Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 3

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 3

–**–**–

نوٹ: کہانی کے کرداروں سے لے کر جگاہوں تک سب فرضی ہے۔۔
رائیٹر کی اجازت کے بنا کاپی کرنا منا ہے۔۔!! ⚠️🚫 شکریہ
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ جیسے ہی عملیہ کے ساتھ حال میں آئی اردگرد دیکھتی ایکدم عملیہ کی جانب گھومی لیکن عملیہ کے ساتھ خوبصورت سے لڑکے کو دیکھ کر حیران ہوتی اُسے دیکھنے لگی جو ماظن سے مشاہبت رکھتا تھا۔۔۔
“صبح بخیر !! زبرین اس کے تاثرات دیکھتا قدم اٹھاتا اسکے قریب آیا۔۔۔وریٰ نے سر کو جمبش دیتے عملیہ کو دیکھا۔۔
“یہ بڑے پاپا کے چھوٹے صاحبزادے اور میرے منگیتر ہیں زبرین کاین۔۔۔عملیہ اسکے دیکھنے پر تعارف کرواتی مسکرا کر نزدیک آئی وریٰ نے مسکرا کر اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا۔۔
“مل کر خوشی ہوئی زبرین کاین۔۔۔۔۔وریٰ نے مسکرا کر کہا زبرین نے ہاتھ ملایا تینوں مسکرا کر باتیں کرتے عملیہ کی والدہ کے کمرے کی طرف بڑھ رہے تھے جب ایکدم ماظن کو دیکھ کر روک گئے۔۔۔ماظن کو دیکھتے ہی وریٰ کا دل دھڑکا جسے بخوبی ماظن نے سنا تھا سنجیدگی سے اسے دیکھتے دونوں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ایک دوسرے کے مقابل آکر روکے۔۔
“امید ہے آپ رات کو آرام سے سوئی ہونگی۔۔۔۔ماظن نے اپنی بھاری آواز میں سپاٹ لہجے میں پوچھا۔۔وریٰ نے سر اثباب میں ہلا کر نظریں جھکائیں اسکے آتے ہی ایک بار پھر وریٰ کو ٹھنڈ کا احساس ہوا تھا۔۔۔
“گڈ! ماظن سرہلاتا رکے بغیر آگے بڑھ گیا۔۔۔زبرین اور عملیہ جو ماظن کو ہی دیکھ رہے تھے اسکے جاتے ہی ایک دوسرے کو دیکھ کر وریٰ کو لے کر آگے بڑھ گیا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ عملیہ کی ماں سے مل کر عملیہ کے ساتھ میز کے گرد کرسی پر بیٹھی جوس پی رہی تھی جب ملازم عملیہ کے عقب میں آکر روکا۔۔۔
“بڑے صاحب مہمان سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔انکا حکم ہے ناشتے کے بعد ان سے آکر مل لیں دس منٹ ہیں صرف۔۔۔ملازم کہتے ہی سپاٹ چہرے کے ساتھ واپس چلا گیا وریٰ کو وہ عجیب لگا۔۔۔
“میں کر چکی ہوں ناشتہ چلو چلتے ہیں۔۔۔وریٰ ایکدم کانچ کے گلاس کو پیچھے کرتی کھڑی ہوئی عملیہ نے چونک کر اسکے گلاس کو دیکھا جس میں آدھا جوس بچا ہوا تھا۔۔۔
“آرام سے ختم کرو اتنی بھی جلدی نہیں ہے۔۔۔
“نہیں بس میرا ہوگیا۔۔۔وریٰ کندھے اُچکاتی مسکرا کر آگے جاتی ایکدم رک کر پلٹی جب کے عملیہ گہری نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔
“چلو ورنہ یہاں تو میں اکیلی گم ہوجاؤں گی۔۔۔وریٰ نے شرارت سے اُسے کہا جو چونک کر مسکرائی تھی۔۔
“چلو۔۔۔عملیہ بولتی ہوئی اسکے ساتھ آگے بڑھ گئی دونوں کے جاتے ہی کوئی میز کے نزدیک آکر روکا ہاتھ بڑھا کر گلاس اٹھا کر کچن کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
گلاس میں آدھے جوس کو سنگ میں اُنڈیلا جود کے ڈالتے ہی سنگ سرخ ہوگیا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“خوش آمدید!! اندر آجاؤ۔۔۔کاین آفس جانے کے لئے تیار ٹائی باندھ رہا تھا جب وریٰ کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ پلٹے۔
وریٰ انہیں دیکھتے ہی اس گھر کے شہز ادے کی خوبصورت ہونے کی وجہ پا گئی لیکن اس گھر میں سب بےتحاشا خوبصورت ہونے کے ساتھ پراسرار بھی تھے اور اُسے یہی کشش یہاں تک لائی تھی۔۔
“انکل کاین آپ سے مل کر خوشی ہوئی۔۔۔۔ وریٰ مسکراتی ہوئی بول کر آگے بڑھی جب کاین نے اسے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔وریٰ ان کے اشارے پر ایکدم روک کر چونکتی ہوئی صوفے کی جانب بڑھ گئی۔۔
“شکریہ۔۔۔آپ کام پر جا رہے ہیں۔۔۔وریٰ نے بیٹھتے ہوۓ ان سے پوچھا۔۔
کاین ٹائی باندھ کر اس پر نظریں جما کر پراسرار سا مسکرائے۔۔۔
“کام کرنا بھی بہت ضروری ہے۔۔ اس سے قبل دونوں میں کوئی اور بات ہوتی دروازہ کھٹکھٹاتے ہی ماظن اندر آیا لیکن وریٰ کو دیکھ کر اس کی نظروں میں ناگواری در آئی جسے سر جھٹک کر اپنے باپ کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
“پاپا ماں آپ کا انتظار کر رہی ہیں۔۔
“ٹھیک ہے چلو۔۔۔ماظن کی بات پر کاین نے سر ہلا کر کوٹ بازو پر ڈالتے وریٰ کو مسکرا کر دیکھ کر دروازے کی طرف بڑھ ماظن کے قریب آکر رکے
“خیال رکھنا۔۔۔کاین کہتے باہر نکل گئے ماظن نے نظروں کا زاویہ اسکی جانب گھومایا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی ماظن کے دیکھنے پر اٹھ کر چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے مقابل آکر رکی۔۔۔
“لگتا ہے آپ زیادہ بولتے نہیں ہیں۔۔۔وریٰ نے سر اٹھا کر اسے دیکھ کر پوچھا جو اسکی بات پر وریٰ کے چہرے کے نزدیک جھکا تھا۔۔
“یہ تمہارے لئے فائدے مند ہے۔۔۔مجھ سے جتنا دور رہوگی اتنا اچھا ہے۔۔۔ماظن نے کہتے ساتھ اسکی گردن پے ہاتھ رکھ کے انگوٹھے سے سہلایا جو صرف اسے دیکھ رہی تھی ایسے جیسے اس نے اسے مسمرائیز کردیا ہو۔۔۔
ماظن بات مکمل کرتا نرمی سے اسے چھوڑ کر کمرے سے نکل گیا تھا جب کے وریٰ ہنوز اسکی قربت کو محسوس کرتی آنکھوں کو موندتی مسکرائی تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“مغرب کا وقت تھا جب سفید بنگلے کے سامنے سائیکل پر سمیر کافی شاپ سے سیدھا وہاں ورِیٰ سے ملنے آیا۔۔۔سمیر اردگرد دیکھ کر تھوڑا خوفزادہ ہوا سفید بنگلے کو ہر طرف سے دھند نے اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا۔۔۔سائیکل کو دیوار کے ساتھ کھڑی کرتا اتر کر جیسے ہی وہ گیٹ کو کھول کر اندر داخل ہوا انسان کی موجودگی نے جیسے وہاں ہلچل کر دی تھی۔
ایکدم وہ کھڑکی کھول کر گیٹ کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔
سمیر کو دیکھتے ہی اس نے مسکرا کر دوبارہ کھڑکی بند کی۔۔
“افف!! سمیر چھوڑ اسے یہ تو کتنا خوفناک لگ رہا ہے حیرت ہے وریٰ نے رمشا کو یہاں کا پتہ کیوں دیا یہاں تو کوئی رہتا ہی نہیں ہے سمیر خود سے بڑبڑاتا وہ رک گیا۔۔۔
اچانک اسکے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا اس سے قبل اسکے حلق سے چیخ نکل کر ماحول کو اور ہولناک بنا دیتی۔۔کسی نے اسکی آواز دبا کر اسکے بالوں کو جکڑ کر اپنے دانت اسکی گردن میں گاڑ دئیے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“ماظن۔۔۔۔
ماظن جو اپنے باپ کے ساتھ پارٹی میں آیا ہوا تھا بیزار ہونے کی وجہ سے اکیلے کھڑا تھا آواز پر پلٹا سامنے ہی شارٹ اسکرٹ کے ساتھ سلیولیس شرٹ پہنے گولڈن بالوں والی جیسکا (jessica) اتھن کی چھوٹی بہن کھڑی تھی۔۔۔جیسکا اتھن کو پسند کرتی تھی وہ جانتی تھی ان دونوں کی فیملی ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے اس کی وجہ بھی اسکا باپ تھا جس نے اسکے باپ کاین کے کاروبار کو برباد کرنے کے ساتھ اسے مارنے کی کوشش کی تھی۔۔۔
ماظن اُسے دیکھ کر دلبرانہ انداز میں اسے سر تا پیر دیکھ کر اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکے کان کے نزدیک جھکا تھا۔۔۔
“آج ہہ حسینہ یہاں کا راستہ کیسے بھول گئی۔۔۔
💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“کافی وقت سے تم سے ملاقات نہیں ہوئی اسلئے سوچا میں خود آجاؤں ورنہ تم تو خود ملتے ہی نہیں ہو۔۔۔۔جیسکا نزاکت سے بولتی ہوئی اسکے مقابل آئی۔۔۔
ماظن آنکھوں میں چمک لئے اُسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
“تو تم خود آجایا کرو نہ جانتی تو ہو کتنا مصروف ہوتا ہوں کام کی وجہ سے۔۔۔۔ماظن نے ہاتھ پکڑتے ہوۓ اُسے کہا۔۔
“ٹھیک ہے پھر میں چلتی ہوں ابھی تمہارے ساتھ ویسے بھی آنٹی ماہ سے بھی ملاقات نہیں ہوئی۔۔۔
جیسکا اچانک اُسے چلنے کا اشارہ کرتی ہوئی بولی ماظن اسکی بات سن کر پُراسرار سا مُسکراتے ہوئے سر کو جنبش دے کر آگے بڑھ گیا ۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
کھانے کی میز کے گرد وریٰ عملیہ اور ماظن کی والدہ کے ساتھ بیٹھی بروسٹ کے پیس کھا رہی تھی۔۔۔۔جب چونک کر وریٰ نے نظروں کا زاویہ لکڑی کے بھاری دروازے کی جانب پھیرا جہاں سے ماظن اور جیسکا آرہے تھے۔۔۔
“آنٹی ماہ کل سے میں دوبار یونیورسٹی جانا چاہتی ہوں جیسا کے اب میں یہاں آگئی ہوں تو نوکری کرنے سے آپ نے اور ابّو نے بھی منع کردیا ہے۔۔۔وریٰ ایکدم سامنے بیٹھی ماہ بیگم سے مخاطب ہوتی کرسی پیچھے کر کے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اس سے قبل ماظن جیسکا کے ساتھ قریب آتا وریٰ ماہ بیگم کے سر ہلانے پر تیزی سے پلٹ کر زینے کی جانب بڑھ گئی۔۔
“ماظن نے رک کر سر گُھوما کر جاتی ورِِیٰ کو دیکھا پھر دھیرے سے مسکرا کر سر جھٹک کر اپنی ماں کی جانب متوجہ ہوا جو جیسکا کو دیکھ کر بے تحاشا خوش نظر آرہی تھیں۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
کمرے میں داخل ہوتے ہی وریٰ نے دروازہ بند کرنے کے لئے رخ پلٹا ہی تھا جب تیز ہوا کا جھونکا اُسے چھو کر گزرا۔
وریٰ نے گھبرا کر جلدی سے دروازہ بند کر دیا
زون زون۔۔۔۔۔وائیریٹ کی آواز خاموش کمرے میں گونجھی تو وریٰ جھٹکے سے پلٹ کر سائیڈ ٹیبل کو دیکھنے لگی جہاں اسکا موبائل تھرتھراتے ہوۓ کنارے پر آ چکا تھا۔۔ وریٰ بھاگنے کے انداز میں اُس تک پہنچ کر موبائل اٹھا چکی تھی جہاں “پاپا کالنگ” جگمگا رہا تھا۔۔۔۔
وریٰ مسکرا کر کال رہسیو کرتی بستر پر گرنے کے انداز میں لیٹی۔۔۔
“کیسی ہو ورِیٰ۔۔۔۔باپ کی بجائے ماں کی آواز سن کر وہ مسکرائی۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں امی۔۔۔وریٰ نے خوشی سے بتایا۔۔وریٰ اپنی ماں سے بات کرنے کے بعد موبائل رکھ کر انگڑائی لیتے ہوئے جیسے ہی سیدھی ہو کر بیٹھی کمرے کا پورا دروازہ کھولا دیکھ کر حیران رہ گئی۔۔
“یہ کیسے کُھل گیا۔۔۔وریٰ بڑبڑا کر بالوں کو کلپ سے آزاد کر کے اٹھ کر دروازے تک آئی ایک قدم آگے بڑھ کر جھانک کر دائیں بائیں دیکھا راہداری بلکل خالی تھی۔۔ وریٰ کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا اس سے قبل وہ دروازہ بند کرتی الّو کی آواز پر جھٹکے سے پورا گھوم کر بری طرح لڑکھڑا کر پیچھے دروازے سے جا لگی۔
الّو کی آواز لگاتار آرہی تھی جب کے وریٰ کا دل خوف سے لرز کر رہ گیا تھا۔۔۔
“یہ کھڑکی کس نے کُھول دی۔۔سب تو لاک تھا۔۔۔۔وریٰ لبوں پر زبان پھیرتی تھوک نگھلتے ہوئے بولی جب ماظن کی آواز پر چیخ مارنے لگی۔۔۔ماظن نے تیزی سے اسکے لبوں پر ہاتھ رکھ کے اسکی گردن پر جُھکا وریٰ کی دونوں آنکھیں دہشت سے پھٹ گئیں ایکدم ماظن نے منہ کھول کر اسکی گردن پر دانت گاڑے۔۔۔
“ٹھک ٹھک ٹھک!! دروازے کے بجنے کی آواز پر وریٰ جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھتی پوری آنکھیں کھولے لمبی لمبی سانس لے کر وہ کمرے میں اردگرد دیکھ رہی تھی ٹھنڈ میں بھی وہ پوری پسینے میں شرابور تھی۔۔۔
“آہ!! یہ کیسا خواب تھا۔۔۔۔وریٰ ماتھے پے ہاتھ کے پوروں سے پسینہ صاف کرتے ہوۓ بڑبڑا کر دوسرے ہاتھ سے اپنی گردن کو چھو رہی تھی جہاں ابھی بھی اُسے کسی کا لمس بڑی شدّت سے محسوس ہو رہا تھا۔۔۔
وریٰ ابھی یہی سب سوچ رہی تھی جب دروازہ بجا وریٰ نے چونک کر دروازے کو دیکھا پھر دیوار گھیر گھڑی پے وقت دیکھا جہاں ساڑے سات ہو رہے تھے۔۔۔
“آجائیں۔۔۔وریٰ خود پے سے رضائی ہٹا کر بستر سے کھڑی ہوئی جب کمرے میں عملیہ داخل ہوئی۔۔
“صبح بخیر !! عملیہ کے مسکرا کر بولنے پے وریٰ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
“صبح ہوگئی ابھی تو لیٹی تھی۔۔۔وریٰ خودکلامی کرتی زبردستی مسکرائی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“موبائل پر آتی کال پر وہ ریشمی لمبی سرخ رنگ کی میکسی کی ڈوری کستی ہوئی ایک نظر خود کو دیکھ کر قدم اٹھا کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھا چکی تھی “بھائی کالنگ”نام جگمگاتے دیکھ کر ہلکے سے مسکرائی پھر یس کا بٹن دبا کر کان سے لگایا۔۔۔
“بھائی جان۔۔۔۔
“جیسکا کل رات کہاں گئی تھی۔۔۔۔اتھن غصّے سے پوچھ رہا تھا جس کے آنکھوں کے ڈیلے سرخ تھے جب کے نوکیلے دو دانت قابو کی ہوئی مظلوم لڑکی کی رگوں میں بہتے خون کی پیاس بجھانے کے لئے باہر تھے۔۔۔
جیسکا نے اسکی بات پر آنکھیں گھومائیں۔۔۔
“ڈیڈ جانتے ہیں میں رات کو انکل کاین کے گھر پر گئی تھی اور ہاں آپ کو جان کر خوشی ہوگی وہاں میں نے کسے دیکھا۔۔۔۔جیسکا نے گہری مسکراہٹ سے اپنے بالوں کی لٹ کو گھومایا۔۔۔
اتھن نے ایکدم لڑکی کو چھوڑ کر دور اچھالا جو دور جا کر گری تھی۔۔۔
“کسے دیکھا ہے جیسکا جلدی بولو۔۔۔۔اتھن لڑکی کو خوف سے کانپتے دیکھ کر اسکی جانب قدم بڑھاتے ہوۓ بول رہا تھا جو خود کو پیچھے کی جانب کھسکا رہی تھی۔۔۔
“انکل حمزہ کی بیٹی وریٰ مالک حمزہ۔۔۔ انکل کاین کی بھتیجی۔۔۔۔۔سرسراتی آواز میں بولتی وہ اتھن کو حیرتوں کے سمندر میں غوتہ زن کر گئی۔۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ جیسے ہی یونیورسٹی جانے کے لئے باہر نکلنے لگی ماہی کو دیکھ کر روک گئی جو سر پر اسکارف لپیٹے آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگائے اسے دیکھ کر مسکرائیں تھیں ۔۔۔
“تم آرام سے ہو۔۔۔۔ماہی نے ہنوز مسکرا کر پوچھا جو انہیں جواب دینے کے بجائے آہٹ پر گردن گھوما کر دیکھ رہی تھی سامنے ہی زبرین ماظن کے ساتھ مسکراتے ہوۓ آرہا تھا۔۔۔
“اہم کہاں جا رہی ہیں۔۔۔۔زبرین نے گلا کھنکھار کر پوچھا جو ایک نظر ماظن کو دیکھ کر اسکی جانب متوجہ ہوئی تھی۔۔۔
“یونیورسٹی۔۔۔۔وریٰ سنجیدگی سے بولتی رخ پھیر کر ماہی کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔
“زبرین ان محترمہ کے ساتھ رہنا لیکن یاد رہے اسے بھنک نہ پڑے سمجھ گئے۔۔ماظن وریٰ کی پشت پر نظریں مرکوز کیئے اپنے بھائی کو حکم دے کر واپس پلٹ گیا۔۔۔
“آہ !! کیا بنے گا میرا۔۔۔۔زبرین گہری سانس لے کربڑبڑاتے ہوئے ماہی کو مسکرا کر دیکھتے پلک جھپکتے تیزی سے اسکے پیچھے گیا۔۔۔
وریٰ پیدل چلتی جا رہی تھی علاقعہ اس وقت سنسان تھا جب کے ٹھنڈ اور دھند نے ماحول کو پُراسرار بنایا ہوا تھا۔۔۔
چلتے چلتے وہ ایکدم روک کر جھٹکے سے پلٹی لیکن کسی کو نا پا کر سر جھٹک کر دوبارہ چلنے لگی جب یونیورسٹی کے راستے پر جانے کے بجائے مخالف سمت چلنے لگی۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
صبح کا وقت ہونے کی وجہ سے رش زیادہ نہیں تھا ایسے میں کچن میں رمشا وریٰ کے دونوں ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔۔۔
“تم مجھے اپنے گھر کا پتہ دو میں تم سے وہاں ملنے آؤں گی۔۔۔وریٰ نے اسکے افسردہ چہرے کو دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
“ہمم ضرور۔۔۔رمشا نے سر ہلا کر کہتے ہوۓ پریشانی سے اسے دیکھا وریٰ گلے مل کر جانے کے لیے پلٹی ہی تھی جب رمشا کی خوفزدہ آواز پر دوبارہ گھومی تھی۔۔
سپاٹ چہرے کے ساتھ وریٰ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسکے مقابل آئی۔۔
“کیا بات ہے کچھ کہنا چاہتی ہو۔۔۔۔وریٰ اُسے دیکھتی ہوئی رازداری سے پوچھنے لگی جس نے چور نظروں سے دروازے کو دیکھ کر دوبارہ اسے دیکھنے لگی۔۔۔
“وریٰ یہ جگہ محفوظ نہیں ہے پہلے بھی اس شہر میں پُراسرار موت ہوتی رہی ہیں اور اب دوبارہ سے یہ سلسلہ شروع ہوچکا ہے اگر زندہ رہنا ہے تو ہمیں بہت محتط رہنا ہوگا۔۔۔رمشا اچانک ہی خوفزدہ ہوئی تھی وریٰ ناسمجھی سے اسے دیکھتی بات سمجھنے کی کوشش کرنے لگی۔۔
“ایک منٹ رمشا ہوا کیا ہے مجھے بتاؤ میں جب سے آئی ہوں تم کچھ گُم سُم سی ہو؟ وریٰ نے ایکدم ہاتھ اٹھا کر اُسے بولنے سے روکتے ہوۓ کہا۔۔رمشا نے گہری سانس لے کر اسے دیکھا۔۔۔
“آج سمیر کی لاش اسی کے گھر کے عقبی طرف درخت کے نیچے ملی پولیس اور تفتیش کاروں کے تفتیش کرنے کے بعد معلوم ہوا ہے اس لڑکی کے ساتھ ساتھ اس کا بھی خون جسم سے نچوڑ لیا گیا ہے ہو نہ ہو یہ کام ضرور کسی ویمپائر کا ہے میں نے دیکھا تھا ایک بار ہاں۔۔رمشا خوفزدہ سی اسے بتاتی پوری آنکھیں پھیلائے بتا کر سر کو زور زور سے جنبش دینے لگی۔۔
“سمبھالو خود کو رمشا یہ سب کا وہم ہوگا ورنہ ویمپائرز اس طرح شہر میں۔۔چچ ناممکن اور اگر ایسا ہے بھی تو کیا انہیں روکنے کا کوئی طریقہ ہے ؟ وریٰ اسے سمجھاتے ہوئے پوچھنے لگی جس کی نظر اسکے ہاتھوں پر جمی تھی۔۔۔
“میں نہیں جانتی لیکن میں نے سنا تھا یہ لوگ زیادہ تر جنگل کی طرف رہائش پذیر ہوتے ہیں یہ اپنے شکار کے لئے رات کو نکلتے ہیں میں نے ریسرچ کی ہے وریٰ ان میں کچھ ہی ایسے ویمپائرز ہوتے ہیں جو ِانسانوں کا شکار کرتے ہیں انہیں ختم بھی کیا جا سکتا ہے آگ سے یہ ایک دوسرے کو باآسانی ختم کر سکتے ہیں۔۔۔لیکن۔۔۔
“مس رمشا اگر آپ کی ملاقات ختم ہوگئی ہے تو کام پر لگ جائیں۔۔۔۔رمشا جو رازداری سے اُسے ڈرانے کے لئے آہستہ آہستہ بتا رہی تھی اچانک آواز پر دونوں بُری طرف چونکی دروازے پر اسی کا ساتھی کھڑا سنجیدگی سے کہ کر چلا گیا۔۔۔
“تم جاؤ اب میں بھی چلتی ہوں۔۔وریٰ اُسکے کندھے کو تھپتھپاتی ہوئی سنجیدگی سے آگے بڑھ گئی وریٰ کے جاتے ہی رمشا گہری سانس لے کر جلدی سے اپرن اتار کر اپنا پرس لینے بھاگی۔۔۔
“پرس لے کر تیزی سے وہ اپنے ساتھی کے پاس آئی۔۔۔
“میں گھر جا رہی ہوں میری بہن کی اچانک طبیعت خراب ہوگئی ہے۔۔۔رمشا کی بات سن کر اس نے سر ہلایا۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“نہیں ایسا کیسے ہوسکتا ہے وہ وہ تو پاکستان سے آئی ہے۔۔۔۔تیز تیز قدم اٹھاتی وہ سڑک کے کنارے چلتے ہوۓ بڑبڑا رہی تھی آسمان پر کالے بادل چھا رہے تھے جس کی وجہ سے اندھیرا پھیلتا جا رہا تھا ایسے میں وہ خوفزادہ سی اپنے گھر کی طرف جا رہی تھی جب اچانک ہی اُسے اپنے پیچھے کسی کی چاپ سنائی دی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: