Dayan by Jawad Ahmad – Episode 5

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر5

“مگر میں ایک ایسے آدمی کو جانتا ہوں جو تمہاری مدد کر سکتا ہے” ڈاکٹر خاور نے کہا۔
“جی کون ہو وہ؟” اسد نے پوچھا۔
“صوفی احمد” ڈاکٹر خاور نے جواب دیا۔
“جس بزرگ نے روہی کو تابوت میں قید کیا تھا صوفی احمد انکی ہی اولادوں میں سے ہیں، بہت بڑے بزرگ ہیں، میں ان سے بات کر کے دیکھتا ہوں” ڈاکٹر خاور نے جواب دیا۔
“بہت شکریہ آپکا” اسد نے کہا۔
اب ان کے چہرے پر امید کی کرن نظر آ رہی تھی۔ ڈاکٹر خاور ڈرائنگ روم سے دوسرے کمرے میں چلے گئے اور تھوڑی دیر بعد واپس آ گئے۔
“میں نے پتا کروایا ہے، صوفی صاحب گاؤں میں ہی موجود ہیں ہم جا کر ان سے مل سکتے ہیں” ڈاکٹر نے واپس آ کر کہا۔
“نیک کام میں دیری کیسی، ابھی چلتے ہیں” اکرم نے کہا۔
اور وہ گاڑی میں بیٹھ کر صوفی احمد کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گئے۔
تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ گاؤں میں صوفی احمد کے گھر کے سامنے کھڑے تھے۔ گھر پرانا مگر شاندار تھا۔ ڈاکٹر خاور نے آگے بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔ تھوڑی دیر بعد اندر سے ایک ملازم باہر آیا۔
” جی فرمائیے!” ملازم نے کہا۔
“میں ڈاکٹر خاور ہوں، اور ہمیں صوفی احمد سے ملنا ہے، میری ان سے بات ہو چکی ہے” ڈاکٹر نے کہا۔
“جی اندر آئیے، آپکی آمد کی اطلاع مل گئی تھی مجھے” ملازم نے کہا اور انھیں اندر لے گیا اور ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا۔
“صاحب جی ابھی آ رہے ہیں” ملازم نے کہا اور انھیں جوس پیش کیا۔
تھوڑی دیر بعد صوفی احمد کمرے میں داخل ہوۓ۔ صوفی احمد ایک پُرنور اور بارعب شخصیت کے مالک تھے۔ انھیں آتا دیکھ کر ڈاکٹر خاور اور وہ دونوں کھڑے ہو گئے۔
“تشریف رکھیے! ” صوفی احمد نے کہا اور خود ان کے سامنے بیٹھ گئے۔
“آپکا بہت شکریہ، آپ نے ہمیں ملاقات کا شرف بخشا” ڈاکٹر نے کہا۔
“ڈاکٹر صاحب یہ تو آپ مجھے شرمندہ کر رہے ہیں” صوفی احمد نے پیار سے کہا۔ اس کے بعد ڈاکٹر خاور نے صوفی احمد سے اسد اور اکرم کا تعارف کروایا اور اس کے بعد روہی کے بارے میں سارا کچھ بتایا۔
” یہ سب تو بہت برا ہوا” صوفی احمد نے افسوس سے کہا۔
“جی مگر ہم اب اپنی اس غلطی کو ٹھیک کرنا چاہتے ہیں اور اس لئے آپکی مدد کی ضرورت ہے” اکرم بولا۔
” یہ سب اتنا آسان نہیں ہوگا، اس میں ہم میں سے کسی کی جان بھی جا سکتی ہے” صوفی احمد نے کہا۔
” ہمیں اس بات کا اندازہ ہے، مگر دوسروں کی جان بچانے کے لئے اگر ہماری جان بھی چلی جائے تو خوشی خوشی مرنا پسند کروں گا” اکرم نے جوشیلے انداز میں کہا۔
“بس اسی جوش اور جذبے کی ضرورت ہے ہمیں” صوفی احمد نے کہا۔
“وہ تابوت کیا ابھی بھی وہیں ہی موجود ہے؟” صوفی احمد نے پوچھا۔
“جی وہ تابوت ابھی بھی ان کھنڈرات میں ہی موجود ہے” اکرم نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے، ہم کل شام کو ان کھنڈرات میں جائیں گے، اگر اللّه نے چاہا تو اس ڈائن پھر دوبارہ وہیں دفن کردیں گے” صوفی احمد نے پرامید لہجے میں کہا۔
ڈاکٹر خاور نے پھر صوفی احمد کا شکریہ ادا کیا اور جانے کی اجازت مانگی۔
———————————-
ساحل،سرمد،فجر اور ثانیہ جنگل میں ایک طرف کو بھاگی جا رہے تھے۔ کافی دیر بھاگنے کے بعد وہ سب تھک چکے تھے۔ جنگل میں دور دور تک کوئی نظر نہیں آ رہا تھا صرف جانوروں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ اچانک ساحل کو دور جنگل میں ایک کھنڈر سا نظر آیا۔
“وہ دیکھو وہاں کچھ ہے، ہمیں وہاں جانا چاہیے، شاید ہمیں وہاں مدد مل جائے” ساحل نے اس کھنڈر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
“ہاں چلو ادھر” سرمد نے کہا۔ اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔
“میں ایک قدم بھی نہیں چل سکتی” فجر نے کہا۔
“تھوڑی ہمت کرو، بس تھوڑی ہی دور اور” سرمد نے تھکی ہوئی فجر کو سہارا دیتے ہوۓ کہا۔ اور وہ کھنڈر کی طرف چل دیے۔ کھنڈر کے پاس پہنچتے ہی انھیں اپنے پیچھے سے چیخنے کی آوازیں آنے لگی جیسے کافی عورتیں مل کر بین کر رہی ہوں۔ وہ جلدی سے بھاگ کر کھنڈر میں چلے گئے۔ کھنڈر میں معلوم ہوتا تھا جیسے ابھی کھدائی کا کام ہوا ہو۔ ساحل نے آگے بڑھ کر سارے کھنڈر کو دیکھا کے شاید کوئی مدد کے لئے مل جائے مگر کھنڈر بلکل ویران تھا وہاں صرف چوہے، کیڑے اور چمگادڑیں تھیں۔
“یہاں تو کوئی نظر نہیں آ رہا” ساحل نے کہا۔
“میرے پاس موبائل فون ہے ہمیں اپنی مدد کے لئے کسی کو بلانا چاہیے” فجر نے کہا۔
” مجھے تو اس بات کا خیال ہی نہیں رہا، ہاں پولیس کو کال ملاؤ تم جلدی” ساحل نے کہا۔
فجر نے اپنے موبائل نکالا اور کال کرنی شروع کردی۔
“یہاں سگنل نہیں آ رہے” فجر نے افسوس سے کہا۔
“بار بار کوشش کرو” ساحل نے کہا۔
“ہاں کر رہی ہوں” فجر نے کہا۔
اچانک ہر طرف دھواں پھیلنا شروع ہو گیا۔ وہ گھبرا گئے۔ دھواں اس ڈائن کی آمد کی نشانی تھی۔ دور انھیں ایک عورت کا سایہ نظر آنے لگا۔ وہ سایہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“کون ہو تم؟ اور کیا چاہتی ہو ہم سے؟” ثانیہ نے چیختے ہوۓ کہا۔ جواب میں انھیں بلند ہنسی کی آواز سنائی دی۔
“ہمیں یہاں سے بھاگنا چاہیے” سرمد نے کہا اور کھنڈروں سے باہر جانے والے راستے کی طرف بھاگا مگر اپنے سامنے زمین پر سینکڑوں سانپ دیکھ کر رک گیا۔ خوف کی ایک لہر اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سرایت کر گئی۔ لڑکیوں نے پھر رونا شروع کردیا۔
“پلیز ہمیں جانے دو، ہم دوبارہ کبھی یہاں نہیں آئیں گے” فجر نے روتے ہوۓ کہا۔
ثانیہ نے قریب پڑا ایک پتھر اٹھایا اور ڈائن کی طرف پھینکنے ہی والی تھی کہ ایک طرف سے ایک بڑا خنجر اڑتا ہوا آیا اور ثانیہ کے ماتھے میں پیوست ہو گیا۔ ثانیہ کی آنکھیں کھلی کی کھلی ره گئیں اور اس نے ایک ہچکی لی اور نیچے گر کر ساکت ہو گئی۔ وہ تینوں بھاگ کر ثانیہ کے پاس گئے مگر اب ثانیہ ان میں نہیں رہی تھی۔ انہوں نے اونچی اونچی رونا شروع کردیا۔ ڈائن کے قہقوں کی آواز انھیں واضح سنائی دے رہی تھی۔ ساحل نے ثانیہ کی دہشت سے کھلی آنکھوں کو بند کیا۔ وہ سب بےبس تھے کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ثانیہ کے بعد اب انکی باری ہے۔ ڈائن آہستہ آہستہ اب انکی طرف بڑھ رہی تھی ساحل نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھا دیے تھے صرف اللّه کی ذات ہی تھی جو انھیں بچا سکتی تھی۔ ساحل کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اسکے ہاتھ دعا کے لئے اٹھے ہوۓ تھے جب کہ وہ ڈائن ان کی موت بن کر انکی طرف بڑھ رہی تھی۔ انکی موت ان سے صرف چند گز دور تھی اور انھیں اپنی موت یقینی نظر آ رہی تھی۔
———————————-
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: