Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 7

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 7

–**–**–

“جب ایونا عائشہ بنی”
جلد اول
١١٧٢ء کا دوسرا مہینہ گزر رہا تھا ۔ شوبک کا قلعہ تو سر ہو چکا تھا لیکن شہر میں ابھی بدنظمی اور افراتفری تھی ۔ عیسائی اپنے کنبوں سمیت وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ کچھ بھاگ بھی گئے تھے۔ انہیں ڈر یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جس طرح انہوں نے شوبک کے مسلمان باشندوں پر ظلم و تشدد روا رکھا تھا ، اسی طرح اب مسلمان ان کا جینا حرام کردیں گے۔ اس انتقامی کاروائی سے وہ اتنے خوفزدہ ہوئے کہ انہوں نے جب اپنی فوج کو قلعے سے بھاگتے، سلطان ایوبی کے تیر اندازوں کے تیروں سے مرتے اور ہتھیار ڈالتے دیکھا تو بال بچوں کو لے کر گھروں سے نکلنے لگے۔ مسلمان سپاہ نے انہیں جانے نہیں دیا تھا۔ سالاروں اور کمانداروں نے اپنے طور پر حکم دے دیا تھا کہ شہر سے کسی شہری کو کہیں جانے نہ دیا جائے ۔ چنانچہ سپاہی بھاگنے والے عیسائیوں کو ریگستان کے دُور دراز راستوں، گوشوں اور ٹیلوں کے علاقوں سے روک روک کر واپس بھیج رہے تھے۔

یہ لوگ دراصل اپنے اور اپنے حکمرانوں کے گناہوں کی سزا سے بھاگ رہے تھے۔ انہوں نے یہاں کے مسلمانوں کو کیڑے مکوڑے بنا رکھا تھا ۔ ”مسلمانوں کا کیمپ ” اس کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔سلطان ایوبی کو اس کیمپ کا علم تھا ۔ وہ شوبک میں داخل ہوتے ہی اس کیمپ میں پہنچا تھا ۔ ایک اندازے کے مطابق وہاں دو ہزار کے قریب مسلمان قید تھے۔ یہ دو ہزار لاشیں تھیں۔ ان سے مویشیوں کی طرح کام لیا جاتا تھا۔ ان سے غلاظت تک اُٹھوائی جاتی تھی ۔ ان میں بہت سے ایسے بھی تھے جو یہاں جوانی میں لائے گئے تھے اور بوڑھے ہو چلے تھے۔ وہ بھول گئے تھے کہ وہ انسان ہیں ۔ ان میں پہلی لڑائیوں کے جنگی قیدی بھی تھے اور ان میں اُن بد نصیبوں کی تعداد زیادہ تھی جنہیں صلیبیوں نے قافلوں سے اور شہر سے پکڑ کر کیمپ میںڈالا تھا۔ یہ امیر کبیر تاجر تھے یا خوبصورت لڑکیوں کے باپ تھے۔ ان سے دولت، مال اور لڑکیاں چھین لی گئی تھیں ۔ ان میںشہر کے وہ مسلمان بھی تھے جن کے خلاف یہ الزام تھا کہ وہ سلطنت اسلامیہ کے وفادار اور صلیب کے دشمن ہیں ۔ شہر میں جو مسلمان رہتے تھے وہ نماز اور قرآن گھروں میں چھپ چھپ کر پڑھتے تھے ، وہ بھی اس طرح کہ آواز باہر نہ جائے …… وہ معمولی حیثیت کے عیسائیوں کو بھی جھک کر سلام کرتے تھے۔ اپنی جوان بیٹیوں کو تو وہ پردے میں رکھتے ہی تھے۔ اپنی معصوم بچیوں کو بھی وہ باہر نہیں نکلنے دیتے تھے۔ عیسائی خوبصورت بچیوں کو اغوا کرلیتے تھے۔

سلطان ایوبی نے جب ان دوہزار زندہ لاشوں کو دیکھا تو اس کے آنسو نکل آئے تھے۔ اس نے کہا تھا …… ”ان مظلوموں کو آزاد کرانے کے لیے میں پوری کی پوری سلطنت اسلامیہ کو دائو پر لگا سکتا ہوں ”…… اس نے ان کی غذا اور اُن کی صحت کے لیے فوری احکامات جاری کر دئیے تھے اور کہا تھا کہ ابھی انہیں اسی جگہ رکھا جائے اور انہیں بستر مہیا کیے جائیں ۔ اس کے پاس ابھی ان کی کہانیاں سننے کے لیے وقت نہیں تھا۔ اسے ابھی باہر کی کیفیت میں قابو کو لانا تھا۔ باہر کا یہ عالم تھا کہ جنگ ابھی جاری تھی جس کی نوعیت کھلی جنگ کی سی نہیں تھی ۔ صورت یہ تھی کہ صلیبی فوج جو سلطان ایوبی کے دھوکے میں آکر کرک اور شوبک سے دور اُس فوج کو روکنے کے لیے چلی گئی تھی وہ بکھر کر پسپا ہو رہی تھی ۔ مسلمان دستے اُس پر شب خون مار مار اور زیادہ بُرا حال کر رہے تھے ۔ سلطان ایوبی کو اطلاعیں مل رہی تھیں کہ بعض جھڑپوں میں اس کے دستے گھیرے میں آکر نقصان اُٹھا رہے تھے۔ یہ خطرہ بھی تھا کہ کرک کے قلعے میں جو صلیبی فوج ہے ، وہ صحرا میں پھنسی اور بکھری ہوئی اپنی فوج کی مدد کے لیے بھیج دی جائے گی ۔

اس صورت حال کے لیے سلطان ایوبی کے پاس فوج کی کمی تھی ۔ مصر سے وہ کمک نہیں منگوانا چاہتا تھا کیونکہ وہاں کی سازشیں دبی نہیں تھیں۔ معزول کی ہوئی فاطمی خلافت کے حامی درپردہ سازشوں میں مصروف تھے۔ سوڈانی حبشی الگ طاقت جمع کر رہے تھے۔ ان دونوں کو صلیبی مددد ے کر سلطان ایوبی کے خلاف متحد کر رہے تھے۔ سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ متعدد مسلمان سیاسی اور فوجی سربراہ بھی سلطان ایوبی کے خلاف درپردہ کاروائیوں میں مصروف تھے۔ یہ ایمان فروشوں کا ٹولہ تھا جواقتدار کے حصول کے لیے اسلام کے دشمنوں کے ساتھ سازباز کر رہاتھا ۔ انہوں نے حشیشین کے پیشہ ور قاتلوں کی خدمات بھی حاصل کر لی تھیں ، جنہوں نے سلطان ایوبی کے قتل کا منصوبہ بنالیاتھا۔

صلاح الدین ایوبی نے کئی بار کہا تھا کہ صلیبیوں کی یہ کتنی بڑی کامیابی ہے کہ وہ میرے ہاتھوں مسلمانوں کو قتل کرارہے ہیں۔ وہ بیشک ایمان فروش ہیں جنہیں میں نے غداری کی پاداش میں سزائے موت دی ہے لیکن وہ مسلمانے تھے، کلمہ گو تھے، کاش، یہ لوگ اپنے دشمن کو پہچان لیتے

اب جب کہ شوبک کا قلعہ اس کے قدموں میں تھا اور وہ قلعے کی دیوار پر اپنے فوجی مشیروں وغیرہ کے ساتھ گھوم رہا تھا اسے شہر کے مسلمان باشندے گروہ در گروہ ناچتے اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتے نظر آرہے تھے۔ اونٹوں پر شہیدوں کی لاشیں اور زخمی لائے جا رہے تھے، سلطان ایوبی گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا۔ اس کا دستِ راست بہائوالدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتا ہے …… ”صلاح الدین ایوبی کے چہرے پر فتح و نصرت کا کوئی تاثر نہیں تھا۔ خوشیاں منانے والے شوبک کے مسلمانوں کا ایک گروہ دف اور شہنائی کی تال پر ناچتا اس دیوار کے دامن میں آن رکا جہاں ہم کھڑے تھے۔صلاح الدین ایوبی انہیں دیکھتا رہا۔ لوگ اسے دیکھ کر پاگلوں کی طرح ناچنے لگے۔ ایوبی کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تک نہ آئی۔ اس نے ان لوگوں کے لیے ہاتھ تک نہیں ہلایا۔ بس دیکھ رہا تھا۔ گرہ میں سے کسی نے بلند آواز سے کہا …… صلاح الدین بن نجم الدین ! تم شوبک کے مسلمانوں کے لیے پیغمبر بن کر اُترے ہو …… وہ لوگ عربی نسل کے تھے۔ ایک دوسرے کو باپ کے نام سے پہچانتے اور پکارتے تھے۔ اس لیے ان میں بیشتر صلاح الدین ایوبی کو بن ایوب یا بن نجم کہتے تھے۔ سلطان ایوبی کُرد نسل سے تھا ”……

”ناچنے والوں میں کسی نے نعرہ لگایا …… کُر کے بچے ! ہم تیری پیغمبری کو سجدہ کرتے ہیں…… صلاح الدین ایوبی یکلخت بیدار ہوگیا۔ تڑپ کر بولا۔ انہیںکہو مجھے گناہگار نہ کریں۔ میں پیغمبروں کا غلام ہوں۔ سجدے کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے…… میں نے سلطان کے ایک محافظ سے کہا ، بھاگ کر جائو اور ان لوگوں سے کہو کہ ایسے نعرے نہ لگائیں …… آرام سے کہنا۔ ان کا دل نہ دکھانا۔ انہیں ناچنے دو انہیں گانے دو۔ انہوں نے جہنم سے نجات حاصل کی ہے۔ میری زندگی ان لوگوں کی خوشیوں کے لیے وقف ہے …… وہ اور کچھ نہیں کہہ سکا کیونکہ اس کی آواز بھرا گئی تھی ۔ یہ جذبات کا غلبہ تھا ۔ اس نے منہ پھیر لیا،، وہ ہم سب سے اپنے آنسو چھپا رہا تھا ۔ کچھ دیر بعد اس نے ہم سب کی طرف دیکھا اور کہا …… ہم ابھی فلسطین کی دہلیز پر پہنچے ہیں ۔ ہماری منزل بہت دُور ہے۔ ہمیں شمال میں وہاں تک جانا ہے جہاں سے بحیرئہ روم کا ساحل گھوم کر مغرب کو جاتا ہے۔ ہمیں سرزمین عرب سے آخری صلیبی کو دھکیل کر بحیرئہ روم میں ڈبونا ہے ”۔

وہیں سلطان ایوبی نے اپنے متعلقہ مشیر کو حکم دیا کہ سارے شہر میں منادی کرادو کہو کہ کوئی غیر مسلم اس خوف سے شہر سے نہ بھاگے کہ مسلمان انہیں پریشان کریں گے۔ کسی کو کسی مسلمان فوجی یا شہری سے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ قلعے کے دروازے پر شکایت کرے۔ اس کا ازالہ کیا جائے گا۔ اس نے زوردے کر کہا کہ ہم کسی کے لیے تکلیف اور مصیبت کا نہیں پیار اور محبت کا پیغام لے کر آئیںہیں۔ اگر کسی نے اسلامی حکومت کے خلاف کوئی بات یا حرکت کی تو اسے اسلامی قانون کے تحت سزا دی جائے گی جو بہت سخت ہوگی اور یاد رکھو کہ اسلامی قانون سے نہ کوئی غیر مسلم بچ سکتا ہے نہ مسلمان …… اس کے ساتھ ہی اس نے حکم دیا کہ شہر میں اگر کوئی صلیبی فوجی یا جاسوس چھپا ہوا ہے یا اسے کسی نے اپنے گھر میں پناہ دے رکھی ہے تو وہ فوراً اپنے آپ کو مسلمان فوج کے حوالے کردے۔

سلطان ایوبی کی فوج قلعے کی ایک دیوار توڑ کر اندر گئی تھی۔ اس نے حکم دے رکھا تھا کہ قلعے کے اس حصے پر فوراً قبضہ کیا جائے جہاںصلیبیوں کا محکمہ جاسوسی کا مرکز تھا۔ اس کے جاسوسوں نے اسے اس مرکز کے متعلق بہت سی معلومات دے رکھی تھیںاور راہنمائی بھی کی تھی مگر صلیبی اتنے اناڑی نہیں تھے۔ انہوں نے سب سے پہلے اسی حصے کو خالی کیا اور دستاویزات نکال لے گئے تھے۔ ان کی جاسوسی کا سربراہ ،ہرمن اور اس کے دیگر ماہرین وہاں سے غائب ہوچکے تھے۔ البتہ آٹھ لڑکیاں پکڑی گئیں تھیں جو علی بن سفیان کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ وہ ان سے معلومات لے رہا تھا ۔ ان لڑکیوں نے بتایا تھا کہ کم و بیش بیس لڑکیاں وہاں سے نکل گئی ہیں۔ وہ سب اپنے طور پر بھاگی تھیں۔ ان کے ساتھ کوئی مرد نہیں تھا۔ مرد جاسوس بھی نکل گئے تھے۔ ان آٹھ لڑکیوں میں سے ایک نے اپنی ساتھی لڑکی ، لوزینا کے متعلق بتایا تھا کہ اس نے ایک مسلمان فوجی )حدید( کو قلعے سے فرار کراکے خود کشی کر لی تھی ۔ —

قسط 63

شوبک میں امن اورشہری انتظامات بحال کرنے کی سرگرمیاں تھیں اور کرک میں شوبک پر حملے اور اسے سلطان ایوبی سے چھڑانے کی سکیمیں بن رہی تھیں لیکن صلیبی حملے کے لیے اتنی جلدی تیار نہیں ہو سکتے تھے جتنا وہ سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے پہلا سوال تو یہ تھا کہ ان کے عالم جاسوس نے بڑی پکی اطلاع دی تھی کہ سلطان ایوبی کرک پر حملہ کرے گا۔ اس کی فوجیں کرک کی طرف آرہی تھیں۔ ان کے قاہرہ کے جاسوسوں نے بھی ناقابلِ تردید اطلاعیں دی تھیں کہ سلطان ایوبی کی فوج کرک پرحملہ کرے گی جس کی کمان وہ خود کرے گا مگر آدھے راتے سے اس کی فوجوں نے رُخ بدل دیا اور ایسی چالیں چلیں کہ صلیبی فوج جو مسلمانوں کو روکنے کے لیے گئی تھی ، شب خونوں کی زد میں آگئی اور سلطان ایوبی نے کرک سے اتنی زیادہ دُور شوبک پر حملہ کر دیا۔

یہ سوال ایک کانفرنس میں پیش کیا گیا تھا جس میں صلیبی فوج کے اعلیٰ افسر اور صلیبی حکمران موجود تھے۔ ان کے محکمہ جاسوسی کا سربراہ ، جرمن نژاد ہرمن اور عالم جاسوس جسے سلطان ایوبی نے قاہرہ سے گرفتار کرکے رہا کردیاتھا، ملزموں کی حیثیت سے کانفرنس میں پیش کیے گئے تھے۔عالم جاسوس شوبک کے قلعے سے بھاگنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اسے کانفرنس میں ہتھکڑیوں میں پیش کیا گیاتھا۔ اس پر الزام یہ تھا کہ اس نے غلط اطلاع دے کر مسلمانوں کو فائدہ پہنچایا اور ان کی فتح کا باعث بنا ہے۔ اس نے ایک بار پھر بیان دیا کہ اسے یہ اطلاع کس طرح ملی تھی کہ سلطان ایوبی کرک پر حملہ کرے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر اس کی اطلاع میں کوئی شک تھا تو متعلقہ محکمے کو اس کے مطابق عمل نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اس کے اس بیان پر ہرمن سے پوچھا گیا کہ اس نے جاسوسی کے ماہر کی حیثیت سے کیوں تسلیم کر لیا تھا کہ اس جاسوس کی لائی ہوئی اطلاع بالکل صحیح ہے۔

”مجھے اس ضمن میں بہت کچھ کہنا ہے ”…… ہرمن نے کہا …… ”میں یہ دعویٰ کر سکتا ہوں کہ میں جاسوسی اور سراغرسانی کا ماہر ہوں مگر کئی مواقع ایسے آئے ہیں جن میں میری مہارت اور میرے جاسوسوں کی محنت اور قربانی کو نظر انداز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میری مہارت فوج کی مرکزی کمان کے حکم یا کسی بادشاہ کے حکم کی نذر ہوگئی۔ اس کانفرنس میں تین حکمران موجود ہیں اور ان کی متحدہ کمان کے اعلیٰ کمانڈر بھی موجود ہیں اور جبکہ ہم اتنی بڑی شکست سے دوچار ہوئے ہیں جس میں شوبک جیسا قلعہ ہاتھ سے نکل گیا ہے ، اس کے ساتھ میلوں وسیع علاقے پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا ہے ، سال بھر کی رسد اور دیگر سازوسامان دشمن کے ہاتھ لگا ہے اور شوبک کی پوری آبادی مسلمانوں کی غلام ہوگئی ہے، میں آپ کی خامیاں اور احمقانہ حرکتیں آپ کے سامنے رکھنا اپنا فرض سمجھتا ہوں اور میں آپ سب کوبصد احترام یاد دلاتاہوں کہ ہم نے صلیب پر حلف اُٹھایا ہے کہ صلیب کے وقار کے لیے اپنا آپ قربان کردیں گے۔ اگر آپ میں سے کسی کے ذاتی وقا ر کو ٹھیس پہنچے تو اسے صلیب کا وقار پیشِ نظر رکھنا چاہئے”۔

ہرمن کی حیثیت ایسی تھی کہ نارڈ، گے آف لوزینان اور شاہ آگسٹس جیسے خود سر بادشاہ بھی اس کی بات رد کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ جاسوسی کا تمام تر نظام اس کے ہاتھ میں تھا۔ ان میں تباہ کار جاسوس بھی تھے۔ ہرمن کسی بھی حکمران کو خفیہ طریقے سے قتل کرانے کی ہمت اور اہلیت رکھتا تھا۔ اسے اجازت دے دی گئی تھی کہ وہ اپنا تجزیہ پیش کرے۔

”میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ دشمن کے راز معلوم کرنے کے لیے اور اس کی کردار کشی کے لیے صرف لڑکیوں پر کیوں بھروسہ کیا جا رہا ہے ”۔اُس نے پوچھا۔

”اس لیے کہ عورت انسان کی بہت بڑی کمزوری ہے ”…… کسی حکمران نے کہا …… ”کردار کشی کا بہترین ذریعہ عورت ہے ، خواہ وہ تحریر میں یا گوشت پوست کی صورت میں ہو۔ کیا تم اس سے انکار کر سکتے ہو کہ عرب میں بہت سے مسلمان امراء قلعہ داروں اور وزراء کو ہم نے عورت کے ہاتھوں اپنا غلام بنا لیا ہے ؟”

”لیکن آپ یہ نہیں سوچ رہے کہ اس وقت مسلمانوں کی حکومت فوج کے ہاتھ میں ہے ”۔ ہرمن نے کہا ۔ ”اُن کا خلیفہ اپنا حکم نہیں منوا سکتا۔ فوجی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ۔ صلاح الدین ایوبی کی مصر میں حیثیت ایک گورنر کی سی ہے لیکن اس نے وہاں کے خلیفہ کو معزول کر دیا ہے ۔ اِدھر نورالدین زنگی ہے جس کی حیثیت ایک سالار اور وزیر کی ہے لیکن جنگی امور میں اسے بغداد کے خلیفہ سے حکم اور اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ لہٰذا یہ پیشِ نظر رکھیے کہ آپ نے چند ایک امیروں، وزیروں اور قلعہ داروں کو ہاتھ میں لے لیا ہے تو ان کی حیثیت چند ایک غداروں کی ہے۔ وہ آپ نے اپنے ملک کا ایک انچ علاقہ بھی نہیں دے سکتے۔ اسلامی سلطنت کے اصل حکمران فوجی ہیں۔ نورالدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنی فوجوں کی تربیت ایسی کی ہے کہ آپ لڑکیوں سے اس فوج کا کردار خراب نہیں کرسکتے اور نہ ہی کر سکے ہیں ۔ اس فوج کے لیے شراب پینا سنگین جرم ہے۔ اسلام میں ہر کسی کے لیے شراب حرام ہے۔ اس پابندی کا اثر یہ ہے کہ مسلمان فوجی ہو یا شہری وہ اپنے ہوش ٹھکانے رکھتا ہے۔ اگر صلاح الدین ایوبی شراب عادی ہوتا تو آج مصر ہمارا ہوتا اور صلاح الدین ایوبی شوبک کے قلعے کا فاتح نہ ہوتا بلکہ اس قلعے میں ہمارا قیدی ہوتا ”۔

”ہرمن!” …… ایک کمانڈر نے اسے ٹوک کر کہا …… ”اپنی بات لڑکیوں تک رکھو۔ ہمارے پاس مسلمانوں کے اوصاف سننے کے لیے وقت نہیں ہے ”۔

”میں یہ کہنا چاہتا ہوں ”…… ہرمن نے کہا …… ”کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کا استعمال ناکام ہوچکا ہے ۔ گزشتہ دو برسوں میں ہم بڑی قیمتی لڑکیاں مصر میں بھیج کر مسلمان فوجیوں کے ہاتھوں مروا چکے ہیں ۔ لڑکی کے معاملے میں یہ بھی یاد رکھیے کہ عورت ذات جذباتی ہوتی ہے۔ آپ لڑکیوں کو کتنی ہی سخت ٹریننگ کیوں نہ دیں ، وہ مردوں کی طرح پتھر نہیں بن سکتیں۔ ہم انہیں خطروں میںپھینک دیتے ہیں ۔ خطرہ بہر حال خطرہ ہوتا ہے اورء دل و دماغ پر اثر کرتا ہے ۔ بعض اوقات حالات بہت ہی بگڑ جاتے ہیں ۔ ان حالات میں مسلمان فوجی ہماری لڑکیوں کو تفریح کا ذریعہ بنانے کی بجائے انہیں پناہ میں لے لیتے ہیں اور ان کے جسموں کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں ۔ لڑکیاں جذبات سے مغلوب ہو کے رہ جاتی ہیں۔ حال ہی میں ہماری ایک لڑکی کو صلاح الدین ایوبی کے ایک کمانڈر نے ڈاکوئوں سے بچایا اور زخمی ہوگیا۔ لڑکی اسے شوبک میں لے آئی۔ ہم نے اسے مسلمانوں کے کیمپ میں پھینگ دیا ۔ لڑکی نے اسے ہماری فوج کے ایک افسر کی وردی پہنا کر قلعے سے نکال دیا۔ اسے گھوڑا بھی دیا۔ میں نے لڑکی کو پکڑ لیا۔ لڑکی نے زہر کھا کر خود کشی کرلی۔ اس نے سزا کے خوف سے خود کشی نہیں کی تھی۔ اس نے محسوس کر لیا تھا کہ وہ گناہگار ہے اور اپنے جسم کو دھوکے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ یہ احساس اتنا شدید تھا کہ اس نے زہر پی لیا ”……

”لڑکیوں کے خلاف میں ایک دلیل اور بھی دینا چاہتا ہوں۔ ہمارے پاس جو لڑکیاں ہیں، ان میں زیادہ تعداد ان کی ہے جنہیں ہم نے بچپن میں مسلمانوں کے قافلوں سے یا ان کے گھروں سے اغوا کیا تھا۔ انہیں ہم نے اپنا مذہب دیا اور اپنی ٹریننگ دی ۔ وہ جوان ہوئیں اور اپنا بچپن اور اپنی اصلیت بھول گئیں۔ انہیں یاد بھی نہ رہا کہ وہ مسلمانوں کی بیٹیاں ہیں مگر ہم نے صرف نام بدلے ، ان کا مذہب اور اُن کا کردا بدلا، ان کے خون کو نہ بدل سکے۔ میں انسانی نفسیات کو سمجھتا ہوں۔ لیکن یہ میرا تجربہ ہے کہ مسلمان کی نفسیات دوسرے مذاہب کے انسانوں سے مختلف ہے۔ یہ لڑکیاں جب کسی مسلمان کے سامنے جاتی ہیں تو جیسے انہیں اچانک یاد آجاتا ہے کہ ان کی رگوں میں بھی مسلمان باپ کا خون ہے۔ مسلمان کے خون سے اس کامذہب نہیں نکلتا”۔

”تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ کسی لڑکی کو جاسوسی کے لیے نہ بھیجا جائے ؟” ایک کماندار نے اس سے پوچھا۔

”کسی ایسی لڑکی کو نہ بھیجا جائے جو کسی مسلمان کے گھر پیدا ہوئی تھی ”…… ہرمن نے جواب دیا …… ”اگر آپ لڑکیوں کو میرے محکمے سے نکا ل ہی دیں تو صلیب کے لیے بہتر رہے گا۔ آپ مسلمان اُمراء کے حرموں میں لڑکیاں بھیجتے رہیں۔ آ پ انہیں پھانس سکتے ہیں ۔ وہ آسانی سے آپ کے ہاتھ میں آجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے میدانِ جنگ نہیں دیکھا۔ ان کی تلواریں ہماری تلوار سے نہیں ٹکرائی۔۔ ہمیں ان کی صرف فوج پہچانتی ہے۔ دشمن کو صرف فوج جانتی ہے۔ اس لیے وہ ہمارے جھانسے میں نہیں آسکتی”۔

صلیبیوں کا شاہ آگسٹس انتہا درجے کا شیطان فطرت حکمران تھا جو اسلام کی دشمنی کو عبادت سمجھتا تھا۔ اس نے کہا ……”ہرمن ! تمہاری نگاہ محدود ہے۔ تم صرف صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو دیکھ رہے ہو۔ ہم اسلام کو دیکھ رہے ہیں ۔ ہمیں اس مذہب کی بیج کنی کرنی ہے۔ اس کے لیے کردار کشی اور نظریات میں شکوک پیدا کرنا لازمی ہے۔ مسلمانوں میں ایسی تہذیب رائج کرو جس میں کشش ہو۔ ضروری نہیں کہ ہم اپنا مقصد اپنی زندگی میں حاصل کرلیں …… ہم یہ کام اپنی اگلی نسل کے سپرد کردیں گے۔ کچھ کامیابی وہ حاصل کرے گی اور یہ مہم اس سے اگلی نسل ہاتھ میں لے لے گی …… پھر ایک دور ایسا آہی جائے گا جب اسلام کانام و نشان نہیں رہے گا۔ اگر اسلام زندہ رہا بھی تو یہ مذہب کسی اور صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی کو جنم نہیں دے گا۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مذب مسلمانوں کااپنا ہوگا۔ لیکن یہ مذب ہماری تہذیب میں رنگا ہوا ہوگا۔ ہرمن ! آج سے سو سال بعد پر نظر رکھو۔ فتح اور شکست عارضی واقعات ہیں۔ ہم شوبک پر دوبارہ قبضہ کرلیں گے۔ تم مصر میں سازشوں کو مضبوط کرو، فاطمیوں اور سوڈانی حبشیوں کو مدد دو۔ حشیشین کو استعمال کرو”۔

کانفرنس کے کمرے میں ایک صلیبی افسر داخل ہوا۔گرد سے اٹاہوا اور تھکا ہوا تھا۔وہ اس فوج کے کمانڈروں میں سے تھا جو ریگستان میں چلی گئی تھی اور آہستہ آہستہ کرک کی طرف پسپا ہو رہی تھی ۔وہ بہت پریشان تھا ۔اس نے کہا ……”فوج کی حالت اچھی نہیں ۔میں یہ تجویز لے کے آیا ہوں کہ کرک کی تمام تر فوج کے ساتھ کافی کمک ملا کر شوبک پر حملہ کر دیا جائے اورمسلمانوں کو مجبور کیا جائے کہ وہ آمنے سامنے کی جنگ لڑیں۔اس وقت جنگ کی کیفیت یہ ہے کہ ہمارے دستے مرکزی کمان کے حکم کے مطابق کرک کی طرف پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔مسلمانوں کے شب خون مارنے والے دستے تھوری سی نفری سے رات کو عقبی حصے پر شب خون مارتے اور غائب ہو جاتے ہیں ۔دن کے وقت ان کے تیر انداز چند ایک تیر برسا کر نقصان کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں ۔وہ نشانہ گھوڑے یا اونٹ کو بناتے ہیں ۔جس جانور کو تیر لگتا ہے،وہ بھگدڑ مچا دیتا ہے ۔اسے دیکھ کر دوسرے گھوڑے اور اونٹ بھی ڈرتے اور بے قابو ہو جاتے ہیں ۔ہم نے رک کر ادھر ادھرکے دستے اکٹھے کیے اور جوابی حملہ کرنے کی کوشش کی ،لیکن مسلمان آمنے سامنے نہیں آتے۔ہمارے کچھ دستون کو انہوں نے صرف اس لیے مارا ہے کہ مسلمان انہیں اپنی مرضی کے میدن میں جا کر لڑاتے ہیں ۔سپاہ میں لڑنے کا جذبہ ماند پڑگیا ہے ۔جزبے کو بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک شدیدجوابی حملہ کیا جائے”۔

اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی ۔صلیبیوں کے لیے مشکل یہ پیدا ہو گئی تھی کہ ان کی فوج کا بڑا حصہ جسے بہترین لڑاکا سمجھا جاتا تھا ۔کرک سے دور ریگزار میں بکھر گیا تھا ۔سلطان ایوبی کی چال کامیاب تھی ۔اس کے کماندار اور دستوں کے عہدیدار اس کی چال کو خوش اسلوبی سے عملی رنگ دے رہے تھے ۔وہ پانی پر قبضہ کر لیتے تھے۔بلندیوں پر پہنچ جاتے تھے۔ٹیلوں کے علاقوں میں گھات لگاتے تھے اور دن کے وقت اگر ہوا تیز ہو تو ہوا کے رخ سے حملہ کرتے تھے ۔اس سے یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ہوا اور گھوڑوں کی اڑائی ہوئی ریت صلیبیوںکی آنکھوں میں پڑتی اور انہیں اندھا کرتی تھی۔سلطان ایوبی کے پاس اتنی نفری نہیں تھی کہ وہ شوبک کو بچا سکتا ۔اس نے جنگی فہم و فراست سے کام لیااور صلیبیوں پر ابنا رعب قائم کر دیا تھا ۔شوبک کے شمال مشرق میں صلیبیوں کی خاصی نفری بیکار بیٹھی تھی ۔اسے اس لیے واپس نہیں بلایا جا رہا تھا کہ نور الدین زنگی سلطان ایوبی کو کمک بھیج دے گا۔

صلیبی حکمران اور کمانڈرکرک کے قلعے میں بیٹھے ہوئے پیچ و تاب کھا رہے تھے ۔شوبک میں ایوبی کو یہ مسئلہ پریشان کر رہا تھا کہ صلیبیوں نے حملہ کر دیا تو وہ کس طرح روکے گا۔

اس نے عیسائیوں کے بھیس میں اپنے جاسوس کرک بھجوادئیے تھے۔تاکہ صلیبیوں کے عزائم اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہیں ۔اس نے ایسا انتظام کر رکھا تھا کہ اسے محاذکی خبریں تیزی سے مل رہی تھیں ۔اس نے شوبک سے اور گرد نواح کے علاقے سے فوج کے لیے بھرتی شروع کر دی اور حکم دیا کہ قلعے میں فوری طور پر ان کی ٹریننگ شروع کر دی جائے۔صلیبیوں کے بہت سے گھوڑے اور اونٹ قلعے میں رہ گئے تھے۔

باہر کے دستوں کو اس نے حکم بھیج دیا تھا کہ دشمن کے جانوروں کو مارنے کی بجائے انہیں پکڑیں اور قلعے میں بھیجتے رہیں۔نئی بھرتی کی ٹریننگ کے سلسلے میں اس نے یہ حکم جاری کیا کہ انہیں شب خون مارنے کی اور متحرک جنگ لڑنے کی ٹریننگ دی جائے۔

کرک میں جو کانفرنس ہو رہی تھی اس میں ہرمن کی اس تجویز کو رد کر دیا گیا تھا کہ جاسوسی کے لیے لڑکیوں کو استعمال نہ کیا جائے ۔البتہ عالم جاسوس کو چھوڑ دیا گیا اور اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ مسلمانوں پر نظریاتی حملہ کرنے کے لیے آدمی تیار کرے۔اس کے بعد یہ پوچھا گیا کہ شوبک میں کتنی جاسوس لڑکیاں اور مرد رہ گئے ہیں اور لڑکیوں کو وہاں سے نکالا جا سکتا ہے؟ ہرمن نے انہیں بتایا کہ چند ایک لڑکیاں مسلمانوں کی قیدمیں ہیں۔کچھ نکل آئی ہیں اور کچھ لاپتہ ہیں ۔مرد جاسوسوں کے متعلق اس نے بتایا کہ چند ایک قیدہو گئے ہیں اور بہت سے وہیں ہیں ۔انہیں اطلاع بھیج دی گئی ہے کہ وہی رہیں اور اب مسلمان بن کر اپنا کام کریں…… ایک صلیبی حکمران نے کہا کہ جو لڑکیاں وہاں قید میں ہیں انہیں نکلالنا شاید آسان نہ ہو لیکن ہو سکتا ہے کہ کچھ لڑکیاںوہاں عیسائیوں کے گھروں میں روپوش ہو گئی ہوں ۔انہیں وہاں سے نکالنا لازمی ہے۔

تھوڑی دیر کے بحث مباحثے کے بعد یہ طے ہوا کہ ایک ایسا گروہ تیار کیا جائے جو سلطان ایوبی کے شب خون مارنے والے آدمیوں کی طر ح جان پر کھیلنا جانتا ہو ۔اس گروہ کا ہر ایک آدمی ذہین اور پھرتیلا ہو۔عربی یا مصری زبان بول سکتا ہو ۔اس گروہ کو ایسے مسلمانوں کے بھیس میں شوبک بھیجا جائے جس سے پتہ چلے کہ کرک کے عیسائیوں کے ظلم وتشدد سے بھاگ کر آئے ہیں۔نہیں یہ کام دیا جائے کہ شوبک میں رہ کر لڑکیوں کا سراغ لگائیں اور انہیں وہاں سے نکالیں۔اس کام کے لیے جرائم پیشہ آدمی موزوں رہیں گے جنہیں ان کی خواہش کے مطابق جیلوں سے نکال کر فوج میں لیا گیا ہے۔فوج میں پیشہ ور مجرموں کو تلاش کرو اور انہیں چند دن کی ٹریننگ دے کرشوبک بھیج دو لیکن یہ خیال رکھو کہ ان میں وہی سپاہی ہوں جو شوبک میں رہ چکے ہیں اور وہاں کے گلی کوچوں اور لوگوں سے واقف ہیں …… یہاں یہ مسئلہ پیدا ہوا کہ یہ جرائم پیشہ آدمی اس خطے کی زبان نہیں جانتے۔اس کا یہ حل پیش کیا گیا کہ زیادہ تر ایسے آدمی بھیجے جائیں جو وہاں کی زبان جانتے ہوں ۔

متعدد مؤر خین نے شوبک کی فتح کو کئی ایک رنگ دئیے ہیں ۔ان میں صاف گو قسم کے مؤر خین نے جو ولیم آف ٹائر کی طرح عیسائی ہیں ،صلیبیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ان کے حکمران خوبصورت لڑکیوں کے ذریعے مسلمان علاقوں میں جاسوسی،تخریب کاری اور کردار کشی پر زیادہ توجہ دیتے تھے۔اس سے ان کے اپنے کردار کا پتہ ملتا ہے کہ کیا تھا ۔یہ درست ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کے چند ایک غیر فوجی سربراہوں کو اپنے زیر اثر لے لیا تھا لیکن ان کے دماغ میں یہ نہ آئی کہ مسلمانوں کی ایک قوم بھی ہے اور ایک فوج بھی ہے ۔کسی قوم اور اس کی فوج کے قومی جذبے کو مارنا آسان کام نہیں ہوتا اور اس صورت میں جب کہ صلیبیوں نے مسلمانوں کے نہتے قافلے لوتے تھے،ا ن کی بچیاں اغوا کی تھیں،مفتوحہ علاقوں میں وسیع پیمانے پر آبروریزی کی ،قتل عام کیا اور مسلمانوں کو بیگار کیمپوں میں ٹھونس کر جانور بنا دیا ۔مسلمان قوم اور فوج کے جذبے کو مجروح کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔انہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں انتقام کا جذبہ پید اکر دیا تھا ۔اسلام کی صفوں میں چند ایک غدارپیدا کرلینے سے اس مذہب کی عظمت کو مجروح نہیں کیا جا سکتا تھا۔

Read More:  Maqsoom Novel by Huma Waqas – Last Episode 23

مؤر خین نے لکھا ہے کہ اس وقت جب شوبک پر حملے کی ضرورت تھی اور جب صلاح الدین ایوبی جنگی لحاظ سے کمزور تھا،صلیبیوں نے شوبک سے چند ایک لڑکیوں کو نکا ل لانے پر توجہ مرکوز کر لی اور اس مہم کے لیے جانبازون کا گروہ تیار ہونے لگا ۔وہ لکھتے ہیں کہ صلاح الدین ایوبی کی جنگی فہم و فراست کی داد دینی پڑتی ہے کہ اس نے صلیبیوں پر رعب طاری کر دیا تھا کہ اس نے ان کی فوج کو بکھیر دیا ہے ۔صلیبیو ں نے اس تاثر کو قبول کر لیا تھا ۔انہوں نے اس طرف توجہ یہ نہ دی کہ ایوبی کی اپنی فوج دستہ دستہ ٹو لہ ٹولہ ہو کے بکھر گئی ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سلطا ن ایوبی اس صورت حال سے کچھ پریشان بھی تھا ۔اس کے مشیر خاص شداد نے اس کی جس پریشانی کا ذکر کیا ہے وہ یہی ہو سکتی ہے کہ اس کے دستے صلیبیوں کے تعاقب میں بکھر گئے تھے۔اس سے مرکزیت ختم ہو گئی تھی ۔یہ بھی صحیح ہے کہ اس کے دستے ذاتی اور قومی جذبے کے تحت لڑ رہے تھے ۔ایسی مثالیں بھی ملی ہیں کہ بعض مسلمان دستے صحرائی بھول بھلیوں میں بھٹک گئے اور خوراک اور پانی سے محروم رہے لیکن وہ ہر حال اور ہر کیفیت میں لڑتے رہے۔

یہ جذبے کی جنگ تھی جس سے صلیبی سپائی عاری تھے ۔انہوں نیاپنے کمانڈروں کو پسپا ہوتے دیکھاتو ان میں لڑنے کاجذبہ ختم ہو گیا ۔اگر صلیبی ادھر توجہ دیتے تو ایوبی کی بکھرتی ہوئی فوج پر قابو پا سکتے تھے مگر وہ ذرا ذرا سی باتوں پر اتنی زیادہ توجہ دیتے تھے جتنی اہم جنگی امور پر دی جاتی ہے۔

یہاں ایک اور وضاحت ضروری ہے ۔اس دور کے صلیبی و قائع نگاروں کے حوالے سے دو تین غیر مسلم مرخین نے اس قسم کی غلط بیانی کی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے مسلسل دو سال شوبک کومحاصرے میں رکھااور ناکام لوٹ گیا ۔انہوں نے اسی وجہ یہ بیان کی ہے کہ نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کے درمیان غلط فہمی پیدا ہو گئی تھی ۔زنگی کو اس کے مشیروں نے خبردار کیا تھا کہ ایوبی مصر کو اپنے ذاتی تسلط میں رکھ کر فلسطین کا بھی خود مختار حکمران بننا چاہتا ہے ۔وہ فلسطین پر قبضہ کر کے زنگی کو معزول کر دے گا۔یہ مرخین لکھتے ہیں کہ نور الدین زنگی نے اس بہانے شوبک کو اپنی فوج روانہ کر دی کہ یہ سلطان ایوبی کے لیے کمک ہے لیکن اس نے اپنے کمانڈروں کو خفیہ ہدایت دی تھی کہ وہ شوبک کے جنگی امور اپنے قبضے میں لے لیں چنانچہ یہ فوج آئی۔سلطان ایوبی سے کسی نے کہا کہ نور الدین زنگی نے یہ فوج اس کی مدد کے لیے نہیں بھیجی بلکہ اس کی مرکزی کمان پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجی ہے۔یہ سن کر سلطان ایوبی دل برداشتہ ہو گیا اور وہ شوبک کا محاصرہ اٹھا کر مصر کوچ کر گیا ۔

عیسائی مؤر خین نے زنگی اور ایوبی کی اس مفروضہ چپقلش کو بہت اچھالا ہے لیکن ان مؤر خین کی تعداد زیادہ ہے جنہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ سلطان ایوبی نے ڈیڑھ ماہ کے محاصرے کے بعد شوبک کا قلعہ لے کیا تھا ۔البتہ یہ پتہ بھی ملتا ہے کہ صلیبی تخریب کاروں نے نور الدین زنگی کو سلطان ایوبی کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی تھی جو کامیاب نہیں ہو سکی۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ سلطان ایوبی کے والد نجم الدین ایوبی لمبی مسافت طے کر کے شوبک پہنچے ۔انہیں شک ہو گیا تھا کہ ان کا بیٹا ایسی حماقت پر اتر ہی نہ آیا ہواور کہیں ایسا نہ ہو کہ تخریب کار اس کے کان زنگی کے خلاف بھر دیں۔

بہاالدین شداد اپنی یادداشتوں میں اقمطراز ہے ……اپنے والد بزرگوار کو دیکھ کر ایوبی بہت حیران ہوا۔ان کے گھٹنے چھو کر مصافحہ کیا اور سمجھا کہ محترم والد اسے فتح کی مبارکباد دینے آئے ہیں مگر انہوں نے بیٹے کو پہلے الفاظ یہ کہے ……”کیا نور الدین زنگی جاہل ہے جس نے مجھ جیسے گمنام اور غریب آدمی کے بیٹے کو مصر کا حکمران بنا ڈالاہے ؟کیا مجھے یہ سننا پڑے گا کہ تیرا بیٹا ذاتی اقتدار کی خاطر سلطنت اسلامیہ کے محافظ نورالدین زنگی کا دشمن ہو گیا ہے؟……جا اور زنگی سے معافی مانگو”
بات کھلی تو معلوم ہوا کہ سلطان ایوبی کا ذہن صاف ہے اور وہ نور الدین زنگی سے کمک مانگنے والا ہے۔ نجم الدین ایوب مطمئن ہو گئے اور واضح ہو گیا کہ یہ صلیبوں کو تخریب کاری اور عیاری ہے ۔سلطان ایوبی نے اپنے خصوصی قاصد اور معتمد فقیہہ عیسٰی الہکاری کو اپنے والدمحترم کے ساتھ رخصت کیا ور الہکاری کو نور الدین زنگی کے نام ایک تحریری پیغام دیا ۔اس کے ساتھ شوبک کے کچھ تحفے بھی بھیجے۔اس نے لکھا۔”بیش قیمت تحفہ شوبک کا قلعہ ہے جو میں آپ کے قدموں میں بیش کرتا ہوں ۔اس کے بعد خدائے عزو جل کی مدد سے کرک کا قلعہ پیش کروں گا”۔

اس پیغام میں سلطان ایوبی نے واضح کیا تھا کہ صلیبیوں کی تخریب کاری سے خبردار رہیں اور یہ نہ بھولیں کہ کچھ مسلمان امرابھی اس تخریب کاری اور سازشوں میں صلیبیوں کا ہاتھ بٹارہے ہیں ۔ان کی سرکوبی کی جائے۔اس پیغام میں سلطان ایوبی نے شوبک کی اس وقت کی صورت حال اور اپنی فوج کی کیفیت تفصیل سے لکھی اور کچھ انقلابی تجاویز پیش کیں۔اس نے زنگی کو لکھا کہ ان حالات میں جب دشمن ہماری سرزمین پر قلعہ بند ہے اور وہ میدانِ جنگ میں ہمارے خلاف سرگرم ہے اور زمین دوز کاروائیوں سے بھی ہمارے درمیان غدارا پیدا کر رہا ہے،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہماری غیر فوجی قیادت نہ صرف ناکام ہو گئی ہے بلکہ سلطنتِ اسلامیہ کے لئے خطرہ بن گئی ہے ۔ہم گھر سے دور بے رحم صحرا میں دشمن سے بر سر ِپیکار ہیں ۔ہمارے مجاہد لڑتے اور مرتے ہیں ۔وہ بھوکے اور پیاسے بھی لڑتے ہیں۔انہیں کفن نصیب نہیں ہوتے ۔ان کی لاشیں گھوڑوں کے تلے روندی جاتی اور صحرائی لومڑیوں اور گدھوں کی خوراک بنتی ہیں۔اسلام کی عظمت اور قوم کے وقار کو جتنا وہ سمجھتے ہیں اتنا اور کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ ہمارے غیر فوجی حکام اور سربراہوں کے خون کا ایک قطرہ نہیں گرتا۔وہ میدانِ جنگ سے بہت دور محفوظ بیٹھے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ وہ عیش و عشرت کے عادی ہوگئے ہیں ۔دشمن انہیں نہایت حسین اور چلبلی لڑکیوں اور یورپ کو شراب سے اپنا مرید بنا لیتا ہے ۔ہم دین اور ایمان کی سر بلندی کے لیے مرتے ہیں اور وہ ایمان کو دشمن کے ہاتھ بیچ کر عیش کرتے اور اس کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں۔

سلطان ایوبی نے لکھا کہ اب جبکہ میں فلسطین کی دہلیز پر آگیا ہوں اور میں نے فلسطین لیے بغیر واپس نہ جانے کاتہہ کر لیا ہے،میں ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ)نور الدین زنگی (غیر فوجی قیادت پر کڑی نظر رکھیں۔امیر العلماء سے کہیں کہ وہ مساجد میں اور ہر جگہ اعلان کر دے کہ سلطنتِ اسلامیہ کا صرف ایک خلیفہ ہے اور یہ بغداد کی خلافت ہے۔ہر مسلمان پر اس واحد خلافت کی اطاعت فرض ہے لیکن خطبے میں اور کسی مسجد میں خلیفہ کا نام نہیں لیا جائے گا۔عظیم نام صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے ۔یہ حکم بھی جاری کیا جائے کہ آئندہ جب خلیفہ یا کوئی حاکم کسی دورے یا معائنے کے لیے باہر نکلے گا تو اس کے محافظ دستے کے سوا کوئی جلوس اس کے ساتھ نہیں ہوگااورلوگ راستے میں رک کر اور جھک جھک اسے سلام نہیں کریں گے ……سلطان ایوبی نے سب سے زیادہ اہم بات یہ لکھی کہ شیعہ سنی تفرقہ بڑھتا جا رہا ہے ۔فاطمی خلافت کی معزولی نے اس تفرقے میں اضافہ کر دیا ہے۔یہ تفریق ختم ہونی چاہیے۔بے شک خلافت اور حکومت سنی ہے لیکن کسی سنی حاکم یا اہل کار کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ شیعوں کو اپنا غلام سمجھے۔حکومت اور فوج میں شیعوں کو پوری نمائندگی دی جائے۔

اس قسم کی کچھ اور بھی انقلانی تجاویز تھیں جو سلطان ایونی نے نورالدین زنگی کو بھیجیں۔ مؤر خین اس پر متفق ہیں کہ زنگی نے ان پر فوری طور پر عمل کیا ۔اپنے ہاں بھی سلطان ایوبی نے شیعہ سنی تفرقہ پیار ومحبت اور عقل و دانش سے مٹانا شروع کر دیا ۔

٭ ٭ ٭

کرک میں صلیبی سلطان ایوبی پر جوابی وار کرنے پر غور کر رہے تھے۔ان کو مرکزی کمان نے قاصدوں کے زریعے اپنی بکھری ہوئی فوج کو احکام بھیج دئیے کہ مسلمانوں سے لڑنے کوشش نہ کریں بلکہ نکلنے کی ترکیب کریں تاکہ جوابی

حملے کے لیے زیادہ سے زیادہ فوج بچ جائے۔ان احکام سے ساتھ ہی انہوں نے چالیس جانبازوں کا ایک گروہ تیار کر لیا جسے مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں شوبک میں داخل ہوناا ور لڑکیوں کو وہاں سے نکالنا تھا ۔صلیبی حکمرانوں نے اس خیال سے کہ سلطان ایوبی مصر سے غیر حاضر ہے وہاں اپنے تخریب کاروں میں اضافہ کر نے کا بھی فیصلہ کر لیا۔وہ سوڈانیوں اور فاطمیوں کو جلد از جلد متحد کر کے قاہرہ پر قبضہ کر چاہتے تھے۔

شوبک اور کرک کے درمیانی علاقے میں بہت خون بہہ رہا تھا۔ وہ سارا علاقہ ہموار ریگستان نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر مٹی اور ریتلی سِلّوں کے ٹیلے تھے اور کہیں ریت کی گول گول ٹکریاں تھیں جن میں کوئی داخل ہوجائے تو باہرنکلنے کا راستہ نہیں ملتا تھا ۔ ایسے علاقوں میں صلیبی بھی مر رہے تھے اور سلطان ایوبی کے مجاہدین بھی …… اور وہاں شوبک کے وہ عیسائی بھی مر رہے تھے جو مسلمانوں کے ڈر سے شہر سے کرک کی سمت بھاگ اُٹھے تھے۔ فضا میں گدھوں کے غول اُڑ رہے تھے ۔ ان کے پیٹ انسانی گوشت سے بھرے ہوئے تھے ۔ صحرائی درندے لاشوں کو چیرپھاڑ رہے تھے اور معرکہ آرائی کا یہ عالم تھا جیسے اُفق سے اُفق تک انسان ایک دوسرے کا کشت و خون کر رہے ہوں۔ اس وسیع ریگزار میں کہیں کہیں نخلستان بھی تھے جہاں پانی مل جاتا تھا۔ تھکے ہارے انسان، زخمی انسان اور پیاس کے مارے ہوئے انسان وہاں جا جا کر گرتے تھے۔

عماد ہاشم سلطان ایوبی کی فوج کے ایک چھوٹے سے دستے کا کمانڈر تھا۔ وہ شامی باشندہ تھا۔ اسی لیے وہ اپنا نام عماد شامی بتایا کرتا تھا۔ صلیبیوں کے خلاف جو جذبہ ہر مسلمان سپاہی کے دل میں تھا ، وہ عماد شامی میں بھی تھا لیکن اس کے جذبے میں انتقام کا قہر اور غضب زیادہ تھا ۔ اس کے متعلق سب جانتے تھے کہ وہ یتیم ہے اور اس کا سگا عزیز رشتہ دار کوئی نہیں لیکن اُسے یہ یقین نہیں تھا کہ وہ یتیم ہے یا نہیں کیونکہ اس کا باپ اس کی آنکھوںکے سامنے نہیں مرا تھا ۔ وہ تیرہ چودہ سال کی عمرمیں گھر سے بھاگا تھا ۔ اُس وقت اس کا گھر شوبک میں تھا۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا کہ اس کے بچپن میں شوبک پر صلیبیوں کا قبضہ ہو اتھا اور انہوں نے مسلمانوں کا کشت و خون شروع کر دیا تھا۔ اس کا بچپن صلیبیوں کی دہشت میں گزرا تھا ۔ اس نے مسلمان جنگی قیدی بھی دیکھے جنہیں مار مار کر لایا جا رہا تھا اور اس کے سامنے دو قیدیوں کے سر کاٹ دئیے گئے تھے کیونکہ وہ زخموں کی وجہ سے چل نہیں سکتے تھے۔ اس نے مسلمان گھروں سے لڑکیاں اغوا ہوتے دیکھی تھیں اور اس نے مسلمانوں کو بیگار میں جاتے بھی دیکھا تھا ۔ شوبک کے مسلمان کہا کرتے تھے کہ جب شہر میں عیسائی مسلمانوں کو بلا وجہ پکڑ پکڑ کر کیمپ میں لے جانا شروع کریں اور ان کے گھروں پر حملے کرنے لگیں تو سمجھ لو کہ انہیں مسلمانوں کے ہاتھوں کہیں شکست ہوئی ہے۔

عماد شامی کا گھر بھی محفوظ نہ رہا ۔ اُس کی ایک بہن تھی جس کی عمر سات آٹھ سال تھی ۔ اُسے وہ بہن یاد تھی ۔ بہت خوبصورت اور گڑیا سی بچی تھی ۔ گھر میں اس کا باپ تھا ، ماں تھی اور ایک بڑا بھائی تھا ۔ ایک روز عماد کی گڑیا سی بہن باہر نکل گئی اور لا پتہ ہوگئی۔ باپ نے تلاش کی مگر کہیں نہ ملی ۔ ایک مسلمان پڑوسی نے اسے بتایا کہ اسے عیسائی اٹھا کر لے گئے ہیں ۔ باپ شہرکے حاکم کے پاس فریاد لے کر گیا۔ جونہی اس نے بتایا کہ وہ مسلمان ہے، حاکم اس پر برس پڑا او ر اس پر الزام عائد کیا کہ وہ حکمران قوم پراتنا گھٹیا الزام تھوپ رہا ہے۔ گھر آکر باپ نے اور عماد کے بڑے بھائی نے عیسائیوں کے خلاف شور شرابا کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رات کو ان کے گھر پر حملہ ہوا۔ عماد نے اپنی ماں اور بڑے بھائی کو قتل ہوتے دیکھا۔ وہ باہر بھاگ گیا اور ایک مسلمان کے گھر جا چھپا۔ اس کے بعد وہ اپنے گھر نہیں گیا کیونکہ اس مسلمان نے اس ڈر سے اُسے باہر نہ نکلنے دیا کہ عیسائی اسے بھی قتل کر دیں گے ۔

تھوڑے دنوں بعد اس مسلمان نے اسے ایک اور آدمی کے حوالے کر دیا جو اسے چوری چھپے شہر سے باہر لے گیا۔ صبح کے وقت وہ ایک قافلے کے ساتھ جا رہا تھا۔ بہت دنوں کی مسافت کے بعد وہ شام پہنچا۔ وہاں اُسے ایک امیر کبیر تاجر کے گھر نوکری مل گئی۔ اب اس کی یہی زندگی تھی کہ نوکری کرے اور زندہ رہے۔ وہ ذہنی طور پر بالغ اور بیدار ہوگیا ۔ یہ انتقام کا جذبہ تھا۔ اسی جذبے کے زیر اثر اسے فوجی اچھے لگتے تھے۔ اس نے تاجر کی نوکری چھوڑ کر کسی فوجی حاکم کے گھر میں نوکری کرلی۔ عماد نے اسے بتایا کہ اس پر کیا بیتی ہے اور یہ بھی بتایا کہ وہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا ہے۔

اس حاکم نے اس کی پرورش کی اور سولہ سال کی عمر میں اسے شام کی فوج میں بھرتی کرادیا۔ وہ انتقام کیلئے بے تاب تھا۔ اسے تین چار معرکوں میں شریک ہونے کا موقع ملا جن میں اس کے جوہر سامنے آگئے۔ گیارہ بارہ سال بعد اُسے اس فوج کے ساتھ مصر روانہ کر دیا گیا جو نورالدین زنگی نے سلطان ایوبی کے مدد کیلئے بھیجی تھی ۔ دو سال مصر میں گزر گئے۔ پھر خدا نے اس کی یہ مراد بھی پوری کی کہ وہ شوبک پر حملہ کرنے والی شوج کے ساتھ گیا لیکن اُسے اُس فوج میں رکھا گیا جسے ریگزار میں صلیبیوں کی فوج پر حملے کرنے تھے۔

وہاں وہ صلیبیوں کے لیے قہر بنا ہوا تھا ۔ اس کا چھاپہ مار دستہ مشہور ہوگیا تھا۔ عماد شامی اپنے سواروں کو ساتھ لیے صحرا میں صلیبیوں کی مشک لیتا پھرتا اور بھیڑیوں اور چیتوں کی طرح ان پر چھپٹا تھا مگر اس کے سینے میں جو آگ لگی ہوئی تھی وہ سرد نہیں ہوتی تھی …… ایک ماہ بعد اس دستے میں کل چار سوار رہ گئے تھے، باقی سب شہید ہو گئے …… ایک رات اس نے ان چار سواروں سے صلیبیوں کے کم و بیش بچاس افراد کے دستے پر حملہ کر دیا۔ وہ سارا دن چھپ چھپ کر اس کا پیچھا کرتا رہا تھا ۔ دن کے وقت وہ چار سپاہیوں سے پچاس سپاہیوں پر حملہ نہیں کر سکتا تھا۔ اُن کے تعاقب میں وہ بہت دور نکل گیا ۔ رات کو صلیبی رُک گئے اور انہوں نے پڑائو کیا لیکن بہت سے سنتری بیدار رکھے۔ عماد نے آدھی رات کو وقت گھوڑوں کو ایڑ لگائی اور سوئے ہوئے صلیبیوں کے درمیان سے اس طرح گزرا کہ برچھی سے دائیں بائیں وار کرتا گیا۔ اس کے چاروں جانبازوں کا بھی یہی انداز تھا ۔

انہیں جو چیز ہلتی نظر آئی اس پر برچھیوں یا تلواروں کے وار کرتے اندھیرے میں غائب ہوگئے۔ کئی سوئے ہوئے صلیبی ان کے گھوڑوں تلے روندے گئے ۔ سنتریوں نے تاریکی میں تیر چلائے جو خطا گئے۔ آگے جا کر عماد نے اپنے جانباز سواروں کو روکا اور انہیں وہاں سے آہستہ آہستہ پیچھے لایا۔ اس نے یہ بھی نہ سوچا کہ دشمن بیدار ہوچکا ہے۔ وہ گھوڑسواروں کو پھر قریب لے گیا اور ایڑ لگانے کا حکم دے دیا ۔ اندھیرے میں اُسے سائے گھومتے پھرتے نظر آرہے تھے ۔ پانچوں گھوڑے سرپٹ دوڑتے ان کے درمیان سے گزرے مگر اب وہ دشمن پر وار کرکے آگے گئے تو وہ پانچ کی بجائے تین تھے۔ دو کو صلیبی تیر اندازوں نے گرالیا تھا ۔

عماد کا خود او ر زیادہ جوش میں آگیا ۔ اس نے اپنے مجاہدوں سے کہا …… ”ابھی انتقام لیں گے ”…… یہ اس کی حماقت تھی ۔ اُس نے اپنے دونوں مجاہدوں کو موڑا اور صلیبیوں کے قریب آہستہ آہستہ آکر حملے کا حکم دے دیا ۔ اب کے وہ دشمن میں سے نکلا تو اس کے ساتھ اپنے دو ساتھیوں کی بجائے دو صلیبی تھے جو اس کا تعاقب کر رہے تھے ۔ اندھیرے میں اس نے انہیں ان کی للکار سے پہچانا۔ورنہ وہ انہیں اپنے ساتھی سمجھ رہا تھا ۔

وہ اس کے سر پر پہنچ گئے ۔ انہوں نے اس پر تلواروں سے حملہ کیا ۔ اس کے پاس لمبی برچھی تھی ۔ دوڑتے گھوڑے سے اس نے دونوں کا مقابلہ کیا ۔ گھوڑا گھما کر آمنے سامنے آکر معرکہ لڑا۔ لڑائی خاصی لمبی ہوگئی اور وہ دور ہٹتے چلے گئے۔ آخر عماد نے دونوں صلیبیوں کو مار لیا اور دونوں کے گھوڑے شوبک بھیجنے کیلئے پکڑ لیے۔ ان کی تلواریں بھی لے لیں مگر اسے یہ خیال نہ رہا کہ کہاں تک جا پہنچا ہے۔ اس نے گھوڑے کو اور اپنے آپ کو آرام دینے کے لیے ایک جگہ قیام کیا لیکن وہ سونے سے ڈرتا تھا کیونکہ کسی بھی وقت اور کہیں بھی وہ دشمن کے نرغے میں آسکتا تھا ۔ اس نے رات جاگتے گزار دی ۔ ستارے دیکھ کر اس نے یہ معلو م کر لیا کہ شوبک کس طرف اور کرک کس طرف ہے اور اسے صحرا میں کون سی جگہ جانا ہے جہاں اسے اپنا کوئی دستہ مل جائے گا ۔

صبح ہوتے ہی وہ چل پڑا۔ وہ صحرائوںمیں جنا پلہ تھا۔ بھٹکنے کا کوئی خطرہ نہیں تھا۔ ہو تجربہ کارچھاپہ مار تھا، خطرے کو دور سے سونگھنے کی اہلیت رکھتا تھا۔ اسے دور دور صلیبی چار چار یا پانچ پانچ کو ٹولیوں میں جاتے نظر آئے۔ اگر اس کے پاس دو فالتو گھوڑے نہ ہوتے تو کسی ٹولی پر حملہ کر دیتا ۔ وہ بچتا بچاتا اپنی راہ چلتا گیا۔ راستے میں اسے کئی جگہ گھوڑوں اور اونٹوں کے مردار اور صلیبی سپاہیوں کی لاشیں پڑی نظر آئیں۔ جنہیں گدھ اور لومڑیاں کھا رہی تھیں۔ ان میں اس کے اپنے ساتھیوں کی لاشیں بھی ہوں گی۔ وہ چلتا گیا اور سورج اُفق پر چلا گیا ۔ آگے ٹیلوں کا علاقہ آگیا جس میں راستے ہر چند قدم پر گھومتے تھے۔ یہاں ڈر تھا کہ صلیبیوں کو کئی ٹولی رات کے لیے قیام کرے گی۔ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا ۔ یہ ڈر بھی تھا کہ کسی ٹیلے پرکوئی تیر انداز نہ بیٹھا ہو۔ وہ ہر طرف اور اوپر دیکھتا چلتا گیا ۔

٭ ٭
آگے راستہ دو ٹیلوں کے درمیان سے مڑتا تھا۔ وہاں سے وہ مڑا تو اچانک اسے کسی کے دوڑتے قدموں کی آہٹ سنائی دی ۔ کوئی آدمی ساتھ والے ٹیلے کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔ اس نے گھوڑے کی باگ کو جھٹکا دیا اور ایڑ لگائی۔ تیز رفتار سے وہ ٹیلے کے پیچھے گیا تو آگے راستہ ایک اور ٹیلے نے بند کر رکھا تھا۔ یہ جگہ ایک وسیع کھڈ بنی ہوئی تھی ۔ عماد سے کوئی بیس قدم دور میلے کچیلے سے چغے والا ایک آدمی ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ عماد کی طرف اس کی پیٹھ تھی ۔ اس آدمی کا سرڈھکا ہوا تھا ۔ وہ آدمی نہتہ معلوم ہوتا تھا ۔ عماد نے اسے للکارا مگر وہ ٹیلے پر چڑھنے کی کوشش کرتارہا۔ ٹیلا مشکل قسم کا تھا۔ عماد آگے چلا گیا۔ اس آدمی نے ایک کوشش اور کی مگر کہیں ہاتھ نہ جما سکا۔ دو نڈھال ہو چکا تھا ۔ ٹیلے سے اس کی گرفت ڈھیلی ہوگئی اور وہ لڑھکتا ہوا عماد کے گھوڑے کے قدموں میں آن پڑا۔ اس کے سر سے چغے کی اوڑھنی والا حصہ اترگیا۔ عماد یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ ایک جوان لڑکی تھی اور خوبصورت اتنی جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

عماد گھوڑے سے اترا۔ لڑکی خوفزدہ تھی ۔ اس کی رہی سہی قوت بھی خوف نے ختم کر دی ۔ وہ اٹھی مگر بیٹھ گئی ۔ عماد نے اس سے پوچھا کو وہ کون ہے ؟ اس نے جوا ب دیا …… ”پانی پلائو ”…… عماد نے ایک گھوڑے سے پانی کی چھاگل کھول کر اسے دے دی ۔ اس نے بے تابی سے پانی پیا اور اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ عماد نے اسے کھانے کے لیے کچھ دیا جو اس کے پیٹ میں گیا تو اس کے چہرے پر زندگی کے آثار نظر آنے لگے۔ عماد نے اسے کہا …… ”مجھ سے ڈرو نہیں ، بتائو کو ن ہو ؟”

”شوبک سے اپنے خاندان کے ساتھ چلی تھی ”۔ اس نے تھکی ہاری زبان میں کہا …… ”سب مارے گئے ہیں ۔ میں اکیلی رہ گئی ہوں ۔ مسلمانوں نے راستے میں حملہ کر دیا تھا ”۔

”مجھے سچ کیوں نہیں بتا دیتی کہ تم کون ہو ؟”…… ”تم نے جو کچھ کہا ہے جھوٹ کہا ہے ”۔

”جھوٹ ہی سہی ”۔اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا …… ”مجھ پر رحم کرو اور مجھے کرک تک پہنچا دو”۔

”شوبک تک ”۔ عماد نے کہا …… ”میںتمہیں شوبک لے جا سکتا ہوں۔ کرک نہیں۔ تم دیکھ رہی ہو کہ میں مسلمان ہوں۔ میں راستے میںعیسائی فوج کے ہاتھوں مرنا نہیں چاہتا ”۔

”پھر مجھے ایک گھوڑا دے دو”۔ لڑکی نے کہا…… ”میں لڑکی ہوں۔ اگر راستے میں کسی کے قبضے میں آگئی تو جانتے ہو کہ میرا انجام کیا ہوگا ”۔

”میں تمہیں گھوڑا بھی نہیں دے سکتا۔ تمہیں یہاں سے اکیلے روانہ بھی نہیں کر سکتا ۔ عماد نے کہا …… یہ میرا فرض ہے کہ تمہیں اپنے ساتھ شوبک لے جائوں ”۔

”وہاںمجھے کس کے حوالے کرو گے ؟”

”اپنے حاکموں کے حوالے کروں گا ”۔ عماد نے کہا اور اسے تسلی دی …… ”تمہارے ساتھ وہ سلوک نہیں ہوگا جس کا تمہیں ڈر ہے”۔

لڑکی کرک جانے کی ضد کررہی تھی۔ عماد نے اسے بتایا کہ انہیں حکم ملا ہیکہ شوبک کے کسی عیسائی باشندے کو وہاں سے بھاگنے نہ دیا جائے۔ اس کے علاوہ اس نے لڑکی کو خبردار کیا کہ وہ کرک تک نہیں پہنچ سکے گی۔ وہ چونکہ گوری رنگت کی خوبصورت لڑکی تھی اس لیے لڑکی کو یہ ڈر تھا کہ یہ مسلمان فوجی اسے بے آبرو کرے گا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ اس کے ساتھ آبرو کا ہی سودا کرکے اسے کہا جائے کہ وہ اسے گھوڑا دے دے۔ لڑکی نے اپنا رویہ بدل لیااور عماد سے کہا ……”میںبہت تھکی ہوئی ہوں۔ آج رات یہیں قیام کیا جائے ۔ صبح شوبک کو روانہ ہوجائیں گے ”۔ عماد بھی تھکا ہوا تھا ۔ گھوڑوں کا بھی یہی حال تھا۔ وہ لڑکی کی حالت بھی دیکھ رہا تھا ۔ اس نے وہیں رکنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سے پہلے لڑکی نے اسے غور سے نہیں دیکھاتھا ۔ اس نے یہی دیکھا کہ یہ بڑھی ہوئی داڑھی والا مسلمان فوجی ہے جو جسم کی ساخت اور گرد سے اٹے ہوئے چہرے سے وحشی لگتا ہے۔ اس سے اسے رحم کی اُمید نہیں تھی ۔ اب جبکہ اس نے کچھ اور ہی سوچ لیا تھا ، اس نے عماد کو گہری نظروں سے دیکھا ۔

اس وقت عماد بھی اسے گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہاتھا کہ اس قدر حسین لڑکی کا اس صحرا میں اکیلے رہ جانا جہاں صلیبی اور اسلامی سپاہی لمبے عرصے سے بھوکے بھیڑیوں کی طرح بھاگتے دوڑتے پھر رہے ہیں اس کے لیے کتنا خطرناک ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس لڑکی پر سپاہی یا کماندار آپس میں ہی لڑ مریں۔ وہ خود بھی فرشتہ نہیں تھا۔ اس نے لڑکی کی آنکھوں میں جھانکا۔ اس وقت لڑکی اسے دیکھ رہی تھی ۔ عماد نے کوشش کی کہ وہ لڑکی سے نظریں پھیر لے مگر لڑکی کی آنکھوں نے اس کی آنکھوں کو گرفتار کر لیا ۔ اس نے اپنے جسم کے اندرکوئی ایسا جذبہ محسوس کیا جو اس کے لیے اجنبی تھا ۔ اس نے ایک بار نظریں جھکالیں مگر آنکھیں اپنے آپ اوپر اُٹھ گئیں اور وہ بے چین ساہونے لگا۔ لڑکی کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آگئی۔ عماد نے آہستہ سے کہا …… ”شاید تم کنواری ہو”۔

”ہاں” لڑکی نے جواب دیا اور ذرا سا بھی سوچے بغیر کہہ دیا …… ”میرادنیا میں کوئی نہیںرہا ۔ اگر میرے ساتھ کرک چلے چلو تومیں تمہارے ساتھ شادی کرلوں گی ”۔

عماد بیدار سا ہوگیا۔ اس نے کہا …… ”پھر تم مجھے کہو گی کہ اپنا مذہب تبدیل کرلو، جو میں نہیں کر سکوں گا۔ تم شوبک چل کر میرے ساتھ شادی کرو اور مسلمان ہوجائو ”۔

”مجھے بہرحال کرک جانا ہے ”۔لڑکی نے کہا …… ”اگر میرے ساتھ وہاں تک چلو گے تو تمہاری دنیا بدل جائے گی”۔

لڑکی نے سودا بازی شروع کردی تھی لیکن عماد کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ یہ سوچ ایسی تھی جسے وہ سمجھ نہیں سکتا تھا ۔ وہ بار بار لڑکی کے چہرے ، ا س کے ریشمی بالوں اور آنکھوں کو دیکھتا اور سر جھکا کر سوچ میں کھو جاتا تھا۔ لڑکی کی جیسے وہ کوئی بات سن ہی نہیں رہا تھا ۔ تھوڑی دیر بعد لڑکی کا چہرہ گہری شام کی تاریکی میں چھپ گیا۔ اس نے گھوڑے کے ساتھ بندھے ہوئے تھیلے میں سے کھانے کی دو تین چیزیں نکالیں۔ لڑکی کو دیں اور خود بھی کھائیں۔ اس کا جسم اس قدر نڈھال تھا کہ جونہی لیٹا اس کی آنکھ لگ گئی۔

٭ ٭ ٭

آدھی رات کے بہت بعد لڑکی نے کروٹ بدلی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا۔ وہ خراٹے لے رہا تھا ۔ ان سے چند قدم دور گھوڑے کھڑے تھے ، رات کے پچھلے پہر کا چاند ٹیلوں کے اوپر آگیا تھا ۔ صحرائی چاندنی آئینے کی طرف شفاف تھی ۔ لڑکی نے گھوڑوں کو دیکھا، عماد کو اتنا ہوش بھی نہ تھا کہ سونے سے پہلے گھوڑوں کی زینیں اتار دیتا۔ لڑکی نے گھوڑے تیار دیکھے ، عماد کو گہری نیند سوئے دیکھا اور یہ بھی محسوس کیا کہ پیٹ میں خوراک اور پانی جانے اس کا جسم تروتازہ ہوگیا ہے تو اس نے اپنے چغے کے اندر ہاتھ ڈالا۔ جس اس کا ہاتھ باہر آیا تو اس کی اتنی دلکش انگلیوں نے ایک خنجر کو مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا ۔ چاندنی میں اسے عماد کا چہرہ نظر آرہا تھا ۔ وہ تو بیہوشی کی نیند سویا ہواتھا۔ لڑکی نے چاندنی میں چمکتے ہوئے خنجر کو دیکھا اور ایک بار پھر عماد کے چہرے پر نظر ڈالی۔ عماد آہستہ سے کچھ بڑبڑایا۔ وہ نیند میں بول رہا تھا ۔ لڑکی یہی سمجھ سکی کہ وہ گھر والوں کو یاد کر رہا ہے۔

Read More:  Khaufnak Imarat by Ibne Safi – Episode 7

لڑکی نے عماد کے سینے کو غور سے دیکھا اور اندازہ کیا کہ اس کا دل کہاں ہے؟ وہ ایک سے دوسرا وار نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ یہ وار دل پر ہونا چاہیے تھا تا کہ عماد فوراً مر جائے ورنہ وہ مرتے مرتے بھی اسے مار ڈالے گا۔ لڑکی نے خنجر کو اور زیادہ مضبوطی سے پکڑ لیا اور گھوڑوں کو دیکھا ۔ اس نے دل ہی دل میں پوراعمل دہرایا ۔ وہ خنجر دل میں اتار دے گی اور بھاگ کر ایک گھوڑے پر سوار ہوجائے گی اور گھوڑے کو ایڑ لگا دے گی۔ وہ سپاہی نہیں تھی ورنہ وہ بلا سوچے سمجھے خنجر مار کر عماد کو ختم کردیتی۔ یہی وجہ کافی تھی کہ عماد مسلمان ہے اور اس کا دشمن، مگر وہ بار بار عماد کے چہرے پر نظریں گاڑ لیتی تھی اور جب اسے قتل کرنے کے لیے خنجر مضبوطی سے پکڑتی تھی تو اس کا دل دھڑکنے لگتا تھا۔ عماد ایک بار پھر بڑبڑایا۔ اب کے اس کے الفاظ ذرا صاف تھے۔ وہ خواب میں اپنے گھر پہنچا ہوا تھا۔ اس نے ماں کا نام لیا ، بہن کو بھی یاد کیا اور کچھ ایسے الفاظ کہے جیسے انہیں قتل کر دیا گیا اور عماد قاتلوں کو ڈھونڈتا رہا تھا۔

کوئی احساس یا جذبہ لڑکی کا ہاتھ روک رہا تھا ۔ خوف بھی ہو سکتا تھا۔ یہ قتل نہ کرنے کا جذبہ بھی ہو سکتا تھا ۔ لڑکی بے چین ہوگئی ۔ اس نے یہ ارادہ کیا کہ قتل نہ کرے ۔ آہستہ سے اُٹھے۔ گھوڑے پر بیٹھے اور آہستہ آہستہ اس کھڈ سے نکل جائے ۔ وہ اُٹھی اور خنجر ہاتھ میں لیے گھوڑے کی طرف چل پڑی مگر ریت نے اس کے پائوں جکڑ لیے ۔ اس کے رک کر عماد کو دیکھا تو اچانک اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس مرد نے اتنی بھی پرواہ نہیں کی کہ اسے ایک جوان لڑکی تنہائی میں مل گئی ہے اور اس نے یہ بھی نہیں سوچا کو یہ لڑکی عیسائی ہے جو اسے سوتے میں قتل کر سکتی ہے اور اس نے گھوڑے کی زینیں بھی نہیں اتاریں اور اس نے اپنی برچھی اور تلوار بھی احتیاط سے نہیں رکھی ۔ کیوں ؟ کیا اسے مجھ پر بھروسہ تھا ؟ کیا یااتنا ہی بے حس ہے کہ میری جوانی اس کے اندر کوئی جذبہ بیدار نہیں کر سکی ؟ ……اسے ایسے محسوس ہونے لگا جیسے اس آدمی نے اسے گھوڑے سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا ۔ وہ آہستہ آہستہ ایک گھوڑے تک پہنچی ۔ گھوڑا ہنہنایا۔ لڑکی نے گھبرا کر عماد کو دیکھا ۔ گھوڑے کی آواز پر بھی اس کی آنکھ نہ کھلی ۔

وہ تین گھوڑوں کی اوٹ میں کھڑی ایک گھوڑے پر سوار ہونے کا ارادہ کر رہی تھی کہ اسے اپنے عقب سے آواز سنائی دی۔ ”کون ہو تم ؟”…… لڑکی نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔ ایک آدمی نے منہ سے وسل بجائی اور کہا …… ”ہماری یہ قسمت ؟”…… و ہ دو تھے ۔ دوسرا ہنسا۔ لڑکی زبان سے پہچان گئی کہ یہ صلیبی ہیں ۔ ایک نے لڑکی کو بازو سے پکڑا اور اپنی طرف کھینچا۔ لڑکی نے کہا …… ”میں صلیبی ہوں ”…… دونوں آدمی ہنس پڑے اور ایک نے کہا …… ”پھر تو تم سالم ہماری ہو ۔ آئو ”۔

”ذرا ٹھہرو اور میری بات سنو ”…… اس نے کہا ……”میں شوبک سے فرار ہو کر آئی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ۔ میں جاسوسی کے شعبے کی ہوں۔ کرک جا رہی ہوں۔ وہ دیکھو ایک مسلمان سپاہی سویا ہوا ہے۔ اس نے مجھے پکڑ لیا تھا۔ میں اسے سوتا چھوڑ کر بھاگ رہی ہوں۔ میری مدد کرو۔ یہ گھوڑے سنبھالو اور مجھے کرک پہنچا ئو”۔ اس نے انہیں اچھی طرح سمجھایا کہ وہ صلیبی فوج کے لیے کتنی قیمتی اور کارآمد لڑکی ہے۔

ایک صلیبی نے اسے وحشیوں کی طرح بازوئوں میں جکڑ لیا اور کہا …… ”کہاں کہو گی پہنچا دیں گے ”۔ دوسرے نے ایک بیہودہ بات کہہ دی اور دونوں اسے ایک طرف دھکیلنے لگے ۔ وہ صلیبی فوج کے پیادہ سپاہی تھے۔ جو مسلمان چھاپہ ماروں سے بھاگتے پھر رہے تھے۔ رات کو وہ چھپ کر ذرا آرام کرنا چاہتے تھے۔ ایسی خوبصورت لڑکی نے انہیں حیوان بنا دیا ۔ لڑکی نے جب دیکھا کہ انہیں صلیب کا بھی کوئی خیال نہیں تو اس نے اس اُمید پر بلند آواز سے بولنا شروع کر دیا کہ عماد جاگ اُٹھے گا۔ اسے سپاہیوں نے گھسیٹنا شروع کردیا۔

اچانک ایک نے گھبرائی ہوئی آواز میں اپنے ساتھی کا نام لے کر کہا …… ”بچو ”……مگر اس کے بچنے سے پہلے ہی عماد کی برچھی اس کی پیٹھ میں اتر چکی تھی ۔ دوسرے نے تلوار سونت لی ۔ اس وقت لڑکی نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں خنجر ہے۔ اس نے خنجر صلیبی سپاہی کے پہلو میں گھونپ دیا ۔ یکے بعد دیگرے دو اور وار کیے اور چلا چلا کر کہا …… ”تمہیں زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ تم صلیب کے نام پر غلیظ داغ ہو”۔

جب دونوں صلیبی ٹھنڈے ہوگئے تو لڑکی بے قابو ہو کر رونے لگی۔ عماد نے اسے بہلایا اور کہا …… ”اب یہاں رُکنا ٹھیک نہیں ۔ ہو سکتا ہے زیادہ سپاہی ادھر آنکلیں۔ ہم ابھی شوبک کو روانہ ہوجاتے ہیں ”۔ اس نے لڑکی سے پوچھا …… ”انہوں نے تمہیں جگایا تھا ؟”

”نہیں ”۔لڑکی نے جواب دیا …… ”میں جاگ رہی تھی اور گھوڑوں کے پاس کھڑی تھی ”۔

”وہاں کیوں ؟”

”گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگنے کے لیے ”۔لڑکی نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ۔ ”میں تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تھی ”۔

”تم نے خنجر کہاں سے لیا ؟”

”میرے پاس تھا ”۔لڑکی نے جواب دیا …… ”میں نے پہلے ہی ہاتھ میں لے رکھا تھا ”۔

”پہلے ہی ہاتھ میں کیوں لے رکھا تھا ؟” عماد نے پوچھا …… ”شاید اس لیے کہ میں جاگ اُٹھوں تو تم مجھے قتل کر دو ”۔

لڑکی نے جوا نہ دیا ۔ عماد کو دیکھتی رہی ۔ کچھ دیر بعد بولی …… ”میں تمہیں قتل کرکے بھاگنا چاہتی تھی۔ پیشتر اس کے کہ تم مجھے قتل کرو، میں تمہیں بتا دینا چاہتی ہوں کہ میں نے یہ خنجر تمہیں قتل کرنے کیلئے کھولا تھا لیکن ہاتھ اُٹھا نہیں ۔ میں یہ نہیں بتا سکتی کہ میں نے تمہارے دل میں خنجر کیوں نہیں اُتارا۔ تمہاری زندگی میرے ہاتھ میں تھی ۔ میں بزدل نہیں ۔ پھر بھی میں تمہیں قتل نہ کر سکی۔ میں کوئی وجہ بیان نہیں کر سکتی ۔ شاید تم کچھ بتا سکو ”۔

”زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ”۔عماد نے کہا ……”تمہارا ہاتھ میرے خدا نے روکا تھا اور تمہاری عزت خدا نے بچائی ہے ۔ میرا وجود تو ایک بہانہ اور سبب تھا …… کسی گھوڑے پر سوار ہوجائو اور چلو ”۔

لڑکی نے خنجر عماد کی طرف بڑھا کر کہا ……”میرا خنجر اپنے پاس رکھ لو ورنہ میں تمہیں قتل کر دوں گی ”۔

”تم میری تلوار بھی اپنے پاس رکھ لو ”۔ عماد نے کہا …… ”تم مجھے قتل نہیں کر سکو گی ”۔ یہ مذاق نہیںتھا ۔ دونوں پر سنجیدگی طاری تھی ۔ وہ گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تیسرا گھوڑا ساتھ لے کر چل پڑے ۔

سورج نکلنے تک وہ اس علاقے میں پہنچ چکے تھے جہاں کوئی صلیبی سپاہی نظر نہیں آتا تھا ۔ عماد کی اپنی فوج کے چند سپاہی اسے نظر آئے خ جن کے ساتھ کچھ باتیں کیں اور چلتے گئے۔ اپریل کا سورج بہت ہی گرم تھا ۔ وہ منہ اور سر لپیٹے ہوئے چلتے گئے۔ دور سے ریت پانی کے سمندر کی طرح چمکتی نظر آتی تھی اور بائیں سمت ریتلی سلوں کی پہاڑیاں نظر آرہی تھیں۔ سفر کے دوران وہ آپس میں کوئی بات نہ کر سکے۔ گرمی کے علاوہ ان لاشوں نے بھی ان پر خاموشی طاری کر رکھی تھی۔ جو انہیں ادھر ادھر بکھری ہوئی نظر آرہی تھیں ۔ کوئی ایک لاش سالم نہیں تھی ۔ گدھوں اور درندوں نے ان کے اعضاء الگ الگ کر دئیے تھے۔ بعض لاشوں کی صرف ہڈیاں اور کھوپڑیاں رہ گئی تھیں۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ”یہ تمہاری قوم کے سپاہی ہیں ۔ یہ ان بادشاہوں کی خواہشوں کا شکار ہوگئے ہیںجو اسلامی سلطنت اسلامی کو ختم کرنے برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور نہ جانے کہاں کہاں سے آئے ہیں”۔

لڑکی خاموش رہی ۔ وہ بار بار عماد کو دیکھتی تھی اور آہ بھر کر سر جھکا لیتی تھی۔ عماد نے سلوں کی پہاڑیوں کا رخ کرلیا۔ اسے معلوم تھا کہ وہاں پانی ضرور ہوگا اور سایہ بھی ۔ سورج ان کے پیچھے جانے لگا تو وہ پہاڑیوں میں پہنچ گئے۔ تلاش کے بعد انہیںہری جھاڑیاں اور گھاس نظر آگئی۔ ایک جگہ سے پہاڑی کا دامن پھٹا ہوا تھا۔وہاں پانی تھا وہ گھوڑوں سے اُترے۔ پہلے خود پانی پیا پھر گھوڑوں کو پانی پینے کے لیے چھوڑ دیا اور سائے میں بیٹھ گئے۔

”تم کون ہو؟”…… لڑکی نے اس سے پوچھا …… ”تمہارا نام کیا ہے ؟ کہاں کے رہنے والے ہو؟”

”میں مسلمان ہوں ”۔ عماد نے جواب دیا …… ”میرا نام عماد ہے اور میں شامی ہوں”۔

”رات خواب میں تم کسے یاد کر رہے تھے ؟”

”یاد نہیں رہا ”۔عماد نے کہا …… ”میں شاید خواب میں بول رہا ہوں گا۔ میرے ساتھی مجھے بتایا کرتے ہیں کہ میں خواب میں بولا کرتا ہوں”۔

”تمہاری ماں ہے؟بہن ہے ؟” لڑکی نے پوچھا اور کہا …… ”تم شاید انہیں یاد کر رہے تھے ”۔

”تھیں کبھی !” عماد نے آہ بھر کر کہا …… ”اب انہیں خواب میں دیکھا کرتا ہوں”۔

لڑکی نے اس سے ساری بات پوچھنے کی بہت کوشش کی لیکن عماد نے اور کچھ نہیں بتایا۔ اس نے لڑکی سے کہا …… ”تم نے اپنے متعلق جھوٹ بولا تھا ۔ مجھے پوچھنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم کون ہو۔ میں تمہیں متعلقہ حاکم کے حوالے کرکے واپس آجائوںگا۔ اگر سچ بول سکو تو اپنے متعلق کچھ بتا دو لیکن یہ نہ کہنا کہ تم ان صلیبی لڑکیوں میں سے نہیں ہو جو ہمارے ملک میں جاسوسی کے لیے آتی ہیں ”۔

”تم ٹھیک کہتے ہو ”۔ لڑکی نے کہا …… ”میں جاسوس لڑکی ہوں ۔ میرا نام ایونا ہے ”۔

”تمہارے ماںباپ کو معلوم ہے کہ تمہارا کام کس قسم کا ہے ؟”عماد نے پوچھا۔

”میرے ماں باپ نہیں ہیں ”۔ایونا نے جواب دیا …… ”میں نے ان کی صورت بھی نہیں دیکھی ۔ میرا محکمہ میری ماں اور اس محکمہ کا حاکم ہرمن میرا باپ ہے ”…… اس نے یہ بات یہیںختم کر دی اور کہا …… ”میری ایک ساتھی لڑکی نے ایک مسلمان سپاہی کو بچانے کے لیے زہر پی لیا تھا۔ میں اس وقت بہت حیران ہوئی تھی کہ کوئی صلیبی لڑکی ایک مسلمان کے لیے اتنی بڑی قربانی کر سکتی ہے؟ میں آج محسوس کر رہی ہوں کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ پتہ چلا تھا کہ اس مسلمان سپاہی نے بھی تمہاری طرح اس لڑکی کو ڈاکوئوں سے لڑکر بچایا ، خود زخمی ہوگیا اور لڑکی کو شوبک تک پہنچایاتھا۔ تمہاری طرح اس نے بھی دھیان نہیں دیا تھا کہ وہ لڑکی کتنی خوبصورت ہے ۔ لوزینا بہت خوبصورت لڑکی تھی ۔ میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ میں تمہاری خاطر اپنی جان قربان کردوں گی”۔

”میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے ”۔ عماد نے کہا …… ”ہم لوگ حکم کے پابند ہوتے ہیں ”۔

”شاید یہ جذبات کا اثر ہے کہ میں ایسے محسوس کرتی ہوںجیسے میں نے پہلے بھی تمہیں کہیں دیکھا ہے ”۔

”دیکھا ہوگا”۔ عماد نے کہا …… ”تم مصر گئی ہوگی ۔ وہاں دیکھا ہوگا”۔

”میں مصر ضرور گئی ہوں ”۔لڑکی نے کہا …… ”تمہیں نہیں دیکھا تھا ”۔اس نے مسکرا کر پوچھا …… ”میرے متعلق تمہارا کیا خیال ہے ؟ کیا میں خوبصورت نہیں ہوں ”۔

”تمہاری خوبصورتی سے میں انکار نہیں کر سکتا ”۔عماد نے سنجیدگی سے کہا …… ”میں سمجھ گیا ہوں تم نے یہ سوال کیا ہے۔ تم ضرور حیران ہوگی کہ میں نے تمہارے ساتھ وہ سلوک کیوں نہیں کیا ہے جو تمہاری صلیب کے دو سپاہیوں نے تمہارے ساتھ کرنا چاہا تھا۔ ہو سکتا ہے تمہارے دل میں میرے لیے یہ خوف ابھی تک موجود ہو کہ میں تمہیں دھوکہ دے رہا ہوں اور تمہیں شوبک لے جا کر خراب کروں گا یا تمہارے ساتھ تمہاری مرضی کے خلاف شادی کر لوںگا یا تمہیں بیچ ڈالوں گا۔ میں تمہارا یہ خوف دور کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ لڑکی میرے مذہب کی ہو یا کسی دوسرے مذہب کی میں کسی لڑکی کو بری نظر سے دیکھ ہی نہیںسکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں جب تیرہ چودہ سال کا تھا تو میری ایک چھوٹی سی بہن اغوا ہوگئی تھی۔ اس کی عمر چھ سات سال تھی ۔ سولہ سال گزر گئے ہیں۔ اسے شوبک کے عیسائی اٹھا لے گئے تھے ۔ میں نہیں جانتا کہ وہ زندہ ہے یا مر گئی ہے۔ اگر زندہ ہے تو کسی امیر کے حرم میں ہوگی یا تمہاری طرح جاسوسی کرتی پھر رہی ہوگی۔ میں جس لڑکی کو دیکھتا ہوں اسے اپنی بہن سمجھ لیتا ہوں۔ اسے بری نظر سے اس لیے نہیں دیکھتا کہ وہ میری گمشدہ بہن ہی نہ ہو۔ میں تمہیںصرف اس لیے شوبک لے جا رہا ہوں کہ محفوظ رہو۔ میں جانتا تھا کہ صحرا میں اکیلے جانے اور پیدل چلنے سے تمہارا کیا حشر ہوتا اور تم کسی کے ہاتھ چڑھ جاتیں تو تمہارا حال وہی ہوتا جو تمہارے اپنے صلیبی بھائی کرنے لگے تھے۔ مجھے اپنی خوبصورتی کا احساس نہ دلائو۔ میں اس احساس کے لحاظ سے مردہ ہوں۔ مجھے لذت ان صحرائوں میں صلیبیوں کے تعاقب میں گھوڑا دوڑاتے اور ان کا خون بہاتے ملتی ہے ”۔

لڑکی اسے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں پیار کا تاثر تھا ۔اس کے ساتھ ایسی باتیں کسی نے نہیں کی تھیں۔ اسے بے حیائی اور عیاری کے سبق دئیے گئے تھے اور اس کی باتوں اور چال ڈھال میں بڑی محنت سے جنسی کشش پیدا کی گئی تھی۔ اسے ایک بڑا ہی خوبصورت فریب بنایاگیا تھا۔ اس پر حسن اور شراب کانشہ طاری کیا گیا تھا ۔ اسے عصمت کے موتی سے محروم رکھا گیا تھا اور وہ اس ٹریننگ کے بعد اپنی ساتھی لڑکیوں کی طرح اپنے آپ کو مردوں کے دلوں پر راج کرنے والی شہزادی سمجھنے لگی تھی۔ اسے یہ بھی یاد نہیں رہا تھا کہ اس کا گھر کہاں ہے اور اس کے ماں باپ کیسے تھے۔ عماد کی جذباتی باتوں نے اس کی ذات میںایک عورت کے جذبات بیدار کردئیے۔ وہ گہری سوچ کے عالم میں کھو گئی۔ جیسے و ہ بے تکلف ہوگئی ہو۔

اس نے گہری سوچ کے عالم میں کہا …… ”ایک ڈرائونے خواب کی طرح یاد آتا ہے کہ مجھے ایک گھر سے اُٹھایا گیا تھا۔ مجھے یاد نہیں آرہا کہ اس وقت میری عمرکیا تھی ”۔ اس نے اپنے بالوں میں دونوں ہاتھ پھیرے اور بالوں کو دونوں مٹھیوں میں لے کر جھنجھوڑا جیسے پرانی یادوں کو بیدار کرنے کی کوشش کررہی ہوں۔ اس نے اُکتا کرکہا …… ”کچھ یاد نہیں آتا۔ میرا ماضی شراب اور عیش و عشرت اور حسین عیاریوں میں گم ہوگیا ہے۔ میں نے کبھی بھی نہیں سوچا کو میرے والدین کون تھے اورکیسے تھے۔ مجھے کبھی ماں باپ کی ضرورت محسوس ہوئی ہی نہیں۔ میرے اندر جذبات تھے ہی نہیں۔ مجھے معلوم ہی نہیں کہ مرد باپ اور بھائی بھی ہو سکتا ہے ۔ مرد مجھے اپنی تفریح کے استعمال کی چیز سمجھتے ہیں لیکن میں مردوں کو استعمال کیا کرتی ہوں۔ جس پر میری خوبصورتی اور میری جوانی کانشہ طاری ہو اسے میں حشیش اور شراب سے اپنا غلام بنا لیا کرتی ہوں ۔ مگر اب تم نے جو باتیں کیں ہیں انہوں نے مجھ میں وہ حسیں بیدار کردی ہیں جوماں، باپ، بہن اور بھائی کا پیار مانگتی ہیں ”۔

اس کی بے چینی بڑھتی گئی ۔ وہ رک رک کر بولتی رہی پھر بالکل ہی چپ ہوگئی۔ کبھی عماد کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگتی اور کبھی اپنے سر پرہاتھ رکھ کر اپنے بال مٹھی میں لے کرجھنجھوڑنے لگتی۔ وہ دراصل گم گشتہ ماضی اور حال کے درمیان بھٹک گئی تھی ۔ عماد نے جب اسے کہا کہ اُٹھو چلیں، تو وہ بھولے بھالے معصوم سے بچے کی طرح اس کے ساتھ چل پڑی ۔ ان کے گھوڑے انہیں پہاڑی علاقے سے بہت دور لے گئے تو بھی وہ عماد کو دیکھ رہی تھی ۔ صرف ایک بار اس نے ہنس کرکہا …… ”مرد کی باتوں اور وعدوں پرمیں نے کبھی اعتبار نہیں کیا ۔ میں سمجھ نہیں سکتی کہ میں کیوں محسوس کر رہی ہوں کہ مجھے تمہارے ساتھ جانا چاہیے” …… عماد نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرادیا۔

٭ ٭ ٭

وہ جب شوبک کے دروازے پرپہنچے تو اگلے روز کا سورج طلوع ہو رہاتھا ۔ وہ صحرا میں ایک اوررات گزار آئے تھے۔ عماد لڑکی کو جہاں لے جانا چاہتا تھا اس جگہ کے متعلق پوچھ کر وہ چل پڑا۔ گھوڑے شہر میں سے گزر رہے تھے ۔ لوگ ایونا کو رک رک کر دیکھتے تھے۔ چلتے چلتے عماد نے ایک مکان کے سامنے گھوڑا روک لیا اور بند دروازے کو دیکھنے لگا۔ ایونا نے اس سے پوچھا …… ”یہاں کیوں رُک گئے؟” ……اس نے جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو۔ دروازے کے قریب جا کر گھوڑے پر بیٹھے بیٹھے اس نے دروازے پر آہستہ آہستہ ٹھوکریں ماریں۔ ایک بزرگ صورت انسان نے دروازہ کھولا۔

”یہاں کون رہتا ہے ؟” عماد نے عربی زبان میں پوچھا۔

”کوئی نہیں ”۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ”عیسائیوں کا ایک خاندان رہتا تھا۔ ہماری فوج آگئی تو پورا خاندان بھاگ گیا ہے ”۔

”اب آپ نے اس پر قبضہ کر لیا ہے؟”

بوڑھا ڈر گیا ۔ اس نے دیکھا کہ یہ سوار فوجی ہے اور اس سے باز پرس کررہا ہے کہ عیسائی کے مکان پر اس نے کیوں قبضہ کر لیا ہے جبکہ سلطان ایوبی نے منادی کے ذریعے حکم جاری کیا ہے کہ کسی مسلمان کی طرف سے کسی عیسائی کو کوئی تکلیف نہ پہنچے ورنہ سخت سزا دی جائے گی۔ بوڑھے نے کہا …… ”میں نے قبضہ نہیں کیا ۔ اس کی حفاظت کے لیے یہاں آگیا ہوں ۔

میں اسے بالکل بند کردوں گا۔ اس کا مالک زندہ ہے ۔ وہ مسلمان ہے اور پندرہ سولہ سال سے بیگار کیمپ میں پڑا ہے ”۔

”کیا امیرمصر نے انہیں کیمپ سے رہا نہیں کیا ؟” عماد نے پوچھا۔

”وہاں کے سب مسلمان آزاد ہیں مگر ابھی کیمپ میں ہی ہیں ”۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ”اس سب کی حالت اتنی بری ہے کہ قابل احترام سالار اعظم ایوبی نے ان کے لیے دودھ، گوشت، دوائیوں اور نہایت اچھے رہن سہن کا انتظام وہیں کر دیا ہے ۔ بہت سے طبیب ان کی دیکھ بال کررہے ہیں ۔ ان میں جس کی صحت بحال ہوجاتی ہے اسے گھر بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں جو رہتے ہیں انہیں ان کے رشتہ داروہیں ملنے جاتے ہیں۔ اس مکان کا مالک بھی وہیں ہے۔ ایک تو اس کابڑھاپا ہے اور دوسرے کیمپ کی پندرہ سولہ سالوں کی اذیتیں۔ بے چارہ صرف زندہ ہے۔ میں اسے دیکھنے جایا کرتا ہوں۔ اُمید ہے صحت یاب ہوجائے گا۔ میں نے اسے بتا دیا تھا کہ اس کا مکان خالی ہوگیا ہے”۔

”اس کے رشتہ دار کہاں ہیں؟”عماد نے پوچھا ۔

”کوئی بھی زندہ نہیں ہے ”۔ بوڑھے نے جواب دیا اور تین چار گھر چھوڑ کر ایک مکان کی طرف اشارہ کرکے کہا…… ”وہ میرا ذاتی مکان ہے۔ میں ان لوگوں کا صرف پڑوسی تھا ۔ آپ مجھے ان کا رشتہ دار بھی کہہ سکتے ہیں”۔

عماد یہ پوچھ کر کہ اندر مستورات نہیں ہیں، گھوڑے سے اُتر کر اندر چلاگیا۔ کمروں میں گیا۔ دیواروں پر ہاتھ پھیرا۔ اَیونا بھی اندر چلی گئی۔ اس نے عماد کو دیکھا وہ آنسو پونچھ رہاتھا ۔ اَیونا نے آنسوئوں کی وجہ پوچھی تو اس نے جواب دیا …… ”اپنے بچپن کو ڈھونڈ رہا ہوں۔ میں اس گھر سے بھاگا تھا۔ یہ میرا گھر ہے ” …… اس کے آنسو بہنے لگے۔ اس نے بوڑھے سے پوچھا …… ”ان کے رشتے دار مر گئے ہیں ؟ ان کی کوئی اولاد بھی تھی ؟”

”صرف ایک لڑکا بچا تھا، جو عیسائی ڈاکوئوں سے بچ کر میرے گھر آگیا تھا”۔ بوڑھے نے جواب دیا …… ”اسے میں نے شام کو روانہ کر دیا تھا ، اگر یہاں رہتا تو مارا جاتا”۔

عماد کو وہ رات یاد آگئی جب وہ اس گھر سے بھاگ کر پڑوسی کے گھر جا چھپا تھا ۔ وہ یہی پڑوسی تھا مگر اس نے بوڑھے کو بتایا نہیں کہ وہ لڑکا جسے اس نے شوبک سے شام کو روانہ کر دیا تھا ، وہ یہی جوان ہے، جسے وہ یہ کہانی سنا رہا ہے۔ عماد کے لیے جذبات پر قابوپانا محال ہوگیالیکن وہ سخت جان فوجی تھا۔ اس نے بوڑھے سے کہا …… ”میں اس مکان کے مالک سے ملنا چاہتا ہوں۔ مجھے ان کا نام پتا بتادو”۔ بوڑھے نے اس کے باپ کا نام بتا دیا ۔ عماد کو اپنے باپ کا نام اچھی طرح سے یاد تھا۔

”اس لڑکے کی ایک بہن تھی ”۔ بوڑھے نے کہا …… ”بہت چھوٹی تھی ۔ اسے عیسائیوں نے اغوا کر لیا تھا۔اسی ضمن میں اس گھر کے سارے افراد عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے ”۔

”اَیونا!”۔ عماد نے لڑکی سے کہا …… ”اپنی مقدس صلیب کے پرستاروں کی کرتوت سن رہی ہو؟”

اَیونا نے کوئی جواب نہ دیا۔ وہ چھت کو دیکھنے لگی۔ اُس نے کمرے کے دروازے کے ایک کواڑ کو بند کیا اور اس کی اُلٹی طرف دیکھنے لگی۔ کواڑ پر تین چار چھوٹی چھوٹی اور گہری لکیریں کھدی ہوئی تھیں۔ وہ بیٹھ کر ان لکیروں کو بڑی غور سے دیکھنے لگی۔ عماد اسے دیکھ رہا تھا۔ اَیونا لکیروں پر ہاتھ پھیرنے لگی۔ وہ اُٹھی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی ۔وہاں بھی کواڑوں پر ہاتھ پھیر کر کچھ ڈھونڈنے لگی۔ عماد نے جاکر اس سے پوچھا…… ”کیادیکھ رہی ہو؟”

لڑکی مُسکرائی اور بولی …… ”تمہاری طرح میں بھی اپنا بچپن ڈھونڈ رہی ہوں”۔ اس نے عماد سے پوچھا …… ”یہ تمہارا گھر تھا ؟ تم یہیں سے بھاگے تھے؟”

”یہیں سے”۔ عماد نے جواب دیا اور اسے سنا دیا کہ کس طرح اُن کے گھر پر عیسائیوں نے حملہ کیا اور اس کی ماں اور بڑھے بھائی کو قتل کر دیاتھا۔ عماد بھاگ گیا اور وہ آج تک یہ سمجھتا رہا کہ اس کا باپ بھی قتل ہوگیا ہے لیکن یہ بوڑھا بتارہا ہے کہ باپ کیمپ میں زندہ ہے۔

”تم نے اس بوڑھے کو بتادیا ہے کہ وہ لڑکے تم ہی ہو جسے اس نے پناہ دی تھی؟”

”میں بتانا نہیں چاہتا”۔اس نے تذبذب کے عالم میں کہا ۔

اَیونا اُسے بڑی غور سے دیکھنے لگی اور بوڑھا ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ دونوں یہاں کیا دیکھ رہے ہیں ۔ عماد بچپن کی یادوں میں گم ہوگیا تھا ۔ بوڑھے نے پوچھا …… ”میرے لیے کیا حکم ہے ؟”

عماد چونکا اور حکم دینے کے لہجے میں بولا …… ”اس مکان کو اپنی نگرانی میں رکھیں۔ یہ آپ کی تحویل میں ہے ”۔اس نے اَیونا سے کہا …… ”آئو چلیں ”۔

”کیا تم اپنے باپ سے نہیں ملو گے؟” ۔ ایونا نے اس سے پوچھا۔

”پہلے اپنا فرض ادا کرلوں”۔ عماد نے جواب دیا …… ”مجھے ریگستان میں میرا کماندار ڈھونڈ رہا ہوگا۔ وہ مجھے مردہ قرار دے چکے ہوں گے ۔ وہاں میری ضرورت ہے ، آئو میرے ساتھ آئو۔ میں یہ امانت کسی کے حوالے کردوں”۔

”لڑکیاں ، لڑکیاں، لڑکیاں”۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے شگفتہ سے لہجے میں علی بن سفیان سے کہا …… ”کیایہ کمبخت صلیبی میرے راستے میں لڑکیوں کی دیوار کھڑی کرنا چاہتے ہیں ؟ کیا وہ لڑکیوں کو میرے سامنے نچاکر مجھ سے شوبک کا قلعہ لے لیں گے؟”

”امیر محترم!” علی بن سفیان نے کہا …… ”آپ اپنی ہی باتوں کی تردید کر رہے ہیں۔ یہ لڑکیاں دیوار نہیں بن سکتیں۔ دیمک بن چکی ہیں اور دیمک کا کام کر رہی ہیں ۔ آپ کے اور محترم نورالدین زنگی کے درمیان غلط فہمی پیدا کرنیکی کوشش لڑکیوں کے ہاتھوں کرائی گئی ہے اور ان لڑکیوں نے حشیش اور شراب کے ذریعے ہمارے مسلمان حکام اور امراء کو استعمال کیا ہے ”۔

”یہ وہی موضوع ہے جس پر ہم سو بار بات کر چکے ہیں ”۔سلطان ایوبی نے کہا …… ”مجھے ان لڑکیوں کے متعلق کچھ بتائو ۔ یہ تو معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آٹھوں جاسوس ہیں۔ انہوں نے اب تک کوئی نیا انکشاف کیا ہے یا نہیں ”۔

”انہوں نے بتایا ہے کہ شوبک میں صلیبی جاسوس اور تخریب کار موجود ہیں ”۔ علی بن سفیان نے جواب دیا …… ”لیکن ان میں سے کسی کی بھی نشاندہی نہیں ہوسکتی، کیونکہ ان کے گھروں اور ٹھکانوں کا علم نہیں ۔ ان میں سے تین مصر میںکچھ وقت گزار کر آئی ہیں۔ وہاں انہوں نے جو کام کیا ہے وہ آپ کو بتا چکا ہوں”۔

”کیا وہ قید خانے میں ہیں؟”سلطان ایوبی نے کہا۔

”نہیں ”۔علی بن سفیان نے جواب دیا …… ”وہ اپنی پرانی جگہ رکھی گئی ہیں۔ ان پر پہرہ ہے ”۔

اتنے میں دربان اندر آیا۔ اس نے کہا …… ”عماد شامی نام کاایک عہدیدار ایک صلیبی لڑکی کو ساتھ لایا ہے۔ کہتاہے کہ اسے اس نے کرک کے راستے پر پکڑا ہے اور یہ لڑکی جاسوس ہے”۔

”دونوں کو اندر بھیج دو”۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔

دربان کے جاتے ہی عماد اور ایونا اندر آئے۔ سلطان ایوبی نے عماد سے کہا ۔ ”معلوم ہوتا ہے بہت لمبی مسافت سے آئے ہو۔ تم کس کے ساتھ ہو؟ ”

”میں شامی فوج میں ہوں”۔ عماد نے جواب دیا …… ”میرے کماندار کا نام احتشام ابن محمدہے اور میں البرق دستے کا عہدیدار ہوں”۔

”البرق کس حال میں ہے ؟” سلطان ایوبی نے پوچھا اور علی بن سفیان سے کہا …… ”البرق فی الواقع برق ہے۔ ہم نے جب سوڈانیوں پر شبخون مارے تھے تو البرق قیادت کر رہا تھا۔ صحرائی چھاپوں میں اس کی نظیر نہیںملتی ”۔

”سالار اعظم!” عماد نے کہا …… ”آدھا دستہ اللہ کے نام پر قربان ہوچکا ہے ۔ میرے گروہ میں سے صرف میں رہ گیا ہوں”۔

”تم نے اتنی جانیں ضائع تو نہیں کیں؟ سلطان ایوبی نے سنجیدگی سے پوچھا۔ مرجانے اور قربان ہونے میں بہت فرق ہے ”۔

”نہیں سالار اعظم!” عماد نے جواب دیا …… ”خدائے ذوالجلال گواہ ہے کہ ہم نے ایک ایک جان کے بدلے بیس بیس جانیں لی ہیں۔ اگر صلیبیوں کی فوج اپنے ٹھکانے پر پہنچ گئی ہے تو وہ صرف چند ایک زخمی ہوں گے۔ فلسطین کی ریت کو ہم نے صلیبیوں کے خون سے لال کر دیا ہے ۔ ہمارے دستوں نے بھی دشمن پرپورا قہر برسایا ہے۔ دشمن میں اب اتنا دم نہیں رہاکہ وہ تھوڑے سے عرصے میں اگلی جنگ کے لیے تیارہوجائے ”۔

Read More:  Husna Novel by Huma Waqas – Episode 9

”اورتم؟” سلطان ایوبی نے لڑکی سے پوچھا …… ”کیا تم پسند کروگی کہ اپنے متعلق ہمیں سب کچھ بتا دو؟ ”

”سب کچھ بتادوںگی”۔ اَیونا نے کہا اور اس کے آنسو بہنے لگے۔

”عماد شامی !” سلطان ایوبی نے عماد سے کہا …… ”فوجی آرام گاہ میں چلے جائو۔ نہائو دھوئو۔ آج کے دن اور آج کی رات آرام کرو۔ کل واپس اپنے جیش میں چلے جانا ”۔

”میں دشمن کے دو گھوڑے بھی لایا ہوں ”۔عماد نے کہا…… ”ان کی تلواریں بھی ہیں ”۔

”گھوڑے اصطبل میں اور تلواریں اسلحہ خانے میں دے دو”۔ سلطان ایوبی نے کہا اور ذرا سوچ کر کہا …… ”اگر ان گھوڑوں میں کوئی تمہارے گھوڑے سے بہتر ہو تو بدل لو۔ باہر کے محاذ پر گھوڑے کی کیا حالت ہے؟”

”کوئی پریشانی نہیں ”۔عماد نے بتایا …… ”اپنا ایک گھوڑا ضائع ہوتا ہے تو ہمیں صلیبیوں کے دو گھوڑے مل جاتے ہیں ”۔

عماد سلام کرکے باہر نکل گیا۔ اس نے امانت صحیح جگہ پہنچا دی تھی ۔ ادھر سے تووہ فارغ ہوگیا لیکن اس کے دل پر بوجھ تھا۔ یہ جذبات کا بوجھ تھا۔ یہ بچپن کی یادوں کا بوجھ تھااور یہ اس باپ کی محبت کا بوجھ تھا جو کیمپ میں پڑا تھا۔ وہ تذبذب میں مبتلا تھا۔ جنگ ختم ہونے تک وہ باپ سے ملنا نہیں چاہتا تھا۔ ڈرتاتھا کہ باپ کی محبت اور دل کے پرانے زخم اس کے فرض کے راستے میں حائل ہوجائیں گے …… وہ اپنے گھوڑے کے پیچھے دو گھوڑے باندھے اصطبل کی طرف جارہا تھا۔ اسے ماحول کاکوئی ہوش نہیں تھا۔ گھوڑا اسے ایک گھاٹی پر لے گیا۔ اس نے سامنے دیکھا۔ شوبک کا قصبہ اسے نظر آرہا تھا۔ وہ رُک گیا اور اس قصبے کو دیکھنے لگا جہاں وہ پیدا ہوا تھا اور جہاں سے جلا وطن ہوا تھا۔ اس پر جذبات نے رقت طاری کردی ۔

”راستے سے ہٹ کر رُکو سوار!” اسے کسی کی آواز نے چونکا دیا۔ اس نے گھوم کردیکھا۔ پیچھے ایک گھوڑا سوا ر دستہ آرہا تھا ۔ اس نے گھوڑے ایک طرف کر لیے ۔ جب دستے کا اگلا سوار اس کے قریب سے گزرا توعماد سے پوچھا …… ”باہر سے آئے ہو وہاں کی کیا خبر ہے ؟”

”اللہ کا کرم ہے دوستو!” …… اس نے جواب دی …… ”دشمن ختم ہو رہا ہے ۔ شوبک کو کوئی خطرہ نہیں ”۔

دستے آگے چلا گیا تو عماد دائیں طرف چل پڑا۔

٭ ٭ ٭

”میں نے آپ سے کچھ بھی نہیں چھپایا ”۔اَیونا سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔ وہ بتا چکی تھی وہ جاسوس ہے۔ اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ وہ قاہر میں ایک مہینہ رہ چکی ہے۔ اس نے وہاںکے چند ایک سرکردہ مسلمانوں کے نام بھی بتائے تھے جو سلطان ایوبی کے خلاف سرگرم تھے اور اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ صلیبیوں کی طرف سے سوڈانیوں کو بہت مدد مل رہی ہے اور صلیبی فوج کے تجربہ کار کمانڈر سوڈانیوں کو شبخون مارنے کی ٹریننگ دے رہے ہیں …… ایونا نے کسی استفسار کے بغیرہی اتنی زیادہ باتیں بتا دیں جو جاسوس اذیتوں کے باوجود نہیں بتایا کرتے کیونکہ ان میں ان کی اپنی ذات بھی ملوث ہوتی ہے۔ اس سے علی بن سفیان شک میں پڑ گیا۔

”ایونا!”علی بن سفیان نے کہا…… ”میں بھی تمہارے فن کا فنکار ہوں۔میں تمہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں کو تم اونچے درجے کی فنکار ہو۔ ہمارے تشدد اور قید خانے سے بچنے اور ہمیں گمراہ کرنے کا تمہارا طریقہ قابل تعریب ہے مگر میں اس دھوکے میں نہیں آسکتا”ے

”آپ کا نام؟”…… ایونا نے پوچھا۔

”علی بن سفیان”۔ علی نے جواب دیا …… ”تم نے شاید ہرمن سے میرا نام سنا ہوگا”۔

ایونا اُٹھی اور آہستہ آہستہ علی بن سفیان کے قریب جا کر دوزانو بیٹھ گئی۔ اس نے علی بن سفیان کا دایاں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور ہاتھ چوم کر بولی …… ”آپ کو زندہ دیکھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ آپ کے متعلق مجھے بہت کچھ بتایاگیا تھا۔ ہرمن کہا کرتا تھا کہ علی بن سفیان مر جائے تو ہم مسلمانوں کی جڑوں میں بیٹھ کر انہیں جنگ کے بغیر ختم کرسکتے ہیں ”…… لڑکی اُٹھ کر اپنی جگہ بیٹھ گئی …… ”میں نے قاہرہ میں آپ کو دیکھنے کی بہت کوشش کی تھی مگر دیکھ نہ سکی ۔ میری موجودگی میں آپ کے قتل کا منصوبہ تیار ہوا تھا۔ پھر مجھے نہیں بتایا گیا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوا تھا یا نہیں۔ مجھے شوبک بلا لیا گیا تھا”۔

”ہم کس طرح یقین کرلیں کہ تم نے جو کچھ کہاہے سچ کہا ہے ؟”……علی بن سفیان نے پوچھا۔

”آپ مجھ پر اعتبار کیوں کرتے ؟”لڑکی نے جھنجھلاکر کہا۔

”اس لیے کہ تم صلیبی ہو”۔ سلطان ایوبی نے کہا ۔

”اگر میں آپ کو یہ بتادوں کہ میں صلیبی نہیں مسلمان ہوں تو آپ کہیں گے کہ یہ بھی جھوٹ ہے”۔ لڑکی نے کا …… ”میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ۔ سولہ سترہ سال گزرے، میں اسی قصبے سے اغوا ہوئی تھی۔ یہاں آکر مجھے پتہ چلا کہ میرا باپ کیمپ میں ہے ”۔ اس نے اپنے باپ کا نام بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اسے اپنے باپ کا نام اب معلوم ہوا ہے۔ اس نے سنایا کہ عماد نے اسے کس طرح صحرا سے بچایا تھا اور وہ رات کو اسے قتل کرنے لگی مگر اس کا خنجر والا ہاتھ اُٹھتا ہی نہیں تھا ۔ اس نے کہا …… ”میں نے دن کے وقت اس کے چہرے پر اور اس کی آنکھوں میں نظر ڈالی تو میرے دل میں کوئی ایسا احساس بیدار ہوگیا جس نے مجھے شک میں ڈال دیا کہ میں عماد کو پہلے سے جانتی ہوں یا اسے کہیں دیکھا ضرور ہے ۔ مجھے یاد نہیں آرہا تھا ۔ میں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہ ایسے نہیں ہو سکتا …… رات کو دو صلیبی سپاہیوں نے مجھ پر حملہ کر دیا تو عماد جاگ اُٹھا۔ اس نے ایک کو برچھی سے مار دیا۔ میں اس وقت تک اپنے آپ کو صلیبی سمجھتی تھی۔ میری ہمدردیاں صلیبیوں کے ساتھ تھیں مگر میں نے دوسرے صلیبی سپاہی کو خنجر سے ہلاک کردیا اور مجھے خوشی اس پر نہیں ہوئی کہ میں نے ان سے اپنی عزت بچائی ہے بلکہ اس پر ہوئی کہ میں نے عماد کی جان بچائی ہے ”……

‘اور جب راستے میں عماد نے میرے ساتھ اپنے متعلق کچھ جذباتی باتیں کیں تو زندگی میں پہلی بار میرے سینے میں بھی جذبات بیدا ہوگئے۔ میں تمام سفر عماد کو دیکھتی ہی رہی۔ مجھے صرف اتنا یاد آیا کہ مجھے بچپن میں اغوا کیا گیا تھا۔ مگر یہ یاد بھی ذہن میں دندھلی ہوگئی۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھ جیسی لڑکیوں کو کس طرح تیار کیا جاتا ہے ۔ بچپن کی یادیں اور اصلیت ذہن سے اُتر جاتی ہے ۔ یہی میرا حال ہوا۔ لیکن مجھے یقین ہونے لگا کہ عماد کو میں جانتی ہوں۔ یہ خون کی کشش تھی ۔ آنکھوں نے آنکھوں کو اور دل نے دل کو پہچان لیا تھا۔ شاید عماد نے بھی یہی کچھ محسوس کیا ہو اور شاید اسی احساس کا اثر تھا کہ اس نے مجھ جیسی دلکش لڑکی کو اس طرح نظر انداز کیے رکھا جیسے میں اس کے ساتھ تھی ہی نہیں۔ اس نے مجھے گہری نظروں سے بہت دفعہ دیکھا ضرورتھا”۔

ایونا نے تفصیل سے سنایا کہ شوبک میں داخل ہو کر عماد ایک مکان کے آگے رُک گیااور ہم دونوں اندر چلے گئے …… اس نے کہا ……”یہ گھر اندر سے دیکھ کر میری یادیں بیدار ہونے لگیں ۔ مجھے ذہن پر دبائو ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ ذہن اپنے آپ ہی مجھے اس گھر میں گھمانے پھرانے لگا۔ میں نے ایک کواڑ کی الٹی طرف دیکھا۔ وہاں مجھے خنجر کی نوک سے کھدی ہوئی لکیریں نظر آئیں۔ یہ میں نے بچپن میں بڑے بھائی کے خنجر سے کھودی تھیں۔ میرا ذہن مجھے ایک اور کواڑ کے پیچھے لے گیا ۔ وہاں بھی ایسی ہی لکیریں تھیں۔ پھر میں نے عماد کو اور زیادہ غور سے دیکھا ۔ داڑھی کے باوجود اس کی سولہ سترہ سال پرانی صورت یاد آگئی ۔ میں نے اپنے آپ کو بڑی مشکل سے قابو میں رکھا۔ میں نے عماد بتایا نہیں کہ میںاس کی بہن ہوں۔ وہ اتنا پاک فطرت انسان اور میں اتنی ناپاک لڑکی۔ وہ اتنا غیرت مند اور میں اتنی بے غیرت۔ اگر میں اسے بتادیتی تو معلوم نہیں وہ کیا کر گزرتا”۔

اس دوران علی بن سفیان نے کئی بار سلطان ایوبی کی طرف دیکھا ۔ وہ لڑکی کو ابھی تک شک کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن لڑکی کی جذباتی کیفیت ، اس کے آنسو اور بعض الفاظ کے ساتھ اس کی سسکیاں دونوں پر ایسا اثر طاری کر رہی تھیں جیسے لڑکی کی باتیں سچ ہیں۔ لڑکی نے آخر انہیں اس پر قائل کر لیا کہ اس کے متعلق وہ چھان بین کریں۔ اس نے کہا …… ”آپ مجھ پر اعتبار نہ کریں، مجھے قید خانے میں ڈال دیں، جو سلوک کرنا چاہتے ہیں کریں، مجھے اور کچھ نہیں چاہیے۔ میں اب زندہ نہیں رہنا چاہتی۔اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لیے کچھ کر کے مرنا چاہتی ہوں”۔

”کیا کرسکتی ہو؟”سلطان ایوبی نے پوچھا۔

”اگر آپ مجھے کرک تک پہنچا دیں تو میں صلیب کے تین چار بادشاہوں اور اپنے محکمے کے سربراہ ہرمن کو قتل کر سکتی ہوں”۔

”ہم تمہیں کرک تک پہنچا سکتے ہیں ”۔سلطان ایوبی نے کہا …… ”لیکن اس کام سے نہیں کہ تم کسی کو قتل کرو۔ میں تاریخ میں اپنے متعلق یہ تہمت چھوڑ کر نہیں مرنا چاہتا کہ صلاح الدین ایوبی نے اپنے دشمنوں کو ایک عورت کے ہاتھوں مروا دیا تھا اور شوبک میں فوج لے کے بیٹھا رہا۔ اگر مجھے پتہ چلے گا کہ صلیبیوں کا کوئی بادشاہ کسی لاعلاج مرض میں مبتلا ہے تومیں اس کے علاج کے لیے اپنے طبیب بھیجوں گا اور پھر ہم تم پرایسا بھروسہ کر بھی نہیں سکتے۔ البتہ تمہاری اس خواہش پر غورکر سکتے ہیں کہ تمہیں معاف کرکے کرک بھیج دیں ”۔

”نہیں ”۔ایونا نے کا…… ”میرے دل میں ایسی کوئی خواہش نہیں ۔ میں یہیں مروں گی ۔ میری اس خواہش کا ضرور خیال رکھیں کہ عماد کو یہ نہ بتائیں کہ میں اس کی بہن ہوں۔ میں کیمپ اپنے باپ کو ضرور دیکھنے جائوں گی۔ لیکن اسے بھی نہیں بتائوں گی میں اس کی بیٹی ہوں”۔وہ زاروقطار رونے لگی۔

علی بن سفیان نے اپنی ضرورت کے مطابق اس سے بہت سی باتیں پوچھیں پھر سلطان ایوبی سے پوچھا کہ اسے کہاں بھیجا جائے۔ سلطان ایوبی نے سوچ کر کہا کہ اسے آرام اور احترام سے رکھو۔ فیصلہ سوچ کر کریںگے۔

علی بن سفیان اسے اپنے ساتھ لے گیا اور ان کمروں میں سے ایک اسے دے دیا جہاں جاسوس لڑکیاں رہا کرتی تھیں۔ لڑکی نے وہاں رہنے سے انکار کر دیا اور کہا …… ”ان کمروں سے مجھے نفرت ہے۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ مجھے اس گھر میں رکھا جائے جہاںسے میں اغوا ہوئی تھی ؟”

”نہیں !”…… علی بن سفیان نے کہا …… ”کسی کے جذبات کی خاطر ہم اپنے قواعد و ضوابط نہیں بدل سکتے ۔”

وہاں کے پہرہ داروں اور ملازموں کو کچھ ہدایات دے کر علی بن سفیان لڑکی کو وہاں چھوڑ گیا ۔

عماد فوجی آرام گاہ میں گیا اور نہا کر سوگیا مگر اتنی زیادہ تھکن کے باوجود اس کی آنکھ کھل گئی۔ کوشش کے باوجود وہ سو نہ سکا۔ اس کے ذہن میں یہی ایک سوال کلبلارہا تھا کہ باپ سے ملے یانہ ملے۔ تھک ہار کر وہ اُٹھا اور اس جگہ کی طرف چل پڑا جو شوبک میں مسلمانوںکے کیمپ کے نام سے مشہور تھی ۔ وہاں پہنچ کر اس نے اپنے باپ کا نام لیا اور پوچھتا پوچھتا باپ تک پہنچ گیا۔ اس کے سامنے ایک بوڑھا لیٹا ہوا تھا۔ عماد نے اس سے ہاتھ ملایا اور اپنے آپ کو قابو میں رکھا۔ اس کاباپ ہڈیوں کا پنجر بن چکا تھا۔ اسے اچھی خوراک ، دوائیاں دی جارہی تھیں۔ عماد نے اپنا تعارف کرائے بغیر اس سے حال پوچھا تو اس نے بتایا کہ سولہ برسوں کی اذیت ناک مشقت ، قید اور بچوں کے غم نے اس کا یہ حال کردیا ہے کہ اتنی اچھی غذا اور اتنی اچھی دوائیں اس پرکوئی اثر نہیں کر رہیں ۔

باپ دھیمی آواز میں عماد کو اپنا حال سنا رہا تھا لیکن عماد سولہ سترہ سال پیچھے چلا گیا تھا ۔ اسے باپ کی صورت اچھی طرح یاد تھی۔ اب اس کے سامنے جو باپ لیٹا ہوا تھا اس کے چہرے کی ہڈیاں باہر نکل آئی تھیں۔ پھر بھی اسے پہچاننے میں عماد کو ذرہ بھر دقت نہ ہوئی۔ اس نے کئی بار سوچا کہ اسے بتادے کہ وہاس کا بیٹا ہے؟ اس نے عقل مندی کی کہ نہ بتایا۔ اس نے دو خطرے محسوس کیے تھے۔ ایک یہ کہ باپ یہ خوشگوار دھچکہ برداشت نہیں کر سکے گا۔ دوسرا یہ کہ اس نے برداشت کرلی تو اس کے لیے رکاوٹ بن جائے گا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ محاذ پر جانے لگے تو یہ صدمہ اسے لے بیٹھے …… وہ باپ سے ہاتھ ملا کر چلا گیا۔

آدھی رات کا عمل ہوگا۔ ایونا بستر سے اُٹھی۔ اس وقت تک اسے نیند نہیں آئی تھی۔ اس نے علی بن سفیان کے رویے سے محسوس کر لیا تھاکہ اس پر اعتبار نہیں کیاگیا اور اب نہ جانے اس کا انجام کیاہوگا ۔وہ سوچ رہی تھی کہ وہ کس طرح یقین دلائے کہ اس نے جو آپ بیتی سنائی ہے وہ جھوٹ نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس کا خون انتقام کے جوش سے کھول رہا تھا۔ عمادکے ساتھ اپنے گھر میں جا کر اس نے ذہن میں بچپن کی یادیں ازخود جاگ اُٹھی تھیں اور خواب کی طرح اسے بہت سی باتیں یاد آگئی تھیں۔ اسے یہ بھی یاد آگیا کہ اسے اغوا کے بعد بے تحاشا پیار، کھلونوں اور نہایت اچھی خوراک سے یہ روپ دیا گیا تھا ۔ پھر اسے وہ گناہ یاد آئے جو اس سے کرائے گئے تھے اور وہ سراپا گناہ بن گئی تھی۔ وہ انتقام لینے کو بیتاب ہوئی جا رہی تھی۔ اس جذباتی حالت نے اسے سونے نہیں دیا تھا۔ اس ذہنی کیفیت میں باپ سے ملنے کی خواہش بھی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی ۔ وہ باہر نہیں نکل سکتی تھی ۔ باہر دو پہرے دار ہر وقت ٹہلتے رہتے تھے ۔ اس کا دماغ اب سوچنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ وہ اب جذبا ت کے ذیر اثر تھی۔

اس نے دروازہ ذرا سا کھول کر دیکھا۔ اسے باتوں کی آوازیں سنائی دیں۔ دائیں طرف کوئی بیس گز دور اسے دونوں پہرہ دار باتیں کرتے ہوئے سائے کی طرح نظر آئے۔ لڑکی دروازے میں سے سر نکالے انہیں دیکھتی رہی۔ پہرے دار وہاں سے ذرا پرے ہٹ گئے۔ لڑکی دبے پائوں باہر نکلی اور عمارت کی اوٹ میں ہوگئی۔ آگے گھاٹی اُترتی تھی۔ وہ بیٹھ گئی اور پائوں پر سرتکتی ہوئی گھاٹی اُتر گئی۔ اب اسے پہرہ دار نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسے معلوم تھا کہ مسلمانوں کاکیمپ کہاں ہے اور اسے یہ بھی معلوم ہوچکا تھا کہ اب یہ کیمپ قید خانے سے مہمان خانہ بن گیا ہے۔ اس لیے اسے یہ خطرہ نہیں تھا کہ وہاں سے کوئی سنتری اسے روک لے گا۔ وہ باپ کو ملنے جارہی تھی جس کا اسے صرف نام معلوم تھا۔ وہ تیز تیز جارہی تھی کہ اسے پیچھے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دی۔ اس نے پیچھے دیکھا مگر کوئی نظر نہ آیا۔ اس آہٹ کو وہ اپنے قدموں کی آہٹ سمجھ کر چل پڑی لیکن یہ کسی اور کی آہٹ تھی۔ ایک تنومند آدمی وہیں سے اس کے پیچھے چل پڑا تھا ، جہاں سے وہ گھاٹی اُتری تھی۔

ایونا کو یہ آہٹ ایک بار پھر سنائی دی ۔ وہ رُکی ہی تھی کہ اس کے سر اور منہ پر کپڑا آن پڑا۔ پلک جھپکتے کپڑا بندھ گیا اور دو مضبوط بازوئوں نے اسے جکڑ کر اُٹھالیا۔ وہ تڑپی مگر تڑپنا بیکار تھا۔ رات تاریک تھی اور یہ علاقہ غیر آباد تھا ۔ ذرا آگے جا کر اسے ایک کمبل میںلپیٹ کر گٹھڑی کی طرح اُٹھالیا گیا۔ وہ ایک نہیں دو آدمی تھے …… نصف گھنٹے کے بعد اسے اتار کر کھولا گیا ۔ وہ ایک کمرے میں تھی جس میں دو دئیے جل رہے تھے۔ وہاں چار آدمی تھے۔ اس نے سب کو باری باری حیرت سے دیکھا اورکہا …… ”تم لوگ ابھی یہاں ہو؟…… اور آپ گیرالڈ؟ آپ بھی یہیں ہیں ؟”

”ہم جاکر آئے ہیں ”…… گیرالڈ نے جواب دیا …… ”تم سب کو یہاں سے نکالنے کے لیے۔ اچھا ہوا کہ تم مل گئیں ”۔

یہ وہ چار صلیبی تھے جنہیں کرک سے اس کام کے لیے بھیجا گیا تھا کہ جاسوس لڑکیاں جو مسلمانوں کے قبضے میں رہ گئی ہیں انہیں وہاں سے نکالیں اور شوبک میں اپنے جو جاسوس رہ گئے ہیں انہیں وہاں منظم کریں اور اگر ممکن ہو تو وہاں تخریب کاری بھی کریں۔ تخریب کاری میں ایک یہ کام بھی شامل تھا کہ اصطبل میں داخل ہو کر جانوروں کے چارے میں زہر ملائیں، رسد کو آگ لگائیں اور فوجیوں کے لنگر خانے میں بھی زہر ملا سکیں تو کوشش کریں۔ اس گروہ کا کمانڈر گیرالڈ نام کا ایک برطانوی تھا جو تباہ کار جاسوسی کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ایونا اسے بہت اچھی طرح جانتی تھی ۔ اسے دیکھ کر ایونا کاخون نفرت اور انتقام کے جوش سے کھول اُٹھا لیکن وہ فوراً سنبھل گئی۔ یہ موقع نفرت کے اظہار کا نہیں تھا۔ گیرالڈ تو ایسا گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایونا بالکل بدل گئی ہے۔ اس نے ایونا سے پوچھا کہ وہ کہاں جا رہی تھی؟ ایونا نے کہا کہ اسے فرار کا موقع مل گیا تھا۔ اس لیے وہ فرار ہو رہی تھی ۔

گیرالڈ نے اسے بتایا کہ وہ چھاپہ مار جاسوسوںکا ایک گروہ کرک کے مظلوم مسلمانوں کے بہروپ میں یہاںلایاہے۔ ان دنوں شوبک کے حالات ایسے تھے کہ یہ گروہ آسانی سے ایک ہی گروہ کی صورت میں شہر میں آگیا تھا۔ جنگ کی وجہ سے لوگ آ جارہے تھے ۔ اردگرد کے دیہات کے مسلمان بھی شہر میں آرہے تھے ۔ اسی دھوکے میں یہ گروہ بھی آگیا ۔ شہر میں پہلے سے جاسوس موجود تھے۔ انہوں نے پورے گروہ کو پس پردہ کر لیا۔ گیرالڈ نے ایونا کو بتایا کو وہ دو راتوں سے اس مکان کودیکھ رہا ہے جس میں لڑکیاں ہیں۔ اس جگہ سے وہ اچھی طرح واقف تھا۔ یہ انہی کی بنائی ہوئی تھی۔ رات کو وہ دیکھنے جاتا تھا کہ پہرہ داروں کی حرکات اور معمول کیاہے۔ یہ بڑا اچھا اتفاق تھا کہ اسے ایونا مل گئی ۔ ایونا نے اسے بتایا کہ لڑکیوں کو نکالنا آسان نہیں ، تاہم نکالا جا سکتا ہے ۔

رات کو ہی سکیم تیار ہوگئی ۔ ایونا نے گیرالڈ کو بتایا کہ لڑکیاں کھلے کمروں میں ہیں جو قید خانہ نہیں۔ پہرہ دار صرف دو ہیں۔ اس قسم کی اور بھی بہت سی تفصیلات تھیں جو ایونا نے انہیں بتائیں۔ یہ بھی طے ہوگیا کہ لڑکیوں کو نکالنے کے لیے کتنے آدمی جائیں گے اور باقی آدمی کون سے مکان میں جمع ہوں گے۔ اس سکیم کے بعد ایونا نے یہ تجویز پیش کی کہ اسے واپس چلے جانا چاہیے ۔ کیونکہ اس کی گمشدگی سے لڑکیوں پر پہرہ سخت کر دیا جائے گا جس سے یہ مہم ناممکن ہوجائے گی۔ گیرالڈ کو ایونا کی یہ تجویز پسند آئی اور اسے اپنے ساتھ لے جا کر اس کی رہائش گاہ کے قریب چھوڑ دیاگیا۔ ایونا کو باہر سے آتے دیکھ کر پہرہ داروں نے اس کی باز پرس کی ۔ اس نے یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ دور نہیں گئی تھی۔ پہرہ دار اس لیے چپ ہوگئے کہ یہ ان کی لاپرواہی تھی لڑکی نکل گئی تھی ۔

دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔

دوسرے دن علی بن سفیان کسی اورکام میں مصروف تھا ۔ایونا نے پہرہ داروں سے کہا کہ وہ اسے علی بن سفیان کے پاس لے چلیں۔ انہوں نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہاں اس کے بلانے پر کو ئی نہیں آئے گا بلکہ اس کی جب ضرورت ہوگی تو اسے بلایا جائے گا۔ ایونا نے بڑی مشکل سے پہرہ داروں کو قائل کیا کہ وہ کسی اور کو بتائے بغیر مرکزی کمان کے کسی فرد تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ نہایت اہم اور نازک بات کرنی ہے۔ اس نے پہرہ داروں سے کہا کہ اگر انہوں نے اس کا پیغام نہ پہنچایا تو اتنا زیادہ نقصان ہوگا کہ پہرہ دار اس کوتاہی کی سزا سے بچ نہیں سکیں گے …… پہرہ داروںنے پیغام بجھوانے کا بندوبست کردیا۔ علی بن سفیان نے پیغام ملتے ہی لڑکی کو بلا لیا۔ اس کے بعدلڑکی کمرے میں واپس نہیں آئی ۔

رات کو جب شوبک کی سرگرمیاں سوگئیںاور شہر پر خاموشی طاری ہوگئی تو اس عمارت کے اردگرد آٹھ دس سائے سے حرکت کرتے نظرآئے جہاں لڑکیوں کو رکھا گیا تھا ۔ عجیب بات یہ تھی کہ دونوں پہرہ دار غائب تھے۔ آٹھ دس چھاپہ مار خوش ہونے کی بجائے حیران ہوئے ہوں گے کہ پہرہ دار نہیںہیں۔ وہ آٹھوں پیٹ کے بل رینگ کر آگے آئے۔ ایونا نے انہیںبتادیا تھا کہ لڑکیاں کون کون سے کمرے میں ہیں ۔ کمروں کے دروازوں اورکھڑکیوں سے یہ لوگ واقف تھے۔ دو چھاپہ مار ایک کمرے میں داخل ہوئے ۔ باقیوں نے پرواہ نہیں کی کہ وہاں پہرہ دار ہیں یا نہیں ۔ انہیں یہ بتایا گیا تھا کہ پہرہ دار صرف دو ہوتے ہیں۔ دو پردس کا قابو پانا مشکل نہیںتھا۔ وہ سب لڑکیوں کے کمروں میں گھس گئے مگر ان میں سے باہر کوئی بھی نہ نکلا ۔

گیرالڈ اسی مکان میں تھا جہاں وہ گذشتہ رات ایونا کو لے گیا تھا۔ اس مکان میں سکیم کے مطابق بیس آدمی تھے۔ باقی کسی اور عیسائی کے گھر میں چھپے ہوئے تھے۔ گیرالڈ بے صبری سے لڑکیوں کا انتظار کر رہا تھا۔ اب تک انہیں اس کے آدمیوں کے ساتھ پہنچ جانا چاہیے تھا ۔ آخر دروازے پر دستک ہوئی۔ دستک کا یہ طے شدہ خاص انداز تھا۔ گیرالڈ نے خود جا کر دروازہ کھولا ۔ یہ مکان پرنے دور کی قلعہ نما حویلی تھی جس میں ایک امیر کبیر عیسائی رہتا تھا۔ گیرالڈ نے جوں ہی دروازہ کھولا اسے کسی نے باہر گھسیٹ لیا۔ فوجیوں کا ایک ہجوم دروازے میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھوں میںلمبی برچھیاں تھیں ۔ فوجی تیز اور تند سیلاب کی طرح اندر چلے گئے ۔ ایک وسیع کمرے میں بیٹھے ہوئے صلیبی چھاپہ مار جاسوسوں کو سنبھلنے کا موقع نہ ملا۔ ان سے ہتھیار لے لیے گئے اور انہیں گھر کے مالک اور اس کے کنبے سمیت باہر لے گئے۔

ایسا ہی ہلہ اس کمان پر بھی بولا گیا جہاں باقی صلیبی چھاپہ مار تیار بیٹھے تھے۔ یہ دونوں چھاپے بیک وقت مارے گئے۔ اسی رات دس گیا رہ مکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ یہ سرگرمی رات بھر جاری رہی۔ مکانوں کی تلاشی لی گئی اور صبح کے وقت علی بن سفیان نے سلطان ایوبی کے سامنے جو لوگ کھڑے کئے ان میں ایک تو گیرالڈ اور اس کے چالیس چھاپہ مار تھے اور تقریباً اتنی ہی تعداد ان جاسوس اور تخریب کاروں کی تھی جنہیں دوسرے مکانوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان مکانوںسے جو سامان برآمد ہوا اس میں بے شمار ہتھیار، زہر کی بہت سی مقدار، تیروں کا ذخیرہ، آتش گیر مادہ اور بہت سی نقدی برآمدہوئی۔ یہ کارنامہ ایونا کا تھا۔ اس نے گیرالڈ کے ساتھ سکیم بنائی تھی اور اس سے ان تمام جاسوسوں کے ٹھکانے معلوم کر لیے تھے جو شوبک میں چھپے ہوئے تھے ۔ گیرالڈ کو اس پر پلی اعتماد تھا۔ ایونا رات کو ہی واپس آگئی اور صبح اس نے تمام تر سکیم علی بن سفیان کو بتادی اور جاسوسوں کے ٹھکانوں کی نشاندہی بھی کردی ۔ علی بن سفیان کے جاسوس دن کے وقت سارے ٹھکانے دیکھ آئے تھے۔ شام کے وقت سلطان ایوبی کے خصوصی چھاپہ مار دستوں کو ان ٹھکانوں پر چھاپے مارنے کے لیے بلالیا گیاتھا۔ لڑکیوں کو کمروں سے نکال کر کہیں اور چھپا دیا گیاتھا۔ ان کی جگہ ہر کمرے میں تین تین چھاپہ ماروں نے انہیں پکڑ لیا۔ اس طرح شوبک میں صلیبیوں کے تقریباً تمام جاسوس اور چھاپہ مار پکڑے گئے ۔ ان میں سب سے زیادہ قیمتی گیرالڈ تھا۔ تمام کو تفتیش اور اس کے بعد سزا کے لیے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔

ایونا نے ان تمام مسلمان سرکردہ شخصیتوں کی بھی نشاندہی کر دی جو قاہرہ میں سلطان ایوبی کے خلاف سرگرم تھے۔ حشیشین کے ہاتھوں سلطان ایوبی اور علی بن سفیان کو قتل کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا وہ بھی ایونا نے بے نقاب کیا اور سلطان ایوبی سے کہا …… ”اب تو آپ کو مجھ اعتبار آجانا چاہیے ”۔

وہ بڑا ہی جذباتی اور رقت انگیز تھا جب عماد کو بتایا گیا کہ ایونا اس کی بہن ہے اور جب بہن بھائی کو ان کے باپ کے سامنے کھڑا کیا گیا تو جذبات کی شدت سے بوڑھا باپ بے ہوش ہوگیا ۔ ہوش میں آنے کے بعد اس نے بتایا کہ اس کی بیٹی کانام عائشہ ہے۔ سلطان ایوبی نے اس خاندان کے لیے خاص وظیفہ مقرر کیا اور علی بن سفیان کے محکمے کے لیے حکم جاری کیا کہ تمام جاسوس لڑکیوںکے متعلق چھان بین کی جائے۔ صلیبیوں نے دوسری لڑکیوں کو بھی مسلمان گھرانوں سے اغوا کیا ہوگا۔

سلطان ایوبی کی فوج بہت بڑے خطرے سے محفوظ ہوگئی …… شوبک سے دورمحاذ کی خبریں اُمید افزا تھیں لیکن فوری ضرورت یہ تھی کہ بکھرے ہوئے دستوں کو یک جا کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے سلطان ایوبی نے شوبک کا فوجی نظام اپنے معاونوں کے حوالے کرکے اپنا ہیڈ کوارٹر شوبک سے دور صحرا میں منتقل کرلیا۔ اس نے برق رفتار قاصدوں کی ایک فوج اپنے ساتھ رکھ لی۔ اس کے ذریعے اس نے ایک ماہ میں بکھرے ہوئے دستے ایک دوسرے کے قریب کرلیے۔ اس کے بعد انہیں تین حصوں میں تقسیم کرکے شوبک کا دفاع اسی طرح منظم کردیا جس طرح قاہرہ کا کیا تھا۔ سب سے دور سرحدی دستے تھے جس کے سوار گشت کرتے تھے۔ ان سے پانچ چھ میل دور فوج کا دوسرا حصہ خیمہ زن کردیا اور تیسرے حصے کو متحرک رکھا۔

کرک میں اکٹھی ہونے والی فوج کی کیفیت ایسی تھی کہ فوری حملے کے قابل نہیں تھی۔ ادھر سلطان ایوبی نے بھرتی کی رفتار تیز کردی اور نئی بھرتی کی ٹریننگ کا انتظام کھلے صحرا میں کردیا ، اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ کرک میں اپنے جاسوس بھیجے جو وہاں کی اطلاعیں لانے کے علاوہ یہ کام بھی کریں کہ وہاں کے رہنے والے مسلمان نوجوانوں کو کرک سے نکلنے اور یہاں آکر فوج میں شامل ہونے کی ترغیب دیں ۔

٭

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: