Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 9

0
داستان ایمان فروشوں کی از عنایت اللہ التمش – قسط نمبر 9

–**–**–

داستان ایمان فروشوں کی

ۖکھنڈروں کی آواز

سازش اور غداری کے مجرموں کا خون قاہرہ کی ریت نے ابھی اپنے اندر جذب نہیں کیا تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا بھائی تقی الدین اُس کے بلاوے پر دو سو منتخب سواروں کے ساتھ قاہرہ پہنچ گیا۔ سازش کے مجرموں کو گردنیں کاٹی جا چکی تھیں اور یوں نظر آتا تھا جیسے قاہرہ کی ریت ان مرے ہوئے مسلمانوں کا خون اپنے اندر جذب کرنے سے گزیز کر رہی ہے جو صلیبیوں کے ساتھ مل کر سلطنت اسلامیہ کے پرچم کو سرنگوں کرنے کی کوششوں میں مصروف تھے۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سب کی لاشیں دیکھیں۔ ان کے کٹے ہوئے سر ان کے بے جان جسموں کے سینوں پر رکھ دئیے گئے تھے۔ صرف ایک لاش تھی جو سب سے بڑے غدار کی تھی اور جس پر سلطان صلاح الدین ایوبی کو کلی طور پر اعتماد تھا۔ اس لاش کا سر اس کے ساتھ ہی تھا۔ ایک تیر اُس کی شہہ رگ میں داخل ہو کر دوسری طرف نکل ہوا تھا۔ یہ قاہرہ کا نائب مصلح الدین تھا۔ فوج کے سامنے جب اس کاجرم سنایا جا رہا تھا تو ایک جوشیلے اور محب اسلام سپاہی نے کمان میں تیر ڈال کر مصلح الدین کی شہہ رگ سے پار کردیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے سپاہی کی اس غیر قانونی حرکت کو ڈسپلن کے خلاف تھی، صرف اس لیے نظر انداز کرکے معاف کر دیا تھا کہ کوئی بھی صاحب ایمان اسلام کے خلاف غداری برداشت نہیں کرسکتا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے ہی اپنی فوج میں ایمان کی یہ قوت پیدا کی تھی۔

ان لاشوں کو دیکھ کر سلطان ایوبی کے چہرے پر ایسی خوشی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی کہ اُس کی صفوں اور نظام حکومت میں سے اتنے زیادہ غدار اور سازشی پکڑے گئے اور انہیں سزائے موت دے دی گئی ہے۔ اُس کے چہرے پر اُداسی اور آنکھیں گہری سرخ تھیں ، جیسے وہ آ نسو روکنے کی کوشش کر رہا تھا۔ غصہ تو تھا ہی جس کا اظہار اس نے ان الفاظ میں کیا …… ”ان میں سے کسی کا جنازہ نہیں پڑھایا جائے گا۔ ان کی لاشیں ان کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائیں گی، تا کہ انہیں کفن بھی نہ پہنائے جائیں۔ رات کے اندھیرے میں انہیں ایک ہی گہرے گڑھے میں پھینک کر مٹی ڈال دو اور زمین ہموار کر دو۔ اس دُنیا میں ان کانشان بنی باقی نہ رہے”۔

”امیر محترم !” …… سلطان صلاح الدین ایوبی کے ایک رفیق اور معتمد خاص بہائوالدین شداد نے سلطان صلاح الدین ایوبی سے کہا …… ”کوتوال اور شاہدوں کے بیان اور قاضی کا فیصلہ تحریر میں لاکردستاویز میں محفوظ کرلینا ضروری ہیں ، تاکہ یہ اعتراض نہ رہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک فرد کا تھا۔ آپ کا فیصلہ برحق ہے۔ انصاف کر دیا گیا ہے، مگر قانون کا تقاضا کچھ اورہے”۔

”کیا قرآن نے یہ حکم دیا ہے کہ دینِ الٰہی کی جڑیں کفار کے ساتھ مل کر کاٹنے والے کو یہ حق دیا جائے کہ وہ قانون کے سامنے کھڑے کھڑا ہو کردین داروں سے اللہ و رسول ۖ کی عظمت کے پاسبانوں کو جھوٹا ثابت کرے ” …… سلطان صلاح الدین ایوبی نے ایسے تحمل سے کہا جس میں ایک دین دار مسلمان کا عتاب صاب جھلک رہا

تھا۔ اُس نے ان تمام حاکموں کو جو وہاں موجود تھے ، مخاطب ہو کرکہا …… ”اگر میں نے بے انصافی کی ہے تو مجھے اتنے زیادہ انسانوں کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دو اور میری لاش شہر سے دُور پھینک دو، جہاں صحرائی لومڑیاں اور گدھ میری کوئی ہڈی بھی اس زمین پر نہ رہنے دیں، لیکن میرے رفیقو! مجھے سزا دینے سے پہلے قرآن پاک الف لام میم سے والناس پڑھ لینا، اگر قرآن مجھے سزا دیتا ہے تو میری گردن حاضر ہے”۔

”بے انصافی نہیں ہوئی سالار اعظم؟”…… کسی اور نے کہا …… ”قاضی شداد کا مقصد یہ ہے کہ قانون کی بے حرمتی نہ ہو”۔

”میں سمجھ گیا ہوں”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ”ان کا مقصد آئینے کی طرح صاف ہے۔ میں آپ سب کو صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حاکم وقت ذاتی طور پرجانتا ہے کہ جسے غداری کے جرم میں سامنے لایاگیا ہے، وہ غداری کا مجرم ہے تو حاکم وقت پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ شہادتوں اور قانون کے دیگر جھمیلوں میں پڑے بغیر غدار کو وہیں سزا دے ، جس کا وہ حق دار ہے، اگر وہ سزادینے سے گریز کرتا، ڈرتا ، ہچکچاتا ہے تو وہ حاکم وقت خود بھی غدار ہے یا کم از کم نا اہل اور بے ایمان ضرورہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ قاصی کے سامنے جاکر مجرم اُسے بھی مجرم کہہ دیں گے۔ میرا سینہ صاف ہے۔ مجھے غداروں کی صف میں کھڑا کردو۔ خدا کا ہاتھ مجھے اُس سے الگ کردے گا۔ اگر تمہارے سینے ربِ کعبہ کے نور سے منور ہیں تومجرموں کا سامنا کرنے سے مت ڈرو۔ تا ہم میرے عزیز دوست بہائو الدین شداد نے جو مشورہ دیا ہے اس پرعمل کرو۔ کاغذات تیارکرکے محترم قاضی سے فیصلہ تحریر کرالو۔ ظاہر ہے کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں ہوگا۔ تحریر کر دیا جائے کہ امیر مصر جو افواجِ مصرکا سالار اعلیٰ بھی ہے، نے اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے ان مجرموں کو سزائے موت دی ہے، جن کا جرم بلاشک و شبہہ ثابت ہوگیا تھا”۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کی طرف دیکھا۔ وہ بڑے لمبے سفر سے آیاتھا، تھکا ہوا تھا۔ سلطا ن ایوبی نے اسے کہا …… ”میں تمہارے چہرے پر تفکر اور تھکن دیکھ رہاہوں ، لیکن تم آرام نہیں کر سکو گے۔ تمہارا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ شروع ہوا ہے۔ مجھے شوبک جلدی جاتا ہے تمہارے ساتھ کچھ ضروری باتیں کرکے چلا جائوںگا”۔

”جانے سے پہلے ایک حکم اور صادر فرماجائیے” …… ناظم شہر نے کہا …… ”جنہیں سزائے موت دی گئی ہے، ان کی بیوائوں اور بچوں کا کیا بنے گا”۔

”ان کے لیے بھی میرے اسی حکم پر عمل کرو جو میں ان سے پہلے غداروں کے اہل و عیال کے متعلق دے چکا ہوں ”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ”بیوائوں کے متعلق یہ چھن بین کرلو کہ اپنے خاوند وں کی طرح اُن میں سے کسی کا تعلق دشمن کے ساتھ نہ ہو۔ ہمارے زَن پرستی نے بھی غدار پیدا کیے ہیں۔ آپ نے دیکھ لیا ہے کہ صلیبیوں نے ہمارے بھائیوں کو خوبصورت لڑکیاںدے کر ان کے عوص ان کا ایمان خریدا ہے۔ ان میں سے جو بیوائیں نیک اورمومن ہیں ، ان کی شادیاں ان کی منشا کے مطابق کردو۔ کسی پر اپنا فیصلہ ٹھونسنے کی کوشش نہ کرنا۔ خیال رکھنا کہ کوئی عورت بے سہارا نہ رہے اور باعزت روٹی سے محروم نہ رہے اور اس میں محتاجی کا احسا س نہ پیدا ہو۔ یہ بھی خیال رکھنا کہ ان کے کانوں میں کو ئی یہ نہ پھونک دے کہ ان کے خاوندوںکو بے گناہ سزائے موت دی گئی ہے انہیں ذہن نشین کرادو کہ تم خوش قسمت ہو کہ ایسے گناہ گار خاوندوں سے نجات مل گئی ہے اور اُس کے بچوں کی تعلیم و تربیت خصوصی انتظامات کے تحت کرو۔ تمام اخراجات بیت المال سے لو۔ غداروں کے بچے غدار نہیں ہوا کرتے ،بشرطیکہ ان کی تعلیم و تربیت صحیح ہو۔ یہ سب مسلمانوں

کے بچے ہیں ۔ ان کی تعلیم و تربیت ایسی ہو کہ ان میں محرومی کا احساس پیدا نہ ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ باپ کے گناہ کاکفارہ بچے کو ادا کرنا پڑے”۔

٭ ٭ ٭

سلطان ایوبی کو واپسی کی جلدی تھی ، اُسے فکر یہ تھی کہ اس کی غیر حاضری میں صلیبی کوئی جنگی کاروائی نہ کردیں۔ نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک تو وہاں )کرک اورشوبک کے علاقہ میں(پہنچ گئی تھی ۔ قاہرہ کی فوج ابھی اُدھر جارہی تھی ، لیکن ان دونوں فوجوں کو اس علاقے سے روشناس کرانا تھا۔ اُس نے اپنے دفتر میں جا کر اپنے بھائی تقی الدین ، علی بن سفیان ، اس کے نائب حسن بن عبدا للہ ، کوتوال غیاث بلبیس اورچند ایک نائبین اور حکام کو بلالیا ، وہ زیادہ تر ہدایات تقی الدین کو دینا چاہتا تھا۔ اُس نے اجلاس میں اعلا ن کیا کہ اُس کی غیر حاضری میں اُس کا بھائی تقی الدین قائم مقام امیر مصر اوریہاں کی فوج کا سالار اعلیٰ ہوگا اور اسے اتنے ہی اختیارات حاصل ہوں گے جو سلطان ایوبی کے اپنے تھے۔

”تقی الدین !”…… سلطان ایوبی نے اپنے بھائی سے کہا …… ”آج سے دل سے نکال دو کہ تم میرے بھائی ہو۔ نااہلی ، بددیانتی ، کوتاہی ، غداری یا سازش اور بے انصافی کا ارتکاب کرو گے تو اُسی سزا کے مستحق سمجھے جائو گے جو شریعت کے قانون میں درج ہے”۔

”میںاپنی ذمہ داریوں کواچھی طرح سمجھتا ہوں، امیر مصر!”…… تقی الدین نے کہا …… ”اور ان خطرات سے بھی آگاہ ہوں جومصر کو درپیش ہیں”۔

”صرف مصر کو نہیں”……سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ”یہ خطرے سلطنت اسلامیہ کو درپیش ہیں اور اسلام کے فروغ اور سلطنت کی توسیع کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ہیں۔ ہمیشہ یادرکھو کہ کوئی بھی خطہ، جو سلطنت اسلامیہ کہلاتا ہے، وہ کسی ایک فرد یا گروہ کی جاگیر نہیں ۔ وہ خدائے عزوجل کی سرزمین ہے اور تم سب اس کے پاسبان اور امین ہو۔ اس مٹی کا ذرہ ذرہ تمہارے پاس امانت ہے۔اس کی مٹی بھی جب اپنے کام میں لانا چاہو تو سوچ لو کہ تم کسی دوسرے انسان کاحق تونہیں مار رہے؟ خدا کی امانت میں خیانت تو نہیں کر رہے؟…… میری باتیں غور سے سنو لو تقی الدین ! اسلام کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس کے پیروکاروں میں غداروں اورسازش پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ کسی قوم نے اتنے غدار پیدا نہیں کیے، جتنے مسلمانوں نے کیے ہیں۔ یہاں تک کہ ہماری تاریخ جو جہاد اور اللہ کے نام پر جنگ و جدل کی قابلِ فخر تاریخ ہے، غداری کی بھی تاریخ بن گی ہے اور اپنی قوم کے خلاف سازش گری ہماری روایت بن گی ہے …… علی بن سفیان سے پوچھو تقی ! ہمارے وہ جاسوس جو صلیبیوں کے علاقوںمیں سرگرم رہتے ہیں ، بتاتے ہیں کہ صلیبی حکمران، مذہبی پیشوا اور دانش ور اسلام کی اس کمزوی سے واقف ہیں کہ مسلمان زَن ، زر اور اقتدارکے لالچ میں اپنے مذہب، اپنے ملک اور اپنی قوم کا تختہ اُلٹ دینے سے بھی گریز نہیں کرتا”۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اجلاس کے شرکاء پر نگاہ دوڑائی اور کہا …… ”ہمارے جاسوسوں نے ہمیں بتایا ہے کہ صلیبیوں نے اپنے جاسوسوں کو ذہن نشین کرایا ہے کہ مسلمان کی تاریخ جتنی فتوحات کی ہے، اتنی ہی غداری کی تاریخ ہے۔ مسلمانوں نے اتنی فتوحات حاصل نہیں کیں، جتنے غدار پیدا کیے ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد مسلمان خلافت پرایک دوسرے کے خلاف لڑنے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے اقتدار کی خاطر ایک دوسرے کو قتل کیا۔ ایک خلیفہ یا امیر مقرر ہوا تو خلافت اور امارت کے دوسرے امیدواروں نے اُس کے خلاف یہاں تک

سازشیں کیں کہ اسلام کے دشمنوں تک سے درپردہ مدد لی اور جس کے ہاتھ میں خلافت اورامارت آگئی ، اُس نے ہر اُس قائد کو قتل کرایا جس سے اقتدار کو خطرہ محسوس ہوا۔ قومی وقار ختم ہوتا گیا اور ذاتی اقتدار رہ گیا۔ پھر تحفظ اسی کا ہوتا رہا۔ سلطنتکی توسیع ختم ہوئی، پھر سلطنت کا دفاع ختم ہوا اور پھر سلطنت سکڑنے لگی۔ صلیبی ہماری اس تاریخی کمزوری سے آگاہ ہیں کہ ہم لوگ ذاتی اقتدار کے تحفظ اور استحکام کے لیے سلطنت کا بہت بڑا حصہ بھی قربان کرنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔ یہی ہماری تاریخ بنتی جارہی ہے”۔

”تقی الدین اور میرے رفیقو! میں جب ماضی پر نگاہ ڈالتا ہوں اور جب اپنے موجودہ دور میں غداروں کی بھرمار اور سازشوں کے جال کو دیکھتا ہوں تو یہ خطرہ محسوس کرتا ہوں کہ ایک وقت آئے گا کہ مسلمان تاریخ کی تحریروں کے ساتھ بھی غداری کریں گے۔ وہ قوم کی آنکھوں میں دھول جھونک کر لکھیں گے کہ وہ بہادر ہیں اور انہوں نے دشمن کو ناک چنے چبوا دئیے ہیں، مگر درپردہ دشمن کو دوست بنائے رکھیں گے۔ اپنی شکستوں پرپردے ڈالے رکھیں گے۔ سلطنت اسلامیہ سکڑتی چلی جائے گی اور ہمارے خود ساختہ خلیفے اس کا الزام کسی اور پر تھوپیں گے۔ مسلمانوں کی ایک نسل ایسی آئے گی جس کے پاس صرف نعرہ رہ جائے گا ”اسلام زندہ باد”۔ وہ نسل اپنی تاریخ سے آگاہ نہیں ہوگی۔ اس نسل کو یہ بتانے والا کوئی نہ ہوگا کہ اسلام کے پاسبان اور علم بردار وہ تھے جو وطن سے دُور ریگزاروں میں، پہاڑوں میں ، وادیوں میں اور اجنبی ملکوں میں جا کر لڑے۔ وہ دریا اور سمندر پھلانگ گئے۔ انہیں کڑکتی بجلیاں ، آندھیاں اور اولوں کے طوفان بھی نہ روک سکے۔ وہ اُن ملکوںمیں لڑے جہاں کے پتھر بھی ان کے دشمن تھے۔ وہ بھوکے لڑے، پیاسے لڑے، ہتھیاروں اور گھوڑوں کے بغیر بھی لڑے۔ وہ زخمی ہوئے تو کسی نے ان کے زخموں پر مرہم نہ رکھا، وہ شہید ہوگئے تو ان کے رفیقوں کو ان کے لیے قبریں کھودنے کی مہلت نہ ملی۔ وہ خون بہاتے گئے، اپنا بھی اوردشمن کا بھی۔ پیچھے ایوانِ خلافت میں شراب بہتی رہی۔ برہنہ لڑکیوں کے ناچ ہوتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سونے سے اور اپنی بیٹیوں کے حسن سے ہمارے خلیفوں اور ہمارے امیروں کو اندھا کرتے گئے۔ جب خلیفوں نے دیکھا کہ قوم ان تیغ زنوں کی پجاری ہوتی جا رہی ہے ، جنہوں نے یورپ اور ہندوستان میں اسلام کے جھنڈے گاڑدئیے ہیں تو خلیفوں نے ان مجاہدینِ اسلام پر لوٹ مار اور زناکاری جیسے الزام تھوپنے شروع کردئیے۔ انہیں کمک اور رسد سے محروم کردیا۔ مجھے قاسم اور وہ کمسن اور خوبرو بیٹا یاد آتا ہے ، جس نے اس حال میں ہندوستان کے ایک طاقتور حکمران کو شکست دی اور ہندوستان کے اتنے بڑے حصے پر قبضہ کرلی تھا کہ اُس نے کمک نہیں مانگی، رسد نہیں مانگی۔ مفتوحہ علاقوں کا ایسا انتظام کیا کہ ہندو اُس کے غلام ہوگئے اور اُس کی شفقت سے متاثر ہو کر مسلمان ہوگئے۔ مجھے جب یہ لڑکا یاد آتا ہے تو دل میں درد اُٹھتا ہے۔ اُس وقت کے خلیفہ نے اس کے اس ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اُس پر زنا کا الزام عائد کیا اور مجرم کی حیثیت سے واپس بلایا” …… سلطان صلاح الدین ایوبی کو ہچکی سے آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔

بہائو الدین شداد اپنی یاداشتوں میں لکھتاہے …… ”میرا عزیز دوست صلاح الدین ایوبی اپنی فوج کے سینکڑوں شہیدوں کی لاشیں دیکھتا تو اس کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر رونق آجایا کرتی تھی ، مگر صرف ایک غدار کو سزائے موت دے کر جب اُس کی لاش دیکھتا تو اس کا چہرہ بجھ جاتا اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے تھے”…… محمد بن قاسم کا ذکر کرتے کرتے اُسے ہچکی آئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ وہ آنسو روک رہا ہے۔ کہنے لگا …… ”دشمن اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ اپنوں نے اسے شہید کر دیا۔ دشمن نے اُسے فاتح تسلیم کیا۔ اپنوں نے اُسے زانی کہا…… صلاح الدین ایوبی نے زیاد کے بیٹے طارق کا بھی ذکر کیا اور اُ س روز وہ اتنا جذباتی ہوگیاتھا کہ اس کی زبان رکتی ہی نہیں تھی ، حالانکہ وہ کم گو تھا۔ حقیقت پسند تھا۔ ہم

سب پر خاموشی طاری تھی اور ہم سب جسم کے اندر عجیب سا اثر محسوس کر رہے تھے۔ صلاح الدین ایوبی بلاشک و شبہ عظیم قائد تھا ۔ وہ ماضی کو نہیں بھولتا تھا۔ حال کے خطروں اور تقاضوں سے نبردآزما رہتا اور اُس کی نظریںصدیوں بعد آنے والے مستقبل پر لگی رہتی تھیں ”۔

”صلیبیوں کی نظریں ہمارے مستقبل پر لگی ہوئی ہیں”…… سلطان ایوبی نے کا …… ”صلیبی حکمران اور فوجی حکام کہتے ہیں کہ وہ اسلام کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں گے۔ وہ ہماری سلطنت پر قابض نہیں ہونا چاہتے۔ وہ ہمارے دلوں کو نظریات کی تلوار سے کاٹنا چاہتے ہیں۔ میرے جاسوسوں نے مجھے بتایا ہے کہ صلیبیوں کا سب سے زیادہ اسلام دشمن بادشاہ فلپ آگسٹس کہتاہے کہ انہوں نے اپنی کو ایک مقصد دے دیا ہے اور ایک روایت پیدا کر دی ہے ۔ اب صلیبیوں کی آنے والی نسلیں اس مقصد کی تکمیل کے لیے سرگرم رہیں گی۔ ضروری نہیں کہ وہ تلوار کے زور سے اپنا مقصدحاصل کریں گے۔ان کے پاس کچھ حربے اوربھی ہیں …… تقی الدین !جس طرح ان کی نظر مستقبل پرہے، اسی طرح ہمیں بھی مستقبل پر نظر رکھنی چاہیے، جس طرح انہوں نے ہم میں غدار پیدا کرنے کی روایت قائم کی ہے، اسی طرح ہمیں ایسے ذرائع اختیار کرنے چاہئیں کہ غداری کے جراثیم ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائیں۔ غداوں کو قتل کرتے چلے جانا کوئی علاج نہیں ، غداری کا رحجان ختم کرنا ہے۔اقتدار کی ہوس ختم کرکے حُبِّ رسول ۖ پیدا کرنی ہے۔ یہ اسی صورت میں پیدا ہوسکتی ہے کہ قوم کی آنکھوں میں رسول ۖ کے دشمن کا تصور موجود ہو۔ مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ صلیبیوں کی تہذیب میں ایسی بے حیائی ہے، جو پُر کشش ہے۔ قوم ان کی تہذیب میں جذب ہوتی چلی جا رہی ہے۔ اُن کے ہاں شراب بھی جائز ہے، عورتوں کا غیر مردوں کے ساتھ ناچنا ، کودنا اورتنہا رہنا بھی جائز ہے۔ہمارے اور اُن کے درمیان یہی سب سے بڑا فرق ہے کہ ہم عصمتوںکے پاسبان ہیں اوروہ عصمتوں کے بیوپاری۔ یہی وہ فرق ہے جو ہمارے مسلمان بھائی مٹادیتے ہیں۔ تقی الدین ! تمہارا ایک محاذ زمین کے اوپر ہے ، دوسرا زمین کے نیچے۔ ایک محاذ دشمن کے خلاف ہے اور دوسرا اپنوں کے خلاف۔ اگر اپنوں میں غدار نہ ہوتے تو ہم اس وقت یہاں نہیں یورپ کے قلب میں بیٹھے ہوئے ہوتے اور صلیبی ہمارے خلاف اپنی حسین بیٹیوں کی جائے کوئی بہتر ہتھیار استعمال کرتے اور اچھی قسم کی جنگی چالیں چلتے۔ ایمان کی حرارت تیز ہوتی تو اس وقت تک صلیب ایندھن کی طرح جل چکی ہوتی”۔

”مجھے آپ کی بہت سی دشواریوں کا یہاں آکر علم ہوا ہے”…… تقی الدین نے کہا …… ”محترم نورالدین زنگی بھی پوری طرح آگاہ نہیں کہ مصرمیں آپ غداروں کی ایک فوجکے گھیرے میں آئے ہوئے ہیں ۔ آپ اُن سے کمک مانگ لیتے۔ انہیں مدد کے لیے کہتے”۔

”تقی بھائی!”…… سلطان ایوبی نے جواب دیا…… ”مدد صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔ مدد اپنوں سے مانگی جائے یا غیروں سے ، اپنا ایمان کمزور کر دیتی ہے۔ صلیبیوں کی فوج زرہ بکتر میں ہے۔ میرے سپاہی معمولی سی کپڑوں میں ملبوس ہیں، پھر بھی انہوں نے صلیب کو شکست دی ہے۔ ایمان لوہے کی طرح مضبوط ہو تو زرہ بکتر کی ضرورت نہیں رہتی۔ زرہ بکتر اور خندقیں تحفظ کا احساس پیدا کرتی ہیں اور سپاہی کو اپنے اندرقید کر لیتی ہیں ۔ یاد رکھو، میدان میں خندق سے باہر رہو، گھوم پھر کر لڑو، دشمن کے پیچھے نہ جائو۔ اسے اپنے پیچھے لائو۔ مرکز کو قائم رکھو، پہلوئوں کو پھیلادو اور دشمن کو دونوں بازوئوں میں جکڑ لو۔ محفوظ وہاں رکھوجہاںسے وہ دشمن کے عقب میں جا سکے۔ چھاپہ ماروں کے بغیر کبھی جنگ نہ لڑنا۔ چھاپہ ماروں سے دشمن کی رسد تباہ کرائو۔ وہ رسد جو پیچھے سے آئے اور وہ بھی جو دشمن اپنے ساتھ رکھے۔ چھاپہ ماروں کو دشمن کے

جانوروں کو مارنے یا ہراساں کرنے کے لیے استعمال کرو۔ آمنے سامنے کی ٹکڑ سے بچو۔ جنگ کو طول دو۔ دشمن کو پریشان کیے رکھو…… میں جو فوج چھوڑ چلاہوں، یہ محاذ سے آئی ہے۔ اس میں جان پر کھیل جانے والے چھاپہ مار دستے بھی ہیں۔ اسے صرف اشارے کی ضرورت ہے۔ میں نے اس فوج میں ایمان کی حرارت پیدا کر رکھی ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اپنے آپ کو بادشاہ سمجھ کر اس فوج کا ایمان سرد کردو۔ ہم پر جو حملہ ہو رہاہے ، وہ ہمارے ایمان پر ہورہا ہے۔ صلیبی تمدن کے اثرات بڑی تیزی سے مصر میں آرہے ہیں”۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے اپنے بھائی تقی الدین کو پوری تفصیل سے بتایا کہ سوڈان میں مصر پر حملے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ سوڈانیوں میں اکثریت وہاں کے حبشیوںکی ہے، جو مسلمان ہیں ، نہ عیسائی۔ ان میں مسلمان بھی ہیں، جن میں مصر کی اُس فوج کے بھگوڑے بھی ہیں ، جسے بغاوت کے جرم میں توڑ دیا گیا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا …… ”لیکن گھر بیٹھے دشمن کا انتظار نہ کرتے رہنا۔ جاسوس تمہیں خبر دیتے رہیں گے۔ حسن بن عبد اللہ تمہارے ساتھ ہے، جہاں محسوس کرو کہ دشمن کی تیاری مکمل ہو چکی ہے اور وہ اب حملے کے لیے اجتماع کر رہا ہے، تم وقت ضائع کیے بغیر حملہ کردو اور دشمن کوتیاری کی حالت میں ہی ختم کردو، لیکن پیچھے کے انتظامات مضبوط رکھنا۔ قوم کو محاذ کے حالات سے بے خبر نہ رکھنا۔ اگر خدانخواستہ شکست ہوجائے تو اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو تسلیم کرلینا اور قوم کو بتادینا کہ شکست کے اسباب کیا تھے۔ جنگ قوم کے خون اور پیسے سے لڑی جاتی ہے۔ بیٹے قوم کے شہید اور اپاہج ہوتے ہیں ۔ لہٰذا قوم کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ جنگ کو بادشاہوں کا کھیل نہ سمجھنا۔ یہ ایک قومی مسئلہ ہے۔ اس میں قوم کو اپنے ساتھ رکھنا …… میںنے جس فاطمی خلافت کو معزول کیاتھا، اس کے حواری ہمارے خلاف سرگرم ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے درپردہ خلیفہ مقرر کر رکھا ہے۔ ان کا خلیفہ العاضد تو مر گیا ہے ، لیکن وہ خلافت کو اس اُمید پر زندہ رکھے ہوئے ہیں کہ سوڈانی مصر پر حملہ کریں گے۔ ہماری فوج بغاوت کرے گی اور صلیبی چپکے سے اندر آکر فاطمی خلافت بحال کردیں گے۔ فاطمیوں کو حسن بن صباح کے قاتل گروہ کی حمایت حاصل ہے۔ میں علی بن سفیان کے اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔ اس کا نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس تمہارے ساتھ رہیں گے۔ یہ اس زمین دوز گروہ پر نظر رکھیں گے…… فوج کی بھرتی تیزکر دو اورانہیں جنگی مشقیں کراتے رہو ”۔

”تھوڑے ہی عرصے سے ہمیں اطلاعیں مل رہی ہیں کہ مصر کے جنوب مغربی علاقے سے فوج کے لیے بھرتی نہیں مل رہی ”……حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ”یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خلاف ہوتے جارہے ہیں ”۔

”معلوم کرایا ہے کہ باعث کیا ہے؟” …… علی بن سفیان نے پوچھا۔

”میرے دو مخبر اس علاقے میں قتل ہو چکے ہیں”…… حسن بن عبد اللہ نے کہا …… ”وہاں سے خبر لینا آسان نہیں ، تاہم میں نے نئے مخبر بھیج دئیے ہیں”۔

”میں اپنے ذرائع سے معلوم کر رہا ہوں”……غیاث بلبیس نے کہا …… ”مجھے شک ہے کہ اس وسیع علاقے کے لوگ نئے وہم میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ یہ علاقہ دشوار گزار ہے۔ لوگ سخت جان ہیں ، لیکن عقیدوں کے ڈھیلے اور توہمات پرست ہیں”۔

”توہم پرستی بہت بڑی لعنت ہے”…… سلطان ایوبی نے کہا …… ”اُس علاقے پر نظر رکھو اور وہاں کے لوگوں کو توہمات سے بچائو”۔

٭ ٭ ٭
تین چار روز بعد کرک کے قلعے میں بھی ایک اجلاس منعقد ہوا۔ وہ صلیبی حکمرانوں میں اور فوج کے اعلی کمانڈروں کا اجلاس تھا۔ انہیں یہ تو معلوم تھا کہ صلاح الدین ایوبی فلسطین کاایک قلعہ )شوبک( لے چکا ہے اور اب کرک پر حملہ کرے گا۔ انہیں اس احساس نے پریشان کررکھا تھا کہ اگر مسلمانوں نے کرک کو بھی شوبک کی طرح فتح کرلیا تو یروشلم کو بچانا مشکل ہوجائے گا۔ صلیبی جان گئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی سنبھل سنبھل کر آگے بڑھ رہا ہے۔ وہ ایک جگہ لیتا ہے فوج کی کمی نئی بھرتی سے پوری کرتا ہے اسے پوری فوج کے ساتھ ٹریننگ دیتا ہے اور جب اسے یقین ہوجاتا ہے کہ وہ اگلی ٹکر لینے کے قابل ہوگیا ہے تو آگے بڑھتا ہے۔ چنانچہ وہ کرک کے دفاع کو مضبوط کررہے تھے اور باہر آکر لڑنے کی بھی سکیم بنا چکے تھا مگر اس اجلاس میں انہیں اپنی سکیم میں ردوبدل کی ضرورت محسوس ہورہی تھی کیونکہ ان کے انٹیلی جنس کے سربراہ ہرمن نے انہیں سلطان ایوبی اس کی فوج اور مصر کے تازہ حالات کے متعلق انقلابی خبریں دی تھیں۔

صلیبی جاسوسوں نے بہت ہی تھوڑے وقت میں کرک میں ایہ اطلاع پہنچا دی تھی کہ سلطان صلاح الدین ایوبی اس فوج کو قاہرہ لے گیا ہے جو اس محاذ پر لڑی اور شوبک کا قلعہ لیا تھا اور قاہرہ میں جو فوج ہے اسے عجلت میں محاذ پر بھیج دیا گیا ہے اور نورالدین زنگی نے اپنی بہترین فوج کی کمک اس محاذ پر بھیج دی ہے اور سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین دمشق سے قاہرہ پہنچ گیا ہے جہاں وہ سلطان ایوبی کا قائم مقام ہوگا اور سلطان ایوبی قاہرہ چلا گیا ہے۔ جہاں وہ سازشیوں کو سزائے موت دے کر محاذ کی طرف روانہ ہوگیا ہے۔ صلیبیوں کے لیے یہ خبر اچھی نہ تھی کہ قاہرہ کا نائب ناظم مصلح الدین بھی پکڑا گیا اور غداری کے جرم میں مارا گیا ہے۔ مصلح الدین صلیبیوں کا کارآمد اور اہم ایجنٹ تھا۔ صلیبی نظام جاسوسی کا سربراہ ہرمن اجلاس کو ان تبدیلیوں سے آگاہ کررہا تھا۔ اس نے کہا… ”مصلح الدین کے مارے جانے سے ہمیں نقصان تو ہوا ہے لیکن تقی الدین کا تقرر ہمارے لیے امید افزا ہے۔ وہ بے شک صلاح الدین ایوبی کا بھائی ہے لیکن وہ سلطان ایوبی نہیں ہے، میرے تخریب کار جاسوس اسے چکر دینے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ یہ بھی امید افزا ہے کہ صلاح الدین ایوبی اور ع لی بن سفیان قاہرہ سے غیر حاضر ہیں”۔

”میں حیران ہوں کہ تمہارے حشیشین کیا کررہا ہے؟”… ریمانڈ نے پوچھا… ”کیا وہ دوہرا کھیل تو نہیں کھیل رہے؟ کمبخت ابھی تک صلاح الدین ایوبی کو قتل نہیں کرسکے۔ ہم بہت رقم ضائع کرچکے ہیں”۔

”رقم ضائع نہیں ہورہی’… ہرمن نے کہا… ”مجھے امید ہے کہ صلاح الدین ایوبی محاذ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اس کے ساتھ چوبیس باڈی گارڈ قاہرہ گئے ہیں۔ ان میں چار حشیشین ہیں ان کے لیے موقع آگیا ہے۔ میں نے انتظام کردیا ہے۔ وہ صلاح الدین کو راستے میں قتل کردیں گے”۔

”ہمیں خوش فہمیوں میں مبتلا نہیں رہتا چاہیے”… فلپ آگسٹس نے کہا… ”یہ فرض کرکے سوچو کہ صلاح الدین ایوبی قتل نہیں ہوسکا اور وہ زندہ سلامت محاذ پر موجود ہے۔ اس کے پاس اب تازہ دم فوج ہے۔ اس نے نئی بھرتی کو ٹریننگ دے لی ہے اور اسے نورالدین زنگی کی کمک مل گئی ہے۔ اس نے شوبک جیسا مضبوط اڈہ بھی حاصل کرلیا ہے۔ لہٰذا اب اس کی رسد قاہرہ سے نہیں آئے گی۔ شوبک میں اس نے بے شمار رسد جمع کرلی ہے۔ اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں اسے موقع نہیں دینا چاہتاکہ وہ کرک کا محاصرہ کرلے اور ہم محاصرے میں لڑیں”۔

”اب ہم محاصرے تک نوبت نہیں آنے دیں گے”… ایک اور صلیبی حکمران نے کہا… ”ہم باہر لڑیں گے اور اس انداز سے لڑیں گے کہ شوبک کا محاصرہ کرلیں”۔

”صلاح الدین ایوبی لومڑی ہے” … فلپ آگسٹس نے کہا… ”اسے صحرا میں شکست دینا آسان نہیں۔ وہ ہمیں شوبک کے محاصرے کی اجازت دے دے گا مگر ہمارا محاصرہ کرلے گا۔ میں اس کی چالیں سمجھ چکا ہوں اگر تم اسے آمنے سامنے لاکر لڑا سکتے ہوتو تمہیں فتح کی ضمانت میں دے سکتا ہوں مگر تم اسے سامنے نہیں لاسکو گے”۔۔

بہت دیر کے بحث ومباحثے کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ نصف فوج کو قعلے سے باہر بھیج دیا جائے اور سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کے قریب خیمہ زن کردیان جائے اور اس کی فوج کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جائے۔ اس سکیم میں باہر لڑنے والی فوج کی تعداد کے متعلق فیصلہ کیا گیا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج سے تین گنا نہ ہوتو دگنی ضرور ہو۔ عقب سے حملے کے لیے الگ فوج مقرر کی گئی اور پلان میں یہ بھی شامل کیا گیا کہ مسلمان فوج کی کمک اور رسد شوبک سے آگے گی۔ لہٰذا شوبک اور مسلمان کے درمیانی فاصلے کو چھاپہ مار وں کی زد میں رکھنے کا انتظام کیا جائے۔ فوجی کمانڈروں نے کہا کہ سامنے اتنی زیادہ قوت سے حملہ کیا جائے کہ صلاح الدین ایوبی جم کر لڑنے پر مجبو رہوجائے۔ صلیبیوں کو دراصل اپنی بکتر فوج پر بھروسہ تھا۔ ان کی بیشتر فوج زرہ پوش تھی، سروں پر آہنی خود تھے، پیشیانیوں سے ناک اور منہ تک چہرے آہنی خودوں کے مضبوط نقابوں میں ڈھکے ہوئے تھے۔ انہوں نے اونٹوں کو بھی زرہ پوش کرلیا تھا، اونٹوں کے سروں پر آہنی غلاف چڑھا دئیے گئے تھے اور پہلوئوں کے ساتھ لوہے کی پتریاں لٹکتی تھیں جو تیروں کو روک لیتی تھیں۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ بہتر قسم کے گھوڑے حاصل کرسکیں۔ یورپی ممالک سے لائے ہوئے گھوڑے صحرا میں جلدی تھک جاتے اور پیاس سے بے حال ہوجاتے تھے۔ صلیبیوں نے عربی علاقوں سے گھوڑے خریدے تھے مگر ان کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے مسلمانوں کے قافلوں سے گھوڑے چھیننے شروع کردیئے تھے۔ گھوڑے چرائے بھی تھے، سلطان ایوبی کے گھوڑے بہتر تھے۔ عربی نسل کے یہ صحرائی گھوڑے پیاس سے بے نیاز میلوں بھاگ سکتے تھے۔

ان جنگی تیاریوں اور اہتمام کے علاوہ صلیبیوں نے نظریاتی جنگ کا محاذ جو کھولا تھا، اس کے متعلق ان کے انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر، ہرمن نے رپورٹ پیش کی کہ صلاح الدین ایوبی کو مصر کے جنوب کے سرحدی علاقے سے بھرتی نہیں ملے گی۔ یہ وہی علاقہ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی کی انٹیلی جنس کے نائب سربراہ حسن بن عبداللہ نے رپور ٹ دی تھی کہ وہاں کے لوگ اب فوج میں بھرتی نہیں ہوتے بلکہ بعض لوگ فوج کے خلاف بھی ہوگئے ہیں۔ یہ جفاکش اور جنگجو قبائل کا علاقہ تھا جس نے سلطان ایوبی کو نہایت اچھے سپاہی دیئے تھے مگر اب ہرمن کی رپورٹ سے ظاہر ہوتا تھا کہ صلیبی تخریب کار اس علاقے میں پہنچ گئے ہیں، وہاں نوبت یہاں تک پہنچی ہوئی تھی کہ حسن بن عبداللہ نے یہ معلوم کرنے کے لیے اس علاقے کے لوگ فوج کے خلاف کیوں ہوگئے ہیں، دو مخبر بھیجے تھے، دونوں قتل ہوگئے تھے۔ ان کی لاشیں نہیں ملی تھیں۔ پراسرار سی ایک اطلاع ملی تھی کہ ہمیشہ کے لیے غائب کردیئے گئے ہیں۔ وہ علاقہ جو بہت وسیع وعریض تھا، جاسوسوں اور مخبروں کے لیے بہت ہی مضبوط قلعہ بن گیا تھا، وہاں سے کوئی معلومات حاصل ہوتی ہی نہیں تھی، اتنا ہی پتہ چلا تھا کہ وہاں کے لوگ ہیں تو مسلمان لیکن تو ہم پرست اور عقیدے کے بہت ڈھیلے ہیں۔

ہرمن نے تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ اس کا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ وہ اب مصر کے تمام سرحدی علاقے میں اس طریق کار کو پھیلائے گا۔ پھر ان اثرات کو مصر کے اندر لے جانے کی کوشش کرے گا۔ اس نے امید ظاہر کی کہ وہ مصر کے قصبوں اور شہروں کو بھی اپنے اثر میں لے لے گا۔ اس نے کہا … ”میں مسلمانوں کی ایک ایسی خامی کو ان کے خلاف استعمال کررہا ہوں، جسے وہ اپنی خوبی سمجھتے ہیں۔ مسلمان درویشوں، فقیروں، وظیفے اور چلے کرنے والوں عاملوں اور

مولویوں اور کٹیا میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرتے رہنے والے مجذوب قسم کے لوگوں کے فوراً مرید بن جاتے ہیں۔ درویشوں وغیرہ کا یہ گروہ اسلامی فوج کے ان سااروں کے خلاف ہے جنہوں نے ہمارے خلاف جنگیں لڑ کر شہرت حاصل کی ہے۔ یہ درویش اپنے متعلق لوگوں کو یقین دلاتے ہیں کہ خدا ان کے ہاتھ میں ہے اور وہ خدا کے خاص بندوں میں سے ہیں۔ وہ صرف نام پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ ان میں میدان جنگ میں جانے کی ہمت اور جرأت نہیں، لہٰذا وہ گھر بیٹھے وہی شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں جو سالاروں نے جہاد میں حاصل کی ہے۔ اگر دیانت داری اور غیر جانب داری سے دیکھا جائے تو مسلمانوں کے یہ فوجی لیڈر جن میں صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زنگی بھی شامل ہیں۔ قابل تحسین انسان ہیں۔ ان میں سے جنہوں نے یورپ تک اسلام پھیلا دیا اور سپین کو اپنی سلطنت میں شامل کرلیا تھا، بجا طور پر حق رکھتے ہیں کہ قوم اپنی عبادت میں بھی ان کا نام لے مگر ان کے خلیفوں نے اپنا نام عبادت میں شامل کرکے فوجی لیڈروں کی اہمیت گھٹا دی… اس کے ساتھ مسلمانوں میں نام نہاد عالموں اور اماموں کا ایک گروہ پیدا ہوا جو عمل سے گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہیں وہ عالم اور امام ہیں۔ یہ گروہ خلیفوں کی آڑ میں جہاد کے معنی مسخ کررہا ہے تاکہ لوگ جہاد میں جانے کے بجائے ان کے گرد جمع ہوں اور انہیں خدا کے برگزیدہ انسان مانیں۔ ان کے پاس پراسرار سی باتیں اور باتیں کرنے کا ایسا طلسماتی انداز ہے کہ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ ان برگزیدہ انسانوں کے سینے میں وہ راز چھپا ہوا ہے جو خدا نے ہر بندے کو نہیں بتایا۔ چنانچہ سیدھے سادھے مسلمان ان کے جال میں پھنستے جارہے ہیں۔ میں مسلمانوں کو اسلام کی ہی باتیں سنا سنا کر اسلام کی بنیادی روح سے دور لے جارہا ہوں۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہودیوں نے نظریاتی تخریب کاری کرکے اسلام کو کافی حد تک کمزور کردیا ہے۔ میں انہی کے اصولوں پر کام کررہا ہوں۔”

یہی وہ محاذ تھا جس کے متعلق سلطان صلاح الدین ایوبی پریشان رہتا تھا۔ پریشانی کا اصل باعث یہ تھا کہ اس محاذ پر اپنی ہی قوم کے افراد اس کے خلاف لڑ رہے تھے اور یہ محاذ اسے نظر نہیں آتا تھا۔

٭ ٭ ٭

تقی الدین اور اپنے ان حکام کو جنہیں قاہرہ میں رہنا تھا، ہدایات دے کر سلطان صلاح الدین ایوبی محاذ کی طرف روانہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ چوبیس ذاتی محافظوں کا دستہ تھا۔ صلیبیوں کو باڈی گارڈز کی نفری کا علم تھا اور انہیں یہ بھی علم تھا کہ اس دستے میں چار حششین ہیں جو نہایت کامیاب اداکاری سے اور بہادری کے کارناموں سے محافظ دستے کے لیے منتخب ہوگئے تھے۔ ان کا مقصد صلاح الدین ایوبی کا قتل تھا لیکن انہیں موقع نہیں مل رہا تھا کیونکہ محافظ دستے کی نفری چوبیس سے کہیں زیادہ رہتی اور ان کی ڈیوٹی بدلتی رہتی تھی، کبھی بھی ایسا نہ ہوا کہ ان چاروں کی ڈیوٹی اکٹھی لگی ہو۔ محافظوں کے کمانڈر بہت ہوشیار اور چوکس رہتے تھے۔ انہیں یہ تو علم تھا کہ ان کے درمیان قاتل بھی موجود ہیں، وہ بیدار رہتے تھے کہ کوئی محافظ کوتاہی نہ کرے۔ اب سلطان ایوبی سفر میں تھا۔ اس نے خود ہی کہا تھا کہ وہ محافظوں کی پوری فوج کو ساتھ نہیں رکھے گا، چوبیس کافی ہیں، حالانکہ راستے میں صلیبی چھاپہ ماروں کا خطرہ تھا۔

سلطان ایوبی قاہرہ سے دن کے پچھلے پہر روانہ ہوا تھا۔ آدھی رات سفر میں اور باقی آرام میں گزری۔ سحر کی تاریکی میں اس نے کوچ کا حکم دیا۔ دوپہر کا سورج گھوڑوں کو پریشان کرنے لگا تو ایک ایسی جگہ یہ قافلہ رک گیا جہاں پانی بھی تھا، درخت بھی اور ٹیلوں کا سایہ بھی تھا۔ ذرا سی دیر میں سلطان ایوبی کے لیے خیمہ نصب کردیا گیا۔ اس کے اندر سفر ی چارپائی اور بستر بچھا دیا گیا۔ کھانے پینے سے فارغ ہوکر سلطان ایوبی اونگھنے کے لیے لیٹ گیا۔ دو محافظ خیمے کے آگے اور

پیچھے کھڑے ہوگئے۔ دستے کے باقی محافظ قریب ہی سایہ دیکھ کر بیٹھ گئے۔ کچھ گھوڑوں کو پانی پلانے کے لیے لے گئے۔ علی بن سفیان اور دیگر حکام جو سلطان صلاح الدین ایوبی کے ساتھ تھے، ایک درخت کے نیچے جاکر لیٹ گئے۔ انہوں نے خیمے نصب نہیں کرائے تھے۔ اس جگہ کے خدوخال ایسے تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کا خیمہ ان کی نظروں سے اوجھل تھا۔ صحرا کا سورج زمین وآسمان کو جلا رہا تھا جس کسی کو جہاں چھائوں ملی وہاں بیٹھ یا لیٹ گیا۔

یہ پہلا موقعہ تھا کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے خیمے پر جن دو محافظوں کی ڈیوٹی لگی، وہ دونوں حشیشین تھے، جو ایک عرصہ سے ایسے ہی موقع کی تلاش میں تھے۔ اس موقع کو پوری طرح موزوں بنانے کے لیے یہ صورت پیدا ہوگئی کہ محافظوں کی زیادہ تر نفری گھوڑوں کو پانی پلانے چلی گئی تھی۔ پانی ایک ٹیلے کے دوسری طرف تھا۔ قافلے کا سامان اٹھانے والے اونٹوں کے شتربان بھی اونٹوں کو پانی کے لیے لے گئے تھے جو محافظ ڈیوٹی والوں کے علاوہ پیچھے رہ گئے تھے۔ ان میں دو اور حشیشین تھے۔ انہوں نے اشاروں اشاروں میں طے کرلیا۔ صلاح الدین ایوبی کے خیمے کے سامنے کھڑے محافظ نے خیمے کا پردہ ذ را سا ہٹا کر اندر دیکھا اور باہر والوں کو اشارہ کیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی اس حالت میں گہری نیند سویا ہوا تھا کہ اس کے پیٹھ خیمے کے دروازے کی طرف تھی۔ محافظ دبے پائوں اندر چلا گیا۔ اس نے خنجر نہیں نکالا، تلوار نہیں نکالی، بلکہ اس کے ہاتھ میں جو برچھی تھی وہ بھی اس نے خیمے کے باہر رکھ دی تھی۔ ہر محافظ کی طرح وہ قوی ہیکل جوان تھا۔ دیکھنے میں وہ سلطان ایوبی کی نسبت دگنا نہیں تو ڈیڑھ گنا طاقتور ضرور تھا۔

وہ دبے پائوں سلطان ایوبی تک گیا اور بجلی کی تیزی سے سلطان کی گردن دونوں ہاتھوں میں جکڑ لی۔ سلطان ایوبی جاگ اٹھا۔ اس نے کروٹ بھی بدل لی لیکن جس شکنجے میں اس کی گردن آگئی تھی اس سے گردن چھڑانا ممکن نہیں تھا۔ اسلام کے اس جری جرنیل کی زندگی صرف دو منٹ رہ گئی تھی۔ وہ اب پیٹھ کے بل پڑا تھا۔ حملہ آور نے اس کے پیٹ پر گھٹنہ رکھ کر ایک ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا دیا، دوسرے ہاتھ سے سلطان صلاح الدین ایوبی کی شہ رگ کو دبائے رکھا۔ اس نے اپنے کمر بند سے ایک پڑیا سی نکالی۔ اسے ایک ہی ہاتھ سے کھولا اور صلاح الدین ایوبی کے منہ میں ڈالنے لگا۔ وہ سلطان کو زہر دے کر مارنا چاہتا تھا کیونکہ گلا دبا کر مارنے سے صاف پتا چل جاتا ہے کہ گلا دبایا گیا ہے۔ سلطان ایوبی بے بس تھا۔ پیٹ پر اتنے قوی ہیکل جوان کا گھٹنہ اور بوجھ تھا۔ شہ رگ دشمن کے شکنجے میں تھی اور سانس رک گیا تھا۔ اس کا منہ کھلا ہوا تھا جو اس نے پڑیا دیکھ کر بند کرلیا۔ اس نے ہوش ٹھکانے رکھے، موت سر پر آگئی تھی۔ سلطان ایوبی نے اپنے کمر بند سے تلوار نما خنجر نکال لیا جو وہ زیور کی طرح اپنے ساتھ رکھتا تھا۔ حملہ آور اس کے منہ میں زہر ڈالنے کی کوشش میں مگن تھا، دیکھ نہ سکا کہ سلطان نے خنجر نکال لیا ہے۔ سلطان ایوبی نے خنجر اس کے پہلو میں اتار دیا۔ کھینچا اور ایک بار پھر خنجر حملہ آور کے پہلو میں اتر گیا۔ حملہ آور سانڈ جیسا آدمی تھا۔ اتنی جلدی مر نہیں سکتا تھا۔ سلطان ایوبی سپاہی تھا، وہ خنجر کے وار اور ہدف سے آگاہ تھا۔ اس نے خنجر حملہ آور کے پہلو سے نکالا نہیں، وہیں خنجر کو گھمایا اور نیچے کو جھٹکا دیا۔ حملہ آور کی انتڑیاں اور پیٹ کا اندروں حصہ باہر آگیا۔

Read More:  Ain ishq jinhan nu lag janda Novel by Suhaira Awais – Episode 1

حملہ آور کے ہاتھ سے سلطان صلاح الدین ایوبی کی گردن چھوٹ گئی۔ دوسرے ہاتھ سے زہر کی پڑیا گر پڑی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جسم کو جھٹکا دیا، حملہ آور کو دھکا دیا اور حملہ آور چار پائی سے نیچے جاپڑا۔ وہ اب اٹھنے کے قابل نہیں تھا۔ یہ معرکہ بمشکل آدھے منٹ میں ختم ہوگیا مگر خیمے سے باہر دوسرا محافظ کھڑا تھا۔ اسے نے اندر دھمک سی سنی تو پردہ اٹھا کر جھانکا وہاں کچھ اور ہی نقشہ دیکھا۔ وہ تلوار سونت کر آیا اور سلطان صلاح الدین ایوبی پروار کیا مگر سلطان خیمے کے درمیانی بانس کے پیچھے ہوگیا۔ تلوار بانس پر لگی، صلاح الدین ایوبی تو جیسے پیدائشی تیغ زن تھا۔ ادھر تلوار بانس میں لگی ادھر

سلطان صلاح الدین ایوبی نے جھپٹا مارنے کے انداز سے حملہ آور پر خنجر کا وار کیا۔ حملہ آور بھی لڑاکا تھا۔ اسی لیے تو وہ محافظ دستے کے لیے چنا گیا تھا۔ وہ وار بچا گیا۔ اس کے ساتھ ہی سلطان صلاح الدین ایوبی نے محافظ دستے کے کمانڈر کو آواز دی۔ حملہ آور نے دوسرا وار کیا تو سلطان صلاح الدین ایوبی آگے سے ہٹ گیا مگر ایسا ہٹا کہ حملہ آور کے پہلو میں چلا گیا۔ اب کے حملہ آور سلطان کے خنجر کا وار نہ بچا سکا۔ سلطان ایوبی کی پکار پر دو محافظ خیمے میں آئے۔ دونوں نے سلطان ایوبی پر حملہ کردیا۔ اتنے میں سلطان ایوبی دوسرے محافظ کو بھی زخمی کرچکا تھا مگر وہ ابھی تک لڑ رہا تھا۔ اس کے دو اور ساتھی آگئے تھے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے حوصلہ قائم اور دماغ حاضر رکھا۔ اللہ نے مدد کی کہ دستے کا کمانڈر اندر آگیا۔ اس نے دوسرے محافظوں کو آوازیں دیں اور سلطان صلاح الدین ایوبی کے کہنے پر وہ حملہ آور سے الچھ گیا۔ اتنے میں چار پانچ محافظ آگئے۔ ادھر سے علی بن سفیان اور دوسرے حکام بھی شور سن کر آگئے۔ خیمے میں دیکھا تو ان کے رنگ اڑ گئے چار محافظ لہولہان ہوکے پڑے تھے، دو مرچکے تھے۔ تیسرا مر رہا، وہ ہوش میں نہیں تھا۔ اس کا پیٹ اوپر سے نیچے تک پھٹا ہوا اور سینے پر دو گہرے زخم تھے۔ چوتھے کے پیٹ میں ایک زخم تھا اور دوسرا زخم ران پر۔ وہ زمین پر بیٹھا ہاتھ جوڑ کر چلا رہا تھا… میں زندہ رہنا چاہتا ہوں، مجھے میری بہن کے لیے زندہ رہنے دو” …سلطان ایوبی نے اپنے محافظوں کو روک دیا۔ محافظ اتنے بھڑکے ہوئے تھے کہ انہوں نے تیسرے محافظ کو بے ہوشی میں سانس لیتے دیکھا تو اس کی شہ رگ کاٹ دی۔ چوتھے کو سلطان ایوبی نے بچا لیا۔ یہ رحم کا جذبہ بھی تھا اور یہ ضرورت بھی کہ اس سے بیان لینے تھے اور اس سازش کی کڑیاں بھی ملانی تھیں۔

صلاح الدین ایوبی کا طبیب بھی اس کے قافلے کے ساتھ تھا۔ وہ جراح بھی تھا، ہر جگہ اس کے ساتھ رہا کرتا تھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے کہا کہ اس زخمی کو ہر قیمت پر زندہ رکھنے کی کوشش کرے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کو خراش تک نہیں آئی تھی، وہ ہانپ رہا تھا لیکن جذباتی طور پر بالکل مطمئن تھا۔ غصے کا شائبہ تک نہ تھا۔ اس نے مسکرا کرکہا… ”میں حیران نہیں ہوا ایسا ہونا ہی تھا”… علی بن سفیان کی جذباتی حالت بگڑی ہوئی تھی۔ یہ اس کی ذمہ داری تھی کہ محافظ دستے کے لیے جسے منتخب کیا جائے، اس کے متعلق چھان بین کرے کہ وہ قابل اعتماد ہے۔ اب یہ دیکھنا تھا کہ دستے کے باقی سپاہیوں میں کوئی ان کا ساتھی رہ گیا ہے یا باقی دیانت دار ہیں… سلطان صلاح الدین ایوبی کے بستر پر وہ پڑیا پڑی ہوئی تھی جو حملہ آور اس کے منہ میں ڈالنا چاہتا تھا۔ ایک سفید سا سفوف تھا جس میں سے کچھ بستر پر بکھر گیا تھا۔ طبیب نے یہ سفوف دیکھا اور جب سنا کہ یہ سلطان صلاح الدین ایوبی کے منہ میں ڈ الا جارہا تھا تو طبیب کا رنگ اڑ گیا۔ اس نے بتایا کہ یہ ایسا زہر ہے کہ جس کا صرف ایک ذرہ بھی حلق سے نیچے اتر جائے تو تھوڑی سی دیر میں انسان نہایت اطمینان سے مرجاتا ہے۔ وہ تلخی محسوس نہیں کرتا اور نہ وہ اپنے اندر کوئی اور تبدیلی محسوس کرتا ہے۔ طبیب نے سلطان صلاح الدین ایوبی کا بستر اٹھوا کر باہر بھجوایا اور صاف کرادیا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے زخمی کو اٹھوا کر اپنے بستر پر لٹا دیا۔ اس کے پیٹ میں تلوار لگی تھی اور دوسرا زخم ران پر تھا۔ پیٹ کا زخم مہلک نظر نہیں آتا تھا، ترچھا تھا۔ ران کا زخم لمبا تھا اور گہرا بھی، وہ ہاتھ جوڑ کر سلطان صلاح الدین ایوبی سے زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا۔ سلطان کے خلاف اس کے دل میں کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ کوئی نظریاتی عداوت بھی نہیں تھی۔ وہ کرائے کا قاتل تھا۔ اپنی شکست کے ساتھ اسے اپنی ایک غیرشادی شدہ بہن کا غم کھائے جارہا تھا۔ وہ بار بار اس کا نام لیتا اور کہتا تھا کہ میں مسلمان ہوں، میرا گناہ بخش دو، ایک مسلمان بہن کی خاطر مجھے بخش دو۔

”زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے”… سلطان ایوبی نے ایسے لہجے میں کہا کہ جس میں تحمل تھا مگر رعب اور جلال بھی تھا۔ سلطان نے کہا… ”تم نے دیکھ لیا ہے کہ کون مارتا اور کون زندہ رکھتا ہے لیکن میرے دوست اس وقت تمہاری جان جس کے ہاتھ میں ہے تم اسے دیکھ رہے ہو۔ اپنا گناہ دیکھو، اپنی بے بسی دیکھو میں تمہیں تمہارے ساتھیوں کی لاش کے ساتھ زندہ باہر صحرا میں پھینک دوں گا۔ صحرا کی لومڑیاں اور بھیڑئیے تمہیں اس حال میں نوچ نوچ کر کھائیں گے کہ تم زندہ رہو گے، ہوش میں ہوگے مگر بھاگ نہیں سکو گے۔ بوٹی بوٹی ہوکر مرو گے اور اپنے گناہ کی سڑا پائو گے”۔

زخمی تڑپ اٹھا، اس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور دھاڑیں مارمار کر رونے لگا… سلطان ایوبی نے پوچھا… ” تم کون ہو؟کہاں سے آئے ہو؟ میرے ساتھ تمہاری کیا دشمنی ہے؟”۔

”میں فاطمیوں کا آدمی ہوں”… اس نے جوا ب دیا… ”ہم چاروں حشیشین تھے، کوئی دو سال اور کوئی تین سال پہلے آپ کی فوج میں بھرتی ہوا تھا، ہمیں سکھایا گیا تھا کہ آپ کے محافظ دستے میں کس طرح پہنچا جاسکتا ہے”۔ اس نے بولنا شروع کردیا اور راز کی باتیں بتانے لگا، اس نے بتایا کہ محافظ دستے میں یہی چار قاتل تھے۔ اس کے بیان کے دوران سلطان صلاح الدین ایوبی نے طبیب سے کہا کہ وہ اس کی مرہم پٹی کرتا رہے۔ طبیب نے اسے ایک دوا پلا دی اور خون روکنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس نے زخمی کو تسلی دی کہ وہ ٹھیک ہوجائے گا۔ زخمی انکشاف کرتا گیا۔ اس نے معزول فاطمی خلافت اور حشیشین کے معاہدے کو بے نقاب کیا۔ فاطمیوں نے صلیبیوں سے جو مدد لی تھی اور لے رہے تھے، اس کی تفصیل بتائی… خاصا وقت صرف کرکے طبیب نے اس کی مرہم پٹی مکمل کردی۔ اصل مرہم تو سلطان ایوبی کی شفقت تھی جس میں انتقام کا ذرا سا بھی شک نہیں ہوتا تھا۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ لاشیں باہر پھینک دو اور اس زخمی کے متعلق اس نے علی بن سفیان سے کہا کہ وہ وہیں سے اسے قاہرہ لے جائے اور اس نے جو نشاندہیاں کی ہیں ان کے خلاف کارروائی کرے۔ زخمی نے نہایت کارآمد سراغ دیئے، جن میں کچھ ایسے خطرناک تھے جن کی نفتیش علی بن سفیان ہی اچھی طرح کرسکتا تھا۔ اسے اسی وقت اونٹ پر خاص طریقے سے لٹا کر علی بن سفیان واپسی کے سفر پر چل پڑا۔

صلاح الدین ایوبی پر متعدد بار قاتلانہ حملے ہوئے تھے، تاریخ میں ان تمام کا ذکر نہیں آیا۔مندرجہ بالا طرز کے دو حملوں کا ذکر ملتا ہے۔ ایک بار ایک فدائی قاتل نے سلطان صلاح الدین ایوبی پر اسی طرح سوتے میں خنجر کا وار کیا تھا۔ خنجر پگڑی میں لگا اور سلطان ایوبی جاگ اٹھا تھا۔ یہ قاتل سلطان ایوبی کے ہاتھوں میں مارا گیا اور اس کے محافظ دستے کے چند ایسے محافظ پکڑے گئے تھے جو کرائے کے قاتل تھے۔

٭ ٭ ٭
مصر کے جنوب مغربی علاقے میں جو سوڈان کی سرحد کے ساتھ ملتا تھا صدیوں پرانی کسی پیچ در پیچ عمارت کے کھنڈر تھے۔ اس زمانے میں مصر کی سرحد کچھ اور تھی۔ صلاح الدین ایوبی کہا کرتا تھا کہ مصر کی کوئی سرحد ہے ہی نہیں۔ تاہم سوڈانیوں نے ایک خیالی سی سرحد بنا رکھی تھی۔ کھنڈروں کے اردگرد کا علاقہ دشوار گزار تھا۔ غالباً فرعونو ں کے وقتوں میں یہ علاقہ سرسبز تھا اور وہاں پانی کی بہتات تھی۔ خشک جھیلیں اور دو ندیوں کے گہرے اور خشک پاٹ بھی تھے۔ ریتیلی چٹانیں بھی تھیں اور ریتیلی مٹی کے ٹیلے بھی۔ ان کی شکلیں کسی بہت بڑی عمارت کے کھنڈروں کی مانند تھیں، کہیں ٹیلہ ستون کی طرح دور اوپر تک چلا گیا تھا اور کہیں ٹیلے دیواروں کی طرح کھڑے تھے، جہاں جہاں جگہ ہموار تھی، وہاں ریت تھی۔ چٹانیں اونچی بھی تھیں، نیچی بھی۔ اس علاقے کے اردگرد کہیں کہیں پانی تھا، لہٰذا درخت تھے اور وہاں کے رہنے والے کھیتی باڑی کرتے تھے۔ کم وبیش چالیس میل لمبا اور دس بارہ میل چوڑا یہ علاقہ آباد تھا۔ یہ آبادی مسلمان تھی۔ ان میں کچھ لوگ مسلمان نہیں تھے۔ ان کے عجیب وغریب سے عقیدے تھے۔

فرعونوں کی عمارت کے کھنڈروں سے لوگ ڈرا کرتے تھے۔ ان کے اردگرد کا علاقہ بھی ایسا تھا کہ دیکھنے والے پر ہیبت طاری ہوجاتی تھی، وہاں سے کوئی گزرتا ہی نہیں تھا، لوگ کہتے تھے کہ وہاں فرعونوں کی بدروحیں رہتی ہیں جو دن کے دوران بھی جانوروں کی صورت میں گھومتی پھرتی رہتی ہیں اور کبھی اونٹوں پر سوار سپاہیوں کے بھیس میں اور کبھی خوبصورت عورتوں کے روپ میں نظرآتی ہیں اور رات کو وہاں سے ڈرائونی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ کوئی ایک سال سے یہ کھنڈر لوگوں کی دلچسپیوں کا مرکز بن گیا تھا۔ اس سے پہلے سلطان صلاح الدین ایوبی کی فوج کے لیے بھرتی کی مہم شروع ہوئی تھی تو بھرتی کرنے والے اس علاقے کے ارد گرد بھی گھومتے پھرتے رہے تھے۔ وہاں کے باشندوں نے انہیں خبردار کیا تھا کہ وہ ٹیلوں کے اندر نہ جائیں، انہیں پراسرار آوازوں، ڈرائونی چیزوں اور بدروحوں کی کہانیاں سنائی گئی تھیں۔ اس علاقے سے فوج کو بہت بھرتی ملی تھی، مگر اس کے بعد بھرتی کرنے والے گئے تو لوگوں کا رحجان بدلا ہوا تھا۔ سرحد پر گشت کرنے والے دستوں نے رپورٹ دی تھی کہ گشتی سنتری بھی اس علاقے کے اندر نہیں جایا کرتے تھے اور انہوں نے کبھی کسی انسان کو ادھر جاتے نہیں دیکھا تھا مگر اب وہ لوگوں کو اندر جاتا دیکھتے ہیں اور وہاں سے آنے والے ڈرے ہوئے نہیں ہوتے بلکہ مطمئن سے نظر آتے ہیں۔ اس کے بعد یہ اطلاع ملی کہ ہر جمعرات کے روز رات تک اندر میلہ سا لگتا ہے اور اس کے بعد اس قسم کا واقعہ ہوا کہ سرحدی دستوں کے چار پانچ سپاہی لاپتہ ہوگئے۔ ان کے متعلق یہ رپورٹ دی گئی تھی کہ بھگوڑے ہوگئے ہیں۔

سلطان صلاح الدین ایوبی نے جہاں دشمن کے ملکوں میں جاسوس بھیج رکھے تھے وہاں اس نے اپنے ملک میں بھی جاسوسوں کا جال بچھا رکھا تھا۔ غیر مسلم مورخوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو خاص طور پر خراج تحسین پیش کیا ہے کہ اس نے آج کے انٹیلی جنس نظام اور کمانڈر وطریقۂ جنگ کو خصوصی اہمیت دے کر ٹرینگ کے نئے طریقے دریافت کیے اور یہ ثابت کردیا تھا کہ صرف دس افراد سے ایک ہزار نفری کی فوج کا کام لیا جاسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے یورپی مورخوں نے سلطان صلاح الدین ایوبی کے اس فن کو تاریخ میں اتنی جگہ نہیں دی جتنی دینی چاہیے تھی لیکن اس دور کے وقائع نگاروں نے جو تحریریں قلمبند کی ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اسلام کا یہ عظیم پاسبان انٹیلی جنس، گوریلا اور کمانڈو آپریشن کا کس قدر ماہر تھا۔ اندرون ملک اس کی انٹیلی جنس گوشے گوشے پر نظر رکھتی اور فوج کی مرکزی کمان کو رپورٹیں دیتی رہتی تھی۔ یہ اسی نظام کی اعلیٰ کارکردگی کا ثبوت تھا کہ مصر کے دور دراز کے ایسے علاقے کی سرگرمیوں کی بھی اطلاع مرکز کو پہنچا دی گئی تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ اس چھوٹے سے خطے کو تو خدا نے بھی فراموش کررکھا ہے مگر مخبروں نے وہاں کے لوگوں کی صرف ذہنی تبدیلی دیکھی اور اس کی اطلاع دی تھی، انہیں ابھی یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر کیا ہوتا ہے۔ اس اطلاع کے بعد دو مخبر قتل یا لاپتہ ہوگئے تھے۔

وہاں کے لوگوں نے نہ صرف ٹیلوں کے ڈرائونے علاقے کے اندر جانا شروں کردیا، بلکہ وہ فرعونوں کی اس پیچ درپیچ عمارت کے کھنڈروں میں بھی جانے لگے تھے، جہاں جانے کے تصور سے ہی ان کے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے تھے۔ کچھ عرصہ پہلے اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ ایک گائوں میں ایک شتر سوار آیا۔ یہ اجنبی مسلمان اور مصری تھا، اس کا اونٹ اچھی نسل کا اور تندرست تھا، اس مسافر نے گائوں والوں اکٹھا کرکے یہ قصہ سنایا کہ وہ غربت سے تنگ آچکا تھا۔ اب وہ رہزنی اور چوری کے ارادے سے گھر سے نکل کھڑا ہوا، وہ پیدل تھا، وہ اس امید پر اس علاقے میں آگیا کہ یہاں کوئی آبادی نہیں ہے اس لیے رہزنی کرتے پکڑا نہیں جائے گا۔ وہ بہت دن پیدل چلتا رہا مگر اسے کوئی شکار نہ ملا۔ آخر ٹلوں کے اس علاقے میں جہاں کوئی نہیں جاتا، وہ جاکر گر پڑا۔ اس کے جسم میں طاقت نہیں رہی تھی۔ اس نے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کرکے خدا سے مدد مانگی۔ اسے ایک گونج دار آواز سنائی دی… ”تم خوش قسمت ہو کہ تم نے ابھی گناہ نہیں کیا، گناہ کی صرف نیت کی ہے۔ اگر تم کسی کو لوٹ کر یہاں آتے تو تمہارا جسم ہڈیوں کا پنجر بن جاتا اور شیطان کے چھوڑے ہوئے درندے تمہارا گوشت جو تمہارے سامنے پڑا ہوا ہوتا، تمہیں دکھا دکھا کر کھاجاتے”۔

اس آواز نے اجنبی پر غشی طاری کردی۔ اس نے محسوس کیا کہ کوئی اسے اٹھا رہا ہے، اس نے آنکھیں کھولیں تو وہ بیٹھا ہوا تھا اور اس کے سامنے ایک سفید ریش بزرگ کھڑا تھا جو دودھ کی مانند سفید اور آنکھوں سے نور شعاعیں نکلتی تھیں۔ وہ جان گیا کہ یہ آواز جو اس نے سنی تھی، اسی بزرگ کی تھی۔ اجنبی کی زبان بند ہوگئی اور وہ کانپنے لگا۔ بزرگ نے اسے اٹھا کر کہا… ”مت ڈر مسافر، یہ سب لوگ جو یہاں آنے سے ڈرتے ہیں، بدنصیب ہیں۔ انہیں شیطان ادھر آنے نہیں دیتا۔ تم جائو اور لوگوں سے کہو کہ یہاں اب فرعونوں کی خدائی نہیں رہی۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مملکت ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی یہیں آسمان سے اترنے والے ہیں۔ اب اسلام کی قندیلیں اسی کھنڈر سے روشن ہوں گی۔ جن کی روشنی ساری دنیا کو منور کردے گی۔ جائو لوگوں کو ہمارا پیغام دو، انہیں یہاں لائو”… اجنبی نے کہا کہ وہ اٹھ نہیں سکتا، چل نہیں سکتا، جسم سوکھ گیا ہے۔ سفید ریش بزرگ نے کہا… ” تم اٹھو اور پچاس قدم شمال کی طرف جائو۔ پیچھے مڑ کر نہ دیکھنا، ڈرنا نہیں۔ لوگوں تک پیغام پہنچا دینا ورنہ نقصان اٹھائو گے۔ تمہیں ایک اونٹ بیٹھا ہوا نظر آئے گا۔ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہوگا اور اس کے ساتھ جو کچھ ہوگا وہ تمہارا ہوگا”۔

اجنبی نے گائوں والوں کو سنایا کہ وہ اٹھ کر چلنے لگا تو اس کے جسم میں طاقت آگئی تھی۔ وہ ڈر رہا تھا کہ یہ کسی فرعون کی بدروح ہے۔ اس نے پیچھے نہیں دیکھا۔ بدروح کے ڈر سے قدم گنتا رہا اور راستہ گھوم گیا۔ پچاس قدم پر یہ اونٹ بندھا ہوا تھا، اس کے ساتھ کھانا بندھا ہوا تھا جو اس نے کھا لیا اور پانی پی لیا۔ اس کے جسم میں ایسی طاقت آگئی جو پہلے اس کے جسم میں نہیں تھا۔ اس نے لوگوں کو ایک تھیلی کھول کر دکھائی جس میں سونے کی اشرفیاں تھیں۔ یہ تھیلی اونٹ کے ساتھ بندھی ہوئی تھی، اجنبی اونٹ پر سوار ہوا اور اس گائوں میں آگیا جس میں بیٹھا وہ قصہ سنا رہا تھا۔ اس کے بعد اس نے گائوں والوں کو سفید ریش بزرگ کا پیغام دیا اور چلا گیا۔ اس کا سنانے کا انداز ایسا پراثر تھا کہ لوگوں کے دلوں میں ٹیلوں کے علاقے میں جانے کا اشتیاق پیدا ہوگیا لیکن گائوں کے بوڑھوں نے کہا کہ یہ اجنبی انسان نہیں بلکہ کھنڈر کے شرشرار کا حصہ ہے… انسانی فطرت میں یہ کمزوری ہے کہ چھپے ہوئے کو بے نقاب کرنے کی اور بھید کو پالینے کی کوشش کرتی ہے جن جسموں میں جوانی کا خون ہوتا ہے وہ خطرے مول لے لیتے ہیں۔ گائوں کے جوانوں نے ارادہ کرلیا کہ وہ وہاں جائیں گے۔ اشرفیوں کا جادو بڑا سخت تھا جس سے وہ لوگ بچ نہیں سکتے تھے۔

٭ ٭ ٭
اس چالیس میل لمبے اور دس میل چوڑے خطے میں جتنے گائوں تھے، ان سب سے اطلاع ملی کہ ایک اجنبی مسافر یہی قصہ سنا گیا ہے۔ کچھ لوگ تذبذب میں تھے اور کچھ تذبذب اور فیصلے کے درمیان بھٹک رہے تھے مگر ادھر جانےسے ڈرتے تھے، بعض آدمی گئے بھی لیکن ٹیلوں کے پراسرار علاقے کو دور سے دیکھ کر واپس آگئے۔ کچھ روز بعد دو جوان شتر سوار تمام علاقے میں گھوم گئے۔ انہوں نے بھی ایسا ہی قصہ سنایا جو ذرا مختلف تھا۔ وہ بہت دور کے سفر پر گھوڑوں پر جارہے تھے۔ ان کے ساتھ دو ٹٹو تھے جن پر قیمتی مال تھا۔ یہ تجارت کا مال تھا جو وہ سوڈان لے جارہے تھے۔ راستے میں انہیں ڈاکوئوں نے لوٹ لیا۔ مال کے ساتھ گھوڑے اور ٹٹو بھی چھین لیے اور انہیں زندہ چھوڑ دیا۔ یہ دونوں ٹیلوں کے علاقے میں آکر تھکن ، بھوک، پیاس اور غم سے گر پڑے۔ انہیں بھی سفید ریش بزرگ نظر آیا۔ اس نے انہیں وہی پیغام دیا اور کہا… ”تمہیں شیطان کے درندوں نے لوٹا ہے، تم اللہ کے نیک بندے ہو، جائو تمہیں پچاس قدم پر دواونٹ کھڑے ملیں گے اور ان کے ساتھ جو کچھ بندھا ہوگا وہ تمہارا ہوگا لیکن مال وزر دیکھ کر آپس میں لڑ نہ پڑنا ورنہ ہمیشہ کے لیے اندھے ہوجائو گے”… انہیں بھی اس بزرگ نے کہا کہ گائوں گائوں جا کر لوگوں کو پیغام دیں کہ ان کھنڈروں سے ڈریں نہیں۔

اس کے بعد ایسی ہی بہت سی روائتیں سنی اور سنائی جانے لگیں۔ ان میں ڈر اور خوف کا کوئی تاثر نہیں تھا بلکہ ایسی کشش تھی کہ لوگوں نے ٹیلوں کے اردگرد پھرنا شروع کردیا۔ انہوں نے بعض لوگوں کو اندرونی علاقے سے باہر جاتے اور آتے بھی دیکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اندر ایک درویش بزرگ ہے جو غیب کا حال بتاتا اور آسمانوں کی خبر دیتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ امام مہدی ہے۔ کسی نے کہا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور کوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہتا تھا۔ ایک بات وثوق سے کہی جاتی تھی کہ وہ جو کوئی بھی ہے، خدا کا بھیجا ہوا ہے اور گناہ گاروں سے نہ ملتا ہے، نہ انہیں نظر آتا ہے۔ اس کے پاس جانے کے لیے نیت صاف ہونی چاہیے۔ یہ بھی کہا گیا کہ وہ مردوں کو بھی زندہ کرتا ہے… یہ طلسماتی اور پراسرار روائتیں اور حکائتیں لوگوں کو اندرونی علاقے میں لے جانے لگیں۔ آگے جاکر انہوں نے پہلی بار وہ کھنڈر دیکھے جن سے وہ ڈرتے تھے۔ وہ ان کے اندر بھی گئے۔ یہ کمروں، غلام گردشوں اور غاروں جیسے راستوں کی بھول بھلیاں تھیں۔ ایک کمرہ بہت ہی وسیع اور اس کی چھت اونچی تھی۔ جالے لٹک رہے تھے اور ماحول پر ہیبت طاری تھی لیکن وہاں خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ کہیں سیڑھیاں فرش سے نیچے جاتیں اور تہہ خانوں میں جاکر ختم ہوتی تھیں۔

یہ عمارت ان فرعونوں کی تھی جو اپنے آپ کو خدا کہتے تھے۔ وہ کسی کسی کو نظر آتے تھے۔ لوگوں کو اس عمارت میں اکٹھا کرلیا کرتے اور لوگوں کو ان کی صرف آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ آواز ایسی سرنگوں میں سے گزر کر آتی تھی جن کے دہانے بڑے کمرے میں تھے مگر نظر نہیں آتے تھے بولنے والا سرنگ کے دوسرے سرے پر ہوتا تھا جس کے متعلق کوئی جان نہیں سکتا تھا کہ کہاں ہے۔ وہ اسے خدا کی آواز سمجھتے تھے جو عام آدمی کو نظر نہیں آتا۔ ان بڑے کمروں میں روشنیوں کا ایسا انتظام ہوا کرتا تھا کہ مشعلیں نظر نہیں آتی تھی، کمرے ر وشن رہتے تھے۔ آئینے کی طرح چمکیلی دھات کی چادریں استعمال کی جاتی تھیں جن سے چھپی ہوئی مشعلوں کی روشنی منعکس ہوتی تھی… وہ تو صدیوں پرانی بات تھی۔ اب صلاح الدین ایوبی کے دور میں اس عمارت میں پھر وہی آوازیں گونجنے لگیں، جنہیں لوگ خدا کی آوازیں سمجھا کرتے تھے۔ ذرا سے وقت میں لوگوں کے دلوں سے کھنڈروں کی ہیبت نکل گئی۔ وہ جب بڑے کمرے میں جاتے تو اس سے پہلے انہیں اندھیری اور فراغ سرنگوں میں سے گزرنا پڑتا تھا۔ آگے بہت ہی فراغ اور اونچی چھت والا کمرہ آجاتا، جس میں روشنی ہوتی مگر کوئی مشعل نظر نہیں آتی تھی۔ وہاں گونج کی طرح آواز آتی تھی… ”ہم نے تمہیں اندھیروں میں سے نکال کر روشنی دکھائی ہے۔ کوہِ طور کی روشنی ہے۔ اس نور کو دلوں میں داخل کرلو۔ فرعونوں کی بدروحیں بھی مرگئی ہیں۔ اب یہاں موسیٰ علیہ السلام کا نور ہے اور اس نور کو عیسیٰ علیہ السلام اور زیادہ منور کرے گا۔ خدا کو یاد کرو، کلمہ پڑھو”۔ اور لوگ حیرت سے منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھتے اور کلمہ طیبہ گنگنانا شروع کردیتے تھے۔ اگر اس آواز میں خدا، حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور کلمہ طیبہ کا ذکر نہ ہوتا تو لوگ شاید اس کا یہ اثر قبول نہ کرتے جو وہ کررہے تھے۔ وہ سب مسلمان تھے۔ اپنے مذہب کے نام پر وہ اس اثر کو قبول کرتے تھے… اور جب انہیں یہ آواز سنائی دی… ”رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خدا نے غار حرا کے اندھیرے میں رسالت عطا کی تھی۔ تمہیں بھی ان غاروں کے اندھیرے میں خدا کا نور نظر آئے گا”… تو لوگوں نے سرجھکا لیے اور اس آواز کو جس کی گونج میں طلسماتی اثر تھا، اپنے دل پر نقش کرلیا لیکن لوگ اس ہستی تک پہنچنا چاہتے تھے جس کی یہ آواز تھی اور جو مسافروں کو اونٹ، کھانا، پانی اور اشرفیاں دیتی اور مردوں کو زندہ کرتی تھی۔ لوگوں کی بیتابیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ وہ اپنے گھروں کو جاتے تو انہیں عورتیں بتاتیں کہ ایک اجنبی آیا تھا جو کھنڈر والے درویش کی کرامات سنا گیا ہے۔ وہ کہتا تھا کہ اس نے درویش کی زیارت کی ہے۔ ایک روز ان دیہات میں جو سب سے بڑا گائوں ہے، وہاں کی مسجد کے پیش امام سے لوگوں نے استفسار کیا۔ اس نے کہا… ……وہ مقدس انسان ہے صرف نیک لوگوں سے ملتا ہے، نیک وہ ہوتا ہے جو خون خرابہ نہ کرے، صلح اور امن کی زندگی بسر کرے۔ یہ مقدس درویش حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا پیغام لایا ہے۔ اس پیغام میں محبت ہے، جنگ وجدل نہیں۔ اس پیغام میں یہ نصیحت ہے کہ کسی کو زخمی نہ کرو بلکہ زخمی کے زخموں پر مرہم رکھو… اگر تم لوگ ان اصولوں پر زندگی بسر کرو گے تو یہ درویش تمہاری کایا پلٹ دے گا”۔

جب ایک امام مسجد نے بھی اس مقدس درویش کو اور اس کی آواز کو برحق کہہ دیا تو کسی شک و شبے کی گنجائش نہ رہی۔ لوگوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ کھنڈروں میں جانے لگے تو اعلان ہوا کہ ہر جمعرات کے روز اندر جانے کی اجازت ہوگی اور شام کو میلہ لگا کرے گا۔ چنانچہ اس روز سے جمعرات کا دن مخصوص ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی عورتوں کو بھی وہاں جانے کی اجازت مل گئی۔ اب کھنڈروں کے اندر اپنی مرضی سے کوئی نہیں جاسکتا تھا۔ جمعرات کے روز ان کے اردگرد میلے کا سماں ہوتا تھا۔ دوردور سے لوگ اونٹوں، گھوڑوں اور خچروں پر اور پیدل بھی آتے اور شام کو کھنڈروں میں جانے کے وقت کا انتظار کرتے تھے… اندر کی سنسنی خیز دنیا میں انقلاب آگیا، وہاں اب لوگوں کو گناہ اور نیکی کے، تاریکی اور روشنی کے تصورات ایسی صورت میں نظر آتے تھے کہ لوگ انہیں مجسم اور متحرک صورت میں دیکھتے اور حیرت زدہ ہوتے تھے۔ کسی کو کوئی الٹا سیدھا سوال اور شک کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی وہ کسی سوال اور شک کی ضرورت محسوس کرتے تھے۔

سورج غروب ہوتے ہی اندھیری سرنگ کا منہ کھل جاتا جو اندر لے جاتی تھی۔ یہ دراصل اس عمارت کے درمیان سے گزرنے والا راستہ تھا۔ اس کی دیواریں بہت بڑے بڑے بلاکوں کی تھیں۔ اوپر ایسی ہی چھت تھی۔ یہ سرنگ ہر دس بارہ قدموں بعد دائیں یا بائیں کو مڑتی تھی۔ اس کے دروازے یا دہانے سے باہر چند ایک آدمی کھڑے ہوتے تھے۔ ان کے پاس کھجوروں کے انبار لگے ہوتے تھے۔ یہ کھجوریں لوگوں کی لائی ہوئی ہوتی تھیں، جسے نذرانہ کہا جاتا تھا۔ زائرین کھجوریں ایک جگہ ڈھیر کردیتے تھے۔ کھجوروں کے پاس پانی کے مشکیزے رکھے ہوتے تھے۔ شام کو جب زائرین کو اندر جانے کی اجازت ملتی تھی تو دروازے پر ہر ایک کو تین کھجوریں کھلا کر چند گھونٹ پانی پلایا جاتا اور اندر بھیج دیا جاتا۔ تاریک سرنگ سے گزر کر جب یہ لوگ روشن ہال کمرے میں پہنچتے تو وہاں انہیں آوازیں سنائی دیتیں… ”کلمہ طیبہ پڑھو، اپنے اللہ کو یاد کرو، حضرت موسیٰ علیہ السلام تشریف لے آئے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہونے والا ہے۔ دل سے بدی اور دشمنی نکال دو، لڑائی جھگڑا ختم کردو اور دیکھو ان کا حشر جنہیں جنت کا دھوکہ دے کر لڑایا گیا تھا”۔

اس آواز کے ساتھ ہی لوگوں کی آنکھوں میں نہایت تیز روشنی پڑتی۔ انہیں ایک طرف منہ کرکے کھڑا کیا جاتا تھا۔ ان کی آنکھیں خیرہ ہونے لگتیں تو روشنی ذرا مدھم ہوجاتی۔ اس کے بعد روشنی کبھی تیز ہوتی، کبھی مدھم اور لوگوں کے سامنے والی دیوار پر ستارے چمکتے نظر آتے۔ ان ستاروں میں جنبش ہوتی اور انتہائی مکروہ اور بھدی شکلوں والے انسان جاتے نظر آتے۔ گونج دار آواز سنائی دیتی… ”یہ سب تمہاری طرح جوان اور خوبصو رت تھے۔ انہوں نے خدا کا پیغام نہ سنا۔ یہ کمر کے ساتھ تلواریں سجا کر گھوڑوں پر سوار ہوئے اور اپنے جیسے خوبصورت جوانوں کو قتل کیا۔ انہیں دھوکہ دیا گیا کہ تم لڑو، مرجائو گے تو جنت میں جائوں گے۔ دیکھ لو ان کا انجام، خدا نے انہیں شیطان کے درندے بنا کر کھلا چھوڑ دیا ہے”… ان آوازوں کے ساتھ بادل کی گرج اور بجلی کی کڑک سنائی دیتی، کچھ اور آوازیں بھی سنائی دیتیں جو مختلف درندوں کی معلوم ہوتی تھیں۔ روشنی اتنی تیز ہوجاتی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چندھیا جاتیں، پھر لمبے لمبے دانتوں والے درندے دائیں سے بائیں جاتے نظر آتے۔ یہ بھی انسان تھے لیکن ان کی شکلیں بڑے ہی ڈرائونے بھیڑیوں جیسی تھیں۔ انہوں نے بازوئوں پر برہنہ لڑکیاں اٹھا رکھی تھیں۔ یہ لڑکیاں جوان اور خوبصورت تھیں، لڑکیاں تڑپتی تھیں، بادل کی گرج اور زیادہ بلند سنائی دیتی اور آواز آتی… ”انہیں اپنے حسن پر ناز تھا، انہوں نے خدا کے حسن کو ناپاک کیا تھا”… ان ڈرائونی اور بھیانک شکلوں کے بعد بڑے ہی خوبرو مرد اور خوبصورت عورتیں گزرتیں، یہ سب ہنستے کھیلتے جاتے تھے، یہ نیک اور پاک لوگ تھے جن کے متعلق بتایا جاتا تھا کہ انہوں نے کبھی لڑائی جھگڑے کی بات نہیں کی تھی۔ وہ سراپا محبت، پیار اور خلوص تھے۔

اس کے بعد زائرین کو ایک تہہ خانے میں لے جایا جاتا، جہاں انسانی ہڈیوں کے پنجر بھی تھے اور خوبصورت لڑکیاں بھی گھومتی پھرتی اور مسکراتی نظر آتی تھیں۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد آواز سنائی دیتی… ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہونے والا ہے… جنگ وجدل اور خون خرابہ دل سے نکال دو”… تہہ خانے کا ایک راستہ اور تھا جس سے لوگوں کو باہر نکال دیا جاتا۔ لوگوں پر ایسا تاثر طاری ہوتا تھا جیسے وہ سو گئے تھے اور انہوں نے بڑا ہی عجب خواب دیکھا ہو، جو ڈرائونا تھا ور خوبصورت بھی۔ وہ ایک بار پھر اندر جانے کو بے تاب ہوتے تھے لیکن کسی کو اس طرف جانے نہیں دیا جاتا تھا، جدھر سے لوگ اندر جاتے تھے، وہ اپنے گھروں کو واپس نہیں جانا چاہتے تھے۔ رات وہیں کھنڈروں کے قریب ہی گزار دیتے تھے۔ وہاں کچھ لوگ ان کے پاس بیٹھ کر انہیں اندر کے راز بتاتے تھے۔ ایک راز یہ تھا کہ اندر جس کی آواز سنائی دیتی ہے وہ خدا کی طرف سے یہ پیغام لے کر آیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں آرہے ہیں اور خلیفہ العاضد بھی دنیا میں واپس آگیا ہے۔

العاضد فاطمی خلافت کا خلیفہ تھا جس کی گدی مصر میں تھی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے اسے معزول کرکے مصر کو بغداد کی خلافت عباسیہ کے تحت کردیا تھا۔ العاضد اس کے فوراً بعد مرگیا تھا۔ یہ وہ اڑھائی سال پہلے کا واقعہ تھا۔ فاطمیوں نے صلیبیوں اور حشیشین کے ساتھ سازباز کرکے ایک سازش تیار کی تھی جس کے تحت سلطان صلاح الدین ایوبی کا تختہ الٹنا اور مصر میں فاطمی خلافت بحال کرنا تھا۔ اس سازش کی کامیابی کے لیے سوڈانیوں کو تیار کیا جارہا تھا کہ وہ مصر پر حملہ کردیں۔

کھنڈر کے مریدوں کی تعداد میں اور اس کی عقیدت مندی میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور جنوب مغربی علاقے کے لوگ قائل ہوتے جارہے تھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خلیفہ العاضد کو واپس بھیج چکے ہیں اور خود بھی واپس آرہے ہیں۔ ان لوگوں نے فوج میں بھرتی ہونے سے توبہ کرلی تھی۔ کیونکہ وہ جنگ وجدل کو گناہ سمجھنے لگے تھے۔ صلاح الدین ایوبی کو ایک گناہ گار بادشاہ قرار دے دیا گیا تھا جو اپنی بادشاہی کو وسعت دینے کے لیے جوانوں کو یہ دھوکہ دے کر فوج میں فوج میں بھرتی کرتا تھا کہ وہ شہید ہوں گے اور سیدھے جنت میں جائیں گے۔ کھنڈر وں کے اندر کی دنیا لوگوں کے لیے عبادت گاہ بن گئی تھی۔

بعض نے تو ٹیلوں کے علاقے میں ہی ڈیرے ڈال دیئے تھے، وہ اس مقدس درویش کی زیارت کے لیے بے قرار رہتے تھے، جس کی آواز کھنڈروں میں سنائی دیتی تھی، مگر وہ انہیں نظر نہیں آتا تھا۔ ایک نیا فرقہ جنم لے رہا تھا۔

اس زخمی حشیش کو جو سلطان صلاح الدین ایوبی پر قاتلانہ حملے میں زخمی ہوا تھا، علی بن سفیان قاہرہ لے گیا، جہاں اسے ایک الگ تھلگ مکان میں رکھا گیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے حکم کے مطابق اس کے علاج کے لیے ایک جراح مقرر کردیا گیا۔ وہ آخر مجرم تھا، اسے جس مکان میں رکھا گیا اس کے دروازے پر ایک سنتری کھڑا رہتا تھا۔ وہ ابھی بھاگنے کے قابل نہیں تھا، کھنڈروں کی نشاندہی اسی نے کی تھی۔ فیصلہ ہوا تھا کہ یہ ٹھیک ہوجائے تو اس کی رہنمائی میں جاسوس بھیج کر کھنڈروں کے اندر کے حالات دیکھے جائیں گے۔ ہوسکتا تھا کہ یہ زخمی جھوٹ بول رہا ہو۔ علی بن سفیان نے قاہرہ آتے ہی اپنے نائب حسن بن عبداللہ اور کوتوال غیاث بلبیس سے کہہ دیا تھا کہ وہ اس علاقے میں اپنا کوئی مخبر اور جاسوس نہ بھیجیں جس کے متعلق انہیں رپورٹ ملی ہے کہ وہاں کے لوگ فوج کے خلاف ہوگئے ہیں۔ علی کو کسی بہت بڑے اور کارآمد انکشاف کی توقع تھی۔

زخمی کو معلوم نہیں کیوں یہ وہم ہوگیا تھا کہ وہ زندہ نہیں رہے گا۔ وہ روتا تھا اور باربار اپنے گائوں کا نام بتا کر کہتا تھا کہ میری بہن کو بلا دو میں اسے دیکھ نہیں سکوں گا۔ علی بن سفیان اس کی اسی کمزوری کو اس سے مزید راز اگلوانے کے لیے استعمال کررہا تھا۔ زخمی اپنی بہن کے متعلق غیر معمولی طور پر جذباتی تھا۔ علی کو جب یقین ہوگیا کہ زخمی کے سینے میں اب اور کوئی بات نہیں رہ گئی تو اس نے دو پیامبر بلا کر انہیں زخمی کا گائوں اور علاقہ بتایا اور کہا کہ اس کی بہن کو اپنے ساتھ لے آئیں۔ یہ علاقہ مصر کے جنوب مغرب میں ہی تھا… پیامبر اسی وقت روانہ ہوگئے۔

سلطان صلاح الدین ایوبی محاذ پر پہنچ گیا اور شوبک کے قلعے میں چلا گیا۔ اس کے چہرے پر قاتلانہ حملے کا کوئی تاثر نہیں تھا، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ اس کے محافظ دستے کا کمانڈر اور دیگر حکام جو اس کے ساتھ تھے بہت پریشان اور شرمسار تھے۔ وہ ڈرتے بھی تھے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کسی نہ کسی مقام پر ان پر برس پڑے گا اور جواب طلبی بھی کرے گا مگر اس نے اس طرف اشارہ بھی نہیں کیا۔ البتہ اپنی مرکزی کمان کے فوجی حکام سے کہا… ”آپ نے دیکھ لیا ہے کہ میری زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، آپ میری جنگی چالیں غور سے دیکھتے رہا کریں۔ دشمن نے جو دوسرا محاذ کھول رکھا ہے اس پر گہری نظر رکھیں اور تخریب کاروں کی پکڑ دھکڑ اور سرکوبی کرتے رہیں”… اس نے کسی سے اتنا بھی نہ کہا کہ محافظ دستے کی چھان بین کی جائے۔ اس نے اتنے بڑے حاد ثے کا کوئی اثر ہی نہ لیا۔ شوبک کے قلے میں پہنچا اور سب سے پہلے پوچھا کہ کوئی جاسوس واپس آیا ہے یا نہیں؟ اسے بتایا گیا کہ دو جاسوس کارآمد معلومات لائے ہیں۔ اس نے دونوں کو بلالیا اور صلیبیوں کے ارادوں کے متعلق رپورٹیں لیں۔ اسے تقریباً وہ تمام پلان بتا دیا گیا جو صلیبیوں نے تیار کیا تھا۔ اس نے نورالدین زنگی کی بھیجی ہوئی کمک کے سالار اور مصر سے آئی ہوئی فوج کے سالار اور دونوں کے نائبین کو بلا بھیجا اور گہری سوچ میں کھو گیا۔

چوتھے روز زخمی حشیش کی بہن آگئی۔ اس کے ساتھ چار آدمی تھے جن کے متعلق بتایا گیا کہ زخمی کے چچا اور تایا زاد بھائی ہیں۔ بہن جوان اور پرکشش تھی اور اپنے بھائی کے لیے بہت ہی پریشان تھی۔ زخمی اس کا اکیلا بھائی تھا۔ ان کے ماں باپ مرچکے تھے، اسے اور اس کے ساتھ آئے ہوئے چار آدمیوں کو زخمی کے پاس لے جانے کے لیے علی بن سفیان کی اجازت کی ضرورت تھی۔ علی بن سفیان نے بہن کو اجازت دے دی، اس کے ساتھ آئے ہوئے آدمیوں کو نہ ملنے دیا۔ انہوں نے منت سماجت کی اور کہا کہ وہ اتنی دور سے آئے ہیں، انہیں صرف اتنی اجازت دی جائے کہ زخمی کو دیکھ لیں۔ وہ

کوئی بات نہیں کریں گے۔ علی بن سفیان نے اس طرح اجازت دی کہ خود ان کے ساتھ ہوگا اور انہیں فوراً باہر نکال دے گا۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ اسی وقت ان سب کو زخمی کے پاس لے گیا۔ بہن نے بھائی کو دیکھا تو اس کے اوپر گر پڑی۔ بھائی کا منہ چومنے لگی اور زاروقطار رونے لگی۔ دوسرے آدمیوں کے متعلق علی بن سفیان نے زخمی سے کہا کہ ان سے ہاتھ ملا لو، یہ واپس جارہے ہیں۔ اس نے چاروں سے ہاتھ ملایا تو علی بن سفیان نے انہیں باہر چلے جانے کو کہا اور یہ بھی کہہ دیا کہ وہ آئندہ اسے نہیں مل سکیں گے، وہ چلے گئے۔ بہن نے علی بن سفیان کے قدموں میں بیٹھ کر اس کے پائوں پکڑ لیے اور رو رو کر منت کی کہ اسے بھائی کی خدمت کے لیے وہیں رہنے دیا جائے۔ علی بن سفیان ایک بہن کی ایسی جذباتی التجا کو ٹھکرا نہ سکا۔ اس نے لڑکی کی جامہ تلاشی کی اور اسے وہیں رہنے کی اجازت دے دی اور وہاں سے چلا گیا۔

بہن بھائی اکیلے رہ گئے تو بہن نے بھائی سے پوچھا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ بھائی نے بتا دیا۔ بہن نے پوچھا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک ہوگا؟ بھائی نے جواب دیا… ”امیر مصر پر قاتلانہ حملے کا جرم بخشا تو نہیں جائے گا اگر ان لوگوں نے مجھ پر رحم کیا تو سزائے موت نہیں دیں گے، ساری عمر کے لیے تہہ خانے کی قید میں ڈال دیں گے”۔

”پھر میں ساری عمر تمہیں نہیں دیکھ سکوں گی؟” بہن نے پوچھا۔

”نہیں شارجا”… بھائی نے رندھیائی ہوئی آواز میں کہا… ”پھر میں مر بھی نہیں سکوں گا۔ جی بھی نہیں سکوں گا، وہ جگہ بڑی خوفناک ہے، جہاں ہمیشہ کے لیے قید کردیں گے”۔

بہن جس کا نام شارجا تھا، بچوں کی طرح بلبلا اٹھی۔ اس نے کہا …”میں نے تمہیں اس وقت بھی روکا تھا کہ ان لوگوں کے چکر میں نہ پڑو مگر تم نے کہا کہ صلاح الدین ایوبی کا قتل جائز ہے، تم لالچ میں آگئے تھے، تم نے میری بھی پروا نہ کی، میرا کیا بنے گا؟ تم نہ ہوئے تو میرا آسر ا کون ہوگا؟”۔

زخمی بھائی کا ذہن تقسیم ہوگیا تھا، کبھی وہ پچھتاوے کی باتیں کرتا اور کہتا کہ وہ ان لوگوں کے جھانسے میں آگیا تھا، اس نے یہ بھی کہا… ”صلاح الدین ایوبی انسان نہیں، خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ ہے۔ ہم چار ہٹے کٹے جوان مل کر اتنا بھی نہ کرسکے کہ اس کے جسم پر خنجر کی نوک سے خراش ہی ڈال دیتے۔ اس پر زہر نے بھی اثر نہیں کیا۔ اس اکیلے نے تین کو جان سے مار دیا اور مجھے موت کے منہ میں ڈال دیا”۔

Read More:  Muhabbat Phool Jesi Hai Novel by Muhammad Shoaib Read Online – Last Episode 30

”یہ کہنے والے جھوٹ تو نہیں کہتے تھے کہ صلاح الدین ایوبی کا ایمان اتنا مضبوط ہے کہ اسے کوئی گناہ گار قتل نہیں کرسکتا”۔ بہن نے کہا… ”تم چاروں مسلمان تھے، اتنا بھی نہ سوچا کہ وہ بھی مسلمان ہے؟”۔

”اس نے خدا کے خلیفہ کی گدی کی توہین کی ہے”۔ زخمی بھائی کا دماغ الٹی طرف چل پڑا، اس نے جوشیلے لہجے میں کہا… ”تم نہیں جانتی کہ خلیفہ العاضد خدا کے بھیجے ہوئے خلیفہ تھے”۔

”جو کوئی جوکچھ بھی تھا” … بہن نے کہا… ”میں یہ جانتی ہوں کہ تم میرے بھائی ہو اور مجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہورہے ہو۔ کیا تمہارے بچنے کی کوئی صورت پیدا ہوسکتی ہے؟”

”شاید پیدا ہوجائے”۔ بھائی نے جواب دیا… ”میں نے اس شرط پر انہیں سارے راز بتا دیئے ہیں کہ میرا گناہ بخش دیںمگر میرا گناہ اتنا سنگین ہے جو شاید نہ بخشا جائے”۔

اس وقت زخمی کو سوجانا چاہیے تھا اور اسے اتنا زیادہ بولنا نہیں چاہیے تھا کیونکہ پیٹ کے زخم کھل جانے کا ڈر تھا مگر وہ بولتا جارہا تھا اور بہن رو رہی تھی۔ بولتے بولتے اسے پیٹ کے زخم میں ٹیسیں محسوس ہونے لگیں اور وہ بے حال ہوگیا اس نے بہن سے کہا … ”شارجا باہر جائو، کوئی آدمی ملے تو اسے کہو کہ طبیب یا جراح کو بلا دے۔ میں مر رہا ہوں”۔ شارجا دوڑتی باہر گئی، باہر سنتر کھڑا تھا۔ اس نے اسے بھائی کی حالت بتائی تو اس نے شارجا کو اس جراح کے گھر کا راستہ بتا دیا جسے زخمی کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ اسے سختی سے حکم دیا گیا تھا کہ دن ہو یا رات، زخمی کو زندہ رکھنے کی پوری کوشش کرے۔ وہ شاہی جراح تھا۔

شارجا دوڑتی گئی، جراح کا گھر بالکل قریب تھا۔ شارجا نے جراح کو بھائی کی حالت بتائی تو وہ بھاگم بھاگ آیا اور زخمی کو دیکھا۔ اس کے پیٹ کی پٹی خون سے لال ہوگئی تھی۔ جراح نے فوراً پٹی کھولی۔ خون بند کرنے کے لیے اس میں سفوف ڈالے اور بہت سا وقت صرف کرکے پٹی باندھی، خون بند ہوگیا۔ اس نے زخمی کو دوائی پلا دی جس کے اثر سے اسے نیند آگئی اور وہ سوگیا۔ شارجا اس جواں سال جراح کو حیرت اور دلچسپی سے دیکھتی رہی۔ اسے توقع نہیں تھی کہ اتنی رات گئے کوئی اس کے مجرم بھائی کو دیکھنے آجائے گا لیکن جراح دوڑتا آیا اور اس نے اتنے انہماک سے زخمی کی مرہم پٹی کی کہ شارجا کو حیران کردیا۔ زخمی کی آنکھ لگ گئی تو جراح نے آنکھیں بند کرکے اور ہاتھ اوپر اٹھا کر سرگوشی کی… ”زندگی اور موت تیرے ہاتھ میں ہے، میرے خدا! اس بدنصیب کے حال پر کرم کرو، اسے زندگی عطا کرو، خدائے عزوجل”۔

شارجا کے آنسو نکل آئے، اس پر جراح کا تقدس طاری ہوگیا۔ اس نے جراح کے قریب دو زانو ہوکر اس کا ایک ہاتھ پکڑا اور چوم لیا۔ جراح کے پوچھنے پر شارجا نے بتایا کہ وہ زخمی کی بہن ہے۔ اس نے جراح سے پوچھا… ”کیا آپ کے دل میں اتنا زیادہ رحم ہے کہ میرے بھائی کو آپ تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے یا اسے اس لیے زندہ رکھنا چاہتے ہیں کہ یہ آپ کو راز کی ساری باتیں بتا دے؟”

”مجھے اس سے کوئی دلچسپی نہیں کہ اس کے پاس کوئی راز ہے یا نہیں”۔ جراح نے کہا… ”میرا فرض ہے کہ اسے زندہ رکھوں اور اس کے زخم بالکل ٹھیک کردوں۔ میری نگاہ میں مومن اور مجرم میں کوئی فرق نہیں”۔

”آپ کو شاید معلوم نہیں کہ اس کا جرم کیا ہے”۔ شارجا نے کہا… ”اگر معلوم ہوتا تو آپ اس کے زخم پر مرہم رکھنے کے بجائے اس میں نمک بھر دیتے”۔

”مجھے معلوم ہے”۔ جراح نے جواب دیا… ”لیکن میں اسے زندہ رکھنے کی پوری کوشش کروں گا”۔

شارجا اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے جراح کے ساتھ اپنی باتیں شروع کردیں۔ اسے بتایا کہ اس کے ماں باپ بچپن میں مرگئے تھے۔ اس وقت اس کا بھائی دس گیارہ سال کا تھا۔ اس نے شارجا کو پالا پوسا اور جوان کیا اگر اس کا بھائی نہ ہوتا تو کوئی نہ کوئی اسے اغوا کرکے لے جاتا۔ بھائی نے زندگی بہن کے لیے وقف کردی تھی۔ جراح انہماک سے اس کی باتیں سنتا رہا اور اسے اس خیال سے باہر صحن میں لے گیا کہ زخمی کی آنکھ نہ کھل جائے۔ جراح ایسے انداز سے شارجا کی باتیں سن رہا تھا جیسے وہ رات یہیں گزارے گا مگر وہ جانے لگاتو شارجا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا… ”آپ چلے جائیں گے تو مجھے ڈر آئے گا”… جراح نے اسے بتایا کہ وہ اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا اور اس کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتا۔ جراح گھر میں اکیلا رہتا تھا۔ وہ شارجا کی خاطر کچھ دیر اور رک گیا اور رات کے پچھلے پہر گیا… دوسرے دن کا سورج ابھی طلوع نہیں ہوا تھا کہ وہ زخمی کو دیکھنے آگیا۔ اس نے رات والے انہماک سے اس کی مہم پٹی کی۔ زخمی کو دودھ پلایا اور ایسا کھانا دیا جو شارجا نے کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا۔

اس دوران علی بن سفیان آیا،زخمی کی حالت دیکھ کر چلا گیا لیکن جراح نہ گیا۔ وہ شارجا کے ساتھ باتیں کرتا اور

اس کی باتیں سنتا رہا۔ اس روز شام تک وہ تین بار زخمی کو دیکھنے آیا۔ حالانکہ وہ صرف دوپہر کو آیا کرتا تھا۔ شام کو وہ چلا گیا تو زخمی نے اپنی بہن سے کہا… ”شارجا! میری ایک بات غور سے سن لو، میری زندگی اس جراح کے ہاتھ میں ہے لیکن میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہیں دیکھ کر یہ میرا علاج پہلے سے زیادہ اچھے طریقے سے کرنے لگا ہے۔ میں موت قبول کرلوں گا مگر اسے اتنی زیادہ قیمت نہیں دوں گا جو اس نے دل میں رکھ لی ہے… مجھے شک نہیں یقین ہے کہ یہ مجھے زندہ رکھنے کے لیے تمہاری عزت کا نذرانہ لینا چاہتا ہے”۔

”میں تو اسے فرشتہ سمجھتی ہوں”۔ شارجا نے کہا… ”اس نے ابھی تک کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں کیا اور میں بچی بھی تو نہیں لیکن میں اسے ایسا سمجھتی نہیں”۔

شارجا کا اندازہ ایسا تھا جس نے بھائی کو شک میں ڈال دیا کہ وہ جراح میں دلچسپی لیتی ہے۔

٭ ٭ ٭

اس رات جراح آیا، زخمی سوگیا تھا، شارجا جاگ رہی تھی۔ وہ جراح کے ساتھ صحن میں چلی گئی۔ کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں، جراح نے اسے کہا کہ اس کا بھائی دوائی کے اثر سے اتنی گہری نیند سو گیا ہے کہ صبح تک اس کی آنکھ شاید نہیں کھلے گی۔ آئو میرے گھر چلو… شارجا کچھ جھجکی لیکن جراح کی پیشکش ٹھکرانہ سکی۔ اس کے ساتھ چلی گئی۔ یہ خوبرو، جواں سال اور حلیم طبع جراح اکیلا رہتا تھا۔ شارجا بالغ دماغ لڑکی تھی۔ اسے توقع تھی کہ آج رات یہ آدمی اس کے سامنے بے نقاب ہوجائے گا مگر ایسا نہ ہوا۔ وہ اس کے ساتھ ہمدرد دوستوں کی طرح باتی کرتا رہا۔ لڑکی کو اس کے اتنے مشفقانہ سلوک نے پریشان کردیا۔ اس نے بے اختیار اس سے پوچھا… ”میں صحرا کے دور دراز علاقے کی غریب سی لڑکی ہوں اور ایک ایسے مجرم کی بہن ہوں جس نے مصر کے بادشاہ پر قاتلانہ حملہ کیا ہے۔ اس کے باوجود آپ میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کررہے ہیں جس کی میں حق دار نہیں ہوں”… جراح نے مسکراہٹ کے سوا کوئی جواب نہ دیا۔ لڑکی نے صاف کہہ دیا… ”مجھ میں اس خوبی کے سوا اور کچھ بھی نہیں کہ میں جوان لڑکی ہوں اور شاید میری شکل وصو رت بھی اچھی ہے”۔

”تم میں ایک خوبی اور بھی ہے جس کا تمہیں علم نہیں”۔ جراح نے کہا… ”تمہاری عمر اور تمہاری ہی شکل وصورت کی میری ایک بہن تھی جس طرح تم بہن بھائی اکیلے ہو، اسی طرح میں اور میری بہن اکیلے رہ گئے تھے۔ میں نے تمہارے بھائی کی طرح اپنی بہن کو پالا پوسا اور اپنی زندگی اور ساری خوشیاں اس کے لیے وقف کردی تھیں۔ وہ بیمار ہوئی اور میرے ہاتھوں میں مرگئی۔ میں اکیلا رہ گیا۔ تمہیں دیکھا تو شک ہوا کہ جیسے میری بہن مجھے مل گئی ہے اگر تم اپنے آپ کو جوان اور خوبصورت لڑکی سمجھتی ہو اور میری نیت پر شک ہے تو اس کا یہی علاج ہے کہ میں تم میں ایسی دلچسپی کا اظہار نہیں کروں گا جو اب تک کیا ہے۔ تمہارے بھائی میں پوری دلچسپی لیتا رہوں گا، اسے ٹھیک کرنا میرا فرض ہے”۔

شارجا رات دیر سے وہاں سے واپس آئی، جراح اس کے ساتھ تھا۔ لڑکی کے شکوک رفع ہوچکے تھے۔ دوسرے دن جراح زخمی کو دیکھنے آیا۔ اس نے شارجا کے ساتھ کوئی بات نہ کی۔ وہ جانے لگا تو شارجا نے باہر جاکر اسے روک لیا، وہ رو رہی تھی۔ اسے ڈر تھا کہ جراح اس سے ناراض ہوکر چلا گیا ہے۔ جراح نے اسے بتایا کہ وہ ناراض نہیں لیکن وہ اسے کسی اور شک میں نہیں ڈالنا چاہتا… رات کو جب زخمی سو گیا تو شارجا وہاں سے نکل گئی اور جراح کے گھر چلی گئی۔یہ اس کی بیتابی تھی جس پر وہ قابو نہ پاسکی۔ بہت دیر تک جراح کے پاس رہی۔ اس کے ذہن میں کچھ گانٹھیں پڑی ہوئی تھیں جنہیں وہ کھولنا چاہتی تھی۔ اس نے جراح سے پوچھا… ”کیا خلیفہ خدا کے بھیجے ہوئے ہوتے ہیں؟”

”خلیفہ انسان ہوتا ہے”۔ جراح نے جواب دیا… ”خدا کے بھیجے ہوئے نبی اور پیغمبر تھے، یہ سلسلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ختم ہوگیا ہے”۔

”صلاح الدین ایوبی خدا کا بھیجا ہوا ہے؟” لڑکی نے پوچھا۔

”نہیں”۔ جراح نے جواب دیا… ”وہ بھی انسان ہے لیکن عام انسانوں سے اس کا رتبہ بلند ہے کیونکہ وہ خدا اور خدا کے بھیجے ہوئے آخری رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم پیغام کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچانا چاہتا ہے”۔

ایسے اور بہت سے سوال تھے جو شارجا نے پوچھے اور جراح نے اس کے شکوک رفع کیے، اس نے کہ …”پھر میرا بھائی بہت بڑا گناہ گار ہے اگر اسے کوئی یہ باتیں بتا دیتا جو آپ نے مجھے بتائی ہیں تو وہ اس گناہ سے بچا رہتا۔ اب تو اس کی جاں بخشی نہیں ہوگی”۔

”ہوجائے گی” جراح نے اسے بتایا… ”اگر صلاح الدین ایوبی نے کہہ دیا ہے کہ اسے زندہ رکھنے کی کوشش کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے سزا نہیں دی جائے گی۔ اسے چاہیے کہ گناہوں سے توبہ کرلے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ اسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی”۔

”میں ساری عمر صلاح الدین ایوبی کی اور آپ کی خدمت میں گزار دوں گی”۔شارجا نے روتے ہوئے کہا… ”اور میرا بھائی آپ سب کا غلام رہے گا”… وہ جذباتی ہوگئی۔ اس نے جراح کے ہاتھ پکڑ کر کہا… ”آپ مجھ سے جو قیمت وصول کرنا چاہیں میں دوں گی۔ آپ مجھے اپنی لونڈی بنا لیں، اس کے عوض میرے بھائی کو ٹھیک کردیں اور اسے سزا سے بچالیں”۔

”قیمت اللہ سے وصول کی جاتی ہے”۔ جراح نے اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا… ”بھائی کے گناہ کی سزا بہن کو نہیں دی جائے گی اور بھائی کی صحت کی قیمت بہن سے وصول نہیں کی جائے گی۔ سب کا پاسبان اللہ ہے۔ اس کی ذات باری نے مجھے تمہاری عصمت کی پاسبانی اور تمہارے بھائی کی صحت کی ذمہ داری سونپی ہے۔ دعا کروکہ میں اس امانت میں خیانت نہ کروں۔ بہن کی دعا عرش کو بھی ہلا دیا کرتی ہے۔ دعا کرو… دعا کرو… اس خدا کی عظمت کو یاد رکھو جس کے خلاف تمہیں گمراہ کیا جارہا ہے”۔

جراح نے اس لڑکی پر طلسم طاری کردیا، ایک تو باتیں ہی ایسی تھیں جو جراح نے اسے بتائی تھیں۔ تاثر تو جراح کے سلوک نے پیدا کیا تھا۔ جراح کے متعلق تو اسے کچھ اور ہی شک ہوگیا تھا لیکن وہ کچھ اور نکلا۔ اسے جیسے احساس ہی نہیں تھا کہ ایسی تنہائی میں اور رات کے وقت اتنی حسین اور جوان لڑکی اس کے رحم وکرم پر ہے… رات آدھی گزر گئی تھی، جراح نے اسے کہا… ”اٹھو تمہیں وہاں تک چھوڑ آئوں اور تمہارے بھائی کو بھی دیکھ آئوں”۔

دونوں گھر سے نکلے اور آہستہ آہستہ چل پڑے۔ رات تاریک تھی، وہ دونوں مکان کے پچھواڑوں کے درمیان سے گزر رہے تھے۔ یہ چھوٹی سی ایک گلی تھی جس میں گزرتے ہی وہ مکان آجاتا تھا جہاں زخمی حشیش قید میں پڑا تھا اور اس کے دروازے پر سنتری کھڑا رہتا تھا وہ دونوں اس گلی میں داخل ہوئے ہی تھے کہ پیچھے سے دونوں کو مضبوط بازوئوں میں جکڑ لیا گیا۔ دونوں کے منہ کپڑوں میں بندھ گئے۔ ان کی آواز بھی نہ نکل سکی، جراح جسمانی لحاذ سے کمزور نہیں تھا مگر وہ بے خبری میں جکڑا گیا تھا۔ حملہ آور چار پانچ معلوم ہوتے تھے۔ انہوں نے دونوں کو اٹھا لیا اور تاریکی میں غائب ہوگئے۔ کچھ دور گھوڑے کھڑے تھے۔ جراح کے ہاتھ پائوں رسیوں سے باندھ دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر ڈال کر ایک آدمی

گھوڑے پر سوار ہوگیا۔ اسے کسی کی آواز سنائی دی جو شارجا سے مخاطب تھی… ”شور نہ کرنا شارجا! تمہارا کام ہوگیا ہے۔ گھوڑے پر سوار ہو جائو۔ یہ تمہارے لیے لائے ہیں”۔

شارجا کے منہ سے کپڑا اتار دیا گیا تھا، جراح کو اس کی آواز سنائی دی… ”اسے چھوڑ دو، اس کا کوئی قصور نہیں، یہ بہت اچھا آدمی ہے”۔

”اس کی تو ہمیں ضرورت ہے” کسی نے کہا۔

”شارجا!”… کسی نے حکم کے لہجے میں کہا… ‘خاموشی سے اپنے گھوڑے پر سوار ہوجائو”۔

”اوہ!” شارجا کی آواز سنائی دی۔ ”یہ تم ہو؟”

”سوار ہوجائو” کسی نے پھر حکم دیا۔ ”وقت ضائع نہ کرو”۔

اور گھوڑے سرپٹ دوڑ پڑے۔ ذرا سی دیر میں قاہرہ سے نکل گئے۔ شارجا نہایت اچھی سوار تھی۔

٭ ٭ ٭

صبح سنتری بدلنے کا وقت ہوا، نیا سنتری آیا تو رات والا سنتری وہاں نہیں تھا۔ اس نے اندر جاکے دیکھا تو وہاں زخمی سویا ہوا تھا۔ اس کے اوپر کمبل پڑا ہوا تھا، اس کا منہ بھی ڈھکا ہوا تھا۔ نیا سنتری باہر والے دروازے پر جاکر کھڑا ہوگیا۔ اسے معلوم تھا کہ ابھی جراح زخمی کو دیکھنے آئے گا اور علی بن سفیان بھی آئے گا۔ اسے یہ بھی معلوم تھا کہ زخمی کی بہن زخمی کے ساتھ رہتی ہے اور اس کے سوا اندر جانے کی کسی کو اجازت نہیں مگر بہن بھی اسے کہیں نظر نہیں آئی تھی۔ سورج طلوع ہوا تو علی بن سفیان آیا۔ اس نے سنتری سے پوچھا کہ جراح آچکا ہے یا زخمی کو دیکھ کر چلا گیا ہے؟ سنتری نے اسے بتایا کہ جراح نہیں آیا۔ پہلا سنتری یہاں نہیں تھا اور اندر زخمی کی بہن بھی نہیں ہے۔ علی بن سفیان یہ سوچ کر اندر گیا کہ زخمی کی تکلیف بڑھ گئی ہوگی اور اس کی بہن جراح کو بلانے چلی گئی ہوگی۔ علی بن سفیان کے لیے ہی نہیں، یہ زخمی سلطنت اسلامیہ کے لیے مصر جتنا قیمتی تھا۔ اس کے صحت یاب ہونے کا انتظار تھا اور ایک بڑی خطرناک سازش کے بے نقاب ہونے کی توقع تھی۔

وہ تیزی سے اندر گیا، زخمی کے سر سے پائوں تک کمبل پڑا تھا۔ علی بن سفیان کو تازہ خون کی بو محسوس ہوئی۔ اس نے زخمی کے منہ سے کمبل ہٹایا تو یوں بدک کر پیچھے ہٹ گیا جیسے وہ زخمی نہیں اژدہا تھا۔ اس نے وہیں سے باہر کھڑے سنتری کو آواز دی۔ سنتری دوڑتا ہوا اندر گیا۔ علی بن سفیان نے اسے زخمی کا چہرہ دکھاتے ہوئے پوچھا… ”یہ رات والا سنتری تو نہیں؟”… نئے سنتری نے چہرہ دیکھ کر حیرت اور گھبراہٹ سے بوجھل آواز میں کہا… ”یہی تھا، یہ اس بستر میں کیوں سویا ہوا ہے حضور؟ … زخمی کہاں ہے؟”

”یہ سویا ہوا نہیں”۔ علی بن سفیان نے اسے کہا… ”مرا ہوا ہے”۔

اس نے کمبل اٹھا کر پرے پھینک دیا۔ بستر خون سے لال تھا۔ وہ زخمی حشیش نہیں بلکہ رات والے سنتری کی لاش تھی۔ علی بن سفیان نے دیکھا، لاش کے دل کے قریب خنجر کے دو زخم تھے۔ زخمی حشیش غائب تھا۔ علی بن سفیان نے کمرے میں، صحن میں اور باہر زمین کو غور سے دیکھا۔ کہیں خون کا قطرہ بھی نظر نہ آیا۔ اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ سنتری کو زندہ اٹھا کر اندر لایا گیا اور بستر پر لٹا کر اس کے دل میں خنجر مارے گئے۔ اسے تڑپنے نہیں دیا گیا ورنہ خون کے چھینٹے بکھرے ہوئے ہوتے۔ وہ مر گیا تو اس پر کمبل ڈال دیا گیا اور قاتل زخمی قیدی کو اٹھا کر لے گئے اور اس کی بہن کو بھی لے گئے۔ صاف ظاہر تھا کہ زخمی کی بہن نے زخمی کے فرار میں مدد دی ہے۔ وہ جوان اور حسین لڑکی تھی۔ اس نے سنتری کو پھانس لیا

ہوگا۔ اسے اندر لے گئی ہوگی، لڑکی کے ساتھیوں نے سنتری کو بے خبری میں پکڑ لیا ہوگا علی بن سفیان کو اپنی اس غلطی پر تاسف ہوا کہ اس نے زخمی کے چار ساتھیوں کو زخمی سے ملنے کی اجازت دی تھی۔ انہوں نے بتایا تھا کہ وہ زخمی کے چچا زاد اور تایا زاد بھائی ہیں۔ وہ اندر آکر دیکھ گئے تھے کہ یہاں کے حفاظتی اقدامات کیا ہیں۔ اسے بہن کو بھی یہاں رہنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے تھی۔ اس نے یہ بھی یقین نہیں کیا تھا کہ یہ لڑکی زخمی کی بہن تھی یا اس گروہ کی فرد تھی۔

علی بن سفیان کو غصہ آیا اور وہ اپنی بھول پر پچھتایا بھی لیکن اس نے دل ہی دل میں زخمی اور اس کے ساتھیوں کے اتنے کامیاب فرار کو سراہا۔ علی بن سفیان جیسے سراغ رساں کو دھوکہ دینا آسان نہیں تھا۔ وہ لوگ اسے بھی جل دے گئے تھے۔ اس نے نئے سنتری سے کچھ باتیں پوچھیں تو اس نے بتایا کہ اس سے پہلے وہ رات کو بھی پہرے پر کھڑا رہ چکا ہے۔ اس نے لڑکی کو جراح کے ساتھ اس کے گھر جاتے اور رات بہت دیر بعد دونوں کو واپس آتے دیکھا تھا۔ اس سے علی بن سفیان کو شک ہوا کہ لڑکی نے جراح کو بھی اپنے حسن وجوانی کے زیر اثر کرلیا تھا۔ علی نے سنتری سے کہا کہ دوڑ کر جائے اور جراح کو بلا لائے۔ سنتری کے جانے کے بعد وہ سراغ ڈھونڈنے لگا۔ باہر گیا۔ زمین دیکھی۔ اسے پائوں کے نشان نظر آئے لیکن نشان اس کی مدد نہیں کرسکتے۔ زخمی شہر میں تو روپوش نہیں ہوسکتا تھا۔ ایک ہی طریقہ رہ گیا تھا، زخمی کے گائوں پر جہاں سے اس کی بہن کو لایا گیا تھا، چھاپہ مارا جائے۔ وہ گائوں بہت دور تھا۔

سنتری نے واپس آکر بتایا کہ جراح گھر نہیں ہے۔ علی بن سفیان اس کے گھر گیا۔ اس کے ملازم نے بتایا کہ جراح رات بہت دیر بعد ایک لڑکی کے ساتھ باہر نکلا تھا، پھر واپس نہیں آیا۔ اس لڑکی کے متعلق اس اس نے بتایا کہ پہلے بھی جراح کے ساتھ آچکی ہے اور دونوں بہت دیر تک اندر بیٹھے رہے تھے۔ علی بن سفیان کو یقین ہوگیا کہ جراح بھی زخمی کے فرار میں شریک ہے اور یہ لڑکی کے حسن کے جادو کا کمال ہے۔ علی نے اپنے محکمے کے سراغ رسانوں کو بلایا اور انہیں فرار کے متعلق بتایا۔ وہ سب ادھر ادھر بکھر گئے۔ ایک جگہ انہیں بہت سے گھوڑوں کے کھروں کے نشان نظر آئے۔ اردگرد کے رہنے والوں میں سے تین چار آدمیوں نے بتایا کہ رات انہوں نے بہت سے گھوڑے دوڑنے کی آوازیں سنی تھیں ۔ سراغ رساں کھروں کو دیکھتے شہر سے نکل گئے مگر آگے جانا بے کار تھا۔ رات کے بھاگے ہوئے گھوڑوں کو اب کھرے دیکھ دیکھ کر پکڑنا کسی پہلو ممکن نہیں تھا۔ انہیں صرف اتنا اتنا پتا چلا کہ مفرور اس سمت کو گئے ہیں۔ علی بن سفیان کے کرنے کا کام اب یہی رہ گیا تھا کہ قائم مقام امیر مصر تقی الدین کو اطلاع دے دے کہ زخمی حشیش کو اس کے ساتھی اغوا کر کے لے گئے ہیں۔ اسے یہ خیال بھی آیا کہ زخمی نے راز کی جو باتیں بتائی تھیں وہ بے بنیاد تھیں اور اس نے اپنی جان بچانے اور فرار کا موقعہ پیدا کرنے کے یے یہ چال چلی تھی۔ وہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو بھی علی بن سفیان کو بھی الو بنا گیا تھا۔

آدھا دن گزر گیا تھا جب علی بن سفیان تقی الدین کو اطلاع دینے کے لیے چلا گیا۔ اس وقت اس کا زخمی قیدی جو کھڑا ہونے کے بھی قابل نہیں تھا، وہ قاہرہ سے بہت دور ایک ویرانے میں پہنچ چکا تھا مگر وہ زندہ نہیں تھا۔ جراح کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے تھے اور وہ ایک گھوڑے پر بے جان چیز کی طرح پڑا تھا۔ اس کی ٹانگیں گھوڑے کے ایک طرف اوپر کا دھڑ اور بازو دوسری طرف تھے۔ رات بھر وہ اسی حالت میں رہا تھا۔ صبح کا اجالا صاف نہیں ہوا تھا جب گھوڑے رکے۔ جراح کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی۔ اسے پٹی باندھنے والا آدمی نظر نہ آسکا کیونکہ اس کا سر نیچے تھا۔ پٹی بندھ جانے کے بعد اس کے پائوں کھول دیئے گئے اور اسے گھوڑے پر بٹھا دیا گیا۔ اس کے ہاتھ بندھے رہے۔ اس کے پیچھے ایک آدمی گھوڑے پر سوار ہوگیا اور گھوڑے ذرا سے آرام کے بعد پھر چل پڑے۔ اسے اتنا ہی پتا چل سکتا تھا کہ اس کے پیچھے چند اورگھوڑے آرہے ہیں اور سوار آہستہ آہستہ باتیں کررہے ہیں…

گھوڑے چلتے گئے اور سورج اوپر اٹھتا گیا پھر جراح نے محسوس کیا کہ گھوڑا چڑھائی چڑھ رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر دائیں بائیں مڑ رہا ہے۔ یہ نیچے اتر رہا ہے۔ اس سے وہ اندازہ کررہا تھا کہ یہ علاقہ ٹیلوں اور کھائیوں کا ہے۔

بہت دیر بعد جب سورج سر پر آگیا تھا، اسے پیچھے سے بلند آوازیں سنائی دیں جن سے اسے پتا چلا کہ کوئی سوار گر پڑا ہے۔ اس کا گھوڑا رک گیا اور پیچھے کو مڑا۔ اسے اس طرح کی آوازیں سنائی دیں… ”اٹھا لو… سائے میں لے چلو، بے ہوش ہوگیا ہے، اوہ خدایا اس کا خون بہہ رہا ہے”… اسے شارجا کی گھبرائی ہوئی آواز سنائی دی… جراح کی آنکھیں اور ہاتھ کھول دو۔ وہ خون روک لے گا ورنہ میرا بھائی مر جائے” … یہ زخمی حشیش تھا جو گھوڑے سے گر پڑا تھا۔ رات بھر کی گھوڑ سواری سے اور گھوڑا اتنی تیز بھگانے سے اس کے پیٹ کا زخم کھل گیا تھا اور ران کے زخم سے بھی خون جاری ہوگیا تھا۔ وہ درد کو برداشت کرتا رہا تھا، خون نکلتا رہا۔ آخر یہاں آکر خون اتنا نکل گیا کہ اس پر غشی طاری ہوگئی اور وہ گھوڑے سے گر پڑا۔ اسے اٹھا کر ایک ٹیلے کے سائے میں لے گئے اس کے منہ میں پانی ڈالا لیکن پانی حلق سے نیچے نہ گیا۔ اس کے کپڑے خون سے تر ہوگئے تھے۔

جراح کی آنکھیں کھول دی گئی اور اسے کہا گیا کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ اس نے اپنی پیٹھ میں خنجر کی نوک محسوس کی۔ وہ آگے آگے چل پڑا۔ ٹیلے کے دامن میں زخمی پڑا تھا اور شارجا اس کے پاس بیٹھی تھی۔ اس نے جراح سے کہا… ”خدا کے لیے میرے بھائی کو بچائو”… جراح نے سب سے پہلے زخمی کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ اس کے لیے حکم تھا کہ وہ ادھر ادھر نہ دیکھے۔ وہ بیٹھ گیا تھا اور زخمی کی نبض دیکھ رہا تھا۔ اس کی پیٹھ میں خنجر کی نوک چبھ رہی تھی، زخمی کی نبض محسوس کرکے وہ تیزی سے اٹھا اور پیچھے کو مڑا، اس کے سامنے چار آدمی کھڑے تھے جن کے چہرے سیاہ نقابوں میں تھے۔ ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ ان میں سے ایک کے ہاتھ میں خنجر تھا۔ جراح نے غصے سے کہا… ”تم سب پر اللہ کی لعنت برسے۔ تم نے اسے بچانے کے بجائے اس کی جان لے لی ہے۔ تم سب اس کے قاتل ہو۔ یہ مر چکا ہے۔ ہم نے اسے چارپائی سے ہلنے بھی نہیں دیا تھا اور تم اسے گھوڑے پر بٹھا کر لائے۔ اس کے زخم کھل گئے اور جسم کا تمام خون ضائع ہوگیا’۔

شارجا بھائی کی لاش پر گر پڑی اور چیخیں مار مار کر ر ونے لگی۔ نقاب پوشوں نے جراح کو شارجا کے رونے اور چلانے کی جگر سوز آوازیں سنائی دیتی رہیں۔ جراح کے گھوڑے پر جو سوار تھا اس سے جراح نے کہا کہ یہ زخمی بالکل ٹھیک ہوسکتا تھا مگر تم لوگوں نے اسے مار دیا۔ اسے کوئی سزا نہ ملتی، سوار نے کہا… ”ہم اسے زندہ رکھنے کے لیے نہیں لائے تھے، ہم نے دراصل وہ راز اغوا کیا ہے جو اس کے پاس تھا۔ اس کے مرنے کا ہمیں کوئی غم نہیں، ہم خوش ہیں کہ تم اور تمہاری حکومت اس راز سے بے خبر ہے جو اس کے سینے میں تھا”۔

”مجھے تم لوگ کس جرم کی سزا دے رہے ہو؟” جراح نے پوچھا۔

”ہم تمہیں پیغمبروں کی طرح رکھیں گے”۔ سوار نے جواب دیا… ”تمہیں گرم ہوا بھی نہیں لگنے دی جائے گی۔ ہم تمہیں اس لیے لائے تھے کہ راستے میں زخمی کو تکلیف ہوگئی تو اس کی مرہم پٹی کرو گے مگر ہم نے یہ نہیں سوچا کہ تمہارے پاس نہ کوئی دوائی ہے نہ مرہم۔ تمہیں اغواء کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ہم اس لڑکی کو بھی ساتھ لانا چاہتے تھے۔ ہم اسے ہی لاتے تو تم جو اس کے ساتھ تھے ہمارے تعاقب میں پوری فوج بھگا دیتے۔ اس لیے تمہیں بھی اٹھا لانا ضروری تھا۔ تیسری وجہ یہ

ہے کہ ہمیں ایک جراح کی ضرورت ہے۔ تمہیں ہم اپنے ساتھ رکھیں گے”۔

”میں ایسے کسی آدمی کا علاج نہیں کروں گا جو میری حکومت کے خلاف ہوگا”… جراح نے کہا… ”تم سب صلیبیوں اور سوڈانیوں اور فاطمیوں کے دوست ہو اور ان کے اشاروں پر سلطنت اسلامیہ کے خلاف تخریب کاری کررہے ہو، میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا”۔

”پھر تم قتل ہوجائو گے”۔ سوار نے کہا۔

”یہ میرے لیے بہتر ہوگا”۔ جراح نے جواب دیا۔

”پھر ہم تمہارے ساتھ وہ سلوک کریں گے جو تمہارے لیے بہتر نہیں ہوگا”… سوار نے جواب دیا… ”پھر تم ہمارا ہر حکم مانو گے لیکن میں تمہیں یہ بھی بتا دیتا ہوں کہ برے سلوک کی نوبت ہی نہیں آئے گی۔ تم نے صلاح الدین ایوبی کی بادشاہی دیکھی ہے۔ ہماری بادشاہی دیکھو گے تو اپنی زبان سے کہو گے کہ میں یہیں رہنا چاہتا ہوں، یہ تو جنت ہے اگر تم نے ہماری جنت کو ٹھکرا دیا تو ہم تمہیں اپنا جہنم دکھائیں گے”۔

گھوڑے چلتے رہے، جراح آنکھوں پر بندھی ہوئی پٹی کے اندھیرے میں اپنے مستقبل کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا۔ وہ فرار کی ترکیبیں بھی سوچتا رہا۔ اسے باربار شارجا کا خیال آتا مگر وہ یہ سوچ کر مایوس ہوجاتا تھا کہ یہ لڑکی بھی اسی گروہ کی ہے وہ اس کی مدد نہیں کرے گی۔

٭ ٭ ٭

ان کا سفر اتنا لمبا نہیں تھا لیکن سرحدی دستوں اور ان کے گشتی سنتریوں کے ڈر سے مجرموں کا یہ قافلہ بچ بچ کر، چھپ چھپ کر اور بڑی دور کا چکر کاٹ کر جارہا تھا۔ شام کے بعد بھی یہ قافلہ چلتا رہا اور رات گزرتی رہی۔ آدھی رات سے ذرا پہلے قافلہ رک گیا۔ جراح کو گھوڑے سے اتار کر اس کے ہاتھ کھول دئیے اور چونکہ اندھیرا تھا اس لیے اس کی آنکھوں سے پٹی بھی کھول دی گئی۔ اسے کھانے کو کچھ دیا گیا، پانی بھی پلایا گیا۔ اس کے بعد اس کے ہاتھ بھی باندھ دیئے گئے اور پائوں بھی اور اسے سوجانے کو کہا گیا۔ سوار تھکے ہوئے تھے، اس سے ایک رات پہلے کے جاگے ہوئے تھے۔ لیٹے اور سوگئے۔ گھوڑوں کو زینیں اتار کر ذرا پرے باندھ دیا گیا تھا۔ جراح کے بھاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ بندھا ہوا تھا وہ بھی سوگیا۔

کچھ دیر بعد اس کی آنکھ کھل گئی وہ سمجھا کہ اسے روانگی کے لیے جگایا جارہا ہے لیکن کوئی اس کے پائوں کی رسی کھول رہا تھا۔ وہ چپ چاپ پڑا رہا۔ وہ مرنے کے لیے بھی تیار ہوگیا، اسے یہ بھی توقع تھی کہ اسے قتل کرکے پھینک جائیں گے لیکن پائوں کی رسی کھلنے کے بعد جب یہ سایہ اس کے ہاتھوں کی رسی کھولنے لگا تو اس نے جھک کر جراح کے کان میں کہا… ”میں نے دو گھوڑوں پر زینیں کس دی ہیں، خاموشی سے میرے پیچھے آئو، میں تمہارے ساتھ چلوں گی۔ وہ بے ہوشی کی نیند سوئے ہوئے ہیں”… یہ شارجا کی آواز تھی۔

جراح آہستہ سے اٹھا اور شارجا کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ ریت پر پائوں کی آہٹ پیدا ہی نہیں ہوتی تھی۔ آگے دو گھوڑے کھڑے تھے۔ ایک پر شارجا سوار ہوگئی، دوسرے پر جراح سوار ہوگیا۔ شارجا نے کہا…” اگر تم اچھے سوار نہیں ہو تو ڈرنا نہیں، گروگے نہیں ایڑی لگائو اور لگام ڈھیلی چھوڑ دو۔ گھوڑے دائیں کو دائیں بائیں موڑنا تو جانتے ہوگے”… جراح نے جواب دیئے بغیر گھوڑے کو ایڑی لگائی۔ شارجہ کا گھوڑا بھی اس کے ساتھ ہی دوڑا۔ دوڑتے گھوڑے سے شارجا نے کہا…”میرے پیچھے رہو۔ میں راستہ جانتی ہوں۔ اندھیرے میں مجھ سے الگ نہ ہوجانا”۔

سرپٹ بھاگتے گھوڑوں نے مجرموں کو جگا دیا لیکن تعاقب آسان نہیں تھا۔ انہیں پہلے تو دیکھنا تھا کہ یہ کس کے گھوڑے ہیں، انہیں شارجا کے بھاگنے کا خطرہ ہی نہیں تھا۔ کچھ وقت دیکھنے میں لگ گیا ہوگیا کہ وہ کون تھے اور ذرا دیر بعد ہی انہیں پتا چلا ہوگا کہ شارجا اور جراح بھاگ گئے ہیں۔ پھر انہیں اپنے گھوڑوں پر زینیں ڈالنی تھیں۔ اس میں اتنا وقت صرف ہوگیا ہوگا کہ بھاگنے والے دو اڑھائی میل دور نکل گئے ہوں گے… شارجا اور جراح نے باربار پیچھے دیکھا، آوازیں سننے کی بھی کوشش کی۔ انہیں یقین سا ہورہا تھا کہ ان کے تعاقب میں کوئی نہیں آرہا۔ وہ ابھی گھوڑوں کی رفتار کم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے۔ اس لیے ایڑی لگاتے چلے گئے۔ آخر وہ حد آگئی جہاں گھوڑے خود ہی آہستہ ہونے لگے لیکن وہ بہت دور نکل گئے تھے۔ جراح نے شارجا سے کہا کہ یہاں کہیں نہ کہیں کوئی سرحدی دستہ ہونا چاہیے مگر اسے معلوم نہیں تھا کہ کہاں ہوگا۔ شارجا کو بھی معلوم نہیں تھا اس نے جراح کو بتایا کہ وہ ان دستوں سے بچنے کے لیے دور کے راستے سے گئے تھے ورنہ اس کا گائوں دور نہیں تھا۔ اس نے اسے یہ یقین دلایا کہ وہ قاہرہ کی صحیح سمت کو جارہے ہیں اور قاہرہ دور نہیں۔

اگلا دن آدھا گزر گیا تھا جب علی بن سفیان قائم مقام امیر مصر تقی الدین کے سامنے بیٹھا تھا۔ تقی الدین کہہ رہا تھا… ”میں اس پر حیران نہیں کہ آپ جیسے تجربہ کار حاکم نے یہ غلطی کی تھی کہ مشکوک لڑکی کو زخمی قیدی کے پاس رہنے کی اجازت دے دی اور چار مشکوک افراد کو بھی زخمی کے پاس لے گئے۔ میں اس پر حیران ہوں کہ یہ گروہ اتنا زیادہ دلیر اور منظم ہے۔ زخمی کو اٹھالے جانا، سنتری کو قتل کرکے زخمی کے بستر پر ڈال جانا، دلیرانہ اقدام بھی ہے اور یہ ایک منظم جرم ہے”۔

”میرا خیال ہے کہ اس جرم کو جراح اور لڑکی نے آسان بنایا ہے”۔ علی بن سفیان نے کہا… ”اس جرم میں بھی ہماری قوم کی اسی کمزوری نے کام کیا ہے جس کے متعلق صلاح الدین ایوبی پریشان رہتے ہیں اور کہا کرتے ہیں کہ عورت اور اقتدار کا نشہ ملت اسلامیہ کو لے ڈوبے گا۔ جراح کو میں نیک اور صاحب کردار سمجھتا تھا مگر ایک لڑکی نے اسے بھی اندھا کردیا۔ بہرحال زخمی قیدی کے گائوں کا پتا چل گیا ہے میں نے ایک دستہ روانہ کردیا ہے”۔

”اور جنوب مغربی علاقے کے جس کھنڈر کا زخمی قیدی نے ذکر کیا تھا اس کے متعلق آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟” تقی الدین نے پوچھا۔

”مجھے شک ہے کہ اس نے جھوٹ بولا تھا”… علی بن سفیان نے جواب دیا۔ ”اس نے اپنی جان بچانے کے لیے یہ بے بنیاد قصہ گھڑا تھا، تاہم اس علاقے کی سراغ رسانی کی جائے گی”۔

وہ اسی مسئلے پر باتیں کررہے تھے کہ دربان نے اندر آکر ایسی اطلاع دی جس نے دونوں کو سن کردیا۔ انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا، ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے ان کی زبانیں بولنے سے معذور ہوگئی ہوں۔ علی بن سفیان اٹھا اور یہ کہہ کر باہر نکل گیا۔ ”کوئی اور ہوگا”… اس کے پیچھے تقی الدین بھی باہر نکل گیا مگر وہ کوئی اور نہیں ان کا اپنا جراح ان کے سامنے کھڑا تھا اور اس کے ساتھ زخمی قیدی کی بہن شارجا تھی۔ ان کے گھوڑے بری طرح ہانپ رہے تھے، جراح اور شارجا کے چہرے اور سر گرد سے اٹے ہوئے تھے۔ ہونٹ خشک اور منہ کھلے ہوئے تھے۔ علی بن سفیان نے ذرا غصے سے پوچھا… ”قیدی کو کہاں چھوڑ آئے؟”… جراح نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ ہمیں ذرا دم لینے دو۔ دونوں کو اندر لے گئے۔ ان کے لیے پانی اور کھانا وغیرہ منگوایا گیا۔

جراح نے تفصیل سے بتایا کہ وہ کس طرح اغوا ہوا تھا اور سفر میں زخمی قیدی مرگیا ہے۔ اسے بالکل علم نہیں تھا کہ

زخمی قیدی کو بھی اغوا کیا گیا ہے۔ یہ اسے اگلے روز سفر میں پتا چلا جب زخمی گھوڑے سے گرا اور زخم کھل جانے کی وجہ سے مرگیا۔ جراح کو جس طرح شارجا نے آزاد کرایا اور اس کے ساتھ بھاگی وہ بھی تفصیل سے سنایا… شارجا نے اپنا بیان دیا تو علی بن سفیان جان گیا کہ یہ صحرائی لڑکی ہے، اجڈ اور دلیر ہے اور یہ اتنی چالاک نہیں جتنا سمجھا گیا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کے سہارے اور اسی کی خاطر زندہ تھی۔ اس بھائی کی خاطر وہ جان دینے کے لیے بھی تیار رہتی تھی۔ جراح نے جس خلوص سے اس کے بھائی کا علاج کیا اس سے وہ اتنی متاثر ہوئی کہ اس کی مرید بن گئی۔ جراح کو وہ فرشتہ سمجھنے لگی۔ پہلے روز اس کے ساتھ جو چار آدمی آئے تھے وہ اس کے کچھ نہیں لگتے تھے۔ وہ اس کے چچا اور تایا زاد بھائی نہیں تھے۔ وہ اسی گروہ کے آدمی ہیں جو صلاح الدین ایوبی کو اور اس کے اعلیٰ حاکموں کو قتل کرنا چاہتا ہے۔ جب علی بن سفیان کے آدمی شارجا کے گائوں اسے ساتھ لانے گئے تھے اس وقت یہ چاروں آدمی گائوں میں تھے۔ انہیں پتا چلا کہ شارجا کا بھائی زخمی ہوکر قید ہوگیا ہے تو وہ اس ارادے سے ساتھ چل پڑے کہ زخمی کو اغوا کریں گے۔ انہیں ڈر یہ تھا کہ زخمی کے پاس جو راز ہے وہ فاش نہ ہو۔ وہ جانتے تھے کہ زخمی کہاں اور کس کارروائی میں زخمی ہوا ہے۔

شارجا کے بیان کے مطابق اس کا ارادہ بھی یہی تھا کہ بھائی کو اغوا کرائے گی۔ اس نے بھائی کے پاس رہنے کی جو التجا کی تھی اس سے اس کے دو مقصد تھے۔ ایک یہ کہ بھائی کی خدمت اور دیکھ بھال کرے گی اور دوسرا یہ کہ موقع ملا تو اسے اغوا کرائے گی۔ وہ چاروں آدمی زخمی سے مل کر واپس نہیں گئے بلکہ قاہرہ میں ہی رہے تھے۔ وہ شارجا کے اشارے کے منتظر تھے لیکن جراح نے لڑکی کو اتنا متاثر کیا کہ اس کی سوچ ہی بدل گئی۔ جراح نے اسے یقین دلایا کہ اس کے بھائی کو کوئی سزا نہیں ملے گئی۔ اس کے علاوہ جواح نے اسے ایسی باتیں بتائیں جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھیں۔ جراح نے اس کے اندر اسلام کی عظمت بیدار کردی تھی اور اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرکے اسے اپنا مرید بنا لیا تھا۔ وہ ہر وقت جراح کے پاس بیٹھ کر اس کی باتیں سننے کے لیے بیتاب رہنے لگی۔ ایک روز وہ جراح کے گھر جارہی تھی تو اسے ان چاروں میں سے ایک آدمی راستے میں مل گیا۔ اس نے شارجہ سے کہا کہ زخمی کے اغوا میں اب دیر نہیں ہونی چاہیے۔ شارجا نے اسے کہا کہ وہ ارادہ بدل چکی ہے۔ اس کا بھائی یہیں رہے گا۔ اس آدمی نے شارجا سے کہا کہ اگر اس نے شہر میں آکر اپنا دماغ خراب کرلیا ہے تو اسے قتل کردیا جائے گا۔ زخمی یہاں نہیں رہے گا۔

شارجا کو توقع تھی کہ یہ چاروں اتنی دلیری سے اس کے بھائی کو اغوا کرلیں گے۔ اس نے انہیں فیصلہ سنا دیا کہ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرے گی۔ اس آدمی نے اسے کہا… ”ہم تمہاری ہر ایک حرکت کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ تم نے جراح کو پھانس لیا ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ تم خود اس کے جال میں پھنس گئی ہو۔”

شارجا نے اسے دھتکار دیا۔ اسے چونکہ توقع نہیں تھی کہ وہ لوگ اتنی دلیری کا مظاہرہ کرسکیں گے۔ اس لیے اس نے جراح کے ساتھ بھی ذکر نہ کیا کہ اس کے زخمی بھائی کے اغواء کا خطرہ ہے۔ اسی رات شارجا اور جراح ان چاروں کے چنگل میں آگئے۔ انہیں جب گھوڑوں پر سوار کرانے کے لیے اٹھالے گئے تو اس نے دیکھا کہ ایک گھوڑے پر اس کا زخمی بھائی بیٹھا تھا۔ اس وقت وہ کچھ خوش ہوئی کہ اس کا بھائی آزاد ہوگیا ہے۔ وہ فرار پر آمادہ ہوگئی لیکن جراح کو ان لوگوں کی قید میں نہیں دیکھنا چاہتی تھی۔ اس نے انہیں کہا بھی کہ اسے چھوڑ دو لیکن وہ نہ مانے۔ اس کے ہاتھ اور پائوں باندھ کر گھوڑے پر ڈال لیا۔ راستے میں شارجا کو بتایا گیا کہ اس کے بھائی کو کس طرح اغواء کیا گیا ہے۔ وہاں صرف دو آدمی گئے تھے۔ ایک نے سنتری سے کہیں کا راستہ پوچھنے کے بہانے اسے باتوں میں لگا لیا دوسرے نے پیچھے سے اس کی گردن جکڑ

Read More:  Hijab Novel By Amina Khan – Episode 32

لی اور دونوں اسے اٹھا کر اندر لے گئے۔ زخمی انہیں دیکھ کر اٹھ بیٹھا، اس کے بستر پر سنتری کو لٹا دیا گیا اور اس کے دل پر خنجر کے دو گہرے وار کرکے اسے ختم کردیا گیا پھر اس پر کمبل ڈال دیا گیا۔ دونوں نے زخمی قیدی کو اٹھایا اور نکل گئے۔ انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شارجا جراح کے گھر میں ہے۔ انہیں ڈر تھا کہ وہ نہیں مانے گی اور اغواء ناکام بنا دے گی لیکن اسے بھی وہاں سے غائب کرنا ضروری تھا کیونکہ اس کے پاس بھی ایک راز تھا۔ دو آدمی گھات میں بیٹھے تھے جونہی جراح اور شارجا تنگ اور تاریک گلی میں آئے تو انہیں جکڑ لیا گیا اور اغواء کامیاب ہوگیا۔

٭ ٭ ٭
علی بن سفیان جیسا گھاگھ سراغ رساں کوئی اور تجربہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جراح اور شارجا کے بیانوں پر فوری اعتبار نہ کیا۔ یہ بھی سازش کی ایک کڑی ہوسکتی تھی۔ اس نے دونوں کو الگ کردیا اور ان سے اپنے انداز سے پوچھ گچھ کی۔ جراح دانشمند آدمی تھا، اس نے علی بن سفیان کو قائل کرلیا کہ اس نے جو بیان دیا ہے وہ لفظ بہ لفظ درست ہے۔ اس نے کہا کہ ایک تو جذباتی پہلو تھا، اس لڑکی کی شکل وصورت اس کی مری ہوئی بہن سے ملتی جلتی تھی، اس لیے وہ اسے اچھی لگی اور وہ اسے اپنے گھر بھی لے جاتا اور زخمی کے مکان میں بھی اس کے ساتھ زیادہ وقت بیٹھا رہتا تھا۔ جراح نے بتایا کہ اس کے اس سلوک سے لڑکی اتنی متاثر ہوئی کہ اس نے اپنے کچھ شکوک اس کے سامنے رکھ دئیے۔ یہ اس لڑکی کا دوسرا پہلو تھا جس پر جراح نے زیادہ توجہ دی۔ لڑکی مسلمان تھی لیکن معلوم ہوتا تھا کہ اس پر بڑے ہی خطرناک اثرات جو باہر سے آئے تھے، کام کررہے تھے۔ جراح نے اس کے ذہن سے یہ اثرات صاف کردئیے۔ لڑکی چونکہ پسماندہ ذہن کی تھی، صحرا کے دوردراز گوشے کی رہنے والی تھی اس لیے اس کے ذہن میں جو کچھ ڈالا گیا وہ اسی کو صحیح سمجھتی تھی۔ اس کی باتوں سے یہ انکشاف ہوا کہ اس علاقے میں اسلام کے منافی اثرات اور صلاح الدین ایوبی کے خلاف تخریب کاری زورشور سے اور بلا روک ٹوک جاری ہے۔

شارجا سے علی بن سفیان نے کوئی بیان نہیں لیا، اس پر سوال کرتا رہا اور اس کے جوابوں سے ایک بیان مرتب ہوگیا۔ اس نے فرعونوں کے اس کھنڈر کے متعلق وہی انکشاف کیا جو بیان کیا جاچکا تھا۔ وہ بھی اس کھنڈر کے اس پراسرار آدمی کی معتقد تھی جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا اور اس کی صرف آواز سنائی دیتی ہے۔ شارجا نے بتایا کہ اس کا بھائی فوج میں تھا اور وہ گھر میں اکیلی رہتی تھی۔ اسے گائوں کے کچھ لوگوں نے کہا تھا کہ وہ اس کھنڈر میں چلی جائے کیونکہ وہ مقدس انسان خوبصورت کنواریوں کو بہت پسند کرتا ہے۔ شارجا پر علی بن سفیان کی ماہرانہ جرح سے لڑکی کے سینے سے یہ راز بھی نکل آیا کہ اس کے گائوں کی تین کنواری لڑکیاں اس کھنڈر میں چلی گئیں تھیں پھر واپس نہیں آئیں۔ ایک بار اس کا بھائی گائوں آیا تھا، شارجا نے اس سے پوچھا کہ وہ کھنڈر چلی جائے؟ بھائی نے اسے منع کردیا تھا۔ شارجا اچھی طرح بیان تو نہ کرسکی لیکن یہ پتا چل گیا کہ مصر کے جنوب مغربی علاقے میں کیا ہورہا ہے۔ جراح کے متعلق لڑکی نے بتایا کہ اسے اگر گائوں میں لے جاتے اور قید میں ڈ ال دیتے تو وہاں سے بھی وہ اسے اپنی جان کی بازی لگا کر آزاد کرادیتی۔ اس کا جب بھائی مر گیا تو اس نے گائوں تک جانے کا ارادہ ترک کردیا اور تہیہ کرلیا کہ وہ جراح کو یہیں سے آزاد کرائے گی۔ ان چاروں مجرموں کو وہ اپنا ہمدرد سمجھا کرتی تھی لیکن جراح نے اسے بتایا تھا کہ یہ اللہ کے بہت بڑے مجرم ہیں۔ ان کے متعلق اسے یہ بھی پتا چل گیا تھا کہ انہیں اس کے بھائی کیساتھ ہمدردی نہیں بلکہ اس راز سے دلچسپی تھی جو اس کے پاس تھا۔ اسی لیے انہوں نے اسے مار دیا۔

علی بن سفیان نے اس سے پوچھا کہ وہ اب کیا کرنا چاہتی ہے اور اپنے متعلق اس نے کیا سوچا ہے۔ اس نے

جواب دیا کہ وہ ساری عمر جراح کے قدموں میں گزار دے گی اور اگر جراح اسے آگ میں کود جانے کو کہے گا تو وہ کود جائے گی۔ اس نے اس پر رضامندی کا اظہار کیا کہ وہ کھنڈر تک جانے والوں کی رہنمائی کرے گی اور اپنے علاقے کے ہر اس فرد کو پکڑوائے گی جو مصر کی حکومت کے خلاف کام کررہا ہے۔

علی بن سفیان کے مشورے پر فوج اور انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کا اجلاس بلایا گیا اور صورت حال تقی الدین کے سامنے رکھی گئی۔ سب کا یہ خیال تھا کہ تقی الدین مصر میں نیا نیا آیا ہے اور اتنی بڑی ذمہ داری بھی اس کے سر پر پہلی بار پڑی ہے، اس لیے وہ محتاط فیصلے کرے گا اور شاید کوئی خطرہ مول نہ لینا چاہے۔ اجلاس میں بیشتر حکام نے اس پر اتفاق کیا کہ چونکہ اتنے وسیع علاقے کی اتنی زیادہ آبادی گمراہ کردی گئی ہے، اس لیے اس آبادی کے خلاف کارروائی نہ کی جائے۔ مسئلہ یہ تھا کہ کھنڈرات کے اندر کے جو حالات معلوم ہوئے تھے ان سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہاں سے ایک نیا عقیدہ نکلا ہے جسے لوگوں نے قبول کرلیا ہے۔ لہٰذا یہ لوگ اپنے معبد اورعقیدے پر فوجی حملہ برداشت نہیں کریں گے۔ اس کا حل یہ پیش کیا گیا کہ اس علاقے میں اپنے معلم، عالم اور دانشور بھیجے جائیں جو لوگوں کو راہ راست پر لائیں۔ ان کے جذبات کو مجروح نہ کیا جائے… اجلاس میں ایک مشورہ یہ بھی پیش کیا گیا کہ سلطان ایوبی کو صورت حال سے آگاہ کیا جائے اور ان سے حکم لے کر کارروائی کی جائے۔

”اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ انسانوں سے ڈرتے ہیں”… تقی الدین نے کہا… ”اور آپ کے دل میں خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ڈر نہیں جن کے سچے مذہب کی وہاں توہین ہورہی ہے۔ امیر مصر اورسالار اعلیٰ کو خبر تک نہیں دی جائے گی کہ مصر میں کیا ہورہا ہے۔ کیا آپ اس سے بے خبر ہیں کہ وہ میدان جنگ میں کتنے طاقتور دشمن کے مقابلے میں سینہ سپر ہیں؟ کیا آپ صلاح الدین ایوب کو یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ ہم سب دوچار ہزار گناہ گاروں اور دشمنان دین سے ڈرتے ہیں؟ میں براہ راست کارروائی کا اور بڑی ہی سخت کارروائی کا قائل ہوں”۔

”گستاخی معاف امیر محترم!”… ایک نائب سالار نے کہا…” صلیبی ہم پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلایا گیا ہے۔ ہم اس الزام کی تردید عملی طور پر کرنا چاہتے ہیں۔ ہم پیار اور خلوص کا پیغام لے کر جائیں گے”۔

”تو پھر اپنی کمر کے ساتھ تلوار کیوں لٹکائے پھرتے ہو؟” …تقی الدین نے طنزیہ لہجے میں کہا… ”فوج پر اتنا خرچ کیوں کررہے ہو؟ کیا اس سے یہ بہتر نہیں کہ ہم فوج کو چھٹی دے دیں اور ہتھیار دریائے نیل میں پھینک کر مبلغوں کا ایک گروہ بنا لیں اور درویشوں کی طرح گائوں گائوں، قریہ قریہ دھکے کھاتے پھریں؟” … تقی الدین نے جذباتی لہجے میں کہا۔ ”اگر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیغام کے خلاف صلیب کی تلوار نکلے گی تو اسلام کی شمشیر نیام میں نہیں پڑی رہے گی اور جب شمشیر اسلام نیام سے نکلے گی تو ہر اس سر کو تن سے جدا کرے گی جو کلمہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتا ہے، وہ ہر اس زبان کو کاٹے گی جو کلمہ حق کو جھٹلاتی ہے۔ صلیبی اگر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ ہم نے اسلام تلوار کے زور پر پھیلایا ہے تو میں ان سے معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ سلطنت اسلامیہ کیوں سکڑتی چلی آرہی ہے؟ خود مسلمان کیوں اسلام کے دشمن ہوئے جارہے ہیں؟ صرف اس لیے کہ صلیبیوں نے عورت اور شراب سے، زروجواہرات اور ہوس اقتدار سے اسلام کی تلوار کو زنگ آلود کردیا ہے۔ وہ ہم پر جنگ پسندی اور تشدد کا الزام عائد کرکے ہماری عسکریت روایات کو ختم کرنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ہمارے خلاف لڑ نہیں سکتے۔ ان کے بری لشکر اور بحری بیڑے ناکام ہوگئے ہیں۔ وہ ہمارے درمیان تخریب کاری کررہے ہیں، اللہ کے سچے دین کی جڑیں کاٹ رہے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائو۔

”غور سے سنو میرے دوستو! صلیبی اور آپ کے دوسرے دشمن آپ کو محبت کا جھانسہ دے کر آپ کے ہاتھ سے تلوار لینا چاہتے ہیں۔ وہ آپ کی پیٹھ پر وار کرنا چاہتے ہیں، ان کا یہ اصول محض ایک فریب ہے کہ کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کردو۔ کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جسے یہ معلوم نہیں کہ کرک میں وہ مسلمان آبادی کا کیا حشر کررہے ہیں؟ کیا آپ نے شوبک فتح کرکے وہاں مسلمانوں کا بیگار کیمپ نہیں دیکھا تھا؟ وہاں مسلمان عورتوں کی جو انہوں نے عصمت دری کی، وہ نہیں سنی تھیں؟ مقبوضہ فلسطین میں مسلمان خوف اور ہراس کی، بے آبر وئی اور مظلومیت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ صلیبی مسلمانوں کے قافلے لوٹتے اور عورتوں کو اغوا کرکے لے جاتے ہیں اور آپ کہتے ہیں کہ اسلام کے نام پر تلوار اٹھانا جرم ہے۔ اگر یہ جرم ہے تو میں اس جرم سے شرمسار نہیں۔ صلیبیوں کی تلوار نہتوں کو کاٹ رہی ہے، صرف اس لیے کہ وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام لیوا ہیں۔ صلیب اور بتوں کے پجاری نہیں… تمہاری تلوار صرف وہاں ہاتھ سے گر پڑنی چاہیے، جہاں سامنے نہتے ہوں اور ان تک خدا کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ ہمیں اس اصول کا قائل نہیں ہونا چاہیے کہ لوگوں کے جذبات پر حملہ نہ کرو۔ میں نے دیکھا ہے کہ عرب میں چھوٹے چھوٹے مسلمان حکمران اور نااہل امراء لوگوں کو خوش کرنے کے لیے بڑے دلکش اور دلوں کو موہ لینے والے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ ان کے غلط جذبات اور احساسات کو اور زیادہ بھڑکا کر انہیں خوش رکھتے ہیں تاکہ لوگ انہیں عیش وعشرت سے اور غیر اسلامی طرز زندگی سے روک نہ سکیں۔ ان امراء کا طریق کار یہ ہے کہ انہوں نے خوشامدیوں کا ایک گروہ پیدا کرلیا ہے جو ان کی ہر آواز پر لبیک کہتا ہے اور رعایا میں گھوم پھر کر ثابت کرتا رہتا ہے کہ ان کے امیر نے جو بات کہی ہے وہ خدا کی آواز ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کے بندے، بدکار اور عیاش انسانوں کے غلام ہوتے چلے جارہے ہیں۔ قوم حاکم اور محرم میں تقسیم ہوتی چلی جارہی ہے”۔

”ہم دیکھ رہے ہیں کہ دشمن ہماری جڑیں کاٹ رہا ہے اور ہماری قوم کے ایک حصے کو کفر کی تاریکیوں میں لے جارہا ہے اگر ہم نے سخت رویہ اختیار نہ کیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم کفر کی تائید کررہے ہیں۔ میرے بھائی صلاح الدین ایوبی نے مجھے کہا تھا کہ غداری ہماری روایت بنتی جارہی ہے لیکن میں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ یہ بھی روایت بنتی جارہی ہے کہ ایک ٹولہ حکومت کیا کرے گا اور قوم محکوم ہوگی۔ حکمران ٹولہ قوم کا خزانہ شراب میں بہائے گا اور قوم پانی کے گھونٹ کو بھی ترسے گی۔ میرے بھائی نے ٹھیک کہا تھا کہ ہمیں قوم اور مذہب کے مستقبل پر نظر رکھنی ہے۔ ہمیں قوم میں وقار اور کردار کی بلندی پیدا کرنی ہے۔ آنے والی نسلیں ہماری قبروں سے جواب مانگیں گی۔ اس مقصد کے لیے ہمیں ایسی کارروائی سے گریز نہیں کرنا چاہیے جو ملک اور مذہب کے لیے سود مند ہو اگر یہ برحق اقدام قوم کے چند ایک افراد کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے تو ہمیں اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ ہم قوم کا مفاد اور وقار چند ایک افراد کی خوشنودی پر قربان نہیں کرسکتے۔ ہم ملک کے ایک اتنے بڑے حصے کو صرف اس لیے دشمن کی تخریب کاری کے سپرد نہیں کرسکتے کہ وہاں کے لوگوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تم دیکھ رہے ہو کہ وہاں کے لوگ سیدھے سادے اور بے علم ہیں۔ انہیں اپنے وہ مسلمان بھائی جو قبیلوں کے سردار ہیں اور مذہب کے اجارہ دار ہیں، دشمن کا آلۂ کار بن کر گمراہ رہے ہیں”۔

اجلاس میں کسی کو توقع نہیں تھی کہ تقی الدین کا ردعمل اتنا شدید اور فیصلہ اتنا سخت ہوگا۔ اس نے جو دلائل پیش کیے، ان کے خلاف کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ کوئی مشور ہی پیش کرتا۔ اس نے کہا …”مصر میں جو فوج ہے، یہ محاذ سے آئی ہے اور اس سے پہلے بھی لڑ چکی ہے۔ اس فوج کے صرف پانچ سو گھوڑ سوار، دو سو شتر سوار ارو پانچ سو پیادہ آج شام اس علاقے کی طرف روانہ کردو جہاں وہ مشکوک کھنڈرات ہیں۔ یہ فوج اس علاقے سے اتنی دور رہے گی کہ ضرورت پڑے تو فوری طور پر محاصرہ کرسکے۔ میرے ساتھ دمشق سے جو دو سوار آئے ہیں، وہ علاقے کے اندر جاکر کھنڈروں پر حملہ کریں گے۔ ایک چھاپہ مار دستہ کھنڈروں کے اندر جائے گا، دوسو سوار کھنڈروں کو محاصرے میں رکھیں گے۔ اگر باہر سے حملہ ہوا یا مزاحمت ہوئی تو فوج کا بڑا حصہ مقابلہ کرے گا اور محاصرہ تنگ کرتا جائے گا۔ اس کارروائی میں فوج کو سختی سے حکم دیا جائے کہ کسی نہتے کو نہیں چھیڑا جائے گا”۔

اس فیصلے کے فوراً بعد فوجی حکام کوچ، حملے اور محاصرے وغیرہ کا منصوبہ تیار کرنے میں مصروف ہوگئے۔

٭ ٭ ٭

سلطان ایوبی مصر کی تازہ صورت حال سے بے خبر کرک اور شوبک قلعوں کے درمیان میل ہا میل وسیع صحرا میں جہاں ریتلی چٹانوں، ٹیلوں اور گھاٹیوں کے علاقے بھی تھے اور جہاں کسی کسی جگہ پانی اور سائے کی بھی افراط تھی، صلیبیوں کے نئے جنگی منصوبے کے مطابق اپنی افواج کی صف بندی کررہا تھا۔ جاسوسوں نے اسے بتایا تھا کہ صلیبی دگنی طاقت سے جو زیادہ تر زرہ پوش اور بکتر بند ہوگی۔ قلعے سے باہر آکر حملہ کریں گے۔ یہ فوج سلطان ایوبی کی فوج کو آمنے سامنے کی جنگ میں الجھالے گی اور دوسری فوج عقب سے حملے کرے گی۔ سلطان ایوبی نے اپنی فوج کو دور دور تک پھیلا دیا۔ سب سے پہلا کام یہ کیا کہ جہاں جہاں پانی اور سبزہ تھا، وہاں فوراً قبضہ کرلیا۔ ان جگہوں کے دفاع کے لیے اس نے بڑے سائز کی کمانوں والے تیر انداز بھیج دیئے۔ ان کے تیر بہت دور تک جاتے تھے۔ وہاں منجنیقیں بھی رکھیں جو آگ کی ہانڈیاں پھینکتی تھیں۔ یہ اہتمام اس لیے کیا گیا تھا کہ دشمن قریب نہ آسکے۔ بلندیوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا۔ سلطان ایوبی نے تمام دستوں کو حکم دیا کہ دشمن سامنے سے حملہ کرے تو وہ اور زیادہ پھیل جائیں تاکہ دشمن بھی پھیلنے پر مجبور ہوجائے۔ اس نے اپنی فوج کو ایسی ترتیب میں کردیا کہ دشمن یہ فیصلہ ہی نہیں کرسکتا تھا کہ مسلمان فوج کے پہلو کدھر اور عقب کس طرف ہے۔

سلطان ایوبی نے فوج کا ایک بڑا حصہ ریزور میں رکھ لیا تھا، ایک حصے کو اس طرح متحرک رکھا کہ جہاں کمک کی ضرورت پڑے، فوراً کمک دے سکے۔ اس کا سب سے زیادہ خطرناک ہتھیار اس کے چھاپہ مار دستے تھے اور اس سے زیادہ خطرناک اس کا جاسوسی کا نظام تھا جو اسے صلیبیوں کی نقل وحرکت کی خبریں دے رہا تھا۔ شوبک کا قلعہ سلطان ایوبی سرکرچکا تھا۔ صلیبیوں کے منصوبے میں یہ بھی تھا کہ ان کے لیے حالات سازگار ہوئے تو وہ شوبک کو محاصرے میں لے کر فتح کرلیں گے۔ انہیں توقع تھی کہ ان کا اتنا زیادہ لشکر سلطان ایوبی کی قلیل تعداد فوج کو صحرا میں ختم کردے گا یا اتنا کمزور کردے گا کہ وہ شوبک کو باہر سے مدد نہیں دے سکے گی۔ ان کے اس منصوبے کے پیش نظر سلطان ایوبی نے شوبک کی وہ طرف جس طرف سے صلیبی اس قلعے پر حملہ کرسکتے تھے، خالی چھوڑ دی۔ اس نے صلیبیوں کے لیے موقعہ پیدا کردیا کہ وہ راستہ صاف دیکھ کر شوبک پر حملہ کریں۔ اس طرف سے اس نے دیکھ بھال والی چوکیاں بھی ہٹا دیں اور دور دور تک علاقہ خالی کردیا۔

صلیبیوں کے جاسوسوں نے کرک میں فوراً اطلاع پہنچائی کہ سلطان ایوبی نے صلیبیوں کے ساتھ صحرا میں لڑنے کے لیے فوج شوبک سے دوراکٹھی کرلی ہے اور شوبک کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ صلیبیوں نے فوراً اپنی اس فوج کو جو سلطان ایوبی کے سامنے سے حملہ کرنے کے لیے باہر نکالی تھی، حکم دے دیا کہ رخ بدل کر شوبک کی طرف چلی جائے۔ چنانچہ یہ فوج ادھر کو ہولی۔ اس کے پیچھے رسد کے ذخیرے جارہے تھے، فوج جب شوبک سے چار میل دور رہ گئی تو اسے روک لیا گیا۔ یہ اس فوج کا عارضی پڑائو تھا۔ رسد کی گھوڑا گاڑیاں، اونٹ اور خچر ہزاروں کی تعداد میں چلے آرہے تھے۔ انہیں کوئی خطرہ نہ تھا کیونکہ مسلمانوں کی فوج کا دور دور تک نام ونشان نہ تھا۔ صلیبی حکمران بہت خوش تھے۔ انہیں شوبک کا قلعہ اپنے قدموں میں پڑا نظر آرہا تھا مگر رات کو انہیں اپنے پیچھے پانچ چھ میل دور آسمان لال سرخ نظر آیا۔ شعلے اتنے بلند تھے کہ اتنی دور سے بھی نظر آئے تھے، صلیبیوں نے سوار دوڑادیئے۔ جہاں سے شعلے اٹھ رہے تھے، وہاں ان کی رسد تھی۔ سوار وہاں پہنچے تو انہیں صحرا میں بے لگام گھوڑے اور بے مہار اونٹ ہر طرف دوڑتے بھاگتے نظر آئے۔

یہ تباہی سلطان ایوبی کے ایک چھاپہ مار دستے کی بپا کی ہوئی تھی، رسد میں گھوڑوں کے لیے خشک گھاس سے لدی ہوئی سینکڑوں گھوڑا گاڑیاں تھیں۔ انہیں رسد کے کیمپ کے اردگرد کھڑا کیا گیا تھا۔ صلیبی خوش فہمیوں میں مبتلا تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کی ہر ایک حرکت پر سلطان ایوبی کی نظر ہے۔ رات کو جب رسد کا کیمپ سو گیا تو مسلمان چھاپہ ماروں نے اونٹوں پر جاکر خشک گھاس میں آتشیں فلیتوں والے تیر چلائے۔ گھاس فوراً جل اٹھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے کیمپ شعلوں کے گھیرے میں آگیا۔ ان کے نرغے میں آئے ہوئے انسان جانیں بچانے کے لیے ادھر ادھر دوڑے تو ان میں سے بہت سے تیروں کا شکار ہوگئے جو جانور رسیاں توڑ سکے وہ تو بھاگ گئے اور جو کھل نہ سکے وہ زندہ جل گئے۔ دور دور تک پھیلا ہوا کیمپ جہنم بن گیا۔ چھاپہ ماروں نے کئی ایک اونٹ اور گھوڑے پکڑ لیے اور واپس چلے گئے۔

صبح طلوع ہوئی۔ صلیبی کمانڈروں نے جاکر رسد کا کیمپ دیکھا، وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ ان کی ایک ماہ کی رسد تباہ ہوچکی تھی۔ وہ سمجھ گئے کہ شوبک کا راستہ جو صاف تھا، یہ سلطان ایوبی کی ایک چال تھی۔ انہوں نے بغیر دیکھے کہہ دیا کہ کرک سے شوبک تک ان کی رسد اور کمک کا راستہ محفوظ نہیں۔ چنانچہ انہوں نے شوبک کا محاصرہ ملتوی کردیا۔ رسد کے بغیر محاصرہ ناممکن تھا اور جب انہیں اطلاع ملی کہ گزشتہ رات اس فوج کی بھی رسد تباہ ہوگئی ہے جو سلطان ایوبی کی فوج پر سامنے سے حملہ کرنے کے لیے جمع تھی تو انہوں نے اپنے تمام تر جنگی منصوبے پر نظرثانی کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ انہیں کہیں بھی سلطان ایوبی کی فوج نظر نہیں آرہی تھی۔ انہیں جاسوس یہ بھی نہیں بتا سکے تھے کہ مسلمانوں کی فوج کا اجتماع کہاں ہے۔ دراصل یہ اجتماع کہیں بھی نہیں تھا۔

سلطان ایوبی کو اطلاع ملی کہ صلیبیوں نے دونوں محاذوں پر پیش قدمی روک دی ہے تو اس نے اپنے کمانڈروں کو بلا کر کہا… ”صلیبیوں نے جنگ ملتوی کردی ہے لیکن ہماری جنگ جاری ہے۔ وہ دونوں فوجوں کے آمنے سامنے کے تصادم کو جنگ کہتے ہیں۔ میں چھاپوں اور شب خونوں کو جنگ کہتا ہوں۔ اب چھاپہ مارو کو سرگرم رکھو۔ صلیبی دونوں طرف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، انہیں اطمینان سے پیچھے نہ ہٹنے دو۔ انتہائی عقب یا پہلو پر شب خون مارو اور غائب ہوجائو۔ صلیبی آپ کو اپنے سامنے لاکر لڑنا چاہتے ہیں لیکن میں آپ کو اس میدان میں ان کے سامنے لے جائوں گا جو آپ کی مرضی کا ہوگا اور جہاں کی ریت بھی آپ کی مدد کرے گی”۔

سلطان ایوبی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، وہ اپنے عملے اور محافظ دستے کے ساتھ خانہ بدوش تھا، کسی ایک جگہ نہ ٹھہرنے کے باوجود معلوم ہوتا تھا، جیسے ہر جگہ موجود ہے۔

٭ ٭ ٭

مصر میں سلطان ایوبی کا بھائی تقی الدین صلیبیوں کے دوسرے محاذ پر حملہ آور ہورہا تھا، یہ مصر کا جنوب مغربی علاقہ تھا، جہاں کے ڈرائونے ٹیلوں کے اندر فرعونوں کے ہولناک کھنڈرات میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے واپس آنے والے تھے۔ تمام تر علاقہ ایک نئے عقیدے کا پیرو کار ہوگیا تھا… جمعرات کی شام تھی۔ زائرین کا ہجوم کھنڈر کے غار نما دروازے میں داخل ہورہا تھا۔ اندر بڑے کمرے میں پراسرار آواز گونج ر ہی تھی۔ لوگوں کو دیوار پر گناہ گار اور نیکو کارجاتے نظر آرہے تھے۔ وہاں وہی سماں تھا جو ہر جمعرات کے روز ہوا کرتا تھا۔ اچانک اس پراسرار مقدس انسان کی آواز خاموش ہوگئی جس کے متعلق مشہور تھا کہ گناہ گاروں کو نظر نہیں آتا۔ اس کے بجائے ایک اور آواز سنائی دی۔ ”گمراہ انسانو! آج کی رات گھروں کو نہ جانا۔ کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔ یہاں سے فوراً باہر نکل جائو۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لارہے ہیں۔ اس کھنڈر سے دور جاکر سوجائو”… بڑے کمرے میںحیرت زندہ لوگوں کو دیوار پر جو چمکتے ہوئے ستارے نظر آتے تھے، وہ ماند پڑگئے۔ اس وقت ان ستاروں میں سے حسین لڑکیاں اور خوبرو مرد ہنستے کھیلتے گزر رہے تھے۔ لوگوں نے دیکھا کہ فوجی قسم کے کچھ آدمی انہیں پکڑ پکڑ کر لے جارہے ہیں۔ کہیں سے چیخیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ بادل جو گرجتے تھے وہ بھی خاموش ہوگئے، لوگوں کے لیے یہ جگہ بڑی ہی مقدس تھی۔ وہ خوف زدہ ہوکے باہر کو بھاگے اور کھنڈر خالی ہوگیا۔

یہ انقلاب تقی الدین اور علی بن سفیان لائے تھے۔ ان کے ساتھ فوج کی وہی نفری تھی جو تقی الدین نے اپنے حکم میں بتائی تھی۔ یہ دستے شام کے بعد ٹیلوں والے علاقے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ ان کی رہنمائی شارجا کررہی تھی جو گھوڑے پر سوار تھی۔ وہ انہیں جمعرات کی شام وہاں لے گئی تھی کیونکہ اس روز وہاں میلہ لگتا تھا اور دور دور سے لوگ آتے تھے۔ فوج کے بڑے حصے کو جس میں پانچ سو گھوڑ سوار، دوسو شتر سوار اور پانچ سو پیادہ تھے۔ اس علاقے سے ذرا دور رکھا گیا تھا۔ انہیں نہتے لوگوں کے خلاف استعمال نہیں کرتا تھا۔ ان کے ذمہ یہ فرض تھا کہ سوڈان کی سرحد پر نظر رکھیں چونکہ کھنڈروں کے اندر کی تخریب کاری صلیبیوں اور سوڈانیوں کی پشت پناہی پر ہورہی تھی۔ اس لیے یہ خطرہ تھا کہ وہاں فوجی کارروائی کی گئی تو سوڈانی حملہ کردیں گے۔ تقی الدین نے اس علاقے کے قریب کے سرحدی دستوں کو جو سرحدوں کی حفاظت کے لیے وہیں رہتے تھے قریب بلا کر اپنے تحت کرلیا تھا۔

دوسو گھوڑ سوار جو تقی الدین کے ساتھ دمشق سے آئے تھے وہ وہاں کے چنے ہوئے اور دیوانگی کی حد تک دلیر سوار تھے۔ دوڑتے گھوڑوں سے تیر اندازی ان کا خصوصی کمال تھا۔ پیادہ سپاہیوں میں سلطان ایوبی کے اپنے ہاتھوں تیار کیے ہوئے چھاپہ مار بھی تھے۔ انہیں ایسی ٹریننگ دی گئی تھی کہ انتہائی دشوار ٹیلوں اور درختوں پر حیران کن رفتار سے چڑھتے اور اترتے تھے۔ چند گز پھیلی ہوئی آگ سے گزر جانا ان کا معمول تھا۔ ان چھاپہ مار جانبازوں کو اس وقت کھنڈر کی طرف روانہ کیا گیا، جب لوگ اندر جارہے تھے، وہاں تک انہیں شارجا لے گئی تھی۔ علی بن سفیان ان کے ساتھ تھا۔ تیز رفتار قاصد بھی ساتھ تھے، تاکہ پیغام رسانی میں تاخیر نہ ہو۔ کھنڈر کے دروازے کے باہر دو آدمی کھڑے اندر جانے والوں کو تین تین کھجوریں کھلا رہے تھے۔ دروازے کے اندر گپ اندھیرا تھا۔ اس اندھیرے سے لوگ گزر کر اندر روشن کمرے میں جاتے تھے، باہر صرف ایک مشعل جل رہی تھی جس کی روشنی معمولی سی تھی۔

چھ آدمی جن کے سر چادروں میں ڈھکے ہوئے تھے، زائرین کے ساتھ دروازے تک گئے اور ہجوم سے ہٹ کر کھجوریں کھلانے والوں کے پیچھے جا کھڑے ہوئے۔ انہیں کہا گیا کہ وہ سامنے سے گزریں لیکن وہ سن ہوکے رہ گئے کیونکہ ان کی پیٹھوں میں خنجروں کی نوکیں رکھ دی گئی تھیں۔ یہ چھ آدمی چھاپہ مار تھے۔ انہوں نے ایک ایک آدمی کے پیچھے ہو کر خنجر ان کی پیٹھوں سے لگا کر آہستہ سے کان میں کہا تھا… ”زندہ رہنا چاہتے ہوتو یہاں سے باہر چلے جائو، تم سب فوج کے گھیرے میں ہو” … کھجوریں کھلانے اور پانی پلانے والے آدمی ذرا سی بھی مزاحمت کے بغیر باہر نکل گئے۔ چھاپہ ماروں نے خنجر اس طرح چغوں میں چھپالیے کہ لوگوں میں سے کوئی دیکھ نہ سکا۔ یہ چار آدمی جونہی باہر کو آئے، وہاں دس بارہ چھاپہ مار دیہاتیوں کے لباس میں کھڑے تھے۔ انہوں نے چاروں کو گھیر لیا اور دھکیلتے ہوئے دور لے گئے۔ وہاں انہیں رسیوں سے باندھ دیا گیا۔ چھ چھاپہ مار جو کھجوروں اور پانی کے مشکیزوں کے پاس رہ گئے تھے، انہوں نے اندر جانے والے لوگوں سے کہنا شروع کردیا کہ کھجوروں اور پانی کے بغیر اندر جائو کیونکہ اندر سے نیا حکم آیا ہے۔ سیدھے سادے دیہاتی اندر جاتے رہے۔

ان کے ساتھ اب چھاپہ مار بھی اندر جارہے تھے اور مشعلیں بھی اندر جارہی تھیں۔ لوگ حیران تھے کہ مشعلیں کیوں لے جائی جارہی ہیں۔ کم وبیش پچاش مشعلیں اور دو سو چھاپہ مار اندر چلے گئے۔ وہ روشن کمرے میں نہ گئے بلکہ ان تاریک راستوں اور غلام گردشوں میں چلے گئے جن میں باہر کے لوگ نہیں جاسکتے تھے۔ ان میں سے بعض کے پاس خنجر اور خنجر نما تلواریں تھیں اور بعض کے پاس چھوٹی کمانیں۔ اس دروازے سے بھی جس سے لوگ باہر نکلتے تھے، چھاپہ مار داخل ہوگئے۔ وہ ہدایت کے مطابق تاریک بھول بھلیوں میں جارہے تھے۔ تقی الدین کے دو سو گھوڑے سوار آگے گئے اور انہوں نے پورے کھنڈر کو گھیرے میں لے گیا۔ ان کے ساتھ پیادہ دستہ بھی تھا جس کے سپاہیوں نے اندر سے نکلنے والوں کو روک کر ایک طرف اکٹھا کرنا شروع کردیا۔ چھاپہ مار مشعل برداروں کے ساتھ اندر گئے تو انہیں ایسے محسوس ہونے لگا جیسے کسی کے پیٹ میں چلے گئے ہوں۔ اندر کے راستے اور کمرے انتڑیوں کی مانند تھے… یہ راستے انہیں ایک ایسے طلسم میں لے گئے جسے دیکھ کر چھاپہ مار بدک کرر ک گئے۔ یہ ایک بہت کشادہ کمرہ تھا جس کی چھت تو اونچی تھی، اندر بہت سے مرد اور عورتیں تھیں۔ ان میں کچھ ایسے تھے جن کے چہرے بھیڑیوں کی طرح تھے بعض تھے تو انسان لیکن وہ اس قدر بدصورت اور بھیانک چہروں والے تھے کہ دیکھ کر ڈر آتا تھا، وہ جن اور بھوت لگتے تھے اور ان کے درمیان خوبصورت اور جوان لڑکیاں بھڑکیلے اور چمکیلے کپڑے پہنے ہنس کھیل رہی تھیں۔ ایک طرف دیوار کے ساتھ چند ایک خوبصورت لڑکیاں خوبرو مردوں کے ساتھ مٹک مٹک کر چل رہی تھیں۔ ادھر چھت سے فرش تک پردے لٹکے ہوئے تھے جو دائیں بائیں ہٹتے، کھلتے اور بند ہوتے تھے۔ دوسری طرف آنکھوں کو خیرہ کردینے والی روشنی چمکتی اور بجھتی تھی۔

اگر چھاپہ ماروں کو یہ یقین نہ دلایا گیا ہوتا کہ کھنڈر کے اندر جو کوئی بھی ہے اور جس حلیے میں بھی ہے وہ انسان ہوگا اور اندر کوئی بدروح، روح یا بھوت پریت نہیں، تو چھاپہ مار وہاں سے بھاگ جاتے۔ وہاں خوبصورت لڑکیاں اور خوبرو مرد تھے، وہ بھی ڈرائونے لگتے تھے…

اس عجیب وغریب مخلوق نے جب مشعل بردار چھاپہ ماروں کو دیکھا تو انہیں ڈرانے کے لیے ڈرائونی آوازیں نکالنے لگے جو آدمی بدصورت، چڑیلوں اور بھیڑیوں کے چہروں والے تھے ان کی آوازیں زیادہ خوفناک تھیں۔ اس دوران ایک دو آدمیوں نے شاید ڈر کر اپنے چہرے بے نقاب کردیئے۔ یہ بھیڑیوں کے چہرے تھے جو انہوں نے اتارے تو اندر سے انسانوں کے چہرے نکلے۔ چھاپہ ماروں نے سب کو گھیر کر پکڑ لیا اور سب کے نقاب اتار دیئے، وہاں شراب بھی پڑی تھی۔ ان سب کو باہر لے گئے۔ کھنڈر کے دوسرے حصوں کی تلاشی میں ایک آدمی پکڑا گیا جو ایک تنگ سی سرنگ کے منہ میں منہ ڈالے بھائی آواز میں کہہ رہا تھا …”گناہوں سے توبہ کرو، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آنے والے ہیں…” اور ایسے کئی الفاظ تھے جو وہ بول رہا تھا۔ یہ سرنگ گھوم پھر کر اس روشن کمرے میں جاتی تھی، جہاں زائرین کو یہ پراسرار، ڈرائونی اور خوبصورت مخلوق دکھا کر حیرت زدہ کیا جاتا تھا۔ اس آدمی کو وہاں سے ہٹا کر چھاپہ ماروں کے ایک کمان دار نے سرنگ میں منہ ڈال کر کہا کہ اے گمراہ لوگوں آج رات گھروں کو نہ جانا کل صبح تم پر وہ راز فاش ہوجائے گا جس کے لیے تم بیتاب ہو۔

کھنڈرات کے اندر کسی نے بھی مزاحمت نہ کی۔ خنجروں اور تلواروں کے آگے سب اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کرتے چلے گئے۔ چھاپہ مار ان آدمیوں کی نشاندہی پر جنہیں گرفتار کرلیا گیا تھا ان جگہوں تک پہنچے جہاں بجلی کی طرح چمکنے والی روشنیوں کا انتظام تھا۔ ڈھکی چھپی جگہوں میں مشعلیں جل رہی تھی۔ ان کے پیچھے لکڑی کے تختے تھے جن پر ابرق چپکایا ہوا تھا۔ ان تختوں کے زاویے بدلتے تھے تو ابرق کی چمک لوگوں کی آنکھوں میں پڑتی اور چندھیا دیتی تھی۔ کمرہ تاریک کرنے کے لیے مشعلوں کو پیچھے کرلیا جاتا تھا۔ بادل گرجنے کی آوازیں دھات کی چادروں کو جھٹکے دے کر پیدا کی جاتی تھی۔ پردوں پر جگہ جگہ ابرق کے ٹکڑے چپکا دیئے گئے تھے جن پر روشنی پڑتی تو ستاروں کی طرح چمکتے تھے۔ اس طرف پردوں کا رنگ ایسا تھا کہ کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کپڑا ہے۔ وہ اسے پھٹی ہوئی دیوار سمجھتے تھے۔ عقل اور ہوش والے انسان کے لیے یہ کوئی معمہ نہیں تھا۔ بے شک یہ روشنیوں کے خاص انتظام کا جادو تھا جو لوگوں کو مسحود کرلیتا تھا لیکن اندر جو جاتا تھا اس کی عقل اور ہوش پر اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا تھا۔ انہیں اندر جاتے وقت دروازے پر جو تین کھجوریں کھلائی جاتی اور پانی پلایا جاتا تھا، ان میں نشہ آور آمیزش ہوتی تھی۔ اس کا اثر فوراً ہوجاتا تھا۔ اس اثر کے تحت زائرین کے ذہنوں پر جو بھی تصور بٹھایا جاتا اور کانوں میں جو بھی آوازیں ڈالی جاتی، وہ اسے سو فیصد صحیح اور برحق سمجھ لیتے تھے۔ اسی نشے کا اثر تھا کہ لوگ باہر جاکر دوبارہ اندر آنے کی خواہش کرتے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ یہ اس عقیدے کا تاثر نہیں بلکہ اس نشے کا اثر ہے جو انہیں کھجوروں اور پانی میں د یا جاتا ہے۔

کھجوروں کے انبار اور پانی کے مشکیزوں پر بھی قبضہ کرلیا گیا تھا۔ اندر پکڑ دھکڑ اور تلاشی کا سلسلہ جاری تھا۔ باہر دو سو سپاہیوں نے کھنڈروں کا محاصرہ کررکھا تھا۔ ہر طرف مشعلوں کی روشنی تھی، فوج کا بڑا حصہ اور دو سرحدی دستے سوڈان کی سرحد کے ساتھ ساتھ گھوم پھر رہے تھے… رات گزرگئی۔ سوڈان کی طرف سے کوئی حملہ نہ ہوا۔ کھنڈرات میں بھی کوئی مزاحمت نہ ہوئی۔ صبح کے اجالے نے اس علاقے کو روشن کیا تو وہاں ہراساں دیہاتیوں کا ہجوم تھا۔ کچھ لوگ ادھر ادھر سوگئے تھے۔ گھوڑ سواروں نے گھیرا ڈال رکھا تھا۔

٭ ٭ ٭

کچھ دیر بعد تمام لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے بٹھا دیا گیا ۔ ان کی تعداد تین اور چار ہزار کے درمیان تھی۔ ایک طرف سے ایک جلوس آیا جسے فوجی ہانک کر لا رہے تھے۔ اس جلوس میں بھیڑیوں اور چڑیلوں کے چہروں والے انسان تھے۔ اس میں مکروہ اور بڑی بھیانک شکلوں والے انسان بھی تھے اور اس جلوس میں وہ تمام مخلوق تھی جو لوگوں کو کھنڈر کے اندر دکھائی جاتی تھی اور بتایا جاتا تھا کہ یہ آسمان ہے جہاں یہ لوگ مرنے کے بعد گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔ ان کا سب سے بڑا گناہ یہ بتایا جاتا تھا کہ یہ جنگ وجدل کے عادی تھے یعنی یہ فوجی تھے۔ اس جلوس سے الگ دس بارہ لڑکیوں کو بھی لوگوں کے سامنے لایا گیا۔ یہ بہت ہی خوبصورت لڑکیاں تھیں۔ ان کے ساتھ خوبرو مرد تھے۔ ان دونوں جلوسوں کو لوگوں کے ہجوم کے سامنے ایک اونچی جگہ پر کھڑا کردیا گیا اور انہیں کہا گیا کہ لوگوں کو اپنے چہرے دکھائو۔ سب نے بھیڑیوں اور چڑیلوں کے مصنوعی چہرے اتار دیئے۔ ان کے اندر سے اچھے بھلے انسانی چہرے نکل آئے جو آدمی مکروہ اور بھیانک چہروں والے تھے، وہ بھی مصنوعی چہرے تھے۔ یہ چہرے بھی اتار دیئے گئے۔

لوگوں سے کہا گیا کہ وہ ان آدمیوں اور ان لڑکیوں کے قریب سے گزرتے جائیں اور انہیں پہنچانیں، لوگ تو اسی پر حیران ہوگئے کہ یہ آسمان کی مخلوق نہیں، اسی زمین کے انسان ہیں۔ لڑکیاں بھی پہچان لی گئیں، ان میں زیادہ تر اسی علاقے کی رہنے والی تھیں اور تین چار یہودی تھیں۔ جنہیں صلیبی اسی مقصد کے لیے لائے تھے۔ لوگ انہیں دیکھ چکے تو ان مجرموں کو سامنے لایا گیا جنہوں نے یہ طلسماتی اہتمام کررکھا تھا۔ ان میں چھ صلیبی تھے جو مصر کے اس علاقے کی زبان بولتے اور سمجھتے تھے۔ انہوں نے بہت سے آدمی اس علاقے سے اپنے ساتھ ملا لیے تھے۔ رات گرفتاری کے بعد ان سے اعتراف کرالیا گیا تھا کہ انہوں نے تین چار مسجدوں میں اپنے امام رکھ دیئے تھے جو لوگوں کو مذہب کے پردے میں غیر اسلامی نظریات کے معتقد بنا رہے تھے۔ اس گروہ کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو قائل کیا جائے کہ فوج میں بھرتی نہ ہوں کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ یہ گروہ اس مقصد میں کامیاب ہوچکا تھا۔ ان تخریب کاروں نے یہ کامیابی بھی حاصل کرلی تھی کہ اس علاقے کے لوگوں میں سوڈانیوں کی محبت پیدا کردی تھی اور ان کا مذہب تبدیل کیے بغیر انہیں بے مذہب کردیا تھا۔

لوگوں سے کہا گیا کہ اب وہ کھنڈروں کے اندر جاکر گھومیں پھریں اور اس فریب کاری کا ثبوت اپنی آنکھوں دیکھیں۔ لوگ اندر چلے گئے جہاں جگہ جگہ فوجی کھڑے تھے اور لوگوں کو دکھا رہے تھے کہ انہیں کیسے کیسے طریقوں سے دھوکہ دیا جاتا رہا ہے۔ بہت دیر بعد جب تمام لوگ اندر سے گھوم پھر آئے تو تقی الدین نے ان سے خطاب کیا اور انہیں بتایا کہ کھجوروں اور پانی میں انہیں نشہ دیا جاتا ہے۔ اندر جوجنت اور جہنم تھا، وہ اس نشے کے زیراثر نظر آتا تھا۔ میں ان مجرموں سے کہتا ہوں کہ اندر چل کر مجھے آسمان کی مخلوق چلتی پھرتی دکھائیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہاں اور مرا ہوا خلیفہ العاضد کہاں ہے؟ یہ سب فریب تھا۔ یہ وہ نشہ ہے جو حشیشین کا پیر استاد حسن بن صباح لوگوں کو پلا کر انہیں جنت دکھایا کرتا تھا۔ وہ تو ایک وقت میں چند ایک آدمیوں کو نشہ پلاتا تھا مگر یہاں اسلام کے ان دشمنوں نے اتنے وسیع علاقے کی پوری آبادی پر نشہ طاری کردیا ہے۔

تقی الدین نے لوگوں کو اصلیت دکھا کر انہیں بتایا کہ ابتداء میں ایک درویش کی کہانی سنائی گئی تھی جو مسافروں کو اونٹ اور اشرفیاں دیا کرتا ہے۔ یہ محض بے بنیاد کہانیاں تھیں اور بے سروپا جھوٹ۔ کہانیاں سنانے والوں کو تمہارے دین وایمان کے دشمن بے دریغ مال ودولت دیتے تھے… تقی الدین نے اس فریب کاری کے تمام پہلو بے نقاب کیے اور جب اس نے مجرموں کی اصلیت کو بے نقاب کیا تو لوگ جوش میں آکر اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے مجرموں پر ہلہ بول دیا۔ اس وقت لوگوں کا وہ نشہ اتر چکا تھا جو رات کو انہیں کھجوروں اور پانی میں دیا گیا تھا۔ فوج نے ہجوم پر قابو پانے کی بہت کوشش کی لیکن انہوں نے تمام مجرموں اور لڑکیوں کو جان سے مار کر چھوڑا۔

تقی الدین نے فوج کو اسی علاقے میں پھیلا دیا اور فوج کی نگرانی میں وہاں ایک تو تخریب کاروں کے ایجنٹوں کو گرفتار کیا اور دوسرے یہ کہ مسجدوں میں قاہرہ کے عالم متعین کردیئے جنہوں نے لوگوں کو مذہبی اور عسکری تعلیم وتربیت شروع کردی۔ فرعونوں کے کھنڈروں کو لوگوں کے ہاتھوں مسمار کرادیا گیا۔

تقی الدین نے قاہرہ جاکر پہلا کام یہ کیا کہ جراح اور شارجا کی خواہش کے مطابق انہیں شادی کی اجازت دے دی اور دوسرا کام یہ کیا کہ اس نے فوج کی مرکزی کمان کو حکم دیا کہ سوڈان پر حملے کی تیاری کی جائے۔ اس نے کھنڈروں کی مہم میں دیکھ لیا تھا کہ پڑوسی سوڈانیوں نے مصر کے اتنے وسیع علاقے کو اپنے اثر میں لے لیا تھا اور یہ اثر شدید جوابی کارروائی کے بغیر ختم نہیں ہوگا۔ اس پر انکشاف بھی ہوا تھا کہ سوڈانی صلیبیوں کے آلۂ کار بنے ہوئے ہیں اور وہ باقاعدہ حملے کی تیاری بھی کررہے ہیں۔ لہٰذا ضروری سمجھا گیا کہ سوڈان پر حملہ کیا جائے۔ اس سے اگر سوڈان کا کچھ علاقہ قبضے میں آئے یا نہ آئے، اتنا فائدہ ضرور ہوگا کہ دشمن کی تیاریاں درہم برہم ہوجائیں گی اور ان کا منصوبہ لمبے عرصے لیے تباہ ہوجائے گا۔ تقی الدین کو سلطان ایوبی کی پشت پناہی حاصل تھی۔

٭ ٭
“کھنڈروں کی آواز کا حصہ حتم ھوا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: