Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 4

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 4

–**–**–

رمشا کی ہمّت نہ ہو سکی کے وہ اس سنسان گلی میں اپنے پیچھے آنے والے کو دیکھ سکے اس لئے چلنے کی رفتار تیز کردی ایکدم اسے چاپ کی آواز دور ہوتے سنائی دی۔۔ شکر کا سانس لے کر اُس نے جیسے ہی پلٹ کر دیکھا خوف سے اُسکی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئیں۔۔۔سامنے ہی گولڈن براؤن لبے گھنے بالوں کی پونی باندھے ہوۓ سرخ و سفید رنگت جب کے آنکھوں کا رنگ لبوں پے لگی سرخ لپسٹک جیسی تھا۔ لمبی سی سادی میکسی پہنے پیروں میں لمبی پتلی ہیل وہ بہت مختلف اور خوبصورت لگنے کے ساتھ بہت پُراسرار لگ رہی تھی۔۔۔۔رمشا کی ریڑھ کی ہدی میں سنسناہٹ دوڑ گئی اچانک ہی موسم نے انگڑائی لی تیز ہواؤں کے ساتھ باریک باریک برف باری ہونے لگی رمشا کو نہیں پتہ تھا کہ اُسے وہاں کتنا وقت ہوا ہے اس سے قبل وہ ہمّت متجمہ کر کے دوڑ لگاتی سامنےکھڑی لڑکی تیزی سے اسکے نزدیک آئی۔۔۔
رمشا جھٹکے سے نیچے گرتی بُری طرح کانپنے کے ساتھ بنا آواز کے رونے لگی
“شش! میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گی آخر کو ہم بہت اچھی دوست ہیں۔۔۔۔وریٰ پُراسرار سا مسکراتی ہوئی اُسکے سامنے نیچے بیٹھی۔۔
“ڈرو مت اگر سمجھ جاؤ تو میں تمہیں چھوڑ دوں گی ورنہ پتہ نہیں کیوں مجھے بہت غصّہ آجاتا ہے۔۔۔۔وریٰ بولتے ساتھ ایک دم غرّا کر اسکے چہرے کی نزدیک گئی رمشا کا سانس اٹکنے لگا دہشت سے اسکے اوسان خطا ہونے لگے اسے لگا وہ مر جائے گی اُسے پہلے ہی وریٰ کے ہاتھوں کو دیکھ کر بعد بدل کر چلے جانا چاہیے تھا جس کے نوکیلے سرخ ناخنوں کو دیکھتے ہی عجیب احساس ہوا تھا۔۔۔
“چچ بہت ڈرپوک نکلی تم تو اور چلی تھی مقابلہ کرنے ہونہہ بے فکر رہو اقصیٰ اور سمیر کی طرف تمہارا خون نہیں نچڑوں گی وریٰ نے کہتے ساتھ ہی منہ کھولا اس سے قبل وہ حملہ کرتی رمشا زمین بوس ہوگئی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وہ جو ابھی گیٹ سے باہر نکلی تھی ہلکی ہلکی برف گرتے دیکھ کر مسکرانے لگی جب اچانک ایک گاڑی تیزی سے آکر اسکے قریب رکی۔۔۔
وریٰ نے گھبرا کر ایک قدم پیچھے لے کر گاڑی کو دیکھا جس کی ڈرائیونگ سیٹ کا دروازہ کھولتے ہی اتھن باہر آیا تھا۔۔۔
وریٰ نے شدید ناگواری سے اُس شخص کو دیکھا جو دونوں بازو پھیلائے اسکے نزدیک آنے لگا تھا اس سے قبل وہ اُسے اپنے حصار میں لیتا کوئی ہوا کے جھونکے کی طرف دونوں کے بیچ حائل ہوا اتھن تیزی سے دو قدم پیچھے ہٹا۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ زبرین نے گھورتے ہوۓ اُسے دیکھ جو خود بھی اُسے غصّے سے دیکھ رہا تھا جب کے وریٰ حیرت سے زبرین کو دیکھ رہی تھی۔۔
میں تو انکل ملک حمزہ کی بیٹی سے ملنے آیا ہوں۔۔۔ کیسی ہو پیاری لڑکی سُننے میں آیا ہے تم پاکستان سے آئی ہو لیکن تم لوگ تو یہاں سے کیلیفورنیا شفٹ ہوگئے تھے چھپ کر۔۔۔۔۔اتھن مسکراتے ہوۓ وریٰ سے پوچھ رہا تھا جو حیران و پریشان سی اُسکی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی زبرین جو وریٰ کے سامنے کھڑا تھا تحش میں آگیا تھا… اس سے قبل وہ جگہ اور لوگوں کی پرواہ کئے بغیر اُس پر حملہ کرتا اتھن دونوں کی حالت سے محظوظ ہوکر ورِیٰ کو سرتا پیر دیکھ کر گاڑی میں بیٹھ کر زن سے بھگا لے گیا۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“زبرین وہ کون تھا بدتمیز پہلے میرے قریب لاکر گاڑی روکی پھر۔۔۔وریٰ اُسکی ساتھ گاڑی میں بیٹھتے ہی معصومیت سے اُس سے سوال کرنے لگی جب زبرین نے تیزی سے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔وریٰ اُسکے اس طرح چُپ کروانے پر رخ پھیر کر بیٹھ کر باہر دیکھنے لگی ابھی دونوں گھر کے نزدیک ہی تھے جب پولیس کی گاڑیوں کے ساتھ ایمبولینس اور طرح طرح کے نیوز رپورٹرز کی وجہ سے راستہ بند تھا مجبوراً زبرین کو گاڑی روکنی پڑی
“ہاہ! خون کی بدبو کتنی ہو رہی ہے یہاں۔۔۔۔زیرین خود پے قابو کرتے ہوۓ گہری سانس لے کر بڑبڑایا جب کے وریٰ بلکل نارمل تھی۔۔۔
“یہاں کیا ہوا ہوگا کیا ہم اُتر کر دیکھیں؟ وریٰ نے شیشہ نیچے کرتے ہوۓ کہا زبرین نے تیزی سے شیشہ دوبارہ اُوپر چڑھایا۔۔
“آرام سے بیٹھیں آپ ایکسیڈنٹ ہوا ہوگا پہلے ہی بہت دیر ہو چکی ہے ماں تو کچھ کہیں گی نہیں بھائی سے لازمی شامت آجائے گی۔۔۔زبرین سپاٹ انداز میں اسے ٹوکتا ہوا گاڑی کو پیچھے کی طرف لے جا کر دوسری سمت گاڑی لے گیا۔۔۔
وریٰ نے ماظن کے ذکر پر منہ بنایا وہ اسے نک چڑھا مغرور شہزادہ لگا۔۔۔
گھر پہنچتے ہی دونوں اندر داخل ہوۓ سامنے ہی انہیں ماظن غصّے سے قریب آتا دیکھا۔ ۔
“السلام علیکم!! ورِیٰ نے سلام کیا جس پر ماظن نے اُسے دیکھا وریٰ اُسکے دیکھنے پر ایکدم خوفزادہ ہوئی۔۔۔
“زبرین کل سے میں اسے چھوڑنے اور لینے آؤں گا اس دوران یہ کسی دوست کے ساتھ نہیں جائے گی اگر جانا ہے تو تم یا عملیہ اسکے ساتھ جاؤ گے سمجھے۔۔۔۔ماظن اپنی بھاری آواز میں دیکھ زبرین کو رہا تھا لیکن مخاطب وہ دونوں سے تھا۔۔۔
“لیکن۔۔۔۔وریٰ نے کچھ کہنا چاہا جب ماظن نے خاموش نظر اس پر ڈالی۔۔۔
“اپنے کمرے میں جا کر سوجاؤ۔۔۔ماظن نظریں جمائیں ایکدم اُسکی بات کاٹ کر حکم دینے لگا وریٰ کسی چابی کی گڑیا کی طرح اسکی بات سُنتے ہی سر کو جنبش دے کر زینے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
“بھائی آپ کو کیسے خبر ہوئی۔۔۔۔زبرین نے تعجب سے اپنے بھائی کو دیکھا جو اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“میں نے بتایا۔۔۔۔عملیہ کی آواز پر دونوں چونکے جو انکے قریب آکر مسکرائی تھی۔۔۔
“منگیتر کم جاسوس زیادہ لگتی ہو۔۔۔۔زبرین نے منہ بنایا عملیہ نے آگے بڑھ کر اسکے کندھے پر چپت لگائی جب کے ماظن دونوں کی شروع ہوتی نوک جھونک دیکھ کر دھیرے سے مسکرایا۔۔۔کون کہ سکتا ہے یہ خطرناک ویمپائرز ہیں۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
موبائل کی آواز پر وہ جو تہہ خانے میں اپنے دشمن(ویمائیر) کی گردن توڑ چُکے تھے تیزی سے زینے کے ذریعے کمرے میں آکر اسکرین پر “کاین کالنگ” دیکھ کر ریسیو کر کے کان سے لگا چُکے تھے۔۔۔
” کاین خیریت۔۔۔
“تمہاری بیٹی کا معلوم ہو چکا ہے ہمارے دشمنوں کو میرا خیال ہے تم اپنے آبائی گھر واپس آجاؤ ورنہ بے گناہ ناحق مارے جائیں گے۔۔۔دوسری طرف کاین کی بات پر مالک حمزہ جس کا اصل نام کایان(kiyan) تھا غصے میں آنے لگا۔۔
“ٹھیک ہے ہم آرہے ہیں جب تک وریٰ کا خیال رکھنا اگر وہ ان کے ہاتھ لگ گئی تو یہ لوگ اُسے مار ڈالیں گے۔۔۔۔
“پُرسکون رہو یہ صرف ہم سے بدلہ لینا چاہتے ہیں اور کچھ نہیں اور کچھ بھی اب ہوا تو انکے پورے قبیلے کو سزا بھگتنی پڑے گی۔۔۔کاین اپنے بھائی کو سمجھاتے ہوئے اپنے کمرے میں چہل قدمی کر رہے تھے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
افف !! کیا مصیبت ہے نیند ہی نہیں آرہی۔۔۔۔وریٰ جو بہت دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی تنگ آکر اٹھ بیٹھی ایکدم اُسے اپنے کمرے کے باہر کسی کی چاپ سنائی دی۔
“کک کوئی جن تو نہیں ہے۔۔وریٰ ڈرتے ہوۓ خود سے بڑبڑائی ٹھنڈ کی وجہ سے وہ جو ہمّت کر کے جانے کا سوچ رہی تھی دوبارہ لیٹ کر آنکھیں موند گئی۔۔
تھوڑی دیر ہی ہوئی تھی جب کسی کے چیخنے کی آواز پر وریٰ اٹھ کر بیٹھی۔۔۔ابھی وہ سمبھلی بھی نہیں تھی جب کسی کے غرانے کی آواز پر وہ تیزی سے کمرے سے بھاگی لیکن راہداری میں کسی وجود سے ٹکرا کر گرنے لگی جس نے تیزی سے اسے گرنے سے روکا تھا۔۔۔
راہداری میں اندھیرا تھا وریٰ جو گرنے سے آنکھیں زور سے میچ چکی تھی دھیرے سے کھولیں تو راہداری میں ایک ہی لائٹ روشن تھی۔۔۔
وریٰ حیرت سے خود کو ماظن کے حصار میں دیکھ کر روشنی کو بھول چکی تھی۔۔
“اندھی ہو لڑکی۔۔۔ماظن نے جھٹکے سے سیدھا کرتے ہوۓ اُس سے پوچھا جو اسکے سختی سے کہنے پر ہوش میں آئی تھی۔۔۔
“جی۔۔۔مم مطلب آپ نے کیا پوچھا ہے۔۔۔۔وریٰ اسکی قربت سے بوکھلاتے یوئے پوچھنے لگی۔۔۔
اسکی بوکھلاہٹ پر ماظن کے لب دھیرے سے مسکرا کر واپس سپاٹ ہوئے ۔۔
“کیا کر رہی ہو یہاں۔۔۔ماظن نے اچانک بات بدلی۔۔۔۔وہ واقعی جاننا چاہتا تھا آخر وہ اس وقت کہاں گھوم رہی ہے جب کے اس وقت ملازم اور چاچی اور عملیہ کے سوا کوئی نہیں تھا۔۔
ماظن کے سوال پر اچانک اسے وہ چیخیں یاد آئیں۔۔
“وہ دراصل مجھے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں تبھی میں عملیہ کے پاس جا رہی تھی۔۔وریٰ انگلیاں مڑوڑتے ہوئے بتا کر اُسے دیکھنے لگی جو گہری نظروں سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا۔۔۔
“آدھی رات کو اگر ایسی آوازیں باہر سے آئیں تو اُسے نظرانداز کرتے ہیں نہ کے بیوقوفوں کی طرف دیکھنے جاتے ہیں اب جاؤ جا کر سوجاؤ۔۔۔ماظن اسے کہتے ہوۓ آگے بڑھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا وریٰ کو آج معلوم ہوا تھا ماظن کا کمرہ اُسکے ساتھ ہے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
دوپہر کا وقت تھا ایسے میں وریٰ میز کے گرد بیٹھی سلاد کھا رہی تھی ساتھ رمشا کو میسج پر اپنے آنے کا بتا رہی تھی جب دوسری طرف سے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو نمبر ملانے لگی اس سے قبل بیل حاتی اچانک عملیہ اور زبرین کو کرسی گھسیٹ کر بیٹھنے پر اُس نے موبائل کان سے ہٹا کر میز پے رکھ کر مسکرا کر اُن دونوں کی طرف متوجہ ہوئی۔۔
“تم دونوں کہیں جا رہے ہو؟ وریٰ نے مسکراتے ہوۓ چقندر پلیٹ سے اٹھاتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
“ہم دونوں نہیں آپ بھی جا رہی ہیں یہی بتانے آیا ہوں جیسا کہ موسم انتہائی خوبصورت ہونے والا ہے اس لئے ہم اپنے ذاتی ریزورٹ ایک ہفتے کے لیے انجوائے کرنے جارہے ہیں۔زبرین اسے دیکھتے ہوۓ بتانے لگا وریٰ حو کچھ کہنے کے لئے منہ کھولنے والی تھی اسکی اگلی بات پر لمبی سانس لے کر رہ گئی۔۔
“اب بیٹھی کیوں ہو اٹھو۔۔۔۔عملیہ نے کرسی سے اٹھتے ہوۓ کہا زبرین بھی پُراسرار سا مسکراتے ہوئے اٹھ کر عملیہ کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔۔۔
“پھر بھی عملیہ ایک ہفتہ بہت ہوتا ہے میری پڑھائی کا حرج ہوجائے گا۔۔۔۔وریٰ نے کچھ پریشانی سے اُسے دیکھ کر کہا جب قدموں کی چاپ پر تینوں بیک وقت چونک کر پلٹے سامنے ہی ماظن اپنی ماں ماہ کے ساتھ انکے قریب آکر رکے تھے ورِیٰ نے ماہ بیگم کو دیکھا جو چمکتی آنکھوں سے اُسی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں جب کے انکا بیٹا ایسے دیکھ رہا تھا جیسے اُسے وریٰ کے سامنے آنے پر مجبور کیا گیا ہو۔۔۔
“کس بات پر بحث ہو رہی ہے میرے بچوں؟ ماہ بیگم اپنے مخصوص نرم اور دھیمی آواز میں اُن تینوں کو بولتی ہوئیں مُسکرا رہی تھیں جب کے ماظن ہنوز سپاٹ تاثرات کے ساتھ کھڑا وریٰ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
“ماں اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے میں تو صرف انہیں کہنے آیا تھا کے جانے کی تیاری کر لیں۔۔۔وریٰ کے کچھ بھی بولنے سے قبل زبرین بول پڑا۔۔زبرین کے اس طرح بتانے پر وریٰ نے بے ساختہ ماظن کو دیکھا جو اُسی کو دیکھ رہا تھا نا جانے ماظن کی نظروں میں ایسا کیا تھا کے وہ ماہ بیگم کو منع نہیں کرسکی۔۔
وریٰ کے ہامی بھرنے پے ماہ بیگم انہیں پیکنگ کرنے کا حکم دے کر چلی گئیں انکے پیچھے عملیہ اور زبرین بھی آگے بڑھ گئے جب کے وریٰ خود کو ماظن کے ساتھ اکیلے ہونے پر گھبرا کر سر جھکا کر ساتھ سے گزر رہی تھی جب ایکدم ہی ٹھٹھک گئی۔۔۔آہستگی سے سر اٹھا کر وریٰ نے اسکی طرف چہرہ گھومایا جو اسکے وجود سے آتی خوشبو سے غصّے میں آرہا تھا۔۔۔۔
“کھڑی کیوں ہو جاؤ۔۔۔ماظن نے گھورتے ہوۓ اُسے دیکھ کر کہا جس نے تیزی سے سر کو جنبش دے کر زینے کی جانب دور لگائی تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
بالکنی میں کھڑا وہ وہ باہر ہوتی برف باری میں دور سے آتی کالے رنگ کی گاڑی کو دیکھ رہا تھا جب کسی کی موجودگی پر گھوم کر آنے والے کو دیکھا۔۔۔
“پاپا۔۔۔ماظن نے اپنے باپ کو دیکھا جو اپنا لانگ کوٹ اُتار رہا تھا۔۔۔
“تم سب کب تک نکلو گے ؟ کاین نے اپنے کام میں مصروف پوچھا۔۔۔ماظن کی آنکھیں اندھیرے میں چمکیں۔۔۔
“سب تیار ہیں آپ کا ہی انتظار تھا۔ماظن انہیں بولتا ہڈ سے اپنا آدھا چہرہ چھپا چکا تھا۔۔۔ماظن کی بات سُن کر کاین اُسکے مقابل آیا۔۔۔
“تمارے کایاں چاچو اپنے سارے کام نبٹا کر ایک ہفتے تک آرہے ہیں تب تک اپنی کزن کو ہمارا ریزورٹ گھوماؤ۔۔۔کاین نے اپنے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ماظن سر کو اثباب میں جنبش دے کر کمرے سے جانے لگا جب آواز پر روک کر گردن موڑ کر اپنے باپ کو دیکھنے لگا
“ماظن کوئی ہے جو ہمارے علاقے میں معصوم لوگوں کو لاکر اپنی بھوک مٹا رہا ہے اس سے پہلے ہمارے خاندان پر الزام لگے انہیں جلد سے جلد پکڑ کر ختم کرنا ہے ہو نا ہو یہ کام ڈریک کروا ریا ہے۔۔کاین نے اپنی سلور گرے نظریں اسکی سلور گرے نظروں میں گاڑتے ہوۓ کہا۔۔۔ ماظن کی آنکھوں کا رنگ اپنے باپ کی طرح تھا لیکن اندھیرے میں سیاہ جب کے غصے میں ان بھائیوں اور انکے گھر والوں کی آنکھوں کا رنگ بدل کر لال ہوجاتا تھا دوسری طرف ڈریک کے گھر والوں کا سیاہ۔۔۔ویمپائرز میں بھی اقسام تھیں۔۔۔کاین کے اپنے اصول تھے جس پر اسکے پورے خاندان کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔
کاین کی بات مکمّل ہوتے ہی ماظن سر ہلا کر کمرے سے نکلتا چلا گیا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ نے پیکنگ کرنے کے بعد اپنے بھائی کو فون ملایا لیکن کسی کے فون نہ اٹھانے پر جھنجھلا کر اُس نے موبائل بستر پر اُچھلا ۔
“اففف!! کوئی فون کیوں نہیں اُٹھا رہا۔۔۔وریٰ بڑبڑا کر شیشے کی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی جہاں اندھیرا ہونے کے ساتھ برف باری شروع ہو رہی تھی۔۔۔۔
اس سے قبل وہ آگے بڑھ کر کھڑکی کھولتی ایکدم دروازہ بجا وریٰ چونک کر دروازے کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔
“آجائیں۔۔۔ وریٰ کے اجازت دیتے ہی دروازہ کُھول کر ملازمہ کے پیچھے ایک اور ملازم سر جُھکا کر کھڑا تھا۔
“سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں چلنے کا وقت ہوگیا ہے۔۔ملازمہ سپاٹ چہرے کے ساتھ کسی روبوٹ کے انداز میں بول کر اپنے ساتھ آئے لڑکے کو سامان کے لئے اشارہ کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑی ہوگئی۔۔۔وریٰ دونوں کو دیکھتی ہوئی سائیڈ میں کھڑی دیکھنے لگی۔۔۔لڑکا آگے بڑھ کر بیگ اٹھا کر باہر نکل گیا۔۔۔
“میڈیم۔۔۔ملازمہ نے اُسے مخاطب کر کے اشارہ دے کر کمرے سے نکل گِئی۔۔۔
“کتنے عجیب تھے دونوں۔۔۔ہاہ!! وریٰ جھرجھری لے کر سوئیٹر پہن کر ہاتھوں اور پیروں میں دستانے اور موزے پہن کر سر پر اچھے سے ٹوپی پہن کر کمرے سے نکل گئی جلدبازی میں وہ اپنا موبائل بھی وہیں بھول کر خالی حال میں نظر دوڑا کر حال عبور کر گئی۔۔۔
باہر آتے ہی سردی نے اُسے اپنے حصار میں لے لیا اُسے سمجھ نہیں آرہی تھی اتنے خطرناک موسم میں وہ لوگ جا ہی کیوں رہے ہیں۔۔۔۔
“ہاہ! یقیناً یہ لوگ عادی ہیں۔۔۔۔وریٰ سب کو باتوں میں دیکھ کر بڑبڑاتی ہوئی قریب گئی عملیہ زبرین اور ماظن کے علاہ وہاں انجان لڑکا لڑکی کے ساتھ دو خوبصورت جڑواں بچے کھڑے تھے دونوں کی عمربارہ تیرا سال کے قریب لگ رہی تھی۔۔۔وریٰ انہیں کو دیکھ رہی تھی جب عملیہ نے اُسے اشارہ کیا۔۔۔
” وریٰ ان سے ملو ہمارے ماموں زاد کزن اور انکی فیملی۔۔۔۔عملیہ نے اُسکے قریب آنے پر تعارف کروایا وریٰ کو سہی معنوں میں جھٹکا لگا تھا پوری آنکھیں کھولے وہ سامنے کھڑے شخص کو دکھنے لگی جو اتنے بڑے بچوں کا باپ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا۔
“تو تم ہو وریٰ مالک حمزہ۔۔۔۔ہمم خوشی ہوئی مل کر۔۔۔طرفس( Tarfas) نے مسکرا کر اسے دیکھ کر کہا اسکے مسکرانے پر وریٰ ایک بار پھر اُسے دیکھنے لگی اس سے قبل وہ زبان پر مچلتے سوال کو پوچھ کے سب کو شرمندہ کرتی طرفس کی بیوی اسکے قریب اکر اپنائیت سے گلے لگ کر ملی۔
“طرفس کو چھوڑو اسے تو ہر کسی سے مل کر یہی لگتا ہے سوائے میرے۔۔۔ہاہاہا۔..نمرہ اسے بتا کر ہنسنے لگی جب کے دونوں بچے وریٰ کو ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
“اگر مل لیا ہو تو گاڑی میں بیٹھنے کی کرو۔۔۔ماظن کی آواز پر وہاں ایکدم خاموشی چھائی وریٰ نے کنکھیوں سے اُسے دیکھا جو اتنی سردی میں اپنے مخصوص پنٹ شرٹ کے ساتھ جیکٹ پہنے کھڑا اُن سب کی جانب متوجہ تھا ۔۔
“انکل ماظن ہم نہیں ملے پھوپھو سے۔۔۔ماطن کے قریب جاکر تہمیم اپنے بھائی تھیم کے ساتھ آکر آہستہ سے بولا جس پے ماظن نے اسکی طرف جھک کر کچھ کہا تھا وریٰ جو گاڑی میں بیٹھ چکی تھی شیشے سے باہر ان تینوں کو دیکھ رہی تھی ایکدم تینوں کے ساتھ دیکھنے پر وریٰ گڑبڑا کر چہرہ سیدھا کر کے سامنے دیکھنے لگی۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
جھٹکے سے اُسے چھوڑ کر اس نے غصّے سے پلٹ کر لڑکی کو دیکھا جو شب خوابی کا لباس پہنے جس کا گلا دونوں طرف سے گہرا تھا تانگ پر تانگ رکھے ہاتھ میں کانچ کا گلاس تھامے مسکراتی ہوئی مشروب کا گھونٹ لے کر اُسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
“اتھن سویٹ ہارٹ اُس نے تم سے بات نہیں کی تو اس میں اس بیچارے کا کیا قصور ہے۔۔
“اولیویا میری گرل فرینڈ ہو وہی رہو میری ماں بننے کی کوشش مت کرنا ورنہ تمہاری لاش اسی بستر پر ملے گی۔۔۔پلک جھپکتے ہی وہ اُس پر جُھک کر گلے کو دباتے ہوۓ غرّاتے ہوئے بولنے لگا اولیویا کے خوف سے سارا نشہ اتر گیا وہ انسان تھی جو اسکے لئے کام کرنے کے ساتھ خود کا خون بھی فخر سے اُسے پیش کرتی تھی۔۔۔
“آ اتھن آئیندہ ایسا نہیں ہوگا۔۔۔
“میں جانتا ہوں میری جان تم ایک سمجھدار خوبصورت عورت ہو۔۔۔
اولیویا کانپتے ہوۓ اُسے کہ رہی تھی جو اسکے خوف سے محظوظ ہو کر بولتا اسکی گردن پر تیزی سے جھکا تھا۔۔۔۔
“آآآ!!!۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: