Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 5

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 5

–**–**–

گاڑی میں ہلکی آواز میں میوزک چل رہا تھا ساتھ ہی ہلکی پھلکی باتیں ہو رہی تھیں وریٰ دھیمی مسکراہٹ کے ساتھ عملیہ اور نمرہ کی باتوں سے محظوظ ہو رہی تھی جب کسی کے نظروں کی تپش اپنے چہرے پے محسوس کرتی نظروں کا زاویہ سامنے کیا
ماظن جو گاڑی ڈرائیو کرنے کے ساتھ اُسے بھی دیکھ رہا تھا وریٰ کے متوجہ ہونے پر نظریں اس پر سے ہٹا کر سامنے سڑک پر دیکھنے لگا۔۔۔
“وریٰ نے نظریں جھکا کر گہری سانس لیتے ہوئے سیٹ کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موندی ہی تھیں جب اچانک گاڑی کے روکنے پر چونک کر باہر دیکھا اندھیرے میں ہر طرف سفید برف سے زمین ڈھکی یوٙئی تھی دھند نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا تھا وریٰ پوری انکھیں کھولے قدرت کے حسین منظر کو دیکھ رہی جب دوسری طرف سے سب اُتر گئے وریٰ اتنی مگن تھی کہ اُسے معلوم ہی نہ ہوسکا کہ گاڑی میں وہ اکیلی ماظن کے ساتھ رہ گئی ہے ہوش تو تب آیا جب کسی نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا وریٰ نے بری طرح چونک کر جیسے ہی اپنے برابر میں دیکھا حیرت سے گاڑی میں نظر دوڑانے لگی۔۔۔
“اُترنے کی زحمت خود کرو گی یا یہ کام میں کروں۔۔۔وہ جو چونکنے کے بعد ماظن کو اپنے نزدیک دیکھ کر دروازے سے پشت لگا چکی تھی ماظن کے اسکے قریب آنے پر سانس روک کر رہ گئی۔۔۔
“آ اتنی جلدی پہنچ گئے۔۔وریٰ نے تیز ہوتی دھڑکن کے ساتھ پوچھا جو اسکی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا۔۔
“چلو ورنہ تمہاری صبح تک کلفی بن سکتی ہے۔۔۔ماظن اسکی بات ان سنی کرتا سپاٹ لہجے میں بولتا گاڑی سے اتر گیا وریٰ سر جھٹک کر جیسے ہی گاڑی سے اتری جما دینے والی ٹھنڈ سے کپکپا کر ماظن کے پیچھے چلنے لگی وریٰ کو حیرت ہوئی اتنی ٹھنڈ میں برف پر وہ کتنے سکون سے چل رہا تھا رات کے اندھیرے میں اُسے یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے ہر طرف چاندنیاں بچھا دی ہوں۔۔۔آس پاس دیکھتی وہ لکڑی کا خوبصورت سا دو منزلہ ہرٹ نما گھر جس کی چھت برف سے ڈھکی ہوئی تھی دیکھتی ہوئی شروع مِیں بنے دو تین قدم زینا چڑھ کر دروازے تک ماظن کے پیچھے پہنچی وریٰ دونوں ہاتھوں کو جیکٹ کی جیبوں میں گُھسائے ماظن کے پیچھے کھڑی تھی جب دور سے جانواروں کی آوازوں پر گھبرا کر ماظن کے نزدیک ہوئی دروازہ کھولتے ہی ماظن اندر داخل ہوا ورِیٰ تیزی سے اُسکے پیچھے گئی۔۔۔گھر باہر سے جتنا اچھا تھا اندر سے اتنا ہی خوبصورت لگ رہا تھا وریٰ نے پہلی دفع اس طرح کا گھر دیکھا تھا جسے وہ ہالی ووڈ کی فلموں میں دیکھتی آرہی تھی۔۔
“لگتا ہے تمہیں ہمارا ریزورٹ پسند آیا ہے؟ ماظن کی قریب سے آتی آواز پر وریٰ نے چونک کر اسے دیکھا۔۔
“ہم ہاں بہت خوبصورت ہے۔۔وریٰ نے تھوڑا گھبراتے ہوئے اسے جواب دیا آج ماظن اس سے خود پہلی ملاقات کی طرح بات میں پہل کر رہا تھا اور جانے کیوں اُسے یہ بات خوشی دے رہی تھی۔۔
دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے جب زینے سے اُترتے یوئے تہمیم مسکراتے ہوۓ دونوں کے نزدیک آیا۔۔۔
“انکل ماظن میں اور تھیم اصطبل دیکھنے جاسکتے ہیں وائٹ واٹر اور پیور ہمارا انتظار کر رہے ہونگے۔۔۔تہمیم نے سنجیدگی سے اُس سے پوچھا جب کے وریٰ حیرت سے تہمیم کو دیکھنے لگی جو ماظن سے مخاطب تھا اس سے قبل وریٰ ماظن کا جواب سنتی یا خود کچھ بولتی عملیہ کی آواز پر اسکی جانب بڑھی جو اوپر سے ہی ہاتھ کے اشارے سے اوپر بولا رہی تھی۔۔۔وریٰ کے سیڑیوں چڑھتے ہی ماظن نے تہمیم کو تھیم زبرین اور طرفس کو بلانے بھیج کر خود باہر نکل گیا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“وریٰ اندر آؤ کہاں رہ گئی تھی۔۔۔۔نمرہ نے مسکراتے ہوۓ اُسے عملیہ کے ساتھ آتے دیکھ کر کہا۔۔۔۔
وریٰ مسکراتے ہوۓ اردگرد دیکھتی ہوئی اندر آکر صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
“کچھ بتاؤ اپنے بارے میں پاکستان میں کب سے ہو ؟ نمرہ نے پُراسرار مسکراہٹ سے عملیہ کو دیکھ کر اس سے پوچھا۔۔۔
بہت عرصے سے مطلب میری پیدائش بھی وہیں ہوئی ہے۔۔۔وریٰ نے مسکراتے ہوۓ اپنے بارے میں بتانا شروع کیا وریٰ کی بات پر نمرہ نے عملیہ کو دیکھا جس نے آہستگی سے سر کو اثباب میں جنبش دی تھی۔۔۔۔
تینوں بہت دیر تک بیٹھیں باتیں کرتی رہیں جب ورِیٰ کو شدید ٹھنڈ کے ساتھ نیند بھی آنے لگی۔۔۔
“میرا خیال ہے اب سو جانا چاہیئے۔۔۔وریٰ نے جمائی روکتے ہوۓ دونوں سے کہا جو اُسے دیکھ کر ہنس دی تھیں۔۔۔
“ہاہاہا!! ہاں چلو میں تمہیں کمرہ دکھا دیتی ہوں۔۔عملیہ جلدی سے اٹھ کر بالوں کو بینڈ سے آزاد کرتی ہوئی بولی وریٰ جلدی سے اٹھی اسے واقعی سردی کے ساتھ نیند بھی آرہی تھی لیکن اُسے حیرت تھی وہ لوگ بلکل آرام سے ٹراؤزر اور ٹی پہنے ہوۓ تھیں۔۔۔
یہی سب سوچتی وہ اسکے ساتھ جیسے ہی کمرے کی طرف بڑھنے لگی دروازہ کھول کے باہر سے آتے ماظن کے سینے سے شرٹ کو سرخ دیکھ کر آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں شدید حیرت ہونے کے باوجود اُسے بھوک کی طلب ہونے لگی یہ اکثر اُس کے ساتھ ہوتا تھا جسے وہ سمجھنے سے قاصر تھی۔۔۔
“روک کیوں گئی ہو چلو۔۔۔۔عملیہ حو ماظن کو دیکھ رہی تھی چونک کر وریٰ کو دیکھ کر اُس کے پاس آکر بولی۔۔۔
“وریٰ چونک کر گہری سانس لے کر سر کو نفی میں ہلا کر عملیہ کے ساتھ جانے لگی۔۔۔
عملیہ کے کمرے سے جاتے ہی وریٰ کمرے کا دروازہ بند کرنے لگی جب خون کی خوشبو دوبارہ اُس کے اعصابوں پر چھانے لگی۔۔۔دو تین لمبے لمبے سانس لے کر وہ دروازہ کھول کر جہاں سے خوشبو آرہی تھی اس طرف بڑھ رہی تھی لکڑی کی وجہ سے اس نے پیروں سے چپل اُتاری جو خاموشی میں آواز پیدا کر رہی تھی وریٰ چلتے ہوۓ کمرے کے سامنے آکر روکی اردگرد نظر دوڑا کر آہستہ سے کمرے کا ہینڈل پکڑ کر گھوما کر دھیرے سے دروازہ کھول کے قدم اندر رکھا کمرہ بلکل خالی تھا جب کے ماظن کی خون آلو ٹی شرٹ کو بستر کے کنارے پے پڑا دیکھ کر آگے بڑھ کر اٹھاتتے ہی ناک کے قریب لے جا کر لمبی سانس لی۔۔۔۔وریٰ کو خود بھی نہیں معلوم تھا وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔۔۔ہوش میں تو تب آئی جب کسی نے اسکے ہاتھ سے ٹی شرٹ جھپٹا۔۔
“وہ میں۔۔۔وہ۔۔۔کک۔۔۔وہ میں بس دیکھنے آئی تھی۔۔۔۔وریٰ اپنے سامنے ماظن کو دیکھ کر شدید گھبرا گئی تھی جانے وہ اس کے بارے میں کیا سوچ ریا ہوگا۔۔۔
اس سے قبل وہ اپنی صفائی میں کچھ کہتی ماظن اُسے اپنے قریب کرتے اسکی گردن پے جھکا تھا وریٰ کی خوف سے آنکھیں باہر کو آنے لگی۔۔۔
“آ چھوڑیں مجھے۔۔۔گردن پے شدید چبھن کے ساتھ ناقابلے برداشت درد ہونے لگا ماظن سکون سے اسے جکڑ کر کھڑا خون پی رہا تھا وریٰ کو اب کمزوری محسوس ہونے کے ساتھ آنکھیں بھی بند ہو رہی تھیں جب ماظن نے جھکے جھکے ہی بستر پر لیٹایا تھا۔۔۔
ایکدم ماظن نے اُسے چھوڑا جس کی آنکھیں بند ہورہی تھیں۔۔
“میرا شک سہی تھا زبرین۔۔۔۔انکل کایان نے اِسے قابو کر رکھا ہے لیکن وہ بھول گئے ویمپائر کی اولاد ویمپائر ہی رہتی ہے۔۔۔۔ماظن اسکے چہرے کو اپنی انگلیوں کے پوروں سے چھوتے ہوئے پیچھے کھڑے زبرین سے بولا۔۔
“ان میں ملاوٹ ہے بھائی تبھی وہ اتھن پیچھے لگا ہے انکل کایان کو سمجھنا چاہئے۔۔۔ زبرین نے فکرمندی سے کہا جو اسکے چہرے کو نزدیک سے دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔
“آجانے دو پھر بات ہو جائے گی اب تم جاؤ میں اپنی بیوی کے ساتھ کچھ وقت اکیلے رہنا چاہتا ہوں۔۔۔۔سرسراتے لہجے میں بولتے وہ اٹھ کر مسکرا کر ذَبرین کو دیکھنے لگا جو سر ہلا کر شرارت سے مسکرا کر کمرے سے نکل گیا تھا۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
صبح کے چار بج رہے تھے جب وریٰ کی آنکھ کھولی کمرے میں سائیڈ لیمپ روشن تھا وریٰ جیسے ہی اٹھ کر بیٹھی کسی کی موجودگی محسوس کرتے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلا کر کمرے میں نظر دوڑانے لگی سارا کمرہ خالی تھا۔
“آہ! کل رات کو تو۔۔۔۔وریٰ ایکدم دماغ پے زور دیتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کرتے ہوئے تیزی سے گھومی سامنے ہی ماظن ہلکی پھولکی ٹی شرٹ پہنے کھڑا تھا اسکے متوجہ ہوتے ہی دھیرے سے مسکرا کر قدم قدم چل کر وریٰ کے نزدیک آیا۔۔
“جلدی اٹھ جاتی ہو۔۔۔۔ماظن نے کہتے ہوۓ کمرے میں نظر دوڑائی۔۔۔
“آپ۔۔۔کل رات کو۔۔۔۔۔ وریٰ سوچ سوچ کر بولتی چپ ہوگئی اُسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا بات کرے۔۔۔
“کل رات تم نے کچھ بھی نہیں کیا۔۔۔۔۔ ماظن نے اُسکی بات کاٹ کر کہتے ہوئے ہاتھ میں پکڑے چاقو سے اپنی کلائی پر کٹ لگا وریٰ کو دیکھا جو ایکدم ہی بے چین ہوئی تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وہ جو اندھیرے میں بیٹھا سوچوں میں گُم تھا اچانک دروازہ کھول کر کسی کے اندر آنے پر خیالوں کو جھٹک کر آنے والے کی طرف متوجہ ہوا۔۔
“ابّو آپ کو نہیں لگتا ویمپائرز کی دنیا میں وریٰ کو بھیج کر آپ نے غلطی کی ہے کہیں ایسا نہ ہوجائے کاین تایا کا بیٹا اپنی بیوی کو دینے سے انکار کر لے۔۔۔۔حمید کی بات پر کایان نے غصے سے اپنے بیٹے کو دیکھا۔۔۔
“میں ایسا کبھی نہیں ہونے دوں گا حمید اس سے پہلے ہی اتھن اس لڑکی کو اپنے قبضے میں کرلے گا اور تب آئے گا مزہ جب ڈریک کاین کو مارے گا۔۔۔۔کایان نے پُراسرار لہحے میں اُسے بتایا جو کندھے اُچکا کر وہاں سے چلا گیا تھا۔۔
“میرے پیارے بھائی کاین تمہاری نسل کا ختم ہونا بہت ضروری ہے۔۔۔کایان بڑبڑاتے ہوئے مُسکرایا جب دروازہ کھولتے ہی دو آدمی کسی لڑکی کو زبردستی لے کر آئے تھے۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
ماظن کی کلائی سے خون بہتے ہوۓ گرنے والا تھا جب وریٰ ضبط کھو کر اسکی کلائی کو پکڑ کر اُس پر جھکی تھی۔۔
ماظن ہونٹ بھنجے مسکرانے لگا وریٰ کو اسکے اصل روپ میں دیکھنے کی کتنی خواہش تھی اُسے۔۔۔
“وریٰ رُک جاؤ۔۔۔ماظن نے اسے روکنا چاہا جو سن ہی نہیں رہی تھی۔۔۔
“وریٰ چھوڑو۔۔۔ماظن نے تیزی سے زور سے اُسے دھکا دیا جو غرا کر اُس کی طرف آئی تھی جسے ماظن نے جلدی سے اپنے قابو کیا تھا۔۔۔
شش!! تحمل رکھو میری جان۔۔۔ماظن پشت سہلاتے ہوۓ سرگوشی کر رہا تھا جو گہری گہری سانس لے رہی تھی۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔چھوڑو میں نے کہا چھوڑو۔۔۔۔وریٰ بے قابو ہوتی خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی جو اسے اٹھا کر لبوں پر ہاتھ جما کر کرسی پر بیٹھا کر دونوں ہاتھ اسکے کندھے کے دائیں بائیں رکھ کر دو زانوں بیٹھ کر غصّے سے اُسے خاموش ہونے کا بولنے لگا وریٰ ایکدم چپ ہوتی اسے گھورنے لگی پھر اچانک منہ بنا کر چہرہ دائیں جانب موڑ لیا۔۔
ماظن اُسکی ناراضگی دیکھ کر مُسکرایا۔۔۔
“مجھے یقین تھا تم اس طرح کی حرکت لازمی کروگی تبھی تمہیں یہاں لے کر آیا ہوں۔۔۔ماظن نے ایک ہاتھ سے اسکے گال پر ہلکے تھپتھپاتے ہوئے کہتے ہوۓ اٹھ کر کھڑا ہوا۔۔وریٰ ہنوز چہرہ پھیرے بیٹھی تھی۔۔۔
ماظن اُسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتا چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا کر کھڑکی کھول کر باہر دیکھنے لگا جہاں جما دینے والی سرد ہواؤں کے ساتھ چاروں جانب برف ہی برف تھی ماظن کے پیچھے وریٰ جو سردی لگنے کی باتیں کر رہی تھی سکون سے بیٹھی ماظن کی پشت دیکھتے ہوۓ اٹھ کر چلتی ہوئی اسکی پشت سے سر ٹکا کر کھڑی ہوگئی ماظن نے آہستہ سے آنکھوں کو بند کرتے اسکے دونوں ہاتھ پکڑ کر آگے لے جا کر سینے پے باندھے۔۔۔
“مجھے معاف کردیں میں اپنے باپ کی وجہ سے ایسا کر رہی تھی۔۔۔۔وریٰ کی ہلکی آواز پر اس نے دھیرے سے آنکھیں کھول کے گھوم کر ایک قدم پیچھے لے کر سر جھکا کر کھڑی وریٰ کو دیکھا۔۔
“اور ایسا کرنے سے چاچا کایان نے کیوں کہا وریٰ؟ ماظن نے اسے دیکھ کر پوچھا جس نے اسکے سوال پر سر اٹھا کر اُسے دیکھا تھا۔۔
“وہ اپنے بھائی کو پسند نہیں کرتے ماظن اور نہ ہی وہ ہم دونوں کو ایک ہوتے دکھنا چاہتے ہیں انہیں طاقت چاہیئے وہ دوسرے ویمپائرز سے کمزور نہیں ہونا چاہتے اسلئے وہ اتھن سے رشتہ جوڑنا چاہتے ہیں مجھے یہاں انسانوں کی طرح رہنے کے لئے کہا میرے خون میں ملاوٹ ہے اسلیے کبھی کسی کو شک نہیں ہوا ہم بھی کبھی نہیں ملے ہماری شادی ہمارے دادا نے راز رکھی اپنے دشمنوں کی وجہ سے لیکن جب آپ کو دیکھا میں آپ کی محبت میں گرفتار ہوگئی۔۔وریٰ اُسے دکھتی سب سچ بتاتی چلی گئی۔۔۔ماظن خاموشی سے کھڑا اُسکی باتیں سُنتا رہا جو وہ پہلے سے جانتا تھا وریٰ کی بات مکمل ہوتے ہی ماظن نے اُسے کندھوں سے تھاما۔۔۔
“محبت تو تم تب سے کرتی آرہی ہو جب ہماری شادی دادا اور ہمارے والدین کی موجودگی میں ہوئی یہاں کوئی اور وجہ ہے۔۔۔۔ماظن سرسراتے لہجے میں کہتا اسے غور سے دیکھ رہا تھا ماظن کے پُریقین لہحے میں کہنے پر وریٰ نے اُسے دیکھا ساتھ ہی دونوں کی آنکھیں چمکیں۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
اگلی صبح ماظن نے جیسے ہی کھڑکیوں کے پردے ہٹائے وریٰ کو درخت کے نیچے برف پر بیٹھے دیکھ کر حیران ہوتا تیزی سے باہر گیا۔۔۔
وریٰ جو برف کے گولے بنا کر خود ہی توڑنے کے بعد دوبارہ بنانے والا کھیل کھیل رہی تھی ماظن کی موجودگی پر مُسکرا کر سر اٹھا کر اسے دیکھتی جلدی سے اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
“کیا کر رہی ہو یہاں جانتی نہیں ہو تمہیں ویمپائرز سے خطرہ ہے؟ ماظن نے ہاتھ بڑھا کر اسکے گلابی ہونٹوں کو اپنے انگوٹھے سے نرمی سے چھوا جس نے اُسے کاٹنا چاہا ماظن نے تیزی سے ہاتھ پیچھے کر کے اُسے گھورا۔۔
“میں انکے لئے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہوں۔۔۔وریٰ نے ہنس کر ایک قدم آگے بڑھ کر اُسے دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
“ہممم!! یہ تو زبردست بات ہے لیکن سمبھل کر جانِ ماظن۔۔۔۔ماظن نے آبرو اُچکا کر شرارت سے کہا جس پر وریٰ مسکرا کر کسی کی آہٹ محسوس کر کے دوسری طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔جب کے ماظن نے بھی ساتھ ہی گردن گھومائی تھی سامنے ہی جیسکا مسکراتی ہوئی اتھن کے ساتھ آرہی تھی۔۔۔دونوں نے ناگواری سے بن بُلائے مہمانوں کی طرف دیکھ کر ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔
“ہیلو ماظن! جیسکا نے قریب پہنچ کر آگے بڑھ کر ماظن کے گال سے گال مس کیا ماظن نے اسکے انداز پر ایکدم وریٰ کو دیکھا جو جیسکا کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھتی خود پے ضبط کر رہی تھی۔۔۔
“ہیلو پریٹی گرل! پہچانا مجھے۔۔۔اتھن کمینگی سے مسکراتے ہوۓ اسکے مقابل آیا۔۔۔
وریٰ نے تیزی سے آنکھوں کو جھپک کے اُسے دیکھا۔۔۔
“ہیلو! آپ کو کون نہیں پہچانتا آپ تو کینیڈا کی ہر اندھیری رات کا قصہ ہیں میرا مطلب ہر لڑکی سے بات کرنے کا موقع آپ کو سڑک پر ہی تو ملتا ہے۔۔۔وریٰ نے طنزیہ لہجے میں اتھن کو جواب دیا جو اسکی بات پر بُرا مانے بغیر زور سے ہنسنے لگا جبکہ وریٰ اندر جانے کے لئے تیزی سے آگے بڑھ گئی ماظن نے تیز نظروں سے اتھن کو دیکھا جو وریٰ کو دیکھ رہا تھا۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ ماظن نے اتھن کے مقابل آتے ہی گھورتے ہوۓ پوچھا اتھن نے نظروں کا زاویہ بدل کر اُسے دیکھا۔۔۔
“آہ! دیکھو نہ ماظن کاین ہم دوست ہیں تبھی یہاں تم لوگوں کے ساتھ گھومنے کے لئے آگئے ہیں اور جیسکا بھی بہت بے چین تھی تم سے ملنے کے لئے کیوں گڑیا۔۔۔۔اتھن نے زبردستی مسکراہٹ سجا کر ماظن کو بتانے کے ساتھ جیسکا کو دیکھ کر معنی خیز لہجے میں پوچھا۔۔۔
“بلکل ماظن اتھن بھائی میرے بہت ضد کرنے پر آئے ہیں۔۔۔جسیکا نے آگے بڑھ کر ماظن کا ہاتھ پکڑ کر معصومیت سے آنکھیں پٹپٹاتے یوئے کہا۔۔۔
وریٰ حو اندر چلی گئی تھی کھڑکی میں کھڑی غصّے میں اُسے دیکھ رہی رہی۔۔۔گردن کی نسیں غصّے سے ابھر رہی تھیں جب کے آنکھوں کا رنگ سرخ تھا۔۔۔
“جیسکا ڈریک تمہیں اپنی زندگی پیاری نہیں ہے۔۔۔وریٰ بڑبڑا کر کھڑکی کے سامنے سے ہٹ گئی۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“ماظن جیسے ہی اتھن اور جیسکا کے ساتھ اندر داخل ہوا سب کو وہیں ایک ساتھ کھڑا دیکھ کر نظروں سے اشارہ کرتے ہوۓ زبرین کے ساتھ آکر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
“یہ یہاں کیا کر رہے ہیں بھائی۔۔زبرین نے ناگواری سے دونوں بھائی بہن کو دیکھتے ہوۓ اپنے بھائی سے سرگوشی میں پوچھا۔۔۔
“پُرسکون رہو تھوڑی دیر تک چلے جائیں گے۔۔۔ماظن نے اُسکا کندھا تھپتھپاتے یوئے کہا۔۔۔
“ہیلو! کیا بات ہے طرفس بھی یہیں ہے زبردست۔۔۔اتھن طائرانہ نظر دوڑا کر آبرو اُچکاتے ہوئے بولتا چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا تہمیم اور تھیم کے قریب آکر روکتا دونوں کے سر کو ہاتھ سے سہلانے لگا اس سے قبل نمرہ اپنے بچوں کو اس سے دور کرتی تہمیم نے اپنے سر سے اسکا ہاتھ زور سے جھٹکا ساتھ ہی تھیم نے بھی اپنے بھائی کی پیروی کی۔۔۔
“اوو۔۔۔مائے بوائیز۔۔۔اتنا غصّہ۔۔ہاہاہا۔۔۔۔نمرہ نے گہرا سانس لے کر طرفس کو دیکھا پھر اتھن کو جو بول کر خود ہی ہنس رہا تھا۔۔۔
بہت ہوا اتھن میرا خیال ہے تم مل چکے ہو اب تم لوگ جا سکتے ہو ہم یہاں فیملی کے ساتھ آئے ہیں۔۔۔۔ماظن ہوا کے جھونکے سے اتھن اور دونوں بچوں کے درمیان آکر بولا۔۔۔
“فیملی ؟ ہاہایا۔۔۔۔جہاں تک مجھے یاد ہے وہ پریٹی گرل جو تم سب کے ساتھ یہاں ہے وہ تو اجنبی ہے اور وہ بھی۔۔۔۔اتھن ہنس کر کہتا ایکدم رُک کر اُس کی طرح جھک کر سرگوشی میں بولا۔۔۔
“وہ بھی ایک انسان۔۔۔ہاں ؟ اتھن کی بات پر ماظن بے اپنی مُٹھیاں بھنج لیں لیکن جواب دیے بغیر پلٹ کر تہمیم اور تھیم کا کا ہاتھ پکڑ کر زینے کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
جیسکا نے کچھ کہنا چاہا اس سے پہلے ہی ماظن نظروں کے سامنے سے اوجھل یوگیا تھا۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
تیز تیز چلتا وہ کسی شکار کی تلاش میں تھا جب اُسے جنگل میں برفانی ہرن نظر آیا۔۔۔۔زبرین پلک جھپکتے اس تک پہنچ کر اس پے حملہ کرتا عملیہ نے دونوں اچانک درمیان آگئی وہ جو اسکے اچانک بیچ میں آجانے سے اسے دبوچ کر گردن کو کاٹنے لگا تھا تیزی سے رُکتے اُس نے اُسے گھورتے ہوئے جھٹکے سےاپنی طرف کھنچ کر غور سے عملیہ کو دیکھنے لگا جو حیرت سے زبرین کے غصّے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
“کس بات کا غصّہ آرہا ہے تمہیں؟ عملیہ نے ہاتھ اٹھا کر نرمی سے اسکے گال پر ہاتھ سے سہلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“مجھے بدلہ چاہیے عملیہ ہمارے خاندان کا جو ڈریک نے دوسروں کے سامنے جنازہ نکالا تھا اُس کا اور اب جو وہ اپنی اولادوں کو پیچھے بھیج کر ہمیں ہی برباد کرنے کے لئے جاسوسی کروا رہا ہے اور بھائی اُسے ملوانے لے آئے۔۔۔۔زبرین غصّہ سے کہتا اسکا ہاتھ جھٹک کر تیزی سے آگے بڑھا اس وقت اسکا غصہ صرف خون ختم کر سکتا تھا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
“انکل ماظن وہ ہم دونوں کو پسند نہیں ہیں۔۔۔تہمیم ماظن کے ساتھ اصطبل کے لکڑی کے چھوٹے بنے دروازے کے قریب رُک کر ماظن کو دیکھتے ہوئے خفگی سے بتانے لگا۔۔۔۔تہمیم کی بات پر ماظن اُسے دیکھ کر مسکراتا تھوڑا سا جُھکا۔۔۔
“وہ مجھے بھی سخت ناپسند ہے وہ اپنی بہن کے ساتھ تھا ورنہ میں اسے کبھی نہیں آنے دیتا۔۔۔
“آپ کو اتنی فکر ہے اُسکی بہن کی جانتے نہیں ہیں دشمن کی خصلت کو۔۔۔ماظن جو تہمیم سے بات کر رہا تھا زبرین کی آواز پر چونک کر اسکی جانب پلٹا سامنے ہی وہ پُرسکون کھڑا تھا۔۔
“جانتا ہوں لیکن تم بھول رہے ہو وہ لوگ ہم سے کمزور ہیں۔۔۔ماظن چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اسکے مقابل آتے ہوۓ بولا۔۔
“دشمن کو کبھی کمزور نہیں سمجھنا چاہیے بھائی۔۔
زبرین کی بات پر ماظن مُسکرایا۔
“یہی تو مزہ ہے جوش میں ہوش نہیں رہتا اتھن اور اسکا خاندان اپنے ہی جوش میں مارے جائیں گے تم تحمل رکھو میں اپنی طاقت کو غصّے کی نظر نہیں کرتا۔۔ماظن اُسکا کندھا تھپتھپاتے کہ کر تہمیم اور تھیم کے ساتھ دروازہ کھول کے اندر بڑھ گیا۔۔۔۔
دوسری طرف اتھن اور جیسکا وہیں اپنے ریزورٹ میں داخل ہوتے اپنے کمرے کی طرف بڑھنے لگے جب اچانک پیچھے سے انہی کا کوئی آدمی وہاں آیا اتھن پلٹا جب کے جیسکا سیڑیوں پر رُک گئی۔۔۔
“آپ کو آپ کے والد صاحب گھر بلا رہے ہیں کہ رہے ہیں ضروری کام ہے۔۔۔۔وہ آدمی بول کر سر کو جنبش دے کر واپس چلا گیا اتھن نے اپنی بہن کو دیکھا جس نے کندھے اُچکا کر اوپر جانے کے لئے قدم بڑھائے تھے۔۔۔
“انہیں کون سا کام پڑگیا مجھ سے۔۔۔اتھن بڑبڑاتے ہوئے ہوا کی طرح گھر سے نکل گیا۔۔۔
جیسکا کمرے میں داخل ہوتی شب خوابی کا لباس لے کر باتھروم میں چلی گئی دس پندرہ منٹ بعد سلک کی برہانہ میکسی پہنے وہ آتے ہی گنگناتے ہوئے اپنے گیلے بال سکھانے لگی۔۔۔
“ہیلو جیسکا۔۔۔ ایکدم آواز پر جسکا کی گنگناہٹ کے ساتھ اسکا بالوں میں چلتا ہاتھ بھی رُک گیا اُسے احساس ہی نہیں ہوا اُس کے علاوہ بھی کوئی بنا اجازت اسکے کمرے میں گُھسا ہے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: