Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 8

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 8

–**–**–

داستان ایمان فروشوں کی
جلد دوم
قاھرہ میں بعاوت اورسلطان ایوبی

فلسطین ابھی صلیبیوں کے پائوں تلے کراہ رہا تھا۔ یروشلم صلیب پر لٹکا ہوا تھا۔ اس مقدس شہر سے خون رِس رہا تھا ، وہاں کے مسلمان جو صلیبیوں کے ظالمانہ استبداد کے شکنجے میں آئے ہوئے تھے، پس رہے تھے ، تڑپ رہے تھے اور صلاح الدین ایوبی کا انتظار کررہے تھے۔ اُن تک یہ اطلاعیں پہنچ چکی تھیں کہ سلطان صلاح الدین ایوبی فلسطین کی سرزمین میں داخل ہو چکا ہے اور شوبک کاقلعہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہے۔یہ ان کے لیے خوشخبری تھی مگر یہ خوش خبری پیغامِ اجل ثابت ہوئی۔ صلیبیوں نے شوبک کی شکست کا انتقام یروشلم اور دیگر شہروں اور قصبوں کے مسلمانوں سے لینا شروع کردیا تھا۔ وہ مسلمانوں کو مردہ کردینا چاہتے تھے تا کہ وہ جاسوسی نہ کر سکیں اور حملے کی صورت میں صلاح الدین ایوبی کی مدد کرنے کی جرأت نہ کریں۔سب سے زیادہ مظالم کرک کے مسلمانوں پر توڑے جا رہے تھے۔ شوبک کے بعد کرک ایک بڑا قلعہ تھا جس پر صلیبیوں کو بہت ناز تھا۔ ایسا ہی ناز انہیں شوبک پر بھی تھا، مگر اُس کے ناز کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی نہایت اچھی چال اور اس کے مجاہدین کی شجاعت نے ریت کے ذروں کی طرح بکھیر دیا تھا۔ اب صلیبی کرک کو مضبوط کر رہے تھے ، وہاں کے مسلمان باشندوں پر تشدد ایک احتیاطی تدبیر تھی۔ صلیبیوں کو یہ وہم ہوگیا تھا کہ مسلمان جاسوسی کرتے ہیں۔ چنانچہ یہاں بھی انہوں نے شوبک کی طرح مشتبہ مسلمانوں کو بیگار کیمپ میں پھینکنا شروع کردیا تھا۔

”فلسطین کی فتح ہمارا ایک عظیم مقصد ہے مگر کرک سے مسلمانوں کو نکالنا اس سے بھی عظیم تر مقصد ہونا چاہیے”۔ جاسوسوں کے ایک گروہ کا سربراہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو بتا رہا تھا ۔ وہ طلعت چنگیز نام کا ایک تُرک تھا جو چھ جاسوسوں کو شوبک سے بھاگے ہوئے عیسائی باشندوں کے بہروپ میں کرک لے گیا تھا۔ وہ تین مہینوں بعد واپس آیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو علی بن سفیان ِکی موجودگی میں وہاں کے حالات بتا رہا تھا۔ صلیبی فوج جو بھاگ کر کرک پہنچی تھی ،اس کے متعلق اس نے بتایا کہ خاصی بُری حالت میں ہے اور فوری طور پر لڑنے کے قابل نہیں۔ اس ہاری ہوئی فوج نے کرک میں جاتے ہی مسلمانوں کا جینا حرام کردیا۔ اندھا دُھند گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ مسلمانوں عورتوں نے باہر نکلنا چھوڑ دیا ہے، جہاں کسی مسلمان پر ذرا سا شک ہوتا ہے ، اُسے پکڑ کر بیگار کیمپ میں لے جاتے ہیں ، جہاں انسان ایسا مویشی بن جاتا ہے جو بو ل نہیں سکتا۔ صبح کے اندھیرے سے رات کے اندھیرے تک کام کرتا، سوکھی روٹی اور پانی پر زندہ رہتا ہے …… ”ہم نے وہاں زمین دوز مہم چلائی ہے کہ جتنے مسلمان جوان ہیں یا لڑنے کی عمرمیں ہیں ، وہ یہاں سے نکل کر شوبک پہنچیں اور فوج میں بھرتی ہوجائیں ، تاکہ کمک کا انتظار کیے بغیر کرک پرحملہ کیا جاسکے ”…… چنگیز تُر ک نے کہا…… ”ہماری موجودگی میں کچھ لوگ وہاں سے نکل آئے تھے لیکن یہ کام ایک تو اس لیے مشکل ہے کہ ہر طرف صلیبی فوج پھیلی ہوئی ہے اور دوسری مشکل یہ ہے کہ اپنے کنبوں، خصوصاً عورتوں کو وہ عیسائیوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر نہیں آسکتے ۔ فوری ضرورت یہ ہے کہ کرک پر حملہ کیا جائے اور مسلمانوں کو نجات دلائی جائے”۔

اس سے پہلے ایک اور جاسوس یہ اطلاع دے چکا تھا کہ صلیبیوں کی سکیم اب یہ ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کرک کا محاصرہ کرے گا تو صلیبیوں کی ایک فوج، جو ایک صلیبی حکمران ریمانڈ کے زیر کمان ہے، عقب سے حملہ کرے گی ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے پہلے ہی اپنے فوجی سربراہوں سے کہہ دیا تھا کہ صلیبی عقب سے حملہ کریں گے۔ اس صورتِ حال کے لیے اُسے زیادہ فوج کی ضرورت تھی ۔ اسنے چنگیز کو رخصت کرکے علی بن سفیان سے کہا …… ”جذبات کا تقاضا یہ ہے کہ ہمیں فوراً کرک پر حملہ کر دینا چاہیے۔ میں اچھی طرح اندازہ کرسکتا ہوں کہ وہاں کے مسلمان کس جہنم میں پڑے ہوئے ہیں، لیکن حقائق کا تقاضا یہ ہے کہ اپنی صفوں کو مستحکم کیے بغیر ایک قدم آگے نہ اُٹھائو، ضرب اُس وقت لگائو ، جب تمہیں یقین ہوکہ کاری ہوگی۔ ہم ان عورتوں اوربچوں کو نہیں بھول سکتے جو دشمن کے ہاتھوں ذلیل وخوار اور قتل ہو رہے ہیں ۔ یہ ہمارے گمنام شہید ہیں ، یہ قوم کی عظیم قربانی ہے۔ میں انہی کی آبرو کے وقار کے لیے فلسطین لینا چاہتاہوں، اگر میرا مقصد یہ نہ ہو تو جنگ کا مقصد ڈاکہ اور لوٹ مار رہ جاتا ہے۔ وہ قوم جو اپنی اُن بچیوں اور بچوں کوبھول جائے جو دشمن کے استبداد میں ذلیل وخوار اورقتل ہوئے ، وہ قوم ڈاکوئوں اور رہزنوں کا گروہ بن جاتی ہے ۔ اس قوم کے افراد دشمن سے انتقام لینے کی بجائے ایک دوسرے کو لوٹتے، ایک دوسرے کودھوکے اور فریب دیتے ہیں۔ اُن کے حاکم قوم کو لوٹتے اورعیش و عشرت کرتے ہیں اور جب دشمن انہیں کمزور پا کر اُن کے سر پر آجاتا ہے تو کھوکھلے نعرے لگا کر قوم کے بے وقوف بناتے ہیں اور دشمن کے ساتھ درپردہ سودا بازی کرتے ہیں۔وہ اپنے ملک کا کچھ حصہ اور اس حصے کی آبادی نہایت راز دار انہ طریقے سے دشمن کے حوالے کرکے باقی ملک میں اپنی حکمرانی قائم رکھتے ہیں ، پھر وہ اورزیادہ عیش اور لوٹ کھسوٹ کرتے ہیں ، کیونکہ وہ جاتے ہیں کہ دشمن انہیں بخشے گا نہیں …… یہ عیش چند روزہ ہے لہٰذا قوم کی رگوں سے خون کا آخری قطرہ بھی جلدی جلدی نچوڑ لو ”۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسی متعدد قوموں کے نام لیے اور کہا …… ”وہ توسیع پسند تھے ۔ اُن کے سامنے اس کے سوا کوئی مقصد نہ تھا کہ ساری دنیا پر بادشاہی کریں اور دُنیا بھر کی دولت سمیٹ کر اپنے قدموں میں ڈھیر لگا لیں۔ انہوں نے دوسری قوموں کی عصمت دری کی اور اُن کی اپنی بیٹیاں اور بہنیں دوسروں کے ہاتھوں بے آبرو ہوئیں۔ ان قوموں کے حکمران پرائی زمین پر ہلاک ہوئے اور اُن کانام و نشان کس نے مٹایا؟ ان قوموں نے، جو غیرت مند تھیں اور جنہیں احساس تھا کہ اُن کی زمین کو اور اُن کی عصمت کو دشمن نے ناپاک کیا ہے اور اس کا انتقام لیناہے۔ ہم بھی حملہ آور ہیں ، صلیبی بھی حملہ آور ہیں لیکن ہم میں فرق ہے۔ وہ دور دراز ملکوں سے ہمارے مذہب کا نام و نشان مٹانے آئے ہیں ۔ وہ اس لیے آئے ہیں کہ مسلمان عورتوں کو اپنی گرفت میں لے کر ان کے بطن سے صلیبی پیدا کریں۔ ہم اُن کی آبرو کے دفاع کے لیے حملہ آور ہوئے ہیں ۔ اگر ہم کفر کے طوفان کونہ روکیں تو ہم بے غیرت ہیں اور ہم مسلمان نہیں اور اگر اسلام کا دفاع اس انداز سے کریں کہ دشمن کے انتظار میں گھر بیٹھے رہیں اور جب وہ حملہ آور ہو تو اپنے گھر میں اُس کے خلاف لڑیں اورپھر فخر سے کہیں کہ ہم نے دشمن کا حملہ پسپا کردیا ہے تو یہ ثبوت ہے ہماری بزدلی کا۔ دفاع کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ دشمن تمہیں مارنے کے لیے نیام سے تلوار نکالنے لگے توتمہاری تلوار اُس کی گردن کاٹ چکی ہو۔ وہ کل حملے کے لیے آنے والا ہو تو آج اُس پر حملہ کردو ”۔

”میرے پاس اس کا ایک ہی علاج ہے کہ محترم نورالدین زنگی سے کمک مانگی جائے”۔ علی بن سفیان نے کہا …… ”اور کرک پر حملہ کر دیا جائے ”۔

”یہ بھی نقصان دہ ہوگا ”……سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ”زنگی کے پاس اتنی فوج موجود رہنی چاہیے کہ صلیبی اگر ہمارے عقب پر حملہ کریں تو زنگی اُن کے عقب پر حملہ کر سکے۔ میں مدد مانگنے کا قائل نہیں۔ اس کی بجائے میں یہ بھی کر سکتا ہوں کہ کرک میں چھاپہ مار دستے بھیج کر صلیبیوں کا جینا حرام کیے رکھوں ۔ مجھے اُمید ہے کہ ہمارے جاسوس چھاپہ مار صلیبیوں کی جڑیں چوہوں کی طرح کاٹتے رہیں گے مگر اس کی سزا وہاں کے بے گناہ مسلمان باشندوں کو ملے گی۔ چھاپہ مار تو اپنا کام کرکے اِدھر اُدھر ہوجائیں گے ۔ وہ ہر قسم کی سختی اور مصیبت جھیل سکتے ہیں ۔ ہمارے نہتے بہن بھائی کچلے جائیں گے ۔ البتہ اس تجویز پرغور کرو کہ وہاں سے مسلمان کنبوں کو نکالنے کا کوئی خفیہ انتظام کیا جائے۔ حملے میں کچھ وقت لگے گا۔ ہمیں خاصی بھرتی مل گئی ہے۔ کرک کے جوان بھی آگئے ہیں اور آرہے ہیں ”۔

٭ ٭ ٭

”میں محسوس کرنے لگا ہوں کہ ہمیں یہاںکے باشندوں کے متعلق اپنی پالیسی میں تبدیلی کرنے پڑے گی”۔ صلیبیوں کے محکمہ جاسوسی اور سراغرسانی کے سربراہ ہرمن نے کہا۔ قلعہ کرک میں چند ایک صلیبی بادشاہ، اُن کے فوجی کمانڈر اور انتظامیہ کے حکام جمع تھے۔ وہ جوںجوں اپنی ہاری ہوئی فوج کو دیکھ رہے تھے ، ان کی عقل پر غصہ اور انتقام غالب آتا جا رہاتھا۔وہ شکست کوبہت جلدی فتح میں بدلنا چاہتے تھے۔اُن میں ان کی انٹیلی جنس کا سربراہ ہرمن ، واحد آدمی تھا جو ٹھنڈے دِل سے سوچتا اور عقل کی بات کرتاتھا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کے صلیبی بھائی کرک کے مسلمان باشندوں کے ساتھ کیسا وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں۔ اس نے کہا …… ”آپ نے یہی سلوک شوبک کے مسلمانوں کے ساتھ روارکھا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ انہوں نے وہاں ”مسلمانوں کے کیمپ”سے اُس مسلمان فوجی کو بھگا دیا جسے ہم نے خطرنام جاسوس سمجھ کر قید میں ڈال دیا تھا ۔ مجھے یقین ہے کہ اُسے وہاں کے مسلمانوں نے پناہ دی تھی ۔ وہ قلعے کے اندرونی حالات اور دفاع کو دیکھ کر گیا تھا۔ اسکے علاوہ صلاح الدین ایوبی نے ہمارے قلعے کی دیوار جوتوڑی تھی، اس میں اند کے مسلمانوں کا بھی ہاتھ تھا۔ وہ آپ کے سلوک سے اس قدر تنگ آئے ہوئے تھے کہ انہوں نے جان کی بازی لگا کر مسلمان فوج کی مدد کی اور جب فوج کا ہر اوّل دستہ اندر آیا تو مسلمانوں نے اس کی رہنمائی کی ”۔

”اس لیے ہم کرک کے مسلمانوں کا دم خم توڑ رہے ہیں کہ اُن میں جذبہ اور ہمت ہی نہ رہے ”…… ایک صلیبی سالار نے کہا ۔

”اس کی بجائے اگر آپ انہیں اپنا دوست بنا لیں تو وہ آپ کی مدد کریں گے ”۔ ہرمن نے کہا …… ”اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں پیار اور محبت سے انہیں اُن کا مذہب تبدیل کیے بغیر صلیب کا گرویدہ بنالوں گا۔ میں انہیں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑادوں گا”۔

”تم بھول رہے ہو ہرمن!”ایک مشہور صلیبی بادشاہ ریمانڈ نے کہا …… ”تم چند ایک مسلمانوں کو لالچ دے کر انہیں غدار بنا سکتے ہو، مگر ہرایک مسلمان کو اسلامی فوج کے خلاف نہیں کر سکتے۔ پوری قوم غدار نہیں ہوسکتی۔ ہرمن! تم ان لوگوں پر اتنا بھروسہ نہ کرو، ہم انہیں دوست نہیں بنانا چاہتے۔ ہم ان کی نسل ختم کر نا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی غیرمسلم کسی مسلمان کے ساتھ محبت کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلام سے محبت کرتا ہے ،جبکہ ہمارا مقصد اسلام کا خاتمہ ہے۔ کرک میں، یروشلم میں، عقہ اور عدیسہ میں جہاں بھی صلیب کی حکمران یہے ، مسلمانوں کو اس قدر پریشان کرو کہ وہ مر جائیں یا وہ صلیب کے آگے گھٹنے ٹیک دیں ”۔

”مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے وہ صلاح الدین ایوبی کو باقاعدہ معلوم ہوتا جارہا ہے۔ ”ہرمن نے کہا …… ”آپ اسے اُکسا رہے ہیں کہ وہ کرک پر جلدی حملہ کرے۔ آپ یہ بھول رہے ہیں کہ ہماری فوج فوری حملے کے آگے ٹھہرنے کے قابل نہیں ”۔

”اس کا حل یہ نہیں کہ ہم مسلمان باشندوں کو سر پر بٹھالیں ”۔ فلپ آگسٹس نے کہا …… ”آپ لوگ مسلمان جنگی قیدیوں کو ابھی تک پال رہے ہیں۔ انہیں قتل کیوں نہیں کردیتے؟”

”اس لیے کہ ایوبی ہمارے قیدیوں کو قتل کردے گا”۔ گے آف لوزینان نے جواب دیا …… ”ہمارے پاس مسلمانوں کے کل تین سواِکسٹھ جنگی قیدی ہیں۔ مسلمانوں کے پاس ہمارے بارہ سو پچہتر قیدی ہیں”۔

”کیاہم ایک مسلمان کو مارنے کے لیے چار صلیبی نہیں مروا سکتے؟” …… آگسٹس نے کہا …… ”ہمارے وہ قیدی جو صلاح الدین ایوبی کے پاس ہیں، بزدل تھے، وہ لڑنے کی بجائے قید ہوئے۔ وہ زندہ رہنا چاہتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے ہاتھوں مرجائیں تو اچھا ہے، تم اطمینان سے مسلمان قیدیوں کو ختم کردو”۔

”کیا مسلمان باشندوں کے ساتھ درنوں جیسا سلوک کرکے اور مسلمان جنگی قیدیوں کو قتل کرکے تم صلاح الدین ایوبی کو شکست دے دو گے؟” سالار کے عہدے کے ایک صلیبی نے کہا …… ”اس قوت فوج کے سامنے یہ مسئلہ ہے کہ صلاح الدین ایوبی اگر پیش قدمی کر آیا تو اُسے کس طرح روکیں گے اور اُسے شوبک کا قلعہ واپس کس طرح لیا جاسکتا ہے۔ کرک کے تمام مسلمانوں کو قتل کردو۔ پھر کیا ہوگا ؟ صلاح الدین ایوبی کی طرح تم اپنی نظر میں وسعت پیدا کیوں نہیں کرتے۔ کیا ہرمن بتا سکتا ہے کہ مصرمیں اس زمین دوزکاروائیاں کیا ہیں اور کامیابی کتنی ہے؟”

”توقع سے زیادہ”۔ہرمن نے جواب دیا۔ ”علی بن سفیان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ شوبک میں ہے۔ میں نے قاہرہ میں اس کی غیرحاضری سے بہت فائدہ اُٹھایا ہے۔ قاہرہ کے نائب ناظم مصلح الدین کو فاطمیوں نے اپنے ساتھ ملالیا ہے۔ مصلح الدین ایوبی کا معتمد خاص ہے، لیکن اب ہمارے ہاتھ میںہے۔ فاطمیوں نے در پردہ اپنا ایک خلیفہ مقرر کردیا ہے۔ وہ قاہرہ کے اندر سے بغاوت اور سوڈانیوں کے حملے کا انتظار کرہے ہیں۔ ہمارے فوجی افسر سوڈان کی فوج تیارکرہے ہیں۔ قاہرہ میں صلاح الدین ایوبی جو فوج چھوڑ آیا ہے، اس کے دو نائب سالار ہمارے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں، اُدھر سے سوڈانی فوج حملہ کریںگے۔ قاہرہ میں بغاوت ہوگی اور فاطمی اپنی خلافت کا اعلان کردیں گے”۔

”مجھے سو فیصد اُمید ہے کہ قاہرہ میں جواس کی فوج ہے ، وہ اس کے کام نہیں آسکے گی ”۔ ہرمن نے کہا …… ”میرے آدمیوں نے فوج میں اس قسم کے شکوک پیدا کر دئیے ہیں کہ انہیں قاہرہ میں پیچھے چھوڑ کر مالِ غنیمت سے محروم کر دیا گیا ہے اور یہ بھی شوبک کی سینکڑوں عیسائی لڑکیاں صلاح الدین ایوبی کے ہاتھ آئی ہیں جو اُس نے وہاں فوج کے حوالے کردی ہیں۔ میری کامیابی یہ ہے کہ میں نے مسلمان فوجی حکام کے ہی منہ میں یہ افواہیں ڈال کر اُن کی فوج میں پھیلائی ہیں۔ میں نے ایسے حالات پیدا کر دئیے ہیں کہ قاہرہ کی تمام فوج سوڈانیوں کا ساتھ دے گی اور صلاح الدین ایوبی کو بغاوت کرو کرنے کے لیے یہاں سے تمام فوج لے جانی پڑے گی ، مگر یہ فوج اُس وقت وہاں پہنچے گی جب قاہرہ ایک بار پھر فاطمی خلافت کی گدی بن چکا ہوگا اور وہاں سوڈان کی فوج قابض ہوگی۔ ضروری نہیں کہ ہم یہاں صلاح الدین ایوبی پر حملہ کریں اور اُسے روکیں ۔ ہم اُسے بھٹکنے کے لیے کھلا چھوڑ دیں گے۔ ہم اُسے مسلمانوں کے ہاتھوں مروائیں گے”۔ ہرمن نے زور دے کر کہا…… ”آپ ابھی تک مسلمان کی نفسیات نہیں سمجھ سکے۔ یہی وجہ کہ آپ میری بعض کارگر باتیں نظر انداز کردیتے ہیں ۔ مسلمان اگر فوجی ہو اور اس کے دماغ میں ٹریننگ کے دوران یہ بٹھا دیا جائے کہ وہ ملک اور قوم کا محافظ ہے تو وہ ملک اور قوم کی خاطر جان قربان کر دیتا ہے۔ دُنیا کی بادشاہی اس کے قدموں رکھ دو، وہ سپاہی رہنا پسند کرے گا، قوم سے غداری نہیں کرے گا ۔ اگر اسی فوجی میں جنسی لذت، شراب نوشی اور عہدوں کی خواہش پیدا کردو تو وہ اپنا مذہب بھی دائو پر لگا دیتا ہے۔ ہم نے جن مسلمان فوجی حکام کو اپنے ساتھ ملایا ہے ، اُن میں یہی خامیاں پیدا کی تھیں اور کر رہے ہیں ”……

”مگر فوجی کو غدار بنانا آسان نہیں جتنا انتظامیہ کے حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا آسان ہے”۔ ہرمن نے کہا …… ”انتظامیہ کے ہر حاکم میں امراء اور وزراء کی صف میں آنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔ اگ لوگوں پر بادشاہ بننے کا خبط سوار ہے۔ مسلمانوں کی تاریخ دیکھیں۔ اس کے رسول )صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (کے بعد یہ لوگ خلافت پر ایک دوسرے سے لڑتے رہے۔ ان کے جرنیلوں نے نہایت دیانت داری سے اپنا کام جاری رکھا۔ وہ دوسرے ملکوں کو تہ تیغ کرتے رہے اور اسلامی سلطنت کو وسیع کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن اُن کے خلیفوں نے جہاں دیکھا کہ فلاح جرنیل ایسا مقبول ہوگیا ہے کہ اس کف فتوحات کی بدولت اُسے قوم خلیفہ سے زیادہ مقام دینے لگی ہے تو خلیفہ اور اُس کے حواریوں نے جرنیل کو غلط احکام دے کر اُسے ذلیل اور رُسوا کردیا۔ خود خلیفہ کی گدی مخالفین سے محفوظ نہ رہی ۔ مخالفین کی نگاہ اسلامی سلطنت کی وسعت سے ہٹ کر خلاف کے حصول پر مرکوز ہوگئی۔ جرنیل ہارتے چلے گئے۔ اسی کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ہم عرب میں بیٹھے ہیں ۔ صلاح الدین ایوبی انہیں جرنیلوں میں سے ہے جو سلطنت کو اُنہی سرحدوں تک لے جانا چاہتا ہے جہاں یہ پہلے جرنیلوں نے پہنچائی تھیں۔ اس شخص میں خوبی یہ ہے کہ انتظامیہ اور خلافت کی پرواہ نہیں کرتا۔ اس نے مصر کی خلافت کو اپنے ارادوں کے سامنے رکاوٹ بنتے دیکھا تو خلیفہ کو ہی معزول کردیا۔ یہ دلیرانہ قدم اس نے فوجی طاقت اور اپنی فہم و فراست کے بل بوتے پر اُٹھایا تھا”۔

ہرمن بولتا جا رہا تھا۔ تمام حکمران اور صلیبی کمانڈر انہماک سے سُن رہے تھے۔ وہ کہہ رہا تھا …… ”صلاح الدین ایوبی اپنی قوم کی اس کمزوری کو سمجھ گیا ہے کہ غیر فوجی قیادت گدی کی خواہش مند ہے اور یہ خواہش ایسی ہے کہ جوزن اور زرپرستی اور شراب نوشی جیسی عادتیں پیدا کرتی ہے۔ ہم نے صر اُن فوجی افسروں کو ہاتھ میں لیا ہے جو اقتدار کے خواہش مند ہیں۔ اسی لیے ہم زیادہ تر اثر انتظامیہ کے سربراہوں پر ڈال رہے ہیں ۔ فوج کو کمزور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے لوگوں کی نظروں میں رسوا کردیا جائے۔ یہ کام میرا ہے جو میں کر رہا ہوں۔ آپ شاید میری تائید نہ کریں ، لیکن میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آپ صلاح الدین ایوبی کو میدانِ جنگ میں آسانی سے شکست نہیں دے سکتے۔ وہ صرف لڑنے کے لیے نہیں لڑتا۔ اس کے عزم کی بنیاد ایک ایسے منصوبے پر ہے جسے اس کی ساری فوج سمجھتی ہے۔ اس کی بنیادی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے خلیفہ سے یا غیر فوجی قیادت سے حکم نہیں لیتا۔ وہ کٹر مسلمان ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ میں خدا اور قرآن پاک سے حکم لیتا ہوں۔ میرے جو جاسوس بغداد میں ہیں، انہوں نے اطلاع دی ہے کہ صلاح الدین ایوبی نے نورالدین زنگی کو ساتھ ملاکر یہاں سے انقلابی تجاویز بھیجی ہیں جن پر عمل درآمد شروع ہوگیا ہے۔ ایک یہ ہے کہ امیر العلماء سے یہ فتویٰ صادر کرایا گیا ہے کہ خلافت صرف ایک ہی ہوگی اور یہ بغداد کی خلافت ہوگی۔ یہ خلافت دوسرے ممالک کے متعلق احکام نافذ کرنے اور سمجھوتوں کی بات چیت کرنے سے پہلے اعلیٰ فوجی قیادت سے منظوری لے گی۔ جنگی امور فوجی حکام کے ہاتھ میں ہوں گے ۔ خلیفہ دور دراز علاقوں میں لڑنے والے جرنیلوں کو کوئی حکم نہیں بھیج سکتا۔ تیسرے یہ کہ خلیفہ کا نام خطبے میں نہیں لیا جائے گا اور خلافت کا اثرورسوخ ختم کرنے کے لیے صلاح الدین ایوبی نے حکم جاری کرادیا ہے کہ خلیفہ یا اس کے نائب یا کوئی قلعہ دار وغیرہ جب دورے وغیرہ کے لیے باہر نکلیں گے تو لوگوں کو راستے میں کھڑے ہونے، نعرے لگانے اور سلام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی”۔

”صلاح الدین ایوبی نے سب سے اہم کام یہ کیا ہے کہ ”سُنی شیعہ تفرقہ مٹا دیا ہے”۔’ہرمن نے کہا …… ”اُس نے شیعوں کو فوج اور انتظامیہ میں پوری نمائندگی دے دی ہے اور نہایت پُر اثر طریقوں سے شیعہ علماء کو قائل کر لیا ہے کہ وہ ایسی رسمیں ترک کردیں جو اسلام کے منافی ہیں ”…… صلاح الدین ایوبی کے یہ انقلابی اقدامات ہمارے لیے نقصان دہ ہیں۔ ہم مسلمانوں کی انہی خامیوں کو استعمال کرنا چاہتے ہیں ۔ اب ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے جو دراصل جاری ہے کہ مسلمانوں کی انتظامی قیادت کو صلاح الدین ایوبی اور اس کی فوج کے خلاف کیا جائے ”۔

”صرف آج نہیں، ہمیشہ کے لیے ”۔ فلپ آگسٹس جو مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا بولا ۔ ”ہماری عداوت صرف صلاح الدین ایوبی سے نہیں ۔ ہماری جنگ اسلام کے خلاف ہے۔ ہماری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ایوبی مرجائے تو یہ قوم کوئی دوسرا ایوبی پیدا نہ کرسکے ۔ اس قوم کو عقیدوں، غلط او بے بنیاد عقیدوں کے ہتھیاروں سے مارو۔ ان میں بادشاہ بننے کا جنون طاری کردو۔ انہیں عیاش بنادو اور ایسی روایات پیدا کردو کہ یہ لوگ خلافت کی گدی پر آپس میں لڑتے رہیں، پھر اس خلافت کو اس کی فوج پر سوار کردو۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قوم ایک نہ ایک دن صلیب کی غلافم ہوجائے گی۔ اس کا تمدن اور اس کا مذہب صلیب کے رنگ میں رنگا ہوا ہوگا۔ وہ بادشاہی اور خلافت کے حصول کے لیے آپس میں دست و گریباں ہوں گے اور اپنے مخالفین کو دبانے کے لیے ہم سے پناہ مانگیں گے۔ اُس وقت ہم میں سے کوئی بھی زندہ نہ ہوگا۔ ہماری روحیں دیکھیں گی کہ میں نے جو پیشین گوئی کہ ہے ، وہ حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئی ہے۔ اسلام کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے لیے یہودی تمہیں اپنی لڑکیاں پیش کر رہے ہیں ، انہیں استعمال کرو۔ یہودیوں کو اس لیے اپنا دشمن سمجھو کہ وہ یروشلم کو اپنا مقدس شہر اور فلسطین کو اپنا گھر سمجھتے ہیں۔ انہیں کہو کہ فلسطین تمہارا ہے۔ آخر میںیہ خطہ ہم تم کو ہی دیں گے ، ابھی ہمارا ساتھ دو ، لیکن یہ احتیاط ضرور کرنا کہ یہودی بہت چالاک قوم ہے۔ اُسے جب تمہاری طرف سے خطرہ نظر آیا تو تمہارے ہی خلاف ہوجائے گی۔ اس کی دولت اور اس کی لڑکیاں استعمال کرو اور اس کے عوض انہیں فلسطین پیش کرو”۔

٭ ٭ ٭

قلعہ شوبک اور قلعہ کرک بے بہت دور ایک ویسا وسیع خطہ تھا جو مٹی، ریت اور سِلوں کی پہاڑیوں اور اونچی نیچی چٹانوں میں گھرا ہوا تھا ۔ یہ خطہ کم و بیش ڈیڑھ ایک میل وسیع اور چوڑا تھا ۔ اس میں بہت سا علاقہ ریتلا میدانی تھا اور اس میں کھڈ بھی تھے اور کم اونچی ٹیکریاں بھی۔ جب صلیبی حکمران اور کمانڈر اسلام کے بیخ کنی کے منصوبے بنا رہے تھے اور نہایت پُر کشش اور خطرناک طریقے وضع کر رہے تھے، صحرا کا یہ خطہ میدانِ جنگ بنا ہوا تھا۔ ہزاروں پیادہ عسکری، گھوڑ سوار اور شتر سوار بھاگ دوڑ رہے تھے۔ تلواریں اور پرچھیوں کی انیاں چمک رہی تھیں۔ گھوڑوں اور اونٹوں کی دوڑ سے گرد گہرے بادلوں کی طرح آسمان کی طر ف اُٹھ رہی تھی ۔ اس گرد میں برچھیاں بھی اُڑ رہی تھیں ، تیر بھی۔ پیادہ سپاہی گھوڑوں سے آگے نکل جانے کی رفتار سے دوڑنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے او پہاڑی سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہلا رہا تھا ۔ ایک پہاڑی کے دامن میں آگ کے شعلے اُڑتے اور پہاڑی سے ٹکڑا کر بھڑکتے اور بجھ جاتے تھے۔ شوروغل آسمان کو ہلا رہا تھا۔

صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ایک بلند چٹان پر کھڑا یہ نظارہ انہماک سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ بہت دیر سے اس میدان کے اردگرد چٹانوں پر گھوم رہا تھا۔ اس کے اس کے دو نائب تھے۔

”میں آپ کو یقین دلا سکتا ہوں کہ جس رفتار سے سکھلائی ہو رہی ہے۔ نئے سپاہی چند دنوں میں تجربہ کار ہو جائیں گے ”۔ ایک نائب نے کہا ۔ ”آپ نے جن سواروں کو وہ اتنا چوڑا کھڈ پھلانگتے ہوئے دیکھا تھا ، وہ سب کرک سے آئے ہوئے سوار ہیں۔ میں انہیں اناڑی سمجھتا تھا، تیر اندازوں کا معیار بھی اچھا ہو رہاہے”۔

Read More:  Yaaram by Sumaira Hameed – Episode 14

میدانِ جنگ کا یہ منظر دراصل ٹریننگ تھی ، جس کے متعلق صلاح الدین ایوبی نے بڑے سخت احکامات جاری کیے تھے۔ اردگرد سے بہت سے جوان فوج میں بھرتی کیے گئے تھے اور کرک سے بھی بہت سے مسلمان چوری چھپے نکل آئے تھے۔ یہ سلطان ایوبی کے جاسوسوں کا کمال تھا کہ کرک سے بھی جوان حاصل کر لیے تھے۔ شوبک کے وہ مسلمان جنہوں نے صلیبیوں کا ظلم و تشدد برداشت کیا تھا، جوش و خروش سے صلاح الدین ایوبی کی فو میں شامل ہوئے تھے۔ ان کی ٹریننگ کا انتظام وہیں کر دیا گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اس میں ذاتی دلچسپی لے رہا تھا۔ اُسے اُس کے نائب یقین دلا رہے تھے کہ وہ نئی بھرتی کو تھوڑے سے عرصے میں پختہ کار بنادیں گے۔

”سپاہی صرف ہتھیاروں کے استعمال اور جسمانی پھرتی سے تجربہ کار نہیں بن سکتا”۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ”عقل اور جذبے کا استعمال ضروری ہے۔ مجھے ایسی فوج کی ضرورت نہیں جو اندھا دُھند دشمن پر چڑھ دوڑے اور صرف ہلاک کرے۔ مجھے ایسی فوج چاہیے ، جسے معلوم ہو کہ اس کا دشمن کون ہے اور اس کے عزائم کیا ہیں ؟ میری فوج کو علم ہونا چاہیے کہ یہ خدا کی فوج ہے اور خدا کی راہ میں لڑ رہی ہے۔ جوش و خروش ، جو میں دیکھ رہا ہوں ، بہت ضروری ہے مگر مقصد واضح نہ ہو ، اپنی حیثیت واضح نہ ہو تو یہ جو ش جلدی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ انہیں بتائواور ذہن نشین کرائوکہ ہم فلسطین کیوں لینا چاہتے ہیں۔ انہیں بتائو کہ غداری کتنا بڑا جرم ہے۔ انہیں سمجھائو کہ تم صرف فلسطین کے لیے نہیں ، بلکہ اسلام کے تحفظ اور فروغ کے لیے لڑ رہے ہو اور تم آنے والی نسلوں کے وقار کے لیے لڑ رہے ہو۔ عملی سکھلائی کے بعد انہیں وعظ دو اور ان پر ان کی قومت واضح کرو ”۔

”انہیں ہر شام وعظ دئیے جاتے ہیں ، سالارِ اعظم!” ایک نائب نے کہا …… ”ہم انہیں صرف درندے اور وحشی نہیں بنا رہے”۔

”اور یہ خیال رکھو کہ ان کے دلوں میں قوم کی وہ بیٹیاں نقش کردو جو کفار کے ہاتھوں اغوا اور بے آبرو ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں ”۔ سلطان ایوبی نے کہا …… ”انہیں قرآن پاک کے وہ ورق یاد دلاتے رہنا ، جنہیں صلیبیوں نے پائوں تلے مسلا تھا اور انہیں وہ مسجدیں یاد دلاتے رہنا، جن میں کفار نے گھوڑے اور مویشی باندھے تھے اور باندھ رہے ہیں۔ بیٹی کی عزت اور مسجد کا احترام مسلمان کی عظمت کے نشان ہوتے ہیں ۔ انہیں بتائو کہ جس روز تم عصمت اور مسجدکو ذہن سے اُتار دو گے ، اُس روز تم اپنے لیے اس دُنیا کو جہنم بنالوگے اور آخرت میں جو عذاب ہے اس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے ”۔

پہاڑیوں پر جو دو دو چار چار سپاہی گھوم پھر رہے تھے ، وہ پہرہ دار تھے۔ صلیبیوں کے جوابی حملے کا خطرہ موجود تھا ۔ دور آگے تک فوج موجود تھی ، پھر بھی ٹریننگ کے اس علاقے کے گرد پہرے کی ضرورت تھی۔ ان پہرہ داروں میں سے دو ایک چوٹی پر جارہے تھے ، وہ رُک گئے ۔ انہیں نیچے ایک ٹیکری پر صلاح الدین ایوبی کھڑا نظر آرہا تھا۔ اُن کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ فاصلہ دو اڑھائی سو گز تھا۔ ایک پہرہ دار نے کہا …… ”کم بخت کی پوری پیٹھ ہمارے سامنے ہے، اگر یہا ں سے تیر چلائوں تو اس کے دل کے پار کر سکتا ہوں ۔ کیا خیا ل ہے؟”

”پھر بھاگ کر کہاں جائو گے؟” اس کے ساتھی نے پوچھا۔

”ہاں!” دوسرے نے کہا …… ”تم ٹھیک کہتے ہو۔ اگر یہ لوگ ہمیں پکڑ کر جان سے مار ڈالیں توبات نہیں۔ وہ زندہ پکڑ کر ایسے شکنجے میں جکڑیں گے کہ ہمیں اپنے تمام ساتھیوں کے نام بتانے پڑیں گے”۔

”یہ کام اس کے محافظوں کو کرنے دو”۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ”اگر صلاح الدین ایوبی کوقتل کرنا اتنا آسان ہوتا تو یہ اب تک زندہ نہ ہوتا”۔

”یہ کام اب ہوجانا چاہیے”۔ دوسرے نے کہا …… ”سنا ہے فاطمی کہتے ہیں کہ تم کچھ کیے بغیر ہم سے منہ مانگی رقم لیتے جا رہے ہو”۔

”مجھے اُمید ہے کہ یہ کام جلدی ہوجائے گا”۔ اس کے ساتھی نے کہا …… ”سنا تھا کہ حشیشین بہت دلیر ہیں۔ قتل کرنے کے لیے جان پر کھیل جاتے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے کچھ کرکے تونہیں دکھایا۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ایوبی کے محافظ دستے میں تین حشیشین ہیں۔ یہ تو ان کا کمال ہے کہ محافظ دستے تک پہنچ گئے ہیں اور کسی کو اُن کی اصلیت کا علم نہیں ہوا، مگر وہ قتل کب کریں گے؟ کم بخت ڈرتے ہیں”۔

وہ باتیں کرتے آگے چلے گئے ۔

٭ ٭ ٭
مؤرخین لکھتے ہیں کہ مصر سے صلاح الدین ایوبی کی غیر حاضری سے وہاں مخالفین کی زمین دوز سرگرمیاں اُبھر آئیں تو صورتِ حال ایسی پیدا کر دی گئی جسے صرف معجزہ سنبھال سکتا تھا۔یہ ایک سازش تھی جو فاطمی خلافت کو معزول اور تخریب کاروں کی گرفتاری کے بعد بظاہر دب گئی تھی، لیکن راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کی طرح دہکتی رہتی تھی۔ اس کی پشت پناہی کرنے والے صلیبی تھی اور اسے عملی جامہ پہنانے والے وہ مسلمان زُعما تھے جن پر سلطان ایوبی کو بھروسہ تھا۔ صلیبیوں نے یہودی لڑکیاں حاصل کر لی تھیں جو عرب اور مصر کی زبان روانی سے بولتی اور اپنے آپ کو ہر رنگ میں ڈھال سکتی تھیں ۔ مصر کی انتظامیہ کے متعدد احکام اقتدار میں حصے یا کُلی طور پر خود مختاری کے خواہش مند تھے۔ ان میں قومی وقار اور جذبہ ختم ہو چکا تھا۔ وہ حرموں کے بادشاہ تھے۔ ان لوگوں کا آلہ کار بنانے والوں میں فاطمیوں نے دانش مندی کا ثبوت دیا اور انہوں نے حسن بن صباح کے حشیشین کی خدمات بھی حاصل کرلیں۔

اُس وقت کے وقائع نگاروں نے جن میں اسد الا سدی، ابن الاثیر، ابی الضر اور ابن الجوزی خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، لکھتے ہیں کہ صلیبیوں نے سوڈانیوں کو مدد دے کر انہیں مصر پر حملے کے لیے تیار کر لیا تھا۔ مصر میں تھوڑی سی فوج تھی ، وہ بغاوت کے لیے تیارکردی گئی تھی۔ صلاح الدین ایوبی کے حامی سخت پریشان تھے کہ وہ قبل از وقت نہ پہنچا تو مصر ہاتھ سے نکل جائے گا ۔ ان وقائع نگاروں اور دو گمنام کاتبوں کی غیر مطبوعہ تحریروں سے ایک کہانی کی کڑیاں ملتی ہیں ۔ ان میں قاہرہ کے محکمہ مالیات کے ایک بڑے ناظم خضر الحیات کا ذکر ملتاہے۔ وہ خزانے کا بھی ذمہ دار تھا ۔ دوسرے علاقوں کی جزئیے اور تاوان وغیرہ کی رقمیں ، زکوٰة، سزا کے طور پر وصول ہونے والے جرمانے، عطیات اور نظامتِ مصر کا تمام تر حساب کتاب اور پیسہ مالیات کے محکمے میں آتا اور خرچ ہوتا تھا۔ یہ بڑا ہی اہم اور نازک محکمہ تھا۔ اس کے ناظم کا قابل اعتماد ہوتا بہت ضروری تھا۔ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی خوش نصیبی تھی کہ ناظم خضر الحیات دیندار مسلمان تھا۔

ایک رات وہ باہر سے آیا۔ گھرمیں داخل ہوا تو اندھیرے کو چیرتا ہوا ایک تیر آیا جو خضر الحیات کی پیٹھ میں اُترا اور دل تک پہنچا۔ اُس کی کربناک آواز سن کر ملازم باہر آیا، پھر گھرکے افراد باہر آئے۔ مشعل کی روشنی میں خضر کو اوندھے منہ پڑے دیکھا۔ اتفاق سے کسی نے دیکھ لیا کہ خضر کے دائیں ہاتھ کی انگلی زمین پر تھی اور مٹی پر اس انگلی سے اس نے کچھ لکھا تھا ، وہ مر چکا تھا ۔ زمین پر اس نے انگلی سے لکھا تھا …… ”مصلح ”……”ح” پوری نہیں ہوتی تھی۔ اس حرف کی گولائی کے نصف میں جا ن نکل گئی تھی ۔ لا ش اُٹھا لی گئی اور اس لفظ کو محفوظ رکھا گیا ۔ ایک آدمی کو کوتوال غیاث بلبیس کو بلانے دوڑادیا گیا۔ یہی کہا جا سکتا تھا کہ خضر نے مرتے مرتے مٹی پر اپنے قاتل کا نام لکھا ہے۔ غیاث بلبیس کوتوال بھی تھا اور مصر کی تمام تر پولیس کا حاکم اعلیٰ بھی ۔ یہ بھی صلاح الدین ایوبی کا قابل اعتماد حاکم تھا۔ علی بن سفیان کی طرح شہری جرائم کا ماہر سراغرساں تھا۔

بلبیس نے آتے ہی زمین لکھے ہوئے لفظ ”مصلح” کو غور سے دیکھا۔ اتنے میں شہر کا نائب ناظم مصلح الدین خضر کے قتل کی خبر سن کر آگیا۔ بلبیس نے اُسے دیکھتے ہی زمین پر پائوں رگڑ کر ”مصلح” کا لفظ مٹادیا۔ مصلح الدین چونکہ شہر کا نائب تھا۔ اس لیے کوتوالی کا محکمہ اس کے ماتحت تھا۔ اس نے بلبیس کو حکم کے لہجے میں کہا …… ”قاتل کا سراغ صبح سے پہلے مل جانا چاہیے۔ میں زیادہ انتظار نہیں کروں گا”…… بلبیس نے اُسے یقین دلایا کہ قاتل کو جلدی پکڑ لیا جائے گا۔ وہ وہاں سے چلا گیا ۔ رات کو ہی بلبیس نے خضر الحیات کے نائب معاون اور اس کے دفتر میں اُن افراد کو بلا لیا جو مقتول کے قریب رہتے تھے اور بتا سکتے تھے کہ قتل کے روز ان کی سرگرمیاں کیا رہیں۔ اِن لوگوں سے اُسے پتا چلا کہ آج شہری انتظامیہ کے حکامِ اعلیٰ کا ایک اجلاس تھا جس میں فوج کا کوئی نمائندہ نہیں تھا۔ خضر کا نائب اس کی مدد کے لیے اجلاس میں شریک تھا۔ اجلاس میں مالیات کے سلسلے میں فوج کے اخراجات زیربحث آئے تو خضر نے کہا کہ مصر میں بعض اخراجات روکنے پڑیں گے ، کیونکہ امیر مصر صلاح الدین ایوبی نے شوبک میں بہت سی فوج بھرتی کی ہے جس کے لیے کثیر رقم کی ضرورت ہے۔

نائب ناظم مصلح الدین نے اس کی مخالفت کی اورکہا فوج کے اخراجات غیر ضروری ہیں۔ مزید فوج بھرتی کرنے کی بجائے ہمیں توجہ اس فوج کے مسائل کی طرف دینی چاہیے جو پہلے ہی ہمارے لیے ایک مہنگا مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اُس نے بتایا کہ مصر میں جو فوج ہے ، اس میں بے اطمینانی اور بدامنی پائی جاتی ہے۔ شوبک سے جو مالِ غنیمت ہاتھ آیا ہے، اس میں سے اس فوج کے لیے کوئی حصہ نہیں بھیجا گیا ۔ خضر الحیات نے کہا …… ”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر مصر نے مالِ غنیمت تقسیم کرنے کی بدعت ختم کردی ہے؟ یہ نہایت اچھا فیصلہ ہے ۔ مالِ غنیمت کے لالچ سے لڑنے والی فوج کا کوئی قومی جذبہ اور مذہبی نظریہ نہیں ہوتا”۔

اس مسئلے پر بحث ترش کلامی میں بدل گئی ۔ مصلح الدین نے یہاں تک کہہ دیا کہ امیر مصر مصری سپاہیوں کے ساتھ اتنا اچھا سلوک نہیں کر رہا، جتنا شامی اور ترک سپاہیوں کے ساتھ کرتا ہے۔ اُس نے غصے میں کچھ اور نادرا باتیں کہہ دیں ، جن کے جواب میں خضر نے کہا …… ”مصلح! تمہاری زبان سے صلیبی اور فاطمی بول رہے ہیں ” …… اس پر اجلاس نے ہنگامے کی صورت اختیار کر لی اور برخاست ہوگیا۔ خضرالحیات نے معاون اور نائب نے بتایا کہ اجلاس کے بعد مصلح الدین خضرالحیات کے دفتر میں آیا ، وہاں پھر ان میں گرما گرمی ہوئی۔ مصلح الدین خضر کواس پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مصری فوج مطمئن نہیں ۔ اُس نے پھر وہی باتیں دہرائیں جو اس نے اجلاس میں کہی تھیں۔ خضرالحیات نے کہا …… ”اگر ایسا ہی ہے تو میں یہ مسئلہ تمہاری طرف سے امیر مصر کے آگے رکھ دوںگا، لیکن میں یہ ضرور لکھوں گا کہ تم نے اجلاس میں تمام شرکاء کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ امیر مصر مصری فوج میں امتیازی سلوک کر رہا ہے اور یہ میں یہ بھی لکھوں گا کہ تم نے ہمیں یہ یقین دلانے کی بھی کوشش کی کہ صلاح الدین ایوبی نے شوبک کا مال غنیمت شامیوں اور ترکوں میں تقسیم کر دیا ہے اور میں یہ را ئے ضرور دوں گا تم نے جو الزامات عائد کیے ہیں ، انہیں سچ ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے اور فوج میں جو افواہیں دشمن پھیلا رہاہے ، ان کے متعلق تم نے کہا ہے کہ یہ افواہیں نہیں ، بلکہ سچ ہے ”۔

خضرالحیات کے نائب نے بیان دیا کہ مصلح الدین جب خضر کے کمرے سے نکلا تو اس کے منہ سے یہ الفاظ سنے گئے تھے …… ”اگر تم زندہ رہے تو سب کچھ لکھ کر صلاح الدین ایوبی کے آگے رکھ دینا”۔

غیاث بلبیس نے فوری طور پر مصلح الدین سے کچھ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔ ایک تو اس کی حیثیت بہت اونچی تھی اور دوسرے یہ کہ بلبیس اس کے خلاف مزید شہادت جمع کرنا چاہتا تھا۔ اسے ڈر یہ تھا کہ اگر اس نے مصلح الدین پر بغیر ٹھوس شہادت کے ہاتھ ڈالا تو یہ اقدام اس کے اپنے لیے مصیبت بن جائے گا، اگر صلاح الدین ایوبی قاہرہ میں موجود ہوتا تو بلبیس اس کی پشت پناہی حاصل کرلیتا۔ وہ اتنا سمجھ گیا تھا کہ یہ قتل ذاتی رنجش کا نتیجہ نہیں۔ خضر الحیات ذاتی رنجش رکھنے والا حاکم نہیں تھا۔ رات کو اس نے چند ایک لوگوں کے دروازے کھٹکھٹائے اور تفتیش میں لگا رہا۔ اپنے خفیہ آدمیوں کو بھی سرگرم کر دیا ، لیکن اُسے کوئی کامیابی نہ ہوئی۔

٭ ٭ ٭
بعد کی شہادتوں اور واقعات سے جو واردات سامنے آئی ، وہ کچھ اس طرح بنتی ہے کہ قتل کی رات سے اگلی رات مصلح الدین اپنے گیا تو پہلی بیوی نے اُسے کمرے میں بلایا۔ اُس نے بیس اشرفیاں مصلح الدین کے آگے کرتے ہوئے کہا …… ”خضر الحیات کا قاتل یہ بیس اشرفیاں واپس کر گیا ہے اور کہہ گیا ہے کہ تم نے پچاس اشرفیاںاور سونے کے دو ٹکڑے کہے تھے۔ میں تمہارا کام کر دیا تو تم نے صرف بیس اشرفیاں بھیجی ہیں۔ یہ میں تمہاری بیوی کو واپس دے چلا ہوں ۔ تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے۔ اب ایک سو اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے لوں گا، اگر دو دن تک مال نہ پہنچا تو ویسا ہی تیر جو خضر کے دل میں اُترا ہے ، تمہارے دل میں بھی اُتر جائے گا”۔

مصلح الدین کا رنگ اُڑگیا ، سنبھل کر بولا …… ”تم کیا کہہ رہی ہو؟ کون تھا وہ؟ میں نے کسی کو خضر الحیات کے قتل کے لیے یہ رقم نہیں دی تھی ؟”

”تم خضر کے قاتل ہو”۔ بیوی نے کہا …… ”مجھے معلوم نہیں کہ قتل کی کیا وجہ ہے ۔ اتنا ضرور معلوم ہے کہ تم نے اُسے قتل کرایا ہے”۔

یہ مصلح الدین کی پہلی بیوی تھی۔ اُس کی عمر زیادہ نہیں تھی ۔ بمشکل تیس سال کی ہوگی ۔ خاصی خوبصورت عورت تھی۔ کوئی ایک ماہ قبل وہ گھر میں ایک غیر معمولی طور پر خوبصورت اور جوان لڑکی لے آیا تھا۔ ایک خاوند کے لیے دو بیویوں کی تعداد پر کوئی پابندی نہیں تھی۔ اُس زمانے میں زیادہ بیویاں رکھنے کارواج تھا۔ کوئی بیوی دوسری بیوی سے حسد نہیں کرتی تھی، مگر مصلح الدین نے پہلی بیوی کو بالکل نظر انداز کرد یا تھا۔ جب سے نئی بیوی آئی تھی اُس نے پہلی بیوی کے کمرے میں جانا ہی چھوڑ دیا تھا …… بیوی نے اُسے کئی بار بلایا تو بھی وہ نہ گیا۔ بیوی کے اندر انتقامی جذبہ پیدا ہوگیاتھا۔ یہ آدمی جو اُسے بیس اشرفیاں دے گیا تھا۔ غالباً مصلح الدین سے بڑاہی سنگین لینا چاہتا تھا۔ اسی لیے اس نے اس کی پہلی بیوی کو بتا دیا تھا کہ خضر الحیات کو مصلح الدین نے قتل کرایا تھا۔

”تم اپنی زبان بند رکھنا”۔ مصلح الدین نے بیوی کو بارعب لہجے میں کہا …… ”یہ میرے کسی دشمن کی چال ہے۔ وہ میرے اور تمہارے درمیان دشمنی پیدا کرنا چاہتا ہے”۔

”تمہارے دل میں میری دشمنی کے سوا اور رہا ہی کیا ہے؟” بیوی نے پوچھا ……۔

”میرے دل میں تمہاری پہلے روز والی محبت ہے”۔ مصلح الدین نے کہا …… ”کیا تم اس آدمی کو پہچانتی ہو؟”

”اُس نے چہرے پر نقاب ڈال رکھا تھا”۔ بیوی نے کہا …… ”مگر تمہارا نقاب اُتر گیا ہے۔ میں نے تمہیں پہچان لیا ہے”…… مصلح الدین نے کچھ کہنے کی کوشش کی، مگر بیوی نے اُسے بولنے نہ دیا۔ اُس نے کہا …… ”مجھے شک ہے تم نے بیت المال کی رقم ہضم کی ہے، جس کا علم خضرالحیات کو ہوگیا تھا۔ تم نے کرائے کے قاتل سے اُسے راستے سے ہٹا دیا ہے؟”

”مجھ پر جھوٹے الزام عائد نہ کرو”…… مصلح الدین نے کہا …… ”مجھے رقم ہضم کرنے کی کا ضرورت ہے؟”

”تمہیں نہیں ، اُس فرنگن کو رقم کی ضرورت ہے، جسے تم نے نکاح کے بغیر گھر رکھا ہوا ہے”۔ بیوی نے جل کر کہا …… ”تمہیں شراب کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔ اگر یہ الزام جھوٹا ہے تو بتائو کہ یہ چار گھوڑوں کی بگھی کہاں سے آئی ہے؟ گھر میں آئے دن ناچنے والیاں جو آتی ہیں، وہ کیا مفت آتی ہیں؟ شراب کی جو دعوتیں دی جاتی ہیں، اُن کے لیے رقم کہاں سے آتی ہے؟”

”خدا کے لیے چپ ہوجائو”۔ مصلح الدین نے غصے اورپیار کے ملے جلے لہجے میں کہا …… ”مجھے معلوم کرلینے دو ، وہ آدمی کون تھا جو یہ خطرناک چال چل گیا ہے ۔ اصل حقیقت تمہارے سامنے آ جائے گی”۔

”میں جب چپ نہیں رہ سکوں گی”۔ بیوی نے کہا …… ”تم نے میرا سینہ انتقام سے بھر دیا ہے۔ میں سارے مصر کو بتائوں گی کہ میرا خاوند قاتل ہے۔ ایک مومن کا قاتل ہے۔ تم میری محبت کے قاتل ہو۔ اس قتل کا انتقام لوں گی”۔

مصلح الدین منت سماجت کرکے اُسے چپ کرانے لگا اور اُسے قائل کر لیا کہ وہ صرف دو روز چپ رہے ، تاکہ و اس آدمی کو تلاش کرکے ثابت کرسکے کہ وہ قاتل نہیں ہے۔ اُس نے بیوی کو یہ بھی بتایا کہ غیاث بلبیس نے چند ایک مشتبہ افراد پکڑ لیے ہیں اور قاتل بہت جلدی پکڑا جائے گا۔

رات گزر گئی۔ اگلا دن بھی گزر گیا۔ مصلح الدین گھر سے غائب رہا۔ اس کی دوسری بیوی یاداشتہ بھی کہیں نظر نہیں آئی۔ شام کے بعد مصلح الدین گھر آیا اور پہلی بیوی کے کمرے میں چلاگیا۔ اُس کے ساتھ پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ بیوی اُس کے فریب میں نہیں آنا چاہتی تھی ، مگر پیار کے دھوکے میں آگئی۔ مصلح الدین نے اُسے کہا کہ وہ اس آدمی کو ڈھونڈرہا ہے، جو بیس اشرفیاں دے گیا تھا …… کچھ دیر بعد بیوی سو گئی۔ اُس رات مصلح الدین نے ملازموں کو چھٹی دے دی تھی۔ گھر میں ایسی خاموشی تھی جو پہلے کبھی نہیں ہوئی تھی۔ مصلح الدین بہت دیر سوئی ہوئی بیوی کے کمرے میں رہا، پھر اُٹھ کر کمرے سے نکل گیا۔

آدھی رات کا عمل تھا ۔ ایک آدمی اس گھر کی باہر والی دیوارکے ساتھ پیٹھ لگا کر کھڑا ہوگیا۔ ایک آدمی اُس نے کندھوں پر چڑھ گیا ۔ تیسرا آدمی ان دونوں کو سیڑھی بنا کر اوپر گیا اور دیوار سے لٹک کر اندرکی طرف کود گیا۔ اس نے اندر سے بڑا دروازہ کھول دیا۔ اس کے دونوں ساتھی اندر آگئے۔ اس گھر میں رکھوالی کتا ہر رات کھلا رہتا تھا، اس رات وہ بھی ڈربے میں بند تھا۔ شاید ملازم جاتے ہوئے بھول گئے تھے کہ اُسے کھلا رہناہے۔ تینوںآدمی برآمدے میں چلے گئے۔ اندھیرا گہرا تھا۔ وہ دبے پائوں چلتے گئے۔ گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کے پیچھے چلتے ایک نے اُس کمرے کے دروازے پر ہاتھ رکھا ، جس میں مصلح الدین کی پہلی بیوی جسے وہ فاطمہ کے نام سے بلایا کرتا تھا، سوئی ہوئی تھی۔ کواڑ کھل گیا۔ کمرہ تاریک تھا۔ تینوں آدمی اندر گئے اور اندھیرے میں ٹٹولٹے ہوئے فاطمہ کے پلنگ تک پہنچ گئے۔ ایک آدمی کا ہاتھ فاطمہ کے منہ پر لگا تو اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ سمجھی کہ مصلح الدین کا ہاتھ ہے۔ اس نے ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا …… ”کہا جارہے ہیں آپ؟”

اس کے جواب میں ایک آدمی نے اس کے منہ پر کپڑا رکھ کر اس کا کچھ حصہ اُس کے منہ میں ٹھونس دیا۔ فوراً بعد تینوں نے اُسے بازوئوں میں جکڑلیا۔ ایک نے منہ پر ایک اور کپڑا کس کر باندھ دیا ۔ ایک نے ایک بوری کی طرح کا تھیلا کھولا۔ دوسرے دو آدمیوں نے فاطمہ کو دہرا کرکے رسیوں سے اُس کے ہاتھ اور پائوں باندھے اور اُسے تھیلے میں ڈال کر تھیلے کا منہ بند کردیا۔ انہوں نے تھیلا اُٹھایا اور باہر نکل گئے۔ بڑے دروازے سے بھی نکل گئے۔ گھرمیں کوئی مرد ملازم نہیں تھا۔ خادمائیں بھی اس رات چھٹی پر تھیں۔ تھوڑی دور ایک درخت کے ساتھ گھوڑے بندھے ہوئے تھے۔ تینوں آدمی گھوڑوں پر سوار ہوئے۔ ایک نے تھیلا اپنے آگے رکھ لیا۔ تینوں گھوڑے قاہرہ سے نکل گئے اور سکندریہ کا رُخ کر لیا۔

صبح ملازم آگئے ۔ صلح الدین نے فاطمہ کے متعلق پوچھا ، دو خادمائوں نے اسے تلاش کرکے بتایا کہ وہ گھر میں نہیں ہے۔بہت دیر تک جب اس کا کوی سراغ نہ ملا تو مصلح الدین ایک خادمہ کو الگ لے گیا۔ بہت دیر تک اُس کے ساتھ باتیں کرتا رہا، پھر اُسے غیاث بلبیس کے پاس چلا گیا۔ اُسے کہا کہ اُس کی بیوی لاپتہ ہوگئی ہے۔ اس نے اس شک کا اظہار کیا کہ خضرالحیات کو فاطمہ نے قتل کرایا ہے اور خضر مرتے مرتے انگلی سے ”مصلح ”جو لکھا تھا ، وہ دراصل مصلح کی بیوی لکھنا چاہتا تھا، لیکن موت نے تحریر پوری نہ ہونے دی ۔ اس کے ثبوت میں اُس نے اپنی خادمہ سے کہا کہ وہ بلبیس کو اس آدمی کے متعلق بتائے۔ خادمہ نے بیان دیا کہ پرسوں شاک ایک اجنبی آیا، جس کے چہرے پر نقاب تھا۔ اُس وقت مصلح الدین گھر پر نہیں تھا۔ اُس آدمی نے دروازے پر دستک دی تو یہ خادمہ باہر گئی۔ اجنبی نے کہا کہ وہ فاطمہ سے ملنا چاہتا ہے۔ خادمہ نے کہا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں، ال لیے وہ فاطمہ سے نہیں مل سکتا۔ اس نے کہا کہ فاطمہ سے یہ کہہ دو کہ وہ اشرفیاں واپس کرنے آیا ہے، کہتا ہے کہ میں پوری رقم لوںگا۔ خادمہ نے فاطمہ کو بتایا تو اُس نے اس آدمی کو اندر بلا لیا۔

خادمہ نے بیان میں کہا کہ فاطمہ نے اُسے برآمدے میں کھڑا رہنے کوکہا اوریہ ہدایت دی کہ کوئی آجائے تو میں اسے خبردار کردوں۔ خادمہ کمرے کے دروازے کے ساتھ کھڑ ی رہی۔ اندرکی باتیں جو اُسے سنائی دیں،ان میں اس آدمی کا غصہ اور فاطمہ کی منت سماجت تھی۔ ان باتوں سے صاف پتا چلتا تھا کہ فاطمہ نے اس آدمی سے کہا تھا کہ علی بن سفیان کے نائب حسن بن عبداللہ کو قتل کرنا ہے، جس کے عوض وہ اسے پچاس اشرفیاں اور دو ٹکڑے سونا دے گی۔ خادمہ کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ فاطمہ نے اس آدمی کو بیس اشرفیاں کس وقت اور کہاں بھیجی تھیں اور کون لے گیا تھا۔ وہ پوری پچاس اشرفیاں مانگ رہا تھا۔ فاطمہ اُسے کہہ رہی تھی کہ اُس نے غلط آدمی کو قتل کیاہے۔ یہ نقاب پوش اجنبی کہہ رہا تھا کہ تم نے یقین کے ساتھ بتایا تھا کہ حسن بن عبداللہ فلاں وقت خضر الحیات کے گھر جائے گا۔ وہ گھات میں بیٹھ گیا۔ اُس نے ایک آدمی کو خضر کے گھر کے دروازے کے قریب جاتے دیکھا۔ اُس کا قد بت حسن بن عبد اللہ کی طرح تھا۔ قتل کرتے وقت اتنی مہلت نہ ملی کہ شکار کو اچھی طرح دیکھ کر یقین لیا جائے۔ تم نے جو وقت بتایا تھا ، یہ وہی وقت تھا۔ میں نے تیر چلا دیا اور وہاں سے بھاگنے کی کی ۔

وہ فاطمہ سے پچاس اشرفیاں مانگ رہا تھا۔ فاطمہ نے پہلے تو منت سماجت کی ، پھر وہ بھی غصے میں آگئی اور کہا کہ اصل آدمی کو قتل کرو گے تو ان بیس اشرفیوں کے علاوہ پچاس اشرفیاں اور سونے کے دو ٹکڑے دوں گی۔ اس آدمی نے کا کہ میں نے کام کر دیا ہے، اس کی پوری اُجرت لوںگا۔ فاطمہ نے انکار کردیا۔ وہ آدمی بڑے غصے میںیہ کہہ کر چلا گیا کہ میں پوری اُجرت وصول کرلوں گا ۔ فاطمہ نے خادمہ کو سختی سے کہا کہ وہ اس آدمی کے متعلق کسی سے ذکر نہ کرے۔ اُس نے خادمہ کو دو اشرفی انعام دیا۔ آج صبح وہ اس کمرے میں گئی تو فاطمہ وہاں نہیں تھی۔ اُسے شک ہے کہ اس آدمی نے انتقاماً اسے اغوا کر لیا ہے۔

غیاث بلبیس نے کچھ سوچ کر مصلح الدین کو باہر بھیج دیا اور خادمہ سے پوچھا …… ”ٍ یہ بیان تمہیں کس نے پڑھایا ہے؟ فاطمہ یا مصلح الدین نے ؟”

Read More:  Asaib Mein Shadi Novel By Hiba Sheikh – Last Episode 2

”فاطمہ تو یہاں نہیں ہے”۔ اُس نے کہا …… ”یہ میرا اپنا بیان ہے”۔

”مجھے سچ بتا دو”۔ بلبیس نے کہا …… ”فاطمہ کہا ں ہے؟ وہ کس کے ساتھ گئی ہے؟” خادمہ گھبرانے لگی۔ کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکی ۔ بلبیس نے کہا …… ”کوتوالی کے تہہ خانے میں جانا چاہتی ہو؟ اب تم واپس نہیں جاسکو گی”۔

وہ غریب عورت تھی ۔ اُسے معلوم تھا کہ کوتوالی کے تہہ خانے میں جا کر سچ اور جھوٹ الگ الگ ہوجاتے ہیں اور اس سے پہلے جسم کے جوڑ بھی الگ الگ ہوجاتے ہیں۔ وہ رو پڑی اور بولی…… ”سچ کہتی ہوں تو آقا سزا دیتا ہے،جھوٹ بولتی ہوں تو آپ سزا دیتے ہیں ”…… بلبیس نے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اُسے تحفظ کا یقین دلایا۔ خادمہ نے کہا …… ”میں نے قتل کے دوسرے روز صرف اتنا دیکھا تھا کہ ایک نقاب پوش آیا تھا۔ آقا مصلح الدین گھر نہیں تھے۔ نقاب پوش نے فاطمہ کو باہر بلایا تھا۔ و ہ بڑے دروازے کے باہر اور فاطمہ اندر تھی ۔ وہ اس کے سامنے نہیں ہوئی۔ ملازموں نے اُسے دیکھا تھا، لیکن کسی نے بھی قریب جا کر نہیں سنا کہ ان کے درمیان کیا باتیں ہوئیں۔ نقاب پوش چلا گیا تو فاطمہ اندر آئی۔ اُس نے چھوٹی سی ایک تھیلی اُٹھا رکھی تھی ۔ فاطمہ کا سر جھکا ہوا تھا ۔ وہ کمرے میں چلی گئی تھی …… دوسری شام مصلح الدین نے چاروں ملازموں اور سائیس کو رات بھر کی چھٹی دے دی تھی۔ چار ملازموںمیں دو مرد اور دو عورتیں ہیں”۔

”اس سے پہلے ملازموں کو کبھی رات بھر کے لیے چھٹی دی گئی ہے؟”…… بلبیس نے پوچھا۔

”کبھی نہیں”۔ اس نے جواب دیا…… ”کوئی ایک ملازم کبھی چھٹی لے لیتا ہے ، سب کو کبھی چھٹی نہیں دی گئی”۔خادمہ نے سوچ کر کہا …… ”عجیب بات یہ ہے کہ آقا نے کہا تھا کہ آج رات کتے کو بندھا رہنے دینا۔ اس سے پہلے ہر رات کتاکھلا رکھا جاتا تھا۔ بڑا خون خوار کتا ہے۔ اجنبی کو بُو پر چیر پھاڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے”۔

”مصلح الدین کے تعلقات فاطمہ کے ساتھ کیسے تھے ؟”غیاث بلبیس نے پوچھا۔

”بہت کچھے ہوئے”۔ خادمہ نے بتایا…… ”آقا ایک بڑی خوبصورت اورجوان لڑکی لایا ہے جس نے آقا کو اپنا غلام بنا لیاہے۔ فاطمہ کے ساتھ آقا کی بول چال بھی بند ہے”۔

غیاث بلبیس نے خادمہ کو الگ بٹھا کر مصلح الدین کو اندر بلا لیا اور باہر نکل گیا۔ واپس آیا تو اس کے ساتھ دو سپاہی تھے۔ انہوں نے مصلح الدین کو دائیں اور بائیں بازوئوں سے پکڑلیا اور باہر لے جانے لگے۔ مصلح الدین نے بہت احتجاج کیا ۔ بلبیس یہ حکم دے کر باہر نکل گیا کہ اسے قید میںڈال دو۔ اُس نے دوسرا یہ حکم دیا کہ مصلح الدین کے گھر پر پہر ہ کھڑا کردو، کسی کو باہر نہ جانے دو۔

٭ ٭ ٭

اُس وقت فاطمہ قاہرہ سے بہت دُور شمال کی طرف ایک ایسی جگہ پہنچ چکی تھی جہاں اِرد گِرد اونچے ٹیلے، سبزہ اور پانی بھی تھا۔ یہ جگہ عام راہِ گزر سے ہٹی ہوئی تھی۔ وہاں وہ سورج نکلنے کے وقت پہنچی تھی، گھوڑے رُک گئے ۔ اُسے تھیلے سے نکالاگیا، اُس کے منہ سے کپڑا ہٹا دیا گیا اور ہاتھ پائوں بھی کھول دئیے گئے۔ اُس کے ہوش ٹھکانے نہیں تھے۔ وہ تین نقاب پوشوں کے نرغے میں تھی۔ تین گھوڑے کھڑے تھے۔ فاطمہ چیخنے چلانے لگی۔ نقاب پوشوں نے اُسے پانی پلایا اور کچھ کھانے کو دیا۔ وہ ہاتھ نہیں آرہی تھی۔ اُس کے پیٹ میں پانی اورکھانا گیا اور تازہ ہوا لگی تو جسم میں طاقت آگئی۔ وہ اچانک اٹھی

اور دوڑ پڑی۔ تینوں بیٹھے دیکھتے رہے۔ کوئی بھی اس کے تعاقب میں نہ گیا۔ دُور جا کروہ ایک ٹیلے کی اوٹ میں چلی گیء تو ایک نقاب پوش گھوڑے پر سوارہوا۔ ایڑ لگائی اور فاطمہ کو جا لیا۔ وہ دوڑ دوڑ کر تھک گئی، لیٹ گئی۔ نقاب پوش نے اُسے اُٹھا کر گھوڑے پر ڈال لیا اور خود اس کے پیچھے سوال ہوکر واپس اپنے ساتھیوں کے پاس لے گیا۔

”بھاگو”۔ایک نے اُسے تحمل سے کہا۔ ”کہاں تک بھاگو گی۔ یہاں سے توکوئی تنومند مرد بھی بھاگ کر قاہرہ نہیں پہنچ سکتا”۔ فاطمہ روتی ،چیختی اور گالیاں دیتی تھی۔ ایک نقاب پوش نے اُسے کہا…… ”اگر ہم تمہیں قاہرہ واپس لے چلیں تو بھی تمہارے لیے کوئی پناہ نہیں ۔ تمہیں تمہارے خاوند نے ہمارے حوالے کیا ہے”۔

”یہ جھوٹ ہے”۔ فاطمہ نے چلا کر کہا ۔

”یہ سچ ہے”۔ اس نے کہا ۔ ”ہم نے تمہیں اُجرت کے طور پر لیا ہے۔ تم نے مجھے پہچانا نہیں۔ میں تمہارے ہاتھ میں بیس اشرفیوں کی تھیلی دے آیا تھا۔ تم نے خاوند نے کہہ دیا کہ تم قاتل ہو اور تم نے بے وقوفی یہ کی کہ اُسے یہ بھی کہہ دیا کہ تم کوتوال کو بتادوگی۔ وہ تم سے پہلے ہی تنگ آیاہوا تھا۔ اُس کی داشتہ نے اُس کے دل اور اس کی عقل پر قبضہ کر لیا تھا۔ میں تمہیں یہ نہیں بتا سکتا کہ وہ لڑکی کون ہے اور کہاں سے آئی ہے اورکیا کرنے آئی ہے۔ دوسرے دن تمہارا خاوند ہمارے ٹھکانے پر آیا۔ ایسا بے ایمان آدمی ہے کہ اس نے ہمیں خضرالحیات کے قتل کے عوض پچاش اشرفی اور سونے کے دو ٹکڑے دینے کا وعدہ کیا تھا ، مگر کام ہوگیا تو صرف بیس اشرفی بھیجی۔ میں نے تمہیں استعمال کیا اور یہ رقم تمہارے ہاتھ میں دے دی، تا کہ تمہیں بھی اس راز کا عمل ہوجائے۔ ہمارا تیر نشانے پر بیٹھا۔ دوسرے دن وہ ہمارے ٹھکانے پر آیا اور پچاس اشرفیاں دینے لگا۔ سونے کے ٹکڑے پھر بھی ہضم کر رہاتھا۔ میرے ان ساتھیوں نے کہا کہ اب ہم بہت زیادہ اُجرت لیںگے۔ اگر وہ نہیں دے گا تو ہم کسی نہ کسی طرح کوتوال تک خبر پہنچا دیں گے۔ اسے اب خطرہ یہ نظر آرہا تھا کہ تمہیں بھی پتا چل گیا تھا کہ قاتل وہی ہے اس کا علاج اس نے یہ سوچا کہ ہمیں کہا تم میری بیوی کو اُٹھا لے جائو۔ میں تمہارے لیے راستہ صاف کردوں گا۔ ہم جان گئے کہ وہ اپنی داشتہ کے زیر اثر تم سے جان چھڑانا چاہتا ہے اور اب وہ اس لیے تمہیں غائب کرنا چاہتاتھا کہ تم اس کے جرم کی گواہ بن گئی ہو اور اُسے کہہ بھی چکی ہو کہ تم کوتوال کوخبر کردوں گی”۔

فاطمہ کے آنسو خشک ہو چکے تھے۔ وہ حیرت زدہ ہو کر اُن تینوں کو باری باری دیکھتی تھی۔ اُن کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ یہ آنکھیں ڈرائونی اور خوفناک تھیں۔ اُن کی زبان میں مٹھاس اور اپنائیت کی جھلک ضرور تھی ۔ انہوں نے اُسے دھمکی نہیں دی ، بلکہ سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس کا تڑپنا، رونا اور بھاگنا بے کار ہے۔

”میں نے تمہیں دیکھا تھا”۔ نقاب پوش نے اُسے کہا …… ”جب مصلح الدین نے کاہ کہ میری بیوی کو اُجرت کے طور پر اُٹھالے جائو تو میں نے سکندریہ کی منڈی کے بھائو سے تمہاری قیمت کا اندازہ کیا۔ تم ابھی جوان ہو اور خوبصورت بھی ہو۔ تم بڑے اچھے داموں بک سکتی ہو۔ ہم مان گئے۔ اگر تمہارا خاوند ہمیں اتنی زیادہ اُجرت نہ دیتا تم ہم نے اسے بتا دیا تھا کہ اُسے زندہ نہیں رہنے دیا جائے گا اور اس کی داشتہ کو اغوا کر لیا جائے گا۔ اُس نے ہمیں بتایاکہ آج رات اُس کے گھر میں کوئی ملازم نہیں ہوگا۔ کتا بھی بندھا ہوا ہواگا۔ البتہ بڑا دروازہ اندر سے بند ہوگا کہ تم دیکھ لو تو شک نہ کرو …… ہم تینوں نے ایک دوسرے کے اوپڑ کھڑے ہو کر تمہارے گھر کی دیوار پھلانگی ۔ ہم نے ہاتھوں میں خنجر لے رکھے تھے اورہم سنبھل سنبھل کر چل رہے تھے ، کیونکہ تمہارے خاوند پر بھروسہ نہیں تھا۔ وہ ہمیں مروا سکتا تھا ، لیکن ایسا نہ ہوا۔ ہمارے لیے راستہ واقعی صاف تھا ۔ تمہیں اُٹھایا اور لے آئے”۔

”اِس نے یہ کہانی تمہیں اس لیے سنائی ہے کہ تم اپنے خاوند کے گھر کو دل سے نکال دو”…… دوسرے نقاب پوش نے کہا …… ”ہم تمہیں یہ بھی بتا دیتے ہیں کہ ہم تین آدمی اکیلی عورت کی مجبوری کا فائدہ نہیں اُٹھائیں گے۔ ہم بیوپاری ہیں۔ کرائے کا قتل اور اغوا ہمارا پیشہ ہے۔ ہم تمہارے جسم کے ساتھ کھیل کر خوش ہونے والے نہیں۔ تین مرد ایک عورت کو اغوا اور مجبور کرکے تفریح کریں تو یہ کوئی فخر والی بات نہیں ”۔

”تم سکندریہ کے بازار میں بیچو گے ؟”فاطمہ نے بے بسی کے لہجے میں پوچھا …… ”میری قسمت میں اب عصمت فروشی لکھی ہے؟”

”نہیں”۔ ایک نقاب پوش نے جواب دیا…… ”عصمت فروشی کے لیے جنگلی اور صحرائی لڑکیاں خریدی جاتی ہیں۔ تم حرم کی چیز ہو۔ کسی باعزت امیر کے پاس جائو گی۔ ہمیں بھی تو اچھی قیمت چاہیے۔ ہم تمہیں مٹی میں نہیں پھینکیں گے۔ تم اب رونا اور غم کرنا چھوڑ دو ، تاکہ تمہارے چہرے کی دلکشی اور رونق قائم رہے، ورنہ تم عصمت فروشی کے قابل رہ جائو گی ۔ تھوڑی دیر کے لیے سوجائو”۔

٭ ٭ ٭
یہ دیکھ کر ان لوگوں نے اس کے ساتھ کوئی بے ہودہ حرکت نہیں کی ، دست درازی نہیں کی ، فاطمہ کو کچھ سکون سا محسوس ہوا۔ رات بھیر وہ اذیت میں بھی رہی تھی ۔ تھیلے میں دہری کرکے اسے بند کیا گیاتھا، جسم درد کر رہا تھا۔ وہ لیٹی اور اس کی آنکھ لگ گئی۔ تھوڑی ہی دیر بعد اُس کی آنکھ کھل گئی۔ اُس کا دل خوف اور گھبراہٹ کی گرفت میں تھا۔ اس صورت حال کو وہ قبول نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے دیکھا کہ تینوں نقاب پوش سوئے ہوئے ہیں۔ وہ بھی رات بھر کے جاگے ہوئے تھے۔ فاطمہ نے پہلے تو یہ سوچا کہ کسی ایک کا خنجر نکال کر تینوں کو قتل کردے، لیکن اتنی جرأ ت نہیں کر سکی۔ تینوں کو قتل کرنا آسان نہیں تھا۔ اُس نے گھوڑے دیکھے۔ ان لوگوں نے زینیں نہیں اُتاری تھیں۔ وہ آہستہ سے اُٹھی اور دبے پائوں ایک گھوڑے تک پہنچی۔ سورج ٹیلوں کے پیچھے جاتا رہا تھا اور فاطمہ کو معلوم ہی نہ تھا کہ وہ قاہرہ سے کسی طرف اور کتنی دورہے۔ اس نے یہ خطرہ مول لے لیا اور صحرا کی وسعت میں بھٹک بھٹک کر مرجائے گی ، ان لوگوں کے ہاتھوں سے ضرور نکلے گی۔

اُسے نے گھوڑے پرسوارہوتے ہی ایڑ لگا دی ۔ ٹاپوئوں نے نقاب پوش کو جگادیا۔ انہوں نے فاطمہ کو ٹیلے کی اوٹ میں جاتے دیکھ لیا تھا۔ دو نقاب پوش گھوڑوں پر سوار ہوئے اور تعاقب میں گھوڑے سرپت بھگا دئیے۔ فاطمہ کے لیے مشکل یہ تھی کہ اُسے ٹیلوں کے قید خانے سے نکلنے کا راستہ معلوم نہیں تھا ۔ صحرائی ٹیلے بھول بھلیوں جیسے ہوتے ہیں ۔ صرف صحرا کے بھیدی ان سے واقف ہوتے ہیں۔ فاطمہ ایسے رُخ ہولی جہاں آگے ایک اور ٹیلے نے راستہ روک رکھا تھا۔اُس نے وہاں جا کر پیچھے دیکھا تو نقاب پوش تیزی سے اس کے قریب آرہے تھے۔ اس نے گھوڑے کو ٹیلے پر چڑھایا اور ایڑ مارتی گئی، گھوڑا اچھا تھا۔ اوپر جا کر پرے اُتر گیا۔ وہ ایک طرف کو گھوڑا موڑ لے گئی۔ آگے راستہ مل گیا۔ نقاب پوش بھی پہنچ گئے۔ فاصلہ کم ہو رہا تھا۔ فاطمہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہ آیا، جب اُس نے اپنے سامنے سمندر کی طرح کھلا صحرا اور چار شتر سوار اپنی سمت آتے دیکھے۔ اُس نے چلانا شروع کر دیا …… ”بچائو ، ڈاکوئوں سے بچائو”…… وہ اُن تک پہنچ گئی۔

اُس کے پیچھے دونوں نقاب پوشوں کے گھوڑے باہر آئے۔ شتر سواروں کو دیکھ کر انہوں نے گھوڑوں کی باگیں کھینچیں اور گھوڑے موڑے بھی۔ شتر سواروں نے اونٹ دوڑادئیے۔ ایک نے کمان میں تیر رکھ کر چھوڑا تو تیر ایک گھوڑے کی گردن میں اُتر گیا ۔ گھوڑا درد سے تڑپا، اُچھلا اور بے قابو ہوگیا۔ سوار کود گیا۔ شتر سواروں نے انہیں للکارا تو دوسرے نے گھوڑا روک لیا۔ انہیں معلوم تھا کہ چار شتر سوار تیر اندازوں کی زد میں ہیں۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ ان کا ایک ساتھی اندرہے۔ ان دونوںکو پکڑ لیا گیا…… یہ چاروں سلطان ایوبی کی فوج کے کسی کشتی دستے کے سپاہی تھے۔ سلطان ایوبی نے سارے صحرا میں کشتی پہرے کا انتظام کر رکھا تھا ، تا کہ اچانک حملے کا خطرہ نہ رہے اور صلیبی تخریب کار مصر میں داخل نہ ہو سکیں۔ ان گشتی دستوں کا بہت فائدہ تھا۔ انہوں نے کئی مشتبہ لوگ پکڑے تھے۔ اب یہ نقاب پوش اُن کے پھندے میں آگئے ۔ فاطمہ نے انہیں بتایا کہ اُسے کس طرح یہاں تک لایا گیا ہے ، وہ کس کی بیوی ہے۔ اُس نے یہ بھی بتایا کہ ناظم مالیات خضرالحیات قتل ہوگیا ہے۔ قتل اس کے خاوند مصلح الدین نے کرایا ہے ، جو شہر کا ناظم ہے اور قاتل ان تینوں میں سے ایک ہے۔

تیسرے نقاب پوش کو بھی پکڑ لیا گیا۔ اُن سے خنجر لے لیے گئے۔ ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دئیے گئے۔ ان کاایک گھوڑا تیر لگنے سے بھاگ گیا تھا۔ ایک گھوڑے پر دو نقاب پوشوں کو اور تیسرے پر ایک کو بٹھا کر سپاہی اپنے کمانڈر کے پاس لے چلے۔ فاطمہ کو انہوں نے اونٹ پر بٹھالیا۔ اس اونٹ کا سوار اپنے ایک ساتھی کے پیچھے سوار ہوگیا۔ اس قافلے کے سامنے چار میل کی مسافت تھی جو انہوں نے سورج غروب ہونے تک طے کرلی۔ وہ ایک نخلستان تھا ، جہاں خیمے بھی نصب تھے۔ یہ اس دستے کا ہیڈ کواٹر تھا۔ فاطمہ کو اس کمان دار کے سامنے پیش کیا گیا۔ تینوں نقاب پوشوں کو پہرے میں بٹھا دیا گیا ۔ انہیں اگلے روز قاہرہ بھیجنا تھا۔

٭ ٭ ٭

صلیبیوں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ کرک میں بیٹھے بیٹھے صلاح الدین ایوبی کا انتظار نہیں کریں گے۔ انہوں نے فوج کو تقسیم کرنا شروع کردیا۔ فرانس کی فوج کو انہوں نے سلطان ایوبی کی فوج کو راستے میں روکنے کے لیے تیاری کا حکم دیا ۔ ریمانڈ کی فوج مسلمانوں کی فوج پر عقب سے حملے کے لیے مقرر ہوئی۔ کرک کے قلعے کے دفاع کے لیے جرمنی کی فوج تھی، جس کے ساتھ فرانس اور انگلستان کے کچھ دستے تھے۔ انہیں جاسوسوں نے بتا دیا تھا کہ سلطان ایوبی نئی فوج تیار کر رہا ہے۔ صلیبی حکمرانوں نے اس اقدام کا جائزہ لیا کہ وہ صلاح الدین ایوبی کے ٹریننگ کیمپ پر حملہ کرکے پیچھے ہٹ آئیں، لیکن اُن کی انٹیلی جنس نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ دلیل یہ دی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے دفاع کی تین تہیں بنا رکھی ہیں، جن میں ایک تہہ متحرک ہے۔ اس کے علاوہ اس کے دیکھ بھال کے دستے دور دورتک گھومتے پھرتے ہیں اور صحرا میںہلتی ہوئی ہر چیز کو قریب جا کر دیکھتے ہیں۔ ان دفاعی انتظامات کو دیکھ کر صلیبیوں نے اس حملے کا خیال دل سے نکال دیا۔

ایک امرکی مصنف انٹینی ویسٹ نے متعدد مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ صلیبیوں کے پاس صلاح الدین ایوبی کی نسبت چار گناہ فوج تھی، جس میں زرہ پوش پیادہ اور سوار دستوں کی بہتات تھی۔ اگر یہ فوج صلاح الدین ایوبی پر براہِ راست حملہ کردیتی تو مسلمان زیادہ دیر جم نہ سکتے ، مگر صلیبی فوج کو شوبک کی شکست میں جو نقصان اُٹھانا پڑا، اس کی ایک دہشت بھی تھی جو میدانِ جنگ سے بھاگے ہوئے فوجیوں پر طاری تھی۔ صلیبیوں کامورال متز لزل تھا، جس کی ایک وجہ تو یہ تھی کہ شوبک کو وہ لوہے کا قلعہ سمجھتے تھے۔ وہ اپنی فوج کو صحرا میں بھیج کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوگئے تھے کہ سلطان ایوبی کو قلعوں سے دور ہی ختم کردیں گے۔ وہ کرک کے دفاع میں بیٹھے رہے اور ایوبی نے شوبک نے لیا اور صحرا میں صلیبیوں کو آمنے سامنے کی جنگ کا موقع دئیے بغیر انہیں چھاپہ ماروں سے مروا دیا ۔ اس کی ”آگ کی ہانڈیوں” نے گھوڑوں اور اونٹوں کو اتنا دہشت زدہ کیا کہ خاصے عرصے تک جانور معمولی سی آگ دیکھ کر بھی بدک جاتے تھے۔ انٹینی ویسٹ نے یہ ثبوت بھی مہیا کیا ہے کہ صلیبی فوج مختلف بادشاہوں اور ملکوں کی مرکب تھی جوبظاہر متحد تھی ، لیکن یہ اتحاد برائے نام تھا کیونکہ ہر بادشاہ او اس کی فوج کا اعلیٰ کمانڈر ملک گیری اور بادشاہی کی توسیع کا خواہش مند تھا۔ ان میں صرف یہ جذبہ مشترکہ تھا کہ مسلمان کو ختم کرنا ہے، مگر ان کے دلوں میں جو اختلافات تھے، وہ اُن کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے تھے۔

مورج لکھتے ہیں کہ صلیبی سازشوں کے ماہر تھے اور مسلمانوں کے جس علاقے پر قابض ہوجاتے تھے، وہاںقتل عام اور آبروریزی شروع کردیتے تھے۔ اس کے برعکس صلاح الدین ایوبی محبت اور اخلاقی قدروں کو ایسی خوبی سے استعمال کرتا تھا کہ دشمن بھی اس کے گرویدہ ہوجاتے تھے۔ اس کے علاوہ اُس نے اپنی فوج میں یہ خوبی پیدا کردی تھی کہ دس سپاہیوںکا چھاپہ مار دستہ ایک ہزار نفری کے فوجی کیمپ کو تہس نہس کرکے غائب ہوجاتا تھا۔ یہ لوگ جان قربان کرنے کو معمولی سی قربانی سمجھتے تھے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی جس اندازسے میدانِ جنگ میں تھوڑی سی فوج کو ترتیب دیتا تھا ، وہ بڑی سے بڑی فوج کو بھی بے بس کردیتی تھی۔ شوبک اور کرک کے میدان میں بھی اس نے اسی جنگی دانشمندی کامظاہرہ کیا تھا۔ صلیبیوں نے اس کا جائزہ لیا، اپنی فوج کی جسمانی اور جذباتی کیفیت دیکھی تو انہوں نے براہ راست حملے کا خیال چھوڑ دیا اور کوئی دوسرا ڈھونگ لیا، لیکن اس ڈھنگ کے متعلق بھی انہیں شک تھا۔ اس کاعلاج انہوں نے یہ کیا کہ مصر میں بغاوت بھڑکانے اور سوڈانیوں کو مصر پر حملہ کرنے پر اُکسانے کا اہتمام کرلیا۔

مصر کے نائب ناظم امور شہری مصلح الدین کی طرف سے انہیں اُمید افزا رپورٹیں مل رہی تھیں، وہاں ابھی یہ اطلاع نہیں پہنچی تھی کہ مصر کا ناظم خضرالحیات قتل ہوگیا ہے اور مصلح الدین پکڑا گیا ہے۔ کرک تک یہ اطلاع پہنچنے کے لیے کم از کم پندرہ دن درکار تھے، کیونکہ راستے میں سلطان صلاح الدین کی فوج تھی۔ قاصد بہت دُور کا چکر کاٹ کر اور قدم پھونک پھونک کر کر ک جاسکتے تھے۔ بہت دنوں کا چلا ہواایک قاصد اُس رات وہاںپہنچا ، جس رات فاطمہ اغوا ہوئی تھی۔ اُس نے رپورٹ دی کہ بغاوت کے لیے فضا سازگار ہے، لیکن سوڈانی ابھی حملے کے لیے تیار نہیںہیں۔ ن کے ہاں گھوڑوں کی کمی ہے، ان کے پاس اونٹ زیادہ ہیں۔ انہیں کم و بیش پانچ سو اچھے گھوڑوں کی ضرورت ہے۔ اتنی ہی زینیں درکار ہیں۔ فرانسیسی فوج کے کمانڈر نے کہا کہ پانچ سو گھوڑے فوراً روانہ کر دئیے جائیں اور ان کے ساتھ صلیبی فوج کے پانچ سات افسروں کو بھی بھیج دیا جائے جو سوڈانیوں کی جنگی اہلیت اور کیفیت کا جائزہ لے کرحملہ کرائیں۔

صلیبیوں کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی ۔ انہوں نے کرک میں اعلان کردیاکہ مصر پر حملے کے لیے پانچ سو گھوڑوں کی فوری ضرورت ہے۔ عیسائی باشندوں نے تین دنوں میں گھوڑے مہیا کردئیے جو ایسے راستے سے روانہکر دئیے گئے، جس کے متعلق یقین تھا کہ پکڑے نہیں جائیں گے۔ اس کا راہنما وہی جاسوس تھا جو گھوڑے مانگنے آیاتھا۔ وہ سوڈانی تھا اور تین سال سے جاسوسی کر رہا تھا۔ ان گھوڑوں کے ساتھ آٹھ صلیبی فوج کے افسر تھے، جنہیں سوڈانے حملے کی قیادت کرنی تھی۔ انہیں یقین دلایا گیاتھا کہ صلاح الدین ایوبی کی فوج کویہاں سے نکلنے نہیں دیاجائے گا…… سلطان صلاح الدین ایوبی کو صرف یہ معلوم تھا کہ مصر کے حالات ٹھیک نہیں ، لیکن اسے یہ معلوم نہیں تھا کہ حالات آتش فشاں پہاڑ بن چکے ہیں جو پھٹنے والا ہے۔ علی بن سفیان نے اسے یہ تسلی دے رکھی تھی کہ اُس نے جاسوسی کا جو جال بچھایا ہے، وہ خطروں سے قبل از وقت خبردار کردے گا۔ انہیں خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا بھی علم نہیں تھا۔ غیاث بلبیس کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو اطلاع بجھوادے ، لیکن اُس نے یہ کہہ کر اس مشورے پر عمل نہیں کیا تھا کہ تفتیش مکمل کرکے اصل صورت حال سے سلطان ایوبی کو آگاہ کرے گا۔

فاطمہ کو گشتی دستے کے کمانڈر نے رات الگ خیمے میں رکھا۔ سحر کا دُھندلگا ابھی صاف نہیں ہوا تھا۔ اب اُسے اور تینوں نقاب پوشوں کو آٹھ محافظوں کے ساتھ قاہرہ کے لیے روانہ کر دیا گیا۔ یہ قافلہ سورج غروب ہونے کے بعد قاہرہ پہنچا اور سیدھا کوتوالی گیا۔ غیاث بلبیس اس واردات کی تفتیش میں مصروف تھا۔ اُس وقت وہ تہہ خانے میں تھا۔ اُس نے مصلح الدین کے گھر کے تلاشی لی اور وہاں سے اُس کی داشتہ کر برآمد یاتھا۔ وہ اپنے آپ کو ازبک مسلمان بتاتی تھی۔ اُس نے بلبیس کو گمراہ کرنے کی بہت کوشش کی۔ اس کے جواب میں بلبیس نے اُسے اُس کوٹھری کی جھلک دکھائی ، جہاں بڑے بڑے سخت جان مرد بھی سینے کے راز اُگل دیا کرتے تھے۔ لڑکی نے اعتراف کرلیا کہ وہ یروشلم سے آئی ہے اورعیسائی ہے۔ اُس نے اعتراف کے ساتھ بلبیس کو اپنے جسم اوردولت کے لالچ دینے شروع کردئیے۔ بلبیس نے مصلح الدین کے گھرکی تلاشی میں جو دولت برآمد کی تھی، اس نے اُس کا دماغ ہلا دیا تھا۔ وہ سمجھ گیا تھا کہ مصلح الدین کیوں صلیبیوں کے جال میں پھنس گیا تھا۔ خود لڑکی اس قدر پر کشش اورچرب زبان تھی کہ اُسے ٹھکرانے کے لیے پتھر دل کی ضرورت تھی۔

بلبیس نے اپنا ایمانت ٹھکانے رکھا۔ اُس نے دیکھ لیا تھا کہ یہ تو کوئی بہت بڑی سازش تھی جس کی کڑیاں یروشلم سے جا ملتی ہیں۔ اُس نے لڑکی سے کہاکہ وہ ہر ایک بات بتا دے۔ لڑکی نے جواب میں کہا …… ”میں جو کچھ بتا سکتی تھی ، بتا دیا ہے۔ اس سے آگے کچھ بتائوں گی تو یہ صلیب کے ساتھ دھوکا ہوگا۔ میں صلیب پر ہاتھ رکھ کر حلف اُٹھا چکی ہوں کہ اپنے فرض کی ادائیگی میں جان دے دوں گی۔ میرے سا تھ جو سلوک کرنا چاہو کرلو، کچھ نہیںبتائوں گی۔ اگر مجھے آزاد کرکے یروشلم یاکرک پہنچا دو گے تو منہ مانگی دولت تمہارے قدموں میں رکھ دی جائے گی۔ مصلح الدین تمہاری قید میں ہے۔ اس سے پوچھ لو، وہ تمہارا بھائی ہے۔ شاید کچھ بتا دے”۔

بلبیس نے اُس سے مزید کچھ بھی نہ پوچھا۔ وہ مصلح الدین کے پاس چلا گیا۔ مصلح الدین بڑی بری حالت میں تھا۔ اسے چھت کے ساتھ اس طرح لٹکایا گیا تھا کہ رسہ کلائیوں سے بندھا تھا اوراس کے پائوں فرش سے اوپر تھے۔ بلبیس نے جاتے ہی اُس سے پوچھا …… ”مصلح دوست! جو پوچھتا ہوں ، بتادو۔ تمہاری بیوی کہاں ہے؟ اور اسے کس سے اغوا کرایا ہے؟ اب تمہیں کچھ اور باتیں بھی بتانی پڑیں گی۔ تمہاری داشتہ اپنے آپ کو بے نقاب کرچکی ہے”۔

”کھول دے مجھے ذلیل انسان!”…… مصلح الدین نے غصے اور درد سے دانت پیس کر کہا …… ”امیر مصر کو آنے دے۔ میں تیرا یہی حشر کرائوں گا”۔

اتنے میں بلبیس کے ایک اہل کار نے آکر اس کے کان میں کچھ کہا۔ حیرت سے اُس کی آنکھیں ٹھہر گئیں۔ وہ دوڑتا ہوا تہ خانے سے نکلا اور اوپر چلا گیا۔ وہاں مصلح الدین کی بیوی اور اُسے اغوا کرنے والے تین آدمی بیٹھے تھے۔ فاطمہ نے اُسے بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوئی اور تینوں کس طرح پکڑے گئے ہیں۔ بلبیس فاطمہ اور تین مجرموں کو تہ خانے میں لے گیااور مصلح الدین کے سامنے جا کھڑا کیا۔ مصلح الدین نے انہیں دیکھا اور آنکھیں بند کرلیں۔ بلبیس نے پوچھا …… ”ان تینوں میں سے قاتل کون ہے؟”…… مصلح الدین خاموش رہا۔ بلبیس نے تین دفعہ پوچھا۔ وہ پھربھی خاموش رہا۔ بلبیس نے تہ خانے کے ایک آدمی کواشارہ کیا۔ وہ آدمی آگے گیا اور مصلح الدین کی کمر کے گرد بازو ڈال کراس کے ساتھ لٹک گیا۔ اس آدمی کاوزن مصلح الدین کی کلائیاں کاٹنے لگا جو رسے سے بندھے ہوئی تھیں۔ اُس نے درد سے چیختے ہوئے کہا …… ”درمیان والا”۔

بلبیس تینوں کو الگ لے گیا اور انہیں کہا کہ وہ بتادیں کو وہ کون ہیں اور یہ سارا سلسلہ کیا ہے، ورنہ یہاں سے زندہ نہیں نکل سکیں گے۔ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور بولنے پر رضا مند ہوگئے۔ بلبیس نے انہیں الگ الگ کر دیا اور فاطمہ کو اوپر لے گیا۔ فاطمہ نے اُسے وہی بات سنائی جو سنائی جا چکی ہے۔ اُس نے اپنے متعلق یہ بتایا کہ اس کی ماں سوڈانی اورباپ مصر ی ہے۔ تین سال گزرے، وہ اپنے باپ کے ساتھ مصر آئی۔ مصلح الدین نے اُسے دیکھ لیا اور اس کے باپ کے پاس آدمی بھیجے۔ اسے یہ معلوم نہیں کہ رقم کتنی طے ہوئی۔ اب اسے مصلح الدین کے گھر چھوڑا گیا اور ایک تھیلی لے کر چلا گیا۔ مصلح الدین نے ایک عالم اور چند ایک آدمیوں کو بلا کرباقاعدہ نکاح پڑھوایا اور وہ اس کی بیوی بن گئی۔ اُسے شک تھاکہ باپ اُسے یہاں بیچنے کے لیے ہی لایاتھا۔ مصلح الدین کے خلاف اُسے کبھی بھی شک نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنا برا آدمی ہے۔ وہ شراب نہیں پیتا تھا۔ اس کی باہر کی سرگرمیوں کے متعلق فاطمہ کو کچھ بھی معلوم نہیں تھا۔

Read More:  Chiragh Sham Se Pehlay By Huma Waqas – Episode 20

صلاح الدین ایوبی نے شوبک کی طرف کوچ کیا تواس کے فوراً بعد مصلح الدین میں ایک تبدیلی آئی ۔ وہ رات بہت دیر تک باہر رہنے لگا۔ ایک رات فاطمہ نے دیکھا کہ وہ شراب پی کر آیاہے۔ فاطمہ کا باپ شرابی تھا۔ وہ شراب کی بواور شرابی کو پہچان سکتی تھی ۔ اُس نے مصلح الدین کی محبت کی خاطر یہ بھی برداشت کیا۔ پھر گھر میں رات کے وقت اجنبی سے آدمی آنے لگے۔ مصلح الدین نے ایک رات فاطمہ کو اشرفیوں کی دو تھیلیاں اور سونے کے چند ایک ٹکڑے دکھا کر گھرمیں رکھ لیے اور ایک رات جب وہ شراب میں بدمست ہو کر آیا تو اُس نے فاطمہ سے کہا …… ”اگر مصر کا شمالی علاقہ جو بحیرئہ روم کے ساحل کے ساتھ ملتا ہے، مجھے مل جائے تو تم پسند کروگی یا سوڈان کی سرحد کے ساتھ کا علاقہ؟ تم جو پسند کرو اس کی تم ملکہ ہوگی اور میں بادشاہ”…… فاطمہ اتنے اونچے دماغ کی لڑکی نہیں تھی کہ اس سلسلے میں اس کے کچھ پوچھتی۔ وہ سمجھی کہ اس کا خاوند زیادہ شراب پی کر بہک گیاہے۔ ہوش میں وہ ایسی باتیں نہیں کرتا تھا، پھر ایک روز ایک بڑی حسین لڑکی اس کے گھر لائی گئی۔ ساتھ دو آدمی تھے ۔ یہ لڑکی اس کے گھر میں ہی رہی۔ نکاح نہیں پڑھا گیا۔ اس لڑکی نے فاطمہ کو دوست بنانے کی بہت کوشش کی ، لیکن اُسے اس لڑکی سے نفرت ہوگئی۔ اس لڑنے نے اُس سے اُس کا خاوند چھین لیا۔ اس کے بعد خضرالحیات کے قتل کا واقعہ ہوا۔

٭ ٭ ٭

تینوں نقاب پوشوں نے بلبیس کو غلط باتیں بتانے کی کوشش کی، لیکن بلبیس انہیں راستے پر لے آیا۔ تینوں نے الگ الگ جو بیان دئیے ، ان سے یہ انکشاف ہوا کہ تینوں حشیشین کے گروہ کے آدمی ہیں۔ انہیں صلیبیوں کی طرف سے مصلح الدین کے ساتھ لگایا گیا تھا۔ مصلح الدین کو بے شمار دولت، ایک عیسائی لڑکی دی گئی تھی اور یہ وعدہ کہ صلاح الدین ایوبی کے خلاف بغاوت کامیاب کرادے تو مصر کی سرحد کے ساتھ اسے ایک الگ ریاست بناکردی جائے گی، جس کی حکمرانی اس کے ہاتھ میں اور اس عیسائی لڑکی کے ہاتھ میں ہوگی۔ صلح الدین نے اعلیٰ حکام کو اپنے ہاتھ میں لینا شروع کردیا تھا، مگرخضرالحیات اس کے ہاتھ میں نہیں آرہاتھا۔ مالیات اور بیت المال پر قبضہ ضروری تھا جو خضرالحیات کی موجودگی میں ممکن نہ تھا۔ خزانے کا محافظ دستہ جانبازوں کا منتخب گروہ تھا۔ مصلح الدین خضرالحیات کو قتل کروا کے اس دستے کو تبدیل کرانا چاہتاتھا۔ اس میں باغی افراد رکھنے تھے اور دو حشیشین ۔ ان تینوں کے ذمے ہر اُس حاکم کا قتل تھا جس کا فیصلہ مصلح الدین کو کرنا تھا۔ انہیں اس کا م کی اُجرت صلیبیوں کی طرف سے باقاعدہ مل رہی تھی۔ وہ چونکہ یہ کام کاروبار اور پیشے کے طور پر کرتے ہیں ، اس لیے فالتواُجرت لینے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے مصلح الدین سے پچاس اشرفیاں اور سونا الگ مانگا جو اُس نے خضرالحیات کے قتل کے بعد انہیں نہیں دیا۔ اُس نے کہا تھا کہ تمہیں پوری اُجرت مل رہی ہے۔انہوں نے اسے قتل کی دھمی دی تو اس نے انہیں اپنی بیوی پیش کی اورکہا کہ تمہیں اس کی اچھی قیمت مل جائے گی۔ فاطمہ اس کے ساتھ تعاون نہیں کررہی تھی۔

مصلح الدین ابھی تک چھت کے ساتھ لٹکاہوا تھا۔ اُسے بیان لینے کے لیے اُتارا گیا تو وہ بے ہوش ہوچکا تھا۔ جاسوس لڑکی کی کوٹھڑی میں گئے تو وہ مری پڑ ی تھی۔ اُس کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی ۔ طبیبوں نے آکر دیکھا اورکہا کہ اس نے زہر کھا لیاہے۔ اس کے پاس چھوٹا سا ایک کپڑا پڑا ہوا تھا، صاف پتا چلتا تھا کہ اس میں زہر بندھان ہواتھا جو لڑکی نے اپنے کپڑوں میں کہیں چھپا رکھا تھا…… بہت دیر بعد مصلح الدین ہوش میںآیا، لیکن وہ بہکی بہکی باتیں کرتا تھا۔ بولتے بولتے چپ ہوجاتا اور پھٹی پھٹی نظروں سے سب کو دیکھنے لگتا۔ پھر بے معنی باتیں شروع کردیتا۔ طبیبوں نے اسے دوائیاں کھلائیں، لیکن اس کا دماغ اذیت اور پکڑے جانے کے صدمے سے بگڑ گیا تھا۔

اُسی رات غیاث بلبیس کے پاس ایک معزز شخصیت آئی۔ اس کانام زین الدین علی بن نجاالواعظ تھا۔ اس نے بلبیس سے کہا کہ اُسے پتا چلا ہے کہ کچھ جاسوس اور تخریب کار پکڑے گئے ہیں اور وہ بھی کچھ انکشاف کرنا چاہتا ہے۔زین الدین مذہب، سیاست اور معاشرت کے میدان کا بزرگ قائد تھا۔ وہ پیرومرشد تو نہیں تھا لیکن بڑے بڑے حاکم بھی اس کے مرید تھے۔ چھوٹے سے چھوٹا آدمی بھی اسے پیروں کی طرح مانتا تھا۔ اُسے حاکموں اور معاشرت میں اونچی حیثیت کے دو چار افراد سے پتا چلا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اور اس کی فوج کی غیر حاضری سے دشمن فائدہ اُٹھا رہا ہے اور ایسی چابکدستی سے سازش اور بغاوت کا زہر پھیلا رہا ہے کہ کسی کو پکڑنا آسان نہیں۔ زین الدین نے غیاث بلبیس اور علی بن سفیان کے نائب حسن بن عبداللہ کو بتانے کی بجائے اپنے طور پر اس تخریب کاری کی جاسوسی شروع کردی تھی۔ فوج کے چھوٹے بڑے افسر بھی اس کی محفل میں آتے تھے۔ اُس نے ان سے بہت سی باتیں معلوم کرلی تھیں اور متعدد زمہ دار افراد کے نام اور ان کی سرگرمیاں بھی معلوم کر لی تھیں۔ اُس نے دراصل ذاتی طور پر تخریب کاروں کے خلاف اپنا ایک گروہ تیا ر کر لیا تھا، جس نے نہایت نازک راز حاصل کر لیے تھے۔

ایک مصری وقائع نگار محمد فرید ابو حدید نے اپنی تصنیف ”سلطان صلاح الدین ایوبی” میں سازش اور بغاوت کے انکشاف کا سہرا زیان الدین علی کے سر باندھا ہے اور تین چار مؤرخین کے حوالے دئیے ہیں، لیکن اُس دور کی جو تحریریں محفوظ ہیں ، ان سے پتا چلتا ہے کہ محکمہ مالیات کے ناظم کے قتل سے صلیبیوں کی یہ سازش بے نقاب ہوئی تھی، جس کے آلہ کار وہ مسلمان تھے جن پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو اعتماد تھا۔ بہرحال اس بزرگ شخصیت کی ذاتی کاوش اور اس کا جو حاصل تھا ، وہ قومی سطح کا ایسا کارنامہ تھا جسے مؤرخین نے بجا طور پر خراجِ تحسین پیش کیاہے۔ اس نے بلبیس سے کہا کہ وہ ابھی کچھ دن اور اپنی جاسوسی جاری رکھنا چاہتاتھا تاکہ ہر ایک سازشی کی نشاندہی ہوجائے،لیکن ان تخریب کاروں کی گرفتاری کی خبر شہر میں مشہور ہوگئی ہے، جس سے ان کے ساتھی روپوش ہوجائیں گے۔ اُس نے نام اور پتے وغیرہ بتا دئیے۔ اپنے آدمی بھی بلبیس کے حوالے کر دئیے۔ حسن بن عبد اللہ کو بلا لیا گیا۔

حسن اوربلبیس نے فیصلہ کیا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو فوری طور پر اطلاع دے دی جائے۔ اس کے لیے زین الدین کو ہی منتخب کیا گیا اور اُسی روز اُسے بارہ سواروں کے محافظ دستے کے ساتھ شوبک روانہ کردیا گیا۔

تیسری شام یہ قافلہ شوبک پہنچ گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جب زین الدین کو دیکھا تو حیران بھی ہوا اور خوش بھی ۔ وہ اس شخصیت سے واقف تھا۔ بغل گیر ہو کر ملا۔ زین الدین نے کہا …… ”میں کوئی اچھی خبر نہیں لایا۔ ناظم مالیات خضرالحیات قتل ہوچکا ہے اور اس کا قاتل آپ کا نائب مصلح الدین کوتوالی میں پاگل ہوگیا ہے”…… سلطان کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ زین الدین نے اُسے تسلی دی اور تفصیلات بتائیں۔ اُس فوج کے متعلق جو مصر میں تھی، اُس نے بتایا کہ اس میں بے اطمینانی پھیلادی گئی ہے۔ اس قسم کی افواہیں پھیلائی گئی ہیں کہ شوبک کو سر کرنے والی فوج کو سونے چاندی سے مالا مال کردیا گیا ہے اور اسے عیسائی لڑکیاں بھی دی گئی ہیں۔ مصر والی فوج میں یہ دہشت بھی پیدا کردی گئی ہے کہ سوڈانیوں کا بہت بڑا لشکر مصر پر حملہ کرنے والا ہے، جسے مصر کی یہ تھوڑی سی فوج نہیں روک سکے گی۔ اس فوج کے ہر ایک سپاہی کو قتل کردیا جائے گا اور صلاح الدین ایوبی چاہتا ہی یہی ہے کہ یہ فوج قتل ہوجائے۔ اس کے علاوہ یہ افواہ بھی پھلائی گئی ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی محاذ پر شدید زخمی ہوگیا ہے ، شاید زندہ نہیں رہے گا۔ اس کے کمانڈر وہاں من مانی کر رہے ہیں۔ زین الدین نے تایا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے زخمی ہونے کی خبر پر یقین کر لیا گیاہے ۔ اسی لے مصلح الدین جیسے حاکم مصر کو صلیبیوں کی مد سے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کرنے اور اپنی اپنی خود مختار ریاستوں کے قام کے انتظامات کر رہے ہیں۔

سلطان ایوبی نے وقت ضائع کیے بغیر برق رفتار قاصد بلایا اور نورالدین زنگی کے نام ایک پیغام میں مصر کے یہ سارے حالات لکھے اور اس سے فوجی مدد مانگی۔ اُس نے لکھا کہ میں یہاںرہتا ہوں تو مصر ہاتھ سے جاتا ہے، چلا جاتا ہوں تو شوبک کی فتح شکست میں بدل جائے گی۔ لیا ہوا علاقہ کسی قیمت پرواپس نہیں دیا جائے گا۔ میں ابھی فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہاں رہوں یا مصر چلا جائوں …… اُس نے قاصد سے کہا کہ وہ دِن اوررات گھوڑا بھگاتا رہے۔ گھوڑا تھک جائے تو جو کوئی سوار سامنے آئے، اس سے گھوڑا بدل لے۔ کوئی انکار کرے تواُسے قتل کردے۔ رفتار کم نہ ہو اور اُسے یہ ہدایت بھی دی کہ اگر وہ دشمن کے گھیرے میں آجائے تو نکلنے کی کوشش کرے اور اگر پکڑا جائے تو پیغام منہ میں ڈال کر نگل لے ۔ دشمن کے ہاتھ پیغام نہ لگے۔ قاصد روانہ ہوگیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسا ہی ایک اور قاصد بلایا اور اُسے اپنے بھائی تقی الدین کے نام پیغام لکھ کر اُسے وہی ہدایات دیں جو پہلے قاصد کو دی تھیں۔ اس پیغام میں اُس نے بھائی کو لکھا کہ تمہارے پاس جوکچھ بھی ہے ، جتنے لڑاکا آدمی اکھٹے کر سکتے ہو، گھوڑوں پر سوار ہوجائو اور قاہرہ پہنچو۔ راستے میں بلا ضرورت رُکنا نہیں۔ مجھے معلوم نہیں کہ میں تمہیں کہاں ملوںگا۔ ملوں گا بھی یا نہیں۔ اگر قاہرہ میں ہماری ملاقات نہ ہو سکی اور اگر میں زندہ نہ رہا تو اماررتِ مصر سنبھال لینا۔ مصر بغداد کی خلافت کی مملکت ہے اور خدائے ذوالجلال نے اس مملکت کی ذمہ داری ایوبی خاندان کو سونپی ہے۔ روانگی سے قبل قبلہ والد محترم )نجم الدین ایوب( کے آگے جھکنا اورانہیںکہنا کہ وہ تمہاری پیٹھ پر ہاتھ پھیریں، پھر محترمہ والدہ کی قبر پر فاتحہ پڑھ کر اُن کی روح سے دعائیں لے کر آنا۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ میں جہاں ہوں، وہاں اسلام کا پرچم سرنگوں نہیں ہوگا۔ تم مصر میں اس پرچم کو سر بلند رکھو۔

یہ قاصد بھی روانہ ہوگیا۔

ان دونوں میں سے جو قاصد نورالدین زندگی کے پاس پہنچا، اس کی جسمانی حالت یہ تھی کہ اس کا بایاں بازو تلواروں کے زخموں سے قیمہ بنا ہوا تھااور اس کی پیٹھ میں ایک تیر اُترا ہوا تھا۔ وہ زنگی کے قدموں میں گرا۔ اتنا ہی کہہ سکا کہ راستے میں دشمن مل گیا تھا ۔ اس حال میں پیغام لے کے نکلا ہوں۔

اُس نے پیغام زنگی کے ہاتھ میں دیا اور شہید ہوگیا۔ نورالدین زنگی کی فوج جب شوبک کے قریب پہنچی تو قلعے اور شہر میں اعلان ہوگیا کہ صلیبیوں کا بہت بڑا حملہ آرہا ہے۔ گرد آسمان تک جارہی تھی۔ پتا نہیں چلتا تھا کہ گرد میں کیا ہے،امکان یہی ہے کہ یہ صلیبی فوج ہے۔ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر شوبک کی فوج مقابلے کے لیے تیار ہوگئی ،لیکن گرد میں جو جھنڈے نظر آئے۔ وہ اسلامی تھے، پھر گرد میں تکبر کے نعرے سنائی دئیے۔قلعے سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے نائبین استقبال کے لیے آگے چلے گئے۔

٭ ٭ ٭

تین چار روز بعد صبح سویرے قاہرہ میں جو فوج تھی اُسے میدان میں جمع ہونے کا حکم ملا۔ فوجی چہ میگوئیاں کرنے لے کہ انہیں تیاری کا حکم ملا ہے۔ بعض نے کہا کہ بغاوت ہوگی۔ کسی نے کہا کہ سوڈانیوں کا حملہ آرہا ہے ۔ ان کے کمانڈروں تک کو علم نہیں تھا کہ اس اجتماع کا مقصد کیا ہے؟یہ حکم فوج کی مرکزی کمان سے جاری ہوا تھا…… جب تمام فوج اپنی ترتیب سے میدان میں آگئی تو ایک طرف سے چھ سات گھوڑے دوڑتے آئے۔ سب دیکھ کر حیران رہ گئے کہ سب سے آگے صلاح الدین ایوبی تھا۔سب جانتے تھے کہ وہ شوبک میں ہے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایک عجیب حرکت کی۔ اُس نے تہ بند کے سوا تمام کپڑے اُتار کر پھینک دئیے۔ سر بھی ننگا کر دیا اور فوج کی تمام صفوں کے سامنے سے گھوڑا دُلکی چال چلاتا گزرگیا۔ پھر سامنے آکر بلندآواز سے کہا …… ”میرے جسم پر کسی نے کوئی زخم دیکھا ہے؟ کیا میں زندہ ہوں یا مردہ؟”

”امیر مصر کا اقبال بلندہو”…… ایک شترسوار نے کہا…… ”ہمیں بتایا گیا تھا کہ آپ زخمی ہیں او جانبر نہیں ہوسکیں گے”۔

”اگر یہ خبر جھوٹی ہے تو وہ افواہیں بھی جھوٹی ہیں جو تمہارے کانوں میں ڈالی گئی ہیں”…… سلطان صلاح الدین ایوبی نے اتنی بلند آواز سے کہا کہ آخری صف تک اس کی آواز پہنچتی تھی۔ اُس نے کہا …… ”جن مجاہدین کے متعلق تمہیں بتایا گیاہے کہ وہاںسونا اور چاندی لوٹ رہے ہیں اور عیسائی لڑکیوںکے ساتھ عیش کر رہے ہیں۔ وہ ریگستان میں اگلہ قلعہ اور اس کے اگلا قلعہ اور اس سے اگلا قلعہ سرکرنے کی تیاریوں میں پاگل ہو رہے ہیں ۔ وہ کیوں بھوکے پیاسے مررہے ہیں ؟ صرف اس لیے کہ تمہاری مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی عصمتوں کو صلیبی درندوں سے بچا سکیں۔ شوبک میں ہم نے مسلمان بچیوں اوران کی مائوں اور ان کے باپوں کا یہ حال دیکھا ہے کہ بچیاں عیسائیوں کے پاس اور ان کی مائیں اور اُن کے باپ عیسائیوں کی بیگار کر کرکے مر رہے تھے۔ اب کرک، یروشلم اور فلسطین کی ہر بستی میں جو عیسائیوں کے قبضے میں ہ۔ ، مسلمانوں کایہی حال ہو رہا ہے۔ مسجدیں اصطبل بنا دی گئی ہیں اور قرآن کے مقدس ورق گلیوں میں عیسائیوں کے قدموں تلے مسلے جا رہے ہیں”۔

یہ تقریر اتنی جوشیلی اور سنسنی خیز تھی کہ ایک کمان دار نے چلا کر کہا …… ”پھر ہم یہاں کیاکر رہے ہیں ؟ ہمیں بھی محاذ پر کیوں نہیں لے جایا جاتا؟”

”تمہیں یہاں اس لیے بٹھایا گیا ہے کہ دشمن کی پھیلائی ہوئی افواہیں سنو اور ان پریقین کرو”۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ”تم یہاں اپنے پرچم کے تلے بغاوت کرو، تاکہ سوڈانیوں کے ساتھ صلیبی اس سرزمین پر قبضہ کرلیں اور تمہاری بیٹیوں کی عصمت دری کریں۔ تم قرآن کے ورق اپنے ہاتھوں باہر کیوں نہیں بکھیر دیتے؟ کیا تم قرآن کی توہین صلیبیوں سے کرانا چاہتے ہو؟ تم جو اپنے ایمان کی حفاظت نہیں کرسکتے، قوم کی آبرو کی کیا حفاظت کیا کرو گے”…… تمام فوج میں ہلچل سی پیدا ہوگئی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ”تمہیں چند ایک کمان دارنظر نہیں آرہے۔ وہ میں تمہیں دکھاتا ہوں”۔

اُس نے اشارہ کیا تو ایک طرف سے دس گیارہ آدمی گردنوں میں رسیاں پڑی ہوئی اور ہاتھ پیٹھ پیچھے بندھے ہوئے، آگے لائے گئے۔ انہیں صفوں کے آگے سے گزارا گیا ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اعلان کیا …… ”یہ تمہارے کماندار تھے، لیکن یہ اُس قوم کے دوست ہیں جو تمہارے رسول ۖ اور تمہارے قرآن کی دشمن ہے۔ یہ پکڑے گئے ہیں ”…… سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوج کو خضرالحیات کے قتل اور مصلح الدین کی گرفتاری کا پورا واقعہ سنایا اور مصلح الدین کو سامنے لایا گیا۔ وہ ابھی تک پاگل پن کی حالت میں تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی گزشتہ رات کوتوالی کے تہہ خانے میں اُسے دیکھ آیا تھا۔ اُس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ اپنی ریاست اور خود مختارحکمرانی کی باتیں کر رہا تھا۔ اب سلطان صلاح الدین ایوبی نے اُسے گھوڑے پر بٹھا کر فوج کے سامنے کھڑا کردیا۔ اس نے فوج کو دیکھا اور بلند آواز سے بولا …… ”یہ میری فوج ہے ۔ مصر کی حکومت کے خلاف بغاوت کردو۔ میں تمہارا بادشاہ ہوں۔ صلاح الدین ایوبی مصر کادشمن ہے۔ تم اُسے قتل کردو”۔

وہ بولے جا رہا تھا ۔ اُس کے منہ سے پاگل پن کی جھاگ نکل رہی تھی۔ فوج کی صفوں سے ”پنگ” کی آواز آئی اور ایک تیر مصلح الدین کی شہہ رگ میں اُتر گیا۔ وہ گر رہا تھا ، جب کئی اور تیراس کے جسم میں اُتر گئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے چلا کر تیر اندازوں کو روکا۔ کمان داروں نے تیر چلانے والوں کو آگے آنے کو کہا۔ اُن میں سے ایک نے کہا …… ”ہم نے غدار کو مارا ہے۔ اگر یہ قتل ہے تو گردنیں حاضر ہیں”…… سلطان صلاح الدین ایوبی نے انہیں معاف کردیا۔ اُس کے جسم پر ابھی تک صرف تہ بند تھا۔ باقی جسم ننگا تھا۔ اُس نے جلاد کو وہیں بلایا اور ان غداروں کو جنہیں فوج کے سامنے لایا گیا تھا، جلاد کے حوالے کرکے اُن کے سر جسموں سے الگ کرادئیے۔

اُس نے ایک اور حکم دے کر سب کو حیران کر دیا ۔ اُس نے حکم دیاکہ یہ فوج یہیں سے محاذ کو کوچ کرے گی۔ تمہارا ذاتی اور دیگر سازوسامان اور رسد تمہارے پیچھے آئے گی …… فوج کوچ کر گئی جس کا مطلب یہ تھا کہ مصر فوج کے بغیر رہے گا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے غداروں کے کٹے ہوئے سر دیکھے ۔ وہ کسی سے کوئی بات کرنے لگا تو اسے ہچکی سی آئی اور اس کے آنسو بہہ نکلے ۔ اُس نے کپڑے پہنے اور ایک سمت چل پڑا۔ اس نے اپنے ساتھ کے حکام سے کہا …… ”مجھے خطرہ یہ نظر آرہا ہے کہ دشمن ملت اسلامیہ میں اسی طرح غدار پیدا کرتارہے گا اور وہ دِن آجائے گا، جب غداروں کی گردنیں مارنے والے بھی دشمن کو دوست کہنے لگیں گے۔ میرے دوستو! اسلام کو سر بلند دیکھنا چاہتے تو دوست اور دشمن کو پہچانو”۔

مصرکے جن حاکموں کو معلوم نہیں تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی نے فوج کو کیوں کوچ کرادیا ہے، انہیں اُس نے بتایا کہ یہ فوج یہاں فارغ بیٹھی تھی ۔میں یہ حکم دے گیا تھا کہ اسے فارغ نہ رہنے دیاجائے۔ جنگی مشقین جاری رہیں اور شہر سے دُور لے جاکر اس فوج کو وقتاً فوقتاً جنگی حالت میں رکھا جائے اور ذہنی تربیت بھی جاری رہے، مگر میرے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔ میں نے دو ذمہ دار حاکموں کو سزائے موت دے دی ہے۔ انہوں نے ایک سازش کے تحت فوج کو فارغ رکھا۔سپاہی جوئے اور نشے سے دل بہلانے لگے اور ان کے ذہن افواہوں کو قبول کرنے لگے۔ تم شاید سوچ رہے ہو کہ مصرمیں فوج نہیں رہی ۔ گھبرائو نہیں۔ فوج آرہی ہے، جس فوج نے شوبک فتح کیا ہے ، وہ قاہرہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اُس نے میرے پیچھے پیچھے کوچ کیا تھا۔ وہ فوج دشمن کو اور دشمن کے گناہوں کو بہت قریب سے دیکھ کر آئی ہے۔ اسے کوئی باغی نہیں کر سکتا۔ اس کے سپاہی شہیدوں کو دھوکہ نہیں دیں گے اور یہ فوج جو یہاں سے جارہی ہے ۔ یہ کرک پر حملہ کرے گی یا دشمن اس پر حملہ کرے گا۔ پھر یہ بھی دشمن کو جان جائے گی ، جو سپاہی ایک بار دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑے، اُسے کوئی لالچ غداری پر آمادہ نہیں کر سکتا۔

یہ انقلاب اس طرح آیا ھتا کہ نورالدین زنگی اور اپنے بھائی تقی الدین کی طرف قاصد بھیج کر سلطان صلاح الدین ایوبی خفیہ طور پرقاہرہ کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔ اپنے نائبین کو کمان دے کر اُس نے سخت ہدایت دی تھی کہ اُس کی غیرحاضری کی کسی کو خبر نہ ہو۔اُس نے کہا کہ زنگی مدد ضرور بھیجے گا۔ جونہی اس کی مدد آئے ، اتنی ہی اپنی فوج یہاں سے قاہرہ بھیج دی جائے ، لیکن راستے میں پڑائو زیادہ نہ کرے۔ اس سے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دومقاصد تھے۔ ایک یہ کہ اگر مصر کی فوج باغی ہو گئی تو محاذ سے آنے والی فوج بغاوت فرد کرے گی اور اگر حالات ٹھیک ہوئے تومصر کی فوج محاذ پر آجائے گی اور محاذ کی فوج مصر میںرہے گی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی قاہرہ پہنچا تو اس ی موجودگی خفیہ رکھی گئی۔ رات ہی رات اُس نے زین الدین کی نشاندہی کے مطابق تمام غداروں کوسوتے ہی پکڑوادیا۔ کئی اور جگہوں پر چھاپے مروائے۔ تین حشیشین نے بھی بعض افراد کے نام بتائے تھے۔ انہیں بھی پکڑا گیا ۔ کسی کے عہدے اور رُتبے کا لحاط نہ کیا گیا۔

فاطمہ کو سلطان صلاح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق زین الدین کے حوالے کر دیا گیا اور اُسے کہا گیا کہ کسی موزوں جگہ اس کی شادی کردی جائے ۔ اب سلطان صلاح الدین ایوبی تقی الدین کا انتظار کرنے لگا۔ اُسے تین دن انتظار کرنا پڑا ۔ تقی الدین کم و بیش دوسو سواروں کے ساتھ آگیا۔ سلطان ایوبی نے اُسے مصر کے حالات اور واقعات اور آئندہ لائحہ عمل بتا کر قائم مقام امیر مصر مقرر کر دیا اور یہ اجازت بھی دی کہ وہ سوڈان پر نظر رکھے اور جب ضرورت سمجھے حملہ کردے

یہ ہدایات اور احکامات دے کر سلطان صلاح الدین ایوبی شوبک کو روانہ ہونے لگا تو علی بن سفیان جو اُس کے ساتھ آیا تھا ، بولا …… ”کرک کے صلیبیوں نے آپ کے لیے ایک تحفہ بھیجا ہے۔ اگرکچھ دیر اور انتظار کریں تو تحفہ دیکھتے جائیں”…… علی بن سفیان ، سلطان صلاح الدین ایوبی کو حیرت میں چھوڑ کر باہر نکل گیا۔ اس نے سلطان ایوبی کو باہر چلنے کو کہا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی گھوڑے پر سوار ہو کرعلی بن سفیان کے ساتھ چلا گیا۔ تھوڑی دُور میدان میں پانچ سو گھوڑے کھڑے تھے۔ ہر گھوڑے پر زین تھی ۔ ان گھوڑوں سے ذرا پرے سات آٹھ صلیبی رسیوں سے بندھے ہوئے کھڑے تھے اور اپنی فوج کا ایک سرحدی دستہ بھی مستعد کھڑا تھا۔ سلطان ایوبی نے پوچھا کہ یہ گھوڑے کہاں سے آئے ہیں ؟ علی بن سفیان نے ایک آدمی کو بلا کر سلطان کے سامنے کھڑا کردیا اور کہا …… ”یہ میرا جاسوس ہے۔ یہ تین سال سے صلیبیوں کے لیے جاسوسی کر رہاہے۔یہ صلیبیوں اور سوڈانیوں کے درمیان رابطے کا کام کرتاہے۔ وہ اسے اپنا جاسوس سمجھتے ہیں ، لیکن یہ میرا جاسوس ہے۔ یہ کر ک گیا تھا اور صلیبی بادشاہوں کو سوڈانیوں کا یہ پیغام دیا تھا کہ انہیں پانچ سو گھوڑوں اور زینوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے گھوڑے دے کر اپنے یہ فوجی افسر بھی بھیج دیئے۔ یہ اُس سوڈانی فوج کی قیادت کرنے جارہے تھے، جسے مصر پر حملے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ میرا شیر انہیں شمال کی طرف سے گھما کر ایک پھندے میں لے آیا او اپنے اس سرحدی دستے کوبلا لیا ۔ اپنی شناخت بتائی اور یہ دستہ پانچ سو گھوڑوں اور ان صلیبی فوجی افسروں کو قاہرہ ہانک لایا”۔

صلیبی افسروں کو معلومات حاصل کرنے کے لیے علی بن سفیان نے اپنے نایئب حسن بن عبداللہ کے حوالے کردیا اور حود سلطان کے ساتھ شوبک کو روانہ ھوگیا۔

اسکے ساتھ ھی قاہرہ میں بغاوت اور سلطان ایوبی کا قصہ بھی حتم ھوا۔۔۔۔
داستان ایمان فروشوں کی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: