Dayan by Jawad Ahmad – Episode 2

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر2

روہی اس وقت ایک غار میں موجود تھی۔ اس نے اپنا ٹھکانہ اس غار کو چنا تھا کیوں کہ یہ عام انسانوں کی پہنچ سے دور تھا اور وہاں آج تک کوئی انسان داخل نہیں ہوا تھا۔ روہی خوش تھی کیوں کہ اسے ایک ہزار سال کی قید کے بعد آزادی ملی تھی۔ اس کی شیطانی طاقتوں میں کافی کمی آ چکی تھی۔ اب وہ دوبارہ اپنی پرانی طاقتیں بحال کرنا چاہتی تھی۔ اور اس کے لئے اسے بہت کام کرنا تھا۔ شیطان کو خوش کرنے کے لئے اسے پھر سے معصوم لوگوں کا خون بہانہ تھا۔ مگر اس کی طاقتیں بہت محدود تھی اور وہ کسی صورت بھی اس جنگل سے باہر نہیں جا سکتی تھی اسے صرف اور صرف جنگل میں رہتے ہوۓ اپنا شکار ڈھونڈھنا تھا۔ اور جنگل میں سے لوگوں کے گزرنے کا انتظار کرنا تھا، اور وہ یہ ہی کرنے والی تھی۔ وہ ایک ہزار سال سے بھوکی تھی اور وہ اپنی بھوک بھی مٹانا چاہتی تھی۔
———————————-
یونیورسٹی اگلے پانچ دن کے لئے بند تھی۔ سرمد،حفیظ، ساحل اور فجر اس وقت ثانیہ کے گھر میں موجود تھے۔
“ہمیں صبح جلدی نکلنا ہوگا کم از کم سولہ گھنٹے لگ جائیں گے ہمیں وہاں پہنچنے میں” سرمد بولا۔
“یار سولہ گھنٹے تو بہت زیادہ ہیں ہمیں جلد سے جلد پہنچنا چاہیے” ساحل بولا۔
“ہم نے جہاز میں بیٹھ کر نہیں جانا، گاڑی میں اتنی دیر لگ ہی جاتی ہے میں جا چکی ہوں ایک دفعہ” ثانیہ نے ساحل کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ وہ سب یونیورسٹی میں ایک ساتھ پڑھتے تھے اور یونیورسٹی کی چھٹیوں میں سرمد کے گاؤں میں گھومنے کا پلان بنا رہے تھے۔ سرمد ایک غریب مگر ذہین لڑکا تھا۔ اسکی ماں گاؤں میں لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اسے بڑی یونیورسٹی میں پڑھا رہی تھی۔ سرمد تو پڑھائی چھوڑ کر کام کرنا چاہتا تھا مگر اپنی ماں کی ضد کی وجہ سے یونیورسٹی میں پڑھنے آیا ہوا تھا۔ وہ اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کا باپ اس کے بچپن میں ہی مر گیا تھا اور اسے اسکی ماں نے ہی محنت کر کے پالا تھا۔ ان چھٹیوں میں یہ سب دوست سرمد کے گاؤں جانا چاہتے تھے اور اسی کی پلاننگ جاری تھی۔
“ایک شارٹ کٹ ہے اگر ہم وہاں سے جائیں تو ہمارے 3 سے 4 گھنٹے بچ سکتے ہیں مگر وہ راستہ جنگل میں سے جاتا ہے” سرمد نے کہا۔
“چلو شکر ہے مجھے ویسے بھی سفر کرنا بہت مشکل لگتا ہے، اور جہاں تک جنگل کی بات ہے مجھے جنگل بہت اچھا لگتا ہے” ساحل نے خوش ہوتے ہوۓ کہا۔
“تم تو ہو ہی جنگلی” فجر نے کہا اور سب ہنسنے لگے۔ “تو ڈن ہو گیا کہ ہم صبح سات بھجے نکلیں گے اور اور اس شارٹ کٹ سے جائیں گے” ثانیہ نے کہا۔
“ڈن” سب نے کہا۔ اور سب وہاں سے روانہ ہو گئے۔
———————————-
صبح ٹھیک سات بجے وہ گاڑی میں روانہ ہو چکے تھے۔ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ساحل براجمان تھا سائیڈ والی سیٹ پر سرمد تھا جب کہ پچھلی سیٹ پر فجر اور ثانیہ کے ساتھ حفیظ بیٹھا تھا۔ گاڑی میں فل ولیم کے ساتھ گانے لگائے ہوۓ تھے اور وہ سب سنگر کی آواز کے ساتھ ساتھ خود بھی اونچی اونچی وہ ہی گانا گنگنا رہے تھے۔
“یار ینگ دیسی کا کوئی گانا لگاؤ” حفیظ نے کہا۔
“وہ بھی کوئی سنگر ہے ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سبزی بیچنے آیا ہو، آلو لے لو مٹر لے لو گھوبی لے لو” ساحل نے ینگ دیسی کی آواز کی نقل کرتے ہوۓ تیز تیز کہا۔ سب اس کی بات سن کر زور زور سے ہنسنے لگے۔
اب انھیں چھ گھنٹے ہو گئے تھے اور اب ڈرائیونگ سیٹ پر حفیظ جب کہ پیچھے ساحل تھا۔ ان کے درمیان نوک جھونک اب بھی جاری تھی اور وہ سب بات بات پر زور زور کر ہنس رہے تھے انہوں نے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی اور وہاں سے کھانا وغیرہ کھایا اور تھوڑی دیر ریسٹ کیا۔
اب وہ جنگل میں داخل ہونے والے تھے۔ اور ڈرائیونگ سیٹ پر پھر سے ساحل آ گیا تھا۔ سرمد کو ویسے بھی ڈرائیونگ نہیں آتی تھی۔
آہستہ آہستہ رات کا اندھیرا پھیلنا شروع ہو گیا تھا۔
“کافی خوفناک جنگل ہے، پہلے کبھی یہاں سے گزر ہوا ہے؟” ساحل نے سرمد سے پوچھا۔
“ہاں جب کبھی مجھے گھر جلدی پہنچنا ہوتا ہے تو میں یہاں سے جاتا ہوں، ویسے میری ہمیشہ کوشش ہوئی ہے کہ یہاں سے نا گزروں” سرمد نے کہا۔
ساحل نے ہاں میں سر ہلا دیا۔
پیچھے والی سیٹ پر فجر، ثانیہ اور حفیظ سو رہے تھے۔ ساحل کو بھی نیند آ رہی تھی مگر اسے مجبوری تھی کہ وہ جاگتا رہے۔ ویسے بھی وہ جلد سے جلد اس جنگل سے نکلنا چاہتا تھا۔
“یار کتنی دیر کا راستہ ہیں جنگل میں سے؟” ساحل نے سرمد سے پوچھا۔
“یہ ہی کوئی ایک گھنٹے کا” سرمد نے جواب دیا۔
اب جنگل میں کافی اندھیرا ہو گیا تھا۔ گاڑی کی ہیڈلائٹس آن کرلی گئیں تھیں۔ ساحل تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی کو چلا رہا تھا کہ اچانک ایک تیز چیخ کی آواز جنگل میں گونجی۔ آواز کسی عورت کی تھی اور اتنی دردناک تھی جیسے کسی کو ذبح کیا جا رہا ہو۔ ساحل نے گاڑی روک دی۔ سارے لوگ ان چیخ کو سن لر جاگ گئے تھے۔ اس بات کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا کہ آواز کس طرف سے آئی ہے۔
“لگتا ہے کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہے” حفیظ نے کہا۔
“ہاں مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے” سرمد نے کہا۔
“تم لوگ یہاں بیٹھو ہم دونوں دیکھتے ہیں” حفیظ نے کہا اور سرمد کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔
“مجھے ڈر لگ رہا ہے، تم لوگ مت جاؤ” فجر نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
“تم ڈرو مت ہم ابھی آتے ہیں، ساحل تم دونوں کے ساتھ ہے” سرمد نے کہا اور وہ دونوں اندازے سے چیخ والی جگہ کی طرف چل دیے۔
———————————-
سرمد اور حفیظ صرف اندازے کہ مطابق چل رہے تھے۔ حفیظ کے پاس پستول بھی تھا جو وہ ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا۔ ابھی وہ تھوڑا آگے گئے تھے مگر انکی آنکھوں کے سامنے جو منظر تھا وہ دیکھ کر ان کے رونگٹھے کھڑے ہو گئے۔ سرمد اور حفیظ دونوں مظبوط اعصاب کے مالک تھے مگر اس منظر کو دیکھ کر انکی چیخ نکل گئی تھی۔
انھیں اپنی سانس سینے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ ان کے سامنے ایک درخت پر پانچ لاشیں لٹکتی ہوئی نظر آ رہی تھیں اور وہ لاشیں بلکل ان کے جیسی تھی، ان کے چہرے، کپڑے جسم سب کچھ ان پانچوں جیسا تھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی وہ دونوں واپس گاڑی کی طرف بھاگے۔
———————————-
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: