Dayan by Jawad Ahmad – Episode 1

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر1

ایک ہزار سال پہلے “روہی” نامی لڑکی نے کالا جادو سیکھنا شروع کیا تھا۔ وہ پوری پوری رات قبرستان میں بیٹھ کر چلہ کاٹتی تھی۔ کہتے ہیں کہ اس کے قابو میں بہت سی شیطانی طاقتیں آ گئی تھی۔ مگر وہ شیطان کے اور زیادہ قریب جانا چاہتی تھی اس کے لئے اس نے شیطان کو خوش کرنے کے لئے اس کے سامنے چھوٹے چھوٹے بچوں کی بلی دینا شروع کردی۔ وہ اپنے گاؤں کے بچوں کو اغوا کرواتی اور شیطان کے بت کے سامنے اس بچے کو ذبح کردیتی۔ شیطان کے اس مندر میں اس نے انسانی بچوں کے خون کا تلاب بنایا ہوا تھا۔ وہ ان معصوم بچوں کا دل کھاتی تھی۔ گاؤں والے اس سے بہت تنگ تھے۔ وہ سب مل کر ایک بزرگ کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی۔ اس بزرگ نے گاؤں والوں کی مدد سے اس لڑکی کو ایک تابوت میں بند کیا اور اسے زمین کے نیچے گاڑھ دیا۔
“چاہے کچھ ہو جائے اس تابوت کو کھولنا مت، اگر اس تابوت کو کھولا گیا تو یہ ڈائن دوبارہ زندہ ہو جائے گی” اس نیک بزرگ نے سارے لوگوں سے کہا۔
سب لوگوں نے اس تابوت کے بارے میں بھول جانے کا وعدہ کیا۔ اس کے بعد وہ تابوت ہمیشہ بند رہا اور کسی نے اسے ڈھونڈنے اور کھولنے کی کوشش نہیں کی اور آہستہ آہستہ سب اس کے بارے میں بھول گئے۔ وہ ڈائن آج بھی زمین کے نیچے تابوت میں بند تھی اور اس انتظار میں تھی کے کوئی اس کو ڈھونڈھ کر اسے کھولے تا کہ وہ آزاد ہو سکے۔
———————————-
اسد اور اکرم تین دن سے ان کھنڈروں کی کھدائی میں مصروف تھے۔
“تمہیں کیا لگتا ہے کچھ ملے گا یہاں سے؟” اکرم نے اسد کی طرف دیکھتے ہوۓ بولا۔
“مجھے کافی امید ہے کے ہمیں یہاں سے ضرور کوئی کام کی چیز ملے گی، جس کے بعد ہماری تصویریں اخباروں میں لگی ہوں گی” اسد نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“اکرم بھی اسکی بات سن پر مسکرا پڑا۔ اسد اور اکرم دونوں کا تعلق محکمہ آثار قدیمہ سے تھا اور وہ مزدوروں کے ساتھ جنگل میں موجود کھنڈروں کی کھدائی کر رہے تھے۔
“سر نیچے سے کچھ ملا ہے” ان مزدوروں کے ان چارج حامد نے آ کر کہا۔
“ہم آ رہے ہیں” اکرم نے مختصر جواب دیا۔ تو حامد سر ہلا کر چلا گیا۔
“تمہیں کیا لگتا ہے؟ کیا ملا ہو گا؟” اسد نے پوچھا۔
“نیچے جا کر ہی دیکھتے ہیں” اکرم نے جواب دیا۔
دونوں اپنے خیمے سے باہر نکلے جہاں وہ کھانا کھانے کے لئے آئے ہوۓ تھے۔ اور نیچے کھنڈر میں چل دیے۔ ایک جگہ انھیں بڑے بڑے بت نظر آئے، جن کی عجیب سی شکل تھی۔ یہاں ہر طرف سے بدبو آ رہی تھی۔ ایک جگہ اسد کو لگا جیسے اس کے پیروں کے نیچے کوئی چیز ہے، اس نے مزدور سے وہاں کھدائی کا کہا تو وہاں سے کھدائی شروع ہو گئی نیچے انھیں ایک تابوت نظر آنے لگا، فولاد سے بنا ہوا مضبوط تابوت۔ اسد اور اکرم دونوں کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
“اس میں ضرور کوئی ممی یا کوئی خزانہ ہو گا” اسد نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔
“مجھے بھی ایسا ہی لگ رہا ہے” اکرم نے جواب دیا۔
اس پورے تابوت کو نکال لیا گیا تھا۔ تابوت کوئی زیادہ بڑا نہیں تھا اور نا ہی زیادہ چھوٹا۔ اسد نے مزدوروں کو وہ تابوت خیمے میں پہنچانے کا کہا اور وہ دونوں اپنے خیمے کی طرف چل دیے۔ تھوڑی دیر بعد وہ تابوت ان کے پاس پہنچ چکا تھا۔ تابوت پر کسی انجانی زبان میں کوئی عبارت لکھی ہوئی تھی۔ اسد دنیا کی کئی زبانیں جانتا تھا اور اس نے پہچان لیا کہ یہ قدیم عبرانی زبان ہے اور وہ اسے پڑھ سکتا ہے۔
“خبردار! اس تابوت کو مت کھولنا، ورنہ اس کے ذمہ دار خود تم ہو گے” اسد نے اونچی آواز میں اس عبارت کو پڑھ کر سنایا۔
“پرانے وقتوں میں جب کوئی قیمتی چیز اس طرح رکھی جاتی تھی تو اس کے اوپر ایسی چیزیں لکھ دی جاتی تھی تا کہ وہ چوری نا ہوں” اکرم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
دونوں اس تابوت کے اوپر جھک گئے اور اس کو کھولنے کا طریقہ ڈھونڈھنے لگے۔ کافی دیر دماغ کھپانے کے بعد ان کو تابوت کھولنے کا طریقہ پتا چل گیا۔
ان دونوں نے مل کر جیسے ہی تابوت کا اوپر والا دروازہ کھولا تو ایکدم خوفناک چیخ کی آواز آئی۔ وہ دونوں ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ تابوت میں سے تیز روشنی نکلی اور خیمے کی چھت کو پھاڑتے ہوئے آسمان کی طرف چلی گئی۔ اب تابوت بلکل خالی تھا۔ صرف اس میں کچھ کیڑے رینگ رہے تھے۔ اسد اور اکرم بری طرح ڈر چکے تھے۔ انہوں نے تمام مزدوروں کو چھٹی کی اور خود بھی گھر کی طرف چلے گئے۔ کچھ دیر پہلے جو آسمان بلکل صاف تھا اب وہاں کالی گھٹا چھا گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد تیز بارش شروع ہو گئی اور ساتھ میں طوفانی ہوا بھی چل پڑی۔ آسمانی بجلی بھی خنجر کی طرح بار بار آسمان پر ظاہر ہو رہی تھی۔ اکرم اور اسد کو یقین تھا کہ یہ سب کچھ اس تابوت کو کھولنے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اس تابوت کو مزدوروں نے دوبارہ انھیں کھنڈروں میں رکھ دیا تھا۔ اسد اور اکرم نہیں جانتے تھے کہ ان کی ایک غلطی کی وجہ سے کیا قیامت آنے والی تھی اور انہوں نے ایک ڈائن کو آزاد کر دیا تھا، ایک خونی ڈائن جو صرف شیطان کو خوش کرنے کے لئے انسانی خون کی ندیاں چلا سکتی تھی، ہڈیوں کے مینار بنا سکتی تھی۔
—————————
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: