Dayan by Jawad Ahmad – Episode 6

0

ڈائن از جواد احمد قسط نمبر6

گاڑی میں اسد، اکرم، ڈاکٹر خاور اور صوفی احمد موجود تھے۔ ان کی گاڑی تیز رفتاری سے جنگل کی طرف بڑھ رہی تھی.
“ہمارے جنگل میں داخل ہوتے ہی اس ڈائن کو خبر ہو جائے گی اور وہ اپنی پوری کوشش کرے گی کہ ہمیں ان کھنڈروں میں جانے سے روکے” صوفی احمد نے کہا۔
” چاہے کچھ ہو جائے ہم اس ڈائن کو واپس دفن کر کہ ہی رہیں گے۔” اکرم نے پرعزم لہجے میں کہا۔
انکی گاڑی جنگل میں داخل ہو چکی تھی۔ وہ جانتے تھے کہ کسی بھی وقت انکا سامنا اس ڈائن سے ہو سکتا ہے اور وہ سب ذہنی طور پر تیار بھی تھے۔
“وہ آ رہی ہے” صوفی احمد نے کہا۔ اچانک فضا میں چیخوں کی آواز بلند ہونے لگی۔ اور ہر طرف دھواں پھیلنا شروع ہو گیا۔ دھویں میں دور انھیں ایک عورت کا سایہ نظر آ رہا تھا جو آہستہ آہستہ انکی طرف بڑھ رہا تھا۔
———————————-
ڈائن، ساحل کے بہت قریب پہنچ چکی تھی، ساحل نے اپنی آنکھیں بند کرلی۔ مگر جب کچھ نا ہوا تو ساحل نے آنکھیں کھول دی۔ ڈائن اپنی جگہ پر ساکت کھڑی تھی۔ اچانک پھر ہر طرف دھواں چھا گیا اور ڈائن اس دھویں میں غائب ہو گئی۔ فجر اور سرمد بھی اپنی جگہ پر ویسے ہی موجود تھے۔ وہ ثانیہ کی موت کے بعد گہرے صدمے میں تھے۔
“اللّه نے ہماری مدد کی ہے، وہ ڈائن یہاں سے چلی گئی ہے” ساحل نے کہا۔
“ہمیں جلدی یہاں سے بھاگ جانا چاہیے” سرمد نے کہا۔
“نہیں ہمیں باہر زیادہ خطرہ ہے، اور ویسے بھی ہم نہیں جانتے کے کس طرف جانا ہے، ہمیں صبح ہونے کا انتظار کرنا چاہیے” ساحل نے کہا۔
فجر، ثانیہ کی لاش کے پاس بیٹھ کر رو رہی تھی۔ فجر اور ثانیہ اسکول ٹائم کی سہیلیاں تھیں مگر آج ثانیہ، فجر کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ ساحل اور سرمد نے فجر کو حوصلہ دیا۔ یہ رات انکی زندگی کی بد ترین رات تھی۔ انہوں نے اپنے دو دوستوں کو کھویا تھا۔ وہ زندگی بھر اس رات کو نہیں بھول سکتے تھے۔
———————————-
“وہ کھنڈر یہاں سے کتنی دور ہیں” صوفی احمد نے اکرم سے پوچھا۔
“آگے پیدل راستہ ہے بیس پچیس منٹ کا” اکرم نے جواب دیا۔
“ٹھیک ہے سب گاڑی سے اترو، اور ہاں تم سب اس تعویز کو اپنے کپڑوں کی جیب میں ڈال لو اس سے تم سب شیطانی اثرات سے محفوظ رہو گے” صوفی احمد نے ان سب کی طرف ایک ایک تعویز بڑھاتے ہوۓ کہا۔
ان سب نے اس تعویز کو اپنے کپڑوں کی جیب میں ڈال لیا اور گاڑی سے نکل آئے۔ دھواں ابھی بھی پھیلا ہوا تھا اور اس عورت کا سایہ انکی طرف آہستہ آہستہ بڑھ رہا تھا۔ صوفی احمد کے ہاتھ میں ایک کپڑے کی تھیلی تھی جس میں کچھ سامان تھا۔ اچانک وہ سایہ کچھ فاصلے پر رک گیا۔
“تم۔۔۔۔تم وہ ہی ہو۔۔۔میں تمہیں سونگھ سکتی ہوں۔۔۔تم بلکل وہ ہی ہو” اس ڈائن نے صوفی احمد کی طرف دیکھ کر چلاتے ہوۓ کہا۔
“ہاں، میں وہ ہی ہوں اور پھر سے تمہیں دفن کرنے آیا ہوں” صوفی احمد نے گرجتی ہوئی آواز میں کہا۔
“نہیں۔۔۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوں گی، میں دوبارہ قید نہیں ہوں گی۔۔۔کبھی نہیں۔۔۔کبھی نہیں” ڈائن، پھنکار رہی تھی۔ آسمان پر بادل جمع ہونے شروع ہو گئے تھے۔ تیز ہوا چلنا شروع ہو گئی تھی اور آسمانی بجلی گرج رہی تھی۔
ڈائن نے اپنا ہاتھ آسمان کی طرف کیا تو زمین سے پتھر اٹھ کر ہوا میں اُڑنے لگے۔ پھر اس نے اپنا ہاتھ صوفی احمد اور اس کے ساتھیوں کی طرف کردیا۔ وہ پتھر تیزی سے ان کی طرف بڑھنے لگے مگر صوفی احمد نے منہ میں کچھ پڑھ کر سامنے پھونک ماری تو وہ پتھر ہوا میں ہی رک گئے صوفی احمد نے اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارا تو وہ پتھر دوبارہ زمین پر گر گئے۔
صوفی احمد نے اپنے تھیلے سے ایک پانی کی چھوٹی سی بوتل نکالی اور اس کے چھینٹے ڈائن کی طرف گرائے۔ ڈائن چیخنے لگی اور غائب ہو گئی۔
“اب ہمیں جلد سے جلد ان کھنڈروں میں جانا ہو گا، اسے ہماری طاقت کا اندازہ ہو گیا ہے اب وہ سامنے نہیں آئے گی بلکہ چھپ کر وار کرے گی” صوفی احمد نے کہا۔
“جی آپ سب میرے پیچھے پیچھے آئیں۔” اکرم نے کہا اور ان سب سے آگے آگے چل پڑا۔ باقی سب اکرم کے پیچھے پیچھے ان کھنڈروں کی طرف بڑھ رہے تھے۔
“سب لوگ دھیان سے، وہ جانتی ہے کہ ہم پر کوئی شیطانی طاقت اثر نہیں کرے گی، اس لئے ضرور وہ کوئی اور چال چلے گی” صوفی احمد نے ان کو سمجھاتے ہوۓ کہا۔
“مطلب کیسی چال؟” اسد نے پوچھا۔
“وہ کسی طرح ہم پر اصلی جانوروں سے حملہ کروا سکتی ہے، انھیں ہمارے تعویز نہیں روک سکتے” صوفی احمد نے کہا۔
“جی ہم سمجھ گئے” اسد نے سمجھ جانے والے انداز میں کہا۔
اچانک ایک طرف سے مکھیوں کا جھنڈ آیا اور سب سے آگے موجود اکرم کے کپڑوں میں گھس گیا۔ اکرم نے چلانا شروع کردیا اور جلدی جلدی اپنی قمیض اتار کر ایک طرف رکھ دی۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا کہ باقی سب کچھ سمجھ نا پائے۔ تعویز قمیض کی جیب میں تھا۔ جیسے ہی وہ تعویز اکرم سے دور ہوا۔ ایک تیز روشنی اکرم کے جسم میں گھس گئی۔ اکرم کے کانوں اور ناک سے خون نکلنا شروع ہو گیا۔ اکرم وہاں سے بھاگا اور ایک قریبی درخت سے اپنا سر ٹکرانے لگا۔ اکرم کا پورا چہرہ خون سے بھر گیا تھا۔ اکرم نے ایک دفعہ پھر اپنی پوری طاقت سے اپنا سر درخت سے ٹکرایا اور ڈھیر ہو گیا،وہ سب بھاگ کر اس کے پاس پہنچے اتنی دیر میں وہ تیز روشنی اس میں سے نکل گئی تھی۔ صرف چند سیکنڈز میں اکرم ایک لاش میں تبدیل ہو چکا تھا اور اسکے ساتھی اسے بلکل بچا نہیں سکے تھے۔
“اللّه اسکے درجات بلند کرے، اس نے بہت بڑے مقصد کے لئے جان دی ہے” صوفی احمد نے کہا۔
“آمین” ڈاکٹر خاور اور اسد نے کہا۔ اسد کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے، اکرم اسکا بہت اچھا اور پرانا دوست تھا۔ وہ پھر سے آگے بڑھنے لگے۔ فضا میں ہنسی کی آواز پھیلی ہوئی تھی۔ اس ڈائن کی ہنسی کی آواز۔ وہ ان میں سے ایک کو مارنے میں کامیاب ہو چکی تھی۔
———————————-
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
Read More:  Allama Dahshatnak by Ibne Safi – Episode 4

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: