Dastan Kwaja Bukhara By Habib ur Rahman – Episode 1

0
داستان خواجہ بخارا کی از لیونید سولوویف, حبیب الرحمن – قسط نمبر 1

–**–**–

سویت ادب کی لائبریری

لیونید سولوویف

داستان خواجہ بخارا کی

اصل ناشر: دار الاشاعت ترقی، ماسکو

ترجمہ: حبیب الرحمن

ہمیں یہ کہانی ابو عمر احمد ابن محمد سے ملی جس کو اس نے محمد ابن علی ابن رفع سے سنا تھا جو علی ابن عبدالعزیز کا حوالہ دیتا ہے جو ابو عبید القاسم ابن سلام کا حوالہ دیتا ہے جس نے اس کو اپنے استادوں کی زبانی سن کر بیان کیا تھا جن میں سے آخری استاد عمر ابن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ کو سند کے طور پر پیش کرتا ہے

ابن حزم قمری

میں اس کتاب کو اپنے دوست مومن عادلوف کی پاکیزہ اور لافانی یاد سے موسوم کرتا ہوں جو ۱۸ اپریل ۱۹۳۰ کو ایک دشمن کی مہلک گولی کا شکار ہوئے۔ ان میں خواجہ نصر الدین کی بہت سی خصوصیات تھیں۔ عوام کے لئے بے لوث ایثار، ہمت، شریفانہ فراست اور ایماندارانہ ذکاوت۔ میں نے یہ کتب لکھتے وقت رات کے سناٹے میں کئی بار ایسا محسوس کیا کہ جیسے عادلوف کا سایہ میرے پاس کھڑا ہے اور میرے قلم کی رہنمائی کر رہا ہے۔ پہاڑی قشلاق (گاؤں) نانائی میں ان کا انتقال ہوا اور کانی بادم میں وہ آرام کر رہے ہیں۔ تھوڑے ہی دن ہوئے میں ان کی قبر پر گیا تھا۔ بہار کی گھاس اور پھولوں سے ڈھکی ہوئی قبر کے چاروں طرف بچے کھیل رہے تھے اور وہ ابدی نیند سو رہے تھے۔ وہ میرے دل کی پکار نہیں سن رہے تھے۔۔۔

حصّہ اوّل

کہتے ہیں کہ ایک بیوقوف اپنے گدھے کی باگ ڈور سنبھالے چلا جا رہا تھا۔ گدھا اس کے پیچھے چل رہا تھا۔

(شہر زاد کی ۳۸۸ویں رات)
(۱)

خواجہ نصر الدین کی ۳۵ ویں سالگرہ سڑک ہی پر ہوئی۔

دس سال سے زیادہ انہوں نے جلاوطنی میں گزارے تھے، شہر شہر، ملک ملک کی سرگردانی کرتے، سمندروں اور ریگستانوں کو پار کرتے۔ جہاں رات آ جاتی سو جاتے۔ ننگی زمین پر کسی گڈرئے کے چھوٹے سے الاؤ کے پاس کسی کھچاکھچ بھری ہوئی سرائے میں، جہاں تمام رات گرد آلود دھندلکے میں اونٹ لمبی لمبی سانسیں لیتے، اپنے کو کھجلاتے اور گھنٹیاں بج اٹھتیں یا کسی دھوئیں اور کالک سے بھرے چائے خانے میں ادھر ادھر لیٹے ہوئے سقوں، بھک منگوں، ساربانوں اور اسی طرح کے غریب لوگوں کے پاس جو پو پھٹتے ہی شہر کے بازاروں اور تنگ سڑکوں کو اپنی پر شور ہانک پکار سے بھر دیتے ہیں۔

بہت سی راتیں انہوں نے کسی امیر ایرانی عہدے دار کے حرم میں نرم ریشمی گدوں پر داد عیش دے کر بھی گزاری تھیں جبکہ گھر کا مالک اپنے برقندازوں کو ساتھ لے کر سارے چائے خانوں اور کارواں سرایوں میں ملحد اور آوارہ گرد خواجہ نصر الدین کی تلاش میں سرگرداں ہوتا تھا تاکہ اس کو پکڑ کر نوکیلے تیز چوبی ستون پر بٹھا سکے۔۔۔ کھڑکی کی جھلملی سے آسمان کی تنگ پٹی دکھائی دیتی، ستارے مرجھا جاتے، نرم اور نم باد صبا صبح کی آمد آمد کا اعلان کرتی ہوئی پتیوں میں سرسراتی اور کھڑکی کی کگر پر قمریاں خوشی سے کوکو کر کے چونچوں سے پر صاف کرتیں۔ خواجہ نصر الدین تھکی ہوئی حسینہ کو بوسہ دے کر کہتے:

“میرے در بے بہا، الوداع۔ اب جانے کا وقت آ گیا۔ مجھے فراموش نہ کر دینا۔”

حسینہ اپنے سڈول بازوؤں کو ان کی گردن میں حمائل کر کے التجا کرتی:

“ٹھہرو! کیا تم ہمیشہ کے لئے جدا ہو رہے ہو؟ لیکن کیوں؟ اچھا سنو، آج رات کو میں اندھیرا پھیلتے ہی بڑھیا کو تمھیں لانے کے لئے پھر بھیجوں گی۔”

“نہیں، میں مدتوں ہوئے یہ بات بھول چکا ہوں کہ ایک چھت کے نیچے دو راتیں کیسے گزاری جاتی ہیں۔ مجھے جانا ہی ہے۔ بڑی عجلت ہے۔”

“جانا کہاں ہے؟ کیا کسی دوسرے شہر میں تم کو ضروری کام ہے؟ تم کہاں جا رہے ہو؟”

“میں نہیں جانتا۔ لیکن روشنی کافی پھیل چکی ہے۔ شہر کے پھاٹک کھل چکے ہیں اور پہلے کارواں باہر نکل رہے ہیں۔ سن رہی ہو نا، اونٹوں کی گھنٹیوں کی آواز؟ جب میں یہ آواز سنتا ہوں تو جیسے کوئی جن میرے پیروں میں سنیچر پیدا کر دیتا ہے اور میں نچلا نہیں بیٹھ سکتا۔”

“اگر ایسا ہے تو جاؤ” ملول ہو کر حسینہ کہتی ہے، وہ اپنی لمبی لمبی پلکوں پر آنسوؤں کو چھپا نہیں پاتی ” لیکن جانے سے پہلے کم از کم اپنا نام تو بتاتے جاؤں۔”

“میرا نام؟ اچھا تو سنو، تم نے یہ رات خواجہ نصر الدین کے ساتھ بتائی ہے۔ میں خواجہ نصر الدین ہوں، بےچینی پھیلانے اور نفاق کے بیج بونے والا، ایسی ہستی جس کے سر پر بڑا انعام ہے۔ ہر روز نقیب عام جگہوں اور بازاروں میں میرے بارے میں اعلان کرتے پھرتے ہیں۔ کل وہ تین ہزار تومان دے رہے تھے اور مجھے لالچ لگا کہ میں اس قیمت پر خود اپنا سر بیچ دوں۔ تم ہنس رہی ہو، میری پیاری۔ اچھا مجھے آخری بار اپنے ہونٹ چومنے دو۔ اگر میں تم کو تحفہ دے سکتا تو زمرد دیتا لیکن زمرد تو میرے پاس نہیں ہے۔ لو یہ ایک حقیر سا سفید پتھر بطور نشانی ہے!”

وہ اپنی پھٹی ہوئی قبا پہنتے ہیں جو الاؤ کی چنگاریوں سے جا بجا جلی ہوئی ہے اور چپکے سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ دروازے پر کاہل اور بیوقوف خواجہ سرا پگڑی باندھے اور اوپر اٹھی ہوئی خمدار نوکوں والی جوتیاں پہنے، پڑا خراٹے لے رہا ہے۔ وہ محل کے سب سے بیش بہا خزانے کا لاپروا نگہبان ہے۔ آگے چل کر بھی قالینوں اور نمدوں پر پہرے دار خراٹے بھر رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے ننگے خنجروں کے تکئے بنا رکھے ہیں۔ خواجہ نصر الدین پنجوں کے بل رینگتے اس طرح صاف بچ نکلتے ہیں جیسے ذرا دیر کے لئے وہ کوئی نظر نہ آنے والا چھلاوہ بن گئے ہیں۔

اور پھر ایک بار سفید پتھریلی سڑک ان کے گدھے کے تیز رفتار سموں کے نیچے گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے۔ نیلے آسمان سے سورج دنیا کو منور کر رہا ہے۔ خواجہ نصر الدین اس سے آنکھ ملا سکتے ہیں۔ شبنم آلود کھیتوں، ویران ریگستانوں میں جہاں ریت کے تودوں کے درمیان اونٹوں کی سفید ہڈیاں چمکتی ہیں، ہرے بھرے باغوں اور جھاگ دار دریاؤں، بے برگ و بے گیاہ پہاڑیوں اور مسکراتے ہوئے سبزہ زاروں میں خواجہ نصر الدین کے نغمے گونجتے ہیں۔ وہ پیچھے ایک نظر ڈالے بغیر، جو کچھ پیچھے چھٹ گیا ہے اسپر افسوس کئے بغیر اور پیش آنے والے خطرے سے ڈرے بغیر آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔

لیکن جو شہر انہوں نے ابھی ابھی چھوڑا ہے اس میں ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہتی ہے۔ ملا اور عمائدین کے چہرے ان کا نام سنتے ہی غصے سے سرخ ہو جاتے ہیں۔ سقے، ساربان، جولاہے، ٹھٹھیرے اور گھوڑوں کی کاٹھیاں بنانے والے راتوں کو چائے خانوں میں جمع ہو کر خواجہ نصر الدین کے بارے میں ایسی کہانیوں سے ایک دوسرے کا دل بہلاتے ہیں جن میں ہمیشہ خواجہ کی جیت ہوتی ہے۔ حرم کی افسردہ حسینہ سفید پتھر کو غور سے دیکھتی رہتی ہے اور اپنے مالک کی آواز سنتے ہی اس کو ایک سیپ کے صندوقچے میں چھپا دیتی ہے۔

“اف” ہانپتا اور غراتا ہوا موٹا عہدے دار اپنی زربفت کی قبا اتارنے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے “اس کمبخت بدمعاش خواجہ نصر الدین نے تو ہم سب کو عاجز کر دیا ہے۔ اس نے سارے ملک میں ہنگامہ اور تہلکہ مچا رکھا ہے۔ آج ہی مجھے اپنے پرانے دوست صوبہ خراساں کے لائق گورنر کا خط ملا ہے۔ سوچو تو ذرا، اس بد ذات خواجہ نصر الدین نے ان کے شہر میں مشکل سے قدم رکھا ہی ہو گا کہ آہنگروں نے یکدم محاصل دینا بند کر دئے، سرائے والوں نے پہرے داروں کو مفت کھلانے سے انکار کر دیا۔ اور سب سے بڑھ کر تو یہ کہ اسلام کو ناپاک کرنے والے، اس چور، ولد الزنا نے یہ جرأت کی کہ گورنر کے حرم میں داخل ہو کر ان کی محبوب بیوی کو ورغلایا۔ سچ مچ دنیا میں ایسا شریر آدمی کبھی نہیں ہوا تھا! افسوس کہ ناہنجار نے میرے حرم کا رخ نہیں کیا ورنہ اس کا سر اس وقت بڑے چوک پر کسی بانس سے لٹکتا ہوتا۔”

حسینہ پراسرار انداز سے مسکراتی ہے اور خاموش رہتی ہے۔

اس دوران میں خواجہ نصر الدین کے گدھے کے تیز رفتار سموں سے سڑک گونجتی اور چنگاریاں دیتی ہے اور خواجہ کے نغموں کی آواز اس میں گھل مل جاتی ہے۔

اس دس سال میں نہ جانے کہاں کہاں سرگردان رہے۔ بغداد، استنبول، طہران، بخشی سرائے، اچمی ادزین، طفلس، دمشق اور تریپیزوند۔ وہ ان شہروں سے بخوبی واقف ہو چکے تھے اور ان کے علاوہ بھی بہت سے دوسرے شہروں کو جانتے تھے اور ہر جگہ اپنی ناقابل فراموش یادگاریں چھوڑی تھیں۔

اب وہ اپنے شہر، بخارا شریف واپس جا رہے تھے۔ ان کو امید تھی کہ وہ اپنی لامحدود آوارہ گردی ترک کر کے کسی دوسرے نام سے سکھ چین سے وہاں رہ سکیں گے۔

(۲)

انہوں نے سوداگروں کے ایک بڑے کارواں کے ساتھ جس میں وہ شامل ہو گئے تھے بخارا کی سرحد میں قدم رکھا اور سفر کے آٹھویں دن بہت دور سامنے دھندلکے میں اس بڑے اور مشہور شہر کے جانے پہچانے مینار دیکھے۔

پیاس اور گرمی سے پریشان ساربانوں نے ایک زور دار نعرہ بلند کیا اور اونٹوں نے اپنی رفتار تیز کر دی۔ سورج غروب ہو رہا تھا اور جلدی کی ضرورت تھی تاکہ پھاٹک بند ہونے سے پہلے بخارا میں داخل ہوا جا سکے۔ خواجہ نصر الدین کارواں میں سب سے پیچھے، گرد کے گھنے اور بھاری بادل میں لپٹے چل رہے تھے۔ یہ تو ان کی اپنی پاک گرد تھی جس کی مہک دوسرے دور دراز ملکوں کی گرد سے کہیں اچھی تھی۔ چھینکتے کھانستے ہوئے وہ اپنے گدھے سے برابر کہہ رہے تھے:

“دیکھ، ہم آخر کار گھر پہنچ گئے نا! خدا کی قسم یہاں کامیابیاں اور مسرتیں ہماری منتظر ہیں۔”

کارواں ٹھیک اس وقت شہر کی فصیل کے قریب پہنچا جب پہرے دار پھاٹک بند کر رہے تھے۔ “خدا کے لئے ٹھہریے!” ۔ کارواں کا سردار ایک طلائی سکہ دکھا کر دور ہی سے چلایا۔ لیکن پھاٹک بند ہو چکے تھے، زنجیریں جھنکار کے ساتھ چڑھا دی گئیں اور میناروں پر نگہبانوں نے توپوں کے مورچے سنبھال لئے۔ تازہ ہوا کے جھونکے آنے لگے، دھندلکے آسمان میں گلابی شفق مرجھا گئی، باریک ہلال بہت صاف ابھر آیا اور شام کی خاموشی میں بےشمار میناروں سے مؤذنوں کی تیز اور پر سوز آوازیں مومنوں کو مغرب کی نماز کی دعوت دینے لگیں۔

سوداگر اور ساربان نماز کے لئے جھک گئے اور خواجہ نصر الدین چپکے سے اپنے گدھے کو لیکر ایک کنارے چلے گئے۔

” یہ سوداگر تو بجا طور پر خدا کے شکرگزار ہیں” انہوں نے کہا “انہوں نے آج دن میں ڈٹ کر کھانا کھایا ہے اور رات کو بھی کھائیں گے لیکن میں نے اور تو نے، میرے وفادار گدھے، نہ تو دن کو کھانا کھایا ہے اور نہ رات ہی کو کھائیں گے۔ اگر اللہ ہمارے شکرئے کا خواہاں ہے تو وہ مجھ کو ایک قاب پلاؤ اور تجھ کو ایک گھٹا گھاس بھیج دے۔”

انہوں نے سڑک کے کنارے ایک درخت سے گدھے کو باندھ دیا اور خود بھی اس کے برابر ننگی زمین پر پتھر کا تکیہ بنا کر لیٹ گئے۔ آسمان کی اندھیری وسعتوں میں جھانکے ہوئے انہوں نے ستاروں کا جھلملاتا ہوا جال دیکھا۔ وہ ستاروں کے ہر جھرمٹ سے بخوبی واقف تھے۔ ان دس برسوں میں انہوں نے نہ جانے کتنی بار کھلے آسمان کو دیکھا تھا! ان کو ہمیشہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے خاموش غور و فکر کے ان دانش مندانہ خیالات نے ان کو امیروں سے بھی زیادہ امیر بنا دیا ہے۔ چاہے امیر آدمی سونے کے ظروف میں ہی کھانا کیوں نہ کھاتا ہو پھر بھی وہ لازمی طور پر رات چھت کے نیچے گزارتا ہے۔ اس لئے وہ نصف شب کے سناٹے میں خنک، نیلگوں، ستاروں سے بھرے ہوئے دھندلکے کے درمیان زمین کی پرواز سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔

اس دوران میں شہر کی دندانے دار فصیل کے باہر کارواں سرایوں اور چائے خانوں میں بڑے برے کڑاہوں کے نیچے آگ روشن ہو چکی تھی اور بھیڑیں جو ذبح ہونے کے لئے کھینچی جا رہی تھیں بے حد غم آلود آواز میں ممیا رہی تھیں۔ تجربے کار خواجہ نصر الدین نے پہلے ہی سے سوچ کر اپنے رات کے آرام کا انتظام ایسی جگہ کیا تھا جو ہوا کے رخ کے خلاف تھی تاکہ کھانے کی اشتہا آمیز خوشبو ان کو نہ چھیڑ سکے۔ بخارا کے قوانین کو اچھی طرح جانتے ہوئے انہوں اپنی تھوڑی سی جمع پونجی بچا لی تھی تاکہ کل وہ شہر کے پھاٹک پر محصول ادا کر سکیں۔

کافی دیر تک وہ کروٹیں بدلتے تھے لیکن ان کو نیند نہ آئی۔ اس بے خوابی کا سبب بھوک نہ تھی بلکہ تلخ خیالات تھے جو ان کو بےچین اور پریشان کر رہے تھے۔

ان کو اپنے وطن سے محبت تھی۔ وہ اس کو سب سے زیادہ پیار کرتے تھے۔ یہ سانولے تپے ہوئے چہرے پر سیاہ داڑھی رکھنے والا چالاک اور زندہ دل انسان جس کی صاف آنکھوں سے شرارت کی جھلک تھی، اپنی پھٹی پرانی قبا، داغ دھبوں سے بھری ٹوپی اور خستہ حال جوتے پہنے بخارا سے جتنا ہی زیادہ دور آوارہ گردی کرتا رہا اتنا ہی زیادہ وطن سے اس کا پیار بڑھتا چلا گیا اور وطن اس کو یاد آتا گیا۔ جلا وطنی کے زمانے میں اس کو ان تنگ سڑکوں کی یاد آتی جہاں دونوں طرف کی کچی دیواروں سے رگڑ کھائے بغیر ارابے نہیں گزر سکتے تھے، ان بلند میناروں کی جن کی روغن کی ہوئی اینٹوں کی ڈیزائن دار چوٹیاں طلوع و غروب آفتاب کے وقت عکس سے شعلہ ور ہو جاتی تھیں اور ان قدیم اور متبرک چنار کے درختوں کی جن کی شاخوں میں سارسوں کے بڑے بڑے کالے گھونسلے جھولتے تھے۔ اس کو حور کے سرسراتے ہوئے درختوں کے سائے میں نہروں کے کنارے چہل پہل والے چائے خانے، بہت زیادہ گرم باورچی خانوں میں دھوئیں اور کھانے کی خوشبو اور بازاروں کی رنگین گہما گہمی یاد آتی۔ اس کو اپنے وطن کی پہاڑیاں اور جھرنے، گاؤں، کھیت، چراگاہیں، ریگستان ایک ایک یاد آتے اور بغداد یا دمشق میں جب وہ اپنے کسی ہم وطن کو دیکھتا تو وہ اس کی ٹوپی یا لباس کی وضع قطع سے پہچان لیتا اور ایک لمحہ کے لئے خواجہ نصر الدین کے دل کی دھڑکن اور سانس کی آمد رفت رک جاتی۔

واپسی پر خواجہ نے اپنے ملک کو اس سے زیادہ بدحال پایا جیسا کہ چھوڑا تھا۔ بڈھّے امیر کا زمانہ ہوئے انتقال ہو چکا تھا۔ پچھلے آٹھ سالوں میں نئے امیر نے بخارا کو تقریباً تباہ کر دیا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے ٹوٹے پھوٹے پل، سورج سے جھلسی، بری طرح سے بوئی ہوئی گیہوں اور جو کی کمزور فصلیں اور آبپاشی کی خشک نالیاں دیکھیں جو گرمی سی سوکھ کر چٹخ گئی تھیں۔ کھیتوں میں جھاڑ جھنکار اگے تھے اور ویران تھے، پانی کی کمیابی سے باغات خشک پڑے تھے، کسانوں کے پاس نہ تو اناج تھا اور نہ مویشی، سڑکوں پر فقیروں کی قطاریں ان لوگوں سے بھیک مانگتی نظر آتی تھیں جو خود انہی کی طرح محتاج تھے۔

نئے امیر نے ہر گاؤں میں سپاھیوں کا ایک ایک دستہ تعینات کر دیا تھا اور حکم دیا تھا کہ اس کے مفت کھانے پینے کی ذمہ داری گاؤں والوں پر ہے۔ اس نے بہت سی مسجدوں کی بنیاد ڈلوا دی اور پھر حکم دیا کہ عام لوگ ان کو تکمیل تک پہنچائیں۔ نیا امیر بہت زاہد و پاکباز تھا اور سال میں دو بار انتہائی مقدس اور پاکیزہ بزرگ شیخ بہاالدین کے مزار کی زیارت میں ناغہ نہیں کرتا تھا جو بخارا کے قریب ہی تھا۔ چار رائج ٹیکسوں میں اس نے تین اور محصولوں کا اضافہ کیا تھا۔ اس نے ہر پل پر چنگی ناکہ بنوا دیا تھا، تجارتی اور قانونی کاروائیوں کے لئے ٹیکس پر اضافہ کر دیا تھا اور گھٹیا سکے بنوائے تھے۔۔۔ حرفتیں تباہ ہو رہی تھیں اور تجارت پر زوال آیا ہوا تھا۔ خواجہ نصر الدین کے لئے اپنے پیار وطن کو واپسی خوش کن نہ تھی۔

صبح سویرے مؤذنوں کی اذان پھر تمام میناروں سے گونجی۔ پھاٹک کھل گئے اور کارواں گھنٹیوں کی گونج میں آہستہ آہستہ شہر میں داخل ہوا۔

پھاٹک سے گزر کر کارواں ٹھہر گیا۔ سڑک کو پہرے داروں نے روک رکھا تھا۔ وہ بڑی تعداد میں تھے۔ کچھ تو اچھے کپڑے اور جوتے پہنے تھے اور کچھ جن کو ابھی تک امیر کی ملازمت میں موٹے ہونے کا موقع نہیں ملا تھا ننگے پیر اور نیم عریاں تھے۔ وہ شور مچا کر ایک دوسرے کو ڈھکیل رہے تھے اور لوٹ مار کی تقسیم کے لئے پہلے سے جھگڑنے لگے تھے۔ آخرکار ٹیکس کلکٹر صاحب ایک چائے خانے سے برآمد ہوئے، لحیم شحیم، چہرے پر نیند کے آثار، ریشمی قبا پہنے جس کی آستیوں پر چکنائی کے داغ تھے، ننگے پیر سلیپروں میں ڈال لئے تھے۔ پھولا ہوا چہرہ بد اعتدالیوں اور بدکاریوں کی چغلی کھا رہا تھا۔ اس نے سوداگروں پر للچائی ہوئی نگاہ ڈالی اور بولا:

“خوش آمدید، سوداگرو! اللہ آپ کو کاروبار میں کامیاب کرے! یہ جان لیجئے کہ امیر کا حکم ہے کہ اگر کوئی بھی اپنے سامان کی چھوٹی سی چیز بھی چھپائے گا تو اس کو ڈنڈوں سے مار مار کر ہلاک کر دیا جائے گا۔”

حیران و پریشان سوداگروں نے خاموشی سے اپنی خضاب لگی ہوئی داڑھیوں کو سہلایا۔ ٹیکس کلکٹر پہرے دواروں کی طرف مڑا جو بے چین ہو رہے تھے اور اپنی موٹی انگلیوں سے اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی پہرے دار ہانکتے پکارتے اونٹوں پر ٹوٹ پڑے۔ بھیڑ بھاڑ اور عجلت میں ایک دوسرے سے دھکم دھکا کر کے انہوں نے اپنی تلواروں سے بالوں کے رسے کاٹ دئے اور شور مچاتے ہوئے گانٹھوں کو کاٹ کر کھول دیا۔ سڑک پر زربفت، ریشم اور مخمل کے کپڑے، مرچ، چا، عنبر کے باکس، گلاب کے قیمتی عطر کے کنٹر اور تبت کی دوائیں پھیل گئیں۔

خوف نے سوداگروں کی زبان میں قفل لگا دیا تھا۔ دو منٹ میں معائنہ ختم ہو گیا۔ پہرے دار اپنے افسر کے پیچھے صف آرا ہو گئے، ان کی قبائیں پھولی ہوئی تھیں۔ اب سامان اور شہر کے اندر داخل ہونے کی اجازت کے لئے ٹیکس وصول کیا جانے لگا۔ خواجہ نصر الدین کے پاس کوئی تجارتی سامان نہ تھا اور ان کو صرف داخلے کا ٹیکس ادا کرنا تھا۔

“تم کہاں سے آ رہے ہو اور کس کام سے؟” ٹیکس کلکٹر نے دریافت کیا۔

محرر نے کلک کا قلم دوات میں ڈبویا اور خواجہ نصر الدین کا بیان رجسٹر میں قلم بند کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔

“حضور عالی، میں ایران سے آ رہا ہوں۔ یہاں بخارا میں میرے کچھ عزیز رہتے ہیں۔”

“اچھا” ٹیکس کلکٹر بولا۔ “تو تم اپنے عزیزوں سے ملنے آئے ہو۔ اس صورت میں تمھیں ملاقاتی کا محصول ادا کرنا ہو گا”۔

“لیکن میں ان سے ملاقات کرنے تھوڑی ہی آیا ہوں” خواجہ نصر الدین نے جلدی سے جواب دیا۔ ” میں ضروری کام سے آیا ہوں۔”

“کام سے!” ٹیکس کلکٹر نے زور سے کہا اور اس کی آنکھیں جل اٹھیں۔ “تب تو تم ملاقات اور کام دونوں کے لئے آئے ہو۔ ملاقاتی کا ٹیکس ادا کرو، کام کا ٹیکس ادا کرو اور اس خدا کی راہ میں مسجدوں کی آرائش کے لئے عطیہ دو جس نے تم کو راستے میں رہزنوں سے محفوظ رکھا۔”

“اچھا تو یہ ہوتا کہ وہ اب مجھے محفوظ رکھتا کیونکہ رہزنوں سے بچنے کی تدبیر تو میں خود کر سکتا تھا” خواجہ نصر الدین نے سوچا لیکن اپنی زبان کو روکے رہے کیونکہ انہوں نے حساب لگایا کہ اس بات چیت کا ہر حرف ان کو دس تنگے سے زیادہ کا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے اپنی پیٹی کھولی اور پہرے داروں کی گھورتی ہوئی حریصانہ آنکھوں کے سامنے شہر میں داخلے کا ٹیکس، مہمان ٹیکس، کاروباری ٹیکس اور مسجدوں کی آرائش کے لئے عطیہ کی رقم گنی۔ ٹیکس کلکٹر نے گھور کر پہرے داروں کو دیکھا جو ہٹ گئے۔ محرر اپنی ناک رجسٹر میں گھسیڑے کلک کے قلم سے لکھتا رہا۔

تمام محاصل ادا کرنے کے بعد خواجہ نصر الدین روانہ ہی ہونے والے تھے کہ ٹیکس کلکٹر نے دیکھا لیا کہ کچھ سکے ان کی پیٹی میں باقی رہ گئے ہیں۔

“ٹھہرو!” اس نے حکم دیا ” اور تمھارے گدھے کا ٹیکس کون ادا کرے گا؟ اگر تم اپنے عزیزوں سے ملنے جا رہے ہو تو اس کا یہ مطلب ہوا کہ گدھا بھی اپنے عزیزوں سے ملنے جا رہا ہے۔”

“دانا افسر، آپ بجا فرماتے ہیں” خواجہ نصر الدین نے اپنی پیٹی پھر سے کھولتے ہوئے بڑی خاکساری سے کہا ” واقعی، بخارا میں میرے گدھے کے عزیزوں کی بڑی اکثریت ہے ورنہ جیسا انتظام یہاں ہے اس سے تو آپ کے امیر کو کب کا تخت سے اتار دیا گیا ہوتا اور آپ، حضور، اپنے حرص کی وجہ سے بہت دن پہلے ہی چوبی ستون پر نظر آتے۔”

قبل اس کے کہ ٹیکس کلکٹر حواس مجتمع کر سکے خواجہ نصر الدین اچک کر اپنے گدھے پر آئے اور اس کو سرپٹ بھگاتے ہوئے قریب ترین گلی میں رفو چکر ہو گئے۔

“اور تیز، اور تیز” وہ برابر گدھے سے کہتے جا رہے تھے “اور تیز، میرے وفا دار گدھے، اور تیز ورنہ تیرے مالک کو ٹیکس میں اپنا سر دینا پڑ جائے گا۔”

خواجہ نصر الدین کا گدھا بڑا سمجھدار تھا۔ وہ ہر بات سمجھتا تھا۔ اس کے لمبے کانوں نے شہر کے پھاٹک کا غل غپاڑہ اور پہرے داروں کی ہانک پکار سن لی تھی اس لئے وہ سڑک سے بے نیاز بھاگتا رہا اور اتنی تیز رفتاری سے کہ اس کا مالک کاٹھی سے چمٹا ہوا تھا، اس کے بازو گدھے کی گردن میں حمائل تھے اور اس کے پیر اوپر کھنچے ہوئے تھے۔ زور زور سے بھونکتے ہوئے کتے ان کے پیچھے دوڑتے، مرغیاں چاروں طرف بکھر جاتیں اور راہی دیواروں سے چپک کر کھڑے ہو جاتے، اپنا سرھلاتے اور ان کو آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھتے۔

اس دوران میں شہر کے پھاٹک پر پہرے داروں نے مجمع میں اس بے دھڑک آزاد خیال کی تلاش کر رہے تھے۔ سوداگر مسکرا رہے تھے اور ایک دوسرے سے چپکے چپکے کہہ رہے تھے:

” یہ جواب تو بس خواجہ نصر الدین ہی دے سکتے تھے۔”

دوپہر ہوتے ہوتے یہ قصہ سارے شہر میں پھیل گیا۔ بازار میں تاجر چپکے چپکے گاہکوں سے بیان کر نے لگے جو اس کو دوسروں تک پہنچاتے اور سب ہنستے اور ہمیشہ یہ کہتے:

“یہ الفاظ تو خواجہ نصر الدین ہی کو زیب دیتے ہیں۔”

کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ الفاظ خود خواجہ نصر الدین کے ہیں، کہ وہی مشہور و معروف لاثانی خواجہ نصر الدین اس وقت شہر میں بھوکا پیاسا، خالی جیب آوارہ گردی کر رہا ہے اور اپنے عزیزوں اور پرانے دوستوں کو تلاش کر رہا ہے جو اس کو کھلاتے پلاتے اور پناہ دیتے۔

(۳)

خواجہ نصر الدین کو بخارا میں نہ تو عزیز ملے اور نہ پرانے دوست ہی۔ ان کو اپنے باپ کا گھر تک نہ ملا جہاں وہ پیدا ہوئے تھے اور پل بڑھ کر جوان ہوئے تھے، نہ تو وہاں وہ سایہ دار باغ تھا جہاں خزاں کے صاف دنوں میں سنہری پتیاں ہوا میں سرسراتی تھیں اور پھل بھدابھد زمین پر گرتے تھے، جہاں چڑیاں چہچہاتی تھیں اور سورج کی کرنیں خوشبو دار گھاس پر ناچتی تھیں، جہاں شہر کی مکھیاں مرجھاتے ہوئے پھولوں سے آخری خراج وصول کرتے ہوئے بھن بھناتی تھیں اور جہاں نہر گنگناتی ہوئی بہتی تھی اور لڑکے سے اپنی نہ ختم ہونے والی پراسرار کہانیاں کہتی رہتی تھی۔۔۔ اب یہ جگہ ویران تھی، کوڑے کرکٹ، خاردار جھاڑیوں سے بھری ہوئی، آگ سے جلی ہوئی اینٹوں، گرتی ہوئی دیواروں اور سڑتی ہوئی چنائی کے ٹکڑے پھیلے ہوئے تھے۔ خواجہ نصر الدین کو ایک چڑیا، ایک شہد کی مکھی تک نظر نہ آئی۔ صرف پتھروں کے ڈھیر کے نیچے سے جہاں انہوں نے ٹھوکر کھائی تھی اچانک ایک چکنی سی رسی برآمد ہوئی، سورج کی روشنی میں ہلکی سی چمکی اور پھر پتھروں کے نیچے غائب ہو گئی۔ یہ تھا سانپ، ایسی ویران جگہوں کا تنہا اور ڈراؤنا باسی جن کو ہمیشہ کے لئے انسان ترک کر دیتا ہے۔

خواجہ نصر الدین بڑی دیر تک سر جھکائے کھڑے رہے۔ ان کے دل پر غم کے بادل چھا گئے تھے۔

سخت کھانسی کی آواز سے چونک کر وہ مڑے۔

ایک بڈھا غربت و فکر سے جھکا ہوا اس ویرانے کے پار راستے پر چلا آتا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس کو روکا:

“بڑے میاں، رحمت ہو تم پر، خدا تم کو صحت و خوشحالی کا طویل زمانہ عطا کرے۔ مجھے بتاؤ کہ اس ویران جگہ پر کس کا مکان تھا؟”

“یہ کاٹھی بنانے والے شیر محمد کا گھر تھا” بڈھّے نے جواب دیا “میں اس کو اچھی طرح جانتا تھا۔ یہ شیر محمد مشہور خواجہ نصر الدین کا باپ تھا جس کے بارے میں، اے مسافر، تو نے یقیناً بہت کچھ سنا ہو گا۔”

ہاں میں نے کچھ تو اس کے بارے میں سنا ہے ۔ لیکن یہ تو بتاؤ یہ کاٹھی بنانے والا شیر محمد جو مشہور خواجہ نصر الدین کا باپ تھا کہاں چلا گیا اور اس کا خاندان کہاں ہے؟

اتنے زور سے نہیں ، میرے بیٹے ، بخارا میں لاکھوں جاسوس ہیں ۔ اگر انہوں نے کہیں ہماری بات سن لی تو بس مصیبتوں کا ٹھکانہ نہیں رہے گا ۔ شاید تم بہت دور سے آئے ہو اور نہیں جانتے کہ ہمارے شہر میں خواجہ نصر الدین کا نام لینا سخت منع ہے ۔ یہ بات آدمی کو جیل میں ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔ ذرا قریب آ جاؤ ۔ میں تمھیں بتاؤں گا ۔

اپنی پریشانی چھپاتے ہوئے خواجہ نصر الدین اس کے قریب جھک گئے ۔

یہ بڈھّے امیر کے زمانے کی بات ہے ۔ بڈھّے نے کھانستے ہوئے شروع کیا۔ خواجہ نصر الدین کی جلاوطنی کو ڈیڑھ سال ہوئے تھے کہ بازار میں یہ افواہ پھیل گئی کہ وہ ناجائز طور پر چھُپ کر بخارا واپس آ گئے ہیں اور یہاں ٹھہرے ہوئے ہیں اور امیر کے خلاف ہجویہ نظمیں لکھ رہے ہیں ۔ یہ افواہ امیر کے محل تک پہنچی اور پہرے داروں نے خواجہ نصر الدین کی تلاش شروع کر دی لیکن وہ نہیں ملے ۔ تب امیر نے حکم دیا کہ ان کے باپ ، دو بھائیوں ، چچا اور دور کے رشتے داروں اور دوستوں کو پکڑ لیا جائے ۔ ان کو اس وقت تک اذیت پہنچانا تھی جب تک وہ خواجہ نصر الدین کا پتہ نہ بتائیں ۔ الحمد للہ ان کو اتنا ہمت و استقلال حاصل ہوا کہ انہوں نے اپنی زباں بند رکھی اور ہمارے خواجہ نصر الدین امیر کے ہاتھ نہ آئے ۔ لیکن ان کے باپ ، کاٹھی بنانے والے شیر محمد اذیتوں سے چُور ہو کر جلد ہی اس دُنیا سے چل بسے اور ان کے عزیزوں اور دوستوں نے امیر کے غیض و غضب سے بچنے کے لئے بخارا چھوڑ دیا اور پتہ نہیں کہ اب کہاں ہیں ۔ پھر امیر نے حکم دیا کہ ان کے گھر تباہ کر دئے جائیں اور ان کے باغ تہس نہس کر دئے جائیں تاکہ خواجہ نصر الدین کی یاد لوگوں کے ذہن سے یکسر محو ہو جائے ۔

’’ لیکن ان پر ظلم و ستم کیوں ڈھایا گیا؟ ‘‘خواجہ نصر الدین نے چیخ کر کہا ۔ ان کے رُخساروں پر آنسو بہہ چلے لیکن بڈھّے نے یہ آنسو نہیں دیکھے کیونکہ اس کی نگاہ کمزور تھی ۔ ’’ ان پر کیوں ظلم و ستم ڈھایا گیا؟ خواجہ نصر الدین تو اس وقت بخارا میں تھے ہی نہیں ۔ میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں! ‘‘

کوئی نہیں کہہ سکتا‘‘ بڈھّے نے کہا ’’خواجہ نصر الدین کا جب جی چاہتا ہے آتے ہیں اور جب دل چاہتا ہے چلے جاتے ہیں ۔ وہ ہر جگہ ہیں اور کہیں نہیں ہیں ، ہمارے خواجہ نصر الدین کا جواب نہیں ہے‘‘!

یہ کہہ کر بُڈھا کراہتا اور کھانستا ہوا اپنے راستے پر ہو لیا ۔ خواجہ نصر الدین نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھک لیا اور گدھے کے پاس چلے گئے۔

انہوں نے گدھے کے گلے میں باہیں ڈال دیں اور اپنا بھیگا ہوا چہرہ اس کی گرم اور بساھندی گردن سے دبا دیا۔

’’ آہ ، میرے اچھے ، سچے دوست‘‘خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ دیکھو اب میرا عزیز و قریب کوئی نہیں باقی رہ گیا ۔ صرف تُو اس آوارہ گردی میں میرا مستقل اور وفا دار ساتھی ہے۔‘‘

جیسے گدھے نے اپنے مالک کے رنج و غم کو سمجھ لیا ہو ، وہ خاموش کھڑا ہو گیا ۔ بلکہ ایک تنکے کو جو اس کے ہونٹوں سے لٹک رہا تھا چبانا بند کر دیا ۔

بہر حال ایک گھنٹے بعد خواجہ نصر الدین اپنے غم پر قابو پا چکے تھے اور آنسو چہرے پر خُشک ہو گئے تھے۔

’’ کوئی پرواہ نہیں!‘‘ انہوں نے گدھے کی پیٹھ کو تھپ تھپاتے ہوئے کہا۔ ’’ کوئی پرواہ نہیں ! مجھے بخارا میں ابھی تک فراموش نہیں کیا گیا ہے۔ لوگ مجھ کو ابھی تک جانتے اور یاد کرتے ہیں۔ ہم کچھ دوست پا ہی لینگے۔ اور امیر کے بارے میں ایسی نظمیں لکھیں گے کہ وہ اپنے تخت پر غصے سے پھُول کر پھٹ ہی جائے گا اور اس کی گندی آنتیں محل کی آراستہ دیواروں کو داغدار بنا دیں گی۔ آ ! میرے وفا دار گدھے ، آگے بڑھ !‘‘

(۴)

سہ پہر کا سناٹے کا وقت تھا اور بڑی امس تھی ۔ گرد آلود سڑک ، پتھروں ، کچی دیواروں اور باڑوں سے امس پیدا کرنے والی گرمی نکل رہی تھی اور خواجہ نصر الدین کے چہرے کا پسینہ پونچھنے سے پہلے ہی خُشک ہو جاتا تھا۔

وہ جانی پہچانی سڑکوں ، چائے خانوں اور میناروں کو دیکھ کر متاثر ہو رہے تھے ۔ دس سال کے اندر بخارا میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح کچھ خارشئے کُتے پانی کے حوضوں کے کنارے پڑے سو رہے تھے، اور ایک عورت ادا کے ساتھ جھُکی ہوئی اور اپنے نقاب کو سانولے ہاتھ سے جس کے ناخون رنگے ہوئے تھے ایک طرف ہٹا کر تنگ گلے کی قلقل کرتی ہوئی صراحی میلے پانی میں ڈال رہی تھی ۔

کھانا کہاں سے اور کیسے حاصل کیا جائے ، یہ ایک مسئلہ تھا ۔ خواجہ نصر الدین نے کل سے تیسری بار اپنا پٹکا زور سے کسا۔

’’ کوئی نہ کوئی راستہ نکالنا چاہئے‘‘ انہوں نے کہا ’’ آ ، میرے وفا دار گدھے ، ذرا رُک کر سوچیں اور یہاں خوش قسمتی سے ایک چائے خانہ بھی ہے ۔‘‘

انہوں نے اپنے گدھے کی لگام کھول دی اور گھوڑے باندھنے کی جگہ کے پاس جو گھاس پڑی تھی چرنے کے لئے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر اپنی قبا کے دامنوں کو سمیٹتے ہوئے وہ نہر کے کنارے بیٹھ گئے جہاں گدلا پانی موڑوں پر قلقل کرتا اور جھاگ دیتا ہوا بہہ رہا تھا۔

’’کہاں ، کیوں اور کہاں سے یہ پانی بہتا ہے پانی اس کی بابت نہ تو جانتا ہے اور نہ سوچتا ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے افسردگی کے ساتھ سوچا۔ ’’میں بھی آرام اور گھر سے بیگانہ ہوں اور نہ تو یہ جانتا ہوں کہ کہاں جا رہا ہوں ۔۔ میں بخارا کیوں آیا؟ میں کل کہاں جاؤں گا ؟ اور میں اپنے کھانے کے لئے آدھا تانگا کہاں سے لاؤں؟ کیا مجھے اب بھی بھُوکا رہنا پڑے گا ؟ لعنت ہو اس ٹیکس کلکٹر پر! اس نے تو مجھے صاف ہی کر دیا۔ اور پھر دیدہ دلیری تو دیکھو کہ مجھ سے رہزنوں کا ذکر کر رہا تھا !‘‘

اسی لمحے انہوں نے اس آدمی کو دیکھا جو ان کی مصیبتوں کا باعث بنا تھا ٹیکس کلکٹر گھوڑے پر سوار چائے خانے آ رہا تھا۔ اس کے خوبصورت عرب سرنگ گھوڑے کو دو پہرے دار لگاموں سے تھامے ہوئے تھے ۔ گھوڑے کی سیاہ آنکھوں میں شریفانہ سی چمک تھی ۔ اس کی گردن کمان کی طرح کشیدہ تھی اور وہ اپنے نازک پیروں پر اس نزاکت اور چھل بل سے چل رہا تھا کہ اس کے اُوپر مالک کا پھُولا پھالا بدن قابلِ نفرت معلوم ہو رہا تھا۔
پہرے داروں نے ادب کے ساتھ اپنے افسر کو گھوڑے سے اُترنے میں مدد دی۔ وہ چائے خانے میں چلا گیا جہاں انتہائی غلامانہ ذہنیت رکھنے والا چائے خانے کا مالک اس کو ریشمی گدوں تک لے گیا اور وہ بیٹھ گیا ۔ پھر چائے خانے کے مالک نے اپنی بہترین چاء تیار کی اور ایک نفیس پیالے میں جو چینی دستکاری کا نمونہ تھا ٹیکس کلکٹر کے سامنے چاء پیش کی۔

’’ یہ سب میرے خرچ سے خاطر مدارات ہو رہی ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا۔
ٹیکس کلکٹر نے خوب چاء پی اور جلد ہی گدوں پر ڈھیر ہو گیا۔ چائے خانہ اس کی غراہٹ ، اور ہونٹ چاٹنے کے چٹاخوں سے گونجنے لگا۔ دوسرے لوگوں نے اپنی آوازیں مدھم کر دیں کہ کہیں اس کی نیند میں خلل نہ پڑے۔ پہرے دار اس کے دونوں طرف بیٹھے ٹہنیوں سے مورچھل کر رہے تھے تاکہ مکھیاں اس کو پریشان نہ کر سکیں ۔ جب ان کو یقین ہو گیا کہ ٹیکس کلکٹر گہری نیند سو رہا ہے تو انہوں نے ایک دوسرے کی طرف آنکھ ماری ، گھوڑے کی لگام اُتار دی ، اس کے سامنے گھاس کا ایک گٹھ کھول دیا اور ایک حقہ اُٹھا کر چائے خانے کے اندر والے تاریک حصے میں چلے گئے ۔ ذرا دیر بعد خواجہ نصر الدین نے حشیش کی بھینی بو محسوس کی ۔ پہرے دار آزادی کے ساتھ اپنے مشغلے میں پڑے ہوئے تھے ۔

’’ اچھا ، اب یہاں سے چلتے پڑنا چاہئے‘‘ شہر کے پھاٹک پر صبح کا واقعہ یاد کر کے یہ ڈرتے ہوئے کہ کہیں پہرے دار انہیں پہچان نہ لیں خواہ نصر الدین نے فیصلہ کیا ۔ ’’ پھر بھی مجھے آدھا تانگا کہاں سے ملے گا ؟ اے مسبب الاسباب تو نے نہ جانے کتنی بار خواجہ نصر الدین کی مدد کی ہے ، اس پر ایک نظر کرم اور!‘‘
ٹھیک اسی وقت کسی نے ان کو پکارا ’’ارے ، تم!‘‘

خواجہ نصر الدین نے مُڑ کر دیکھا تو سڑک پر ایک بہت سجی ہوئی بند گاڑی دیکھی۔ اس کے پردوں سے ایک آدمی بڑا عمامہ اور قیمتی خلعت پہنے جھانک رہا تھا۔ قبل اس کے کہ یہ اجنبی، جو کوئی امیر سوداگر یا عہدے دار تھا کچھ کہے خواجہ نصر الدین سمجھ گئے کہ ان کی دعا رائگاں نہیں گئی۔ حسب معمول قسمت نے ان کی طرف مشکل کے دوران مسکرا کر دیکھا ہے۔

“مجھے یہ گھوڑا پسند ہے” امیر اجنبی نے عرب گھوڑے کو تعریف کی نگاہ سے دیکھتے ہوئے غرور سے کہا “کیا یہ گھوڑا بکاؤ ہے؟”

“دنیا میں کوئی ایسا گھوڑا نہیں جو بکاؤ نہ ہو” خواجہ نصر الدین نے مبہم سا جواب دیا۔

“غالباً تمھاری جیب بالکل خالی ہے” اجنبی کہتا گیا “میری بات غور سے سنو۔ مجھے نہیں معلوم یہ گھوڑا کس کا ہے، کہاں سے آیا ہے اور اس کا پہلا مالک کون تھا۔ میں تم سے یہ سب نہیں پوچھتا۔ تمھارے گرد آلود کپڑوں کو دیکھ کر میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم کہیں دور سے بخارا آئے ہو۔ بس یہی میرے لئے کافی ہے۔ سمجھتے ہو نا؟”

خواجہ نصر الدین نے خوشی سے سر ہلا دیا۔ ان کی سمجھ میں فوراً ہی آگیا کہ یہ امیر آدمی کیا کہنا چاہتا ہے۔ بس وہ یہ چاہتے تھے کہ کوئی احمق مکھی ٹیکس کلکٹر کی ناک یا گلے میں نہ رینگ جائے اور اس کو نہ جگا دے۔ ان کو پہرے داروں کی زیادہ فکر نہ تھی کیونکہ جو گہنا سبز دھواں چائے خانے کے اندرونی حصے سے نکل رہا تھا وہ پتہ دیتا تھا کہ پہرے دار اپنے مشغلے میں مستھیں۔

“تمھیں اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے” امیر اجنبی نے غرور اور شان کے لہجے میں اپنی بات جاری رکھی “اس پھٹی پرانی قبا میں تم کو اس گھوڑے کی سواری زیب نہیں دیتی بلکہ یہ بات خطرناک بھی ہو گی کیونکہ ہر ایک کو تعجب ہو گا کہ اس بھک منگے کے پاس اتنا عمدہ گھوڑا کہاں سے آیا؟ تم کو آسانی سے جیل کا دروازہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔”

“حضور، آپ بجا فرماتے ہیں” خواجہ نصر الدین نے خاکساری سے ہاں میں ہاں ملائی ” یہ گھوڑا یقیناً میرے لئے بہت بڑی چیز ہے۔ میں اپنے پھٹے پرانے لباس میں ساری عمر گدھے کی سواری کرتا رہا ہوں۔ میں اس گھوڑے پر سواری کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا۔”

اس کا جواب امیر اجنبی کو پسند آیا۔

“یہ اچھی بات ہے کہ تم غریب ہوتے ہوئے غرور سے اندھے نہیں ہو۔ غریب آدمی کو خاکسار اور مسکین ہونا چاہئے کیونکہ خوبصورت پھول حسین بادام کے درخت کو زیب دیتے ہیں ویرانے کی خاردار جھاڑیوں کو نہیں۔ اب بتاؤ، تمھیں یہ تھیلی چاہئے؟ اس میں پورے پورے چاندی کے تیس سو تنگے ہیں۔”

“مجھے چاہئے!” خواجہ نصر الدین نے جلدی سے کہا اور اس کی سانس یکدم رک گئی کیونکہ ایک مکھی ٹیکس کلکٹر کی ناک میں رینگ گئی تھی جس سے اس کو چھینک آ گئی تھی اور اس نے کروٹ لی تھی۔ ” میرا خیال یہ تو یہی ہے! چاندی کے تین سو تانگوں سے کون انکار کر سکتا ہے؟ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے سڑک پر تھیلی پڑی مل جائے!”

“ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تم کو کوئی اور چیز سڑک پر ملی ہے” اجنبی نے اس طرح مسکراتے ہوئے کہا جیسے وہ سب کچھ جانتا ہے۔ “لیکن سڑک پر جو کچھ تمھیں ملا ہے، میں اس سے اس تھیلی کا تبادلہ کرنے کو تیار ہوں۔ یہ رہے تین سو تانگے۔”

اس نے تھیلی خواجہ نصر الدین کو دے دی اور اپنے نوکر کو اشارہ کیا، جو خاموشی سے کھڑا یہ گفتگو سن رہا تھا اور اپنی پیٹھ چابک سے کھجلا رہا تھا۔ جب نوکر گھوڑے کی طرف جا رہا تھا تو خواجہ نصر الدین نے اس کی ہنسی اور اس کے چپٹے، چیچک سے داغدار چہرے اور تھرکتی ہوئی آنکھوں سے اندازہ لگایا کہ وہ بھی اپنے مالک سے کم بد معاش نہیں ہے۔

“ایک ہی سڑک پر تین مکار، ذرا زیادہ ہوئے۔ بس مجھے یہاں سے چلتا بننا چاہئے” خواجہ نے فیصلہ کیا۔

امیر اجنبی کی شرافت اور فیاضی کو سراہتے ہوئے وہ اچک کر اپنے گدھے پر بیٹھے اور اس کو اتنی زور کی ایڑ لگائی کہ گدھا اپنی تمام کاہلی کے باوجود ہوا ہو گیا۔

جب خواجہ نصر الدین نے مڑ کر دیکھا تو نوکر عرب گھوڑے کو گاڑی میں باندھ رہا تھا اور جب دوبارہ وہ مڑے تو امیر اجنبی اور ٹیکس کلکٹر ایک دوسرے کی ریش مبارک نوچ رہے تھے اور پہرے دار ان دونوں کو الگ کرنے کی بے سود کوشش کر رہے تھے۔

عقلمند آدمی دوسروں کے جھگڑوں میں اپنی ٹانگ نہیں اڑاتا۔ خواجہ نصر الدین گلی کوچوں کا چکر لگاتے جا رہے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے محسوس کیا کہ اب تعاقب کا کوئی خطرہ نہیں ہے اور انہوں نے گدھے کی لگام کھینچ کر رفتار کم کر دی۔

“رک، ارے رک جا” انہوں نے کہنا شروع کیا “اب کوئی جلدی نہیں ہے۔۔۔”

اچانک انہوں نے بالکل قریب ہی تیز اور خطرناک ٹاپوں کی آواز سنی۔

“ارے، بھاگ میرے وفا دار گدھے! بھاگ! مجھے یہاں سے جلدی لے چل!” انہوں نے للکار کر کہا۔ لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ ایک موڑ سے گھوڑ سوار کود کر سڑک پر آگیا۔

یہ وہی چیچک رو نوکر تھا۔ وہ گاڑی سے کھولے ہوئے گھوڑے پر سوار تھا۔ اپنے پیر جھلاتے ہوئے وہ خواجہ نصر الدین سے آگے نکل گیا اور اچانک گھوڑے کو سڑک پر روک کر راست روک دیا۔

“بھلے آدمی، مجھے نکل جانے دو” خواجہ نصر الدین نے خاکساری سے التجا کی “ایسی تنگ سڑکوں پر گھوڑا سیدھا لے چلنا چاہئے، آرا بیڑا نہیں۔”

“اچھا” نوکر نے طنزیہ ٹھٹھا لگا کر کہا “اب تم کال کوٹھڑی سے نہیں بچ سکوگے! جانتے ہو اس عہدے دار نے جو گھوڑے کا مالک ہے، میرے مالک کی آدھی داڑھی نوچ لی ہے اور میرے مالک نے اس کی ناک لہولہان کر دی ہے؟ کل امیر کی عدالت میں تمھاری پیشی ہو گی۔ سچ مچ، تمھارے برے دن آ گئے!”

“تم کہہ کیا رہے ہو؟” خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا ” یہ معزز لوگ کیوں اس بری طرح لڑ پڑے؟ اور تم نے مجھے کیوں روکا؟ میں نے کے جھگڑے میں ثالث نہیں بن سکتا۔ وہ خود جس طرح چاہیں اس کا فیصلہ کریں۔”

“اچھا، بس چپ کرو” نوکر نے کہا “لوٹو، تمھیں گھوڑے کے لئے جواب دھی کرنی ہو گی۔”

“کیسا گھوڑا؟”

“تم پوچھتے ہو؟ وہی گھوڑا جس کے لئے تم کو میرے مالک نے چاندی کے سکوں کی تھیلی دی ہے۔”

“خدا کی قسم تم غلطی کر رہے ہو” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ “اس معاملے سے گھوڑے کا کوئی سروکار نہیں۔ خود فیصلہ کرو۔ تم نے تو ساری گفتگو سنی ہے ۔ تمھارے مالک شریف اور فیاض آدمی ہیں۔ وہ ایک غریب کی مدد کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں چاندی کے تین سو تنگے لینا چاہتا ہوں اور میں نے کہا کہ ضرور۔ لیکن رقم دینے سے قبل انہوں نے میرے انکسار اور خاکساری کی یہ معلوم کرنے کے لئے آزمائش کی کہ آیا میں اس انعام کے لائق ہوں یا نہیں۔ انہوں نے کہا “میں یہ نہیں پوچھتا کہ یہ گھوڑا کس کا ہے اور کہاں سے آیا ہے۔” دیکھو نا، وہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا جھوٹے غرور میں اس کو میں اپنا گھوڑا بتا دوں گا۔ میں چپ رہا اور یہ فیاض اور شریف انسان خوش ہوا۔ پھر انہوں نے کہا کہ ایسا گھوڑا میرے لئے ایک بہت بڑی چیز ہو گا اور میں نے ان سے اتفاق کیا۔ اس سے بھی وہ خوش ہوئے۔ پھر انہوں نے کہا کہ میں نے سڑک پر وہ چیز پائی ہے جس کا تبادلہ چاندی سے کیا جا سکتا ہے، ان کا اشارہ اسلام کے لئے میرے جوش اور مضبوط عقیدے کی طرف تھا، جو میں نے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے سفر کر کے حاصل کیا تھا۔ اور اس کے بعد انہوں نے مجھے انعام دیا، اس نیک کام میں ان کی نیت یہ تھی کہ جنت میں ان کے داخلے کے لئے میں اس پل کے ذریعہ آسانی ہو جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے، جیسا کہ قرآن شریف ہم کو بتاتا ہے۔ میں اپنی سب سے پہلی دعا میں اللہ سے یہ درخواست کروں گا کہ اس کار خیر کی وجہ سے تمھارے مالک کے لئے اس پل پر کٹہرا لگوا دیا جائے۔ “

نوکر نے یہ لمبی تقریر غور سے سنی اور چابک سے اپنی پیٹھ کھجلاتا رہا۔ آخر میں اس نے چالاکی سے دانت نکالتے ہوئے کہا جس سے خواجہ نصر الدین گھبرا گئے:

“مسافر، تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ حیرت ہے کہ میں فوراً ہی یہ کیوں نہیں سمجھ گیا کہ میرے مالک سے تمھاری بات چیت کا کیسا نیک مطلب ہے؟ لیکن چونکہ تم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ تم میرے مالک کو دوسری دنیا میں پل پار کرنے میں مدد دو گے، تو اگر یہ پل کے دونوں طرف کٹہرا ہو تو اس سے زیادہ حفاظت ہو گی۔ میں بھی بہت خوشی سے اپنے مالک کے لئے دعا کروں گا تاکہ اللہ پل کے دوسری طرف بھی ان کو کٹہرا عطا فرمائے۔”

“تو کرو نا دعا!” خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا “تمھیں روکتا کون ہے؟ تمھارا تو ایک طرح سے یہ فرض بھی ہے۔ کیا قرآن میں ہدایت نہیں کی گئی ہے کہ غلاموں اور ملازموں کو روزانہ اپنے مالک کے لئے کسی خاص انعام کے مطالبے کے بغیر دعا کرنی چاہئے؟”

“اپنا گدھا موڑو” نوکر نے سختی سے چلا کر کہا اور اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر خواجہ نصر الدین کو دیوار تک دبا دیا۔ ” اب جلدی کرو، میرا وقت ضائع مت کرو۔”

“رکو” خواجہ نصر الدین نے جلدی سے بات کاٹ کر کہا۔ “میں نے ابھی اپنی بات نہیں ختم کی ہے۔ میں تانگوں کی تعداد کے مطابق تیس سو الفاظ کی دعا پڑھنے والا تھا لیکن اب میں سوچتا ہوں کہ ڈھائی سو الفاظ کی دعا کافی ہو گی۔ میری طرف کا کٹہرا ذرا پتلا اور چھوٹا ہو گا۔ اور تم پچاس الفاظ کی دعا پڑھو گے اور خدا حکیم مطلق ہے، وہ بہتر جانتا ہے کہ تمھاری طرف کا کٹہرہ اسی لکڑی سے کیسے بنایا جائے۔”

“کیا” نوکر نے کہا “میرا کٹہرا تمھارے کٹہرے سے پانچ گنا چھوٹا کیوں ہو؟”

“لیکن وہ انتہائی خطرناک حصے میں ہو گا” خواجہ نصر الدین نے جلدی سے کہا۔

“نہیں” نوکر نے فیصلہ کن انداز طور پر کہا ” میں ایسے چھوٹے کٹہرے پر رضامند نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ پل کا ایک حصہ بلا کٹہرے کے ہو گا۔ میں اس خطرے کے خیال سے ہی کانپ اٹھتا ہوں جو میرے مالک کو ہو گا۔ میرے رائے میں ہم دونوں کو ڈیڑھ ڈیڑھ سو الفاظ کی دعا پڑھنی چاہئے تاکہ دونوں طرف کٹہرے کی لمبائی ایک ہی ہو۔ چاہے وہ پتلا ہی کیوں نہ ہو لیکن دونوں طرف سے حفاظت تو ہو گی۔ اور اگر تم اس پر تیار نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میرے مالک کی برائی کے خواہاں ہو اور چاہتے ہو کہ وہ پل سے گر پڑیں۔ اچھا، میں لوگوں کو پکارتا ہوں اور تم جلد ہی کال کوٹھری میں ہو گے۔”

“پتلا کٹہرہ!” خواجہ نصر الدین نے گرم ہو کر کہا، ان کو محسوس ہو رہا تھا گویا ان کے پٹکے میں تھیلی کلبلا رہی ہے۔ ” جو کچھ تم کہہ رہے ہو اس سے تو یہی اچھا ہے کہ ٹہنیوں کا کٹہرہ بنا دیا جائے! تمھاری سمجھ میں یہ نہیں آتا کہ ایک طرف کا کٹہرہ زیادہ موٹا اور مضبوط ہونا چاہئے تاکہ اگر تمھارے مالک کا پیر لڑکھڑائے اور وہ گرنے لگیں تو ان کو کچھ سہارا لینے کو تو مل جائے۔”

“تمھارے منہ سے تو سب سچ ہی سچ نکل رہا ہے” نوکر نے خوش ہو کر کہا “میری طرف کا کٹہرا موٹا ہونے دو اور میں دو سو الفاظ کی دعا پڑھنے کی تکلیف بھی گورا کر لوں گا۔”

“شاید تم اس کو تین سو تک لے جانا پسند کرو” خواجہ نصر الدین نے زہر میں بجھے ہوئے لہجے میں کہا۔

آخرکار جب وہ ایک دوسرے سے رخصت ہوئے تو خواجہ کی تھیلی آدھی ہلکی ہو چکی تھی۔ وہ دونوں اس پر راضی ہو گئے تھے کہ جنت کو جانے والے پل کی حفاظت اس آدمی کے مالک کے لئے دونوں طرف ایسے کٹہروں سے ہونی چاہئے جو مضبوطی اور موٹائی دو میں برابر ہوں۔

“خدا حافظ، اے انتہائی مہربان، وفا دار اور نیک ملازم جو اپنے مالک کی روح کی بخشائش کے لئے اتنا فکرمند ہے۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بحث و مباحثے میں تم خواجہ نصر الدین سے مات نہیں کھاؤ گے۔”

“اس کا ذکر تم نے کیوں کیا؟” نوکر نے پوچھا، اس کے کان کھڑے ہو گئے تھے۔

“کچھ نہیں۔۔۔ بس خیال آگیا” خواجہ نصر الدین نے اپنے آپ سوچتے ہوئے جواب دیا “یہ معمولی آدمی نہیں ہے۔”

“ممکن ہے کہ تم اس کے دور کے رشتے دار ہو؟” نوکر نے پوچھا۔ “یا شاید تم اس کے خاندان کے کسی فرد کو جانتے ہو؟”

“نہیں، میری اس سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی اور میں خواجہ نصر الدین کے کسی عزیز کو بھی نہیں جانتا۔”

“سنو، میں تمھیں کان میں ایک بات بتاؤں” نوکر نے کاٹھی سے جھکتے ہوئے کہا۔ “میں اس کا رشتے دار ہوں۔ دراصل اس کا چچیرا بھائی۔ ہم نے اپنا بچپن ساتھ ساتھ گزارا ہے۔”

خواجہ نصر الدین کے شبہے کی تصدیق ہو گئی اور انہوں نے اپنی زبان روک لی۔ نوکر اور قریب جھک آیا:

“اس کا باپ، دو بھائی اور چچا تو مر چکے ہیں۔ شاید تم نے اس کی بابت سنا ہو، مسافر؟”

لیکن خواجہ نصر الدین اب بھی چپ رہے۔

“امیر نے ایسا ظلم ڈھایا!” نوکر نے مکاری سے کہا۔

پھر بھی خواجہ چپ ہی رہے۔

“بخارا کے تمام وزیر احمق ہیں!” نوکر نے غیر متوقع طور پر کہا۔ وہ لالچ سے بالکل بے صبر ہو رہا تھا کیونکہ حکومت آزاد خیال لوگوں کی گرفتاری کے لئے کافی انعام دیتی تھی۔ لیکن خواجہ نصر الدین نے زبان پر مہر سکوت لگا لی۔

“اور ہمارا معزز امیر بھی احمق ہے!” اس آدمی نے کہا “اور یہ بھی یقینی نہیں ہے کہ اللہ کا وجود ہے!”

لیکن خواجہ نصر الدین نے اپنا منہ نہیں کھولا حالانکہ ایک تیز و تلخ جواب ان کی زبان پر تھا۔ نوکر کو بڑی ناامیدی ہوئی۔ اس نے زور سے کوستے ہوئے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور دو چھلانگوں میں موڑ پر غائب ہو گیا۔ اب سناٹا ہو گیا۔ صرف ساکن ہوا میں گھوڑے کے سموں سے اٹھنے والی گرد سنہرے دھند کی طرح معلق تھی جس کو گرم اور ترچھی کرنیں چیر رہی تھیں۔

“اچھا، لیجئے مجھے رشتہ دار بھی مل گیا” خواجہ نصر الدین خود سوچ کر مسکرائے۔ “بڈھّے نے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ بخارا میں جاسوس مکھیوں کی طرح بھرے ہوئے ہیں۔ ذرا احتیاط کی ضرورت ہے۔ پرانی کہاوت ہے کہ “مجرم زبان کے ساتھ سر بھی کٹ جاتا ہے۔”

اس طرح وہ گدھے پر کافی دیر تک آگے چلتے تھے، کبھی اپنی تھیلی کی آدھی کائنات کھونے کے بارے میں سوچتے اور کبھی ٹیکس کلکٹر اور مغرور اجنبی کے درمیان جھگڑے کو یاد کر کے ہنستے۔

(۵)

جب خواجہ نصر الدین شہر کے دوسرے سرے پر پہنچ گئے تو وہ رکے، اپنا گدھا ایک چائے خانے کے مالک کے سپرد کیا اور تیزی کے ساتھ ایک طعام خانے پہنچے۔

وہاں بڑی بھیڑ تھی، کھانے کی مہک ہر طرف پھیلی تھی۔ تندور روشن تھے اور شعلے لپک رہے تھے جو باورچیوں کی پسینے سے تر پیٹھوں کو اور چمکا دیتے تھے۔ باورچی کمر تک ننگے کام کر رہے تھے۔ وہ ادھر ادھر دوڑ رہے تھے، شور کر رہے تھے، ایک دوسرے کو دھکیل رہے تھے اور باورچی خانے میں کام کرنے والے چھوکروں کی گدی پر دھپ بھی جما دیتے تھے۔ گھبرائی گھبرائی آنکھوں والے چھوکرے ادھر ادھر بھاگ بھاگ دھکا پیل، غل اور ہنگامے میں اضافہ کر رہے تھے۔ لکڑی کے ناچتے ہوئے ڈھکنوں والے بڑے بڑے دیگچوں سے کھدبدانے کی آواز آ رہی تھی، چھت کے قریب بھاپ کے گھنے بادل جمع تھے جہاں لاتعداد مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔ اس دھندلکے میں گھی زوروں سے سنسنا اور ابل رہا تھا، انگیٹھیوں کی دیواریں لال بھبھوکا ہو کر چمک رہی تھیں اور سیخوں سے چربی ٹپک کر کوئلے پر گر رہی تھی اور نیلگوں دھوئیں دار شعلے بھڑکا کر جل جاتی تھی۔ یہاں پلاؤ پک رہا تھا، بوٹی کے کباب بھونے جا رہے تھے، اوجھڑی ابل رہی تھی اور پیاز، مرچ، گوشت اور دنبے کی دم کی چربی سے بھرے ہوئے سموسے سینکے جا رہے تھے۔ چربی تندور میں پگھل کر سموسوں سے نکل پڑتی تھی اور چھوٹے چھوٹے بلبلے بناتی تھی۔

بڑی مشکل سے خواجہ نصر الدین کو ایک جگہ ملی جہاں ان کو اس طرح کسمسا کر بیٹھنا پڑا کہ جن لوگوں کو انہوں نے اپنی پیٹھ اور پہلو سے دبایا تھا وہ چیخ اٹھے۔ لیکن کوئی ناراض نہیں ہوا، کسی نے ایک لفظ بھی ان کو نہیں کہا اور نہ وہ خود ہی بڑبڑائے۔ ان کو ہمیشہ سے بازار کے طعام خانوں کی ایسی گرما گرم بھیڑ بھکڑ، یہ تمام چیخ پکار، ہنسی مذاق، قہقہے، غل غپاڑہ، دھکم دھکا، زوردار کھانس کھنکار اور ان سیکڑوں آدمیوں کے کھانا کھانے کی آوازیں جو دن بھر کی شدید محنت کے بعد کھانے میں انتخاب کی تاب نہیں رکھتے اور ان کے طاقتور جبڑے ہر چیز کو چبا ڈالتے ہیں، خواہ وہ گوشت ہو یا ہڈی۔ ہر سستی اور افراط سے ملنے والی چیز کو سخت معدہ قبول کر لیتا ہے۔ خواجہ نصر الدین نے بھی خوب جی بھر کر کھایا۔ وہ ایک جگہ بیٹھ کر تین پلیٹ شوربہ، تین پلیٹ پلاؤ اور دو درجن سموسے کھا گئے۔ سموسے ختم کرنے میں ذرا کوشش کرنی پڑی پھر بھی کھا لیا کیونکہ خواجہ کا یہ قاعدہ تھا کہ جس چیز کی قیمت ادا کرتے تھے اس کو پلیٹ میں نہیں چھوڑتے تھے۔

آخر کار انہوں نے دروازے کا رخ کیا اور جب کسی طرح کہنیوں سے راستہ بنا کر وہ کھلی ہوا میں پہنچے تو پسینے سے نہائے ہوئے تھے۔ ان کے بازو اور پیر ایسے کمزور اور نرم ہو رہے تھے جیسے وہ کسی حمام میں ابھی ابھی کسی ہٹے کٹے غسال کے ہاتھ سے چھٹکارا پا کر نکلے ہوں۔ کھانے اور گرمی سے بھاری پن محسوس کرتے ہوئے وہ اس چائے خانے تک پیر گھسیٹتے پہنچے جہاں انہوں نے اپنا گدھا چھوڑا تھا۔ انہوں نے چائے لانے کے لئے کہا اور نمدے پر مزے میں دراز ہو گئے۔ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں اور ان کے دماغ میں پرسکون اور خوشگوار خیالات آنے لگے:

“اس وقت میرے پاس کافی رقم ہے۔ اس کو کسی دوکان میں لگا دینا اچھا رہے گا۔ ساز یا برتن بنانے کی دوکان میں۔ میں دونوں حرفتیں جانتا ہوں۔ اب آوارہ گردی چھوڑ دینا چاہئے۔ کیا میں دوسروں سے کم عقل ہوں؟ کیا میں کسی مہربان اور حسین لڑکی کو بیوی نہیں بنا سکتا؟ کیا میرے بیٹا نہیں ہو سکتا جس کو میں گود میں لے کر کھلاؤں؟ پیغمبر صاحب کی ریش مبارک کی قسم، ننھا شریر بڑھ کر پکا بد معاش ہو گا اور میں اس کو اپنی سوجھ بوجھ ضرور اس کو ادا کر سکوں گا۔ بس، میں نے طے کر لیا۔ خواجہ نصر الدین نے اپنی بے سکون زندگی ختم کر دی۔ اب ابتدا کے لئے میں کمہار کا کام کروں یا ساز بنانے والے کا۔۔۔”

انہوں نے حساب لگانا شروع کیا۔ اچھی دوکان کے لئے کم از کم تین سو تانگوں کی ضرورت ہو گی لیکن ان کے پاس تو صرف ڈیڑھ سو تھے۔ انہوں نے چیچک رو ملازم پر لعنت بھیجی:

“اللہ اس لٹیرے کو اندھا کرے۔ اس نے مجھ سے وہ لے لیا جس کی مجھے زندگی شروع کرنے کے لئے ضرورت تھی!”

ایک مرتبہ پھر قسمت نے ان کا ساتھ دیا۔ “بیس تانگے” کسی نے اچانک زور سے کہا۔ پھر ایک تانبے کی تھالی میں پانسے کے گرنے کی آواز آئی۔

برساتی کے نالے کے کنارے اور بالکل اس جگہ کے قریب جہاں گھوڑے باندھے جاتے تھے اور جہاں ان کا گدھا بندھا تھا آدمیوں کا ایک چھوٹا سا حلقہ بنا ہوا تھا۔ چائے خانے کا مالک ان کے پیچھے کھڑا ان کے سر کے اوپر سے گردن بڑھا بڑھا کر دیکھ رہا تھا۔

“جوا ہو رہا ہے!” خواجہ نصر الدین نے اپنی کہنیوں پر اٹھتے ہوئے اندازہ لگایا۔ “وہ قطعی جوا کھیل رہے ہیں! ذرا دیکھوں تو دور ہی سے سہی۔ میں کھیلوں گا نہیں۔ میں کوئی احمق ہوں؟ لیکن عقلمند آدمی احمقوں کو کھیلتے تو دیکھ ہی سکتا ہے۔”

وہ اٹھ کر جواریوں کے پاس گئے۔

“احمق ہیں یہ لوگ” انہوں نے چپکے سے چائے خانے کے مالک سے کہا “جیتے کے لالچ میں اپنی آخری کوڑی تک لگا دیتے ہیں۔ کیا پیغمبر صاحب نے جوۓ کی ممانعت نہیں کی ہے؟ خدا کا شکر ہے کہ میں اس مہلک برائی سے پاک ہوں۔۔۔ لیکن اس لال بالوں والے جواری کی قسمت کتنی اچھی ہے! اس کو متواتر چار بار جیت ہو چکی ہے۔۔ دیکھو، دیکھو۔ وہ پانچویں مرتبہ بھی جیت گیا! اس کو دولت کے جھوٹے تصور نے ورغلایا ہے جبکہ غربت اس کے راستے میں گڈھا کھود چکی ہے۔ ارے کیا؟ اس نے چھٹی مرتبہ بازی مار لی۔ میں نے ایسی قسمت کبھی نہیں دیکھی۔ دیکھو، وہ پھر داؤں لگا رہا ہے۔ سچ ہے، انسان کی حماقت کی کوئی انتہا نہیں۔ آخر کار وہ متواتر کب تک جیتا کرے گا؟ اسی طرح لوگ جھوٹی قسمت پر بھروسہ کر کے تباہ ہوتے ہیں! اس لال بالوں والے آدمی کو سبق دینا چاہئے۔ اگر یہ ساتویں بار بھی جیتا تو میں اس کے خلاف داؤں لگاؤں گا حالانکہ میں دل سے ہر قسم کے جوۓ کے خلاف ہوں۔ا گر میں امیر بخارا ہوتا تو بہت دن ہوئے اس کو ممنوع قرار دے چکا ہوتا!”

لال بالوں والے جواری نے پانسہ پھینکا اور ساتویں بار بھی بازی اس کے ہاتھ رہی۔

خواجہ نصر الدین نے بڑے عزم کے ساتھ قدم بڑھایا۔ کھلاڑیوں کو کندھے سے الگ ہٹا دیا اور حلقے میں کھیلنے کے لئے بیٹھ گئے۔

“میں تمھارے ساتھ کھیلنا چاہتا ہوں” انہوں نے خوش قسمت جیتے والے سے کہا، انہوں نے پانسے اٹھائے اور ان کا ہر رخ سے اپنی تجربے کار نگاہوں سے جائزہ لیا۔

“کتنے سے؟” لال بالوں والے نے بھاری آواز سے پوچھا۔ اس کے بدن میں جھرجھری دوڑ گئی۔ وہ اپنی خوش قسمتی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا جو تھوڑی دیر کے لئے اس کو نصیب ہو گئی تھی۔

خواجہ نصر الدین نے جواب میں اپنی تھیلی نکالی۔ شدید ضرورتوں کے لئے پچیس تانگے الگ کر لئے اور پھر تھیلی خالی کر لی۔ تانبے کی تھالی پر چاندی کی جھنکار ہوئی۔ جواریوں نے داؤں کا پر اشتیاق شور سے خیر مقدم کیا۔ اونچے داؤں سے کھیل شروع ہو رہا تھا۔

لال بالوں والے آدمی نے پانسے لیے اور ان کو بڑی دیر تک ہلایا، وہ ان کو پھینکتے ہوئے جھجک رہا تھا۔ ہر ایک سانس روکے تھا، حتی کہ گدھے نے بھی اپنا تھوتھن آگے بڑھا دیا تھا اور کان کھڑے کر لئے تھے۔ صرف جواری کی مٹھی میں پانسوں کی کھنکھناہٹ کی آواز ہو رہی تھی۔ اس خشک کھنکھناہٹ نے خواجہ نصر الدین کے پیروں اور پیٹ میں ایک تھکن آمیز کمزوری پیدا کر دی۔ آخرکار لال بالوں والے نے پانسہ پھینکا۔ دوسرے کھلاڑیوں نے گردن بڑھا کر دیکھا اور پھر اس طرح پیچھے گر گئے جیسے وہ سب ایک ہی آدمی ہوں، ان کے سینوں سے نکل رہی ہو۔ لال بالوں والے جواری کا چہرہ زرد ہو گیا اور اس نے بھینچے ہوئے دانتوں سے ایک آہ کی۔ پانسے میں صرف تین نقطے نظر آ رہے تھے یعنی ہار قطعی تھی کیونکہ دو کا پانسہ اسی طرح کم گرتا تھا جیسے بارہ کا۔ باقی ہر پانسہ خواجہ نصر الدین کے حق میں تھا۔

پانسے کو مٹھی میں ہلاتے ہوئے خواجہ نصر الدین نے دل ہی میں قسمت کا شکریہ ادا کیا کہ آج وہ اتنی مہربان تھی۔ لیکن وہ یہ بھول گئے کہ قسمت بڑی متلون مزاج اور من موجی ہے اور اگر اس کو ذرا بھی تنگ کرو تو فوراً دغا دے جاتی ہے۔ قسمت نے یہ فیصلہ کیا کہ خواجہ نصر الدین کو اس خود اعتمادی کے لئے سبق دے اور ان کے گدھے کو اپنا ہتھیار بنایا یا زیادہ ٹھیک یہ کہنا ہو گا کہ ان کے گدھے کی دم کو جس کا سرا کانٹوں اور گوکھروؤں سے مرصع تھا۔ گدھے نے جواریوں کی طرف سے پیٹھ موڑ کر جو اپنی دم ہلائی، تو اس کے مالک کے ہاتھ میں جا لگی۔ پانسہ ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور لال بالوں والا جواری ایک زوردار نعرہ لگا کر آنا فانا تھالی پر گرا اور ساری رقم پر چھا گیا۔

خواجہ نصر الدین نے دو پھینکے تھے۔

وہ بڑی دیر تک خاموش بیٹھے اپنے ہونٹ چلاتے رہے۔ ان کی تکتی ہوئی آنکھوں کے سامنے ساری دنیا ڈگمگا اور تیر رہی تھی اور کان عجیب آوازوں سے بج رہے تھے۔

اچانک وہ اچک کر اٹھے اور ڈنڈا لیکر بے تحاشا گدھے کو پیٹنے لگے۔ وہ اسے کھونٹے کے چاروں طرف دوڑا رہے تھے۔

“منحوس گدھا! ولد الزنا! بدبو دار جانور، دنیا کی تمام مخلوقات کے لئے لعنت!” خواجہ نصر الدین گرج رہے تھے “اپنے مالک کے پیسے سے جوا ہی کھیلنا کیا کم تھا نہ کہ اس کو ہار بھی جانا۔ خدا کرے تیری شیطانی کھال پھٹ جائے! اللہ کرے تیرے راست میں ایساگڑھا آئے کہ تیرا پیر ٹوٹ جائے! نہ معلوم تو کب مرے گا کہ تیری منحوس صورت سے مجھے چھٹکارا ملے گا!”

گدھا رینکنے لگا۔ جواریوں میں قہقہہ پڑا اور لال بالوں والے نے تو سب سے زور کا قہقہہ لگایا۔ اس کو اپنی خوش قسمتی پر قطعی بھروسہ ہو چکا تھا۔

“آؤ پھر کھیلیں” اس نے خواجہ نصر الدین سے کہا جب تھک کر ان کی سانس پھول چکی اور انہوں نے ڈنڈا پھینک دیا۔

” آؤ کچھ بازیاں اور ہو جائیں ۔ ابھی تو تمہارے پاس پچیس تانگے ہیں۔”

یہ کہہ کر اس نے اپنا بایاں پیر پھیلا کر اس کو ہلایا۔ گویا اس طرح اس نے خواجہ نصر الدین کے لئے حقارت کا اظہار کیا۔

” کیوں نہیں؟” خواجہ نے یہ سوچتے ہوئے جواب دیا کہ اب ایک بیس تانگے تو ضائع ہو ہی چکے ، رہے باقی پچیس تانگے ، ان کا جو حشر ہو۔

انہوں نے لاپروائی سے پانسہ پھینکا اور جیت گئے۔

” پوری رقم رہی!” لال بالوں والے نے ہاری ہوئی رقم تھالی میں پھینکتے ہوئے تجویز کی۔
خواجہ نصر الدین پھر جیت گئے۔

لال بالوں والے کو یقین ہی نہیں آتا تھا کہ قسمت نے اس سے اس طرح منہ پھیر لیا ہے ” ساری رقم رہی!”

متواتر سات مرتبہ اس نے کہا اور ہر مرتبہ وہ ہارا۔ ساری تھالی رقم سے بھر گئی۔ جواری بالکل خاموش بیٹھے تھے ۔ ان کی شعلہ ور آنکھیں صرف اس اندرونی آگ کی آئینہ دار تھیں جو ان کو جلائے ڈال رہی تھی۔

“اگر شیطان تمہاری مدد نہیں کر رہا ہے تو تم ہر بار تو نہیں جیت سکتے!” لال بالوں والے نے چلا کر کہا ” کبھی تو ہارو گے!” لو یہ تھالی میں رہے تمھارے ایک ہزار چھ سو تانگے۔ تم پھر ایک بار ساری رقم داؤں پر لگاؤ گے؟ یہ رہی وہ رقم جس سے کل میں اپنی دوکان کے لئے بازار سے سامان خریدنے والا تھا۔ میں تمھارے خلاف یہ ساری رقم داؤں پر لگاتا ہوں!”

اس نے ایک تھیلی نکالی جس میں سونے کے سکے بھرے تھے ۔

’’ اپنا سونا تھالی میں رکھو‘‘ خواجہ نصر الدین نے جوش میں آ کر زور سے کہا۔

اس چائے خانے میں اتنا زبردست داؤں کبھی نہیں لگا تھا۔ چائے خانے کا مالک تو اپنی ابلتی ہوئی کیتلیوں کو بھی بھول گیا ۔ جواری زور زور سے ہانپ رہے تھے۔ لال بالوں والے نے پہلے پانسہ پھینکا۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھیں کیونکہ وہ ڈر رہا تھا ۔

’’ گیارہ!‘‘ سب ایک ساتھ مل کر چلائے۔ خواجہ نصر الدین نے سمجھ لیا کہ اب بازی ہاری ہی سمجھو۔ صرف بارہ کا پانسہ ہی اس کو بچا سکتا تھا ۔

’’ گیارہ ! گیارہ !‘‘ لال بالوں والا جواری خوشی سے بے ساختہ دہرا رہا تھا۔ ’’ دیکھو نا ، میرے گیارہ ہیں ! تم ہار گئے ! تم ہار گئے!‘‘

خواجہ نصر الدین سر سے پیر تک ٹھنڈے پڑ گئے ۔ انہوں نے پانسے لے کر ان کو پھینکنے کی تیاری کی۔ پھر یکایک انہوں نے اپنا ہاتھ روک لیا۔

’’ گھوم جا‘‘ اس نے اپنے گدھے سے کہا ’’تو نے تین کے پانسے کے خلاف ہرایا ہے تو اب گیارہ کے خلاف جتا، نہیں تو میں تجھے قصاب گھر دکھاؤں گا۔‘‘

انہوں نے گدھے کی دُم بائیں ہاتھ سے پکڑ کر دائیں ہاتھ پر ماری جس میں پانسے تھے۔

سارے لوگوں کے غُل سے چائے خانہ گُونج گیا ۔ چائے خانے کے مالک نے اپنا دل تھام لیا اور زمین پر گر گیا ، وہ اتنے زبردست دھکے کو نہ برداشت کر سکا۔

پانسے میں بارہ دکھائی دے رہے تھے۔

لال بالوں والے کی آنکھیں حلقوں سے نکلی پڑتی تھیں اور اس کے بے خون چہرے پر چمک رہی تھیں ۔ وہ آہستہ سے اُٹھا اور لڑکھڑاتا ہوا چلا۔ وہ بار بار چلا رہا تھا ’’تباہ ہو گیا، تباہ ہو گیا میں!‘‘

کہا جاتا ہے کہ اس دن سے لال بالوں والا پھر شہر میں نہیں دکھائی دیا۔ وہ ریگستان میں بھاگ گیا اور وہاں اس کے بال بڑھ گئے اور صورت وحشتناک ہو گئی۔ وہ ریت اور کٹیلی جھاڑیوں کے درمیان مارا مارا پھرتا اور برابر یہی چیختا رہتا ’’تباہ ہو گیا میں!‘‘ یہاں تک کہ گیدڑوں نے اس کا خاتمہ کر دیا ۔ لیکن کسی نے اس کا ماتم نہیں کیا کیونکہ وہ ظالم اور نا انصاف تھا اور اس نے اعتبار کرنے والے سیدھے سادے لوگوں کو ہرا کر بڑا نقصان پہنچایا تھا۔

جہاں تک خواجہ نصر الدین کا تعلق ہے انہوں نے اپنی جیتی ہوئی نئی دولت کو خورجینوں میں ڈالا اور اپنے گدھے کو لپٹا کر اس کے گرم تھوتھن کو زور سے چُوما ، اس کو کچھ مزےدار تاؤ ، تازہ نان کھلائی جس پر گدھے کو تعجب ہوا کیونکہ چند منٹ پہلے مالک کا برتاؤ برعکس رہ چکا تھا۔

(۶)

اس دانشمندانہ اصول پر عمل کرتے ہوئے کہ ان لوگوں سے دور ہی رہنا چاہئے جو یہ جانتے ہوں کہ تم اپنی پونجی کہاں رکھتے ہو خواجہ نصر الدین نے چائے خانے میں تضیعِ اوقات نہیں کیا اور بازار کی طرف روانہ ہو گئے۔ وہ بار بار پیچھے مُڑ کر دیکھتے جاتے تھے کہ کوئی ان کا پیچھا تو نہیں کر رہا ہے کیونکہ جواریوں اور چائے خانے کے مالک کے چہروں پر بد نیتی کے آثار نظر آ رہے تھے ۔

حالات تو بہت خوشگوار تھے ۔ اب وہ کوئی بھی دوکان خرید سکیں گے ، دو دوکانیں ، تین دوکانیں اور انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ یہی کریں گے ۔

’’ میں چار دوکانیں خرید لوں گا ، برتن بنانے کی ، ساز بنانے کی ، درزی اور موچی کی دوکانیں ۔ ہر ایک میں دو کاریگر لگا دوں گا ، بس میرا کام پیسہ جمع کرنا رہ جائے گا ۔ دو سال میں امیر بن جاؤں گا ۔ ایک مکان خرید لوں گا جس کے باغ میں فوارے ہوں گے ۔ میں ہر جگہ چہچہاتی ہوئی چڑیوں کے سونے کے پنجرے ٹانگوں گا ، اور میرے دو شاید تین بیویاں ہوں گی اور ہر ایک سے تین تین بیٹے۔۔۔‘‘

انہوں نے اپنے کو خیالوں کے خوشگوار سیلاب میں بہنے دیا ۔ اس دوران میں گدھے نے لگام کی گرفت نہ محسوس کر کے اپنے مالک کے ہوائی قلعے سے فائدہ اُٹھایا۔ جب وہ ایک چھوٹے سے پُل پر پہنچے تو دوسرے گدھوں کی طرح اسے پار کرنے کی بجائے وہ ایک طرف مُڑا اور سیدھا خندق کے اُوپر سے جست لگا گیا۔

’’۔۔۔اور جب میرے بچے بڑے ہو جائیں گے تو میں ان کو اکٹھا کر کے کہوں گا۔۔۔‘‘ خواجہ نصر الدین خیالات کی دنیا میں اس طرح اُڑے چلے جا رہے تھے ’’ لیکن میں ہوا میں اُڑ کیوں رہا ہوں؟ کیا خُدا نے مجھ کو فرشتہ بنا کر پَر عطا کر دئے ہیں؟”

دوسرے لمحے آنکھوں سے نکلتی ہوئی چنگاریوں نے خواجہ نصر الدین کو یقین دلا دیا کہ ان کے پَر نہیں ہیں۔ کاٹھی سے اچھل کر اپنی سواری سے کچھ گز آگے وہ سڑک پر دراز تھے۔

جب وہ گرد میں لت پت کراھتے ہوئے سڑک سے اُٹھے تو گدھا ان کے پاس آگیا۔ وہ اپنے کان دوستانہ انداز میں ہلا رہا تھا اور اس کے چہرے پر انتہائی معصومانہ تاثرات تھے جیسے وہ اپنے مالک کو مدعو کر رہا ہو کہ وہ پھر کاٹھی پر واپس آ جائے۔

’’ارے تو، جو میرے پلے پڑا ہے صرف میرے گناہوں کی سزا نہیں بلکہ میرے باپ ، دادا ، پردادا کے گناہوں کے لئے بھی ، کیونکہ اسلامی انصاف کے نقطہ نظر سے ایک آدمی کو صرف اپنے گناہوں کے لئے اتنی بھاری سزا دینا نا منصفانہ بات ہو گی!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا۔ ان کی آواز غصے سے کانپ رہی تھی ’’مکڑے اور لکڑ بگھے کا بچہ ! ارے تو۔۔۔‘‘

لیکن اب انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ تھوڑی ہی دُور پر ایک تباہ شدہ دیوار کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں اور وہ چُپ ہو گئے۔

کوسنے اور گالیاں خواجہ نصر الدین کی زباں پر آ کر رُک گئیں۔ انہوں نے سوچا کہ ایسے آدمی کو جس کی دیکھنے والوں کی موجودگی میں ایسی مضحکہ انگیز اور بر گت بنی ہو اپنی حالت پر خود سب سے زور سے ہنسنا چاہئے۔ انہوں نے ان آدمیوں کی طرف جو بیٹھے تھے آنکھ ماری اور اپنی پوری سفید بتیسی نکال کر ہنس پڑے۔

’’ارے‘‘ انہوں نے زندہ دلی کے ساتھ زور سے کہا’’ کتنی زور دار اُڑان رہی میری! اچھا بتاؤ کتنی قلابازیاں میں نے کھائیں۔ مجھے تو ان کے شمار کرنے کا موقع نہیں ملا۔ بد معاش کہیں کے!‘‘ وہ خوش دلی کے ساتھ گدھے کو تھپ تھپانے لگے حالانکہ دل تو یہ چاہتا تھا کہ اس کو چار چوٹ کی مار دیں۔ ’’یہ بڑا شریر ہے! بس ذرا نگاہ چُوکی اور یہ دکھا گیا اپنے ہتھکنڈے!‘‘

خواجہ نصر الدین زندہ دلی کے ساتھ ہنسے لیکن ان کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ کوئی اور ان کے ساتھ نہیں ہنسا۔ لوگ خاموش سر جھکائے اور اداس بیٹھے تھے اور عورتیں جن کی گود میں بچے تھے چُپکے چُپکے آنسو بہا رہی تھیں۔

’’ کچھ گڑبڑ ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا۔

وہ ان آدمیوں کے پاس گئے اور ایک سفید ریش آدمی کو مخاطب کیا جس کا چہرہ مریل سا تھا ’’معزز بزرگ ، مجھے بتائیے کیا بات ہے ؟ میں یہاں نہ تو مُسکراہٹ دیکھتا ہوں اور کوئی قہقہہ سنتا ہوں اور یہ عورتیں کیوں رو رہی ہیں؟ آپ لوگ سڑک کے کنارے اس گرد اور گرمی میں کیوں بیٹھے ہیں؟ کیا آپ لوگوں کو اپنے گھروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھنا نہیں سہاتا؟‘‘

’’ گھروں میں ان لوگوں کے لئے بیٹھنا اچھا ہے جن کے گھر ہوتے ہیں‘‘ بڈھّے نے ملول ہو کر جواب دیا۔ ’’ ارے مسافر، ہمسے مت پوچھ۔ ہم پر بڑی بپتا ہے اور تُو کسی طرح بھی ہماری مدد نہیں کر سکتا ہے۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں بُوڑھا اور معذور ہوں اور خُدا سے دُعا کرتا ہوں کہ میرے لئے جلدی موت بھیج دے۔‘‘

’’ایسا کیوں کہتے ہیں آپ؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے ملامت کرتے ہوئے کہا ’’انسان کو کبھی اس طرح نہیں سوچنا چاہئے ۔ مجھے اپنی مصیبت بتائیے اور میری بری حالت پر مت جائیے ۔ شاید میں آپ کی مدد کر سکوں۔‘‘

’’ میری کہانی مختصر ہے ۔ صرف ایک گھنٹہ پہلے جعفر سود خور ہماری سڑک سے امیر کے دو پہرے داروں کے ساتھ گزرا۔ میں اس کا قرضدار ہوں اور کل اس کو ادا کرنا ہے۔ اس لئے انہوں نے مجھ کو اس گھر سے نکال دیا ہے جہاں میں نے اپنی پوری زندگی گزاری ہے۔ میرے نہ تو کوئی خاندان ہے اور نہ سر چھپانے کی کوئی جگہ۔۔۔ اور میری ساری پونجی۔ میرا گھر، باغ، مویشی اور انگوروں کے چمن کل جعفر نیلام کر دے گا۔”

بڈھّے کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور اس کی آواز کانپنے لگی۔

“اور کیا قرض بہت زیادہ ہے؟” خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔

“بہت زیادہ! میں اس کا ڈھائی سو تانگوں کا قرضدار ہوں!”

“ڈھائی سو تانگے!” خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا۔” اور ان کم بخت ڈھائی سو تانگوں کے لئے آدمی موت کی تمنا کرتا ہے۔ اچھا، اچھا، اب اپنے کو سنبھالو” انہوں نے گدھے کی طرف مڑ کر کہا اور خورجین کھولی “اچھا، میرے معزز دوست، یہ رہے ڈھائی سو تانگے، جاؤ، یہ سود خور کو دو اور لات مار کر اس کو اپنے گھر سے نکال دو، زندگی کے باقی دن امن چین اور ہنسی خوشی سے گزار دو۔”

چاندی کے سکوں کی جھنکار سن کر سارے گروہ میں جان پڑ گئی۔ بڈھّے کی تو زبان ہی بند ہو گئی۔ اس نے آنسو بھری شکرگزار آنکھوں سے خواجہ کی طرف دیکھا۔

“دیکھو نا؟ اور تم اپنی مصیبت مجھے نہیں بتا رہے تھے” خواجہ نصر الدین نے آخری سکہ گنتے ہوئے کہا۔ ساتھ ہی وہ سوچ رہے تھے “کوئی بات نہیں، آٹھ کاریگروں کی بجائے میں صرف سات ہی نوکر رکھوں گا اور وہ بہت کافی ہی ہوں گے۔

اچانک ایک عورت جو بڈھّے کے پاس ہی بیٹھی تھی خواجہ نصر الدین نے پیروں پر گر پڑی اور ڈاڑھیں مار کر روتے ہوئے اپنا لڑکا ان کی طرف بڑھا دیا: “دیکھئے” اس نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا “یہ بیمار ہے۔ اس کے ہونٹ خشک ہیں اور چہرہ جل رہا ہے۔ میرا بے کس ننھا سڑک پر مر جائے گا کیونکہ مجھے بھی گھر سے نکال دیا گیا ہے۔”

خواجہ نصر الدین نے لڑکے کا دبلا پتلا، زرد چہرہ دیکھا، پھر اس کے شفاف ہاتھ اور بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر نظر ڈالی۔ اور ان کے جھریوں پڑے، مصیبتوں سے مرجھائے چہروں اور متواتر گریہ و زاری سے، دھندلی آنکھوں سے ان کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی جلتی ہوئی چھری ان کے دل میں اتر گئی ہے۔ اچانک ان کا گلا رندہ گیا۔ غم و غصے سے خون کی گرم لہر ان کے چہرے پر دوڑ گئی۔ انہوں نے اپنا رخ موڑ لیا۔

“میں بیوہ ہوں” عورت نے اپنی داستان جاری رکھی “میرا شوہر چھ مہینے ہوئے مر گیا۔ وہ سود خور کا دوسو تانگوں کا قرضدار تھا۔ قانون کے مطابق میں اس قرض کی ذمے دار ہوں۔”

“واقعی لڑکا بیمار ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “یہ رہے دو سو تانگے۔ جلدی سے گھر جاؤ اور اس کے سر پر ٹھنڈی پٹی رکھو اور یہ پچاس تانگے اور ہیں۔ جاؤ کسی حکیم کو بلاؤ اور دوا خریدو۔”

خود انہوں نے سوچا “میں چھ ہی کاریگروں سے کام چلا سکتا ہوں۔”

لیکن اسی لمحے ایک قد آور لمبی داڑھی والا پتھر کٹا ان کے قدموں پر گر پڑا۔ کل اس کا سارا خاندان جعفر کے چار سو تانگوں کے قرض کے لئے غلاموں کی طرح بکنے والا تھا۔

“پانچ کاریگر واقعی کم ہوئے” خواجہ نصر الدین نے ایک بار پھر اپنی خورجین کھولتے ہوئے سوچا۔ ابھی اس کو انہوں نے پھر باندھا ہی تھا کہ دو عورتیں ان کے پیروں پر تھیں۔ ان کی کہانیاں بھی ایسی دل دوز تھیں کہ خواجہ نصر الدین کا ہاتھ اتنی کافی رقم دینے سے نہ رکا جو سود خود کا قرض ادا کرنے کے لئے کافی تھی۔ پھر یہ دیکھ کر کہ باقی جو رقم رہ گئی ہے وہ تین کاریگر رکھنے کے لئے مشکل سے کافی ہو گی، انہوں نے سوچا کہ اب دوکانوں کا خیال بےکار ہے اور انہوں نے فیاضی کے ساتھ جعفر سود خور کے دوسرے قرض داروں میں رقم بانٹ دی۔

اب خورجین میں پانچ سو سے زیادہ تانگے نہ رہ گئے ہوں گے۔ اس وقت خواجہ نصر الدین نے ایک طرف ایک ایسا آدمی بیٹھا دیکھا جس نے مدد کی التجا نہیں کی تھی اور وہ دیکھنے سے ہی مصیبت زدہ معلوم ہوتا تھا۔

“ارے تم، سننا تو!” خواجہ نصر الدین نے پکار کر کہا۔ “اگر تمھارے اوپر مہاجن کا قرض نہیں ہے تو تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟”

“میں اس کا قرض دار ہوں” آدمی نے بھاری آواز میں کہا “کل میں پا بہ زنجیر غلاموں کے بازار تک جاؤں گا۔”

“تم خاموش کیوں رہے؟”

“اے فیاض اور مہربان مسافر! میں نہیں جانتا کہ آپ کون ہیں۔ ممکن ہے کہ آپ مقدس بزرگ بہاؤالدین ہوں جو غریبوں کی مدد کرنے کے لئے اپنے مزار سے اٹھ کر آئے ہیں یا خود ہارون رشید۔ میں نے آپ کی مدد نہیں مانگی کیوں کہ آپ ابھی تک کافی خرچ کر چکے ہیں اور میرا قرض سب سے زیادہ ہے یعنی پانچ سو تانگے۔ میں ڈر رہا تھا کہ اگر آپ نے مجھ کو یہ رقم دے دی تو بڈھوں اور عورتوں کے لئے کافی نہ بچے گا۔”

“تم حق پرست، شریف اور ایماندار انسان ہو” خواجہ نصر الدین نے بہت متاثر ہو کر کہا “لیکن میں بھی حق پرست، شریف اور ایماندار ہوں اور میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ کل تم پا بہ زنجیر غلاموں کے بازار نہیں جاؤ گے۔ اپنا دامن بڑھاؤ۔”

انہوں نے اپنی خورجین کا آخری سکہ تک دے دیا۔ یہ آدمی اپنی قبا کا دامن بائیں ہاتھ سے سنبھال کر خواجہ نصر الدین سے دائیں ہاتھ سے لپٹ گیا اور اپنا آنسوؤں سے تر چہرہ ان کے سینے میں دبا دیا۔

“واقعی تم نے اپنے گدھے پر سے مزے میں قلابازی کھائی تھی” اچانک قد آور لمبی داڑھی والے پتھر کٹے نے زور کا ٹھٹھا مار کر کہا۔ اس پر اور دوسرے لوگ بھی قہقہے لگانے لگے۔ مرد موٹی بھاری آوازوں سے اور عورتیں اپنی باریک آواز، بچے مسکرا کر خواجہ نصر الدین کی طرف ہاتھ پھیلانے لگے جو سب سے زور سے ہنس رہے تھے۔

“ہا ہا ہا!” خواجہ ہنس رہے تھے اور خوشی سے دہرے ہوئے جا رہے تھے۔ “تم نہیں جانتے کہ یہ کس قسم کا گدھا ہے! بڑا کمبخت ہے یہ گدھا!”

“نہیں، نہیں” بیمار بچے والی عورت نے کہا “اپنے گدھے کو ایسا نہ کہو۔ وہ سب سے زیادہ ہوشیار، انتہائی شریف اور دنیا میں سب سے زیادہ قیمتی گدھا ہے۔ اس کا جیسا گدھا نہ کبھی ہوا ہے اور نہ ہو گا۔ میں تو اپنی ساری زندگی اس کی دیکھ بھال کرنا پسند کروں گی، اس کو بہترین اناج کھانے کودوں گی، اس پر کام کا بوجھ کبھی نہ ڈالوں گی، اس کو کھرارے سے صاف کرونگی اور دم میں کنگھا کروں گی۔ کیونکہ اگر یہ لاجواب گدھا، جو گلاب کی سی خوبیاں رکھتا ہے، خندق کے اوپر سے جست نہ لگاتا اور تم کو کاٹھی سے نہ اتار پھینکتا تو اے مسافر، تم جو ہمارے لئے تاریکی میں سورج بن گئے ہو، ہم کو دیکھے بغیر یہاں سے گزر جاتے اور ہم تم کو روکنے کی جرأت بھی نہ کر سکتے۔”

“ٹھیک ہی کہتی ہے” بڈھّے نے بڑی سنجیدگی سے کہا “ہم اپنی نجات کے لئے اس گدھے کے بہت کچھ احسان مند ہیں۔ سچ مچ یہ دنیا کے لئے باعث ناز ہے اور گدھوں کے درمیان ہیرے کی طرح درخشاں۔”

پھر سب نے گدھے کی خوب خوب تعریفیں شروع کر دیں اور اس کے نان، جوار کے لائے، سوکھی خوبانیاں اور شفتالو کھلانے میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کرنے لگے۔ گدھا اپنے دم کی مورچھل سے پریشان کرنے والی مکھیوں کو اڑاتا جاتا اور سنجیدگی سے ان لوگوں کے ہدیے قبول کرتا رہا لیکن وہ گھبرا گھبرا کر اس چابک کو بھی دیکھتا جاتا تھا جو خواجہ نصر الدین چپکے چپکے اسے دکھا رہے تھے۔

دن ڈھل چلا تھا، سائے لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ لال ٹانگوں والی سارسیں غل مچاتی اور پر پھڑپھڑاتی اپنے گھونسلوں کو لوٹ رہی تھیں جہاں ان کے بچے اپنی حریص، کھلی ہوئی چونچیں ان کی طرف بڑھا دیتے تھے۔

خواجہ نصر الدین ان لوگوں سے رخصت ہوئے، سب نے جھک کر ان کا شکریہ ادا کیا۔

“ہم آپ کے شکرگزار ہیں، آپ نے ہمارے دکھ درد کو سمجھا۔”

“کیسے نہ سمجھتا؟” خواجہ نے جواب دیا “آج ہی چار دوکانیں اور آٹھ کاریگر جو میرے لئے کام کر رہے تھے، ایک مکان جس کے باغ میں فوارے اچھلتے تھے اور گانے والی چڑیاں سونے کے پنجروں میں درختوں سے لٹکی تھیں میرے ہاتھ سے جاتے رہے۔ میں تم لوگوں کی بات کیسے نہ سمجھتا!”

بڈھّے نے اپنے پوپلے منہ سے کہا “مسافر، میرے پاس تمھارا شکریہ ادا کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ صرف ایک چیز ہے جو میں نے گھر چھوڑتے وقت ساتھ لے لی تھی۔ یہ ہے قرآن پاک۔ لو اسے لے لو، یہ دنیا میں تمھارے لئے مشعل ہدایت بنے گا۔”

خواجہ نصر الدین کو مقدس کتابوں سے کوئی سرکار نہیں تھا۔ پھر بھی انہوں نے اس خیال سے قرآن لے لیا کہ بڈھّے کے جذبات کو ٹھیس نہ لگے، اس کو اپنی خورجین میں رکھا اور اچک کر کاٹھی پر پہنچ گئے۔

“آپ کا نام؟ آپ کا نام؟” سب ایک ساتھ چلائے۔ “اپنا نام تو بتاتے جائیے تاکہ ہم آپ کے لئے دعا کر سکیں۔:

تم لوگوں کو میرا نام جاننے کی کیا ضرورت ہے؟ حقیقی نیکی کے لئے شہرت نہ چاہئے۔ جہاں تک دعا کا تعلق ہے تو اللہ کے پاس اچھے کاموں کی خبر پہنچانے کے لئے مقدس فرشتوں کی کثیر تعداد ہے۔ اگر یہ فرشتے سست اور لا پرواہ ہیں اور زمین پر نیک و بد اعمال کے شمار کی بجائے نرم بادلوں پر سوتے رہتے ہیں تو آپ کی دعائیں بھی بیکار ہوں گی کیونکہ اللہ معتبر اشخاص کی تصدیق کے بغیر ان کو نہیں سنے گا۔”

جب خواجہ بول رہے تھے تو ایک عورت نے گھٹی ہوئی آہ سی بھری۔ یہی دوسری عورت نے بھی کیا۔ پھر بڈھا چونکا اور خواجہ نصر الدین کو گھورنے لگا۔ لیکن خواجہ کو جلدی تھی اور انہوں نے کوئی توجہ نہ کی۔

“خدا حافظ! تم امن چین سے رہو اور خوشحال ہو۔”

لوگوں کی دعا کے ساتھ وہ سڑک کے موڑ پر غائب ہو گئے۔

باقی لوگ خاموش کھڑے تھے۔ صرف ایک خیال ان کی آنکھوں میں چمک رہا تھا۔ اس خاموشی کو بڈھّے نے توڑا۔ اس نے بڑی سنجیدگی سے متاثر کن لہجے میں کہا:

“دنیا میں صرف ایک ہی آدمی یہ کام کر سکتا تھا۔ ہاں، اور دنیا میں صرف ایک آدمی ایسی باتیں کہہ سکتا تھا اور دنیا میں صرف ایک آدمی کی روح ایسی ہے جس کی روشنی اور گرمی غریبوں اور مظلوموں کے دلوں کو منور کرتی ہے اور گرمی بخشتی ہے اور یہ آدمی ہیں ہمارے۔۔۔”

“زبان بند رکھو!” ایک آدمی نے جلدی سے لقمہ دیا “کیا تم بھول گئے کہ دیواروں کی آنکھیں ہوتی ہیں اور پتھروں کے کان، ابھی ہزاروں کتے ان کے پیچھے پڑ جائیں گے۔”

“تم ٹھیک کہتے ہو” تیسرے آدمی نے کہا “ہمیں اپنی زبانیں بند رکھنی چاہئیں کیونکہ اس وقت ان کی حالت ایسی ہے کہ وہ ایک تنے ہوئے رسے پر چل رہے ہیں۔ ذرا سا دھکا بھی ان کی تباہی کا باعث ہو سکتا ہے۔”

“چاہے وہ میری زبان کھینچ لیں میں ان کا نام نہیں بتاؤں گی!” بیمار بچے والی عورت نے کہا۔

“میں بھی خاموش رہوں گی” دوسری عورت نے کہا “مجھے موت آ جائے جو میں بھولے سے بھی ان کو رسے تک پہنچاؤں۔”

غرض سب نے اس طرح کی باتیں کہیں سوائے قد آور لمبی داڑھی والے پتھر کٹے کے جو ذرا زود فہم نہ تھا۔ جو کچھ اس نے سنا تھا اس سے نہ کچھ سمجھ سکا کہ آخر اس مسافر کے پیچھے کتے کیوں پڑ جائیں گے۔ وہ نہ تو کوئی قصاب ہے اور نہ قورمہ بیچنے والا۔ پھر اگر مسافر تنے ہوئے رسے پر چلنے والا ہے تو اس کا نام زور سے کیوں نہ لینا چاہئے۔ اور وہ عورت اپنے محسن کو رسے تک پہنچانے پر مرنے کو کیوں ترجیح دیتی ہے جو ان کے پیشے کے لئے ضروری ہے؟ اب پتھر کٹا بالکل حیران ہو چکا تھا۔ وہ زور سے کھنکھارا، ایک گہرا سانس لیکر فیصلہ کیا کہ اس کے بارے میں بالکل نہ سوچے ورنہ وہ پاگل ہو جائے گا۔

اس دوران خواجہ نصر الدین کافی فاصلہ طے کر چکے تھے لیکن اب بھی ان کی آنکھوں کے سامنے ان غریبوں کے سوکھے ہوئے چہرے پھر رہے تھے۔ ان کو بیمار بچہ برابر یاد آ رہا تھا، اس کے بخار سے تپتے ہوئے رخسار اور خشک ہونٹ۔ انہوں نے اس سفید ریش بڈھّے کے بارے میں سوچا جس کو گھر سے نکال دیا گیا تھا اور ان کے دل کی گہرائیوں سے شدید غصے کا سیلاب امنڈ پڑا۔

“ذرا ٹھہر تو سہی، سود خور، ذرا ٹھہر!” وہ بڑبڑائے اور ان کی کالی آنکھوں میں ایک خطرناک شعلہ لپکا۔ “میں تمہاری حالت بری بنا دوں گا۔ اور امیر جہاں تک تیرا تعلق ہے” وہ بڑبڑاتے گئے” کانپ کر زرد پڑ جا کیونکہ میں، خواجہ نصر الدین بخارا آگیا ہوں! میرے بدحال لوگوں کا خون چوسنے والی بد ذات اور ہولناک جونکو! او خونخوار حریص بھیڑیو! اے گندے گیدڑو! تم ہمیشہ تو پروان نہیں چڑھو گے اور نہ لوگ ہی ہمیشہ پریشان حالی میں مبتلا رہیں گے! اور جہاں تک جعفر سود خور تیرا تعلق ہے، میرا نام ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شرمسار رہے گا اگر میں ان تمام مصیبتوں کا عوض تجھ سے نہ چکا لوں جو تو غریبوں پر توڑتا ہے۔”

(۷)

خواجہ نصر الدین نے جو دنیا کے بہت سے نرم گرم برداشت کر چکے تھے، اپنے وطن میں پہلا دن بہت بے چینی اور سانحوں سے بھرا ہوا گزارا۔ وہ تھک گئے تھے اور چاہتے تھے کہ کوئی ایسی الگ تھلگ جگہ مل جائے جہاں آرام کر سکیں۔

“نہیں” انہوں نے ایک تالاب کے گرد جمع لوگوں کا مجمع دیکھ کر ایک آہ بھری۔ “ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے آج میری قسمت میں آرام نہیں ہے! یہاں کچھ ہو گیا ہے۔”

تالاب سڑک سے تھوڑے فاصلے پرتھا اور خواجہ نصر الدین آسانی سے اس کو چھوڑ کر آگے جا سکتے تھے لیکن وہ ایسے آدمی نہیں تھے کہ کسی لڑائی جھگڑے اور ہنگامے کے موقع کو ہاتھ سے جانے دیں۔

گدھا بھی جو ان کے ساتھ مدتوں رہتے رہتے اپنے مالک کے طور طریقوں سے خوب آشنا ہو چکا تھا خود ہی تالاب کی طرف مڑ گیا۔

“کیا معاملہ ہے؟” گدھے کو مجمع میں گھسیڑتے ہوئے خواجہ نے چلا کر پوچھا “کیا کسی کا قتل ہو گیا ہے؟ کیا کوئی لٹ گیا؟ راستہ دو، راستہ!”

وہ بھیڑ کو چیرتے ہوئے تالاب کے کنارے تک پہنچ گئے جو سبز کائی سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہاں انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ کنارے سے چند قدم کے فاصلے پر ایک آدمی ڈوب رہا تھا۔ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد وہ پانی کے اوپر آتا اور پھر اندر چلا جاتا اور پانی سے بڑے بلبلے نکلنے لگتے۔

“ارے احمقو!” خواجہ نصر الدین نے کہا “یقیناً تم اس کی قیمتی قبا اور ریشمی عمامے سے دیکھ سکتے ہو کہ یہ آدمی یا تو کوئی ملا ہے یا امیر عہدے دار؟ اور کیا تم کو ملاؤں اور عمائدین کے طریقے نہیں معلوم ہیں کہ ان کو پانی سے کس طرح گھسیٹا جائے؟”

“تم خود گھسیٹ لو نا اور اگر طریقہ جانتے ہو تو بچا لو” مجمع میں شور ہوا “جاؤ، بچاؤ! وہ پھر اوپر آگیا ہے!”

“ٹھہرو” خواجہ نصر الدین نے کہا “میں نے ابھی اپنی تقریر ختم نہیں کی ہے۔ میں یہ پوچھتا ہوں کہ تم نے کبھی کسی ملا یا امیر عہدے دار کو کسی کو کچھ دیتے دیکھا ہے؟ تو اے جاہلو وہ صرف لیتے ہیں۔ اس لئے ان کو ذرا ترکیب سے بچانا چاہئے، یعنی ان کی مزاجی خصوصیات کے لحاظ سے۔ اب ذرا دیکھنا مجھے۔”

“لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے!” مجمع سے آوازیں آئیں “اب وہ اوپر نہیں آئے گا۔”

“کیا تمھارے خیال میں پانی کی دیویاں کسی ملا یا بڑے افسر کو اتنی آسانی سے قبول کر لیں گی؟ نہیں تم غلطی پر ہو۔ پانی کی دیویاں اس سے نجات پانے کی پوری کوشش کریں گی۔”

خواجہ نصر الدین زمین پر اکڑوں بیٹھ گئے اور اطمینان سے انتظار کرنے لگے۔ وہ تہہ سے بلبلوں کو اوپر آتے اور کنارے تک تیرتے دیکھ رہے تھے جن کو ہلکی ہوا اس طرف ڈھکیل رہی تھی۔

آخر کار وہ سیاہ شکل آہستہ آہستہ گہرائیوں سے ابھری۔ ڈوبتا آدمی سطح پر دکھائی دیا۔ اگر خواجہ نصر الدین نہ ہوتے تو وہ آخری بار اوپر آیا ہوتا۔

“ارے، یہ لو!” خواجہ نصر الدین ہاتھ بڑھا کر چلائے “یہ لو!”

ڈوبتے ہوئے آدمی نے انتہائی بدحواسی میں ہاتھ کو مضبوط پکڑ لیا۔ خواجہ نصر الدین کا اس کی مضبوط گرفت کی وجہ سے منہ بگڑ گیا۔

بچائے ہوئے آدمی نے انگلیاں چھڑانے میں کافی وقت لگ گیا۔

تھوڑی دیر تک وہ بے حس و حرکت پڑا رہا۔ وہ سیوار اور بدبو دار کائی سے ڈھکا ہوا تھا جس سے اس کا چہرہ چھپ گیا تھا۔ پھر اس کے منہ، ناک اور کانوں سے پانی نکلنے لگا۔

“میرا بٹوہ!۔ میرا بٹوہ کہاں ہے؟” وہ کراہ رہا تھا اور اس وقت تک اسے چین نہ آیا جب تک بٹوہ اس کے پاس نہ پہنچ گیا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے گھاس پھونس جھاڑی اور اپنی قبا کے دامن سے چہرہ صاف کیا۔ خواجہ نصر الدین پیچھے ہٹ گئے۔ چپٹی ٹوٹی ناک، چوڑے چوڑے نتھنوں اور پھلی آنکھ نے اس کا چہرہ خوفناک بنا دیا تھا۔ آدمی کبڑا بھی تھا۔

“یہ رہے!” مجمع نے غل مچایا اور خواجہ نصر الدین کو آگے بڑھا دیا۔

“ادھر آؤ، میں تم کو انعام دینا چاہتا ہوں” آدمی نے اپنے پانی سے بھرے ہوئے بٹوے میں ہاتھ ڈالا اور مٹھی بھر چاندی کے سکے نکالے “حالانکہ یہ کوئی بہت ہی لاجواب یا غیر معمولی بات نہیں ہے کہ تم نے مجھ کو نکال لیا۔ میں خود ہی نکل آتا” اس نے ناشکرے پن سے اضافہ کیا۔

جب وہ بات کر رہا تھا تو معلوم نہیں کمزوری یا کسی دوسرے سبب سے اس کی مٹھی آہستہ سے کھلی اور سکے اس کی انگلیوں سے پھسل کر ہلکی جھنجھناہٹ کے ساتھ بٹوے میں پھر جا رہے۔ صرف ایک سکہ اس کے ہاتھ میں بچ رہا، نصف تانگے کا۔ا یک آہ سرد بھرتے ہوئے اس نے یہ سکہ خواجہ نصر الدین کی طرف بڑھایا۔

“یہ لو اور بازار جا کر اپنے لئے ایک قاب پلاؤ خرید لینا۔”

“یہ تو ایک قاب پلاؤ خریدنے کے لئے کافی نہیں ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا۔

“اچھا، کوئی بات نہیں، بلا گوشت کے سادے چاول ہی سہی۔”

“دیکھتے ہو نا” خواجہ نصر الدین نے پاس کھڑے لوگوں کو مخاطب کیا ” میں نے تو اس کی فطرت کے مطابق ترکیب سے اس کی جان بچائی۔”

پھر وہ اپنے گدھے کے پاس چلے گئے۔

راستے میں ان کو ایک لمبے، چھریرے اور مضبوط بازوؤں والے آدمی نے روکا، اس کا چہرہ روکھا تھا۔ اس کے بازو کالک اور کوئلے سے سیاہ ہو رہے تھے اور اس کے پٹکے میں لوہار کی سنسی لگی ہوئی تھی۔

“کیا ہے، بھئی لوہار؟” خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔

“دیکھو” لوہار نے ان کو ناراضگی کے ساتھ اوپر سے نیچے تک دیکھتے ہوئے کہا “تمھیں معلوم ہے کہ تم نے کسی کو بچایا ہے؟ اور وہ بھی آخری وقت، جب اس کو کوئی نہیں بچا سکتا تھا؟ تمھیں معلوم ہے کہ تمھارے اس فعل کی وجہ سے کتنے آنسو بہیں گے؟ پتہ ہے کہ کتنے آدمی اپنے گھر بار، کھیتوں اور انگور کے بغیچوں سے محروم ہو جائیں گے یا غلاموں کے بازار میں پہنچ جائیں گے اور وہاں سے پا بہ زنجیر خیوا کی شاہراہ پر نظر آئیں گے!”

خواجہ نصر الدین حیرت سے اس کا منہ تک رہے تھے۔ انہوں نے کہا “بھائی لوہار! تمھاری بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔ کیا کوئی انسان کہلانے کا مستحق اور مسلمان ڈوبتے ہوئے آدمی کے پاس سے گزر جائے گا اور اس کی مدد کے لئے ہاتھ نہ بڑھائے گا؟”

“تو تمھارا خیال ہے کہ آدمی کو تمام زہریلے سانپ بچھوؤں اور بھیڑیوں کو بچانا چاہئے؟” لوہار نے زور سے کہا۔ پھر اس کو کچھ خیال آیا اور اس نے کہا “کیا تم یہیں کے رہنے والے ہو؟”

“نہیں، میں دور دراز سے آیا ہوں۔”

“تو پھر تم نہیں جانتے کہ جس آدمی کی جان تم نے بچائی ہے وہ بہت بد ذات اور خون چوسنے والا ہے اور بخارا کا ہر تیسرا آدمی اس کی وجہ سے نالاں اور گریاں ہے!”

خواجہ نصر الدین کے دماغ میں ایک ہولناک خیال چمک اٹھا۔

“لوہار!” وہ یہ ڈرتے ہوئے رک گئے کہ کہیں ان کا خیال صحیح نہ ثابت ہو “اس آدمی کا نام مجھے بتا دو۔”

“تم نے جعفر سود خور کو بچایا ہے، خدا اس کی زندگی اور عاقبت دونوں خراب کرے! خدا کرے کہ اس کی چودہ نسلوں تک کے سڑے زخم ہوں!” لوہار نے جواب میں کہا۔

” کیا کہا؟” خواجہ نصر الدین چلائے “تم کیا کہہ رہے ہو؟ ہائے افسوس، افسوس! کیسی شرمناک بات میں نے کی! کیا میرے ہاتھوں نے اس سانپ کو پانی سے نکالا؟ سچ مچ اس گناہ کا کوئی ازالہ نہیں ہو سکتا! افسوس، شرف کی بات ہے!”

اس کی ندامت سے لوہار متاثر ہو کر ذرا نرم پڑا۔

“مسافر، چپ کرو، اب کیا ہو سکتا ہے۔ تم اس وقت تالاب تک کیوں پہنچے۔ تمھارا گدھا سڑک پر ہی اڑ کر کیوں نہیں رک گیا؟ سود خور کو ڈوبنے کا موقع مل جاتا۔”

“یہ گدھا!” خواجہ نصر الدین نے کہا “اگر یہ سڑک پر رکتا ہے تو صرف میری خورجینیں پیسے سے خالی کرانے کے لئے کیونکہ اگر وہ بھری ہوں تو اس کے لئے بھاری ہو جاتی ہیں۔ لیکن جب میری بدنامی کا سوال ہوتا ہے، سود خور کو بچانے کا، تو یقین کرو کہ یہ گدھا ضرور مجھے وقت پر وہاں پہنچائے گا!”

“ہاں” لوہار نے اتفاق کیا “لیکن جو کچھ ہوا وہ واپس نہیں لیا جا سکتا۔ سود خور کو اب تالاب میں واپس نہیں ڈھکیلا جا سکتا۔”

خواجہ نصر الدین چونک پڑے۔

“مجھ سے ایک برا کام ہو گیا لیکن میں اس کو ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گا! سنو! بھائی لوہار، میں قسم کھاتا ہوں کہ جعفر سود خور کو میں ڈبوؤں گا۔ میں اپنے والد کی ریش مبارک کی قسم کھا کر کہتا ہوں۔ ہاں، میں اس کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا! لوہار! میری قسم یاد رکھنا۔ کیونکہ میں فضول بات نہیں کرتا۔ سود خور ڈوبے گا! اور جب تم اس کے بارے میں بازار میں سننا تو یہ سمجھ لینا کہ میں نے بخارا شریف کے شہریوں کے سامنے اپنے جرم کا خمیازہ پورا کر دیا ہے!”

(۸)

جب خواجہ نصر الدین بازار پہنچے تو شفق کی روشنی ٹھنڈے اور خوشبو دار دھند کی طرح شہر پر چھاتی جا رہی تھی۔

چائے خانوں میں خوشگوار الاؤ جلنے لگے تھے اور جلد ہی پورے بازار کو روشنیوں نے اپنے آغوش میں لے لیا۔ کل ایک بڑا بازار ہونے والا تھا۔ اونٹوں کے کارواں جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ جب کوئی کارواں اندھیرے میں غائب ہو جاتا تو اس کی سریلی، صاف اور اداس گھنٹیوں کی آواز بڑی دیر تک ہوا میں گونجتی رہتی اور جب دور یہ آواز غائب ہو جاتی تو دوسرا کارواں چوراہے پر آ جاتا اور اس کی گھنٹیاں بجنے لگتیں اور اداس گیت سنانے لگتیں۔ یہ اس طرح جاری تھا جیسے رات خود دنیا کے کونے کونے سے لائی ہوئی آوازوں سے بھر گئی ہو اور آہستہ آہستہ گنگناتی، تھرتھراتی اور کراہتی ہو۔ ہندوستان، ایران، عرب، افغانستان اور مصر کی ان دیکھی گھنٹیاں گونج رہی تھیں۔ خواجہ نصر الدین ان کے نغمے سن رہے تھے اور یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ ان کو تا ابد سن سکتے ہیں۔ قریب ایک چائے خانے میں طنبورہ بج رہا تھا اور اس کا ساتھ دو تارے کے تار دے رہے تھے۔ کسی ان دیکھے گائک نے اپنی صاف آواز ستاروں تک پہنچا دی تھی۔ وہ اپنی محبوبہ کے بارے میں گا کر اس کا شکوہ کر رہا تھا۔

اس پر نغمہ فضا میں خواجہ نصر الدین رات بھر ٹھہرنے کی جگہ تلاش کر رہے تھے۔

“میرے پاس اپنے اور گدھے کے لئے آدھا تانگا ہے” انہوں نے ایک چائے خانے کے مالک سے کہا۔

“آدھے تنگے میں تم رات تو یہاں گزار سکتے ہو” مالک نے کہا “لیکن کمبل نہیں ملے گا۔”

“اور میں اپنا گدھا کہاں باندھوں؟”

“مجھے گدھے سے کیا مطلب؟”

چائے خانے کے قریب کوئی باندھنے کی جگہ نہ تھی۔ خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ برساتی کے نیچے ایک آنکڑہ نکلا ہوا ہے اور یہ بغیر دیکھے کہ آنکڑہ کس چیز میں لگا ہے انہوں نے اپنا گدھا اس میں باندھ دیا۔ چائے خانے کے اندر پہنچتے ہی وہ دراز ہو گئے کیونکہ وہ تھک کر چور ہو چکے تھے۔

وہ ابھی اونگھ ہی رہے تے کہ ان کو اپنا نام سنائی دیا اور انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔

قریب ہی کچھ آدمی جو بازار آئے تھے ایک چھوٹے سے حلقے میں بیٹھے چا پی رہے تھے۔ ان میں ایک ساربان تھا، ایک گلہ باد اور دو کاریگر۔ ان میں ایک مدھم آواز میں کہہ رہا تھا:

“خواجہ نصر الدین سے یہ بھی موسوم ہے۔ ایک دن وہ بغداد میں بازار سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے ایک باورچی خانے میں غل غپاڑہ سنا۔ جانتے ہی ہو کہ ہمارے خواجہ نصر الدین کتنے کھوجی آدمی ہیں وہ اندر پہنچ گئے۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ موٹا، لال چہرے والا باورچی خانے کا مالک ایک فقیر کی گدی میں ہاتھ دیکر اسے ہلا رہا تھا۔ وہ فقیر سے پیسے طلب کر رہا تھا لیکن فقیر کچھ دینے سے انکار کر رہا تھا۔

“یہ ہنگامہ کیوں ہے؟” ہمارے خواجہ نصر الدین نے پوچھا ” تم دونوں کیوں جھگڑ رہے ہو؟”

یہ ہنگامہ کیوں ہے؟ ہمارے خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔ “تم کیوں جھگڑ رہے ہو؟”

“یہ بد معاش، کمینہ، چور، اس کی آنتیں سڑیں، مالک نے چیخ کر کہا “میرے باورچی خانے میں آیا، اپنی بغل سے نان کا ایک ٹکڑا نکالا اور بڑی دیر تک اس کو انگیٹھی کے اوپر سینکتا رہا یہاں تک کہ نان میں بوٹی کے کبابوں کی خوشبو آ گئی اور وہ زیادہ نرم اور مزے دار ہو گئی۔ پھر یہ روٹی چٹ کر گیا۔ اور اب، اس کے دانت گریں، کھال پھٹ جائے، پیسے نہیں دیتا ہے!”

“یہ سچ ہے؟” خواجہ نصر الدین نے درشتی سے پوچھا۔ فقیر اتنا ڈرا ہوا تھا کہ اس کے منہ سے کوئی بات ہی نہ نکلی اور اس نے صرف سر ہلا دیا۔ “جانتے ہو، یہ غلط بات ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا”یہ غلط بات ہے کہ کسی کی ملکیت کا مفت استعمال کیا جائے”۔

“سن رہا ہے نا، یہ معزز اور لائق صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟” باورچی خانے کے مالک نے خوش ہو کر کہا۔

“تمھارے پاس پیسے ہیں؟” خواجہ نصر الدین نے فقیر سے پوچھا۔ فقیر نے اپنا ایک ایک پیسہ نکال کر خواجہ نصر الدین کے حوالے کر دیا۔ باورچی خانے کے مالک نے اپنا چکٹا ہاتھ پیسے لینے کے لئے بڑھایا۔

“حضت، ذرا رکئے” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “پہلے اپنا ذرا اپنا کان ادھر لائیے۔”

“اور کافی دیر وہ سکوں کو مٹھی میں لئے مالک کے کان میں بجاتے رہے۔ پھر انہوں نے فقیر کو پیسے واپس دیتے ہوئے کہا “اطمینان سے جاؤ، سائیں جی!”

“کیا!” باورچی خانے کا مالک چلایا ” “لیکن مجھے تو پیسے ملے ہی نہیں۔”

“اس نے تم کو پورے دام دئے ہیں” خواجہ نصر الدین نے کہا “اب تم دونوں برابر ہو۔ اس نے تمھارے بوٹی کے کباب سونگہے اور تم نے اس کے سکوں کی جھنکار سنی”

سب سننے والے زور سے ٹھٹھا مار کر ہنسے۔ ان میں سے ایک آدمی نے جلدی سے سب کو روک کر کہا “اتنے زور سے نہیں ورنہ وہ سمجھ جائیں گے کہ ہم خواجہ نصر الدین کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔”

“ان کو کیسے پتہ ہے؟” خواجہ نصر الدین نے مسکراتے ہوئے سوچا “دراصل یہ بغداد کا نہیں بلکہ استنبول کا واقعہ ہے۔ پھر ان کو کیسے معلوم ہوا؟”

پھر دوسرے آدمی نے، جو گلہ بان کے لباس میں تھا اور رنگین پگڑی باندھے ہوئے تھا جس سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ بدخشاں کا رہنے والا ہے اپنا قصہ مدھم آواز میں شروع کیا:

“کہا جاتا ہے کہ ایک دن خواجہ نصر الدین ایک ملا کی باڑی کے پاس سے گزر رہے تھے۔ ملا کچھ کدو ایک بورے میں بھر رہا تھا۔ لالچ میں آ کر اس نے بورے میں اتنے کدو بھر لئے تھے کہ بورے کو لے جانا تو الگ رہا اس کو اٹھانا تک ممکن نہ تھا۔ وہ ادھر ادھر تک رہا تھا کہ بورا گھر کیسے پہنچے۔ اس نے ایک راہ گیر کو دیکھا اور بہت خوش ہوا۔

“سنو بیٹے، کیا تم یہ بورا میرے گھر تک پہنچا دو گے؟”

اس وقت خواجہ نصر الدین کے پاس پیسے نہیں تھے۔ انہوں نے ملا سے پوچھا “تم مجھے کیا دو گے؟”

“بیٹا، پیسے کیوں مانگتے ہو؟ بورا لے جاتے وقت راستے میں تم کو میں تین انتہائی حکیمانہ قول بتاؤں گا جن سے تمھیں زندگی میں مسرت نصیب ہو گی۔”

“میں یہ قول ضرور سنوں گا” خواجہ نصر الدین نے سوچا۔ ان کو بڑا اشتیاق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بورے کو کاندھے پر لاد کر چل پڑے۔ راستہ پہاڑی پر تھا اور ڈھلوان کے پاس۔ خواجہ نصر الدین دم لینے کے لئے رکے۔ ملا نے بہت سنجیدہ اور پراسرار انداز میں کہا: “اچھا، پہلا قول سنو کیونکہ آدم کے زمانے سے لے کر اب تک اس سے بڑا حکیمانہ قول ساری دنیا میں نہیں پیدا ہوا ہے۔ اگر تم اس کے معنوں تک پہنچ گئے تو سمجھو کہ گویا الف لم کے رمز سے واقف آگاہ ہو گئے جس سے ہمارے پیغمبر اور ہادی حضرت محمد نے قرآن شریف کے دوسرے سورے کی ابتدا کی ہے۔ غور سے سنو! اگر تم سے کوئی یہ کہے کہ سواری پر چلنے سے پیدل چلنا بہتر ہے تو اس کی بات مت مانو۔ بیٹے میرے الفاظ نہ بھولنا اور برابر دن رات ان پر غور کرنا اور تب تم اس کی دانش مندی کی گہرائیوں تک پہنچ سکو گے۔ لیکن یہ قول تو دوسرے کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو میں تمھیں اس درخت کے قریب بتاؤں گا۔ دیکھو، وہ رہا آگے۔”

“ذرا ٹھہرو تو، ملا صاحب”خواجہ نصر الدین نے سوچا اور پسینے سے شرابور وہ بورے کو درخت تک لے گئے۔

ملا نے ایک انگلی اٹھا کر کہا: “دوسرا قول سنو کیونکہ اس کا انحصار پورے قرآن، نصف شریعت اور ایک چوتھائی طریقت پر ہے۔ جو آدمی اس کو سمجھ لے گا وہ نیکی اور سچائی کے راستے سے کبھی نہیں ہٹے گا۔ اس لئے بیٹے، اس قول کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اپنی خوش قسمتی پر نازاں ہو کہ یہ تمھیں مفت حاصل ہو رہا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے یہ کہے کہ غریب کی زندگی امیر سے آسان ہے تو مت یقین کرو۔ لیکن یہ دوسرا قول تو تیسرے کے پاسنگ نہیں، تیسرا قول ایسا منور ہے کہ اس کا مقابلہ بس سورج کی چکا چوند کر دینے والی روشنی اور بحر ذخار کی گہرائی سے کیا جاتا ہے۔ میں یہ قول تم کو اپنے گھر کے پھاٹک پر بتاؤں گا۔ آؤ جلدی کریں، کیونکہ اب میں دم لے چکا ہوں۔”

“مولانا ذرا ٹھہرئیے!” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ ” میں آپ کا تیسرا قول بوجھ گیا۔ آپ اپنے گھر کے پھاٹک پر مجھے سے یہ کہیں گے کہ ہوشیار آدمی ہمیشہ بیوقوف آدمی سے اپنے کدو بھرے بورے مفت ڈھلوا لیتا ہے۔”

“ملا حیرت سے پیچ و تاب کھا کر رہ گیا۔ خواجہ نصر الدین نے ٹھیک کہا تھا۔

“اب ملا صاحب میرا واحد قول سنئے جو آپ کے تمام قولوں کے برابر ہے” خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی ” اور قسم ہے پیغمبر صاحب کی کہ میرا قول ایسا چکا چوند کرنے والا اور گہرا ہے کہ اس کا انحصار سارے اسلام، قرآن، شریعت اور طریقت اور بہت سی کتابوں پر ہے، بودھ، عیسائی اور یہودی مذاہب کی کتابوں پر بھی۔ ملا صاحب، سچے مذہب کی مجھے تعلیم اور ہدایت دینے والے بزرگ، اب میں آپ کے سامنے ایسے ناقابل تردید دانش مندانہ قول کا انکشاف کروں گا جس سے بہتر نہ تو پہلے کبھی تھا اور نہ آئندہ ہو گا۔ لیکن ذرا اس کے لئے پہلے سے تیاری کر لیجئے تاکہ آپ بے قابو نہ ہو جائیں کیونکہ اس سے آدمی آسانی سے پاگل بن سکتا ہے۔ یہ قول ایسا ہی متحیر کن، عجیب اور اتھاہ ہے۔ ملا صاحب، اپنے دماغ کو فولاد بنا کر اس کو سنئے۔ اگر کوئی آپ سے کہے کہ یہ کدو ٹوٹے نہیں ہیں تو اس کے منہ پر تھوک دیجئے، اس کو جھوٹا کہہ کر اپنے گھر سے نکال دیجئے!”

یہ کہہ کر خواجہ نصر الدین نے بورا اٹھایا اور اس کو ڈھلوان سے نیچے چھوڑ دیا۔ کدو بورے سے لڑھک کر باہر آ گئے اور پتھروں سے ٹکراتے، اچکتے اور کھڑکھڑاتے نیچے چلے گئے۔

“ارے ہائے، ہائے” ملا فریاد کرنے لگا “کیسا نقصان ہوا، تباہ ہو گیا!” پاگلوں کی طرح وہ چیخنے، گریہ و زاری کرنے اور اپنا چہرہ نوچنے لگا۔

“دیکھئے نا”خواجہ نصر الدین نے کہا “میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ میرا قول ممکن ہے آپ کو پاگل بنا دے!”۔

سننے والوں میں پھر قہقہہ گونجا۔

کونے میں گرد آلود، جوئیں بھری چٹائی پر لیٹے لیٹے خواجہ نصر الدین نے سوچا:

“اچھا تو انہوں نے یہ بھی سن رکھا ہے! لیکن کیسے؟ راستے پر تو بس ہم دونوں تھے۔ ملا اور میں اور میں نے کسی سے بھی نہیں کہا۔ شاید جب ملا کو یہ پتہ چلا ہو گا کہ کون اس کے کدو لے جا رہا تھا تو اس نے لوگوں سے کہا ہو گا۔”

اب تیسرے نے اپنا قصہ شروع کر دیا:

“ایک دن خواجہ نصر الدین شہر سے اس ترکی کے گاؤں لوٹ رہے تھے جہاں وہ رہنے لگے تھے۔ وہ تھک کر ایک چشمے کے کنارے لیٹ گئے اور پانی کی قلقل کی آواز اور بہار کی مہک دار ہوا میں بلا ارادہ سو گئے۔ انہوں نے خواب میں یہ دیکھا کہ وہ مر گئے ہیں۔ “اگر میں مر گیا ہوں” انہوں نے فیصلہ کیا ” تو تو مجھے حرکت کرنی چاہئے اور نہ آنکھیں کھولنی چاہئیں۔” اس لیے وہ بالکل ساکت نرم گھاس پر پڑے رہے اور انہیں یہ محسوس ہوا کہ مردہ ہونا کوئی بری بات نہیں ہے کیونکہ اس طرح فانی دنیا کے وجود کی تمام فکروں اور جھگڑوں سے جو متواتر پریشان کرتی رہتی ہیں آزاد ہو کر اطمینان سے لیٹا جا سکتا ہے۔

کچھ مسافروں نے جو ادھر سے گزر رہے تھے، خواجہ نصر الدین سے کو دیکھا۔

“دیکھو!” ایک نے کہا “مسلمان ہے۔”

“مر گیا ہے” دوسرا بولا۔

“ہمیں اسے قریب ترین گاؤں لے چلنا چاہئے” تیسرے نے کہا۔

یہ وہی گاؤں تھا جہاں خواجہ نصر الدین جا رہے تھے۔

آدمیوں نے کئی شاخیں کاٹ کر ایک اسٹریچر سا بنا لیا اور اس پر خواجہ نصر الدین کو لٹا دیا۔ وہ ان کو لے کر بہت دیر تک چلتے رہے اور خواجہ صاحب آنکھیں بند کئے ایسے مردے کی طرح پڑے رہے جس کی روح جنت کے دروازے تک پہنچ چکی ہو۔

اچانک اسٹریچر رک گیا۔ راہی ایک دریا پار کرنے کے بارے میں بحث کرنے لگے۔ ایک نے تجویز پیش کی کہ دائیں طرف جانا چاہئے، دوسرے نے کہا بائیں اور تیسرے نے کہا سیدھے دریا کے پار۔ خواجہ نصر الدین نے ذرا سی آنکھ کھول کر دیکھا کہ یہ لوگ دریا کے سب سے گہرے، انتہائی تیز باؤ والے اور بہت ہی خطرناک حصے کے پاس کھڑے ہیں جہاں بہت سے لا پروا لوگ ڈوب چکے تھے۔

“مجھے اپنی پروا نہیں”خواجہ نصر الدین نے سوچا “کیونکہ میں تو مر چکا ہوں اور اب میں چاہے قبر میں لیٹوں یا دریا کی تہہ میں، کوئی بات نہیں ہے۔ لیکن ان مسافروں کو ضرور آگاہ کر دینا چاہئے کیونکہ وہ میرے اوپر مہربان ہونے کی وجہ سے اپنی جان گنوا سکتے ہیں۔ ان کو آگاہ نہ کرنا میرے لئے بڑی ناشکری کی بات ہو گی۔”

وہ اسٹریچر پر ذرا سا ابھرے اور ندی کی طرف اشارہ کر کے دھیمی آواز میں بولے “مسافرو، جب میں زندہ تھا تو میں دریا کو حور کے ان درختوں کے پاس پار کیا کرتا تھا۔” یہ کہہ کر انہوں نے اپنی آنکھیں پھر بند کر لیں۔ مسافروں نے خواجہ نصر الدین کا شکریہ ادا کیا اور بخشائش کی دعائیں کرتے ان کے اسٹریچر کو لیکر پھر آگے بڑھ گئے۔”

جب سننے والے اور کہانی کہنے والا دونوں ہنس رہے تھے اور ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے، خواجہ نصر الدین ناراض ہو کر بڑبڑا رہے تھے:

“ان لوگوں نے سب گڈ مڈ کر دیا ہے۔ اول تو میں نے یہ خواب کبھی نہیں دیکھا کہ میں مر گیا ہوں۔ میں اتنا احمق نہیں ہوں کہ میں یہ نہ سمجھ سکوں کہ مردہ ہوں یا زندہ۔ ارے، مجھے یہ تک یاد ہے کہ ایک پسو مجھے کاٹ رہا تھا اور میرا دل چاہتا تھا کہ کاش میں کھجلا سکتا۔ یقیناً یہ اس بات کا صاف ثبوت ہے کہ میں زندہ تھا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو مجھے پسو کے کاٹنے کا احساس نہ ہوتا۔ بات صرف یہ تھی کہ میں بہت تھک گیا تھا اور چلنا نہیں چاہتا تھا۔ مسافر مضبوط تھے اور ان کے لئے یہ کوئی بات نہ تھی کہ وہ ذرا اپنے راستے سے ہٹ کر مجھے گاؤں پہنچا دیں۔ لیکن جب انہوں نے دریا کو ایسی جگہ سے پار کرنا چاہا جہاں تین آدمیوں کے ڈباؤ بھر پانی تھا تو میں نے ان کو روک دیا۔ مجھے تو ان کے خاندانوں کا خیال تھا اپنے خاندان کا نہیں کیونکہ میرا خاندان تو ہے ہی نہیں۔ اور مجھے فوراً اپنی ناشکری کا تلخ پھل چکھنا پڑا کیونکہ میرے بروقت انتباہ پر شکرگزار ہونے کی بجائے مجھے مسافروں نے اسٹریچر سے نکال پھینکا اور مکوں سے میری خاطر کی۔ وہ میری خوب مرمت کرتے اگر میرے تیز رفتار پیروں نے میری مدد نہ کی ہوتی۔واقعی، عجیب بات ہے، لوگ سچ کو کیسا توڑ موڑ لیتے ہیں!”

اس دوران میں چوتھے آدمی نے اپنا قصہ چھیڑ دیا:

“خواجہ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے۔ ایک بار وہ تقریباً چھ مہینے تک ایک گاؤں میں رہے جہاں وہ اپنی ذہانت اور حاضر جوابی کی وجہ سے کافی مشہور ہو گئے تھے۔۔۔”

خواجہ نصر الدین کے کان کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے یہ آواز کہاں سنی تھی۔ بہت بلند نہیں لیکن صاف اور ذرا بھاری اور حال ہی میں۔۔۔ شاید آج ہی۔۔۔ انہوں نے بہت کوشش کی لیکن یاد نہ آیا۔

آدمی نے اپنی داستان جاری رکھی:

“ایک دن صوبے کے گورنر نے اس گاؤں کو اپنا ہاتھی بھیج دیا جہاں خواجہ نصر الدین رہتے تھے۔ گاؤں والوں کو ہاتھی کی خوراک مہیا کرنی اور اس کی دیکھ بھال کرنی تھی۔ ہاتھی بڑا کھاؤ تھا۔ چوبیس گھنٹے میں اس نے پچاس دھرے جو، پچاس دھرے باجرہ، پچاس دھرے مکئی اور ایک سو گٹھے گھاس ہڑپ کر لی۔ دو ہفتے میں گاؤں والوں کا سارا ذخیرہ ہاتھی کی نذر ہو گیا۔ وہ بالکل تباہ اور سخت پریشان ہو گئے۔ آخر کار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خواجہ نصر الدین کو گورنر کے پاس یہ التجا لیکر بھیجیں گے کہ اپنا ہاتھی واپس بلا لے۔

اب انہوں نے خواجہ نصر الدین سے درخواست کی اور وہ اس پر تیار ہو گئے۔ انہوں نے اپنے گدھے پر کاٹھی کسی، جس کے بارے میں سبھی جانتے ہیں کہ ضدی، بد مزاج اور کابل ہونے میں وہ گیدڑ، مکڑی، سانپ اور مینڈک کا مجموعہ ہے۔ کاٹھی کس کر خواجہ نصر الدین گورنر سے ملنے چل دئے لیکن جانے سے پہلے وہ گاؤں والوں سے یہ طے کرنا نہیں بھولے کہ ان کی خدمات کا معاوضہ کیا ہو گا۔ دراصل انہوں نے اتنی بڑی رقم لی کہ بہتوں کو اپنا گھربار بیچنا پڑا اور خواجہ نصر الدین کی وجہ سے وہ محتاج ہو گئے۔”

“ھونہہ” اس کونے سے آواز آئی جہاں خواجہ نصر الدین نمدے پر پڑے اپنے غصے کو ضبط کرنے کے لئے کروٹیں بدل رہے تھے۔

آدمی نے داستان جاری رکھی:

“تو خواجہ نصر الدین محل پہنچے۔ وہ بڑی دیر تک خدمتگاروں اور ملازموں کے جمگھٹے میں کھڑے رہے جو اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ حضور گورنر صاحب ان پر بھی وہ نظر ڈالیں جو کسی کے لئے مسرتیں اور کسی کے لئے تباہی لاتی تھی۔ اور جب گورنر نے خواجہ نصر الدین کی طرف رخ کرنے کی عنایت فرمائی تو خواجہ نصر الدین ان کی شان و شوکت دیکھ کر ایسا ڈرے اور بدحواس ہوئے کہ ان کے پیر گیدڑ کی دم کی طرح کانپنے لگے اور ان کی رگوں میں خون جم سا گیا۔ وہ پسینے میں بالکل شرابور ہو گئے اور رنگ سفید پڑ گیا۔”

“ھونہہ” پھر کونے سے آواز آئی لیکن داستان گو نے اس کی پروا کئے بغیر بات جاری رکھی:

“تم کیا چاہتے ہو؟” گورنر نے اپنی بلند اور گونجدار آواز میں جس میں شیر کی گرج تھی، پوچھا۔ ڈر کی وجہ سے خواجہ نصر الدین کی زبان بند ہو گئی۔ لکڑبھگے جیسی گھگھیائی ہوئی آواز سے انہوں نے کہا “حضور عالی، ہمارے صوبے کو منور کرنے والے سورج اور چاند، ہمارے صوبے کے تمام باشندوں کو خوشیاں اور مسرتیں بخشنے والے، اپنے اس ادنی خادم کی، جو آپ کے محل کی چوکھٹ پر اپنی داڑھی سے جھاڑو دینے کے قابل بھی نہیں ہے، ایک بات سنئے۔ اے آفتاب تاباں! ہمیں آپ نے یہ عزت بخشی ہے کہ اپنا ایک ہاتھی ہمارے گاؤں کو کھلانے پلانے اور دیکھ بھال کے لئے بھیج دیا ہے۔ اس لئے ہم لوگ ذرا پریشان ہیں۔۔۔”

گورنر نے غصے سے ناک بہوں چڑھائی۔ خواجہ نصر الدین اس کے سامنے اس طرح جھک گئے جیسے آندھی سے سرکنڈا جھک جاتا ہے۔

“تجھے کیا پریشانی ہے؟” گورنر نے پوچھا۔ “بول، یا تیرے گندے اور ذلیل تالو میں زبان چپک گئی ہے؟”

“آ، آ، آپ۔۔۔ آپ” ڈرپوک خواجہ نصر الدین ہکلا رہے تھے “ہم لوگ پریشان ہیں، اے آفتاب تاباں، کہ ہاتھی تنہائی محسوس کر رہا ہے۔ بےچارہ بہت رنجیدہ ہے اور سارا گاؤں اس کو غمگین دیکھ کر ملول ہو گیا ہے۔ اے اشرف الاشرافین، زینت ارض اسی لئے میں حاضر ہوا ہوں کہ آپ ہمارے اوپر مزید عنایات کریں اور ایک ہتھنی بھیج بھی بھیج دیں۔

“گورنر اس درخواست سے بہت خوش ہوا اور فوراً اس کی تکمیل کا حکم دیا۔ اپنی مسرت کا اظہار کرنے کے لئے اس نے خواجہ نصر الدین کو اپنے جوتے کا بوسہ لینے کی اجازت دی جس کو خواجہ نصر الدین نے اتنے جوش و خروش سے کیا کہ گورنر کے جوتے کی پالش اڑ گئی اور خواجہ نصر الدین کے ہونٹ کالے ہو گئے۔۔۔”

یہاں داستان گو کو خود خواجہ نصر الدین کی گرجتی ہوئی آواز نے روک دیا۔

“جھوٹا کہیں کا!” خواجہ نصر الدین چلائے۔ “گندے، خارشئے کتے، تیرے ہونٹ، تیری زبان اور اندر سے سارا بدن برسر اقتدار لوگوں کے جوتے چاٹتے چاٹتے سیاہ ہو گئے ہیں۔ خواجہ نصر الدین نے کبھی اور کسی جگہ حاکموں کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ تو خواجہ نصر الدین کو بدنام کرتا ہے۔ مسلمانو، اس کی بات مت سنو! اس کو نکال دو!”

وہ اس افترا پرداز سے نبٹنے کے لئے لپکے لیکن چپٹے، چیچک بھرے چہرے اور زرد تھرکنے والی آنکھوں کو پہچان کر اچانک رک گئے۔ یہ تو وہی نوکر تھا جس نے گلی میں ان سے جنت کے پل پر کٹہروں کی لمبائی کے بارے میں تکرار کی تھی۔

“اھا!” خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا۔ “پہچان گیا تجھ کو اپنے مالک کے زر خرید اور خیر خواہ خادم! اور اب یہ بھی جان گیا تیرے ایک اور مالک بھی ہے جس کا نام تو نے چھپا رکھا ہے، بتا خواجہ نصر الدین کو چائے خانے میں برا بھلا کہنے کے لئے تجھ کو امیر سے کتے پیسے ملتے ہیں۔ کتنے پیسے خبر رسانی کے لئے ملتے ہیں اور ہر آدمی کے لئے جس کے ساتھ تو غداری کرتا ہے تجھ کو کیا ملتا ہے؟ ہر سزا پانے والے اور جیل کی کال کوٹھری میں ڈالے جانے والے اور پا بہ زنجیر کئے جانے والے اور غلام بنائے جانے والے کے لئے تجھے کیا دیا جاتا ہے؟ اے امیر کے جاسوس اور خبر رساں میں تجھے پہچان گیا!”

جاسوس نے جو ابھی تک ڈر کے مارے بے حس اور خاموش تھا اچانک تالی بجائی اور زور سے کہا:

“پہرے دارو، ادھر آؤ!”

خواجہ نصر الدین نے اندھیرے میں پہرے داروں کے دوڑنے، نیزوں کی کھڑکھڑاہٹ اور ڈھالوں کی جھنکار سنی۔ ایک لمحہ ضائع کئے بغیر وہ کود کر ایک طرف ہو گئے، انہوں نے چیچک رو جاسوس کو جو ان کا راستہ روکے کھڑا تھا زمین پر گرا دیا تھا۔

لیکن اب انہوں نے چوک کے دوسری طرف سے پہرے داروں کے قدموں کی آواز سنی۔ جس سمت بھی وہ بھاگتے ان کا سامنا پہرے داروں سے ہوتا۔ ایک لمحے کے لئے انہوں نے سوچا کہ اب بچ کر نکلنا ممکن نہیں ہے۔

“مصیبت آ گئی، پھنس گیا میں” وہ زور سے چلائے “الوداع میرے وفا دار گدھے!”

لیکن اسی وقت ایک ایسا غیر متوقع واقعہ ہوا جو بخارا میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور کبھی فراموش نہ کیا جائے گا کیونکہ بڑا زبردست ہنگامہ ہوا اور تباہی آئی۔

اپنے مالک کی غم انگیز چیخیں سن کر گدھا ان کی طرف دوڑا لیکن اس کے پیچھے ایک بڑا پیپا بھی صحن میں اچھلتا کودتا چلا۔ خواجہ نصر الدین نے لاعلمی میں اپنے گدھے کو اس پیپے کے آنکڑے سے باندھ دیا تھا جو چا خانے کا مالک بڑے تہواروں پر گاہک بلانے کے لئے پیٹا کرتا تھا۔ پیپا ایک پتھر سے ٹکرایا اور بھڑبھڑایا اور گدھے نے پیچھے مڑ کر دیکھا، پیپا پھر بھڑبھڑایا۔ گدھے نے سوچا کہ بھوت پریت اس کے مالک کا خاتمہ کر کے اب اس کی بھوری کھال کے پیچھے پڑے ہیں۔ وہ دہشت سے رینکا اور اپنی دم اٹھا کر بےتحاشا چوک کے پار بھاگا۔

اسی وقت ایک کارواں کے آخری پچاس اونٹ جن پر چینی کے برتن اور تانبے کی چادریں لدی تھیں چوک میں داخل ہو رہے تھے۔ رینکنے کی دہشتناک آواز اور ایک جانور کی اچھل کود سے جو اندھیرے میں سیدھا ان سے ٹکرا گیا خوفزدہ اونٹ ادھر ادھر بھاگے۔ چینی کے برتن اور جھن جھناتی ہوئی تانبے کی چادریں نیچے آ رہیں۔

ایک لمحے میں پورے بازار میں اور ساتھ کی سڑکوں پر ایسا زبردست ہنگامہ اور گڑبڑ ہوا جس کی مثال نہیں ملتی۔ گرجنے، بجنے، ٹکرانے، چیخنے، بھونکنے، غرانے اور ٹوٹنے پھوٹنے کی آوازیں سب مل کر ایک ہنگامہ بن گئیں۔ ہر ایک بدحواس ہو گیا۔ سیکڑوں اونٹ، گھوڑے اور گدھے اپنے کھونٹوں سے تڑا کر اندھیرے میں تانبے کی چادروں کے درمیان شور کرتے بھاگ رہے تھے اور ساربان و سائیس مشعلیں لئے شور و غل کرتے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے۔

لوگ اس ہنگامے سے جاگ پڑے اور نیم عریاں ادھر ادھر دوڑنے لگے۔ وہ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے۔ ان کی رنج و غم اور مایوسی سے بھری ہوئی آوازیں اندھیرے میں گونج رہی تھیں کیونکہ وہ سوچ رہے تھے کہ قیامت آ گئی ہے۔

مرغ بانگ دے رہے تھے اور اپنے پر پھڑپھڑا رہے تھے۔ ہنگامہ اتنا بڑھا کہ سارے شہر اور اس کے مضافات تک پھیل گیا۔ آخر کار شہر کی فصیل پر توپیں گرجنے لگیں کیونکہ شہر کے پہرے داروں نے سمجھا کہ دشمن نے بخارا پر حملہ کر دیا ہے اور محل کی توپیں بھی چھوٹنے لگیں کیونکہ محل کے پہرے داروں نے خیال کیا کہ بغاوت ہو گئی ہے۔ بےشمار میناروں سے مؤذنوں کی غم انگیز پریشان کن اذان گونجی۔ اندھیرے میں قطعی ہنگامہ برپا تھا، کسی کو پتہ نہ تھا کہ کدھر جائے۔

اور اس تاریکی اور ہنگامے کے قلب میں خواجہ نصر الدین بھاگ رہے تھے۔ وہ بڑی صفائی سے بھڑکے ہوئے گھوڑوں اور اونٹوں سے بچتے، پیپے کی آواز کے ذریعہ اپنے گدھے کا پیچھا کر رہے تھے۔ وہ گدھے کو اس وقت تک نہ پکڑ سکے جب تک کہ رسی ٹوٹ نہ گئی اور پیپا اونٹوں کے پیروں سے لگ کر کسی طرف لنڈھک نہ گیا۔ پیپے سے بچنے کے لئے جو اونٹ بدحواس ہو کر بھاگ رہے تھے انہوں نے شامیانے، چائے خانے اور چھوٹی چھوٹی دوکانیں گرا دیں۔

خواجہ نصر الدین کو گدھے کی تلاش میں بڑی دیر لگتی لیکن اتفاق سے ایک دوسرے سے سامنا ہو گیا۔ گدھا پسینے سے شرابور سر سے پیر تک کانپ رہا تھا۔

“چل، جلدی چل، یہاں بڑا غل غپاڑہ ہو رہا ہے” خواجہ نصر الدین نے گدھے کو کھینچتے ہوئے کہا “یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اگر کسی چھوٹے گدھے سے کوئی پیپا باندھ دیا جائے تو بڑے شہر میں کتنا بڑا ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ دیکھ، تو نے کیا کیا ہے! یہ سچ ہے کہ تو نے مجھے پہرے داروں سے بچا لیا، لیکن مجھے بخارا کے شہریوں پر افسوس آتا ہے۔ یہ سب گڑ بڑ ٹھیک کرنے میں ان کو صبح ہو جائے گی۔ ہمیں کہاں کوئی خاموش اور پرامن جگہ مل سکتی ہے؟”

خواجہ نصر الدین نے رات ایک قبرستان میں گزارنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی یہ دلیل بجا تھی کہ چاہے جتنا ہنگامہ کیوں نہ ہو، مردے نہ تو بھاگیں گے اور نہ چیخیں چلائیں گے یا مشعلیں لیکر دوڑیں گے۔

ہنگامہ پرور اور عوام کو اکسانے والے خواجہ نصر الدین نے اپنے شہر میں واپسی کا پہلا دن اسی طرح گزارا جو ان کے خطاب کے لئے سزاوار تھا۔ انہوں نے اپنے گدھے کو ایک قبر کے پتھر سے باندھ دیا اور خود ایک قبر پر دراز ہو گئے اور جلدی سو گئے۔ اس دوران میں شہر میں ہنگامہ، غل شور، گھڑگھڑاہٹ اور توپوں کی گرج کافی دیر تک جاری تھی۔

(۹)

صبح سویرے جب ستارے دھندلے پڑنے لگے اور اندھیرے سے ہلکے ہلکے خط و خال ابھرنے لگے تو سیکڑوں جاروب کش، بڑھئی اور تھوئی بازار کے چوک میں جمع ہو گئے اور خوب زوروں سے کام شروع کر دیا۔ انہوں نے گرے ہوئے شامیانے کھڑے کیے، پلوں کی مرمت کی، باڑوں میں ٹوٹی پھوٹی جگہیں ٹھیک کیں، تمام لکڑی کے ٹکڑے اور ٹوٹے برتن اس طرح صاف کیجئے کہ سورج کی پہلی کرنوں کو بخارا میں اتنے بڑے ہنگامے کا کوئی نام و نشان نہ ملا۔

بازار کھل گیا۔

قبرستان میں رات بھر اچھی طرح آرام کرنے کے بعد خواجہ نصر الدین اپنے گدھے پر سوار چوک آئے۔ وہاں خوب زوروں کی چہل پہل تھی اور بازار بہت سی زبانوں اور قوموں والے رنگین مجمع سے بھرا ہوا تھا۔ “ہٹو بچو، ہٹو بچو!” خواجہ نصر الدین کو اپنی آواز سوداگروں، ساربانوں، بہشتیوں، حجاموں، آوارہ درویشوں، فقیروں، بازار میں دانت اکھاڑنے والوں (جو اپنے پیشے کے زنگ آلود اور دہشتناک آلات لئے ہلا رہے تھے) کی آوازوں میں گم ہو گئی۔ رنگا رنگ قبائیں، عمامے، گھوڑے کی جھولیں اور قالین، چینی، عربی، ہندستانی، منگولیائی اور بہت سی دوسری زبانیں اس بھیڑ بھکڑ اور غل غپاڑے میں گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔ ایسی گرد اڑ رہی تھی کہ آسمان چھپ گیا تھا۔ چوک میں لوگوں کا تانتا بندھا تھا جو اپنا سامان بازار میں لگا رہے تھے اور ان کی ہانکیں عام ہنگامے میں اضافہ کر رہی تھیں۔ کمہار چھوٹی چھوٹی چھڑیوں سے اپنے برتن بجا بجا کر اور راہ گیروں کا دامن تھا کر التجا کر رہے تھے کہ وہ ان برتنوں کی صاف کھنک سنیں۔ اس طرح وہ انھیں خریدنے کی ترغیب دے رہے تھے۔ ٹھٹھیروں کی قطار میں تانبے کی چمک چکا چوند کر رہی تھی اور ان چھینیوں اور ہتھوڑیوں کی آواز فضا میں گونج رہی تھی جن سے وہ کشتیوں اور صراحیوں پر نقش و نگار بنا رہے تھے، ساتھ ہی وہ اپنی دستکاری کی تعریف بھی کرتے جاتے تھے اور پڑوسیوں کے کام کی برائی۔ سونار چھوٹی چھوٹی پیالیوں میں چاندی پگھلا رہے تھے، سونے کے تار کھینچ رہے تھے اور چمڑے کے گولوں کے ذریعہ قیمتی ہندوستانی جواہرات کو جلا دے رہے تھے۔ کبھی کبھی ہوا کا ہلکا سا جھونکا آتا اور عطر سازوں کی طرف سے خوشبو کی زوردار لپٹ آتی جہاں گلاب کا عطر، عنبر اور مشک اور مختلف قسم کے مسالے فروخت ہوتے تھے۔ ایک طرف رنگا رنگ، پھول پتیاں اور شبیہیں بنے ہوئے ایران، دمشق اور کاشغر کے قالین، گھوڑے کی رنگین جھولیں، سستی اور بیش قیمت دونوں کی طرح کی یعنی معمولی اور بہترین گھوڑوں کے لئے لامحدود قطاروں میں چلی گئی تھیں۔

خواجہ نصر الدین ریشم والوں، ساز بنانے والوں، اسلحہ بیچنے والوں اور رنگ ریزوں کی لائنوں، غلاموں کے بازار اور اون تیار کرنے والوں کی طرف سے گزرے۔ اور یہ سب صرف بازار کی شروعات تھی کیونکہ سیکڑوں اور قطاریں آگے تھیں۔خواجہ نصر الدین اپنے گدھے پر مجمع میں جتنا ہی گھستے گئے اتنی غل غپاڑہ، طول تکرار، چیخ پکار اور طے توڑ کی آوازیں اور زیادہ کان پھاڑنے لگیں۔ ہاں یہ وہی بازار تھا۔ بخارا کا مشہور اور لاجواب بازار جس کی مثال نہ تو دمشق میں تھی اور نہ خود بغداد میں۔

آخر کار وہ ان قطاروں کے جھمیلے سے باہر نکلے اور امیر کا محل دیکھا جو ایک روزن دار فصیل سے گھرا ہوا تھا۔ چاروں کونوں کے کناروں پر عرب اور ایرانی کاریگروں نے بڑی مہارت سے برسوں میں رنگا رنگ پچی کاری کی تھی۔

محل کے پھاٹک کے باہر رنگ برنگی خیمے پھیلے ہوئے تھے۔ پھٹے پرانے شامیانوں کے نیچے لوگ گرمی سے تھک کر چٹائیوں پر لیٹے یا بیٹھے تھے۔ کچھ اکیلے ہی تھے اور کچھ اپنے خاندان کے ساتھ۔ عورتیں بچوں کو کھلا رہی تھیں، کھانا پکا رہی تھیں، پھٹی ہوئی قباؤں اور گدوں کی مرمت کر رہی تھیں۔ نیم عریاں بچے ادھر ادھر دوڑ رہے تھے، غل مچا رہے تھے۔ وہ آپس میں جھگڑتے اور ٹھوکر کھا کر گرتے تھے اور گستاخی سے اپنے بدن کا وہ حصہ محل کی طرف کیے ہوئے تھے جس کو چھپانا چاہئے۔ مرد سو رہے تھے یا کوئی گھریلو کام کر رہے تھے یا پھر چائے دانیوں کے گرد بیٹھ کر گپ لڑا رہے تھے۔ “ارے، یہ لوگ تو شاید یہاں کئی دن سے ہیں!”خواجہ نصر الدین نے سوچا۔

ان کی توجہ دو آدمیوں کی طرف گئی جن میں ایک گنجا اور دوسرا داڑھی والا تھا۔ دونوں اپنے اپنے شامیانوں کے نیچے کھری زمین پر لیٹے تھے۔ دونوں کے درمیان کھونٹے سے ایک سفید بکری بندھی تھی جو ایسی دبلی پتلی تھی کہ بس اس کی پسلیاں کھال پھاڑ کر نکلتی ہوئی معلوم ہوتی تھیں۔ وہ بڑے غمگین لہجے میں ممیا رہی تھی اور کھونٹے کو کتر رہی تھی جس کو وہ ابھی تک آدھا کھا چکی تھی۔

خواجہ نصر الدین فطرتاً کھوجی واقع ہوئے تھے اس لئے وہ سوال کئے بغیر نہ رہ سکے:

“سلام علیکم، بخارا کے شہریو! بتائیے کہ آپ لوگ خانہ بدوشوں میں کب سے شامل ہو گئے ہیں؟”

“مسافر، ہماری ہنسی نہ اڑاؤ!” داڑھی والے نے جواب دیا “ہم خانہ بدوش نہیں ہیں بلکہ تمھاری ہی طرح نیک مسلمان ہیں۔”

“لیکن اگر آپ نیک مسلمان ہیں تو اپنے گھر میں کیوں نہیں رہتے؟ محل کے پھاٹک پر کیا انتظار ہے؟”

“ہم اپنے بادشاہ اور مالک امیر کے منصفانہ فیصلے کے منتظر ہیں جن کی آب و تاب آفتاب کو بھی شرماتی ہے۔”

“اچھا” خواجہ نصر الدین نے طنز کو چھپائے بغیر کہا۔ “تو کیا آپ اپنے بادشاہ اور مالک، امیر کے منصفانہ فیصلے کا جن کی آب و تاب آفتاب کو شرماتی ہے کافی دنوں سے انتظار کر رہے ہیں؟”

“مسافر، ہم چھ ہفتے سے انتظار کر رہے ہیں” گنجا بولا “یہ داڑھی والا جھگڑیلو، اللہ اس کو مارے، شیطان اس کو دفعان کرے ’’ یہ داڑھی والا جھگڑیلو میرا بڑا بھائی ہے۔ ہمارے والد کا انتقال ہوا ۔ انہوں نے کچھ ملکیت چھوڑی ۔ ہم نے سب کچھ تقسیم کر لیا ہے سوائے اس بکری کے ۔ اب امیر اس کا فیصلہ کریں گے کہ یہ کس کی ہونی چاہئے۔‘‘

’’ لیکن وہ بقیہ ملکیت کہاں ہے جو تم کو وراثت میں ملی ہے؟‘‘

’’ ہم نے وہ سب نقد کر لیا۔ درخواست لکھنے کے لئے عرضی نویس کو دینا پڑتا ہے پھر درخواست لینے والے منشی ، پہرے داروں اور بہت سے لوگوں کو۔۔‘‘

گنجا یکایک اچک کر اُٹھا اور ایک گندے ، ننگے پیر درویش سے ملنے کے لئے لپکا جو مخروطی ٹوپی پہنے تھا اور اس کے پہلو سے کشکول لٹک رہی تھی۔

’’میرے لئے دعا کیجئے، اے بزرگ! دعا کیجئے کہ فیصلہ میرے حق میں ہو!‘‘

درویش نے پیسے لے لئے اور دعا شروع کر دی۔ جیسے ہی وہ اپنی دعا کے آخری الفاظ تک پہنچا گنجے نے اس کی کشکول میں ایک سکہ اور ڈال دیا تاکہ وہ دعا کو از سرِ نو شروع کر سکے۔

داڑھی والا بے چینی سے اُٹھا اور مجمع میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی۔ کافی تلاش کے بعد اس کی نظر ایک اور درویش پر پڑی جو پہلے والے سے زیادہ گندا اور چیتھڑوں میں تھا اس لئے زیادہ بزرگ بھی تھا۔ اس درویش نے کافی بڑی رقم طلب کی۔ داڑھی والے نے کچھ طے توڑ کرنا چاہا لیکن درویش نے اپنی ٹوپی کے نیچے ٹٹول کر مٹھی بھر چیلڑ برآمد کئے۔ داڑھی والا یہ دیکھ کر فوراً اس کی کرامات کا قائل ہو گیا اور مطلوبہ رقم مان لی۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی پر فاتحانہ نظر ڈالتے ہوئے رقم گنی۔

درویش نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر زور زور سے دعا شروع کی۔ اس کی بھاری بھرکم آواز میں پہلے درویش کی مدھم آواز غائب ہو گئی۔

گنجے نے پریشان ہو کر اپنے درویش کو چند سکے اور دئے ، داڑھی والے نے بھی یہی کیا اور دونوں درویشوں نے ایک دوسرے کو شکست دینے کے لئے وہ چیخم دھاڑ کی کہ غالباً اللہ میاں نے فرشتوں کو آسمان کی کھڑکیاں بند کرنے کا حکم دے دیا ہو گا۔ بکری برابر کھونٹے کو کترے جا رہی تھی اور غمگین لہجے میں ممیا رہی تھی ۔

گنجے بھائی نے اس کے سامنے تھوڑی سی گھاس ڈال دی جس پر داڑھی والا زور سے چیخا:

’’اپنی گندی بدبو دار گھاس میری بکری کے پاس سے لے جاؤ !‘‘

اس نے لات مار کر گھاس الگ ہٹا دی اور بکری کے سامنے بھوسے کی ناند لگا دی۔

’’ نہیں ‘‘! گنجا غصے میں چلایا۔ ’’میری بکری تمھارا بھوسا نہیں کھائے گی!‘‘

اب ناند بھی گھاس کے پاس پہنچ گئی۔ وہ ٹوٹ گئی اور بھوسا سڑک کی مٹی میں مل گیا۔

دونوں بھائی سخت غصے میں دست و گریباں ہو گئے۔ وہ زمین پر لوٹ رہے تھے اور ایک دوسرے کی گھونسوں اور گالیوں سے خاطر کر رہے تھے۔

’’دو بیوقوف لڑ رہے ہیں، دو دھوکے باز دعا کر رہے ہیں اور بکری بے چاری بھوکوں مر رہی ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے سر ہلاتے ہوئے کہا ’’ارے نیک بخت اور محبت کرنے والے بھائیو ، اِدھر دیکھو! اللہ نے اس جھگڑے کا فیصلہ اپنے طور پر کر دیا۔ اس نے بکری کو تم سے لے لیا۔‘‘

بھائیوں کو ہوش آیا اور انہوں نے ایک دوسرے کو چھوڑ دیا۔ وہ اپنے خون آلود چہرے لئے بڑی دیر تک مُردہ بکری کو گھُورتے رہے۔ آخر کار گنجے نے کہا:

’’ اس کی کھال تو نکال لینا چاہئے۔‘‘

’’ یہ میں کروں گا‘‘ داڑھی والا جلدی سے بولا ۔

’’ تم کیوں کرو گے؟‘‘دوسرے نے پوچھا۔ اس کا گنجا سر غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔

’’ بکری میری ہے اور اسی لئے اس کی کھال بھی۔‘‘

’’ نہیں ، میری ہے! ‘‘

قبل اس کے کہ خواجہ نصر الدین کچھ بولیں دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا پھر زمین پر لوٹ رہے تھے۔ ایک لمحے کے لئے بھاری مٹھی میں سیاہ بالوں کا گچھا نظر آیا جس سے خواجہ نصر الدین نے نتیجہ اخذ کیا کہ بڑے بھائی کی داڑھی کا کچھ حصہ غائب ہو چکا ہے۔

نا امیدی سے ہاتھ جھٹک کے خواجہ نصر الدین آگے بڑھ گئے ۔

ایک لوہار ان کی طرف آ رہا تھا۔ اس کے پٹکے میں ایک سنسی لگی ہوئی تھی ۔ یہ وہی لوہار تھا جس نے خواجہ نصر الدین سے ایک دن پہلے تالاب پر باتیں کی تھیں۔

’’ سلام علیکم، آہنگر!‘‘ خواجہ نصر الدین نے خوشی سے کہا ۔ ’’ ہماری ملاقات پھر ہو گئی۔ حالانکہ مجھے ابھی اپنا وعدہ پورا کرنے کا موقع نہیں ملا ہے۔ آہنگر، تم یہاں کیا کر رہے ہو؟ کیا تم بھی امیر سے اپنے انصاف کا مطالبہ کرنے آئے ہو؟

’’ ایسے انصاف سے بھلا کیا ہو سکتا ہے؟‘‘ لوہار نے افسردگی سے کہا۔ ’’ میں لوہاروں کی لائن سے فریاد لے کر آیا ہوں۔ ہم کو پندرہ پہرے دار دئے گئے جنھیں ہمیں تین مہینے تک کھلانا پلانا تھا۔ ‘‘

’’ ایک سال گزر چکا ہے اور وہ اب بھی ہمارے اُوپر مسلط ہیں۔ اس وجہ سے ہم بڑا نقصان اُٹھا رہے ہیں۔‘‘

’’ اور میں رنگریزوں کی طرف سے آیا ہوں‘‘ ایک آدمی بیچ میں بولا جس کے ہاتھوں پر رنگ کے دھبے تھے اور جس کے چہرے کا رنگ زہر آلود بھاپ کی وجہ سے جس میں وہ صبح سے شام تک سانس لیتا تھا سبزی مائل ہو گیا تھا۔ ’’ میں بھی اسی طرح کی فریاد لے کر آیا ہوں۔ ہم کو پچیس پہرے دار ملے ہیں ۔ ہمارا کاروبار تباہ ہو گیا اور نفع بہت کم ہو گیا۔ شاید امیر ہمارے اُوپر رحم کھا کر ہمیں اس ناقابل برداشت بار سے چھٹکارا دلا دیں۔‘‘

’’آخر تم بیچارے پہرے داروں کو کیوں ناپسند کرتے ہو؟ ‘‘ خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا ’’ سچ مچ، وہ بخارا کے سب سے زیادہ برے اور لالچی لوگ تو نہیں ہیں۔ تم لوگ بلا شکایت کئے امیر ، اس کے تمام وزراء اور عمائدین کو کھلاتے ہو، تم دو ہزار ملاؤں اور چھ ہزار درویشوں کو کھانا دیتے ہو۔ تو آخر پہرے دار ہی کیوں بھوکے رہیں؟کیا تمھیں یہ کہاوت معلوم نہیں کہ جہاں ایک گیدڑ کو کھانا ملا وہاں دس فوراً اور آ جاتے ہیں۔ آہنگر اور رنگ ریز تمھاری شکایت میری سمجھ میں نہیں آتی۔‘‘

’’آہستہ سے‘‘ آہنگر نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔

رنگ ریز نے خواجہ نصر الدین کی طرف ملامت آمیز نظروں سے دیکھا اور کہا ’’ مسافر تم خطرناک آدمی ہو۔ تمھارے الفاظ میں نیکی نہیں ہے۔ لیکن ہمارے امیر عقلمند اور فیاض ہیں۔‘‘

وہ رک گیا کیونکہ اچانک قرناؤں اور نقاروں کی آواز گونج اُٹھی ۔ جیسے ہی محل کے پھاٹک کے پیتل سے منڈھے دروازے آہستہ آہستہ کھلے خیموں کا سارا رنگا رنگ جنگل جاگ اُٹھا۔

’’امیر ! امیر!‘‘ ہر طرف غلغلہ ہوا اور لوگ اپنے امیر کو دیکھنے چاروں طرف سے محل کی طرف دوڑ پڑے ۔ خواجہ نصر الدین نے اگلی صفوں میں ایک معقول جگہ چن لی۔

پہلے پھاٹک سے نقیب اعلان کرتے ہوئے نکلے ’’ امیر کے لئے راستہ دو ، مقدس امیر کے لئے راستہ دو! مجاہدین کے لئے راستہ دو! ‘‘

ان کے بعد پہرے دار آئے جو اپنے ڈنڈوں سے دائیں بائیں ان لوگوں کی پیٹھوں اور سروں پر بارشیں کر رہے تھے جو اشتیاق میں بہت قریب آ گئے تھے۔ مجمع کے درمیان ایک چوڑا راستہ بن گیا۔ اب نقارے ، شہنائیاں ، طنبورے اور قرنائیں لئے موسیقار آئے۔ اس کے بعد زریں ریشمی لباس میں ، مرصع مخملی نیاموں میں ہلالی شمشیریں لگائے دستہ برآمد ہوا ۔ پھر دو ہاتھی نکلے جن کے سروں پر لمبی کلغیاں تھیں۔ آخر میں ایک بہت ہی مرصع اور سجی ہوئی پالکی نمودار ہوئی جس میں خود با عظمت امیر ایک بھاری زریں نمگیرے کے نیچے تشریف فرما تھے۔

اس منظر کو دیکھ کر مجمع سے ایک غلغلہ بلد ہوا جیسے کہ چوک پر کوئی ہوا کا جھونکا آ گیا ہو اور سب لوگ زمین پر سجدے میں جھک گئے کیونکہ امیر کا حکم تھا کہ اس کی تابعدار رعایا اپنے کو امیر کا بندہ بے دام خیال کرے اور اس سے آنکھیں نہ چار کرے ۔ پالکی کے آگے آگے خدام دوڑ دوڑ کر قالین بچھائے جاتے تھے ، دائیں طرف شاہی مورچھل بردار کاندھے پر مورچھل رکھے چل رہا تھا اور بائیں طرف بڑی سنجیدگی اور شان سے ترکی کا سنہرا حقہ لئے حقے بردار تھا۔

جلوس کے پیچھے حصے میں پیتل کے خودوں ، سپروں ، نیزوں ، تیر کمانوں اور ننگی تلواروں سے لیس پہرے دار تھے۔ سب سے آخر میں دو چھوٹی توپیں تھیں۔ سارا جلوس دوپہر کی تیز دھوپ سے چمچما رہا تھا۔ سورج نے جواہرات ، سونے چاندی کے زیورات ، پیتل خودوں ، سپروں اور سفید فولادی ، ننگی تلواروں کو آئنے کی طرح چمکا دیا تھا۔۔۔ لیکن اس سجدے میں پڑے ہوئے زبردست مجمع میں نہ تو جواہرات چمک رہے تھے اور نہ سونا حتیٰ کہ تانبے تک کی چمک نہ تھی ۔ غرض کوئی ایسی چمک دمک نہ تھی جو دل کو خوش کر سکتی ہو۔ وہاں تو صرف چیتھڑے ، غربت اور بھوک تھی۔ اور جب امیر کا پُرتکلف جلوس اس گندے ، جاہل اور کُچلے ہوئے لوگوں کے سمندر کے درمیان سے گزر رہا تھا تو ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے گدڑی میں لعل ہو۔

قالینوں سے سجا ہوا اُونچا چبوترہ جہاں سے امیر اپنی وفادار رعایا پر عنایت کی بارش کرنے والے تھے پہلے ہی چاروں طرف سے پہرے داروں سے گھِر چکا تھا اور نیچے سولی کے میدان میں جلاد بڑے زوروں کے ساتھ امیر کے احکام کی تعمیل کے لئے تیاری کر رہے تھے ۔ وہ سلاخوں کی لچک اور ڈنڈوں کی مضبوطی کی جانچ کر رہے تھے، چمڑے کے کوڑے طشتوں میں بھگو رہے تھے ، سولیاں نصب کر رہے تھے ، کلہاڑیاں تیز کر رہے تھے اور زمین میں تیز نوکوں والے ستون گاڑ رہے تھے ۔ اس کا منتظم شاہی پہرے داروں کا داروغہ ارسلان بیک تھا جس کی بربریت کا چرچا بخارا سے باہر دُور دُور پھیل چکا تھا ۔ وہ لال چہرے ، بھاری جسم اور کالے بالوں والا آدمی تھا۔ اس کی داڑھی سینے پر اپنا گہنا سایہ کئے ہوئے ناف تک لٹک رہی تھی اور اس کی آواز اونٹ کی بلبلا ہٹ سے ملتی جلتی تھی۔ وہ بڑی فیاضی کے ساتھ گھونسوں اور لاتوں کی بارش کر رہا تھا۔ اچانک وہ بہت نیچا جھکا اور چاپلوسی سے کانپنے لگا۔

آہستہ آہستہ جھولتی ہوئی پالکی چبوترے تک پہنچی اور امیر نے اس کے پردے ہٹاتے ہوئے اپنے درشن رعایا کو دئے۔

(۱۰)

تقدس مآب امیر بہر حال ایسا کچھ صورت دار نہیں تھا۔ اس کا چہرہ جس کی تشبیہ اکثر درباری شعراء تابدار ماہِ کامل سے دیتے تھے پلپلے خربوزے سے زیادہ مشابہ تھا۔ وہ اپنے وزیروں کے سہارے سنہرے تخت پر جلوہ فرمانے کے لئے پالکی سے اُترا۔ خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ درباری شعراء کے دعووں کے برعکس وہ بالکل سرو سہی قد نہ تھا۔ اس کا جسم موٹا اور بھاری تھا ، اس کے ہاتھ چھوٹے اور پیر اتنے ٹیڑھے تھے کہ اس کی قبا سے بھی یہ عیب نہیں چھپ رہا تھا۔

وزراء اس کے دائیں طرف کھڑے ہو گئے ۔ ملاؤں اور عمائدین کو بائیں طرف جگہ ملی ، نیچے احکام نویس اپنے رجسٹر اور دواتیں لئے جمے تھے اور درباری شعراء نے تخت کے پیچھے اس طرح نیم حلقہ بنا لیا تھا کہ ان کی نظر اپنے آقا کی گدی پر رہے۔ شاہی مورچھل بردار مورچھل جھلنے لگا۔ حقے بردار نے سنہری نال اپنے مالک کے ہونٹوں سے لگا دی۔ چبوترے کو گھیرے ہوئے زبردست مجمع دم بخود کھڑا تھا۔ خواجہ نصر الدین رکابوں کے اُوپر ھ
امیر نے اُونگھتے ہوئے سر ہلایا۔ پہرے داروں نے دو حصوں میں تقسیم ہو کر گنجے اور داڑھی والے دونوں بھائیوں کو راستہ دیا جن کی باری تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل گھسٹتے ہوئے چبوترے تک گئے اور زمین تک لٹکتے ہوئے قالین کو بوسہ دیا۔

’’اٹھو !‘‘ وزیر اعظم بختیار نے کہا۔

دونوں بھائی اٹھے لیکن ان کی یہ جرات نہ ہوئی کہ وہ اپنی قباؤں کی دھُول جھاڑ دیں۔ خوف نے ان کی زبان اس طرح پکڑ لی تھی کہ وہ ہکلا رہے تھے اور ان کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی ۔ لیکن بختیار آخر بہت تجربے کار وزیر تھا۔ وہ ایک نظر میں ساری صورت حال بھانپ گیا۔

’’ تمھاری بکری ہے کہاں؟‘‘ اس نے بے چین ہو کر بیچ میں لقمہ دیا۔

گنجے بھائی نے جواب دیا ’’ وزیر اعلی نسب، وہ تو مر چکی، اللہ نے اس کو اپنے پاس بلا لیا ۔ لیکن کھال کا مالک کون ہے؟ ‘‘

بختیار امیر کی طرف مڑا۔

’’ کیا حکم ہے اے شاہِ دانش وراں؟‘‘

امیر نے بالکل بے تعلقی سے جمائی لیکر آنکھیں بند کر لیں ۔ بختیار بڑے ادب سے بھاری سفید دستار والا سر جھکایا

’’مالک، میں نے فیصلہ آپ کے چہرے سے معلوم کر لیا ! سنو‘‘ وزیر نے بھائیوں کی طرف مڑ کر کہا ۔ وہ گھٹنوں کے بل جھک گئے اور امیر کی عقل، انصاف اور مہربانی کا شکریہ ادا کرنے کے لئے کمر بستہ ہو گئے ۔ بختیار نے فیصلے کا اعلان کرنا شروع کیا اور احکام نویس اپنے اپنے بڑے رجسٹروں میں اس کے الفاظ لکھنے کے لئے اپنے قلم دوڑانے لگے۔

’’ امیر المومنین، آفتاب جہاں، با عظمت امیر، خدا ان پر رحمتیں نازل کرتا رہے ان کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر بکری کو اللہ نے لے لیا ہے تو کھال انصاف کے مطابق زمین پر اللہ کے نائب یعنی خود عظیم ایر ی ملکیت ہونی چاہئے۔ اس لئے بکری کی کھال نکال کر اس کو کھانا اور پکانا چاہئے اور محل میں لا کر شاہی خزانے کے حوالے کرنا چاہئے۔‘‘

بھائیوں نے بدحواس و کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا، مجمع میں چُپکے چُپکے کھُسر پھُسر ہونے لگی۔ بختیار نے اپنا حکم زوردار اور صاف آواز میں جاری رکھا :

’’ اس کے علاوہ مدعیان دو سو تانگے مقدمے کے اخراجات ، ڈیڑھ سو تانگے محل کا ٹیکس ، پچاس تانگے احکام نویسوں کا خرچ ادا کریں اور مسجدوں کی آراستگی کے لئے بھی چندہ دیں۔ یہ تمام رقم نقدی یا لپڑوں یا کسی اور قسم کی جائداد کی صورت میں فوراً وصول کی جائے۔ ‘‘

ابھی بختیار نے اپنی بات ختم بھی نہیں کی تھی کہ ارسلان بیک کے اشارے پر پہرے دار دونوں بھائیوں پر ٹوٹ پڑے ، ان کے پٹکے کھول دئے ، جیبیں باہر نکال کر جھاڑ لیں ، قبائیں تار تار کر دیں اور جوتے اتار کر ان کو ننگے پیر اور نیم عریاں کر کے گردن پکڑ کر ڈھکیل دیا۔

یہ سارا قصہ چُٹکی بجاتے ہو گیا ۔ فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی درباری شاعروں نے تحسین و مرحبا کے نعرے لگائے

’’ دانا امیر، داناؤں کے دانا ! دانائے روزگار!‘‘

تخت کی طرف اپنی گردنیں بڑھا بڑھا کر وہ اس طرح کی تعریفیں دیر تک کرتے رہے۔ ان میں سے ہر ایک چاہتا تھا کہ اس کی آواز سب سے بلند ہو کر امیر کے گوش گزار ہو سکے۔ اس دوران میں چبوترے کے چاروں طرف مجمع خاموش کھڑا ہمدردی اور افسوس کے ساتھ دونوں بھائیوں کو دیکھ رہا تھا۔

’’پرواہ مت کرو! ‘‘ خواجہ نصر الدین نے بڑے سنجیدہ لہجے میں دونوں بھائیوں سے کہا جو ایک دوسرے سے چمٹے دھاڑیں مار کر رو رہے تھے ۔ ’’ بہر حال چوک پر چھ ہفتے انتظار کا وقت ضائع نہیں گیا۔ تمھارا فیصلہ منصفانہ اور رحیمانہ ہے کیونکہ کیونکہ ہر ایک جانتا ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے امیر سے زیادہ دانشمند ، زیادہ رحیم اور کوئی نہیں ہے، اور اگر کسی کو اس میں شک ہو ۔۔۔‘‘ یہاں انہوں نے چاروں طرف اپنے آس پاس کے لوگوں کو دیکھا اور کہا ’’ تو پہرے داروں کو بلانے میں دیر نہ لگے گی۔ اور وہ؟ ہاں ، وہ شبہ کرنے والے مردود کو جلادوں کے حوالے کر دیں گے جو آسانی سے اسے بتا دیں گے کہ وہ کس طرح غلط راستے پر چل رہا ہے۔ ارے بھائیو! اطمینان سے گھر جاؤ۔ اب کبھی اگر تمھاری لڑائی کسی مرغی کے بارے میں ہو تو پھر امیر کی عدالت میں آنا ۔ لیکن ذرا پہلے اپنے مکانات، انگور کے چمن اور کھیت بیچ لینا ، نہیں تو ٹیکس نہیں ادا کر سکو گے اور اس سے امیر کے خزانے کو نقصان ہو گا جس کا خیال ہی ہر وفادار رعایا کے لئے ناقابلِ برداشت ہونا چاہئے۔‘‘

’’ کاش کہ ہم اپنی بکری کے ساتھ ہی ختم ہو جاتے‘‘ بھائیوں نے آنسو بہاتے ہوئے کہا ۔

’’ کیا تمھارے خیال میں آسمان پر بیوقوف کافی تعداد میں نہیں ہیں؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے پوچھا ۔ ’’ معتبر آدمیوں نے مجھے بتایا ہے کہ آجکل جنت و جہنم دونوں احمقوں سے بھرے پڑے ہیں اور اب اور نہیں لئے جا رہے ہیں۔۔۔ بھائیو، میں تمھارے لئے ابدیت کی پیشین گوئی کرتا ہوں۔۔۔ اب یہاں سے رفو چکر ہو جاؤ کیونکہ پہرے دار ادھر دیکھ رہے ہیں اور تمھاری طرح میں لافانی ہونے پر بھروسہ نہیں کر سکتا۔‘‘

دونوں بھائیوں نے زور زور سے سسکیاں بھرتے، اپنا چہرہ نوچتے اور سڑک کی زرد خاک اپنے سروں پر اُڑاتے چلے گئے۔

اب لوہار امیر کے سامنے حاضر ہوا۔ اس نے اپنی شکایت بھاری گرجدار آواز میں پیش کی ۔ وزیر اعظم بختیار نے امیر کی طرف دیکھا:

’’ اعلیٰ حضرت ، کیا حکم ہوتا ہے؟‘‘

امیر سو رہا تھا اور اس کے کھلے ہوئے منہ سے خراٹے صادر ہو رہے تھے ۔ بختیار ذرا بھی نہ جھجکا اور بولا:

’’جہاں پناہ ، میں نے آپ کا حکم چہرے سے معلوم کر لیا ہے۔ ‘‘

اور اس نے شان کے ساتھ اعلان کیا :

’’خدا کی طرف سے جو رحیم و کریم ہے ، امیر المومنین اور ہمارے آقا نے جو اپنی رعایا کی فکر سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتے اس کو یہ عزت دے کر بڑی مہربانی اور عنایت کا اظہار کیا ہے کہ وہ امیر کے پہرے داروں کی دیکھ بھال اور کھانے پینے کا انتظام کر سکے۔ یہ سہولت دیکر امیر نے بخارا شریف کے شہریوں کو یہ با عزت موقع دیا ہے کہ وہ ہر روز اور ہر گھنٹے اپنے امیر کے لئے جذبہ احسان و شکر کا اظہار کر سکیں۔ اس قسم کی عزت ہمارے پڑوسی ملکوں کے باشندوں کو حاصل نہیں ہے لیکن لوہاروں کی قطار نے اپنی سعادت مندی کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس کے بر عکس آہنگر یوسف نے عقبٰی کے عذابوں اور گنہ گاروں کے لئے بال سے باریک پُل کی پرواہ کئے بغیر ڈھٹائی سے اپنی ناشکری کا اظہار کیا ہے۔ مزید برآں، اس کو یہ جرات ہوئی کہ وہ اپنی شکایت آقا و مولا ، تقدس مآب امیر کے سامنے لائے جن کا نور آفتاب کو بھی ماند کرتا ہے۔‘‘

’’اس لئے ہمارے تقدس مآب امیر نے عنایت فرما کر یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ آہنگر یوسف کو دو سو درے لگائے جائیں۔ اس سے اس کو بلاشبہ توبہ کا خیال آئے گا جس کے بغیر اس پر جنت کے دروازے کھلنا ممکن نہیں ہیں۔ جہاں تک آہنگروں کی قطار کا سوال ہے تقدس مآب امیر نے اپنی مزید عنایت و مہربانی کا اظہار کیا ہے اور بیس اور پہرے دار وہاں رہنے اور کھانے پینے کے لئے بھیج دئے ہیں۔ اس طرح وہ ہر روز اور ہر گھنٹے ہمارے امیر کی دانشمندی اور رحم و کرم کی تعریف کرنے کی خوش نصیبی سے محروم نہ ہوں گے۔ یہ ہے ان کا فیصلہ ، خدا ان کو اپنی رعایا کی فلاح و بہبود کے لئے بہت دنوں تک سلامت رکھے۔‘‘

درباری خوشامدیوں کی تعریف و تحسین کا شور پھر بلند ہوا ۔ اس دوران میں پہرے داروں نے آہنگر یوسف کو پکڑ لیا اور اس کو سزا دینے کی جگہ تک گھسیٹ لے گئے جہاں جلاد اپنے خوفناک دانت نکالے ہوئے بھاری چابکوں کو تول رہے تھے۔

آہنگر ایک چٹائی پر پٹ گر پڑا ۔ درے سرسراتے ہوئے برسنے لگے اور آہنگر کی پیٹھ لہو لہان ہو گئی۔

جلادوں نے اس کو بری طرح پیٹا ، اس کی کھال کی دھجیاں اُڑا دیں اور گوشت ہڈیوں تک کاٹ دیا ۔ لیکن آہنگر کے منہ سے ایک چیخ ایک آہ نہ نکلی ۔ جب وہ کھڑا ہوا تو اس کے منہ سے سیاہ جھاگ نکل رہا تھا ۔ سزا کے دوران اس نے اپنے دانت زمین میں پیوست کر لئے تھے تا کہ کوئی چیخ اس کے منہ سے نہ نکل سکے۔

’’آہنگر بھولنے والا نہیں ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ وہ آخری دم تک امیر کی مہربانی کو یاد رکھے گا۔ رنگ ریز ، تم کیا انتظار کر رہے ہو؟ جاؤ نا ؟ اب تمھاری باری ہے۔‘‘

رنگ ریز نے زمین پر تھوکا اور بلا پیچھے دیکھے مجمع سے چلا گیا۔

وزیر اعظم جلدی جلدی فیصلہ کرتا گیا اور ہر ایک سے اس نے امیر کے خزانے کے لئے حاصلات میں کوئی کمی نہیں کی۔ یہی ایک بات تھی جس نے اس کو تمام عمائدین سے ممتاز بنایا تھا۔

جلاد متواتر مصروف تھے ۔ ان کی طرف سے چیخوں اور رونے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ وزیر اعظم نئے نئے گنہ گاروں کو جلادوں کے پاس بھیجتا جا رہا تھا۔ ایک لمبی قطار اپنے نمبر کا انتظار کر رہی تھی ۔ ان میں بڈھّے مرد اور عورتیں ، حتیٰ کہ ایک دس سالہ لڑکا تھا جس کے خلاف یہ الزام تھا کہ اس نے بدتمیزی کی اور باغیانہ طور پر امیر کے محل کے سامنے پیشاب کیا ۔ وہ کانپ رہا تھا اور رو رہا تھا اور اپنا چہرہ آنسوؤں سے تر کر رہا تھا ۔ اس کو دیکھ کر خواجہ نصر الدین کا دل رحم اور غصے سے بھر آیا ۔

’’ واقعی یہ لڑکا بڑا خطرناک مجرم ہے‘‘ انہوں نے زور سے کہا ۔ ’’امیر کی دور اندیشی کی تعریف نہیں ہو سکتی کہ وہ اس طرح کے دشمنوں سے اپنے تخت کو محفوظ رکھتے ہیں کیونکہ ایسے لوگ زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جو اپنی کمسنی سے ہی برے خیالات کو چھپائے رکھتے ہیں۔ صرف آج ہی میں نے ایک اور مجرم دیکھا ہے جو اس سے بھی برا اور خطر ناک تھا۔ اس دوسرے مجرم کی کرتوت۔ کیا آپ یقین کریں گے ؟ پہلے سے بھی بری تھیں اور پھر ٹھیک محل کی دیوار کے نیچے ! ایسی گستاخی کے لئے کوئی بھی سزا کم ہے ۔ اس کو تو نوکیلے ستون پر بٹھا کر ہلاک کر دینا چاہئے حالانکہ ستون اس کے اندر سے ایسا گزر جاتا جیسے سیخ چوزے کے جسم سے گزر جاتی ہے کیونکہ لڑکا صرف چار سال کا تھا۔ بہر حال جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں ، اس کی عمر کوئی عذر نہیں ہو سکتی ۔ میرے دل کو ان زبردست برائیوں کے خیال سے سخت رنج ہوتا ہے جو ہمارے بخارا میں پھیل گئی ہیں۔ بہر نوع، ہمیں امید ہے کہ امیر کے جلادوں اور پہرے داروں کی مدد سے یہ برائیاں ختم ہو جائیں گی اور ان کی جگہ اچھائیاں لے لیں گی۔‘‘

انہوں نے اس طرح یہ سب کچھ کہا جیسے کوئی ملا وعظ دے رہا ہو۔ ان کا لہجہ اور الفاظ دونوں اچھے تھے لیکن جن کے کان تھے انہوں نے ان الفاظ کو سنا اور سمجھا اور چپکے چپکے اپنی داڑھیوں میں تلخی سے مسکرائے۔

(۱۱)

اچانک خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ مجمع چھٹنے لگا ۔ بہت سے لوگ جلدی جانے لگے اور کچھ تو بھاگ رہے تھے۔

’’ کیا پہرے دار میرا پیچھا کر رہے ہیں ؟‘‘ انہوں نے گھبرا کر سوچا۔

لیکن وہ سود خور کو آتے دیکھ کر اس کا سبب سمجھ گئے ÷ اس کے پیچھے ، پہرے داروں کے محاصرے میں ، ایک نحیف سفید داڑھی والا بڈھا تھا جس کی قبا مٹی سے لتھڑی ہوئی تھی اور ایک برقع پوش عورت یا یہ کہنا زیادہ صحیح ہو گا جوان لڑکی تھی جیسا کہ خواجہ نصر الدین کی تجربہ کار نگاہیں اس کی چال سے بھانپ سکیں۔

’’ اور ذاکر ، جورا ، محمد اور صادق کہاں ہیں ؟‘‘ اپنی چچیاتی ہوئی آواز میں سودخور نے لوگوں کا کانی آنکھ سے جائزہ لیتے ہوئے پوچھا ۔ دوسری آنکھ دھندلی اور غیر متحرک تھی اور اسپر جالا چھایا ہوا تھا۔ ’’وہ ابھی ابھی تو یہاں تھے ۔ میں نے ان کو دور سے دیکھا تھا ۔ ان کے قرض جلد ہی واجب الادا ہیں ۔ ان کے لئے بھاگ کر چھپنا بے سود ہے۔‘‘

اور اب یہ کبڑا لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا ۔

لوگوں نے آپس میں کہنا شروع کیا :

’’ دیکھو ، یہ بڈھا کھوسٹ ، کمہار نیاز اور اس کی بیٹی کو امیر کے سامنے گھسیٹ لایا ہے۔‘‘

’’ اس نے کمہار کو ایک دن کی بھی چھوٹ نہیں دی ۔‘‘

’’ لعنت ہو اس پر، میرا قرض پندرہ دن میں واجب الادا ہے۔‘‘

’’اور میرا ایک ہفتے میں۔‘‘

’’ دیکھو، لوگ اس کے آنے پر کس طرح بھاگتے اور چھُپتے ہیں جیسے وہ کوڑھ یا ہیضے کی بیماری لایا ہو!‘‘

’’ یہ سود خور کوڑھ سے بھی بد تر ہے!‘‘

خواجہ نصر الدین کی روح کو پشیمانی سے تکلیف تھی انہوں نے اپنی قسم کو دہرایا کہ ’’میں اس کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا!‘‘

ارسلان بیک نے سود خور کو یہ اجازت دے دی کہ وہ اپنی باری کے بغیر آ جائے۔ اس کے پیچھے پیچھے کمہار اور اس کی بیٹی تھے ۔ انہوں نے گھٹنوں کے بل جھک کر قالین کے دامن کو بوسہ دیا ۔

’’ سلام علیک، لائق جعفر‘‘ وزیر اعظم نے اخلاق سے کہا ’’ کیس آئے ؟ با عظمت امیر سے اپنا کام بتاؤ۔‘‘

’’ اے با عظمت بادشاہ، میرے آقا!‘‘ جعفر نے امیر کو مخاطب کر کے کہا جس نے نیند کی حالت میں سر ہلایا اور پھر خراٹے بھرے لگا۔ ’’ میں آپ سے انصاف مانگنے آیا ہوں۔ یہ آدمی جس کا نام نیاز ہے اور پیشے کا کمہار ہے میرا سو تانگے کا قرضدار ہے اور اس قرض پر تین سو تانگے کا مزید سود چڑھ گیا ہے۔ آج صبح یہ قرض واجب الادا تھا لیکن کمہار نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ اے دانشور امیر، آفتابِ جہاں، آپ ہی ہمارا فیصلہ کیجئے۔‘‘

احکام نویسوں نے سود خور کی شکایت اپنے رجسٹر میں درج کر لی۔ اب وزیر اعظم نے کمہار سے کہا:

’’ کمہار، با عظمت امیر کی بات کا جواب دو۔ کیا تم یہ قرض مانتے ہو؟ شاید تمھیں ادائیگی کے دن اور گھنٹے پر اعتراض ہے؟‘‘

’’نہیں‘‘ کمہار نے کمزور آواز میں جواب دیا۔ ’’نہیں، دانشور اور منصف وزیر ۔ مجھے کسی بات پر اعتراض نہیں ہے ۔ نہ تو قرض پر اور نہ دن اور گھنٹے پر۔ میں صرف ایک مہینے کی مہلت چاہتا ہوں۔ میں اپنے کو امیر کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔‘‘

’’میرے آقا، مجھے فیصلے کا اعلان کرنے کی اجازت دیجئے جو میں نے آپ کے چہرے سے پڑھ لیا ہے‘‘ بختیار نے کہا ’’ خداوند رحیم و کریم کے نام پر قانون کے مطابق جو بھی اپنا قرض ادا نہیں کرتا وہ اپنے مہاجن کا معہ اپنے خاندان کے غلام ہو جاتا ہے اور اس وقت تک غلام رہتا ہے جب تک وہ ساری مدت کے لئے ، جس میں غلامی کا زمانہ بھی شامل ہے ، سود اور اصل نہیں ادا کر دیتا۔‘‘

کمہار کا سر جھکتا گیا اور وہ اچانک کانپنے لگا۔ مجمع میں بہت سے لوگوں نے اپنی آہیں روک کر منہ پھیر لیا ۔ لڑکی کے شانے کانپ رہے تھے وہ برقع میں رو رہی تھی ۔ خواجہ نصر الدین بار بار یہ بات اپنے آپ دہرا رہے تھے :

’’ میں غریبوں پر اس وحشیانہ مظالم کرنے والے کو ڈبو کر رہوں گا!‘‘

’’ لیکن ہمارے آقا کا رحم و کرم لا انتہا ہے ۔‘‘ بختیار نے اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا ۔

مجمع پر سناٹا چھا گیا۔ بڈھّے کمہار نے اپنا سر اُٹھایا ۔ اس کے چہرے پر امید کی کرن جھلک رہی تھی ۔

’’حالانکہ قرض ابھی واجب الادا ہے لیکن امیر کمہار نیاز کو مہلت دیتے ہیں۔۔ایک گھنٹے کی۔۔ اگر ایک گھنٹہ ختم ہونے پر نیاز مذہبی اصولوں سے لاپرواہی برتتا ہے اور پورا قرض معہ سود کے ادا نہیں کرتا تو قانون کی تکمیل ہو گی جیسا کہ کہا جا چکا ہے۔ جا ! اے کمہار ، امیر کی مہربانی تیرا ساتھ دے!‘‘

بختیار نے فیصلہ ختم نہیں کیا کہ تخت کے پیچھے کھڑے ہوئے خوشامدیوں نے اپنا چرخہ چلایا:

’’صاحب انصاف امیر، آپ کے انصاف کے سامنے تو انصاف خود شرمندہ ہے! اے رحیم اور دانشور امیر ! فیاض امیر، زمین و آسمان کی شان و شوکت ہمارے مقدس امیر!‘‘

اس بار خوشامدیوں نے تعریفوں سع اس طرح آسمان اٹھا لیا کہ امیر کی نیند ٹوٹ گئی اور اس نے غصے سے ڈانٹ کر ان کو چُپ رہنے کے لئے کہا۔ وہ سب ساناٹے میں آ گئے ۔ چوک پر مجمع بھی خاموش تھا ۔ اچانک زوردار ، سمع خراش رینگنے کی آواز نے اس عام خاموشی کو توڑا۔

یہ خواجہ نصر الدین کا گدھا تھا۔ یا تو وہ ایک جگہ کھڑے کھڑے تنگ آ چکا تھا یا پھر اس نے اپنے کسی لمبے کانوں والے بھائی کو دیکھ لیا تھا جس سے وہ صاحب سلامت کرنا چاہتا تھا ۔ بھر حال ہوا یہ کہ وہ رینگنے لگا ، دُم اوپر اٹھا دی ، تھوتھن آگے بڑھا دیا اور زرد زرد دانت نکوس دئے ۔ اس کی آواز کان پھاڑ دینے والی اور قابو سے باہر تھی اور اگر وہ ایک لمحے کے رکتا بھی تھا تو محض سانس لینے کے لئے ، اپنے جبڑے زیادہ کشادہ کرنے اور زیادہ زور سے رینگنے اور چیخنے کے لئے۔

امیر نے اپنے کان بند کر لئے ۔ پہرے دار مجمع کی طرف جھپٹے۔ لیکن خواجہ نصر الدین وہاں سے دور تھے۔ انہوں نے اپنے رینگتے ہوئے گدھے کو کھینچتے اور دھکا دیتے ہوئے زور زور سے اسے ملامت کی۔

’’بد ذات گدھے، تو کس بات پر خوش ہے۔ کیا تو ہمارے امیر کے رحم و کرم کی تعریف اتنا شور مچائے بغیر نہیں کر سکتا؟ شاید تو اس طرح دربار کا سب سے بڑا خوشامدی بننا چاہتا ہے؟‘‘

مجمع میں ان باتوں پر زور سے قہقہہ پڑا اور لوگوں نے خواجہ کو نکلنے کا رستہ دیا اور قبل اس کے کہ پہرے دار ان تک پہنچ سکیں جگہ پھر گھِر گئی۔ اگر چہ وہ خواجہ نصر الدین کو پکڑ پاتے تو اس بدتمیزی سے بدامنی پیدا کرنے کے لئے ان کے دُرے لگاتے اور ان کا گدھا ضبط کر لیتے۔

(۱۲)

’’فیصلہ ہو گیا اور اب تمھارے اوپر میرے اختیار کی کوئی حد نہیں‘‘ سود خور جعفر نے کمہار نیاز اور اس کی بیٹی گل جان سے عدالت چھوڑنے کے بعد کہا ۔ ’’میری حسینہ جب سے تجھے دیکھنے کا اتفاق ہوا میرے دل کا صبر و قرار جاتا رہا۔ مجھے نیند نہیں آتی۔ جلدی سے اپنا چہرہ دکھا۔ آج ٹھیک ایک گھنٹے میں تو میرے گھر میں ہو گی۔ اگر تو مجھ پر مہربان ہوئی تو میں تیرے باپ کو ہلکا کام اور اچھا کھانا دوں گا۔ اگر تو نے ضد کی تو اپنی آنکھوں کی قسم میں اس کو کچے مٹر کھانے کو دوں گا اور اس سے پتھر ڈھلواؤں گا اور خیوا والوں کے ہاتھ فروخت کر دوں گا جو تجھے معلوم ہے اپنے غلاموں پر بڑا ظلم کرتے ہیں، ضد مت کر، پیاری گل جان ، اپنی صورت دکھا دے مجھے!‘‘

اپنی ٹیڑھی عیاش انگلیوں سے اس نے گل جان کی نقاب ذرا کھسکائی ۔ اس نے غصے سے سود خور کا ہتھ جھٹک دیا ۔ گل جان کا چہرہ ایک لمحہ کے لئے کھلا لیکن یہ خواجہ نصر الدین کے لئے کافی تھا جو ادھر سے اپنے گدھے پر گزر رہے تھے ۔ لڑکی کا حُسن ایسا جانگداز تھا کہ خواجہ نصر الدین پر تقریباً غشی طاری ہو گئی۔ ان کی آنکھوں میں دنیا تاریک ہو گئی، دل کی دھڑکن رُک گئی، وہ خود زرد پڑ گئے اور گدھے کی پیٹھ پر لڑکھڑائے۔ انہوں نے پریشان ہو کر اپنی آنکھیں ڈھک لیں۔ ان پر اچانک محبت نے اپنی بجلی گرا دی۔ سنبھلنے میں ذرا وقت لگا۔

’’اور یہ لنگڑا، کبڑا ، کانا لنگور اس حسینہ کی محبت کا دم بھرتا ہے جس کا حُسن دنیا میں بے مثال ہے!‘‘ انہوں نے اپنے آپ کہا ’’ ارے ، ہائے، میں نے اس کو کل پانی سے باہر کیوں نکالا؟ اب تو میں نے اپنے پیروں پر کلہاڑی مار لی۔ لیکن دیکھا جائے گا، بد ذات سود خور! ابھی تو تم کمہار اور اس کی بیٹی کے آقا نہیں ہو۔ ان کو ابھی ایک گھنٹے کی مہلت ہے اور خواجہ نصر الدین ایک گھنٹے میں اس سے زیادہ کر سکتا ہے جتنا کوئی اور ایک سال میں نہیں کر سکتا ہے۔‘‘

اس دوران میں سود خور نے اپنے تھیلے سے ایک چوبی سورج گھڑی نکالی اور وقت دیکھا۔

’’کمہار میرے اس درخت کے نیچے انتظار کر ۔ میں ایک گھنٹے میں لوٹ آؤں گا۔ دیکھ چھُپنے کی کوشش نہ کرنا کیونکہ میں تجھے سمندر کی تہہ سے بھی ڈھونڈ نکالوں گا اور تیرے ساتھ مفرور غلام جیسا برتاؤ کروں گا۔ اور تو حسین گل جان ، میری بات کے بارے میں سوچ، تیرے باپ کی قسمت کا انحصار اس بات پر ہے کہ تو میرے ساتھ کیسا برتاؤ کرتی ہے۔‘‘

اور اپنے بدنما چہرے پر اطمینان بخش مسکراہٹ کے ساتھ وہ جوہریوں کے بازار سے اپنی نئی داشتہ کے لئے زیورات خریدنے روانہ ہو گیا۔

غم سے چُور کمہار اپنی بیٹی کے ساتھ سڑک کے کنارے درخت کے نیچے بیٹھا رہا۔

خواجہ نصر الدین ان کے پاس گئے:

’’کمہار، میں نے فیصلہ سنا تھا۔ تمھارے اوپر بڑی مصیبت آن پڑی ہے لیکن شاید میں تمھاری مدد کر سکوں۔‘‘

’’نہیں ، مہربان‘‘ کمہار نے ناامیدی سے جواب دیا ’’ میں تمھارے پیوند لگے ہوئے کپڑوں سے ہی دیکھ سکتا ہوں کہ تم امیر نہیں ہو اور مجھے چار سو تانگوں کی ضرورت ہے۔ میرے دوست امیر نہیں ہیں ، سب ٹیکسوں اور محصولوں سے تباہ غریب لوگ ہیں ۔‘‘

’’ بخارا میں میرے بھی دوست امیر نہیں ہیں‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ پھر بھی میں یہ رقم جمع کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

’’ بخارا میں میرے بھی دوست امیر نہیں ہیں‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’ پھر بھی میں یہ رقم جمع کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

’’چار سو تانگے ایک گھنٹے میں !‘‘ بڈھّے نے اپنا سفید سر ہلایا اور تلخی سے مسکرایا۔ ’’ اجنبی، تم مجھے چڑھا رہے ہو۔ صرف خواجہ نصر الدین ہی یہ کارنامہ کر سکتے ہیں۔‘‘

’’اجنبی، ہم کو بچائیے، بچائیے!‘‘ گل جان نے اپنے باپ سے لپٹتے ہوئے کہا۔

خواجہ نصر الدین نے گل جان کی طرف دیکھا۔ اس کے ہاتھ بہت خوبصورت تھے ۔ اس نے خواجہ کو نظر بھر کر دیکھا اور نقاب کے اندر ہی اندر خواجہ نصر الدین نے ان آنکھوں کی پگھلی ہوئی چمک کو دیکھ لیا جن میں التجا اور امید تھی۔ خواجہ نصر الدین کی رگوں میں خون آگ کی طرح دوڑ گیا اور ان کی محبت ہزار گنا فروزاں ہو گئی۔ انہوں نے کمہار سے کہا:

’’بڑے میں ، یہیں ٹھہرو، اگر میں سود خور کی واپس سے پہلے چار سو تانگے حاصل نہ کر سکا تو میں اپنے کو دنیا کا انتہائی قابلَ نفرت اور ذلیل آدمی سمجھوں گا۔‘‘

وہ کُود کر اپنے گدھے پر بیٹھے اور بازار کے مجمع میں غائب ہو گئے۔

(۱۳)

اس وقت بازار میں صبح کے مقابلے میں ، جبکہ انتہائی مصروف گھنٹوں میں ہر شخص اس ڈر سے بھگتا دوڑتا، چیختا اور عجلت میں ہوتا ہے کہ کہیں موقع ہاتھ سے جاتا نہ رہے ، سناٹا تھا اور مجمع بھی کم ہو گیا تھا۔ دوپہر ہو چلی تھی اور لوگ گرمی سے بچنے کے لئے چائے خانوں کو جا رہے تھے جہاں وہ اطمینان سے بیٹھ کر اپنے نفع نقصان کا جائزہ لے سکتے تھے۔ گرم دھوپ سے سارا چوک بھرا ہوا تھا، سائے چھوٹے پڑ گئے تھے اور ایسے صاف نظر آ رہے تھے جیسے سخت زمین پر نقش ہوں۔ فقیر سایہ دار کونوں میں دبکے ہوئے تھے اور گوریاں ان کے چاروں طرف اچھل اچھل کے دانے دانے چُگ رہی تھیں اور خوشی خوشی چہچہا رہی تھیں۔

’’ اللہ بھلا کرے، بھلے آدمی ہم کو بھی کچھ دیتے جاؤ‘‘ فقیر اپنے پھوڑے اور جسمانی عیب دکھا کر خواجہ نصر الدین سے بھیک کے لئے گھگھیا رہے تھے۔

انہوں نے جھڑک کر جواب دیا:

“الگ رہو، میں خود بھی تمھاری طرح غریب ہوں اور کوئی ایسی آسامی ڈھونڈ رہا ہوں جو مجھ کو چار سو تانگے دے سکے۔”

فقیروں نے یہ خیال کر کے کہ وہ ان کو چڑھا رہے ہیں خوب گالیں دیں لیکن خواجہ نصر الدین اپنے خیالات میں ایسے منہمک تھے کہ ان کو ان باتوں کے جواب دینے کا موقع کہاں۔

چائے خانوں کی قطار میں انہوں نے ایک ایسا چائے خانہ چنا جو سب سے بڑا تھا اور جہاں مجمع بھی زیادہ تھا لیکن وہاں قیمتی قالین اور ریشمی گدے نہ تھے۔ وہ اس میں داخل ہوئے اور اپنے گدھے کو باہر باندھنے کی بجائے زینوں پر کھینچتے ہوئے لے آئے۔

لوگوں نے ان کا متحیر کن خاموشی سے خیر مقدم کیا۔ اس سے وہ ذرا بھی نہیں گھبرائے۔ انہوں نے اپنی خورجین سے وہ مقدس کتاب نکالی جو دو دن پہلے ان کو بڈھّے نے دی تھی اور اس کو کھول کر گدھے کے سامنے رکھ دیا۔

انہوں نے یہ کام بڑے اطمینان سے ذرا بھی مسکرائے بغیر کیا جیسے یہ بالکل فطری بات ہو۔ چائے خانے میں جو لوگ تھے انہوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔

گدھے نے چوبی فرش پر گونج دار آواز میں اپنے پیر پٹکے۔

“ابھی سے؟” خواجہ نصر الدین نے ورق الٹتے ہوئے کہا “تو نے نمایاں ترقی کی ہے۔”

اب چائے خانے کا توندیل اور زندہ دل مالک اپنی جگہ سے اٹھا اور خواجہ نصر الدین کے پاس آیا۔

“دیکھو، بھلے آدمی، کیا یہ تمھارے گدھے کے لئے مناسب جگہ ہے؟ اور تم نے یہ مقدس کتاب گدھے کے سامنے کیوں کھول رکھی ہے؟”

“میں اس گدھے کو دینیات کی تعلیم دے رہا ہوں” خواجہ نصر الدین نے اطمینان سے جواب دیا “اب یہ مقدس کتاب ختم ہونے والی ہے پھر ہم شریعت کا مطالعہ کریں گے۔”

سارے چائے خانے میں کھسر پھسر ہونے لگی۔ بہت سے لوگ اچھی طرح دیکھنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ چائے خانے کے مالک کی آنکھیں پھیلی اور منہ کھلا رہ گیا۔ اس نے اپنی زندگی میں ایسا عجوبہ نہیں دیکھا تھا۔ اس موقع پر گدھے نے پھر پیر پٹکے۔

“شاباش” خواجہ نصر الدین نے ورق الٹتے ہوئے کہا “بہت اچھے، تھوڑا سا اور پڑھ لے تو تو مدرسہ میر عرب میں صدر معلم دینیات کی جگہ لے سکے گا۔ صرف یہ ورق خود سے نہیں پلٹ سکتا ے اور اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ نے اس کو تیز فہم بنایا ہے اور یادداشت بھی لاجواب ہے لیکن خدا نے اس کو انگلیاں نہیں دیں” خواجہ نصر الدین نے چائے خانے کے مالک سے کہا۔

“یہ کوئی معمولی گدھا نہیں ہے!” انہوں نے بتایا “یہ بذات خود امیر کی ملکیت ہے۔ ایک دن امیر نے مجھے طلب کیا اور پوچھا: کیا تم میرے محبوب گدھے کو دینیات پڑھا سکتے ہو تاکہ وہ اتنا ہی جان جائے جتنا میں جانتا ہوں؟ لوگوں نے مجھے گدھا دکھایا، میں نے اس کی لیاقت کی جانچ کی اور جواب دیا: اے تقدس مآب امیر! یہ لاجواب گدھا عقل و دانش میں آپ کے کسی وزیر سے کم نہیں ہے بلکہ آپ سے بھی۔ میں اس کو دینیات پڑھاؤں گا اور وہ اتنا ہی قابل ہو جائے گا جتنے آپ ہیں بلکہ اس سے بھی کچھ زیادہ لیکن اس میں بیس سال لگیں گے۔ امیر نے حکم دیا کہ خزانے سے مجھے سونے کے پانچ ہزار تانگے دے دئے جائیں اور کہا: گدھے کو لے جاؤ اور اسے پڑھاؤ لیکن میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر بیس سال ختم ہونے پر اسے دینیات کا علم نہ ہوا اور وہ مذہبی کتابیں حفظ نہ کر سکا تو میں تمھارا سر اڑا دوں گا!”

“تو پھر تم اپنے سر کو سلام کر لو!” چائے خانے کے مالک نے کہا “کس نے سنا ہے کہ گدھا دینیات سیکھ سکتا ہے اور مذہبی کتابیں زبانی سنا سکتا ہے!”

“بخارا میں ایسے کافی گدھے ہیں” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا “میں یہ بھی بتا دوں کہ سونے کے پانچ ہزار تانگے اور اچھا گدھا روز روز نہیں ملتے۔ اور رہا میرا سر تو اس کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ بیس سال میں ہم میں سے کوئی نہ کوئی مرے گا ضرور۔ یا تو میں یا امیر یا پھر گدھا۔ اس وقت یہ پرکھنے کا وقت گزر چکا ہو گا کہ ہم تینوں میں سے دینیات کا بڑا عالم کون ہے۔”

چائے خانہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔ چائے خانے کا مالک تو ہنسی سے بے قابو ہو کر نمدوں پر گر پڑا اور اتنا ہنسا کہ اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر ہو گیا۔ وہ بڑا ہنس مکھ اور زندہ دل انسان تھا۔

“یہ سنا آپ نے” اس نے گھٹے ہوئے گلے سے خرخراتے ہوئے کہا “اس وقت یہ پرکھنے کا وقت گزر چکا ہو گا کہ کون دینیات کا بڑا عالم ہے!” یقیناً ہنسی میں اس کا پیٹ پھٹ جاتا اگر اچانک اس کو ایک خیال نہ آگیا ہوتا۔

“ٹھہرئیے، ٹھہرئیے!” اس نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کرنے کے لئے ہاتھ ہلائے “تم کون ہو؟ کہاں سے آئے ہو، دینیات کے استاد؟ کیا تم خود خواجہ نصر الدین ہو سکتے ہو؟”

“کیا یہ کوئی حیرت کی بات ہے؟ تمھارا قیاس صحیح ہے۔ میں خواجہ نصر الدین ہوں۔ بخارا شریف کے شہریو، سلام علیکم!”

ذرا دیر کے لئے ایسی خاموشی چھا گئی جیسے کسی نے جادو کر دیا ہو۔ یکدم ایک پرمسرت آواز نے خاموشی توڑی:

“خواجہ نصر الدین!”

“خواجہ نصر الدین! خواجہ نصر الدین!” یکے بعد دیگرے ہر ایک کی زبان پر آتا گیا۔ یہ آواز دوسرے چائے خانوں تک پہنچی اور پھر سارے بازار میں گونج گئی۔ ہر جگہ یہ آواز پھیل کر گونج رہی تھی:

“خواجہ نصر الدین! خواجہ نصر الدین!”

لوگ ہر طرف سے دوڑ دوڑ کر اس چائے خانے آنے لگے۔ ان میں ازبک، تاجک، ایرانی، ترکمان، عرب، ترک، جارجیائی، آرمینیائی اور تاتار سبھی تھے۔ وہ اپنے محبوب خواجہ نصر الدین کو، مشہور، زندہ دل اور ہوشیار خواجہ نصر الدین کو زور زور سے خوش آمدید کہہ رہے تھے۔

مجمع بڑھتا گیا۔

کہیں سے جئی کا ایک بورا، ایک گٹھا گھاس اور صاف پانی کی بالٹی بھی آ گئی۔ یہ سب چیزیں گدھے کے سامنے پیش کر دی گئیں۔

“خوش آمدید، خواجہ نصر الدین!” مجمع نے کہا “آپ کہاں گھومتے پھرتے رہے، ہمیں کچھ بتائیے خواجہ نصر الدین!”

وہ برآمدے کے کنارے تک آ گئے اور مجمع کے سامنے کافی خم ہو کر بولے:

“بخارا شریف کے شہریو، تم کو سلام! دس سال تک میں تم سے جدا رہا اور اب میرا دل اس ملاپ سے باغ باغ ہے۔ تم نے مجھ سے کچھ بتانے کو کہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ میں اس کو گا کر سناؤں!”

انہوں نے ایک بڑا سا مٹی کا گھڑا لے لیا، اس کا پنی انڈیل دیا اور اس کو اپنے ہاتھ سے بجاتے ہوئے گانا شروع کیا:

باج باج، گھڑے رے باج
اور کر امیر کے گن گان
کہہ سارے سنسار سے کتھا
ہمرے سندر جیون کی، امیر کے راج

گھڑا بھن بھنایا، ٹھن ٹھنایا
اور آ کر تاؤ میں گھڑ گھڑایا
گرما کر گھوما چاروں طرف
اونچے سر میں سب سے فرمایا

ہاں، اونے سر میں فرمایا:
دیکھو! یہ کمہار نیاز ہمارا
برتنوں کا استاد نیارا
لیکن روزی سے بالکل ہارا
پیٹ سے ٹوٹا، پیسے کا مارا

اور جعفر کبڑے کو نیند نہ آئے
ڈر اپنی سونے کی دیگوں کا ستائے
خزانہ امیر کا بھی سونے سے امڈا آئے
اس کی گنتی بھیا کون تمھیں بتائے

اک دن بوڑھے نیاز پہ جو بپتا آئی
برق اندازوں نے کی چپکے سے چڑھائی
اور کچھ نہ سنی اس کی دھائی
پیشی امیر کی عدالت میں کرائی
پیچھے پیچھے جعفر کبڑا دوڑا آیا
منحوس شکل اپنی سرکار میں لایا

ہم ظلم کب تک برداشت کریں گے
کہہ رے گھڑے، سب تو سنیں گے
تیری مٹی کی جیبھ ہے سچی پیارے
اس سے سب نیاز کا دوش سنیں گے

گھڑا اونچے سر میں بولا
سارا ماجرا سچ سچ کھولا
دوش تو ہے کمہار کا سارا
جو اس جال میں آیا
اب تو وہ ہے جال میں مکڑے کے
اور مکڑے نے اس کو اپنا داس بنایا

نیاز نے دی امیر کی دھائی
آنسو بھر کر آنکھ قدموں سے لگائی
پھر بولا “ساری دنیا کو ہے گیا
امیر اپنا مہربان، مہان
اور وہ دے گا مجھ کو امان”

“مت رو بڈھے” بولا امیر والا شان
“میں کرتا ہوں تجھ کو پوار گھنٹہ دان
ساری دنیا کو ہے گیان
میں ہوں مہربان، مہان”

ہم ظلم کب تک برداشت کریں گے
کہہ رے گھڑے، سب تو سنیں گے

گھڑا اونچے سر میں بولا
سارا ماجرا سچ سچ کھولا
سچ مچ وہ ہے دیوانہ
جس نے امیر کو منصف جانا
ایسا نیچ ہے مشکل پانا
سر اس کا کوڑا خانہ

کب تک ہم یہ نراج سہیں گے؟
کب تم ہم مریں کھپیں گے؟
کب لوگ اٹھیں گے؟
کب خوشی سے گلے ملیں گے؟

گھڑا اونچے سر میں بولا
سارا ماجرا سچ سچ کھولا
“ابھی تو امیر ہے بڑا بلوان
لیکن گرے گا منہ کہ بل آن

تب یہ دکھ کے دن بیتیں گے
برس برس میں دن آئے گا
جب وہ مٹی کے گھڑے سمان
ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے گا!”

گھڑے کو سر سے اونچا اٹھا کر خواجہ نصر الدین نے اس کو زمین پر پٹک دیا اور اس کے سیکڑوں ٹکڑے ہو گئے۔ مجمع کے شور شرابے کے اوپر اپنی آواز بلند کرتے ہوئے انہوں نے کہا:

اچھا، ہم سب کو چاہئے کہ ہم سود خور اور امیر کے رحم سے نجات دلانے کے لئے کمہار نیاز کی مدد کریں! تم تو خواجہ نصر الدین کو جانتے ہی ہو! ان کو دیا ہوا قرض کبھی ڈوبتا نہیں! تھوڑے دن کے لئے ان کو چار سو تنگے کون دے گا؟”

ایک سقہ جو ننگے پاؤں تھا سامنے آیا:

“خواجہ نصر الدین! ہمارے پاس پیسہ کہاں؟ ہمیں بہت بھاری ٹیکس ادا کرنے پڑتے ہیں۔ لیکن میرے پاس ایک پٹکہ ہے، تقریباً بالکل نیا، اس سے کچھ ہاتھ لگ سکتا ہے۔”

اور اس نے اپنا پٹکہ خواجہ نصر الدین کے قدموں پر ڈال دیا۔ مجمع میں ہلچل مچ گئی۔ ٹوپیاں، جوتے، پٹکے، رومال، حتیٰ کہ قبائیں تک خواجہ نصر الدین کے قدموں پر برسنے لگیں۔ خواجہ نصر الدین کی مدد ہر ایک اپنی عزت خیال کرتا تھا۔ چائے خانے کا موٹا مالک اپنی دو بہترین چائے دانیاں لے اور تانبے کی ایک کشتی لے آیا۔ اس نے اپنی اس فیاضی کے لئے دوسروں کی طرف فخر سے دیکھا۔ تحفوں کا انبار بڑھتا جا رہا تھا۔

خواجہ نصر الدین نے اپنی پوری طاقت سے چلا کر کہا:

“کافی ہے، کافی، بخارا کے فیاض شہریو! کافی ہے۔ سن رہے ہو نا؟ زین ساز اپنی زین واپس لے لو۔ بس کافی ہے، میں کہتا ہوں کیا تم اپنے خواجہ نصر الدین کو پرانے کپڑوں کا بیوپاری بنا دینا چاہتے ہو؟ اب میں نیلام شروع کرتا ہوں۔ یہ رہا سقے کا پٹکہ، جو اسے خریدے گا اسے پیاس کبھی نہیں ستائے گی۔ آؤ، آؤ، سستا مال ہے۔ یہ رہے کچھ پرانے پیوند لگے جوتے۔ کم از کم یہ دو بار تو ضرور مکہ شریف کا سفر کر چکے ہیں۔ جو ان کو پہنے گا وہ یہی محسوس کرے گا کہ وہ زیارت کے لئے جا رہا ہے۔ یہ رہے چاقو، ٹوپیاں، قبائیں اور جوتے!آؤ، آؤ سستا مال ہے، کوئی طے توڑ کی بات نہیں ہے۔ وقت بہت قیمتی ہے!”

لیکن وزیر اعظم بختیار وفادار رعایا کی برابر فکر رکھتا تھا اور اس نے بڑی محنت سے بخارا میں ایسا انتظام کیا تھا کہ لوگوں کی جیب میں ٹکا بھی نہ رہے اور سب کا سب امیر کے خزانے میں پہنچ جائے۔ خواجہ نصر الدین کی یہ سب تعریف بے سود ثابت ہوئی۔ کوئی خریدار نہیں ملا۔

(۱۴)

ٹھیک اسی وقت اتفاق سے جعفر سود خور کا ادھر سے گزر ہوا۔ اس کی تھیلی سونے چاندی کے زیورات سے بھری ہوئی تھی جو اس نے جوہریوں کے بازار سے گل جان کے لئے خریدا تھا۔

حالانکہ ایک گھنٹے کی مدت ختم ہو چکی تھی اور سود خور اپنی عیاشانہ خواہشات سے چور جلدی جلدی جا رہا تھا لیکن جب اس نے خواجہ نصر الدین کو سستا مال بیچتے سنا تو لالچ غالب آیا۔

سود خور کو دیکھتے ہی سارا مجمع کھسک گیا کیونکہ ہر تیسرا آدمی اس کا ضرور قرضدار تھا۔

جعفر نے خواجہ نصر الدین کو پہچان لیا۔

“اچھا تو یہ تم ہو، جس نے مجھ کو کل پانی سے نکالا تھا؟ تم یہاں کاروبار کرتے ہو؟ اتنا سامان تم کو بیچنے کے لئے کہاں سے مل گیا؟”

“عزت مآب جعفر! آپ کو یاد نہیں ہے کہ کل آپ نے مجھے آدھا تانگہ دیا تھا؟” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا ” اور میں نے اس سے پیسہ بنایا۔ کام اور قسمت نے میرے کاروبار کا ساتھ دیا۔”

“اور تم نے ایک ہی دن میں یہ سارا سامان جمع کر لیا؟” سود خور نے حیرت سے کہا “واقعی میرے پیسے نے تمھیں بڑی برکت دی!اچھا تو سب سامان کے لئے تم کیا مانگتے ہو؟”

“چھ سو تانگے۔”

“پاگل ہو گئے ہو؟ تمھیں اپنے محسن سے اتنی بڑی رقم مانگتے شرم آنی چاہئے! میری بدولت ہی یہ خوش حالی آئی ہے؟ دو سو تانگے۔ یہ ہیں میرے دام۔”

“پانچ سو” خواجہ نصر الدین نے کہا “آپ کا لحاظ کر کے، معزز جعفر، پانچ سو تانگے!”

“ارے ناشکرے! ایک بار پھر یاد دلاتا ہوں۔ کیا یہ خوشحالی میری بدولت نہیں ہے؟”

“اور مہاجن، کیا تمھاری زندگی میری وجہ سے نہیں بچی؟” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا “یہ سچ ہے کہ تم نے مجھ کو آدھا تانگہ اپنی جان بچانے کے لئے دیا تھا لیکن تمھاری زندگی اس سے زیادہ قیمت نہیں رکھتی اس لئے مجھے برا نہیں لگا۔ اگر تمھیں خریدنا ہے تو ٹھیک دام لگاؤ۔”

“تین سو”!

خواجہ نصر الدین کچھ نہیں بولے۔

سود خور رکا۔ اس نے تجربے کار نگاہ سے سامان کو آنکا اور یہ اطمینان کر کے کہ یہ سب قبائیں، جوتے اور ٹوپیاں کم از کم سات سو تانگے کی ہونگی بولی بڑھانے کا فیصلہ کیا

“ساڑہے تین سو۔”

“چار سو۔”

“پونے چار سو۔”

“چار سو۔”

خواجہ نصر الدین اپنی ضد پر اڑ گئے۔ کئی مرتبہ سود خور نے یہ بناوٹ کی کہ وہ جا رہا ہے لیکن پھر لوٹ آیا اور ایک ایک تانگہ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ آخر وہ راضی ہو گیا۔ سودا ہو گیا۔ طوعاً و کرہا سود خور نے رقم گنی۔

“خدا کی قسم، میں مال سے دگنی رقم دے رہا ہوں۔ لیکن میری فطرت ہی یہی ہے کہ مہربانی کر کے نقصان اٹھاؤں۔”

“یہ سکہ جعلی ہے” خواجہ نصر الدین نے بیچ میں لقمہ دیا “اور چار سو تانگے بھی نہیں ہیں۔ صرف تین سو اسی تانگے ہیں۔ نگاہ کمزور ہو گئی ہے، معزز جعفر۔”

سود خور کو مجبوراً بیس تانگے اور دینے پڑے اور جعلی سکہ بھی بدلنا پڑا۔ سودا ہونے کے بعد اس نے ایک قلی چوتھائی تانگے پر لیا، اس پر سارا سامان لادا اور اپنے پیچھے پیچھے آنے کا حکم دیا۔ بیچارہ قلی تو سامان کے بوجھ سے گرا جا رہا تھا۔

“ہم ایک ہی طرف جا رہے ہیں” خواجہ نصر الدین نے کہا۔

خواجہ گل جان کو دیکھنے کے لئے بے تاب تھے اور تیزی سے آگے چل رہے تھے۔ سود خور اپنی لنگڑے پن کی وجہ سے پیچھے رہ گیا۔

“تم کہاں جلدی جلدی جا رہے ہو؟” سود خور نے آستین سے پسینہ پونچھتے ہوئے پوچھا۔

“جہاں تم جا رہے ہو” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا، ان کی سیاہ آنکھوں میں شرارت کی جھلک تھی “معزز جعفر، تم اور میں یاک ہی جگہ اور ایک ہی کام سے جا رہے ہیں۔”

“لیکن تم میرے کام کے بارے میں نہیں جانتے ہو” سود خور نے کہا “اگر تم جانتے ہوتے تو مجھ پر رشک کرتے۔”

اس بات کے اندر جو مطلب پنہاں تھا اس کو خواجہ نصر الدین سمجھ گئے اور انہوں نے زندہ دلی سے ہنس کر جواب دیا:

“لیکن مہاجن، اگر تمھیں میرے کام کا پتہ ہوتا تو تم مجھ پر دس گنا رشک کرتے۔”

جعفر نے گستاخانہ جواب کو محسوس کر کے گھورا اور کہا “تمھاری زبان بہت تیز ہے۔ تمھارے ایسے آدمیوں کو مجھ سے بات کرتے ڈرنا چاہئے۔ بخارا میں چند ہی ایسے لوگ ہیں جن پر میں رشک کر سکتا ہوں۔۔ میں دولت مند ہوں اور میری مرضی کسی طرح سے پابند نہیں ہے۔ میں نے بخارا کی حسین ترین دوشیزہ کی خواہش کی اور آج وہ میری ہو گی۔”

اسی وقت ایک آدمی ٹوکری میں بیریاں بیچتے ہوئے ادھر سے گزرا۔ خواجہ نصر الدین نے ایک لمبے ڈنٹھل کی بیری ٹوکری سے چن کر سود خور کو دکھائی اور بولے :

“معزز جعفر، میری بات سنو، کہتے ہیں کہ ایک دن ایک گیدڑ نے درخت میں اونچے پر ایک بیری دیکھی اور اس نے اپنے آپ سے کہا کہا”میں تو اس کو کھائے بغیر چین نہیں ہوں گا۔” تو اس نے درخت پر چڑھنا شروع کیا اور دو گھنٹے تک چڑھتا رہا اور اس کے شاخوں سے بہت سے کھرونچے بھی آ گئے۔ اور ٹھیک اسی وقت جب وہ بیری کھانے جا رہا تھا اور منہ بھاڑ سا کھول چکا تھا اچانک ایک باز جھپٹا اور بیری لیکر اڑ گیا۔ اس کے بعد گیدڑ کو اترنے میں دو گھنٹے اور لگے اور اس کے بدن پر اور زیادہ خراشیں آ گئیں۔ وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا: “ہائے میں بیری کے لئے کیوں درخت پر چڑھا کیونکہ یہ سبھی جانتے ہیں کہ بیریاں درختوں پر گیدڑوں کے لئے نہیں لگتی ہیں!”

“تم احمق ہو” سود خور نے حقارت سے کہا “تمھارے قصے کا کوئی مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔”

“گہرے معنی فوراً سمجھ میں نہیں آتے” خواجہ نصر الدین جھٹ سے بولے۔

بیری ان کے کان کے پیچھے لٹک رہی تھی اور ڈنٹھل ٹوپی میں دبا ہوا تھا۔

سڑک کی موڑ آئی۔ موڑ کے دوسری طرف کمہار اور اس کی بیٹی پتھروں پر بیٹھے تھے۔

کمہار کھڑا ہو گیا۔ اس کی آنکھیں جن میں امید کی روشنی جھلکی تھی دھملی پڑ گئیں کیونکہ اس نے سوچا کہ اجنبی رقم نہیں حاصل کر سکا۔ گل جان نے ہلکی آہ کے ساتھ پیٹھ موڑ لی۔

“ابا، ہم تباہ ہو گئے!” اس نے ایسی درد بھری آواز میں کہا کہ پتھر بھی اس کو سن کر پگھل جاتا۔ لیکن سود خور کا دل تو پتھر سے بھی سخت تھا۔ صرف ظالمانہ فتح اور عیاشی کا اظہار اس کے چہرے سے ہو رہا تھا۔ وہ بولا:

“کمہار، مدت ختم ہو گئی۔ اب سے تو میرا غلام ہے اور تیری بیٹی بھی میری کنیز اور داشتہ۔”

خواجہ نصر الدین کو چرکا لگانے اور ذلیل کرنے کے لئے اس نے مالکانہ غرور کے ساتھ لڑکی کے چہرے سے نقاب ہٹا دی۔

“دیکھو، کیا یہ حسین نہیں ہے؟ آج میں اس کے ساتھ ہم بستر ہوں گا۔ اب بتاؤ کون کس پر رشک کرے گا؟”

“واقعی حسین ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا “لیکن کیا تمھارے پاس کمہار کا پرونوٹ ہے؟”

“ضرور ہے، پرونوٹ کے بغیر کاروبار کیسے ممکن ہے؟ سب آدمی دھوکے باز اور چور ہوتے ہیں۔ یہ رہا پرونوٹ، اس میں قرض کی رقم اور ادائیگی کی تاریخ حاضر ہے۔ نیچے کمہار کا انگوٹھا نشانی ہے۔”

اس نے پرونوٹ خواجہ نصر الدین کو دکھایا

“پرونوٹ تو ٹھیک ہے” خواجہ نصر الدین نے تصدیق کی “اچھا، اب اس پرونوٹ کے مطابق اپنی رقم لو۔ آپ حضرات ذرا ٹھہر جائیے اور گواہ بن جائیے” انہوں نے کچھ راہگیروں کی طرف مڑتے ہوئے اضافہ کیا۔

انہوں نے رسید کے دو ٹکڑے کر دئے، پھر چار اور پھر اس کے پرزے پرزے چاک کر کے ہوا میں بکھیر دئے۔ اب انہوں نے پٹکہ کھولا اور سود خور کو وہ سب رقم واپس لوٹا دی جو ذرا دیر پہلے اس سے لی تھی۔

ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کمہار اور اس کی بیٹی حیرت اور خوشی سے جم کر پتھر ہو گئے ہیں اور سود خور کا بھی غصے سے یہی حال تھا۔ گواہ ایک دوسرے کو آنکھ مار رہے تھے۔ وہ نفرت انگیز سود خور کی پریشانی پر ہنس رہے تھے اور اس سے لطف اٹھا رہے تھے۔

خواجہ نصر الدین نے کان کے پیچھے سے بیری نکالی اور اپنے منہ میں رکھ لی۔ پھر سود خور کی طرف آنکھ مار کر اپنے ہونٹ چاٹے۔

سود خور کے بھدے جسم میں ہلکی سی کپکپا ہٹ کی لہر دوڑ گئی، اس کے ہاتھ چُنگلوں کی طرح بھیچ گئے، اس کی کانی آنکھ غصے سے ابل پڑی اور اس کے کوبڑ میں لرزش ہوئی۔

کمہار اور گل جان نے التجا کی:

“اجنبی، ہمیں اپن انام تو بتا دو تاکہ ہم تمھارے لئے دعا کر سکیں۔”

“ہاں!” سود خور نے جسکا منہ کف سے بھرا تھا اس بات پر صاد کیا۔ “اپنا نام بتا دو تاکہ میں اس پر لعنت بھیج سکوں!”

خواجہ نصر الدین کا چہرہ چمک اٹھا۔ انہوں نے صاف اور زور کی آواز میں جواب دیا:

“بغداد میں اور طہران میں، استنبول اور بخارا میں۔ ہر جگہ مجھ کو لوگ ایک ہی نام سے جانتے ہیں۔ خواجہ نصر الدین!”

سود خور پیچھے ہٹ گیا۔ وہ زرد پڑ گیا تھا:

“خواجہ نصر الدین!” کے نعروں نے ان کا استقبال کیا۔ گل جان کی آنکھیں نقاب کے اندر چمک رہی تھیں۔ کمہار کے حواس ابھی تک درست نہیں ہوئے تھے اور وہ کچھ بڑبڑا رہا تھا اور ہاتھ ہلا رہا تھا۔

(۱۵)

امیر کی عدالت ابھی جاری تھی۔ جلاد کئی بار بدلے جا چکے تھے۔ جسمانی سزا پانے والے بدقسمت لوگوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ دو مصیبت زدہ ستونوں پر چیخ رہے تھے، تیسرے کا خون آلود سر زمین پر پڑا تھا۔ لیکن لوگوں کی چیخ و پکار اور آہیں اونگھتے ہوئے امیر کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی تھیں ۔ وہ درباری خوشامدیوں کے کورس میں ڈوب جاتی تھیں ، تعریف کرتے کرتے جن کے گلے بیٹھ گئے تھے۔ اپنی تعریفوں میں وہ اس بات کا لحاظ رکھتے تھے کہ وزیر اعظم ، دوسرے وزراء اور ارسلان بیک کو بھی شامل کر لیں۔ حتیٰ کہ وہ مور چھل بردار اور حقہ بردار کو بھی نہیں بھولتے تھے کیونکہ وہ بجا طور پر یہ سمجھتے تھے کہ ہر شخص کو خوش رکھنا ہی سلامتی کی ضمانت ہے ، کچھ کو اس لئے کہ وہ کار آمد ثابت ہو سکتے ہیں اور دوسروں کو اس لئے کہ وہ خطرناک نہ بن سکیں۔

کچھ دیر سے ارسلان بیک ایسی آوازوں کی عجیب بھن بہنا ہٹ بے چینی سے سن رہا تھا جو دور سے آ رہی تھیں۔ اس نے اپنے دو بہت لائق اور تجربے کار جاسوسوں کو بلایا اور کہا ’’جا کر معلوم کرو کہ لوگوں میں اتنا جوش و خروش کیوں ہے۔ جاؤ اور فوراً مجھے خبر دو۔‘‘

جاسوس روانہ ہو گئے۔ ایک فقیر کے بھیس میں تھا اور دوسرا درویش بن گیا۔ لیکن قبل اس کے کہ وہ لوٹیں سود خور بھاگتا ہوا آیا۔ وہ زرد تھا اور اس کے پیر لڑکھڑا رہے تھے ۔ وہ خود اپنی قبا کے دامنوں میں پھنس رہا تھا۔

’’کیا ہوا ، معزز جعفر؟‘‘ ارسلان بیک نے گھبرا کر پوچھا۔

’’مصیبت آ گئی!‘‘ سود خور نے آہ بھرتے ہوئے کہا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے ’’ معزز ارسلان بیک، ہمارے اوپر بڑی بلا نازل ہو گئی ہے۔ خواجہ نصر الدین ہمارے شہر میں ہے ۔ میں نے ابھی ابھی اس کو دیکھا ہے اور اس سے باتیں کی ہیں۔‘‘

ارسلان بیک کی آنکھیں نکل پڑیں۔ چبوترے کے زینے اس کے قدموں تلے چرچرا رہے تھے ۔ وہ دوڑ کر گیا اور اپنے نیند میں ماتے آقا کے کان میں کچھ کہا۔

امیر اس طرح چونک کر سیدھا ہوا جیسے اس کے کسی نے سوئی کچو دی ہو۔

’’جھوٹ کہتے ہو!‘‘ وہ چیخا۔ اس کا چہرہ خوف اور غصے سے بگڑ گیا ’’ یہ جھوٹ ہے ۔ خلیفہ بغداد نے مجھے چند ہی دن ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے اس کا سر قلم کروا دیا ! ترکی کے سلطان نے لکھا ہے کہ انہوں نے اسے ستون پر چڑھوا کر مار دیا! شاہِ ایران نے خود اپنے قلم سے لکھا کہ انہوں نے اس کو پھانسی دلوا دی! خان خیوا نے عام اعلان کیا ہے کہ انہوں نے زندہ اس کی کھال کھنچوا لی! یہ ملعون خواجہ نصر الدین کیسے چار بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ کر نکل سکتا ہے؟‘‘

خواجہ نصر الدین کا نام سنتے ہی وزراء اور عمائدین کے چہرے فق ہو گئے ۔ مور چھل بردار اچھل پڑا اور اس کے ہاتھ سے مور چھل گر گئی ۔ حقے بردار کا گلا دھوئیں سے گھٹ گیا اور وہ کھانسنے لگا اور خوشامدیوں کی زبانیں مارے خوف کے تالو سے چپک گئیں۔

’’وہ یہاں ہے‘‘ ارسلان بیک نے دھرایا۔

’’ تم جھوٹے ہو!‘‘ امیر نے چلا کر شاہی ہاتھ سے اس کے ایک زوردار چانٹا جڑ دیا ’’تم جھوٹ کہتے ہو۔ لیکن اگر وہ واقعی یہاں ہے تو وہ بخارا میں کیسے داخل ہوا اور تمھارے پہرے داروں اور تم سے کیا فائدہ ہے ؟ تو پھر وہی ہے جس نے رات کو بازار میں سارا ہنگامہ برپا کیا! وہ لوگوں کو میرے خلاف اکسانا چاہتا تھا جبکہ تم سو رہے تھے اور کچھ نہیں سن رہے تھے!‘‘

امیر نے ارسلان بیک کے پھر چانٹا مارا۔ ارسلان بیک نے کافی جھک کر امیر کے ہاتھ کو بوسہ دیا اور کہا:

’’میرے آقا ، وہ یہاں ہے۔ آپ سن نہیں رہے ہیں؟‘‘

سور کی گھڑگھڑاہٹ رفتہ رفتہ بڑھ اور پھیل رہی تھی جیسے کوئی زلزلہ آ رہا ہو۔ اور پھر عدالت کے چاروں طرف مجمع نے بھی عام ہیجان میں مبتلا ہو کر ہنگامہ شروع کر دیا۔ پہلے تو آہستہ اور مدھم آواز میں ، پھر زور سے یہاں تک کہ امیر کو محسوس ہونے لگا جیسے سارا چبوترہ اور اس کا مرصع تخت ہل رہا ہے۔ اچانک آوازوں کی بھن بھناہٹ اور گھن گرج سے ایک نام اُبھرا ، جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہر شخص کی زبان پر تھا:

’’خواجہ نصر الدین !‘‘

’’خواجہ نصر الدین !‘‘

پہرے دار دھواں دھار مشعلیں لئے ہوئے توپوں کی طرف دوڑے۔ امیر کا چہرہ جذبات سے بپھرا ہوا تھا۔

’’برخاست کرو!‘‘ وہ چیخا ’’محل واپس چلو!‘‘

اپنے مرصع لباس کے دامن سمیٹتے ہوئے وہ عجلت کے ساتھ محل واپس چلا گیا۔ اس کے پیچھے خالی پالکی لئے ہوئے لڑکھڑاتے اور بھاگتے ہوئے ملازمین تھے۔ آگے نکل جانے کی کوشش میں ایک دوسرے کو ڈھکیلتے ہوئے خوف زدہ وزیر ، جلاد ، طائفے، پہرے دار ، مور چھل اور حقہ بردار سبھی اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے ۔ جن کے جوتے اتر گئے تھے وہ انھیں اٹھانے کے لئے بھی نہیں رک رہے تھے۔

صرف ہاتھی ہی اپنے روایتی وقار کے ساتھ سست رفتاری سے چل رہے تھے کیونکہ امیر کے عملے میں ہونے کے باوجود ان کو آدمیوں سے ڈر نہیں لگتا تھا۔

پیتل سے منڈھے ہوئے محل کے بھاری پھاٹک امیر اور اس کے درباریوں کے داخلے کے بعد جھنکار کے ساتھ بند ہو گئے۔

اس دوران میں سارے بازار میں جو کھچا کھچ بھرا ہوا تھا خواجہ نصر الدین کے نام کی گونج گرج سنائی دے رہی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: