Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 1

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 1

–**–**–

نوٹ: کہانی کے کرداروں سے لے کر جگاہوں تک سب فرضی ہے۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
۔۔۔۔۔۔
السلام علیکم!! امی آپ بلکل فکر مت کریں میں یہاں آرام سے ہوں۔۔۔۔ ٹھیک ہے میں رکھتی ہوں ابو اور بھائی کو سلام کہئے گا۔۔۔۔اللہ‎ حافظ۔۔۔۔وریٰ نے بات ختم کرتے مسکرا کر کال ڈسکنکٹ کرتے موبائل کو لونگ کوٹ کی جیب میں ڈال کر اردگرد نظر دوڑائی یہاں ہر چیز خوبصورت تھی۔۔۔کینیڈا آئے اسے ایک ہفتہ ہونے والا تھا گھر سے دوری کا غم اب جاکر کم ہوا۔۔۔۔اقصیٰ جو اسکی روم میٹ تھی اس نے بہت مدد کی تھی ورنہ اتنی جلدی نوکری ملنا اس کے بس کی بات نہیں تھی۔۔۔۔۔
وریٰ یہی سوچتی چلتی جا رہی تھی جب اچانک کسی احساس کے تحت اس نے اس سفید بنگلے کو دیکھا۔۔۔یہ جگہ سنسان تھی شام ڈھلتے ہی جیسے ہر منظر دھند میں لپٹا نظر آنے لگا تھا وریٰ کی نظر ایک جگہ ٹھہر گئی آج پھر وہ خوبصورت شہزاہ اسے نظر آیا لیکن آج پھر وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھا جانے کیوں وہ اس سے بات کرنے کے لئے بے چین ہوجاتی تھی۔۔۔اس سے قبل وہ گیٹ پار کرنے کی حماقت کرتی ہارن کی آواز پر چونکی۔۔۔
“ہاہ !! جانے کون ہے چلو وریٰ ورنہ ہاسٹل میں گھسنے نہیں دیں گے۔۔۔۔وریٰ خود کلامی کرتی سرجھٹک کر آگے بڑھ گئی یہ دیکھے بنا کسی نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا تھا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
ام الوریٰ پاکستان کے کراچی شہر کی مالک فیملی سے تعلق رکھنے والی تھی۔۔۔۔ملک حمزہ کا فیملی بزنس تھا وردہ مالک حمزہ انکی کزن تھیں جن سے پسند کی شادی ہوئی تھی۔ دو ہی بچے تھے بڑا بیٹا حمید تو بیٹی ام اوریٰ۔۔۔حمید کے باہر جا کر پڑھنے پر وریٰ نے بھی وہیں جاکر پڑھنے کی ضد باندھلی یہی وجہ تھی کے میٹرک کے بعد وہ آج انجان ملک میں تھی۔۔۔۔
“موبائل کی بپ پر وہ جو ابھی آکر بیٹھی تھی مسکرا کر میسج دیکھنے لگی۔۔
“وریٰ سوئٹی انکل نے آج بھی ڈیڈ کو کال کی ہے تم مان کیوں نہِیں جاتی خود کو ہلکان کیوں کر رہی ہو جب ہم یہاں ہیں پلیز مان جاؤ میں لینے آجاتا ہوں یہاں کمفرٹیبل رہو گی۔۔۔
“عاشر بھائی میں یہاں کمفرٹیبل ہوں مجھے جاب کرنا ہاسٹل میں رہنا اچھا لگ رہا ہے میں ابو سے اس موضوع پر بات کر چکی ہوں انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے اگر میرا موڈ بنا تو آجاؤں گی۔۔۔وریٰ جلدی جلدی میسج ٹائپ کر کے سینڈ کرتی اٹھ کر کپڑے بدلنے چلی گئی۔۔۔ وہ مالک حمزہ کے کزن تھے عاشر انکا بڑا بیٹا ہے جو میرڈ ہے۔۔۔
حمید انکے پاس ہی ٹہرا تھا لیکن وریٰ کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
رات کے پہر نشے کی حالت میں وہ کار ڈرائیو کرتا تیز آواز میں میوزک لگائے وہ خود بھی جھومتا جا رہا تھا ہاتھ ایک ہاتھ اسٹیرنگ پے تھا تو دوسرے میں شراب کی بوتل۔۔۔۔
ایکدم ہی گاڑی جھٹکا کھاتے بند ہوئی ہر طرف ہو کا عالم تھا دھوند نے ہر چیز کو اپنے لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔۔۔لڑکا سرخ ہوتی آنکھوں سے لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکلا۔۔
“واٹ دا ہیل !! غصے سے زور سے گاڑی کو لات مارنا چاہی ۔ لیکن نشے میں ہونے کی وجہ سے خود زمین بوس ہوگیا۔۔۔۔
“کیا میں تمہاری مدد کر سکتی ہوں؟
خوبصورت آواز پر اس نے سر اٹھا کر دیکھا جہاں ایک لڑکی کھڑی مسکرا کر اسے دیکھتی دو زانوں بیٹھی۔۔
“ہائے۔۔۔۔۔
“ہائے!! میرا نام عملیہ ہے۔۔۔۔نازک سفید ہاتھ اس نے گے بڑھایا وہ جو نشے میں تھا کمینگی سے مسکراتا ہاتھ تھام کر اسکے اپنے نزیک کر چکا تھا۔۔۔
“مجھے بہت خوشی ہوگی تمہاری مدد لے کر جانِ من۔۔۔مدہوشی میں کہتا وف اسے نزدیک کرنے لگا عملیہ آنکھوں میں چمک لئے اسکی گردن پے جھک گئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“آہ!! مجھے اور پیاس لگی ہے۔۔۔۔عملیہ نے اسکے چھوڑتے اٹھتے ہوئے اپنے منگیتر سے کہا۔۔۔
اسے ٹھکانے لگواؤ ورنہ کہیں ایسا نہ ہوجائے ڈارلنگ کے میری پیاس بڑھ جائے۔۔زبرین نے عملیہ کی گردن پر اپنے نوکیلے دانت چبھاتے ہوئے کہا۔۔۔
“تمہاری پیاس تو ماظن بھائی نکالیں گے دور رہو۔۔۔۔دونوں ایک دوسرے سے باتوں میں مشغول تھے جب قریب ہی گاڑی آکر رکی۔۔
“مسٹر اتھن۔..
“پریٹی لیڈی لگتا ہے ڈنر کر چکی ہیں آپ۔۔۔ درازقد کندھوں تک آتے بالوں والا اتھن ان کا دوست کم دشمن زیادہ تھا زبرین نے ماتھے پر بل ڈالے اسے دیکھا وہ اسے سخت برا لگتا تھا لیکن اپنے بھائی .ماظن اور اپنے چاچا کی وجہ سے کچھ کر نہیں سکتا تھا۔۔۔ اتھن کے باپ نے دوست بن کر انکے باپ کے پیٹھ پر وار کیا تھا زبرین اپنے باپ کا بدلہ چاہتا تھا۔۔
“ماظن بھائی اس وقت کسی سے نہیں ملتے اتھن۔۔۔۔
“آہ!!! نادان زبرین میں تمہارے بھائی سے ملنے کب آیا ہوں میں تو یہاں اس پریٹی لیڈی کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کے لئے۔۔۔۔اس سے قبل وہ بات مکمل کرتا ہوا سے بھی تیز کوئی اس سے ٹکرایا اتھن اچانک ہوئی افتاد پر دور جا کر گرتے ہی تیزی سے اٹھ کر اسے گلے سے دبوچ چکا تھا ..
“تمہاری اس گستاخی پے میں تمہاری گردن توڑ سکتا ہوں ۔۔
“نہیں اتھن چھوڑ دو اسے…… عملیہ تیزی سے اسکے قریب آئی زبرین کا چہرہ سرخ ہوگیا تھا اتھن نے مسکراتے ہوئے اسے جھکتے سے زمین پر پٹخ کر عملیہ کے چہرے کی جانب ہاتھ بڑھایا جب کسی نے اسکا جبڑا پکڑ کر زمین سے چند قدم اوپر اٹھایا۔۔
“کیا تم جانتے ہو میرے بھائی اور اسکی منگیتر کے ساتھ اس گستاخی پر میں کیا کر سکتا ہوں تمھارے ساتھ۔۔۔۔بھاری سرد آواز پر اتھن حو تڑپ کر رہ گیا تھا نظریں جھکا کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
“ضامن بھائی اسے ختم کردیں۔۔۔
“مجھے مارا تو میرا باپ تمھارے سارے خاندان کو ختم کردے گا ماظن….زبرین کی بات پر اس نے تڑپتے ہوئے بمشکل کہا۔۔۔
“تم دونوں جاؤ یہاں سے میں آکر خبر لیتا ہوں تم دونوں کی۔۔۔
“ماظن بھائی ہم صرف۔۔۔
“عملیہ میں کیا کہ رہا ہوں۔۔۔۔ضامن نے سختی سے اسکی بات کاٹی دونوں پلک جھپکتے ہی غائب ہوگئے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
۔۔۔۔۔۔
“السلام علیکم!! اقصیٰ۔۔۔۔۔۔
“وعلیکم السلام! شکر ہے آگئں ورنہ مجھے لگا تھا آج پھر دیر کردو گی۔۔۔۔۔اقصیٰ بیڈ پر بیٹھی اپنے ہاتھوں پر لوشن لگاتی وریٰ کو دیکھتے ہوۓ بولی۔۔
“تم بھی نہ لڑکی شروع ہی مت ہوجاؤ جانتی ہو میں موسم اور مناظروں میں کھو جاتی ہوں۔۔۔وریٰ نے آہ بھرتے ہوۓ سفید بنگلہ میں رہتے اس شہزادے کو تصور کیا۔۔۔
“ویسے سچ سچ بتاؤ کہاں اتنا وقت لگتا ہے کہیں کوئی پسند تو نہیں آگیا۔۔اقصیٰ کے آنکھیں مٹکا کے پوچھنے پر وریٰ کچھ سوچتی مسکراتے ہوۓ اسکے سامنے بیٹھی۔۔۔
“کیا تم نے دیکھا ہے اُسے سفید بنگلے کے ٹیرس پے ؟ دراز قد دودھ جیسی رنگت کے میری سانولی رنگت کملا جاتی ہے۔۔۔۔اُسکے بھورے بال چہرے پے ہلکی داڑھی ۔۔۔اُففف!! تم اگر اسے دیکھو تو دل ہار جاؤ۔۔۔۔وریٰ چمکتی آنکھوں سے اسے بتاتی دونوں ہاتھوں کی مٹھی بنا کر پرجوش انداز میں بتانے لگی۔۔۔
“ہاہاہا۔۔۔بس کردو اتنا بھی کوئی شہزادہ نہیں ہوگا جتنی تعریف تم اسکی کر رہی ہو۔۔ایکدم ہی اقصیٰ نے ہنس کر اسکا مذاق بنایا۔۔
“ہاں دیکھا ہے کتنی بار کیفے جاتے وقت تبھی تو تمہیں بتا رہی ہوں۔۔ناگوری سے اسے جواب دے کر وہ منہ پھولا کر بیٹھ گئی جب کے اقصیٰ کی ہنسی یوں غائب ہوئی جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔۔۔۔
“کینیڈا آئے تمہں وقت ہی کتنا ہوا ہے صرف ایک ہفتہ میری مانو تو اپنی پڑھائی اور جاب پر توجہ دو اگر ہوسکے تو اس جگہ سے مت گزرا کرو۔۔یکدم ہی جیسے اقصیٰ کے ذہن میں سفید بنگلے کو لے کے کچھ کھٹکا…
“کیوں ؟ وریٰ نے حیرت سے اس سے پوچھا۔۔۔
“کیوں کے ہم نے سنا ہے وہاں کے بنگلے بہت سالوں سے خالی ہیں مجھے حیرت ہے تمہیں کون نظر آگیا ہوسکتا ہے وہ تمہارا صرف وہم ہو۔۔۔یہاں بہت سے مکامات پُراسرار ہیں۔۔۔۔۔اقصیٰ سنجیدگی سے اسے سمجھاتی اٹھ گئی جب کے وریٰ بلکل چپ ہوگئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“وریٰ تم کہاں جا رہی ہو۔۔۔۔اقصیٰ جس کی آنکھ کھٹکے پر کھولی تھی آہستہ سے آنکھیں کھولتی وریٰ کو تیار ہوتے دیکھ کر بولی۔۔۔
“یونیورسٹی پھر وہاں سے کام پر کیوں ؟ وریٰ نے مصروف سے انداز میں اسے دیکھ کر پوچھنے کے بعد اپنے کام میں لگ گئی۔۔۔
“ارے ہاں آہ!! پتہ نہیں بہت نیند آرہی ہے عجیب کمزوری بھی ہو رہی ہے۔۔۔۔اقصیٰ سر کو دباتی دوبارہ سونے لگی وریٰ نے چونک کر اسے دیکھا جو واقعی کل رات کی نسبت سے آج پیلی زرد ہو رہی تھی یوں جیسے کسی نے جسم کا خون نچوڑ لیا ہو۔۔۔۔
“طبیعت ٹھیک ہے کل رات تک تو بلکل ٹھیک تھی تم۔۔۔۔
“ہمم پتہ نہیں آہ!! گردن میں بہت درد ہے شاید ٹھنڈ لگ گئی ہے ٹھیک ہوجاؤں گی تم جاؤ۔۔۔اقصیٰ نے گردن کو ہاتھ سے دھیرے دھیرے دباتے ہوۓ اسے کہا وریٰ ہاتھ سے بیگ رکھتی اسکے نزدیک بیٹھ کر چھونے لگی۔۔۔
“کہاں ٹھیک ہو بیوقوف کتنا تیز بخار ہو رہا ہے تمہیں ایسا کرتی ہوں آج نہیں جاتی میں فون کر کے بتا دیتی ہوں۔۔وریٰ نے ڈپٹتے ہوئے اُسے کہتے اٹھنے لگی جب اقصیٰ نے جلدی سے اسکا ہاتھ پکڑ کر روکتے ہوۓ اٹھ کر بیٹھتے وریٰ کو گھورا۔۔۔
“معذرت کے ساتھ میری بہن لیکن یہ کینیڈا ہے میری فکر مت کرو میں ٹھیک ہوجاؤں گی میں نہیں چاہتی میری وجہ سے تمہاری نوکری جائے اتنی مشکل سے دلوائی ہے تمہیں اب تم جاؤ میں دوائی کھا لوں گی۔۔۔اقصیٰ نے اسے تسلی دی جو سر ہلا کر اٹھ کر بیگ لے کر کمرے سے نکل گئی تھی۔۔۔
“آہ !! اسکے جاتے ہی اقصیٰ نے بائیں جانب گردن پر ہاتھ رکھا جہاں سے ٹیس اٹھ رہی تھی ایکدم ہی وہ ٹھٹھک کر تیزی سے اٹھ کر آئیے کے سامنے جا کھڑی ہوئی سر گھوما کر ابھار کو دیکھا۔۔۔
“یہ یہ کس نے نوچا ہے۔۔۔خود سے بڑبڑاتی وہ خوفزادہ ہوئی یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے گردن کو ادھیڑنے کی کوشش کی ہو۔۔اقصیٰ تیزی سے ڈوپٹہ اوڑھتی کمرے سے نکل کر دوسرے کمرے کا دروازہ نوک کرنے لگی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“وریٰ تو تم پاکستان سے ہو ؟۔۔سمیر نے اسکے سامنے کاؤنٹر پر ٹرے رکھتے ہوۓ مسکرا کر پوچھا۔۔
“ہاں بلکل۔۔۔۔
“زبردست میں بھی پاکستان سے ہوں۔۔۔سمیر مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ کر بولا۔۔۔وریٰ اسکی بات پر مسکرا کر دوسری طرف جانے لگی۔۔۔
“تم۔۔۔۔میرا مطلب ہم کل مووی دیکھنے چلیں۔۔اگر تم چاہو تو ہم کسی بیچ پر بھی جا سکتے ہیں۔۔
“فلحال میں پڑھائی اور کام پر توجہ دینا چاہتی ہوں ہم پھر کبھی چلیں گے۔۔۔وریٰ مسکرا کر اسے انکار کرتی اپنے کام پر لگ گئی۔۔۔
“آ ٹھیک ہے کوئی مسئلہ نہیں میں انتظار کرلوں گا۔۔۔سمیر کندھے اچکاتا کچن کی طرف بڑھ گیا جب کے وریٰ ہنوز اپنے کام میں مگن رہی اسے چھٹی کا انتظار تھا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“اس نے آپ کے بیٹے پر ہاتھ اٹھایا ہے ڈیڈ۔۔۔۔میں ان سب کو آگ لگا دونگا سنا آپ نے۔۔۔اتهن نے غصّے سے اپنے باپ کے سامنے کھڑے ہوکر کہا رہ رہ کے اسے اپنی کم ہمتی پر تاؤ آرہا تھا ماظن کے ساتھ اکیلے مقابلہ کرنا اپنی موت کو خود دعوت دینے کے متعارف تھا
“تحمل رکھو میرے بیٹے یہ کام جوش سے نہیں ہوتے یہ لو پیو۔۔۔ڈریک نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے تھپکی دینے کے ساتھ کانچ کا نازک گلاس اسکے سامنے بڑھایا اتهن نے پکڑ کر ایک ہی سانس میں خون سے بھرا گلاس حلق میں انڈیلا۔۔
“آہ!!! مجھے تازہ خون چاہیے۔۔۔انتظام کروائیں ورنہ میں نے خود کیا تو آپ ناراض ہوجائیں گے۔۔۔اتھن نے برا سا منہ بنا کر اپنے باپ سے کہا اسے خون کا ذائقہ پسند نہیں آیا تھا ڈریک مسکرا کر ملازم کی طرف پلٹا۔۔
“دوسرے شہر سے کسی بھی لڑکی کو اٹھا لاؤ۔۔۔جاؤ۔۔ڈریک کے حکم پر ملازم سر ہلا کر پلک جھپکتے غائب ہوا جب کے اتھن تیزی سے اپنے باپ کے مقابل آیا۔۔۔
“کسی دوسرے شہر سے کیوں۔۔۔
“تم کیا چاہتے ہو ویمپائرز نظروں میں آجائیں پہلے ہی تم نے اپنی تین چار یونیورسٹی کی دوستوں کو مار دیا ہے اگر اسی طرح تم خود پے قابو نہیں کر سکے تو وہ وقت دور نہیں کے پوری دنیا کو ہمارا علم ہوجائے گا۔۔۔ڈریک اپنے بیٹے کو جھڑکتے ہوئے آگے سیڑیوں کی طرف بڑھ گیا جب کے غصّے سے اتهن کی آنکھوں کا رنگ تبدیل ہوتے ساتھ ہی واپس نیلا ہوگیا۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“شکر ہے اللہ‎ کا بارش تھمی۔۔۔ وریٰ دروازے سے باہر دیکھتی شکر کرتی اپنی ساتھی سے بولی۔۔۔
“چلو میں چلتی ہوں رمشا۔۔وریٰ نے وقت دیکھتے جلدی سے اسے کہا۔۔۔
“ٹھیک ہے کل ملتے ہیں پھر۔۔۔رمشا نے مسکرا کر مصافے کے لیے ہاتھ بڑھایا جسے وریٰ نے مسکرا کر تھم لیا۔۔۔
رمشا کے جاتے ہی وریٰ مسکراتی ہوئی اسے جاتے دیکھتی رہی پھر سر جھٹک کر ہاسٹل کی طرف بڑھ گئی۔ ۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“آرہی ہوں ڈونٹ وری۔۔۔بارش اتنی تیز ہوگئی تھی میں نکل نہیں سکی۔۔۔۔۔وریٰ اپنی دوست سے بات کرتے ہاسٹل کی طرف قدم بڑھا رہی تھی بارش اور چھتری نہ ہوبے کی وجہ سے وہ کیفے میں ہی روک کر بارش کے تھمنے کا انتظار کرتی رہی۔۔۔اندھیرا بڑھ گیا تھا وریٰ اردگرد دیکھ کر تیز تیز چل رہی تھی۔۔۔۔جب وہی سفید بنگلے کے سامنے بڑے سے گیٹ کے سامنے رکی۔۔۔۔ہر سو سنناٹے کا راج تھا۔۔ٹھنڈ اور دھند بڑھنے لگی۔۔
“تم تم سن رہی ہو یا نہیں وارڈن دوبارہ چکّر لگائے گی اور اس بار میں اسے جھوٹ نہیں کہوں گی اس لئے بہتر ہے تم جتنی جلدی ہو فوراً آؤ۔۔۔ اقصیٰ نے سختی سے اسے جھڑکا۔۔
دوسری طرف وریٰ جیسے اسکی بات سن ہی نہیں سکی۔۔
“اففف!! یہ موبائل کیسے بند ہوگیا۔۔۔۔وریٰ نے کان سے موبائل ہٹا کر چیک کیا۔۔۔
“ہے پریٹی لیڈی۔۔۔۔۔۔
آواز پر ورِیٰ جھٹکے سے پلٹی سامنے وہی شخص کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔ وریٰ نے محسوس کیا ٹھنڈ مزید بڑھ گئی تھی۔۔۔۔
“ہا۔۔۔ہائے۔۔وریٰ نے دونوں ہاتھ اپنے کوٹ کی جیب میں ڈالے۔۔
“میرا نام ماظن ہے۔۔۔۔ماظن اسی پر نظریں مرکوز کئے بولا۔۔۔۔
“ماظن۔آ مطلب اچھا نام ہے۔۔۔وریٰ بھوکھلاتے ہوئے نظریں اطراف میں گھوماتی دھیرے سے مسکراتے ہوۓ بولی۔۔۔ماظن اسکی بے چینی اور دل کی بڑھتی دھڑکن کو بخوبی سن سکتا تھا وریٰ کی حالت سے محظوط ہوتے وہ ایک قدم آگے بڑھا۔۔۔
“بہت شکریہ مس۔۔۔
“وریٰ ام الوریٰ۔۔۔وریٰ نے روانی میں اپنا نام بتایا اُسے یقین نہیں آرہا تھا اتنے دنوں سے جس کو وہ دور سے دیکھ رہی تھی آج یوں اسکے مقابل کھڑا اس سے بات کرے گا۔۔۔
ماظن نے اسکے نام بتانے کے انداز پر مسکراہٹ ضبط کرتے آبرو اچکائی۔۔۔
“خوبصورت نام ہے وریٰ ام الوریٰ۔۔۔۔ماظن نے جان بوجھ کر نام اس کی طرح لیا۔۔۔
“نہیں ام الوریٰ صرف۔۔۔۔وریٰ نے شرمندہ ہوتے ہوۓ دوبارہ اپنا نام دوہرایا اس سے قبل ماظن کچھ کہتا اسکے موبائل پر کال آنے لگی۔۔۔
“آ۔۔۔مجھے دیر ہو رہی ہے۔۔۔میں چلتی ہوں۔۔۔۔وریٰ کال کاٹتی ماظن سے بولتی مسکرا کر آگے بڑھ گئی جب کے ماظن ہنوز اسی طرح کھڑا وریٰ کو جاتے دیکھتا رہا جب وریٰ نے پلٹ کر اسے دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔۔۔ماظن کی آنکھوں کا رنگ تبدیل ہو گیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: