Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 6

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 6

–**–**–

“داستان ایمان فروشوں کی”
جلد اول‎ ‎
“جب زہر نے زہر کو کاٹا”

یہ واقعہ ١١٧١ء کا ہے۔

قاہرہ میں ایک مسجد تھی جو اتنی بڑی نہیں تھی کہ لوگ وہاں جمعہ کی نماز پڑھتے اور اتنی چھوٹی بھی نہیں تھی کہ نمازیوں کی کمی ہوتی ۔ یہ قاہرہ کے اس علاقے میں تھی جو شہر کا قریبی مضافات یا شہر کے باہر کا علاقہ تھا جہاں درمیانے اور اس سے کم درجے کے لوگ رہتے تھے ۔ مذہب کا احترام انہی لوگوں کے دلوں میں رہ گیا تھا مگر ان کی بد نصیبی یہ تھی کہ تعلیم سے بے بہرہ تھے ۔ جذباتی استدلال اور دلکش الفاظ سے فوراً متاثر ہوتے اور انہیں قبول کرلیتے تھے ۔صلاح الدین ایوبی نے مصر میں آکر جو نئی فوج تیار کی تھی اس میں ان کنبوں کے افراد زیادہ بھرتی ہوئے تھے جس کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک تو یہ ذریعہ معاش تھا ۔ سلطان ایوبی نے فوج کی تنخواہ میں کشش پیدا کی تھی اور متعدد سہولتیں بھی تھیں ۔ دوسری وجہ یہ کہ یہ لوگ جہاد کو فرض سمجھتے تھے ۔وہ اسلام کے نام پرجان اور مال قربان کرنے کو تیار رہتے تھے ۔اس دور میں اس جذبے کی شدید ضرورت تھی ۔ سرکاری طور پر انہیں بتایا گیاتھا کہ صلیبی دنیا عالم اسلام کا نام و نشان مٹانے کے لیے اپنے تمام تر ذرائع اور ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے ۔

چھ سات مہینوں سے یہ گمنام سی مسجد مشہور ہوگئی تھی ۔ یہ شہرت نئے امام کی بدولت تھی جو عشاء کی نماز کے بعد درس دیا کرتا تھا ۔ پہلا پیش امام صرف تین روز پہلے ایسی بیماری سے مر گیا تھا جسے کوئی حکیم اور سیانا سمجھ ہی نہیں سکا ۔ وہ پیش کے درد اور آنتوں کی سوزش کی شکایت کرتا تھا ۔ اسی روگ سے مر گیا۔ وہ عام سا ایک مولوی تھا جو صرف نماز باجماعت پڑھاتا تھا ۔ اس کی وفات کے اگلے ہی روز سرخ و سفید چہرے اور بھوری داڑھی والا ایک مولوی آیا جس نے امامت کے فرائض اپنے ذمے لینے کی پیشکش کی ۔لوگوں نے اسے قبول کر لیا ۔ و ہ کہیں جھونپڑے میں رہتا تھا ۔ اس کی دو بیویاں تھیں ۔ اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ وہ علم کا شیدائی اور مذہب کے سمندر کا غوطہ خور ہے۔ وہ خاطر و مدارت کا لوگوں سے نذرانے وصول کرنے کا قائل نہیں تھا ۔ اس کی ضرورت صرف یہ تھی کہ اسے کشادہ اور اچھا مکان مل جائے جہاں وہ دو بیویوں کے ساتھ عزت سے اور پردے میں رہ سکے۔

لوگوں نے مسجد کے قریب ہی اسے ایک مکان خالی کر ادیا جس کے کئی ایک کمرے تھے ۔ لوگوں نے دیکھا ک وہ دونوں بیویوں کے ساتھ اس مکان میں آیا۔ بیویاں سیاں برقعوں میں مستور تھیں ۔ ان کے ہاتھ بھی نظر نہیں آتے تھے۔ پاپوش تک چھپے ہوئے تھے ۔ اسے لوگوں نے ضروری سامان وغیرہ دے کر آباد کر دیا ۔ لوگ ایک تو اس کی ظاہری شخصیت سے متاثر ہوئے لیکن جس جادو نے انہیں اس کا گرویدہ کیا وہ اس کی آواز کا جادو تھا۔ اس مسجد میں اس نے پہلی اذان دی تو جہاں جہاں تک اس کی آواز پہنچی سناٹا سا طاری ہوگیا ۔ ایک مقدس ترنم زمین و آسمان پر وجد طاری کر رہا تھا ۔ یہ ایک طلسم تھا جو ان لوگوں کو بھی مسجد میں لے گیا جو گھروں میں نماز پڑھتے یا پڑھتے ہی نہیں تھے ۔ اسی رات اس نے عشاء کی نماز کے بعد نمازیوں کو پہلا درس دیا اور انہیں کہا کہ وہ ہر رات درس دیا کرے گا ۔ چھ سات مہینوں میں اس نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ بعض لوگ تو اس کے مریدبن گئے ۔اس مسجد میں جمعہ کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ اس پیش امام نے جو دراصل عالم تھا ۔ وہاں جمعہ کی نماز بھی شروع کر دی ۔

چھ سات مہینوں بعد اس مسجد اور اس پیش امام کی شہرت دور دور تک پہنچ گئی۔ شہرکے بھی کچھ لوگ اس کے درس میں جانے لگے ۔ وہ اسلام کے جن بنیادی اصولوں پر زیادہ زور دیتا تھا وہ تھے عبادت اور محبت ۔ وہ لڑائی جھگڑے اور جنگ و جدل کے خلاف سبق دیتا تھا ۔ اس نے لوگوں کے ذہنوں میں یہ عقیدہ پختہ کر دیا تھا کہ انسان اپنی تقدیر خود نہیں بنا سکتا ۔ جو کچھ ہے وہ خدا کے ہاتھ میں ہے ۔ انسان کمزور سا ایک کیڑہ ہے ۔ اس عالم کا انداز بیان بڑا ہی پر اثر ہوتا تھا ۔ وہ قرآن ہاتھ میںلے کر ہر بات قرآن کی کسی نہ کسی آیت سے واضح کرتا تھا ۔ صلاح الدین ایوبی کی وہ بے حد تعریف کیا کرتا اور اکثر کہا کرتا ھا کہ یہ مصر کی خوش بختی ہے کہ اس ملک کی امارت اسلام کے ایسے شیدائی کے ہاتھ میں ہے ۔ اس نے جہاد کا فلسفہ اور مفہوم بھی پیش کیا تھا جو لوگوں کے لیے نیا تھا لیکن انہوں نے بلا حیل و حجت اسے تسلیم کر لیا۔

ایک رات عشاء کی نماز کے بعد وہ اپنا درس شروع کرنے لگا تو ایک آدمی نیاُٹھ کر عرض کی ……”عالم عالی مقام ! خدا آپ کے علم کی روشنی جنات تک اور اس مخلوق تک بھی پہنچائے جو ہمیں نظر نہیں آتی ۔ میں اپنے آٹھ دوستوں کے ساتھ بہت دور سے آیا ہوں۔ ہم آپ کے علم کی شہرت سن کر آئے ہیں ۔ اگر گستاخی نہ ہو اور عالم عالی مقام کی خفگی کا باعث نہ بنے تو ہمیں جہاد کے متعلق کچھ بتائیں ۔ ہم شک میں ہیں ۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ ہمیں جہاد کا مطلب غلط بتایا جا رہا ہے ”۔

سات آٹھ آوازیں سنائی دیں …… ”ہم نے یہ درس نہیں سنا تھا ”۔

ایک نے کہا …… ”یہ وقت کی آواز ہے جو ہمارے کانوں میں بگاڑ کر ڈالی گئی ہے ۔ ہم صحیح بات سننا چاہتے ہیں ”۔

عالم نے کہا …… ”یہ قرآن کی آواز ہے جسے کوئی نہیں بگاڑ سکتا ۔ میرا فرض ہے کہ صحیح آواز کو ایک ہزار بار دہراؤںتا کہ یہ ہر ایک کان میں پہنچ جائے …… جہاد کا مطلب یہ نہیں کہ دوسروں کی زمین پر قبضہ کرنے کے لیے ان کی گردنیں کاٹو ۔ جہاد کا مطلب قتل و غارت نہیں ، خون خرابہ نہیں ”۔ اس نے قرآن میں سے ایک آیت پڑھی اور اس کی تفسیر یوں بیان کی ۔ ”یہ میرا علم نہیں ، یہ فرمان خداوندی ے کہ تم بدی اور گناہ کے خلاف لڑتے ہو تو اسے جہاد کہتے ہیںجو ہم سب پر فرض کر دیا گیا ہے ۔ کیا تم نے نہیں سنا کہ اسلام تلوار کے زور سے نہیں بلکہ پیار کے زور سے پھیلا ہے ؟ جہاد کی شکل بعد میں آکر بگڑی ہے اور یہ انہوں نے بگاڑی ہے جو بادشاہی کے دلدادہ ہیں۔ عیسائی بھی دوسروں کے ملکوں کو اپنی سلطنت بنانے کے لیے جنگ و جدل کو مقدس جنگ کہتے ہیں اور مسلمان بھی اسی ارادے سے قتل و غارت کو جہاد کہتے ہیں ۔ یہ صرف حکومتیں اور بادشاہیاں قائم کرنے کے ڈھنگ ہیں ۔ لوگوں کو مذہب کے نام بھڑکاکر لڑایا جاتا ہے اور اس طرح بادشاہوں کی بنیادیں مضبوط کی جاتی ہیں ”۔

”تو کیا امیر مصر صلاح الدین ایوبی ہمیں گمراہ کرکے لڑا رہا ہے ؟”اس آدمی نے پوچھا جس نے جہاد کا صحیح مطلب سمجھنا چاہا تھا ۔

”نہیں !”عالم نے جوا ب دیا ۔ ”صلاح الدین ایوبی پر اللہ کی رحمت ہو ۔ ا سے بڑوں نے جو بتایا ہے وہ سچے مسلمان کی حیثیت سے پوری نیک نیتی سے اس پر عمل کر رہاہے۔ اس کے دل میں عیسائیوں کے خلاف نفرت ڈالی گئی ہے ۔ وہ اس کے مطابق عمل کر رہاہے ذرا غور کروکہ عیسائی اور مسلمان میں کیا فرق ہے۔ دونوں کانبی مشترک ہے۔ آگے آکر ذرا اختلاف پیدا ہوگیا ہے ۔ حضرت موسیٰ محبت اور امن کا پیغام لائے تھے۔ ہمارے رسول صلی اللہ علی وسلم بھی محبت کا پیغام دے گئے ہیں۔ پھر تلوار اور زرہ بکتر کہاں سے آگئی ؟ یہ ان لوگوں کی لائی ہوئی چیزیں ہیں جو خدا کی اتنی پیاری زمین پر جس پر صرف اسی کی ذات باری کی حکمرانی ہے ، وہ اپنی حکومت قائم کرتے اور خدا کے بندوں کو اپناغلام بناتے ہیں ……میںامیر مصر کے دربار میں حاضری دوں گا اور اس کی خدمت اقدس میں جہاد کا صحیح نقطہ واضح کروں گا ۔ امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے صحیح جہاد شروع کر رکھا ہے جو جہالت اور بے علمی کے خلاف ہے ۔اس نے خطبے سے خلیفہ کا نام نکال کر بہت بڑاجہاد کیا ہے۔ اس نے مدرسے کھول کر بھی جہاد کیا ہے لیکن مدرسوں میں یہ خرابی ہے کہ جہاں مذہب اور معاشرت کی تعلیم دی جاتی ہے وہاں عسکری تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ بچوں کو خدا کے نام پر غارت گری کے سبق دئیے جاتے ہیں ۔ انہیں تیغ زنی اور تیر اندازی سکھائی جاتی ہے ۔ جب تم اپنے بچوں کے ہاتھوں میں تلوار اور تیر کمان دو گے تو انہیں یہ بھی بتائو گے کہ ان سے وہ کیسے ہلاک کریں ۔ ظاہر ہے کہ تم انہیں کچھ انسان دکھائو گے اور کہو گے کہ وہ تمہارے دشمن ہیں انہیں ہلاک کردو ”۔

عالم کی آواز میں ایسا تاثر تھا اور اس کے دلائل میں اتنی کشش تھی کہ سننے والے مسحور ہوتے جارہے تھے ۔ اس نے کہا ……”اپنے بچوں کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میںجائو گے کیونکہ اپنے بچوں کو غلط راستے میںڈالنے والے تم تھے ۔ تمہیں جنت میں اپنے بادشاہ اورفوجوں کے سالارنہیں لے جائیں گے، پیش امام اور وہ عالم دین لے جائیں گے جن کے ہاتھ میں مذہب اور علم کی قندیل تھی ۔ تم دنیا میں ان کے پیچھے چلو گے تو وہ روز قیامت بھی تمہیں اپنے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ روز قیامت جس کے ہاتھ انسان کے خون سے لال ہوں گے اسے ساری عمر کے اچھے اعمال اور ساری عمر کی نمازوں کے باوجود دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک نقطہ اور سمجھ لو ۔ تم زکوٰ ة کو بیت المال کو دیتے ہو۔ بیت المال وقت کا حاکم ہوتا ہے۔ زکوٰ ة غریبوں اور ناداروں کا حق ہے ۔ حاکم وقت غریب اورنادار نہیں ہوتا۔ تمہاری زکوٰة جو بیت المال میں جاتی ہے اس سے گھوڑے اور ہتھیار خریدے جاتے ہیں جو انسانوں کو ہلاک کرنے کے کام آتے ہیں ۔لہٰذا جو فرض ادا کر کے تم جنت میں جاسکتے ہو وہ فرض اداکرکے بھی تم دوزخ میں ٹھکانا بناتے ہو۔ لہٰذا زکوٰة بیت المال میں نہ دو ”۔

عالم نے موضوع بدلا اورکہا ……”بہت سی باتیں عام ذہن کے انسانوں کی سمجھ میں نہیں آتیں ۔ انہیں بتاتا بھی کوئی نہیں ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے اندرایک حیوانی جذبہ ہے؟ کیا تم عورت کی ضرورت محسوس نہیں کرتے؟ کیا یہی جذبہ نہیں جو تمہیں بدکاری کے اڈوں پر لے جاتا ہے ؟……یہ جذبہ خدا نے خود پیدا کیا ہے ۔ یہ کسی انسان کا پیدا کردہ نہیں ۔ تم اس تسکین کر سکتے ہو۔ اسی لیے تمہیں خدا نے حکم دیا ہے کہ بیک وقت گھر میں چار بیویاں رکھو۔ اگر تم غریب ہو اور ایک بیوی بھی نہیں لا سکتے تو کسی عورت کو اجرت دے کر اس حیوانی جذبے کی تسکین کر سکتے ہو جو تم میں خدانے پیدا کیا ہے اور انسان اسی جذبے کی پیداوار ہے ،مگر بدی سے بچو۔ایک ایک دو دو، تین تین ، چار چار بیویاں گھر میں رکھو۔ ان بیویوں کو اور اپنی بیٹیوں کو گھروں میں چھپا کر رکھو۔ میں دیکھ رہاہوں کہ جوان لڑکیوں کو بھی عسکری تربیت دی جارہی ہے اور انہیں بھی گھوڑ سواری اور شتری سواری سکھائی جا رہی ہے۔ زنانہ مدرسوں میں انہیں زخمیوں کی مرہم پٹی اور انہیں سنبھالنے کے طریقے سکھائے جارہے ہیں تا کہ وہ میدانِ جنگ کے زخمیوں کو سنبھالیں اور اگر ضرورت پڑے تو لڑیں بھی ……یہ ایک بدعت ہے۔ اپنی لڑکیوں کو اس بدعت سے بچائو ۔ یہ باتیں اپنے ان دوستوں اور پڑوسیوں کو بھی سنائو جو مسجد میں نہیں آتے ۔ خدا کے احکام اور کارناموں میں مت دخل دو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے.عالم نے درس ختم کیا تو مامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ، مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ، اُٹھ کر عالم سے ہاتھ ملانے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سیاس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔ اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔ دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔ شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔

”کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟”……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔

”میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ”۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ”ہم شاید آپ ہی کی تلاش میں ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں”۔

”کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں ملا ؟”

”تلاش جو صرف آپ کی تھی ”۔اس آدمی نے جواب دیا ……”کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ہم آپ کی ہی تلاش میں تھے ”۔

عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بولا ……”معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا !”

”بارش آئے گی ”۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔

”آسمان بالکل صاف ہے ”عالم نے کہا ۔

”ہم گھٹائیں لائیں گے ”۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔

عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔”کہاں سے آئے ہو؟”

”ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ”۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ”اس سے پہلے شوبک میں تھے ”۔

”مسلمان ہو ؟”

”فدائی ”۔ہری پٹی والے نے کہا ……”ابھی مسلمان ہی سمجھو ”…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔

”میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ”۔دوسرے نے عالم سے کہا ……”مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں ۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ”۔

”اور کامیابی آسان بھی نہیں ”۔ عالم نے کہا ۔ ”صلاح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسلامی نظریات کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے ہیںلیکن صلاح الدین ایوبی نے جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔

اس نے پوچھا۔ ”تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟”

”شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ”…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……”یہ تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے .

عالم نے درس ختم کیا تو مامعین جن کی تعداد اتنی ہو گئی تھی کہ بہت سے لوگ پیچھے کھڑے تھے ، مسجد میں بیٹھنے کو جگہ نہ تھی ، اُٹھ کر عالم سے ہاتھ ملانے اور جانے لگے۔ بعض نے اس کے ہاتھ چومے ۔ جھک کر مصافحہ تو ہر کسی نے کیا ۔ ایک ایک کر کے سب لوگ چلے گئے۔ صرف دو آدمی عالم کے سامنے بیٹھے رہے۔ ان میں سے ایک وہ آدمی تھا جس نے کہا تھا کہ مجھے جہاد کے متعلق بتائیے ۔ اس آدمی نے لمبا چغہ پہن رکھا تھا ۔ سر پر چھوٹی سی پگڑی اور اس پر چوڑا پھولدار رومال پڑا ہواتھا ۔ اس کی داڑھی لمبی اور سیاہ اور مونچھیں گھنی تھیں۔ لباس سے وہ درمیانہ درجے کا آدمی معلوم ہوتا تھا ۔ اس کی ایک آنکھ پر ہرے رنگ کا پٹی نماکپڑا تھا جو دودھاگوں کی مدد سیاس کے سر کے ساتھ بندھا تھا ۔ اس کپڑے نے اس کی ایک آنکھ ڈھانپ رکھی تھی ۔ عالم کے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا کہ اس کی یہ آنکھ خراب ہے ۔ دوسرے آدمی کا لباس بھی معمولی سا تھا۔ اس کی بھی داڑھی لمبی اور گھنی تھی ۔ مسجد میں عالم کے پاس یہی دو آدمی رہ گئے تھے۔ ان کے ساتھ چھ اور آدمی تھے جوجہاد کا درس لینے آئے تھے ۔ وہ مسجد کے دروازے کے باہر کھڑے تھے ۔ شاید اپنے ساتھیوں کے انتظار میں تھے ۔

”کیوں تمہارا شک ابھی رفع نہیں ہوا؟”……عالم نے مسکرا کر ان دونوں سے پوچھا ۔

”میرا خیال ہے شک رفع ہوگیا ہے ”۔ آنکھ کی ہری پٹی والے نے جوا ب دیا ۔ ”ہم شاید آپ ہی کی تلاش میں ہیں ۔ ہم نے آدھا مصر چھان مارا ہے ۔ ہمیں مسجد کا محل و قوع اور نشانیاں غلط بتائی گئی تھیں”۔

”کیا آدھے مصر میں تمہیں مجھ سے بہتر کوئی عالم نہیں ملا ؟”

”تلاش جو صرف آپ کی تھی ”۔اس آدمی نے جواب دیا ……”کیا ہم صحیح جگہ آگئے ہیں ؟ آپ کا درس بتاتا ہے کہ ہم آپ کی ہی تلاش میں تھے ”۔

عالم نے باہرکی طرف دیکھا اور بے توجہی کے اندازسے بولا ……”معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا !”

”بارش آئے گی ”۔ہری پٹی والے نے جواب دیا ۔

”آسمان بالکل صاف ہے ”عالم نے کہا ۔

”ہم گھٹائیں لائیں گے ”۔ہری پٹی والے نے کہا اور قہقہہ لگایا ۔

عالم مسکرایا اور رازداری سے پوچھا ۔”کہاں سے آئے ہو؟”

”ایک مہینے سے ہم سکندریہ میں تھے ”۔اس آدمی نے جواب دیا ۔ ”اس سے پہلے شوبک میں تھے ”۔

”مسلمان ہو ؟”

”فدائی ”۔ہری پٹی والے نے کہا ……”ابھی مسلمان ہی سمجھو ”…… اور وہ اپنے ساتھی کے ساتھ بڑی زور سے ہنسا ۔

”میں آپ کو اس فن کا استاد مانتا ہوں ”۔دوسرے نے عالم سے کہا ……”مجھے بالکل یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ آپ ہیں ۔ آپ ناکام نہیں ہو سکتے ”۔

”اور کامیابی آسان بھی نہیں ”۔ عالم نے کہا ۔ ”صلاح الدین ایوبی کوشاید تم نہیں جانتے ۔ بے شک میں نے ان تمام لوگوں کے دلوں میں جہاد اور اس کے متعلق اسلامی نظریات کے خلاف شکوک پیدا کر دئیے ہیںلیکن صلاح الدین ایوبی نے جو مدرسے کھولے ہیں وہ شاید ہماری کوششوں کو آسانی سے کامیاب نہ ہونے دیں ۔

اس نے پوچھا۔ ”تم نے مجھے یہ کیوں کہاں تھا کہ میں جہاد پر درس دوں ؟”

”شوبک میں ہمیں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے ”…… ہری پٹی والے نے جواب دیا ……”یہ تمام الفاظ جو آپ نے درس میں بولے ہیں ہمیں وہاں بتائے گئے تھے ۔ ہمیں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ آپ جہاد کے بعد جنسی جذبے کا ذکر ضرور کریں گے۔ آپ نے اپنا سبق بڑی محنت سے یاد کیا ہے ”۔

”میرا نام کیا ہے”؟عالم نے پوچھا۔

”کیا آپ ہمارا امتحان لینا چاہتے ہیں ؟…… اس آدمی نے جواب دیا ۔”کیا آپ کو ہم پر شک ہے؟ہمیں ایک دوسرے کا نام نہیں صرف نشانیاں بتائی جاتی ہیں ”۔

”تم کس کام سے آئے ہو ؟”……عالم نے پوچھا ۔

”فدائی کس کام سے آیا کرتے ہیں ؟”……ہری پٹی والے نے پوچھا ۔

”تمہیں میرے پاس کیوں بھیجا گیا ہے ؟”……عالم نے کہا ۔

”ایک اونٹنی کے لیے ”۔اس آدمی نے جواب دیا……”آپ کے پاس دو ہیں ۔ ہمیں آپ کے پاس نہ بھیجا جاتا مگر آپ کو اطلاع مل گئی ہو گی کہ صلاح الدین ایوبی کے ایک نائب سالار رجب کے ساتھ شوبک سے تین اونٹنیاں روانہ کی گئی تھیں ۔ ان میں سے ایک ہمارے مقصد کے لیے تھی مگر معلوم نہیں کہ کیا ہوا کہ تینوں ماری گئی ہیں ۔ رجب کی کھوپڑی اور ایک سب سے زیادہ خوبصورت اونٹنی صلاح الدین کے پاس پہنچ گئی اوروہ بھی ختم ہوگئی ”۔

”ہاں ”……عالم نے آہ بھر کر کہا ……”ہمیں بہت بڑا نقصان ہوا ہے …… صلاح الدین ایوبی کا ایک بڑا ہی کارآمد سالار جو ہمارے قبضے میں تھا ، جلاد کی نذر ہوگیا …… اندر چلو …… یہ جگہ محفوظ نہیں ہے ”۔

وہ دونوں عالم کے ساتھ اُٹھے اور باہر نکل گئے ۔ باہر جو چھ آدمی کھڑے تھے وہ اندھیرے میں بکھر گئے ۔

٭ ٭ ٭

وہ اب عالم کے گھر میں داخل ہوئے ۔ صاف ستھرا گھر تھا ۔ کئی کمرے تھے ۔ دو تین کمروں میں سے گزر کر وہ ایسے کمرے میں چلے گئے جو زمین پر ہی تھا لیکن زیر زمین معلوم ہوتا تھا ۔ اس کے سامنے کوڑا کباڑ بکھرا ہوا تھا ۔ دروازے کے باہر تالا لگا ہوا تھا ۔ صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ دروازہ برسوں سے نہیں کھولا گیا اور کھولا بھی نہیں جائے گا ۔ ایغ پہلو میں کھڑکی تھی ۔ اسے ہاتھ لگایا تو کھل گئی ۔ عالم اندر گیا ۔ اس کے پیچھے یہ دونوں آدمی اندر چلے گئے ۔ اندر سے کمرہ خوب سجا ہوا تھا ۔ دیوار کے ساتھ سنہری صلیب لٹک رہی تھی ۔ اس کے ایک طرف حضرت عیسٰی کی دستی تصویر اور دوسری طرف حضرت مریم کی تصویر تھی ۔ عالم نے کہا ……”یہ میرا گرجا ہے اور پناہ گا ہ بھی ”۔

”خطرے کی صورت میں آپ کے پاس کیا انتظام ہے ؟”آنکھ کی ہری پٹی والے نے پوچھا اور مشورہ دیا ……”آپ کو صلیب اور یہ تصویریں اس طرح سامنے نہیں رکھنی چاہیے ”۔

”یہاں تک کسی کے آنے کا خطرہ نہیں ”۔ عالم نے جواب دیا اور ہنس کر کہا …… ”مسلمان بڑی سیدھی اور جذباتی قوم ہے ۔ یہ قوم جذباتی الفاظ اور سنسنی خیز دلائل پر مرتی ہے ۔ جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ میں ان لوگوں میں یہ کمزوری اُبھار رہا ہوں ۔ انہیں یہ سبق دے رہا ہوں کہ چار شادیاں فرض ہیں ۔ آہستہ آہستہ انہیں بدکاری کی طرف راغب کر رہا ہوں ۔ مذہب کے نام پر تم مسلمان سے بدی بھی کرا سکتے ہو نیکی بھی ۔ ہاتھ میں قرآن رکھ کر بات کرو تو یہ لوگ احمقانہ باتوں کے بھی قائل ہو جاتے ہیں اور جھوٹ کو بھی سچ مان لیتے ہیں ۔ میرا تجربہ کامیاب ہے۔ میں یہاں اپنے جیسا ایک گروہ پیدا کر لوں گا جو مسجد میں بیٹھ کر اور قرآن مجید ہاتھ میں لے کر ان لوگوں کے جذبہ جہاد کو اور کردار کو قتل کردے گا ۔ عورت کے متعلق میں ان لوگوں کے نظریات بدل رہا ہوں ۔ صلاح الدین ایوبی نے عورتوں کو بھی عسکری تربیت دینی شروع کر دی ہے ۔ میں انہیں بتا رہا ہوں کہ عورت کو گھر میں قید رکھو ۔ میں اس قوم کی نصف آبادی کو بیکار کردوں گا ”۔

”فوج کے خلاف نفرت پیدا کرنا ضروری ہے ”۔ہری پٹی والے کے ساتھی نے کہا …… ”صلاح الدین ایوبی نے یہی کمال کر دکھایا ہے کہ قوم اور فوج کو ایک کر دیا ہے ۔ وہ اس وقت اعلان کر دے کہ یروشلم فتح کرنا ہے تو مصر کی ساری آبادی اس کے ساتھ چل پڑے گی ”۔

”لیکن وہ ایسا اعلان نہیں کرے گا ”۔عالم نے کہا ……وہ دانشمند ہے ۔ وہ جذباتی لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔ وہ صرف ایک تربیت یافتہ سپاہی کو ایک سو غیر تربیت یافتہ جوشیلے آدمیوں پر ترجیح دیتا ہے ۔ وہ کھوکھلے نعروں سے قوم کو بھڑکاتا نہیں ۔ حقیقت کی بات کرتا ہے ۔ یہ ہمارا کام ہے کہ اس کی قوم کو حقیقت اور تربیت سے دور رکھیں اور اسے جذباتی بنادیں ۔ اس قوم میں شعور کی بجائے جوش رہ جائے ۔ وہ جو ش جس میں حقیقت پسندی اور دانشمندی نہ ہو ، دشمن کے پہلے تیر سے ہی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے ۔ خواہ تیر قریب سے گزر جائے ۔ ہم ان میں صرف جوش رہنے دیں گے ۔ تم نے سنا ہے کہ میں اپنے درس میں صلا ح الدین ایوبی کی بہت تعریفیں کر رہا تھا ”۔

”یہ باتیں تو ہم بعد میں کر لیں گے ”۔اس آدمی نے جواب دیا …… ”دونوں اونٹنیاں دکھا دیں اور یہ بتائیں کہ ہمیں یہاں کس وقت اور کس طرح پناہ مل سکتی ہے اور یہاں اپنا کوئی اور آدمی رہتا ہے یانہیں ”۔

”نہیں !”……عالم نے جواب دیا …… ”یہاں اورکوئی نہیں رہتا ”۔

ان کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں رہا تھا ۔ وہ خفیہ الفاظ میں ایک دوسرے کو پہچان چکے تھے ۔ عالم کمرے سے نکل گیا ۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو بڑی ہی خوبصورت اور جوان لڑکیاں تھیں ۔ یہی وہ دو لڑکیاں تھیں جن کے متعلق اس نے لوگوں کو بتایا تھا کہ اس کی بیویاں ہیں۔ انہیں وہ سر سے پائوں تک برقعے میں چھپا کر لایا تھا ۔ مگر ان دو آدمیوں کے سامنے وہ بے پردہ آئیں ۔ عالم نے ان کا تعارف دونوں آدمیوں سے کرایا اور الماری میں سے شراب کی بوتل نکا لی ۔ ایک لڑکی گلاس لے آئی ۔ شراب گلاسوں میں ڈالی گئی ۔ ان دونوں آدمیوں نے شراب ہاتھ کو نہ لگایا۔

”پہلے کام کی باتیں کر لیں ”۔ ہری پٹی والے نے کہا ۔

”ہمیں دو آدمیوں کو قتل کرنا ہے ”۔ دوسرے نے کہا ……”صلاح الدین ایوبی کو اور علی بن سفیان کو ۔ ہماری مجبوری یہ ہے کہ ہم نے دونوں آدمیوں کو نہیں دیکھا ہمیں دونوں آدمی دکھا دیں ۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے ؟”

”اتنا دیکھا ہے کہ دونوں کو اندھیرے میں بھی پہچان سکتا ہوں ”۔عالم نے کہا …… ”میں نے جو مہم شروع کر رکھی ہے اس کے لیے ضروری تھا کو دونوں کو اچھی طرح پہچان لوں ۔ علی بن سفیان اتنا ذہین اور گھاگ ہے کہ اپنے کسی جاسوس کو یہاں بھیجنے کی بجائے خود یہاں آ سکتا ہے ۔ اگر وہ بھیس بدل کر میرے سامنے آئے تو بھی اسے پہچان لوں گا ”۔

”اور صلاح الدین ایوبی کے متعلق کیا خیال ہے ؟”…… ہری پٹی والے نے کہا ۔

”اسے بھی خوب پہچانتا ہوں ”۔عالم نے جواب دیا۔

ہری پٹی والے نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی کنپٹیوں پر رکھے۔ داڑھی کو پکڑا اور ہاتھوں کو نیچے کو جھٹکا دیا ۔ اس لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں اس کے چہرے سے الگ ہوگئیں ۔ پیچھے چھوٹی سی داڑھی رہ گئی جو نہایت اچھی طرح تراشی ہوئی تھی ۔ مونچھیں بھی تراشیدہ تھیں ۔ لمبی داڑھی اور گھنی مونچھیں مصنوعی تھیں ۔جو اب اس نے ہاتھ میں لے رکھی تھیں۔ اس نے آنکھ سے ہری پٹی بھی نوچ کرپرے پھینک دی ۔ عالم جہاں تھا وہیں بت بن گیا ۔ اس کی آنکھیں ٹھہر گئیں اور اس کا منہ کھل گیا ۔ دونوں لڑکیاں حیران و ششدر کبھی اس آدمی کو دیکھتیں جس نے اپنا بہروپ اتار دیا تھا ، کبھی عالم کو دیکھتیں جس کا رنگ لاش کی طرح کا ہو گیا تھا ۔ عالم کے منہ سے حیرت اور گھبراہٹ میں ڈوبی ہوئی سرگوشی نکلی …… ”صلاح الد ین ایوبی ؟”

”ہاں دوست !”اسے جواب ملا …… ”میں صلاح الدین ایوبی ہوں ۔ تمہاری شہرت سن کر تمہارا درست سننے آیا تھا ”…… سلطان ایوبی نے اپنے ساتھی کی داڑھی کو مٹھی میں لے کر جھٹکا دیا تواس کی داڑھی چہرے سے الگ ہوگئی ۔ اس نے عالم سے کہا …… ”آپ اسے بھی پہچانتے ہوں گے ؟”

”پہچانتا ہوں ”عالم نے ہارے ہوئے لہجے میں کہا …… ”علی بن سفیان ”۔

علی بن سفیان کی صرف تھوڑی پر داڑھی تھی ۔ اچانک لڑکیاں اور عالم پیچھے کو دوڑے اور الماری میں سے چھرا نما تلواریں نکال لیں ۔ مگر ادھر کو گھومے تو ان کی تلواریں جھک گئیں کیونکہ صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان نے چغوں کے اندر سے اسی قسم کی تلواریں نکال لیں تھیں ۔ لڑکیوں کو تیغ زنی کی مشق تو کرائی گئی تھی لیکن دو پشہ ور تیغ زنوں کے مقابلے میں نہ آسکیں ۔ ان سے تلواریں رکھوا لی گئیں ۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا۔ ذرا سی دیر میںچھ آدمی جو باہر کھڑے تھے اسی سائز کی تلواریں سونتے کھڑکی میں سے کود کر آگئے ۔

دوسرے دن مسجد کے سامنے اس علاقے کے لوگوں کا ہجوم تھا۔ وہاں چند ایک سرکاری اہل کار بھی تھے جو لوگوں کو باری باری عالم کے اس خفیہ کمرے میں لے جا رہے تھے جہاں صلیب ، حضرت عیسٰی اور حضرت مریم کی تصویریں آویزاں تھیں ۔ لوگوں کو شراب کی بوتلیں بھی دکھائی گئیں ۔ اہل کار لوگوں کو عالم کی اصلیت بتا رہے تھے اور وہ جہاد کا جو نظریہ پیش کرتا رہتاتھا ، اس کی وضاحت کر رہے تھے

سلطان ایوبی کی ہدایت پر علی بن سفیان نے سارے ملک میں جاسوسوں کا جا بچھا دیا تھا کیونکہ یہ ثابت ہوگیا تھا کہ ملک میں ، خصوصاً قاہر ہ میں صلیبیوں نے بہت سے جاسوس اور تخریب کار بھیج دئیے ہیں ۔ صلیبیوں نے مسلمانوں کے کردار کشی کی جو زمین دوز مہم چلائی تھی وہ سلطان ایوبی کو زیادہ پریشان کر رہی تھی۔ اسے جب علی بن سفیان نے اطلاع دی تھی کہ ایک مسجد کا پیش امام ہر رات درس دیتا ہے اور اسلامی نظریات کا بگاڑ کر پیش کر رہا ہے تو سلطان ایوبی نے فوراً ہی یہ حکم نہیں دیا تھا کہ اس عالم کو گرفتار کر لو ۔ اس نے کہا تھا …… ”علی ! مذہب میں فرقہ بندی شروع ہوگئی ہے ۔ یہ پیش امام کسی فرقے کا ہوگا ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ قرآن کی اپنی تفسیریں پیش کر رہا ہو۔ میں مذہب میں دخل نہیں دینا چاہتا ۔ میں حاکم ہوں عالم نہیں ہوں۔ اگر تم سمجھتے ہو کہ وہ کوئی تخریب کار ہے ، تو گرفتاری سے پہلے اچھی طرح چھان بین کر لو ۔ پیش امام کا درجہ مجھ سے بہت زیادہ بلندہے ”۔

علی بن سفیان خود اس مسجد میں درس سننے نہیں گیا تھا کیونکہ اسے شک تھا کہ اگر یہ پیش امام واقعی دشمن کا بھیجا ہوا تخریب کا ر ہے تو اسے پہچانتا ہوگا۔ اس نے اپنے ذہین سراغرساں مسجد میں بھیجے تھے ۔ جو دس بارہ مرتبہ وہاں گئے اور انہوں نے جو درس سنے وہ من وعن علی بن سفیان کو سنادئیے۔ آخر ایک رات اس صلیبی ”عالم” نے جہاد پر درس دیا اور تاویل یہ پیش کی جو صلاح الدین ایوبی نے بھی سنی ۔ سراغرسانوں نے یہ درس علی بن سفیان کو سنایا تو کوئی شک نہ رہا ۔ علی نے سلطان ایوبی کو بتایا اور یہ رائے دی کہ اگر یہ شخص صلیبیوں کا جاسوس اور تخریب کار نہیں تو بھی اسے پکڑنا یا روکنا ضروری ہے کیونکہ وہ جہاد کا ایسا نظریہ پیش کر رہا ہے جو صرف وہ آدمی پیش کر سکتا ہے جو دشمن کا آدمی ہو یا اس کا دماغ چل گیا ہو ۔

سلطان ایوبی نے یہ رپورٹ بڑی ہی غور سے سنی اور کہا کہ معاملہ بہر حال مذہب، مسجد اور پیش امام کا ہے ۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ علی بن سفیان کے ساتھ خود بہروپ میں درس سننے جائے گا اور خود یقین کرے گا کہ پیش امام کی نیت اور اصلیت کیا ہے ۔ جہاد کے ساتھ حیوانی جذبے کے ذکر نے سلطان ایوبی کے کان کھڑے کر دئیے تھے ۔ اس نے علی بن سفیان سے ساتھ صلاح مشورہ کر کے یہ بہروپ تیار کرایا تھا جس میں رو مسجد میں گئے تھے ۔

علی بن سفیان جاسوسی اور جاسوسی کے خلاف دفاع کے فن کا ماہر تھا ۔ اس نے سلطان ایوبی کو اپنی ایک اور کامیابی سے آگاہ کر دیا تھا ۔ وہ یہ تھی کہ فیض الفاطمی کو جس صلیبی لڑکی نے موقعہ پر گرفتار کرایا اور احمد کمال کے نام کے ایک کماندار کی خاطر اسلام قبول کرنے اور اس کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش ظاہر کی مگر ماری گئی تھی ۔ اس نے وہ خفیہ الفاظ اور اشارے بتائے تھے جو صلیبی جاسوس ایک دوسرے کو پہچاننے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اس کی نشاندہی پر چند یک مسلمان بھی پکڑے گئے تھے جو صلیبیوں سے زر و جواہرات اور خوبصورت لڑکیاں لے کر ان کے لیے جاسوسی کرتے تھے ۔ انہوں نے بھی علی بن سفیان کے تہہ خانے میں تصدیق کی تھی کہ یہ الفاظ اور اشارے استعمال ہوتے ہیں ۔ اشارے یہ تھے کہ جاسوس جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملتے اور ایک دوسرے کے متعلق یقین کرنا چاہتے تھے ان میں سے ایک آسمان کی طرف دیکھ کر کہتا تھا ……”معلوم نہیں موسم کیسا رہے گا ”…… وہ ایسی بے پروائی کے سے لہجے میں کہتا تھا جیسے یونہی اسے موسم کا خیا ل آگیا ہو۔

دوسرا کہتا تھا ……”بارش آئے گی”…… اسے جواب ملتا تھا ۔ ”آسمان بالکل صاف ہے ”…… دوسرا کہتا تھا ……”ہم گھٹائیں لائیں گے”……اور وہ قہقہہ لگاتا تھا ۔ قہقہے کی ضرورت یہ ہوتی تھی کہ یہ مکالمہ کوئی اور سن لے یا دوسرا آدمی جاسوس نہ ہو تو وہ سمجھے کہ اس آدمی نے مذاق کیا ہے ۔ علی بن سفیان کو بتایا گیا تھا کہ یہ خفیہ مکالمہ اس وقت بولا جائے گا جب یہ ظاہر ہوجائے گا ۔دوسری بات جو علی بن سفیان نے معلوم کی تھی وہ یہی تھی کہ جاسوس ایک دوسرے کو اپنا نام نہیں بتاتے تھے ۔ ان کا ہیڈ کوارٹر فلسطین کا ایک قصبہ شوبک تھا جو ایک قلعہ تھا ۔ یہ صلیبیوں کا جاسوسی کا مرکز تھا ۔

ان انکشافات کے سہارے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان بہروپ میں مسجد میں چلے گئے ۔ انہوں نے جہاد کے درس کی خواہش ظاہر کی تو عالم نے خواہش پوری کر دی ۔ پھر وہ اس کے پاس اکیلے رہ گئے اور ان خفیہ مکالموں کو بے نقاب کر دیا ۔ اس نے بعد میں بیان دیا تھا کہ وہ اتنا کچا جاسوس نہیں تھا کہ وہ اجنبی آدمیوں کے آگے اپنا آپ ظاہر کر دیتا۔ اسے نے ان خفیہ الفاظ نے پھنسایا ، کیونکہ یہ مکالمہ ہر ایک جاسوس کو بھی معلوم نہیں ہوتا ۔ یہ جاسوسوں کے اعلیٰ درجے کا مکاملہ ہے ۔ اس سے نیچے اس سے کوئی جاسوس واقف نہیں ہوتا ۔ اس مکالمے کے بعد کا قہقہہ خاص طور پر قابل ذکر تھا ۔ اس کے بغیر ایک دوسرے پر اپنا راز فاش نہیں کیا جاتا تھا ۔ سلطان ایوبی نے قہقہہ لگایا تھا ۔ وہ اپنے ساتھ چھ جانبازوں کو بھی لے

گیا تھا کہ بوقت ضرورت مدد دیں۔

علی بن سفیان نے اس جاسوس کو اور دونوں لڑکیوں کو اپنے تہہ خانے میں بند کر دیا اور سب سے پہلے اس علاقے میں جا کر تفتیش کی کہ یہ شخص اس مسجد پر قابض کس طرح ہوا اور اسے سے پہلے وہ جس جھونپڑے میں رہتا تھا وہ اسے کس نے دیا تھا ۔ وہاں کے مختلف لوگوں نے جو بیان دئیے ان سے پتہ چلا کر یہ شخص دو بیویوں کے ساتھ اس آبادی میں آیا ۔ پہلے ایک آدمی کے گھر مہمان رہا ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہ تو کوئی عالم فاضل ہے تو انہوں نے اسے جھونپڑا دے دیا ۔ وہ اس میں مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتا تھا۔ وہاں بہت مدت سے ایک پیش امام تھا ۔ یہ شخص پیش امام کا مرید بن گیا ۔ پندرہ سولہ روز بعد پیش امام نے مسجد میں پیٹ درد کی شکایت کی۔ یہ شکایت اتنی تیزی سے بڑھی کہ اس کے بعد پیش امام مسجد میں نہ آسکا ۔ حکیموں نے گھر جا کر دیکھا۔ دوائیاں دیں مگر و ہ تیسرے روز مر گیا ۔اس کے بعد اس عالم نے لوگوں سے بات کر کے مسجد سنبھال لی۔ اس نے ایسا تاثر پیدا کیا کہ لوگ اس کے عقیدت مند ہوگئے اور اس کی ضرورت کے مطابق اسے مکان دے دیا ۔

علی بن سفیان کے پوچھنے پر لوگوں نے اسے بتا یا کہ انہوں نے کئی بار اس شخص کو پیش امام کے لیے کھانا لے جاتے دیکھا تھا ۔ علی بن سفیان جان گیا کہ پیش امام کو اس آدمی نے زہر دیا ہے اور اسے راستے سے ہٹا کر مسجد پر قبضہ کیا تھا ۔ اس جاسوس کے گھر کی تلاشی میں بہت سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے۔ جو مختلف جگہوں میں چھپائے ہوئے تھے۔ وہاں زہر بھی برآمد ہوا ۔ وہ ایک کتے کو دیا گیا تو کتا تین دن بے چین رہا اور گرتا رہا اور اُٹھتا رہا ۔تیسرے دن شام کے بعد کتا مر گیا ۔

Read More:  Ishq E Ghaiz Novel By Amrah Sheikh – Episode 4

علی بن سفیان نے اپنی تفتیش سلطان ایوبی کے آگے رکھی تو سلطان نے اسے کہا ……”ان تینوں کو قید میں خوب پریشان کرو اور انہیں خوفزدہ کیے رکھو ، لیکن میں انہیں جلاد کے حوالے نہیں کروں گا اور انہیں قید میں بھی نہیں ڈالوں گا ”۔

”پھر آپ کیا کریں گے ؟”…… علی بن سفیان نے پوچھا ۔

”میں انہیں حفاظت اور عزت سے واپس بھیج دوں گا ”۔ علی بن سفیان نے حیرت زدہ ہو کر سلطان ایوبی کے منہ کی طرف دیکھا ۔ سلطان نے کہا …… ”میں ایک جوا کھیلنا چاہتا ہوں علی ! ابھی مجھ سے کچھ نہ پوچھنا ۔ میں سوچ رہا ہوں کہ یہ بازی لگائوں یا نہیں ” …… اس نے ذرا توقف سے کہا …… ”کل دوپہر کے کھانے کے بعد نائب سالاروں، مشیروں ، اعلیٰ کمانداروں اور انتظامیہ کے ہر شعبے کے سربراہ کو میرے پاس لے آنا۔ تمہاری موجودگی بھی ضروری ہے ‘
علی بن سفیان نے اس رات پہلی بار اس ”عالم ” سے تفتیش کی لیکن وہ بڑا سخت آدمی نکلا ۔ اس نے کہا …… ”غور سے میری بات سن لو علی بن سفیان ! ہم دونوں ایک ہی میدان کے سپاہی ہیں ۔ تم میرے ملک میں کبھی پکڑے گئے تو مجھے امید ہے کہ تم جان دے دو گے ، اپنے ملک اور اپنی قوم کو دھوکہ نہیں دوگے ۔ تم یہی توقع مجھ سے رکھو ۔ مجھے معلوم ہے میرا انجام کیا ہوگا ۔ اگر میں تمہیں وہ ساری باتیں بتادوں جو تم مجھ سے پوچھنا چاہتے ہو تو بھی تم لوگ مجھے بخشو گے نہیں۔ مجھے اس تہہ خانے میں مرنا ہے خواہ تم جلاد سے مروادو خواہ اذیت میں ڈال کر مار دو ۔ پھر میں کیوں اپنی قوم کو دھوکہ دوں ”۔

”’مجھے امید ہے تم اپنا ارادہ بدل دو گے ‘ ‘…… علی بن سفیان نے کا …… ”کیا تم ان دو لڑکیوں کی عزت بچانے کی خاطر یہ پسند نہیں کرو گے کہ میں جو پوچھوں وہ مجھے بتا دو ؟”

تم ”کیسی عزت؟”…… اس نے جوا ب دیا …… ”ان لڑکیوں کے پاس صرف حسن اور ناز نخرے ہیں یا وہ استادی ہے جس سے وہ پتھر کو بھی موم کر لیتی ہیں ۔ ان کے پاس عزت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ یہی تو انہیں سکھلایا جا تا ہے کہ اپنی عزت سے دستبردار ہوجائو۔ ہم لوگ اپنی جان اور عزت بہت دور پھینک آتے ہیں۔ تم ان لڑکیوں کے ساتھ جیسا بھی سلوک کرنا چاہو کرلو ۔ انہیں میرے سامنے ذلیل کرلو، میں تمہیں کچھ نہیں بتائوں گا ۔ لڑکیاں بھی تمہیں کچھ نہیں بتائیں گی ”۔

”جاسوس لڑکیوں کو ہم سزائے موت د ے دیا کرتے ہیں انہیں ذلیل کبھی نہیں کیا ”۔ علی بن سفیان نے کہا ……”ہمارا مذہب عورت کواذیت میں ڈالنے کی ہمیں اجازت نہیں دیتا ”۔

”میرے دوست !” جاسوس نے کہا ……”تم پیار کا حربہ استعمال کرو یا اذیت کا ہم میں سے کوئی بھی اپنے اس ساتھیوں کی نشاندہی نہیں کرے گا جو تمہاری سلطنت کی جڑوں میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔ تم نے لڑکیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کا وعدہ کیا ہے ۔ میں اس کے عوض تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ یہ میری اور تمہاری جنگ نہیں صلیب اور چاند تارے کی جنگ ہے ۔ میں ان معمولی جاسوسوں میں سے نہیں ہوں جو ادھر کی خبریں ادھر بھیجتے اور تمہارے آئندہ کے ارادے معلوم کرتے رہتے ہیں ۔ اس شعبے میں میرا رُتبہ بہت اونچا ہے ۔میں عالم ہوں ۔ اپنے مذہب کا مطالعہ اتنا ہی گہرا کیا جتنا تمہارے مذہب کا ۔ انجیل اور قرآن کی تہہ تک پہنچا ہوں۔میں اعتراف کرتا ہوں کہ تمہار امذہب بہتر اور سادہ ہے ۔ یہ ہر انسان کا مذہب ہے جس میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ اس کی مقبولیت کی وجہ بھی یہی ہے ، مگر میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ تمہارے دشمنوں نے تمہارے مذہب کی اصلیت کو بگاڑ دیا ہے تا کہ اس کی مقبولیت ختم ہوجائے ۔ یہودیوں نے مسلمان علماء کے بھیس میں اس میں بے شمار بے بنیاد روایات شامل کر دی ہیں ۔اسلام توہمات کے خلاف تھا مگر اس وقت سب سے زیادہ توہم پرست مسلمان ہیں ۔ میں نے چاند گرہن اور سورج گرہن کے وقت مسلمانوں کو سجدے کرتے اور نذرانے دیتے دیکھا ہے اور ایسی کئی ایک بدعتیں تمہارے مذہب میں شامل کر دی گئی ہیں ”……

”ہم ایک لمبی مدت سے تمہارے اصل نظریات کو بگاڑ رہے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں صرف دو مذہب رہ جائیں گے ۔ ایک عیسائیت، دوسرا اسلام ،اور یہ دونوں اس وقت تک معرکہ آراء رہیں گے جب تک دونوں میں سے ایک ختم نہیں ہو جاتا ۔ کسی بھی مذہب کو تیروں اور تلواروں سے ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ کسی مذہب کو تبلیغ سے بھی ختم نہیں کیا جا سکتا ۔ اس کایہی ایک طریقہ ہے جو میں نے اختیار کیا تھا ۔ میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ اس مہم میں ، میں اکیلا نہیں ۔ پورا ایک گروہ تمہارے نظریات پر حملہ آور ہوا ہے ”۔

علی بن سفیان اس کے سامنے ٹہل رہا تھا اور اس کی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ اس نے عالم جاسوس کے پائوں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال رکھی تھیں ۔ اس کا ارادہ تو یہ تھا کہ اس جاسوس کو بھی ہر جاسوس کی طرح اذیتوں کے اسی مرحلے میں سے گزارے گا جہاں کسی بھی لمحے جاسوس سارے راز اُگل دیتے ہیں لیکن اس نے قید خانے کے ایک محافظ کو بلا کر اس آدمی کی بیڑیاں اور ہتھکڑیاں کھلوادیں اور اس کے لیے پانی اور کھانا منگوایا۔ اس نے کہا ……”میرے اس سلوک کو اُگلوانے کا حربہ نہ سمجھنا ۔ ہم عالموں کی قدر کیا کرتے ہیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کے ہوں۔ میں تم سے کچھ نہیں پوچھوں گا ۔ جو کچھ بتانا پسند کرتے ہو بتا دو ”۔

”اور میں تمہاری قدر کرتا ہوں علی !”…… عالم جاسوس نے کہا …… ”میں نے تمہاری بہت تعریف سنی ہے ۔ تم میں فن کاکمال بھی ہے اور جذبے کی حرارت بھی ۔ تمہارے لیے سب سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے کہ صلیبی بادشاہ تمہیں قتل کرانا چاہتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تم صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کے ہم پلہ ہو …… میں تمہیں بتا رہا تھا کہ میں نے علم سے یہ حاصل کیا ہے کہ کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور مذہب کو بگاڑ دو تو فوجوں کے حملے اور جنگ و جدل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ کسی قوم کو مارنا ہو تو ا میں جنسی آگ بھڑکادو ۔ یقین نہ آئے تو اپنے مسلمان حکمرانوں کی حالت دیکھ لو ۔ تمہارے رسول ۖ نے کہا تھا کہ نفس کو مارو کہ یہی تباہی کی جڑ ہے ۔ تمہاری قوم نے اس پر کب تک عمل کیا ؟ رسول ۖ کی زندگی تک۔ یہودیوں نے اپنی حسین لڑکیوں سے تمہاری قوم کو بھڑکایا۔ آج تمہاری قوم نفس کی غلام ہو گئی ہے۔ تم میںجس کے پاس دولت آجاتی ہے تو وہ سب سے پہلے حرم کو عورتوں سے بھرتا ہے ۔ ہر مسلمان خواہ وہ غریب ہی ہو، چار بیویاں ضرور رکھنا چاہتا ہے ۔یہودیوں کے روپ میں تمہارے نظریات میں جنست ڈال دی ۔ اگر اپنے رسول ۖ کی ہدایت پر مسلمان عمل پیرا رہتے تو میں یہ یقین سے کہتا ہوں کہ آج دنیا کا تین چوتھائی حصہ مسلمان ہوتا ، مگر اب یہ حال ہے کہ تین چوتھائی مسلمان برائے نام مسلمان ہیں اور تمہاری سلطنت سکڑتی سمتی چلی جا رہی ہے ۔ تم نہیں سمجھتے کہ یہ اس حملے کا نتیجہ ہے جو مجھ جیسے عالموں نے تمہارے مذہب اور تہذیب و تمدن پر کیا ہے ”۔

”میرے دوست !یہ حملے جاری رہیں گے۔ میں پیشین گوئی کر سکتا ہوں کہ روز اسلام اس دنیا میں نہیں رہے گا ۔ اگر ہوگا تو ایک فرسودہ نظریے کی شکل میں موجود رہے گا اور اس کے پیروکار جنسی لذت میں مست ہوں گے۔ ہر کوئی صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی نہیں بن سکتا ۔ انہیں کل پرسوں مر جانا ہے۔ ان کے بعد جو آئیں گے ، انہیں ہم نفس پرستی میں مبتلا کر دیں گے۔ مجھے قتل کر دو ۔میری مہم کو قتل نہیں کر سکوگے ۔ انسانوں کے مر جانے سے مقاصد نہیں مر جا یا کرتے ۔ میر جگہ کوئی اور آئے گا ۔ ہم اسلام کو ختم کر کے اپنا غلام بنا کر دم لیں گے …… اب چاہو تو مجھے جلاد کے حوالے کر سکتے ہو ۔ میں اور کچھ نہیں بتائوں گا ”۔

علی بن سفیان نے اس سے اور پوچھا بھی کچھ نہیں ۔ وہ غالباً سوچ رہا تھا کہ اس کا کام کس قدر دشوار اور کتنا نازک ہے۔ اس صلیبی تخریب کار نے جو کچھ کہا ۔ سچ تھا ۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ قوم میں اخلاقی تباہی کے جراثیم پیدا ہوچکے تھے۔ عرب کے امراء وزراء تو پوری طرح تباہ ہوچکے تھے۔ صلاح الدین ایوبی میدان جنگ میں صلیبیوں کو شکست دے کر سلطنت اسلامیہ کو وسیع تر کرنے کے خواب دیکھ رہا تھا مگر صلیبیوں نے ایسے پہلو سے حملہ کیا تھا جسے روکنا سلطان ایوبی کے بس سے باہر نظر آتا تھا …… علی بن سفیان عالم جاسوس کی کوٹھری بند کراکے ان کوٹھڑیوں کے سامنے جا کھڑا ہوا جن میں لڑکیاں قید تھیں ۔ وہ ایک کوٹھڑی کے اندر چلا گیا ۔ لڑکی فرش پر بیٹھی تھی ۔ اسے دیکھ کر اُٹھ کھڑی ہوئی ۔ عالی اسے خاموشی سے دیکھتا رہا اور کچھ کہے بغیر باہر نکل آیا ۔

٭ ٭ ٭

اگلے روز دوپہر کے کھانے کے بعد فوج اور انتظامیہ کے تمام حاکم اور عہد یدار اس کمرے میں جمع تھے جہاں صلاح الدین ایوبی انہیں احکامات اور ہدایات دیا کرتا تھا ۔ اس سب کو پتہ چل چکا تھا کہ ایک جاسوس اور دو لڑکیوں کے ہمراہ پکڑا گیا ہے۔ وہ آپس میں چہ میگو ئیاں کر رہے تھے کہ سلطان ایوبی آگیا ۔ اس نے سب کو گہری نظر سے یو ں دیکھا جیسے ان میں سے کسی کو تلاش کر رہا ہو۔

”میرے عزیز ساتھیو !”اس نے کہا ……”آپ نے سن لیا ہوگا کہ ہم نے ایک مسجد سے ایک صلیبی کو پکڑا ہے جو وہاں باقاعدہ امام بنا ہوا تھا ”۔ اس نے تفصیل سے بتایا کہ اسے کس طرح پکڑا گیا ہے ۔ پھر انہیں وہ باتیں سنائیں جو جاسوس نے علی بن سفیان کے ساتھ قید خانے میں کی تھیں ۔علی بن سفیان یہ باتیں سلطان ایوبی کو سنا چکا تھا ۔

صلاح الدین ایوبی نے کہا ……”میں نے آپ کو یہ وعظ سنانے کے لیے نہیں بلایا کہ جاسوسوں اور تخریب کاروں سے بچو۔ میں آپ کو یہ بھی نہیں کہوں گا کہ اسلام دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے والا جہنم میں جائے گا ۔ میں صرف یہ کہوں گا کہ کفار کے ساتھ دوستی کرنے والے کے لیے میں یہ دنیا جہنم بنا دوں گا ۔ میں اب کسی غدار کو سزائے موت نہیں دوں گا ۔ موت نجات کاذریعہ ہے ۔میں نے اب غدار کی یہ سز امقررکی ہے کہ اس کے گلے میں رسی ڈال کر ایک تختی آگے اور ایک پیچھے لٹکا کر اسے ہر روز بازاروں میں گھما پھرا کر چوک میں کھڑا کر دیا جائے گا ۔ تختیوں پر لکھا ہوگا ……’میں غدار ہوں ‘ …… اسے ہر روز صبح سے شام کھڑا رکھا جائے گا تا کہ وہ بھوکا پیاسا مر جائے گا اور اس کی لاش شہر سے باہر پھینک دی جائے گی۔ اس کے لواحقین کو اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس کا جنازہ پڑھیں یا اسے دفن کریں ”۔

”لیکن میرے عزیز دوستو! اس سے دشمن کا کچھ نہیں بگڑ جائے گا ۔ وہ ایک اور غدار پیدا کرلے گا ۔جب تک اس کے پاس عورت کے بے حیائی اور زروجواہرات کی فروانی اور ہمارے پاس ایمان کی کمی ہے ، وہ غدار پیدا کرتے رہے گا ۔ کیا یہ آپ کی غیرت کے لیے چیلنج نہیں کہ آپ کا دشمن آپ کی مسجد میں بیٹھ کر آپ کا قرآن ہاتھ میں لے کر آپ کے رسولۖ کے فرمان کو مسخ کرے؟ اس پہلو پر بھی غور کریں کہ صلیبی جو لڑکیاں یہاں جاسوسی کے لیے اور ہماری قوم کی کردار کشی کے لیے بھیج رہے ہیں ، ان میں بہت سی لڑکیاں مسلمانوں کی بچیاں ہیں جنہیں ان کفار نے قافلوں سے اغوا کیا اور انہیں بدکاری کے شرمناک تربیت دے کر جاسوسی کے لیے تیا ر کیا ہے ۔ فلسطین کفار کے قبضے میں ہے ۔ وہاں مسلمانوں پر جو ظلم و تشدد ہو رہا ہے ۔وہ مختصراً یہ ہے کہ صلیبی ان کے گھروں کو لوٹتے رہتے ہیں۔ وہ فریاد کرتے ہیں تو قید خانوں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ان کی کمسن بچیوں کو غائب کر دیا جاتا ہے ۔ ان میں جو غیر معمولی طور پر خوبصورت ہوتی ہیں ان کے ذہنوں سے مذہب اور قومیت نکا ل دی جاتی ہے اور انہیں بے حیائی کی تربیت دے کر مردوں کو انگلیوں پر نچانا سکھا کر انہیں مسلمانوں کے علاقوں میں جاسوسی اور تخریب کاری کے لیے بھیج دیا جاتا ہے ۔ اس گروہ میں ان کی اپنی لڑکیاں بھی ہوتی ہیں۔ ان میں تو شرم و حجاب اور عصمت کی کوئی قدر ہی نہیں ۔ وہ مسلمان بچیوں کو بھی بدی کے لیے استعمال کرتے ہیں ”……

”انہوں نے جب فلسطین پر قبضہ کیا تو وہ وہاں سب سے بڑا جو انقلاب لائے وہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے لیے جینا حرام کر دیا ۔ ان کا قتل عام کیا ، ان کے گھروں کو لوٹ لیا ، مسجدوں کو اصطبلوں اور گرجوں میں بدل دیا، مسلمان بچیوں کا اغوا کر کے انہیں قحبہ خانوں میں بٹھا دیا گی ، جو خوبصورت نکلیں انہیں تخریب کاری اور بدکاری کی تربیت دے کر ہمارے امیروں اور وزیروں کے حرموں میں داخل کر دیا اور انہیں ہمارے خلاف بھی استعمال کیا ۔ مسلمان گھرانوں کی بچیوں کے گلوں میں انہوں نے صلیب لٹکا دی ۔ مسلمان جو فلسطین سے بھاگے اور ہمارے پاس پناہ لینے کے لیے قافلہ در قافلہ چلے انہیں راستے میں شہیدکر دیا گیا۔ ہماری بہنوں اور بیٹیوں کی آبروریزی سرعام ہوئی اور میرے کلمہ گو بھائیو ! یہ سلسلہ رکا نہیں۔ ابھی تک جاری ہے۔ صلیبیوں کا مقصد صرف یہ ہے کہ اسلام کا کوئی نام لیوا زندہ نہ رہے اور مسلمان لڑکیاں عیسائیوں کو جنم دیں ۔ ہم سب پر اللہ کی لعنت برس رہی ہے کہ ہم اپنے ان مسلمان بھائیوں اور ان کی بچیوں کو فراموش کیے بیٹھے ہیں جو وہاں ذلت اور مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ اس سے بڑا گناہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ ہم ان شہیدوں کو بھی فراموش کیے بیٹھے ہیں جو صلیبیوں کی بربریت کا شکا ر ہوئے …… میں آپ کو کوئی حکم دینے سے پہلے آپ سے پوچھتا ہوں کہ اس صورت حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیے ۔ آپ میں تجربہ کاری فوجی ہیں اور انتظامیہ کے حاکم بھی ”۔

پرانی عمر کا ایک کماندار اُٹھا ۔ اس نے کہا ……”امیر مصر ! ہمیں آپ کے حکم کی ضرورت ہی کیا ہے ۔ یہ حکم خداوندی ہے کہ تمہارے پڑوس میں مسلمان نسل پر ظلم ہو رہا ہو اور وہاں کے مسلمان خدا کو مدد کے لیے پکا ر رہے ہوں تو ہم پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اس ملک پر فوج کشی کر کے اپنے کلمہ گو بھائیوں کو نجات دلائیں۔ ہمیں فلسطین پر فوج کشی کرنی چاہیے ”۔

نائب سالار کے رتبے کا ایک اور شخص نے اُٹھ کر جوش سے کہا ……”کفار پر فوج کشی سے پہلے آپ ن مسلمان حاکموں اور امراء پر فوج کشی کریں جو در پردہ کفار کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ ہمارے لیے یہ صورت حال باعث شرم ہے کہ ہماری صفوں میں غدار بھی ہیں ۔ فیض الفاطمی کے رتبے کا آدمی غدار ہو سکتا ہے تو چھوٹے عہدوں پر کیا بھروسہ کیا جا سکتا ہے ۔ ایک مسلمان بچی کی آبروریزی کا انتقام لینے کے لیے ساری قوم کو فنا ہو جانا چاہیے مگر یہاں ہماری ایک پوری نسل کی آبروریزی ہو رہی ہے اور ہم سوچ رہے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ صلیبیوں نے ہماری بچیوں کو بدکاری کے لیے تیار کیا اور ہم سے ان کے ساتھ بداکری کرا رہے ہیں۔ محترم امیر ! اگر میں جذباتی نہیں ہو گیا تو مجھے یہ تجویز پیش کرنے کی اجا زت دیں کہ ہمیں فلسطین لینا ہے ۔ صلیبیوں نے ہمارے قبلہ اول کو بدی کا مرکز بنا رکھا ہے ”۔

ایک اور آدمی اُٹھا لیکن سلطان ایوبی نے ہاتھ کے اشارے سے اسے بٹھا دیا اور کہا ……”میں یہی سننا چاہتا تھا ۔ آپ میں سے جو میرے قریب رہتے ہیںجانتے ہیں کہ میرا اولین ہدف فلسطین ہے ۔ میں مصر کی امارت کے فرائض سنبھالتے ہی فلسطین پر حملہ کرنا چاہتا تھا مگر دو سال سے زیادہ عرصہ گزرگیا ہے ، ایمان فروشوں نے مجھے مصر میں ایسا اُلجھایا ہے جیسے میں دلدل میں پھنس گیا ہوں۔ ذرا ان دو سالوں کے واقعات پر غور کریں۔ آپ صلیبی تخریب کاروں اور غداروں کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ سوڈانیوں کہ ہمارے خلاف لڑانے والے ہم میں سے ہی ہیں۔ سوڈانی حبشیوں سے مصر پر حملہ کرانے والے ہمارے اپنے سالار اور کماندار تھے ۔ وہ اس قومی خزانے سے تنخواہ لیتے تھے جس میں قوم کا پیسہ ہے اور جس میں خدا کے نام پر دی ہوئی زکوٰة کا پیسہ ہے۔ میں نے اس امید پر دو سال گزار دئیے ہیں کہ میں جاسوسوں، انہیں پناہ اور مدد دینے والوں اور ایمان فروشوں کو ختم کر کے فلسطین پر حملہ کروں گا ، لیکن میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تخریب کاری کا یہ سلسلہ کبھی ختم نہ ہوگا ۔ کیوں نہ اس چشمے کو جا کر بند کیا جائے جہاں اسلام دشمنی کے سامان پیدا کیے جاتے ہیں ۔ ہم صلیبیوں کو خود موقع دے رہے ہیں کہ وہ ہماری صفوں میں غدار پیدا کریں ”……

”میں نے آج آپ کو اس لیے بلایا ہے کہ فلسطین پر حملے میں اب زیادہ تاخیر نہیں ہوگی۔ فوج کی جنگی مشقیں اور تربیت تیز کردو۔ مجاہدین کو لمبے عرصے کا محاصرہ کرنے کی مشق کرائو۔ مجھے ترک اور شامی دستوں پر پورا اعتماد ہے ۔ مصریوں اور وفادار سوڈانیوں میں جذبہ اور پختہ کرو اور انہیں بتائو کہ وہ تمہاری ہی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو صلیبیوں کی درندگی کا شکا ر ہو رہی ہیں ……آ

مصریوں اور وفادار سوڈانیوں میں جذبہ اور پختہ کرو اور انہیں بتائو کہ وہ تمہاری ہی بہنیں اور بیٹیاں ہیں جو صلیبیوں کی درندگی کا شکا ر ہو رہی ہیں ……آپ میں انتظامیہ کے جو حضرات ہیں ان کے ذمے یہ فرض ہے کہ وہ مسجدوں کے پیش اماموں سے کہیں کہ لوگوں کو جہاد کی غرض و غائیت واضح کریں اور نو عمر لڑکوں میں عسکری خیالات پیدا کریں۔ کوئی بھی پیش امام یا خطیب اسلامی نظریات کو غلطی سے یا دانستہ غلط رنگ میں پیش کرتا ہے تو اسے امامت کے فرائض سے سبکدوش کر دیں ۔ اگر کردار مضبوط ہو تو کوئی کشش اور کوئی اینگیخت گمراہ نہیں کر سکتی۔ ذہنوں کو فارغ نہ رہنے دیں ، کھلا نہ چھوڑیں۔ ورنہ دشمن انہیں استعمال کرے گا …… فوجوں کے کوچ کے احکامات آپ کو جلدی مل جائیں گے ۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو

عالم جاسوس اور دونوں لڑکیوں کو سلطان ایوبی نے ملاقات کے لیے بلایا ۔ انہیں لایا گیا تو سلطان ایوبی نے کہا انہیں دوسرے کمرے میں بٹھا دو۔ ان کے پائو ں میں بیڑیاں اور ہاتھوں میں زنجیر یں تھیں۔انہیں جس کمرے میں بٹھایا گیا وہ سلطان ایوبی کے خاص کمرے کے ساتھ تھا ۔ دونوں کا ایک دروازہ تھا ، جس کا ایک کواٹر کھلا ہوا تھا ۔ سلطان ایوبی کمرے میں ٹہل رہا تھا ۔ اس نے ٹہلتے ٹہلتے کہا ……”میں فوری طور پر کرک پر حملہ کرنے کا فیصلہ کر چکا ہوں ”۔

کرک فلسطین کا ایک قلعہ نما قصبہ تھا ۔ دوسرا مشہورقلعہ شوبک تھا ۔یہ بھی ایک مضبوط قلعہ تھا ۔ شوبک کو صلیبیوں نے مرکز بنا رکھا تھا۔ صلیبی بادشاہ اور اعلیٰ کمانڈرشوبک میں ہی اکھٹے ہوا کرتے تھے۔ یہیں صلیبیوں کی انٹیلی جنس کا ہیڈ کوارٹر تھا اور یہ جاسوسوں کا ٹریننگ کیمپ تھا ۔ سلطان ایوبی کے فوجی اور شہری انتظامیہ کے حلقوں میں خیال یقین کی حد تک تھا کہ سلطان ایوبی سب سے پہلے شوبک پر حملہ کرے گا کیونکہ اس جگہ کی اہمیت ہی ایسی تھی ۔ اگر اس مضبوط اڈے کو سر کر لیا جاتا تو صلیبیوں کی کمر توڑی جا سکتی تھی ۔ مگر سلطان ایوبی کہہ رہا تھا کہ پہلے کرک پر حملہ کیا جائے گا ۔ یہ تو ثانوی اہمیت کی جگہ تھی ۔ایک نائب سالار نے کہا ……”محترم ! آپ کا حکم سر آنکھوں پر ، میری ناقص رائے یہ ہے کہ پہلے شوبک سر کر لیا جائے۔ دشمن کی مرکزی کمان ختم کرنا ضروری ہے۔ اگر ہم نے شوبک لے لیا تو کرک لینا کوئی مشکل نہ ہوگا اور اگر ہم نے کرک پر طاقت ضائع کردی تو شوبک لینا نا ممکن ہوجائے گا ”۔

دوسرے کمرے میں جاسوس بیٹھے تھے۔ درمیانی دروازے کا ایک کواڑ کھلا تھا ۔ سلطان ایوبی کے کمرے کی آوازیں اس کمرے میں صاف سنائی دے رہی تھیں ۔ عالم جاسوس کے کان کھڑے ہوئے ۔ وہ آہستہ آہستہ سرک کر دروازے کے ساتھ ہوگیا ۔ اس وقت سلطان ایوبی کہہ رہاتھا ……”میں درجہ بدرجہ پیش قدمی کرنا چاہتا ہوں۔ کرک شوبک کی نسبت آسان شکار ہے ۔ میں اس پر قبضہ کرکے اسے اڈہ بنا لوںگا ۔ کمک منگوا کر اور فوج کو کچھ عرصہ آرام دے کر پوری تیاری کے بعد شوبک پر حملہ کروں گا ۔اس قصبے کا دفاع ہمارے جاسوسوں کے کہنے کے مطابق، اتنا مضبوط ہے کہ ہمیں لمبے عرصے تک اسے محاصرے میں رکھنا پڑے گا ۔ میرا خیال ہے کہ کرک پر ہماری زیادہ طاقت ضائع نہیں ہوگی۔ ہمیں پہلے ایک اڈا چاہیے اور اایسی رسد گاہ جہاں سے ہمیں فوری طور پر رسد ملتی رہے ”۔

عالم جاسوس دروازے کے ساتھ بیٹھا سن رہا تھا ۔ دونوں لڑکیاں بھی اس کے پاس آ بیٹھیں۔ علی بن سفیان نے بھی دھیان نہ دیا کہ ایسی راز کی باتیں جاسوسوں کے کانوں میں پہنچ رہی ہیں ۔ ہو سکتا ہے سلطان ایوبی اور علی بن سفیان نے اس لیے احتیاط نہ کی ہو کہ ان جاسوسوں کو شوبک واپس تھوڑی ہی جانا تھا۔انہیں تو ساری عمر قید میں گزارنی تھی یا جلاد کے ہاتھوں مرنا تھا۔ عالم جاسوس نے لڑکیوں سے سرگوشی میں کہا ……” کاش، ہم میں سے کوئی ایک یہاں سے نکل سکے اور صلاح الدین ایوبی کے اس ارادے کی اطلاع شوبک اور کرک تک پہنچا دے۔ یہ کتنا قیمتی راز ہے ، اگر پہلے ہی وہاں پہنچا دیا جائے تو مسلمان کی فوج کو کرک کے راستے میں ہی لڑائی میں اُلجھا کر اس کی طاقت ختم کی جاسکتی ہے۔ ان کا حملہ کرک سے دور ہی پسپائی میں بدلا جا سکتا ہے ”۔

”ہمیں مکمل رازداری کی ضرورت ہے ”…… سلطان ایوبی اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کہہ رہا تھا ……”اگر صلیبیوں کو ہمارے حملے کی خبر قبل از وقت ہوگئی تو ہم کرک تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ وہ ہمیں راستے میں ہی روک لیں گے ۔ ہمارے لیے خطرہ یہ ہے کہ صلیبیوں کے مقابلے میں ہماری فوج بہت کم ہے۔ صلیبیوں کی نفری زیادہ ہونے کے علاوہ ان کے گھوڑے اور ہتھیار ہم سے بہتر ہیں ۔ان کے خول لوہے کے ہیں او وہ زرہ بکتر بھی پہنتے ہیں ۔ اس سے ہمارے تیر انداز بیکار ثابت ہوئے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ صلیبیوں کو بے خبری میں جالوں تا کہ انہیں کھلے میدان میں لڑنے کا موقعہ نہ ملے۔ اگر وہ کھلے میدان میں لڑے تو ہمارے عقب میں آکر وہ ہماری رسد کا نظام روک دیں گے ۔ اس کا نتیجہ پسپائی اور شکست کے سوا کچھ نہ ہوگا ۔ میں وہ راستہ اختیار کروں گا جو جاریب کے ٹیلوں میں سے گزرتا ہے۔ یہ بڑا وسیع اور عریض علاقہ ہے ۔ مجھے خطرف صرف یہ نظر آرہا ہے کہ صلیبی راسے میں آکر لڑے تو ہمیں شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے ”۔

”اس کا علاج یہ ہے کہ فوج کو تین چار حصوں میں تقسیم کر کے صرف رات کے وقت کوچ کرایا جائے ۔ دن کے وقت کوئی حرکت نہ کی جائے ”… علی بن سفیان نے کہا …… ””راستے میں کوئی بھی اجنبی آدمی یا قافلہ نظر آئے تو اسے روک کیا جائے اور کرک تک پہنچنے تک اسے اپنے ساتھ رکھا جائے ۔ جاسوسی کے خلاف یہی اقدام کارگر ہوسکتا ہے ”۔

اس وقت جب عالم جاسوس اور دو لڑکیاں سلطان ایوبی کی زبان سے اس قدر نازک اور اہم منصوبہ سن رہی تھیں ، شوبک کے قلعے میں صلیبیوں کی اہم شخصیتوں اور کمانڈروں کی کانفرنس بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ لوگ پریشان سے تھے۔ ان میں حاتم الاکبر نام کا ایک مصری مسلمان بھی بیٹھا تھا ۔ وہ انہیں یہ خبریں تفصیل سے سنا چکا تھا کہ خلیفہ العاضد معزولی کے بعد مر چکا تھا ۔ مصر اب بغداد کے خلیفہ کے تحت آگیا تھا ۔ صلیبیوں کا وفادار مسلمان نائب سالار رجب پر اسرار طریقے سے مارا جا چکا تھا ۔ وہ جن تین لڑکیوں کو شوبک سے لے گیا تھا وہ ماری جا چکی ہیں اور صلیبیوں کا ایک اور وفادار مسلمان فوجی حاکم فیض الفاطمی بھی جلاد کے ہاتھوں مروا دیا گیا ہے۔ اب حاتم الاکبر نے انہیں یہ خبر بدسنائی کہ جس عالم جاسوس کو دو لڑکیوں کے ساتھ قاہرہ بھیجا گیا تھا وہ عین اس وقت لڑکیوں سمیت گرفتار ہوگیا ہے جس اس کا مشن کامیاب ہو رہا تھا ۔

”یہ ثبوت ہے کہ صلاح الدین ایوبی کا سراغرسانی کا نظام بہت ہوشیار ہے ” …… کونارڈ نے کہا …… کونارڈ صلیبیوں کا مشہور حکمران اور فوجی کمانڈر تھا ۔ اس نے کہا ……”ان لڑکیوں کو وہاں سے آزاد کرانا ممکن نہیں ۔ نہایت اچھی لڑکیاں ضائع ہوتی جا رہی ہیں ”۔

”صلیب کی خاطر ہمیں یہ قربانی دینی پڑے گی ”…… صلیبیوں کے ایک اور بادشاہ اور فوجی کمانڈر گے آف لوزینان نے کہا ……”ہمیں بھی مرنا ہے ۔ ہمارے جو آدمی پکڑے گئے ہیں انہیں بھول جائو۔ ان کی جگہ اور آدمی بھیجو۔ یہ دو لڑکیاں کہاں سے آئی تھیں ؟”…… اس نے پوچھا ……”اور وہ تین لڑکیاں کون تھیں جو رجب کے ساتھ ماری گی تھیں ؟”

”ان میں دو عیسائی تھیں ”…… ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ نے جواب دیا ……”دونوں اطالوی تھیں اور تین مسلمان تھیں ۔ انہیں بچپن میں اڑایا گیا تھا ۔ بہت خوبصورت تھیں ، جوانی تک انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ وہ مسلمان

تھیں۔ ہم نے انہیں بچپن میں ہی اس فن کی تربیت دینی شروع کر دی تھی ۔ یہ شک نہیں کیا جا سکتا ہے انہیں چونکہ معلوم تھا کہ وہ مسلمان ہیں اس لیے انہوں نے ہمیں دھوکہ دیا ”۔

”مسلمان تھیں تو کیا ؟”……کونارڈ نے کہا اور حاتم الاکبر کی طرف اشارہ کر کے کہا ……”ہمارا پیارا دوست حاتم بھی تو مسلمان ہے۔ کیا اسے اپنے مذہب کا پاس نہیں ؟”…… اس نے شراب کا گلاس حاتم کے ہاتھ میں دے کر کہا ……”حاتم جانتا ہے کہ صلاح الدین ایوبی مصر کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا چاہتا ہے اور وہ اسلام کے نام پر کھیل رہا ہے۔ ہم مصر کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ صلاح الدین ایوبی کو مصر میں چین سے بیٹھنے نہ دیا جائے ”۔

حاتم الاکبر صلیبیوں کی شراب میں بدمست اس کی تائید میں سر ہلا رہا تھا ۔ اس نے کہا …… ”میں اب وہاں ایسا انتظام کروں گا کہ آپ کا کوئی آدمی وہاں پکڑا نہیں جائیگا ”۔

”اگر ہم مصر میں یہ زمین دوز گڑبڑ جاری نہ رکھتے تو صلاح الدین ایوبی ہم پر کبھی کا حملہ کر چکا ہوتا ”…… ایک صلیبی کمانڈر نے کہا ……”یہ ہماری کامیابی ہے کہ ہم اس کی طاقت اس کے آپنے آدمیوں پر ضائع کر رہے ہیں”۔

”کیا اس کے اور علی بن سفیان کے خاتمے کا ابھی کوئی انتظام نہیں ہوا؟”…… کونارڈ نے پوچھا ۔

”کئی بار ہوچکا ہے ”…… انٹیلی جنس کے سربراہ نے کہا ……”لیکن کامیابی نہیں ہوئی ۔ناکامی کی وجہ یہ ہے دونوں پتھر قسم کے انسان ہیں ۔ نہ وہ شراب پیتے ہیں جو عورت کو پسند کرتے ہیں ۔ اس لیے نہ انہیں شراب میں کچھ دیا جا سکتا ہے نہ عورت کے ہاتھوں مروایا جا سکتا ہے ۔اب کامیابی کی توقع ہے۔ ایوبی کے باڈی گارڈز میں چار آدمی فدائی ہیں ۔ انہیں میں نے بڑی چابکدستی سے وہاں تک پہنچایا ہے ۔ جب بھی موقع ملا وہ دونوں کو یا ایک کو ختم کر دیں گے”۔

”کیا ہمارے ہاں ایوبی کے بھیجے ہوئے جاسوس ہیں ؟”…… گے آف لوزینان نے پوچھا ۔

”یقینا ہیں ”……انٹیلی جنس کے سربراہ نے جوا ب دیا……”جب ہم نے مصر میں اور ادھر شام میں جاسوسی اور تباہ کاری کا سلسلہ شروع کیا ہے صلاح الدین نے بھی اپنے جاسوس ہمارے ہاں بھیج دئیے ہیں۔ ان میں سے دو پکڑے گئے ہیں ۔ وہ اذیتوں سے مر گئے ہیں مگر اپنے کسی تیسرے ساتھی کی نشاندہی نہیں کی ”۔

”ان کی کامیابی کس حد تک ہے ؟”

”بہت حد تک ”……دوسرے نے جواب دیا……”کرک میں ہماری رسد کو جو آگ لگی تھی جس میں آدھی رسد جل گئی اور گیارہ گھوڑے زندہ جل گئے تھے وہ ایوبی کے تباہ کار جاسوسوں کا کام تھا۔ میں آپ کو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ ہماری جنگی کیفیت اور اہلیت کی پوری معلومات صلاح الدین ایوبی کو ملتی رہتی ہے۔ اس کے جاسوسوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ جان پر کھیل جاتے ہیں اور کام پوری دیانت داری سے کرتے ہیں ”۔

ان میں بہت دیر اس مسئلے پر بحث ہوتی رہی کہ مصر اور شام میں تخریبی کاروائیوں کو کس طرح تیز اور مزید تباہ کن کیا جا سکتا ہے۔ حاتم الا کبر انہیں سلطان ایوبی کی حکومت کی کمزور رگیں اور مضبوط پہلو دکھا رہا تھا ۔ آخر فیصلہ ہوا کہ حاتم الاکبر کو کچھ آدمی اور ذو تین لڑکیاں دی جائیں ۔

**********************

اس وقت سلطان ایوبی اپنے دو نائبین اور علی بن سفیان کے اپنے اس منصوبے سے آگاہ کر رہا تھا کہ وہ کرک پر حملہ کرے گا ۔ اس نے بیس روز بعد کا دن بتایا جب اسے فوجوں کو کوچ کرانا تھا ۔ یہ تمام تر منصوبہ عالم جاسوس اور لڑکیاں ساتھ والے کمرے میں سن رہی تھیں۔ عالم نے ایک بار پھر لڑکیوں کے ساتھ افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں ایک راز معلوم ہوگیا ہے مگر وہ اسے شوبک تک نہیں پہنچا سکتے ۔ ایک لڑکی نے کہا ۔ ”میں کوشش کروں گی کہ صلاح الدین ایوبی مجھے پسند کر لے۔ اگر تھوڑی سی دیر کے لیے بھی وہ مجھے اپنے ساتھ تنہائی میں رکھ لے تو میں اس سے رہا ئی پالوں گی۔ مجھے امید یہ ہے کہ میں اس کی عقل پر قبضہ کر لوں گی”۔

”معلوم نہیں اس نے ہمیں کیوں بلایا ہے ؟”…… عالم جاسوس نے کہا …… ”تم دونوں یاد رکھو۔ اگر وہ تمہیں اکیلے اکیلے بلائے تو دونوں یہ کوشش کرنا کہ اسے حیوان بنا سکو ۔ اگر وہ شراب پیئے تو تم جانتی ہو کہ اسے کتنی پلا کر بے ہوش کیا جاسکتا ہے۔ وہ بیہوش ہوجائے تو فرار کا طریقہ تم جانتی ہو اور دونوں کو معلوم ہے تمہیں کس کے پاس پہنچنا ہے۔ اس کا گھر مسجد کے با لمقابل ہے ”۔

”میں جانتی ہوں ”……ایک لڑکی نے کہا …… ”مہدی ابادان”۔

”ہاں !”…عالم جاسوس نے کہا ……”اگر تم مہدی تک پہنچ گئیں تو وہ تمہیں شوبک تک پہنچا دے گا۔ میرے فرار تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ تم نے ایوبی کا منصوبہ سن لیا ہے ۔ کوچ کی تاریخ یاد رکھو۔ راستہ یاد کرلو۔ کوچ رات کے وقت ہوا کرے گا۔ دن کے وقت اس کی فوج کوئی حرکت نہیں کرے گی ۔ حملہ کر ک پر ہوگا ۔ مجھے اُمید ہے کہ یہ اطلاع قبل از وقت پہنچ گئی تو ہماری فوج ایوبی کو راستے میں روک لے گی۔ ایوبی اسی صورت حال سے ڈرتا ہے ۔ شوبک میں جا کر یہ خاص طور پر بتانا کہ ایوبی کھلے میدان میں آمنے سامنے نہیں لڑنا چاہتا کیونکہ اس کے پاس فوج کم ہے”۔

سلطان ایوبی کے کمرے سے ایسی آوازیں آئیں جیسے اجلاس ختم ہوگا ہو اور نائبین باہر جارہے ہیں ۔ عالم اور لڑکیاں فوراً اس جگہ سرک گئیں جہاں انہیں بٹھایا گیا تھا ۔ عالم کے کہنے پر انہوں نے سر گھٹنوں میں دے لیے جیسے انہوں نے کچھ بھی نہیں سنا اور گردو بیش کا کوئی ہوش نہیں ۔ انہیں اپنے کمرے میں قدموں کی آوازیں سنائی دی تو بھی انہوں نے اوپر نہ دیکھا۔ عالم نے اس وقت اوپر دیکھا جب کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا ……”اُٹھو۔ میرے ساتھ آئو ”……وہ علی بن سفیان تھا ۔ علی نے لڑکیوں کو بھی اُٹھایا اور انہیں سلطان ایوبی کے کمرے میں لے گیا ۔

”میں تمہارے علم اور تمہاری ذہانت کی داد دیتا ہوں”…… سلطان ایوبی نے عالم جاسوس سے کہا ……”ان کی زنجیریں کھول دو …… تم تینوں بیٹھ جائو ”۔ علی بن سفیان باہر نکل گیا ۔ سلطان ایوبی نے عالم سے کہا ……”لیکن تم علم کو کس شیطانی کام میں استعال کر رہے ہو۔ اس کی بجائے تم یہاں آکر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے تو میں تمہاری قدر دل کی گہرائیوں سے کرتا کہ تم اپنے مذہب اور اپنے نبی کی خدمت کر رہے ہو۔ کیا تمہارے مذہب میں یہ روا ہے کہ تم دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں اس کے مذہب میں جھوٹ شامل کرو ؟ کیا تمہارے دل میں اپنی مقدس صلیب کا ، حضرت عیسٰی کا اور کنواری مریم کا یہ احترام ہے کہ جھوٹ اور ابلسیت جیسے کبیرہ گناہ کرکے تم ان کی عبادت کرتے ہو؟”

”یہ جھوٹ میرے فرائض میں شامل ہے ”…… عالم نے کہا …… ”میں نے جو کچھ کیا مقدس صلیب کے لیے کیا ”۔

”تم کہتے ہو کہ تم نے انجیل اور قرآن کا گہرا مطالعہ کیا ہے”…… سلطان ایوبی نے کا ۔ ”کیا ان دونوں میں سے کسی ایک کتاب میں بھی انسان کو اس کی اجازت دی گئی ہے کہ اس قسم کی نوخیز لڑکیوں کو بدکاری کی راہ پر ڈالو اور غیر مردوں کے پاس بھیج کر اپنی مطلب براری کرو؟ کیا انجیل نے تمہیں کہا ہے کہ صلیب کی خاطر اپنی قوم کی بیٹیوں کی عظمت دوسروں کے حوالے کر دو ؟ کیا تم نے کسی مسلمان لڑکی کو قرآن اور اسلام کے نام پر اپنی عصمت غیر مردوں کے حوالے کرتے کبھی دیکھا ہے ؟”

”اسلام کو میں عیسائیت کا دشمن سمجھتا ہوں”…… عالم نے کہا …… ”مجھے جو زہر ہاتھ آئے گا اسلام کی رگوں میں ڈالوں گا”۔

”تم اتنے میٹھے زہر سے چند ایک مسلمانوں کے کردار کو ہلاک کرسکتے ہو”……سلطان ایوبی نے کہا …… ”اسلام کاتم کچھ نہیں بگاڑ سکو گے ”……اس نے لڑکیوں سے کہا ……”تم کس خاندان کی بیٹیاں ہو ؟ معلوم ہے تمہیں ؟ اپنی اصلیت جانتی ہو تو مجھے بتائو ؟ ”…… دونوں خاموش رہیں ۔سلطان ایوبی نے کہا ……”تم نے اپنی پاکیزگی ختم کرالی ہے ۔ اب بھی تم کسی باعزت گھر کی قابل احترام بیویاں بن سکتی ہو؟”

”میں قابل احترام بیوی بننا چاہتی ہوں ”……ایک لڑکی نے کہا ……”کیا آپ مجھے قبول کریں گے ؟ اگر نہیں تو مجھے کوئی باعزت خاوند دے دیں ۔ میں اسلام قبول کرکے گناہوں سے توبہ کر لوں گی”۔

سلطان ایوبی مسکرایا اور ذرا سوچ کر کہا ……”میں نہیں چاہتا کہ اس عالم کا علم جلاد کی تلوار سے خون میں ڈوب جائے اور میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں کی جوانی اور حسن میرے قید خانے میں گلتا سڑتا رہے …… سنو لڑکی ! تم اگر واقعی گناہوں سے توبہ کرنا چاہتی ہو تو میں تمہیں تمہارے ملک بھیج دیتا ہوں ، لیکن وہ تمہارا نہیں ، ہمارا ملک ہے ۔ میں ایک نہ ایک دن اپنا ملک تمہارے بادشاہوں سے لے لوں گا۔ تم جائو اورکسی کی بیوی بن جائو …… میں تم تینوں کو رہا کرتاہوں ”۔

تینوں یوں بدکے جیسے انہیں سوئیاں چبھودی گئی ہوں۔ اتنے میں علی بن سفیان لوہار کے ساتھ کمرے میں آیا اور تینوں کی زنجیریں کھول دی گئیں۔ سلطان نے کہا ……”علی! میں نے انہیں رہا کر دیا ہے”…… علی بن سفیان کا رد عمل بھی وہی تھا ۔ وہ کتنی ہی دیر سلطان ایوبی کے منہ کی طرف دیکھتا رہا …… سلطان نے کہا ……”انہیں تین اونٹ دو اور چار مسلح محافظ ساتھ بھیجو جو گھوڑ سوار ہوں۔ نہایت ذہین اور دلیر محافظ جو انہیں شوبک کے قلعے میں چھوڑ کر واپس آجائیں ۔ راستے کے لیے سامان ساتھ دو اور آج ہی انہیں روانہ کر دو ”…… اس نے عالم سے کہا ……”وہاں جا کر یہ غلط فہمی نہ پھیلا دینا کہ صلاح الدین ایوبی جاسوسوں کو بخش دیا کرتا تھا ۔ میں انہیں دانے کی طرح چکی میں پیس پیس کر مارا کرتا ہوں۔ تمہیں صرف اس لیے رہا کر رہا ہوں کہ تم عالم ہو ۔ تمہیں موقع دے رہا ہوں کہ علم کا روشن پہلو دیکھو۔ تمہاری نجات اسی میں ہے ”۔

Read More:  Masoom Khwahish Novel by Mahi Shah – Episode 1

سورج ابھی غروب نہیں ہوا تھا جب انہیں انٹوں پر سوار کرکے چار محافظوں کے ساتھ روانہ کر دیا گیا ۔ محافظ خاص طور پر منتخب کیے گئے تھے ۔ اس انتخاب کی دو وجوہات تھیں ۔ ایک یہ کہ راستے میں ڈاکوئوں کا خطرہ تھا ۔ دوسری وجہ یہ کہ انہیں صلیبی کمانڈروں کے سامنے جانا تھا ۔ وہ خوبرواور وجیہہ تھے ۔ اونٹ اور گھوڑے بھی نہایت اچھی قسم کے بھیجے گئے تھے ، مگر سب حیران تھے کہ سلطان ایوبی نے یہ فیاضی کیوں کی ہے ۔ دشمن کو بخش دینا اس کا شیوہ نہیں تھا ۔ علی بن سفیان نے اس سے پوچھا تو اس نے اتنا ہی کہا …… ”علی ! میں نے تمہیں کہا تھا کہ میں ایک جواء کھیلنا چاہتا ہوں ۔ اگر میں بازی ہارگیا تو صرف اتنا ہی نقصان ہوگا جو میں پہلے ہی اُٹھا چکا ہوں کہ دشمن کے تین جاسوس میرے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی نقصان نہیں ہوگا ”……علی بن سفیان نے اس جوئے کی وضاحت چاہی لیکن سلطان ایوبی نے اسی پر بات ختم کردی کہ وقت آنے پر بتائوں گا ۔

باقی سب تو حیران تھے مگر رہا ہونے والے خوشی سے بائولے ہوئے جا رہے تھے ۔خوشی صرف رہائی کی نہیں تھی ۔ اصل خوشی اس راز کی تھی جو وہ اپنے ساتھ لے جا رہے تھے۔ وہ قاہرہ شہر سے دورنکل گئے تھے ۔ ان کے اونٹ پہلو بہ پہلو جا رہے تھے ۔ دو محافظ آگے تھے اور دو پیچھے ۔ عالم نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ ان کی زبان سمجھتے ہیں ؟چاروں اپنی زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں جانتے تھے ۔ عالم اور لڑکیاں ان کی زبان بڑی روانی سے بولتی تھیں ۔ یہ انہیں خاص طور پر سکھائی گئی تھی۔

عالم نے لڑکیوں سے اپنی زبان میں کہا ……”خدائے یسوع مسیح نے معجزہ دکھایا تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے ہمارے ساتھ پیار ہے اور اسے ہماری فتح منظور ہے ۔ یہ سچے مذہب کی نشانی ہے ۔ صلاح الدین ایوبی اور علی بن سفیان جیسے دانائوں کو خدا نے عقل کا ایسا اندھا کیا ہے کہ انتہائی خطرناک راز ہمارے کانوں میں دال کر ہمیں رہا کر دیا ہے ۔ ہم اپنی فوج کو ان کا سارا منصوبہ سنائیں گے اور ہماری فوج ایوبی کو صحرا میں گھیر کر ختم کردے گی ۔ اسے کرک تک پہنچنے کی مہلت ہی نہیںملے گی ۔ مجھے اُمید ہے کہ ہمارے کمانڈر جنگ کو حملے تک محدود نہیں رکھیں گے۔ وہ مصر پر ضرور چڑھائی کریں گے ۔ مصر فوجوں سے خالی ہوگا ۔ یہ فتح بڑی آسان ہوگی ”۔

”آپ عالم ہیں ، تجربہ کار ہیں ”…… ایک لڑکی نے کہا ……”مگر آپ جسے معجزہ کہہ رہے ہیں وہ مجھے ایک خطرہ دکھائی دے رہا ہے …… خطرہ یہ چار محافظ ہیں ۔ کہیں آگے جا کر یہ ہمیں قتل کر کے واپس چلے جائیں گے ۔ صلاح الدین ایوبی نے ہمارے ساتھ مذاق کیا ہے ۔ جلاد کے حوالے کرنے کی بجائے ہمیں ان کے حوالے کر دیا ہے ۔ یہ ہمیں جی بھر کے خراب کریں گے اور قتل کر دیں گے”۔

”اور ہم نہتے ہیں ”…… عالم نے یوں کہا جیسے اس کے ذہن سے خوش فہمیاں نکل گئی ہوں ۔ اس نے کہا …… ”تم نے جو کہا ہے وہ درست ہو سکتا ہے ۔ کوئی حکمران اپنے دشمن کے جاسوس کو بحش نہیں سکتا اور مسلمان اس قدر جنس پرست ہیں کہ تم جیسی حسین لڑکیوں کو چھوڑ نہیں سکتے ”۔

”ہمیں راتوں کو چوکنا رہنا پڑ ے گا ”…… دوسری لڑکی نے کہا ……”رات کو یہ سوجائیں تو انہیں انہی کے ہتھیاروں سے ختم کر دیا جائے ۔ ذرا ہمت کی ضرورت ہے ”۔

”ہمیں یہ ہمت کرنی پڑے گی ”……عالم نے کہا ……”یہ کام آج ہی رات ہوجائے تو اچھا ہے۔ صبح تک ہم بہت دور نکل جائیں گے ”۔

دو محافظ آگے اور دو پیچھے اپنی گپ شپ لگاتے چلے جارہے تھے ۔ ان کے انداز سے ظاہر ہوتا تھا جیسے انہیں معلوم ہی نہیں کہ دو اتنی دلکش لڑکیاںان کی تحویل میں ہیں ۔ سورج غروب ہو رہا تھا ۔ ایک نے عالم سے کہا کہ ہم ابھی رُکیں گے نہیں۔رات کا پہلا پہر چلتے گزاریں گے …… وہ چلتے گئے اور صحرا کی رات تاریک ہوتی گئی۔ عالم اور لڑکیاں اونٹوں کو قریب کر کے محافظوں کے قتل کا منصوبہ بنا رہی تھیں۔ بہت دیر بعد ایک سر سبز جگہ آگئی۔ محافظ رُک گئے اور وہیں پڑائو کیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ تین محافظ لیٹ گئے تھے اور ایک ٹہل رہا تھا ۔ عالم لڑکیوں کے ساتھ محافظوں سے کچھ دور لیٹا رہا ۔ ان تینوں کی نظریں محافظوں پر تھی۔ وہ چوتھے محافظ کو دیکھتے رہے۔ وہ پڑائو کے اردگرد ٹہلتا رہا ۔ ایک کھٹکا سا ہوا ۔ وہ دوڑ کر ادھر گیا اور اچھی طرح دیکھ بھال کرکے آگیا ۔

تقریباً دو گھنٹے گزر گئے ۔ اس نے اپنے ایک اور ساتھی کو جگایا اور خود اس کی جگہ لیٹ گیا ۔ جو جاگا تھا وہ پڑائو کے اردگرد ٹہلنے لگا ۔ کبھی جانوروں کے پاس جاکر انہیں دیکھتا اور کبھی سوئے ہوئے انسانوں کو دیکھتا ۔ عالم نے لڑکیوں سے کہا …… ”ہم کامیاب نہیں ہو سکیں گے ۔ یہ کمبخت پہرہ دے رہے ہیں ، جو ہوگا ہو کے رہے گا ، سو جائو ”۔

رات گزر گئی ۔ صبح ابھی دھندلی تھی جب محافظوں نے انہیں جگایا اور روانہ ہونے کے لیے کہا ۔ تھوڑی دیر بعد وہ پھر اسی ترتیب میں چلے جا رہے تھے ۔ جس میں ایک روز پہلے تھے ۔ تین اونٹ پہلو بہ پہلو ، دو محافظ آگے اور دو اونٹوں کے پیچھے ۔ وہ ایک بار پھر لڑکیوں سے لا تعلق ہوگئے ۔ انہوں نے کوئی ایسی بات بھی نہیں کی تھی جس سے شک ہوتا کہ یہ لوگ اوباش یا بدمعاش ہیں۔ سورج اُبھرتا آیا ۔ پھر یہ قافلہ ٹیلوں کے علاقے میں داخل ہوگیا ۔ مٹی اور ریت کی پہاڑیاں منحنی سی دیواروں کی طرح کھڑی تھیں ۔ ان میں گلیاں سی تھیں اور ان پر پہاڑیوں کا سایہ تھا ۔ لڑکیاں ڈرنے لگیں ۔ ڈر ان کے چہرے سے ظاہر ہو رہا تھا ۔ ان کی نگا ہ میں یہ جگہ جرم اور قتل وغیرہ کے لیے موزوں تھی مگر محافظ ان کی طرف دیکھ نہیں رہے تھے ۔

”اس سے کہو کہ ہمارے ساتھ باتیں کریں ”…… ایک لڑکی نے عالم سے کہا …… ”ان کی خاموشی اور لا تعلقی مجھے ڈرا رہی ہے ۔ انہیں کہو کہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں توفوراً مار دیں ۔ میں موت کا انتظار نہیں کر سکتی ”۔

عالم خاموش کہا ۔ وہ لڑکیوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ تینوں ان محافظوں کے رحم و کرم پر تھے …… سورج سر پر آگیا تو وہ ان ٹیلوں کے اندر ایسی جگہ رُک گئے جہاں ریت کے سلوں والے ٹیلے تھے اور اُوپر جا کر آگے کو جھکے ہوئے تھے ۔ ان کے سائے میں انہوں نے قیام کیا ۔ کھانے کے دوران عالم نے محافظوں سے پوچھا ……”تم لوگ ہمارے ساتھ باتیں کیوں نہیں کرتے ؟”

”جو باتیں ہمارے فرض میں شامل نہیں وہ ہم نہیں کیا کرتے ”…… محافظوں کے کمانڈر نے جواب دیا اور پوچھا ……”اگر تم لوگ کوئی خاص بات کرنا چاہتے ہو تو ہم سنیں گے اور جواب دیں گے ”۔

”کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم کون ہیں ؟” عالم نے پوچھا ۔

”تم تینوں جاسوس ہو”……محافظ نے جواب دیا …… ”یہ لڑکیاں بدکار ہیں ۔ یہ ان آدمیوں کے استعمال کے لیے ہیں جنہیں تم لوگ ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتے ہو۔ امیر مصر ، اللہ اس کے نیک ارادوں میں برکت دے ، نے تمہیں معلوم نہیں کیوں بخش دیا ہے ۔ ہمیں حکم ملا ہے کہ تمہیں قلعہ شوبک میں چھوڑ آئیں ۔ تم امانت ہو …… تم نے یہ بات مجھ سے کیوں پوچھی ہے؟”

”تمہارے ساتھ باتیں کرنے کو جی چاہ رہا تھا ”……عالم نے جواب دیا …… ”اتنا لمبا سفر اس لاتعلق اور بیگانگی سے بڑا کھٹن ہو رہا ہے ۔ ہمارے ساتھ باتیں کرتے چلو”۔

”ہم ہمسفر ہیں ”……محافظ نے کہا …… ”لیکن ہماری منزلیں جدا ہیں ۔ دو روز بعد ہم جدا ہوجائیں گے ”۔

عالم جاسوس نے جیسے محافظ کا جواب سنا ہی نہ ہو ۔ اس کی آنکھیں کسی دور کی چیز کو دیکھ رہی تھیں ۔ وہ صحرا سے اچھی طرح واقف تھا ۔ صحرا کے خطروں سے واقف تھا ۔ اس کی آنکھیں حیرت اور اورغالباً ڈر سے پھٹی جا رہی تھیں ۔ محافظ نے اس طرف دیکھا جس طرف عالم دیکھ رہا تھا ۔ محافظ کی بھی آنکھیں کھل گئیں …… کوئی دو سو گز دور ایک بلند جگہ دو اونٹ کھڑے تھے۔ ان پر دو آدمی سوار تھے جن کے چہروں اور سروں پر پگڑیاں لپٹی ہوئی تھیں ۔ اونٹوں کی ٹانگیں نظر نہیں آرہی تھیں ۔ وہ بلندی کے پیچھے تھیں۔ سوار خاموشی سے کھڑے محافظوں اور جاسوسوں کے قافلے کو دیکھ رہے تھے ۔ ان کا انداز اور لباس بتا رہا تھا کہ وہ کون ہیں ۔

”جانتے ہو یہ کون ہیں ”…… محافظوں کے کمانڈر نے عالم سے پوچھا ۔

”صحرائی ڈاکو ”……عالم نے جواب دیا ۔ ”معلوم نہیں کتنے ہوں گے ”۔

”دیکھا جائے گا”……محافظ نے کہا ۔ اس نے اُٹھتے ہوئے اپنے ایک ساتھی سے کہا ……”میرے ساتھ آئو ”۔

وہ دونوں گھوڑوں پر سوار ہو کر ڈاکوئوں کی طرف چلے گئے ۔ ان کے پاس تلواروں کے علاوہ برچھیاں بھی تھیں ۔ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر شتر سوار بلندی کے پیچھے غائب ہوگئے ۔دومحافظ جو پیچھے رہ گئے تھے ۔ قریب کے ٹیلے پر چڑھ گئے ۔ عالم نے لڑکیوں سے کہا……”میرا خیال ہے تمہارا خدشہ صحیح ثابت ہورہا ہے ۔ یہ ڈاکو نہیں ۔ یہ صلاح الدین ایوبی کے بھیجے ہوئے آدمی معلوم ہوتے ہیں ورنہ یہ محافظ اتنی دلیری سے ان کی طرف نہ چلے جاتے ۔ ایوبی تم دونوں کو بہت زیادہ ذلیل کرانا چاہتا ہے ۔ میرے لیے تو موت لکھی ہوئی ہے۔ تمہیں بڑی خوفناک سزا دی جائے گی ”۔

”اس کامطلب یہ ہے کہ ہم آزاد نہیں”…… ایک لڑکی نے کہا …… ”ہم ابھی تک قیدی ہیں ”۔

”یہی معلوم ہوتاہے ”……دوسری لڑکی نے کہا۔

دونوں محافظ واپس آگئے تھے ۔ ان کے ساتھی اور جاسوس ان کے گرد جمع ہوگئے ۔ محافظ کے کمانڈر جس کا نام حدید تھا نہیں بتانے لگا……”وہ صحرائی قزاق ہیں ۔ ہم ان سے مل آئے ہیں ۔ انہوں نے مجھے کہا ہے کہ تم فوج کے آدمی اور مسلمان معلوم ہوتے ہو لیکن یہ لڑکیاں مسلمان نہیں ۔ یہ دونوں لڑکیاں ہمارے حوالے کردو ، ہم تمہیں پریشان نہیں کریں گے ۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ یہ لڑکیاں کسی بھی مذہب کی ہوں، ہمارے پاس امانت ہیں۔ ہم جیتے جی تمہارے حوالے نہیں کریں گے ۔ وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کرتے رہے کہ ہم اپنی جانیں ضائع نہ کریں ۔ میں انہیں کہہ آیا ہوں کہ پہلے ہماری جانیں ضائع کرو پھر لڑکیوں کو لے جانا ”…… اس نے عالم اور لڑکیوں سے پوچھا ……”تم کوئی ہتھیار استعمال کر سکتے ہو؟”۔

”ان لڑکیوں کو ہر ایک ہتھیار چلانے کی تربیت دی گئی ہے ”۔عالم نے کہا ……”تمہارے پاس برچھیاں ہیں ، تلواریں بھی ہیں اور تیر کمان بھی ہیں ۔ ان میں سے ایک ایک ہتھیار ہمیںدے دو ”۔

”ابھی نہیں ”……حدید نے سوچ کرکہا ……”میں قبل ازوقت تمہیں ہتھیار نہیں دے سکتا ۔ اگر ڈاکوئوں سے ٹکر ہوگئی تو اس وقت دے دوں گا ……ہمیں اس علاقے سے فوراً نکل جانا چاہیے ۔ ان سے گھوڑوں ساوراونٹوں پر لڑائی ہوگئی تو یہ علاقہ موزوں نہیں گھوڑے گھما پھرا کر لڑنے کے لیے یہ جگہ خراب ہے ”۔

وہ فوراً وہاں سے چل پڑے۔ محافظوں نے کمانیں ہاتھوں میں لے لیں اور ترکش کھول لیے۔ حدید آگے تھا ۔ اسے اس کے ساتھی نے کہا …… ”ان جاسوسوں کو ہتھیار دینا ٹھیک نہیں ۔ آخر ہمارے دشمن ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکوئوں کے ساتھ مل کر ہمیں مار ڈالیں ”۔

عالم لڑکیوں سے کہہ رہا تھا ……”ان لوگوں کی نیت ٹھیک نہیں ، انہوں نے ہمیں ہتھیار دینے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکوئوں ان کے اپنے آدمی ہیں۔ یہ تم دونوں کو ان کے حوالے کر دیں گے اور مجھے مروا دیں گے ”۔

دونوں کو ایک دوسرے پربھروسہ نہیں تھا اور دونوں پر ڈاکوئوں کا ڈر سوار ہوگیا تھا ۔ حدید نے اپنے محافظوں سے کہہ دیا تھا کہ کوئی نقاب پوش نظر آئے تو مجھے بتائے بغیر اس پرتیر چلا دو۔ ان کے ساتھ ضرور ٹکر ہوگی۔ دیکھنا یہ ہے کہ کب ہوگی اور کہاں ہوگی …… وہ تیز رفتاری سے چلتے گئے ۔ گھوڑوں اور اونٹوں کو آرام، چارہ اور پانی ملتا رہا تھا ، اس لیے تھکن کا ان پر کوئی اثر نہیں تھا ۔ ٹیلوں کا علاقہ بہت دور چلا گیاتھا ۔ کئی جگہوں پر قافلہ اونچے ٹیلوں کے درمیان آجاتا تھا ۔ حدید کو ڈریہ تھا کہ ڈاکو اوپر سے تیرنہ برسا دیں ۔ اس نے گھوڑوں کو ایڑ لگانے کو کہا اور جاسوسوں سے کہا کہ وہ بھی اونٹوں کو گھوڑوں کی رفتار پر کر لیں اور اوپرکودیکھتے رہیں ۔

وہ اس علاقے سے نگل گئے ۔ کوئی ڈاکو نظر نہیں آیا ۔سورج نیچے جانے لگا تھا ۔ ایک بار دو اونٹ اسی سمت پر جاتے نظر آئے ، جدھر یہ قافلہ چلتارہا ۔ راستے میں ایک جگہ پانی مل گیا ۔ انہوں نے جانوروں کو پانی پلایا، خود بھی پیا اورپل پڑے۔ سورج نیچے جاتا رہا اور اُفق کے پیچھے چلاگیا ۔ شام تاریک ہوئی تو حدید نے قافلے کو روک لیا ۔ کہنے لگا ……”یہ جگہ لڑائی کے لیے اچھی ہے کیونکہ اردگرد کوئی رکاوٹ نہیں ”…… اس نے گھوڑوں کی زینیں کھولی نہیں، تاکہ ضرورت کے وقت گھوڑے تیارملیں۔ اونٹوں کو بٹھا دیاگیا۔ کھانا کھا کر حدید نے لڑکیوں کو اپنے درمیان لٹایا اور انہیں کہا کہ وہ ہوشیار رہیں ۔ محافظوں سے کہا کہ وہ کمانیں تیار رکھیں۔ سوئیں نہیں، لیٹے رہیں ۔ اسے یقین تھا کہ رات کوحملہ ضرور ہوگا.

رات آدھی گزر گئی تھی ۔ صحرا پر سکون اور خاموش رہا ۔ پھر اچانک ان کے گرد سیاہ بھوتوں جیسے بڑے بڑے ساء دوڑنے لگے ۔ اونٹوں کے قدموں کی دھمک دھمک سنائی دے رہی تھی اور زمین دہل رہی تھی۔ اونٹوں کی تعداد دس سے زیادہ معلوم ہوتی تھی ۔ ان پر ایک ایک سوا رتھا ۔ وہ محافظوں وغیرہ کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ان کے اردگرد اونٹوں کو دوڑا رہے تھے ۔ تین چا ر چکر پورے کرکے ایک نے للکارا ……” لڑکیاں ہمارے حوالے کردو۔ تم سے کچھ اور لیے بغیر ہم چلے جائیں گے ”۔

اس کے جواب میں حدید نے لیٹے لیٹے پہلا تیر چلایا۔ جسے تیر لگا اس کی بڑی زور کی آواز سنائی دی ۔ دوسرے محافظوں نے بھی لیٹے لیٹے ایک ایک تیر چلایا ۔ دو اونٹ بلبلا کر بولے اوربے قابو ہوگئے ۔ حدید نے لڑکیوں سے کہا …… ”بھاگنا نہیں ہمارے ساتھ رہنا”۔

شتر سواروں میںسے کسی نے کہا ……”ٹوٹ پڑو ۔ کسی کو زندہ نہ چھوڑو۔ لڑکیوں کو اُٹھالو”۔

صحرا کی رات اتنی شفاف ہوتی ہے کہ چاندنی نہ ہو تو بھی کچھ دور تک نظر آجاتا ہے۔ شتر سوار اونٹوں سے کود آئے ۔ پھر تلواریں اور برچھیاں ٹکرانے کااور دونوں فریقوں کی للکار کا شور رات کا جگر چاک کرنے لگا ۔ کسی کو ایک دوسرے کا ہوش نہ رہا۔ حدید اورمحافظ نے لڑکیوں کو اس طرح اپنے درمیان کر لیا تھا کہ محافظوں کی پیٹھیں لڑکیوں کی طرف تھیں ۔ لڑکیوں نے کئی بار کہا کہ ہمیں بھی کچھ دو ۔ حدید نے کہا ……”میر ی تلوار نکال لو ” …… وہ خود برچھی سے لڑ رہا تھا ۔ ایک لڑکی نے اس کی نیام سے تلوار نکال لی اور دونوں محافظوں کے درمیان سے نکل گئی۔ حدید نے اسے کہا …… ”ہم سے جدا نہ ہونا لڑکی ”…… ڈاکوئوں کا زیادہ ہلہ لڑکیوں پر تھا۔ عالم کی کوئی آواز سنائی نہ دی ۔

یہ معرکہ بہت دیر لڑاجاتا رہا ۔ آدمی بکھرتے چلے گئے ۔ محافظ ایک دوسرے کو پکارتے رہے پھر ان کی پکار ختم ہوگئی۔ معرکے کا شور بھی کم ہوتا گیا۔ حدید نے اپنے ساتھیوں کو پکارا لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا ۔ اسے ایک لڑکی کی آواز سنائی دی ۔ وہ اسے پکار رہی تھی ۔ اس کے ساتھ ہی ایک گھوڑے کے سرپٹ دوڑنے کی آواز سنائی دی ۔ حدید سمجھ گیا کہ کوئی ڈاکو ایک لڑکی کو اونٹ کی بجائے کسی محافظ کے گھوڑے پر ڈال کر لے گیا ہے ۔ وہ دوڑ کر ایک گھوڑے تک پہنچا ۔ زین کسی ہوئی تھی۔ وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور بھاگنے والے گھوڑے کے پاپوئوںکی آواز پرتعاقب میں گیا ۔ دوسری لڑکی کے متعلق اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہے۔ اس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی۔ صحرا میں کوئی رکاوٹ ، کوئی ندی نالہ نہیں تھا۔ گھوڑا ہوا سے باتیں کرنے لگا ۔ اگلا گھوڑا بھی اچھی نسل کا تھا ۔ فرق یہ کہ اس گھوڑے پر دو سوا رتھے ۔

کوئی ایک میل بعد حدید کو اگلے گھوڑے کا سایہ نظر آنے لگا ۔ اس نے تعاقب جاری رکھا ۔ فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ حدید نے محسوس کیا کہ اس کے پیچھے بھی ایک گھوڑا آرہا ہے جس کا سوار محافظ بھی ہو سکتا تھا اور ڈاکوبھی ۔ اس نے گھوم کر دیکھا ۔ پچھلا گھوڑا قریب آگیا تھا ۔ حدید نے پکارا ……”کون ہو ؟”…… اسے جواب نہ ملا۔ اسنے تعاقب جاری رکھا اور گھوڑے کو اور زیادہ تیز کرنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اگلا گھوڑا سیدھا جا رہا تھا ۔ اس کی باگ شاید لڑکی کے ہاتھ میں آگئی تھی کیونکہ حدید دیکھ رہا تھا کہ وہ گھوڑا دائیں بائیں ہو رہا تھا اور اس کی رفتار بھی گھٹتی جا رہی تھی …… وہ اس تک پہنچ گیا ۔ اس کے پاس برچھی تھی ۔ اس نے اگلے سوار کو پہلو پر جاکر برچھی کا وار کیا لیکن وہ گھوڑا ایک طرف ہوگیا۔ سوار تو بچ گیا برچھی گھوڑے کو لگی۔ حدید نے گھوڑا روکا اور گھمایا ۔ دوسرا سوار بھی گھوڑنے کو گھمانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن لڑکی جو اس کے آگے بیٹھی تھی ، باگیں ادھر ادھر کرکے گھوڑے کا رخ صحیح نہیں ہونے دیتی تھی۔ حدید نے لڑکی کو پکارا تو لڑکی اورزیادہ دلیر ہوگئی۔

سوار لڑکی کو ساتھ لیے گھوڑے سے اُتر آیا اور اس نے اپنے گھوڑے کو ڈھال بنا لیا ۔ حدید اپنے گھوڑے کوگھما گھما کر لاتا مگر جدھر سے بھی وار کرنے آتا ڈاکو لڑکی کو ساتھ لیے اپنے گھوڑے کی اوٹ میں ہوجاتا ۔ آخر حدید گھوڑے سے اُتر آیا۔ اتنے میں دوسرا سوار بھی آگیا۔ وہ محافظ نہیں ڈاکو تھا۔ وہ بھی گھوڑے سے اُتر آیا ۔ حدید نے انہیں للکارا۔ ”لڑکی کو نہیں لے جاسکو گے ”…… ایک ڈاکو نے لڑکی کو دبوچے رکھا اور دوسرا حدید سے لڑنے لگا ۔ لڑکی کے پاس اب تلوار نہیں تھی ۔ دوسرے ڈاکو نے لڑکی کو چھوڑ دیا اور وہ حدید پر ٹوٹ پڑا ۔ حدید نے لڑکی کو پکار کرکہا …… ”تم گھوڑے پر بیٹھو اور شوبک کی طرف نکل جائو ۔ میں ان دونوں کو تمہارے پیچھے نہیں آنے دوں گا ”…… مگر لڑکی وہیں کھڑی رہی ۔

حدید نے دونوں کا خوب مقابلہ کیا ۔ ڈاکوئوں نے اسے بار بار کہا ……”ایک لڑکی کے لیے اپنی جان مت گنوائو ” …… حدید نے ہر بار یہی جواب دیا …… ”پہلے میری جان لو پھر لڑکی کو لے جا نا”…… اور اس نے کئی بار لڑکی سے کہا……”تم یہاںکیوںکھڑی ہو ۔ بھاگو یہاں سے ”آخر لڑکی نے کہا ……”میں تمہیں چھوڑ کر نہیں جائوں گی ”…… حدید زخمی ہونے لگا ۔ اس نے ایک بار پھر لڑکی سے کہا ……”میں زخمی ہو گیا ہوں ۔ میرے مرنے سے پہلے نکل جائو ”۔

ایک ڈاکو لڑکی کی طرف گھوما ۔ حدید کو موقع مل گیا۔ اس نے برچھی اس کے پہلو میں اُتار دی ، لیکن اس وقت دوسرے ڈاکو کی تلوار اس کے کندھے پرلگی۔ لڑکی نے ایک ڈاکو کو گرتے دیکھ لیا تھا ۔ اس نے دوڑکر اس کی تلوار لے لی اور پیچھے سے آکر دوسرے ڈاکو کی پیٹھ میں برچھی کی طرح اُتار دی ۔ وہ سنبھلنے لگا تو آگے سے حدید کی برچھی اس کے سینے میں اُتر گئی۔ وہ ڈاکو بھی ختم ہوگیا مگر اس کے ساتھہی حدید بھی کھڑا رہنے کے قابل نہ رہا۔ لڑکی نے اسے سہارا دیا تواس نے کہا …… ”تم ٹھیک ہونا ؟مجھے چھودو۔ گھوڑے پر بیٹھو اور فوراً شوبک کو روانہ ہوجائو ۔ اللہ تمہیںخیریت سے پہنچا دے گا ۔ شوبک دور نہیں ۔ اپنے ساتھیوں کی طرف نہ جانا ۔ وہاں شاید کوئی زندہ نہیں ہوگا ”۔

”زخم کہا ہیں؟”لڑکی نے اس سے پوچھا ۔

”مجھے مرنے دو لڑکی !”حدید نے کہا …… ”تم نکل جائو ۔ خداکے لیے میرا فرض تم خود ہی پورا کردو ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی اور قزاق ادھر آنکلے ”۔

لڑکی کی غلط فہمی اور شکوک رفع ہوچکے تھے۔ وہ سمجھ گئی تھی کہ اس شخص نے اس کی خاطر جان خطرے میں ڈالی ہے۔ اس نے اسے اکیلا چھوڑنے سے صاف انکار کر دیا ۔ دوڑ کرگئی۔ گھوڑے کی زین کے ساتھ بندھی ہوئی پانی کی چھاگل کھول لائی اور حدید کے منہ سے ساتھ لگا دی ۔ اسے پانی پلا کر چھاگل گھوڑے کے ساتھ باندھ دی اور اس سے پوچھنے لگی کہ

اس کے زخم کہا ںہیں ۔ حدید نے اسے زخم بتائے تواس نے اپنے پکڑے پھاڑے اور کچھ ٹکڑے حدید کے لباس سے پھاڑے۔ انہیں پانی میں بھگوکر اس نے حدید کے زخموں پرباندھ دیا۔ اسے اس کام کی ٹریننگ دی گئی تھی ۔ اس نے حدید کو سہارا دے کر اُٹھایا اور گھوڑے تک لے گئی۔ بڑی مشکل سے اسے گھوڑے پر بٹھایا ۔ خود دوسرے گھوڑے پر بیٹھنے لگی تو حدید نے کہا ۔ ”میں اکیلا گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکوں گا ”۔وہاں تین گھوڑے تھے۔ لڑکی نے یہ دانشمندی کی کہ گھوڑے ضائع کرنے مناسب نہ سمجھے۔ دو گھوڑوں کی باگیں ایک گھوڑے کی زین کے پیچھے باندھ دیں اور خود حدید کے پیچھے سوار ہوگئی۔ اس نے حدید کی پیٹھ اپنے سینے سے لگالی اور اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال لیا۔

”شوبک کی سمت بتاسکتے ہو؟ ”…… لڑکی نے پوچھا۔

حدید نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے دیکھے اور ایک طرف اشارہ کرکے کہا ……اس رخ کو چلو …… پھر اس نے لڑکی سے کہا ……”میں شاید زندہ نہیں رہ سکوں گا ۔ خون نکل رہا ہے۔ جہاںکہیں میری جان نکل جائے مجھے وہیں دفن کر دینا اور اگر تمہیں میری نیت پر کوئی شبہ تھا تو وہ دل سے نکل کر مجھے بخش دینا۔ میں نے امانت میں خیانت نہیں کی ۔ خدا تمہیں زندہ و سلامت اپنے ٹھکانے پر پہنچا دے”۔

گھوڑا چلا جا رہا تھا اور رات گزرتی جا رہی تھی ۔

٭ ٭

قسط 60

صبح طلوع ہوئی تو حدید بے ہوشی کی حالت میں تھا اور اپنے آپ کوہوش میں رکھنے کی سرتوڑ کوشش کر رہا تھا ۔ اس کا خون رُک گیا تھا لیکن زیادہ ترخون بہہ جانے سے اس کا جسم بے جان ہوگیا تھا ۔ لڑکی نے اسے چھوٹے سے نخلستان میں اُتارا، اسے پانی پلایا۔ گھوڑوں کے ساتھ کچھ کھانے کی چیزیں بندھی ہوئی تھیں ، وہ حدید کوکھلائیں ۔ اس سے اس کا دماغ صاف ہونے لگا۔ اسے پہلا خیال یہ آیا کہ وہ اس لڑکی کامحافظ تھا اب اس کا قیدی ہے۔ لڑکی نے اسے لٹادیا ۔ وہ رات بھر گھوڑے پر سوار رہے تھے۔ کچھ دیر کے آرام سے حدید کا جسم ٹھکانے آگیا۔ اس نے لڑکی سے کہا …… ”شوبک دور نہیں شاید ایک دن کی مسافت ہے۔ تم ایک گھوڑا لو اور اسے بھگاتی لے جائو، جلدی پہنچ جائو گی۔ میں واپس چلا جائوں گا ”

”تم زندہ واپس نہیں پہنچ سکو گے ”۔ لڑکی نے کہا…… ”اگر یہیں سے واپس جانا ہے تو مجھے ساتھ لے چلو ۔ تم نے مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، میں تمہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گی”۔

”میںمرد ہوں ”۔ حدید نے کہا …… ”میرادل نہیں مان رہا کہ ایک لڑکی نے میری حفاظت کرے اس سے بہتر ہے کہ میں مر جائوں ”۔

”میں ان معمولی سی لڑکیوں میں سے نہیں ہوں جو گھروں میں پڑی رہتی ہیں ”…… لڑکی نے کہا …… ”اورء جو مرد کی حفاظت کے بغیر ایک قدم نہیںچل سکتیں ۔مجھے ایک فوجی مرد سمجھو ۔ فرق صرف یہ ہے کہ میرا ہتھیار میری خوبصورتی ، میری جوانی اور میری چرب زبانی ہے ۔ میں تمہاری طرح سختیاں برداشت کر سکتی ہوں ۔ میںشوبک تک پیدل پہنچ سکتی ہوں ”۔

”میں تمہارے جذبے کی قدر کرتا ہوں ”…… حدید نے کہا …… ”ڈاکو ہم دونوں کو کتنا قریب لے آئے ہیں مگر ہم ایک دوسرے کے دشمن ہیں ۔ تم میرے ملک کی بنیادیں ہلانے کی کوشش کر رہی ہو اور ایک دین میں تمہارے ملک پر حملہ کرنے آئوں گا ”۔

”لیکن اس وقت میری دوستی قبول کر لو ”۔ لڑکی نے کہا …… ”دشمنی کی باتیں اس وقت سوچیں گے ۔ جب تم تندرست ہو کر اپنے ملک چلے جائو گے”۔ اس نے حدید کی گردن کے نیچے بازو کر کے اسے اُٹھایا۔ حدید اب اُٹھ سکتا تھا ۔ وہ اُٹھا اور آہستہ آہستہ چلتا گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ لڑکی نے اس کا پائوں اُٹھا کر رکاب میں رکھا اور اُسے سہارا دے کر گھوڑے پر سوار کر دیا ۔ لڑکی بھی اسی گھوڑے پر سوارہونے لگی تو حدید نے ہاتھ آگے کر کے اسے روک دیا اور کہا …… ”تم اب دوسرے گھوڑے پر بیٹھو میں اکیلا سواری کر سکوں گا ”۔

”اس کے باوجود میں اسی گھوڑے پر بیٹھوں گی ”……لڑکی نے کہا …… ”تمہیں اپنے ساتھ لگائے رکھوں گی ”۔

حدید کی ضد کے باوجود لڑکی اس کے پیچھے سوار ہوگئی اور جب ایک بازو اس کے سینے پر رکھ کر اسے اپنے ساتھ لگانے لگی تو حدید نے مزاحمت کرتے ہوئے کہا ……”مجھے ذرا اپنے سہارے بیٹھنے دو ”…… لڑکی نے اسے زبردستی اپنے ساتھ لگا کر اس کا سر اپنے کندھے پر ڈال دیا ۔ اس نے حدید سے پوچھا …… ”میں جانتی ہوں تم مجھے بدکار لڑکی سمجھ کر مجھ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہو ”۔

”نہیں ”۔ حدید نے کہا …… ”میں تمہیں صرف لڑکی سمجھ کر دور رہنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اگر تمہیں اپنے قریب کرنے کر خواہش ہوتی تو دو راتیں تم بے بسی کی حالت میں میری قید میں رہی ہو۔ میں تمہیں اپنی لونڈی بنا سکتا تھا لیکن میں نے اپنے اوپر شیطان کا غلبہ نہیں ہونے دیا تھاتو ۔ اب تو مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میں امانت میں خیانت کر رہا ہوں۔ میرے اندر گناہ کا احساس پیدا ہو رہا ہے ”۔

”تم پتھر تو نہیں ہو؟” لڑکی نے اس سے پوچھا ……”مجھے تو جس مرد نے بھی دیکھا ہے بھوکی نظروں سے دیکھا ہے ۔ میں نے صرف اتنی سی قیمت دے کر تمہاری قوم کے دو مومنوں کے ایمان خرید لیے تھے ”۔

”کتنی قیمت؟ ”…… حدید نے پوچھا ۔

”صرف اتنی سی کہ انہیں پاس بٹھایا اور سر اپنے کندھے پر رکھ لیا تھا ”۔

”ان کے پاس ایمان تھا ہی نہیں ”۔ حدید نے کہا ۔

”جو کچھ بھی تھا ”۔ لڑکی نے کہا …… ”وہ میں نے ان سے لے لیا تھا ۔ اس کی جگہ ان کے دلوں میں اپنی قوم کے خلاف غداری ڈال دی تھی ”۔

”وہ کون ہیں ؟…… حدید نے پوچھا ۔

”ابھی نہیں بتائوں گی ”۔ لڑکی نے جواب دیا ……”جس طرح تم اپنے فرض کے پکے ہو اسی طرح مجھے بھی اپنا فرض عزیز ہے ”۔

حدید خاموش ہوگیا ۔ وہ لڑکی کے جسم کی حرارت اور ہلکی ہلکی بو محسوس کر رہا تھا ۔ لڑکی کے کھلے ہوئے ریشمی سے بال ہوا سے لہرا کر اس کے گالوں پر پڑ رہے تھے اور گالوں کو سہلا رہے تھے ۔ اسے اونگھ آگئی۔ گھوڑا چلتا رہا ۔ بہت دور جا کر حدید کی آنکھ کھلی تو سورج سر پر آچکا تھا ۔ اس نے کہا …… ”گھوڑے کو ایڑ لگائو ۔ مجھے اُمید ہے کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد شوبک پہنچ جائیں گے ۔”

لڑکی نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور صحرا تیزی سے پیچھے ہٹنے لگا ۔

٭ ٭ ٭

سورج غروب ہو چکا تھا۔ شوبک کے قلعے کے اس کمرے میں جہاں صلیبی حاکموں اور کمانڈروں کے اجلاس ہوا کرتے تھے ، وہاں حاکم اور کمانڈر بیٹھے تھے ۔ ان میں عالم جاسوس بھی بیٹھا تھا ۔ وہ کہہ رہا تھا ……”میں یہ نہیں بتا سکتا کہ دونوں لڑکیوں کا کیا حشر ہوا یا ہورہا ہے ۔ میں نے انہیں بچانے بلکہ انہیں دیکھنے کی بھی کوشش نہیں کی کیونکہ ان سے زیادہ قیمتی یہ راز تھا جو مجھے آپ تک پہنچانا تھا ۔ جیسا کہ میں آپ کو بتا چکا ہوں کہ ڈاکوئوں نے حملہ کیا تو میں موقع دیکھ کر ایک طرف ہوگیا اور گھوڑے تک پہنچ گیا ۔ ایک تو میری رہائی معجزہ ہے۔ دوسرا معجزہ یہ ہوا کہ میں اتنے خونریز معرکے میں سے صاف بچ کرنکل آیا ۔ کوئی بھی میرے پیچھے نہیں آیا ۔ میرا خیال ہے کہ وہ ڈاکو نہیں تھے ، سلطان صلاح الدین ایوبی کے بھیجے ہوئے آدمی تھے ۔ یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ اس نے ہم تینوں کو خود سزائے موت کیوں نہ دی اور لڑکیوں کو خراب کرانے کا یہ طریقہ کیوں اختیار کیا ۔ یہ ایک ڈھونگ تھا ۔ لڑکیاں اب ان لوگوں کے قبضے میں ہوں گی اور ظالمانہ اذیتیں برداشت کر رہی ہوں گی”۔

”انہیں چھڑانے کا ہم کوئی طریقہ نہیں سوچ سکتے”۔ایک صلیبی حاکم نے کہا ۔ ”یہ قربانیاں تو دینی پڑتی ہیں ۔ ہمارے پاس لڑکیوں کی کمی نہیں ۔ ہمارا یہ طریقہ کامیاب ہے۔ اسے جاری رکھنے کے لیے اور لڑکیاں تیار کرو …… سب آگئے ہیں ۔اب وہ راز بتائو جو تم اپنے ساتھ لائے ہو ”۔

عالم جاسوس انہیں سنا چکا تھا کہ وہ قاہرہ کی ایک مسجد سے کس طرح گرفتار ہوا تھا ۔ قید خانے میں اس کے ساتھ اور لڑکیوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا اور سلطان ایوبی نے انہیں کس طرح خلاف توقع رہا کیا۔ اس نے یہ بھی سنایا کہ یہ راز سلطان ایوبی نے اسے کس طرح دیا ہے۔ اس نے تاریخ بتا کر کہا ……”صلاح الدین ایوبی اس روز اپنی فوج کو کوچ کرائے گا ۔ وہ کرک پر حملہ کرے گا۔ نائب سالار کہہ رہے تھے کہ شوبک کو پہلے لینا چاہیے کیونکہ یہ مضبوط قلعہ ہے لیکن صلاح الدین شوبک پر اپنی طاقت نہیں ضائع کرنا چاہتا ۔وہ کرک کو کمزور سمجھ پر پہلے اسے لیناچاہتا ہے۔ وہاں وہ اپنی فوج اور رسد وغیرہ کا اڈہ بنائے گا ۔ رسد جمع کر کے وہ کمک بلائے گا اور فوج کو کافی آرام دے کر شوبک پر حملہ کرے گا ۔ اس نے یہ خاص طور پر کہا تھا کہ وہ ہمیں بے خبری میں لینا چاہتاہے۔ اس کی وجہ اس نے یہ بتائی ہے کہ اس کی فوج کم ہے اور ہماری فوج زیادہ بھی ہے اور ہمارے پاس گھوڑے بھی بہتر ہیں اور ہمارے پاس خود اور زرہ بکتر ہیں ۔ اس نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ اگر صلیبی فوج نے اسے راستے میں روک لیا تواسے شکست کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ۔ وہ کھلے میدان میں لڑنے سے ڈرتا ہے ”…… عالم جاسوس نے وہ تمام باتیں بتائیں جو اس نے سلطان ایوبی کی زبان سے سنی تھیں ۔

اتنے قیمتی اور اہم راز کی تفصیل سن کر لڑکیوں کو سب بھول گئے اور اس مسئلے پر تبادلہ خیالات کرنے لگے۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کر سلطان ایوبی غیرمعمولی طور پر دانشمند جنگجو ہے۔ اس نے کرک پر حملے کا جو پلان بنایا ہے اس میں اس کی جنگی فہم و فراست کا پتہ ملتاہے۔ راستے میں نہ لڑنے کا فیصلہ بھی اس کی دانائی کی دلیل ہے۔ وہ راستے میں طاقت ضائع نہیں کرنا چاہتا ۔ یہ خدائے یسوع مسیح کا خاص کرم ہے کہ اس کے پلان کاعلم ہوگیا ہے، ورنہ وہ کرک کو لے کر شوبک جیسے مضبوط دفاع کے لیے خطرہ بن سکتا تھا …… انہوں نے اسی وقت سلطان ایوبی کے پلان کے مطابق اپنی فوجوں کی نقل و حرکت اور اوردفاع کا پلان بنانا شروع کر دیا ۔ پلان میں یہ اقدامات طے پائے۔

صلیبی افواج کی متحدہ مرکزی کمان شوبک میں ہی رہے گی۔ رسد گاہ بھی وہیں رکھی جائے گی۔ جنگ کو شوبک سے ہی کنٹرول کیا جائے گا۔

کرک کی قلعہ بندی کواور زیادہ مضبوط کیا جائے گا ۔ کچھ اور فوج کرک منتقل کردی جائے گی۔

ایوبی کو کرک سے دور اس کی اپنی سرحد کیاندر کسی دشورا گزار علاقے میں روکا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے زیادہ سے زیادہ فوج بھیجی جائے گی۔ اس فوج میں گھوڑ سوار اور شتر سوار زیادہ ہوں گے۔ کوشش کی جائے گی کہ ایوبی کی فوج کو گھیرے میں لے لیا جائے۔ پانی کے چشموں پر پہلے سے قبضہ کر لیا جائے۔

ان اقدامات پر فوری طور پر عمل درآمد کے احکامات نافد کردئیے گئے۔ ہر کوئی خوش تھا۔ یہ پہلا موقعہ تھا کہ سلطان ایوبی کا کوئی راز قبل از وقت معلوم ہوگیا تھا ورنہ اس نے صلیبیوں کو ہمیشہ آڑے ہاتھوں لیا تھا ۔ اس پر حیرت کا بھی اظہار کیا گیا کہ سلطان ایوبی جیسے آدمی سے یہ لغزش سردز ہوئی کہ ان جاسوسوں کو دوسرے کمرے میں بٹھا کر جنہیں وہ رہاکرنے کا فیصلہ کر چکا تھا ایسی نازک باتیں بلند آواز سے کیں جو اسے شکست فاش سے دو چار کر سکتیں تھیں۔ انہوں نے ایک اہتمام یہ بھی کیا کہ فرانس کی فوج جو وہاں سے بہت دور تھی ۔ یہ پیغام بھیج دیا کہ فلاں دن سے پہلے پہلے ایسے مقام پرپہنچ جائے جہاں نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کو روکاجا سکے۔

اتنے میں ایک صلیبی افسر اندر آیا اور انٹیلی جنس کے سربراہ کے کان میں کچھ کہا ۔ اس سربراہ نے سب کو بتایا کہ ان دو میں سے ایک لڑکی جو ڈاکوئوں کے گھیرے میں آگئی تھی ابھی ابھی آئی ہے۔ اطلاع ملی ہے کہ اس کے ساتھ ایک زخمی مسلمان محافظ ہے۔ عالم جاسوس سب سے پہلے کمرے سے نکل گیا۔ اس کے پیچھے دوسرے لوگ بھی باہر چلے گئے۔ حدید کو لڑکی نے برآمدے میں لٹادیا تھا اور خود اس کے پاس بیٹھی تھی ، گھوڑے کی اتنی لمبی سواری اور تیز رفتاری نے حدید کے زخم کھول دئیے تھے۔ اس کا خون جو صبح بند ہو گیا تھا پھر بہنے لگا تھا اور اس پر غشی طاری ہوئی جا رہی تھی ۔ صلیبی کمانڈروں نے حدید کی طرف کوئی توجہ نہ دی کیونکہ انہیں بتایا گیاتھا کہ ڈاکوئوں کاحملہ ایک ڈھونگ تھا ۔ انہوں نے لڑکی کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اسے اندر چلنے کو کہا۔ وہ بڑی قیمتی لڑکی تھی لیکن اس نے اس وقت تک اندر جانے کاارادہ ملتوی کر دیا۔ جب تک حدید کی مرہم پٹی نہیں ہوجاتی ۔

انٹیلی جنس کا سرابراہ ہرمن نام کا جرمن تھا ۔ اس نے لڑکی کو پرے لے جاکر کہا …… ”کس سانپ کے بچے کی تم مرہم پٹی کرانا چاہتی ہو۔ یہ تو تمہاری قسمت اچھی تھی کہ بچ کر آگئی ہو ، ورنہ ر درندے تمہیں ان وحشیوں کے حوالے کرنا چاہتے تھے جو ڈاکو بن کر آئے تھے ”۔

”یہ جھوٹ ہے ”۔لڑکی نے جھنجھلا کر کہا ۔ ”پہلے ہمیں بھی یہی شک تھا لیکن اس شخص نے میرے سارے شکوک رفع کر دئیے ہیں۔ اس نے دو ڈاکوئوں کو ہلاک کرکے مجھے بچایا ہے ”۔ اس نے ہرمن کو ساراواقعہ سنادیا اور یہ بھی بتایا کہ یہ شخص اسے بار بار کہتاتھا کہ مجھے یہیں مرنے دو اور تم چلی جائو ۔

صلیبیوں کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اتنی گہری اُتری ہوئی تھی کے اتنے زیادہ افسروں میں سے کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ اس زخمی کی مرہم پٹی کرو۔ عالم جاسوس تک نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔ لڑکی ان کے ساتھ اندر نہیں جارہی تھی ۔ آخر کسی نے کہا کہ زخمی کو کمرے میں لے چلو اور فوراً مرہم پٹی کرو۔ اسے اُٹھوا کر لے گئے اور لڑکی اپنے افسروں کے ساتھ چلی گئی۔ اسے کہا گیا کہ وہ بیان کرے کہ کس طرح زندہ بچی ہے۔ اس نے پوری تفصیل سے سنا دیا ۔ اس دوران اس کے وہیں کھانا اور شراب آگئی۔ اس نے کہا ……”اگر زخمی کو کھاناکھلایا جا چکا ہے تو میں کھائوں گی ۔ میں ذرا اسے دیکھ آئوں ”……وہ جانے کے لیے اُٹھی ۔

”ٹھہرو لوزینا!”……ہرمننے اسے بڑے رعب سے کہا …… ”تم دوسری بار صلیب کی فوج کے احکامات کی خلاف ورزی کر رہی ہو۔ پہلے تمہیں اندر چلنے کو کہا گیا تو تم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ پہلے زخمی کو اُٹھائو ۔ اب تو بلااجازت اور بدتمیزی سے باہر جارہی ہو۔ یہ سب صلیبی فوج کے اعلیٰ احکام ہیں اور یہاں دو صلیبی حکمران بھی بیٹھے ہیں۔جانتی ہوںاس حکم عدولی اور بدتمیزی کی سزاکیا ہے ؟…… دس سال سزائے قید …… اور جب تم یہ حکم عدولی دشمن کے ایک معمولی سے عہدیدار کی خاطر کر رہی ہو، تم تمہیں سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے”۔

Read More:  Sun Mere Humsafar Novel By Sanaya Khan – Episode 30

”کیا صلیبی حکمران اور کانڈر اس انسان کو اس کا صلہ نہیں دیں گے کہ اس نے ان کی ایک تجربہ کار جاسوسہ کی جان اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچائی ہے ؟” لڑکی نے کہا …… ”میں جانتی ہوں کہ وہ میرے دشمن کی فوج کا عہدیدار ہے لیکن میں اسے دشمن اس وقت کہوں گی جب وہ اپنی فوج میں واپس چلا جائے گیا ”۔

”دشمن ہر حال میں اور ہر جگہ دشمن ہے ”……ایک صلیبی کمانڈر نے چلا کر کہا ……”فلسطین میں ہم نے کتنے مسلمانوں کو زندہ رہنے دیا ہے؟ اس کی نسل ہم کیوں ختم کر ہے ہیں ؟ اس لیے کہ وہ ہمارے دشمن ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ہمارے مذہب کے دشمن ہیں ۔ دنیا پر صرف صلیب کی حکمرانی ہوگی۔ ایک زخمی مسلمان ہمارے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتا ۔ بیٹھ جائو ”۔ لڑکی بیٹھ گئی۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اگلی صبح سے شوبک میں ایک نئی سرگرمی شروع ہوگئی۔ یہ فوجی نوعیت کی سرگرمی تھی شوبک کے شہر کے لوگ اس سرگرمی سے بے نیاز اپنے کام کاج میں مصروف ہوتے جا رہے تھے۔ قلعے سے فوجیں نکل رہی تھیں۔ سامان بھی ادھر ادھر کیا جا رہا تھا ۔ باہر سے آنی والی فوج کی عارضی خیمہ گاہ کے لیے جگہ خالی کی جا رہی تھی ۔ رسد اکٹھی کرنے کے لیے اونٹوں کی قطاریں آرہی تھیں۔ فوجی ہیڈ کوارٹر میں بھی بھاگ دوڑ تھی۔ یہ ساری تیاری صلاح الدین ایوبی کا حملہ روکنے کے لیے کی جا رہی تھی اور ان احکامات پر عمل درآمد شروع ہوگیا تھا جو گزشتہ رات کے پلان کے مطابق دئیے گئے تھے ۔ ہر ایک افسر اس افراتفری میں مصروف تھا۔ چند ایک بڑے افسر کرک روانہ ہوگئے تھے۔

صرف ایک لڑکی تھی جو اس سرگرمی اور بھاگ دوڑ سے لا تعلق تھی۔ یہ وہی لڑکی تھی جو زخمی حدید کو لائی تھی ۔ اس کے افسر نے اسے لوزینا کے نام سے پکارا تھا ۔ رات اسے کانفرنس کے کمرے سے آدھی رات کے بعد فراغت ملی تھی ۔ وہ جاسوسی کے خصوصی شعبے سے تعلق رکھتی تھی اس لیے کانفرنس میں اس کی ضرورت تھی ۔ اس سے قاہرہ کے ان افراد کے متعلق رپورٹیں لینی تھیں جن کے پاس وہ جاتی رہی تھی ۔ آدھی رات کے بعد نیند اور گھوڑ سواری کی تھکن نے اسے نڈھال کر دیا تھا ۔ کانفرنس کے بعد ایک افسر نے اسے کہا تھا …… ”اسے ڈاکٹر کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔ تمہیں اس کی اتنی زیادہ پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ تمہاری ڈیوٹی ایسی ہے جس میں ایسے جذبات کامیاب نہیں ہونے دیا کرتے ”…… اور اس کے اپنے شعبے کے بڑے افسر، ہرمن نے اسے کہا تھا ……”اگر آج رات میں نہ ہوتا تو نارڈ اور گے آف لوزینان جیسے بادشاہ کسی کو بخشا نہیں کرتے تمہیں قید میں ڈال دیتے ۔ تمہارے محافظ کا انتظام کر دیا گیاہے اور تمہارے لیے یہ حکم ہے کہ اسے تم نہیں ملو گی ”۔

”کیوں؟ ” …… لوزینا نے حیرت اور مایوسی سے پوچھا …… ”کیا میں اس کا شکریہ بھی ادا نہ کر سکوں گی؟”

”نہیں ”۔ہرمن نے کہا …… ”کیونکہ وہ دشمن کا فوجی ہے۔ تم اپنا شعبہ جانتی ہو کیا ہے۔ ہم تمہیں اس سے ملنے کی اجازت نہیں دے سکتے ۔ تمہیں دشمن کے ساتھ ایسی وابستگی کی اجازت نہیں دی جا سکتی ”۔

”آپ مجھے صرف اتنا سا یقین دلا دیں کہ اس کی مرہم پٹی ہوگئی ہے ”۔ لوزینا نے کہا ……”اور اسے صحیح و سلامت واپس بھیج دیا جائے گا ”۔

”لوزینا !” ہرمن نے جھنجھلا کر کہا …… ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تمہاری یہ خواہش پوری کر دی جائے گی اور سنو۔ تم بڑے مشکل اور خطرناک مشن سے واپس آئی ہو اور تمہارا سفر زیادہ خطرناک تھا ۔ تمہیں آرام کے لیے دس دن چھٹی دی جاتی ہے۔ مکمل آرام کرو ”۔

یہ باتیں رات کو ہوئی تھیں۔ وہ اپنے کمرے میں چلی گئی تھی۔ جاسوس لڑکیوں کی رہائش ہائی کمان کے مین کوارٹر سے بہت دور تھی۔ اس جیسی اعلیٰ درجے کی جاسوس لڑکیاں نہایت اچھے کمروں میں رہتی تھیں۔ جہاں انہیں شہزادیوں جیسی سہولتیں اور عیاشی میسر تھی۔ ان کی ڈیوٹی ایسی تھی کہ انہیں مسلمان ملکوں میں بھیجا جاتا تھا ۔جہاں پکڑے جانے کی صورت میں انہیں ہر قسم کے اذیت اورذلت میں ڈالا جا سکتا تھا ۔ موت یا سزائے موت تو یقینی تھی ۔ ایسی ڈیوٹی کا تقاضا تھا کہ ان لڑکیوں کو دنیا کی ہر آسائش مہیا کی جائے۔ لوزینا کمرے میں جاتے ہی سو گئی تھی۔ دوسرے دن اس کا جسم ٹوٹ رہا تھا ۔ وہ اُٹھنا نہیں چاہتی تھی لیکن وہ اُٹھی او ر ناشتہ کرکے باہر نکل گئی۔ اس کے ساتھ والے کمرے میں لڑکیاں آگئیں ۔ وہ اس سے قاہرہ کی باتیں سننا چاہتی تھیں۔ اس نے بہت ہی مختصر سی بات سنا کر انہیں ٹال دیا اور ہسپتال کی طرف چل پڑی۔

٭ ٭ ٭

وہ تھوڑی ہی دور گئی تھی کہ اس کی ایک ساتھی لڑکی جو اس کی ہمراز سہیلی تھی پیچھے سے جا ملی اور پوچھا …… ”لوزینا !کہاں جارہی ہو ؟ اور تم پریشان ہو۔ یہ تھکن کا اثر ہے یا کو ئی خاص واقعہ ہوگیا ہے ؟ تمہیں چھٹی نہیں ملی؟”

”چھٹی مل گئی ہے ”۔اس نے جواب دیا …… ”ایک خاص واقعہ ہوگیا ہے جس نے مجھے پریشان کر دیا ہے”…… وہ سہیلی کو ساتھ لیے ایک درخت کے نیچے جا بیٹھی اور اسے تمام واقعہ سنادیا ۔ اسے اپنے افسروںنے جو دھمکیاں دی تھیں وہ بھی سنائیں اور اس نے کہا …… ”میں حدید سے ملنا چاہتی ہوں ۔ مجھے ڈر ہے کہ اس کی مرہم پٹی نہیں ہوئی اورشہر سے نکال دیا گیا ہے یا اسے مرنے کے لیے کسی کوٹھری میں بند کر دیا گیا ہے ”۔

”تم نے بتایا ہے کہ تمہیں اس سے ملنے سے منع کر دیا گیا ہے”۔ سہیلی نے اسے مشورہ دیا …… ”یہ خطرہ مول نہ لو ۔ تم اگر پکڑی گئیں تو جانتی ہو کہ کیا سزا ہے ؟”

”اس شخص کے لیے میں سزائے موت بھی قبول کر لوں گی”۔لوزینا نے کہا …… ”میں تمہیں سنا چکی ہوں کہ اس نے میری خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالی ہے ۔میری جان کو تو کوئی خطرہ نہ تھا۔ ڈاکو مجھے لے بھی جاتے تو چند دن مجھے خراب کرکے کسی امیر کبیر کے ہاتھ فروخت کردیتے ۔ حدید میرے اس انجام سے آگاہ تھا ۔ ا س نے میری عزت کی خاطر اپنی جان کی بازی لگا دی تھی۔ ڈاکوئوں نے کہا بھی تھا کہ لڑکیاں ہمیں دے دو اور چلے جائو۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ میں پاکباز لڑکی نہیں مگر اس نے مجھے امانت سمجھا ”۔

”تم اس کے لیے جذباتی ہوگئی ہو؟”

”ہاں !”لوزینا نے جواب دیا …… ”میں جذبات کااظہار ہرمن کے آگے نہیں کر سکتی تھی ، اپنا دل تمہارے آگے رکھ سکتی ہوں۔ تم میری سہیلی ہو اور عورت کا دل رکھتی ہو۔ ہماری زندگی کیا ہے ؟ ہم ایک خوبصورت خنجر اور بیٹھا زہر ہیں ۔ ہمارا جسم مرد کی تفریح اورفریب کے لیے استعمال ہوتاہے۔ میںنے یہ باتیں پہلے کبھی نہیں سوچی تھیں۔ اپنے وجود کو جذبات سے خالی سمجھا تھا مگر اس آدمی کے جسم کو میں نے اپنے جسم کے ساتھ لگایا تو میرے وجود میں وہ سارے جذبات بیدار ہوگئے۔ جو میں سمجھتی تھی مجھ میں نہیںہیں۔ میں ایک ہی بارماں ، بہن ، بیٹی اور کسی کو چاہنے والی لڑکی بن گئی۔ یہ شاید اس کااثر تھا کہ اپنے آپ کومیں بادشاہوں کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی شہزادی سمجھتی تھی ”……

”مجھ میں اتنی تخریب کاری ڈالی گئی ہے کر جابر حکمرانوں کو بھی انگلیوں پر نچا سکتی ہوں۔مگر ڈاکوئوں نے مجھے بکنے والی چیز بنا دیا۔ مجھے اس سطح پر لے آئے جہاں مجھ جیسی لڑکیاں ہررات نئے گاہک کے ہاتھ فروخت ہوتی ہیں یا کسی مسلمان امیر یا حاکم کے ہاتھ فروخت ہو کر اس کے حرم کی لونڈیاں بن جاتی ہیں۔اس آدمی جس کا نام حدید ہے، مجھے اس سطح سے اُوپر اُٹھالیا۔ اس سے پہلے میں اس کی قیدی تھی۔ ا س نے مجھے قابل نہیں سمجھا کہ مجھے تفریح کا ذریعہ بناتا۔ وہ ایسا کرسکتا تھا۔ اس نے مجھے نظر انداز کیا پھر اس نے میری عزت بچانے کے لیے اپنا جسم کٹوالیا تو میں نے بے قابول ہو کر اسے اپنے سینے سے لگا لیا اور اس سطح کی لڑکی بن گئی جس سے مجھے گرا دیا گیا ہے۔ مجھے صلاح الدین ایوبی کی بات یاد آئی۔ اس نے مجھے کہا کہ تم کسی باعزت آدمی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کر لیتی؟ میں نے دل میں کہا تھا کہ یہ مسلمان احمق ہے۔ میں اب محسوس کر رہی ہوں کہ ہمارے دشمن نے کتنی عظیم بات کہی تھی …… میں تمہیں صاف بتا دیتی ہوں کہ میں اب جاسوسی نہیں کر سکوں گی۔ میرے دماغ میں بچپن سے جو سبق ڈالے گئے تھے وہ صحرا کی خوفناک رات نے ڈاکوئوں کے خطرے نے اور حدید کے جسم کی حرارت اور اس کے خون کی بو نے زائل کر دئیے ہیں ”۔

”تم اتنی لمبی بات نہ کرتی تو بھی جان گئی تھی کہ تم کیا محسوس کر رہی ہو ”۔ اس کی سہیلی نے کہا ……”لیکن میں حقیقت سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتی ہوں ۔ اسے چلے جانا ہے۔ تم اس کے ساتھ نہیں جا سکو گی۔ وہ اگر یہاں تکلیف میں ہے تو حکم ہے کہ تم اسے نہیں مل سکتیں۔ اگر پکڑی گئیں تو اپنے ساتھ اسے بھی مروائو گی”۔

”تو تم میری مدد کرو”۔لوزینا نے منت کی ۔ ”یہ معلوم کروکہ وہ کہاں ہے۔ مجھے صرف یہ معلوم ہوجائے کہ وہ ٹھیک ہوگیا ہے اور تندرستی کی حالت میں چلاگیا ہے تو میرے دل کو چین آجائے گا ”۔

”ہاں!” سہیلی نے کہا …… ”میں یہ کام کر سکتی ہوں ۔ تم کمرے میں چلی جائو ۔ وہ کمرے میں چلی گئی اور اس کی سہیلی کسی اور طرف نکل گئی ”۔

٭ ٭ ٭

قاہرہ میں بھی فوجوںمیں بہت سرگرمی تھی ۔ فوج کی جنگی مشقیں کرائی جا رہی تھیں۔ چند ایک دستے الگ کر لیے گئے تھے۔ انہیں شبخون مارنے ، تھوڑی تعداد میں دشمن کی کوئی گنا زیادہ نفری پرحملہ کرنے اور ”ضرب لگائواور بھاگو” کی مشقین اس طرح کرائی جارہی تھیں کہ رات کو بھی دستے چھاونی سے باہررہتے تے۔ سلطان ایوبی ذاتی طور پر یہ مشقیں دیکھتا تھا ۔ وہ تیسرے چوتھے روز اعلیٰ کمانڈروں اور دستوں کے کمانداروں تک کو لکچر دیتا اورانہیں نقشوں اور خاکوں کی مدد سے جنگی چالیں سکھاتا تھا ۔ اس نے اس ٹریننگ کا بنیادی اصول یہ رکھا تھا …… ”کم تعداد سے دشمن کا زیادہ نقصان کرنا۔ ہتھیار سے زیادہ عقل کو استعمال کرنا۔ آمنے سامنے کے معرکے سے گریز کرنا۔ سامنے سے حملہ نہ کرنا۔دس بارہ آدمیوں کے شبخون سے اتنا نقصان کرنا جتنا ایک سو آدمی دن کے وقت دُو بدو معرکے میں کر سکتے ہیں ”۔

اس کے علاوہ دشمن کے کسی قلعے یا شہر کو لمبے محاصرے میں رکھنے کے طریقے بتاتا اور قلعوں کی دیواروں میں نقب لگانے کے سبق دیتا تھا ۔ اس نے تمام اونٹوں ، گھوڑوں اور خچروں کا معائنہ کر لیا تھا ۔ کمزور یا عمر خورد جانوروں کو اس نے الگ کر دیا تھا …… حملے کی تاریخ طے ہوچکی تھی ۔ سلطان ایوبی نے فلسطین کی فتح کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کے پہلے مرحلے میں کامیابی سے داخل ہونے کی تیاری زور و شور سے کر رہا تھا ۔ ادھر اسے راستے میں ہی روکنے کے اہتمام ہو رہے تھے۔

دونوں فوجوں کی تیاریاں ایسی تھیں جیسے ایک دوسرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ صلیبیوں کی تیاری کا دائرہ شوبک سے کرک تک اور مصر کی سرحدوں تک تھا ۔ وہ اس وسیع دائرے کو سلطان ایوبی کے لیے ایسا پھندہ بنا رہے تھے جس میں سے اس کے لیے ساری عمر نکلنے کا کوئی امکان نظر نہ آتا تھا ۔ ان کی تیاریاں سلطان ایوبی کے اس منصوبے کی اس روشنی میں ہو رہی تھیں جو ان تک قبل از وقت پہنچ گیا تھا ۔

ان وسیع تیاریوں کے اندر شوبک میں ایک سرگرمی اور بھی تھی ، جس کا تعلق جنگ سے نہیں جذبات سے تھا اور یہ ایک خفیہ سرگرمی تھی۔ لوزینا اپنے کمرے میں پڑی حدید کے لیے بے قرار ہو رہی تھی اور اس کی سہیلی دو روز سے حدید کو ڈھونڈ رہی تھی ۔ وہ افسروں کے ہسپتال میں بھی نہیں تھا او و سپاہیوں کے ہسپتا ل میں بھی نہیں تھا ۔ وہ جاسوس لڑکی تھی ۔ بڑے بڑے افسر بھی اس کی عزت کرتے تھے۔ لوزینا کو اور ہر جاسوس لڑکی کو وہاں اہمیت حاصل تھی ۔ اس کے باوجود یہ سہیلی جس سے بھی پوچھتی کہ لوزینا کے ساتھ جو زخمی مسلمان آیا تھا وہ کہاں ہے تو اسے یہی ایک جواب ملتا …… ”میں نے تو اسے نہیں دیکھا ”……تیسرے دن ایک افسر نے اسے رازداری سے بتایا کہ اس کی مرہم پٹی کر دی گئی تھی اور اسے مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔

سہیلی نے جب یہ خبر لوزینا کو سنائی تو اس پر سکتہ طاری ہوگیا …… ”مسلمانوں کا کیمپ ”ایک خوفناک جگہ تھی ۔ اس میں پہلی جنگوں کے مسلمان قیدی بھی تھے اور وہ مسلمان بچے بھی جنہیں کسی جرم کے بغیر صلیبیوں نے اپنے مقبوضہ علاقے سے پکڑا تھا ۔ یہ مسلمان زیادہ تر ان قافلوں میں سے پکڑے جاتے تھے جنہیں صلیبی لوٹتے تھے۔ یہ کیمپ قیدخانہ نہیں تھا ، یہ جنگی قیدی کیمپ کہلاتا تھا ۔ یہ ایک بیگار کیمپ تھا جس پر کوئی ایسا کڑہ پہرا نہ تھا جیسا قید خانوں میں ہوتا ہے۔ ان بد نصیب قیدیوں کا کوئی باقاعدہ ریکارڈبھی نہ تھا ۔ یہ لوگ مویشی بنا دئیے گئے تھے ۔ جہاں ضرورت ہوتی ان میں سے بہت سے آدمی ہانک کر لے جائے جاتے اور ان سے کام لیا جاتا تھا ۔ انہیں خوراک صرف اتنی سی دی جاتی جس سے وہ زندہ رہ سکتے تھے۔ وہ خیموں میں رہتے تھے ۔ ان میں جو بیمار پڑ جاتا اس کا علاج اسی صورت میں کیا جاتا تھا کہ بیماری معمولی ہو۔ اگر بیماری فوراً زور پکڑلے تو اسے زہر دے کر مار دیا جاتا تھا ۔ یہ بد نصیب مسلمانوں کا ایک گروہ تھا جو صرف اس جرم کی سزا بھگت رہے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ سلطان ایوبی کو اس کے جاسوسوں نے اس بیگار کیمپ کے متعلق خبریں دے رکھی تھیں ۔

حدید کو بھی کیمپ میں بھیج دیا گیا تھا ۔ لوزینا کے لیے حکم تھا کہ اسے نہ ملے ۔ ہرمن کو شک ہوگیا تھا کہ ایک جذباتی وابستگی ہے ، لیکن لوزینا نے اس حکم کو قبول نہیں کیا تھا ۔ اس نے جب سنا کہ حدید ”مسلمانوں کے کیمپ” میں ہے تو اس نے سہیلی سے کہا کہ وہ اسے آزاد کرائے گی۔ سہیلی نے اس کی جذباتی حالت دیکھ کر مدد کا وعدہ کیا اور دونوں نے پلان بنالیا ۔

وہ اسی شہر میں گئی اور ایک پرائیویٹ ڈاکٹر سے ملی ۔ اسے کہا کہ وہ ایک زخمی کو لا رہی ہے جس کا علاج اسے اس شرط پر کرنا پڑے گا کہ اس کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتائے۔ ڈاکٹر نے اس رازداری کی وجہ پوچھی تو لوزینا نے کہا …… ”وہ ایک غریب سا مسلمان ہے جس نے میرے خاندان کی بہت خدمت کی ہے ۔ وہ کہیں لڑائی جگڑے میں زخمی ہوگیا ہے ۔ اس کے پلے کچھ بھی نہیں اس لیے کوئی ڈاکٹر اس کا علاج نہیں کرتا ۔ چونکہ یہاں تمام ڈاکٹر عیسائی ہیں اس لیے وہ کسی مسلمان کا علاج بلا اجرت نہیں کرتے ۔ رازداری کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر شہر کے منتظم تک یہ خبر پہنچ گئی کہ ان مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہوا ہے تو وہ اسی کو بہانہ بنا کر انہیں مسلمانوں کے کیمپ میں بھیج دے گا ۔ انہیں تو بہانہ چاہیے ۔ میں اس آدمی کو اس خدمت اور ایثار کا صلہ دینا چاہتی ہوں۔ جو اس نے میرے خاندان کے لیے کیا ہے ۔ میں اسے رات کے وقت لائوں گی ۔

آپ کتنی اُجرت لیں گے۔ میں رازداری کی بھی اُجرت دوں گی ”۔

اس دوران ڈاکٹر اسے سر سے پائوں تک دیکھتا رہا ۔ لوزینا نے اسے یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ کون ہے۔ یہی بتایا تھا کہ وہ ایک معزز گھرانے کی لڑکی ہے۔ لڑکی کا غیر معمولی حسن دیکھ کر ڈاکٹر جو اُجرت لینا چاہتا تھا ، اسے وہ زبان پر نہیں لا رہا تھا ۔ لوزینا اس میدان اور اس فن کی ماہر تھی ۔ و ہ مردوں کی نظریں پہنچانتی تھی ۔ اس نے اپنے فن کو استعمال کیا تو ڈاکٹر موم ہوگیا ۔ لوزینا نے سونے کے چار سکے اس کے آگے رکھ دئیے اور جب ڈاکٹر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا کہ تم سے زیادہ قیمتی سکہ نہیں تو لوزینا نے مخصوص مسکراہٹ سے کہا …… ”آپ جو قیمت مانگیں گے دوں گی۔ میرا کام کردیں ”۔

ڈاکٹر یہ سمجھ گیا کہ معاملہ خطرناک اور پر اسرار معلوم ہوتا ہے لیکن لوزینا کو دیکھ کر اس نے خطرہ قبول کر لیا اور کہا …… ”لے آئو ۔ آج رات، کل رات، جب چاہو لے آئو۔ اگر میں سویا ہوا ملوں تو جگا لینا ”…… اس نے ایک ہاتھ میں سونے کے سکے اور دوسرے ہاتھ میں لوزینا کا ہاتھ پکڑ لیا ۔

٭ ٭ ٭

اس مہم کا سب سے زیادہ نازک اور پر خطرہ مسئلہ تو یہ تھا کہ حدید کو کیمپ سے نکالا کس طرح جائے ۔ رات کو وہاں پہرہ برائے نام ہوتا تھا ۔ ان بدنصیب قیدیوں میں بھاگنے کی سکت ہی نہیں تھی ۔ صبح سورج نکلنے سے پہلے انہیں مشقت پر لگایا جاتا اور سورج غروب ہونے کے بعد کیمپ میں لایا جاتا ۔ان کی تعداد ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ تھی۔ لوزینا کی سہیلی نے کیمپ کے متعلق کچھ معلومات حاصل کرلیں جن میں ایک یہ بھی تھی کہ زخمی اور بیمار قیدیوں کو معمولی سی ایک ڈسپنسری میں ہر روز بھیجا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ صرف ایک پہرہ دار ہوتا ہے ۔ دوسرے دن لوزینا اپنی سہیلی کے ساتھ وہاں پہنچ گئی جہاں مریض قیدیوں کو لے جایا جا تا تھا۔ اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ پچیس تیس مریضوں کی ایک پارٹی نہایت آہستہ آہستہ چلتی آرہی تھی اور پہرہ دار ہاتھ میں لاٹھی لیے انہیں مویشیوں کی طرح ہانکتا لا رہا تھا ۔ جو تیز نہیں چل سکتے تھے انہیں وہ لاٹھی سے دھکیل دھکیل کر لارہا تھا ۔

دونوں لڑکیاں آگے چلی گئیں۔ ان کا انداز ایسا تھا جیسے تماشہ دیکھ رہی ہوں۔ جب مریضوں کا ٹولہ ان کے قریب سے گزر رہا تھا تو وہ ہر ایک کو دیکھنے لگتیں۔ اچانک لوزینا کو دھچکا لگا۔ حدید اسے قہر بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ اس کے اچھی طرح چلا نہیںجا رہا تھا ۔ اس کے چہرے سے وہ رونق اور رمق بجھ گئی تھی جو لوزینا نے زخمی ہونے سے پہلے دیکھی تھی ۔ حدید کے کندھے جھک گئے تھے۔ اس کے کپڑے خون سے لال تھے۔ خون خشک ہو چکا تھا ۔ لوزینا کی آنکھوں میں آنسو آگئے مگر حدید کی آنکھوں میں نفرت تھی ۔ اس نے منہ پھیر لیا …… یہ مریض ٹولہ آگے نکل گیا تو لوزینا اور اس کی سہیلی پہرہ دار سے باتیں کرنے لگیں جن میں ان مسلمان مریضوں کے خلاف نفرت تھی ۔ انہوں نے زبان کے جادو سے پہرہ دار کواپنا گرویدہ کرلیا اور کہا کہ وہ ازراہ مذاق ان قیدیوں کے ساتھ باتیں کرنا چاہتی ہیں ۔

ڈسپنسری میںدوسرے مریض بھی تھے۔ خاصا ہجوم تھا۔ قیدیوں کو ایک طرف بٹھادیا گیا ۔ لوزینا ان کے قریب چلی گئی اور اس کی سہیلی نے پہرہ دار کوباتوں میں اُلجھا لیا۔ حدید دیوار کے سہارے بیٹھ گیا تھا ۔ اس کی حالت اچھی نہیںتھی ۔ لوزینا نے آنکھ کے اشارے سے اسے پرے بلایا ۔ وہ جب اس کے قریب گیا تو لوزینا نے آہستہ سے کہا …… ”مجھے حکم ملا ہے کہ تم سے کبھی نہ ملوں۔ بیٹھ جائو ۔ ہم یہ ظاہر نہیں ہونے دیں گے کہ ہم باتیںکر رہے ہیں ”۔

”میں لعنت بھیجتا ہوں تم پر اور تمہارے حکم دینے والوں پر ”۔ حدید نے نحیف مگر غضبناک آواز میں کہا …… ”میں نے تمہیں کسی صلے کے لالچ میں ڈاکوئوں سے نہیں بچایا تھا ۔ وہ میرا فرض تھا۔ کیا تم فرض ادا کرنے والوں کے ساتھ یہ سلوک کرتے ہو ؟”

”چپ رہو حدید !”……لوزینا نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا …… ”یہ باتیں بعد میں ہوں گی ۔ مجھے بتائو کہ رات تم کس جگہ ہوتے ہو۔ آج رات تمہیں وہاں سے نکالنا ہے ”۔

حدید اس سے بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ لوزینا نے اسے آنسوئوں سے اور بڑی مشکل سے یقین دلایا کہ وہ اسے دھوکہ نہیں دے رہی ۔ حدید نے بتایا کہ وہ رات کو کہاں سوتا ہے ،وہاں سے نکلنا مشکل نہیں لیکن نکل کر وہ جائے گا کہاں ؟…… انہوں نے جلدی جلدی فرار کا منصوبہ بنالیا۔

٭ ٭ ٭

”مسلمانوں کا کیمپ” ایسی نیند سویاہوا تھا جیسے یہ لاشوں کی بستی ہو۔ پہرہ دار بھی سو گئے تھے۔ یہاں سے کبھی کوئی بھاگا نہیں تھا ۔ بھاگ کر کوئی جاتا بھی کہاں ! اس کے علاوہ پہرہ داروں کو یہ بھی معلوم تھا کو کوئی ایک آدھا بھاگ بھی گیا تو کون جواب طلبی کرے گا۔ رات پہلا پہر ختم ہورہا تھا کہ پھٹے پرانے ایک خیمے سے ایک آدمی پیٹ کے بل رینگتا ہوا خیموں کی اوٹ میں وہاں تک چلا گیا۔ جہاں اسے کوئی پہرہ دار نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ آگے اسے اندھیرے میں بھی کھجور کا درخت نظر آنے لگا جہاں تک اسے پہنچنا تھا ۔ ایک سایہ سر سے پائوں تک موٹے کپڑوں میں لپٹا ہوا کھڑا تھا۔ رینگنے والا اُٹھ کھڑا ہوا اور کھجور کے تنے تک پہنچ گیا۔ وہ حدید تھا ۔ لوزینا اس کی منتظر تھی ۔

”تیز چل سکو گے”…… لوزینا نے پوچھا۔

”کوشش کروںگا”…… حدید نے جواب دیا ۔

وہ کیمپ سے دور نکل گئے۔ آگے وسیع علاقہ غیر آباد تھا ۔ مشکل یہ تھی کہ حدید تیز نہیں چل سکتا تھا ۔ لوزینا نے اسے سہارا دے کر تیز چلانے کی کوشش کی اور اسے بتاتی گئی کہ اسے کیسے کیسے حکم اوردھمکیاں ملی ہیں۔ اس نے حدید کی غلط فہمی رفع کردی ۔ آگے شہر کی گلیاں آگئیں اور پھر ڈاکٹر کا گھر آگیا۔ تین چار بار دستک دینے سے ڈاکٹر باہر آگیا اور انہیں فوراً اندر لے گیا۔ اس نے حدید کے زخم کھول کر دیکھے تو کہا کہ کم از کم بیس روز مرہم پٹی ہوگی۔ یہ سن کر لوزینا کے سامنے ایک بہت ہی پیچیدہ مسئلہ آگیا ۔ و ہ یہ تھا کہ اتنے دن حدید کو چھپائے گی کہاں؟ اسے بیگار کیمپ میں واپس تو نہیں لے جانا تھا ۔ اس کی عقل جواب دے گئی۔ ڈاکٹر مرہم پٹی کر چکا تھا ، اس نے کہا کہ اسے نہایت اچھی اور مقوی غزا کی ضرورت ہے۔

لوزینا اسے پرے لے گئی اورکہا …… ”یہ جہاں رہتا ہے وہاں اسے اچھی غذا نہیں مل سکتی ۔ میں گھر میں اسے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔ آپ اسے یہیں رکھیں اورجو چیز اس کے لیے فائدہ مند ہو و ہ کھلائیں۔ مجھ سے آپ جتنی قیمت اور اُجرت مانگیں گے دوں گی ”۔

ڈاکٹر نے جو اُجرت بتائی وہ بہت ہی زیادہ تھی ۔ لوزینا نے کم کرنے کو کہا تو ڈاکٹر نے کہا ……”تم مجھ سے بہت ہی خطرناک کام کرا رہی ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ شخص مسلمانوں کے کیمپ سے لایاگیا ہ۔ اور یہ مصری فوج کا سپاہی ہے ۔ تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے ؟ مجھے منہ مانگی اُجرت دو گی تو تہارا یہ راز میرے گھر سے باہر نہیںجائے گا ”۔

”مجھے منظور ہے”……لوزینا نے کہا …… ”اور یہ بھی سن لو ڈاکٹر! اگر یہ راز فاش ہوگیا تو آپ زندہ نہیں رہیں گے”۔

ڈاکٹر نے حدید کو ایک کمرے میں لٹا دیا اور اسے بتایا کہ وہ ٹھیک ہونے تک یہیں رہے گا ۔ اس نے اندر سے اسے دودھ اور پھل لادئیے اور لوزینا کوایک اور کمرے میں لے گیا …… دوسرے دن لوزینا اور اس کی سہیلی نے کیمپ کی جاسوسی کی ۔ ڈسپنسری میں گئیں۔ مریض قیدی وہاں لے جائے گئے ۔ دونوں لڑکیوں نے پہرہ دار کے ساتھ گپ شپ لگا ئی اور اپنے خصوصی دھنگ سے باتیں کرکے معلوم کرلیا کہ حدید کی گمشدگی سے کیمپ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہاں کوئی ہلچل نہیں ۔

دن گزرتے گئے۔ ڈاکٹر کو چونکہ منہ مانگی قیمت اور اُجرت مل رہی تھی ، اس لیے اس نے حدید کو چھپائے بھی رکھا اور اس کا علاج پوری توجہ سے کرتا رہا۔ اسے مقوی غذا بھی دیتا رہا ۔ لوزینا شام کے بعد وہاں جاتی۔ کچھ دیر حدید کے ساتھ بیٹھتی اور بہت دیر ڈاکٹر کے کمرے میں گزارتی ۔ اس روز مرہ کے معمول میں بیس روز گزر گئے اور حدید کے زخم مل گئے۔ اس کی صحت بحا ہوگئی۔ لوزینا نے ڈاکٹر سے کہا کہ وہ کل رات کسی بھی وقت حدید کے لے جائے گی۔

دوسرے دن اس نے اپنی سہیلی کو استعمال کیا۔ چھوٹے عہدے کا ایک افسراس کی سہیلی کے پیچھے پڑا رہتا تھا۔ سہیلی نے اس افسر کو جھانسہ دیا اور لوزینا نے اس کے ٹرنک سے اس کی وردی نکال لی جو اس نے حدید کو پہنادی۔گھوڑے کا انتظام مشکل نہ تھا ۔ وہ بھی ہوگیا۔ یہ اہتمام اس لیے کیا جا رہا تھا کہ شہر کے اردگرد مٹی کی بہت اونچی دیوار تھی ۔ اس کے چار دروازے تھے جو رات بند رہتے تھے۔ ان دنوں دن کے وقت یہ دروازے کھلے رکھے جاتے تھے کیونکہ سلطان ایوبی کے آنے والے حملے کے لیے فوجوں اور ان کے سامان کی آمدو روفت جاری رہتی تھی ۔

سورج غروب ہونے سے کچھ دیر پہلے قلعے کے ایک بڑے دروازے کی طرف ایک صلیبی افسر گھوڑے پر جا رہا تھا ۔ اس کی کمر سے لٹکی ہوئی تلوار مسلمانوں کی طرح ٹیڑھی نہیں سیدھی تھی اور اس کا دستہ صلیب کی شکل کا تھا۔ و ہ ہر لحاظ سے صلیبی تھا۔ دروازہ کھلا ہوا تھا جس سے اونٹوں کا ایک کارواں رسد سے لدا ہوا باہر جارہا تھا۔ ظاہر یہی ہو تا تھا جیسے یہ گھوڑ سوار افسر اس کارواں کے ساتھ جارہا ہو۔ وہ کہیں باہر سے آرہا تھا ۔ اس نے افسر کو دیکھا اور مسکرایا ، مگر اس افسر نے مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے نہ دیا۔ ہرمن چند قدم اندر کو آیا تو اس نے گھوڑا روک لیا۔ اسے دو تین سو قدم دور لوزینا کھڑی نظر آئی جس نے ہرمن کو دیکھا تو وہاں سے تیز ی سے اپنے ٹھکانے کی طرف چلی گی۔

علی بن سفیان ک طرح ہرمن بھی جاسوس اور سراغرساں تھا۔ اس نے فوراً گھوڑا دروازے کی طرف گھمایا اور ایڑ لگادی ۔ وہ اپنا شک رفع کرنا چاہتاتھا۔ اس نے گھوڑے کوایڑ لگائی تو گھوڑا دوڑ پڑا۔ باہر جا کر ہرمن نے دیکھا کہ جو افسر اس کے پاس سے گزرا تھا وہ اتنی دور نکل گیا تھا کہ اس کے تعاقب میں جانا بیکار تھا۔ اس گھوڑ سوار نے دروازے سے نکلتے ہی گھوڑے کو ایڑ لگادی تھی ۔ گھوڑا بہت تیز رفتار تھا۔ ہرمن اسے دیکھتا رہا اور صحرا کی وسعت میں گم ہو گیا …… لوزینا نے حدید کو آزاد کراکے صلہ دے دیا تھا ۔

٭ ٭ ٭

ہرمن نے اپنا گھوڑا موڑا اور تیزی سے اندر گیا ۔ وہ سب سے پہلے مسلمانوں کے کیمپ میں گیا اور وہاں کے انچارج سے حدید کی نشانیاں بتا کر پوچھا کہ وہ کہاں ہے۔ کچھ پتہ نہ چلا۔ جس خیمے میں حدید کو رکھا گیا تھا وہاں کے رہنے والوں نے بتایا کہ ایک صبح وہ یہاں سے غائب تھا۔ وہ سمجھے کہ اسے ادھر ادھرکر دیا گیا ہے۔ ہرمن کا شک یقین میں بدل گیا۔ وہ حدید ہی تھا جسے اس نے صلیبی فوج کی وردی میں دروازے سے نکلتے دیکھا تھا ۔ وہ مزیدتفتیش سے پہلے لوزینا کے کمرے میں گیا ۔ وہ سر ہاتھوں میں تھامے رو رہی تھی ۔

”کیا تم نے اسے بھگایا ہے”……ہرمن نے گرج کر کہا۔ لوزینا نے آہستہ سے سر اُٹھایا۔ ہرمن نے کہا …… ”جھوٹ بولو گی تو میں تفتیش کرکے ثابت کردوںگا کہ اسے تم نے فرار میں مدد دی ہے ”۔

”نہ آپ کو تفتیش کی ضرورت ہے نہ مجھے جھوٹ بولنے کی ضرورت”…… لوزینا نے کہا …… ”میری زندگی ایک شاہانہ جھوٹ اور میرا وجود ایک خوبصورت دھوکہ ہے۔ اپنی روح کی نجات کے لیے میںسچ بول کر مر رہی ہوں ”۔ اس کی آواز میں غنودگی تھی جو بڑھتی چلی جارہی تھی ۔ وہ اُٹھی تو اس کی ٹانگیں لڑکھڑا ئیں۔ اس کے قریب ایک گلاس پڑا تھا جس میں چند قطرے پانی تھا۔ اس نے گلاس اُٹھا کر ہرمن کی طرف بڑھا کر کہا …… ”میں اپنے آپ کو سزائے موت دے رہی ہوں ۔ اس گلاس میں پانی کے چند قطرے گواہی دیں گے کہ میں نے اپنے ناپاک جسم کو سزائے موت اس لیے نہیں دی کہ اپنی قوم سے غداری کی اور دشمن کو قید سے بھگادیا ہے بلکہ میرا جرم یہ تھا کہ میں ان انسانوں کو دھوکے دینے گئی تھی جن کے ہاں کوئی دھوکہ اور فریب نہیں ۔ ان میں چار انسانوں نے میری عزت بچانے کے لیے جو میرے پاس تھی ہی نہیں ، دس ڈاکوئوں کامقابلہ کیا۔ پھر ایک انسان نے مجھے اپنا جسم کٹوا کر ڈاکوئوں سے چھینا۔ مجھے نیکی اور بدی ، محبت اور نفرت کا فرق معلوم ہوگیا تھا۔ میں سچ بول کر مر رہی ہوں ۔ یہ پر سکون موت ہے۔ ”

وہ گرنے لگی تو ہرمن نے اس کے ہاتھ سے گلاس لے کر اسے تھام لیا۔ لوزینا نے اپنے جسم کو جھٹکا دیا اور ہرمن کے بازوئوں سے نکل کر پر ے ہوگئی۔ اونگھتی ہوئی آواز میں بولی …… ”میرے جسم کو ہاتھ نہ لگائو۔ یہ اب تمہارے کام کا نہیں رہا۔ اس زہر نے اس میں سچ داخل کر دیا ہے۔ تمہیں ناپاک جسموں کی ضرورت ہے…… میں نے اسے بھگا یاہے۔ اسے میں نے بیس روز چھپائے رکھا تھا۔ اسے میں نے فرنینڈس کی وردی چرا کر پہنائی تھی ۔ اسے میں نے گھوڑا دیا تھا۔ میں اس کے ساتھ نہیں جا سکتی تھی۔ میں اس کے بغیر رہ بھی نہیں سکتی تھی، اس لیے میں نے زہر پی لیا ۔ اگر تم مجھے پکڑ نہ لیتے تو بھی میں زہر پی لیتی ”…… وہ پلنگ پر لڑھک گئی ۔ ہرمن کو اس کی آخری سرگوشی سنائی دی …… ”سچ بول کر مرنے میں کتنا سکون ہے ”…… اس نے آخری سانس اس طرح لی جیسے سکون سے آہ بھری ہو۔

اسے جب دفن کرچکے تو اک افسر نے پوچھا …… ”اس کا کوئی خاندان تھا تو انہیں اس کی موت کی اطلاع دے دو ”۔

”اس کا خاندان ہم ہی تھے” …… ہرمن نے جواب دیا …… ”اسے دس گیارہ سال کی عمر میں کسی قافلے سے اغوا کرکے لائے تھے”۔

صلاح الدین ایوبی کی فوج کو کوچ کیے تیسرا دن تھا۔ صلیبیوں نے اسے راستے میں روکنے کے لیے فوج بھیج دی تھی ۔ حملہ چونکہ کرک پر آرہا تھا ، اس لیے صلیبیوں نے شوبک سے زیادہ تر فوج کرک بھیج دی تھی ۔ اس کا ایک حصہ شام کی طرف بھیج دیا گیا تھا تا کہ نورالدین زنگی مدد کے لیے آئے تو اسے کرک سے کچھ دور روکا جا سکے اور اس فوج کا کچھ حصہ سلطان ایوبی کو راستے میں روکنے والی فو ج کو دیا گیا تھا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی فوج کو تین حصوں میں تقسیم کرکے کوچ کرایا تھا اور تینوں کو دوردور کھا تھا ۔ وہ جب اس مقام پر پہنچ گیا جہاں صلیبیوں سے ٹکر ہونی چاہیے تھی ، اس نے تینوں حصوں کے کمانڈروں اور ان کے ماتحت کمانڈروں کو اپنے خیمے میں بلایا۔

”ہم اس مقام پر آگئے ہیں جہاں راز فاش کردینا چاہیے ”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ”تم شاید حیران ہور ہے ہوگے کہ میں تمہیں یہ بتاتا رہا ہوں کہ میں کرک پر حملہ کروں گا مگر میں تمہیں کسی اور طرف لے آیا ہوں ۔ میں کرک پر حملہ نہیں کر رہا ۔ ہماری منزل شوبک ہے۔ ایک سوال تم سب کو پریشان کر رہاہے کہ میںنے ان تین جاسوسوں کو جن میں ایک عالم تھا اور دو لڑکیاں ، کیوں رہا کر دیا تھا اور انہیں محافظ کیوں دئیے تھے۔ اس سوال کا جواب سن لو ۔ میں نے انہیں اپنے ساتھ والے کمرے میں بٹھا کر درمیان کا دروازہ کھلا رکھا اور علی بن سفیان اوردو نائبین کو یہ بتانا شروع کردیا کہ میں فلاں تاریخ کو کرک پر حملہ کررہا ہوں۔ میں جانتا تھا کہ جاسوس سن رہے تھے۔ میں نے ان کے کانوں میں یہ بھی ڈالا کہ میں صلیبیوں سے کھلے میدان کی جنگ سے ڈرتا ہوں ”……

”اس قسم کی باتیں ان کے کانوں میں ڈال کر انہیں رہا کردیا اور انہیں محافظ دئیے تا کہ وہ صحیح و سلامت شوبک پہنچ جائیں۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ راستے میں ایک حادثہ ہوگیا ہے۔ ڈاکوئوں نے تین محافظوں اور ایک لڑکی کو مار ڈالا ہے۔ چوتھا محافظ کل رات شوبک سے واپس آگیا ہے۔ وہاں ہمارے جو جاسوس ہیں انہوں نے اطلاع دی ہے کہ عالم جاسوس زندہ شوبک پہنچ گیا تھا جس نے میرا دھوکہ کامیاب کردیا ہے۔ صلیبیوں نے اپنی فوج میری مرضی کے مطابق تقسیم کردی ہے۔ اس وقت تمہاری فوج کا بائیں والا حصہ صلیبیوںکی بہت بڑی فوج کے بائیں پہلو سے چار میل دور ہے ”۔

اس نے بائیں حصے کے کمانڈر سے کہا …… ”آج سورج غروب ہونے کے بعد تم اپنے تمام گھوڑ سوار دستے سیدھے آگے دو میل لے جائو گے۔ وہاں سے اپنے بائیں کو ہوجانا۔ چار میل سیدھا جانا پھر بائیں کو جانا اور دو میل پر تمہیں دشمن آرام کی حالت میں ملے گا۔ حملہ کرنا تم جانتے ہو۔ یہ تیز ہلہ ہوگا۔ راستے میں جو کچھ آئے اسے کچلتے ہوئے نکل آئو اور اپنی اسی جگہ پر آجائو جہاں سے چلے تھے۔ دوسرا حصہ شام کے بعد سیدھا آگے بڑھے گا۔ آٹھ نو میل جاکر بائیں کو ہوجائے گا۔ تمہیں دشمن کی رسد اور قافلے ملیں گے۔ اس کے علاوہ تم دشمن کے عقب میں ہوگے۔ دن کے وقت دشمن بائیں والے کے تعاقب میں آئے گا لیکن تم سامنے کی ٹکر نہیں لو گے ۔ دن کو بہت پیچھے آجائو گے۔ رات کو پھر حملہ کرو گے اور رکو گے نہیں۔ صلیبی آگے بڑھیںگے تو درمیان والا حصہ عقب سے حملہ کرے گا اور دشمن کے سنبھلنے تک بکھر جائے گا ۔ تیسرا حصہ جو میرے ساتھ ہے، آج رات کوچ کر رہا ہے۔ ہم کل دوپہر تک شوبک کا محاصرہ کر چکے ہوںگے۔ باقی دو حصے صلیبیوں کو ان طریقوں سے جن میں تمہیں مشق کراتا رہا ہوں ، دشمن کو صحرا میں پریشان کیے رکھیں گے۔ اس تک رسد نہیں پہنچنے دیں گے ۔وہ جوں ہی پانی کے چشمے سے ہٹے گا تم چشموں پر قبضہ کرلوگے۔ حملہ ہمیشہ پہلو سے کروگے اور لڑنے کے لیے رکو گے نہیں ۔ جانباز دستے ہر رات دشمن کے مویشیوں پر آگ پھینکیں گے ”۔

یہ ١١٧١ء کے آخری دن تھے جب کرک والوں کو سلطان ایویب کے لیے انتظار کے بعدپتہ چلا کہ شوبک جیسا اہم قلعہ سلطان ایوبی کے محاصرہ میں آگیا ہے جب کہ زیادہ ترفوج کرک میں اکھٹی کرلی گئی ہے اور صحرا میں بھیج دی گئی ہے۔ شوبک کو وہ کوئی مدد نہیںدے سکتے تھے۔ صحرا میں جو فوج گئی تھی ، مسلمان اس کا برا حشر کر رہے تھے۔ صلیبیوں کی پریشانی یہ تھی کہ مسلمان سامنے آکر نہیں لڑتے تھے۔ وہ گوریلا اور کمانڈو طرز کے حملے سے ان کا نقصان کر رہے تھے۔ انہوں نے رسد روک لی تھی ۔ پانی پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا تھا۔ صلیبیوں کی یہ فوج نہ لڑنے کے قبل رہی تھی نہ پیچھے ہٹ کر شوبک کو بچانے کے لیے پہنچ سکتی تھی۔

شوبک میں صلیبیوں نے قلعے اور شہر کی دیواروں سے تیروں اور برچھیوں سے بہت مقابلہ کیا لیکن سلطان ایوبی کے نقب زن دستوں نے دیواریں توڑ لیں۔ یہ محاصرہ تقریباً ڈیڑھ مہینہ جاری رہا ۔ آخر سلطان ایوبی شوبک میں داخل ہوگیا۔ وہ سب سے پہلے بیگار کیمپ میں گیا، جہاں کے بدنصیب قیدیوں نے شکرکے سجدے کیے۔ صلیبیوں کی صحرا والی فوج بے ترتیبی میں پسپا ہو کر کرک کے قلعے میں چلی گئی جہاں بہت سی فوج بیکار بیٹھی صلاح الدین ایوبی کا انتظار کر رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: