Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Episode 6

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – قسط نمبر 6

–**–**–

آواز پے جسیکا جیسے ہی پلٹی سامنے میرون ہڈ میں کوئی انجان لڑکی کھڑی تھی جیسکا اُسے سر تا پیر دیکھ رہی تھی سفید خوبصورت ہاتھ لمبے نوکیلے ناخن جن میں میرون ہی رنگ کا نیل پینٹ لگا تھا جیسکا کو لمحہ لگا تھا سمجھنے میں کے سامنے کھڑی لڑکی کوئی انسان یا جن نہیں بلکہ ویمپائر تھی۔۔۔
“کون ہو تم؟ تمہاری جرّت کیسے ہوئی ہمارے علاقے میں وہ بھی میرے کمرے میں گھسنے کی؟ جیسکا غصّہ سے بولتی آگے بڑھ رہی تھی آنکھوں کا رنگ بدل کر سیاہ ہوچکا تھا جب کے نوکیلے دانت اب نظر آرہے تھے۔۔
“ہاہاہا! تم روکو گی مجھے ؟ جانتی نہیں ہو ماظن اور اپنے درمیان میں کسی کو پسند نہیں کرتی ہوں؟ اسکی بات پر جیسکا بُری طرح چونکی۔۔۔
“کون ہو تم؟ جیسکا نے شدید حیرت سے اُسے کہا جس نے مُسکرا کر اپنے ہڈ پیچھے گرایا تھا۔۔۔۔
“وریٰ۔۔۔۔حیرت سے جیسکا کی آنکھیں پھٹنے کے قریب ہوگئیں۔۔۔وریٰ اُسکی حالت سے محظوظ ہوتی پلک جھپکتے اسکے بلکل نزدیک آگئی۔۔۔
جیسکا نے پیچھے ہونا چاہا اُسی وقت وریٰ نے اُسکی گردن دبوچ لی۔۔۔
“اتنی آسانی سے نہیں مارونگی تجھے بہت شوق ہے نہ چپکنے کا۔۔وریٰ نے سرگوشی میں کہتے ہی اُسکے گال پے اپنے نوکیلے ناخنوں سے پنجے کی طرح وار کیا۔۔ جیسکا زور سے چیخ مارتی نیچے گری۔۔۔
وریٰ نے مُسکرا کر اُسے دیکھا جس کا گال ادھڑ گیا تھا گال کا گوشت لٹک گیا تھا لیکن فوراً ہی زخمی گال دوبارہ سہی ہوگیا۔۔
“میں تجھے زندہ نہیں چھوڑونگی۔۔۔جیسکا پھنکارتی ہوئی اٹھ کر اُس پر جھپٹنے لگی وریٰ نے برق رفتاری سے اسکے چہرے کو دونوں ہاتھ سے پکڑ کر گردن مڑوڑ کر دور اُچھالا۔۔۔
وریٰ کا باپ بھی انجان تھا کے وہ اسکے انسان اور ویمپائر کے خون کی ملاوٹ کے باعث اُسے کمزور سمجھ رہے تھے۔۔
وریٰ چلتی ہوئی جسیکا کے قریب رُک کر جھک کر اُسے اٹھا کر باہر نکل گئی۔۔۔
باہر آتے ہی وہ جنگل کی طرف چلی گئی جیسکا کی لاش کو پھینک کر شیر کی آواز پر وہ تیزی سے وہاں سے نکلی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ جیسے ہی باتھروم سے میکسی زیب تن کیے باہر نکل کر اپنے گیلے بالوں میں انگلیاں چلاتی ڈریسنگ ٹیبل تک آئی ماظن کو اچانک اپنے پیچھے دیکھ کر مسکرا کر اسکی طرف پلٹی حو خفگی سے اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
“جانتی ہو کیا کر کے آئی ہو اُن کا شک ہم پر جائے گا۔۔۔ماظن نے کہتے ساتھ اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اپنے نزدیک کیا۔۔۔
“آپ یہی تو چاہتے تھے ماظن۔۔۔وریٰ نے اسکا گال سہلاتے ہوۓ کہا۔۔۔ماظن ایکدم مسکرا کر اُسے اپنے سینے سے لگا چُکا تھا۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
شام کا وقت تھا باہر برف باری ہو رہی تھی ایسے میں نمرہ عملیہ اور وریٰ کے ساتھ برف باری لطف اندوز ہونے کے لئے باہر نکل گئیں۔۔۔وریٰ نے اپنے آپ کو سردی سے بچنے کے لئے ماظن کا جیکٹ پہنا ہوا تھا۔۔۔
“تمہیں سردی لگ رہی ہے ؟ نمرہ نے وریٰ کو ایک ہی جگہ کھڑا دیکھ کر تعجب سے پوچھا۔۔۔
“تھوڑی بہت۔۔لیکن مجھے برف باری بہت پسند ہے۔۔۔ وریٰ نے اُسے دیکھ کر اردگرد نظر دوڑا کر مُسکرا کر اُسے بتایا۔۔۔
اس سے قبل وہ اپنی بات جاری رکھتیں کسی دوسرے کی مجودگی محسوس کرتیں چونک کر دونوں پلٹیں سامنے ہی اتھن غم و غصّے سے ایک نظر ان دونوں پر ڈالتے اندر بڑھ گیا۔۔۔
“کچھ گڑبڑ ہے۔۔۔نمرہ ہلکے سے بڑبڑا کر پیچھے جانے لگی عملیہ اور وہ بھی اُسکے ساتھ ہی اندر بڑھیں لیکن اندر کا منظر دیکھ کر ایکدم رُکیں۔۔۔۔اتھن اور ماظن ایک دوسرے کا گریبان جکڑے کھڑے تھے۔۔۔وریٰ نے دونوں مٹھیوں کو سختی سے بھنج لیا۔۔۔
“میری بہن کو کیوں مارا۔۔۔اگر اسکی لاش میرا آدمی نہیں دیکھتا تو وہ جانور اُسے اپنی خوراک بنا لیتا۔۔۔اتھن غصّے سے چنگھاڑ رہا تھا آواز کے ساتھ اسکے نوکیلے دو دانت دیکھ رہے تھے۔۔۔اس سے قبل اتھن ماظن پر حملہ کرتا ماظن کے اشارہ کرتے ہی کوئی برق رفتاری سے پاس سے گزرا۔۔۔اتھن کا دیھان دوسری جانب گیا اس سے قبل وہ دوبارہ ماظن کی طرف دیکھتا ماظن نے لمحہ میں اُسکی گردن مڑوڑدی۔۔۔۔اتھن کا ہاتھ ماظن کے گریبان سے ڈھیلے ہوۓ ماظن نے جھٹکے سے اُسے پھینکا۔۔۔
“بہت خوب میری جان۔۔۔ماظن نے توڑی ہوئی گردن والے اتھن کو دیکھ کر نظر اٹھا کر طرفس کو دیکھا جو اُسی کے قریب کھڑا سرخ ڈیلوں سے اُسے دیکھ کر مُسکرا رہا تھا۔۔۔
“بھائی آپ نے سیدھا جنگ کو دعوت دے دی ہے۔۔۔زبرین نے اپنے بھائی کو دیکھ کر کچھ فکرمندی سے کہا۔۔
“اسکے باپ کو میں اپنے ہاتھ سے ختم کروں گا۔۔۔۔چلیں سب موسم سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔۔۔ ماظن پُرسکون سا بولتا مُسکرا کر وریٰ کے پاس سے گزر کر باہر نکل گیا۔۔۔
“زبرین فکرمت کرو تم اپنے بھائی کو نہیں جانتے؟ عملیہ نے ہلکی آواز میں زبرین کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ تسلی دی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
کاین جیسے ہی اپنے گھر میں داخل ہوا اپنے بھائی کایان کو دیکھ کر حیران ہونے کے ساتھ پرجوش طریقے سے آگے بڑھ کر ملنے لگا لیکن دوسری طرف اتنا جوش کا اظہار نہیں کیا گیا۔۔۔
“تم لوگ تو پانچ دن بعد آنے والے تھے۔۔۔۔کاین نے الگ ہوتے ہوئے اپنے بھائی کو دیکھا جو زبردستی مسکرایا تھا کاین ایک طاقتور اور خطرناک ویمپائرز میں سے ایک تھا وہ اپنے بھائی کی خصلت پہلے سے جانتا تھا۔۔۔
“تایا جان کیسے ہیں آپ ؟ حمید نے آگے بڑھ کر ملتے ہوۓ کہا وردہ بیگم بالوں کے ایک طرف کئے انہیں ہی دیکھ رہی تھی اپنے شوہر سے زیادہ وہ کاین کو پسند کرتی تھیں اور یہ بات کایان بھی جانتا تھا۔۔۔
“میں بلکل ٹھیک ہوں چلیں مہمان خانے میں بیٹھتے ہیں۔۔۔کاین ایک نظر وردہ کو دیکھ کر انہیں لے کر آگے بڑھ گئے۔۔۔جب کے ریلنگ کو تھامے ماہ بیگم نفرت سے اس عورت کو دیکھ رہی تھیں جو آج بھی کاین کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش میں تھی۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
ماظن اور وریٰ دونوں اندھیرے میں سفید برف پر بیٹھے تھے جب زبرین ان دونوں کے قریب آیا وریٰ نے تیزی سے ماظن کے کندھے سے سر اٹھایا۔۔۔۔
“کیا بات ہے زبرین اس طرف آنے کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔ماظن نے اپنے بھائی کے اس طرف آنے پر ناگواری سے پوچھا۔۔۔
“معافی چاہتا ہوں بھائی ماں نے بتایا وریٰ کے گھر والے گھر آئے ہیں۔۔۔۔زبرین نے شرمندہ ہوتے ہوۓ بتایا وریٰ کی سچائی سب جانتے تھے لیکن کسی کو نہیں معلوم تھا کے وریٰ نے خود سب سچ اُگل دیا ہے۔۔۔
زبرین کی بات سنتے ہی دونوں جھٹکے سے کھڑے ہوۓ۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢
“چلو کایان ڈنر لگ گیا ہے۔۔کاین ملازم کے آنے پر اپنی جگہ سے اٹھتے ہوۓ بولا جب کے کایان اور حمید نے نظروں کا تبادلہ کیا تھا۔۔۔
“او مجھے تو بہت بھوک لگی ہے مسٹر کاین۔۔۔وردہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوتے ہوۓ کہتی اپنے بالوں کی لٹ انگلی پے گھومانے لگی۔۔۔
کاین نے تیز نظروں نے اُس ڈھیٹ عورت کو دیکھا جو آج بھی اُن کی توجہ پانے کے لئے مری جا رہی تھی۔۔۔
سب میز پر آکر بیٹھے ہی تھے جب حال کا دروازہ کھولتے ہی ڈریک اپنے اندر داخل ہورہا تھا۔۔۔
کاین تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو ؟ کاین نے روعب دار لہجے میں پوچھا۔۔۔جب کے ڈریک نے بنا کچھ کہے غصّے سے اُسکا گریبان پکڑنا چاہا کاین نے تیزی سے اسکے دوسری طرف اُچھالا اس سے قبل ڈریک اٹھ کر حملہ کرتا کایان نے ہوا کے جھونکے کی طرف اسکے سر پے پہنچ کر گردن مڑوڑ دی۔۔۔
ایکدم حال میں سنّاٹا چھا گیا۔۔۔
کاین صاحب شدید حیرت سے اپنے بھائی کو دیکھ رہے تھے جو اپنے بیٹے کو ڈریک کی لاش اُسکے علاقے میں پھکوانے کا حکم دے رہے تھے۔۔۔
“کایان تم نے کیسے مار دیا اُسے۔۔۔۔کاین کی آواز خاموشی تو ٹورتی پورے حال میں گونجی۔۔۔کایان نے پلٹ کر اپنے بھائی کو دیکھا۔۔۔
“جیسے ماظن نے اس کے دونوں بچوں کو ختم کیا بلکل ویسے ہی۔۔۔۔کایان نے سرسراتے لہجے میں کہتے کندھے اُچکائے۔۔۔
“کایان یہ کوئی عام ویمپائر نہیں تھا۔۔۔کیف صاحب کی آواز پر دونوں نے اُنہِیں دیکھا جو اپنی بیوی کے ساتھ کھڑے تھے۔۔۔
“ہمم اس کے بچے بھی کوئی عام نہیں تھے پھر ماظن نے کیسے دونوں کو ختم کردیا۔۔۔۔تعجب ہے مجھے۔۔۔کایان نے آبرو اُچکائے کاین ایکدم طیش میں آگئے۔۔۔
“کیا مطلب ہے تمہارا اور تم یہ بار بار ایک ہی بات کیوں دوہرا رہے ہو؟ جو کہنا چاہتے ہو صاف صاف کہو کایان۔۔۔۔کاین نے غصّے سے اپنے بھائی کی آنکھوں میں آنکھیں گاڑ کر پوچھا جو اسکے سوال پر مسکرائے تھے ایسے جیسے اُسے کوئی لطیفہ سُنایا گیا ہو۔۔۔
“میرا خیال ہے اب اس سوال کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیوں نہ اپنے بچوں کے پاس جا کر جشن منایا جائے مجھے اپنی معصوم بیٹی کو بھی سرپرائز دینا ہے کیا خیال ہے۔۔۔۔کایان مسکرا کر اپنی بات مکمّل کرتے اُنہیں دیکھنے لگا۔۔۔کاین سوچنے کے بعد سر اثباب میں جنبش دینے لگے۔۔۔
ماہ بیگم نے کچھ کہنا چاہا جب کاین صاحب کے آنکھ سے اشارہ کرنے پے خاموش ہوگئیں۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
وریٰ کمرے میں بیٹھی ماظن کا انتظار کر رہی تھی جو اپنے باپ سے رابطہ کرنے گیا تھا.
وہ جو بستر پر میکسی پہن ایک طرف بال ڈالے بیٹھی تھی اپنے پیچھے کسی کی موجودگی پا کے تیزی سے پلٹی ماظن جو ابھی آکر اُسکے پیچھے بیٹھا تھا ایکدم اُسکے حصار میں سمائی تھی۔۔
“کیا کہا انکل کاین نے؟ وریٰ نے بے صبری سے پوچھا جو جواب دینے کے بجائے اسکے گال کو انگوٹھے سے سہلا رہا تھا۔۔۔۔
“وہ سب یہاں آرہے ہیں۔۔۔ ماظن نے کہتے ہی اُسے اپنے نزدیک کیا وریٰ نے حیرت سے اُسے دیکھا جو پُرسکون تھا۔۔
“آپ اتنا پُرسکون کیوں ہیں ماظن؟ وریٰ نے اُسکا ہاتھ جھٹکتے ہوۓ گھورتے ہوئے پوچھا ماظن اُسکی بات پر مُسکرایا۔۔
“تم اپنے گھر والوں سے آخری بار ملنا نہیں چاہو گی جانِ ماظن۔۔۔۔ماظن کے بولتے ہوۓ آنکھیں چمکیں وریٰ چُپ ہوتی ایکدم مُسکرا کر اُسکے سینے سے لگی۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
رات کا دوسرا پہر تھا ہر طرف خاموشی کا عالم تھا ایسے میں صوفے پر تہمیم اکیلا بیٹھا ٹی وی پر مووی دیکھ رہا تھا جب قدموں کی چاپ پر آہستہ سے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا۔
“تھیم کیا بات ہے ایسے کیوں کھڑے ہو ؟ تہمیم نے پورا اسکی طرف گھوم کے حیرت سے پوچھا۔۔۔
“میں شکار پر جا رہا ہوں چلو گے ؟ ۔۔تھیم نے اُسے دیکھ کر پوچھا جو سُنتے ہی کھڑا ہوا تھا۔۔
“ٹھیک ہے.۔۔۔تہمیم فوراً جانے کے لیے راضی ہوا۔۔۔اِس سے قبل دونوں باہر نکلتے آواز پر حیرانگی سے گھوم کر سامنے کھڑی وریٰ کو دیکھنے لگے جو تیار کھڑی مسکرا کر دونوں کو دیکھ رہی تھی.۔۔تہمیم اور تھیم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر جیسے ہی اسے دیکھا وریٰ نزدیک کھڑی مُسکرا کر اُن دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔تہمیم اور تھیم گھبرا کر ایکدم مُسکرائے۔۔
“آنٹی وریٰ یقیناً آپ چل سکتی ہیں آج مزےدار اور بھرپور شکار ہوگا کیوں تھیم۔۔۔تہمیم نے دھیمی آواز میں پُراسرار لہجے میں کہا۔۔تہمیم کی بات پر تینوں مُسکرا کر باہر نکل گئے۔،
💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢💢💟💢
رات کے سنناٹے میں رینگنے کی آوازوں کے ساتھ جانوروں کی آوازوں نے ماحول کو ہولناک بنایا ہوا تھا ٹھنڈ اس قدر تھی کہ کوئی بھی عام انسان ایک منٹ سے زیادہ وہاں نہیں کھڑا رہ سکتا لیکن وہ تینوں ماحول سے لطف اندوز ہوتے تیزی سے آگے بڑھ رہے تھے جب اتھن کے ریزورٹ کے پچھلی طرف سے اندر جانے لگے۔۔۔
اندر داخل ہوتے ہی تھیم نے اپنے بھائی اور وریٰ کو دیکھا۔۔
“ہم یہاں کیا کرنے آئے ہیں آنٹی وریٰ؟ تھیم نے اُسے دیکھ کر پوچھا جب کے تہمیم بھی یہی جاننا چاہتا تھا۔۔۔
وریٰ نے اپنا لانک کوٹ اُترا۔۔۔
“اپنے باپ سے ملنے۔۔۔۔وریٰ نے سرسراتے لہجے میں کہتے آنکھوں کو بند کر کے کھولا جو اب دوبارہ سیاہ ہوُچکی تھیں۔۔
تہمیم اور تھیم دونوں نے پریشانی سے ایک دوسرے کو دیکھا جب قدموں کی چاپ پے پلٹے۔۔
“اکیلے ہی شکار پر نکل آئے۔۔۔ماظن نے مُسکرا کر ان تینوں کو دیکھا ماظن کے پیچھے زبرین بھی کھڑا مُسکراتے ہوئے ورِیٰ کو دیکھ رہا تھا جو ماظن کو آبرو اُچکا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔
“یہ سب چھپنے والا نہیں ہے وریٰ۔۔۔۔ماظن نے اُسکے دیکھنے پر کہا جس نے کندھے جھٹکے تھے۔۔۔۔
“بھائی آپ کو لگتا ہے انکل کایان یہیں آئیں گے ؟ زبرین نے اپنے بھائی سے پوچھا جس نے چونک کر اُسے دیکھا تھا۔۔
“ہاں وہ لوگ یہاں کچھ دیر روکیں گے۔۔۔۔ماظن نے سر کو جنبش دی۔۔آگے بڑھ کر لمبی سے کرسی پر بیٹھ کر سر ٹیکا کر آنکھوں کو موند گیا۔۔۔
“معافی چاہتی ہوں دیر ہوگئی آنے میں۔۔۔ایکدم عملیہ نمرہ۔ اور طرفس کے ساتھ اندھیرے سے روشنی میں آئی۔۔۔۔
تہمیم اور تھیم اپنے ماں باپ کو دیکھ کر وریٰ کے پیچھے چھپنے لگے جب کے سب وریٰ کو خوش گوار انداز میں دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: