Dayan by Jawad Ahmad – Episode 3

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر3

“ایک دفعہ ایسے ہی میں جنگل میں سے گزر رہا تھا تو میرے سامنے شیر آ گیا شیر نے مجھے دیکھا، میں نے شیر کو دیکھا” ساحل نے گاڑی میں اپنی کہانی شروع کی ہوئی تھی۔
“پھر کیا ہوا؟” فجر نے پوچھا۔
“پھر کیا ہونا تھا میں بھاگ گیا، میں نہیں چاہتا تھا کہ کوئی معصوم جانور میرے ہاتھ سے مر جائے” ساحل نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔
“ہاں جی ہاں جی بھائی صاحب ٹارزن تھے پچھلے جنم میں” ثانیہ نے ہنستے ہوۓ کہا۔ فجر بھی ہنس دی۔
اچانک ایک طرف سے سرمد بھاگتا ہوا آیا۔ اور گاڑی کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ گیا۔ اس کے رنگ اڑے ہوۓ تھے۔
“ہاۓ! تمہیں کیا ہوا ہے؟ اور حفیظ کہاں ہے؟” ساحل نے پوچھا۔
“وہ۔۔وہ۔۔۔وہ۔۔۔حفیظ میرے ساتھ ہی تھا۔۔۔پپپپ۔۔پتا نہیں کہاں ره گیا۔۔ابھی تو میرے ساتھ تھا۔۔بلکل بلکل ساتھ ہی آ رہا تھا” سرمد سے بولا بھی نہیں جا رہا تھا۔
“فجر پانی دو” ساحل نے فجر سے کہا۔ تو فجر نے پانی کی بوتل سرمد کی طرف بڑھا دی۔
“لو پانی پیو اور آرام سے بتاؤ کہ کیا ہوا ہے” ساحل نے کہا۔ تو سرمد نے پانی کی بوتل کو منہ لگا لیا اور پانی پیا۔
“ہاں اب آرام سے بتاؤ” ساحل نے سرمد کو کہا۔ فجر اور ثانیہ بھی سننے کہ لئے بے چین تھی کہ آخر ایسا کیا ہوا ہے کہ سرمد اتنا گھبرایا ہوا ہے اور حفیظ غائب ہے۔
“وہ ہم نے ایک درخت پر پانچ لاشیں دیکھی، وہ بلکل ہم پانچوں جیسی تھی” سرمد نے کہا۔
“ہمارے جیسی کیسے ہو سکتی ہیں” پیچھے سے ثانیہ بولی۔
“میں نے جو دیکھا وہ بتا رہا ہوں” سرمد نے کہا۔
“اور حفیظ۔۔۔حفیظ کہاں ہے؟” ساحل نے پوچھا۔
“وہ بھی میرے ساتھ ہی تھا ہم لاشوں کو دیکھ کر ڈر گئے اور واپس بھاگے، وہ بھی میرے ساتھ ہی آ رہا تھا پتا نہیں کہاں پیچھے ره گیا” سرمد نے جواب دیا۔ سرمد کافی ڈرا ہوا تھا۔
“تم یہاں روکو، میں دیکھتا ہوں” ساحل نے کہا۔ اور گاڑی سے نیچے اترنے لگا۔
“نہیں ہم دونوں جاتے ہیں، باہر خطرہ ہے” سرمد نے کہا۔
“ٹھیک ہے، تم دونوں گاڑی کو لاک کرلو اور جب تک ہم نا آئیں، تم دونوں میں سے کوئی گاڑی سے باہر نہیں آئے گا” ساحل نے کہا۔ اور دونوں ایک طرف چل دیے۔ فجر اور ثانیہ دونوں ڈری ہوئیں تھیں۔ انہوں نے گاڑی کو لاک کرلیا۔ فجر بہت زیادہ حساس لڑکی تھی اس لئے وہ کچھ زیادہ ہی ڈر گئی تھی۔ وہ منہ میں آیات الکرسی پڑھ رہی تھی۔
———————————-
سرمد اور ساحل دونوں ایک ساتھ حفیظ کو ڈھونڈھ رہے تھے۔ سرمد، ساحل کو لے کر اس درخت پاس آ گیا تھا جہاں اس نے لاشیں دیکھیں تھیں مگر اب یہاں کچھ نہیں تھا۔
“میرا یقین کرو، یہیں لاشیں لٹکی ہوئیں تھیں، میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں” سرمد نے کہا۔
“اگر لاشیں ہوتی تو اب بھی یہاں ہی ہونی تھی، تمہاری آنکھوں کو ضرور کوئی دھوکہ ہوا ہے۔ صرف وہم تھا اور کچھ نہیں ہے” ساحل نے کہا۔ سرمد، ساحل کی باتوں سے مطمین نہیں ہوا تھا مگر اس نے کوئی بات نہیں کی۔
“لگتا ہے حفیظ ہمیں جان بوجھ کر ڈرانے کی کوشش کر رہا ہے” ساحل نے کہا۔
“حفیظ یار جہاں بھی ہو، جلدی باہر اؤ، یار ہم لیٹ ہو رہے ہیں، بس کرو مذاق اتنی دیر کا ہی ہوتا ہے” ساحل اونچی اونچی کہہ رہا تھا۔
مگر ان باتوں کا کوئی جواب نہیں آیا۔ ساحل کے ہاتھ میں ہائی پاور ٹارچ تھی اور اس کی کافی روشنی تھی۔ ساحل کو ٹارچ کی روشنی میں ایک گھڑی نظر آئی۔
“سرمد دیکھو یہ تو حفیظ کی گھڑی ہے جو تم نے اسے اسکی برتھڈے پر دی تھی” ساحل نے گھڑی کو اٹھاتے ہوۓ کہا۔
“ہاں بلکل یہ وہ ہی گھڑی ہے ضرور حفیظ بھی یہیں کہیں ہو گا” سرمد نے کہا۔
اب وہ دونوں اسے اونچی اونچی آواز میں نام لے لے کر بلا رہے تھے۔ ساحل کو ٹارچ کی روشنی میں خون کی بوندیں نظر آئیں۔ جو کہ ایک لائن میں ایک طرف کو جا رہیں تھیں۔
“سرمد، یہ دیکھو خون” ساحل نے سرمد کو کہا۔ وہ دونوں اس خون کے پیچھے پیچھے جانے لگے۔ مگر اگلا منظر دیکھ کر ان دونوں کا دل دھک سے رک گیا۔ ان کا جسم خوف کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ انھیں ایسا لگ رہا تھا جیسے ابھی انکا ہارٹ فیل ہو جائے گا۔
———————————-
حفیظ،سرمد کے پیچھے پیچھے ہی جا رہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں جھاڑیوں میں پھنس گیا۔ وہ زور لگا رہا تھا مگر کسی طور بھی خود کو آزاد نہیں کروا پایا۔ سرمد شاید کافی آگے چلا گیا تھا حفیظ نے سرمد کو آواز دینے کی کوشش کی مگر آواز اس کے حلق میں پھنس گئی تھی۔ حفیظ بہت ہی عجیب صورت حال کا شکار ہو گیا تھا۔ اس نے بیٹھ کر ہاتھوں کی مدد سے اپنے پاؤں کو جھاڑیوں میں سے نکالنے کی کوشش کی، اسے اچانک محسوس ہوا کہ اس کے اردگرد دھواں سا پھیل رہا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہی ہر طرف دھواں ہی دھواں ہو گیا۔ اسے دھوئیں میں دور ایک عورت کا سایہ نظر آیا۔
“کون ہے وہاں؟” حفیظ چلایا۔ اب وہ آسانی سے بول پا رہا تھا۔ اس کی آواز کا کوئی جواب نہیں آیا۔ مگر سایہ اب بھی وہاں ہی موجود تھا۔
“میں پوچھ رہا ہوں کون ہے؟” حفیظ پھر چلایا۔ حفیظ بہت خوف زدہ ہو چکا تھا۔
اچانک اس سائے نے حفیظ کی طرف بڑھنا شروع کردیا۔
“وہیں رک جاؤ، میں کہہ رہا ہوں وہیں رک جاؤ، میرے قریب مت آنا” حفیظ چیخ رہا تھا۔ اچانک حفیظ کا سر چکرانے لگا۔ اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا۔ حفیظ خوف کی وجہ سے بیہوش ہو چکا تھا اور وہ سایہ اب بھی اسکی طرف بڑھ رہا تھا۔
———————————-
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: