Day Breaker Vampire based Novel by Amrah Sheikh – Last Episode 7

0
ڈے بریکر ۔ ویمپائر بیسڈ از امرحہ شیخ – آخری قسط نمبر 7

–**–**–

نوٹ: کہانی کے کرداروں سے لے کر جگاہوں تک سب فرضی ہے۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
رات کے تین بج رہے تھے ایسے میں سب اتھن کے ریزورٹ کے لاونج میں بیٹھے تھے جب ایکدم خاموشی میں وریٰ نے دروازے کی سمت دیکھ کر سرسراتے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“ابّو۔۔۔۔وریٰ سپاٹ چہرے کے ساتھ بولتی ماظن کے قریب جا کر کھڑی ہوگئی جبکہ سب چونک کر دروسزے کی طرف دیکھتے کھولنے کا انتظار کر رہے تھے۔۔۔۔
“نمرہ تہمیم اور تھیم کو لے جاؤ یہاں سے۔۔۔طرفس اچانک اپنی بیوی سے مخاطب ہوا نمرہ کے ساتھ دونوں نے بھی طرفس کو دیکھا۔۔۔
“لیکن کیوں؟ نمرہ نے ایک نظر بند دروازے کو دیکھ کر طرفس سے پوچھا سب دروزے پر نظریں مرکوز کیئے بیٹھے تھے جبکہ طرفس کی آنکھوں سے اب خون کی لکیر گال پے پھسل کے تھوڑی سے غائب ہو رہی تھی۔۔۔
“نمرہ نے دیکھتے ہی بنا جواب سنے دونوں کو چلنے کا اشارہ کیا۔۔۔
“ہم کیوں نہیں روک سکتے ؟ تہمیم بنے خفگی سے اپنی ماں سے پوچھا نمرہ بے ایکدم اپنے بیٹّوں کو گھورا۔۔۔
“مجھے کچھ بُرا ہونے کا احساس ہو رہا ہے طرفس میرا خیال ہے یہ وقت سہی نہیں ہے۔۔۔نمرہ دوری طرف بڑھتی ایکدم روک کے گردن گُھوما کر بولی۔۔۔
“ہم ویمپائرز کا یہی وقت ہے۔۔۔۔۔نمرہ اب تم جاؤ فکر مت کرو کچھ نہیں ہوگا۔۔طرفس نے اُسے تسّلی دی نمرہ سر ہلا کر چلی گئی جب ماظن نے اُسے دیکھا۔۔
“ہمارے اردگرد پورا گروپ ہے مجھے لگتا ہے نمرہ کی بات ٹھیک ہے۔۔۔طرفس نے اُسکے دیکھنے پر کہا جس نے ساتھ کھڑی وریٰ کو دیکھا تھا۔
“یقیناً آپ لوگ ڈر نہیں رہے ہوں گے لیکن اگر کچھ ایسا ویسا خطرہ ہے تو ہمیں چلنا چاہیے۔۔۔وریٰ نے باری باری سب کو دیکھ کر کہا جب زبرین گلا کھنکھار کر قدم اٹھاتا وریٰ کے مقابل آیا.۔۔
“بھاگ جانا بزدلوں کا کام ہوتا ہے بھابھی۔۔۔۔۔زبرین نے گھورتے ہوۓ نظر پھیر کے وریٰ کے ہاتھ دکھے۔۔۔سیاہ لمبے نوکیلے ناخن زبرین نے ترچھی نظروں سے اپنے بھائی کو دیکھا جس نے دھیرے سے اشارہ کیا تھا زبرین نے ایکدم پوری طاقت سے ورِیٰ کو پکڑ کے دور اُچھالا ماظن برق رفتاری سے آگے بڑھ کر عملیہ کو اپنے پیچھے کرتے دور لکڑی کے فرش پر گری وریٰ کو دیکھنے لگا.۔۔
طرفس اور زبرین بھی ماظن کے نزدیک آئے۔۔
وریٰ کہاں ہے ؟ ماظن دھاڑ کر بولتا اس تک پہچ
چکا تھا لمحہ لگا تھا سب ہونے میں اور وریٰ پوری آنکھیں کھولے اُسے دیکھ ریی تھی۔۔۔
“ماظن۔۔۔۔۔ بے یقینی سے وہ اُسے دیکھ رہی تھی۔۔
“بھائی یہ سب کیا ہے ؟ عملیہ نے شدید حیرت میں ماظن کو دیکھتے ہوئے پوچھا اس سے قبل وہ ہمدردی میں آگے بڑھتی وریٰ دھیرے سے مُسکرانے لگی۔۔۔
“ہمم۔۔ماننا پڑے گا بہت تیز حس ہے۔۔۔۔۔لیکن افسوس کوئی فائدہ نہیں ہوگا وریٰ کو اب تک اُسکا باپ تم لوگوں کے ریزورٹ میں ہی ختم کردے گا اور میں۔۔۔وریٰ کے روپ میں بہروپیا کہتے کہتے ایک دم ہاتھ کی مُٹھی کھولتی کالے دھویں کے ساتھ غائب ہوگئی ایک پل کے لئے کالا دھواں پھیلا ایکدم لاونج خالی ہوگیا۔۔۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
سب وقت ضائع کئے بغیر ہی واپس آئے تینوں بھائیوں کو دیکھ کر تیزی سے اندر داخل ہوئے۔۔۔
“پاپا وریٰ کہاں ہے؟ ماظن سیدھا اپنے باپ کے نزدیک گیا۔۔۔
“کیوں تم سب کے ساتھ تو یہیں آئی تھی۔۔کاین نے ایک نظر سب پے ڈال کر کہا ماہ بیگم دونوں کے قریب آئیں جب کے وردہ بیگم کایان کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔۔
“ہمارے ساتھ تھی لیکن اب یہاں کہیں نہیں ہے۔۔۔ماظن نے اپنا غصّے ضبط کرتے ہوۓ جواب دیا۔۔۔
“کیا بیکار کی بات کر رہے ہو ماظن تم سب کوئی عام انسان نہیں ہو جو ایسی باتیں کر رہے ہو کایان اپنی بیٹی سے ملنے آیا ہے۔۔۔کاین نے اپنے بیٹے کو گھورتے ہوئے جواب دیا۔۔جبکہ وردہ بیگم کایان کے قریب سرگوشی کرنے لگیں۔۔۔
“میری بیٹی کہاں ہے کایان تم نے اُسے کہاں چُھپایا ہے۔۔۔وردہ کی بات سنتے ہی کایان نے اپنی بیوی کو گھورتے نظروں سے ہی دھمکی دے دی۔۔وردہ سہی معنوں میں اپنی بیٹی کے لئے پریشان ہوئی تھی لیکن اس وقت وہ ڈرنے والی نہیں تھیں۔۔۔۔
“ہو سکتا ہے پاپا کیا آپ لوگ بھول گئے ہیں کے وہ انسان ہے ؟ ماظن نے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
“غلط۔۔۔۔ایکدم غصّے سے کہتے کایان صاحب ماظن کے نزدیک آئے۔۔۔ماظن نے بھی لحاظ کیئے بغیر اُنکی آنکھوں میں آنکھیں گاڑیں۔۔۔
“کیا غلط ہے اس میں انکل کایان؟ ماظن نے جما جما کر پوچھا۔۔۔کایان صاحب نے کندھے جھٹکے۔۔۔
“آہ! کیونکہ وہ ایک ویمپائر خاندان کی بیٹی ہے۔۔۔ہاں اس میں اتنا حیران ہونے کی کیا بات کیا ہے یہ سن کر تو سب کو خوش ہونا چاہیے۔۔۔کایان نے سنجیدگی سے بولتے ہوۓ ماظن کو دیکھا۔
“آپ کی اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں انکل کایان میں سب جانتا ہوں وہ بھی تب سے جب آپ وریٰ اور اتھن کی شادی کا سوچ رہے تھے۔۔۔۔لیکن آپ نے جان کر اتھن اور جیسکا کو مروایا وہ بھی تب جب وریٰ سمیت ہم اس پاس ہوتے تھے . . ماظن نے بتاتے ہوۓ کنکھیوں سے سب کو دیکھا ماظن کی بات سنتے ہی کایان بے آنکھیں پھیلا کر اُسے دیکھاجبکہ زبان گنگ ہوچُکی تھی۔۔۔
ماظن انکی حالت دیکھ کر محظوظ ہونے لگا۔۔
“اب بتائیں ماظن کی وریٰ کہاں اس وقت کہاں ہے میں اُسے ڈھونڈھ نہیں پارہا۔۔۔۔ماظن نے پوچھتے ہی ہاتھ انکے کندھے پر رکھا ۔۔۔
“کایان۔۔۔ماظن کے خاموش ہوتے ہی کاین صاحب انکے مقابل آئے۔۔
“وہ تمہیں کبھی نہیں ملے گی ماظن کاین۔۔۔میں اُسے انسانوں کے خون کا عادی بنا دوں گا اتنا کے پھر وہ تمہاری جان کی بھی دشمن بن جائے گی اور تب اُسے میں ختم کروں گا جیسے ڈریک ۔۔۔۔۔کایان اپنے اصلی روپ میں سرسراتے ہوئے لہجے میں بول کر مسکرانے لگا۔۔۔اس سے قبل ماظن اپنے ہی چاچا کو مار دیتا کاین صاحب نے آگے بڑھ کر پوری قوت سے کایان صاحب کو مکا مارا۔۔
“حمید اپنہ باپ کو دیکھ کر غصّے سے کاین صاحب پی حملہ کرنے والا ہی تھا چھوٹے سے لاونج میں جیسے طوفان آگیا ہو۔۔۔حمید کے انکےاوپر حملہ کرنے سے قبل ہی زبرین درمیان میں آتے ہی جھپٹ کر چہرے کو دونوں طرف سے پکڑ کے جھٹکے سے گھوما دیا۔۔۔۔وردہ بیگم چیخ پڑیں جبکہ کیف صاحب اشارے پر کرن اور ماہ بیگم دونوں کے ساتھ عملیہ کو بھی وہاں سے لے کر نکل گئے۔۔
رات کے سناٹے میں دور جنگل سے جانوروں کی آوازیں اندر کے ماحول میں اور ہولناک لگ رہا تھا۔۔۔
“ہمیں کمزور ہرگز مت سمجھنا۔۔۔۔حمید کے نچلا دھڑ گرتے ہی زبرین بے اُسکے چہرے کو تھامے بولتے گیند کی طرف دیوار پے مارا۔۔۔
“نہیں۔۔۔۔۔میرا بیٹا۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔آآآآآ! کایان حلق کے بل دھاڑتا رونے لگا آنکھوں سے خون آنسوؤں کی صورت بہنے لگے جب کے کچھ فاصلے پر باپ بیٹے مطمئن انداز میں کھڑے اُسے تڑپتا دیکھتے رہے۔۔
کاین صاحب کے اشارے پر ماظن اور طرفس دونوں نے آگے بڑھ کے انہیں پکڑ لیا۔۔۔
“وردہ بیگم غصّے سے انکی جانب بڑھیں۔
“زندہ رہنا چاہتی ہو تو دور رہو ورنہ تمہارا بھی یہی حشر ہوگا۔۔۔۔کاین کی دھمکی نے وردہ بیگم کے قدموں کو روک لیا۔،۔
“چھوڑ دو اتنا آسان نہیں ہے مجھے مارنا۔۔۔۔۔کایان کی آواز اتنی تیز تھی کہ وردہ بیگم رونا بھول کر پلٹ کر کایان کو دیکھنے لگیں۔۔۔
“پلیز انہیں کہاں لے جا رہے ہو چھوڑدو۔۔۔چھوڑدو میں بتاتی ہوں وریٰ کا۔۔۔وردہ بیگم کایان کو لے جاتے دیکھ کر جلدی سے بولیں جب کے کایان صاحب اپنی ہی بیوی کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے لگے۔۔۔۔
“کہاں ہے وریٰ ؟ ماظن نے سخت لہجے میں پوچھا۔۔۔وردہ بیگم کایان صاحب کو دیکھنے لگی جو اُسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے۔۔۔۔
“وریٰ ہمارے ویمپائر اسٹیٹ کے تہہ خانے میں قید ہے۔۔۔وردہ بیگم کے بتاتے ہی کایان قہقہ لگا کر ہنسا تو ہنستا چلا گیا۔۔
“اُس کی وجہ سے میری دو سال کی ہماری اپنی بیٹی مری اور اتنے سالوں بعد میرا بیٹا تم لوگوں نے مار دیا میں اسے اتنی اذیت زدہ موت دوں گا کے خون کے آنسوں روئے گی۔۔۔کایان نے نفرت سے کہتے ہوۓ ایکدم گرفت سے نکل کر وردہ بیگم پر جھپٹتا مارنا چاہا جسے واپس روک لیا گیا۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
“میں تم سب کو ختم کردوں گا ایک غیر کے لئے تم لوگ مجھ سے دشمنی لے رہے ہو۔۔۔کایان نے غصّے سے اپنے بھائی کو جذباتی کرنا چاہا جیسے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا۔۔
“کایان میرے سوتیلے بھائی میں اسی دن کا انتظار کر رہا تھا جب تم اپنا اصل چہرہ ہم سب کے سامنے لاؤ گے میرے باپ نے ایک بُری عورت سے شادی کی تو سوچو اسکی اولاد کیسے نیک ہوسکتی ہے تم نے تو شادی کرتے ہی اپنا اصل روپ دکھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔کاین کہتے کہتے اسکے نزدیک گیا سب خاموش کھڑے اُنہیں دیکھ رہے تھے۔۔۔
وردہ بیگم کایان صاحب کو حیرت سے دیکھنے لگیں۔۔۔کاین صاحب سانس لے کر دوبارہ بولنا شروع ہوئے۔۔۔
“کس بیدردی سے تم نے وریٰ کے ہنستی بستی دنیا اُجاڑ کر ایک سال کی انسانی بچی کو ویمپائر بنا کر اپنی بیوی کے حوالے کیا تاکہ اُسے جوان کر کے اپنے کسی فائدے کے لئے استعمال کر سکو مگر دیکھو آج تم اپنے دونوں بچوں کو کھو چکے ہو۔۔۔کاین کہتے ہی تلخی سے مُسکرایا جبکہ وردہ بیگم جو ہر بات سے انجان تھیں بے یقینی سے کایان صاحب کو دیکھتی رہ گئیں۔۔۔۔
“بھولو مت کاہن وہ ہے تو آدھی انسان۔۔۔کتنی تکلیف والی بات ہے کے تمہاری بہو کے خون میں جو ملاوٹ ہے خون پینے کے بعد اسکی اپنی طبیعت نڈھال ہوجاتی ہے اور اگر کبھی کسی دشمن کے سامنے اُس کی وہ حالت ہوگئی تو سوچو کیا ہوگا۔۔۔کایان نے مُسکراتے ہوئے ان سب کو تپایا۔۔۔ماظن اور زبرین دونوں نے غصّے سے مُٹھیاں بھنج لیں۔۔۔
“پاپا یہ ہمیں صرف باتوں میں اُلجھا رہے ہیں آپ جلدی فیصلہ کریں ورنہ روشنی ہوتے ہی ویمپائر اسٹیٹ کھنڈر بن جائے گا اور میں اگلی رات کا انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔ماظن نے اُنہیں کچھ کہنے سے قبل ہی سختی سے بول دیا۔۔کایان صاحب اسکی بات پر مُسکرائے۔۔
“ماظن کاین تمہاری بےبسی پر ترس آرہا ہے نہ تم اپنی محبوبہ کو بچا سکے نا آپ اپنی بیوی کو بچا سکو گے۔۔۔کایان نے اسے دیکھ کر کہا۔۔۔
“انکل کایاں میں جانتا تھا جیسکا کو وریٰ نہیں مار سکتی تھی کیونکہ وہ اس سے زیادہ طاقت رکھتی تھی اور اتھن جو وریٰ کو چلاکی سے ختم کرنے آیا تھا مجبوراً مجھے اسے ختم کرنا پڑا اس وقت وہ کچھ نہیں سمجھتا جیسے انسان جوش میں ہوش کھو دیتا ہے ویسے ہی وہ اُس وقت کچھ سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ماظن نے سنجیدگی سے انہیں دیکھ کر کہا جو سب سننے کے بعد ماظن کو گھور رہے تھے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
“بات مکمل کرتے ہی ماظن کاین کے اشارے پے زبرین کے ساتھ باہر جانے لگا جب دروازے پر ہی کایان کے آدمی (ویمپائرز) انکے مقابل آگئے۔۔
“اوہ انکل کایان اب آپ کے یہ کمزور آدمی مجھ سے مقابلہ کریں گے جو معصوم انسانوں کا خون پی کر ہی زندہ رہتے ہیں۔۔۔ماظن نے گردن گھوما کر کہتے ہی برق رفتاری سے سامنے کھڑے دونوں آدمیوں کی گردنیں اکھاڑدیں ماہ بیگم نے فخر سے اپنے بیٹے کو دیکھا جبکہ وردہ بیگم نامحسوس طریقے سے کاین صاحب کے پیچھے چلی گئیں انہیں اس وقت کایان سے خوف آرہا تھا۔۔۔
کاین آدمیوں کو مارتے ہی باہر نکل گیا۔۔۔کایان صاحب پیچھے ہی جانے لگے جب اچانک ہی کاین صاحب تیزی سے انکے پاس سے گزرے۔۔
“چلو ماہ ہم اپنی بہو کے لینے چلیں ۔۔۔کاین صاحب نے نظریں زمین پر گرے کایان کے کٹے دھڑ کو دیکھ کر کہا وردہ بیگم چیخ مارتیں تھر تھر کانپنے لگیں وہ جو اپنے شوہر کو بہت چلاک اور طاقت والا سمجھتی رہیں ایک لمحہ نہیں لگا اُسے ختم کرنے میں۔۔۔
“وردہ تم واپس اپنے گھر چلی جاؤ میں تمہاری نیت جانتی ہوں۔۔۔۔،ماہ بیگم کی آواز پر وردہ بیگم نے اُسے دیکھا۔۔۔
“مجھے اپنی بیٹی سے الگ مت کرو پلیز مجھے کچھ نہیں چاہیے۔۔۔وردہ بیگم نے منّت کرنے والے انداز میں کہا۔۔کاین اور ماہ دونوں غور سے اُسے دیکھتے رہے پھر سر ہلا کر چلنے کا کرتے ویمپائر اسٹیٹ کی جانب گامز ہوگئے۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
“بھائی رُک کیوں گئے ؟ زبرین پُہچتے ہی ماظن کے ایکدم رُکنے پر پلٹ کر پوچھنے لگا۔۔
“وہ یہیں ہے ہمیں احتاط سے جانا چاہئے یہاں بہت ویمپائرز بہت ہیں۔۔ ماظن اُسے کہتا اندر بڑھ گیا۔۔۔
اندھیرے میں بھی وہ بآسانی تیز تیز چلتے جارہے تھے دور دور سے لوگوں کی آوازیں آرہی تھیں کہیں سے انسانی لڑکے لڑکیوں کے چیخنے کی آوازیں آرہی تھیں یہاں کے ویمپائرز انسانوں کو بھی دعوتوں کے لئے قید کرلیتے تھے۔۔۔
“ماظن دھڑکتے دل کے ساتھ ایکدم رُکا گردن گھوما کر سلاخوں کو دیکھا آگے بڑھ کے ہاتھ بڑھا کر ایک طرف سلائڈ کر جے کھولتا اندر بڑھا کمرے میں تیز روشنی تھی ماظن تیزی سے آگے بڑھ کر نیچے کی جانب جاتی سیڑیاں اُتر کر جیسے ہی نیچے آیا ساتھ آٹھ ویمپائرز کو دیکھ کر ماظن نے زبرین کو دیکھا یہ جگہ کایان کی تھی۔۔۔ویمپائر اسٹیٹ میں ہر ایک کی ایسی ہی ایک جگہ ہوتی تھی جو خریدتے تھے جیسے انسانوں کے ہوٹل ہوتے تھے۔ ۔۔
“کون ہو تم دونوں بنا اجازت کیسے آگئے۔۔۔۔آدمی نے اپنی بھاری آواز میں گھورتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ماظن نے کچھ بھی کہے بغیر آگے بڑھ کر اسے مار کر پوری قوت سے دور اُچھلا۔۔۔
“بھائی بھابھی۔۔۔۔زبرین کی آواز پر ماظن نے جھٹکے سے پلٹ کر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا زنجیروں سے باندھے اسے زمین پر نڈھال گری ہوئی تھی جب کے تھوڑی پر تازہ خون لگا اس بات کا ثبوت تھا کے ابھی اُسے کسی انسان کا خون دیا گیا ہے۔۔۔
ماظن ایکدم ہی غصّے میں آتا دھاڑا۔۔ماظن کی دھاڑ اتنی شدیدتھی کے سارے ویمپائر اسٹیٹ میں سنّناٹا چھا گیا۔۔جبکہ وہ جو اُسے مارنے آگے بڑھ رہے تھے گھبرا کر پیچھے ہی رُک گئے۔۔۔۔
“زبرین وریٰ کو لے کر سیدھا گھر جاؤ میں وہیں آؤں گا۔۔۔ماظن حکم دیتا وہیں کھڑا رہا۔۔۔
زبرین سر ہلاتا وریٰ کو کندھے پر ڈالتا جیسے ہی پلٹا پاس کھڑے آدمی نے پیچھے سے دھکہ دیا دونوں زور سے زمین پر گرے وریٰ نے بمشکل آنکھیں کھول کر دیکھنا چاہا سب دھندھلا رہا تھا یوں محسوس ہورہا تھا جیسے کمرے میں طوفان آگیا ہو۔۔۔۔
دیکھتے ہی دیکھتے وریٰ کی آنکھیں دوبارہ بند ہوتی چلی گئیں۔۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
دو دن بعد:
صبح کا وقت تھا جب وریٰ نے کسمسا کر آنکھیں کھولیں۔۔۔۔کمرے میں تیز روشنی کی وجہ سے جلدی سے آنکھوں پے ہاتھ رکھا جب اپنی ماں کی آواز پے آہستہ سے ہاتھ ہٹا کر آنکھوں سے ہاتھ ہٹا کر اپنے دائیں جانب دیکھا۔۔۔
وردہ بیگم کرسی پر بیٹھیں مُسکرا کر اُسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔وریٰ اُنکے مُسکرانے پر خود بھی دھیرے سے مُسکرائی۔۔۔
“امی۔۔۔
“وریٰ میری جان شکر ہے اب تم ٹھیک ہو۔۔۔وردہ بیگم اٹھ کر اُسکا ماتھا چوم کر بولیں۔۔۔
جب کمرے میں سب کو آتے دیکھا۔۔۔
“انکل کاین۔۔۔وریٰ نے مُسکرا کر اُنہیں پُکارا جو آگے بڑھ کے اسکے گال کو پیار سے تھپتھپا کر وہیں کھڑے ہوگئے۔۔۔
“ہم سب انتظار میں تھے کب بلکل صحتیاب ہوکر ہماری بیٹی اٹھے گی ماظن اور تمہارا ریسپشن دھوم دھام سے کرین۔۔۔کاین صاحب نے مُسکرا کر اُسے بتایا جب وریٰ نے ماظن کا نام سُن کر نظریں دوڑائیں ماظن سامنے ہی کھڑا مُسکرا کر اُسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
وریٰ نے مُسکرا کر آبرو اُچکائے وہ جانتی تھی اپنے باپ اور اپنی اصلیت۔۔ماظن نے اُسکا اشارہ سمجھتے ہوۓ سر کو اثباب میں جنبش دی۔۔۔
وریٰ نے سکون بھرا سانس لے کر آنکھوں کو موند لیا۔۔
💢💢💟💢💢💟💢💢💢💢💟💢💢💟💢💢
دونوں اسٹیج پر ساتھ کھڑے بہت خوبصورت لگ رہے تھے وریٰ نے زمین کو چھوتی جھلملاتی لال رنگ کی میکسی پہنی ہوئی تھی اونچا جوڑا باندھے وہ ماظن کو محبت سے دیکھ رہی تھی جو تھری پیس سوٹ میں محفل پے چھایا ہوا تھا۔۔۔
زبرین اور علمیہ بھی آج ساتھ بہت اچھے لگ رہے تھے۔۔۔۔ویمپائرز کے ساتھ انسان بھی اس دعوت میں شریک تھے۔۔
“کیا دیکھ رہی ہو ؟ ماظن نے اُسے خود کو دیکھتا پاکر سرگوشی کی جس نے دوسرے ہاتھ سے اسکے گال پے ہاتھ رکھا تھا۔۔۔
“یہی کے آپ اب میرے ہیں۔۔۔۔۔وریٰ نے مُسکرا کر اُسے کہا حو ہنس دیا تھا۔۔
“میں تو کب سے تمہارا ہوں جب انکل کایان کے ساتھ ڈری سہمی روتی ہوئی بچی کو آتے دیکھا تھا۔۔۔ماظن کہتے ہی اُسکی طرف جُھکنے لگا جب زبرین اور عملیہ کی آواز پر سیدھا ہوا۔۔۔
“تم دونوں سدھر جاؤ ورنہ میں دونوں کی شادی جلد کروانے کا کہ دوں گا۔۔۔ماظن نے شرارت سے اُن دونوں کو دیکھ کر کہا جو ۔ ایک دوسرے کو دیکھنے کے بعد اُسے دیکھ کر کندھے اُچکا کر رہ گئے۔۔۔
ماظن دونوں کے تاثرات دیکھ کر زور سے ہستا وریٰ کے کندھے پر ہاتھ پھیلا کر حصار میں لے چُکا تھا۔۔۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: