Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 1

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – قسط نمبر 1

–**–**–

 

ہاں میں ایک ڈائن ہوں اس دنیا کی سب سے طاقتور ڈائن
سائرہ کی آواز گونجی
کیوں آئی ہو ہماری زندگی میں کیوں تباہ کرنا چاہتی ہو ہماری زندگی
اب کی بار رفعت بولی تھی
نہیں میں کسی کی زندگی برباد نہیں کرنے آئی میں ڈائن ضرور ہوں مگر بری نہیں
سائرہ پھر سے چلائی
ہماری ماں کو کھاگئی اور کہتی ہے میں بری نہیں ہوں
عروسہ کی آنکھوں میں آنسوں نکلے
عروسہ تم اچھی طرح جانتی ہو امی کو کس نے ختم کیا ہے
سائرہ نے غصے سے عروسہ کو دیکھتے ہوۓ کہا تھا
بہت سن لی ہم نے اس ڈائن کی بکواس زنوبہ جی اب اس کو ختم کردیں
انور نے زنوبہ کو کہا
نہیں چھوڑو مجھے جانے دو مجھے
برگد کے پیڑ کے ساتھ رسیوں سے بندھی سائرہ چلانے لگی
آج تو تمھارا مرنا طے ہے
ثاقب جو کافی دیر چپ تھا بول ہی اٹھا
زنوبہ نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی زم کی بوتل سے ڈھکن کھولا اور سارا پانی سائرہ پر پھینکا سارے کے جسم سے دھوئیں اٹھنے لگی سائرہ درد سے چلانے لگی اس کی چیخوں سے پورا گاؤں گونج اٹھا
مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو میں اپنے بچوں کو لے کر یہاں سے بہت دور چلی جاؤں گیں مجھے میرے بچوں کے پاس جانے دو وہ ماں کے بنا کیسے رہیں گیں
سائرہ التجا کرنے لگی
تم ماں نہیں ڈائن ہو ڈائن
رفعت نے کہا
میں ڈائن ضرور ہوں پر خدا نے مجھے ایک ماں بنایا ہے
سائرہ کے گال آنسؤں سے بھر گئے
بس اب بہت ہوچکا بہت بول لیا اب مرنے کےلیے تیار ہوجاؤ
زنوبہ نے کہتے ہوۓ ایک طرف رکھی ہوئے مٹی تیل کے تیل کا کین اٹھایا اور سائرہ کے پاس جا کر سارہ تیل اس پر چھڑک کر اس سے دور ہوگئی
اب سائرہ کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا سائرہ کی آنکھوں کا رنگ بدل کر سفید گیا پاؤں پیچھے کی طرف مڑ گئے ناخن بہت لمبے اور نیلے ہوگئے
بس بہت گڑگڑا لیا میں نے اگر آج میری زندگی ختم ہونی ہے تو ہوگی پر یاد رکھنا تم سب میں ایک ڈائن ہوں اس دنیا کی سب سے خطرناک ڈائن اور ایک ڈائن اپنا انتقام کبھی نہیں بھولتی لوٹ کر آؤں گی میں آج سے پورے پچیس سال بعد میں پھر سے واپس آؤں گیں تم سب کو تمھارے کیے کی سزا دینے کبھی نہیں بھولوں گیں میں تم سب کو مجھ کو میرے بچوں سے الگ کیا ہے نا تم لوگوں نے میں تمھیں اس دنیا سے الگ کردوگی
واپس آؤں گی میں ایک ڈائن ہوں یاد رکھنا میں ڈائن ہو ڈائن
سائرہ کی آواز پورے گاؤں میں گونج رہی تھی
زنوبہ نے ماچس اٹھائی اور جلا کر سائرہ کی طرف پھینکی سائرہ کے پورے بدن میں أگ لگ گئی اور وہ چلانے لگی
یاد رکھنا میں ایک ڈائن ہوں ڈائن ہوں میں لوٹ کر آوگی میں
کیا لوٹ کر آۓ گی سائرہ مگر کیسے؟
کیوں بیگ خاندان نے ختم کیا سائرہ کو؟۔۔۔
اس کی آنکھوں کا رنگ بدل کر سفید ہوچکا تھا اس کے کھلے ہو بال خود بخود ایک بہت بڑی دس فٹ کی چوٹی میں تبدیل ہوگئے چوٹی کم اور ایک سانپ زیادہ لگ رہا تھا چوٹی ہوا میں لہرا رہی تھی اس کے چھوٹے سے سفید ناخن لمبے نیلے ہوگئے تھے وہ ایسے
گنگنا رہی تھی کہ کوئی بھی مدہوش ہوسکتا تھا
علیان کا پورا جسم پسینے سے تر ہوچکا تھا اسے اپنی موت سامنے دیکھائی دے رہی تھی
ڈائن نے پیچھے کی طرف چھلانگ لگائی اور دیوار پے چڑھ گئی اس نے اپنا سر ہلایا اور اس کی چوٹی ہوا میں لہراتی ہوئی علیان کی طرف آئی
نہیں نہیں علیان بیگ نہیں نہیں کرتے ہوۓ اٹھ کے بیٹھ گیا او گاڈ یہ سپنا دس سال سے آرہا ہے کیا مطلب ہے اس سپنے کا اور وہ خوبصورت سی عوت کون ہے جس کے بال ناخن آنکھیں سب کچھ عجیب ہے
علیان کے دماغ میں سوالوں کا طوفان امڈ رہا تھا
گڈمارننگ بھائی
علیان نے دیکھا آواز اس کی چھوٹی بہن سارہ بیگ کی تھی
کیا ہوا بھائی پھر سے وہی سپنا آیا کیا سارہ چلتے ہوۓ اندر آگئی اور علیان کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئی
کیا کروں سارہ آج کل نا یہ سپنا بہت زیادہ آتا ہے
کنفیوژن سی ہورہی ہے دماغ میں
علیان نے مایوس سا ہوتے ہوۓ کہا
آپ فکر نہ کریں بھائی نیچے جائیں ناشتہ کرلیں اور آج آفس سے بھی چھٹی ہی کرلیں
سارہ کہتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئی
نہیں سارہ آفس تو جانا ہے اور آج شاید کسی پروجیکٹ کے سلسلے میں city سے باہر جانا پڑے
علیان بھی اٹھ کھڑا ہوا
______________________________________________________
امی امی آپ کو پتا ہے آج مجھے پروجیکٹ کے سلسلے میں کہاں جانا ہے
علیان گھر میں داخل ہوتے ہی خوشی خوشی رفعت بیگ کے کمرے میں داخل ہوا
ایسا کہاں جانا ہے جو اتنے خوش ہورہے ہو
رفعت نے علیان سے مسکراتے ہوۓ پوچھا
میں نے سوچا ہم سب وہاں چلتے ہیں ہمارے گاؤں قطار پور
کیا
علیان کے کہتے ہی رفعت صوفے سے اٹھ گئی جیسے اسے دوسوچالیس ووٹ جھٹکا لگا
______________________________________________________
پاپا آپ نے مجھے اس وقت ہاسٹل سے یہاں کیوں بلا لیا
انیس عباسی نے اندر آتے ہی اپنے باپ حبیب عباسی سے پوچھا جس نے رات کو1 بجے انیس کو اپنے پرانے گھر میں بلوایا تھا
دراصل بات ہی کچھ ایسی ہے انیس کہ تمھیں بلانا پڑا
حبیب نے جواب دیا
کیا بات پاپا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں کچھ ہوا ہے کیا
انیس نے کہا
ہاں بات یہ ہے کہ ہماری سلیمانی کتابوں کے سارے صفحات ایسے مٹ گئے ہیں جیسے کبھی ان پر کچھ لکھا ہی نہیں گیا تھا
حبیب نے جواب دیا
کیا یہ کیسے ہوا اور کس نے کیا کسی ہوائی مخلوق نے یا پھر کالا جادو
انیس بھی سن کر شوکڈ ہوگیا تھا
نہیں یہ کام نہ ہوائی مخلوق کا ہے نا جادو کا انیس مجھے ایک بار زنوبہ نے بتایا تھا کہ جب کوئی بہت طاقتور کالی طاقت لوٹ کر آتی ہے ایسا ہوتا ہے
_____________________________________________________
یاد رکھنا تم ایک دن یہاں خود لوٹ کر آؤ گے یاد رکھنا تمھیں تمھاری موت یہاں کھینچ لاۓ
مگر کیوں امی جب میں تین سال کا تھا تو ہم گاؤں چھوڑ کر آۓ تھے اور آج تک واپس نہیں گئے کیوں
علیان نے پوچھا تو رفعت کے پاس کوئی جواب نہ تھا
بولیے امی جواب دیں
کوئی وجہ ہے نا علیان جو تمھیں نہیں بتا سکتی میں
رفعت بیگ نے منہ پھیرتے ہوۓ جواب دیا
امی آپ فضول میں کیوں ٹینشن لے رہی ہیں کچھ نہیں ہوتا میری بہت امپورٹد ڈیل ہے اور جانا ضروری ہے اگر
علیان نے سنجیدہ لہجے میں کہا
مگر علیان میری
ارے کیا ہوا ہے رفعت صاحبہ اب وہ اتنا کہہ رہا ہیں تو چل دیتے ہیں
انور نے اندر آتے ہوۓ کہا
بالکل صحیح کہا آپ نے پاپا آپ سمجھاؤ نہ انھیں
علیان اب انور کی طرف کے نیچے اس تہ خانے میں لے جانا ضروری ہے
ہاں انور جی میں تو یہ بھول گئی تھی کیونکہ مجھے آج بھی ا
سائرہ کا وہ روپ یاد آتا ہے(میں ایک ڈائن ہوں) تو دل سہم جاتا ہے
__________________________________________________________________
کیا ہوا پاپا کوئی حل ملا
انیس نے کتاب بند کرتے ہوۓ پوچھا
نہیں انیس رازجنات کتاب میں بھی ان سلیمانی کتابوں کو ٹھیک کرنے کا طریقہ نہیں ملا
حبیب نے بھی لمبا سانس لیتے ہوۓ کتاب بند کردی
انیس اور حبیب صبح سے بہت سی کتابیں دیکھ چکے تھے مگر دوپہر ہونے کو تھی اور ابھی تک کوئی طریقہ نہیں ملا تھا
حبیب مایوس ہوکر کرسی پر بیٹھ گیا انیس نے جگ اٹھا کر گلاس میں پانی ڈالا اور حبیب کو دیا
پاپا آپ مایوس مت ہوۓ کوئی طریقہ مل جائے گا
میں وہ سامنے والی پرانی کبڈ میں دیکھتا ہوں شاید کوئی کتاب مل جاۓ انیس کبڈ کی طرف جارہا تھا کہ اچانک اس کا پاؤں پھسلا اور وہ سیدھا کبرڈ پہ جاگرا کبڈ ایک دم زور سے گھومی جیسے کوئی دروازہ اور اگلے لمحے انیس اور حبیب دونوں حیران ہوگئے کیونکہ کبڈ کے پیچھے بہت بڑا کمرہ تھا
حبیب جلفی سے اٹھا اور کمرے کے پاس آگیا انیس بھی کمرے کے اندر گیا کمرہ بہت بڑا تھا اور کمرے میں نہایت خوفناک بد شکلیوں کی تصویریں لگی ہوئی تھی کمرے کے درمیان میں ایک بہت بڑی کتاب رکھی تھی اور اسکے اوپر ایک سنہری پتھر جو چمک رہا تھا
_________________________________________________________
چلو جلدی کرو سارہ سامان رکھ لیا ہے نا بیگ خاندان گاؤں کےلیے نکل رہا تھا
صرف دو گاڑیاں ہی لے جاتے ہیں ایک گاڑی میں
علیان ریان سارہ اور عائشہ اور ایک میں ہم بڑے
انور بیگ نے کہا
بھائی صاحب بالکل میک میرا مطلب ٹھیک بول رہے ہیں
عروسہ نے کہا
ٹھیک ہے پاپا چلیں نکلتے ہیں
علیان اور ریان گاڑی میں بیٹھ گئے علیان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی جبکہ سارہ اور عائشہ پیچھے بیٹھ گئیں
انور لوگوں کی گاڑی آگے تھی
بھائی آپ کو کیا لگتا ہے ہماری حویلی کوئی پرانے بادشایوں کی حویلی ہوگی یا ماڈرن ٹائپ
سارہ نے علیان کو کہا
آئی تھینک تھوڑی بادشاہوں ٹائپ کی آخر ہمارے دادا پڑدادا کے زمانے کی حویلی ہے وہ
علیان نے جواب دیا
گئیز جیسی بھی ہو ہمیں وہاں صرف انجوۓ کرنا ہے اور کچھ نہیں
ریان نے کہا
گاڑی اب گاؤں کے راستے پہ چل دی تھی
سڑک کے دونوں طرف بس بہت بڑا جنگل تھا
ارے بھائی کوئی اچھا سا گانا چلا دو سفر کو تھوڑا انجوائے کرو
اب کی بار عائشہ نے کہا
علیان نے میوزک آن کردیا
بالی ووڈ کا گانا چل رہا تھا
مگر تبھی علیان کو صرف کی گنگنانے کی آواز آنے لگتی ہے
یہ کیسی آواز بالکل ویسی ہے جیسے خواب میں وہ گنگناتی ہے
علیان نے سوچا
یار ریان یہ میوزک چینچ کرو
علیان نے کہا
کیا بھائی میوزک چل رہا ہے
ریان نے کہا
علیان کو لگا اب وہ سپنا دن میں بھی آنے لگا
مگر تبھی گنگنانے کی آواز آنا بند ہوگئی
__________________________________________________
یہ کمرہ کس کا ہے
انیس نے کہا
اتنے سالوں تک یہ کمرہ مجھ سے بھی چھپا تھا
حبیب بولا
لگتا ہے اس کتاب میں ضرور کوئی بات ہے تبھی زنوبہ نے یہاں چھپا کے رکھا ہے اسے
حبیب کتاب کے پاس جاکے اسے دیکھتے ہوۓ کہا
ہاں پاپا مگر اس کے اوپر یہ پتھر کیسا
انیس پتھر کو دیکھ کر چونکتے ہوۓ بولا
اس پتھر کو ردواشی پتھر کہتے ہیں یہ ایسا جادوئی پتھر ہے اس پتھر کو وہی اٹھا سکتا ہے جس نے اسے رکھا ہو یا پھر وہی جو اس کا خون ہو
یعنی اگر اس کو ماں نے رکھا ہے تو میں اٹھا سکتا ہوں
انیس نے کہا
ہاں بالکل تم نے صحیح سوچا
حبیب نے کہا
انیس آرام سے زمین پر بیٹھا اور اپنا ہاتھ پتھر کی طرف بڑھایا
احتیاط سے بیٹا
جی پاپا
انیس نے پتھر کو اٹھایا پتھر آرام سے انیس کے ہاتھ میں آگیا
تبھی پوری کتاب سے بہت زیادہ روشنی نکلی اور پورے کمرے میں پھیل گئی انیس اور حبیب پیچھے ہٹ گئے
_____________________________________________________
اب ہر طرف اندھیرا ہو رہا تھا گاڑی اپنے راستے پہ رواں دواں تھی
تبھی رہان بولا گاڑی روکیں بھائی گاڑی روک وہ سامنے دیکھے ریان نے سڑک کے بائیں طرف جنگل میں اشارہ کیا
واہ یار اتنی بڑی غار وہ بھی ایسے جیسے بہت سے پتھروں سے بنائی گئی ہو کیونکہ یہاں کوئی پہاڑ تو ہے نہیں
عائش ایک ساتھ بولی
مجھے لگتا ہے پرانے زمانے کے لوگوں کا گھر ایسا ہوتا ہوگا
ریان نے کہا
چلو نا علیان بھائی چلتے ہیں
سارہ نے کہا
علیان ابھی بھی غار کو غور سے دیکھ رہا تھا جیسے کچھ یاد کرنے کی کوشش
ہاں چلو
علیان نے آہستہ سے کہا اور گاڑی باہر نکل لیا
واہ کیا بات ہے آج علیان بھائی نے اجازت دے دی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: