Dayan by Jawad Ahmad – Last Episode 7

0

ڈائن از جواد احمد آخری قسط نمبر 7

اب اکرم کی جگہ اسد نے سنبھال لی تھی اور وہ سب سے آگے چل کر انھیں کھنڈروں کی طرف لے کر جا رہا تھا۔ انھیں ہر طرف سے مختلف قسم کی آوازیں آ رہیں تھیں۔ کبھی بچوں کے رونے کی، کبھی ہنسنے کی، مگر وہ ان آوازوں کو نظر انداز کر کے آگے بڑھتے جا رہے تھے۔ اچانک انھیں سامنے سانپ نظر آنے لگے۔ سانپ تعداد میں کافی زیادہ تھے۔ ان سانپوں کو دیکھ کر اسد اپنی جگہ پر رک گیا۔
“کچھ نہیں ہے، یہ صرف نظروں کا دھوکہ ہے، تم آیت الکرسی پڑھتے ہوۓ گزر جاؤ کچھ نہیں ہو گا” صوفی احمد بولے۔
اسد نے آیت الکرسی پڑھنی شروع کردی اور ڈرتے ڈرتے آگے بڑھنے لگا۔ وہ جیسے ہی آگے بڑھتا سانپ پیچھے ہوتے رہتے۔ یہ دیکھ کر اسد کا حوصلہ بڑھ گیا اب وہ بنا خوف کے آگے بڑھ رہا تھا۔ اچانک سارے سانپ غائب ہو گئے۔ وہ سب تیزی سے کھنڈوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کے ڈائن کی پوری کوشش ہو گی کہ یہ سب کھنڈروں میں نا پہنچ سکیں۔
اب سامنے کھنڈر نظر آ رہے تھے۔
“تم دونوں میرے پیچھے رہو” صوفی احمد نے کہا اور خود سب سے آگے آ گئے۔ اچانک ان کے راستے میں آگ لگ گئی۔ صوفی احمد نے اپنے تھیلے سے پھر پانی کی بوتل نکالی اور اس آگ پر پھینک دی۔ آگ ایک منٹ میں ختم ہو گئی۔ صوفی احمد جلدی جلدی چلتے ہوۓ کھنڈر میں داخل ہو گئے۔
کھنڈر میں ایک طرف دو لڑکے اور ایک لڑکی بیٹھے ہوۓ تھے جب کے ان کے پاس ایک لڑکی کی لاش بھی پڑی ہوئی تھی۔
“ہماری مدد کرو، ہمیں وہ مار دے گی” ایک لڑکا بولا۔
” ڈرو مت، کسی کو کچھ نہیں ہو گا” صوفی احمد بولے۔
“آپ کون ہیں؟” لڑکے نے پوچھا۔
“ہم تمہاری مدد کے لئے اور اس ڈائن کو اسکے انجام تک پہنچانے کے لئے آئے ہیں” صوفی احمد بولا۔
اسد اور ڈاکٹر خاور بھی ساتھ ہی اندر آ گئے تھے۔
“وہ تابوت کہاں ہے؟” صوفی احمد نے اسد سے پوچھا تو اسد نے دور ایک کونے میں پڑے تابوت کی طرف اشارہ کیا۔ صوفی احمد نے ان لڑکوں اور لڑکی کو بھی ایک ایک تعویذ دیدیا۔
صوفی احمد نے اپنے تھیلے سے ایک چاک نکالا اور زمین پر ایک دائرہ لگا دیا۔
“تم سب اس دائرے میں آ جاؤ، میں اس ڈائن کو یہاں بلانے والا ہوں، چاہے کچھ ہو جائے تم میں سے کوئی اس دائرے سے باہر نہیں آئے گا،میں دوبارہ کہہ رہا رہا ہوں چاہے کچھ ہو جائے” صوفی احمد نے کہا تو وہ سب اس دائرے میں آگئے۔
صوفی احمد نے اونچی اونچی زبان میں کچھ پڑھنا شروع کردیا۔ اچانک ہر طرف دھواں پھیل گیا اور عورت کا ایک سایہ نظر آنے لگا جو آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہا تھا۔
“چلے جاؤ یہاں سے” ڈائن نے چیختے ہوۓ کہا۔
“یہاں سے تم جاؤ گی اور وہ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے” صوفی احمد نے کہا اور کچھ پڑھ کر اس ڈائن پر پھونک ماری۔ ڈائن چیخنے لگی۔ زمین نے بھی کانپنا شروع کردیا جیسے کہ زلزلہ آ رہا ہو۔ ڈائن کے جسم کو آگ لگ گئی تھی۔ صوفی احمد آگے بڑھے اور اس ڈائن کو بالوں سے پکڑ لیا مگر وہ ڈائن اسی وقت غائب ہو گئی۔
باقی سب اس دائرے میں موجود تھے۔ صوفی احمد نے دوبارہ منہ میں کچھ پڑھنا شروع کردیا اور اپنی انگلی چاروں طرف گھومانی شروع کردی۔ اچانک ایک طرف آگ کا شعلہ بھڑک اٹھا اور ڈائن نظر آنے لگی۔ آگ اس کے جسم کو لگی ہوئی تھی وہ بری طرح چیخ رہی تھی۔ صوفی احمد نے اسے بالوں سے پکڑا اور گھسیٹ کر اس تابوت میں پھینک دیا اور اوپر سے تابوت بند کردیا۔ تابوت بند ہوتے ہی ہر طرف خاموشی چھا گئی اور زمین ہلنا بھی بند ہو گئی۔ صوفی احمد نے ابھی بھی تابوت پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور کچھ پڑھ پڑھ کر پھونک رہے تھے۔
“اب تم سب دائرے سے باہر آ سکتے ہو، وہ ڈائن دوبارہ قید ہو چکی ہے” صوفی احمد نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
” یا خدا تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے” اسد نے کہا۔
” اب اس تابوت کو گہرائی میں دفن کروانا تمہاری ذمہ داری ہے” صوفی احمد نے اسد کو کہا۔
“جی میں سمجھ گیا” اسد نے ادب نے جواب دیا۔
ساحل، فجر اور سرمد اپنی جگہ گم صم کھڑے تھے۔
ڈاکٹر خاور نے انھیں سب کچھ بتایا۔ اسد نے وہاں اپنی ٹیم کو بلوا لیا اور اس تابوت کو واپس انتہائی گہرائی میں گاڑھ دیا۔ ڈاکٹر خاور اور صوفی احمد بھی واپس چلے گئے۔
ساحل، فجر اور سرمد بھی واپس جا رہے تھے مگر واپسی پر ان کے ساتھ ان کے دو دوستوں کی لاشیں تھی۔ اور وہ یہ رات کبھی نہیں بھول سکتے تھے۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔
 

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: