Dastan Kwaja Bukhara By Habib ur Rahman – Last Episode 3

0
داستان خواجہ بخارا کی از لیونید سولوویف, حبیب الرحمن – آخری قسط نمبر 3

–**–**–

حصہ سوم

سلام اس پر جو جاودانی اور لا فانی ہے !
’’ الف لیلہ‘‘

(۲۷)

خواجہ نصر الدین نے امیر کا اعتماد اور عنایات حاصل کر لیں اور تمام معاملات میں اس کے خاص مشیر بن گئے۔ خواجہ نصر الدین فیصلے کرتے تھے۔ امیر کا کام صرف ان پر دستخط کرنا اور وزیر اعظم بختیار کا فرضِ منصبی صرف ان پر مہر لگانا تھا۔

’’ اللہ اکبر ! ہماری ریاست میں اب یہ نوبت پہنچ گئی ہے !‘‘

بختیار نے ٹیکس کے خاتمے ، سڑکوں اور پلوں کے مفت استعمال اور بازار کے نرخ کم کرنے کے بارے میں امیر کا فرمان پڑھ کر کہا ’’جلاد ہی خزانہ خالی ہو جائے گا! یہ نیا مشیر، خدا اس کو غارت کرے، اس نے تو ایک ہفتے میں وہ سب ڈھا دیا جو میں نے دس سال میں بنایا تھا!‘‘

ایک دن اس نے اپنے شبہات امیر کے گوش گزار کرنے کی جرات کی لیکن امیر نے جواب دیا:

’’مجہول انسان تو کیا جانتا ہے اور کیا سمجھتا ہے؟ ہم کو بھی یہ فرمان جاری کر کے رنج ہوتا ہے جو ہمارے خزانے کو خالی کرتے ہیں لیکن ہم کیا کر سکتے ہیں اگر ستاروں کا یہی حکم ہے؟ بختیار گھبراؤ نہیں ! یہ صرف تھوڑے دن کے لئے ہے جب تک ستارے سازگار نہیں ہوتے۔ مولانا حسین ، اس کو یہ سمجھاؤ!‘‘

خواجہ نصر الدین وزیر اعظم کو علیٰحدہ لے گئے اور اس کو گدوں پر بٹھا بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا کہ لوہاروں ، ٹھٹھیروں اور اسلح سازوں کے مزید ٹیکس فوراً ختم کرنے کی ضرورت کیوں ہے۔

’’جھرمٹ قوس میں البلدہ ستارے جھرمٹ عقرب میں صد باز ستاروں کے خلاف ہیں‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’دانائے روزگار وزیر آپ سمجھتے جیں ناں کہ وہ خلاف ہیں اور دونوں کے قران کا امکان نہیں ہے۔‘‘

’’اچھا ، تو اس سے کیا ہوتا ہے؟‘‘ بختیار نے جواب دیا۔ ’’وہ پہلے بھی قران میں نہیں تھے پھر انہوں نے ہم کو ٹیکس وصول کرنے سے نہیں روکا۔‘‘

’’لیکن آپ جھرمٹ ثور میں ستار الدبران کو بھول گئے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا ’’وزیر محترم ، آپ آسمان کو دیکھئے خود پتہ چل جائے گا۔‘‘

’’میں آسمان کیوں دیکھوں‘‘ ضدی وزیر نے کہا ‌‌’’میرا کام ہے خزانے کی حفاظت کرنا اور اس کو دولت سے بھرنا اور میں دیکھتا ہوں کہ جب سے آپ محل میں آئے ہیں خزانے کی آمدنی گھٹ گئی ہے اور ٹیکسوں کا آنا کم ہو گیا ہے۔ یہی وقت شہر کے کاریگروں سے ٹیک وصول کرنے کا ہے، بتائیے ، ہم انھیں کیوں نہ وصول کریں؟‘‘

’’ کیوں؟‘‘ خواجہ نصر الدین چیخے ’’میں ایک گھنٹے سے آپ کو یہی سمجھا رہا ہوں ۔ کیا اب بھی آپ کی سمجھ میں نہیں آیا کہ ہر منطقہ البروج پر چاند کے دو محل ہوتے ہیں ایک تھائی کے ساتھ۔۔۔‘‘

’’لیکن مجھے ٹیکس تو وصول کرنا ہی ہیں!‘‘ وزیر نے پھر بات کاٹ کر کہا ’’ٹیکس، سمجھتے ہیں نا آپ ۔‘‘

’’صبر کیجئے‘‘ خواجہ نصر الدین نے بختیار کو روک دیا ’’ابھی میں نے آپ سے الثریا کے مجموعہ نجوم اور انعیم کے آٹھ ستاروں کے بارے میں تو بتایا ہی نہیں۔۔۔‘‘

اب خواجہ نصر الدین نے ایسا پیچیدہ اور طویل بیان شروع کر دیا کہ وزیر اعظم کے کان سنسنانے لگے اور آنکھیں دھندلی پڑ گئیں۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا چلا گیا اور خواجہ نصر الدین نے امیر کی طرف مخاطب ہو کر کہا:

’’آقائے نامدار، چاہے عمر نے ان کے سر کو چاندی سے ڈھک دیا ہو اور اس سے ان کا سر بیش قیمت ہو گیا ہو لیکن جو کچھ اندر ہے وہ سونا نہیں بنا ہے۔ وہ میرے علم و فضل کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وہ کچھ بھی نہیں سمجھے آقا! کاش کہ ان کو امیر کی ذہانت کا جو خود لقمان کی فراست کو مات کرتی ہے ہزارواں حصہ ہی ملا ہوتا!‘‘

امیر بڑی مہربانی اور خود پسندی سے مسکرایا۔ ان دنوں خواجہ نصر الدین بڑی محنت سے اس کو یقین دلا رہے تھے کہ اس کی فراست کا کوئی جواب نہیں ہے اور اس کوشش میں خواجہ پوری طرح کامیاب ہوئے تھے چنانچہ جب وہ کوئی بات امیر کے سامنے ثابت کرنے لگتے تو امیر اس کو بڑے غور سے سنتا اور اس پر بحث نہ کرتا کیونکہ اس کو یہ ڈر تھا کہ کہیں اس کی ذکاوت کا پول نہ کھل جائے۔

۔۔۔دوسرے دن بختیار نے اپنے دل کی بات درباریوں کے ایک گروہ سے کہی:

’’یہ نیا دانا، مولانا حسین ہم سب کو تباہ کر دے گا! جس دن ٹیکس جمع کئے جاتے ہیں اسی دن ہم بھی اس ابلتے ہوئے چشمے سے سیراب ہوتے ہیں جو امیر کے خزانے کی طرف بہتا ہے۔ لیکن جب سیراب ہونے کا وقت آتا ہے تو یہ مولانا حسین ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر دیتا ہے! وہ ستاروں کا محل بتانے لگتا ہے۔ بھلا کبھی کسی نے یہ سنا ہے کہ یہ ستارے جو اللہ کے احکام کے تابع ہیں امرا و شرفا کے بھی خلاف پڑے ہوں اور حقیر کاریگروں کے لئے سازگار رہے ہوں جو، میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں ، اپنی کمائی ہمیں دینے کی بجائے خود بڑی بے شرمی سے چٹ کر رہے ہیں! بھلا کسی نے ستاروں کی ایسی گردش کے بارے میں سنا ہے؟ اس طرح کی کوئی کتاب نہیں لکھی جا سکتی تھی کیونکہ وہ کتاب فوراً جلا دی جاتی اور اس کے مصنف کو بہت بڑا کافر ، منکر اور مجرم ٹھہرا کر سولی پر چڑھا دیا جاتا!‘‘

درباریوں نے کچھ نہیں کہا کیونکہ انھیں قطعی یقین نہیں تھا کہ کس کی طرفداری کرنا مفید ہو گا بختیار کی یا نئے دانا کی؟

’’ٹیکس کی وصولیابی روزبروز کم ہوتی جاتی ہے‘‘ بختیار نے اپنی بات جاری رکھی ’’ اور کیا ہو گا؟ اس مولانا حسین نے امیر کو یہ کہہ کر دھوکا دیا ہے کہ ٹیکس چند دن کے لئے ختم کئے گئے ہیں اور بعد میں پھر ان کو لگا کر اضافہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ امیر کو اس بات کا یقین ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ کسی ٹیکس کو ختم کرنا آسان ہے لیکن کوئی نیا لگانا بہت ہی مشکل ہے۔ آدمی اپنا پیسہ اس وقت جلدی دے دیتا ہے جب وہ اس بات کا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ پیسے کو کسی دوسرے کا سمجھے لیکن ایک بار وہ اپنے اوپر یہ رقم خرچ کر لے تو پھر دوسری بار اس کو اسی طرح خرچ کرنا چاہے گا۔‘‘

’’ خزانہ خالی ہو جائے گا اور ہم یعنی امیر کے درباری تباہ ہو جائیں گے۔ زربفت کے لباس کی بجائے ہمیں موٹے کپڑے پہننا پڑیں گے۔ بیس بیویوں کی بجائے ہمیں دو ہی پر قناعت کرنی پڑے گی۔ چاندی کی پلیٹوں میں کھانے کی بجائے مٹی کے برتن ہوں گے اور نرم میمنے کے نرم گوشت کے بجائے ہمیں گائے کے سخت گوشت کا پلاؤ کھانا پڑے گا جو صرف کتوں اور دستکاروں کے لئے ہی موزوں ہے۔ یہی مولانا حسین ہمارے لئے کرنے والا ہے۔ جو اس کو نہیں سمجھتا وہ اندھا ہے اور لعنت ہو اس پر!‘‘

اس طرح کہہ کر بختیار نے نئے دانا کے خلاف درباریوں کو بہکانے کی کوشش کی ۔ لیکن اس کی کوششیں بے سود رہیں۔ مولانا حسین کو اپنے منصب میں برابر کامیابیاں ہوتی گئیں۔ وہ خاص طور سے ’’یومِ مدح سرائی‘‘ کے موقع پر ممتاز رہا۔ ایک پرانے رواج کے مطابق ہر مہینے تمام وزراء و امراء ، حکما و شعراء کا امیر کے سامنے مقابلہ ہوتا تھا جس میں امیر کی مدح و ثنا کی جاتی تھی ۔ مقابلے میں جیتنے والے کو انعام ملتا تھا۔

ہر شخص نے اپنا قصیدہ پیش کیا لیکن امیر خوش نہیں ہوا۔ اس نے کہا:

’’یہی باتیں تم نے پچھلی بار بھی کہی تھیں۔ ہم دیکھتے ہیں تم اپنی تعریفوں میں زیادہ گہرے نہیں ہو۔ تم اپنے دماغوں پر زور دینا نہیں چاہتے ہو۔ ہم تم سے سوالات کرینگے اور تم ان کا جواب اس طرح دو کہ تعریف و تشبیہ دونوں کا امتزاج ہو جائے۔ غور سے سنو، ہمارا پہلا سوال ہے ۔ اگر ہم ، امیر اعظم بخارا تمھارے دعوے کے مطابق طاقتور اور ناقابلِ تسخیر ہیں تو پڑوسی اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ابھی تک ہمارے یہاں اپنے ایلچی اور قیمتی تحائف ہماری مکمل اطاعت کے پیغام کے ساتھ کیوں نہیں بھیجے ہیں؟ ہم تمھارے جواب کے منتظر ہیں۔‘‘

درابری گھبرا گئے ۔ وہ براہ راست جواب دینے کی بجائے منہ ہی منہ میں بدبدانے لگے۔ صرف خواجہ نصر الدین پرسکون تھے۔ جب ان کی باری آئی تو وہ بولے:

’’میں اپنے حقیر الفاظ امیر کے گوش گزار کرنے کی التجا کرتا ہوں ۔ ہمارے شاہ کے سوال کا جواب آسان ہے۔ پڑوسی ملکوں کے تمام حکمراں ہمارے آقا کی قدرت کامل سے برابر لرزاں و ترساں رہتے ہیں ۔ وہ یہ سوچتے ہیں : ’’اگر ہم بخارا کے عظیم ، صاحب شان و شوکت امیر کو بیش قیمت تحفے بھیجیں تو وہ یہ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک زرخیز ہے جو ان کے لئے اس بات کی ترغیب ہو گی کہ وہ فوجیں لے کر ہم پر چڑھ آئیں اور ہمارے ملک پر قبضہ کر لیں۔ اگر اس کے بر عکس ہم ان کو حقیر تحفے بھیجیں تو وہ ناراض ہو جائیں گے اور اپنی فوج ہمارے خلاف بھیج دیں گے۔ بخارا کے امیر عظیم ، صاحب شان و شوکت اور طاقتور ہیں اس لئے یہی بہتر ہے کہ ہم ان کو اپنے وجود کی یاد ہی نہ دلائیں۔۔۔‘‘

’’ یہ ہیں خیالات جو بادشاہوں کے دماغوں میں ہیں اور اس کا سبب کہ وہ بیش بہا تحفوں کے ساتھ اپنے سفیر بخارا کیوں نہیں بھیجتے ہمارے بادشاہ کی قدرتِ کامل کے مستقل خوف میں تلاش کیا جا سکتا ہے۔‘‘

’’اہا‘‘ خواجہ نصر الدین کے جواب سے مسرور ہو کر امیر نے کہا ’’امیر کے سوال کا جواب اسی طرح دینا چاہئے: سنی تم لوگوں نے مولانا حسین کی بات، ارے بیوقوفو ، گاؤدیو ان سے سیکھو ! واقعی مولانا حسین کی عقل و دانش تم سے دسیوں گنی زیادہ ہے ۔ ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘

درباری باورچی نے فوراً لپک کر خواجہ نصر الدین کا منہ حلوے اور شیرینی سے بھر دیا۔ خواجہ نصر الدین کے گال پھول گئے اور گلا گھٹنے لگا۔ میٹھی رال ان کی ٹھڈی تک بہہ نکلی۔

امیر نے اور کئی ٹیڑھے سوال کئے لیکن ہر بار خواجہ نصر الدین ہی کا جواب بہترین رہا۔

’’درباری کا اولین فرض کیا ہے؟‘‘ ایک ایسا ہی سوال تھا جس کا جواب خواجہ نصر الدین نے یوں دیا:

’’اے صاحب شان و شوکت اور با عظمت بادشاہ ! درباری کا اولین فرض ہے کہ وہ روزانہ ریڑھ کی کسرت کرتا رہے تا کہ اس میں ضروری لچک پیدا ہو جائے کیونکہ اس کے بغیر وہ بجا طور پر اپنی وفاداری اور احترام کا اظہار نہیں کر سکتا۔ درباری کی ریڑھ کی ہڈی میں جھکنے کے ساتھ ساتھ چاروں طرف گھومنے مڑنے کی خوبی بھی ہونی چاہئے ۔ اس میں عام آدمی کی پتھرائی ہوئی ریڑھ کی ہڈی سے امتیاز ہونا چاہئے جس کو ٹھیک سے جھک کر سلام کرنا بھی معلوم نہیں ہے۔‘‘

’’بالکل ٹھیک !‘‘ امیر نے خوش ہو کر زور سے کہا۔ ’’ بالکل لبیک! اپنی ریڑھ کی ہڈی کی روزانہ کسرت! ہم دوسری بار مولانا حسین کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔‘‘

ایک بار پھر خواجہ نصر الدین کا منہ حلوے اور شیرینی سے بھر دیا گیا۔

اس دن بہت سے درباری بختیار کے گٹ کو چھوڑ کر خواجہ نصر الدین سے آن ملے۔

اس دن شام کو بختیار نے ارسلان بیک کو اپنے گھر مدعو کیا۔ نیا دانا دونوں کے لئے مساوی طور پر خطرناک تھا اور اس کو ختم کرنے کی خواہش نے ان کی پرانی دشمنی کو عارضی طور پر دبا دیا تھا۔

’’اگر اس کے پلاؤ میں کچھ ملا دیا جائے تو اچھا رہے گا‘‘ ارسلان بیک نے تجویز کی جو ایسے کاموں میں بڑا استاد تھا۔

’’اور اس کے بعد امیر ہمارے سر قلم کر دے گا‘‘ بختیار جھٹ سے بولا۔ ’’نہیں محترم ارسلان بیک ہمیں دوسرا طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ ہمیں مولانا حسین کی عقلمندی کی ہر طرح تعریف کرنی چاہئے یہاں تک ہ امیر کے دل میں یہ شبہ پیدا ہو جائے کہ درباری مولانا حسین کو خود امیر سے زیادہ عقلمند سمجھتے ہیں ۔ ہمیں متواتر مولانا حسین کی تعریفوں کے پل باندھ دینا چاہئے اور ایک دن ایسا آئے گا جب امیر رشک کرنے لگے گا۔ وہ دن مولانا حسین کے عروج کا آخری دن اور اس کے زوال کی ابتدا ہو گی۔‘‘

لیکن قسمت خواجہ نصر الدین پر مہربان تھی اور ان کی غلطیاں بھی ان کے لئے مفید بن جاتی تھیں۔

جب بختیار ارسلان بیک نے نئے دانا کی مسلسل اور مبالغہ آمیز مدح و ثنا سے تقریباً اپنا مقصد حاصل کر لیا تھا اور امیر دل ہی دل میں اس سے رشک کرنے لگا تھا تو اتفاق سے خواجہ نصر الدین سے ایک فاش غلطی ہو گئی۔

خواجہ امیر کے ساتھ باغ میں ٹہل رہے تھے، پھولوں کی مہک اور چڑیوں کی چہکار سے لطف اندوز ہو رہے تھے ۔ امیر خاموش تھا۔ خواجہ نصر الدین نے یہ محسوس کیا کہ اس خاموشی میں کچھ ناراضگی پنہاں ہے لیکن اس کی وجہ نہ سمجھ سکے۔

’’اور وہ بڈھا ، تمھارا قیدی کیسا چل رہا ہے؟‘‘ امیر نے پوچھ لیا۔ ’’کیا تم نے اس کا اصلی نام اور بخارا آنے کا سبب معلوم کر لیا؟‘‘

خواجہ نصر الدین اس وقت گل جان کے خیال میں محو تھے۔ اس لئے انہوں نے کھوئے پن سے جواب دیا:

’’جہاں پناہ غلام کو معاف کریں! میں ابھی تک اس بڈھّے سے ایک لفظ بھی معلوم نہیں کر سکا۔۔۔بس ، وہ تو بت کی طرح گو ہے۔‘‘

’’ لیکن کیا تم نے اس کو اذیت پہنچانے کی کوشش کی ؟‘‘

’’ ہاں ، ہاں ، خداوند نعمت! پرسوں میں نے اس کے جوڑوں کو کس دیا، کل میں نے گرم چمٹی سے اس کے دانت ہلانے میں سارا زور صرف کیا۔

’’ دانت ہلانا بڑی اچھی اذیت ہے‘‘ امیر نے تصدیق کی ۔ ’’حالانکہ یہ عجیب بات ہے کہ وہ خاموش ہے۔ کیا میں کوئی ۔۔۔ اور تجربے کار جلاد تمھاری مدد کے لئے بھیجوں؟‘‘

’’نہیں ، حضورِ والا اس فکر کی زحمت نہ کریں۔ کل میں ایک نئی اذیت آزماؤں گا۔ کل میں بڈھّے کی زبان اور مسوڑے ایک لال انگارہ برمے سے چھیدوں گا۔‘‘

’’ٹھہرو ! ٹھہرو!‘‘ امیر نے زور سے کہا۔ اس کا چہرہ یکایک خوشی سے چمک اٹھا۔ ’’بھلا وہ تمھیں اپنا نام کیسے بتائے گا اگر تم نے اس کی زبان جلتے ہوئے برمے سے چھید دی! مولانا حسین ! تم نے اس کی بابت کبھی نہیں سوچا تھا، ہے نا، اور ہم نے، امیر اعظم نے فوراً سوچ لیا اور تم کو ایک زبردست غلطی کا مرتکب ہونے سے بچا لیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ تم دانائے بے نظیر ہو ، ہماری عقل و فرست تم سے کہیں زیادہ ہے ، جیسا کہ تم نے ابھی ابھی دیکھا۔‘‘

وہ خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ مسرت میں سرشار اس نے درباریوں کو فوراً طلب کیا۔ جب وہ سب جمع ہو گئے تو اس نے اعلان کیا کہ اس دن وہ مولانا حسین سے عقل و دانش میں سبقت لے گیا ہے اور ایسی غلطی سے بچا لی ہے جو دانا کرنے ہی والا تھا۔

درباری واقعی نویس نے آنے والی نسلوں کے لئے امیر کے ایک ایک لفظ کو بڑی محنت سے لکھ لیا۔

اس دن سے امیر کے دل میں رشک و حسد نہیں رہا۔

اس طرح ایک اتفاقیہ غلطی نے خواجہ نصر الدین کے دشمنوں کی عیارانہ سازشوں کو ناکام بنا دیا۔

لیکن رات کی تنہائی میں ان کی پریشانی زیادہ بڑھنے لگی۔ پورا چاند شہر بخارا پر بلند ہو چکا تھا۔ بے شمار میناروں کے سروں پر روغن دار کھپرے چمک رہے تھے اور پتھر کی زبردست بنیادیں ایک نیلگوں دھندلکے میں مستور تھیں۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ چھتوں پر تو خنک تھی لیکن نیچے جہاں زمین اور دھوپ سے جلتی ہوئی دیواروں کو ٹھنڈا ہونے کے لئے کافی وقت نہیں ملا تھا یہی ہوا گھٹن پیدا کر رہی تھی ۔ سب چیزوں پر نیند چھائی ہوئی تھی ۔ محل ، مسجدوں اور جھونپڑیوں پر۔ صرف الو اپنی تیز چیخوں سے اس مقدس شہر کے امن و سکوت میں خلل انداز ہو رہے تھے۔

خواجہ نصر الدین کھلی کھڑکی پر بیٹھے تھے ۔ ان کا دل یہ کہتا تھا کہ گل جان بھی نہ سوئی ہو گی اور انھیں کے بارے میں سوچ رہی ہو گی۔ شاید اس وقت وہ دونوں ایک ہی مینار کو دیکھ رہے ہوں لیکن ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے تھے کیونکہ وہ دیوروں، سلاخوں، خواجہ سراؤں اور مغلانیوں کے ذریعہ ایک دوسرے سے جدا تھے۔ خواجہ نصر الدین محل میں تو آ گئے تھے لیکن ابھی حرم تک پہنچ نہیں ہوئی تھی جس کا موقع قسمت ہی سے مل سکتا تھا۔ وہ انتھک اس موقع کے بارے میں سوچتے رہتے لیکن سب بے سود ہوتا ! وہ گل جان کو کوئی پیام تک نہ بھیج سکے تھے۔ وہ کھڑکی میں بیٹھے ہوا کو چوم کر یہ کہہ رہے تھے:

’’ تیرے لئے تو یہ بہت آسان ہے! آہستہ سے اس کی کھڑکی کے اندر جا کر اس کے ہونٹ چوم لے۔ گل جان کو میرا بوسہ اور پیام پہنچا! اسے بتا کہ میں اسے بھولا نہیں ہوں۔ اس سے کہہ کہ میں اسے نجات دلاؤں گا۔‘‘

لیکن ہوا خواجہ نصر الدین کو غم میں ڈوبا چھوڑ کر آگے بڑھ گئی۔

پھر حسب معمول ایک اور دن کاموں اور فکروں کے ساتھ شروع ہو جاتا۔ پھر خواجہ نصر الدین کو دربار میں حاضر ہونا پڑتا ۔ امیر کی آمد کا انتظار کرنا ہوتا ، درباریوں کی چاپلوسیاں سننا پڑتیں ، بختیار کی عیارانہ سازشوں کو سمجہنا اور اس کی خفیہ زہریلی نگاہوں کی نگرانی کرنی پڑتی تھی۔ پھر امیر کے سامنے جھکنا پڑتا ، اس کے قصیدے پڑھنے پڑتے اور اس کے بعد امیر کے ساتھ گھنٹوں تنہائی میں رہ کر ، اس کے پھولے اور مسخ چہرے سے نفرت کے باوجود ، اس کی احمقانہ باتوں کو غور سے سننا پڑتا اور اس کو ستاروں کی گردش کے بارے میں بتانا پڑتا ۔ خواجہ نصر الدین ان باتوں سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ وہ کوئی نئی بات نہ کہتے اور ہر چیز کی خواہ وہ امیر کا درد ہو یا فصل کی خشکسالی اور غلے کی گرانی ایک ہی الفاظ میں اور ایک ہی ستاروں کے جھرمٹ سے تاویل کر دیتے ۔ وہ اکتائے ہوئے لہجے میں کہتے:

’’سعد الذبیح کے ستارے جھرمٹ قوس کے خلاف ہیں جبکہ سیارہ عطارد اب جھرمٹ عقرب کے بائیں طرف آگیا ہے۔ امیر کو کل رات نیند نہ آنے کی وجہ یہ ہے۔‘‘

’’سعد الذبیح کے ستارے سیارہ عطارد کے خلاف ہیں جبکہ۔۔۔ مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔۔۔ مولانا حسین اس کو دھراؤ۔‘‘

بہر حال امیر اعظم کے ہاں حافظے کا فقدان تھا۔

دوسرے دن پھر اسی پر نئے سرے سے بات چیت شروع ہوتی:

’’ امیر اعظم ، پہاڑی علاقوں میں مویشیوں کی ہلاکت کو سبب یہ ہے کہ سعدالذبیح کے ستارے جھرمٹ قوس سے مطابقت کر رہے ہیں جبکہ عطارد عقرب کے خلاف ہیں۔‘‘

’’اچھا تو سعدالذبیح کے ستارے‘‘ امیر کہتا ’’مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔‘‘

’’اللہ اکبر ! کتنا احمق ہے یہ !‘‘ خواجہ نصر الدین عاجز ہو کر سوچتے۔ ’’یہ تو میرے سابق مالکان سے بھی زیادہ گدھا ہے! میں تو اس سے تنگ آ گیا۔ نہیں معلوم مجھے اس محل سے کب نجات ملے گی!‘‘

اس دوران میں امیر کوئی اور موضوع چھیڑ دیتا:

’’مولانا حسین، ہماری سلطنت میں امن و امان کا دور دورہ ہے۔ اب خواجہ نصر الدین کی کوئی خبر نہیں آتی۔ وہ کہاں چلا گیا؟ وہ کیوں خاموش ہے؟ ہمیں یہ بتاؤ۔‘‘

’’شہنشاہ معظم، مرکز عالم! سعدالذبیح کے ستارے۔۔۔‘‘ خواجہ نصر الدین نے اکتائی اور تھکی ہوئی آواز سے کہنا شروع کیا اور وہ سب باتیں دھرا ڈالیں جو پہلے نجانے کتنی بار کہہ چکے تھے۔ ’’اور اس کے علاوہ ، امیر معظم ، یہ بدمعاش خواجہ نصر الدین بغداد جا چکا ہے اور ظاہر ہے کہ اس نے میری عقل و دانش کی شہرت سنی ہو گی اور جب اسے معلوم ہوا کہ میں بخارا آ گیا ہوں تو وہ خوف و ہراس سے پوشیدہ ہو گیا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں اس کو آسانی سے گرفتار کر سکتا ہوں۔‘‘

’’اس کو گرفتار کر سکتے ہو ؟ یہ تو بہت اچھا رہے گا ! لیکن تم یہ کام کیسے کرنے والے ہو؟‘‘

’’اس کے لئے میں سعد الذبیح کے ستاروں اور سیارہ مشتری کے قران السعدین کا انتظار کروں گا۔‘‘

’’سیارہ مستری کے ساتھ‘‘ امیر نے دھرایا ’’مجھے یہ یاد رکھنا چاہئے۔ مولانا ، جانتے ہو کل رات میرے دماغ مین ایک لاجواب خیال آیا ہے۔ ہم نے سوچا کہ بختیار کو بر طرف کر کے اس کی جگہ پر تم کو وزیر اعظم مقرر کیا جائے۔‘‘

خواجہ نصر الدین کو امیر کے سامنے جھک کر اس کی تعریف کرنی پڑی اور شکریہ ادا کرنا پڑا اور یہ وضاحت کرنی پڑی کہ فی الحال سعدالذبیح کر ستارے وزیروں میں کسی تبدیلی کے لئے ناسازگار ہیں۔

’’جلدی جلدی بھاگو یہاں سے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا۔

اس طرح محل میں ان کی زندگی خوشیوں سے خالی اور اداس گزر رہی تھی ۔ وہ بازار ، بھیڑ بھکڑ ، چائے خانوں اور دھوئیں بھرے باورچی خانوں کے لئے بے تاب تھے۔ وہ امیر کے پورے لذیذ دستر خوان کو لات مار کر بھیڑ کے پایوں کے گرم گرم پیاز کٹے خوب چٹ پٹے شوربے کے پیالے یا بھیڑ کی سخت بوٹیوں کے سستے بازاری پلاؤ کو خوشی سے ترجیح دیتے۔ خوشامد اور تعریف کی جگہ وہ سیدھی سادی بات چیت اور زندہ دلانہ قہقہے سننے کے لئے اپنے زرتار لباس کا تبادلہ چیتھڑوں سے کر سکتے تھے۔

لیکن قسمت کو خواجہ کی آزمائش منظور تھی اس لئے وہ سازگار موقع نہیں ہاتھ آ رہا تھا جس کا مدتوں سے انتظار تھا۔ اس دوران امیر برابر یہ پوچھتا رہتا کہ آخر کب ستارے اس کو اپنی نئی داشتہ کا نقاب الٹنے کی اجازت دیں گے۔

(۲۸)

ایک دن امیر نے خواجہ نصر الدین کو بے وقت طلب کر لیا۔ صبح کا تڑکا تھا ، محل سویا ہوا تھا، فوارے کلبلا رہے تھے اور قمریاں کو کو کر کے اپنے پر پھڑپھڑا رہی تھیں۔

’’اس کو مجھ سے کیا کام ہو سکتا ہے؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے شاہی کمرے کی طرف جانے والے یشب کے زینوں پر چڑھتے ہوئے سوچا۔

خواجہ کی مڈ بھیڑ بختیار سے ہوئی جو خوابگاہ سے نکل کر چپکے سے سائے کی طرح غائب ہو گیا۔ انہوں نے بلا رکے ہوئے صاحب سلامت کی۔ خواجہ نصر الدین تاڑ گئے کہ کچھ سازش ہے اور پھونک پھونک کر قدم بڑھانے لگے۔

خوابگاہ میں خواجہ سراؤں کا داروغہ موجود تھا۔ حضور عصمت مآب شاہی بستر کے پاس پٹ پڑے ہوئے بری طرح کراہ رہے تھے۔ سونے سے منڈھے ہوئے پام کے ایک بید کے ٹکڑے ٹوٹے ہوئے ان کے پاس قالین پر بکھرے ہوئے تھے۔

مخمل کے بھاری پردوں نے خوابگاہ میں صبح کی تازہ ہوا ، سورج کی شعاعیں اور چڑیوں کی چہچہاہٹ کو آنے سے روک رکھا تھا۔ کمرے میں ایک ٹھوس سونے کے لیمپ کی دھیمی روشنی تھی جو سونے کا ہونے کے باوجود معمولی مٹی کے چراغ کی طرح دھواں اور بو دے رہا تھا۔ ایک کونے میں نقشی عود دان سے بڑی بھینی بھینی تیز خوشبو نکل رہی تھی لیکن وہ بھیڑ کی چربی کی بو کو نہیں دور کر سکی تھی ۔ خوابگاہ کی فضا اتنی بھاری تھی کہ خواجہ نصر الدین کی ناک میں کھجلی ہونے لگی اور گلا گھٹنے سا لگا۔

امیر بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے بالدار پیر ریشمی لحاف سے باہر نکلے ہوئے تھے۔ خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ شاہ کی ایڑیاں ایسی زرد تھیں جیسے اس نے ان کو اکثر اپنے ہندی عود دان کے اوپر سینکا ہو۔

’’مولانا حسین ہم سخت پریشان ہیں‘‘ امیر نے کہا ’’اور ہمارے خواجہ سراؤں کا داروغہ جس کو تم یہاں دیکھتے ہو اس کا سبب ہے۔‘‘

’’شہنشاہ معظم!‘‘ خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا لیکن اندر سے برف ہو گئے ’’اس کی یہ جرات کیسے ہوئی؟‘‘

’’ارے ، نہیں !‘‘ امیر نے تیوری چڑھا کر ہاتھ جھٹکا۔ ’’وہ کیسے کر سکتا تھا جبکہ ہم نے حسب معمول اپنی فراست و دانائی سے ہر چیز پہلے سے دیکھ لی اور اس کو خواجہ سراؤں کا داروغہ مقرر کرنے سے پہلے ہر بات اچھی طرح جانچ لی تھی۔ نہیں ، نہیں اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے ۔ ہمیں آج یہ معلوم ہوا کہ یہ بد معاش ، ہمارے خواجہ سراؤں کا داروغہ ، اس بات کو بھول گیا کہ ہم نے اس کو ہم نے اپنی سلطنت میں ایک بہت ہی اونچا منصب عطا کیا ہے اور اپنے فرائض سے غفلت برتنے لگا۔‘‘

’’اس بات سے فائدہ اٹھا کر کہ ہم آج کل اپنی داشتاؤں کے پاس نہیں جا رہے ہیں اس نے تین دن حرم سے غائب رہ کر حشیش پینے کی لت میں مست رہنے کی جرات کی۔ حرم کا نظم و نسق بگڑ گیا۔ ہماری داشتائیں بے مہار ہو کر ایک دوسرے سے لڑنے جھگڑنے ، ایک دوسرے کا منہ اور بال نوچنے لگیں۔ اس سے ہمارا کافی نقصان ہوا کیونکہ ہماری نگاہ میں وہ عورت حسین نہیں ہو سکتی جس کے چہرے پر کھرونچے ہوں اور سر کے کافی بال غائب ہو چکے ہوں۔ اس کے علاوہ ایک اور بات نے ہم کو رنج و غم میں غرق کر دیا ہے۔ ہماری نئی داشتہ بیمار پڑ گئی ہے اور تین دن سے کھانا نہیں کھا رہی ہے۔‘‘

خواجہ نصر الدین چونک پڑے لیکن امیر نے ان کو اشارے سے روکا:

’’رکو، ابھی ہم نے بات ختم نہیں کی ہے۔ وہ بیمار پڑ گئی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اپنی جان ہی گنوا بیٹھے ۔ اگر ہم اس کے پاس صرف ایک ہی بار گئے ہوتے تو ہم کو اس کی بیماری ، حتیٰ کہ اس کی موت کا بھی اتنا غم نہ ہوتا۔ لیکن تم سمجھ سکتے ہو، مولانا حسین ، کہ موجودہ حالت میں ہم کس قدر ناراض ہیں۔ اس لئے ہم نے فیصلہ کیا ہے‘‘ امیر نے اپنی آواز بلند کر دی ’’کہ مزید کوفتوں اور فکروں سے بچنے کے لئے ہم اس حشیش پینے والے بد معاش، پاجی کو برطرف کر دیں، اس کو اپنی عنایات سے محروم کر دیں اور اس کو دو سو درے لگوائیں۔ جہاں تک تمھارا تعلق ہے ، مولانا حسین، ہم نے اس کے برعکس فیصلہ کیا ہے کہ تم پر عنایت کرتے ہوئے اپنے حرم میں خواجہ سراؤں کے داروغہ کے عہدے پر فائز کریں۔‘‘

خواجہ نصر الدین کو محسوس ہوا جیسے ان کے پیر سن ہو گئے ہیں ، ان کی سانس گلے ہی میں رک گئی ہے اور ان کے پیٹ کے اندر کسی نے برف کی سل رکھ دی ہے۔

امیر نے تیوری چڑھا کر دھمکی آمیز لہجے میں دریافت کیا:

’’مولانا حسین ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم ہم سے بحث کرنے پر تُلے ہو۔ کیا ایسا ہے کہ تم بیکار اور وقتی خوشیوں کو ما بدولت کی خدمت کرنے کی عظیم مسرت پر ترجیح دیتے ہو؟‘‘

خواجہ نصر الدین نے اب تک اپنے کو سنبھال لیا تھا۔ وہ بہت جھک کر تعظیم بجا لائے اور بولے:

’’خدا ہمارے مہربان بادشاہ کو سلامت رکھے۔ مجھ پر امیر کی عنایات بے انتہا ہیں۔ شہنشاہ معظم میں اپنی رعایا کے انتہائی خفیہ اور اندرونی آرزوؤں کو معلوم کرنے کی معجز نما خوبی ہے۔ اس طرح وہ اپنی رعایا پر متواتر آ کرام کی بارش کرتے رہتے ہیں۔ میں نے، اس ناچیز نے اکثر یہ تمنا کی ہے کہ اس کابل اور بیوقوف آدمی کی جگہ حاصل کروں جو منصفانہ سزا پانے کے بعد جس کا وہ خود سبب بنا ہے قالین پر پڑا کراہ رہا ہے اور فریاد کر رہا ہے۔ کتنی بار یہ خواہش میرے دل میں آئی لیکن میں نے امیر سے عرض نہیں کیا ۔ لیکن اب خود شہنشاہ اعظم نے فرمایا۔‘‘

’’تو پھر دیر کیوں ہو؟‘‘ امیر نے خوش ہو کر دوستانہ انداز میں ان کی بات کاٹ دی۔ ’’ہم حکیم کو طلب کرتے ہیں۔ وہ اپنے چاقو ساتھ لائے گا اور تم اس کے ساتھ تنہا جگہ میں چلے جاؤ گے۔ اس دوران میں ہم بختیار کو حکم دین گے کہ وہ تم کو خواجہ سراؤں کا داروغہ مقرر کرنے کا فرمان تیار کر لے۔ ارے!‘‘ اس نے زور سے کہا اور تالی بجائی۔

’’حضورِ اعلیٰ میری حقیر بات بھی سن لیں‘‘ خواجہ نصر الدین نے ہراساں دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے جلدی سے کہا۔ ’’میں بڑی خوشی کے ساتھ حکیم کے ساتھ فوراً کسی تخلیئے کی جگہ جانے کو تیار ہوں لیکن صرف حضور کی سلامتی کی فکر مجھے ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ اس عمل کے بعد مجھے کئی دن تک صاحب فراش رہنا پڑے گا۔ اس دوران میں نئی داشتہ مر سکتی ہے اور پھر امیر کے دل پر غم کے سیاہ بادل چھا جائیں گے جس کا خیال ہی ان کے غلام کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے میری تجویز یہ ہے کہ پہلے داشتہ صحت مند ہو جائے اس کے بعد میں حکیم کے پاس جاؤں اور خواجہ سراؤں کے داروغہ کے منصب کے لئے تیاری کروں۔‘‘

’’ہونہہ‘‘ امیر خواجہ نصر الدین کی طرف بے اعتباری سے دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔

’’آقا ، اس نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا ہے۔‘‘

’’ہونہہ‘‘ امیر نے دھرایا۔ پھر وہ کراھتے ہوئے خواجہ سرا کی طرف مڑ گیا ’’ارے، کمبخت مکڑی کے بچے جواب دے، کیا ہماری نئی داشتہ بہت بیمار ہے، کیا اس کی جان کا خطرہ ہے؟‘‘

خواجہ نصر الدین بڑی بے چینی سے جواب کا انتظار کر رہے تھے۔ ان کے چہرے پر ٹھنڈا پسینہ بہہ رہا تھا ۔

خواجہ سرا نے کہا:

’’شہنشاہ معظم، وہ ہلال کی طرح دبلی اور زرد ہو گئی ہے۔ اس کا چہرہ مومی ہو گیا ہے اور انگلیاں ٹھنڈی پڑ گئی ہیں۔ مغلانیاں کہتی ہیں کہ یہ بہت بری علامتیں ہیں۔۔۔‘‘

امیر سوچ میں پڑ گیا۔ خواجہ نصر الدین تاریکی میں ہٹ گئے۔ وہ خوابگاہ کی اس دھواں دھواں سی نیم تاریکی کے شکرگزار تھے جس نے ان کے چہرے کی زردی چھپا لی تھی۔

’’ہاں !‘‘ آخرکار امیر بولا ’’اگر ایسا ہے تو ممکن ہے کہ وہ مر جائے اور اس سے ہمیں بڑا رنج ہو گا۔ لیکن کیا تمھیں یقین ہے ، مولانا حسین ، کہ تم اس کو شفا یاب کر سکو گے؟‘‘

’’بادشاہ سلامت جانتے ہیں کہ بخارا اور بغداد کے درمیان میرا جیسا کوئی حکیم نہیں ہے۔‘‘

’’جاؤ، مولانا ، اس کے لئے دوا تیار کرو۔‘‘

’’بادشاہ سلامت، پہلے مجھے اس کی بیماری معلوم کرنی ہو گی۔ مجھے اسے دیکھنا چاہئے۔‘‘

’’اسے دیکھنا چاہئے؟‘‘ امیر نے حقارت سے ہنس کر کہا ۔

’’مولانا حسین، جب تم خواجہ سراؤں کے داروغہ ہو جاؤ گے تو تم کو اسے دیکھنے کے لئے کافی وقت ملے گا۔‘‘

’’اعلیٰ حضرت!‘‘ خواجہ نصر الدین زمین تک جھک گئے۔ ’’مجھے ضرور۔۔۔‘‘

’’ذلیل غلام!‘‘ امیر چیخا۔ ’’کیا تو نہیں جانتا کہ ہماری داشتاؤں کے چہرے پر کسی آدمی نگاہ پڑنے کا انجام اس کی اندوہناک موت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘

’’میں جانتا ہوں ، اعلیٰ حضرت!‘‘ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ’’لیکن میرا مطلب اس کے چہرے سے نہ تھا۔ میں اس کے چہرے کو دیکھنے کی کبھی جرات نہیں کر سکتا۔ میرے لئے تو صرف اس کا ہاتھ دیکھنا کافی ہو گا کیونکہ میں اپنے پیشے میں کافی ماہر ہوں اور میں ہر بیماری کی تشخیص ناخونوں کا رنگ دیکھ کر کر سکتا ہوں ۔‘‘

’’اس کا ہاتھ؟‘‘ امیر نے دھرایا۔ ’’تم نے پہلے ہی کیوں نہ بتا دیا تاکہ ہمیں غصہ نہ آتا ؟ اس کا ہاتھ؟ ہاں ، یہ ممکن ہے۔ ہم تمھارے ساتھ حرم میں چلیں گے۔ ہمیں یقین ہے کہ کسی عورت کا ہاتھ دیکھنا ہمارے لئے نقصان کا باعث نہ ہو گا۔‘‘

’’اس کے ہاتھ پر نگاہ ڈالنے سے اعلیٰ حضرت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا‘‘ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ چونکہ وہ گل جان سے کبھی تنہا نہیں مل سکیں گے کسی نہ کسی کی موجودگی لازمی ہے۔ اس لئے اگر وہ آدمی امیر خود ہی ہو تو کوئی ہرج نہیں۔ اس طرح امیر کو شک بھی نہ ہو گا۔

(۲۹)

اتنے دن انتظار میں بیکار گزارنے کے بعد بالآخر حرم کے دروازے خواجہ نصر الدین پر کھل گئے۔

پہرے دار تعظیم بجا لاتے ہوئے ایک طرف ہٹ گئے۔ خواجہ نصر الدین امیر کے پیچھے ایک پتھر کے زینے پر چڑھے اور پھر ایک چھوٹے دروازے کے ذریعہ حسین باغ میں آ گئے۔ یہاں گلاب اور سوسن و سنبل کے تختے کھلے تھے اور ان کے درمیان سنگ مرمر اور سنگ اسود کے حوضوں میں فوارے اچھل رہے تھے۔ ان پر پانی کی ایک لطیف چادر سی پھیلی ہوئی تھی۔ پھولوں اور گھاس پر صبح کی شبنم چمک اور تھرک رہی تھی۔

خواجہ نصر الدین کا ایک رنگ آتا ایک جاتا۔ خواجہ سرا نے اخروٹ کا نقشین دروازہ کھول دیا۔ مشک و عنبر اور گلاب کے عطر کا ایک زوردار بھبکا اندر کے پراسرار حصے سے آیا۔ یہ تھا حرم، امیر کے حسین قیدیوں کی غم انگیز رہائش گاہ۔

خواجہ نصر الدین نے ایک ایک کونے ، گزرگاہ اور موڑ کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیا تا کہ جب وہ فیصلہ کن لمحہ آئے تو راستہ نہ بھولیں کیونکہ اس کا مطلب اپنی گل جان دونوں کی موت تھا۔

’’دائیں طرف‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں دھرایا ’’پھر بائیں۔ یہاں ایک زینہ ہے جس پر ایک بڈھی عورت پہرہ دے رہی ہے۔ اب پھر بائیں کو۔۔۔‘‘

گزر گاہوں میں بہت مدھم روشنی تھی جو نیلے ، سبز اور گلابی چینی شیشوں سے چھن چھن کر آ رہی تھی۔ خواجہ سرا ایک تنگ سے دروازے کے پاس رک گیا:

’’آقا، وہ یہاں ہے۔‘‘

خواجہ نصر الدین نے امیر کے پیچھے اس چوکھٹ کو پار کیا جو ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے والی تھی۔

چھوٹا سا کمرہ تھا جس کی دیواریں اور فرش قالین سے ڈھکے ہوئے تھے۔ طاقچوں میں سیپ کے ڈبے رکھے تھے جن میں کنگن ، بالیاں اور ہار بھرے ہوئے تھے اور دیوار پر ایک چاندی کے فریم کا آئینہ تھا۔ بیچاری گل جان نے تو یہ زر و جواہر خواب میں ‌بھی نہیں دیکھے تھے! خواجہ نصر الدین کی نگاہ اس کی موتیوں سے مرصع چھوٹی سی جوتیوں پر پڑی اور وہ کانپ گئے۔ گل جان نے ان کے تلے گھس دئے تھے۔ ان کو اپنے جذبات کا گلا گھونٹنے کے لئے اپنی تمام قوتِ ارادی سے کام لینا پڑا۔

خواجہ سرا نے ایک کونے میں ریشمی پردے کی طرف اشارہ کیا۔ گل جان وہاں لیٹی تھی۔

’’وہ سو رہی ہے‘‘ خواجہ سرا نے سرگوشی میں کہا۔

خواجہ نصر الدین کے اندر ایک طوفان سا برپا ہو گیا۔ ان کی محبوبہ اتنی قریب تھی۔ ’’اپنے دل کو فولاد کا بنا لو، سب جھیل جاؤ، خواجہ نصر الدین!‘‘ انہوں نے اپنے آپ سے کہا۔

جب وہ پردے کے قریب گئے تو انہوں نے سوتی ہوئی گل جان کی سانس لینے کی آواز سنی۔ مسہری کے سرہانے کی طرف ریشمی کپڑا آہستہ آہستہ ہل رہا تھا۔ خواجہ نصر الدین کو ایسا لگا جیسے کسی کی آہنی گرفت نے ان کا گلا گھونٹ دیا ہے ، ان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور ان کی سانس پھول گئی۔

’’مولانا حسین، تم اس قدر سست کیوں پڑ گئے؟‘‘ امیر نے پوچھا۔

’’اعلیٰ حضرت، میں اس کی سانس کی آواز سن رہا ہوں۔ میں اس پردے کے پیچھے سے آپ کی خاتون کے دل کی حرکت معلوم کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ اس کا نام کیا ہے؟‘‘

’’اس کا نام گل جان ہے‘‘ امیر نے کہا۔

’’گل جان!‘‘ خواجہ نصر الدین نے نرمی سے پکارا۔

مسہری کے سرے پر پردے کی حرکت اچانک رُک گئی ۔ گل جان جاگ اٹھی تھی اور بے حس و حرکت لیٹی تھی۔ اس کو یہ یقین نہیں تھا کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے یا وہ واقعی اپنے محبوب کی آواز سن رہی ہے۔

’’گل جان!‘‘ خواجہ نصر الدین نے پکارا۔ گل جان کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی لیکن خواجہ نصر الدین نے تیزی سے کہا:

’’میرا نام مولانا حسین ہے۔ میں نیا دانا، نجومی اور حکیم ہوں جو بغداد سے امیر کی خدمت میں حاضر ہوا ہے۔ تم سمجھیں نا، گل جان۔ میں ہوں نیا دان، نجومی اور حکیم مولانا حسین۔‘‘

’’کسی وجہ سے وہ میری آواز سن کے ڈر گئی۔ غالباً اعلیٰ حضرت کی غیر موجودگی میں یہ خواجہ سرا اس کے ساتھ سختی سے پیش آیا ہے۔‘‘

امیر نے خواجہ سرا کو گھور کر دیکھا جو اپنی صفائی دینے کے لئے آواز نکالے بغیر کانپ کر زمین تک جھک گیا۔

’’گل جان ، تمھارے لئے خطرہ ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’لیکن میں تمھیں بچا لوں گا۔ تمھیں مجھ پر اعتماد کرنا چاہئے کیونکہ میرا فن ہر چیز پر قابو پا سکتا ہے۔‘‘

’’میں تمھاری بات سن رہی ہوں، مولانا حسین، بغداد کے حکیم۔ میں تم کو جانتی ہوں اور تم پر اعتماد کرتی ہوں اور یہ میں بادشاہ سلامت کے حضور میں کہتی ہوں جن کے قدم میں پردے کی درازوں سے دیکھ رہی ہوں۔‘‘

یہ لحاظ رکھتے ہوئے کہ امیر کی موجودگی میں ان کے لئے با وقار اور عالمانہ رویہ اختیار کرنا لازمی تھا خواجہ نصر الدین نے درشتی سے کہا:

’’مجھے اپنا ہاتھ دو تا کہ میں ناخونوں کے رنگ سے تمھاری بیماری کی تشخیص کر سکوں۔‘‘

ریشمی پردہ ہلا اور بیچ سے کھل گیا۔ خواجہ نصر الدین نے نرمی سے گل جان کا ہاتھ پکڑ لیا۔ وہ اس کو دبا کر ہی اپنے جذبات کا اظہار کر سکتے تھے۔ گل جان نے بھی ہلکے سے ان کا ہاتھ دبا کر جواب دیا۔ انہوں نے اس کا ہاتھ پلٹا اور بڑی دیر تک غور سے ہتھیلی کو دیکھتے رہے۔ ’’کتنی دبلی ہو گئی ہے‘‘ ان کے دل میں ایک ٹیس اٹھی۔ امیر ان کے پیچھے سے جھانک رہا تھا۔ اس کی سانس خواجہ کے کان میں لگ رہی تھی۔ خواجہ نصر الدین نے اس کو گل جان کی چھنگلیا کا ناخن دکھا کر اپنا سر اس طرح ہلایا جیسے کوئی خطرہ ہو۔ حالانکہ یہ ناخن بھی دوسرے ناخونوں کی طرح تھا لیکن امیر کو اس میں کوئی خرابی معلوم ہوئی اور اس نے اپنے ہونٹ چبا کر خواجہ نصر الدین کی طرف معنی خیز انداز میں دیکھا۔

’’تمھارے درد کہاں ہوتا ہے؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔

’’دل میں‘‘ گل جان نے آہ بھر کر جواب دیا۔ ’’میرا دل غمگین اور اداس ہے۔‘‘

’’تمھارے غم کا سبب کیا ہے؟‘‘

’’میں اپنے محبوب سے جدا ہوں۔‘‘

خواجہ نصر الدین نے چپکے سے امیر سے کہا:

’’ وہ اعلیٰ حضرت سے جدائی کی وجہ سے بیمار ہے۔‘‘

امیر کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا۔ اس کی سانس اور تیز ہو گئی۔

’’میں اپنے محبوب سے جدا ہوں‘‘ گل جان نے کہا ’’اور اب میں محسوس کرتی ہوں کہ میرا محبوب مجھ سے قریب ہے لیکن نہ تو میں اس کو چوم سکتی ہوں اور نہ اس سے بغل گیر ہو سکتی ہوں۔ ارے وہ دن کب آئے گا جب وہ مجھ سے بغل گیر ہو گا اور مجھے اپنے آغوش میں لے گا۔‘‘

’’اللہ اکبر!‘‘ خواجہ نصر الدین نے مصنوعی حیرت سے کے ساتھ کہا۔ ’’اعلیٰ حضرت نے اس مختصر مدت میں عشق کا کیسا شعلہ اس کے اندر روشن کر دیا ہے!‘‘

امیر خوشی سے بدمست ہو گیا۔ وہ نچلا نہ رہ سکا اور ٹہلنے لگا۔ ساتھ ہی منہ پر ہاتھ رکھ کر ہی ہی کر رہا تھا۔

’’گل جان!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’اطمینان رکھو، جس سے تم محبت کرتی ہو وہ تمھاری باتیں سن رہا ہے!‘‘

صراحی کے قلقل کی طرح پردے کے پیچھے سے ہنسنے کی ہلکی سی آواز آئی۔ خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی:

’’تمھارے لئے خطرہ ہے، گل جان ، لیکن ڈرو نہیں۔ میں مشہور دانا، نجومی اور حکیم مولانا حسین ، تم کو بچا لوں گا۔‘‘

’’یہ تم کو بچا لیں گے!‘‘ امیر نے خوشی کے ساتھ دھرایا۔ ’’یہ تم کو قطعی بچا لیں گے!‘‘

’’اعلیٰ حضرت نے جو کچھ کہا تم نے سنا؟‘‘ خواجہ نصر الدین نے اپنی بات جاری رکھی۔ ’’تمھیں مجھ پر اعتماد کرنا چاہئے۔ میں تم کو خطرے سے نجات دلاؤں گا۔ تمھاری مسرتوں کا دن اب قریب ہے۔ فی الحال بادشاہ سلامت تمھارے پاس نہیں آ سکتے کیونکہ میں نے ان کو ستارون کے اس حکم سے آگاہ کر دیا ہے کہ ان کو عورت کی نقاب نہ چھونا چاہئے۔ لیکن ستاروں کا مقام بدل رہا ہے، تم سمجھتی ہو نہ گل جان؟ جلد ہی ستارے راس آئیں گے اور تم اپنے محبوب سے ہم آغوش ہو سکو گی۔ جس دن میں تم کو دوا بھیجوں گا اس کے ایک دن بعد تمھاری مسرت کا دن آئے گا۔ تم سمجھتی ہو نا، گل جان۔ دوا ملنے پر تم کو تیار ہو جانا چاہئے!‘‘

’’تمھارا بہت بہت شکریہ ، مولانا حسین!‘‘ گل جان نے خوشی سے ہنستے اور روتے ہوئے جواب دیا۔ ’’تمھارا شکریہ لا جواب اور دانا حکیم! میرا محبوب قریب ہے اور میں محسوس کرتی ہوں کہ ہمارے دل ایک ساتھ مل کر دھڑک رہے ہیں۔‘‘

امیر اور خواجہ نصر الدین باہر نکلے۔ خواجہ سراؤں کا داروغہ دروازے پر آ کر ان سے ملا۔

’’آقا!‘‘ وہ گھٹنوں کے بل گر کر چلایا۔ ’’سچ مچ دنیا نے ایسا ماہر حکیم کبھی نہیں دیکھا ہے۔ تین دن سے وہ بے حس و حرکت پڑی تھی اور اب اچانک اس نے اپنی مسہری چھوڑ دی ہے، وہ گا رہی ہے ، ہنس اور ناچ رہی ہے اور جب میں اس کے قریب گیا تو اس نے میرے کان پر ایک مکہ بھی عنایت فرمایا۔‘‘

’’یہ ہے میری گل جان‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا ’’وہ ہمیشہ ہاتھ کی تیز تھی۔‘‘

ناشتے پر امیر نے تمام درباریوں پر عنایات کی بارش کر دی۔ خواجہ نصر الدین کو دو تھیلیاں عطا ہوئیں ۔ بڑی تھیلی چاندی کے سکوں سے بھری تھی اور چھوٹی میں طلائی سکے تھے۔

’’ہم نے کیا جذبات اکسا دئے ہیں!‘‘ اس نے چہکتے ہوئے کہا ’’تمھیں ماننا پڑے گا ، مولانا حسین کہ تم نے ایسی لگن کم ہی دیکھی ہو گی۔ اس کی آواز کیسی کانپ رہی تھی ، کیسی وہ رو اور ہنس رہی تھی۔ لیکن یہ تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے جو تم خواجہ سراؤں کے داروغہ کا منصب سنبھالنے کے بعد دیکھو گے۔‘‘

مؤدب درباریوں کی صفوں میں کچھ سرگوشی ہوئی۔ بختیار کینہ آمیز انداز میں مسکرایا ۔ اب خواجہ نصر الدین کو پتہ چلا کہ اس کو خواجہ سراؤں کا داروغہ بنانے کی بات کس نے امیر کو سمجھائی ہے۔

اب وہ صحت یاب ہو گئی ہے‘‘ امیر نے کہا ’’اور اب تمھاری تقرری کو ملتوی رکھنے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ اب ہمارے ساتھ چائے پیو اور اس کے بعد تم حکیم کے پاس جا سکتے ہو۔ ارے سننا‘‘ وہ حکیم کی طرف مڑا اور حک دیا ’’جاؤ اپنے نشتر لاؤ۔ بختیار فرمان لاؤ۔‘‘

خواجہ نصر الدین کے گلے میں گرم چائے اٹک گئی اور وہ کھنسنے لگے۔ بختیار تیار شدہ فرمان لیکر آگے بڑھا۔ وہ انتقامانہ مسرت سے سرشار تھا۔ امیر کے سامنے قلم حاضر کیا گیا

اور اس نے دستخط کر کے فرمان بختیار کو واپس کر دیا۔ بختیار نے جلدی سے اس پر مہر لگائی۔ یہ سب کام چٹکی بجاتے ہو گیا۔

’’لائق اور عقلمند مولانا حسین، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فرط مسرت سے تمھارے ہونٹوں پر مہر لگ گئی ہے‘‘ بختیار نے فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ ’’بہر حال آداب کا تقاضہ یہ ہے کہ تم امیر کا شکریہ ادا کرو۔‘‘

خواجہ نصر الدین تخت کے سامنے گھٹنوں کے بل جھک گئے۔

’’ آخر کار میری دلی تمنا بر آئی‘‘ انہوں نے کہا ’’مجھے اس تاخیر کے لئے بڑا رنج ہے جو امیر کی داشتہ کی دوا تیار کرنے میں لگے گی۔ ہمیں علاج کو پختہ کر لینا چاہئے ورنہ بیماری پھر اس کے جسم کو ستا سکتی ہے۔‘‘

’’کیا دوا کی تیاری کے لئے اتنے وقت کی ضرورت ہے؟‘‘ بختیار نے بے چینی سے سوال کیا۔ ’’یقیناً وہ آدھے گھنٹے میں تیار کی جا سکتی ہے۔۔۔‘‘

’’بالکل ٹھیک‘‘ امیر نے تصدیق کی۔’’آدھے گھنٹے کا وقت کافی ہے۔‘‘

’’آقا ! اس کا انحصار تو سعد الذبیح کے ستاروں پر ہے‘‘ خواجہ نصر الدین نے ترکش کا آخری تیر استعمال کرتے ہوئے جواب دیا۔ ’’ان کے محل کے مطابق مجھے دو دن سے پانچ دن تک لگ سکتے ہیں۔‘‘

’’پانچ دن!‘‘ بختیار نے زور سے کہا۔ ’’فاضل بزرگ ، میں نے تو کبھی کسی دوا کی تیاری میں پانچ دن لگتے نہیں سنے۔‘‘

خواجہ نصر الدین امیر سے مخاطب ہو گئے:

’’شاید اعلیٰ حضرت عنایت کر کے اپنی نئی داشتہ کا علاج آئندہ کے لئے میرے نہیں بلکہ وزیر اعظم بختیار کے سپرد کر دیں گے۔ اب وہی اس کا علاج کریں۔ میں اس کی زندگی کی ذمہ داری نہیں لیتا۔‘‘

’’کیا ہوا مولانا ، تم کیا کہہ رہے ہو؟‘‘ امیر نے گھبرا کر کہا ۔ ’’بختیار دوا علاج کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور وہ کچھ ایسا ہوشیار بھی نہیں ہے جیسا کہ میں نے تم سے اسی وقت کہا تھا جب تم کو وزیر اعظم کا عہدہ عطا کرنے کی تجویز کی تھی۔‘‘

وزیر اعظم کے جسم میں ہلکی سی جھرجھری دوڑ گئی اور انہوں نے زہر آلود نگاہوں سے خواجہ نصر الدین کو دیکھا۔

’’جاؤ دوا تیار کرو‘‘ امیر نے کہا ’’لیکن پانچ دن بہت ہوئے مولانا، کیا اس سے جلدی نہیں تیار کر سکتے؟ ہم چاہتے ہیں کہ تم جلد از جلد اپنا عہدہ سنبھال لو۔‘‘

’’شہنشاہ معظم، میں خود بھی مشتاق ہوں!‘‘ خواجہ نصر الدین نے کہا ’’میں جلد از جلد دوا تیار کرنے کی کوشش کروں گا۔‘‘

وہ پچھلے پیروں ہٹتے ہوئے رخصت ہوئے اور متعدد بار جھک کر تعظیم بجا لائے۔ بختیار نے ان کو جاتے ہوئے دیکھا اور اس کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ اپنے دشمن اور حریف کو اتنا صاف جاتے ہوئے دیکھ کر کیسا سلگ رہا ہے ۔

’’ سانپ! مکار لکڑ بگھے!‘‘ خواجہ نصر الدین نے سوچا اور غصے میں دانت پیستے ہوئے کہا۔ ’’لیکن بختیار تم چوک گئے۔ اب تم میرا بال بھی بیکا نہ کر سکو گے کیونکہ میں نے امیر کے حرم کے تمام راستے ، آنے اور جانے کے معلوم کر لئے ہیں جو میں جاننا چاہتا تھا۔ ارے پیاری گل جان! تم کتنی ہوشیار ہو کہ عین موقع پر بیمار پڑیں اور خواجہ نصر الدین کو درباری جراح کے چاقو سے بچا لیا ! حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ تم صرف اپنے ہی بارے میں سوچ رہی تھیں!‘‘

وہ اپنے برج کو واپس گئے جس کے سائے میں پہرے دار بیٹھے مزے میں چوسر کھیل رہے تھے۔ ان میں ایک جو سب کچھ ہار چکا تھا اپنے جوتے داؤ پر لگانے کے لئے اتار رہا تھا۔ سخت گرمی تھی لیکن برج کے اندر اس کی موٹی دیواروں کی وجہ سے کافی خنکی اور تازگی تھی۔ خواجہ نصر الدین تنگ زینے سے اوپر گئے۔

بڈھّے کی صورت بہت وحشیانہ ہو گئی تھی کیونکہ قید کے دوران اس کی داڑھی اور بال بڑھ گئے تھے اور پریشان ہو گئے تھے۔ گھنی بھوؤں کے نیچے سے اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ اس نے خواجہ نصر الدین پر لعنت کی بوچھار کر دی:

’’ارے کمبخت حرامزادے، خدا کرے تیرے سر پر بجلی گرے اور تلوے سے نکلے! ارے بد معاش ، دھوکے باز، جعلئے! تو نے میرا نام، میرا لباس ، میرا عمامہ اور پٹکا سب چُرا لیا! خدا کرے تجھے کیڑے مکوڑے زندہ ہڑپ کر جائیں!‘‘

خواجہ نصر الدین کو اس طرح کی باتوں کی عادت ہو گئی تھی اس لئے وہ ناراض نہیں ہوئے:

’’محترم مولانا حسین، میں نے آج آپ کے لئے ایک نئی اذیت ایجاد فرمائی ہے۔ یعنی ایک رسی کے پھندے اور ڈنڈے کی مدد سے آپ کا سر دبایا جائے۔ پہرے دار نیچے ہیں۔ آپ اس طرح چلائیں کہ وہ سن لیں۔‘‘

سلاخ دار کھڑکی کے پاس جا کر بڈھّے نے یکساں آواز میں چلانا شروع کیا:

’’ارے اللہ ! اب تو یہ مصیبتیں برداشت نہیں ہوتیں! ارے میرا سر پھندے اور ڈنڈے سے نہ دباؤ! اس اذیت سے تو موت ہی اچھی ہے!‘‘ ۔”تم بڑے اطمینان سے اس طرح چلا رہے ہو جس کا کسی کو یقین نہ آئے گا۔ یاد رکھو، پہرے دار ان باتوں میں بڑے مشاق ہیں۔ اگر ان کو یہ خیال ہو گیا کہ تم بن رہے ہو تو وہ تمھارے رپورٹ ارسلان بیک سے کر دیں گے اور تب تم واقعی جلاد کے ہاتھ میں جا پڑو گے۔ یہ تمھارے ہی فائدے کے لئے ہے کہ تم زیادہ زور سے چلاؤ۔ دیکھو میں تمھیں بتاتا ہوں۔”

وہ کھڑکی کے پاس گئے، ایک گہری سانس لی اور اچانک اتنی زور سے چیخے کہ بڈھا کانوں میں انگلیاں دے کر پیچھے ہٹ گیا۔

“ارے حرامزادے کے بچے!” بڈھا چلایا۔ “میں ایسا گلا کہاں سے لاؤں کہ میری چیخیں شہر کے دوسرے سرے تک سنائی دیں۔”

“جلاد کے ہاتھوں سے بچنے کا تمھارے لئے یہی واحد راستہ ہے”۔ خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔

بڈھّے نے پھر کوشش کی۔ا پنی پوری قوت لگا دی۔ وہ اس بری طرح چیخا دھاڑا کہ پہرے داروں نے اس کا لطف لینے کے لئے اپنا کھیل روک دیا۔

بڈھا بری طرح کھانس کھنکھار رہا تھا۔

“ارے، ارے، میر اگلا” بڈھا فریاد کرنے لگا “کتنی محنت پڑی ہے۔ اب تو خوش ہوا، کمبخت بد معاش؟ خدا تجھے جہنم واصل کرے۔”

“بالکل ٹھیک ہے” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ ” اور دانائے روزگار مولانا حسین یہ رہا آپ کی کوششوں کا انعام۔”

انہوں نے وہ تھیلیاں نکالیں جو امیر نے ان کو عطا کی تھیں اور ان کو ایک کشتی میں الٹ کر ساری رقم دو حصوں میں تقسیم کر دی۔

بڈھا صلواتیں سناتا اور بڑبڑاتا رہا۔

“تم مجھے اس طرح برا بھلا کیوں کہہ رہے ہو؟” خواجہ نصر الدین نے بڑے سکون سے پوچھا۔ “کیا میں نے مولانا حسین کا نام کسی طرح نیچا کیا ہے؟ کیا میں نے ان کے علم و فضل کو ذلیل کیا ہے؟ یہ رقم دیکھ رہے ہو نا؟ یہ رقم امیر نے مشہور نجومی اور حکیم مولانا حسین کو اپنے حرم کی ایک لڑکی کو شفا یاب کرنے کے لئے دی ہے۔”

“تم نے کسی لڑکی کو اچھا کیا ہے؟”بڈھّے نے گھٹی ہوئی آواز میں پوچھا۔ “تمھیں بیماریوں کا کیا پتہ، جاہل، بد معاش، مکار!”

“میں بیماریوں کے بارے میں تو کچھ نہیں جانتا لیکن لڑکیوں کے بارے میں کچھ ضرور جانتا ہوں” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ “اس لئے یہ بات معقول ہو گی اگر امیر کا انعام دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ایک حصہ تمھارے علم کے لئے اور دوسرا حصہ میرے فن کے لئے۔ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں، مولانا، کہ میں نے لڑکی کا علاج سرسری طور پر نہیں کیا بلکہ ستاروں کی گردش کا مطالعہ کرنے کے بعد کیا ہے۔ کل رات میں نے دیکھا کہ سعد السعود اور سعد الاجیہ کے ستاروں کا قرآن ہو رہا ہے اور جھرمٹ عقرب نے جھرمٹ سرطان کی طرف رخ کر لیا ہے۔”

“کیا، کیا؟” بڈھّے نے زور سے کہا اور غصے میں کمرے میں ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ “جاہل کہیں کا، تو تو صرف گدھے ہانک سکتا ہے! تجھے یہ تک تو پتہ ہے نہیں کہ سعد السعودکے ستاروں کا قران سعدالاجیہ کے ستاروں کے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ وہ تو ایک ہی نظام فلکی کے ستارے ہیں! اور تمھیں سال کے اس وقت جھرمٹ عقرب دکھائی کہاں سے دیتا ہے؟ میں نے ساری رات ستارہ شماری کی ہے۔ سعد بولا اور السمک کے ستارے قران میں تھے اور الجہبہ کا زوال ہو رہا تھا۔ سن رہا ہے نا، گدھے؟ عقرب اب آسمان میں نہیں ہے! تو نے سب کچھ گڈ مڈ کر دیا۔ گدھے ہنکانے والا خوامخواہ کو ایسی باتوں میں کود پڑا جو اس کی سمجھ سے بالاتر ہیں! تو غلطی سے الحق کے ستاروں کو جو آج کل البوطن کے ستاروں کے مقابل ہیں عقرب سمجھ بیٹھا!”

غصے میں آ کر، اس نیت سے کہ خواجہ نصر الدین کی جہالت کا بھانڈہ پھوڑا جائے بڈھا بڑی دیر تک ستاروں کے صحیح مقام کے بارے میں بتاتا رہا۔ اس کا سننے والا ہر ہر لفظ کو بڑی توجہ سے سن کر ذہن نشین کرنے کی کوشش کر رہا تھا تاکہ وہ دوسرے داناؤں کی موجودگی میں امیر سے باتیں کرنے میں غلطی نہ کرے۔

“ارے جاہلوں کے سردار!”بڈھا برستا رہا “تجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس وقت چاند کے انیسویں برج پر جس کو الشعلہ کہتے ہیں اور جو قوس رامی پر ہوتا ہے، صرف اسی برج کے ستاروں سے انسان کی قسمت کا پتہ لگایا جا سکتا ہے کسی دوسرے سے نہیں۔ اس واقعہ کو دانائے روزگار شہاب الدینی محمود ابن کراجی نے بڑی وضاحت سے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔۔۔”

“شہاب الدین محمود ابن کراجی” خواجہ نصر الدین نے اچھی طرح یاد کر لیا۔ “کل میں امیر کی موجودگی میں اس لمبی داڑھی والے دانا کا بھانڈا پھوڑوں گا کہ وہ اس کتاب کے بارے میں لاعلم ہے اور میرے علم و فضل کی عظمت سے اس کا دل دھل جائے گا اور میں محفوظ ہوں گا۔”

(۳۰)

جعفر سود خور کے گھر میں سونے سے بھری ہوئی مہر بند بارہ دیگیں رکھی تھیں لیکن وہ اب کم از کم بیس جمع کرنے کی سوچ رہا تھا۔ قسمت نے اس کو ایسی شکل و صورت دے کر جس سے اس کی حرص اور بے ایمانی ظاہر ہوتی تھی اس کے عیبوں کو اور عیاں کر دیا تھا۔ یہ عیب اعتبار کرنے والے نا تجربے کار احمقوں کو آگاہ کر دیتے تھے اور نیا شکار پھانسنا مشکل ہو جاتا۔ اس لئے اس کی دیگیں اس کی خواہش سے کہیں زیادہ سست رفتاری سے بھر رہی تھیں۔

“کاش کہ میرے جسمانی عیب دور ہو سکتے!” وہ آہ بھر کر کہتا “لوگ میری صورت دیکھ کر تو نہ بھاگتے، مجھ پر شبہ نہیں اعتبار کرتے۔ اس وقت ان کو دھوکہ دینا کتنا آسان ہوتا اور میری آمدنی کتنی تیزی سے بڑھتی۔”

جب شہر میں یہ افواہ پھیلی کہ امیر کے نئے دانا مولانا حسین نے بیماریوں کے علاج میں مہارت تامہ دکھائی ہے تو جعفر سود خور نے ایک ٹوکری میں بیش بہا تحائف بھرے اور محل میں حاضر ہوا۔

ارسلان بیک ٹوکری کا سامان دیکھنے کے بعد بڑی خوشی سے اس کی مدد کے لئے تیار ہو گیا:

“محترم جعفر، آپ بڑے وقت سے آئے ہیں۔ آج جہاں پناہ بہت محظوظ ہیں اور وہ شاید ہی آپ کی درخواست کو رد کریں۔”

امیر نے سود خور کی بات سنی، ہاتھی دانت کے فریم کی شطرنج کی طلائی بساط نذرانے میں قبول فرمائی اور دانا کی طلبی کا حکم دیا۔

“مولانا حسین” امیر نے کہا جب خواجہ نصر الدین آ کر اس کے سامنے جھکے “یہ آدمی، جعفر سود خور، ہمارا وفا دار خادم ہے۔ اس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔ ہم حکم دیتے ہیں کہ تم فوراً اس کا لنگڑا پن، کوبڑ ، آنکھ کا جالا اور دوسرے عیب دور کرو۔”

یہ کہہ کر امیر اس طرح مڑ گیا جیسے وہ کوئی عذر سننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ خواجہ نصر الدین کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ تعظیم بجا لائیں اور چلے جائیں۔ ان کے پیچھے سودخور بھی اپنا کوبڑ گھسیٹتا ہوا کچھوے کی طرح چلا۔

“ہمیں جلدی کرنی چاہئے، عقلمند مولانا حسین” اس نے نقلی داڑھی میں خواجہ نصر الدین کو نہ پہچانتے ہوئے کہا۔ “ہمیں جلدی کرنی چاہئے کیونکہ سورج ابھی غروب نہیں ہوا ہے اور میں رات ہونے سے پہلے شفا یاب ہو سکتا ہوں۔۔۔ آپ نے تو سنا، امیر نے حکم دیا ہے آپ مجھے فوراً اچھا کر دیں۔”

خواجہ نصر الدین دل ہی دل میں سودخور، امیر اور اپنے کو کوس رہے تھے کہ انہوں نے اپنے علم و فضل کو مشتہر کرنے میں اتنا جوش و خروش کیوں دکھایا ۔ سودخور تیز رفتاری سے چلنے کے لئے ان کی آستین برابر کھینچ رہا تھا۔ سڑکوں پر سناٹا تھا۔ خواجہ نصر الدین کے پیر گرم دھول میں دھنس رہے تھے۔ راہ چلتے انہوں نے سوچا “اس بلا سے کس طرح نجات ملے گی؟”وہ اچانک رک گئے “ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب اپنی قسم پوری کرنے کا وقت آگیا ہے۔”

تیزی سے انہوں نے ایک منصوبہ تیار کیا اور ہر ہر موقع کو اچھی طرح تول لیا۔ “ہاں” انہوں نے سوچا “اب وقت آگیا ہے ۔ سود خور، غریبوں پر ظلم کرنے والے سنگ دل، آج ہی تجھ کو ڈبونا ہے۔” وہ مڑ گئے تاکہ سود خور ان کی سیاہ آنکھوں کی چمک نہ دیکھ سکے۔

وہ ایک گلی میں مڑ گئے جہاں ہوا سے گرد کے بگولے اڑ رہے تھے۔ سود خور نے اپنے گھر کا پھاٹک کھولا۔ صحن کے دوسری طرف جہاں ایک نیچی باڑ کے ذریعہ زنان خانہ الگ کیا گیا تھا خواجہ نصر الدین نے سبز بیلوں کے پردے کے پیچھے سے چلنے پھرنے، چپکے چپکے کھسر پھسر اور ہنسی کی آوازیں سنیں۔ سود خور کی بیویاں اور داشتائیں کسی اجنبی کے آنے سے بہت خوش تھیں کیونکہ اس قید کی حالت میں ان کے لئے اور کوئی دلچسپی کا سامان نہ تھا۔ سود خور نے ذرا رک کر اس طرف درشتی سے دیکھا۔ بالکل سناٹا ہو گیا۔

“حسین قیدیو، آج میں تمھیں نجات دلا دوں گا” خواجہ نصر الدین نے سوچا۔

جس کمرے میں سود خور ان کو لے گیا اس میں کھڑکیاں نہ تھیں اور دروازے کو کوئی زنجیروں اور تین قفلوں سے محفوظ کیا گیا تھا جن کے کھولنے کا گر صرف مالک مکان جانتا تھا۔ دروازہ کھولنے میں اس کو کافی دیر لگی۔ یہاں اس کی سونے کی دیگیں رکھی تھیں اور تہہ خانے کے دھانے پر لکڑی کے تختے پڑے تھے جن پر وہ سوتا تھا۔

“کپڑے اتار دو!” خواجہ نصر الدین نے حکم دیا۔

سود خور نے اپنے کپڑے اتار دئے اور عریانی کی حالت میں وہ اور کریہہ المنظر ہو گیا۔ خواجہ نصر الدین نے دروازہ بند کر کے دعائیں پڑہنا شروع کیں۔

اس دوران میں جعفر کے بہت سے رشتے دار صحن میں جمع ہو گئے۔ ان میں سے بہت سے اس کے قرضدار تھے اور ان کو امید تھی کہ وہ ان کے قرض معاف کر کے یہ خوشی کی تقریب منائے گا۔ لیکن ان کی امیدیں بے بنیاد تھیں۔ بند کمرے میں مقروض لوگوں کی آواز سن کر اس کا دل کینہ پرور خوشی سے بھر گیا۔ “آج تو میں ان سے کہہ دوں گا کہ میں نے ان کا قرض معاف کیا” اس نے سوچا “لیکن میں ان کے تمسک واپس نہیں دوں گا۔ وہ یقین کر کے بے فکر ہو جائیں گے۔ میں کچھ نہیں کہوں گا اور ان کے قرض کا کھاتہ بنا لوں گا۔ اور جب ان پر اصل کا سود دس گنا ہو جائے گا اور پوری رقم ان کے مکانات، باغات اور انگور کے باغیچوں کی مالیت سے زیادہ ہو جائے گی تو میں قاضی کے پاس جاؤں گا اور اپنے وعدے سے انکار کر کے رسیدیں پیش کروں گا۔ ان کا مال متاع بکوا کر ان کو بھک منگا بنوا دوں گا اور سونے سے ایک اور دیگ بھر لوں گا!”

“اٹھو! کپڑے پہنو!” خواجہ نصر الدین نے کہا “ہم احمد پیر کے تالاب پر جائیں گے اور وہاں تم پاک پانی میں نہاؤ گے۔ شفا پانے کے لئے یہ لازمی ہے۔”

“احمد پیر کا تالاب!” سود خور گھبرا کر بولا۔ “ایک بار تو میں اس میں ڈوبتے ڈوبتے بچا۔ دانائے روزگار مولانا حسین سمجھ لیجئے کہ میں تیرنا نہیں جانتا۔”

“تالاب کی طرف جاتے ہوئے تمھیں متواتر دعائیں پڑھتے رہنا چاہئے” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “تمھیں دنیاوی باتوں کے بارے میں نہ سوچنا چاہئے۔ تمھیں اشرفیوں سے بھری ایک تھیلی ساتھ لے چلنا ہو گا اور راستے میں جس سے بھی لو گے اسے ایک اشرفی دینی ہو گی۔”

سود خور کے منہ سے آہ نکل گئی لیکن اس نے ہدایت پر حرف بحرف عمل کیا۔ ان کی ملاقات ہر طرح کے لوگوں سے ہوئی۔ کاریگروں اور بھک منگوں سے اور سود خور نے ہر ایک کو ایک ایک اشرفی دی حالانکہ اس سے اس کا دل پھٹا جا رہا تھا۔ اس کے رشتے دار بھی پیچھے پیچھے تھے۔ خواجہ نصر الدین نے خاص مقصد سے ان کو مدعو کر لیا تھا تاکہ آئندہ ان پر یہ الزام نہ لگایا جا سکے کہ انہوں نے جان بوجھ کر سود خور کو ڈبو دیا۔

سورج چھتوں کے پیچھے غروب ہو رہا تھا، درختوں کا سایہ تالاب پر پھیل گیا تھا، ہوا میں مچھر گا رہے تھے۔ جعفر نے کپڑے اتارے اور پانی کے قریب گیا۔

“یہاں بہت گہرا ہے” اس نے فریاد کی “میں نے جو کچھ کہا تھا اس کو آپ بھولے تو نہیں ہیں، مولانا۔ میں پیر نہیں سکتا۔”

رشتے دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ سودخور شرم سے اپنے کو ہاتھوں سے چھپائے، خوف سے سکڑا سکڑایا کسی اتھلی جگہ کے لئے تالاب کا چکر لگانے لگا۔

اکڑوں بیٹھ کر اس نے تالاب میں لٹکتی ہوئی جھاڑیوں کا سہارا لیا اور پانی میں ڈرتے ڈرتے ایک پیر ڈالا۔

“ٹھنڈا ہے پانی ” وہ بڑبڑایا۔ اس کی آنکھیں پریشانی میں نکل پڑی تھیں۔

“تم وقت ضائع کر رہے ہو” خواجہ نصر الدین نے اس کی طرف سے نگاہ ہٹاتے ہوئے کہا کیونکہ وہ اس رحم کے خلاف جس کا سود خور سزاوار نہ تھا اپنے دل کو فولادی بنا رہے تھے۔ پھر انہوں نے ان مصیبتوں کا خیال کیا جو جعفر کے برباد کئے ہوئے غریب لوگ جھیلتے ہیں، بیمار بچے کے خشک لب، بڈھّے نیاز کے آنسو۔ اور ان کا چہرہ غصے سے تمتما اٹھا۔ اب وہ کھلم کھلا جرأت کے ساتھ سودخور کی نگاہوں سے نگاہیں ملا سکتے تھے۔

“تم وقت ضایع کر رہے ہو” انہوں نے بات دہرائی “اگر شفا چاہتے ہو تو تالاب کے اندر اترو۔”

سودخور نے پانی کے اندر جانا شروع کیا۔ وہ اتنا آہستہ آہستہ جا رہا تھا کہ جب وہ گھٹنوں گھٹنوں پانی میں پہنچا تو اس کی توند کنارے ہی سے لگی تھی۔ آخرکار جب وہ کھڑا ہوا تو کمر تک تھا۔ گھاس پھوس ادھر ادھر حرکت کر رہے تھے اور ان کا سرد مس اس کے جسم میں گدگدی پیدا کر رہا تھا۔ اس کے شانے سردی سے کانپ رہے تھے۔ وہ ایک قدم اور آگے بڑھا اور مڑ کر دیکھنے لگا۔ اس کی آنکھیں کسی بے زبان جانور کی طرح التجا کر رہی تھیں لیکن خواجہ نصر الدین نے کچھ نہیں کہا۔ اس وقت سودخور کو چھوڑ دینے کا مطلب ہزاروں غریبوں کو مصیبت میں مبتلا رکھنا تھا۔

پانی سودخور کے کوبڑ تک پہنچ گیا لیکن خواجہ نصر الدین اس سے برابر آگے بڑھنے کو کہتے رہے۔

“آگے بڑھو، آگے، پانی کانوں تک آ جانے دو۔ نہیں تو میں تمھارے علاج کا ذمہ دار نہیں ۔ چلو، ہمت باندھو، محترم جعفر! دل مضبوط کرو! ایک قدم اور! ذرا سے اور آگے!”

“غہ غہ” سود خور نے پانی کے اندر جاتے ہوئے غر غر کی آواز میں کہا۔

“غہ غہ” جب وہ اوپر آیا تو یہی آواز پھر نکلی۔

“ڈوب رہا ہے! ڈوب رہا ہے!” اس کے رشتے دار چلائے۔

ایک عام ہنگامہ ہو گیا۔ ڈوبتے ہوئے آدمی کی طرف شاخیں اور چھڑیاں بڑھا دی گئیں۔ کچھ لوگ محض رحم دلی کی بنا پر اس کی مدد کرنا چاہتے تھے اور دوسرے محض بناوٹ کر رہے تھے۔ خواجہ نصر الدین آسانی سے بتا سکتے تھے کہ جعفر کا کون اور کتنا قرضدار ہے۔ وہ خود ہر ایک سے زیادہ گھبرا کر ادھر ادھر دوڑ رہے تھے اور کہہ رہے تھے:

“ارے یہاں! اپنا ہاتھ ہمیں دو، محترم جعفر! ارے سنو! اپنا ہاتھ ہمیں دو!”

ان کو یہ بخوبی علم تھا کہ سودخور اپنا ہاتھ کبھی نہ دے گا کیونکہ “دینے” کا لفظ ہی اسے مفلوج کرنے کے لئے کافی تھا۔

“اپنا ہاتھ ہمیں دو!” رشتے دار ایک ساتھ چلائے۔

اب سود خور غوطے کھا کھا کر اور دیر میں اوپر آنے لگا اور وہ اس مقدس پانی میں ڈوب مرتا اگر ایک سقہ اپنی پیٹھ پر خالی مشک لئے ننگے پیر ادھر سے دوڑتا نہ گزرتا۔

“ارے!” اس نے ڈوبتے ہوئے آدمی کو دیکھ کر کہا “کہیں یہ جعفر سودخور تو نہیں ہے!”

اور وہ کپڑے اتارے بغیر بلا جھجھک پانی میں کود گیا اور اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے زور سے کہا:

“لو یہ رہا میرا ہاتھ، اس کو پکڑ لو!”

سودخور نے ہاتھ پکڑ لیا اور اس کو پانی سے باہر صحیح سلامت کھینچ لایا گیا۔

سودخور کنارے پر پڑا دم لے رہا تھا اور اس کو نجات دلانے والا بڑی تیزی سے اس کے رشتے داروں کو بتا رہا تھا:

“تم غلط طریقے سے ان کی مدد کر رہے تھے۔ تم .لو. کی بجائے .دو. کہہ رہے تھے۔ تمھیں نہیں معلوم کہ معزز جعفر ایک بار اور اسی تالاب میں ڈوب رہے تھے اور ایک اجنبی نے جو بھورے گدھے پر ادھر سے گزر رہا تھا انہیں بچایا تھا؟ اس اجنبی نے جعفر کو بچانے کے لئے یہی طریقہ اختیار کیا تھا اور مجھے یاد رہ گیا۔ آج یہ کام آیا۔”

اس دوران میں سودخور کی سانس ٹھکانے لگی اور اس نے شکایت آمیز لہجے میں منمنانا شروع کیا:

“ارے مولانا حسین! آپ نے تو میرا علاج کرنے کے لئے کہا تھا لیکن مجھ کو قریب قریب ڈبو ہی دیا تھا! خدا کی قسم، اب میں کبھی اس تالاب کے قریب نہیں پھٹکوں گا! آپ کیسے دانا ہیں گر آپ کو ایک سقہ یہ بتاتا ہے کہ کیسی آدمی کو ڈوبنے سے بچایا جا سکتا ہے؟ میری قبا اور عمامہ دو۔ آئیے، مولانا، اندھیرا ہو رہا ہے اور جو کچھ ہم نے شروع کیا ہے اسے ختم کرنا ہے۔ اور تم، میاں سقے” سود خور نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا ” مت بھولنا کہ تمھارا قرض ایک ہفتے میں واجب الادا ہو جائے گا۔ لیکن میں تمھیں انعام دینا چاہتا ہوں اور اس لئے میں تمھیں آدھا۔۔۔ میرا مطلب ہے چوتھائی۔۔۔ نہیں تمھارے قرض کا دسواں حصہ معاف کر دوں گا۔ یہ کافی ہے کیونکہ میں تمھاری مدد کے بغیر آسانی سے اپنے کو بچا سکتا تھا۔”

“ارے محترم جعفر” سقے نے جھجکتے ہوئے کہا “آپ اپنے کو میری مدد کے بغیر نہیں بچا سکتے تھے۔ کیا آپ میرا چوتھائی قرض معاف کر دیں گے؟”

“اچھا! تو تم نے مجھ کو اپنی غرض کی بنا پر بچایا!” سودخور نے کہا۔” تم نے نیک مسلمان کی حیثیت سے یہ نہیں کیا بلکہ لالچ کی وجہ سے! ارے سقے، تجھے اس کی سزا ملنی چاہئے۔ میں تیرا ذرا سا قرض بھی نہیں معاف کروں گا!”

مغموم سقہ وہاں سے ہٹ گیا اور خواجہ نصر الدین اس کو رحم کی نظروں سے دیکھتے رہے۔ پھر انہوں نے جعفر کی طرف نفرت و حقارت سے دیکھا۔

“آئیے، مولانا حسین” جعفر نے جلدی کرتے ہوئے کہا “آپ اس لالچی سقے سے کیا سرگوشی کر رہے ہیں؟”

“ٹھہرو” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “تم بھول گئے کہ تمھیں ہر ملنے والے کو ایک اشرفی دینی چاہئے۔ تم نے اس سقے کو اشرفی کیوں نہیں دی؟”

“بائے مصیبت! میں تباہ ہو جاؤں گا!” سودخور نے فریاد کی۔ “سوچئے تو کہ میں ایسے برے اور لالچی آدمی کو اشرفی دینے پر مجبور ہوں گا!” اس نے اپنی تھیلی کھول کر ایک اشرفی پھینک دی۔ “بس یہ آخری ہے۔ اب اندھیرا ہو گیا ہے اور واپسی کے راستے پر ہمیں کوئی نہیں ملے گا۔”

لیکن خواجہ نصر الدین نے سقے سے بلا وجہ کانا پھوسی نہیں کی تھی۔

وہ واپس روانہ ہو گئے۔ آگے سودخورتھا، اس کے پیچھے خواجہ نصر الدین اور پھر سوخور کے رشتے دار۔ ابھی وہ مشکل سے پچاس قدم گئے ہوں گے کہ ایک گلی سے سقہ نکلا۔ یہ وہی تھا جس کو یہ لوگ تالاب کے کنارے چھوڑ آئے تھے۔

سودخور نے ادھر سے منہ موڑ لیا جیسے اس کو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو لیکن خواجہ نصر الدین نے اس کو پھٹکارا:

“جعفر یاد رکھو، ہر ایک کو جس سے بھی تم ملو!”

اندھیرے میں ایک انتہائی اذیت بھری کراہ گونجی۔ جعفر اپنی تھیلی کھول رہا تھا۔

سقے نے اشرفی لی اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔ کوئی پچاس قدم بعد پھر وہ ان کے سامنے آن موجود ہوا۔ سود خور زرد پڑ گیا اور کانپنے لگا۔

“مولانا” اس نے فریاد کرتے ہوئے کہا “یہ تو وہی ہے۔۔۔”

“ہر ایک کو جس سے تم ملو” خواجہ نصر الدین نے دہرا دیا۔

پھر خاموش فضا میں ایک کراہ گونجی۔ جعفر اپنی تھیلی کھول رہا تھا۔

یہ واقعہ سارے راستے پیش آیا۔ سقہ ہر پچاس قدم پر سامنے آ جاتا۔ وہ خوب ہانپ رہا تھا اور اس کے چہرے سے پسینہ بہہ رہا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے لیکن وہ اشرفی لیتا اور تیز بھاگتا اور پھر آگے سڑک پر کسی جھاڑی سے برآمد ہوتا۔

اپنا پیسہ بچانے کے لئے سود خور تیز تیز چلنے لگا اور آخر میں دوڑنا شروع کر دیا لیکن وہ تو لنگڑا تھا۔ وہ سقے سے کیسے جیت سکتا تھا جو جوش میں ہوا جا رہا تھا۔ وہ جھاڑیوں اور باڑوں کو پار کرتا بھاگ رہا تھا۔ اس نے سود خور سے کم از کم پندرہ بار بھینٹ کی اور آخری بار بالکل اس کے گھر کے قریب۔ وہ ایک چھت پر سے کودا اور دروازے پر راستہ روک کر کھڑا ہو گیا۔ آخری اشرفی پانے کے بعد وہ تھک کر زمین پر گر پڑا۔

سودخور جلدی سے اپنے صحن میں گھس گیا۔ خواجہ نصر الدین اس کے پیچھے تھے۔ اس نے اپنی خالی تھیلی خواجہ نصر الدین کے قدموں پر ڈال دی اور غصے سے چلایا۔

“مولانا، میرا علاج بہت قیمتی ہے! میں ابھی تک تحفوں ، خیرات اور اس کمبخت سقے پر تین ہزار تانگے خرچ کر چکا ہوں !”

“ذرا دم لو” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا “بس، آدھے گھنٹے کے اندر تم کو اس کا انعام مل جائے گا۔ ایک بڑا سا الاؤ صحن کے بیچوں بیچ تیار کرنے کا حکم دو۔”

نوکر ایندھن لا لا کر الاؤ تیار کر رہے تھے اور خواجہ نصر الدین اس بات میں دماغ لڑا رہے تھے کہ کس طرح سود خور کو چرکا دیا جائے اور اس کے شفا نہ پانے کا سارا الزام اسی کے سر تھوپ دیا جائے۔ انہوں نے کئی منصوبے سوچے لیکن ان کو نامناسب پا کر رد کر دیا۔ اس دوران میں الاؤ تیار ہو گیا تھا، ہلکی ہوا میں شعلے بھڑک رہے تھے اور انگوروں کا باغیچہ سرخ شعلوں سے روشن ہو گیا تھا۔

“جعفر، کپڑے اتار کر تین بار الاؤ کے گرد پھرو” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ وہ ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں بنا سکے تھے اور تھوڑا سا وقت پانے کے لئے یہ کر رہے تھے۔ وہ خیالات میں ڈوبے نظر آتے تھے۔

رشتے دار خاموشی سے دیکھ رہے تھے۔ سود خور الاؤ کے گرد اس طرح گھوم رہا تھا جیسے کوئی زنجیر سے بندھا ہوا بندر ہو۔ وہ اپنے ہاتھ ہلا رہا تھا جو گھٹنوں تک پہنچتے تھے۔

خواجہ نصر الدین کا چہرہ دمک اٹھا۔ انہوں نے اطمینان کا سانس لیکر انگڑائی لی:

“مجھے ایک کمبل تو دینا” انہوں نے گونجتی ہوئی آواز میں حکم دیا۔ “جعفر اور تمام دوسرے لوگ ادھر آؤ۔”

انہوں نے تمام رشتے داروں کا ایک حلقہ بنا دیا اور جعفر کو بیچ میں زمین پر بٹھا دیا۔ پھر انہوں نے کہا:

“میں جعفر کواس کمبل سے ڈھک کر ایک دعا پڑھوں گا۔ تم سب کو معہ جعفر کے آنکھیں بند کر کے دعا کو دہرانا چاہئے۔ اس کے بعد جب میں کمبل اٹھاؤں گا تو جعفر شفا یاب ہو گا۔ لیکن میں تم سب کو ایک انتہائی اہم شرط سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں ۔ جب تک وہ پوری نہ ہو گی جعفر شفا یاب نہیں ہو سکتا۔ جو کچھ میں کہتا ہوں کان دھر کر سنو اور یاد رکھو۔”

رشتے دار خاموشی سے سننے اور یاد رکھنے کی تیاری کرنے لگے۔

“جب تم میرے ساتھ دعا کو دہراتے ہو گے” خواجہ نصر الدین نے زور سے صاف صاف کہا “تم میں سے کسی کو بھی، اور سب سے زیادہ جعفر کو، بندر کا ہر گز ہر گز خیال نہ آنا چاہئے! اگر تم میں سے کوئی بھی اس کے بارے میں سوچیگا یا اس سے بھی برا یہ ہو گا کہ اس کو اپنے تصور میں دیکھے گا۔ اس کی دم، اس کے لال چوتڑ، کریہہ چہرہ اور زرد دانت۔ تو پھر شفا نہ ہو گی اور نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ کسی مقدس کام کا انجام بندر ایسے گندے جانور کے خیال کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔ سمجھے نا تم لوگ؟”

“ہم لوگ سمجھ گئے” رشتے داروں نے کہا۔

“جعفر، تیار ہو جاؤ اور اپنی آنکھیں بند کر لو” خواجہ نصر الدین نے سود خور پر کمبل ڈالتے ہوئے بڑی شان سے کہا۔ “اور اب تم اپنی آنکھیں بند کرو!” اس نے رشتے داروں سے کہا “اور اس شرط کو یاد رکھنا، بندر کا خیال نہ آئے۔”

پھر انہوں نے دعا پڑہنا شروع کی:

“خداوند تعالی اس مقدس دعا کے اثر سے اپنے ناچیز خادم جعفر کو شفا بخش۔۔۔”

“خداوند تعالی اس مقدس دعا کے اثر سے۔۔۔ ” مختلف آوازوں میں رشتے داروں کا کورس بلند ہوا۔۔۔ اس موقع پر خواجہ نصر الدین نے دیکھا کہ ایک شخص کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی کے آثار نمایاں ہوئے، دوسرے رشتے دار نے کھانسا شروع کیا، تیسرا الفاظ کو دہرانے میں ہکلانے لگا اور چوتھے نے اس طرح سرھلایا جیسے وہ کوئی صورت سامنے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک لمحہ بعد جعفر خود بے چینی سے کلبلانے لگا۔ ایک بہت ہی کریہہ المنظر اور انتہائی بدصورت بندر جس کی دم لمبی اور دانت زرد تھے اس کے ذہن کے پردے پر نمودار ہو کر اس کو چڑھا رہا تھا۔ کبھی وہ اس کو زبان نکال کر دکھاتا اور کبھی لال لال چوتڑ اور دوسرے اندام جو مومن کے تصور کے لئے بھی زیبا نہیں ہیں ۔

خواجہ نصر الدین اونچی آواز میں دعا پڑھتے رہے۔ اچانک وہ چپ ہو گئے جیسے وہ کوئی بات سن رہے ہوں ۔ رشتے دار بھی خاموش ہو گئے اور بعض تو پیچھے ہٹ گئے۔ جعفر کمبل کے نیچے دانت پیس رہا تھا کیونکہ اس کا بندر طرح طرح کی بد تمیزی کی شرارتوں پر اتر آیا تھا۔

“ارے ناپاک، بے ایمانو!” خواجہ نصر الدین گرج پڑے۔ “تم نے میری حکم عدولی کی جرات کیسے کی۔ تمھیں یہ ہمت کیسے ہوئی کہ دعا پڑھتے وقت اسی بات کا تصور کرو جس کے لئے میں نے خاص طور سے تمھیں منع کیا تھا!” انہوں نے کمبل الٹ دیا اور جعفر پر پھوٹ پڑے “تم نے میری مدد کیوں مانگی تھی؟ اب میری سمجھ میں آگیا کہ تم شفا نہیں چاہتے تھے! تم مجھے ذلیل کرنا چاہتے تھے۔ تم میرے دشمنوں کے لئے یہ سب کر رہے تھے! جعفر ہوشیار رہنا! کل ہی امیر کو سارا قصہ معلوم ہو جائے گا۔ میں انہیں بتاؤں گا کہ کس طرح تم نے دعا پڑھتے وقت جان بوجھ کر مرتدانہ خیالات سے بندر کا تصور کیا! جعفر ہوشیار رہنا اور تم سب بھی! تم آسانی سے نہیں چھٹکارا پاؤ گے۔ یقیناً تم کو کفر کی سزا تو معلوم ہی ہو گی۔۔۔”

چونکہ کفر کی سزا ہمیشہ انتہائی شدید ہوتی تھی اس لئے رشتے دار تو مارے خوف کے مفلوج ہو گئے۔ سود خور اپنے کو بے قصور ثابت کرنے کے لئے اس طرح ہکلانے لگا کہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ خواجہ نصر الدین اس کی بات سننے کے لئے نہیں رکے۔ وہ وہاں سے مڑ کر چل پڑے اور پھاٹک دھڑام سے بدن کیا۔

جلد ہی چاند چاند بلند ہو گیا۔ شہر ہلکی ہلکی چاندنی میں نہا گیا۔ سود خور کے گھر میں رات گئے تک تو تو میں میں جاری رہی۔ ہر شخص گرم ہو کر بحث کر رہا تھا اور یہ جاننا چاہتا تھا کہ بندر کا تصور کرنے میں پہل کس نے کی۔

(۳۱)

سود خور کو اس طرح بیوقوف بنا کر خواجہ نصر الدین محل واپس روانہ ہوئے۔

دن بھر کی محنت مشقت کے بعد بخارا کے لوگ سونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ گلیوں میں خنکی اور اندھیرا تھا اور پلوں کے نیچے پانی کی موسیقی گونج رہی تھی۔ بھیگی مٹی کی سوندھی مہک پھیلی ہوئی تھی اور خواجہ نصر الدین کا پیر کیچڑ میں جا بجا پھسل رہا تھا کیونکہ کسی فیاض سقے نے بڑی دریا دلی سے سڑک پر چھڑکاؤ کیا تھا تاکہ صحنوں اور چھتوں پر تھکے ہارے آرام کرنے والوں کو گرد آلود ہوا نہ ستائے۔ اندھیرے میں لپٹے ہوئے باغ اپنی خوشگوار مہک دیواروں کے پار تک پہنچا رہے تھے۔ دور دراز آسمان پر ستارے خواجہ نصر الدین کی طرف آنکھیں جھپکا جھپکا کر ان کی کامیابی کا وعدہ کر رہے تھے۔

“ہاں ” انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا “بہرحال دنیا کوئی ایسی بری جگہ نہیں ہے! کم از کم ایسے آدمی کے لئے تو نہیں جس کے دماغ ہو، خالی کدو نہیں ۔”

راستے میں وہ بازار کی طرف مڑ گئے اور اپنے دوست علی کے چائے خانے میں انہوں نے مہمان نواز روشنیاں چمکتے ہوئے دیکھیں ۔ انہوں نے دروازے پر دستک دی مالک نے ان کے لئے دروازہ کھول دیا۔ دونوں گلے ملے اور ایک اندھیرے کمرے میں چلے گئے۔ پتلی دیوار کے دوسری طرف سے باتوں ، ہنسی اور برتنوں کی کھن کھناہٹ کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ علی نے دروازہ بند کر کے ایک چراغ جلا دیا۔

“سب تیار ہے” اس نے چپکے سے کہا۔ میں گل جان کا چائے خانے میں انتظار کروں گا۔ یوسف آہن گر نے اس کے چھپنے کے لئے ایک محفوظ جگہ تیار کر لی ہے۔ تمھارے گدھے پر دن رات کاٹھی کسی رہتی ہے۔ وہ بہت اچھا ہے۔ خوب کھاتا ہے اور موٹا ہو گیا ہے۔”

“علی، تمھارا بہت بہت شکریہ۔ تمھارے احسان کے بار سے میں کبھی سبکدوش نہیں ہو سکوں گا۔”

“ارے ہاں ” علی نے کہا۔ “خواجہ نصر الدین تم جو کچھ چاہتے ہو ہمیشہ کر لیتے ہو۔ اس لئے احسان وحسان کی بات چھوڑو۔”

یہ دونوں بیٹھ کر چپکے چپکے سرگوشیاں کرتے رہے۔ علی نے گل جان کے لئے ایک مردانہ لباس دکھایا اور ایک بڑا سا عمامہ جو اس کے بالوں کو چھپا سکے۔

ہر بات پوری تفصیل سے طے ہو گئی۔ خواجہ نصر الدین رخصت ہونے والے تھے کہ انہوں نے دیوار کے دوسری طرف ایک جانی پہچانی آواز سنی۔ چائے خانے کی طرف کھلنے والے دروازے کو انہوں نے ذرا کھولا اور کان لگا کر سننے لگے۔ یہ چیچک رو جاسوس کی آواز تھی۔ خواجہ نصر الدین نے دروازہ اور کھول دیا اور دیکھنے لگے۔

چیچک رو جاسوس ایک بھاری قبا پہنے، سر پر عمامہ رکھے اور مصنوعی داڑھی لگائے کچھ آدمیوں کے درمیان گھرا بیٹھا تھا اور بہت اہم بن کر کہہ رہا تھا:

“جو آدمی اپنے کو خواجہ نصر الدین کہتا ہے وہ جعل ساز ہے۔ میں اصلی خواجہ نصر الدین ہوں لیکن میں نے بہت دن ہوئے اپنی بری حرکتوں سے توبہ کر لی ہے کیونکہ میری سمجھ میں آگیا ہے کہ وہ واقعی بری اور ناپاک تھیں ۔ اس لئے میں یعنی اصلی خواجہ نصر الدین تم کو مشورہ دیتا ہوں کہ تم بھی میری مثال کی پیروی کرو اور میری طرح خیال کرو کہ ہمارے معظم، مانند آفتاب امیر واقعی زمین پر اللہ کے نائب ہیں جس کا ثبوت ان کی بے نظیر دانش مندی اور رحم و کرم ہے۔ میں ، اصلی خواجہ نصر الدین تم کو یہ بتاتا ہوں ۔”

“اچھا!” خواجہ نصر الدین نے علی کو کہنی مارتے ہوئے کہا۔ “تو اب یہ ہو رہا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ میں شہر چھوڑ کر جا چکا ہوں ۔ میں ذرا ان کو اپنی یاد تو دلاتا چلوں ۔ علی، میں اپنی داڑھی، مرصع قبا اور عمامہ اس کمرے میں چھوڑے جاتا ہوں ۔ مجھے کچھ پرانے کپڑے دے دو۔”

علی نے ان کو گندی، چیلڑوں سے بھری ایک پھٹی قبا دے دی جو مدتوں ہوئے اپنی خدمات انجام دے چکی تھی۔

“کیا تم چیلڑ پالتے ہو؟” خواجہ نصر الدین نے قبا پہنتے ہوئے سوال کیا۔ “شاید تم ان کی دوکان کھولنے والے ہو لیکن یہ اس سے پہلی ہی تم کو چٹ کر جائیں گے، دوست۔”

پھر خواجہ نصر الدین باہر سڑک پر نکل گئے اور چائے خانے کا مالک اپنے گاہکوں کے پاس آ کر آئندہ ہونے والے واقعات کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔ اس کو زیادہ دیر انتظار نہ کرنا پڑا۔ خواجہ نصر الدین ایک گلی سے آئے۔ وہ اس طرح تھکے تھکے سے اندر داخل ہوئے جیسے تمام دن سفر کیا ہے۔ وہ چائے خانے کے زینوں پر چڑھے اور ایک اندھیرے گوشے میں بیٹھ کر چا مانگی۔ کسی نے ان کی طرف ذرا بھی توجہ نہیں کی۔ بخارا کی سڑکوں پر تو طرح طرح کے لوگ آتے جاتے رہتے تھے۔ چیچک رو جاسوس اب بھی اپنی ہانک رہا تھا:

“میری غلطیاں بے شمار ہیں لیکن اب میں ، خواجہ نصر الدین ان پر نادم ہوں اور قسم کھائی ہے کہ میں پاکباز رہوں گا، تمام اسلامی ہدایات پر عمل کروں گا اور امیر، ان کے وزیروں ، صوبے داروں اور پہرے داروں کا حکم مانوں گا۔ یہ طے کرنے کے بعد میرے ذہن کو بڑا سکون اور خوشی مل رہی ہے اور میری دنیاوی ملکیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پہلے میں ایک آوارہ گرد تھا جس کو ہر ایک حقیر سمجھتا تھا اور اب میں ایک نیک مومن کی طرح زندگی گزار رہا ہوں ۔”

ایک ساربان نے جس کے پٹکے میں چابک لگی ہوئی تھی بڑے ادب سے اس کو چا کی پیالی پیش کی اور کہا:

“بے نظیر خواجہ نصر الدین ، میں قوقند سے بخارا آیا ہوں ۔ میں نے آپ کی دانشمندی کے بارے میں سنا تو تھا لیکن یہ نہیں سوچا تھا کہ کسی دن آپ کی زیارت ہو گی، حتی کہ بات چیت بھی ہو گی۔ اب میں ہر ایک سے کہوں گا کہ آپ کی مجھ سے ملاقات ہوئی تھی اور جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ بھی ان کو بتاؤں گا۔”

“اچھی بات ہے” چیچک رو جاسوس نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے سرھلایا “ہر ایک سے کہنا کہ خواجہ نصر الدین اب سدھر گئے ہیں ، انہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کر لی ہے اور پاکباز مسلمان بن کر امیر کے سچے خادم ہو گئے ہیں ۔ جس سے بھی تمھاری ملاقات ہو سبھی کو یہ خوش خبری سنانا۔”

“میں آپ سے ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں ، بے مثال خواجہ نصر الدین ” ساربان بولا۔ “میں سچا مسلمان ہوں اور انجانے میں بھی قانون کے خلاف کچھ نہیں کرنا چاہتا۔ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ مان لیجئے میں نہا رہا ہوں اور اذان کی آواز سنائی دیتی ہے تو مجھے کیا کرنا چاہئے۔ کس طرف کا رخ مجھے کرنا چاہئے؟”

چیچک رو جاسوس بڑے مربیانہ انداز میں مسکرایا اور بولا:

“مکے کی طرف قطعی طور پر۔۔۔”

تاریک کونے سے آواز آئی:

“اپنے کپڑوں کی طرف تاکہ گھر ننگے نہ جاؤ۔”

اس احترام کے باوجود جو جاسوس نے لوگوں کے دلوں میں پیدا کر دیا تھا ساری محفل نے مسکراہٹ چھپانے کے لئے سرجھکا لیا۔

جاسوس نے خواجہ نصر الدین کو غور سے دیکھا لیکن دھندلکے میں پہچان نہ سکا۔

“اس کونے میں کون بھونک رہا ہے؟” اس نے غرور سے پوچھا۔ “اے، بھک منگے، کیا تو خواجہ نصر الدین کے مقابلے میں اپنی عقل آزمانے کی کوشش کر رہا ہے؟”

“اس کے لئے میں ایک بہت چھوٹا آدمی ہوں ” خواجہ نصر الدین نے چا پیتے ہوئے جواب دیا۔

اب ایک کسان نے پوچھا:

“محترم خواجہ نصر الدین بتائیے کہ کسی جنازے میں حصہ لیتے ہوئے اسلام کے مطابق کس جگہ کھڑے ہونا بہتر ہو گا۔ جنازے کے آگے یا پیچھے؟”

جاسوس نے بڑے اہم انداز میں ایک انگلی اٹھائی۔ وہ جواب دینے کی تیاری کر رہا تھا کہ اس سے پہلے ہی کونے سے آواز آئی “اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تم جنازے کے آگے ہو یا پیچھے بشرطیکہ تم خود تابوت کے اندر نہ ہو۔”

چائے خانے کا ملک جو مزاحیہ باتوں سے بڑا لطف لیتا تھا اپنا پیٹ دونوں ہاتھوں سے تھام کر بیٹھ گیا اور فلک شگاف قہقہے لگانے لگا۔ دوسرے بھی اپنی ہنسی نہ روک سکے۔ کونے میں بیٹھا ہوا آدمی بڑا چرب زبان تھا اور معلوم ہوتا تھا کہ وہ خواجہ نصر الدین کا بھی مقابلہ کر سکتا ہے۔

جاسوس نے جس کا غصہ بڑھ رہا تھا آہستہ سے اپنا سر گھمایا:

“ارے تیرا نام کیا ہے؟ میں دیکھتا ہوں کہ تیری زبان قینچی کی طرح چلتی ہے۔ خبردار، کہیں اس سے بالکل ہی ہاتھ نہ دھونا پڑے! میں ایک جملہ کہہ کر اس کو آسانی سے ختم کر سکتا ہوں ” اس نے سامعین کی طرف مڑتے ہوئے کہا “لیکن اس وقت ہم مقدس اور پاکیزہ باتیں کر رہے ہیں جہاں حاضر جوابی کی کوئی گنجائش نہیں ۔ سب باتوں کے لئے ایک وقت ہوتا ہے۔ فی الحال میں اس بھک منگے کو کوئی جواب نہیں دوں گا۔ ہاں میں کہہ رہا تھا کہ میں ، خواجہ نصر الدین تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ میری پیروی کرو۔ ملاؤں کی عزت کرو، حکام کا حکم مانو اور پھر خوشحالی تمھارے قدم چومے گی۔ لیکن سب سے پہلے ان آوارہ گردوں کی بات نہ سنو جو جعل کرتے ہیں اور اپنے کو خواجہ نصر الدین کہتے ہیں ، جیسے یہ آدمی جس نے حال ہی میں بخارا میں تمام ہنگامہ کیا اور پھر یہ جان کر بے پتہ نشان غائب ہو گیا کہ اصلی خواجہ نصر الدین آ گئے ہیں ۔ ایسے تمام بہروپیوں کو پکڑو اور امیر کے پہرے داروں کے حوالے کر دو۔”

“بالک ٹھیک!” خواجہ نصر الدین نے زور سے کہا اور دھندلکے سے روشنی میں آ گئے۔

تمام حاضرین نے ان کو فوراً پہچان لیا اور اس اچانک واقعہ سے ششدر رہ گئے۔ جاسوس زرد پڑ گیا۔ خواجہ نصر الدین جاسوس کے قریب آ گئے اور علی بھی چپکے سے ان کے پیچھے لگ گیا تاکہ جاسوس کو جھپٹ لے۔

“اچھا، تو تم اصلی خواجہ نصر الدین ہو؟”

جاسوس نے گھبرا کر اپنے پیچھے دیکھا، اس کے گال کانپ رہے تھے۔ اس کی آنکھیں ادھر ادھر نگران تھیں ۔ بہرحال اس نے زور لگا کر جواب دیا:

“ہاں ، میں اصلی خواجہ نصر الدین ہوں ، اور سب دھوکے باز ہیں اور تو بھی۔”

“مسلمانو! تم کیا کھڑے دیکھ رہے ہو؟” خواجہ نصر الدین نے چیخ کر کہا۔ “اس نے خود ہی کہا ہے! پکڑو، پکڑو اس کو! کیا تم نے امیر کا حکم نہیں سنا ہے اور تمھیں پتہ نہیں ہے کہ خواجہ نصر الدین کے ساتھ کیا کرنا چاہئے؟ پکڑو اسے، نہیں تو تمھیں اس کو بچانے کے لئے جواب دھی کرنی ہو گی!”

انہوں نے جاسوس کی مصنوعی داڑھی نوچ لی۔

چائے خانے میں سبھی لوگوں نے اس نفرت انگیز چیچک رو، چپٹی ناک اور چالاک آنکھوں والے آدمی کو پہچان لیا۔

“اس نے خود ہی تسلیم کیا ہے!” خواجہ نصر الدین دائیں طرف آنکھ مارتے ہوئے چیخے۔ “پکڑو خواجہ نصر الدین کو!” اور انہوں نے بائیں طرف آنکھ ماری۔

چائے خانے کے مالک علی نے سب سے پہلے جاسوس پر ہاتھ ڈالا۔ جاسوس نے چھڑانے کی کوشش کی لیکن سقے، کسان اور کاریگر جھگڑے میں کود پڑے۔ کچھ دیر تک تو بس مکوں کے اوپر اٹھنے اور گرنے کا منظر دکھائی دیا۔ خواجہ نصر الدین سب سے زیادہ زوروں سے کوٹائی کر رہے تھے۔

“ارے میں تو مذاق کر رہا تھا!” جاسوس کراھتے ہوئے چلایا۔ “ارے مسلمانو، یہ تو مذاق تھا! میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ! مجھے جانے دو!”

“تم جھوٹے ہو!” خواجہ نصر الدین نے چلا کر جواب دیا۔ ان کی مٹھیاں ایسی چل رہی تھیں جیسے کوئی نانبائی آٹا گوندھ رہا ہو۔ “تم نے خود اقرار کیا! ہم سب سے نا! ارے مسلمانو! ہم جتنے لوگ یہاں ہیں سب اپنے امیر کے سچے وفا دار ہیں اور ہمیں چاہئے کہ ہم ان کے احکام کو وفاداری کے ساتھ بجا لائیں ۔ اس لئے مسلمانو، اس خواجہ نصر الدین کو اچھی طرح دھنکنا چاہئے! اس کو گھسیٹ کر محل لے جاؤ اور پہرے داروں کے حوالے کر دو! اللہ اور امیر کی عظمت کا واسطہ، اس کو خوب پیٹو!”

مجمع نے جاسوس کو محل کی طرف گھسیٹنا شروع کیا اور راستے بھر اس کی مرمت برابر ہوتی رہی۔ خواجہ نصر الدین نے اس کو زوردار لات سے رخصت کیا اور چائے خانے واپس آ گئے۔

“اف” انہوں نے اپنا پسینے سے تر چہرہ پونچھتے ہوئے کہا “اس بار ہم نے اس کی خوب مرمت کر دی۔ اب بھی وہ پٹ رہا ہے۔ آوازوں سے معلوم ہوتا ہے۔”

مشتعل آوازیں اور جاسوس کی فریاد بھری چیخیں اب بھی دور سے آ رہی تھیں ۔ ہر ایک کو اس سے کچھ نہ کچھ بدلا لینا تھا اور امیر کے حکم کے زور پر ان کو اچھا موقع مل گیا تھا۔

چائے خانے کا مالک خوش ہو کر اپنی توند سہلا رہا تھا:

“اس کے لئے سبق ہو جائے گا۔ وہ اب میرے چائے خانے میں قدم نہیں رکھے گا۔”

پچھلے کمرے میں خواجہ نصر الدین نے اپنا لباس تبدیل کیا، اپنی مصنوعی داڑھی لگائی اور پھر بغداد کے مولانا حسین بن گئے۔

جب وہ محل واپس ہوئے تو انہوں نے پہرے داروں کے کمرے سے آتی ہوئی کراہوں کی آواز سنی۔ انہوں نے اندر دیکھا تو چیچک رو جاسوس ایک نمدے پر پڑا تھا۔ اس کا بدن سوجا ہوا اور جا بجا زخمی تھا اور اس کی حالت ابتر تھی۔ ارسلان بیک اس کے پاس ایک لالٹین لئے کھڑا تھا۔ “جناب ارسلان بیک، کیا ہوا؟” خواجہ نصر الدین نے معصومیت کے ساتھ پوچھا۔

“مولانا، بہت برا ہوا۔ وہ بد معاش خواجہ نصر الدین پھر شہر میں آگیا۔ اس نے ہمارے سب سے ہوشیار جاسوس کو پیٹ دیا جو ہمارے حکم سے اپنے کو خواجہ نصر الدین بتا کر نیک اور وفا دارانہ تقریریں کر رہا تھا تاکہ اصلی خواجہ کے برے اثرات دور ہو جائیں ۔ اس کا نتیجہ دیکھئے؟”

“آہ، آہ!” جاسوس اپنا زخمی اور مسخ چہرہ اٹھاتے ہوئے کراھا “میں اس کمبخت آوارہ گرد کے منہ کبھی نہ آؤں گا۔ میں جانتا ہوں کہ اس بار تو وہ مجھے ختم ہی کر دے گا۔ اب میں جاسوسی نہیں کروں گا۔ کل میں بہت دور کسی ایسی جگہ چلا جاؤں گا جہاں مجھے کوئی نہیں جانتا اور کوئی ایمانداری کا کام کروں گا۔”

“میرے دوستوں نے واقعی اس کا بھرتا بنا دیا ہے”خواجہ نصر الدین نے لالٹین کی روشنی میں جاسوس کو دیکھتے ہوئے سوچا اور اس پر ان کو تھوڑا سا ترس بھی آیا۔ “اگر محل دو سوقدم بھی اور آگے ہوتا تو وہ شاید یہاں زندہ نہ پہنچتا۔ اب دیکھنا ہے کہ اس نے کوئی سبق سیکھا ہے یا نہیں ۔”

صبح سویرے خواجہ نصر الدین نے اپنے برج سے دیکھا کہ چیچک رو جاسوس ایک چھوٹی سی گٹھری لیکر محل سے نکل گیا۔ وہ لنگڑا رہا تھا اور بار بار اپنے سینے، بازوؤں اور پہلوؤں کو ہاتھوں سے سہلاتا جاتا تھا۔ بار بار وہ دم لینے کے لئے بیٹھ جاتا۔ اس نے بازار کو پار کیا جو رفتہ رفتہ صبح کی خنک شعاعوں سے روشن ہوتا جاتا تھا اور ڈھکے ہوئے اسٹالوں کی قطاروں میں غائب ہو گیا۔

صبح سے رات کی تاریکی نے شکست کھائی۔ صبح خالص، شفاف اور پرسکون تھی۔ شبنم نے اس کو دھو کر اسپر دھوپ کے تار بکھیر دئے تھے۔ چڑیاں چہچہا رہی تھیں اور زفیلیں دے رہی تھیں ۔ سورج کی پہلی کرنوں میں نہانے کے لئے تتلیاں اڑ رہی تھیں ۔ خواجہ نصر الدین کے سامنے کھڑکی کے پٹرے پر ایک شہد کی مکھی آ کر رینگنے لگی۔ اس کو اس شہد کی تلاش تھی جو مرتبان میں تختے پر رکھا تھا۔

سورج خواجہ نصر الدین کا پرانا اور وفا دار دوست تھا۔ اب وہ بلند ہو رہا تھا۔ ہر صبح خواجہ نصر الدین اس کو دیکھتے اور ایسا محسوس کرتے جیسے انہوں نے سورج کو سال بھر بعد دیکھا ہے۔ سورج بلند ہو رہا تھا، مہربان اور فیاض دیوتا جو سبکو یکساں فیض پہنچاتا ہے اور ساری دنیا بھی اس کے خیر مقدم کے لئے صبح کی کرنوں میں چمکتا دمکتا اپنا شعلہ ور حسن پیش کر دیتی ہے۔ پھولے پھولے بادل، میناروں کے پالش کئے ہوئے ٹائل، بھیگی ہوئی پتیاں ، پانی اور گھاس، حتی کہ سنگ خارا کی سپاٹ چٹان، قدرت کی دھتکاری ہوئی سوتیلی بیٹی بھی سورج کے خیر مقدم میں ایک انوکھا روپ دھار لیتی، اس کی ٹوٹی پھوٹی سطحیں اس طرح چمکنے دمکنے لگتیں جیسے ان پر ہیرے کا برادہ پھیلا دیا گیا ہو۔

خواجہ نصر الدین اپنے دوست کے دمکتے ہوئے چہرے سے کیسے بے اعتنائی برت سکتے تھے۔ سورج کی چمکدار کرنوں میں ایک درخت کی پتیاں رقص کر رہی تھیں ۔ خواجہ نصر الدین بھی اس کے ساتھ جھوم گئے جیسے وہ بھی سرسبز پتیوں میں ملبوس ہوں ۔ قریب کے مینار پر کبوتر غٹر غوں کر کے اپنے پر جھاڑ رہے تھے۔ تتلیوں کا ایک جوڑا کھڑکی کے سامنے لہرایا اور خواجہ کا دل چاہا کاش کہ وہ بھی ان کے اس نازک کھیل میں شریک ہو جاتے۔

خواجہ نصر الدین کی آنکھیں خوشی سے چمک اٹھیں ۔ چیچک رو جاسوس کا خیال کر کے ان کے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کاش کہ یہ صبح اس جاسوس کی نئی زندگی کی صاف ستھری اور معقول صبح ہو۔ لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ برائیاں اس جاسوس کی روح تک میں پیوست ہو چکی ہیں اور وہ پوری طرح صحت یاب ہوتے ہی پھر اپنی پرانی حرکتوں پر اتر آئے گا۔

بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ خواجہ نصر الدین نے اپنی پیش گوئی میں غلطی نہیں کی تھی۔ وہ انسانوں کو اتنی اچھی طرح سمجھتے تھے کہ ان کے لئے غلطی کرنا مشکل تھا حالانکہ ان کو اپنی غلطی پر خوشی ہوتی اور وہ اس جاسوس کے روحانی نو جیون پر خوش ہوتے۔ بہرحال، سڑی ہوئی چیز پھر تازہ اور بارور نہیں ہو سکتی۔ بدبو خوشبو نہیں بن سکتی۔ خواجہ نصر الدین نے افسوس کے ساتھ آہ بھری۔

ان کا محبوب خواب یہ تھا کہ ایسی دنیا ہوتی جہاں انسان بھائیوں کی طرف رہسکتے، نہ تو ان میں حرص و حسد ہوتا اور نہ چوری چکاری اور غصہ، بلکہ وہ ضرورت کے وقت ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ہر ایک کی خوشی کو سب کی خوشی سمجھ کر اس سے لطف اندوز ہوتے۔ پھر بھی ایسی خوشگوار دنیا کا تصور کرتے ہوئے وہ اس تلخ حقیقت کو بھی سمجھتے تھے کہ انسان اس طرح رہتے ہیں جو ان کے لئے زیبا نہیں ہے، ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں ، غلام بناتے ہیں اور اپنی روحوں کو ہر طرح کی برائیوں سے داغدار کرتے ہیں ۔ بنی نوع انسان کو صاف ستھرے اور ایماندارانہ وجود کے قوانین کو سمجھنے میں کتنی مدت لگے گی؟

خواجہ نصر الدین کو اس بات میں کوئی شک نہ تھا کہ انسان کسی نہ کسی دن ان قوانین کو سمجھے گا۔ ان کو اس بات پر قطعی یقین تھا کہ اس دنیا میں برے آدمیوں سے زیادہ بھلے آدمی ہیں ۔ جعفر سود خور اور چیچک رو جاسوس اور ان کی گلی سڑی روحیں کریہہ استثنا ہیں ۔ ان کو قطعی یقین تھا کہ فطرت نے انسا ن کو صرف بھلائیوں سے سنوارا ہے اور تمام برائیاں اس کوڑے کرکٹ کی طرح ہیں جو اس کی روح پر زندگی کے غلط اور غیر منصفانہ نظام نے باہر سے تھوپ دی ہیں ۔ ان کو قطعی یقین تھا کہ وہ وقت ضرور آئے گا جب انسان اپنی زندگی کو پھر سے بنانا اور صاف کرنا شروع کر دیں گے تو وہ اپنی شریفانہ محنت کے ذریعہ اپنی روح کی تمام گندگیوں کو دھو ڈالیں گے۔

خواجہ نصر الدین کے خیالات کا یہ رجحان ان کے بارے میں بہت سے قصوں سے ثابت ہوتا ہے جن پر ان کے روحانی جذبات کا ٹھپہ ہے۔ ان میں یہ کتاب بھی شامل ہے۔ حالانکہ ان کی یاد کو داغدار بنانے کی بہتیری کوششیں کی گئیں ، محض کمینے رشک و حسد کی وجہ سے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئیں کیونکہ جھوٹ سچ پر کبھی غالب نہیں آ سکتا۔ خواجہ نصر الدین کی یاد ہمیشہ اس ہیرے کی طرح درخشاں اور خالص رہے گی جو سب باتوں کے باوجود اپنی چمک دمک برقرار رکھتا ہے۔ آج تک جو مسافر ترکی میں آک شہر کے سادے سے مقبرے کے سامنے رکتے ہیں اب بھی بخارا کے اس زندہ دل جہاں گرد، خواجہ نصر الدین کا نام کلمہ خیر سے ہی لیتے ہیں ۔ ایک شاعر کے الفاظ میں وہ کہتے ہیں :

“انہوں نے اپنا دل دھرتی کو دے دیا حالانکہ وہ دنیا بھر میں ہوا کی طرح چکر لگاتے رہے، اس ہوا کی طرح جو ان کی موت کے بعد ان کے دل کی گلاب جیسی مہک ساری دنیا میں پھیلا آئی۔ دنیا کے ہمہ گیر حسن کو ہی دیکھنا زندگی کا حسن ہے۔ وہی زندگی حسین ہے جو ختم ہونے کے بعد اپنی روح کے خالص جذبات چھوڑ جاتی ہے۔”

یہ سچ ہے کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آک شہر کے مقبرے میں کوئی دفن نہیں ہے اور خواجہ نصر الدین نے اس کو اسی مقصد کے تحت بنوایا تھا کہ ان کی موت کی خبر پھیل جائے اور پھر وہ جہاں گردی کے لئے روانہ ہو گئے تھے۔ یہ سچ ہے یا نہیں ؟ ہمیں بیکار قیاس آرائیوں میں وقت نہ گنوانا چاہئے۔ ہم بس یہی کہہ سکتے ہیں کہ خواجہ نصر الدین سے ہر طرح کی باتوں کی توقع ہو سکتی ہے۔

(۳۲)
صبح کا وقت جلد ہی گزر گیا اور پھر گرم اور امس بھری دوپہر آئی۔ اب فرار کے لئے سب کچھ تیار تھا۔ خواجہ نصر الدین اوپر اپنے قیدی کے پاس گئے۔

“آپ کی قید کی مدت ختم ہونے والی ہے، دانائے روزگار مولانا حسین۔ آج رات کو میں محل چھوڑ دوں گا۔ میں آپ کا دروازہ ایک شرط پر کھلا چھوڑ سکتا ہوں ۔ آپ دو دن تک یہ جگہ نہیں چھوڑیں گے۔ اگر آپ جلدی نکلے تو مجھے محل میں پائیں گے اور پھر میں اس بات پر مجبور ہوں گا کہ آپ پر بھاگنے کا الزام لگا کر جلاد کے حوالے کر دوں ۔ بغداد کے دانا، مولانا حسین، خدا حافظ۔ آپ میرے متعلق بہت برا خیال نہ کریں ۔ میں آپ کو یہ فریضہ سپرد کرتا ہوں کہ آپ امیر کو سچی بات بتائیں اور اس کو میرا نام بتائیں ۔ میرا نام خواجہ نصر الدین ہے۔”

“کیا؟” بڈھّے نے حیرت سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ وہ نام کو سن کر ہی ہکا بکا رہ گیا ۔

دروازے کے بند ہونے کی چرچراہٹ ہوئی۔ زینوں پر خواجہ نصر الدین کے قدموں کی آواز غائب ہو گئی۔ بڈھا احتیاط کے ساتھ دروازے تک گیا اور اس کو آزمایا۔ وہ مقفل نہیں تھا۔ اس نے باہر جھانک کر دیکھا، کوئی دکھائی نہ دیا۔ اس نے جلدی سے دروازہ بند کر کے زنجیر لگا لی۔

“نہیں ” وہ بڑبڑایا “میں پورے ہفتے یہیں پڑے رہنے کو ترجیح دوں گا بمقابلہ اس کے کہ پھر خواجہ نصر الدین سے پالا پڑے۔”

رات کو جب فیروزی آسمان پر پہلے ستارے جھلملائے، خواجہ نصر الدین ایک مٹی کی صراحی لیکر ان پہرے داروں کے پاس گئے جو امیر کے حرم کے پھاٹک پر متعین تھے۔ پہرے داروں نے ان کو آتے نہیں دیکھا اور اپنی بات چیت جاری رکھی:

“وہ دیکھو، ایک اور ستارہ ٹوٹا” کچے انڈے کھانے والے موٹے اور کاہل پہرے دار نے کہا “اگر تمھارے کہنے کے مطابق وہ زمین پر گرتے ہیں تو لوگ ان کو پاتے کیوں نہیں ؟”

“شاید وہ سمندر میں گرتے ہیں ” دوسرے پہرے دار نے کہا۔

“ارے، بہادر سپاھیو” خواجہ نصر الدین بیچ میں بولے “خواجہ سراؤں کے داروغہ کو تو بلانا۔ میں بیمار داشتہ کے لئے دوا لایا ہوں ۔”

خواجہ سراؤں کا داروغہ آیا اور ادب سے دونوں ہاتھ بڑھا کر چھوٹی سی صراحی سنبھالی جس میں چونے کے پانی کے سوا کچھ بھی نہ تھا، دوا کے استعمال کی ہدایات سنیں اور چلا گیا۔

“دانائے روزگار مولانا حسین” موٹے پہرے دار نے چاپلوسی کرتے ہوئے کہا “آپ تو دنیا کی ہر بات جانتے ہیں ۔ آپ کا علم و فضل تو بے پناہ ہے۔ ہمیں بتائیے کہ آسمان سے ٹوٹ کر ستارے کہاں گرتے ہیں اور لوگ ان کو کیوں نہیں پاتے؟”

خواجہ نصر الدین بھلا مذاق سے باز آ سکتے تھے۔

“تم نہیں جانتے؟” انہوں نے انتہائی سنجیدگی سے کہا۔ “جب ستارے گرتے ہیں تو وہ چھوٹے چھوٹے چاندی کے سکوں میں ٹوٹ جاتے ہیں جو فقیر چن لیتے ہیں ۔ بہت سے آدمی تو اس طرح امیر بن گئے۔”

پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کے چہرے پر سخت حیرت کے آثار تھے۔

خواجہ نصر الدین ان کی حماقت پر ہنستے ہوئے اپنے راستے پر چلے گئے۔ ان کو یہ گمان بھی نہ تھا کہ یہ مذاق اتنا کارآمد ثابت ہو گا۔

وہ آدھی رات تک اپنے برج میں رہے۔ آخرکار شہر اور محل میں سناٹا چھا گیا۔ اب وقت گنوانا نہیں تھا۔ گرمیوں کی راتیں بڑی صبا رفتار ہوتی ہیں ۔ خواجہ نصر الدین نیچے اترے اور چپکے سے امیر کے حرم کی طرف روانہ ہوئے۔

“پہرے دار اب تو سوتے ہوں گے” انہوں نے سوچا۔

لیکن جب وہ قریب پہنچے تو ان کو بڑی ناامیدی ہوئی کیونکہ پہرے دار چپکے چپکے باتیں کر رہے تھے۔

“اگر ایک ہی ستارہ یہاں گر جاتا” موٹا کاہل پہرے دار کہہ رہا تھا “تو ہم چاندی بٹور کر یکدم امیر بن جاتے۔”

“مجھے یقین نہیں ہے کہ ستارے چاندی کے سکوں میں ٹوٹ جاتے ہیں ” اس کا ساتھی بولا۔

“لیکن بغداد کے دانا نے ایسا ہی بتایا ہے” پہلے نے جواب دیا۔ “واقعی وہ بہت بڑے عالم و فاضل ہیں اور غلطی نہیں کر سکتے ہیں ۔”

“لعنت ہو ان پر!” خواجہ نصر الدین نے اندھیرے میں چھپتے ہوئے اپنے آپ سے کہا۔ ” میں نے ان کو ستاروں کے بارے میں بتایا ہی کیوں ؟ اب وہ صبح تک اس پر بحث کریں گے۔ کیا بھاگنا ملتوی کرنا پڑے گا؟”

بخارا کے اوپر ہزاروں ستاروں کی صاف اور پرسکون روشنی تھی۔ اچانک ایک چھوٹا سا ستارہ ٹوٹا اور آسمان کے پار انتہائی تیز رفتاری سے ترچھا گرنے لگا۔ ایک اور ستارہ اس کے بعد روانہ ہوا اور اپنے پیچھے ایک جلتی ہوئی لکیر چھوڑتا گیا۔ یہ موسم گرما کا وسطی دور تھا جس میں ستارے کافی ٹوٹتے ہیں ۔

“اگر وہ واقعی ٹوٹ کر چاندی کے سکے بن جاتے۔۔۔” دوسرے پہرے دار نے اپنی بات شروع کی۔

اچانک خواجہ نصر الدین نے ذہن میں ایک خیال چمکا۔ انہوں نے جلدی سے اپنی تھیلی نکالی جو چاندی کے سکوں سے بھری ہوئی تھی۔ ستاروں کے گرنے میں ایک لمبا وقفہ ہو گیا۔ آخر کار ایک ٹوٹا۔ خواجہ نصر الدین نے ایک سکہ پہرے داروں کے قدموں کے پاس پھینکا۔ پتھر کے فرش پر سکے کی جھنکار ہوئی، پہلے تو پہرے دار پتھرا سے گئے۔ پھر وہ ایک دوسرے کو گھورتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے۔

“تم نے یہ سنا؟” پہلے پہرے دار نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا۔

“ہاں میں نے سنا” دوسرے نے ہکلاتے ہوئے کہا۔

خواجہ نصر الدین نے ایک اور سکہ پھینکا جو چاندنی رات میں چمک اٹھا۔ کاہل پہرے دار ہلکی سی چیخ مار کر اس پر ٹوٹ پڑا۔

“تم ۔۔۔ کو مل۔۔۔ گیا؟” دوسرے پہرے دار نے مشکل سے کہا۔ اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ اس نے اٹھتے ہوئے سکہ دکھایا۔

اچانک کئی اور ستارے ایک ساتھ ٹوٹے اور خواجہ نصر الدین نے مٹھی بھر بھر کر سکے پھینکنا شروع کر دئے۔ پرسکون رات سکوں کی لطیف کھن کھناہٹ سے گونج سی گئی۔ پہرے دار بالکل بدحواس ہو گئے۔ انہوں نے اپنے نیزے تو الگ پھینکے اور جھک کر سکے تلاش کرنے لگے۔

“یہ رہا!” ایک کی بھاری گھٹی گھٹی ہوائی آواز آئی۔ “یہ رہا!”

دوسرا خاموشی سے رینگ رہا تھا۔ پھر وہ کثرت سے سکے پھیلے ہوئے دیکھ کر گھگیا گیا۔

خواجہ نصر الدین نے ایک اور مٹھی سکے پھینکے اور بلا روک ٹوک پھاٹک کے اندر داخل ہو گئے۔

باقی کام آسان تھا۔ نرم، گداز ایرانی قالینوں پر ان کے قدموں کی آواز نہیں ہو رہی تھی۔ وہ تمام موڑوں اور پیچیدہ راستوں سے واقف تھے۔ خواجہ سرا سو رہے تھے۔۔۔

گل جان نے ان کا خیر مقدم ایک محبت بھرے بوسے سے کیا اور کانپتی ہوئی ان سے لپٹ گئی۔

“جلدی کرو” انہوں نے سرگوشی میں کہا۔

کوئی ان کو روکنے والا نہ تھا۔ ایک خواجہ سرا نے کروٹ لی اور نیند میں بڑبڑایا۔ خواجہ نصر الدین اس پر جھک گئے لیکن اس کی زندگی ابھی باقی تھی۔ اس نے اپنے ہونٹ چاٹے اور پھر خراٹے بھرنے لگا۔ رنگین شیشوں سے ہلکی چاندنی چھن چھن کر آ رہی تھی۔

پھاٹک پر خواجہ نصر الدین رکے اور انہوں نے چاروں طرف سے نظر دوڑائی۔ صحن میں پہرے دار اپنے چاروں ہاتھوں پیروں پر ٹکے ہوئے گردنیں اوپر اٹھا اٹھا کر دیکھ آسمان کو تک رہے تھے کہ کوئی اور ستارہ ٹوٹے۔ خواجہ نصر الدین نے ایک مٹھی بھر اور سکے پھینکے جو کچھ درختوں کے دوسری طرف جا کر گرے۔ پہرے دار اپنے بوٹ کھٹ کھٹ کرتے ہوئے آواز کی طرف دوڑ پڑے۔ انہوں نے اپنے ہیجان میں چاروں طرف کچھ نہیں دیکھا اور زور زور سے ہانپتے اور شور مچاتے ہوئے خاردار جھاڑیوں کے اس پار دوڑے جن کے کانٹوں میں ان کی قباؤں اور شلواروں کے چیتھڑے پھٹ کر لٹک گئے۔

اس رات کو تو حرم سے ایک کیا ساری داشتائیں اغوا کی جا سکتی تھیں ۔

“جلدی کرو، جلدی” خواجہ نصر الدین برابر کہتے جاتے تھے۔

وہ دوڑ کر برج تک گئے اور زینوں پر چڑھے۔ خواجہ نصر الدین نے اپنے بستر کے نیچے سے ایک رسی نکالی۔ یہ انہوں نے پہلے سے تیار کر لی تھی۔

“بہت اونچا ہے۔۔۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے” گل جان نے چپکے سے کہا لیکن خواجہ نصر الدین نے اس کو ڈانٹا تو اس نے اپنے اوپر قابو پا لیا۔

خواجہ نصر الدین نے گل جان کے گرد ایک پھندا باندھ دیا اور کھڑکی کا جنگلہ نکال دیا جو انہوں نے پہلے ہی کاٹ ڈالا تھا۔ گل جان کھڑکی کے باہر پتھر پر بیٹھی تھی۔ وہ بلندی دیکھ کر کانپ گئی۔

“باہر نکلو!” خواجہ نصر الدین نے حکم دیا اور اس کو پیچھے سے ہلکا سا دھکا دیا۔

گل جان نے آنکھیں بند کر لیں ، چکنے پتھر پر سے پھسل کر ہوا میں لٹک گئی۔ زمین پر پہنچ کر اس کے حواس بجا ہوئے۔

“بھاگو، بھاگو!” اوپر سے آواز آئی۔ خواجہ نصر الدین کھڑی سے باہر جھکے ہوئے اپنے ہاتھ ہلا رہے تھے اور رسی اوپر کھینچ رہے تھے۔ گل جان نے جلدی سے اپنے کو رسی سے کھولا اور سنسان چوک میں سے ہو کر بھاگی۔

اس کو پتہ نہیں تھا کہ پورے محل میں زبردست ہنگامہ برپا ہو گیا ہے۔ خواجہ سراؤں کے داروغہ کے ناخوشگوار تجربے نے اس میں بے وقت کا جوش پیدا کر دیا تھا اور وہ آدھی رات کو نئی داشتہ کے کمرے میں نگہبانی کے لئے پہنچ گیا لیکن وہاں تو بستر خالی تھا۔ وہ بھاگتا ہوا گیا اور امیر کو جگا دیا۔ امیر نے ارسلان بیک کو طلب کر لیا۔ ارسلان بیک نے محل کے پہرے داروں کو جگایا۔ مشعلیں روشن ہو گئیں ، نیزوں اور سپروں کی جھنکار گونجنے لگی۔

بغداد کے مولانا حسین کی طلبی ہوئی۔ امیر نے چیختے ہوئے شکایت کی:

“مولانا حسین! ہماری ریاست کی اب یہ حالت پہنچ گئی ہے کہ ہمیں ، امیر اعظم کو یہ بد معاش خواجہ نصر الدین ہمارے محل تک میں چین سے نہیں بیٹھنے دیتا! ایسا تو کبھی سنا بھی نہیں گیا تھا کہ امیر کے حرم سے داشتہ چوری ہو جائے!”

“امیر اعظم” بختیار نے بولنے کی ہمت کی” شاید یہ خواجہ نصر الدین کی حرکت نہ تھی؟”

“اور کون ہو سکتا ہے؟” امیر تیز آواز میں چیخا۔ “صبح کو ہمیں رپورٹ ملی کہ وہ بخارا واپس آگیا ہے اور رات میں ہماری داشتہ غائب ہو گئی جو اس کی منگیتر تھی۔ اس کے سوا اور کون یہ کر سکتا تھا؟ اس کو تلاش کرو۔ ہر جگہ پہرے داروں کی تعداد تگنی کر دی جائے۔ اس کو محل سے باہر نکلنے کا وقت نہیں ملا ہے۔ ارسلان بیک، یاد رکھو، تمھارے سر کی خیریت نہیں ہے!”

تلاش شروع ہو گئی۔ پہرے داروں نے محل کا کونہ کونہ چھان مارا۔ مشعلوں نے اپنے لہراتے ہوئے شعلوں سے سارا محل روشن کر دیا۔ خواجہ نصر الدین ڈھونڈنے والوں میں سب سے پیش پیش تھے۔ انہوں نے قالین اٹھا اٹھا کر دیکھا۔ سنگ مرمر کے حوضوں میں عصا ڈال کر کھنگالا، غل مچایا، دوڑ دھوپ کی اور چائے دانیوں اور صراحیوں میں جھانک جھانک کر دیکھا حتی کہ چوہوں کے بل بھی نہ چھوڑے۔

امیر کی خواب گاہ میں جا کر انہوں نے رپورٹ پیش کی “شہنشاہ اعظم، خواجہ نصر الدین محل سے نکل گیا۔”

“مولانا حسین!” امیر نے غصے میں جواب دیا۔ “ہمیں تمھاری لاپروائی پر حیرت ہے۔ مان لو وہ کہیں چھپ گیا ہو تو؟ ارے، وہ تو میری خواب گاہ میں بھی گھس سکتا ہے۔ ارے، پہرے داروں کو بلاؤ، پہرے دارو ادھر آؤ!” امیر چلایا۔ وہ خود اپنے ہی تصور سے ڈر گیا تھا۔

باہر ایک توپ دغی۔ اس کا مقصد ہاتھ نہ آنے والے خواجہ نصر الدین کو خوف زدہ کرنا تھا۔ امیر ایک کونے میں گٹھری بن کر پڑ گیا اور چلانے لگا:

“پہرے داروں کو بلاؤ! پہرے داروں کو بلاؤ!”

اس کا ڈر اسی وقت دور ہوا جب ارسلان بیک نے خواب گاہ کے دروازوں پر تیس پہرے دار تعینات کر دئے اور ہر کھڑکی کے پاس دس دس پہرے دار مقرر کر دئے گئے۔ اب وہ کونے سے باہر نکلا اور فریاد آمیز لہجے میں کہنے لگا:

“مولانا حسین مجھے بتاؤ۔ کیا تمھارا خیال ہے کہ وہ بد معاش میری خواب گاہ میں کہیں چھپا ہے؟”

“دروازوں اور کھڑکیوں پر پہرہ لگا دیا گیا ہے” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ “اس کمرے میں ہم دو ہیں ۔ خواجہ نصر الدین کہاں ہو سکتا ہے؟”

“اس کو ہماری داشتہ اغوا کرنے کی سزا بھگتنی پڑے گی!” امیر گرجا۔ اب اس کے خوف کی جگہ غصہ لے رہا تھا۔ اس نے اپنی انگلیوں کو اس طرح جھٹکا جیسے وہ خواجہ نصر الدین کا گلا گھونٹ رہا ہو۔ “ارے مولانا حسین” اس نے اپنی بات جاری رکھی “ہمیں بے انتہا غم و غصہ ہے! ہم اس کے پاس ایک بار بھی نہیں گئے۔ اس خیال سے ہمارا دل ملتا ہے۔ یہ سب تمھارے حماقت بھرے ستاروں کا قصور ہے، مولانا۔ اگر ہمارا بس چلتا تو اس گستاخی کے لئے ہم تمام ستاروں کا سر یکدم قلم کروا دیتے۔ لیکن اس بار خواجہ نصر الدین سزا پائے بغیر نہیں جا سکتا۔ ہم ارسلان بیک کو حکم دے چکے ہیں اور مولانا تم بھی اس بد معاش کو گرفتار کرنے کی پوری کوشش کرو! یہ نہ بھولو کہ خواجہ سراؤں کے داروغہ کا معزز عہدہ تمھیں ملنے کا انحصار اس کام میں کامیابی پر ہے۔ کل تم محل سے جاؤ گے اور خواجہ نصر الدین کے بغیر واپس نہیں ہو گے۔”

خواجہ نصر الدین اپنی شرارت آمیز آنکھیں نچاتے ہوئے زمین تک جھک کر تعظیم بجا لائے۔

(۳۳)

باقی رات خواجہ نصر الدین امیر کو اپنے منصوبے بتاتے رہے کہ وہ خواجہ نصر الدین کو کس طرح گرفتار کریں گے۔ یہ منصوبے بڑی چالاکی کے تھے اور امیر ان کو سن کر بہت خوش ہوتا رہا۔

صبح کو خواجہ نصر الدین کو اخراجات کے لئے ایک خریطہ اشرفیوں کا عطا ہوا اور وہ آخری بار اپنے برج کے زینوں پر چڑھے۔ انہوں نے یہ رقم ایک چمڑے کی دھمیانی میں رکھی اور چاروں طرف نظر ڈالی۔ انہوں نے ایک آہ بھری کیونکہ ان کو یہ جگہ چھوڑنے پر اچانک افسوس ہونے لگا تھا۔ انہوں نے اپنی بہت سی بے خواب راتیں نہ جانے کیا سوچتے ہوئے یہاں گزاری تھیں ۔ ان سنگین دیواروں کے پیچھے ان کی روح کا کوئی حصہ ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گا۔

انہوں نے زور سے دروازہ بند کیا اور نیچے کی طرف زینوں پر بھاگے۔ وہ آزادی کی طرف جا رہے تھے۔ ایک مرتبہ پھر ساری دنیا ان کے سامنے ہو گی۔ سڑکیں ، پہاڑی درے اور راستے ان کو دور دراز کی سیاحت کے لئے پکار رہے تھے۔ سرسبز جنگلات ان کے لئے اپنے سائے اور نرم پتیوں کے قالین پھیلائے کھڑے تھے۔ دریا اپنی خنک پانی سے ان کی پیاس بجھانے کے منتظر تھے۔ چڑیاں اپنے بہترین نغموں سے ان کے خیرمقدم کے لئے تیار تھیں ۔ زندہ دل آوارہ گرد خواجہ نصر الدین کافی دن تک سونے کے پنجرے میں بند رہا تھا۔ دنیا اس کی بڑی کمی محسوس کر رہی تھی۔

جب وہ پھاٹک پر پہنچے تو انہیں ایسا صدمہ ہوا جس سے ان کا دل دہل گیا۔ ان کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ ان کو دیوار کا سہارا لینا پڑا۔

کھلے پھاٹک میں پہرے داروں سے گھرے ہوئے ان کے دوستوں کی لمبی قطار لگی تھی۔ ان کے ہاتھ بندھے تھے اور سر ڈھلکے ہوئے تھے۔ اس میں بڈھا کمہار نیاز، چائے خانے کا مالک علی، آہن گر یوسف اور بہت سے دوسرے لوگ تھے جن جن سے ان کی کبھی ملاقات ہوئی تھی، جن کے ہاتھ سے انہوں نے کبھی پانی پیا تھا یا مٹھی بھر گھاس اپنے گدھے کے لئے لی تھی۔ سب وہاں بندھے ہوئے تھے۔ ارسلان بیک اس اندوہناک جلوس کے پیچھے پیچھے تھے۔

جس وقت تک خواجہ نصر الدین کے حواس بجا ہوئے، پھاٹک بند ہو چکے تھے اور صحن خالی تھا۔ قیدی کال کوٹھریوں میں جا چکے تھے۔ خواجہ نصر الدین نے جلدی سے ارسلان بیک کو تلاش کیا۔

“جناب ارسلان بیک، کیا ہوا؟ یہ لوگ کہاں کے ہیں ؟ انہوں نے کیا گناہ کیا ہے؟”

“یہ لوگ پاجی خواجہ نصر الدین کے پناہ دینے والے اور اس کے ساتھ مل کر سازشیں کرنے والے ہیں !” ارسلان بیک نے فاتحانہ انداز میں جواب دیا۔ “میرے جاسوسوں نے ان کا پتہ لگایا ہے اور آج ان کو کھلے عام بری طرح موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا اگر انہوں نے خواجہ نصر الدین کا پتہ نہ بتایا۔ لیکن آپ اتنے زرد کیوں ہیں ، مولانا؟ آپ پریشان معلوم ہوتے ہیں ۔۔۔”

“زرد؟” خواجہ نصر الدین نے حیرت سے کہا۔ “اس کا مطلب یہ ہوا کہ انعام مجھ کو نہیں تم کو ملے گا!”

خواجہ نصر الدین کو مجبوراً محل میں ٹھہرنا پڑا۔ اس کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ نہ تھا کیونکہ معصوم لوگوں کی جان کا خطرہ تھا۔

دوپہر کو چوک پر فوج تعینات ہو گئی۔ اس نے تین تین کی قطاروں میں چبوترے کے چاروں طرف حلقہ بنا لیا۔ مجمع کو نقیبوں نے بتا دیا تھا کہ کچھ لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی اور وہ خاموشی سے منتظر تھا۔ صاف آسمان سے چلچلاتی ہوئی دھوپ آ رہی تھی۔

محل کے پھاٹک کھلے اور دستور کے مطابق پہلے آگے آگے دوڑتے ہوئے نقیب آئے، پھر پہرے دار اور ان کے پیچھے سازندے، ہاتھی اور درباری۔ آخر میں امیر کی پالکی آہستہ آہستہ بڑھتی ہوئی آئی۔ سارا مجمع تعظیم کے لئے جھک گیا۔ پالکی چبوترہ تک لائی گئی۔

امیر تخت پر بیٹھ گیا۔ مجرم پھاٹک سے باہر لائے گئے۔ ان کو دیکھ کر مجمع میں ہلکا شور ہوا۔ مجرموں کے رشتے دار اور دوست آگے کی قطاروں میں کھڑے تھے تاکہ وہ اچھی طرح دیکھ سکیں ۔

جلادوں نے اپنے تیشے، نوکیلے ستون اور رسیاں ٹھیک کرنا شروع کر دیں ۔ ان کو پورا دن کام کرنا تھا کیونکہ یکے بعد دیگرے ساٹھ آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا تھا۔

اس جان لیوا جلوس میں بڈھّے نیاز کا نمبر پہلا تھا۔ اس کے دائیں طرف سولی تھی اور بائیں طرف تختہ اور سامنے ایک نوکیلا ستون زمین سے اوپر ابھرا ہوا تھا۔

وزیر اعظم بختیار نے بڑی سنجیدہ اور پاٹ دار آواز میں اعلان کیا:

“اس اللہ کے نام پر جو رحیم و کریم ہے بخارا کے حکمران، آفتاب جہاں ، امیر بخارا نے میزان انصاف میں اپنی رعایا کے ساٹھ افراد کو تولنے کے بعد جو ناپاک امن شکن بانی شر و فساد خواجہ نصر الدین کو پناہ دینے سے متعلق ہیں مندرجہ ذیل حکم دیا ہے:

“کمہار نیاز کو خاص پناہ دینے والے کی حیثیت سے جس کے گھر میں متذکرہ بالا آوارہ گرد خواجہ نصر الدین نے بہت دن تک پناہ لی یہ سزا دی جاتی ہے کہ اس کا سر جسم سے جدا کر دیا جائے۔جہاں تک دوسرے مجرموں کا سوال ہے پہلی سزا تو ان کے لئے یہ ہو گی کہ وہ نیاز کی موت کا نظارہ کریں تاکہ وہ اس سے بھی زیادہ خوفناک انجام کی توقع کر کے کانپ سکیں ۔ ان میں سے ہر ایک کے لئے موت کے طریقے کا الگ الگ اعلان کیا جائے گا۔”

پورے میدان میں ایسا سناٹا چھایا ہوا تھا کہ بختیار کا ایک ایک لفظ مجمع کی آخری قطاروں تک سنائی دے رہا تھا۔

“اور سب کو یہ معلوم ہونا چاہئے” بختیار نے اپنی آواز اور بلند کرتے ہوئے اعلان جاری رکھا “کہ آئندہ بھی جو کوئی خواجہ نصر الدین کو پناہ دے گا اس کا یہی انجام ہو گا۔ ایک بھی جلاد کے ہاتھوں نہیں بچے گا۔ بہرحال اگر کوئی بھی مجرم اس ناپاک بد معاش کا پتہ بتا دے گا تو وہ نہ صرف اپنی جان کی امان پائے گا بلکہ وہ امیر کے انعام و آ کرام اور دعاؤں کے ساتھ دوسرے مجرموں کی جان بخشی کا باعث بھی ہو گا۔ کمہار نیاز کیا تو خواجہ نصر الدین کا پتہ بتا کر خود اپنے کو اور دوسروں کو نجات دلوائے گا؟

نیاز بڑی دیر تک سرجھکائے خاموش کھڑا رہا۔ جب بختیار نے اپنا سوال دہرایا تو نیاز نے جواب دیا “نہیں ، میں نہیں بتا سکتا کہ وہ کہاں ہیں ۔”

جلادوں نے بڈھّے کو تختے کی طرف گھسیٹا۔ کوئی مجمع سے چیخا۔ بڈھا نیاز جھک گیا، اپنی گردن بڑھا کر اپنا سفید بالوں والا سر تختے پر رکھ دیا۔

اس لمحے خواجہ نصر الدین درباریوں کو ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے آگے بڑھے اور امیر کے سامنے آئے۔

“ولی نعمت!” انہوں نے زور سے کہا تاکہ پورا مجمع سن سکے۔ “حکم دیجئے کہ سزا روک دی جائے۔ خواجہ نصر الدین کو یہاں اور ابھی گرفتار کیا جا سکتا ہے۔”

امیر نے ان کی طرف حیرت سے دیکھا۔ مجمع میں ہلچل ہوئی۔ امیر کے اشارے پر جلاد نے تیشہ اپنے قدموں تک نیچا کر لیا۔

“شہنشاہ اعظم!” خواجہ نصر الدین نے بلند آواز میں کہا۔ “کیا یہ انصاف ہو گا کہ ان حقیر پناہ دینے والوں کو سولی دی جائے اور بڑا پناہ دینے والا کوئی سزا نہ پائے، وہ جس کے گھر میں خواجہ نصر الدین اس زمانے میں رہتے تھے اور اب بھی ہیں ، جو ان کو کھانا دیتا ہے، ان کو انعام دیتا ہے اور ہر طرح ان کی خاطر مدارات کرتا ہے؟”

“تم ٹھیک کہتے ہو” امیر نے شان سے کہا “اگر ایسا پناہ دینے والا ہے تو انصاف کے مطابق اس کا سر سب سے پہلے قلم ہونا چاہئے۔ لیکن ہمیں بتاؤ تو وہ کون ہے، مولانا حسین؟”

سارے مجمع میں چاؤں چاؤں ہونے لگی۔ آگے جو لوگ تھے وہ پیچھے کے لوگوں کو بتانے لگے کہ امیر نے کیا کہا۔

“لیکن اگر امیر اعظم اس بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہ دینا چاہیں ، اگر امیر اس کو زندہ رکھنا چاہیں تو کیا ایسی صورت میں ان حقیر پناہ دینے والوں کو سولی دینا انصاف ہو گا؟” خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔

امیر نے اور زیادہ پریشان ہو کر جواب دیا ” اگر ہم بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہ دینا چاہیں تو واقعی ہمیں دوسروں کو آزاد کر دینا چاہئے۔ لیکن ہماری سمجھ میں یہ نہیں آتا مولانا حسین کہ ہمیں کونسا سبب بڑے پناہ دینے والے کو سولی دینے سے باز رکھ سکتا ہے۔ ہم کو اس کا نام بتاؤ اور ہم فوراً اس کا سر گردن سے اڑا دیں گے۔”

خواجہ نصر الدین مجمع کی طرف مڑے اور انہوں نے کہا:

“آپ نے امیر کے الفاظ سنے؟ بخارا کے حکمران نے فرمایا کہ اگر وہ بڑے پناہ دینے والے کو سولی نہیں دیتے جس کا نام میں ابھی ابھی بتاؤں گا تو ان تمام حقیر پناہ دینے والوں کو جو سولی پر کھڑے ہیں رہا کر دیا جائے گا اور وہ اپنے اپنے گھر والوں سے ملیں گے۔ میں نے سچ عرض کیا ہے نا، عالی جاہ؟”

“تم نے سچ کہا ہے، مولانا حسین” امیر نے تصدیق کی۔ “ہم قول دیتے ہیں اس لئے یہی ہو گا۔ لیکن جلدی کرو اور بڑے پناہ دینے والے کو بتاؤ۔”

“آپ سن رہے ہیں نا؟” خواجہ نصر الدین نے مجمع سے پوچھا۔ “امیر نے قول دیا ہے۔”

انہوں نے گہری سانس لی۔ انہوں نے دیکھا کہ ہزاروں نگاہیں ان کی طرف لگی ہیں ۔

“بڑا پناہ دینے والا۔۔۔” وہ رک گئے اور اپنے چاروں طرف دیکھا۔ بہت سے لوگوں نے ان کے چہرے پر سخت پریشانی اور کوفت کے آثار دیکھے۔ وہ پیاری دنیا، لوگوں اور اپنے پیارے سورج سے رخصت ہو رہے تھے۔

“جلدی کرو!” امیر بے چینی سے چلایا۔ “جلدی بتاؤ، مولانا!”

خواجہ نصر الدین نے پر عزم گونجتی ہوئی آواز میں کہا:

“بڑے پناہ دینے والے۔۔۔ آپ ہیں ، اے امیر!”

اور یہ کہہ کر انہوں نے اپنا عمامہ اتار کر پھینک دیا اور اپنی مصنوعی داڑھی نوچ ڈالی۔

سارا مجمع ہکا بکا رہ گیا، اس میں ایک لہر سی پیدا ہوئی اور پھر مکمل سناٹا چھا گیا۔ امیر کی آنکھیں نکل پڑیں ، اس کے ہونٹوں میں حرکت ہوئی لیکن کوئی آواز نہیں نکلی۔ درباری اس طرح کھڑے تھے جیسے پتھرا گئے ہوں ۔

لیکن یہ خاموشی مختصر تھی۔

“خواجہ نصر الدین! خواجہ نصر الدین!” مجمع میں غلغلہ مچ گیا۔

“خواجہ نصر الدین!”درباریوں نے سرگوشی میں کہا۔

“خواجہ نصر الدین!”ارسلان بیک حیرت سے بولا۔

آخرکار امیر کے حواس اتنے بجا ہوئے کہ وہ بھی دھیمی آواز میں بڑبڑا سکا:

“خواجہ نصر الدین!”

“ہاں ، بذات خود۔ اچھا تو عالی جاہ حکم دیجئے ان کو کہ یہ آپ کا بڑے پناہ دینے والے کی حیثیت سے سرقلم کر دیں ! میں آپ کے محل میں رہتا تھا۔ میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا اور آپ سے انعامات حاصل کئے۔ میں آپ کا تمام امور میں خاص اور قریبی مشیر رہا۔ امیر، آپ پناہ دینے والے ہیں ۔ حکم دیجئے کہ وہ آپ کا سر قلم کر دیں !”

خواجہ نصر الدین پکڑ لئے گئے۔ ان کے ہاتھ باندھ دئے گئے لیکن انہوں نے چھڑانے کی کوشش نہیں کی۔ انہوں نے زور سے کہا “امیر نے وعدہ کیا تھا کہ وہ مجرموں کو رہا کر دیں گے! آپ سب نے امیر کو قول دیتے سنا تھا!”

مجمع میں غل غپاڑہ ہونے لگا اور وہ آگے بڑھنے لگا۔ پہرے داروں کا تہرا حلقہ ان کو روکنے کے لئے پورا زور لگا رہا تھا۔ لوگ زیادہ زور زور سے چیخ رہے تھے:

“معتوبوں کو رہا کرو!”

“امیر نے قول دیا تھا!”

“رہا کرو!”

شور و غل بڑھ رہا تھا۔ پہرے داروں کا حلقہ ٹوٹنے لگا۔

بختیار نے جھک کر امیر سے کہا:

“آقائے نامدار، ان لوگوں کو آزاد کر دینا چاہئے ورنہ عام بغاوت ہو جائے گی۔”

امیر نے سر ہلا دیا۔

” امیر اپنے قول پر قائم ہیں !” بختیار نے چلا کر کہا۔

پہرے داروں نے راستہ دے دیا اور معتوب لوگ فوراً مجمع میں غائب ہو گئے۔

خواجہ نصر الدین کو محل لے جایا گیا۔ بہت سے لوگ مجمع میں ان کے پیچھے روتے چلاتے رہے:

“خدا حافظ خواجہ نصر الدین! الوداع، پیارے، شریف دل خواجہ نصر الدین! آپ ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے!”

خواجہ اپنا سر اونچا کئے ہوئے چل رہے تھے۔ ان کے چہرے سے نڈرپن کا اظہار ہوتا تھا۔ پھاٹک پر وہ مڑے، رخصت ہوتے ہوئے ہاتھ ہلایا۔ مجمع نے ایک زور کا نعرہ لگایا۔

امیر جلدی جلدی اپنی پالکی میں بیٹھ گیا اور شابی جلوس واپس ہو گیا۔

(۳۴)

خواجہ نصر الدین کا فیصلہ کرنے کے لئے مخصوص دیوان طلب کیا گیا۔

جب وہ سخت پہرے میں ہتکڑیاں پہنے ہوئے داخل ہوئے تو سارے درباریوں نے آنکھیں جھکا لیں ۔ ان کو ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہوئے شرم آتی تھی۔ دانا بھی تیوریاں چڑھائے اپنی داڑھیاں سہلا رہے تھے۔ امیر نے بھی منہ موڑ کر گہری سانس لی اور اپنا گلا صاف کرنے لگا۔

لیکن خواجہ نصر الدین بڑی جرأت کے ساتھ نگاہ ملا کر سب کو دیکھ رہے تھے۔ اگر ان کے ہاتھ پیچھے نہ بندھے ہوتے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ ملزم وہ ہیں بلکہ یہ سب لوگ جو مجرم نظر آتے تھے جو ان کے سامنے بیٹھے تھے۔

بغداد کا دانا اصل مولانا حسین جو آخرکار اپنی قید سے نجات پاچکا تھا اس مجلس میں دوسرے درباریوں کے ساتھ حاضر تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس کی طرف دوستانہ انداز میں آنکھ ماری جس پر بغداد کا دانا اپنی جگہ پر کسمسایا اور غصے میں گہری سانس لی۔

فیصلہ ہونے میں دیر نہیں لگی۔ خواجہ نصر الدین کو سزائے موت دی گئی۔ صرف یہ طے کرنا باقی رہ گیا کہ ان کو کس طرح موت کے گھاٹ اتار ا جائے۔

“شہنشاہ اعظم” ارسلان بیک نے کہا “میرے خیال میں مجرم کو نوکیلے ستون پر بٹھا کر مارنا چاہئے تاکہ اس کی زندگی کا خاتمہ سخت کرب کی حالت میں ہو۔”

خواجہ نصر الدین نے اپنا رویاں بھی نہیں ہلایا۔ وہ خوش خوش مسکرا رہے تھے۔ انہوں نے اپنا چہرہ ایک سورج کی کرن کی طرف کر لیا جو اوپر کی کھلی ہوئی کھڑکی سے ہال میں آ رہی تھی۔

“نہیں “امیر نے قطعی طور پر کہا “ترکی کے سلطان اس کافر کو نوکیلے ستون پر بٹھا کر ختم کرنے کی کوشش کر چکے ہیں ۔ غالباً وہ اس طرح کی موت سے بچنے کی صورت جانتا ہے، نہیں تو بھلا یہ سلطان کے ہاتھ سے زندہ جان کیسے نکل سکتا تھا!”

بختیار نے مشورہ دیا کہ اس کا سر قلم کر دیا جائے۔

“یہ سچ ہے کہ بہت ہی آسان موت ہو گی” اس نے کہا “لیکن یہ سب سے یقینی بھی ہے۔”

“نہیں ” امیر نے کہا “خلیفہ بغداد نے اس کا سر قلم کروا دیا لیکن وہ ابھی تک زندہ ہے۔”

یکے بعد دیگرے درباری اٹھ اٹھ کر اپنی تجویزیں پیش کرنے لگے۔ کوئی کہتا کہ ان کو پھانسی پر لٹکا دیا جائے تو کوئی یہ مشورہ دیتا کہ ان کی کھال کھنچوائی جائے۔ اس نے خواجہ نے چہرے پر خوف کی کوئی نشانی نہ دیکھ کر یہ سمجھا کہ ان طریقوں کے ناکافی ہونے کا یہی ثبوت ہے۔

درباری لاچار ہو کر خاموش ہو گئے۔ امیر کے چہرے پر بے صبری اور غصے کے آثار نظر آنے لگے۔

بغداد کا دانا اٹھا۔ چونکہ وہ پہلی مرتبہ امیر کے سامنے زبان کھولنے جا رہا تھا اس لئے اس نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے مشورہ کو تول لیا تھا تاکہ اپنے عقل و دانش کی برتری کا مظاہرہ کر سکے۔

“جہاں پناہ! اگر یہ مجرم ابھی تک تمام سزاؤں سے صحیح سلامت بچ نکلتا ہے تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ اس کو ارواح خبیثہ سے، تاریکی کی ایسی بد روحوں سے مدد ملتی ہے جن کا نام امیر کی موجودگی میں لینا گستاخی ہو گی؟”

یہ کہہ کر دانا نے اپنے شانوں کے پر دعا پڑھ کر پھونکی جس کی پیروسی خواجہ نصر الدین کے سوا سب نے کی۔

“مجرم کے بارے میں تمام معلومات پر غور و خوض کرنے اور تولنے کے بعد” دانا نے اپنی بات جاری رکھی “ہمارے امیر نے اس کو موت کی سزا دینے کے تمام طریقوں کو اس خوف سے مسترد کر دیا ہے کہ ارواح خبیثہ پھر مجرم کی مدد کریں گی اور وہ منصفانہ سزا سے بچ جائے گا۔ لیکن سزائے موت کا ایک اور طریقہ بھی ہے جو مبینہ ملزم پر نہیں آزمایا گیا اور وہ ہے۔ ڈبو دینا!”

بغداد کے دانا نے فخر سے سر اٹھا کر سارے مجمع کو دیکھا۔

خواجہ نصر الدین ہلکے سے چونک پڑے اور امیر نے اس حرکت کو دیکھ لیا ” اچھا! تو یہ تھا اس کا راز”

اس دوران خواجہ نصر الدین سوچ رہے تھے:

“یہ بری اچھی علامت ہے کہ ان لوگوں نے ارواح خبیثہ کا ذکر چھیڑ دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ابھی امید نے بالکل سانس نہیں توڑ دی ہے۔”

“میں نے جو کچھ سنا اور پڑھا ہے اس سے مجھے علم ہے” دانا نے اپنی بات جاری رکھی “کہ بخارا میں ایک مقدس تالاب ہے جس کو شیخ احمد کا تالاب کہتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ارواح خبیثہ اس تالاب کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتیں ۔ اس لئے جہاں پناہ، اس کا یہ مطلب ہوا کہ مجرم کو کافی دیر تک اس مقدس پانی میں ڈبوئے رکھا جائے۔ اس کے بعد وہ مر جائے گا۔”

“یہ مشورہ انعام کے قابل ہے!” امیر نے کہا۔

خواجہ نصر الدین نے مولانا حسین سے مخاطب ہو کر ملامت آمیز لہجے میں کہا:

“مولانا حسین! جب تم میرے بس میں تھے تو کیا میں نے تمھارے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا تھا؟ اس کے بعد انسان کیسے کسی کے احسان کا اعتبار کر سکتا ہے!”

یہ طے کیا گیا کہ خواجہ نصر الدین کو غروب آفتاب کے بعد شیخ احمد کے مقدس تالاب میں سر عام ڈبو دیا جائے گا۔ اس خیال سے کہ وہ راستے میں بھاگ نہ سکیں ان کو ایک چمڑے کے تھیلے میں تالاب تک لے جایا جائے گا اور اسی میں ان کو دبو دیا جائے گا۔

۔۔۔سارے دن بڑھئیوں کے بسولے تالاب کے کنارے گونجتے رہے جہاں ایک پلیٹ فارم بنایا جا رہا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ امیر کو وہاں پلیٹ فارم کی کیوں ضرورت ہے لیکن ان کے لئے چارہ ہی کیا تھا جب ہر بڑھئی کے سر پر ایک پہرے دار سوار تھا؟ وہ خاموشی سے کام کر رہے تھے۔ ان کے چہرے افسردہ اور ملول تھے۔ جب کام ختم ہو گیا تو ان کو جو معمولی اجرت دی جا رہی تھی وہ اس سے انکار کر کے سرجھکائے وہاں سے چلے گئے۔

پلیٹ فارم اور تالاب کا وہ کنارہ جس پر پلیٹ فارم تھا قالینوں سے ڈھک دئے گئے۔ سامنے کا کنارہ عام لوگوں کے لئے چھوڑ دیا گیا۔

جاسوسوں نے مخبری کی کہ سارے شہر میں بڑا ہنگامہ ہے۔احتیاط کے لئے ارسلان بیک نے تالاب کے چاروں طرف بے شمار سپاھی تعینات کر دئے اور توپیں لگا دیں ۔ اس ڈر سے کہ مبادا لوگ خواجہ نصر الدین کو راستے میں نہ چھڑا لیں ارسلان بیک نے چار بورے چیتھڑوں سے بھر وا لئے۔ اس کا ارادہ یہ تھا کہ وہ ان چاروں بوروں کو عام سڑکوں سے علانیہ تالاب تک بھیجے گا اور جس بورے میں خواجہ نصر الدین ہوں گے اس کو ویران گلیوں سے لایا جائے گا۔ اس نے اپنے پر فن منصوبے میں یہ اضافہ کیا کہ نقلی بوروں پر تو آٹھ آٹھ پہرے دار رکھے اور اصلی کے ساتھ صرف تین۔

“میں تمھیں تالاب سے ہرکارہ بھیجوں گا” ارسلان بیک نے پہرے داروں سے کہا “اور تم نقلی بورے فوراً یکے بعد دیگرے روانہ کر دینا اور پانچواں جس میں مجرم ہو گا ذرا بعد میں اس طرح بھیجنا کہ لوگوں کی توجہ اس طرف نہ جائے، اس وقت جبکہ پھاٹک کا مجمع نقلی بوروں کے پیچھے ہولے، سمجھے نا؟ یاد رکھو کہ یہ تمھارے سر دھڑ کا سوال ہے۔”

شام کو نقاروں کی گونج نے بازار ختم ہونے کا اعلان کیا۔ ہر طرف سے لوگوں کا سیلاب امنڈ کر تالاب کی طرف چلا۔جلد ہی امیر بھی اپنے ماہی مراتب کے ساتھ پہنچ گیا۔ پلیٹ فارم پر اور اس کے چاروں طرف مشعلیں جلا دی گئیں ۔ ان کی لوئیں ہوا میں پھن پہنا اور لہرا رہی تھیں اور پانی پر خونیں شعاعیں ڈال رہی تھیں ۔سامنے والا کنارہ تاریکی میں غلطاں تھا۔ پلیٹ فارم سے مجمع تو نہیں دکھائی دیتا تھا لیکن اس کے چلنے پھرنے کی ہلچل تو سنائی دے رہی تھی جو رات کی ہوا کے جھونکوں میں غیر واضح اور بےچین آوازوں کا اضافہ کر رہی تھی۔

بختیار نے پاٹ دار آواز میں خواجہ نصر الدین کی سزائے موت کے لئے امیر کا فرمان پڑھا۔ اس لمحے ہوا بھی ساکن ہو گئی اور ایسی مکمل خاموشی چھا گئی کہ تقدس مآب امیر کا دل بھی کانپ اٹھا۔ پھر ہوا نے آہ بھری اور اس کے ساتھ ہزاروں سینوں سے بھی آہ نکلی۔

“ارسلان بیک” امیر نے گھبرا کر کہا “دیر کیوں ہو رہی ہے؟”

“عالی جاہ! میں نے ہرکارہ روانہ کر دیا ہے۔”

اچانک اندھیرے سے غل غپاڑے اور ہتھیاروں کی جھنکار کی آواز آئی۔ کہیں لڑائی چھڑ گئی تھی۔ امیر اچھل پڑا اور چاروں طرف دیکھنے لگا۔ ایک منٹ بعد پلیٹ فارم کے سامنے روشنی کے حلقے میں آٹھ پہرے دار خالی ہاتھ آئے۔

“مجرم کہاں ہے؟” امیر گرجا۔ “انہوں نے پہرے داروں سے چھین لیا! وہ بھاگ نکلا! یہ سب تیری وجہ سے ہوا، ارسلان بیک!”

“عالی جاہ!” ارسلان بیک نے جواب دیا۔ “آپ کا ناچیز غلام یہ سب پہلے سے جانتا تھا۔ بورا تو پرانے چیتھڑوں سے بھرا تھا۔”

سامنے والے کنارے سے پھر لڑائی کی آواز آ رہی تھی۔ ارسلان بیک نے جلدی جلدی امیر کو اطمینان دلایا:

“آقائے نامدار! ان کو بورا لے جانے دیجئے۔ یہ بھی پرانے چیتھڑوں سے بھرا تھا۔”

پہلا بورا تو پہرے داروں سے چائے خانے کے مالک علی اور اس کے دوستوں نے چھینا تھا اور دوسرا یوسف کی قیادت میں آہن گروں نے۔ پھر کمہاروں نے تیسرا بورا چھینا۔ لیکن اس میں صرف چیتھڑے بھرے تھے۔ چوتھے بورے کو پہرے دار بلا روک ٹوک لے گئے۔ پہرے داروں نے اس کو مشعلوں سے روشن پانی پر سارے مجمع کے سامنے الٹ دیا۔ وہ چیتھڑوں سے بھرا تھا۔

پریشان اور متحیر مجمع خاموش کھڑا تھا۔ یہ تھا ارسلان بیک کا منصوبہ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ تذبذب کا نتیجہ لاچاری ہوتا ہے۔

اب پانچویں بورے سے نبٹنے کا وقت آگیا تھا۔ اس دوران میں ان پہرے داروں کو جو اسے لا رہے تھے راستے میں دیر ہو گئی تھی اور وہ ابھی تک نہیں آئے تھے۔

(۳۵)

جب پہرے داروں نے خواجہ نصر الدین کو کال کوٹھری سے نکالا تو انہوں نے کہا:

“و تم مجھ کو یہاں سے اپنی پیٹھ پر لے جاؤ گے؟ افسوس کہ میرا گدھا یہاں نہیں ہے ورنہ وہ تو ہنستے ہنستے دم توڑ دیتا۔”

“بند کرو اپنی زبان! تو خود جلدی روئے گا!” پہرے داروں نے ڈانٹ بتائی۔ وہ اس کو معاف نہیں کر سکتے تھے کہ خواجہ نے خود کو اپنے آپ امیر کے حوالے کر کے ان کو انعام سے محروم کر دیا تھا۔

انہوں نے تنگ بورے کو پھیلا کر اس میں خواجہ نصر الدین کو ٹھونسنا شروع کر دیا۔

“ارے شیطان کے بچو!” خواجہ نصر الدین جو تہرے ہو چکے تھے چلائے “تم کو اس سے بڑا بورا نہیں ملا؟”

“چپ رہ!” پہرے داروں نے ہانپتے اور پسینہ پونچھتے ہوئے جواب دیا۔ “زیادہ دیر نہ لگے گی۔ دیکھ حرامزادے، زیادہ پھیلنے کی کوشش نہ کر، نہیں تو ہم تیرے گھٹنے تیرے پیٹ میں اتار دیں گے!”

اب ہاتھا پائی شروع ہو گئی جس کی وجہ سے محل کے سارے ملازم جمع ہو گئے اور بری کشمش کے بعد پہرے دار خواجہ نصر الدین کو بورے میں ٹھونس کر اس کو رسی سے باندھ سکے۔ بورے میں بڑی امس، تاریکی اور بدبو تھی۔ خواجہ نصر الدین کے دل پر ایک سیاہ غبار چھا گیا۔

فرار کا کوئی راستہ نہیں دکھائی دیتا تھا۔ انہوں نے قسمت اور ہمہ گیر طاقت رکھنے والے موقع سے اپیل کی۔

“اے قسمت جس نے ماں کی طرح مجھے پالا ہے اور اے ہمہ گیر طاقت رکھنے والے موقع جس نے ابھی تک مجھے باپ کی طرح بچایا ہے تم کہاں ہو؟ تم خواجہ نصر الدین کی مدد کو جلدی سے کیوں نہیں آتے؟ اے قسمت! اے ہمہ گیر طاقت رکھنے والے موقع!”

اس دوران میں پہرے دار تالاب کا آدھا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ وہ باری باری بورے کو لے جا رہے تھے۔ دوسو قدم کے بعد بدلی کر لیتے تھے۔ خواجہ نصر الدین رنج و غم کے مختصر وقفوں کو گن رہے تھے اور پتہ چلا رہے تھے کہ کتنا فاصلہ ہو چکا ہے اور کتنا باقی ہے۔

وہ جانتے تھے کہ قسمت اور موقع اس کا کبھی ساتھ نہیں دیتے جو عمل کرنے کی بجائے صرف رونا پیٹا اور فریاد کرتا رہتا ہے۔ وہی آدمی منزل تک پہنچتا ہے جو آگے بڑھتا رہتا ہے۔ اگر اس کے پیر کمزور ہوں اور کام نہ دیں تو اسے چاروں ہاتھوں پیروں پر آگے بڑھتے رہنا چاہئے۔ تو پھر ضرور اس کو رات میں دور شعلہ ور الاؤ اور صحیح راستے پر چلنے والا کارواں نظر آئے گا اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے اس کو فاضل اونٹ بھی مل جائے گا۔ جبکہ وہ آدمی جو سڑک کے کنارے بیٹھ کر یاس سے ہار مان لے گا، اس کے لئے سنگ دل پتھروں میں کوئی ہمدردی نہ پیدا ہو گی وہ چاہے جتنا روئے اور فریاد کرے۔ وہ ریگستان میں پیاسا مر جائے گا، اس کی لاش بدبو دار لکڑ بگھوں کی خوراک بن جائے گی اور اس کی ہڈیاں تپتی ہوئی ریت میں دفن ہو جائیں گی۔ کتنے ہی آدمی وقت آنے سے پہلے مر گئے کیونکہ ان میں زندہ رہنے کا عزم مضبوط نہ تھا! خواجہ نصر الدین کسی حقیقی انسان کے لئے ایسی موت باعث شرم سمجھتے تھے۔

“نہیں ” وہ دانت بھینچ کر اپنے آپ سے بار بار کہہ رہے تھے “نہیں ، آج مجھے نہیں مرنا چاہئے! میں مرنا نہیں چاہتا!ؔ”

لیکن وہ کر کیا سکتے تھے۔ وہ تہرے گڑمڑائے اور بورے میں اس طرح ٹھنسے ہوئے تھے کہ ہلنا بھی ناممکن تھا۔ ان کے گھٹنے اور کہنیاں جسم سے چپکی ہوئی تھیں ۔ صرف ان کی زبان آزاد تھی۔

“ارے سورماؤ!” انہوں نے اپنے بورے کے اندر سے کہا۔ “ذرا رکو، میں مرنے سے پہلے دعا کرنا چاہتا ہوں تاکہ اللہ مجھ کو جوار رحمت میں جگہ دے۔”

پہرے داروں نے بورا زمین پر رکھ دیا۔

“اچھا چل دعا کر۔ لیکن ہم تجھ کو بورے سے باہر نہیں نکالیں گے۔ بورے کے اندر ہی دعا کر۔

“ہم کہاں ہیں ؟” خواجہ نصر الدین نے پوچھا۔ “مجھے جاننا چاہئے کیونکہ تمھیں میرا منہ قریب ترین مسجد کی طرف کرنا پڑے گا۔”

“ہم قرشی دروازے کے قریب ہیں ۔ یہاں تو چاروں طرف مسجدیں ہی مسجدیں ہیں ۔ جلدی سے دعا کر۔ ہم زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتے۔”

“شکریہ، پاکباز سورماؤ” خواجہ نصر الدین نے غمگین لہجے میں جواب دیا۔

ان کو کیا توقع تھی؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے۔ انہوں نے سوچا “میں چند منت کی مہلت حاصل کر لوں اور پھر دیکھا جائے گا۔ شاید کچھ ہو ہی جائے۔۔۔”

انہوں نے زور زور سے دعا شروع کی لیکن ساتھ ہی پہرے داروں کی باتیں بھی سنتے گئے۔

“ہم کیسے یہ نہ سمجھ پائے کہ نیا نجومی خواجہ نصر الدین ہے؟” پہرے دار افسوس کر رہے تھے۔ “اگر ہم اس کو پہچان کر پکڑ لیتے تو امیر سے ہمیں بڑا انعام ملتا۔”

وہ ہمیشہ کی طرح سوچ رہے تھے۔

دعا جلدی ختم کر” ایک پہرے دار نے بورے پر لات رسید کرتے ہوئے کہا۔ “سنتا ہے نا؟ اب زیادہ دیر نہیں انتظار کر سکتے۔”

“بس ایک منٹ اور، بہادر سورماؤ! مجھے اللہ سے بس ایک اور التجا کرنا ہے۔ اے پروردگار، رحیم و کریم! میری یہ دعا قبول کر لے کہ جو آدمی میرے دفن کئے ہوئے دس ہزار تانگے پائے وہ ان میں سے ایک ہزار مسجد لے جا کر ملا کو دے اور اس سے کہے کہ وہ میرے لئے پورے سال دعا کرے۔”

دس ہزار تانگوں کا نام سنتے ہی پہرے دار خاموش ہو گئے۔ حالانکہ خواجہ نصر الدین بورے سے دیکھ نہیں سکتے تھے لیکن وہ ٹھیک ٹھیک بتا سکتے تھے کہ ان کے چہروں کا کیا رنگ تھا، وہ کس طرح ایک دوسرے کی طرف دیکھ دیکھ کر کہنیاں مار رہے تھے۔

“اب مجھے اٹھاؤ” خواجہ نصر الدین نے بڑے عجز سے کہا “میں اپنی روح خدا کے حوالے کرتا ہوں ۔”

پہرے دار تذبذب میں پڑ گئے۔

“ہم ذرا دیر اور آرام کر لیں ” ایک پہرے دار نے چالاکی سے کہا۔ “ارے، خواجہ نصر الدین یہ نہ سمجہنا کہ ہم سنگ دل اور برے لوگ ہیں ۔ فرض سے مجبور ہیں ۔ اس لئے تمھارے ساتھ سختی سے پیش آتے ہیں ۔ اگر ہم امیر کی تنخواہ کے بغیر اپنے گھروں میں رہ سکتے تو ہمیں تم کو چھوڑ دینے میں کوئی تامل نہ ہوتا۔۔۔”

“ارے، کیا کہہ رہے ہو؟” دوسرے پہرے دار نے پریشان ہو کر چپکے سے کہا۔”اگر ہم اس کو چھوڑ دیں تو امیر ہمارے سر قلم کروا لیں گے۔”

“چپ رہو” پہلے پہرے دار نے اس کو سرگوشی میں ڈانٹا۔ “ہم تو اس کی رقم ہتھیانا چاہتے ہیں ۔”

خواجہ نصر الدین ان کی کھسر پھسر تو نہیں سن سکے لیکن یہ تو سمجھ ہی گئے کہ کس کے بارے میں یہ سب ہو رہا ہے۔ “مجھے تم سے کوئی شکایت نہیں ہے، سورماؤ” خواجہ نصر الدین نے ریاکاری سے آہ بھر کر کہا۔ “میں کسی کو کیا برا سمجھوں گا، میں خود بڑا گنہ گار ہوں ۔ اگر اللہ نے عقبی میں میرے گناہ معاف کر دئے تو میں اس کے تخت کے نیچے تم لوگوں کی بخشائش کی دعائیں کروں گا۔ تم کہتے ہو کہ اگر امیر کی تنخواہ کا سوال نہ ہوتا تو تم مجھے بورے سے نکال دیتے۔ سوچو تو کیا کہہ رہے ہو! تم امیر کے حکم کی خلاف ورزی کرو گے جو بڑا گناہ ہے! نہیں ، میں یہ نہیں چاہتا کہ تم میری وجہ سے اپنی روح کو گناہوں سے آلودہ کرو۔ بورا اٹھاؤ اور مجھے تالاب تک لے جاؤ۔ امیر اور اللہ کی مرضی پوری ہونے دو!”

پہرے داروں نے گھبرا کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ وہ دل ہی دل میں خواجہ نصر الدین کو اس اچانک اور نا وقت توبہ کے لئے کوس رہے تھے۔

اب تیسراپہرے دار جو ابھی تک خاموش تھا اور کوئی اچھی ترکیب سوچ رہا تھا آخر کار بولا:

“موت کے وقت کسی آدمی کو اپنے گناہوں اور غلطیوں پر توبہ کرتے دیکھ کر بڑی تکلیف ہوتی ہے” یہ کہہ کر اس نے اپنے ساتھیوں کی طرف آنکھ ماری۔ “لیکن میں اس طرح کا آدمی نہیں ہوں ۔ میں نے مدتوں ہوئے توبہ کر لی ہے اور جب سے پاکیزہ زندگی گزار رہا ہوں ۔ ایسی توبہ جس کے ساتھ کوئی عمل نہ ہو اللہ کو خوش نہیں کر سکتی” اس نے اپنی بات جاری رکھی جبکہدوسرے دو پہرے دار اپنے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے اپنی ہنسی روک رہے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ پہرے دار بڑا جواری اور عیاش ہے۔ “اسی لئے میں اپنی توبہ کو اچھے اور پاک کاموں سے مضبوط کرتا رہتا ہوں ۔ میں اپنے گاؤں میں ایک بڑی مسجد بنوا رہا ہوں جس کے لئے میں اور میرا خاندان بھوکا تک رہتا ہے۔”

اب ایک پہرے دار سے ضبط نہ ہو سکا اور ہنستی سے بے اختیار ہو کر وہ تھوڑی دور چلا گیا۔

“میں ایک ایک پیسہ بچاتا ہوں ” پہرے دار نے اپنی بات جاری رکھی “پھر بھی مسجد کی تعمیر اتنی سست رفتاری سے ہو رہی ہے کہ میرے دل کو صدمہ پہنچتا ہے۔ چند ہی دن ہوئے میں نے اپنی گائے بیچ دی ہے اور ممکن ہے کہ مجھے اپنا آخری جوڑ جوتا بیچنا پڑے۔ میں ننگے پیر رہنے کے لئے تیار ہوں اگر میں اس کام کی تکمیل کر سکوں جو میں نے شروع کیا ہے۔”

خواجہ نصر الدین نے بورے کے اندر سے سسکی بھری۔ پہرے داروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان کو کامیابی ہو رہی تھی۔ انہوں نے اپنے چالاک ساتھی کو کہنی ماری کہ جلدی کرے۔

“کاش کہ مجھے کوئی ایسا مل جاتا جو اس مسجد کی تکمیل کے لئے آٹھ دس ہزار تانگے دے دیتا!” اس نے کہا۔ “میں اس سے قسم کھا کر یہ وعدہ کرتا کہ پانچ سال یا دس سال تک بھی اس کا نام خوشبویات کے مرغولوں میں لپٹا مسجد کی محرابوں سے نکلتا اور تخت خداوندی کی طرف بلند ہوتا!”
دوسراپہرے دار بولا:

“ارے میرے پاکباز ساتھی! میرے پاس دس ہزار تانگے تو نہیں ہیں لیکن کیا تم میری ساری پونجی قبول کرو گے جو پانچ سو تانگے ہے۔ یہ میری حقیر پیش کش مسترد نہ کرو کیونکہ میں بھی اس پاک کام میں حصہ لینا چاہتا ہوں ۔”

“اور میں بھی” تیسرے نے اپنی ہنسی کو دبا کر، ہکلاتے ہوئے اور کانپتے ہوئے کہا” میرے پاس تین سو تانگے ہیں ۔۔۔”

“اے پاکباز انسان، اے مومن!” خواجہ نصر الدین رونی آواز میں چلائے ۔” کاش کہ میں تمہاری قبا کا دامن چوم سکتا! میں بڑا گنہ گار ہوں لیکن میرے ساتھ عنایت کرو اور میرا تحفہ مسترد نہ کرو۔ میرے پاس دس ہزار تانگے ہیں ۔ جب میں دھوکہ دے کر امیر کی خدمت میں مقبول ہو گا تو انہوں نے اکثر مجھے اشرفیوں اور چاندی کے سکوں کی تھیلیاں عطا کیں ۔ میں نے دس ہزار تانگے بچا کر ان کو چھپا دیا۔ ارادہ یہ تھا کہ بھاگے وقت ان کو نکال لوں گا۔ چونکہ میں قرشی دروازے سے بھاگنا چاہتا تھا اس لئے میں نے قرشی قبرستان میں ایک پرانی لوح مزار کے نیچے ان کو دفن کر دیا تھا۔”

“قرشی قبرستان میں !” سب پہرے دار چلائے۔ “تب تو یہ رقم کہیں قریب ہی ہے۔”

“ہاں ، اب ہم قبرستان کے شمالی سرے پر ہیں اور اگر کوئی۔۔۔”

“ہم مشرقی سرے پر ہیں ۔ تمھاری رقم کہاں ۔۔۔ کہاں دفن ہے؟”

“وہ قبرستان کے مغربی سرے پر دفن ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “لیکن ایمان دار پہرے دارو! پہلے یہ قسم کھاؤ کہ واقعی دس سال تک مسجد میں میرے نام پر روز فاتحہ پڑھا جائے گا۔”

“میں قسم کھاتا ہوں ” وہ پہرے دار چلایا جو بہت بے چین ہو رہا تھا۔ “میں خدا اور اس کے پیغمبر کی قسم کھاتا ہوں ! اب جلدی بتاؤ کہ رقم کہاں گڑی ہے؟”

خواجہ نصر الدین نے تھوڑا سا توقف کیا۔ “اگر انہوں نے مجھ کو پہلے تالاب پر لے جانے اور رقم کل تلاش کرنے کا فیصلہ کیا تو کیا ہو گا؟”

انہوں نے سوچا۔” نہیں ، یہ نہیں ہو گا۔ ان پر تو حرص اور بے صبری کا دیو سوار ہے۔ پھر ان کو ایک دوسرے پر بھی تو اعتبار نہیں ہے۔ اچھا تو کون سی جگہ بتانا چاہئے جہاں وہ امکانی طور پر زیادہ سے زیادہ دیر تک کھودتے رہیں ؟”

پہرے دار بورے پر جھکے کھڑے تھے۔ خواجہ نصر الدین ان کے ہانپنے کی آواز سن رہے تھے جیسے وہ کہیں سے دوڑ کر آ رہے ہوں ۔
“قبرستان کے مغربی سرے پر تین پرانے مقبرے ایک مثلث کی صورت میں ہیں ” خواجہ نصر الدین نے کہا۔ “ان میں سے ہر ایک کے نیچے میں نے تین ہزار تین سو تینتیس اور ایک تہائی تانگہ گاڑے ہیں ۔”

“مثلث میں ” پہرے داروں نے اس طرح ایک ساتھ دہرایا جیسے کسی عالم سے کوئی آیت حفظ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں ۔ “ہر ایک کے نیچے تین ہزار تین سو تینتییس اور ایک تھائی تانگہ۔۔۔”

انہوں نے یہ طے کیا کہ دو تو رقم تلاش کرنے جائیں اور تیسرا پہرے پر رہیگا۔ اس بات پر شاید خواجہ نصر الدین ناامید ہو جاتے اگر ان کو انسانی افعال کی پیش بینی کا تجربہ نہ ہوتا۔ ان کو یقین تھا کہ تیسرا پہرے دار بھی زیادہ دیر تک پہرے پر نہیں رہیگا اور انہوں نے غلطی نہیں کی تھی۔ تنہائی میں پہرے دار نے چین سے آہیں بھرنے، کھانسنے اور ٹہلنے لگا۔ اس کے اسلحہ بج رہے تھے۔ ان آوازوں سے خواجہ نصر الدین اس کے خیالات کا اندازہ لگا رہے تھے۔ پہرے دار اپنے حصے کے تین ہزار تین سو تینتیس اور ایک تھائی تانگوں کے لئے پریشانی میں مبتلا تھا۔ خواجہ نصر الدین صبر سے انتظار کر رہے تھے۔

“ان کو بڑی دیر لگ رہی ہے”۔ پہرے دار نے کہا۔

“شاید وہ رقم کو کسی دوسری جگہ دفن کر رہے ہوں اور کل تم سب مل کر اس کو لے جاؤ گے۔ خواجہ نصر الدین نے کہا۔
یہ الفاظ کام کر گئے۔ پہرے دار کی سانس زور سے چلنے لگی اور پھر اس نے جماہی لینے کی بناوٹ کی۔

“میں مرنے سے پہلے تزکیہ نفس کے لئے کوئی کہانی سننا چاہتا ہوں ” خواجہ نصر الدین اپنے بورے سے بولے۔ “شاید تمھیں کوئی یاد ہو، مہربان پہرے دار؟”

“نہیں !” پہرے دار نے غصے سے کہا۔” میں کوئی ایسی کہانی نہیں جانتا۔ اس کے علاوہ میں تھک گیا ہوں ۔ میں جا کر گھاس پر لیٹتا ہوں ۔”

لیکن اس نے یہ نہیں سوچا کہ سخت اور پتھریلی زمین پر اس کے قدموں کی آواز دور تک گونجتی ہے۔ پہلے تو وہ آہستہ چلا- پھر خواجہ نصر الدین نے اس کے تیز چلنے کی آواز سنی ۔ اب پہرے دار دوڑنے لگا۔

اب عمل کا وقت آگیا تھا۔ لیکن خواجہ نصر الدین ادھر ادھر بے سود لڑھک رہے تھے۔ رسی کسی طرح نہیں ٹوٹ رہی تھی۔
“راہ گیر!” خواجہ نصر الدین نے دعا کی۔ “اے قسمت، کوئی راہ گیر بھیج دے!”

اور قسمت نے ایک راہ گیر بھیج دیا۔

قسمت اور مناسب موقع ہمیشہ اس کی مدد کرتے ہیں جو مکمل عزم رکھتا ہے اور آخر تک ہاتھ پاؤں مارتا ہے (ہم یہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں لیکن دہرانے سے حقائق کی اہمیت نہیں کم ہوتی) ۔ خواجہ نصر الدین پوری طاقت سے اپنی زندگی بچانے کے لئے جدوجہد کر رہے تھے اور قسمت مدد سے انکار نہیں کر سکتی تھی۔

راہ گیر آہستہ آہستہ آ رہا تھا۔ خواجہ نصر الدین نے اس کے قدموں کی آواز سے بھانپ لیا کہ لنگڑا تھا اور معمر بھی کیونکہ وہ ہانپ رہا تھا۔

بورا سڑک کے بیچوں بیچ پڑا تھا۔ راہ گیر رک گیا۔ اس نے بڑی دیر تک بورے کو دیکھا اور اس میں دو تین بار چھڑی گڑوئی۔

“بورے میں کیا ہو سکتاھے؟ یہ کہاں سے آیا؟” چچیاتے ہوئے لہجے میں راہ گیر نے کہا۔

مرحبا! خواجہ نصر الدین نے جعفر سود خور کی آواز پہچان لی۔اب ان کو اپنے بچ نکلنے کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہا۔ بس، پہرے دار ذرا جلدی نہ لوٹیں ۔

وہ اس طرح آہستہ سے کھانسے کہ سود خور گھبرائے نہیں ۔

“اچھا، اس کے اندر آدمی ہے!” جعفر نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔

“ہاں ، واقعی آدمی ہے” خواجہ نصر الدین نے اپنی آواز بدلتے ہوئے سکون سے کہا۔ “یہ کوئی عجیب بات ہے؟”

“عجیب بات؟ تم بورے میں کیوں گھسے؟”

“یہ میرا معاملہ ہے، اپنے راستے جاؤ اور اپنے سوالوں سے مجھے پریشان نہ کرو۔”

خواجہ نصر الدین سمجھ گئے کہ اب سود خور کو اشتیاق پیدا ہو گیا ہے اور وہ جائے گا نہیں ۔

“یہ واقعی غیر معمولی بات ہے” سود خور نے کہا “کہ آدمی بورے میں بند ہو۔ کیا تم کو کسی نے زبردستی اس میں ٹھونسا ہے؟”

“زبردستی؟”خواجہ نصر الدین نے مذاق اڑاتے ہوئے کہا۔ “کیا میں اس بورے میں زبردستی ٹھونسے جانے کے چھ سو تانگے دیتا؟”

“چھ سو تانگے! تم نے یہ رقم کیوں دی؟”

“راہ گیر! میں تم کوسارا قصہ بتا دوں گا بشرطیکہ تم اس کو سننے کے بعد اپنی راہ لگو اور مجھے زیادہ نہ چھیڑو۔ یہ بورا ایک عرب کا ہے جو ہمارے شہر بخارا میں رہتا ہے۔ اسبورے میں تمام بیماریوں اور جسمانی نقائص کو اچھا کرنے کی صفت ہے۔ اس کا مالک صرف بڑی رقم پر اس کو مستعار دیتا ہے اور وہ بھی سب کو نہیں ۔ میں لنگڑا، کبڑا اور کانا تھا۔ میں شادی کرنا چاہتا تھا، میرے ہونے والے سسر نے یہ نہیں چاہا کہ میری دلھن کی نظر ان نقائص پر پڑے اس لئے وہ مجھے اس عرب کے پاس لے گئے جس نے مجھ کو یہ بورا چھ سو تانگے کے عوض میں چار گھنٹے کے لئے کرائے پر دیا ہے۔

“چونکہ یہ بورا صرف قبرستانوں کے قریب ہی اپنی معجز نما مسیحائی دکھاتا ہے اس لئے میں غروب آفتاب کے بعد قرشی کے اس پرانے قبرستانآیا ہوں ۔ میرے سسر نے جو میرے ساتھ آئے تھے رسی سے بورے کو باندھ دیا اور چلے گئے کیونکہ کسی دوسرے کی موجودگی میں علاج ناممکن ہے۔ بورے کے مالک عرب نے مجھے متنبہ کر دیا ہے کہ جیسے ہی میں تنہا ہوں گا تین جن خوب شور مچاتے اور تانبے کے پر کھڑکھڑاتے نمودار ہونگے۔ وہ انسانوں کی آواز میں مجھ سے پوچھیں گے کہ قبرستان کے کس حصے میں دس ہزار تانگے دفن ہیں ۔ اس کے جواب میں مجھے یہ پراسرار منتر پڑہنا چاہئے:’جس کے پاس تانبے کی ڈھال ہوتی ہے اس کا دماغ بھی تانبے کا ہوتا ہے۔ عقاب کی جگہ الو بیٹھا ہے۔ ارے جنو، تم وہ ڈھونڈ رہے ہو جو میں نے چھپایا ہی نہیں تھا۔ اس لئے میرے گدھے کی دم چوم لو!’

“سب کچھ عرب کے کہنے کے مطابق ہوا۔ جنوں نے آ کر مجھ سے پوچھا کہ دس ہزار تانگے کہاں دفن ہیں ۔ میرا جواب سن کر وہ بھڑک اٹھے اور انہوں نے مجھے خوب پیٹا لیکن میں عرب کی ہدایت کو یاد رکھتے ہوئے برابر یہی چلاتا رہا: ‘جس کے پاس تانبے کی ڈھال ہوتی ہے اس کا دماغ ب ہی تانبے کا ہوتا ہے۔ ۔۔۔میرے گدھے کی دم چوم لو!’ پھر جن بورے کو اٹھا کر لے چلے۔۔۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ یاد نہیں ۔ دو گھنٹے بعد جب میں ہوش میں آیا تو میں اسی جگہ پر تھا اور بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔ میرا کوبڑ غائب ہو گیا ہے، میرا پیر سیدھا ہے اور میری آنکھ سے دکھائی دینے لگا ہے۔ اس کا یقین مجھے بورے کے ایک سوراخ سے جھانک کر ہوا جو شاید پہلے کسی نے بورے میں بنایا ہو گا۔ اب میں صرف اس کے اندر اس لئے بیٹھا ہوں کہ اتنی رقم دینے کے بعد اس کو ضائع کیوں کروں ۔ واقعی مجھے سے غلطی ہوئی۔ میں نے کسی اور آدمی سے سمجھوتہ کر لیا ہوتا جس میں بھی یہ نقائص ہوتے۔ تب ہم بورے کے کرائے کی رقم آدھی آدھی بانٹ لیتے۔ ہم دونوں دو دو گھنٹے بورے میں رہتے اور اس طرح ہمیں اپنے علاج کے تین تین سو تانگے فی کس پڑتے۔ لیکن کچھ نہیں ہو سکتا۔ رقم ضائع ہو جانے دو۔ بڑی بات تو یہ ہے کہ میں خدا خدا کر کے اچھا ہو گیا۔

“راہ گیر، اب تمھیں سارا قصہ معلوم ہو گیا ہے۔ اب اپنا قول پورا کرو اور یہاں سے چلے جاؤ۔ میں شفا پانے کے بعد کمزوری محسوس کر رہا ہوں اور میرے لئے بولنا مشکل ہے۔ تم سے پہلے نو آدمی مجھ سے یہی سوالات کر چکے ہیں اور میں بار بار یہ باتیں دوہرانے سے عاجز آ چکا ہوں ۔”

سود خور بڑے غور سے سن رہا تھا۔ وہ خواجہ نصر الدین کے بیان کے درمیان بار بار حیرت کے الفاظ کہہ اٹھتا تھا۔

“بورے میں بیٹھنے والے، سن” سود خور نے کہا “ہم دونوں اپنی ملاقات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ تجھ کو اس بات کا افسوس ہے کہ تو نے بورے کے کرائے میں کسی اپنے ایسے مریض کو حصہ دار کیوں نہ بنایا لیکن ابھی دیر نہیں ہوئی ہے۔ اتفاق سے میں ایک ایسا ہی آدمی ہوں جس کی تجھے ضرورت ہے۔ میں کوبڑا، لنگڑا اور کانا ہوں ۔ میں دو گھنٹے بورے میں رہنے کے لئے خوشی سے تجھ کو تین سو تانگے دے سکتا ہوں ۔”

“تم مجھے چڑھا رہے ہو!” خواجہ نصر الدین نے جواب دیا۔ “ایسا حیرت انگیز اتفاق ناممکن ہے! اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تم کو یہ موقع دیا۔ میں راضی ہوں ، اے راہگیر، لیکن میں تم کو بتائے دیتا ہوں کہ میں نے رقم پیشگی ادا کی ہے اور تمھیں بھی پیشگی ہی دینا ہو گا۔ میں ادھار نہیں رکھتا۔”

“میں پیشگی دوں گا” سود خور نے بورے کو کھولتے ہوئے کہا لیکن وقت ضائع نہ کرنا چاہئے کیونکہ جو منٹ ابھی گزر رہے ہیں وہ میرے ہیں ۔”

خواجہ نصر الدین نے بورے سے باہر نکلتے ہوئے اپنا چہرہ آستین سے چھپا لیا۔ لیکن سودخور نے تو خواجہ پر نگاہ تک نہ ڈالی۔ وہ جلدی جلدی رقم گن رہا تھا۔ اس کو ہر منٹ گزرنے کا قلق تھا۔ وہ بہت مشکل سے کراہ کراہ کر بورے کے اندر گھسا اور اپنا سر بھی اندر کر لیا۔
خواجہ نصر الدین نے رسی باندھ دی اور پھر ذرا دور جا کر ایک درخت کے سائے میں چھپ گئے۔ انہوں نے ابھی یہ کیا ہی تھا کہ قبرستان کی طرف سے پہرے داروں کی آوازیں زور زور سے برا بھلا کہتی ہوئی آنے لگیں ۔ ٹوٹی ہوئی دیوار کے اندر سے پہلے ان کے لمبے سائے دکھائی دئے اور پھر وہ خود نمودار ہوئے۔ ان کی پیتل کی ڈھالیں چاندنی میں چمک رہی تھیں ۔

(۳۶)

“اے دھوکے باز کہیں کے!” پہرے داروں نے بورے پر لاتیں رسید کرتے ہوئے کہا، ان کے ہتھیار اسی طرح کھڑکھڑا رہے تھے جیسے تانبے کے پر کھڑکھڑاتے۔ “ہم نے سارا قبرستان چھان مارا لیکن کچھ نہیں ملا۔ اے حرامزادے بتا، وہ دس ہزار تانگے کہاں ہیں ؟”

سود خور تو اپنا سبق اچھی طرح رٹے بیٹھا تا۔

“جس کے پاس تانبے کی ڈھال ہوتی ہے اس کا دماغ بھی تانبے کا ہوتا ہے” وہ بورے کے اندر سے بولا۔” عقاب کی جگہ الو بیٹھا ہے۔ ارے جنو، تم وہ ڈھونڈ رہے ہو جو تم نے چھپایا ہی نہیں تھا۔ اس لئے میرے گدے کی دم چوم لو!”

یہ الفاظ سن کر پہرے داروں کو بڑا غصہ آیا:

“تو نے ہم کو دھوکہ دیا، کتے کے پلے! اور اب ہمیں کو احمق بناتا ہے! دیکھو، دیکھو بورا گرد میں لت پت ہے۔ اس نے سڑک پر لوٹ لگا کر اپنے کو آزاد کرنے کی کوشش کی ہو گی جب ہم قبرستان میں کھود رہے تے اور ہمارے ہاتھ لہو لہان ہو رہے تھے۔ ارے لومڑی کے بچے، تجھے اس دھوکے بازی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا!”

انہوں نے بورے کو مکوں سے خوب پیٹا اور باری باری لوہے کے نعل لگے جوتوں سے خاطر کی۔ اس دوران سودخور خواجہ نصر الدین کی ہدایت پر سختی سے قائم رہا اور برابر یہی چلاتا رہا “جس کے پاس تانبے کی ڈھال ہوتی ہے اس کا دماغ بھی تانبے کا ہوتا ہے!” اس سے پہرے داروں کو اور بھی غصہ آگیا۔ وہ تو اس پاجی کو خود ہی ختم کر دیتے لیکن انھیں افسوس تھا کہ وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ انہوں نے بورا اٹھایا اور مقدس تالاب کی طرف روانہ ہو گئے۔

خواجہ نصر الدین اپنی پناہ گاہ سے نکلے، نہر میں منہ ہاتھ دھوئے اور اپنی قبا اتار دی تاکہ ان کے چوڑے چکلے سینے میں رات کی ہوا لگے۔ وہ ناقابل بیان ہلکا پن اور مسرت محسوس کر رہے تھے کیونکہ موت کی سیاہ سانس ان کو جلائے بغیر گزر گئی تھی۔ انہوں نے ایک امان کی جگہ ڈھونڈ لی،ا پنی قبا بچھائی اور ایک پتھر کو تکیہ بنایا۔ وہ دم گھٹنے والے کسے ہوئے بورے کی قید میں بہت ہی بے حال ہو گئے تھے اور ان کو آرام کی ضرورت تھی۔ گھنے درختوں میں ہوا سرسرا رہی تھی۔ آسمان پر تاروں کے سنہرے جھرمٹ تیر رہے تھے۔ نہر میں پانی قل قل کرتا بہہ رہا تھا۔ اب یہ سب پہلے کے مقابلے میں خواجہ نصر الدین کو دس گنا عزیز تھا۔

“ہاں ، دنیا میں اتنی زیادہ نیکی موجود ہے کہ اگر میرے لئے جنت میں جگہ کی قطعی ضمانت بھی ہو جائے تو میں مرے پر راضی نہیں ہوں گا ایک ہی درخت کے نیچے ایک ہی طرح کی حوروں میں تا ابد بیٹھے بیٹھے تو وہاں آدمی کا دم گھٹ جاتا ہو گا۔”

یہ تھے ان کے خیالات۔ وہ گرم زمین پر ستاروں کے شامیانے تلے لیٹے تھے اور کبھی نہ سونے والی، ہمیشہ رواں دواں رہنے والی زندگی کی آواز سن رہے تھے۔ ان کا دل سینے میں دھڑک رہا تھا۔ قبرستان سے ایک الو کے بولنے کی آواز آئی، کوئی چھوٹا سا جانور چپکے چپکے جھاڑیوں میں چل پھر رہا تھا۔ شاید کوئی ساھی ہو گی۔ کمھلائی ہوئی گھاس کی تیز مہک اٹھ رہی تھی، ساری رات پراسرار حرکتوں ، عجیب طرح کی سرسراہٹ، رینگنے اور ٹوٹنے کی آوازوں سے بھری ہوئی تھی۔

دنیا زندہ تھی، سانس لے رہی تھی، وسیع دنیا جو سب کے لئے برابر کھلی تھی۔ا س کی بے پناہ وسعتیں چیونٹی ہو کہ چڑیا یا آدمی سب کے لئے یکساں مہمان نواز تھی اور معاوضے میں صرف یہ مطالبہ کرتی تھیں کہ اس خیرمقدم اور اعتماد کا غلط استعمال نہ کیا جائے۔ میزبان اس مہمان کو ذلیل کر کے نکال دیتا ہے جو دعوت کے موقع پر عام گہما گہمی سے فائدہ اٹھا کر دوسرے مہمانوں کی جیب صاف کر دیتا ہے۔ ایسا ہی چور یہ لعنتی سودخور تھا جو مسرت سے بھرپور دنیا سے نکلا جا رہا تھا۔

خواجہ نصر الدین کو اس کے لئے ذرا بھی افسوس نہ تھا کیونکہ اس کے خاتمے سے ہزاروں انسانوں کی قسمت بن جانے والی تھی۔ خواجہ نصر الدین کو افسوس یہ تھا کہ سودخور اس دنیا میں آخری شیطان نہ تھا۔ کاش کہ ایک بورے میں تمام امرا اور عمائدین کو، ملاؤں کو اور سودخوروں کو بند کر کے ایک ساتھ شیخ احمد کے مقدس تالاب میں ڈبویا جا سکتا! تب ان کی گندی سانس درختوں کے پر بہار پھولوں کو نہ کمھلا سکتی، اپنے پیسے کی جھن جھن ان کے ریا کارانہ وعظ اور ان کی تلواروں کی جھنکار چڑیوں کی چہچہاہٹ پر نہ غالب آ سکتی اور آدمی دنیا کے حسن سے لطف اندوز ہونے اور اپنا انتہائی اہم فرض ادا کرنے یعنی ہر وقت اور ہر چیز سے خوش رہنے کے لئے آزاد ہوتا!

اس دوران میں پہرے داروں نے تاخیر کا ازالہ کرنے کے لئے تیز تیز چلنا شروع کیا اور آخرکار دوڑنے لگے۔ سودخور جو بورے میں ہلنے جلنے سے چور ہوا جا رہا تھا اس غیر معمولی سفر کے خاتمے کا صبر کے ساتھ انتظار رہا تھا۔ وہ اسلحہ کی کھڑکھڑاہٹ اور پہرے داروں کے پیروں تلے پتھروں کی آواز سن کر حیرت کر رہا تا کہ یہ طاقتور جن دوڑنے اور زمین پر اپنے تانبے کے پر اس طرح رگڑنے کی بجائے جیسا کہ جوان مرغ مرغی کا پیچھا کرتے وقت کرتے ہیں آخر ہوا میں بلند ہو کر اڑتے کیوں نہیں ہیں ؟

آخرکار دور سے ایک عجیب گرج دار آواز سنائی دی جیسے کوئی پہاڑی چشمہ گرجتا ہوا بہہ رہا ہو۔ اس سے پہلے تو سود خور نے سوچا کہ جن اس کو کسی پہاڑ پر لائے ہیں ، شاید اپنے مسکن خان تنگری میں ۔ لیکن جلدی اس کو آوازیں سنائی دینے لگیں اور اس نے اندازہ لگایا کہ آدمیوں کا بڑا مجمع ہے۔ آواز سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ بازار کی طرح ہزاروں آدمی جمع ہیں ۔ لیکن آخرکار بخارا میں رات کو کاروبار کب سے شروع ہو گیا؟

اچانک اس نے محسوس کیا کہ وہ اوپر اٹھایا جا رہا ہے۔ اوہ، آخرکار جنوں نے ہوا میں اڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس کو کیا معلوم تھا کہ پہرے دار بورے کو زینوں کے اوپر اٹھا کر پلیٹ فارم تک لا رہے تھے۔ اوپر پہنچ کر انہوں نے بورا پٹخ دیا۔ وہ پٹروں پر گرا جو اس کے وزن سے ہلنے اور کھڑکھڑانے لگے۔ سودخور زور سے کراھا۔

“ارے جنو!” وہ چلایا “اگر تم بور کو اس طرح پھینکو گے تو مجھے اچھا کرنے کی بجائے اپاہج بنا دو گے!”

اس کا جواب ایک زوردار لات سے ملا۔

“حرامزادے، تیرا علاج جلد ہی احمد کے تالاب میں ہو گا!”

سودخور اچانک بدحواس ہو گیا۔ اس معاملے کا احمد کے مقدس تالاب سے کیا تعلق؟ اس کی پریشانی حیرت میں بدل گئی جب اس نے قریب ہی اپنے پرانے دوست، محل کے پہرے داروں اور فوج کے کماندار ارسلان بیک کی آواز سنی۔ وہ قسم کھا سکتا تھا کہ یہ ارسلان بیک ہی تھا۔ اس کا دماغ چکرا گیا۔ یہ ارسلانبیک اچانک کہاں سے کود پڑا؟ وہ جنوں کو راستے میں تاخیر کرنے کے لئے گالیاں کیوں دے رہا ہے اور جن اس کی بات کا جواب دیتے وقت خوف اور عاجزی سے کانپ کیوں رہے ہیں ؟ یہ تو ناممکن ہے کہ ارسلان بیک جنوں کا بھی سردار ہو۔ وہ کیا کرے؟ خاموش رہے یا ارسلان بیک کو پکارے؟ چونکہ سود خور کو اس بارے میں کوئی ہدایت نہیں دی گئی تھی اس لئے اس نے خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔

اس دوران میں مجمع کا شور و غل اور بڑھ گیا تھا۔ عام ہنگامے میں ایک لفظ سب سے زیادہ اور اکثر سنائی دے رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے زمین، فضا اور ہوا سبھی اس لفظ سے بھرے ہوئے ہیں ۔ اس کی ہلکی بھن بھناہٹ ہوتی، پھر شور اور گرج دور تک گونجتی چلی جاتی۔ سود خور سانس روکے سب کچھ سن رہا تھا۔ آخرکار اس نے سنا۔

“خواجہ نصر الدین!” مجمع میں ہزاروں لوگ چلا رہے تھے۔ “خواجہ نصر الدین! خواجہ نصر الدین!”

اچانک خاموشی چھا گئی اور سخت سناٹے میں سودخور نے شعلہ ور مشعلوں کے پھنکنے، ہوا کی سرسراہٹ اور پانی کی کھلبلاہٹ سنی۔ اس کی ٹیڑھی ریڑھ میں کپکپی سی دوڑ گئی اور وہ انتہائی ڈر گیا۔ خوف کی سرد سانس نے اس کو بالکل جما دیا۔

پھر ایک اور آواز سنائی دی اور سودخور یقین سے کہہ سکتا تھا کہ یہ وزیر اعظم بختیار کی آواز ہے:

“خدا کے نام پر جو رحیم و کریم ہے اور آفتاب جہان امیر بخارا کے حکم سے، مجرم، مرتد، امن شکن اور منافق خواجہ نصر الدین کو ایک بورے میں بند کر کے ڈبو کر ختم کر دیا جائے گا۔”

بورے پر ہاتھ پڑے اور انہوں نے بورے کو اٹھا لیا۔ اب سود خور کو اپنی مہلک حالت کا پتہ چلا۔

“ٹھہرو! ٹھہرو!” وہ چلایا۔ “ارے تم کیا کر رہے ہو؟ ٹھہرو! میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ۔ میں تو جعفر سود خور ہوں ! مجھے چھوڑ دو! میں جعفر ہوں ، میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ! مجھے کہاں لے جا رہے ہوں ؟ میں کہہ رہا ہوں تم سے کہ میں جعفر سودخور ہوں !”

امیر اور اس کا عملہ سودخور کی فریاد خاموشی سے سنتا رہا۔ بغداد کے دانا مولانا حسین نے سرھلاتے ہوئے کہا:
“یہ مجرم تو انتہائی بے حیا ہے۔ ایک مرتبہ اس نے بغداد کے دانا مولانا حسین کا بہروپ بھرا اور اب ہم کو یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ جعفر سود خور ہے!”

“وہ خیال کرتا ہے کہ یہاں ایسے ہی احمق ہیں جو اس کی بات مان لیں گے” ارسلان بیک نے اضافہ کیا۔ “دیکھئے ، کس طرح اس نے اپنی آواز بدلی ہے۔”

“مجھے چھوڑ دو! میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ، میں جعفر ہوں !” سود خور نے فریاد کی جب دو پہرے دار پلیٹ فارم کے کنارے آ کر بورے کو جھلانے لگے تاکہ اسے کالے پانی میں پھینک دیں ۔ !میں خواجہ نصر الدین نہیں ہوں ! میں تو۔۔۔”

اسی لمحے ارسلان بیک نے اشارہ کیا اور بورے نے ہوا میں بلند ہو کر کئی قلابازیاں کھائیں ۔ پھر زبردست بھچاکے کے ساتھ وہ پانی میں گرا جس سے ایک فوارہ سا بلند ہوا جو مشعلوں کی سرخ روشنی میں چمکا اور پھر گہرے پانی نے جعفر سودخور کے گنہ گار جسم اور گنہ گار روح کو اپنے آغوش میں لے لیا۔

مجمع سے ایک زبردست آہ بلند ہو کر رات میں پیوست ہو گئی۔ چند لمحے تک ایک بھیانک خاموشی رہی اور پھر اچانک ایک زوردار اور دل میں اتر جانے والی چیخ نے اس کو چکنا چور کر دیا۔ یہ تھی گل جان جو چیخ پڑی تھی اور اپنے بڈھّے باپ کے بازوؤں میں تڑپ رہی تھی۔

چائے خانے کے مالک علی نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا اور آہنگر یوسف اس طرح کانپنے لگا جیسے اس کو لرزے کا دورہ پڑا ہو۔

(۳۷)

سزائے موت کے بعد امیر معہ اپنے ماہی مراتب کے محل واپس گیا۔

اس ڈر سے کہ کہیں مرنے سے پہلے مجرم کو بچا نہ لیا جائے ارسلان بیک نے تالاب کے چاروں طرف پہرہ لگا دیا اور حکم دے دیا کہ کسی کو قریب نہ آنے دیا جائے۔ مجمع پہرے داروں کے ریلنے پر پیچھے ہٹ گیا۔ پھر ایک بڑی ماتمی اور خاموش بھیڑ کی صورت میں اکٹھا ہو گیا۔ ارسلان بیک نے ان کو منتشر کرنے کی کوشش کی لیکن لوگ دوسری طرف ہٹ جاتے یا تاریکی میں چھپ جاتے اور پھر ذرا دیر بعد اسی جگہ واپس آ جاتے۔

محل میں بڑی چہل پہل تھی۔ امیر اپنے دشمن پر فتح کا جشن منا رہا تھا۔ ہر طرف سونا چاندی چمک رہا تھا، کیتلیاں ابل رہی تھیں ، انگیٹھیوں سے دھواں نکل رہا تھا اور طنبوروں کے نغمے بکھر رہے تھے، نفیریاں بج رہی تھیں اور نقاروں کی آواز فضا میں گونج رہی تھی۔ جشن کے سلسلے میں اتنی روشنی تھی کہ س کی سرخی سے سارے محل میں آگ سی لگی معلوم ہوتی تھی۔

امیر نے بڑی فیاضی سے انعامات تقسیم کئے۔ اس دن بہتوں پر نظر عنایت ہوئی۔ شاعروں کی آوازیں قصیدے پڑھتے پڑھتے بیٹھ گئیں اور چاندی اور سونے کے سکے جھک کر اٹھاتے اٹھاتے کمریں رہ گئیں ۔

“رقعہ نویس کو بلاؤ” امیر نے حکم دیا۔

رقعہ نویس دوڑتا ہوا آیا اور جلدی جلدی اپنے کلک کے قلم سے لکھنے لگا۔

“بخارا کے عظیم اور صاحب شان و شوکت، آفتاب کو شرمانے والے حکمران، بخارا کے سپہ سالار اور پیشوائے دین، امیر بخارا کی طرف سے عظیم اور صاحب شان و شوکت حکمران، خیوا کے سپہ سالار اور پیشوائے دین سلماتی اور خیرسگالی کے پھول قبول فرمائیں ۔ ہم آپ کو، اپنے عزیز اور شاہ بھائی کو ایک خبر بھیج رہے ہیں جس سے آپ کا دل خوشی سے بھر جائے گا۔

“آج کے دن، 17 صفر کو، ہم نے،بخارا کے امیر اعظم نے، خواجہ نصر الدین کو سربازار سزائے موت دی۔ یہ مجرم ساری دنیا میں اپنی ناپاک اور مرتدانہ سرگرمیوں کے لئے مشہور تھا، خدا کی لعنت ہو اس پر۔ ہم نے اس کو ایک بورے میں بند کر کے ڈبو دیا۔ یہ واقعہ مابدولت کی موجودگی میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہوا اس لئے ہم اپنے شاہّانہ الفاظ کے ذریعے شہادت پیش کرتے ہیں کہ مندرجہ بالا بدمعاش، امن و امان شکن، مرتد اور منافق اب زندوں میں نہیں ہے اور اب آ کو، ہمارے عزیز بھائی کو اپنی کفر کی باتوں سے پریشان نہیں کرے گا۔”

اسی طرح کے خطوط بغداد کے خلیفہ، ترکی کے سلطان، ایران کے شاہ، قوقند کے خان اور افغانستان کے امیر اور بہت سے نزدیک و دور کے بادشاہوں کو لکھوائے گئے۔ وزیر اعظم بختیار نے خطوں کو لپیٹ کر ان پر مہر لگائی اور ہرکاروں کو یہ حکم دے کر حوالے کیا کہ وہ فوراً اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو جائیں ۔ اس رات بخارا کے سب کے سب گیارہ پھاٹک زور سے چرچراتے چیختے کھلے اور ہر طرف کی شاہراہوں پر ہرکارے چل پڑے۔ ان کے گھوڑوں کے سموں کے نیچے پتھر کھڑکھڑا رہے تھے اور چنگاریاں اڑ رہی تھیں ۔ وہ خیوا، تہران، استنبول، بغداد، کابل اور بہت سے دوسرے شہروں کو جا رہے تھے۔

۔۔۔تالاب کے سناٹے میں، سزائے موت کے چار گھنٹے بعد، ارسلان بیک نے تالاب سے پہرہ ہٹا لیا۔

“وہ چاہے شیطان ہی کیوں نہ ہو، پانی کے اندر چار گھنٹے رہ کر زندہ نہیں رہ سکتا” ارسلان بیک نے کہا۔ “اس کو نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جو چاہے وہ اس مردار کی لاش لے جا سکتا ہے۔”

اندھیرے میں پہرے داروں کے غائب ہوتے ہی مجمع شور مچاتا ہوا تالاب کے کنارے کی طرف بڑھا۔ پہلے سے تیار کی ہوئی مشعلیں جو جھاڑیوں میں رکھی تھیں جلائی گئیں۔ عورتوں نے خواجہ نصر الدین کے انجام پر رونا دھونا شروع کر دیا۔

“ہمیں ان کی تجہیز و تکفین ایک سچے مومن کی طرح کرنی چاہئے” بڈھّے نیاز نے کہا۔ گل جان ساکت و صامت اپنے باپ کے سہارے کھڑی تھی۔

چائے خانے کا مالک علی اور آہنگر یوسف آنکڑے دار ڈانڈ لئے ہوئے پانی میں کودے۔ وہ بہت دیر تک تلاش کرتے رہے۔ آخرکار انہوں نے بورا پکڑ لیا اور اس کو گھسیٹ کر کنارے تک لائے۔ وہ سطح پر آیا۔ سیاہ، مشعلوں میں چمکتا ہوا بورا جو پانی کی گھاس سے اور بھی پھول گیا تھا۔ عورتوں نے اور زور سے رونا شروع کیا جس سے محل میں جشن کی آواز ڈوب گئی۔

درجنوں لوگوں نے بورے کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔

“میرے ساتھ آؤ” یوسف نے اپنی مشعل سے راستہ دکھاتے ہوئے کہا۔

ایک چھتنارے درخت کے نیچے بورا رکھا گیا۔ لوگ خاموشی سے اس کے گرد جمع ہو گئے۔

یوسف نے ایک چاقو نکالا اور احتیاط سے بورے کو لمبائی میں کاٹا، غور سے مردے کا چہرہ دیکھا اور پیچھے ہٹ گیا۔ وہ اس طرح کھڑا تھا جیسے پتھر کا ہو گیا ہو۔ اس کی آنکھیں نکلی پڑ رہی تھیں اور زبان سے ایک لفظ نہیں نکل رہا تھا۔

علی یوسف کی مدد کے لئے لپکا تو وہ بھی اسی طرح متحیر کھڑا رہ گیا۔ اس نے اکڑوں بیٹھ کر دیکھا، اس کے منہ سے چیخ نکل گئی اور وہ چت گر پڑا۔ اس کی موٹی توند آسمان کی طرف اٹھی ہوئی تھی۔

“کیا معاملہ ہے؟ ” مجمع میں چاؤں چاؤں ہوئی۔ “آؤ دیکھیں، ہمیں دیکھنے دو!”

گل جان روتی ہوئی لاش پر جھک گئی لیکن کسی نے اس کی طرف مشعل بڑھا دی اور وہ خوف و حیرت سے جھجک کر پیچھے ہٹ گئی۔

اب آدمی مشعلیں لئے ہوئے چاروں طرف سے جمع ہو گئے۔ تالاب کے کنارے کافی روشنی ہو گئی تھی۔ بہت سی آوازوں کی مشترکہ زبردست چیخ نے رات کی خاموشی کو چکنا چور کر دیا:

“جعفر!”

“یہ تو سود خور جعفر ہے!”

“یہ خواجہ نصر الدین تو نہیں ہیں!”

ذرا دیر گھبراہٹ اور انتشار کے بعد ہر ایک نے اچانک غل مچانا شروع کر دیا۔ لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے، دھکیلتے، ایک دوسرے کے کاندھوں پر لٹکتے اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لئے آگے بڑھ رہے تھے۔ گل جان کی حالت ایسی ہو گئی تھی کہ بڈھا نیاز اس کو تالاب کے کنارے سے دور لے گیا۔ اس کو ڈر تھا کہ کہیں وہ پاگل نہ ہو جائے۔ وہ رو اور ہنس رہی تھی۔ وہ شک و شبہ اور یقین کے درمیان معلق تھی اور ایک بار پھر دیکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

“جعفر! جعفر!” مسرت آمیز آوازیں گونج رہی تھیں جنہوں نے دور سے آتی ہوئی محل کی رنگ رلیوں کی آوازوں کو بالکل ڈبو دیا تھا۔ “یہ تو جعفر سود خور ہے! وہی ہے یہ۔ یہ رہا اس کا رسیدوں کا تھیلا۔”

کچھ دیر بعد کسی کو ہوش آیا اور اس نے مجمع سے عام سوال کیا:

“تو پھر خواجہ نصر الدین کہاں ہیں؟”

اب یہ سوال سارے مجمع نے دہرایا اور شور ہوا:

“تو پھر خواجہ نصر الدین کہاں ہیں؟ ہمارے خواجہ نصر الدین کہاں ہیں؟”

“یہاں ہیں!” ایک جانی پہچانی پرسکون آواز آئی۔ اور سب اس طرف مڑ گئے۔ خواجہ نصر الدین کو زندہ دیکھ کر وہ حیرت میں رہ گئے۔ ان کے ساتھ کوئی پہرے دار نہ تھا۔ وہ ان کی طرف اطمینان سے جماہیاں اور انگڑائیاں لیتے ہوئے بڑھ رہے تھے۔ خواجہ قبرستان کے قریب سو گئے تھے اسی لئے اتنی دیر سے یہاں پہنچے تھے۔

“میں یہاں ہوں” انہوں نے دہرایا “جو مجھ سے ملنا چاہتا ہے یہاں آ جائے۔ بخارا کے محترم باشندو، آپ یہاں تالاب پر کیوں جمع ہیں اور کیا کر رہے ہیں؟”

“کیوں؟ ہم یہاں کیوں آئے ہیں؟” سیکڑوں آوازوں نے کہا۔ “خواجہ نصر الدین ، ہم یہاں آئے تھے آ پ کو آخری بار الوداع کہنے، آپ کے لئے ماتم کرنے اور آپ کو دفن کرنے۔”

“مجھ کو؟” انہوں نے پوچھا۔” میرے لئے ماتم کرنے؟ بخارا کے شریف باشندو آپ خواجہ نصر الدین کو نہیں جانتے اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ان کا مرنے کا ارادہ ہے! میں تو صرف آرام کرنے کے لئے قبرستان کے قریب لیٹ گیا تھا اور آپ سمجھنے لگے کہ میں مر گیا!”

ابھی وہ اتنا ہی کہہ سکے تھے کہ چائے خانے کا مالک علی اور آہنگر یوسف خوشی سے چیخیں مار کر ان سے اس طرح لپٹ گئے کہ بس جان بچانا مشکل ہو گئی۔ نیاز نے آگے بڑھنے کی کوشش کی لیکن وہ جلد ہی دھکم پیل میں پیچھے رہ گیا۔ خواجہ نصر الدین ایک بڑے مجمع میں گھرے تھے جہاں ہر شخص ان سے گلے ملنا اور ان کو خوش آمدید کہنا چاہتا تھا اور وہ ہر ایک سے گلے ملتے ہوئے اس طرف بڑھ رہے تھے جہاں سے گل جان کی بے چین اور غصے سے بھری ہوئی آواز آ رہی تھی جو بھیڑ میں ان تک پہنچنے کی بے سود کوشش کر رہی تھی۔ اور آخرکار جب وہ ایک دوسرے سے دوچار ہوئے تو گل جان نے ان کے گلے میں باہیں ڈال دیں۔ خواجہ نصر الدین نے اس کی نقاب اٹھائی اور سارے مجمع کے سامنے اس کو چوم لیا اور وہاں پر موجود کسی بھی آدمی کو، ان لوگوں کو بھی جو رسم و رواج کے بڑے حامی تھے یہ بات بری نہیں معلوم ہوئی۔

خواجہ نصر الدین نے ہاتھ اٹھا کر لوگوں سے خاموش رہنے اور اپنی طرف متوجہ ہونے کے لئے کہا:

“آپ میرا ماتم کرنے آئے تھے، بخارا کے شریف باشندو! آپ نہیں جانتے کہ میں امر ہوں؟”

ہوں میں خواجہ نصر الدین ، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

وہ سنسناتی ہوئی مشعلوں کی روشنی میں کھڑے تھے۔ مجمع نے دھن اٹھائی جو رات کی تاریکی میں لپٹے ہوئے بخارا میں پرمسرت لہر کی طرح پھیل گئی۔

ہوں میں خواجہ نصر الدین ، آزاد سدا کا
یہ جھوٹ نہیں، میں نہ مرا ہوں نہ مروں گا

اس خوشی کا محل کی رنگ رلیوں سے کوئی مقابلہ نہ تھا۔

“ہمیں بتائیے” کسی نے چلا کر پوچھا “کہ آپ نے اپنے بجائے جعفر سودخور کو ڈبونے کا کام کیسے کیا؟”

“آہ!” خواجہ نصر الدین کو اچانک یاد آگیا۔”یوسف، تم کو میری قسم یاد ہے نا؟”

“ہاں، ضرور” یوسف نے جواب دیا ” اور آپ نے اسے پورا کیا، خواجہ نصر الدین !”

“وہ کہاں ہے؟” خواجہ نصر الدین نے کہا “سود خور کہاں ہے؟ تمھیں اس کا تھیلا مل گیا؟”

“نہیں، ہم نے اس کو چھوا نہیں۔”

“ارے!” خواجہ نصر الدین نے ملامت آمیز لہجے میں کہا۔ “بخارا کے باشندو! آپ کے خیالات بہت شریفانہ ہیں لیکن سمجھ میں ذرا خامی ہے۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ اگر یہ تھیلا سودخور کے وارثوں کو مل گیا تو وہ آپ سے قرض کا ایک ایک پیسہ وصول کر لیں گے؟ لائیے یہ تھیلا مجھے دیجئے۔”

درجنوں آدمی دھکم پیل کرتے اور غل مچاتے ان کا حکم پورا کرنے دوڑے۔ انہوں نے بھیگا تھیلا لا کر خواجہ نصر الدین کو دے دیا۔

انہوں نے ایک پرونوٹ اٹکل پچو نکلا لیا۔

“محمد زین ساز!” انہوں نے زور سے پکارا۔ “محمد زین ساز کون ہے؟”

“میں” ایک دھیمی کانپتی ہوئی آواز نے جواب دیا۔ مجمع سے ایک پستہ قد بڈھا نکلا جس کے چھدری داڑھی تھی۔ وہ ایک انتہائی پھٹی پرانی رنگین قبا پہنے تھا۔

“محمد زین ساز اس پرونوٹ کے مطابق تم کو کل پانچ سو تانگے ادا کرنا ہیں۔ لیکن میں، خواجہ نصر الدین تمھارا قرض منسوخ کرتا ہوں۔ یہ رقم تم اپنی ضرورتوں کے لئے استعمال کرو اور اپنے لئے ایک نئی قبا خرید لو۔ تمھاری قبا تو بس کپاس کے تیار کھیت کا منظر پیش کرتی ہے، ہر جگہ روئی نکلی ہوئی ہے۔”

یہ کہتے ہوئے انہوں نے پرونوٹ کے پرزے پرزے کر دئے۔

خواجہ نصر الدین نے یہی گت سب پرونوٹوں کی بنائی۔

جب آخری پرونوٹ پرزے پرزے ہو چکا تو خواجہ نصر الدین نے تھیلا تالاب میں پھینک دیا۔

“اب اس کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تالاب کی تہہ میں دفن ہو جانے دو!” انہوں نے زور سے کہا۔ “اب اس کو کوئی اپنے کندھے سے نہ لٹکاسکے گا۔ بخارا کے شریف باشندو! انسان کے لئے ایسا تھیلا لیکر چلنے سے زیادہ کوئی ذلت نہیں ہو سکتی۔ آپ کے لئے چاہے جو کچھ کیوں نہ ہو جائے، چاہے آپ دولت مند ہو جائیں، جس کی امید ہمارے آفتاب جیسے امیر اور اس کے نگراں وزیروں کی زندگی میں نہیں ہے، لیکن اگر ایسا کبھی ہو اور آپ میں سے کوئی دولت مند ہو جائے تو ایسا تھیلا لیکر کبھی نہ چلنا۔ ورنہ وہ اپنے کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو چودہ پیڑھیوں تک ابدی ذلت میں مبتلا کر دے گا! اسے یہ بھی نہ بھولنا چاہئے کہ اس دنیا میں خواجہ نصر الدین کا بھی وجود ہے جس کا ہاتھ بہت سخت ہے۔ آپ نے دیکھا کہ اس نے جعفر سودخور کو کیا سزا دی ہے۔ اب میں آپ سے رخصت ہوں گا، بخارا کے شریف باشندو۔ مجھے ایک طویل سفر در پیش ہے۔ گل جان تم میرے ساتھ چلو گی؟”

“میں تمھارے ساتھ جہاں کہو گے چلوں گی” گل جان نے جواب دیا۔

بخارا کے باشندوں نے خواجہ نصر الدین کو شاندار طور پر الوداع کہا۔ کارواں سرائے کے مالک ان کی دلھن کے لئے روئی جیسا سفید گدھا لائے۔ اس کی کھال پر ایک بھی سیاہ داغ نہ تھا اور وہ بڑے فخر کے ساتھ اپنے بھورے بھائی، خواجہ نصر الدین کی آوارہ گردیوں کے پرانے اور وفا دار رفیق کے برابر کھڑا چمک رہا تھا۔ بھورے گدھے کو اپنے شاندار رفیق پر ذرا بھی رشک نہیں تھا اور وہ اطمینان سے مزیدار گھاس کھا رہا تھا اور اپنے تھوتھن سے سفید گدھے کو دھکا بھی دیتا جاتا تھا جیسے وہ دکھانا چاہتا ہو کہ رنگ میں اس کی ناقابل تردید برتری کے باوجود سفید گدھا خواجہ نصر الدین کی خدمت میں اس کا پاسنگ نہیں ہو سکتا۔

آہنگر اپنی بھٹی وغیرہ وہیں لائے اور دونوں گدھوں کے نعلیں لگائیں۔ زین سازوں نے دو زینیں بطور تحفہ پیش کیں۔ ایک مخمل سے سجی ہوئی خواجہ نصر الدین کے لئے تھی اور دوسری چاندی سے مرصع گل جان کے لئے۔ چائے خانے کے مالک دو چائے دان اور دو چینی کے بہت نفیس پیالے لائے۔ اسلحہ سازوں نے خواجہ نصر الدین کو مشہور گورا فولاد کی تلوار دی تاکہ وہ اپنے کو راہزنوں سے بچا سکیں۔ قالین بنانے والے ان کے لئے زین پوش لائے، کمند سازوں نے گھوڑے کے بالوں کی بنی ہوئی کمند دی۔ یہ کمند جب کسی سونے والے مسافر کے گرد بچھا دی جاتی ہے تو وہ زہریلے سانپوں سے محفوظ رہتا ہے کیونکہ سانپ چبھنے والے بالوں کے اوپر نہیں رینگتے۔

بنکروں، ٹھٹھیروں، درزیوں اور موچیوں، غرض سب نے تحفے دئے۔ ملاؤں، عمائدین اور صاحب جائیداد لوگوں کے علاوہ سارے شہر بخارا نے خواجہ نصر الدین کے سفر کے لئے نئے ساز و سامان مہیا کیا۔

کمہار الگ افسردہ کھڑے تھے۔ ان کے پاس تحفے کے لئے کچھ نہ تھا۔ آدمی مٹی کی صراحی کا کیا کرے گا جب کہ ٹھٹھیروں نے ان کو پیتل کی صراحی دی تھی؟

اچانک سب سے بڈھّے کمہار نے جس کی عمر سو سال سے زیادہ تھی کہا “کون کہتا ہے کہ ہم کمہاروں نے خواجہ نصر الدین کو کچھ نہیں دیا ہے۔ کیا ان کی دلھن، یہ حسین دوشیزہ، کمہاروں کی مشہور اور لائق برادری کی نہیں ہے؟

کمہاروں نے خوش ہو کر زور کا نعرہ مسرت بلند کیا۔ پھر انہوں نے گل جان کو اچھی طرح نصیحت کی کہ وہ خواجہ نصر الدین کی وفادار اور پر خلوص رفیقہ حیات بنے اور اپنی برادری کے لوگوں کی شہرت اور عزت کو بٹہ نہ لگائے۔

“صبح صادق کا وقت ہونے والا ہے” خواجہ نصر الدین نے کہا “جلد ہی شہر کے پھاٹک کھل جائیں گے۔ مجھے اور میری دلھن کو چپکے سے نکل جانا چاہئے۔ اگر آپ سب مجھے رخصت کرنے آئے تو پہرے داروں کو خیال ہو گا کہ شاید بخار اکے سارے باشندے کہیں اور آباد ہونے جا رہے ہیں اور وہ پھاٹک بند کر لیں گے، کسی کو بھی باہر نہ جانے دیں گے۔ اس لئے آپ اپنے اپنے گھروں کو جائیے۔ میری دعا ہے کہ آپ سکھ چین کی نیند سوئیں، آپ پر مصیبت کا منحوس سایہ کبھی نہ پڑے اور کامیابیاں آپ کے ہمراہ رہیں! خواجہ نصر الدین اب آپ سے رخصت ہوتا ہے۔ کتنی مدت کے لئے؟ یہ میں خود نہیں جانتا۔”

مشرق میں ایک چھوٹی، مشکل سے دکھائی دینے والی روشنی کی ہلکی پٹی نمودار ہو رہی تھی۔ تالاب سے ہلکا سا کہرا اٹھ رہا تھا۔ مجمع منتشر ہونے لگا۔ لوگ مشعلیں بجھا رہے تھے اور زور زور سے کہہ رہے:

“سفر بخیر، خواجہ نصر الدین ! اپنے وطن کو نہ بھولئے گا!”

آہنگر یوسف اور چائے خانے کے مالک علی سے رخصت کا منظر خاص طور پر متاثر کن تھا۔ موٹا علی اپنے آنسو نہ روک سکا، وہ اس کے گول سرخ رخساروں پر بہہ نکلے۔

خواجہ نصر الدین پھاٹک کھلنے کے وقت تک نیاز کے گھر میں ٹھہرے رہے۔ جیسے ہی مؤذن کی پرسوز آواز شہر میں گونجی خواجہ نصر الدین اور گل جان اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔ نیاز ان کے ساتھ قریب کے موڑ تک گیا۔ اس کے آگے خواجہ نصر الدین نے اس کو نہیں آنے دیا اور بڈھا آنکھوں میں آنسو بھرے اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک کہ وہ موڑ پر نگاہوں سے اوجھ نہیں ہو گئے۔ صبح کی ٹھنڈی ہوا چلی اور اس نے سڑک پر سارے نشانات مٹا دئے۔

نیاز جلدی سے گھر واپس ہوا اور چھت پر چڑھ گیا۔ وہاں سے بہت دور تک شہر کی فصیلوں کے پار دکھائی دیتا تھا اور وہ بڑی دیر تک اپنی بوڑھی آنکھوں پر زور دیکر، بے اختیار آنسوؤں کو پونچھ کر بادامی رنگ کی دھوپ سے جھلسی ہوئی پہاڑیوں کی طرف دیکھتا رہا جن کے درمیان سڑک کا بھورا فیتہ دور لہراتا ہوا چلا گیا تھا۔ وہ اتنی دیر تک انتظار کرتا رہا کہ آخر میں پریشان ہو گیا۔ کیا خواجہ نصر الدین اور گل جان پہرے داروں کے ہاتھ آ گئے؟

لیکن آخرکار اس کو دور فاصلے پر دو دھبے دکھائی دئے، ایک سفید اور دوسرا بھورا۔ وہ رفتہ رفتہ آگے بڑھتے اور چھوٹے ہوتے گئے۔ جلد ہی بھورا دھبہ پہاڑیوں میں مل جل کر غائب ہو گیا لیکن سفید دھبہ کافی دیر تک رہا۔ وہ گہرائیوں اور خموں میں غائب ہو جاتا اور پھر نمودار ہوتا۔ پھر وہ بھی گرمی کے بڑھتے ہوئے دھند میں غائب ہو گیا۔

دن چڑھ رہا تھا اور اس کے ساتھ گرمی بھی بڑھ رہی تھی۔ بڈھا گرمی سے بے نیاز غمگین خیالات میں ڈوبا ہوا چھت پر بیٹھا رہا۔ اس کا سفید سر ہل رہا تھا اور گلا رندھا جا رہا تھا۔ اس کو خواجہ نصر الدین اور اپنی بیٹی سے کوئی شکایت نہ تھی۔ وہ ان کی خوشی و سلامتی کا خواہاں تھا لیکن اس کو اپنے اوپر افسوس آ رہا تھا۔ اب اس کا گھر خالی ہو گیا تھا اور اب اپنے زندہ دلانہ گیتوں اور قہقہوں سے اس کی زندگی میں خوشی لانے والا کوئی نہیں رہا تھا۔ گرم ہوا چلنے لگی، انگور کی بیلوں میں سرسراہٹ شروع ہو گئی اور گرد اڑنے لگی۔ ہوا کے پروں نے چھت پر سوکھتے ہوئے برتنوں کو چھوا اور وہ باریک اور فریاد آمیز آواز میں بج اٹھے جیسے وہ گھر سے جانے والوں کے لئے غمگین ہوں۔

نیاز اپنے پیچھے ایک دھیمی سی آواز سے چونک پڑا۔ اس نے مڑ کر دیکھا کہ تین بھائی جو پڑوس میں رہتے تھے ایک دوسرے کے پیچھے زینوں پر چڑھ رہے تھے۔ وہ خوب تندرست خوبصورت نوجوان تھے اور سبھی کمہار تھے۔ وہ قریب آ کر احترام کے ساتھ جھکے۔

“محترم نیاز” سب سے بڑا بھائی بولا ” آپ کی بیٹی خواجہ نصر الدین کے ساتھ رخصت ہو گئی لیکن رنجیدہ اور پریشان نہ ہوں کیونکہ دنیا کا یہی قانون ہے۔ جب ہرنی ہرن کے بغیر نہیں، گائے بیل کے بغیر اور بطخ بلا نر کے نہیں رہ سکتی تو کیا کوئی دوشیزہ بلا کسی سچے اور پر خلوص رفیق کے رہ سکتی ہے؟ کیا اللہ نے دنیا کی تمام چیزوں میں جنسی تفریق نہیں کی ہے حتی کہ کپاس کے پودوں کی شاخوں تک میں نر و مادہ ہوتے ہیں۔

“بہرحال، ہم نہیں چاہتے کہ آپ کو بوڑھاپے میں رنج پہنچے اس لئے ہم تینوں نے آپ سے یہ کہنے کا فیصلہ کیا ہے کہ جس کا رشتہ خواجہ نصر الدین سے ہوا وہ بخارا کے تمام باشندوں کا رشتہ دار بن گیا اور اب آپ ہمارے رشتہ دار ہو گئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ پچھلے سال ہم نے اپنے باپ اور آپ کے دوست محترم و معظم عثمان علی کو کس رنج و غم کے ساتھ سپرد خاک کیا تھا اور اب ہمارے آتش دان کے قریب ایک جگہ بزرگ خاندان کے لئے خالی ہے اور ہم اب اس روزمرہ کی خوشی سے محروم ہو گئے ہیں کہ کسی سفید داڑھی کی زیارت کر سکیں جس کے بغیر بچے کی چیخ پکار کی طرح گھر خالی خالی معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ آدمی کی روح کو اسی وقت سکون ملتا ہے جب وہ ایسے صاحب ریش آدمی کے پاس ہوتا ہے جس نے اس کو جنم دیا ہے اور اس کے یہاں پالنے میں وہ جھولتا ہے جس کو خود اس نے جنم دیا ہے۔

“اس لئے، محترم نیاز! ہم آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمارے آنسوؤں کو دیکھیں اور ہماری درخواست سے انکار نہ کریں۔ ہمارے گھر آئیے اور آتش دان کے قریب وہ جگہ لیجئے جو بزرگ خاندان کے لئے مخصوص ہے۔ ہم تینوں کے باپ بنئے اور ہمارے بچوں کے دادا۔”

ان بھائیوں نے اتنا اصرار کیا کہ نیاز کو انکار کرتے نہ بنا۔ وہ ان کے گھر گیا اور اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ اس طرح اس کو بوڑھاپے میں ایسی ایماندارانہ اور پاکیزہ زندگی نصیب ہوئی جو ایک مسلمان کے لئے اس دنیا میں ممکن ہے۔ وہ اب ایک بڑے خاندان کا بزرگ بن کر جس میں چودہ ناتی پوتے تھے نیاز بابا ہو گیا تھا۔ وہ انگور اور شہتوت کے رس سے بھرے گلابی گلابی گالوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوا کرتا تھا۔ اس دن سے اس کے کان خاموشی سے کبھی نہیں اکتائے۔ کبھی کبھی وہ شور و غل سے گھبرا جاتا تو اپنے پرانے گھر آرام کے لئے چلا جاتا اور ان دونوں کو افسردگی سے یاد کرتا جو اس کے دل کے اتنے قریب تھے اور اب کہیں دور دراز کسی انجانی جگہ چلے گئے تھے۔

بازار کے دن وہ بازار جاتا اور کاروانوں میں جو دنیا کے تمام کونوں سے بخارا آتے تھے پوچھتا کہ کیا سڑک پر کہیں ان کی ملاقات دو مسافروں سے ہوئی۔ مرد ایک بھورے گدھے پر تھا اور عورت بے داغ سفید گدھے پر؟ ساربان اپنی سورج سے سنولائی ہوئی پیشانی پر بل ڈال کر سر ہلاتے کہ ان کی ملاقات ایسے لوگوں سے نہیں ہوئی۔

خواجہ نصر الدین حسب معمول بلا کسی پتے نشان کے غائب ہو گئے تھے تاکہ وہ پھر کہیں ایسی جگہ نمودار ہوں جہاں ان کی توقع بالکل نہ کی جاتی ہو۔

باب آخر

(جو ایک نئی کتاب کی ابتدا کا کام کر سکتا ہے)

“میں نے سات سفر کئے اور ہر سفر کے بارے میں ایک ایسی غیر معمولی داستان ہے جو ذہن کو بے چین کر دیتی ہے۔”

(الف لیلہ)

اور وہ پھر نمودار ہوئے، ایسی جگہ جہاں سب سے کم توقع کی جاتی تھی۔ وہ استنبول میں دکھائی دئے۔

یہ واقعہ امیر بخارا کا خط ترکی کے سلطان کو ملنے کے تین دن بعد ہوا۔ سیکڑوں نقیبوں نے عظیم سلطنت کے شہروں اور گاؤں میں خواجہ نصر الدین کی موت کا اعلان کیا۔ ملاؤں نے خوش ہو کر مسجدوں میں صبح شام دن میں دو بار امیر کا خط پڑھا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ سلطان نے محل کے باغ میں جشن کیا۔ وہ پوپلر کے درختوں کے خنک سائے میں بیٹھا تھا، فواروں کی ہلکی ہلکی پھوہار پڑ رہی تھی۔ اس کے چاروں طرف وزرا، عقلا، شعرا اور شاہی عملے کا مجمع تھا، سب لالچ سے شاہی داد و دہش کے متوقع تھے۔ حبشی غلام ان لوگوں کے درمیان بھاپ اٹھتی ہوئی کشتیاں، حقے اور صراحیاں لئے ہوئے آ جا رہے تھے۔ سلطان بہت خوش تھا اور برابر ہنسی مذاق کر رہا تھا۔

“آج گرمی کے باوجود فضا میں خوشگوار لطافت اور مہک کیوں ہے؟” اس نے عقلا اور شعرا سے چالاکی سے آنکھیں نچاتے ہوئے پوچھا۔

“کون اس سوال کا معقول جواب دے سکتا ہے؟ “اور انہوں نے لالچ کے ساتھ اس تھیلی کی طرف دیکھتے ہوئے جو سلطان کے ہاتھ میں تھی جواب دیا۔

“شہنشاہ معظم کی سانس نے فضا میں سرایت کر کے یہ لطافت پھیلا دی ہے اور مہک کی وجہ یہ ہے کہ آخرکار خواجہ نصر الدین کی ناپاک روح کا تعفن ختم ہو گیا ہے جو دنیا کو زہر آلود کر رہا تھا۔”

تھوڑی دور پر محل کے پہرے داروں کا کماندار، استنبول کے امن و امان کا محافظ کھڑا یہ دیکھ رہا تھا کہ سب کچھ ٹھیک ٹھاک رہے۔ وہ اپنے ہم پیشہ بخارا کے ارسلان بیک سے اتنا مختلف ضرور تھا کہ وہ اس سے زیادہ ظالم اور غیر معمولی طور پر دبلا پتلا تھا۔ اس کی یہ دونوں باتیں اس طرح ایک دوسرے سے مربوط ہو گئی تھیں کہ استنبول کے شہریوں نے ان کو بہت دن پہلے ہی تاڑ لیا تھا اور وہ محل کے حمام کے خدمتگاروں سے ہر ہفتے پوچھتے رہتے تھے کہ کماندار کا وزن گھٹا یا بڑھا ہے۔ اگر خبر خراب ہوتی تو محل کے قریب رہنے والے بلا کسی سخت ضرورت کے گھروں کے باہ آئندہ حمام کے دن تک نہ نکلتے۔ تو اب یہ ہیبت ناک ہستی ذرا دور پر استادہ تھی۔ اس کے سر پر عمامہ تھا اور وہ اس طرح اس کی لمبی اور سوکھی گردن پر ابھرا ہوا تھا جیسے بانس پر لٹکا ہو (استنبول کے بہت سے شہری س تشبیہہ کو سن کر پراسرار طریقے پر آہ بھرتے)۔

سب کچھ مزے میں چل رہا تھا، جشن زوروں پر تھا اور کسی انتشار کا گمان تک نہ تھا۔ کسی نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ محل کا داروغہ اپنی حسب معمول پھرتی کے ساتھ چپکے سے درباریوں کے مجمع سے نکلا اور محل کے پہرے داروں کے کماندار کے کان میں کچھ سرگوشی کی۔ کماندار چونک پڑا، اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ جلدی سے داروغہ کے ساتھ باہ چلا گیا۔

چند منٹ میں وہ واپس آگیا۔ وہ زرد ہو رہا تھا اور اس کے ہونٹ کانپ رہے تھے۔ درباریوں کو ہٹاتا ہوا وہ سلطان کے پاس پہنچا اور دہرا ہو کر تعظیم بجا لایا:

“سلطان معظم!۔۔۔”

“ہاں، کیا ہے؟” سلطان نے ناگواری کے انداز میں پوچھا۔ “کیا تم آج کے دن بھی جیل اور سزاؤں کی خبریں اپنے تک محدود نہیں رکھ سکتے؟ اچھا، بولو!”

“مقدس و معظم سلطان، میری زبان سے الفاظ نہیں نکلتے۔۔۔”

سلطان کی تیوریاں چڑھ گئیں۔ وہ کافی پریشان ہو گیا تھا۔ کماندار نے چپکے سے کہا:

“وہ استنبول میں ہے!”

“کون؟” سلطان نے درشت آواز میں پوچھا، حالانکہ وہ فوراً ہی سمجھ گیا تھا کہ کس سے مطلب ہے۔

“خواجہ نصر الدین !”

کماندار نے یہ نام بہت دھیمے سے لیا تھا لیکن درباریوں کے کان بہت تیز ہوتے ہیں۔ سارے محل میں منہ ہی منہ میں یہ بات پھیل گئی:

“خواجہ نصر الدین استنبول میں! خواجہ نصر الدین استنبول میں!”

“تمھیں کیسے معلوم ہوا؟” سلطان نے پوچھا۔ اس کی آوا ز اچانک بھرا گئی تھی۔ “تم سے کس نے کہا؟ یہ کیسے ممکن ہے جبکہ امیر بخارا نے اپنے خط میں شاہانہ الفاظ سے اس کا یقین دلایا ہے کہ خواجہ نصر الدین اب زندہ نہیں ہے؟”

کماندار نے محل کے داروغہ کو اشارہ کیا جو سلطان کے پاس ایک آدمی کو لے گیا جس کی ناک چپٹی تھی، چہرے پر چیچک کے داغ تھے اور ناچتی ہوئی زرد آنکھیں تھیں۔

“سلطان معظم!” کماندار نے وضاحت کی “یہ آدمی امیر بخارا کے دربار میں بہت دنوں تک جاسوس کی خدمات سرانجام دے چکا ہے اور خواجہ نصر الدین کو اچھی طرح جانتا ہے۔ جب یہ شخص استنبول آیا تو میں نے اس کو جاسوس کی حیثیت سے نوکر رکھ لیا اور وہ اس وقت بھی اپنے اس منصب پر ہے۔”

“تم نے اس کو دیکھا؟” سلطان نے بات کاٹتے ہوئے جاسوس سے پوچھا۔ ” کیا تم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا؟”

جاسوس نے ہاں میں جواب دیا۔

“شاید تم سے غلطی ہوئی ہو؟”

جاسوس نے نفی میں جواب دیا۔ وہ غلطی نہیں کر سکتا ۔ خواجہ نصر الدین کے ساتھ ایک عورت سفید گدھے پر سوار تھی۔

“تم نے اس کو اسی جگہ کیوں نہ گرفتار کر لیا؟”سلطان چلایا۔ “تم نے اس کو پہرے داروں کے حوالے کیوں نہیں کر دیا؟”

“جہاں پناہ!” گھٹنوں کے بل گر کر گڑگڑاتے ہوئے جاسوس نے جواب دیا۔ “بخارا میں ایک بار میں خواجہ نصر الدین کے ہاتھ آگیا اور پھر یہ اللہ ہی کی مہربانی تھی کہ میری جان بچ گئی۔ آج صبح کو جب میں نے اس کو استنبول کی سڑکوں پر دیکھا تو خوف سے میری آنکھوں پر اندھیرا چھا گیا اور جب میں اپنے ہوش میں آیا تو وہ جا چکا تھا۔”

“تو یہ ہیں تیرے جاسوس!” تعظیم سے جھکے ہوئے کماندار کی طرف دیکھتے ہوئے لال بھبوکا سلطان نے کہا۔ “کسی مجرم کو دیکھتے ہی ان کے حواس جاتے رہتے ہیں!”

اس نے چیچک رو جاسوس کو حقارت سے لات مار کر الگ کر دیا اور خود خلوت خانے میں چلا گیا۔ اس کے پیچھے حبشی غلاموں کی ایک لمبی قطار تھی۔

وزرا، عمائدین، شعرا اور عقلا سب آپس میں چاؤں چاؤں کرتے باپہ جا رہے تھے۔ چند منٹ میں کماندار کے سوا ایک نفس بھی باغ میں نہیں رہ گیا جو پھٹی پھٹی آنکھوں سے تکتا رہا اور پھر ایک سنگ مرمر کے فوارے کے کنارے بیٹھ گیا۔ وہ بڑی دیر تک بیٹھا پانی کی ہلکی بلبلاہٹ اور ہنسی سنتا رہا۔ اچانک سکڑ کر وہ اتنا دبلا ہو گیا تھا کہ اگر استنبول کے لوگ اس کو دیکھتے تو اپنے جوتے چھوڑ چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوتے۔

اس دوران میں چیچک رو جاسوس بے تحاشا سڑکوں پر بھاگتا ساحل کی طرف جا رہا تھا۔ وہاں ایک عرب جہاز روانگی کے لئے تیار کھڑا تھا۔ جہاز کے کپتان کو قطعی یقین ہو گیا کہ وہ کوئی قیدی ہے جو بھاگ رہا ہے اس لئے اس نے ایک بڑی رقم طلب کی۔ جاسوس بلا طے توڑ کئے عرشے پر آیا اور پھر ایک تاریک اندھیرے کونے میں گڑمڑا کر پڑ گیا۔ بعد کو جب استنبول کے چھریرے اور سڈول مینار نیلے دھند میں غائب ہو گئے اور تازہ ہوا بادبانوں میں بھرنے لگی تو وہ اپنی پناہ گاہ سے باہر آیا ، پورے جہاز کا چکر لگایا ، ہر چہرے کو غور سے دیکھا اور جب اس کو یہ یقین ہو گیا کہ خواجہ نصر الدین جہاز پر نہیں ہیں تو اسے اطمینان ہوا۔

اس دن سے اس چیچک رو جاسوس کی زندگی متواتر خوف و ہراس میں بسر ہونے گلی۔ جس شہر بھی وہ گیا خواہ وہ بغداد ہو یا قاہرہ، تہران یا دمشق، کسی جگہ بھی تین مہینے سے زیادہ نہ ٹھہر سکا کیونکہ خواجہ نصر الدین اس شہر میں ضرور نظر آتے اور جاسوس ان کی مڈھ بھیڑ کے ڈر سے اور آگے بھاگتا۔ یہاں خواجہ نصر الدین کا مقابلہ اس زبردست طوفان سے کرنا غلط نہ ہو گا جو اپنے آگے آگے اس مرجھائی ہوئی زرد پتی کو اڑائے اڑائے پھرتا ہے جس کو وہ گھاس سے، دراڑوں اور خولوں سے نکال لیتا ہے۔ اس طرح چیچک روجاسوس کو ان تمام برائیوں کی سزا ملی جو اس نے دوسرے لوگوں کے ساتھ کی تھیں۔

دوسرے ہی دن سے استنبول میں غیر معمولی اور حیرت انگیز واقعات شروع ہو گئے۔۔۔ لیکن جو باتیں کسی نے ذاتی طور پر نہ دیکھی ہوں ان کی بابت کچھ نہ کہنا چاہئے اور جو ملک خود اس نے نہ دیکھے ہوں اس کی بابت نہ لکھنا چاہئے۔ اس لئے ان الفاظ کے ساتھ ہم اپنی کہانی کا آخری باب مکمل کرتے ہیں، جو استنبول، بغداد، تہران، دمشق اور بہت سے دوسرے مشہور شہروں میں خواجہ نصر الدین کے مزید کارناموں کے بارے میں نئی کتاب کے ابتدائی باب کا کام دے سکتا ہے۔

۱۹۴۰
*

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: