Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 2

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 2

–**–**–

شب خوابی کا لباس تبدیل کر کے وریٰ سونے کے لیے بیڈ پر نیم دراز ہوئی ۔۔۔
“ماظن۔۔۔۔وریٰ نے آہستہ سے اسکا نام لیا گردن گھوما کر اقصیٰ کو دیکھا جو طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے دوائی کھا کر سو گئی تھی۔۔۔۔وریٰ کے نام لیتے ہی باہر زور سے بادل گرجے ساتھ ہی کمرے کی کھڑکی کے شیشے پے ٹپ ٹپ موٹی بوندیں گرنے لگیں وریٰ تیزی سے اٹھ کر دونوں پٹ وا کرتی مسکرا کر تیز ہوتی بارش کو دیکھ کر آنکھوں کو موند کر بارش کو محسوس کرنے لگی ایکدم بند آنکھوں کے پیچھے ماظن کا عکس لہرایا ساتھ ہی یوں محسوس ہوا جیسے وہ آس پاس ہو۔۔۔۔ جانے کون سی کشش تھی جو اسکی طرف کھنچ رہی تھی ورنہ کبھی کسی لڑکے سے اسکی دوستی نہیں رہی تھی لیکن کینیڈا آتے ہی اسے کیا ہوتا جا رہا تھا۔۔۔۔
یہی سوچتی وہ کتنے ہی لمحے اسی طرح کھڑی رہی جب اچانک ہوا کے جھونکے ساتھ اسکی گردن پر کچھ چبھا۔۔وریٰ جھٹکے سے ہوش میں آتی اطراف میں دیکھنے کے بعد گہرا سانس لیتی کھڑکی بند کرکے گردن سہلاتی واپس اپنی جگہ پر آکر لیٹ گئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ کے سوتے ہی ماظن مسکراتے ہوۓ اس پر جھکنے لگا ورِیٰ کے خون کی طلب اسے کب سے بے چین کر رہی تھی لیکن وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا اسلئے اسے دیکھنے سے گریز کئے ہوئے تھا لیکن کب تک اس سے قبل وہ اس کے خون سے سراب ہوتا اقصیٰ جو کب سے سو رہی تھی گلا خشک ہونے کی وجہ سے اٹھنے لگی ماظن آہٹ پر برق رفتاری سے سیدھا ہوا اقصیٰ کسی کی موجودگی محسوس کرتے جیسے ہی وریٰ کی جانب پلٹی کسی کو نہ پا کر گہرا سانس لے کر دوبارہ پلٹ کر پانی گلاس میں انڈیلنے لگی اس سے قبل وہ گلاس اٹھاتی کسی نے اسکے لبوں پر ہاتھ جماتے اسے ساتھ لے کر تیزی سے ہاسٹل کے ویٹنگ ایریا میں لے جا کر چھوڑا رات کا وقت ہونے کی وجہ سے ہر طرف سنناٹا تھا۔۔۔اسکے چھوڑتے ہی اقصیٰ کھانستے ہوۓ خوف سے اپنے سامنے حسین مرد کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
“ہائے سوئٹی ۔۔۔۔مجھے تمہارا خون چاہیے تھوڑا سا ماظن کہتے ہی پلک جھپکتے اسکے نزدیک بیٹھا۔۔۔اقصیٰ کا پورا وجود سرد پڑھنے لگا۔۔خوف سے اسکا دل بند ہونے لگا جب کے ماظن اسکی حالت باخوبی سمجھ رہا تھا۔۔
“مجھے معاف کر دینا سوئٹی۔۔۔۔کردو گی نہ ؟ ماظن معصومیت سے پوچھتا جھکا۔۔۔کچھ ہی دیر میں کمرہ خالی تھا سوائے ایک وجود کے جس میں زندگی کی رمق باقی نہیں رہی تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
اگلے دن ہاسٹل میں ایک کہرام مچ گیا تھا سب ویٹنگ ایریا کے پاس جھمگھٹا لگائے کھڑے تھے۔۔اقصیٰ کے قتل کی وجہ سے سب میں خوف و حراس مچ گیا تھا۔۔۔وریٰ کو جب علم ہوا وہ بھی وہیں آگئی۔۔۔
“تم روم میٹ تھی نہ اقصیٰ کی۔۔۔۔وریٰ جو آنکھوں میں آنسوں لئے اقصیٰ کو لے جاتے دیکھ رہی تھی پیچھے سے کسی کی آواز پر پلٹ کر حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔
“اتنی حیرانگی کس لئے میں جھوٹ تو نہیں کہ رہی تمہیں نہیں معلوم وہ رات کو کس سے ملنے آئی تھی۔۔۔
“کیا مذاق ہے یہ صنم اگر وہ کسی سے ملنے جائے گی بھی تو یہاں کیوں بلائے گی عقل کی بات کرو۔۔۔۔صنم کی دوست نے ایکدم اُسے ٹوکا جو وریٰ پے آنکھیں جمائے کھڑی تھی۔۔۔
“لڑکیوں سب کمرے میں جاؤ فورن کوئی کہیں نہیں جائے گا جب تک یہ معاملہ حل نہ ہوجائے۔۔۔وارڈن نے کرخت لہجے میں سب کو کہا۔۔۔ صنم سر جھٹک کر اپنی دوست کے ساتھ آگے بڑھ گئی۔۔۔
“اسکی باتوں کو اتنا سنجیدگی سے مت لو تفتیش کاروں کو یہ کسی ویمپائر کا کام لگ رہا ہے۔۔۔اولیویا اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتی رازداری سے بولی وریٰ نے شدید حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
“یہ کیسے ممکن ہے۔۔۔۔وریٰ نے تھوک نگھلتے اسے دیکھا جو اسکا ہاتھ تھام کر کھینچتے ہوۓ کمرے کی طرف بڑھی وریٰ سن ہوتے دماغ کے ساتھ اسکے ساتھ کھیچتی چلی گئی۔۔اولیویا نے کمرے میں آتے ہی دروازہ بند کیا
اولیویا اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتی بالوں کو کلپ سے آزاد کرتی اسکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
“تم یہاں پہلی بار آئی ہو ؟ اولیویا نے سنجیدگی سے اس سے پوچھا جس نے غائب دماغی سے سر اثباب میں ہلایا۔۔۔
“ہمم شاید نہیں یقیناً پھر تم ناواقف ہو۔۔۔۔دو دن پہلے ہی ایک لڑکے کی لاش ملی تھی اس سے پہلے بھی طالباؤں جس میں اکثریت لڑکیوں کی تھی ان کی بھی اسی طرح موت ہوئی ہے۔۔۔سننے میں یہی آتا ہے کے یہ کام انسان یا جانوروں کا نہیں دوسری مخلوقوں کا ہے جیسے ویمپائرز کا۔۔۔اولیویا بولتے بولتے ایکدم خاموش ہوتی سائیڈ پر رکھے جگ سے پانی انڈیلنے لگی وریٰ خاموشی سے پانی کو گلاس میں گرتے دیکھتی رہی اگر یہ سچ تھا تو اسے یہاں سے چلے جانا چاہیے۔۔۔
“کک کسی نے انہیں دیکھا ہے اولیویا۔۔وریٰ نے سرسراتے لہجے میں اس سے پوچھا جو گلاس لبوں سے لگاتی ایک ہی سانس میں غٹاغٹ پانی پی گئی تھی۔۔۔
“ہاہ!!! نہیں اور کبھی ایسا وقت ہم پر نہ آئے کیونکہ جو انہیں دیکھتا ہے انہِیں دوبارہ دنیا دیکھنے کا موقع نہیں ملتا۔۔۔میں نے پڑھا ہے ویمپائرز رات کو شکار کرتے ہیں اس لئے تم بھی احتیاط کرنا انکے روپ الگ الگ ہوتے ہیں لیکن مقصد صرف ایک “خون”
اولیویا کندھے اچکا کر بتا کر اٹھ کر جاتے جاتے دروازے پر روک کر پلٹی وریٰ ہنوز سوچوں میں گم تھی۔۔۔
“ہاہ!!! اس کا خون اتھن کے لئے بہترین تحفہ ہوگا۔۔۔۔۔آنکھوں کو میچ کر اولیویا سونگھتی ہوئی سوچتے ہوۓ کمرے سے نکل گئی۔۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“السلام علیکم!! عاشر بھائی میں وریٰ۔۔۔۔
“وعلیکم اسلام ! جانتا ہوں لڑکی ابھی خبر معلوم ہوئی اور میں تمہیں لینے آرہا ہوں۔۔۔عاشر مسکراتے ہوۓ ایکدم سنجیدگی سے بولا۔۔وریٰ دھڑکتے دل کے ساتھ چور نظروں سے اردگرد دیکھ رہی تھی۔۔۔
“وہ عاشر بھائی۔
“خاموش رہو وریٰ میں اور ماہی پہنچ رہے ہیں اپنا جو سامان ہے سیمت لو میں خود بات کرلوں گا ٹھیک ہے۔۔۔عاشر نے اسکی بات کاٹی عاشر کی بات سن کر وریٰ نے پرسکون سانس لے کر فون رکھا۔۔۔۔پھر اٹھ کر جلدی جلدی اپنا سامان بیگ میں رکھنے لگی۔۔۔۔
کچھ دیر میں اسے عاشر کے آنے کا پیغام ملا وریٰ خوش ہوتی جلدی سے آفس پہنچی۔۔۔
“السلام علیکم عاشر بھائی۔۔۔۔وریٰ کی آواز پر کمرے میں بیٹھے افراد اسکی طرف پلٹے وریٰ کی مسکراہٹ ایکدم حیرت میں بدلی عاشر بھائی اور انکی بیوی کے ساتھ وہی شخص کھڑا تھا جس کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے وہ اس سنسان سڑک کا انتخاب کرتی تھی۔۔۔
“ماظن۔ ۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“ماظن۔۔۔۔
“وعلیکم السلام!! میں نے بات کر لی ہے وریٰ۔۔ہمیں اب چلنا چاہیے۔۔۔عاشر نے اٹھ کر اسکے قریب آکر مسکرا کر کہا۔۔۔ماہی بھی کرسی سے اٹھ کر مسکراتی ہوئی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“تم ملے ہو اس سے؟ ماہی نے آہستہ نے ماظن سے پوچھا جو اسکی بات پر سپاٹ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا۔۔
“ہمم ملا ہوں ایک بار۔۔۔۔ماظن اسی پر نظریں مرکوز کئے بولا جو عاشر سے مسکرا کر باتیں کر رہی تھی۔۔۔ماظن کی بات پر ماہی چونکی۔۔۔
“کیا یہ ہمارے علاقے میں داخل ہوئی تھی؟ ماہی نے سرسراتے لہجے میں اُسے دیکھ کر پوچھا۔۔۔
“یہ سب چھوڑو کیا وہ جانتی ہے تم لوگ کون ہو ؟ ماظن اسے دیکھ کر ہلکے سے جھک کر اسکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑھ کے بولا۔۔۔
“نہیں اسے جاننے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔۔۔ہاہ! ویسے اب ہمیں چلنا چاہیے ہمارے دشمن بھی انسان کے بیچ پناہ لئے بیٹھے ہیں۔۔ ماہی سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے بولتی سانس کھنچ کر تیز نظروں سے اطراف کا جائزہ لیتے ہوۓ اسے کہتی وریٰ کی جانب بڑھی۔۔۔
“کیسی ہیں آپ؟ وریٰ خوش گوار لہجے میں بولتی ماہی کے گلے لگی ایکدم ہی ماہی بری طرح گھبرا کر اس سے الگ ہوکر مسکرا کر گردن گھوما کر ماظن کو دیکھنے لگی۔۔۔
“چلیں ہمیں دیر ہو رہی ہے۔۔عاشر کی آواز پر ماہی چونکی۔۔۔
“آ۔۔ہمم چلیں۔۔۔ماہی سر جھٹک کر وریٰ کے ساتھ باہر نکل گئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
گھر کے بیرونی گیٹ پر گاڑی کے روکتے ہی وریٰ جو کب سے کنکھیوں سے آگے ساپٹ چہرے کے ساتھ بیٹھے ماظن کو دیکھ رہی چونک کر دائیں جانب گردن گھوما کر شیشے سے باہر دیکھ رہی تھی چونک کر سفید چھوٹے مگر خوبصورت بنگلے کو دیکھ کر حقیقتن حیرت کے سمندر میں ڈوب کر ابھری تھی۔۔۔وہی سفید بنگلہ جہاں اسے ساتھ بیٹھا شہزاہ دکھا تھا۔۔۔۔۔کیا واقعی وہ شہزاہ تھا یا یہ اسکی صرف خام خیالی تھی۔۔۔
بنگلے کا بیرونی گیٹ کھولتے ہی گاڑی اندر داخل ہوئی۔۔۔رات کے سوا ایک بجے کا وقت تھا گاڑی کے اندر جاتے ہی سڑک دوبار اندھیرے میں ڈوب گئی ساتھ ہی دھوند بڑھنے کے ساتھ دور سے الو کی آواز نے ماحول کو کافی ہولناک کر دیا تھا۔۔۔
“وریٰ اترو۔۔۔ماہی گاڑی کے دروازے کے ہینڈل پر ہاتھ رکھتے گردن گھوما کر اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کے بولی وریٰ جو گردن موڑے حیران و پریشان سب دیکھ رہی تھی گھبرا کر انکی جانب متوجہ ہوئی۔۔۔ماظن ایکدم مسکرا کر باہر نکلا وہ اسکے دل کی دھڑکن بخوبی سنائی رہی تھا۔۔۔ اس سے قبل وہ باہر نکلتی ماظن تیزی سے اندر چلا گیا وریٰ گاڑی سے باہر آتے ہی اردگرد دیکھتی کسی کی نظروں کی تپش خود پے محسوس کرتے جیسے ہی سر اٹھا کر کھڑکی کی جانب دیکھا ماظن کو کھڑا دیکھ کر منہ اور آنکھیں دونوں کھول گئے۔۔
“چلو وریٰ سب تمہارا ہی انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔عاشر ایک نظر ماظن کو دیکھ کر وریٰ سے بولا جس نے سر جھٹک کر ان دونوں کے ساتھ اندر قدم بڑھائے تھے۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“تم سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔۔وریٰ (wara)
وہ جو اردگرد گھر کو دیکھ کر متاثر ہو رہی تھی آواز پر ہوش میں آتی مقابل کھڑی عورت کو دیکھنے لگی گوری چٹی دراز قد سیاہ آنکھوں والی عورت اسے ماظن(maazin) کی ماں لگ رہی تھی۔۔
“شکریہ آنٹی۔۔۔وریٰ آگے بڑھ کر ہچکچاتے ہوۓ ان سے مل کر مسکرائی۔۔۔
“تکلف مت کرو تمہارا اپنا ہی گھر ہے۔۔۔ماہی وریٰ کو کمرہ دکھا دو۔۔۔۔تمہاری ساس سو رہی ہیں۔۔۔۔ماہ (maah) بیگم اسے بغور دیکھ کر ماہی کو بتاتیں دھیرے سے مسکرائیں۔۔
“ٹھیک ہے۔۔۔میں ان سے کل مل لوں گی وریٰ مسکراتی ہوئی سر ہلا کر ماہی کو دیکھنے لگی ماہی جھٹ اسے پیچھے آنے کا اشارہ کرتی لمبی گول شیشے کی سیڑیوں کی جانب پڑھنے لگی۔۔۔وریٰ نے پہلی دفع شیشے کے طرز سے بنی سیڑیاں یہاں دیکھیں۔۔۔سیڑیوں پے نظریں مرکوز کئے وہ آگے بڑھ گئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
زبرین (zabreen) کمرے سے نکلتا وریٰ کے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔اس سے قبل وہ دروازے تک پہنچتا ماظن اس کے مقابل آیا زبرین تیزی سے پیچھے ہوا ورنہ تصادم یقینی تھا۔۔۔
“بھائی جان۔۔۔زبرین نے اسے دیکھنے کے بعد دروازے کی طرف اشارہ کیا۔۔
“اسے خطرہ ہے تبھی پاپا کے کہنے پر وہ یہاں ہے۔۔ماظن سنجیدگی سے بولتا دونوں ہاتھ موڑ کر پشت پر ٹکائے اسی پے نظریں جمائے کھڑا تھا ماظن کی بات پر زبرین کے ماتھے پر بل پڑے۔۔
“یہ مشکل ہوگا وہ انسانی لڑکی ہے۔۔۔زبرین نے فکرمندی سے اپنے بڑے بھائی کو دیکھا۔۔
“یہ اسکی غلطی ہے۔۔۔۔۔ماظن سرسراتے لہجے میں بولتا آگے بڑھ گیا۔۔۔
ماظن کے جاتے ہی زبرین کمرے کی طرف قدم بڑھاتا پرسوچ انداز میں بند دروازے کو دیکھنے لگا۔۔
“اس سے فلرٹ کرنے کا سوچنا بھی مت وہ کچھ دنوں کی مہمان ہے۔۔۔۔عملیہ(Amelia) کی عقب سے آتی آواز پر زبرین نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔
“فکر مت کرو فلرٹ کرنے کے لئے بہت سے انتخاب ہیں میرے پاس۔۔۔زبرین نے شرارت سے اسے کہا زبرین ہمیشہ اسے یونہی چڑاتا تھا اور وہ چڑ بھی جاتی تھی لیکن اسکے باوجود دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے تھے۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
ماہی اسے کمرے میں چھوڑ کر جا چکی تھی وریٰ کمرے کے درمیان میں بیڈ کے پاس کھڑی گردن گھوما کر اطراف کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔ دو بیگ صوفے کے پاس نیچے رکھے ہوۓ تھے وریٰ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اپنے بیگ پے نظریں مرکوز کرتی آگے بڑھ کر آہستگی سے نیچے بیٹھی ہاتھ بڑھا کا بیگ پے رکھے ہینڈ بیگ کو اپنی طرف کھنچ کر زپ کھول کر اپنا موبائل ٹٹول کر نکال کر چیک کرنے لگی۔۔
“گھر پے اطلاع کر دیتی ہوں۔۔۔خود سے بولتی وہ نمبر ملانے لگی جب اچانک ہی ٹھنڈ کے احساس نے اسے بری طرح چونکایا ہاتھ میں تھامے موبائل کو مضبوطی سے پکڑے گھبرا کر کھڑی ہوتے پلٹ کر تیزی سے نظروں کو کمرے میں دوڑاتی گہری سانس لے کر آگے بڑھ کر موبائل صوفے پر رکھتی نیچے بیٹھ کر شب خوابی کا لباس نکال کر وریٰ باتھروم چلی گئی۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
صبح کے ساتھ بج رہے تھے جب اچانک وریٰ نیند سے بیدار ہوئی۔۔اجنبی جگہ دیکھ کر ناسمجھی سے کمرے کو دیکھتے رہنے کے بعد صوفے کے ساتھ رکھے بیگ پے نظر پڑھتے ہی کل کا سارا منظر زہن میں گھوم گیا۔۔
“ہاہ!! گہری سانس لے کر وریٰ تکیے پے سر گرا چھت کو دیکھنے لگی ایکدم اسے گھر پے اطلاع دینے کا خیال آیا۔۔۔
تیزی سے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا کر فون ملانے لگی۔۔۔
“السلام علیکم! ابو کیسے ہیں۔۔۔اپنے باپ کی آواز سنتے ہی وریٰ نے مسکرا کر پوچھا دوسری طرف مالک حمزہ جو اسٹڈی روم میں بیٹھے تھے شفقت سے مسکرائے۔۔
“وعلیکم اسلام! میری بیٹی آپ کی آواز سنتے ہی اور اچھا ہوگیا۔۔۔مالک حمزہ کی بات پر وریٰ مسکرائی۔۔
“امی اور بھائی کیسے ہیں ابو؟ وریٰ اٹھ کر کھڑکی سے پردہ ہٹا کر باہر کا منظر دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگی کمرے کی کھڑکی عقبی طرف کھولتی تھی گلابی درختوں کا جھنڈ سامنے ہی تھا وریٰ نے پہلی دفع اتنے قریب سے دیکھ رہی تھی۔۔
“دونوں ٹھیک ہیں۔۔مجھے کاین (Kian) کا فون آیا تھا کل جو ہوا اچھا کیا کے ان کے ساتھ آگئی میں پہلے ہی تمھارے ہاسٹل رہنے کے حق میں نہیں تھا۔۔۔مالک حمزہ کی آواز پر وہ جو سامنے کا منظر دیکھنے میں گُم تھی چونک کر انکی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
“لیکن ابو یوں اچھا نہیں لگتا۔۔۔۔وریٰ نے ہچکچا کر انہیں کہا جو اس کی بات پر مسکرائے تھے۔۔۔
“تمہارا بھائی بھی وہیں رہا ہے۔۔بہت اچھے لوگ ہے اور محفوظ بھی۔۔مالک حمزہ اسے سمجھاتے اپنی جگہ سے اٹھ کر باہر کی طرف بڑھنے لگے ساتھ وہ اسے وہاں رہنے پر قائل کر رہے تھے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“ٹھک ٹھک ٹھک !!
“آجائیں۔ ۔۔۔وہ جو نہا کر آیئنے کے سامنے کھڑی بالوں کو سلجھا رہی تھی دروازہ بجنے پر چونک کر گردن گھوما کر اندر آنے کی اجازت دیتی پوری گھوم کر آنے والے کا انتظار کرنے لگی۔۔۔
“صبح بخیر !! کیسی ہو؟ علمیہ مسکراتے ہوۓ خوش گوار لہجے میں کہتی اندر بڑھی۔۔جب کے وریٰ اسے دیکھتی رہ گئی۔۔۔
“میں علمیہ کیف ہوں۔۔تمہارے ابو کے دوست کاین کے چھوٹے بھائی کی اکلوتی بیٹی۔۔۔عملیہ اپنا تعارف کرواتی اپنا سفید نازک ہاتھ اسکے سامنے بڑھا چکی تھی جسے وریٰ نے جھجھک کے تھاما تھا۔۔۔
“تم سے مل کر اچھا لگا۔۔۔بہت خوبصورت بال ہیں تمھارے۔۔۔عملیہ ہاتھ چھوڑتی نظروں کا زاویہ اسکے لمبے سیاہ بالوں کو دیکھ کر آنکھوں میں چمک لئے بولی وریٰ نے چونک کر نظر جھکا کر پشت پر بکھرے بالوں کو نظر ترچھی کر کے دیکھنے کے بعد دونوں ہاتھوں سے بالوں کو لپیٹ کر دوبارہ نظر اسکی طرف مرکوز کر کے مسکرائی تھی
“بہت شکریہ۔۔۔آ مجھے لگتا ہے اب چلنا چاہیے۔۔وریٰ مسکرا کر اسے بولی جس نے اسکے دیکھنے پر اپنے لبوں کو مسکراہٹ میں بدلہ تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے تم بال باندھ لو پھر چلتے ہیں۔۔۔عملیہ کہتے ہوۓ صوفے پر شاہانہ انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔جب کے وریٰ ایک نظر اسے دیکھ کر پلٹ گئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
بڑے سے کمرے میں ایک جانب فل سائز کا بیڈ اس وقت خالی تھا۔۔۔دروازہ بجاتے ہی بنا آواز کے دروازہ کھولتے لمبا چوڑا ہیولہ اندر داخل ہوتا آگے بڑھنے لگا۔۔۔اندھیرے میں کھڑکی کے پاس کھڑا شخص جو اس سے ایک انچ لمبا تھا ایکدم اسکی آواز کمرے میں گونجھی۔۔۔
“ماظن! ملک حمزہ کی بیٹی کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔۔۔۔بھاری آواز کمرے میں گونجی۔۔۔
“پاپا آپ کو نہیں لگتا اسے مجھ سے خطرہ ہو سکتا ہے. ماظن نے رنگ بدلتی نظروں کے ساتھ اپنے باپ کو دیکھا۔۔
کاین نے سکون سے گردن گھوما کر اسے دیکھا اسکا باپ اپنے اصل روپ میں اسکے سامنے تھا۔۔۔
“ہم انسانوں کا خون نہیں پیتے پھر تم یہ بات کیسے کر سکتے ہو۔۔۔۔سرد لہجے میں کہتے وہ پورا اسکی جانب پلٹے۔۔ماظن نے دونوں ہاتھوں کو بھنج کر کھولا دونوں ہاتھوں کے ناخن تیز نوکیلے ہوگئے۔۔۔
“ہر انسان کا نہیں پاپا۔۔۔۔پرسرار انداز میں اپنے باپ کو دیکھ کربولتا وہ پلٹ کر دروازے تک جا کر سر گھوما کر انہیں دیکھنے لگا جو اسی کو دیکھ رہے تھے۔۔
“بے فکر رہیں یہ لڑکی اتنی بھی توجہ طلب نہیں۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: