Dayan by Jawad Ahmad – Episode 4

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر4

ساحل اور سرمد پھٹی پھٹی آنکھوں سے اس خوفناک منظر کو دیکھ رہے تھے۔ انکے سامنے ایک درخت پر انکے دوست حفیظ کی لاش الٹی لٹکی ہوئی تھی اور ایک عورت اس کے پاس کھڑی تھی اور ایک خنجر سے حفیظ کے جسم کو چیر رہی تھی۔ اس عورت نے حفیظ کے کھلے ہوۓ سینے میں ہاتھ ڈال کر اس کا دل نکالا اور کھانے لگی۔ اس عورت کا منہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ یہ منظر دیکھتے ہی وہ دونوں واپس بھاگے۔ اب انکا دوست حفیظ ان میں نہیں رہا تھا وہ اسکا جتنا بھی افسوس کرتے کم ہوتا۔ مگر اس وقت انھیں اپنی اور دوسروں کی جان بچانی تھی اس لئے وہ بھاگ کر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئے اور گاڑی چلا لی۔ فجر اور ثانیہ بار بار پوچھ رہیں تھیں کہ کیا ہوا ہے اور حفیظ کہاں ہے مگر وہ دونوں خاموش تھے۔
“تم لوگ جواب کیوں نہیں دے رہے، کہاں ہے حفیظ؟” ثانیہ نے چیختے ہوۓ کہا۔
“حفیظ اب ہم میں نہیں رہا” ساحل نے آہستہ سے کہا۔
“ککک۔۔۔کیا مطلب ہے تمہارا؟” ثانیہ نے ہڑبڑاتے ہوۓ پوچھا۔
“مطلب کہ جنگل میں ایک ڈائن ہے جس نے حفیظ کو مار دیا ہے اور اب ہمیں بھی مارنے کی کوشش کر رہی ہے” اس دفعہ سرمد نے جواب دیا۔
“اچھا اب تم لوگ کچھ بھی بکواس کرو گے اور ہم مان جائیں گیں” ثانیہ چلا رہی تھی مگر فجر بلکل خاموش سہمی ہوئی بیٹھی تھی۔
“میں بلکل سچ کہہ رہا ہوں میرا یقین کرو” سرمد باقاعدہ رو پڑا تھا۔
“نہیں، یہ نہیں ہو سکتا” ثانیہ نے بھی رونا شروع کردیا تھا۔ ان دونوں کو دیکھ کر فجر نے بھی رونا شروع کردیا تھا۔
“یار تم لوگ تھوڑے حوصلے سے کام لو، اس وقت ہمیں اپنے حواس کو بحال رکھنا ہو گا اور جلد سے جلد اس جنگل سے نکلنا ہوگا” ساحل نے کہا۔
“چلو اب رونا بند کرو، رونے سے کچھ نہیں ملے گا” ساحل نے انھیں حوصلہ دیتے ہوۓ کہا۔
سرمد تو چپ کر گیا تھا، مگر فجر اور ثانیہ بہت زیادہ ڈر گئیں تھی اور چپ نہیں کر رہی تھی۔ ساحل تیز رفتاری سے گاڑی کو چلا رہا تھا اس کی پوری کوشش تھی کہ کسی طرح جلد سے جلد یہاں سے نکل جائے۔ اچانک ان کی گاڑی ایک جھٹکے سے رک گئی۔ رئیس نے بار بار سٹارٹ کرنے کی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نا ہوا۔
“کیا مصیبت ہے، اسے بھی اب ہی بند ہونا تھا” رئیس نے کہا۔
“میں باہر جا کر چیک کرتا ہوں تم لوگ یہیں رکو” ساحل نے کہا۔
“میں بھی تمھارے ساتھ باہر جاتا ہوں” سرمد نے کہا اور وہ دونوں گاڑی سے باہر آ گئے۔ ساحل گاڑی کو چیک کرنے لگا مگر گاڑی بلکل ٹھیک تھی۔
“گاڑی تو بلکل ٹھیک ہے،پتا نہیں کیوں سٹارٹ نہیں ہو رہی” ساحل نے کہا۔
“ایک دفعہ پھر گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کرتا ہوں” ساحل نے کہا اور وہ دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے۔ مگر بار بار کوشش کرنے کے باوجود گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ وہ گاڑی سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اچانک چھناکے کی آواز آئی اور گاڑی کی ونڈ اسکرین خون سے بھر گئی۔ ان سب نے چیخیں مارنی شروع کردی ایکدم سامنے سڑک پر اوپر سے حفیظ کی لاش گری۔ وہ سب بہت گھبرا گئے تھے۔ ساحل بار بار گاڑی کو سٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا تھا مگر گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ فجر اور ثانیہ اونچی اونچی آواز میں رو رہیں تھیں۔
اچانک ان کے اردگرد دھواں سا ہونے لگا۔ تھوڑی دیر میں ہی دھواں بہت زیادہ پھیل گیا تھا۔ دھویں میں انھیں سامنے ایک عورت کا سایہ نظر آیا۔ وہ عورت آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔
———————————-
اسد اور اکرم ایک ساتھ اکرم کے گھر میں موجود تھے۔ دونوں پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
” ہم نے انجانے میں کسی شیطانی طاقت کو آزاد کردیا ہے” اکرم بولا۔
” مجھے بھی اس بات کا احساس ہے، یہ غلطی ہم سے ہوئی ہے اور ہمیں ہی اس غلطی کو ٹھیک کرنا ہے” اسد بے چینی سے بولا۔
” ہمیں ضرور ڈاکٹر خاور سے ملنا چاہیے، اگر پورے پاکستان میں شیطانی طاقتوں کو جاننے والا کوئی ہے تو وہ ڈاکٹر خاور ہی ہے” اکرم نے جواب دیا۔
” ہاں بلکل ہمیں جلد سے جلد ڈاکٹر خاور سے ملنا چاہیے اس سے پہلے کے دیر ہو جائے” اسد نے جواب دیا۔
اکرم نے ڈاکٹر خاور سے فون پر بات کی اور اپنے آنے کہ متعلق بتایا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ دونوں ڈاکٹر خاور کے گھر میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ اکرم نے ڈاکٹر خاور کو سارا واقعہ بتایا۔
“یہ سب کہیں پہاڑی والے جنگل میں تو نہیں ہوا؟” ڈاکٹر خاور نے استسفار کیا۔
” جی ڈاکٹر صاحب! یہ سب وہاں ہی ہوا ہے وہاں ہی کھدائی کا کام ہو رہا تھا” اکرم نے جواب دیا۔
“تو ضرور وہ روہی ہوگی، جسے تم لوگوں نے نادانی میں آزاد کردیا ہے” ڈاکٹر نے پریشانی سے کہا۔
“کون روہی؟” اسد نے حیرانی سے پوچھا۔
“روہی ایک لڑکی تھی جو کالا جادو کرتی تھی، اس نے شیطانی طاقتوں کے حصول کے لئے بہت سے بے گناہوں کا خون بہایا تھا، وہ ایک ڈائن بن گئی تھی، مگر جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو خدا ہر فرعون کے لئے موسیٰ بھیجتا ہے، سارے گاؤں والے اس وقت کے ایک بابرکت بزرگ کے پاس گئے اور مدد کی درخواست کی، اور بزرگ نے اس ڈائن کو ایک تابوت میں بند کر کہ زمین میں دفن کر دیا تھا مگر تم لوگوں کی وجہ سے وہ اب پھر آزاد ہو گئی ہے” ڈاکٹر نے تفصیل سے بتایا، اکرم اور اسد دونوں غور سے ڈاکٹر کی باتوں کو سن رہے تھے۔
“ہم اپنی غلطی ٹھیک کرنا چاہتے ہیں، کسی طرح بھی، آپ ہماری مدد کریں” اکرم نے کہا۔
“وہ بہت طاقتور ہے، میں تم لوگوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتا” ڈاکٹر نے جواب دیا۔ اسد اور اکرم کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔
———————————-
“سب لوگ گاڑی سے نکلو اور بھاگو” ساحل نے کہا۔
سب لوگوں نے گاڑی کے دروازے کھولے اور ایک طرف کو بھاگ گئے۔ جنگل میں وہ سب بنا سوچے سمجھے ایک طرف کو بھاگی جا رہے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ کہاں جا رہے ہیں بس وہ اس ڈائن سے کہیں دور بھاگ جانا چاہتے تھے۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ جب تک جنگل میں روہی ہے وہ جنگل سے باہر بھی نہیں جا سکتے تھے اور ان پر موت بھی لازم تھی۔ انھیں مرنا تھا اور ضرور مرنا تھا۔
———————————-
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Zeest k Hamrahi Novel by Huma Waqas – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: