اسے اچھے سلوک کی توقع نہیں تھی ۔ اس کے ذہن میں بچپن سے یہ ڈالا جاتا رہا تھا کہ مسلمان وحشی ہوتے ہیں اور عورت کے لیے تو وہ درندے ہیں ۔ اس خوف کے ساتھ اس پر حبشیوں کا ، مگر مچھوں کا اور صحرائی آندھی کا خوف طاری تھا۔ اپنے ساتھ کی دونوں لڑکیوں کی موت اور و ہ بھی ایسی بھیانک موت ، اس کے رونگٹے کھڑے کر رہی تھی۔ اس نے غسل کرتے ہوئے بڑی شدت سے محسوس کیا تھا کہ وہ اپنے ناپاک وجود کو دھونے کی کوشش کر رہی ہے جسے دنیا کا پانی پاک نہیں کر سکتا ۔ اس نے کسمپرسی کی حالت میں تنگ آ کر اپنے آپ کو صورت حال کے حوالے کر دیا ۔

احمد کمال نے دیکھ لیا تھا کہ ایسے حسن اور ایسے دلگداز جسم والی لڑکی معمولی لڑکی ۔ مصر کے اس حصے میں ایسی فرنگی لڑکی کیسے آسکتی تھی ؟ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے جواب دیا کہ وہ قافلے سے بچھڑ گئی ہے۔ آندھی میں گھوڑا بے لگام ہوگیا تھا۔ احمد کمال ایسے جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا تھا ۔اس نے تین چار اور سوال کیے تو لڑکی کے ہونٹ کانپنے لگے ۔ احمد کمال نے کہا ……”اگر تم یہ کہتی کہ تم اغوا کی ہوئی لڑکی ہو اور آندھی نے تمہیں چھڑا دیا ہے تو شاید میں مان جاتا ۔ تمہیں جھوٹ بولنا نہیں آتا ”۔

اتنے میں اس سپاہی نے جو احمد کمال کے ساتھ تھا ۔ خیمے کا پردہ اُٹھایا اور ایک تھیلا اور ایک مشکیزہ احمد کمال کو دے کر کہا کہ یہ اس لڑکی کے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔ احمد کمال تھیلا کھولنے لگا تو لڑکی نے گھبرا کر تھیلے پر ہاتھ رکھ لیا ۔ اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا ۔ احمد کمال نے تھیلا اسے دے کر کہا …… ”لو اسے خود کھول کر دکھائو”۔

لڑکی کی زبان جیسے گنگ ہوگئی تھی ۔ اس نے بچوں کے انداز سے تھیلا پیٹھ پیچھے کر لیا ۔ احمد کمال نے کہا ”یہ تو ہو نہیں سکتا کہ میں تمہیں کہہ دوں کہ جائو چلی جائو ۔ مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تمہیں روکوں، لیکن ایک ایسی لڑکی کو آبادیوں سے دور اکیلی گھوڑے پر بے ہوشی کی حالت میں بھٹکتی ہوئی پائی گئی ہے اسے میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا ۔ یہ میرا انسانی فرض ہے ۔ مجھے اپنا ٹھکانہ بتادو۔ میں تمہیں اپنے سپاہیوں کے ساتھ حفاظت سے پہنچادوں گا ۔ اگر نہیں بتائو گے تو تمہیں متشبہ لڑکی سمجھ کر قاہرہ اپنی حکومت کے پاس بھیج دوں گا۔ تم مصر ی نہیں ہو۔ تم سوڈانی بھی نہیں ہو ”۔

لڑکی کے آنسو بہنے لگے۔ وہ جس مصیبت سے گزر کر آئی تھی اس کی دہشت اور ہولناکی اس پر پہلے ہی غالب تھی ۔ اس نے تھیلا احمد کمال کے آگے پھینک دیا ۔ احمد نے تھیلا کھولا تو اس میں سے کچھ کھجوریں ، دو چار چھوٹی موٹی عام سی چیزیں نکلیں اور ایک تھیلی نکلی۔ یہ کھولی تو اس میں سے سونے کے بہت سے سکے اور ان میں سونے کی باریک سی زنجیر کے ساتھ چھوٹی سی سیاہ لکڑی کی صلیب نکلی ۔ احمدکمال اس سے یہی سمجھ سکا کہ لڑکی عیسائی ہے ۔ اسے غالباً معلوم نہیں تھا کہ جو عیسائی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے صلیبی لشکر میں شامل ہوتا ہے وہ ایک صلیب پر حلف اُٹھاتا ہے اور چھوٹی سی ایک صلیب ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ اس تھیلے میں میرے سوال کا جواب نہیں ہے ۔

”اگر میں یہ سارا سونا تمہیں دے دوں تو میری مدد کرو گے ؟”لڑکی نے پوچھا ۔ کیسی مدد ؟

”مجھے فلسطین پہنچا دو ”۔ لڑکی نے جواب دیا ……”اور مجھ سے کوئی سوال نہ پوچھو”۔

”میں فلسطین تک بھی پہنچا دوں گا لیکن سوال ضرور پوچھوں گا ”۔

”اگر مجھ سے کچھ بھی نہ پوچھو تو اس کا الگ انعام دوں گی ”۔

”وہ کیا ہوگا ؟”

”گھوڑا تمہیں دے دوںگی ”۔ لڑکی نے جواب دیا…… ”اور تین دنوں کے لیے مجھے اپنی لونڈی سمجھ لو ”۔

احمد کمال نے اس سے پہلے ہاتھ میں کبھی اتنا سونا نہیں اُٹھایا تھا اور اس نے ایسا حیران کن حسن اور جسم بھی نہیں دیکھا تھا ۔ اس نے اپنے سامنے پڑے ہوئے سونے کے چمکتے ہوئے ٹکڑوں کو دیکھا پھر لڑکی کے ریشمی بالوں کو دیکھا جو سونے کی تاروں کی طرح چمک رہے تھے ، پھر اس کی آنکھوں کو دیکھا جن میں وہ طلسماتی چمک تھی جو بادشاہوں کو ایک دوسرے کا دشمن بنادیا کر تی ہے ۔ وہ تنو مند مرد تھا کماندار تھا۔ ان دستوں کا حاکم تھا جو سرحد پر پہرہ دے رہے تھے۔ اسے روکنے، پوچھنے اور پکڑنے والا کوئی نہ تھا مگر اس نے سکے تھیلی میں ڈالے، صلیب بھی تھیلی میں رکھی اور تھیلی لڑکی کی گود میں رکھ دی ۔

”کیوں ؟”لڑکی نے پوچھا ……”یہ قیمت تھوڑی ہے؟”

”بہت تھوڑی ”۔ احمد کمال نے کہا ……”ایمان کی قیمت خدا کے سوا کوئی نہیں دے سکتا ”……لڑکی نے کچھ کہنا چاہا لیکن احمد کمال نے اسے بولنے نہ دیا اور کہا …… ”میں اپنا فرض اور اپنا ایمان فروخت نہیں کر سکتا ۔ سارا مصر میرے اعتماد پر آرام کی نیند سوتا ہے ۔ تین مہینے گزرے سوڈانیوں نے قاہرہ پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی ۔ اگر میں یہاں نہ ہوتا اور اگر میں ان کے ہاتھ اپنا ایمان فروخت کر دیتا تو یہ لشکر قاہرہ میں داخل ہو کر تباہی برپا کر دیتا ۔ تم مجھے اس لشکر سے زیادہ خطرناک نظر آتی ہو ۔ کیا تم جاسوس نہیں ہو ؟”

”نہیں !”

”تم یہی بتا دو کہ تمہیں آندھی نے کسی ظالم کے پنجے سے بچایا ہے یا تم آندھی سے بچ کر نکلی ہو ؟”……لڑکی نے بے معنی سا جواب دیا تو احمد کمال نے کہا ……”مجھے تمہارے متعلق یہ جاننے کی ضرورت نہیں کہ کون ہو اور کہاں سے آئی ہو ۔ میں تمہیں کل قاہرہ کے لیے روانہ کر دوں گا ۔ وہاں ہمارا جاسوسی اور سراغرسانی کا ایک محکمہ ہے وہ جانے اور تم جانو ۔ میرا فرض پورا ہوجائے گا ”۔

”اگر اجازت دو تو میں اس وقت ذرا آرام کرلوں ”۔ لڑکی نے کہا ……”کل جب قاہرہ کے لیے مجھے روانہ کرو گے تو شاید تمہارے سوالوں کا جواب دے دوں”۔

لڑکی رات بھر کی جاگی ہوئی اور دن کے ایسے خوفناک سفر کی تھکی ہوئی تھی ۔ لیٹی اور سو گئی ۔ احمد کمال نے دیکھا کہ وہ نیند میں بڑبڑاتی تھی۔ بے چینی میں سر ادھر ادھر مارتی تھی اور ایسے پتہ چلتا تھا جیسے خواب میں رو رہی ہو ۔ احمد کمال نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا کہ ایک مشکوک فرنگی لڑکی پکڑی گئی ہے جسے کل قاہرہ بھیجا جائے گا۔ اس کے ساتھی احمد کمال کے کردار سے واقف تھے ۔ کوئی بھی ایسا شک نہیں کر سکتا تھا کہ اس نے لڑکی کو بد نیتی سے اپنے خیمے میں رکھا ہے۔ اس نے لڑکی کا گھوڑا دیکھا تو وہ حیران رہ گیا کیونکہ گھوڑا اعلیٰ نسل کا تھا اور جب نے زین دیکھی تو اس کے شکوک رفع ہوگئے ۔ زین کے نیچے مصر کی فوج کا نشان تھا ۔ یہ گھوڑا احمد کمال کی اپنی فوج کا تھا ۔

حبشیوں نے آندھی کی وجہ سے تعاقب ترک کردیا تھا ۔ وہ واپس زندہ پہنچ گئے تھے۔ پروہت نے فیصلہ دے دیا تھا کہ لڑکیاں آندھی میں ماری گئی ہوں گی ۔ لہٰذا تعاقب میں کسی بھیجنا بیکار ہے۔ وقت بھی بہت گزر گیا تھا ۔ لیکن رجب پر آفت نازل ہو رہی تھی ۔ اس سے حبشی بار بار یہی ایک سوال پوچھتے تھے ۔ ”لڑکیاں کہاں ہیں ؟”…… اور قسمیں کھا کھا کر کہتا تھا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ حبشیوں نے اسے اذیتیں دینی شروع کردیں ۔ تلوار کی نوک سے اس کے جسم میں زخم کرتے اور اپنا سوال دہراتے تھے۔ حبشیوں نے اس کے ساتھیوں کو بھی درختوں کے ساتھ باندھ دیا اور ان کے ساتھ بھی یہی ظالمانہ سلوک کر نے لگے۔ رجب کو خدا اپنی قوم اور ملک سے سے غداری کی سزا دے رہا تھا ۔رات کو بھی اسے نہ کھولا گیا ۔ اس کا جسم چھلنی ہوگیا تھا ۔

احمد کمال کے خیمے میں لڑکی سوئی ہوئی تھی ۔ وہ سورج غروب وہنے سے پہلے جاگی تھی ۔ احمد کمال نے اسے کھانا کھلایا تھا ۔ اس کے بعد وہ پھر سو گئی تھی ۔ اس سے دو تین قدم دور احمد کمال سویا ہوا تھا۔ رات گزرتی جا رہی تھی ۔ خیمے میں دیا جل رہا تھا ۔ اچانک لڑکی کی چیخ نکل گئی ۔ احمد کمال کی آنکھ کھل گئی۔ لڑکی بیٹھ گئی تھی ۔ اس کا جسم کانپ رہا تھا ۔ چہرے پر گھبراہٹ تھی ۔ احمد کمال اس کے قریب ہوگیا ۔ لڑکی تیزی سے سرک کر اس کے ساتھ لگ گئی اور روتے ہوئے بولی ……”ان سے بچائو ۔ وہ مجھے مگر مچھوں کے آگے پھینک رہے ہیں ۔ وہ میرا سر کاٹنے لگے ہیں ”۔

”کون؟”

”وہ بھدے حبشی ”۔لڑکی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا ……”وہ یہاں آئے تھے”۔ احمد کمال کو حبشیوں کی قربانی کا علم تھا ۔اسے شک ہوا کہ اسے شاید قربانی کے لیے لے جایا جا رہا تھا۔ اس نے لڑکی سے پوچھا تو لڑکی نے بازو احمد کمال کے گلے میں ڈال دئیے ۔ کہنے لگی۔ ” مت پوچھو ۔ میں خواب دیکھ رہی تھی ” …… احمد کمال دیکھ رہا تھا کہ وہ تو بہت ہی ڈری ہوئی تھی ۔اس نے اسے تسلیاں دیں اور یقین دلایا کہ یہاں سے اسے اُٹھانے کے لیے کوئی نہیں آئے گا ۔ لڑکی نے کہا …… ” میں سو نہیں سکوں گی ۔ تم میرے ساتھ باتیں کرسکتے ہو ؟ میں اکیلی جاگ نہیں سکوں گی ۔ میں پاگل ہو جائوں گی ”۔

احمد کمال نے کہا …… ”میں تمہارے ساتھ جاگتا رہوں گا ”…… اس نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا ……”جب تک میرے پاس ہو تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ”۔ اس نے اس پر عمل بھی کر کے دکھا دیا ۔ لڑکی کے ساتھ اس نے حبشیوں کے معتلق یا اس کے متعلق کوئی بات نہ کی نہ پوچھی ۔ اس ترکی اور مصر کی باتیں سناتا رہا ۔ لڑکی اس کے ساتھ لگی بیٹھی تھی ۔ احمد کمال کا لب و لہجہ شگفتہ تھا ے اس نے لڑکی کا خوف دور کر دیا اور لڑکی سو گئی۔

لڑکی کی آنکھ کھلی تو صبح طلوع ہو رہی تھی ۔ ان نے دیکھا کہ احمد کمال نماز پڑھ رہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی احمد کمال نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور آنکھیں بند کرلیں ۔ لڑکی اس کے چہرے پر نظریں جمائے بیٹھی رہی ۔ احمد کمال فارغ ہوا تو لڑکی نے پوچھا ……”تم نے خدا سے کیا مانگا تھا ؟”

”بدی کے مقابلے کی ہمت!”احمد کمال نے جواب دیا ۔

”تم نے خدا سے کبھی سونا اور خوبصورت بیوی نہیں مانگی ؟”

” یہ دونوں چیزیں خدا نے مانگے بغیر مجھے دے دی تھیں ”…… احمد کمال نے کہا ”لیکن ان پر میرا کوئی حق نہیں ۔ شاید خدا نے میرا امتحان لینا چاہا تھا ”۔

”تمہیں یقین ہے کہ خدا نے تمہیں بدی کا مقابلہ کرنے کی ہمت دے دی ہے ؟”

”تم نے نہیں دیکھا ؟”…… احمد کمال نے جواب دیا ۔ ”تمہارا سونا اور تمہارا حسن مجھے اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکے ۔ یہ میری کوشش اور اللہ کی دین ہے ”۔

”کیا خدا گناہ معاف کردیا کرتا ہے ؟”لڑکی نے پوچھا ۔

”ہاں !ہمارا خدا گناہ معاف کر دیا کرتا ہے ”۔ احمد کمال نے جواب دیا ……”شرط یہ ہے کہ گناہ بار بار نہ کیا جائے ”۔

لڑکی نے سر جھکا لیا ۔ احمد کمال نے اس کی سسکیاں سنیں تو اس کا چہرہ اوپر اُٹھایا ۔ وہ رو رہی تھی ۔ لڑکی نے احمد کمال کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے کئی بار چوما۔ احمد کمال نے اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا ۔ لڑکی نے کہا…… ”آج ہم جدا ہوجائیں گے ۔ تم مجھے قاہرہ بھیج دو گے ۔ میں اب آزادنہیں ہو سکوں گی ۔ میرا دل مجبور کر رہا ہے کہ تمہیں بتا دوں کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ۔ پھر تمہیں بتائوں گی کہ اب میں کیا ہوں ”۔

”ہماری روانگی کا وقت ہوگیا ہے ”۔ احمد کمال نے کہا ……” میں خود تمہارے ساتھ چلوں گا ۔ میں اتنی نازک اور اتنی خطرناک ذمہ داری کسی اور کو نہیں سونپ سکتا ”۔

”یہ نہیں سنو گے کہ میں کون ہوں اور کہاں سے آئی ہوں ”۔

”اُٹھو !”احمد کمال نے کہا ……”یہ سننا میرا کام نہیں”……وہ خیمے سے باہر نکل گیا ۔

٭ ٭ ٭

کچھ دیر بعد قاہرہ کی سمت چھ گھوڑے جارہے تھے ۔ ایک پر احمد کمال تھا ۔ اس کے پیچھے دوسرے گھوڑے پر لڑکی تھی ۔ اس کے پیچھے پہلو بہ پہلو چار گھوڑے محافظوں کے تھے اور ان کے پیچھے ایک اونٹ جس پر سفر کا سامان ، پانی اور خوراک وغیرہ جارہاتھا ۔ قاہرہ تک کم و بیش چھتیس گھنٹوں کا سفر تھا ۔ لڑکی نے دو مرتبہ اپنا گھوڑا اس کے پہلو میں کر لیا اور دونوں مرتبہ احمد کمال نے اسے کہا کہ وہ اپنا گھوڑا اس کے اور محافظوں کے درمیان رکھے۔ اس کے سوا اس نے لڑکی کے ساتھ کوئی بات نہ کی ۔ سورج غروب ہونے بعد احمد کمال نے قافلے کو روک لیا اور پڑائوکا حکم دیا ۔

رات لڑکی کو احمدکمال نے اپنے خیمے میں سلایا ۔ اس نے دیا جلتا رکھا ۔ وہ گہری نیند سویا ہوا تھا ۔ ا س کی آنکھ کھل گئی ۔ کسی نے اس کے ماتھے پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ اس نے لڑکی کو اپنے پاس بیٹھے دیکھا ۔ لڑکی کا ہاتھ اس کے ماتھے پر تھا۔ احمد کمال تیزی سے اُٹھ کر بیٹھ گیا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے احمد کمال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا اور اسے چوم کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگی۔ احمد کمال اسے دیکھتا رہا۔ لڑکی نے آنسو پونچھ کر کہا ……”میں تمہاری دشمن ہوں ۔ تمہارے ملک میں جاسوسی کے لیے اور تمہارے بڑے بڑے حاکموں کو آپس میں ٹکڑانے کے لیے اور صلاح الدین ایوبی کے قتل کا انتظام کرنے کے لیے فلسطین سے آئی ہوں ، لیکن اب میرے دل سے دشمنی نکل گئی ہے ”۔

”کیوں ؟”احمد کمال نے کہا …… ”تم بزدل لڑکی ہو ۔ اپنی قوم سے غداری کر رہی ہو ۔ سولی پر کھڑے ہو کر بھی کہو کہ میں صلیب پر قربان ہو رہی ہوں ”۔

”اس کی وجہ سن لو ”۔ اس نے کہا …… ”تم پہلے مرد ہو جس نے میرے حسن اور میری جوانی کو قابل نفرت چیز سمجھ کر ٹھکرایا ہے ۔ ورنہ کیا اپنے کیا بیگانے ، مجھے کھلونہ سمجھتے رہے ۔ میں نے بھی اسی کو زندگی کا مقصد سمجھا کہ مردوں کے ساتھ کھیلو، دھوکے دو اور عیش کرو۔ میری تربیت ہی اسی مقصد کے تحت ہوئی تھی۔ جسے تم لوگ بے حیائی کہتے ہو وہ میرے لیے ایک فن ہے ، ایک ہتھیار ہے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ مذہب کیا ہے اور خدا کے کیا احکام ہیں ۔ صرف صلیب ہے جس کے متعلق مجھے بچپن میں ذہن نشین کرایا گیا تھا کہ یہ خدا کی دی ہوئی نشانی ہے اور یہ عیسائیت کی عظمت کی علامت ہے اور یہ کہ ساری دنیا پر حکمرانی کا حق صرف صلیب کے پجاریوں کو حاصل ہے اور یہ مسلمان صلیب کے دشمن ہیں ۔ انہیں اگر زندہ رہنا ہے تو صلیبیوں کے قدموں میں رہ کر زندہ رہیں ……ورنہ انہی چند ایک باتوں کو مذہب کے بنیادی اصول سمجھتی رہی ۔ مجھے مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے کی تربیت دی گئی تو اسے بھی مذہبی فریضہ کہا گیا ”۔

”کیا تم اپنے سالار رجب کو جانتے ہو ؟” لڑکی نے پوچھا ۔

”وہ خلیفہ کے محافظ دستوں کا سالار ہے ”۔ احمد کمال نے کہا ۔ ”وہ بھی سوڈانیوں کے حملے والی سازش میں شامل تھا ”۔

”اب کہاں ہے؟”

”معلوم نہیں ”۔ احمد کمال نے کہا …… ”مجھے صرف یہ حکم ملا ہے کہ رجب فوج سے بھگوڑا ہوگیا ہے ۔ جہاں کہیں نظر آئے اسے پکڑ لو اور بھاگے تو تیر مارو اور اسے ختم کر دو ”۔

”میں بتائوں وہ کہا ں ہے ؟”لڑکی نے کہا …… ”وہ سوڈان میں حبشیوں کے پاس ہے ۔ وہاں ایک خوشنما جگہ ہے ۔ جہاں حبشی ،لڑکیوں کو دیوتا کے آگے قربان کرتے ہیں۔ رجب وہاں ہے۔ میں جانتی ہوں وہ فوج کا بھگوڑا ہے۔ ہم تین لڑکیاں اس کے ساتھ فلسطین سے آئی تھیں ”۔

”باقی دو کہاں ہیں ؟”

لڑکی نے آہ بھری اور کہا …… ”وہ مر گئی ہیں ۔ انہی کی موت نے مجھے بدل ڈالا ہے ”…… لڑکی نے احمد کمال کو ایک لمبی کہانی کی طرح سنایا کہ وہ کس طرح فلسطین سے رجب کے ساتھ آئی تھیں ۔ کس طرح حبشیوں نے ان میں سے دو لڑکیوں کو دیوتا کے نام پر ذبح کرنا چاہا ، رجب انہیں بچا نہ سکا ، کس طرح وہ وہاں سے بھاگیں اور راستے میں دو لڑکیاں کس طرح آندھی میں ماری گئیں ۔ اس نے کہا ……”میں اپنے آپ کو شہزادی سمجھتی تھی ۔ میں نے بادشاہوں کے دلوں پر حکمرانی کی ہے ۔ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ خدا بھی ہے اور موت بھی ہے ۔ مجھے گناہوں میں ڈبویا گیا اور میں ڈوبتی چلی گئی ۔ عجیب لذت تھی اس ڈوبنے میں ، مگر مجھے وہ مگر مچھ دکھائے گئے جن کے آگے ذبح کی ہوئی لڑکیوں کے جسم پھینکے جاتے ہیں ۔ مگر مچھ پانی کے کنارے سوئے ہوئے تھے ۔ ان کے بھدے اور مروہ جسم دیکھ کر میں کانپ گئی ۔ وہ میر ے اس جسم کو جس نے بادشاہوں کے سرجھکائے تھے ، ان مگر مچھوں کی خوراک بنانا چاہتے تھے ۔ میں نے وہ بدصورت ، سیاہ کالے حبشی دیکھے جو میرا سر میرے جسم سے الگ کرنے کے لیے آگئے تھے ۔ موت کے پروں کی آواز مجھے سنائی دینے لگی تھی ۔ میری رگ رگ بیدار ہوگئی ۔ میرے اندر سے مجھے آواز سنائی دی ۔ اپنے حسن اور اتنے دل نشین جسم کا انجام دیکھ …… ہم جان کی بازی لگاکر اپنے گھر سے نکلی تھیں ۔ ہمیں یہ کہہ کر رجب کے ساتھ فلسطین سے بھیجا گیا تھا کہ یہ شخص ہماری حفاظت کرے گا لیکن اس شخص نے میرے ساتھ دست درازی کی ”……

”ہم وہاں سے بھاگیں ۔ آندھی میں گھوڑے بے قابو ہوکر بھاگ اُٹھے ۔ ہمارے لیے صحرا میں کوئی پناہ نہیں تھی ۔ ہم آندھی اور گھوڑوں کے رحم و کرم پر تھیں ۔ پہلے ایک لڑکی گری ۔ میں نے اسے گھوڑے کے نیچے آتے دیکھا۔ پھر دوسری لڑکی گھوڑے سے گری تو پائوں رکاب میں پھنس جانے کی وجہ سے گھوڑے نے اسے دو میل سے زیادہ فاصلے تک گھسیٹا ۔ اس کی چیخیں میرا جگر چاک کر رہی تھیں ۔ میں اب بھی اس کی چیخیں سن رہی ہوں ۔جب تک زندہ رہوں گی ، یہ چیخیں سنتی رہوں گی۔ پھر وہ لڑکی لاش بن گئی ۔ میرا گھوڑا ساتھ ساتھ دوڑ تا آرہا تھا ۔ مگر میرے قابومیںنہیں تھا ۔وہ لڑکی بھی اپنے گھوڑے کے ساتھ پیچھے رہ گئی ۔ میں اب اکیلی تھی ۔ مجھے خدا نے ان دو لڑکیوں کو مار کر بتا دیا تھا کہ میرا انجام کیا ہوگا ۔ وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت اور شوخ تھیں۔ ان میں حسن کا غرور بھی تھا ۔ انہوں نے بھی بادشاہوں کو انگلیوں پر نچایا تھا مگر ایسی بھیانک موت مریں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوئی ۔ اب وہ ریت کی گمنام قبروں میں دفن ہو گئی ہیں ۔ میں اکیلی رہ گئی ۔ آندھی کے زناٹے موت کے قہقہے بن گئے ۔ مجھے اپنے سر کے اوپر ، آگے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں چڑیلیں، بدروحیں، بھوت اور موت کے قہقہے سنائی دے رہے تھے ۔ میں بدھو اور بیوقوف لڑکی نہیں ہوں ۔ دماغ روشن ہے۔ میں نے جان لیاکہ خدا مجھے گناہوں کی سزا دے رہا ہے۔ ایسی ہیبت ناک موت اور ہولناک آندھی ۔ وہ تم نے بھی دیکھی ہے۔ مجھے خدا یاد آگیا ۔میں نے خدا کو بلندآواز سے پکارا۔ رو رو کر گناہوں سے توبہ کی اور معافی مانگی، پھر میں بے ہوش ہوگئی ”……

”اور جب ہوش میں آئی تو میں تمہارے قبضے میں تھی ۔ تمہاری گوری رنگت دیکھ کر خوش ہوئی ہوں کہ تم یورپی ہو اور میںفلسطین میں ہوں ۔اسی دھوکے میں میں نے اپنی زبان میں پوچھا تھا کہ کیا میں فلسطین میں ہوں ۔ جب مجھے پتہ چلا کہ میں مسلمانوں کے قبضے میں ہوں تو میرا دل بیٹھ گیا ۔ میں آندھی سے بچ کر اپنے دشمن کے قبضے میں آگئی تھی ۔ مسلمانوں کے متعلق مجھے بتا دیا گیا تھا کہ عورتوں کے ساتھ درندوں جیسا سلوک کرتے ہیں لیکن تم نے میرے ساتھ وہ سلوک کیا جس کی مجھے توقع نہیں تھی ۔ تم نے سونا ٹھکرادیا اور تم نے مجھے بھی ٹھکرادیا ۔ میں اس قدر خوف زدہ تھی کہ میں کہتی تھی کہ خواہ کوئی مل جائے ، وہ مجھے پناہ دے دے اور مجھے سینے سے لگا لے ۔ تمہارے متعلق مجھے ابھی تک یقین نہیں آیا تھا کہ تمہارا کردار پاک ہے ۔ مجھے یہ توقع تھی کہ رات کو تم مجھے پریشان کرو گے ۔ میں خواب میں بھی مگر مچھوں، حبشیوں اور آندھی کی دہشت دیکھتی رہی ۔ میں ڈر کر اٹھی تو تم نے مجھے سینے سے لگا لیا اور بچوں کی طرح مجھے کہانیاں سنا کر میرا خوف دور کر دیا اور جب رات گزر گئی تو میں نے جاگتے ہی تمہیں خدا کے آگے سجدے میں دیکھا۔ تم نے جب دعا کے لیے ہاتھ اُٹھائے اور آنکھیں بند کر لی تھیں اس وقت تمہارے چہرے پر مسرت ، سکون اور نور تھا ۔ میں اس شک میں پڑ گئی کہ تم انسان نہیں فرشتہ ہو، کوئی انسان سونے اور مجھ جیسی لڑکی سے منہ نہیں موڑ سکتا ……

”میں نے تمہارے چہرے پر جو سکون اور مسرت دیکھی تھی اس نے میرے آنسو نکال دئیے ۔ میں تم سے پوچھنا چاہتی تھی کہ یہ سکون تمہیں کس نے دیا ہے ۔ میں تمہارے وجود سے اتنی متاثر ہوئی کہ میں نے تمہیں دھوکے میں رکھنا بہت بڑا گناہ سمجھا۔ میں تمہیں یہ کہنا چاہتی تھی کہ میں تمہیں اپنے متعلق ہر ایک بات بتا دوں گی ۔ اس کے عوض مجھے یہ کردار اور یہ سکون دے دو اور میرے دل سے وہ دہشت اُتار دو جو مجھے بڑی ہی تلخ اذیت دے رہی ہے مگر تم نے میری بات نہ سنی ، تمہیں فرض عزیز تھا ”…… اس نے احمد کمال کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور کہا ……”تم شاید اسے بھی دھوکہ سمجھو ، لیکن میرے دل کی بات سن لو ۔ میں تم سے جدا نہیں ہو سکوں گی ۔ میں نے کل تمہیں گناہ کی دعوت دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اپنی لونڈی سمجھو، مگر اب میں ساری عمر کے لیے تمہارے قدموں میں بیٹھی رہوں گی ۔ مجھے اپنی لونڈی بنا لو اور س کے عوض مجھے وہ سکون دے دو جو میں نے نماز کے وقت تمہارے چہرے پر دیکھا تھا ”۔

”میں تمہیں بالکل نہیں کہوں گا کہ تم مجھے دھوکہ دے رہی ہو”۔ احمد کمال نے کہا ۔ ”میری مجبوری یہ ہے کہ میں اپنی قوم کو اور اپنی فوج کو دھوکہ نہیں دے سکتا ۔ تم میرے پاس امانت ہو ، میں خیانت نہیں کر سکتا ۔ میں نے تمہارے ساتھ جو سلوک کیا وہ میرا فرض تھا ۔ یہ فرض اس وقت ختم ہوگا جب میں تمہیں متعلقہ محکمے کے حوالے کر دوں گا اور وہ مجھے حکم دے گا کہ احمد کمال تم واپس چلے جائو ”۔

وہ اسے دھوکہ نہیں دے رہی تھی ۔ اس نے روتے ہوئے کہا ……”تمہارے حاکم جب مجھے سزائے موت دیں گے تو تم میرا ہاتھ پکڑے رکھنا ۔ اب یہی ایک خواہش ہے ۔ میں تمہیں ایسی بات نہیں کہوں گی کہ مجھے فلسطین پہنچا دو ۔ میں تمہارے فرض کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنوں گی ۔ مجھے صرف اتنا کہہ دو کہ میں نے تمہارا پیار قبول کر لیا ہے ، میں یہ بھی نہیں کہوں گی کہ مجھے اپنی بیوی بنا لو کیونکہ میں ایک ناپاک لڑکی ہو ں۔ مجھے تربیت دینے والوں نے پتھر بنا دیا تھا ۔ میں یہ بھی سمجھتی تھی کہ میرے اندر انسانی جذبات نہیں رہے لیکن خدا نے مجھے بڑے ہی پُر ہول طریقے سے سمجھا دیا کہ انسان پتھر نہیں بن سکتا اور وہ ایک نہ ایک دن مجبور ہو کر کسی سے پوچھتا ہے کہ سیدھا راستہ کون سا ہے ”۔

رات گزرتی جا رہی تھی اور وہ دونوں باتیں کر رہے تھے ۔ احمد کمال نے اس سے پوچھا ……”تم جیسی لڑکیوں کو ہمارے ملک میں بھیج کر ان سے کیا کام لیا جاتا ہے ”۔

”بہت سے کام کرائے جاتے ہیں ”۔ لڑکی نے جواب دیا ۔ ”بعض کو مسلمان امراء کے حرموں میں مسلمان کے روپ میں داخل کر دیا جاتا ہے جہاں وہ تربیت کے مطابق امراء اور وزراء پر غالب آجاتی ہیں ۔ ان سے صلیبیوں کی پسند کے افراد کو عہدے دلاتی ہیں ۔ جو حاکم صلیبیوں کے خلاف ہو اس کے خلاف کروائیاں کراتی ہیں ۔ مسلمان لڑکیاں اتنی چالاک نہیں ہوتیں۔ انہیں خوبصورتی پر ناز ہوتا ہے ۔ وہ حرموں کے لیے منتخب تو ہوجاتی ہیں لیکن ایک عیسائی یا یہودی لڑکی انہیں بیکار کر کے اپنا غلام بنا لیتی ہے ۔ اس وقت تک اسلامی حکومت کے امیروں اور وزیروں اور قلعہ داروں کی آدمی تعداد کے فیصلے میری قوم کے حق میں ہوتے ہیں …… لڑکیوں کا ایک گروہ اوربھی ہے۔ یہ لڑکیاں اسلامی نام سے مسلمانوں کی بیویاں بن جاتی ہیں ۔ ان کا کام یہ ہے کہ اچھے درجے کے مسلمان گھرانوں کی لڑکیوں کے دماغ اور کردار خراب کرتی ہیں ۔ ان کے لڑکوں کو بدی کے راستے پر ڈالتی اور شریف گھرانوں کی لڑکیوں اور لڑکوں کے معاشقے کراتی ہیں ۔ مجھ جیسی صلیبی لڑکیاں چوری چھپے تمہارے ایسے حاکموں کے پاس آتی ہیں جو ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہوتے ہیں ۔ ان حاکموں کو سونے کے سکے کی صورت میں معاوضہ ملتا رہتا ہے۔ وہ مجھ جیسی لڑکیوں کو حفاظت میں ایسے طریقے سے رکھتے ہیں ، جن سے ان پر ذرا سا شک نہیں ہوتا ۔ یہ لڑکیاں اعلیٰ درجے کے حاکموں کے درمیان رقابت اور غلط فہمیاں پیدا کرتی اور صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے خلاف نا پسند یدگی پیدا کرتی ہیں ۔ مجھے دو لڑکیوں کے ساتھ اسی کام کے لیے رجب کے حوالے کیا گیا تھا ”۔

وہ اس صلیبیوں کی درپردہ کاروائیوں اور مسلمانوں کی ایمان فروشی کی تفصیل سناتی رہی ۔ احمد کمال سنتا رہا ۔

دوسرے دن سورج غروب ہونے سے بہت پہلے یہ قافلہ قاہرہ پہنچ گیا ۔ احمد کمال علی بن سفیان کے پاس گیا اور اسے لڑکی کے متعلق تمام رپورٹ دے کر لڑکی اس کے حوالے کر دی ۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ رجب حبشیو ں کے پاس ہے اور اس نے اس جگہ کو اڈہ بنا رکھا ہے ۔جہاں حبشی لڑکی کی قربانی دیا کرتے تھے ۔ احمد کمال نے یہ بھی کہا کہ اگر اسے حکم دیا جائے تووہ رجب کو زندہ یامردہ وہاں سے لا سکتا ہے ۔ علی بن سفیان نے ایسا حکم نہ دیا کیونکہ اس مقصد کے لیے اس کے پاس تربیت یافتہ فوجی تھے ۔ احمد کمال نے وہ طریقہ بتا دیا جس سے رجب تک پہنچا جا سکتا تھا ۔ اس نے یہ طریقہ لڑکی کی سنائی ہوئی باتوں کے مطابق سوچا تھا ۔ علی بن سفیان پہلے ہی ایک پارٹی سوڈانی بھیج چکا تھا ۔ اس نے لڑکی سے تفتیش کرنے سے پہلے چار نہایت ذہین کماندار بلائے اور انہیں احمد کمال کے حوالے کرکے حکم دیا کہ اس کے مطابق وہ فوراً سوڈان چلے جائیں اور رجب کو لانے کی کوشش کریں ۔ اس نے احمد کمال کو واپسی سے پہلے آرام کے لیے بھیج دیا اور لڑکی کو اپنے پاس بلا یا۔

Read More:  Taza Murda Chahe Novel by Umm e Rubas Read Online – Episode 6

لڑکی سے اس نے پہلا سوال کیا تو لڑکی نے جواب دیا ۔ ”احمد کمال میرے سامنے بیٹھا رہے گا تو جو پوچھو گے بتا دوں گی ورنہ زبان نہیں کھولوں گی خواہ جلاد کے حوالے کر دو ”۔

علی بن سفیان نے احمد کمال کو بلا کر اس کے سامنے بٹھا دیا ۔ لڑکی نے مسکرا کر بولنا شروع کر دیا ۔ اس نے کچھ بھی نہ چھپایا اور آخر میں کہا ۔”مجھے سزا دینی ہے تو میری ایک آخری خواہش پوری کر دو ۔ میں احمد کمال کے ہاتھ سے مرنا چاہتی ہوں ”۔ اس نے تفصیل سے سنا دیا کہ وہ احمد کمال کی مرید کیوں بن گئی ہے ۔

علی بن سفیان نے لڑکی کو قید میں ڈالنے کی بجائے احمد کمال کی تحویل میں رہنے دیا اور سلطان ایوبی کے پاس چلا گیا ۔ سے لڑکی کا سارا بیان سنایا ۔ ا س نے کہا ……”آپ کا معتمد فیض الفاطمی ہمارا دشمن ہے ۔ لڑکیوں کو اس کے پاس آنا تھا ”…… سلطان ایوبی کا فوری رد عمل یہ تھا ……”وہ جھوٹ بکتی ہے ۔ تمہیں گمراہ کر رہی ہے ۔ فیض الفاطمی ایسا حاکم نہیں ”۔

”امیر محترم !” آپ بھول گئے ہیں کہ وہ فاطمی ہے ؟…… علی بن سفیان نے کہا ……”آپ شاید یہ بھی بھول گئے ہیں کہ فاطمی اور فدائیوں کا گہرا رشتہ ہے ۔ یہ لوگ آپ کے وفادار ہو ہی نہیں سکتے ”۔

سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھو گیا ۔ وہ غالباً سوچ رہا تھا کہ کس پر بھروسہ کرے ۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا ……”علی !میں تمہیں یہ اجازت نہیں دوں گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ کوئی ایسی ترکیب کرو کہ وہ جرم کرتا ہوا پکڑا جائے ۔ میں اسے موقع پر پکڑنا چاہتا ہوں اور یہ موقع پیدا کرنا تمہارا کام ہے ۔ وہ جنگ جیسے اہم شعبے کا حاکم ہے ۔ سلطنت کے جنگی راز اس کے پاس ہیں ۔ مجھے بہت جلدی یہ ثبوت چاہیے کہ وہ ایسے گھنائونے جرم کا مجرم ہے یا نہیں ”۔

علی بن سفیان سراغرسانی کا ماہر تھا ۔ خدا نے اسے دماغ ہی ایسا دیا تھا ۔ اس نے ایک ترکیب سوچ لی اور سلطان ایوبی سے کہا ……”لڑکی جن مراحل سے گزر کر آئی ہے ان کی دہشت نے اس کا دماغ مائوف کر دیا ہے اور وہ احمد کمال کے لیے جذباتی ہو گئی ہے کیونکہ اس شخص نے اسے دہشت سے بچایا اور ایسا سلوک کیا ہے کہ لڑکی اس کے بغیر بات ہی نہیں کرتی۔ مجھے امید ہے کہ میں اس لڑکی کو استعمال کر سکوں گا ”۔

”کوشش کر دیکھو ”۔سلطان ایوبی نے کہا …… ”لیکن یاد رکھو ، میں واضح ثبوت اور شہادت کے بغیر اجازت نہیں دوں گا کہ فیض الفاطمی کو گرفتار کر لو ۔ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا کہ وہ بھی دشمن کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے ”۔

علی بن سفیان لڑکی کے پاس گیا اور اسے اپنا مدعا بتایا ۔ لڑکی نے کہا ……”احمد کمال کہے تو میں آ گ میں بھی

کود جائوں گی ”…… احمد کمال نے اسے کہا ……”جیسے یہ کہتے ہیں ویسے کردو ۔ اس کی بات سمجھ لو ”۔

”اس کا مجھے کیا انعام ملے گا ؟”…… لڑکی نے پوچھا ۔

” تمہیں پوری حفاظت کے ساتھ فلسطین کے قلعہ شوبک میں پہنچا دیا جائے گا ”…… علی بن سفیان نے کہا …… ”اور یہاں تمہیں پوری حفاظت سے رکھا جائے گا ”۔

”نہیں !” ……لڑکی نے کہا ……”یہ انعام بہت تھوڑا ہے ۔ مجھے منہ مانگا انعام دو ۔ میں اسلام قبول کرلوں گی اور احمد کمال میرے ساتھ شادی کر لے ”۔

احمدکمال نے صاف انکار کر دیا ۔ علی بن سفیان اسے باہر لے گیا ۔ احمد کمال نے اسے کہا کہ یہ بے شک اسلام قبول کر لے لیکن میں اسے پھر بھی اسلام کا دشمن ہی سمجھوں گا ۔ علی بن سفیان نے اسے کہا …… ”ملک اورقوم کی سلامتی کی خاطر تمہیں یہ قربانی دینی ہوگی ”……احمد کمال مان گیا ۔ اس نے اندر جا کر لڑکی سے کہا ……”میں تمہیں چونکہ ابھی تک بے اعتبار لڑکی سمجھ رہا ہوں اس لیے شادی سے انکار کیا ہے ۔ اگر تم ثابت کر دو کہ تمہارے دل میں میرے مذہب کے لیے قربانی کا جذبہ ہے تو میں تمام عمر تمہارا غلام رہوں گا ”۔

لڑکی نے علی بن سفیان سے کہا …… ”کہو مجھے کیا کرنا ہے ۔ میں بھی دیکھ لوں گی کہ مسلمان اپنے وعدے کے کتنے پکے ہوتے ہیں ۔ میری ایک شرط یہ بھی ہے کہ احمد کمال میرے ساتھ رہے گا ”۔

علی بن سفیان نے اس کی یہ شرط بھی مان لی اور اپنے ایک اہلکار کو بلا کر احمد کمال اور لڑکی کے لیے رہائش کے انتظام کا حکم دے دیا ۔ اس نے دروازہ بند کر لیا اور لڑکی کو احمد کمال کی موجودگی میں بتانے لگا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔

٭ ٭ ٭

تیسرے دن علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے آدمی حبشیوں کی اس مقدس جگہ پہنچ گئے جہاں سے لڑکیاں بھاگی تھیں اور جہاں رجب حبشیوں کا قیدی تھا۔ یہ چھ آدمی تھے اور سب اونٹوں پر سوار تھے۔ انہوں نے بھیس نہیں بدلا تھا ۔ وہ مصری فوج کے لباس میں تھے ۔ ان کے پاس برچھیاں ، تیر و کمان اور تلواریں تھیں ۔ انہیں احمد کمال نے لڑکیوں کی روئیداد سنادی تھی ۔ اس کے مطابق علی بن سفیان نے انہیں طریقہ کار سمجھا دیا تھا ۔ وہ پہاڑی خطے کے اندر گئے جسے پہاڑیوں نے قلعہ بنا رکھا تھا ۔ ایک برچھی نہ جانے کہاں سے آئی اور مین میں گڑ گئی ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ رُک جائو ، تم گھیرے میں ہو ۔ وہ رُک گئے ۔ حبشی پروہت سامنے آیا ۔ اس کے ساتھ تین حبشی تھے جن کے پاس برچھیاں تھیں ۔ حبشی نے انہیں خبردار کیا کہ وہ اس کے چھپے ہوئے تیر اندازوں کی زد میں ہیں ۔ اگر انہوں نے کوئی غلط حرکت کی تو ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں رہے گا ۔

سب نے اپنے ہتھیار حبشیوں کے آگے پھینک دئیے اور اونٹوں سے اُتر آئے ۔ ان کے قائد نے حبشی پروہت سے ہاتھ ملا کر کہا ……”ہم تمہارے دوست ہیں ۔ محبت لے کر آئے ہیں ، تمہاری محبت لے کے جائیں گے …… کیا تم نے تینوں لڑکیوں کی قربانی دے دی ہے ؟”……

”ہم مصری فوج کے باغی ہیں ”…… جماعت کے قائد نے جواب دیا ……”ہم تمہاری اس فوج کے سپاہی ہیں جو مسلمانوں سے تمہارے دیوتا کی توہین کا انتقام لے گی ۔ ہمیں تمہارے آدمیوں نے بتایا تھا کہ انہیں شکست اس لیے ہوئی ہے کہ لڑکی کی قربانی نہیں دی جا سکی ۔ ہم رجب کے ساتھ تھے ۔ ہم نے اسے کہا کہ ہم تین فرنگی لڑکیاں اغوا کر کے لے آئیں گے اور ایک کی بجائے تین لڑکیاں قربان کریں گے اور دیوتا کے مگر مچھوں کو کھلائیں گے۔ ہم بڑی دور سے تین لڑکیاں ورغلا کر اور بہت سے لالچ دے کر لے آئے اور رجب کے حوالے کر دی تھیں ۔ وہ انہیں یہاں لے آیا تھا ۔ ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ لڑکیوں کی قربانی دی جاچکی ہے یا نہیں ”۔

حبشی پروہت دھوکے میں آگیا ۔ اس نے کہا ……”رجب نے ہمارے ساتھ کمینگی کی ہے ۔ وہ لڑکیاں لے آیا تھا مگر اس کی نیت خراب ہو گئی تھی ۔ اس نے لڑکیوں کو یہاں سے بھگا دیا لیکن ہم نے اسے بھاگنے نہیں دیا ۔ اسے پوری سزا دی ہے ۔ لڑکیاں ہمارے ہاتھ سے نکل گئی ہیں ۔ کیا تم دو لڑکیوں کا بندوبست کر سکتے ہو؟ دیوتائوں کا قہر سخت ہوتا جا رہا ہے ”۔

”ہم ضرور بندوبست کریں گے ”……قائد نے کہا …… ”تھوڑے دنوں تک ہم دو لڑکیاں لے آئیں گے ۔ہمیں رجب کے پاس لے چلو ۔ ہم اس سے پوچھیں گے وہ لڑکیاں کہاں ہیں ؟”

حبشی پروہت سب کو اپنے ساتھ لے گیا ۔ ایک جگہ مٹی کا ایک چوڑا اور گول برتن رکھا تھا جو ایسے ہی ایک برتن سے ڈھکا ہوا تھا ۔ پروہت نے اوپر والا برتن اُٹھا کر نیچے والے برتن میں ہاتھ ڈالا۔ جب اس نے ہاتھ باہر نکالا تو اس کے ہاتھ میں رجب کا سر تھا ۔ چہرے کا ہر ایک نقش بالکل صحیح اور سلامت تھا ۔ آنکھیں آدھی کھلی ہوئی تھیں ۔ منہ بند تھا۔ یہ سر اور چہرہ گردن سے کاٹ کر جسم سے الگ کر دیاگیا تھا ۔ اس سے پانی ٹپک رہاتھا۔ یہ کوئی دوائی تھی جس میں حبشیوں نے سر ڈالا ہواتھا تا کہ خراب نہ ہو ۔پروہت نے کہا …… ”اس کا جسم مگر مچھوں کو کھلا دیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھیوں کو ہم نے زندہ جھیل میں پھینک دیا تھا ۔ مگر مچھ بھوکے تھے ”۔

”اگر ہمیں یہ سر دے دو تو ہم اپنے ساتھیوں کو دکھائیں گے ”۔ایک نے کہا …… ”اور انہیں بتائیں گے کہ جو انگوک کے دیوتا کی توہین کرے گا اس کا یہ انجام ہوگا ”۔

”تم اس شرط پر لے جا سکتے ہو کہ کل سورج غروب ہونے سے پہلے واپس لے آئو گے ”……پروہت نے کہا ……”یہ انگوک کے دیوتا کی ملکیت ہے ۔ اگر واپس نہیں لائوگے تو تمہارا سر جسم سے جدا ہوجائے گا ”۔

٭ ٭ ٭

تیسرے روز رجب کا سر سلطان صلاح الدین ایوبی کے قدموں میں پڑا تھا اور سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا ۔

اسی رات کا واقعہ ہے …… احمد کمال اور لڑکی اس مکان کے برآمدے میں سوئے ہوئے تھے جو انہیں رہائش کے لیے دیا گیا تھا ۔ اس مکان میں رہتے ہوئے انہیں چھ روز گزر گئے تھے ۔ اس دوران لڑکی احمد کمال سے کہتی رہی تھی کہ وہ فوراً مسلمان ہونے کو تیار ہے اور احمد کمال اس کے ساتھ شادی کر لے ، لیکن احمد کمال ایک ہی جواب دیتاتھا …… ”پہلے فرض پورا کریں گے ”……لڑکی نے دو تین بار اس خدشے کا اظہار بھی کیا تھا کہ اس کے ساتھ دھوکہ ہوگا ۔ احمد کمال اسے ابھی ایک ہاتھ دور ہی رکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اس دوران لڑکی کے دل سے دہشت اُتر گئی تھی اور اب وہ ہوشمندی سے سوچنے کے قابل ہو گئی تھی ۔

اس رات وہ اور احمد کمال برآمدے میں سوئے ہوئے تھے ۔ باہر ایک سپاہی پہرے پر کھڑا تھا ۔ آدھی رات سے کچھ دیر پہلے پہرہ دار مکان کے اردگرد گھومنے کے لیے آہستہ آہستہ چلا تو کسی نے پیچھے سے اس کی گردن بازو میں جکڑ لی ۔ فوراً بعد اس کے منہ پر کپڑا باندھ دیا گا۔ ہاتھ اور پائوں بھی رسیوں میں جکڑے گئے۔ وہ چار آدمی تھے ۔ مکان کا دروازہ اندر سے بند تھا ۔ ایک آدمی دیوار سے پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا دوسرا اس کے کندھوں پر چڑھ کر دیوار پھلانگ گیا ۔ اندر سے اس نے دروازہ کھول دیا ۔ باقی تین آدمی بھی اندر چلے گئے ۔ ایک جو سب سے زیادہ قوی ہیکل تھا ، اس نے لڑکی کے منہ پر کپڑا باندھ دیا ۔ لڑکی کے جاگنے تک اس نے لڑکی کو دبوچ لیا اور اُٹھا کر کندھے پر ڈال لیا ۔ تین آدمیوں نے احمد کمال کو رسیوں سے جکڑ کر اور منہ پر پکڑا باندھ کر پلنگ پر ہی پڑا رہنے دیا ۔ اسے مزاحمت کی مہلت ہی نہ ملی ۔ باہر جا کر انہوں نے لڑکی پر کمبل ڈال دیا تا کہ کوئی دیکھ لے تو اسے پتہ نہ چل سکے کہ اس آدمی کے کندھوں پر لڑکی ہے ۔

شہر سے چار میل دور فرعونوں کے وقتوں کی ایک وسیع و عریض اور بھول بھلیوں جیسی عمارت کے کھنڈر تھے۔ ان کے متعلق لوگ بہت سی ڈرائونی باتیں کیا کرتے تھے کہ عمارت کے اندر ایک بلند چٹان ہے ۔ اس چٹان کو کاٹ کر بہت سے کمرے اور ان کمروں کے نیچے بھی کمرے بنے ہوئے تھے ۔ان کے اندر وہی جا کر واپس آ سکتا تھا جو ان سے واقف تھا ۔ بہت مدت سے کسی نے ان کھنڈروں کے اندر جانے کی جرأت نہیں کی تھی ۔ مشہور ہو گیا تھا کہ اندر جنوںبھوتوں کا بسیرا ہے۔ اندر سانپوں کا بسیرا تو ضرور ہی تھا ۔ سانپوں کے ڈر سے کوئی اس کھنڈر کے قریب سے بھی نہیں گزرتا تھا ۔ بڑی خوفناک کہانیاں سنائی جاتی تھیں۔ اس کے باوجود یہ چار آدمی جو لڑکی کو اغوا کر کے لے گئے تھے ۔ ان کھنڈروں میں داخل ہوگئے اور داخل بھی اس طرح ہوئے جیسے یہی ان کا گھر ہے ۔

وہ غار نما کمروں گردشوں او ر اندھیری گلیوں میں سے بغیر رکے گزرتے گئے ۔ آگے مشعلوں کی روشنی تھی ۔ ان کے قدموں کی آہٹوں سے چمگاڈر اُڑتے اور پھڑ پھڑاتے تھے ۔ چھپکلیاں اور رینگنے والی کئی چیزیں ادھر ادھر بھاگتی پھر رہی تھیں ۔ اندر مکڑیوں کے جالے اور کائی بھی تھی ……وہ چٹان میں بنے ہوئے ایک کمرے میں داخل ہوگئے۔ وہاں ایک آدمی مشعل لیے کھڑا رہا تھا جو ان کے آگے آگے چل پڑا ۔ آگے سیڑھیاں تھیں جو نیچے اُترتی تھیں۔ وہ سب نیچے اُتر گئے اور ایک طرف مڑ کر ایک وسیع کمرے میں داخل ہوگئے ۔ وہاں فرش پر بستر بچھا تھا ۔ اس کے ساتھ بڑی خوشنما دری تھی ۔ کمرہ سجا ہوا تھا ۔ لڑکی کو بستر پر ڈال کر اس کے منہ سے کپڑا کھول دیا گیا ……لڑکی غصے سے بولی ……”میرے ساتھ یہ سلوک کیوں کیا گیا ہے ؟ میں مرجائوں گی کسی کو اپنے قریب نہیں آنے دوں گی ”۔

”اگر تمہیں وہاں سے اُٹھوا نہ لیا جاتا تو کل صبح تمہیں جلاد کے حوالے کر دیا جاتا ”۔ ایک آدمی نے کہا ……”میرا نام فیض الفاطمی ہے ۔ تمہیں میرے پاس آنا تھا ۔ باقی دو کہاں ہیں ؟ تم اکیلی کیسے پکڑی گئی ہو ؟ رجب کہاں ہے ؟”۔

لڑکی مطمئن ہوگئی اور بولی …… ” میں خدا کا شکر بجا لاتی ہوں جس نے مجھے بڑی بڑی خوفناک مصیبتوں سے بچا لیا ۔ میں منزل پر پہنچ گئی ہوں” …… اس نے فیض الفاطمی کو رجب ، حبشیوں ، آندھی ، دولڑکیوں کی موت اور احمد کمال کے ہتھے چڑھ جانے کی ساری روئیداد سنا دی ۔ فیض الفاطمی نے اسے تسلی دی اور ان چار آدمیوں کو جو لڑکی کو اُٹھا لائے تھے ، سونے کے چھ چھ ٹکڑے دئیے اور کہا …… ”تم اب اپنی اپنی جگہ سنبھال لو ۔ میں تھوڑی دیر بعد چلا جائوں گا ۔ یہ لڑکی تین چار روز یہیں رہے گی ۔ میں رات کو آیا کروں گا ۔باہر جب اس کی تلاش ختم ہو جائے گی تو میں اسے لے جائوں گا ”۔

چاروں آدمی چلے گئے اور کھنڈر کے چاروں طرف ایسی جگہوں پر بیٹھ گئے جہاں سے باہر نظر رکھی جا سکتی تھی ۔ فیض الفاطمی کے ساتھ ایک ہی آدمی اندر رہ گیا جو مصری فوج کا کماندار تھا ۔ اندر فیض الفاطمی اپنی کامیابی پر بہت خوش تھا اور دو لڑکیوں کی موت کا اسے غم بھی تھا ۔ اسے جب کے انجام کا بھی علم نہیں تھا ۔ اس نے کہا ……”رجب کو وہاں سے نکالنا ضروری ہے ۔ اس نے علی بن سفیان اور صلاح الدین ایوبی کے قتل کا کچھ انتظام کیا تھا جس کا مجھے علم نہیں کہ کیا تھا ۔ اس نے غالباً فدائیوں سے معاملہ طے کیا ہے ۔ یہ دونوں قتل اب بہت ضروری ہوگئے ہیں ۔ اب ہمیں کوئی نیا منصوبہ بنانا ہے ۔ میں دوسرے ساتھیوں سے بات کر کے تمہیں کل بتائوں گا ۔ ابھی آرام کرو۔ مجھے واپس جانا ہے ”۔

”صلاح الدین ایوبی کو آپ پر اعتماد ہے ؟” ……لڑکی نے پوچھا ۔

”اتنا زیادہ کہ اپنی ذاتی باتوں میں بھی مجھ سے مشورہ لیتا ہے ”……فیض الفاطمی نے جواب دیا ۔

”مجھے پتہ چلا ہے کہ اعلیٰ حکام میں صلاح الدین ایوبی کے وفاداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے ”…… لڑکی نے کہا ……”اور فوج بھی اس کی وفادار ہے ”۔

”یہ صحیح ہے ”……کماندار جووہاں موجود تھا بولا ……”اس کا سراغرسانی کا محکمہ بہت ہوشیار ہے جہاں کوئی سر اُٹھاتا ہے ۔ اس کی نشاندہی ہوجاتی ہے ۔ اعلیٰ حکام میں دو اور ہیں جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف کام کر رہے ہیں ۔ ان کے نام آپ کو محترم فیض الفاطمی بتا سکیں گے ”۔

فیض الفاطمی نے دونوںنام بتا دئیے اور مسکرا کر لڑکی سے کہا ……”تمہیں اعلیٰ سطح پر ہی کام کرنا ہے ۔ صرف دو حکام کے درمیان چپقلس پیدا کرنی ہے اور دو کو زہر دینا ہے جو تم آسانی سے دے سکو گی مگر اب مشکل یہ پیدا ہوگئی ہے کہ تمہیں کسی محفل میں نہیں لے جاسکیں گے۔ تم پر دہ نشین مسلمان لڑکی کے بھیس میں کام کرو گی ، ورنہ پکڑ جائو گی۔ ہو سکتا ہے میں تمہیں واپس فلسطین بھیج دوں اور کسی اور لڑکی کو بلا لوں جسے یہاں کوئی پہچان نہ سکے۔ میرا گروہ بہت ذہین اور سرگرم ہیں ۔ یہ سالاروں سے نیچے کمانداروں کی سطح کا گروہ ہے ۔ یہ چار آدمی جو تمہیں اتنی دلیری سے اُٹھا لائے ہیں ، اسی گروہ کے افراد ہیں ۔ ہم نے ایوبی کی فوج میں بے اطمینانی پھیلانی شروع کر دی ہے ۔ قوم اور فوج کو ایک دوسرے سے منتظر کرنا ضروری ہے ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ شامی اور ترک فوجی مصری عوام میں اپنے اچھے سلوک ، کردار اور لڑنے کے جذبے کی بدولت بہت مقبول ہیں اور عزت کی نگا ہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ سوڈانیوں کو شکست دے کر انہوں نے شہریوں کے دلوں میں عزت کا اضافہ کر لیا ہے ۔ ہمیں فوج کی اس عزت کو مجروح کرنا ہے۔ سالاروں اور دیگر فوج حکام کو رسوا کرنا ہے ۔ اس کے بغیر ہم صلیبیوں اور سوڈانیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتے ۔ باہر کا حملہ ناکام رہے گا ۔ فوج اسے کامیاب نہیں ہونے دے گی ۔قوم فوج کا ساتھ دے گی ۔ اگر اس وقت ایک طرف سے صلیبی اور دوسری طرف سے سوڈانی حملہ کردیں تو قوم اور فوج مل کر قاہرہ کو ایسا قلعہ بنا دے گی جسے فتح کرنانا ممکن ہوگا ۔ قاہرہ کو فتح کرنے کے لیے ہمیں زمین ہموار کرنی ہوگی ۔ لوگوں کے ذہنوں میں وہم اور وسوسے اور نوجوانوں کے کردار میں جنس پرستی اور آوارگی پیدا کرنی ہوگی ”۔

”مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ کام دو سال سے ہورہا ہے ”……لڑکی نے کہا ۔

”خاصی کامیابی بھی ہوئی ہے ”……فیض الفاطمی نے کہا ……”بدکاری میں اضافہ ہوگیا ہے مگر صلاح الدین ایوبی نے ایک تو نئے مدرسے کھول دئیے ہیں ، دوسرے مسجدوں میں خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر کوئی اور ہی رنگ پیدا کر دیا ہے اور لڑکوں کو عسکری تعلیم دینی شروع کر دی ہے ”۔

٭ ٭ ٭

بات یہی تک پہنچی تھی کہ ان چار آدمیوں میں سے ایک آیا اور فیض الفاطمی سے کہا …… ”ابھی باہر نہ جانا کچھ گڑبڑ ہے ”۔

فیض الفاطمی گھبرایا ۔ اس آدمی کے ساتھ باہر چلا گیا ۔ ایک اونچی جگہ چھپ کر دیکھا ۔ آدھی رات کے پورے چاند نے باہر کے ماحول کو روشن کر رکھا تھا۔ اس نے کہا ……”تم لوگوں نے بے احتیاطی کی ہے ۔ یہ تو فوجی معلوم ہوتے ہیں ۔ گھوڑے بھی ہیں ۔ تم چاروں طرف سے دیکھو ، میں کدھر سے نکل جائوں ”۔

”میں دیکھ چکا ہوں”……اس آدمی نے جواب دیا …… ”یوں نظر آتا ہے جیسے ہم مکمل گھیرے میں ہیں ۔ آپ وہیں چلے جائیں ۔مشعلیں بجھا دیں ۔ وہاں سے نکلنے کی غلطی نہ کریں ۔ وہاں تک کوئی نہیں پہنچ سکے گا ”۔

فیض الفاطمی کھنڈروں میں غائب ہوگیا اور یہ آدمی جو پہرہ دے رہا تھا ۔ بلند جگہ سے اُتر کر اندر کو جانے کی بجائے دیواروں کے ساتھ ساتھ چھپتا باہر نکل گیا ۔ باہر کا یہ عالم تھا کہ پچاس کے قریب پیادہ فوجی تھے اور بیس پچیس گھوڑوں پر سوار تھے ۔ انہوں نے سارے گھنڈر کو گھیرے میں لے لیا تھا ۔ یہ پہرہ دار ان تک گیا اور ایک فوجی سے پوچھا ……”علی بن سفیان کہاں ہیں ؟”……اسے بتایا گیا تو وہ دوڑتا ہوا گیا ۔ اس دستے کی کمان علی بن سفیان خود کر رہا تھا ۔ اس کے ساتھ احمد کمال تھا ۔ پہرہ دا ر نے انہیں کہا ……”اندر کوئی ایسا خطرہ نہیں۔ آپ کے ساتھ دو آدمی بھی کافی ہیں ۔ میرے ساتھ آئیں ”……یہ پہرہ دار ان چار آدمیوں میں سے تھا جنہوں نے لڑکی کو اغوا کیا تھا ۔

علی بن سفیان نے دو مشعلیں روشن کرائیں۔ احمد کمال اور چار عسکریوںکو ساتھ لیا۔ دو کے ہاتھوں میں مشعلیں دیں ۔ سب نے تلواریں نکال لیں اور اس آدمی کے ساتھ کھنڈر میں داخل ہوگئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ کوئی آدمی کسی طرف سے آیا اور دوڑتا ہوا اندر کی طرف چلا گیا ہے …… علی بن سفیان کے راہنما نے کہا ……”یہ ان کا آدمی ہے وہ اندروالوں کو خبردار کرنے چلا گیاہے ۔ آپ تیز چلیں ”……وہ سب دوڑ پڑے ۔ اگر یہ لوگ راہنما کے بغیر ہوتے تو ان بھول بھلیوں میں بھٹک جاتے یا ڈر کر وہاں سے بھاگ آتے ۔ راہنما کے ساتھ وہ بڑی اچھی رفتار سے جارہے تھے ۔ کسی طرف سے ایک اور آدمی دوڑتا آیا ۔ اس کی انہیں یہ آواز سنائی دی ……”میں ادھر جارہا ہوں۔ تیز چلو ”……یہ راہنما کا ساتھی تھا ۔

وہ اس چٹانی کمرے میں پہنچ گئے جس سے سیڑھیاں نیجے اُترتی تھیں ۔ نیچے سے انہیں آوازیں سنائی دیں ۔ ”ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے ۔ یہ دونوں ان کے آدمی ہیں ”……پھر تلواریں ٹکڑانے کی آوازیں سنائی دیں اور یہ بھی آواز آئی …… ”اسے بھی ختم کر دو ۔ یہ گواہی نہ دے سکے ”۔

علی بن سفیان اور احمدکمال مشعل برداروں کے پیچھے دوڑتے پھلانگتے نیچے اُترے۔ اس کمرے میں پہنچے تو وہاں خون بہہ رہا تھا ۔ لڑکی پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے بیٹھی ہوئی تھی۔ فیض الفاطمی کے ساتھی جو کماندار تھا وہ اور ایک اور آدمی فیض الفاطمی اور ایک پہرہ دار سے لڑ رہے تھے ۔ علی بن سفیان نے فیض الفاطمی کو للکارا ۔ فیض الفاطمی نے جب اپنے خلاف بہت سی تلواریں دیکھیں تو اس نے تلوار پھینک دی ۔ احمد کمال نے دوڑ کر لڑکی کو سنبھالا ۔ اس کا پیٹ چاک ہو چکا تھا ۔ احمد کمال نے فرش پر بچھے ہوئے بستر سے چادر اُٹھا کر لڑکی کے پیٹ پرکس کر باندھ دی اور علی بنی سفیان سے کہا ……”مجھے اجازت ہو تو اسے باہر لے جائوں ؟”…… علی بن سفیان نے اسے اجازت دے دی۔ احمد کمال نے لڑکی کو بازوئوں پر اُٹھا لیا ۔ وہ سخت تکلیف میں تھی ۔ پھر بھی اس نے مسکرا کر احمد کمال سے کہا ……”میں نے فرض پورا کر دیا ہے ۔ تمہارے مجرم پکڑوا دئیے ہیں ”۔

فیض الفاطمی اور لڑکی کو اغوا کرنے والے چار میں سے دو آدمیوں کو گرفتار کر لیا گیا باقی دو آدمی اور ایک کماندار جو فیض الفاطمی کے ساتھ تھے ،علی بن سفیان کے آدمی تھے ۔ یہ ایک ڈرامہ تھا جو فیض الفاطمی کو موقعہ پر گرفتار کرنے کے لیے کھیلا گیا تھا ۔ لڑکی نے پورا پورا تعاون کیا لیکن زخمی ہو گئی ۔ یہ ڈرامہ اس طرح تیار کیا گیا تھا کہ لڑکی سے وہ خفیہ الفاظ معلوم کیے گئے جو اس کے گروہ کو ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرنے تھے ۔ لڑکی نے یہ بھی بتا دیا کہ اسے فیض الفاطمی کے پاس جانا تھا ۔ علی بن سفیان نے اپنے تین ذہین جاسوس استعما ل کیے جن میں ایک کماندار کے عہدے کا تھا ۔ انہیں خفیہ الفاظ بتائے اور کہا کہ وہ فیض الفاطمی تک رسائی حاصل کریں اور اسے بتائیں کہ تین میں سے ایک لڑکی یہاں آگئی ہے لیکن وہ فلاں مکان میں قید ہے جہاں سے اس نکالا جا سکتا ہے ۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ وہ فیض الفاطمی کو رجب کا جھوٹا پیغام دیں کہ اس لڑکی کو بچائو اور اپنی کاروائیاں تیز کردو۔

ان جاسوسوں نے تین دنوں کے اندر فیض الفاطمی تک رسائی حاصل کر لی اور اس پر ثابت کر دیا کہ وہ اس کے زمین دوز گروہ کے افراد ہیں ۔ فیض الفاطمی کو یہ خطرہ بھی تھا کہ لڑکی چونکہ قیدمیں ہے اس لیے اذیت کے زیر اثر بتا دے گی کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہے ۔ فیض الفاطمی کے لیے اپنا تحفظ ضروری تھا ۔ لہٰذا اس نے لڑکی کے اغوا کا منصوبہ بنایا۔ اس میں اس نے کماندر کو اپنے ساتھ رکھا ۔دو آدمی علی بن سفیان کے بھیجے ہوئے اور دو اپنے ملا کر ان کے سپرد یہ کام دیا کہ وہ لڑکی کو اُٹھا لائیں گے اور کھنڈر میں پہنچا دیں ۔ اس کھنڈر کو انہوں نے کچھ عرصے سے اپنا خفیہ اڈہ بنا رکھا تھا۔ منصوبہ بن گیا تو علی بن سفیان تک پہنچ گیا ۔ پانچ چھ مردوں میں احمدکمال اورلڑکی کو بتایا گیا کہ وہ برآمدے میں سوئیں گے اور رات کے وقت لڑکی اغوا ہوگی جس کے خلاف وہ مزاحمت نہیں کریں گے۔ مکان کے باہر ہر وقت ایک سپاہی پہرے پر رہتاتھا ۔ اس رات جو آدمی پہرے پر تھا وہ سپاہی نہیں بلکہ علی بن سفیان کے محکمے کا جاسوس تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ رات کو اس پر حملہ ہوگا اور حملہ کس طرح کا ہوگا ، حملہ کرنے والا علی بن سفیان کا آدمی تھا ۔ اگر فیض الفاطمی کا آدمی ہوتا تو وہ اسے خنجر مار کر ہلاک کردیتا ۔

اس رات فیض الفاطمی اور کماندار کھنڈر میں چلے گئے ۔ مقررہ وقت پر پہرے دار پرحملہ ہوا ۔ دیوار پھلانگی گئی۔ اس وقت احمد کمال جاگ رہا تھا ۔ اس نے دیکھا کہ لڑکی کو اُٹھا لیا گیا ہے لیکن وہ آنکھیں بند کر کے لیٹا رہا ۔ اس نے تڑپنا اس وقت شروع کیا جب وہ رسیوں میں بندھ چکا تھا ۔ لڑکی کو کھنڈر میں پہنچا دیا گیا ۔ یہ ڈرامہ اس لیے کھیلا گیا تھا کہ فیض الفاطمی نے اغوا کا منصوبہ بنایا اور اس میں اپنے دو آدمی شامل ر دئیے تھے۔ ان پر یہ ظاہرکرنا تھا کہ یہ حقیقی اغواز ہے اور اس میں کوئی دھوکہ فریب نہیں ۔ آخر دم تک شک نہ ہوا ۔ اغوام کے بعد علی بن سفیان نے پہرہ دار اور احمد کمال کی رسیاں کھولیں ۔ پیادہ سپاہی اور سوار تیا رتھے ۔ تھوڑے سے وقفے کے بعدوہ کھنڈر کی طرف روانہ ہوگئے اور کھنڈر کو گھیرے میں لے لیا ۔

انہیں سب سے پہلے علی بن سفیان کے ہی ایک آدمی نے دیکھا جس نے فیض الفاطمی کو جا کر اطلاع دی ۔ اسے باہر لا کر گھیرا دکھایا اور یہ مشورہ دیا کہ وہ اسی کمرے میں چلا جائے ۔ اس ادھر بھیج کر یہ آدمی باہر نکل گیا اور علی بن سفیان اور احمد کمال کو اندر لے گیا ۔ یہ اس آدمی کی دانشمندی تھی کہ اس نے فیض الفاطمی کو اسی کمرے میں چھپے رہنے پر قائل کر لیا تھا۔ اگر وہ کھنڈر کے بھول بھلیوں جیسے کمروں ، برآمدوں ، گلیوں اور تہہ خانوں میں نکل جاتا تو اسے پکڑنا آسان نہ ہوتا ۔ کھنڈربہت وسیع اور پیچیدہ تھا ۔ باہر تو چاندنی تھی لیکن اندر تاریکی تھی جس میں تعاقب کیا جاتا تو اپنے آدمیوں کے مارے جانے کا بھی خطرہ تھا ۔ بالکل آخری وقت فیض الفاطمی کو پتہ چلا کہ کماندار اور دو آدمی اس کے ساتھی نہیں بلکہ اسے دھوکے میں یہاں لائے ہیں۔ لڑکی سے یہ غلطی ہوئی کہ اس کے منہ سے کچھ ایسے الفاظ نکل گئے جس سے ظاہر ہوگیا کہ یہ بھی اس دھوکے میں شریک ہے ۔ فیض الفاطمی کے دو ساتھی اس کے پاس پہنچ گئے ۔دھوکہ بے نقاب ہوگیا اورلڑائی شروع ہوگئی۔ فیض الفاطمی نے لڑکی کے پیت میں نوک کی طرف سے تلوار ماری اور اس کا پیٹ چاک کر دیا۔ اس نے لڑکی کو غالباً اس لیے بھی قتل کرناضروری سمجھا تھا کہ وہ اس کے خلاف گواہی دینے کے لیے بھی زندہ نہ رہے۔

فیض الفاطمی اور اس کے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا گیا۔ علی بن سفیان نے تینوں کو الگ الگ قید میں رکھا اور تینوں کو رجب کا سر دکھا کر کہا ……” اپنے دوست کا انجام دیکھ لو ۔ اگر تمہیں یہ توقع ہے کہ تمہیں فوراً سزا دے دی جائے گی تو یہ خیال دماغوں سے نکال دو۔ جب تک اپنے پورے گروہ کو سامنے نہیں لائو گے تمہیں چکر شکنجے میں باندھے رکھوں گا ۔ جینے بھی نہیں دوں گا مرنے بھی نہیں دوں گا ”۔

لڑکی کی حالت اچھی نہیں تھی ۔ طبیبوں اور جراحوں نے اسے بچانے کی پوری کوشش کر ڈالی مگر کٹی ہوئی انتڑیوں کا کوئی علاج نہ ہو سکا۔ وہ پھر بھی مطمئن تھی جیسے اسے پیٹ کے مہلک زخم کی پروا ہی نہیں تھی ۔ اس کا ایک ہی مطالبہتھا کہ احمد کمال کو میرے پاس بیٹھا رہنے دو۔ سلطان ایوبی بھی اس کی عیادت کے لیے آیا ۔ احمد کمال امیر مصر اور اپنی فوج کے سالار اعلیٰ کو دیکھ کر تعظیم کے لیے اُٹھا تو لڑکی نے اسے ہاتھ سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ احمد کمال سلطان ایوبی کی موجودگی میں بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ آخر سلطان نے اسے لڑکی کے پاس بیٹھنے کی اجازت دے دی ۔ سلطان ایوبی نے لڑکی کے سر پر ہاتھ پھیرا اور شفقت سے صحت یابی کی دعا دی ۔

تیسری رات احمد کمال لڑکی کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا ۔ لڑکی نے انوکھے سے لہجے میں پوچھا …… ”احمد! تم نے میرے ساتھ شادی کر لی ہے نا! …… میں نے اپنا وعدہ پورا کیا ، تم نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے ۔ خدا نے میرے گناہ بخش دئیے ہیں ”…… اس کی زبان لڑکھڑانے لگی ۔ اس نے احمد کمال کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں مظبوطی سے پکڑ لیا مگر گرفت فوراً ڈھیلی پڑگئی ۔احمد کمال نے کلمہ شریف پڑھا اور لڑکی کوخدا کے سپرد کر دیا ۔ دوسرے دن سلطان ایوبی کے حکم کے مطابق لڑکی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔

فیض الفاطمی نے اور اس کے ساتھیوں نے صرف دو دن اذیتیں سہیں اور اپنے گروہ کی نشاندہی کر دی ۔ ان لوگوں کو بھی پکڑ گیا ۔ مراکشی وقائع نگار اسد الا سدی نے سلطان ایوبی کے وقت کے ایک کاتب کے حوالے سے لکھاہے کہ سلطان ایوبی نے جب فیض الفاطمی کی سزائے موت پر دستخط کیے تو سلطان زار و قطار رونے لگے تھے ۔

اس کے ساتهہ ہی قصہ”لڑکی جو فلسطین سے آئ تهی” یہیں تمام ہوتا ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: