Dastan Kwaja Bukhara By Habib ur Rahman – Episode 2

0
داستان خواجہ بخارا کی از لیونید سولوویف, حبیب الرحمن – قسط نمبر 2

–**–**–

حصہ دوم

’’ یہ عجیب واقعات ہیں، کچھ تو میري موجودگی ہی میں ہوئے اور کچھ مجھ سے
معتبر أشخاص نے بیان کئے۔‘‘
عثمان ابن منقض ’’ کتاب پند و نصيحت‘‘

(۱۶)

بہت ہی قدیم زمانے سے بخارا کے کمہار شہر کے مشرقی پھاٹک کے قریب ، ایک بڑے مٹی کے ٹیلے کے اطراف میں بس گئے تھے اور ان کے لئے اس جگہ سے اور کوئی بہتر جگہ ہو بھی نہیں سکتی تھی کیونکہ چکنی مٹی قریب تھی اور ایک نالی سے جو شہر کی فصیل کے برابر چلی گئی تھی پانی بھی افراط سے مل جاتا تھا۔ کمہاروں کے داداؤں ، پر داداؤں اور نگڑ داداؤں نے اس ٹیلے کو آدھا کر دیا تھا ۔ وہ اپنے گھر مٹی سے بناتے تھے، برتن مٹی سے بناتے تھے اور پھر خود بھی اعزا و اقربا کو ماتم کناں چھوڑ کر اسی مٹی میں آرام کرنے چلے جاتے تھے ۔ اور اس کے برسہا برس بعد متعدد بار ایسا ہوتا رہا کہ کسی کمہار نے کوئی برتن یا صراحی بنائی ، دھوپ میں سکھائی اور آگ میں پکائی اور اس کی صاف اور زور دار کھنکھناہٹ پر متحیر رہ گیا لیکن اسے کبھی یہ شبہ نہیں ہوا کہ کسی بہت زمانے پہلے کے بزرگ نے ، جو اپنی نسلوں کی بہبودی اور اپنے برتنوں کی بکری کی بڑی فکر رکھتا تھا ، اس مٹی کو اپنی خاک کے ایک ذرے سے پاکیزہ بناتا ہے تاکہ اس میں خالص چاندی جیسی کھنک پیدا ہو سکے۔

یہاں ایک زبردست اور پرانے چنار کے درخت کے سائے میں بالک نالی کے کنارے کمہار نیاز کا گھر تھا۔ ہوا میں پتیوں کی سرسرا ہٹ ہوتی تھی ، پانی قلقل کرتا بہتا تھا اور باغیچے میں صبح سے رات تک حسین گل جان کے نغمے گونجتے تھے

خواجہ نصر الدین نے نیاز کے گھر میں رہائش اختیار کرنے سے انکار کر دیا۔

’’ نہیں ، نیاز‘‘ انہوں نے کہا’’ میں تمھارے گھر میں گرفتار ہو سکتا ہوں۔ میں یہاں سے قریب ہی کسی محفوظ جگہ میں رات کو رہوں گا جو میں نے تلاش کر لی ہے۔ دن کو آ کر میں تم کو کام میں مدد کر دوں گا۔‘‘

اور انہوں نے یہی کیا ۔ ہر صبح سورج نکلنے سے پہلے وہ نیاز کے یہاں پہنچ جاتے تھے اور چاک پر بڈھّے کمہار کے ساتھ کام کرنے لگتے تھے۔ دنیا میں کوئی ایسا پیشہ نہ تھا جس سے خواجہ نصر الدین واقف نہ ہوں۔ کمہار کا پیشہ اچھی طرح جانتے تھے اور ان کی بنائی ہوئی صراحیوں میں چکنا پن اور گمک ہوتی تھی ۔ ان میں انتہائی گرمی کے موسم میں بھی پانی برف کی طرح ٹھنڈا رہتا تھا ۔ پہلے بڈھا کمہار جس کی نگاہ چند برسوں سے کمزور پڑنے لگی تھی ، مشکل سے روزانہ پانچ چھ گھڑے بنا پاتا تھا لیکن اب اس کے یہاں تیس چالیس اور کبھی کبھی پچاس گھڑوں اور صراحیوں کی لمبی قطار دھوپ میں سوکھتی نظر آتی۔ بازار کے دن جب بڈھا گھر لوٹتا تو اس کی تھیلی بھری ہوتی اور رات کو پلاؤ کی اشتہا انگیز مہک اس کے گھر سے ساری سڑک پر پھیل جاتی۔ پڑوسی بڈھّے کی خوشحالی پر خوش ہوتے اور کہتے:

’’ آخر کار نیاز کے دن پھرے اور غریبی نے اس کا پنڈ چھوڑا ، خدا کرے یہ ہمیشہ کے لئے ہو !‘‘

’’کہتے ہیں کہ اس نے ایک اور کاریگر ملازم رکھا ہے جو لا جواب کسگر ہے۔‘‘

’’ ہاں میں نے بھی یہ سنا ہے۔ ایک دن میں نیاز کے یہاں گیا تاکہ اس کے کاریگر اٹھا اور چلا گیا اور پھر سامنے نہیں آیا۔‘‘

’’ ہاں بڈھا اپنے کاریگر کو چھپاتا ہے۔ وہ ڈرتا ہو گا کہ ہم کہیں اس کے ماہر کاریگر کو پھسلا نہ لیں۔ عجیب آدمی ہے! جیسے ہم سب کمہار بالکل بے حیا ہیں اور بڈھّے کی قسمت خراب کرنے پر تلے ہیں جو ابھی تو جاگی ہے۔‘‘

اس طرح پڑوسیوں نے معاملے کو آپس میں نبٹ لیا اور کسی کے دماغ میں یہ بات نہ آئی کہ بڈھّے نیاز کا کاریگر خود خواجہ نصر الدین تھے ۔ سب کو قطعی یقین تھا خواجہ نصر الدین بہت دن ہوئے بخارا چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ انہوں نے خود یہ افواہ پھیلائی تھی کہ جاسوس دھوکے میں آ جائیں اور تلاش و جستجو میں ڈھیل ڈال دیں ۔ اور ان کا مقصد حاصل ہو گیا تھا۔ اس کا ثبوت اس بات سے ملا کہ دس دن کے بعد شہر کے تمام پھاٹکوں سے مزید چوکیاں ہٹا لی گئیں اور رات کو گشت کرنے والے پہرے دار اب بخارا کے باشندوں کو مشعلوں کی روشنی اور ہتھیاروں کی جھنکار سے پریشان نہیں کرتے تھے۔

ایک دن بڈھا نیاز خواجہ نصر الدین کی طرف ٹکٹکی لگائے دیکھتا اور کراہتا رہا اور پھر بولا:

’’ خواجہ نصر الدین تم نے مجھے غلامی سے اور میری بیٹی کو بے عزتی سے بچایا، تم میرے ساتھ کام کرتے ہو اور مجھ سے دس گنا۔ یہ رہے ساڑہے تین سو تانگے خالص منافع کے ۔ یہ مجھ کو ان برتنوں کی بِکری سے ملے ہیں جب سے تم نے میری مدد کرنی شروع کی۔ یہ رقم لے لو۔ یہ تو تمھارا حق ہے۔‘‘

خواجہ نصر الدین اپنا چاک روک کر بڈھّے کی طرف حیرت سے دیکھنے لگے۔

’’نیاز میاں، تمھارا دماغ کچھ چل گیا ہے جو ایسی عجیب باتیں کرتے ہو۔ تم مالک ہو اور میں تمھارا کاریگر۔ اگر تم مجھے منافع کا دسواں حصہ یعنی 35 تانگے دے دو تو میرے لئے بہت کافی ہوں گے۔‘‘

نیاز کی پرانی تھیلی لے کر انہوں نے 35 تانگے گنے اور ان کو اپنی جیب میں رکھا اور باقی بڈھّے کو واپس کرنے لگا ۔ لیکن نیاز نے رقم لینے سے قطعی انکار کر دیا۔

’’یہ ٹھیک نہیں ہے ، خواجہ نصر الدین، یہ رقم تمھاری ہے ۔ اگر ساری نہیں لیتے تو آدھی تو لے لو۔‘‘

خواجہ نصر الدین کو غصہ آگیا۔

’’نیاز ، اپنی تھیلی ہٹاؤ، دنیا میں جو ریت چلی آتی ہے اس کو نہ بگاڑو ‘‘

’’اگر سب مالک اپنے کاریگروں سے آدھے کا ساجھا کرنے لگے تو کیا ہو گا؟ اس دینا میں نہ تو مالک رہیں گے اور نہ نوکر ، نہ امیر رہیں گے ، نہ غریب، نہ پہرے دار رہیں گے اور نہ امیر رہے گا۔ ذرا سوچو تو قدرت اس گڑبڑ کو کیسے برداشت کر سکتی ہے؟ ہم پر فوراً ایک اور طوفان نوح نازل ہو جائے گا! لو، اپنی تھیلی اچھی طرح چھپا دو نہیں تو تمھارے پاگل پن کے خیالات انسانیت پر خدا کا قہر نازل کر دیں گے اور ساری بنی نوعِ انسان تباہ ہو کر رہ جائے گی۔‘‘

یہ کہہ کر خواجہ نصر الدین نے پھر اپنا چاک چالو کر دیا۔

’’ یہ بہترین گھڑا ہو گا‘‘ انہوں نے ہاتھوں سے نم مٹی کو تھپ تھپاتے ہوئے کہا ’’یہ ہمارے امیر کے سر کی طرح بجتا ہے۔ میں یہ گھڑا لیکر محل جاؤں گا۔ ان کو اسے رکھنا چاہئے، ممکن ہے کہ امیر کا سر غائب ہو جائے۔‘‘

’’ دیکھو، خواجہ نصر الدین ، کہیں تمھارا سر ایسی باتوں کی وجہ سے کسی دن نہ غائب ہو جائے۔‘‘

’’ارے، تمھارے خیال میں خواجہ نصر الدین کا سر غائب کرنا ایسا آسان ہے؟‘‘

ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

تیشے کو تیز کر کے کہتا ہے مجھے امیر
لٹیرا، فتنہ عالم، زمانے کا شریر

ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

میں زندہ رہ کر گاؤں گا
روشن دنیا میں موج اڑاؤں گا

دنیا بھر میں نعرہ یہ لگاؤں گا
“مردہ باد امیر، مردہ باد!”

ہاں سلطان بھی کہتا ہے میرا سر کٹوانے کو
اور شاہ نے فرمایا مجھ کو پھانسی پر لٹکانے کو

خیوا میں ہے تیار چتا میرے جلانے کو

ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

غربت کا مارا، آوارہ ہوں ضرور
پر فکر پھٹکتی نہیں نزدیک و دور

جگت کی آنکھ کا تارا
قسمت کا راج دلارا

ہوں گے سلطان و خان و امیر
سب کو جوتی کی نوک پہ مارا

ہوں میں خواجہ نصر الدین، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

نیاز کی پیٹھ کے پیچھے گل جان کے ہنستے ہوئے چہرے کی جھلک انگور کی بیلوں میں دکھائی دی۔ خواجہ نصر الدین کا گیت بیچ میں رک گیا اور گل جان سے رمز و کنائے ہونے لگے۔

“تم کیا دیکھ رہے ہو؟” نیاز نے پوچھا “ادھر کیا دیکھ رہے ہو؟”

“میں جنت کی چڑیا دیکھ رہا ہوں، دنیا کی حسین ترین چڑیا!”

بڈھا کراھتے ہوئے پچھے مڑا لیکن گل جان ہری بھری بیلوں کے درمیان غائب ہو چکی تھی اور صرف دور سے نقرئی ہنسی کی جھنکار سنائی دے رہی تھی۔ بڑی دیر تک بڈھا تیز دھوپ کی روشنی سے بچنے کے لئے اپنی کمزور آنکھوں پر ہاتھ کا سایہ کر کے ہر طرف گھورتا رہا لیکن اسے صرف ایک گوریا دکھائی دی جو ایک شاخ سے دوسری شاخ پر پھدک رہی تھی۔

“ہوش کی دوا کرو، خواجہ نصر الدین، کیسی جنت کی چڑیا، یہ تو گوریا ہے!”

خواجہ نصر الدین نے دل کھول کر کر ٹھٹھا لگایا۔ بےچارہ نیاز اس خوشی کی وجہ نہ سمجھکر سر ہلاتا رہا۔

رات کو کھانے کے بعد جب خواجہ نصر الدین چلے گئے تو نیاز چھت پر ہلکی ٹھنڈی ہوا میں لیٹ گیا۔ جلد ہی خراٹے لینے لگا۔ اب نیچی باڑ کے پیچھے سے کھنکھارنے کی آواز آئی۔ خواجہ نصر الدین لوٹ آئے تھے۔

“سو گئے ہیں” گل جان نے چپکے سے کہا۔

ایک چھلانگ میں وہ باڑ کے اس پار تھے۔

وہ تالاب کے کنارے حور کے درختوں کے سائے میں بیٹھ گئے۔ ان کو لگا جیسے درخت اپنے لمبے سبز لباسوں میں لیتے ہلکے ہلکے سے اونگھ رہے ہیں۔ صاف آسمان پر چاند چمک رہا تھا اور چاندنی نے ہر چیز کو پراسرار نیلگوں بنا دیا تھا۔ بہتا ہوا پانی گنگنا رہا تھا اور روشنی کی کرنوں سے کہیں کہیں چمک اٹھتا تھا اور پھر سائے میں غائب ہو جاتا تھا۔

گل جان بھرپور چاندنی میں خواجہ نصر الدین کے ساتھ کھڑی تھی۔ وہ خود ماہ کامل کی طرح نورانی تھی۔ نازک اور لچکیلی، اپنی زلفوں کے پیچ و خم میں لپٹی ہوئی۔ خواجہ نے چپکے سے کہا:

“میں تجھے پیار کرتا ہوں، میری ملکہ، صرف تجھ سے پہلی مرتبہ میں نے پیار کیا ہے، میں تیرا غلام ہوں، تیرے آنکھ کے اشارے پر چلنے کے لئے تیار ہوں۔میں ساری زندگی تیرا انتظار کرتا رہا ہوں اور اب میں نے تجھے ڈھونڈ نکالا ہے۔ میں تجھے کبھی دل سے نہیں نکلا سکتا۔ میری زندگی تیرے بغیر ممکن نہیں ہے!”

“مجھے یقین ہے کہ تم یہ بات پہلی بار نہیں کہہ رہے ہو” گل جان نے حسد آمیز لہجے میں کہا۔

“میں؟” خواجہ نے ناراضگی سے کہا ” ارے گل جان! تو نے یہ بات کیسے کہی؟”

خواجہ کی باتوں میں اتنا خلوص تھا کہ گل جان نے ان پر اعتبار کر لیا۔ وہ نرم پڑ گئی اور خواجہ کے پاس مٹی کے چبوترے پر بیٹھ گئی۔ انہوں نے اس کا ایسا طویل بوسہ لیا کہ وہ ہانپ گئی۔

“سنو” گل جان نے ذرا رک کر کہا “ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جس لڑکی کو چومتے ہیں اسے کوئی تحفہ دیتے ہیں اور تم ہو کہ مجھے ایک ہفتے سے زیادہ سے چوم چاٹ رہے ہو لیکن ایک تاگہ تک نہیں دیا۔”

“صرف اس وجہ سے کہ میرے پاس پیسے نہیں تھے” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا “لیکن آج تمھارے باپ نے مجھے تنخواہ دی ہے اور کل میں تمھارے لئے ایک اچھا سا تحفہ لاؤں گا۔ تمھیں کیا پسند ہے۔ ہار یا رومال یا پھر یاقوت کی انگوٹھی؟”

“اس کی کوئی بات نہیں” گل جان نے چپکے سے کہا “اس کی کوئی بات نہیں ہے، پیارے، مجھے تو تمھارے تحفے سے مطلب ہے۔ مجھے تو تم سے اسی دن محبت ہو گئی تھی جب تم بازار میں ہمارے پاس آئے تھے اور جب تم نے اس پاجی سود خور کو بھگا دیا تھا تو یہ محبت اور بھی زیادہ ہو گئی۔”

نالی میں نیلگوں پانی گنگناتا رہا اور صاف آسمان پر روشن ستارے جھلملاتے رہے۔ خواجہ نصر الدین لڑکی سے اور ٹھس کر بیٹھ گئے اور اپنی ہتھیلی اس کے گرم سینے پر رکھ دی۔ ان کے اوپر ایک مدہوشی کا عالم طاری ہو گیا کہ اچانک ان کو ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ان کی آنکھوں سے چنگاریاں چھوٹ رہی ہیں۔ ان کا گال ایک زور کے تھپڑ سے جل اٹھا۔ انہوں نے پیچھے کھسک کر اپنے کو ہاتھ آڑا کر کے بچایا۔ گل جان غصے سے اٹھ کر کھڑی ہوئی۔

“میرے خیال میں میں نے ایک تھپڑ کی آواز سنی ہے” خواجہ نصر الدین نے سہم کر کہا۔ “اگر زبان سے کہنے سے کام چل جائے تو بھلا مار پیٹ کی کیا ضرورت ہے؟”

“زبان سے!” گل جان نے بات کاٹتے ہوئے کہا “یہی بڑی بری بات ہے کہ میں نے شرم و حیا کو طاق پر رکھ کر تمھارے سامنے نقاب اتار دی۔ پھر تمھارے لمبے ہاتھ وہاں تک پھیلنے لگے جہاں تک نہ چاہئے۔”

“اور مہربانی کر کے یہ تو بتاؤ کہ یہ فیصلہ کس نے کیا ہے کہ کہاں تک ہاتھوں کو پھیلانا چاہئے اور کہاں تک نہیں؟” خواجہ نصر الدین نے حاضر جوابی سے کہا لیکن وہ کافی گھبرائے ہوئے تھے “اگر تم نے دانش مند ابن طفیل کی کتابیں پڑھی ہوتیں۔۔۔”

“شکر ہے خدا کا” گل جان نے غصے میں بیچ میں بولتے ہوئے کہا “شکر ہے خدا کہ میں نے ایسی آوارگی کی کتابیں نہیں پڑھیں ہیں۔ میں اپنی عصمت کی حفاظت اسی طرح کرتی ہوں جیسی ایک اچھی لڑکی کو کرنی چاہئے۔”

وہ اس کی طرف سے مڑ کر چلی گئی۔ زینے اس کے ہلکے قدموں تلے چرچرائے اور جلد ہی بالکونی کی جھلملیوں سے روشنی چمکنے لگی۔

“میں نے اس کے جذبات کو ٹھیس لگا دی” خواجہ نصر الدین نے سوچا “میں کیسا احمق ہوں۔ خیر کوئی بات نہیں۔ مجھے یہ تو پتہ چل گیا کہ وہ کیسے مزاج کی ہے۔ اگر وہ میرے گال پر چانٹا رسید کر سکتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ دوسرے کے بھی تھپڑ مارسکتی ہے اور وہ وفادار بیوی ہو گی۔ ہاں، اگر شادی کے بعد وہ دوسرے مردوں کے ساتھ اپنے تھپڑوں سے ایسے ہی فیاضی برتے تو میں شادی سے پہلے اس کے سیکڑوں چانٹے سہنے کو تیار ہوں۔”

وہ پنجوں کے بل بالکونی تک گئے اور دھیمے سے پکارا:

“گل جان!”

کوئی جواب نہیں ملا۔

“گل جان!”

مہک، تاریکی اور خاموشی۔ خواجہ نصر الدین افسردہ ہو گئے۔ انہوں نے ایسی مدھم آواز میں گانا شروع کر دیا کہ بڑے میاں کی نیند نہ کھلے:

چرا لے گئیں دل تیری حسین پلکیں
گراتی ہو اپنی نظروں سے
اور چراتی ہو اپنی پلکوں سے
اور ستم پر ستم تو دیکھو
ہمیں سے معاوضے کی طالب
اچھا، کچھ پیار ہو جائے
آؤ، بوس و کنار ہو جائے
لیکن ان کا تلخ شربت
بھڑکاتا ہے شعلہ الفت
در و بام بند کئے مجھ پر
زندگی حرام کی مجھ پر
اب نیند کہاں سے لاؤں
بتاؤ، چین کہاں سے پاؤں
تیری اک نگاہ کی آرزو
تیر بے پناہ کی آرزو
تیری زلف مشک بو کا شیدائی
تیری گیسوئے عنبریں کا سودائی

اس طرح وہ گاتے رہے اور حالانکہ نہ تو گل جان آئی اور نہ اس نے کوئی جواب دیا لیکن خواجہ جانتے تھے کہ وہ توجہ سے سن رہی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایسے گیت سے ہر عورت ضرور متاثر ہو گی اور ان کا خیال ٹھیک ہی تھا۔ کواڑ کا پٹ تھوڑا سا کھلا۔

“آ جاؤ” گل جان نے چپکے سے کہا “ذرا چپکے سے آنا، کہیں ابا کی آنکھ نہ کھل جائے۔”

وہ زینوں پر چڑھ گئے اور اب اس کے پاس بیٹھے تھے۔ چربی سے بھرے ہوئے چراغ کی لو صبح تک لہراتی اور جلتی رہی۔ وہ باتیں کرتے رہے لیکن ان کا دل نہیں بھرا۔ مختصر یہ کہ سب کچھ وہی ہوا جیسا کہ ہونا چاہئے اور جیسا کہ ابو محمد علی ابن حزم نے اپنی کتاب “قمری کے ہار” کے محبت کی فطرت والے باب میں بیان کیا ہے۔

“محبت، اللہ اس کو سلامت رکھے، ایک کھیل کی طرح شروع ہوتی ہے لیکن بہت سنگین معاملے پر ختم ہوتی ہے۔ وہ اتنی اعلیٰ خوبیوں کی حامل ہے کہ ان کا بیان امکان سے باہر ہے اور اس کے اصل جوہر کو سمجہنا مشکل ہے۔ جہاں تک اس کا سوا ہے کہ محبت زیادہ تر حسن ظاہر کی وجہ سے کیوں ہوتی ہے تو اس کا سمجہنا مشکل نہیں ہے کیونکہ روح خود حسین ہے اور بے عیب شکل و صورت کی طرف کھینچتی ہے۔ ایسی شکل کو دیکھ کر روح اس کا جائزہ لیتی ہے اور اگر سطح سے نیچے بھی کوئی ایسی چیز نظر آتی ہے جو اس سے یگانگت رکھتی ہے تو سنجوگ ہو جاتا ہے اور پھر سچی محبت جنم لیتی ہے۔ واقعی، ظاہری شکل و صورت حیرت انگیز طریقے سے روح کے دور افتادہ ذرات کو بھی متحد کر دیتی ہے!”

(۱۷)

چھت پر بڈھّے نے کروٹ لی۔ وہ چھینکا اور کھانسا اور نیند ہی میں گل جان سے پینے کے لئے ٹھنڈا پانی لانے کو کہا۔ گل جان نے خواجہ کو دروازے کی طرف ڈھکیلا اور وہ زینوں پر اس طرح بھاگے کہ ان کے پیر مشکل سے قدمچوں کو چھو رہے تھے۔ پھر وہ کود کر باڑ کے پار ہو گئے اور تھوڑی دیر بعد، وہ قریب کی نہری نالی سے منہ دھو کر اور اپنی قبا کے دامن سے چہرہ پونچھ کر پھر لکڑی کے پھاٹک کو کھٹکھٹا رہے تھے۔

“صبح بخیر، خواجہ نصر الدین” بڈھّے نے چھت ہی پر سے ان کو خوش آمدید کہا “پچھلے چند دنوں سے تم کتنے سویرے اٹھنے لگے ہو۔ تم سوتے کب ہو۔ اچھا، کام شروع کرنے سے پہلے ہم چائے پی لیں۔”

دوپہر کو خواجہ بڈھّے کو چھوڑ کر گل جان کے لئے دوپہر لئے تحفہ خریدنے بازار گئے۔ انہوں نے حسب معمول یہ احتیاط کی کہ بدخشاں کا رنگین عمامہ باندھا اور مصنوعی داڑھی لگا لی۔ اس بھیس میں وہ پہچانے نہیں جا سکتے تھے اور جاسوسون سے نڈر ہو کر وہ دوکانوں اور چائے خانوں میں جا سکتے تھے۔

انہوں نے مونگے کا ایک ہار منتخب کیا جس کے رنگ نے ان کو اپنی محبوبہ کے ہونٹوں کی یاد دلا دی۔ جوہری معقول آدمی ثابت ہوا اور صرف ایک گھنٹہ خوب طے توڑ کر کے خواجہ نے تیس تانگے کا ہار خریدا۔

واپسی میں خواجہ نصر الدین نے بازار کی مسجد کے قریب بڑی بھیڑ دیکھی۔ لوگ گھس گھس کر ایک دوسرے کے کندھوں کے اوپر سے اپنی گردنیں نکال کر دیکھ رہے تھے۔ جب وہ قریب پہنچ گئے تو انہوں نے ایک درشت اور تیز آواز سنی:

“مومنو، خود دیکھ لو! اس پر فالج گرا ہے او ریہ دس سال سے بے حس و حرکت پڑا ہے۔ اس کے تمام عضو مفلوج اور ٹھنڈے پڑ چکے ہیں۔ دیکھو، یہ اپنی آنکھیں تک نہیں کھولتا۔ یہ بہت دور سے ہمارے شہر آیا ہے۔ خدا ترس رشتے دار اور دوست اسے یہاں صرف اس علاج کے لئے لے آئے ہیں جس کے سوا اور کچھ ممکن نہیں ہے۔ ایک ہفتے میں مقدس ترین اور بے مثال بزرگ حضرت بہاالدین کے عرس کے دن اس کو مزار کے زینوں پر لٹا دیا جائے گا۔ اس طرح اندھے، لنگڑے اور صاحب فراش مریض متعدد بار شفا پا چکے ہیں۔ اس لئے اے مومنو آئیے ہم دعا کریں کہ مقدس شیخ اس پر رحم کھائیں اور اس بدقسمت انسان کو شفا عطا فرمائیں۔”

مجمع نے دعا پڑھی اور پھر اس تیز آواز نے شروع کیا:

“مومنو، خود دیکھ لو! اس پر فالج گرا ہے او ریہ دس سال سے بے حس و حرکت پڑا ہے!”

خواجہ نصر الدین نے دھکم پیل کر کے مجمع میں اپنے لئے راستہ بنایا اور پنجوں پر کھڑے ہو کر ایک لمبا، سوکھا سا ملا دیکھا جس کی آنکھوں میں کمیں گی جھلک رہی تھی۔ اس کی داڑھی چھدری تھی۔ وہ چلا چلا کر بیماروں کی ایک ڈولی کی طرف انگلی سے اشارہ کر رہا تھا جس پر مفلوج آدمی پڑا تھا۔

“دیکھو، اے مسلمانو! دیکھو، یہ کیسا قابل رحم اور بدقسمت آدمی ہے! لیکن ایک ہفتے میں مقدس بہاالدین اس کو شفا بخشیں گے اور اس کو دوبارہ زندگی عطا فرمائیں گے!”

مفلوج آدمی پڑا تھا، اس کی آنکھیں بند تھیں اور ایک افسردہ اور قابل رحم تاثر اس کے چہرے پر تھا۔ خواجہ نے حیرت سے آہ ب ہری۔ وہ ہزاروں آدمیوں میں بھی یہ چیچک بھرا چہرہ اور چپٹی ناک پہنچا سکتے تھے۔ بظاہر یہ آدمی کافی دن سے مفلوج تھا کیونکہ سستی اور بے کاری سے وہ زیادہ موٹا ہو گیا تھا۔

اس دن سے جب بھی خواجہ نصر الدین اس مسجد کی طرف سے گزرتے وہ ہمیشہ ملا اور مفلوج کو وہاں ضرور پاتے جس کا چیچک دار چہرہ روز بروز زیادہ موٹا اور چکنا ہوتا جا رہا تھا۔

آخر کار مقدس شیخ کے عرس کا دن آیا۔ یہ پرانی روایت چلی آتی ہے کہ ان کی وفات مئی کے مہینے میں ٹھیک دوپہر کو ہوئی تھی اور حالانکہ دن بہت صاف تھا اور آسمان پر بادل کا کوئی ٹکڑا تک نہ تھا لیکن ان کی موت کے وقت سورج سیاہ پڑ گیا اور زمین کانپنے لگی اور بہت سے گنہ گاروں کے مکانات مسمار ہو گئے جن میں یہ گنہ گار بھی دفن ہو گئے تھے۔ یہ تھی وہ کہانی جو ملا لوگ مسجدوں میں کہتے تھے اور مسلمانوں سے اپیل کرتے تھے کہ وہ شیخ کے مزار پر ضرور آئین اور ان کو خراج عقیدت پیش کریں تاکہ ان کا شمار منکروں میں نہ ہو اور ان کا حشر بھی ان گنہ گاروں جیسا نہ ہو۔

رات رہے سے ہی زائرین روانہ ہونا شروع ہو گئے اور سورج نکلتے نکلتے مقبرے کے چاروں طرف بڑے میدان میں زبردست مجمع ہو گیا اور بہت سے لوگ ابھی چلے آ رہے تھے۔ پرانے رواج کے مطابق سب ننگے پیر تھے۔ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو دور دراز سے آئے تھے۔ خصوصاً متقی اور پرہیز گار اور ایسے لوگ جنہوں نے سنگین گناہ کئے تھے اور بخشائش کے امیدوار تھے۔ شوہر اپنی بانجھ بیویوں کو لائے تھے، مائیں بیمار بچوں کو لئے تھیں، بڈھّے بیساکھیوں کے سہارے چل کر آئے تھے۔ تھوڑے فاصلے پر کوڑھیوں کا مجمع تھا جو آس لگائے مقبرے کے سفید گنبد کی طرف دیکھ رہے تھے۔

عبادت کافی دیر تک شروع نہیں ہوئی کیونکہ امیر کا انتظار تھا۔ مجمع تپتی ہوئی دوپہر میں ٹھسا ٹھس کھڑا تھا۔ کوئی بیٹھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ان کی آنکھوں میں حریص اور گرسنہ شعلے تھے۔ دنیاوی مسرتوں پر ان کا عقیدہ اٹھ چکا تھا، آج وہ کسی معجزے کی توقع کرتے تھے اور ہر زور کی آواز پر چونک پڑتے تھے۔ شدید اشتیاق ناقابل برداشت ہو گیا تھا اور دو درویش تشنج میں مبتلا ہو کر دانتوں سے مٹی کھرچ رہے تھے، ان کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھا۔ مجمع میں ہلچل تھی، ہر طرف عورتیں چیخ اور رو رہی تھیں۔ اچانک ہزاروں گلوں سے ایک غلغلہ بلند ہوا:

“امیر! امیر!”

مجمع کے درمیان راستہ بنانے کے لئے شاہی پہرے داروں نے ڈنڈوں سے کام لیا اور اس چوڑے راستے پر امیر ننگے پیر، سر جھکائے، استغراق کی حالت میں دنیا کے ہنگامے سے بے خبر اور بے نیاز زیارت کے لئے چلا جا رہا تھا۔ خدام تیزی کے ساتھ ادھر ادھر دوڑ کر اس کے پیچھے قالین لپیٹتے جاتے تھے اور پھر ان کو تیزی سے آگے لے جا کر بچھاتے تھے۔

اس نظارے کو دیکھ کر بہت سے لوگوں پر رقت طاری ہو رہی تھی اور ان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ امیر اس مٹی کے چبوترے پر چڑھا جو مزار کے دامن میں تھا۔ جانماز اس کے سامنے بچھا دی گئی اور اپنے وزیروں کی مدد سے جو دونوں پہلوؤں سے اس کو سنبھالے تھے امیر اس پر گھٹنوں کے بل جھک گیا۔ سفید عباؤں میں ملبوس ملاؤں نے ایک نیم حلقہ سا بنا لیا اور اپنے ہاتھ گرمی سے سنولائے ہوئے آسمان کی طرف اٹھا کر دعا پڑہنا شروع کر دی۔

یہ عبادت ختم ہی نہیں ہو رہی تھی۔ بیچ بیچ میں وعظ ہوتے۔ خواجہ نصر الدین مجمع سے چپکے سے کھسک گئے اور اس الگ تھلگ چھوٹے سے گھر کی طرف چلے جہاں اندھے، لنگڑے اور صاحب فراش مریض تھے جن سے آج کے دن شفا کا وعدہ کیا گیا تھا۔ وہ اپنی باری کے منتظر تھے۔

اس مکان کے دروازے پٹوپٹ کھلے تھے۔ متجسس لوگ اندر جھانک کر دیکھتے اور آپس میں تبادلہ خیال کرتے۔ جو ملا یہاں ڈیوٹی پر تھے وہ چڑھاوے کے لئے بڑے بڑے تانبے کے طبق لئے کھڑے تھے۔ بڑا ملا کہہ رہا تھا:

“۔۔۔اور اس وقت سے تقدس مآب شیخ بہاالدین مقدس بخارا اور اس کے آفتاب زماں امیروں پر سدا کے لئے مستقل طور پر مہربان ہیں۔ اور ہر سال اس دن مقدس بہاالدین ہم کو، خدا کے حقیر بندوں کو معجزے دکھانے کی طاقت عطا فرماتے ہیں۔ یہ تمام اندھے، لنگڑے، آسیب زدہ اور معذور لوگ شفا پانے کے منتظر ہیں اور ہمیں امید ہے کہ ہم مقدس بہاالدین کی عنایت سے ان کو مصیبتوں سے نجات دلا سکیں گے۔”

ایسا معلوم ہوتا تھاجیسے ان باتوں کے جواب میں مکان سے رونے، چیخنے اور دانت کٹکٹانے کی آواز آ رہی ہے۔ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے ملا نے بیان جاری رکھا:

“اے مومنو، دل کھول کر مسجدوں کی آرائش کے لئے دو، آپ کی خیرات خدا کے یہاں مقبول ہو گی۔”

خواجہ نصر الدین نے مکان کے اندر جھانک کر دیکھا۔ دروازے کے قریب چیچک رو موٹا نوکر ڈولی پر لیٹا ہوا تھا۔ دھندلکے میں اس کے پیچھے بہت سے لوگ بیساکھیوں کے سہارے کھڑے، پٹیوں میں لپٹے یا ڈولیوں پر پڑے تھے۔ اچانک مقبرے کی طرف سے بڑے ملا کی آواز گونجی جس نے ابھی وعظ ختم کیا تھا۔

“اندھے کو! اندھے کو میرے پاس لاؤ۔”

خواجہ نصر الدین کو راستے سے ڈھکیلتے ہوئے ملا امس بھرے تاریک مکان میں گھس گئے اور ایک فقیروں کی طرح چیتھڑوں لگے اندھے کو اپنے ساتھ باہر لائے۔ وہ ہاتھ پھیلا کر ٹٹولتا اور پتھروں پر ٹھوکریں کھاتا چل رہا تھا۔

اندھا بڑے ملا کے پاس پہنچا، اس کے سامنے منہ کے بل گر پڑا اور مقبرے کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔ بڑے ملا نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور آنکھ جھپکاتے وہ بینا ہو گیا۔

“میں دیکھ سکتا ہوں! میں دیکھ سکتا ہوں!” وہ زوروں سے کانپتی آواز میں چیخنے لگا “مقدس بہاالدین! میں دیکھ سکتا ہوں، دیکھ سکتا ہوں، ارے زبردست اور حیرت انگیز معجزہ ہے!”

عبادت کرنے والوں کے ایک بڑے مجمع نے اس کو گھیر لیا اور چاؤں چاؤں کرنے لگے۔ بہت سے لوگ اس کے قریب آ کر پوچھنے لگے:

“اچھا بتاؤ، میں نے کون سا ہاتھ اٹھایا ہے، دایاں یا بائیاں؟”

اس نے صحیح جواب دئے جس سے سب لوگ مطمئن ہو گئے کہ اس کو شفا ہوئی ہے۔

اب ملاؤں کی پوری فوج کی فوج تانبے کے طبق لیکر مجمع میں یہ چلاتی ہوئی گھس گئی:

“اے سچے مومنو، تم نے اپنی آنکھوں سے معجزہ دیکھ لیا۔ کچھ مسجدوں کی آرائش کے لئے دو!”

سب سے پہلے امیر نے مٹھی بھر اشرفیاں طبق میں پھینکیں۔ پھر وزیروں اور عمائدین کی باری آئی جنہوں نے ایک ایک اشرفی دی۔ اب مجمع نے بڑی فیاضی کے ساتھ چاندی اور تانبے کے سکوں کی بارش شروع کر دی۔ طبق جلد ہی بھر گئے اور ملاؤں کو انہیں تین بار بدلنا پڑا۔

جیسے ہی چندے کا سیلاب دھیما پڑا ایک لنگڑا آدمی مکان سے لایا گیا۔ وہ بھی مقبرے کی چوکھٹ چومتے ہی فوراً تندرست ہو گیا اور اپنی بیساکھیاں پھینک پیر اچھال اچھال کر ناچنے لگا۔ اور پھر ملا خالی تھالیاں لئے یہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے “خیرات کیجئے، سچے مومنو!”

ایک سفید داڑھی والا ملا خواجہ نصر الدین کے پاس پہنچا جو اپنے خیالات میں ڈوبے تھے اور ان کی آنکھیں مریضوں والے مکان پر لگی تھیں۔

“اے سچے مومن، تو نے یہ زبردست معجزہ دیکھا ہے۔ خیرات کر، اللہ اس کا اجر دے گا!”

اس طرح زور سے بولتے ہوئے کہ ان کے قریب کے لوگ سن سکیں خواجہ نصر الدین نے جواب دیا “تم اس کو معجزہ کہہ کر مجھ سے پیسے اینٹھنا چاہتے ہو۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں اور دوسری بات یہ ہے ملا جی کہ میں بھی بہت بڑا بزرگ ہوں اور اس سے بڑا معجزہ دکھا سکتا ہوں!”

“تو مرتد ہے!” ملا نے غصہ سے کہا “مسلمانو، اس کی بات مت سنو، اس کے منہ میں شیطان بیٹھ گیا ہے!”

خواجہ نصر الدین نے مجمع کی طرف رخ کر کے کہا:

“ملا کو یہ یقین نہیں ہے کہ میں معجزہ دکھا سکتا ہوں۔ میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا ثبوت دوں گا۔ اس مکان میں اندھے، لنگڑے، بیمار اور معذور جمع ہیں اور میں ان سب کو بلا چھوئے ہوئے اچھا کرنے کی ذمہ داری لیتا ہوں۔ میں صرف دو لفظ کہوں گا اور بس وہ چنگے ہو جائیں گے۔ وہ ادھر ادھر پھیل جائیں گے اور اتنے تیز بھاگیں گے کہ صبا رفتار عرب گھوڑا بھی ان کو نہ پکڑ سکے گا۔”

مکان کی دیواریں پتلی تھیں اور جس مٹی کی وہ بنی ہوئی تھیں وہ کئی جگہوں پر کافی چٹخ گئی تھی۔ خواجہ نصر الدین نے ایک ایسی جگہ منتخب کر لی تھی جہاں دیوار میں کئی دراڑیں تھیں اور انہوں نے یہاں اپنے بازو سے اسے دھکا دیا۔ مٹی ٹوٹ گئی۔ تھوڑی سی لیکن پراسرار سرسراہٹ ہوئی۔ انہوں نے اور زور سے ڈھکیلا اور دیوار کا ایک بڑا حصہ دھڑام سے گر گیا۔ گری ہوئی تاریک جگہ سے زبردست گرد کا بادل اٹھا۔

“زلزلہ! بھاگو!” خواجہ نصر الدین زور سے چلائے۔ انہوں نے دیوار کا ایک اور حصہ گرا دیا۔

جھونپڑی کے اندر ایک لمحہ تو بالکل خاموشی رہی اور پھر ہنگامہ ہو گیا۔ چیچک رو مفلوج سب سے پہلے دروازے کی طرف معہ اپنی ڈولی کے بھاگا لیکن اس کی ڈولی دروازے میں پھنس گئی اور دوسروں کے لئے راستہ رک گیا۔ اندھے، لنگڑے اور معذور ایک دوسرے کو ڈھکیلنے، ہنگامہ کرنے اور چلانے لگے۔ جب خواجہ نصر الدین نے دیوار کا تیسرا حصہ گرا دیا تو مریضوں نے ایک زبردست ریلے سے چیچک رو آدمی، دروازہ اور اس کے چوکھٹ وغیرہ کو اکھاڑ پھینک دیا اور اپنی معذوری کو بھول کر چاروں طرف نکل بھاگے۔

مجمع غل مچا رہا تھا، سیٹیاں بجا رہا تھا، ہنس رہا تھا اور مذاق اڑا رہا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس مجمع کی کاؤں کاؤں کے اوپر اپنی آواز بلند کی:

“مسلمانو! تم نے دیکھ لیا نا۔ میں نے یہ بات بالکل بجا کہی تھی کہ وہ چند الفاظ سے شفا یاب ہو سکتے ہیں!”

اب وعظوں سے کسی کو دلچسپی نہیں رہی۔ ہر طرف سے لوگ ادھر دوڑنے لگے۔ جب ان کو واقعہ معلوم ہوتا تو وہ خوب قہقہے لگاتے اور قصہ دوسروں سے بیان کرتے۔ تھوڑی ہی دیر میں معتقدین کے پورے مجمع میں مکان والے واقعہ کی خبر گشت کر گئی اور جب بڑے ملا نے اپنا ہاتھ اٹھا کر خاموشی کے لئے کہا تو مجمع نے اس کا جواب لعنت ملامت، شور و غل اور سیٹیوں سے دیا۔

اور پھر جیسے اس یادگار دن بازار میں ہوا تھا مجمع میں کھسر پھسر اور ہنگامہ اور چرچا ہونے لگا:

“خواجہ نصر الدین! واپس آ گئے ہیں وہ! وہ یہاں ہیں، ہمارے خواجہ نصر الدین!”

آوازوں اور فقروں سے گھبرا کر ملا لوگ اپنے طبق چھوڑ کر مجمع سے بھاگ کھڑے ہوئے۔

اس وقت تک خواجہ نصر الدین دور پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنا رنگین عمامہ اور مصنوعی داڑھی قبا میں چھپا لی کیونکہ اب ان کو جاسوسوں سے مڈ بھیڑ ہونے کا کوئی خطرہ نہیں رہتا جو مقبرے کے اطراف میں مصروف تھے۔

بہرحال، وہ یہ نہ دیکھ سکے کہ جعفر سودخور گھروں کے کناروں اور سڑک کے درختوں کی آڑ لے کر ان کا پیچھا کر رہا ہے۔

ایک سنسان گلی میں خواجہ نصر الدین باڑ کے پاس گئے اور ہاتھوں کے بل اوپر اٹھ کر ہلکے سے کھنکھارے۔ فوراً ہی ہلکے قدموں کی چاپ سنائی دی اور زنانی آواز آئی:

“تم ہو، پیارے؟”

درخت کے پچھے سے جہاں سود خور چھپا ہوا تھا اس کو حسین گل جان کی آواز پہچاننے میں کوئی دشواری نہ ہوئی۔ پھر اس نے کھسر پھسر، ہلکی ہنسی اور بوسوں کی آواز سنی۔

“اچھا تو تم نے اس کو مجھ سے اپنے لئے چھینا تھا!” سود خور نے بہت جل کر سوچا۔

گل جان سے رخصت ہو کر خواجہ نصر الدین اتنی تیزی سے نکل گئے کہ سود خور ان کا پیچھا نہ کر سکا اور تنگ گلیوں کی بھول بھلیوں میں ان کا نشان کھو بیٹھا۔

“اچھا اب تو اس کی گرفتاری کا انعام مجھے ملنے سے رہا” سود خور نے پریشان ہو کر سوچا “لیکن کوئی بات نہیں! خواجہ نصر الدین ہوشیار رہنا، میں تم سے اس کے لئے عبرتناک انتقام لوں گا۔”

(۱۸)

امیر کے خزانے کو زبردست خسارہ ہوا۔ پچھلے برسوں کے مقابلے میں حضرت بہا الدین کے مقبرے سے رقم کا دسواں حصہ بھی نہیں آیا۔ اور اس سے بری بات تو یہ تھی کہ لوگوں کے دماغوں میں دلیرانہ آزاد خیالی کی پھر سے آبیاری ہو گئی۔ جاسوسوں نے مخبری کی کہ مقبرے کے واقعے کی خبر ریاست کے کونے کونے تک پہنچ گئی اور اس کے نتائج بھی برآمد ہوئے۔ تین گاؤں میں باشندوں نے مسجدوں کی تکمیل سے انکار کر دیا اور چوتھے میں انہوں نے اپنے ملا کو بہت ذلیل کر کے نکال دیا۔

امیر نے وزیر اعظم بختیار کو حکم دیا کہ وہ دیوان یعنی ریاستی کونسل کا جلسہ طلب کرے۔ کونسل کا جلسہ محل کے باغ میں ہوا۔ یہ بھی عجیب و غریب باغ تھا، دنیا کا سب سے حسین باغ۔ شاندار چھتنارے درختوں پر نایاب پھل لگے تھے۔ بہت سے اقسام کے شفتالو، بادام، آلوچے، انجیر اور نارنگیاں اور بہت سے دوسرے پھل جن کا بیان مشکل ہے۔ گلاب اور طرح طرح کے پھول پودوں کی چمن بندیاں تھیں جن سے ساری فضا معطر رہتی تھی۔ کوڑیالے کے پھول مسکرا رہے تھے اور نرگس ان کی طرف محبت سے دیکھ رہی تھی۔ فوارے اچھل رہے تھے اور سنگ مرمر کے حوضوں میں طرح طرح کی سنہری مچھلیاں تیر رہی تھیں۔ ہر جگہ نقرئی پنجروں میں نایاب چڑیاں چہچہا رہی تھیں۔

لیکن وزرا، عمائدین اور حکما بے پروائی سے گزر رہے تھے۔ وہ حسن کے جادو سے بے خبر اور ناآشنا تھے کیونکہ ان کے خیالات بالکل اپنے مفادات پر مرکوز تھے کہ کس طرح اپنے دشمنوں کی چوٹوں سے بچا جائے اور اپنی بارے آنے پر کیسے ان کو چوٹ کی جائے۔ اس طرح ان کے سخت اور مرجھائے ہوئے دلوں میں اس کے سوا کسی اور بات کے لئے جگہ ہی نہ تھی۔ اگر اچانک دنیا کے تمام پھول مرجھا جاتے اور ساری چڑیاں چہچہانا بند کر دیتیں تب بھی وہ توجہ نہ کرتے کیونکہ وہ اپنی ذاتی خواہشات اور حریصانہ چالوں میں مبتلا تھے۔

ان کی آنکھوں میں افسردگی تھی اور خون سے عاری ہونٹ بھنچے ہوئے تھے اور ریتلے راستوں پر اپنی جوتیاں گھسیٹتے چلے جا رہے تھے۔ وہ ایک کنج میں داخل ہوئے جو سرسبز، گھنی اور مہک دار بیلوں سے گھرا ہوا تھا۔ یہاں وہ اپنی مرصع عصائیں دیوار کے سہارے کھڑی کر کے ریشمی گدوں پر بیٹھ گئے۔ بڑے عماموں کے بوجھ سے سرجھکائے وہ خاموشی سے اپنے آقا کا انتظار کرنے لگے۔

وہ بھاری قدموں سے اندر داخل ہوا، غمگین خیالات سے اس کی تیوریوں پر بل تھا۔ سب اٹھ کھڑے ہوئے اور تقریباً زمین تک جھک گئے اور اس وقت تک جھکے رہے جب تک اس نے ہلکا سا اشارہ نہ کیا۔ اب آداب کے مطابق وہ گھٹنوں کے بل ہو گئے اور اپنے جسم کا سارا وزن ایڑیوں پر ڈال د یا۔ ان کی انگلیاں قالین پر تھیں۔ ہر ایک اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ آج امیر کا قہر کس پر نازل ہو گا اور اس سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

درباری شاعروں نے حسب معمول آداب کے مطابق امیر کے پیچھے نصف حلقہ بنا لیا اور ہلکے ہلکے کھنکھار کر اپنے گلے صاف کرنے لگے۔

ان میں سب سے لائق شاعر جس کو “ملک الشعرا” کا خطاب مل چکا تھا دل ہی دل میں وہ قصیدہ دوہرا رہا تھا جو اس نے آج ہی صبح تیار کیا تھا اور امیر کو اس طرح سنانا چاہتا تھا جیسے اس نے مافوق الفطرت جوش کے ماتحت اس کو فی البدیہہ کہا ہے۔

شاہی مور چھل اور حقہ برداروں نے بھی اپنی اپنی مقررہ جگہیں سنبھال لیں۔

“بخارا میں کس کی حکومت ہے؟” امیر نے دھیمی آواز میں ابتدا کی جس سے سامعین کو جھرجھری آ گئی۔ “بخارا میں کس کی حکومت ہے ، ہم تم سے پوچھتے ہیں۔ ہماری یا اس ملعون ، ناپاک خواجہ نصر الدین کی؟‘‘ یہاں تقریباً اس کی آواز گھٹ گئی ۔ پھر اپنے غصہ پر قابو حاصل کر کے دھمکی آمیز آواز میں اس نے کہا ’’امیر تمھاری آواز سن رہا ہے! بولو !‘‘

مورچھل اس کے سر پر ہلتی رہی ۔ درباری خاموش اور خوف زدہ تھے ۔ وزراء گھبرا گھبرا کے ایک دوسرے کو کہنیاں مار رہے تھے ۔

’’ اس نے ریاست میں ہنگامہ برپا کر رکھا ہے‘‘ امیر نے اپنی بات جاری رکھی ’’تین بار اس نے ہمارے دارالحکومت کے امن و امان میں رخنہ ڈالا ہے۔ اس نے ہمارا خواب و آرام لوٹ لیا اور ہمارے خزانے کو جائز آمدنی سے محروم کر دیا۔ وہ اعلانیہ عوام کو سرکشی اور بغاوت کے لئے اکساتا ہے۔ اس پاجی سے کس طرح نبٹیں ، ہم تم سے پوچھتے ہیں۔‘‘

وزراء ، عمائدین اور حکما سبھی نے یک آواز ہو کر جواب دیا :

’’اے مرکزِ کائنات ، محافظِ امن ، وہ بلاشبہ سخت سے سخت سزا کا مستحق ہے!‘‘

’’تو پھر وہ ابھی تک کیوں زندہ ہے؟‘‘ امیر نے دریافت کیا۔ ’’ یا یہ کام پھر ہمارے لئے ، تمھارے حکمران کے لئے ہے جس کا نام تمھیں خوف اور ادب سے اور وہ بھی بلا سربسجود ہوئے نہیں لینا چاہئے جو ہمیں کہنا پڑتا ہے کہ تم کاہلی، گستاخی اور لاپرواہی کی وجہ سے نہیں کرتے ہو۔ ہاں تو دھراتا ہوں کہ کیا یہ ہمارے لئے ہے کہ ہم بذاتِ خود اس کو گرفتار کرنے بازار جائیں جب کہ تم اپنے اپنے حرموں میں خوب عیاشی کرو گلچھرے اُڑاؤ اور صرف تنخواہ وصول کرنے کے دن اپنے فرائض کو یاد کرو؟ تیرا کیا جواب ہے، اے بختیار؟‘‘

بختیار کا نام سن کر دوسروں نے چین کا نام لیا اور ارسلان بیک کے ہونٹوں پر کینہ پرور مسکرا ہٹ کھیلنے لگی جس سے بختیار کا بہت زمانے سے جھگڑا چلا آ رہا تھا۔ بختیار نے اپنی توند پر ہاتھ باندھے اور امیر کے سامنے زمین تک جھک گیا۔

’’ خدا ہمارے امیر کو آزمائشوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے!‘‘ بختیار نے شروع کیا۔ ’’اس غلام کی وفاداری اور خدمات کو ، کو امیر کی نورانی کرنوں کا ایک حقیر ذرہ ہے، امیر اچھی طرح جانتے ہیں۔ میرے وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے شاہی خزانہ بالکل خالی تھا لیکن میں نے کئی ٹیکس لگائے ۔ میں نے ملازمت پانے پر بھی ٹیکس لگا دیا اور اب کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ خزانے کو بلا کچھ ادا کئے چھینک بھی دے۔‘‘

’’مزید برآں میں نے نچلے درجے کے سرکاری ملازمین اور پہرے داروں کی تنخواہیں آدھی کر دیں، بخارا کے باشندوں کو پہرے داروں کی دیکھ بھال کا ذمے دار بنایا اور اس طرح میرے آقا ، میں نے خزانے میں کافی بڑی رقم جمع کی۔ لیکن ابھی میں نے اپنی تمام خدمات کا ذکر نہیں کیا ہے۔ میری کوششوں ہی سے حضرت بہاؤالدین کے مقبرے پر پھر معجزے ہونے لگے اور ہزاروں زائرین مقبرے کو آنے لگے۔ اس طرح ہمارے بادشاہ کا خزانہ ، جن کے سامنے دنیا کے دوسرے حکمراں ایک ذرے کے برابر ہیں۔ ہر سال عطیوں سے بھرنے لگا ہے اور آمدنی کئی گنی بڑھ گئی ہے۔۔۔‘‘

’’یہ آمدنی کہاں ہے؟‘‘ امیر نے بیچ میں لقمہ دیا۔ ’’ اس کو تو خواجہ نصر الدین نے ہم سے لے لیا۔ ہم تمھاری خدمات کے بارے میں نہیں پاچھ رہے ہیں۔ یہ تو ہم متعدد بار سن چکے ہیں۔ ہمیں یہ بتاؤ کہ خواجہ نصر الدین کس طرح ہاتھ آئے؟‘‘

’’آقا‘‘ بختیار نے جواب دیا ’’وزیرِ اعظم کے فرائض میں مجرموں کی تلاش نہیں شامل ہے۔ ہماری ریاست میں یہ کام شاہی گارد اور فوج کے سپہ سالار کا، معزز ارسلان بیک کا ہے‘‘

’’بولو!‘‘ امیر نے حکم دیا۔

ارسلان بیک بختیار کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتا ہوا اٹھا۔ لمبی سانس لی اور اس کی سیاہ داڑھی اوپر اٹھی اور پھر اس کی توند پر گِر گئی۔

’’ خدا ہمارے مہرِ تاباں، بادشاہ کو ہر آفت و مصیبت، بیماری اور رنج سے محفوظ رکھے! امیر میری خدمات سے بخوبی واقف ہیں۔ جب خیوا کے خان نے بخارا پر چڑھائی کی تو مرکزِ کائنات، ظلِ سبحانی نے عنایت فرما کر مجھے بخارا کی فوج کی کمان سپرد کی اور میں نے بلا خون خرابے کے دشمن کو پیچھے ڈھکیل دیا اور لڑائی کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا۔‘‘

’’ میں نے یہ حک دے دیا کہ خیوا کیسرحد سے لیکر ہمارے علاقے کے اندر ، کئی دنوں کے کوچ کے کے فاصلے تک تمام شہر اور گاؤں تباہ کر دئے جائیں، تمام فصیلیں ، باغیں ، سڑکیں اور پل برباد کر دئے جائیں۔ جب خیوا کے لوگ ہمارے علاقے میں داخل ہوئے اور انہوں نے ایک ریگستان دیکھا جہاں نہ تو باغیں تھیں اور نہ کوئی جاندار، تو انہوں نے اپنے آپ سے کہا ’’ہم بخارا نہ جائیں گے کیونکہ وہاں نہ تو کچھ کھانے پینے کو ہو گا اور نہ لوٹ مار کے لئے۔ وہ واپس لوٹ گئے‘‘ دھوکہ کھا کر اور ذلیل ہو کر۔ ہمارے بادشاہ ، امیر نے مہربانی کر کے اپنی فوج کے ہاتھوں خود اپنے ملک کی تباہی کو اتنا دانش مندانہ اور کارآمد حربہ تسلیم کیا کہ انہوں نے حکم نافذ کر دیا کہ کسی بھی چیز کو بحال نہ کیا جائے اور تمام شہر ، گاؤں ، کھیت اور سڑکیں تباہ شدہ حالت میں رکھی جائیں تاکہ آئندہ دشمن قبائل ہمارے علاقے میں قدم رکھنے کی جرات نہ کریں۔ اس طرح میں نے خیوا کے لوگوں کو شکست دی۔ اس کے علاوہ بخارا میں ہزاروں جاسوسوں کو میں نے تربیت دی۔۔۔‘‘

’’بند کر اپنی زبان شیخی خور!‘‘ امیر نے چلا کر کہا۔ ’’ تو تیرے جاسوس خواجہ نصر الدین کو کیوں نہیں پکڑ سکے؟‘‘

ارسلان بیک بدحواس ہو کر کافی دیر تک خاموش رہا۔ آخر کار اسے ماننا ہی پڑا:

’’ آقا، میں نے ہر تدبیر کر ڈالی لیکن میرا دماغ اس بدمعاش اور مرتد کے خلاف کام نہیں کرتا۔ میرے خیال میں حکما و عقلا سے اس کے بارے میں رائے لینی چاہئے۔‘‘

’’ قسم ہے اپنے آبا و اجداد کی! تم سب اس قابل ہو کہ شہر کی فصیل پر تمھیں سولی دے دی جائے!‘‘ امیر برس پڑا ، اپنے غصے میں اس نے حقے بردار کو ایک زور کا ہاتھ رسید کیا جو اس غلط موقع پر شاہ کے دستِ دراز کے قریب آگیا تھا۔

’’بولو‘‘ اس نے سب سے معمر دانا کو حکم دیا جو درازی ریش کے لئے مشہور تھا۔ اس کی داڑھی اتنی لمبی تھی کہ اس کو اپنی کمر کے گرد دوہری لپیٹ سکتا تھا۔

دانا اٹھا ، ایک دعا پڑھی اور اپنی مشہور داڑھی کو تھپ تھپایا اور داہنے ہاتھ سے اس کو کھینچ کر بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے اس میں شانہ کرنے لگا۔

’’خدا بادشاہ کو رعایا کی خوش حالی اور مسرت کے لئے شاندار اور طویل زندگی عطا فرمائے‘‘ اس نے کہا ’’ چونکہ مذکورہ بالا بدمعاش اور باغی خواجہ نصر الدین بھی تو آدمی ہی ہے، اس لئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اس کا جسم بھی دوسرے آدمیوں جیسا ہے یعنی اس میں دوسو چالیس ہڈیاں اور تین سو ساٹھ رگیں ہیں جو پھیپھڑے ، جگر، دل ، تلی اور پتے کو چلاتی ہیں۔ داناؤں نے ہیں سکھایا ہے کہ شہ رگ دل کی رگ ہوتی ہے جو تمام دوسری رگوں کو چلاتی ہے اور یہ ایک ناقابلِ تردید اور مقدس حقیقت ہے جو بے ایمان ابو اسحاق کی کافرانہ تعلیم کے خلاف ہے جو یہ جھوٹا دعویٰ کرنے کی ہمت کرتا ہے کہ انسان کی زندگی کی بنیاد پھیپھڑے کی رگ ہے۔‘‘

’’ دانائے روزگار بو علی سینا، یونانی حکیم ہیپو کریتس اور کارڈویا کے اویروئس نے بھی لکھا ہے جس کے محنت کے پھل اب ہم اٹھا رہے ہیں اور الکندی ، الفارابی اور ابو بصرہ ابن طفیل کی تعلیمات کے مطابق بھی میں کہتا ہوں اور تصدیق کرنے کی جرات کرتا ہوں کہ اللہ نے آدم کو چہار عناصر ۔۔۔ آب ، خاک ، آتش اور باد ۔۔۔ کے خمیر سے اس طرح بنایا کہ زرد پتے میں آگ کی خصوصیت ہے جو ہم دیکھتے ہیں کہ گرم اور خشک ہے۔ سیاہ پتے میں خاک کی خصوصیت ہے کیونکہ وہ ٹھنڈا اور خشک ہوتا ہے۔ لعابِ دھن پانی کی خصوصیت رکھتا ہے کیونکہ وہ سرد اور تر ہوتا ہے اور آخر میں خون باد کی نوعیت رکھتا ہے کیونکہ وہ گرم اور تر ہوتا ہے۔ اگر کوئی آدمی اپنے جسم کی ان رقیق اشیاء سے محروم کر دیا جائے تو وہ لازمی طور پر مر جاتا ہے اور اس سے میں نتیجہ اخذ کرتا ہوں ، اے ممتاز آقا، کہ یہ مرتد ، دشمنِ امن و امان ، خواجہ نصر الدین خون سے محروم کر دیا جائے جس کا بہتر طریقہ یہ ہو گا کہ اس کا سر دھڑ سے جدا کر دیا جائے کیونکہ جو خون بہتا ہے اس کے ساتھ آدمی کے جسم سے زندگی بھی بخارات میں تبدیل ہو کر اڑ جاتی ہے اور کبھی واپس نہیں آتی۔ یہ ہے میرا مشورہ اے شاہِ زماں، جہاں پناہ!‘‘

امیر نے اس کی باتیں توجہ سے سنیں اور کچھ کہے بغیر دوسرے دانا کی طرف ابرو سے بہت ہی ہلکا سا اشارہ کیا ۔ اس دانا کی داڑھی کا مقابلہ تو پہلے دانا سے نہیں کیا جا سکتا تھا مگر اس کا عمامہ اس سے کہیں بڑا اور شاندار تھا ۔ سالہاسال نے عمامہ کے بوجھ نے اس کی گردن کو ایک طرف اور نیچے جھکا دیا جس سے ایسا معلوم ہونے لگا جیسے کوئی آدمی تنگ دراڑ سے اوپر جھانک رہا ہو۔ امیر کے سامنے جھکتے ہوئے یہ دانا بولا:

’’ اے شہنشاہِ اکبر، آفتابِ نیم روز! میں خواجہ نصر الدین کے اس طرح خاتمے سے متفق نہیں ہوں کیونکہ ہر آدمی یہ جانتا ہے کہ انسان کی زندگی کے لئے صرف خون ہی نہیں بلکہ ہوا بھی ضروری ہے اور اگر کسی آدمی کی گردن سے رسی دبا دی جائے اور اس طرح ہوا اس کے پھیپھڑوں تک پہنچنے سے روکی جا سکے تو وہ آدمی لازمی طور پر مر جاتا ہے اور کبھی پھر بحال نہیں ہو سکتا۔۔۔‘‘

’’اچھا‘‘ امیر نے بہت ہی دھیمی آواز میں کہا۔ ’’ تم بالکل ٹھیک کہتے ہو، اے داناؤں کے دانا، اور آپ کے مشورے ہمارے لئے بلاشبہ قیمتی ہیں۔ واقعی، اگر آپ ایسے مشورے نہ دیتے تو ہم خواجہ نصر الدین سے کیسے پیچھا چھڑا سکتے؟‘‘

وہ رک گیا کیونکہ وہ غصے سے بری طرح بھرا ہوا تھا اور اس پر قابو رکھنا اس کے لئے مشکل ہو رہا تھا ۔ اس کے گال تھر تھرا رہے تھے، نتھنے جل رہے اور آنکھوں سے شعلے نکل رہے تھے۔ لیکن درباری خوشامدی۔۔۔ فلسفی اور شاعر جو امیر کی پشت پر نیم حلقہ بنائے کھڑے تھے اپنے مالک کا غضبناک چہرہ نہیں دیکھ سکتے تھے اس لئے انہوں نے اس کے غضب آلود طعن کو نہیں سمجھا جس سے اس نے داناؤں کو خطاب کیا تھا ۔ اس کی بات کے ظاہری مطلب کو لیکر انہوں نے سوچا کہ داناؤں نے واقعی امیر کی نگاہوں میں عزت حاصل کر لی ہے اس لئے وہ امیر کی داد و دہش سے محفوظ ہوں گے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے داناؤں کی عنایات فوراً حاصل کرنا چاہئیں۔

’’آپ دانائے روزگار ہیں ! آپ ہمارے شہنشاہ عالی مرتبت کے تاج کے گہر ہائے بے بہا ہیں، آپ کا عقل و دانش میں کوئی جواب نہیں ، آپ مجسم عقل و دانش ہیں جن کو خدا نے سب سے زیادہ عقل عطا فرمائی ہے!‘‘

اس طرح انہوں نے قصیدہ خوانی شروع کر دی اور حسن بیان و جوش و خروش میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرنے لگے ۔ انھیں اس کا پتہ نہیں چلا کہ امیر غصے میں بل کھایا ہوا ان کو دیکھ رہا ہے اور ڈراؤنی خاموشی چھا گئی ہے۔

’’اے علم کے آفتاب و ماہتاب اور صاحبانِ عقل و دانش!‘‘ انہوں نے اپنی قصیدہ خوانی جاری رکھی اور غلامانہ جذبے کے جوش میں اپنی آنکھیں بند کر لیں۔

اچانک ملک الشعراء کی نظر امیر پر پڑی اور ایسا معلوم ہوا جیسے اس کی چکنی چپڑی زبان تالو سے چپک گئی ہے۔ اس کے بعد اور سب بھی چپ ہو گئے اور یہ سمجھ کر کانپنے لگے کہ انہوں نے اپنے جوش میں کتنی زبردست غلطی کی ہے۔

’’ ناکارہ بد معاشو!‘‘ غصے سے بپھرے ہوئے امیر نے کہا ’’ کیا تمھارے خیال میں ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ اگر کسی آدمی کا سر قلم کر دیا جائے یا اس کو پھانسی دے دی جائے تو وہ پھر زندہ نہیں ہو سکتا؟ لیکن اس کے لئے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ آدمی کو گرفتار کیا جائے اور تم نے ، بدمعاش ، ناکارہ ، پاجی اور احمقوں نے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا ہے۔ تمام وزراء ، عمائدین ، دانا اور شعراء اس وقت تک تنخواہ نہیں پائیں گے جب تک خواجہ نصر الدین گرفتار نہ کیا جائے گا۔ اور یہ اعلان کر دیا جائے کہ جو بھی اس کو گرفتار کرے گا اس کو تین ہزار تانگے انعام دیا جائے گا ! ہم تم کو اس بات سے بھی آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ تمھاری کاہلی ، بے وقوفی اور لاپروائی کو دیکھ کر ہم نے ایک نئے دانا کو اپنی خدمت میں بغداد سے طلب کیا ہے جن کا نام مولانا حسین ہے اور جو ابھی تک امیرالمومنین خلیفہ بغداد کی ملازمت میں تھے ۔ وہ راستے میں ہیں اور جلد ہی یہاں پہنچنے والے ہیں۔ لعنت ہو تم پر نرم گدوں پر اینڈنے والے پیٹ کے غلامو اور حرص کے بندو! نکال دو ان کو یہاں سے!‘‘ اس نے غصے کے بڑھتے ہوئے طوفان میں پہرے داروں کو حکم دیا۔ ’’ان سب کو یہاں سے نکال دو، نکال دو!‘‘

گم صم درباریوں پر پہرے دار جھپٹے اور بلا پاس و لحاظ ان کو دروازے تک کھینچتے ہوئے لے گئے اور پھر سیڑھیوں کے نیچے ڈھکیل دیا۔ سیڑھیوں سے نیچے دوسرے پہرے داروں نے ان کی گردن ناپی اور راستے میں ان کی لات گھونسوں اور تھپڑوں سے خاطر تواضع کی۔ درباری ایک دوسرے سے آگے نکل بھاگنے کی کوشش کر رہے تھے۔ سفید بالوں والا دانا تو خود اپنی داڑھی میں الجھ کر گرا، دوسرے دانا نے اس سے ٹھوکر کھائی اور گِر پڑا۔ اس کا سر ایک گلاب کی جھاڑی میں چلا گیا ۔ یہاں وہ بڑی دیر تک بے ہوشی کی حالت میں پڑا رہا ۔ اپنی ٹیڑھی گردن کی وجہ سے وہ اس وقت بھی کسی تنگ دراڑ سے جھانکتا معلوم ہوتا تھا ۔

(۱۹)

امیر سارے دن غصے میں بھرا بیٹھا رہا۔ دوسرے دن صبح کو بھی درباریوں نے اس کے چہرے پر غصے کے آثار دیکھے ۔ اس کو بہلانے اور خوش کرنے کی تمام کوششیں بے سود رہیں ۔ رقاصائیں اپنے طنبورے بجا بجا کر عود و عنبر کے مہکتے ہوئے بادلوں کے درمیاں تھرک رہی تھیں ، اپنے گداز کولہے مٹکا رہی تھیں اور اپنے مرمریں سینے اس طرح عریاں کر رہی تھیں جیسے اتفاقا یہ بات ہو گئی ہو ۔ لیکن یہ سب بیکار تھا ۔ امیر نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اس کے چہرے پر غصے کے گہرے آثار درباریوں کے دلوں کو دہلاتے رہے۔ درباری مسخروں ، کرتب دکھانے والوں ، شعبدہ بازوں اور ان ہندستانی مداریوں کی سب حرکتیں اور کرتب بھی بے کار رہے جو بین بجا کر سانپوں کو لبھاتے ہیں۔

درباری آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے:

’’ لعنت ہو اس خواجہ نصر الدین پر ! ولد الزنا ! کیا آفت اس نے ہم پر نازل کر دی ہے!‘‘

وہ ارسلان بیک سے امیدیں لگائے بیٹھے تھے۔

ارسلان بیک نے داروغہ خانے میں اپنے انتہائی چالاک جاسوسوں کو طلب کیا جن میں وہ چیچک رو بھی تھا جس کو خواجہ نصر الدین نے انتہائی معجز نما طریقے سے شفا بخشی تھی۔

’’تم سب سنو‘‘ ارسلان بیک نے کہا ’’ اعلی حضرت امیر کے حکم سے تمھاری تنخواہیں اس وقت تک کے لئے روک دی گئی ہیں جب تک کہ خواجہ نصر الدین گرفتار نہ ہو جائے۔ میں یہ قول دیتا ہوں کہ اگر تم اس کا پتہ نہ لگا سکے تو نہ صرف تم اپنی تنخواہوں سے ہاتھ دھوؤ گے بلکہ اپنے سروں سے بھی۔ اس کے برخلاف جو بھی سب سے زیادہ جوش کے ساتھ کام کر کے خواجہ نصر الدین کو گرفتار کرے گا اسے تین ہزار تانگے کا انعام ملے گا اور ترقی بھی۔ اس کو تمام جاسوسوں کا افسر مقرر کیا جائے گا۔‘‘

جاسوس دم کے دم درویشوں ، بھک منگوں ، سقوں اور سوداگروں کے بھیس بدل بدل کر روانہ ہو گئے۔ اس دوران میں چیچک رو جاسوس نے جو دوسروں سے زیادہ چالاک تھا ایک غالیچہ ، کچھ مٹر کے دانے ، ایک تسبیح اور پرانی کتابیں لیں اور بازار کی طرف چل دیا ۔ وہاں وہ جوہریوں اور گندھیوں کے بازاروں کی نکڑ پر بیٹھ گیا۔ یہاں اس نے رمال کے بھیس میں عورتوں کے ذریعے سن گن لینے کا منصوبہ گانٹھا ۔

ایک گھنٹے بعد سیکڑوں نقیبوں نے بازار کے چوراہے پر تمام مسلمانوں سے مخاطب ہو کر اپنی بات توجہ سے سننے کے لئے کہا ۔ انہوں نے امیر کا فرمان سنایا کہ خواجہ نصر الدین کو امیر کا دشمن اور مرتد قرار دیا جاتا ہے ۔ اس سے کسی قسم کا تعلق ممنوع ہے خصوصاً اس کو پناہ دینا جس کی سزا موت ہے ۔ اس کے برخلاف اگر کوئی اسے پکڑ کر امیر کے پہرے داروں کے حوالے کر دے گا تو اس کو تین ہزار تانگوں کے انعام اور دوسری عنایات سے سرفراز کیا جائے گا۔

چائے خانے کے مالک ، ٹھٹھیرے ، آہنگر ، بنکر ، سقے اور ساربان سبھی آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے:

’’ اس کے لئے امیر کو بہت دن انتظار کرنا ہو گا۔‘‘

’’ خواجہ نصر الدین کو ایسے دھر لینا آسان نہیں ہے!‘‘

’’ کوئی رقم بھی بخارا کے لوگوں کو خواجہ نصر الدین کے ساتھ دغا کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتی۔‘‘

لیکن سود خور جعفر جو اپنے قرض داروں پر ظلم و ستم ڈھانے کے لئے بازار میں روز مرہ کی پھیری لگا رہا تھا کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔ ’’ تین ہزار تانگے‘‘ اس نے افسوس کے ساتھ سوچا ۔ ’’کل تو رقم تقریباً میری جیب میں پہنچتے پہنچتے رہ گئی! خواجہ نصر الدین اس لڑکی کے پاس پھر آئے گا لیکن میں اس کو تن تنہا تو نہیں گرفتار کر سکتا اور اگر میں کسی اور کو یہ خبر بتاتا ہوں تو وہ مجھ سے انعام جھپٹ لے گا۔ نہیں، مجھے کچھ اور کرنا چاہئے۔‘‘

وہ محل کی طرف چل پڑا۔

وہ بڑی دیر تک کھٹ کھٹاتا رہا لیکن دروازے بند رہے ۔ پہرے داروں نے سنا نہیں کیونکہ وہ خواجہ نصر الدین کو پکڑنے کے منصوبوں پر گرما گرم بحث کر رہے تھے ۔

’’اے بہادر سپاھیو! کیا تم سو رہے ہو؟‘‘ سود خور پریشان ہو کر چیخا۔ اس نے آہنی کنڈا بھی بجایا لیکن قدموں کی چاپ دیر میں سنائی دی اور زنجیروں کے کھلنے کی جھنکار ہوئی۔ پھاٹک کا دروازہ کھلا۔

سود خور کی بات سننے کے بعد ارسلان بیک نے سر ہلایا:

’’معزز جعفر، میں آپ کو یہ مشورہ نہ دوں گا کہ آپ امیر سے آج ملیں۔ وہ آج بہت غصے میں ہیں اور اداس بھی۔‘‘

’’ لیکن میرے پاس ان کی افسردگی دُور کرنے کا ایک لاجواب علاج ہے‘‘ سودخور نے فوراً جواب دیا۔ ’’ معزز ارسلان بیک، معاونِ تخت و تاج، فاتح دشمنان ! میرے کام میں دیر نہ ہونا چاہئے۔ جا کر امیر سے کہئے کہ میں ان کا رنج و غم دور کرنے آیا ہوں۔‘‘

امیر اس سے بڑے روکھے پن سے ملا۔ وہ بولا:

’’بتا جعفر! لیکن اگر تیری بات نے ہمارا دل خوش نہ کیا تو تجھ کو دو سو درے لگائے جائیں گے۔‘‘

’’ اے شہنشاہِ اعظم جس کی شان و شوکت کو نہ تو کوئی بادشاہ ماضی و حال میں پہنچا ہے اور نہ مستقبل میں پہنچے گا!‘‘ سود خور نے کہا ’’ “آپ کے اس ناچیز خادم کو یہ پتہ ہے کہ ہمارے شہر میں ایک ایسی دوشیزہ رہتی ہے جس کو میں حقیقت میں لاکھوں حسیناؤں کی ایک کہہ سکتا ہوں۔”

امیر کو فوراً دلچسپی پیدا ہو گئی اور اس نے سر اٹھایا۔

“آقا!” سود خور کی ہمت بندھی اور اس نے اپنی بات جاری رکھی۔ “میرے پاس اس کے حسن کی تعریف کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔ وہ سرو قد، دلربا، نازک اندام ہے۔ اس کے جسم کا ہر عضو سانچے میں ڈھلا ہے۔ اس کی پیشانی روشن، چہرہ شہابی، آنکھیں غزالی اور بھویں ہلالی ہیں! اس کے گال گلابی اور دہانہ مہر سلیمانی کی مانند ہے، اس کے ہونٹ مونگے جیسے اور دانت موتیوں کی لڑی ہیں۔ اس کے پستان مرمریں ہیں جن پر چیری کے دو سرخ پھل رکھے ہیں اور اس کے شانے۔۔۔”

امیر نے اس کے زور بیان کو روکا:

“اگر واقعی وہ ایسی ہے جیسا کہ تم کہتے ہو تو وہ میرے حرم کے لائق ہے۔ وہ ہے کون؟”

“وہ حسب نصب سے تو غریب ہے، آقا۔ وہ ایک غریب کسگر کی لڑکی ہے جس کے نام سے میں اعلی حضرت کے کانوں کی توہین کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا۔ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں رہتی ہے لیکن کیا امیر کے اس غلام کو اس کے لئے انعام ملے گا؟”

امیر نے بختیار کی طرف اشارہ کیا اور ایک تھیلی سود خور کے قدموں پر آن گری۔ جعفر نے اس کو حریصانہ عجلت کے ساتھ اٹھا لیا۔

“اگر وہ تمھاری تعریف کے مطابق ثابت ہوئی تو تم کو اتنا ہی اور انعام ملے گا” امیر نے کہا

“ہمارے لائق آقا کی فیاضی کا بول بالا رہے!” سود خور نے ہانک لگائی۔ “لیکن جلدی کرنی چاہئے کیونکہ اس غزال رعنا کے پیچھے ایک صیاد لگا ہوا ہے۔”

امیر کی تیوریوں پر بل آ گئے اور ناک کے بانسے پر ایک موتی جھری نمودار ہو گئی۔

“کون ہے وہ؟”

“خواجہ نصر الدین!” سود خور نے جواب دیا۔

“پھر وہی خواجہ نصر الدین! اس میں بھی خواجہ نصر الدین! وہ ہر جگہ ہے۔۔ اور تم ہو کہ۔۔۔” یہ کہتے ہوئے امیر اپنے وزیروں کی طرف مخاطب ہو گیا اور تخت ہلنے لگا۔ “سوائے اس کے اور کچھ نہیں کرتے کہ ہماری شاہانہ شخصیت کے لئے باعث شرم بنو۔ اے ارسلان بیک! اس کا انتظام کر، یہ لڑکی ہمارے محل میں ہی آنا ہے۔ اگر تو اس میں ناکام رہا تو واپسی پر جلاد تیرا منتظر ہو گا!”

چند منٹوں میں محل کے پھاٹک سے سپاھیوں کا ایک دستہ روانہ ہو گیا۔ ان کے ہتھیاروں میں جھنکار تھی اور سپریں دھوپ میں چمچما رہی تھیں۔ ان کے آگے ارسلان بیک تھا۔ اس کی زرد قبا میں اعلی عہدے کا بلا ٹنکا ہوا تھا۔ پہرے داروں کے ساتھ سود خور بھی لنگڑاتا اور لڑکھڑاتا چلا جا رہا تھا۔ اکثر وہ پیچھے رہ جاتا اور دوڑ کر ان کے برابر پہنچتا۔ لوگ اس جلوس کو دیکھ کر کنارے ہو جاتے اور سود خور کو مخاصمانہ نظروں سے دیکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانے کی کوشش کرتے کہ آج وہ کس بدمعاشی کے لئے نکلا ہے۔

(۲۰)

خواجہ نصر الدین نے ا بھی اپنی نویں صراحی ختم کی تھی اور تسلے سے ڈھیر سی مٹی دسیوں صراحی بنانے کے لئے نکالی ہی تھی کہ اچانک دروازے پر زور کی حاکمانہ دستک ہوئی۔ پڑوسی جو اکثر نیاز کے یہاں پیاز یا چٹکی بھر مرچ مانگنے آتے تھے اس طرح نہیں کھٹکھٹاتے تھے۔ خواجہ نصر الدین اور نیاز نے ایک دوسرے کی طرف گھبرا کر دیکھا جب بھاری ضربوں کی بارش نے دروازہ پھر سے کھڑکھڑایا۔ اس مرتبہ خواجہ نصر الدین کے تیز کانوں نے ہتھیاروں کی جھنکار سن لی۔

“پہرے دار” انہوں نے نیاز سے چپکے سے کہا۔

“بھاگو!” نیاز بولا۔

خواجہ نصر الدین باغ کی دیوار پھلانگ گئے اور نیاز نے دروازہ کھولنے میں اتنا وقت لیا کہ وہ دور نکل جائیں۔ جیسے ہی بڈھّے نے کنڈی کھولی انگور کے باغیچے سے مینائیں بھربھرا کر اڑیں لیکن بے چارے کسگر کے پر تو تھے نہیں وہ اڑ کر کہاں جاتا۔ وہ زرد پڑ گیا اور کانپ کر ارسلان بیک کے سامنے جھک گیا۔

“کسگر، تیرے گھر کو بڑی عزت نصیب ہوئی ہے”ارسلان بیک نے کہا “مرکز جہاں، ظل سبحانی، ہمارے مالک و آقا، خدا ان کو برسہا برس سلامت رکھے، امیر اعظم نے بہ نفس نفیس عنایت کر کے تیرا حقیر نام لیا ہے۔ ان کو معلوم ہوا ہے کہ تیرے باغ میں ایک حسین پھول کھلا ہے اور وہ اس پھول کو اپنے محل کی زیبائش کے لئے چاہتے ہیں۔ تیری بیٹی کہاں ہے؟”

کسگر کا سفید سر ہلنے لگا اور اس کی آنکھوں میں دنیا تاریک ہو گئی۔ جب پہرے دار اس کی بیٹی کو گھر کے باہر گھسیٹ کر صحن میں لائے تو اس نے اس کی ایک مختصر مدھم چیخ سنی۔ وہ منہ کے بل زمین پر گر گیا اور پھر نہ تو اس نے کچھ دیکھا اور نہ سنا۔

’’وہ فرطِ مسرت سے غش کھا گیا ہے‘‘ ارسلان بیک نے اپنے سپاھیوں سے کہا۔ ’’اس کو چھوڑو ۔ جب وہ ہوش میں آئے گا تو محل میں آ کر امیر سے اپنے بے پناہ شکرئے کا اظہار کر سکتا ہے۔ چل پڑو!‘‘

اس دوران میں خواجہ نصر الدین پچھلی گلیوں میں منڈلا رہے تھے ۔ وہ دوسرے سرے سے سڑک پر واپس آئے ۔ جھاڑیوں کے پیچھے سے انھیں نیاز کا پھاٹک دکھائی دے رہا تھا جہاں انھیں دو سپاھی اور تیسرا آدمی دکھائی دیا جو جعفر سود خور تھا۔

’’اچھا ۔ لنگڑے کتے ! تو سپاھیوں کو میری گرفتاری کے لئے لایا تھا !‘‘ خواجہ نصر الدین نے صحیح حالات سے لاعلم ہونے کی وجہ سے اس طرح سوچا۔ ’’بہت اچھا، اچھی طرح ڈھونڈ لے! لیکن تو خالی ہاتھ لوٹے گا۔‘‘

لیکن وہ خالی ہاتھ نہیں لوٹے۔ خواجہ نصر الدین دہشت سے بالکل پتھر ہو گئے جب انہوں نے دیکھا کہ سپاھی ان کی محبوبہ کو پھاٹک سے باہر لئے جا رہے ہیں ۔ وہ ہاتھ پیر مار رہی تھی اور دلشکن آواز میں چیخ رہی تھی لیکن سپاھیوں نے اس کو مضبوط پکڑ کر سپروں کے دھرے حلقے سے گھیر رکھا تھا۔

یہ جون کی گرم دوپہر تھی لیکن خواجہ نصر الدین کے جسم میں ایک سرد کپکپی دوڑ گئی ۔ پہرے دار قریب آ رہے تھے کیونکہ ان کا راستہ اس جگہ سے ہو کر گزرتا تھا جہاں خواجہ نصر الدین چھپے ہوئے تھے۔ وہ پاگل ہو گئے ۔ انہوں نے اپنا خنجر نیام سے کھینچ لیا اور زمین سے چمٹ کر لیٹ گئے ۔ ارسلان بیک اپنا چمکتا ہوا بلا لگائے دستے کے آگے آگے تھا۔ خنجر اس کی داڑھی کے نیچے چربی دار گردن میں اتر گیا ہوتا اگر اچانک ایک بھاری ہاتھ خواجہ نصر الدین کو تھام نہ لیتا اور ان کو زمین پر دبائے نہ رکھتا ۔ انہوں نے پیچ و تاب کھاتے ہوئے اپنا ہاتھ چوٹ کرنے کے لئے بلند کیا لیکن یوسف لوہار کا کالک سئ لپا ہوا چہرہ پہچان کر ان کا ہاتھ نیچے گر گیا۔

’’چپکے پڑے رہو‘‘ لوہار نے آہستہ سے کہا ’’ چپکے پڑے رہو! کیا پاگل ہو گئے ہو وہ بیس سر سے پیر تک مسلح آدمی ہیں اور تم اکیلے ہو اور پھر تمہارے پاس کوئی ٹھکانے کا ہتھیار بھی تو نہیں ہے۔ تم ختم ہو جاؤ گے اور لڑکی مدد بھی نہ کر سکو گے۔ میں تم سے کہتا ہوں چپکے پڑے رہو!‘‘

لوہار نے ان کو اس وقت تک دبائے رکھا جب تک کہ دستہ سڑک کے موڑ پر غائب نہیں ہو گیا ۔

’’ارے ، تم نے مجھے کیوں روک لیا؟‘‘ خواجہ نصر الدین چلائے۔ ’’اچھا ہی ہوتا اگر میں مر جاتا۔‘‘,

’’ کسی شیر پر ہاتھ اُٹھانا یا تلوار پر مکا تاننا دانش مندوں کا کام نہیں ہے‘‘ لوہار نے درشتی سے کہا ۔ ’’میں پہرے داروں کے پیچھے بازار سے لگا تھا اور میں تمھاری غیر دانشمندانہ حرکت روکنے کے لئے بر وقت پہنچ گیا۔ تمھیں اس لڑکی کے لئے مرنا نہیں چاہئے بلکہ کوشش کر کے اس کو بچانا چاہئے۔ یہ مشکل تو ہے لیکن زیادہ اچھا ہو گا۔ غمگین خیالوں میں ڈوب کر وقت نہ گنواؤ، جاؤ اور کچھ کرو۔ ان کے پاس تلواریں ، ڈھالیں اور نیزے ہیں لیکن اللہ نے تم کو طاقتور اسلحہ عطا کئے ہیں۔ وہ ہیں تیز دماغ اور ہوشیاری جن میں تم اپنا ثانی نہیں رکھتے‘‘ اس نے کہا ۔ اس کے الفاظ مردانہ اور اس لوہے کی طرح مضبوط تھے جس کو وہ اپنی تمام زندگی ڈھالتا رہا تھا ۔ ان کو سن کر خواجہ نصر الدین کا ڈانواں ڈول دل بھی لوہے کی طرح سخت ہو گیا۔

’’ لوہار، تمھارا شکریہ، زندگی میں اس سے زیادہ تلخ لمحے مجھے کبھی پیش نہیں آئے لیکن نا امید ہو کر ہار نہ ماننا چاہئے۔ تمھیں یقین دلاتا ہوں کہ میں اپنے ہتھیاروں کا کارآمد استعمال کروں گا۔‘‘

وہ جھاڑیوں سے نکل کر سڑک پر آ گئے۔ اس وقت سود خور بھی ایک قریب کے گھر سے نکلا ۔ وہ کسی کمہار سے قرض کے تقاضے کے لئے رُک گیا تھا جو واجب الادا ہو چکا تھا۔ خواجہ نصر الدین اور اس کا دو بدو سامنا ہو گیا۔ سود خور سفید پڑ گیا اور اُلٹے پیروں بھاگ کر دروازہ بند کر لیا اور کنڈی چڑھا لی۔

’’ جعفر، او کینہ پرور، یاد رکھ، تیرے لئے مصیبت ہے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے چلا کر کہا۔ ’’میں نے سب کچھ دیکھا اور سنا ہے اور میں سب کچھ جانتا ہوں۔‘‘

ذرا خاموش رہ کر سود خور اندر سے بولا ’’گیدڑ کو بیری نہیں ملی اور نہ عقاب کو۔ بیری شیر نے ہڑپ کر لی۔‘‘

’’ یہ تو دیکھنا ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ’’جعفر میرے الفاظ یاد رکھ! میں نے تجھ کو پانی سے کھینچ کر نکالا تھا۔ لیکن قسم کھاتا ہوں کہ میں تجھ کو اسی تالاب میں ڈبوؤں گا۔ کائی تیرے جسم سے لپٹ جائیگی اور گھاس پھوس تیرا گلا گھونٹ دیں گے۔‘‘

جواب کا انتظار کئے بغیر خواجہ نصر الدین وہاں سے چل دئے۔ وہ نیاز کے گھر کے پاس سے بلا رکے گزر گئے۔ ان کو ڈر تھا کہ کہیں سودخور دیکھ نہ لے اور بعد کو بوڑھے کو موردِ الزام کرے۔ سڑک کے سرے پر اس کا بالکل یقین کرنے کے بعد کہ انکا پیچھا نہیں کیا جا رہا ہے وہ تیزی سے ایک ویران جگہ کی طرف دوڑے جہاں گھاس پھوس اُگی تھی اور دیوار کے اُوپر سے پھاند کر کمہار کے گھر پہنچ گئے۔

بڈھا اب بھی منہ کے بل زمین پر پڑا تھا۔ اس کے قریب چند چاندی کے سکے جو ارسلان بیک ڈال گیا تھا ہلکے سے چمک رہے تھے۔ بڈھّے نے اپنا آنسوؤں اور مٹی سے لتھڑا چہرہ اوپر اٹھایا۔ اس کے ہونٹوں کو حرکت ہوئی لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا۔ پھر اس کی نذر ایک رومال پر پڑی جو اس کی بیٹی وہاں ڈال گئی تھی۔ اس کو دیکھ کر اس نے اپنا سفید سر زمین سے ٹکرا دیا اور اپنی داڑھی نوچنے لگا۔

خواجہ نصر الدین کو اسے دلاسا دینے میں کافی وقت لگا۔ آخر کار اس کو اٹھا کر ایک بنچ تک لے گئے اور بٹھا دیا۔

’’ سنو ، بڑے میاں ! تمھیں کو تنہا رنج نہیں پہنچا ہے‘‘ انہوں نے کہا ’’شاید تم جانتے ہو کہ میں اس سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے؟ تم جانتے ہو کہ ہم میں شادی کا عہد ہو چکا تھا؟ میں صرف اس بات کا منتظر تھا کہ تمھیں دینے کے لئے جہیز کی کافی رقم جمع کر لوں۔‘‘

’’مجھے جہیز کی کیا پرواہ؟‘‘ بڈھّے نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا ’’کیا میں اپنی پیاری بیٹی کو اس کی مرضی کے خلاف ناراض کرتا؟ بہر حال افسوس، ان باتوں کے لئے بہت دیر ہو چکی ہے۔ وہ ہاتھ سے جاتی رہی۔ اب تو وہ حرم میں پہنچ چکی ہو گی۔۔۔ ہائے توبہ کیسی بے عزتی ہوئی!‘‘ وہ رونے پیٹنے لگا ’’مجھے محل جانا چاہئے۔۔۔ میں امیر کے قدموں میں گر کر التجا کروں گا، روؤں گا اور گڑگڑاؤں گا اور اگر ان کے سینے میں پتھر کا دل نہیں ہے تو۔۔۔‘‘

وہ کھڑا ہو گیا اور لڑکھڑاتا ہوا دروازے کی طرف چلا۔

’’ٹھہرو!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’تم بھولتے ہو کہ امیروں کا خمیر دوسرے انسانوں جیسا نہیں ہوتا ہے۔ ان کے دل ہی نہیں ہوتا۔ ان سے التجا کرنا بیکار ہوتا ہے۔ بس یہی ممکن ہے کہ ان سے چیز چھین لی جائے اور میں ، خواجہ نصر الدین گل جان کو امیر سے چھین لوں گا!‘‘

’’ وہ بہت طاقتور ہیں۔ ان کے پاس ہزاروں سپاھی ، ہزاروں پہرے دار اور ہزاروں جاسوس ہیں! تم ان کے خلاف کیا کر سکتے ہو؟‘‘

’’ ابھی تا نہیں جانتا کہ میں کیا کروں گا۔ لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ وہ گل جان کے پاس نہ تو آج اور نہ کل جائے گا! اور پرسوں بھی نہیں ! اور نہ وہ کبھی اس کو رکھ سکے گا یا اس کا مالک بن سکے گا۔ یہ بات اسی طرح سچ ہے جیسے بخارا سے بغداد تک پھیلا ہوا میرا نام خواجہ نصر الدین! اسلئے اپنے آنسو پونچھ ڈالو، بڑے میاں۔ رو پیٹ کر میرے کان نہ کھاؤ۔ میرے خیالوں کو منتشر نہ کرو۔‘‘

خواجہ نصر الدین تھوڑی دیر تک سوچتے رہے:

’’بڑے میں ، یہ بتاؤ کہ تمھاری مرحومہ بیوی کے کپڑے کہاں رکھے ہیں؟‘‘

’’ وہاں صندوق میں۔‘‘

خواجہ نصر الدین کنجی لیکر گھر کے اندر غائب ہو گئے اور چند منٹ بعد عورت کے بھیس میں نکلے۔ ان کا چہرہ گھوڑے کے بالوں کی نقاب میں اچھی طرح چھپا ہوا تھا۔

’’بڑے میاں ، میرا انتظار کرو اور خود سے کچھ نہ کرنا۔‘‘

انہوں نے اپنا گدھا باڑے سے نکالا ، اس پر کاٹھی کسی اور نیاز کے گھر سے روانہ ہو گئے۔

(۲۱)

گل جان کو باغ میں لے جا کر امیر کے سامنے پیش کرنے سے پہلے ارسلان بیک نے حرم کی مشاطاؤں کو بلایا اور ان کو حکم دیا کہ وہ گل جان کو خوب اچھی طرح آرساتہ و پیراستہ کریں تاکہ اس کے حسنِ کامل کو دیکھ کر امیر باغ باغ ہو جائے۔ مشاطائیں جو اس کام میں طاق تھیں فوراً حکم بجا لائیں۔ انہوں نے گل جان کا اشک آلود چہرہ گرم پانی سے دھویا، نفیس ریشمی کپڑے پہنائے، آنکھوں میں سرمے کا دنبالہ دیا، گالوں پر غازہ ملا ، بالوں کو گلاب کے تیل سے معطر کیا اور ناخون سرخ رنگے۔ پھر انہوں نے حرم سے خواجہ سراؤں کے عصمت مآب داروغہ کو بلایا ۔ کسی زمانے میں یہ آدمی اپنی عیاشی کے لئے بخارا بھر میں مشہور تھا۔ ان معاملات میں اپنی معلومات اور تجربے ہی کی وجہ سے وہ اس اعلیٰ عہدے پر فائز کیا گیا جسکے لئے دربار کے جراح نے اس کو خاص طور سے تیار کیا تھا ۔ یہ اس کا فرض تھا کہ وہ امیر کی ایک سو ساٹھ داشتاؤں پر برابر نگاہ رکھے کہ وہ امیر کے جذبات کو بر انگیختہ کرنے کے لئے کافی دلکش ہوں۔

سال بسال اس کا فرض اور بھی بھاری ہوتا جا رہا تھا کیونکہ امیر دن بدن سرد پڑتا جا رہا تھا اور اس کی قوت کم ہوتی جاتی تھی۔ متعدد بار یہ ہو چکا تھا کہ خواجہ سراؤں کے داروغہ کو صبح صبح درجن بھر کوڑوں کا انعام ملا تھا ۔ یہ تو اس کے لئے معمولی سزا تھی ۔ اس کہیں زیادہ بڑی سزا تو یہ تھی کہ جب وہ ماہ رو داشتاؤں کو امیر کے پاس جانے کے لئے تیار کرتا تو شدید کرب میں مبتلا ہو جاتا ، بالکل اسی طرح کے کرب میں جس کا سامنا جہنم میں رند مشربوں کو کرنا پڑے گا۔ یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ رند مشربوں کو جہنم میں ستونوں سے زنجیروں میں کس دیا جائے گا اور ان کو لباس سے بے نیاز حوروں کے جھرمٹ میں کھڑا رہنا پڑے گا۔

خواجہ سراؤں کا داروغہ گل جان کا حسن دیکھ کر متحیر رہ گیا ۔

’’واقعی حسین ہے!‘‘ اس نے اپنی باریک اور متحیر آواز میں کہا ’’اس کو امیر کے پاس لے جاؤ! میری نگاہ سے ہٹاؤ!‘‘

اور وہ وہاں سے بھاگ نکلا ۔ اس نے اپنا سر دیواروں سے ٹکرایا، دانت پیسے اور رونے پیٹنے لگا ’’ہائے قسمت ، اب تو برداشت نہیں ہوتا!‘‘

’’ یہ اچھی علامت ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمارا آقا نہال ہو جائے گا۔‘‘

بے چاری خاموش گل جان کو محل کے باغ پہنچایا گیا۔

امیر اٹھا ، اس کے قریب آیا اور اس کی نقاب الٹ دی۔

تمام وزراء ، عمائدین اور حکما نے اپنی آنکھیں قباؤں کی آستینوں سے ڈھک لیں۔

بڑی دیر تک امیر اس حسین چہرے سے اپنی نگاہیں نہ ہٹا سکا۔

’’سود خور نے ہم سے جھوٹ نہیں کہا تھا‘‘ اس نے زور سے کہا ’’ جس رقم کا ہم نے وعدہ کیا تھا اس سے تگنی رقم اس کو دی جائے۔‘‘

گل جان کو وہاں سے لے جایا گیا۔ امیر کافی خوش نظر آ رہا تھا۔

’’ اس کو مشغلہ مل گیا۔ وہ اب خوش ہے۔ اس کے دل کا بلبل لڑکی کے گالوں کے گلاب پر فریفتہ ہو گیا ہے‘‘ درباری آپسمیں کھسر پھسر کرنے لگے ’’صبح کو وہ اور بھی خوش مزاج ہو جائے گا۔ خدا کی مہربانی سے طوفان بخیر و خوبی گزر گیا۔ ہم میں سے کسی پر بجلی نہ گری۔‘‘

درباری شاعروں کی بھی ہمت بندھی، وہ آگے بڑھے اور باری باری امیر کی شان میں قصیدے پڑھنے لگے۔ اس کے چہرے کا ماہِ کامل سے ، قد کا نازک سرو سے اور اس کی حکومت کا دونوں جہان کے قران السعدین سے مقابلہ کرنے لگے۔

آخر میں ، ملک الشعراء اس طرح اپنا قصیدہ پڑھنے آیا جیسے اچانک جوش میں آ کر اس نے اس کو کہہ ڈالا ہو حالانکہ اگلے دن کی صبح سے یہ قصیدہ اس کو نوکِ زبان تھا۔

امیر نے اس کو مٹھی بھر چھوٹے سکے پھینک دئے اور وہ فرش پر رینگ رینگ کر ان کو جمع کرنے لگا ، ساتھ ہی وہ امیر کی جوتیوں کو بوسہ دینا نہیں بھولا۔

پھر امیر نے مربیانہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا ’’ہم نے بھی ایک نظم کہی ہے:

شام کو ہوا جو باغ میں گزر ہمارا
چاند چھپ گیا بادلوں میں شرم کا مارا
پرندے ہوئے خاموش ، ہوا بھی چال اپنی بھولی
اور ہم تھے وہاں استادہ ۔۔۔عظیم،
عالی مرتبت ، اٹل ، مانندِ آفتاب ، عظیم الشان!‘‘

سب شاعر گھٹنوں کے بل گر کر داد و تحسین دینے لگے:

’’کیا عظمت ہے! رودکی کو بھی مات کر دیا!‘‘

کچھ تو فرش کے بل زمین پر گر گئے جیسے تعریف کے جوش میں ان پر غشی طاری ہو گئی ہو۔

رقاصائیں آ گئیں، ان کے پیچھے بھانڈ ، مداری اور شعبدہ گر آئے اور امیر نے ان سب کو بڑی فیاضی سے انعامات دئے۔

’’مجھے افسوس ہے کہ میں سورج پر حکم نہیں چلا سکتا‘‘ اس نے کہا ’’ نہیں تو میں اس کو جلد غروب ہونے کا حکم دیتا۔۔۔‘‘

اور درباری اس پر خوشامدانہ قہقہے لگا رہے تھے۔

(۲۲)

بازار میں بڑی چہل پہل تھی ۔ یہ زوروں کے کاروبار کا وقت تھا ، خرید و فروخت اور لین دین میں اضافہ ہو رہا تھا۔ سورج بلند ہوتا جا رہا تھا اور لوگ ڈھکی ہوئی اور طرح طرح کی مہک سے بھری دوکانوں کے گھنے سائے میں پناہ لینے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ دوپہر کی تیز دھوپ کی کرنیں نرکل کی چھتوں کے روشندانوں سے عمودی گر رہی تھیں اور دھوئیں کے ستونوں کی طرح استادہ معلوم ہوتی تھیں۔ ان کی روشنی میں زربفت کے کپڑے جگمگا رہے تھے ، نرم ریشم چمک رہا تھا اور مخمل ایک ہلکے دبے دبے شعلے کی طرح دھکتا معلوم ہوتا تھا۔ چاروں طرف عمامے ، قبائیں اور رنگی ہوئی داڑھیاں روشنی میں چمک رہی تھیں۔ صاف شفاف تانبا آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر رہا تھا لیکن صرافوں کے نمدوں پر پھیلا ہوا کھرا سونا اس کو منہ چڑھا کر اپنی خالص چمک سے نیچا دکھا رکھا تھا۔

خواجہ نصر الدین نے اپنے گدھے کی لگام اس چاء خانے کے سامنے کھینچی جس کے برآمدے ایک مہینہ پہلے انہوں نے بخارا کے شہریوں سے یہ اپیل کی تھی کہ وہ کمہار نیاز کی مدد کریں اور اس کو امیر کی مہربانی سے بچائیں۔ اس تھوڑی سی مدت میں زندہ دل اور توندیل چائے خانے کے مالک علی سے جو سیدھا سادا ایماندار اور معتبر آدمی تھا خواجہ نصر الدین کی گہری دوستی ہو گئی تھی۔

موقع دیکھ کر خواجہ نصر الدین نے اسے پکارا:

’’علی!‘‘

چائے خانے کے مالک نے چاروں طرف دیکھا اور بھونچکا سا ہو گیا کیونکہ اس نے مردانی آواز سنی تھی اور دیکھ رہا تھا عورت۔

’’یہ میں ہوں، علی‘‘ خواجہ نصر الدین نے نقاب اٹھائے بغیر کہا ’’ مجھے پہچانتے ہو نا؟ خدا کے لئے اس طرح تو مت گھورو۔ کیا تم جاسوسوں کو بھول گئے ہو؟‘‘

احتیاط سے چاروں طرف دیکھ کر علی ان کو پچھلی کوٹھری میں لے گیا جہاں وہ ایندھن اور فاضل کیتلیاں رکھتا تھا۔ یہاں نمی اور ٹھنڈک تھی اور بازار کو شور بہت مدھم سنائی دے رہا تھا ۔

’’ علی ، میرا گدھا لو‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’اس کو اچھی طرح کھلانا پلانا کیونکہ مجھے اس کی کسی وقت بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اور میرے بارے میں کسی سے ایک لفظ بھی نہ کہنا۔‘‘

’’ لیکن خواجہ نصر الدین تم نے عورتوں کے کپڑے کیوں پہن رکھے ہیں؟‘‘ علی نے احتیاط سے دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا۔

’’میں محل جا رہا ہوں۔‘‘

’’ تمھارا دماغ تو نہیں چل گیا ہے !‘‘ چائے خانے کے مالک نے زور سے کہا ’’تم اپنا سر شیر کے منہ میں دینے جا رہے ہو۔‘‘

’’یہ کرنا ہی پڑے گا ، علی۔ تمھیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کیوں۔ آؤ ایک دوسرے سے رخصت ہو لیں کیونکہ اگر۔۔۔میں خطرناک مہم پر جا رہا ہوں۔‘‘

وہ ایک دوسرے سے بڑے خلوص سے گلے ملے۔ چائے خانے کے نیک دل مالک کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور اس کے گول ، سرخ رخساروں پر بہہ چلے۔ اس نے خواجہ نصر الدین کو رخصت کیا اور پھر اپنی گہری آہوں کو روک کر جو اس کے توند کو دھونک رہی تھیں اپنے گاہکوں میں لگ گیا۔

اس کا دل بھاری تھا اور اس میں طرح طرح کے وسوسے آ رہے تھے۔ وہ غمگین اور کھویا کھویا سا تھا۔ اس کے گاہکوں کو چاء دانیوں کے ڈھکن دو تین بار یہ یاد دلانے کے لئے بجانا پڑ رہے تھے کہ ان کو مزید چاء کی ضرورت ہے۔ اپنے خیالوں میں وہ دبنگ دوست کے ساتھ محل میں تھا۔

پہرے داروں نے خواجہ نصر الدین کو روک دیا۔

’’ میں لا جواب مشک ، عنبر اور عطرِ گلاب لائی ہوں‘‘ خواجہ نصر الدین بڑی چالاکی کے ساتھ زنانی آواز بنا کر برابر کہہ رہے تھے ’’ اے سورماؤ، مجھے حرم میں جانے دو۔ میں اپنا سامان بیچ کر تمھیں اس میں حصہ دونگی۔‘‘

’’بڑھیا ، چلتی بن، جا، جا، بازار میں سودا کر!‘‘ پہرے داروں نے ڈانٹا۔

اپنے مقصد میں ناکام ہو کر خواجہ نصر الدین افسردہ ہو گئے اور سوچنے لگے۔ ان کے پاس کم وقت تھا کیونکہ آفتاب مائل بزوال ہو چلا تھا۔ انہوں نے فصیل کا چکر لگایا لیکن چینی مسالے نے پتھروں کو اس طرح آپس میں پیوست کر دیا تھا کہ ان کو ایک دراڑ ، ایک سوراخ نہیں ملا۔ جہاں تک نہروں کے دھانوں کا سوال تھا ان میں ڈھلے ہوئے مضبوط لوہے کے سلاخ لگے تھے۔

’’ مجھے تو محل پہنچنا ہی ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے اپنے آپ سے کہا ’’ میں چاہتا ہوں اور پہنچوں گا۔ اگر نوشتہ تقدیر کے مطابق امیر نے میری منگیتر پر قبضہ کر لیا ہے تو تقدیر کے مطابق مجھے وہ واپس کیوں نہ ملنا چاہئے؟ میرا دل کہتا ہے کہ یہی ہو گا۔‘‘

وہ بازار واپس آ گئے۔ ان کو یقین تھا کہ اگر کوئی آدمی اٹل ہمت کے ساتھ کوئی ارادہ کر لے تو قسمت بھی اس کا ساتھ دیتی ہے۔ ہزاروں ملاقاتوں ، بات چیت اور جھگڑوں میں کوئی ایسی بات ضرور نکال آئے گی جو مناسب موقع فراہم کر دے گی اور آدمی اس کو ہوشیاری سے استعمال کر کے ان تمام رکاوٹوں کو دور کر سکتا ہے جو اس کی منزل اور اس کے درمیان حائل ہیں اور اس طرح اپنی قسمت کا لکھا پورا کر سکتا ہے۔ بازار میں ایسا ہی موقع کہیں ان کا منتظر تھا۔ ان کو اس کا قطعی یقین تھا اور وہ اس کی تلاش میں روانہ ہوئے۔

خواجہ نصر الدین سے کوئی چیز بچتی نہ تھی ۔ ہزاروں آدمیوں کے شور و غل میں ایک لفظ ، ایک چہرہ بھی نہیں۔ ان کا دماغ ، کان اور نظریں اس غیر معمولی معیار کو پہنچ چکی تھیں جب انسان ان حدود کو آسانی سے پار کر جاتا ہے جو قدرت نے اس پر عائد کی ہیں۔ اس صورت میں جیت ان ہی کی ہوتی تھی کیونکہ اس دوران میں ان کے مخالفین تو عام انسانی حدود ہی میں رہتے تھے۔

اس جگہ جوہریوں اور گندھیوں کے بازار ایک دوسرے سے ملتے تھے خواجہ نصر الدین نے مجمع کے شور و ہنگامے کے درمیان ایک پھسلانے والی آواز سنی:

’’تم کہتی ہو کہ تمھارا شوہر تم سے محبت نہیں کرتا اور ہم بستر نہیں ہوتا۔ اس کا ایک علاج ہے لیکن مجھے اس کے بارے میں خواجہ نصر الدین سے مشورہ کی ضرورت ہے۔ تم نے تو سنا ہی ہو گا کہ وہ یہاں ہیں؟ معلوم کر کے مجھے بتاؤ کہ وہ کہاں ہیں۔ ہم دونوں تمھیں تمھارے شوہر سے ملا دیں گے۔‘‘

خواجہ نصر الدین نے قریب جا کر دیکھا تو یہ چیچک رو رمال جاسوس تھا۔ ایک عورت چاندی کا سکہ لئے اس کے سامنے کھڑی تھی۔ رمال نے مٹر کے دانے قالین پر پھیلا رکھے تھے اور کسی پرانی کتاب کی ورق گردانی کر رہا تھا۔

“لیکن اگر تم خواجہ نصر الدین کو نہ ڈھونڈ سکیں” وہ بولا “تو تمھارے اوپر مصیبت آ جائے گی۔ تمھارا شوہر تمھیں سدا کے لئے چھوڑ دے گا!”

خواجہ نصر الدین نے طے کیا کہ اس رمال کو ذرا سبق سکھایا جائے۔ وہ قالین کے پاس بیٹھ گئے:

“ذرا میری قسمت کا حال تو بتانا، دوسروں کی قسمتوں کے دانش مند پارکھ۔”

آدمی نے اپنے دانے پھیلا دئے۔

“اے عورت!” وہ اچانک چلایا جیسے اس پر بجلی گر پڑی ہو “عورت، تیرے اوپر مصیبت آ گئی، موت کا سیاہ ہاتھ تیرے سر پر سایہ کر چکا ہے!”

کئی لوگ جو ادھر ادھر کھڑے تھے اشتیاق سے قریب آ گئے۔

“میں موت کی چوٹ سے تجھے بچانے میں مدد تو کر سکتا ہوں لیکن اکیلا نہیں” رمال نے اپنی بات جاری رکھی۔ “مجھے خواجہ نصر الدین سے مشورہ کرنا چاہئے۔ اگر تو اس کو ڈھونڈ نکالے اور مجھے بتائے کہ وہ کہاں ہیں تو تیری جان بچ سکتی ہے۔”

“بہت اچھا، میں خواجہ نصر الدین کو تیرے پاس لاؤں گی۔”

“تو ان کو لائے گی؟” رمال نے خوشی سے چونک کر کہا۔ “کب؟”

“میں ان کو ابھی ابھی لا سکتی ہوں۔ وہ بہت قریب ہی ہیں۔”

“کہاں ہیں وہ؟”

“یہیں، بہت قریب۔”

رمال کی آنکھوں میں حریصانہ چمک پیدا ہو گئی۔

“لیکن کہاں ہیں وہ؟ میں ان کو نہیں دیکھتا۔”

“اور تم رمال بنے ہو! اتنا بھی نہیں جان سکتے؟ یہ رہے وہ!”

تیزی کے ساتھ عورت نے اپنا نقاب اٹھا دیا۔ خواجہ نصر الدین کا چہرہ دیکھ کر رمال پیچھے ہٹ گیا۔

“یہ رہے وہ!” خواجہ نصر الدین نے دھرایا۔ “تم مجھ ے کیا مشورہ کرنا چاہتے تھے؟ تم جھوٹے ہو، تم رمال نہیں بلکہ امیر کے جاسوس ہو! مسلمانو، اس پر مت اعتبار کرو! یہ تم کو دھوکہ دے رہا ہے! وہ یہاں بیٹھا خواجہ نصر الدین کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہا ہے!”

جاسوس نے ادھر ادھر نگاہ دوڑائی لیکن کوئی سپاہی نہ تھا۔ ناامیدی سے تقریباً روتے ہوئے اس نے خواجہ نصر الدین کو جاتے دیکھا۔ غصے سے بھرے مجمع نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔

“امیر کا جاسوس، پاجی کتا!” چاروں طرف سے آوازیں آنے لگیں۔ قالین لپیٹتے ہوئے رمال کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ پھر وہ محل کی طرف بگٹٹ بھاگا۔

(۲۳)

گندے، میلے، بدبو دار اور دھوئیں سے بھرے ہوئے پہرے داروں کے کمرے میں سپاھی ایک پرانے نمدے پر جو چیلڑوں سے بھرا تھا بیٹھے اپنا بدن کھجلا رہے تھے اور خواجہ نصر الدین کو پکڑنے کے منصوبے بنا رہے تھے۔

“تین ہزار تانگے” وہ بولے “سوچو تو، تین ہزار تانگے اور جاسوسوں کے داروغہ کا منصب!”

“کوئی نہ کوئی تو خوش قسمت ہو گا ہی!”

“کاش کہ میں وہ خوش قسمت ہوتا!” ایک موٹے، کاہل سپاھی نے جو سب سے احمق تھا آہ بھر کر کہا۔ وہ ابھی تک اس لئے برخاست نہیں کیا گیا تھا کہ وہ کچا انڈا بلا چھلکا توڑے مسلم نگل جانے کا آرٹ جانتا تھا۔ وہ کبھی کبھی امیر کا دل اس کرتب سے بہلاتا تھا اور اس سے کچھ انعام حاصل کر لیتا تھا حالانکہ بعد کو اسے سخت درد کی اذیت برداشت کرنی پڑتی تھی۔

چیچک رو جاسوس پہرے داروں کے کمرے میں بالکل بگولے کی طرح داخل ہوا:

“وہ یہاں ہے! خواجہ نصر الدین بازار میں ہے! وہ عورت کے بھیس میں ہے!”

سپاہی اپنا اسلحہ اٹھا کر پھاٹک کی طرف بھاگے۔

چیچک رو جاسوس بھی ان کے پیچھے پیچھے چیختا ہوا بھاگا:

“انعام میرا ہے! سنتے ہو نا! میں نے اس کو پہلے دیکھا! انعام میرا ہے!”

پہرے داروں کو دیکھ کر لوگ جلدی ادھر ادھر بھاگنے لگے اور بھگدڑ کی وجہ سے بازار میں ہلچل مچ گئی۔ سپاہی مجمع کے اندر گھس گئے۔ ان میں سے ایک بے دھڑک سپاھی نے ایک عورت کو پکڑ کر اس کا نقاب چاک کر دیا۔ وہ سارے مجمع کے سامنے بے نقاب ہو گئی۔

عورت نے زور کی چیخ ماری۔ دوسری سمت سے ایک اور چیخ گونجی۔ پھر تیسری عورت سپاھیوں کے پنجے سے نکلنے کی کشمکش کرتی ہوئی چیخی۔ اب چوتھی اور پانچویں۔۔۔ سارا بازار عورتوں کی چیخوں، آہ و بکا اور سسکیوں سے گونج اٹھا۔

متحیر مجمع پر جمود طاری تھا۔ بخارا میں تو ایسا نراج کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔ بعض کے چہرے زرد اور بعض کے سرخ پڑ گئے۔ ہر دل بے چین ہو گیا۔ سپاھی اپنا کام کرتے رہے۔ وہ عورتوں کو پکڑتے تھے، ان کو ادھر ادھر کھینچتے تھے، ان کو مارتے تھے اور ان کے کپڑے پھاڑ رہے تھے۔

“مدد! مدد!” عورتیں چلا رہی تھیں۔

یوسف لوہار کی آواز مجمع کے اوپر زور سے گونجی اور چھا گئی:

“مسلمانو! تم کیوں ہچکتے ہو؟ کیا یہ کم ہے کہ سپاھی ہم کو لوٹتے ہیں؟ اس پر وہ دن دوپہر ہماری عورتوں کی بے عزتی کرتے ہیں!”

مجمع غصے سے گرج کر آگے بڑھا۔ ایک سقے نے اپنی بیوی کی آواز پہچان لی اور اس کو چھڑانے لپکا۔ سپاھیوں نے اسے الگ ڈھکیل دیا لیکن دو جولاہوں اور تین ٹھٹھیروں نے اس کی مدد کی اور سپاھیوں کو پیچھے ڈھکیلا۔ اب لڑائی شروع ہو گئی۔

رفتہ رفتہ ہر ایک لڑائی میں شامل ہو گیا۔ سپاھیوں نے اپنی تلواریں کھینچ لیں۔ ہر طرف سے ان پر برتن، کشتیاں، صراحیاں، کیتلیاں، نعلیں اور لکڑی کے جوتے برسنے لگے۔ ان کو بچنے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔ سارے بازار میں لڑائی پھیل گئی۔

اسی دوران میں امیر اپنے محل میں آرام سے اونگھ رہا تھا۔ اچانک وہ اچھلا اور بھاگ کر کھڑکی کے پاس گیا۔ اس کو کھولا اور پھر دہشت کی حالت میں یکدم بند کر دیا۔

بختیار دوڑا ہوا آیا۔ وہ زرد تھا اور کانپ رہا تھا۔

“کیا ہوا؟” امیر نے پوچھا۔ “کیا ہو رہا ہے؟ تو پیں کہاں ہیں؟ ارسلان بیک کہاں ہے؟”

ارسلان بیک دوڑتا ہوا آیا اور منہ کے بل گر پڑا:

“آقا میرا سر قلم کرنے کا حکم دیجئے!”

“یہ کیا ہے؟ کیا معاملہ ہے؟”

ارسلان بیک نے پڑے پڑے جواب دیا:

“آقا، آفتاب جہاں اور۔۔۔”

“بند کر!” امیر نے بے تاب ہو کر غصے میں پیر پٹکے۔ “یہ سب بعد کو کہہ لینا! کیا ہو رہا ہے؟”

“خواجہ نصر الدین ۔۔۔۔ اس نے عورت کا بھیس بدلا۔ یہ سب اسی کا قصور ہے، یہ سب خواجہ نصر الدین کا کیا دھرا ہے! میرا سر قلم کرنے کا حکم دیجئے!”

لیکن امیر کو دوسری فکر پڑی تھی۔

(۲۴)

آج کی ہر گھڑی خواجہ نصر الدین کے لئے بیش قیمت تھی۔ اس لئے انہوں نے بازار میں آوارہ گردی نہیں کی۔ لیکن ایک سپاھی کا جبڑا اور دوسرے کے دانت توڑ کر اور تیسرے کی ناک چپٹی کر کے وہ صحیح سلامت اپنے دوست علی کے چا خانے لوٹ آئے۔ یہاں انہوں نے زنانی پوشاک اتار دی اور رنگین بدخشانی عمامہ اور مصنوعی داڑھی لگا لی۔ اس طرح بھیس بدل کر وہ ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں سے وہ ساری لڑائی کا مشاہدہ کر سکیں۔

مجمع میں گھرے ہوئے سپاھی اپنے کو پوری طاقت کے ساتھ بچا رہے تھے۔ خواجہ نصر الدین کے بالکل پاس چائے خانے کے برابر ایک کشمکش شروع ہو گئی۔ ان سے کسی طرح ضبط نہ ہوا اور انہوں نے اپنی چا دانی سپاھیوں پر خالی کر دی اور یہ اس مہارت سے کیا کہ انڈے گٹک جانے والے موٹے اور کاہل سپاھی کی گردن پر پانی دوڑ گیا۔ وہ چلا کر زمین پر چت گر پڑا اور اپنے ہاتھ پیر ہوا میں پھینکنے لگا۔ اس پر نگاہ ڈالے بغیر خواجہ نصر الدین پھر اپنے خیالات میں ڈوب گئے۔ اچانک انہوں نے کسی بڈھّے کی کانپتی ہوئی چیخ کی آواز سنی:

“مجھے راستہ دو، راستہ دو، خدا کے واسطے! یہاں کیا ہو رہا ہے؟”

چائے خانے سے ذرا دور پر جہاں زوروں کی گتھم گتھا ہو رہی تھی بیچوں بیچ ایک سفید ریش، عقاب جیسی ناک والا بڈھا اونٹ پر بیٹھا تھا۔ دیکھنے میں وہ عرب معلوم ہوتا تھا۔ اپنے عمامے کے سرے کے پیچ کی وجہ سے وہ صاحب علم و فضل معلوم ہوتا تھا۔ وہ انتہائی خوف کی حالت میں اپنے اونٹ کے کوہان سے لپٹا ہوا تھا اور اس کے چاروں طرف لڑائی ہو رہی تھی۔ کوئی اس کا پیر پکڑ کر اونٹ سے کھینچنے کی کوشش کر رہا تھا اور بڈھا بچنے کے لئے بے تحاشہ جدوجہد کر رہا تھا۔ غل غپاڑے اور چیخوں کی گونج کانوں کو بہرہ کئے دے رہی تھی۔

پناہ پانے کی انتہائی کوشش میں بڈھا کسی نہ کسی طرح چائے خانے تک پہنچ گیا۔ بار بار چونک کر اور گھوم گھوم کر دیکھتے ہوئے اس نے خواجہ نصر الدین کے گدھے کے برابر اپنا اونٹ باندھا اور برآمدے پر چڑھ آیا۔

“خدا کی قسم! تمھارے شہر میں کیا ہو رہا ہے؟”

“بازار ہے” خواجہ نصر الدین نے مختصر سا جواب دے دیا۔

“کیا بخارا میں ہمیشہ ایسے ہی بازار ہوتے ہیں؟ بھلا ایسے مجمع میں میں کبھی محل تک پہنچ سکوں گا؟”

“محل” کا لفظ سنتے ہی خواجہ نصر الدین تاڑ گئے کہ بڈھّے سے یہ ملاقات وہ موقع فراہم کرتی ہے جس کے وہ منتظر تھے اور وہ اب امیر کے حرم تک پہنچ کر گل جان کو رہا کرا سکیں گے۔”

لیکن سبھی جانتے ہیں کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے۔ دانائے روزگار شیخ سعدی شیرازی کہہ گئے ہیں “دیر آید درست آید” اس لئے خواجہ نصر الدین نے بے صبری سے کام نہیں لیا۔

بڈھا کراہ کراہ کر آہیں بھر رہا تھا:

“اللہ اکبر! اے مومنوں کے محافظ! میں محل تک کیسے پہنچوں؟”

“یہاں کل تک انتظار کیجئے” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔

“میں انتظار نہیں کر سکتا” بڈھّے نے زور سے کہا۔ “محل میں میرا انتظار ہو رہا ہے۔”

خواجہ نصر الدین نے قہقہہ لگایا:

“محترم، سفید ریش بزرگ! میں آپ کا پیشہ اور کام تو نہیں جانتا ہوں لیکن کیا آپ کو قطعی یقین ہے کہ محل میں لوگ آپ کے بغیر کل تک کام نہیں چلاسکتے؟ بخارا میں بڑے بڑے حکما و عقلا ہفتوں تک محل میں باریابی کا انتظار کرتے ہیں۔ آپ کو آخر اس سے مستثنی کیوں کیا جائے گا؟”

“اچھا تو سن لو” بڈھّے نے خواجہ نصر الدین کی بات کا نا برا مان کر غرور سے کہا ” میں مشہور عاقل نجومی اور حکیم ہوں۔ میں امیر کی دعوت پر بغداد سے آیا ہوں تاکہ ان کی ملازمت میں رہ کر امور ریاست میں ان کی مدد کروں۔”

“اوہ!” خواجہ نصر الدین نے ادب سے جھک کر کہا۔”خوش آمدید، شیخ دانا! میں بغداد جا چکا ہوں اور میں اس شہر کے عقلا سے واقف ہوں۔ اپنا نام بتائے!”

“اگر تم بغداد جا چکے ہو تو تم نے ان خدمات کا ذکر ضرور سنا ہو گا جو میں نے خلیفہ کے لئے کی ہیں۔ میں نے ان کے پیارے بیٹے کی جان بچائی تھی جس کا اعلان سارے ملک میں کیا گیا۔ میرا نام مولانا حسین ہے۔”

“مولانا حسین!” خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا “کیا یہ ممکن ہے کہ آپ بذات خود مولانا حسین ہوں؟”

بوڑھا یہ دیکھ کر اطمینان سے مسکرایا کہ اس کی شہرت اپنے شہر بغداد سے

باہر نکل کر اتنی پھیل چکی ہے۔

“تمھیں حیرت کیوں ہوئی؟” اس نے کہا۔ “ہاں، میں بذات خود مولانا حسین ہوں، وہ دانا جس کی عقل و دانش میں، ستارہ شناسی میں اور مسیحائی میں کوئی جواب نہیں۔ لیکن مجھ میں غرور و فخر نہیں ہے۔ دیکھو نا میں تم جیسے معمولی آدمی سے کس سادگی کے ساتھ باتیں کر رہا ہوں۔”

بڈھّے نے ایک تکیے کی طرف اپنا ہاتھ بڑھایا اور اس کی ٹیک لے لی۔ وہ اپنی عقل و دانش کا تفصیلی حال بتا کر اپنے ہم نشین کو نوازنا چاہتا تھا۔ اس کو امید تھی کہ وہ بڑے فخر کے ساتھ دوسرے لوگوں کو مشہور دانا مولانا حسین سے ملاقات کے بارے میں تفصیل سے سے بتائے گا، اس کی دانائی کے گن گائے گا اور سننے والوں کے دل میں دانا کا احترام بڑھانے کے لئے اس میں مبالغہ بھی کرے گا اور اس طرح اپنے لئے بھی عزت کمائے گا۔ کیونکہ وہ لوگ یہی رویہ اختیار کرتے ہیں جن پر بڑے لوگ عنایات کرتے ہیں۔

“اس طرح یہ عام لوگوں میں میری شہرت کو بڑھائے گا جن کو حقیر نہ سمجہنا چاہئے” مولانا حسین نے سوچا “عوام کی باتیں جاسوسوں اور خبر رسانوں کے ذریعہ امیر کے کانوں تک پہنچیں گی اور میری دانائی کی تصدیق کریں گی۔ کسی بات کی باہر سے تصدیق بلاشبہ بہترین تصدیق ہے۔ اس طرح آخر میں مجھے ہی فائدہ ہو گا۔

اپنے ہم نشین پر رعب جمانے کے لئے دانا نے اس کو تاروں کے جھرمٹوں اور ان کے درمیان روابط کے بارے بتانا شروع کر دیا اور بہت سے پرانے داناؤں کے حوالے بھی دئے۔

خواجہ نصر الدین اس کی باتیں بڑے غور سے سنتے رہے اور یہ کوشش کی ان کے ذہن میں سب محفوظ ہو جائیں۔

“نہیں!” آخر میں انہوں نے کہا۔”ابھی تک مجھے یقین نہیں آتا! کیا آپ واقعی مولانا حسین ہیں؟”

“واقعی!” بڈھّے نے چلا کر کہا۔ “اس میں کیا عجیب بات ہے؟”

خواجہ نصر الدین پیچھے ہٹ گئے جیسے وہ ڈر رہے ہوں۔ پھر انہوں نے خوف و ہراس کی آواز میں کہا “بدقسمت انسان! آپ تباہ ہو گئے!”

بوڑھے کا گلا رندھ گیا اور اس کے ہات سے چا کا گلاس چھٹ پڑا۔ اس کا سارا گھمنڈ اور اہمیت غائب ہو گئی۔

“کیسے؟ کیوں؟ کیا بات ہے؟” اس نے پریشان ہو کر پوچھا۔

“آپ نہیں جانتے کہ سب ہنگامہ آپ کی وجہ سے ہے؟” خواجہ نصر الدین نے بازار کی طرف اشارہ کر کے کہا جہاں ابھی لڑائی بالکل ختم نہیں ہوئی تھی۔ “امیر کے کانوں تک یہ بات پہنچی ہے کہ بغداد چھوڑتے وقت آپ نے علانیہ فرمایا کہ آپ امیر کے حرم میں دخل حاصل کریں گے اور ان کی بیویوں کو ورغلائیں گے۔ ہائے افسوس، مولانا حسین۔”

بڈھّے کا منہ کھلا رہ گیا، اس کی آنکھیں پتھرا گئیں اور خوف سے ہچکیاں لینے لگا۔ “میں؟” وہ ہکلا رہا تھا “میں۔۔۔ حرم میں؟۔۔۔”

“آپ نے تخت خداوندی کی قسم کھا کر کہا کہ آپ یہی کرینگے۔ نقیبوں نے آج اسی طرح اعلان کیا اور امیر نے حکم دیا ہے کہ شہر میں قدم رکھتے ہی آپ کو پکڑ لیا جائے اور اسی جگہ گردن مار لی جائے۔”

دانا نے ہراساں ہو کر ایک آہ سرد بھری۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس کے کس دشمن نے اس پر یہ بلا نازل کی ہے۔ اس کو اس بات کی سچائی پر ذرا بھی شبہ نہیں ہوا۔ درباری سازشوں کے دوران اس نے خود متعدد بار اپنے دشمنوں کو اسی طرح تباہ کیا تھا اور ان کے سر بانسوں پر چڑھے دیکھ کر اس کا دل ٹھنڈا ہوا تھا۔

“تو آج” خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی “جاسوسوں نے امیر کو خبر سنائی کہ آپ آ گئے ہیں۔ انہوں نے آپ کی گرفتاری کا حکم دے دیا اور سپاھی آپ کو جلدی جلدی تلاش کرنے لگے۔ انہوں نے سب دوکانوں کو چھان مارا۔ کاروبار رک گیا اور امن و امان نہیں رہا۔ غلطی سے سپاھیوں نے ایک آدمی کو پکڑ لیا جو آپ کا ہم شبیہ تھا اور عجلت میں انہوں نے اس کا سر قلم کر دیا۔ اتفاق سے وہ ایک ملا تھا جو اپنے زہد و اتقا کے لئے مشہور تھا۔ اس کی مسجد کے لوگ بگڑ کھڑے ہوئے۔ دیکھئے یہ سب کیا ہو رہا ہے اور محض آپ کی وجہ سے۔”

“ہائے کیسا بدقسمت ہوں میں” دانا نے خوف و ہراس سے کہا۔

وہ پریشان ہو کر بڑبڑاتا، کراہتا اور فریاد کرتا رہا۔ اس طرح خواجہ نصر الدین کو یقین ہو گیا کہ ان کی چال کامیاب ہو گئی ہے۔

اس دوران میں لڑائی محل کے پھاٹکوں کی طرف منتقل ہو گئی تھی جدھر بری طرح پٹے ہوئے سپاھی بھاگ رہے تھے۔ اس دوران میں وہ اپنے ہتھیار بھی کھو بیٹھے تھے۔ بازار میں اب بھی ہل چل اور ہنگامہ تھا لیکن سکون ہوتا جا رہا تھا۔

“مجھے بغداد واپس جانا چاہئے!” بڈھّے نے گریہ و زاری کرتے ہوئے کہا۔ “مجھے بغداد واپس جانا چاہئے!”

“آپ کو شہر کے پھاٹک پر پکڑ لیا جائے گا” خواجہ نصر الدین نے جھٹ سے جواب دیا۔

“ہائے میری قسمت! ہائے مصیبت! خدایا میں معصوم ہوں! میں نے ایسا توہین آمیز اور ناپاک اعلان کبھی نہیں کیا۔ میرے دشمنوں نے امیر سے یہ تہمت تراشی کی ہے۔ ارے مہربان مومن، میری مدد کرو!”

خواجہ نصر الدین تو اسی بات کے منتظر ہی تھے کیونکہ وہ خود مدد کی پیش کش کر کے دانا کو شبہ کرنے کی گنجائش نہیں دینا چاہتے تھے۔

“آپ کی مدد کروں؟” انہوں نے کہا۔ “میں آپ کی مدد کیسے کر سکتا ہوں؟ اپنے آقا کے وفادار اور مخلص خادم کی حیثیت سے تو مجھے آپ کو بلا تاخیر سپاھیوں کے حوالے کر دینا چاہئے تاکہ مجھے پر سازش کا الزام نہ عائد کیا جا سکے۔”

ہچکیاں لیتے اور کانپتے ہوئے دانا نے التجا آمیز نظروں سے خواجہ نصر الدین کو دیکھا۔

“پھر بھی آپ کہتے ہیں کہ آپ بے گناہ ہیں اور لوگوں نے آپ کے خلاف تہمت تراشی کی ہے۔ میں تو اس بات کا یقین کرنے کے لئے تیار ہوں” خواجہ نے اس کو یقین دلایا “کیونکہ اس بزرگی کی عمر میں بھلا آپ کا حرم میں کیا کام۔”

“بالکل ٹھیک کہتے ہو!” بڈھّے نے کہا۔ “لیکن میرے لئے نجات کا راستہ کیا ہے؟”

“ایک راستہ ہے” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ وہ بڈھّے کو پچھلی والی اندھیری کوٹھری میں لے گئے اور وہاں انہوں نے اس کو عورت والے کپڑوں کی پوٹلی دی۔ “میں نے آج یہ اپنی بیوی کے لئے خریدے تھے۔ اگر آپ چاہیں تو اس آپ اس کا تبادلہ اپنی عمامے اور عبا سے کر لیں۔ عورت کی نقاب میں آپ جاسوسوں اور سپاھیوں سے محفوظ رہیں گے۔”

بڑی خوشی اور شکرئے کے ساتھ بڈھّے نے کپڑے لیکر پہن لئے۔ خواجہ نصر الدین نے اس کی سفید عبا پہنی، اس کا طرح دار عمامہ سر پر رکھا اور چوڑا ستاروں والا پٹکا باندھا۔ پھر انہوں نے بڈھّے کو اپنے اونٹ پر چڑھنے میں مدد دی۔

“خدا آپ کی حفاظت کرے، اے دانائے روزگار! دیکھئے، عورتوں کی طرح ذرا باریک آواز میں بولنا نہ بھولئے گا۔”

بڈھا اپنی سواری پر بگٹٹ بھاگا۔

خواجہ نصر الدین کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ محل کا راستہ کھلا ہوا تھا۔

(۲۵)

یہ اطمینان کر لینے کے بعد کہ بازار میں جھگڑا ختم ہو رہا ہے تقدس مآب امیر نے فیصلہ کیا کہ وہ دربار خاص میں درباریوں کے پاس جائے گا۔ اس نے یہ دکھانے کی کوشش کی کہ وہ پرسکون ہے لیکن اس کو کچھ تکلیف ضرور ہے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ کوئی درباری یہ سوچنے کی جرأت کر سکے کہ اس کے شاہانہ دل میں خوف نے جگہ پائی ہے۔

امیر جب وہاں پہنچا تو درباری خاموش رہے کیونکہ ان کو یہ ڈر تھا کہ کہیں ان کی آنکھیں اور چہرے اس بات کی غمازی نہ کر دیں کہ وہ امیر کے صحیح جذبات سے بخوبی واقف ہیں۔

امیر اور درباری دونوں خاموش تھے۔ آخرکار یہ خوفناک سکوت امیر نے یہ کہہ کر توڑا:

“تم ہم سے کیا کہنا چاہتے ہو؟ تمھارا کیا مشورہ ہے؟ یہ سوال ہم تم سے پہلی بار نہیں پوچھ رہے ہیں!”

سب چپکے سے سرجھکائے سناٹے میں کھڑے رہے۔ اچانک امیر کا چہرہ غصے سے بگڑ گیا۔ نہ معلوم کتنے سر جلاد کے تیغے کے نیچے جھک جاتے۔ نہ جانے کتنی خوشامدی زبانیں ہمیشہ کے لئے بند کر دی جاتیں جو موت کی اذیت سے اس طرح خون سے عاری ہونٹوں سے باہر لٹک پڑتیں جیسے وہ زندہ لوگوں کو ان کی دولت نا پائیدار، اپنی پر غرور اور بیکار تمناؤں، کوششوں کی یاد دلا رہی ہوں۔

لیکن سر شانوں پر برقرار رہے، زبانیں فی البدیہہ خوشامد کے لئے تیز رہیں کیونکہ اس وقت داروغہ محل نے آ کر اعلان کیا:

“خدا مرکز جہاں کو سلامت رکھے! محل کے پھاٹک پر ایک اجنبی کھڑا ہے اور اپنا نام بغداد کا دانا مولانا حسین بتا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ وہ بہت ضروری کام سے آیا ہے اور اسے فوراً جہاں پناہ کے حضور میں حاضر ہونا چاہئے۔

“مولانا حسین!” امیر نے اشتیاق سے کہا۔ “اس کو آنے دو! اس کو یہاں لے آؤ!”

دانا اندر آیا نہیں بلکہ بھاگ کر اندر گھسا حتی کہ جلدی میں اپنے گرد آلود سلیپر بھی اتارنا بھول گیا۔ تخت کے سامنے منہ کے بل گر گیا:

“مشہور اور پر عظمت امیر کو، سارے جہاں کے آفتاب و ماہتاب کو، دنیا کے لئے رحیم و قہار کو میرا سلام! میں دن رات منزلیں طے کرتا آیا ہوں تاکہ امیر کو ایک ہولناک خطرے سے آگاہ کر سکوں۔ امیر بتائیں کہ کیا آج وہ کسی عورت کے پاس گئے؟ امیر، میرے آقا، اس خادم کی بات کا جواب دیجئے۔۔۔ میں آپ سے التجا کرتا ہوں!۔۔۔”

“عورت؟” امیر نے متحیر ہو کر دھرایا “آج؟۔۔ نہیں۔ ہمارا ارادہ تھا لیکن ابھی تک ہم نے ایسا نہیں کیا ہے۔”

دانا اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کا چہرہ زرد تھا۔ اس نے انتہائی ہیجان کی حالت میں امیر کے جواب کا انتظار کیا تھا۔ اس کے ہونٹوں سے ایک طویل اور گہری آہ نکلی۔ رفتہ رفتہ اس کے گالوں کا رنگ واپس آیا۔

“الحمد للہ” اس نے زور سے کہا “اللہ نے عقل اور رحمت کی روشنی کو گل ہونے سے بچا لیا۔ اے امیر! رات کو ستارے اور سیارے ایسے برجوں میں تھے جو حضور کے بے حد خلاف پڑتے ہیں۔ اور میں نے، اس ناچیز نے جو امیر کے پیروں کی گرد کو بھی بوسہ دینے کے قابل نہیں ہے مشاہدہ کر کے سیاروں کے مقام کا حساب لگایا۔ میں جانتا ہوں کہ جب تک وہ پھر سازگار اور نیک فال کے مقامات تک نہ پہنچ جائیں امیر کو کوئی عورت چھونا نہ چاہئے، نہیں تو ان کی تباہی لازمی ہے۔”

“رکو، مولانا حسین” امیر نے بیچ میں کہا “تم ایسی باتیں کر رہے ہو جو سمجھ میں نہیں آتیں۔۔۔”

“الحمد للہ کہ میں وقت پر پہنچا” دانا کہتا رہا (جو حقیقت میں خواجہ نصر الدین تھے) “میں اپنی آخری سانس تک اس بات پر فخر کروں گا کہ میں نے امیر کو آج عورت چھونے سے روک دیا۔ اس طرح میں نے دنیا کو ایک زبردست غم سے بچا لیا۔”

اس نے یہ بات اس قدر مسرت اور خلوص سے کہی کہ امیر کو اس پر یقین ہی کرنا پڑا۔

“جب مجھ کو جو ایک حقیر چیونٹی کی مانند ہے اعلی حضرت نے سرفراز کیا، مجھ ناچیز کو یاد کیا اور مجھے بخارا آ کر امیر کی خدمت میں رہنے کا فرمان ملا تو ایسا معلوم ہوا کہ جیسے میں بے مثال مسرت کے سمندر میں غوطہ زن ہوں۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ میں امیر کا فوراً حکم بجا لایا اور سفر کے لئے چل پڑا۔

“لیکن پہلے میں نے چند دن امیر کا زائچہ کھینچنے میں گزارے۔ پھر میں نے فوراً ان کی خدمت اس طرح شروع کی کہ ان کی قسمت کے سیاروں اور ستاروں کا مطالعہ شروع کر دیا۔ کل رات آسمان دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ستارے اور سیارے دونوں امیر کے لئے بری طرح خطرناک ہو رہے ہیں۔ ستارہ الشعلہ جو ضرت کی علامت ہے ستارہ القلب کی طرف جو دل کی علامت ہے خراب رخ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ میں نے تین اور ستارے الغفر جو عورت کی نقاب کی علامت ہے، دو ستارے الاکلیل جو تاج کی علامت ہیں اور ستارے السرطان دیکھے جو سینگوں کی علامت ہیں۔

“یہ سب منگل کو تھا جو سیارہ مریخ کا دن ہے اور یہ دن جمعرات کے برخلاف ، بڑے آدمیوں کی موت کی طرف اشارہ کرتا ہے اور امیروں کے لئے انتہائی مضرت رساں ہے۔ ان تمام علامتوں کو دیکھ کر اس ناچیز نے جانا کہ موت کی ضرب کسی صاحب تاج کے دل پر پڑنے والی ہے اگر اس نے عورت کی نقاب کو چھوا۔ اسی لئے میں انتہائی تعجیل کے ساتھ صاحب تاج کو آگاہ کرنے کے لئے آیا۔ میں نے دن رات سفر کیا۔ دو اونٹ مر گئے اور میں بخارا میں پیدل داخل ہوا۔

“اے خدائے برتر!” امیر نے بے حد متاثر ہو کر کہا۔ “کیا یہ ممکن ہے کہ ہم کو ایسا خطرہ درپیش ہو؟ کیا تم کو قطعی یقین ہے کہ تم غلطی نہیں کر رہے ہو، مولانا حسین؟”

“غلطی؟ میں؟” دانا نے زور سے کہا۔ “اے امیر، بغداد سے بخارا تک دانائی، علم نجوم اور دست شفا میں میرا کوئی جواب نہیں ہے۔ میں غلطی نہیں کر سکتا۔ آقا، آفتاب جہاں، امیر اعظم آپ اپنے حکما سے پوچھئے کہ میں نے ستاروں کے صحیح نام بتائے ہیں یا نہیں۔ اور زائچے میں ان کو ٹھیک مقام دئے ہیں یا نہیں؟”

امیر کا اشارہ پا کر ٹیڑھی گردن والا دانا آگے بڑھا۔

“مولانا حسین، دانائی میں میرے بے نظیر ہم عصر نے ستاروں کے صحیح نام بتائے ہیں جن سے ان کے علم و فضل کا پتہ چلتا ہے جس پر کسی کو شک نہیں ہو سکتا، لیکن” دانا نے اپنی بات ایسے لہجے میں جاری رکھی جو خواجہ نصر الدین کو کینہ آمیز معلوم ہوتا تھا “مولانا حسین نے امیر کو چاند کا سولہواں برج اور وہ جھرمٹ نہیں بتایا جس میں یہ برج پیدا ہوتا ہے کیونکہ اس نشان دھی کے بغیر یہ دعوی بے بنیاد ہو گا کہ منگل جو سیارہ مریخ کا دن ہے قطعی طور پر بڑے آدمیوں کی موت کی نشانی کا دن ہے جن میں تاجدار بھی شامل ہیں کیونکہ مریخ قیام ایک جھرمٹ میں کرتا ہے، اس کا عروج دوسرے میں اور زوال تیسرے میں ہوتا ہے اور چوتھے جھرمٹ میں وہ غروب ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق سیارہ مریخ کی چار مختلف علامتیں ہیں نہ کہ صرف ایک جیسا کہ انتہائی لائق اور دانا مولانا حسین نے کہا ہے۔”

دانا چالاکی سے مسکراتا ہوا خاموش ہو گیا۔ درباری ایک دوسرے سے اس بات پر خوش ہو کر کھسر پھسر کرنے لگے۔ ان کا خیال تھا کہ نووارد گھبرا گیا ہے۔ اپنی آمدنیوں اور اعلی عہدوں کی حفاظت کے لئے وہ باہر کے تمام آدمیوں کو دور ہی رکھنے کی کوشش کرتے تھے اور ہر نووارد کو خطرناک حریف سمجھتے تھے۔

لیکن جب خواجہ نصر الدین کوئی بات اٹھاتے تھے تو پھر ہار نہیں مانتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دانا، درباریوں اور خود امیر کو بھانپ لیا تھا۔ انہوں نے ذرا بھی گھبرائے بغیر بڑے سرپرستانہ انداز میں جواب دیا:

“شاید میرے دانش مند اور لائق ہم عصر مجھ سے علم کی کسی شاخ میں بالاتر ہوں لیکن جہاں ستاروں کا تعلق ہے ان کے الفاظ ابن بجاع کی تعلیم سے قطعی لا علمی کا اظہار کرتے ہیں جو دانائے روزگار تھا اور جس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سیارہ مریخ کا قیام جھرمٹ حمل و عقرب میں، اس کا عروج جھرمٹ جدی میں، زوال جھرمٹ سرطان میں اور غروب جھرمٹ میزان میں ہوتا، بہرحال یہ صرف منگل کی خصوصیت ہے جس پر سیارہ مریخ اثرانداز ہوتا ہے جو تاجداروں کے لئے مہلک ہے۔”

یہ جواب دیتے ہوئے خواجہ نصر الدین ذرا بھی نہیں ڈرے کہ ان پر جاہل ہونے کا الزام لگایا جائے گا کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسے مباحثوں میں اسی کی جیت ہوتی ہے جو سب سے زیادہ چرب زبان ہوتا ہے اور اس میں ان کا مقابلہ شاید ہی کوئی کر سکتا ہو۔

وہ اب دانا کے اعتراضات کا اعتراض کرنے اور مناسب جواب دینے کے لئے تیار کھڑے تھے لیکن دانا نے معاملے کو نہیں اٹھایا اور خاموش رہا۔ اس کی یہ جرأت نہیں ہوئی تھی کہ وہ بحث کو زیادہ طول دے حالانکہ اس کو کافی شک تھا کہ خواجہ نصر الدین جاہل اور دھوکے باز ہیں لیکن اس کو اپنی جہالت کا خود کافی علم تھا۔ اس لئے اس نے نووارد کو گھبرانے کی جو کوشش کی تھی اس کا اثر الٹا ہوا اور درباریوں نے اسے خاموش کر دیا۔ اس نے آنکھوں سے اشارہ کیا کہ حریف سے کھلم کھلا مقابلہ کرنا خطرناک ہے۔

یہ اشارے کنائے خواجہ نصر الدین نے بھی دیکھ لئے اور دل ہی دل میں کہا:

“ذرا ٹھہرو، بتاؤں گا تمھیں!”

امیر گہری سوچ میں پڑ گیا۔ ہر ایک ساکت تھا مبادا امیر کے غور و فکر میں خلل انداز نہ ہو۔

اگر تم نے تمام ستاروں کا نام و قیام صحیح بتایا ہے، مولانا حسین” امیر نے آخرکار کہا “تو واقعی تمھاری پیش گوئی ٹھیک ہے۔ لیکن ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ دو ستارے السرطان جن کی علامت سینگوں کی ہیں ہمارے زائچے میں کیسے آئے؟ واقعی مولانا حسین، تم عین وقت پر پہنچے کیونکہ آج صبح ہی کو ایک دوشیزہ ہمارے حرم میں لائی گئی ہے اور ہم تیاری کر رہے تھے کہ۔۔۔”

خواجہ نصر الدین نے بناوٹی دہشت سے اپنے ہاتھ ہلائے۔

“اس کو اپنے دماغ سے نکال دیجئے، امیر محترم، اس کو نکال دیجئے!” وہ چلائے جیسے یہ بھول گئے ہوں کہ امیر کو براہ راست حاضر کے صیغے میں مخاطب نہیں کرنا چاہئے۔ وہ جانتے تھے کہ اس بے ادبی کو امیر سے وفاداری اور ان کی جان کی سلامتی کے لئے خوف کا زبردست جذبہ سمجھا جائے گا اور ان کے خلاف نہیں پڑے گا بلکہ اس کے برعکس امیر کے دل میں ان کے خلوص کے لئے زیادہ وقعت پیدا ہو گی۔

انہوں نے ایسے زوردار لہجے میں امیر سے درخواست اور التجا کی کہ وہ لڑکی سے اپنے کو مس نہ کرے تاکہ اس کو یعنی مولانا حسین کو آنسوؤں کا سیلاب نہ بہانا پڑے اور سیاہ ماتمی لباس نہ پہننا پڑے کہ امیر اس سے بہت متاثر ہوا۔

“مطمئن رہو، مولانا حسین۔ ہم اپنی رعایا کے دشمن تھوڑے ہی ہیں کہ ان کو رنج و غم میں مبتلا ہونے دیں۔ ہم تم سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنی قیمتی جان کی حفاظت کریں گے اور نہ صرف یہ کہ اس لڑکی کے پاس نہیں جائیں گے بلکہ عام طور پر اس وقت تک حرم میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم ہیں یہ نہ بتاؤ گے کہ اب ہمارے ستارے سازگار ہیں۔ یہاں آؤ۔”

یہ کہہ کر امیر نے اپنے حقہ بردار کو اشارہ کیا اور ایک لمبا کش کھینچ کر خود اپنے ہاتھ سے حقے کی طلائی نال نووارد دانا کی طرف بڑھا دی جو اس کے لئے بری عزت و عنایت کا باعث تھا۔ گھنٹوں کے بل جھک کر اور نگاہیں زمین کی طرف کر کے دانا نے امیر کی عزت افزائی کو قبول کیا اور اس کے بدن میں جھرجھری آ گئی۔ حاسد درباریوں کے خیال میں یہ جھرجھری خوشی کی تھی۔

“ہم مولانا حسین ایسے دانا کے لئے اپنی عنایتوں اور مہربانیوں کا اعلان کرتے ہیں۔” امیر نے کہا “اور ان کو اپنی سلطنت کا دانائے اعظم مقرر کرتے ہیں۔ ان کا علم و فضل اور عقل و دانش اور ہمارے ساتھ ان کی زبردست وفاداری ہر ایک کے لئے مثال بننی چاہئیں۔”

درباری واقعہ نویس نے، جس کا فرض یہ تھا کہ وہ امیر کے ایک ایک لفظ اور کاروائی کو مدحیہ انداز میں لکھے تاکہ ان کی عظمت آنے والی نسلوں کے لئے قائم رہے (جس کے لئے امیر سب سے زیادہ مشتاق تھا) اپنا قلم چلانا شروع کیا۔

“جہاں تک تمھارا تعلق ہے” امیر نے درباریوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا “اس کے برعکس، ہم تم پر اپنے عتاب کا اعلان کرتے ہیں کیونکہ خواجہ نصر الدین نے جو کچھ بدمزگی پیدا کر دی ہے اور اس کے علاوہ تمھارے آقا کی جان تک کا خطرہ تھا پھر تم نے مدد کے لئے ایک انگلی تک بھی نہ اٹھائی! ان کو دیکھو! مولانا حسین، ان حماقت بھرے گاؤدیوں کو دیکھو۔ ہیں نہ یہ بالکل گدھوں کی طرح؟ واقعی کسی بادشاہ کے بھی ایسے بیوقوف اور لاپروا وزیر نہ رہے ہوں گے!”

“محترم امیر کا فرمانا بالکل بجا ہے” خواجہ نصر الدین نے ساکت درباریوں کی طرف دیکھ کر اس طرح کہا جیسے وہ پہلی چوٹ کے لئے نشانہ لے رہے ہوں۔ “جہاں تک میں دیکھتا ہوں ان کے چہروں پر دانشمندی کی کوئی نشانی نہیں ہے۔”

“بالکل ٹھیک، بالکل ٹھیک” امیر نے بہت خوش ہو کر تصدیق کی۔ “بالکل ٹھیک، ان کے چہروں پر دانشمندی نہیں ہے، سنتے ہو تم احمقو؟”

“میں یہ اضافہ کرنا چاہتا ہوں” خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی “کہ نہ تو ان کے چہروں پر نیک صفات اور ایمانداری ہی کی نشانی ہے۔”

“یہ چور ہیں” امیر نے دلی یقین کے ساتھ کہا “سب کے سب چور ہیں۔ یہ ہم کو دن رات لوٹتے رہتے ہیں۔ ہم کو محل کی میں ایک ایک چیز کی نگرانی کرنی پڑتی ہے۔ ہر بار جب ہم اپنی املاک کا جائزہ لیتے ہیں کوئی نہ کوئی چیز غائب ہوتی ہے۔ ابھی آج صبح ہی ہم اپنا ریشمی پٹکا باغ میں بھول گئے اور آدھے گھنٹے میں وہ غائب ہو گیا!۔۔ ان میں سے کوئی اس کو۔۔۔ سمجھے نا، مولانا حسین!۔۔”

جب امیر یہ کہہ رہا تھا تو ٹیڑھی گردن والے دانا نے اپنی نگاہ بڑی ریاکاری سے نیچے جھکا لی۔ کوئی اور وقت ہوتا تو شاید اس طرف توجہ نہ جاری لیکن اس وقت تو خواجہ نصر الدین بہت چوکنے ہو رہے تھے۔ انہوں نے فوراً بات تاڑی لی۔

بڑے اعتماد کے ساتھ وہ دانا کے پاس گئے، اپنا ہاتھ اس کی خلعت کے اندر ڈال کر ایک مرصع کار ریشمی پٹکا باہر کھینچ لیا۔

“کیا امیر اعظم اس پٹکے کے ضائع ہونے پر افسوس کر رہے تھے؟”

حیرت و خوف سے تمام درباری پتھر ہو گئے۔ واقعی نیا دانا بہت خطرناک ثابت ہو رہا تھا کیونکہ پہلے ہی آدمی کو جس نے اس کی مخالفت کی جرأت کی تھی اس نے بے نقاب کر کے کچل دیا تھا۔ بہت سے داناؤں، شاعروں، عمائدین اور وزرا کے دل خوف سے کانپ گئے۔

“خدا کی قسم” امیر نے زور سے کہا “یہی میرا پٹکا ہے، واقعی مولانا حسین عقل و دانش میں تمھارا کوئی جواب نہیں! آہا!” اور وہ درباریوں کی طرف مڑا۔ اس کے چہرے پر بڑا اطمینان تھا۔ اس نے کہا “آہا، آخرکار رنگے ہاتھوں پکڑے گئے! اب تم ہمارا ایک تاگہ بھی چرانے کی جرأت نہ کرو گے! تمھاری لوٹ مار سے ہم کو کافی نقصان پہنچ چکا ہے! جہاں تک اس کمبخت چور کا تعلق ہے اس کے سر، ٹھڈی اور جسم سے تمام بال اکھاڑ لئے جائیں۔ اس کے تلوؤں پر سو ضربیں لگائی جائیں اور منہ کی طرف پیٹھ کر کے گدھے پر ننگا بٹھا کر شہر میں گشت کرایا جائے اور اس کو عام طور پر چور مشتہر کیا جائے!”

ارسلان بیک کا اشارہ پاتے ہی جلادوں کے فوراً دانا کو پکڑ لیا، اس کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے اور اس پر ٹوٹ پڑے۔ چند لمحے بعد اس کو پھر کھینچ کر ہال میں بالکل ننگا، بے بال اور انتہائی ناگفتہ بہ حالت میں لایا گیا۔ اب سب پر یہ بات واضح ہو گئی کہ ابھی تک اس کی داڑھی اور زبردست عمامہ اس کی کوتاہی، عقل اور حماقت کو چھپائے تھے جو اس کے چہرے مہرے سے نمایاں تھیں اور ایسا ریا کارانہ چہرے والا آدمی سوائے بدمعاش اور چور کے کچھ نہیں ہو سکتا۔

“لے جاؤ اس کو” امیر نے حقارت سے حکم دیا۔

جلاد اس کو گھسیٹ کر لے گئے۔ ذرا دیر بعد ہی کھڑکی سے ڈنڈوں اور لاتوں کی دھمک کے تال پر چیخوں کی آواز آنے لگی۔ آخر میں اس کو ایک گدھے پر ننگا بٹھا دیا گیا، اس کا منہ گدھے کی دم کی طرف کر کے نفیریوں اور نقاروں کی گونج میں بازار لے جایا گیا۔

امیر بڑی دیر تک نئے دانا سے باتیں کرتا رہا۔ درباری چاروں طرف بے حس و حرکت کھڑے تھے جو ان کے لئے شدید ترین اذیت تھی۔ گرمی بڑھ گئی تھی اور قبا کے اندر ان کی پیٹھوں میں بری طرح کھجلی ہو رہی تھی۔

وزیر اعظم بختیار جو سب سے زیادہ نئے دانا سے ڈرا ہوا تھا کوئی منصوبہ سوچنے کی کوشش کر رہا تھا جس سے وہ اپنے حریف کو ختم کرنے کے لئے درباریوں کی مدد حاصل کر سکے۔ دوسری طرف درباری متعدد علامتوں سے یہ اندازہ لگا کر کہ اس مقابلے کا نتیجہ کیا ہو گا، یہ سوچ رہے تھے کہ بختیار کے ساتھ ایسے وقت غداری کس طرح کی جائے جو ان کے لئے بہت ہی اچھا ہو اور اس طرح نئے دانا کا اعتماد اور خوشنودی حاصل کی جائے۔

امیر نے خواجہ نصر الدین سے خلیفہ کی خیریت دریافت کی، بغداد کی خبروں اور ان کے سفر کے واقعات کے بارے میں پوچھا جن کا جواب انہوں نے بڑی ہوشیاری سے دیا۔ سب کچھ ٹھیک رہا اور امیر نے باتوں کے تکان سے تھک کر آرام گاہ ٹھیک ٹھاک کرنے کا حکم دیا ہی تھا کہ اچانک ہنگامہ اور ایک چیخ سنائی دی۔ داروغہ محل تیزی سے دیوان کے اندر داخل ہوا اور اعلان کیا:

“آقائے نامدار کی خدمت میں عرض ہے کہ کافر اور امن شکن خواجہ نصر الدین گرفتار کر لیا گیا ہے اور محل لایا گیا ہے!”

ابھی اس نے یہ اعلان کیا ہی تھا کہ اخروٹ کی لکڑی کے نقشین پھاٹک پٹو پٹ کھل گئے۔ اسلحہ کی فاتحانہ جھنکار ہوئی اور پہرے دار ایک عقابی ناک، سفید داڑھی والے آدمی کوسامنے لائے جو زنانے لباس میں تھا۔ انہوں نے تخت کے نیچے قالین پر اس کو ڈھکیل کر گرا دیا۔

خواجہ نصر الدین کے بدن میں کاٹو تو لہو نہیں تھا۔ ہال کی دیواریں ان کی نگاہ کے سامنے ناچ رہی تھیں اور درباریوں کے چہرے سبزی مائل دھند میں چھپے معلوم ہونے لگے۔۔۔

(۲۶)

بغداد کا دانا، اصلی مولانا حسین، اسی پھاٹک پر دھر لیا گیا جس کے پار وہ نقاب کے اندر سے ہر سمت جانے والی سڑکیں دیکھ سکتا تھا۔ ہر سڑک اس کو بدبختی سے نجات پانے کی راہ معلوم پڑتی تھی۔

لیکن پھاٹک کے پہرے داروں نے اس کو ٹوکا “اے عورت، کہاں جا رہی ہے تو؟”

دانا نے آواز بنا کر اس طرح جواب دیا کہ معلوم ہوا کوا بول رہا ہے:

“میں عجلت میں ہوں، اپنے خاوند کے پاس جا رہی ہوں۔ بہادر سپاھیو، مجھے جانے دو۔”

آواز پر شبہ کرتے ہوئے پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ایک نے اونٹ کی مہار تھام لی۔

“تم کہاں رہتی ہو؟”

“یہیں، بالکل قریب” دانا نے اور بھی باریک آواز میں جواب دیا۔ اس کوشش میں اس کو کھانسی آ گئی اور دم پھول گیا۔ پہرے داروں نے اس کا نقاب پھاڑ دیا۔ ان کو بے حد خوشی ہوئی۔

“وہی ہے، وہی!” وہ چلائے “پکڑ لو! باندھ لو! پکڑ لو!”

اس کے بعد وہ بڈھّے کو محل لائے اور راستے میں اس پر بات چیت کرتے رہے کہ کس طرح اس کو موت کی سزا ملے گی اور تین ہزار تانگے کا انعام جو ان کو ملنے کی امید تھی۔ ان کا ایک ایک لفظ بڈھّے کے لئے جلتے ہوئے انگارے کی طرح تھا۔

وہ تخت کے نیچے پڑا کانپ رہا تھا اور رو رو کر رحم کی بھیک مانگ رہا تھا۔

’’ اس کو ہٹاؤ‘‘ امیر نے حکم دیا۔

پہرے داروں نے اس کو پیروں پر کھڑا کیا۔ ارسلان بیک درباریوں کے مجمع سے آگے آیا اور بولا:

’’حضور، غلام کی بھی ایک بات سنیں۔ یہ آدمی خواجہ نصر الدین نہیں ہے۔ خواجہ نصر الدین نوجوان ہے، تیس سال سے کچھ اوپر اور یہ آدمی کافی معمر ہے۔‘‘

پہرے دار ہراساں ہو گئے۔ انعام ان کے ہاتھ سے نکلا جا رہا تھا۔ ہر آدمی خاموش اور چکرایا ہوا تھا۔

تو نے عورت کا بھیس کیوں بدلا؟ امیر نے دھمکی آمیز لہجے میں سوال کیا۔

’’میں امیر معظم و محترم کے محل کی طرف آ رہا تھا‘‘ بڈھّے نے کانپتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ لیکن میری ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو بالکل اجنبی تھا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ میرے بخارا آنے سے پہلے ہی امیر نے میرا سر قلم کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ میں نے خوف سے بھیس بدل کر بھاگ نکلنے کا فیصلہ کیا۔‘‘

امیر نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ سب سمجھتا ہے قہقہہ لگایا:

’’ تم ایک آدمی سے ملے۔۔۔ ایک اجنبی سے اور فوراً اس کی بات کا یقین کر لیا؟۔۔۔ کیا لاجواب قصہ ہے! ہم تمھارا سر کیوں قلم کرنے والے تھے؟‘‘

’’ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ میں نے بالاعلان اس بات کی قسم کھائی تھی کہ امیر معظم کے حرم میں گھسوں گا۔۔۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ میں نے اس بات کا کبھی خیال بھی نہیں کیا ! میں بڈھا اور ضعیف ہوں اور مدتوں ہوئے خود اپنے حرم تک کو ترک کر چکا ہوں۔‘‘

’’ہمارے حرم میں گھس جاؤ گے؟‘‘ امیر نے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے دھرایا۔ اس کا چہرہ صاف بتا رہا تھا کہ بڈھّے کے خلاف اس کے شکوک میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ’’تم ہو کون اور کہاں سے آئے ہو؟‘‘

’’میں ہوں بغداد کا دان حکیم مولانا حسین۔ میں امیر معظم کے حکم کے مطابق بخارا آیا ہوں۔‘‘

’’مولانا حسین؟‘‘ امیر نے دھرایا۔ ’’ تم مولانا حسین ہو! تمھارا نام مولانا حسین ہے! ارے کمبخت بڈھے، یہ تو سفید جھوٹ ہے!‘‘ وہ اتنی زور سے گرجا کہ ملک الشعراء اچانک گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ ’’ جھوٹ بولتا ہے ! یہ رہے مولانا حسین!‘‘

امیر کا اشارہ پا کر خواجہ نصر الدین بڑی فرمانبرداری کے ساتھ آگے بڑھے اور بڈھّے کے سامنے تن کر کھڑے ہو گئے اور نڈر ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگے۔

بڈھا حیرت سے پیچھے ہٹ گیا لیکن دوسرے ہی لمحے اپنے کو سنبھال کر چلایا:
’’آقا ، ارے یہ تو وہی آدمی ہے جو مجھے بازار میں ملا تھا اور اسی نے مجھ سے کہا تھا کہ امیر میرا سر قلم کر دینا چاہتے ہیں!‘‘
’’یہ کیا کہہ رہا ہے، مولانا حسین!‘‘ امیر نے انتہائی پریشان ہو کر کہا۔
’’ یہ مولانا حسین نہیں ہے!‘‘ بڈھا چیخا۔ ’’میں مولانا حسین ہوں۔ یہ دھوکےباز ہے! اس نے میرا نام چرا لیا ہے!‘‘
خواجہ نصر الدین نے امیر کے سامنے بہت جھک کر کہا:
’’ معظم بادشاہ میری گستاخی معاف ہو لیکن یہ بڈھا واقعی بے حد بے حیا ہے! کہتا ہے کہ میں نے اس کا نام چرا لیا اور شاید یہ بھی کہے گا کہ میں نے اس کی عبا پر قبضہ جما لیا ہے؟‘‘

’’ہاں ہاں !‘‘ بڈھا چلایا۔ ’’یہ عبا میری ہی ہے!‘‘

’’ ممکن ہے کہ یہ عمامہ بھی تمھارا ہی ہو؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے مذاق اڑاتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہاں ، ضرور ! یہ میرا ہی عمامہ ہے! تم نے میری عبا اور عمامے کو زنانے لباس سے بدل لیا تھا۔‘‘
’’ اچھا‘‘ خواجہ نصر الدین نے اور طنز سے کہا۔ ’’اور یہ پٹکا بھی غالباً تمھارا ہی ہے؟‘‘
’’ میرا ہی ہے!‘‘ بڈھّے نے غصے کے ساتھ زور دیکر کہا۔

خواجہ نصر الدین تخت کی طرف مڑے اور بولے: ’’ حضورِ والا، امیر معظم نے خود دیکھ لیا کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے۔ آج یہ جھوٹا اور بیہودہ بڈھا یہ کہتا ہے کہ میں نے اس کا نام چرا لیا، یہ عبا اس کی ہے، یہ عمامہ اس کا ہے اور یہ پٹکا اس کا ہے اور کل یہ کہے گا کہ یہ محل اس کا ہے اور ساری سلطنت اس کی ہے اور بخارا کا اصلی امیر وہ عظیم اور آفتاب جیسا بادشاہ نہیں ہے جو اس وقت ہمارے سامنے تخت پر جلوہ فرما ہے بلکہ یہ بے ہودہ جھوٹا ہے! اس سے ہر بات کی توقع کی جا سکتی ہے۔ وہ بخارا کیوں آیا؟ کیا وہ امیر کے حرم میں اس طرح گھسنے نہیں آیا جیسے کہ اس کا خود کا حرم ہو؟‘‘

’’تم ٹھیک کہتے ہو، مولانا حسین‘‘ امیر نے کہا ۔ ’’ ہاں ، ہم کو یقین ہو گیا ۔ بڈھا مشکوک اور خطرناک آدمی ہے اور اس کے ارادے بد ہیں۔ ہماری رائے میں اس کا سر فوراً جسم سے جدا کر دیا جائے۔‘‘

بڈھا آہ بھر کر گھٹنوں کے بل گر پڑا۔ اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں سے ڈھک لیا۔

بہر حال خواجہ نصر الدین یہ نہیں گوارا کر سکتے تھے کہ ان کے اُوپر جو الزامات تھے ان کی بنا پر کسی بے گناہ کو موت کے گھاٹ اُتارا جائے چاہے وہ آدمی درباری دانا ہی کیوں نہ ہو جو اپنے جعل سے بہتوں کی تباہی کا باعث بن چکا تھا۔ اس لئے انہوں نے امیر کے سامنے بہت جھک کر عرض کیا:

’’امیر معظم میری بات سننے کی زحمت گوارا فرمائیں۔ اس کا سر جب چاہے قلم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن پہلے کیا یہ اچھا نہ ہو گا کہ اس کا اصلی نام اور بخارا آنے کا سبب معلوم کیا جائے؟ ممکن ہے کہ سازش میں اس کے ساتھی ہوں۔ ممکن ہے کہ وہ کوئی بد طینت جادوگر ہو جو ستاروں کی خرابی سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہو۔ اگر ایسا ہے تو امیر معظم کے قدموں کے نیچے کی مٹی لے گا اور اس کو چمگادڑ کے بھیجے میں ملا دے گا اور پھر اس کو امیر حقے میں رکھ دے گا اور اس طرح ان کی صحت کو نقصان پہنچائے گا۔ امیر معظم اس کی جان بخشی کریں اور اس کو مجھے حوالے کریں۔ وہ معمولی پہرے داروں پر اپنے جادو سے قابو پا لے گا لیکن میرے خلاف اس کا زور نہیں چل سکتاکیونکہ اپنے علم سے میں جادوگروں کی ساری چالیں جانتا ہوں اور ان کے جادو کے توڑ کے ساب طریقے معلوم ہیں۔ میں اس کو بند کر کے قفل پر ایسی دعا پڑھ دوں گا جو صرف مجھ کو معلوم ہے۔ اس طرح صرف اپنے جادو کی طاقت سے وہ قفل نہیں کھول سکے گا۔ پھر رفتہ رفتہ اس کو اذیت پہنچا کر میں اس کو سب کچھ قبولنے پر مجبور کروں گا۔‘‘

’’ اچھا‘‘ امیر نے کہا ’’ مولانا حسین، تم معقول بات کہہ رہے ہو۔ اس کو لے جاؤ اور جو جی چاہے کرو لیکن ہوشیار رہنا کہیں یہ بھاگ نہ جائے۔‘‘

’’ میرا سر قلم کر دیجئے گا۔‘‘

آدھے گھنٹہ بعد خواجہ نصر الدین جو اب امیر کے مشیر خاص اور نجومی بن چکے تھے اپنی نئی جائے رہائش پر آ گئے جو ان کے لئے محل کی فصیل کے ایک برج میں خاص طور سے سجی گئی تھی۔ ان کے پیچھے سخت پہرے میں سر جھکائے ملزم تھا ، اصلی مولانا حسین۔

خواجہ نصر الدین کی قیام گاہ سے اوپر برج میں ایک چھوٹا سا گول کمرہ تھا جس میں سلاض دار کھڑکی تھی۔ خواجہ نصر الدین نے سیک بہت بڑی کنجی سے زنگ لگا ہوا پیتل کا قفل اور بکتر بند دروازہ کھولا۔ پہرے داروں نے بڈھّے کو اندر ڈھکیل دیا۔ اسے کولی بھر پیال لیٹنے کے لئے دی۔ خواجہ نصر الدین نے دروازے میں قفل لگا دیا اور اس پیتل کے قفل پر بڑی تیزی سے کچھ اس طرح پڑھتے رہے کہ پہرے داروں کی سمجھ میں صرف جا بجا اللہ کا نام آتا تھا۔

خواجہ نصر الدین اپنی قیام گاہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ امیر نے ان کو بارہ گدے ، آٹھ تکئے اور سامانِ خانہ داری دیا تھا اور ایک ٹوکری نانیں، شہد اور بہت سی دوسری لطیف اور مزیدار چیزیں کھانے کے لئے اپنے دستر خوان سے بھیجی تھیں۔ خواجہ نصر الدین بہت تھکے اور بھوکے تھے لیکن کھانا کھانے سے پہلے انہوں نے چھ گدے اور چار تکئے قیدی کو پہنچا دئے۔

بڈھا ایک کونے میں سمٹا سمٹایا پڑا تھا ، اس کی آنکھیں اندھیرے میں غضبناک بلی کی طرح چمک رہی تھیں۔

’’ اچھا‘‘ خواجہ نصر الدین نے سہج سے کہا ’’ہم اس برج میں تم تکلیف نہ ہونے دیں گے۔ میں نیچے ہوں اور تم اوپر جیسا کہ تمھاری عمر اور دانائی کے لئے زیبا ہے۔ ارے یہاں کتنی گرد ہے! میں ذرا اس کو صاف کر دوں۔‘‘

وہ نیچے سے پانی کا ایک گھڑا اور جھاڑو لائے ۔ انہوں نے اچھی طرح پتھر کا فرش دھویا ، گدے بچھائے اور تکئے لگائے۔ پھر انہوں نے نیچے کا ایک اور چکر لگایا اور نان ، شہد ، حلوہ اور پستے لائے جن کو انہوں نے ایمانداری کے ساتھ قیدی کے سامنے دو حصوں میں تقسیم کیا اور کہا:

’’ تم بھوکے نہیں رہو گے ، مولانا حسین، ہم کھانے کا کافی انتظام کر لیں گے۔ یہ رہا حقہ اور تمباکو۔‘‘

ہر چیز انہوں نے اس طرح سجا دی کہ یہ چھوٹا سا کمرہ خود ان کے اپنے کمرے سے بہتر معلوم ہونے لگا۔ اب خواجہ نصر الدین رخصت ہوئے اور دروازے میں قفل لگا دیا۔

بڈھا اکیلا پڑا رہا۔ وہ بہت بد حواس تھا۔ بڑی دیر تک وہ سوچتا اور گتھیاں سلجھاتا رہا لیکن اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ اس کا کیا حشر ہو رہا ہے۔ گدے بہت نرم تھے اور تکئے بھی آرامدہ تھے۔ نہ تو نان میں اور نہ شہد یا تمباکو میں کوئی زہر تھا۔۔۔ سارے دن کے ہنگامے سے تھکے چور بڈھّے نے اپنی قسمت کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ کر سونے کا ارادہ کیا۔اس دوران میں وہ آدمی جو اس کی تمام مصیبتوں کا باعث تھا نیچے کے کمرے میں کھڑکی پر بیٹھا شفق کو رات میں ڈھلتے دیکھ رہا تھا اور اپنی غیر معمولی طوفانی زندگی اور محبوبہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جو یہاں اس سے بہت ہی قریب تھی لیکن اس کے متعلق کچھ نہیں جانتی تھی۔ کھڑکی سے ٹھنڈی ہوا آنے لگی۔ مؤذنوں کی گونجتی ہوئی پُر سوز آواز شہر کے اوپر کسی نقرئی فیتے کی طرح پھیل گئی۔ سیاہ آسمان میں تارے جھلملانے لگے۔ ان کی چمک اور جھلملا ہٹ ایک خالص ، سرد اور دور دراز کی آگ سے ملتی تھی۔ وہاۃ ستارہ القلب چمک رہا تھا جو دل سے تعلق رکھتا ہے اور تین ستارے الغفر تھے جو کسی دوشیزہ کے نقاب کی نشانی ہیں اور دو ستارے السرطان تھے جو دو سینگیں پیش کرتے ہیں اور صرف ستارہ الشعلہ جو نحس اور موت کی نشانی ہے آسمان کی تاریک بلندیوں پر نہیں دکھائی دے رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: