Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 2

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – قسط نمبر 2

–**–**–

 

ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے اس جگہ کو پہلے کبھی دیکھا ہوا ہے
علیان نے غور سے غار کو دیکھتے ہوۓ کہا
کیا پتا بھائی جب آپ چھوٹے ہو تو چاچی آپ کو یہاں لے کر آئی ہو
ریان نے کہا
چلو چلو اس کے پاس جاتے ہیں اور اند سے بھی دیکھتے ہیں
عائشہ گاڑی سے کیمرا نکالتے ہوۓ بولی
اور سب اس طرف چل دیے
سب غار کے پاس پہنچ گئے جو بہت بڑے بڑے کالے پتھروں سے بنائی گئی تھی
پرانے زمانے میں کسی نے بہت محنت کرکے اسے بنایا ہوگا
سارہ غار کا اوپر سے نیچے تک کا جائزہ لیتے ہوۓ بولی
چلو یار اس کے اند چلتے ہیں
ریان نے کہا
عائشہ نے موبائل کی ٹارچ آن کرلی اور باقی سب نے بھی اپنا موبائل نکال کر ٹارچ آن کرلی اور اندر داخل ہوگئے
پوری غار میں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا
یار یہاں بہت اندھیرا ہے ہمارے ٹارچز کی روشنی بھی کم پڑ گئی
یہ دیکھو مشعل پرانے زمان لوگ اسی سی سے دوشنی حاصل کرتے تھے
علیان نے ایک طرف موبائل کرتے ہو کہا
میرے پاس لیٹر ہے اسے میں جلاتا ہوں
علیان نے جیب سے لیٹر نکالا اور مشعل جلا دی مشعل کی ہلکی سی روشنی غار میں پھیل گئی
غار بہت سی مشعل رکھیں تھیں علیان نے ایک ایک کرکے اب کو جلایا
اب غار میں روشنی پھیل گئی تھی
واؤ یہ تو بہت بڑی غار ہے
سارہ نے واؤ کھینچ کر بولا
غار میں سامنے کی دیوار پہ ایک خوبصورت لڑکی کی بہت بڑی تصویر لگی ہوئی تھی جو آرٹ سے بنائی گئی تھی
یار سارہ یہ کتنی امیزنگ غار ہے نا
عائشہ سارہ سے مخاطب تھی
علیان چلتا ہوا تصویر کے پاس پہنچا
ایسا لگتا ہے اسے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
علیان نے سوچا
تبھی علیان کو زمین پہ ایک ناخن دیکھائی دیا علیان نے ناخن اٹھایا یہ ناخن بہت بڑا اور نیلا تھا
علیان کو لچھ یاد آیا (اس کے چھوٹے سے ناخن لمبے نیلے ہوچکے تھے)
یہ یہ تو ہی ناخن ہے جس طرح اس عورت کا ناخن تھا
___________________________
جب روشنی نارمل ہوئی تو حبیب اور انیس نے آنکھیں کھول دیں اور کتاب کی طرف دیکھا کتاب اب کھل چکی تھی اور اس کا پہلا صحفہ سامنے تھا
راز_اے_ڈائن
انیس نے کتاب کو دیکھتے ہوۓ کہا
کتاب ایک بہت قدیم زبان میں لھی گئی تھی مگر انیس اور حبیب کےلیے دنیا کی کوئی زبان پڑھنا مشکل نہیں تھی
انیس اور حبیب جلدی سے کتاب کے پاس گئے اور اسے اٹھا کر باہر لے آئے اور ٹیبل پر آکے رکھ دی
حبیب نے جلدی سے کتاب کا صحفہ پلٹا اور اگلا صحفہ پڑھنا شروع کردیا
راز_اے_ڈائن اس کتاب کو اس دنیا کی سب سے پہلی طاقتور ڈائن تتوائن نے لکھا ہے اس کتاب میں اس دنیا کی تمام کالی طاقتوں کے بارے میں لکھا گیا ہے جیسا کہ چڑیل ڈائن بھوت راکشس ان سب کی کمزوریاں طاقتیں ان کو کیسے ختم کیا جاسکتا ہے سب کچھ
حبیب نے یہ پڑھ کر صحفہ پلٹ دیا
پاپا یہاں تو بہت کچھ لکھا ہوا ہے ہمیں تو یہ پتا کرنا ہے کہ سلیمانی کتابوں کے صفحات کس کی وجہ سے مٹ چکے ہیں اور ان کو ٹھیک کیسے کیا جاسکتا ہے
انیس نے کہا
تم ٹھیک کہہ رہے ہو مگر اس صفحے تمام چیزوں کے بارے میں اور اس کے ساتھ صفحات نمںرز دیے گئے ہیں اس کتاب میں سلیمانی کتابوں کا ٹائٹل ڈھونڈو میں تب تک سلیمانی کتابیں لے آتا ہوں
حبیب جواب دیتے ہوۓ کمرے سے نکل گیا
ڈائن راکشس چھلوکش بھوت موکال سروکال پریا اچھادھاری ناگ
ارے پ یہاں تو اتنی چیزوں کے بارے میں لکھا ہے نا کہ پڑھتے پڑھتے ہم بڈھے ہوجائیں گیں لگتا ہے اس ڈائن کے پاس بھی کوئی اور کام نہیں تھا
انیس نے کہا
انیس واپس کتاب میں ڈھونڈنے لگا
لو مل گیا مل گیا
پانچ چھ صفحات پڑھنے کے بعد اسے سلیمانی کتابوں کا ٹائٹل آخر مل ہی گیا
صحفہ نمبر پانچ ہزار ایک سو دو ارے باپ رے باپ
اس کتاب کو دیکھ کے لگتا نہیں اتنے پیجز ہیں اس میں
انیس نے کہا
پر وہاں تک جانے میں بڑا ٹائم لگے گا ہم اس کو اپنے طریقے سے کھولتے ہیں
انیس نے سوچا اور دوسرے ٹیبل پہ پڑا چھوٹا سا پنکھا اٹھایا اور کتاب کے پاس رکھ کے سوئچ آن کردیا پیچز خود بخود پلٹنے لگے انیس کچن سے جوس لے آیا اور بیٹھ کر پینے لگا کچھ دیر میں صحفہ نمبر پانچ ہزاد ننانوے کھل گیا انیا جلدی سے اٹھا اور فین بند کردیا اور دو تین پیج پلٹنے کے بعد اسے اس کا صحفہ مل گیا انیس کے موبائل پہ میسج رنگ بجی انیس نے موبائل اٹھایا
پاپا کا میسج
بیٹا میں باہر آگیا ہو کچھ کام ہے ضروری تم تب تک طریقہ ڈھونڈو
انیس نے موبائل رکھ دیا ااور آکے کتاب پڑھنے لگا
سلیمانی کتابیں جنہیں صرف ریدواشی ہی پڑھ سکتے ہیں اور ان کے ذریعے بری مخلوقات کالی طاقتوں اور برائی کو ختم کرتے ہیں ان کتابوں میں وہ وظائف ہیں جن کو پڑھنے سے پڑھنے والے پر کسی جادو کا اثر نہیں ہوتا مگر یہ کتابیں ورف ریدواشی پڑھ سکتے ہیں اس دنیا میں ویسے تو بہت ڈائنیں ہیں مگر اس دنیا کی ایک ایسی ڈائن ہے جو ہزار سالوں میں ایک بار پیدا ہوتی ہے وہ ڈائن ہے روائن
یہ ڈائن اس کی عمر ہزار سال سے بھی ہوتی ہے اور ہزار سالوں سے پہلے اس کو کبھی ختم نہیں کیا جاسکتا اور یہ بالکل جوان رہتی ہے ہاں البتہ روائن کو پتھر کا بنایا جاسکتا ہے ڈائنوشی منتر پڑھ کر پانی میں ملا کر اس ڈائن پر پھینک دیا جاۓ تو وہ ایک لمحے کےلیے بےبس ہوجاتی ہے اور اسی درمیان اگر اس کی چوٹی کو کاٹ دیا جاۓ تو اس کی ساری طاقتیں چلی جاتی ہیں
اور پھر اسے آگ لگا دیا جاۓ تو یہ ڈائن کچھ سالوں کےلیے پتھر کی بن جاتی ہے مگر اس کے بعد یہ کتنی زیادہ بھیانک ہوجاتی ہے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا
انیس نے رک کر ایک لمبا سانس لیا اور پھر پڑھناشروع کردیا
اور جب یہ لوٹ کے آتی ہے تو اتنی طاقتور ہوتی کہ اس کے آنے سے پہلے سلیمانی کتابوں کے صفحات مٹ جاتے ہیں اور دوبارہ یہ صحیح تبھی ہوتے ہیں جب کسی ڈائن کا کالا خون اس پر پڑتا ہے
____________________________
ارے یہ بچوں کی گاڑی پیچھ کہیں نظر نہیں آرہی ہے کہاں رہ گئے ہے یہ لوگ رفعت نے پریشان ہوتے ہوۓ کہا
پورا روڈ سنسان تھا اور پیچھے کوئی گاڑی نظر نہیں آرہی تھی
ارے بھابھی آپ کیوں اتنی چنتا کررہی ہیں آجائیں گیں ہوگیں کہیں راستے میں
عروسہ نے کہا
عروسہ تم میری میڈیسن ساتھ لائی ہو
ثاقب نے عروسہ سے پوچھا
کھڑوسہ آپ نے مجھے کھڑوسہ بولا قطار پور جانے دیں بتاتی ہوں میں آپ کو آپ کے کان کھینچنے پڑیں گیں مجھے
عروسہ نے انگلی دیکھاتے ہوۓ کہا
ارے عروسہ دیور جی نے عروسہ ہی بولا ہے تم اپنے کان میں لگانا بھول گئی
رفعت نے عروسہ کے کان میں انگلی مارتے ہوۓ کہا
او سوری بھابھی میں لگانا بھول گئی
عروسہ نے کہا
عروسہ کے ایک کان میں تھوڑی پرابلم تھی
دیکھا میں نے عروسہ ہی بولا تھا تم فضول میں ہی اتنا غصہ کرتی ہو پہلے اپنا کان چیک کر لیتی
ثاقب نے مسکراتے ہوۓ طنزیہ کہا
آپ تو رہنے دیں کیا پتا آپ نے میرے نا سننے کا فائدہ اٹھایا ہو
عروسہ منہ بناتے ہوۓ بولی
لو رفعت آگیا تمھارا علیان انور نے گاڑی کے شیزےیں پیچھے آتی گاڑی کو دیکھا
شکر ہے خدا کا رفعت نے گہرا سانس لیتے ہوۓ کہا
___________________________
میں نا جس سے پیار کروں گیں نا بالکل میرے ناول کے ہیرو جیسے ہوگا
وہ اپنی بڑی سی گاڑی میں آۓ گا
حریم علینہ سے کہ رہی تھی
لو آگئی
وہ اپنی گاڑی کا دروازہ کھولے گا اور بڑے اٹیٹیوڈ سے باہر نکلے گا
نکل آیا
وہ اپنے گھنے بالوں پہ ہاتھ گھماۓ گا
ہاۓ گھما دیا
اس کی نیلی آنکھیں سب کو مدہوش کردےگیں
مدہوش ہی تو کردیا
وہ ڈیشنگ سٹائل سے چلے گا
بالکل
ارے کیا بولے جارہی ہے تو علینہ میں کیا بتا رہی ہوں تمھیں
حریم نے علینہ کو جھنجورتے ہوۓ کہا
وہ دیکھ
علینہ نے حریم کے پیچھے سامنے حویلی کی طرف اشارہ کیا
حریم پیچھ مڑی تو حیران رہ گئی سامنے علیان اور اس کی فیملی حویلی کی طرف جارہی تھی
میرا ہیرو آگیا حریم کی نظریں علیان پر ہی ٹک گئیں
میرا بھی
علینہ کی نظریں تو ریان پر ہی جم گئیں تھیں
تم دونوں نہیں سدھرو گی
علینہ اور حریم دونوں کے کان کھینچے تھے
علینہ اور حریم دونوں پیچھے مڑی تو علینہ کی امی ریحانہ تھیں
علینہ اور حریم دونوں کے رنگ اڑے
میں نے تم دونوں کو کہا تھا باڑہ صاف کرو اور تم دونوں پھر یہاں یہ رسالہ پکڑ کے بیٹھ گئی
نہیں امی ہم تو بس
علینہ کے پاس کہنے کےلیے الفاظ نہیں تھے
اور تو کلموہی میری بیٹی کو بھی اپنے جیسا بنا رہی
ہے
ریحانہ نے علینہ کا کان چھوڑ دیا مگر حریم کا کان زور سے مروڑا
نہیں خالہ میں تو بس
حریم درد سے ہلکا سا چلائی
چل تو گھر سارہ باڑہ تو کلی(اکیلی) ہی صاف کریں گی تیرے نوں انساں والی زبان سمجھ نئی آندی
(تجھے انسانوں کی زبان سمجھ نہیں آتی)
ارے امی وہ کیسے
علینہ کے بولنے سے پہلے ہی ریحانہ نے اسے ٹوک دیا
خبردار جو تو اس کی ہمدرد بنی زبان کھینچ لواں گی تیری
ریحانہ نے علینہ کو غصے سے کہاں اور حریم کو ہاتھ سے پکڑ کر گھر کی طرف چل دی علینہ وہیں کھڑی رہی
او چل تیرے لیے میں سپیشل لکھ کے لے آواں
ریحانہ پیچھے مڑ کے علینہ پہ چلائی
حریم ایک بہت غریب گھر میں پیدا ہوئی جب پیدا ہوئی تو اس کی ماں کا انتقال ہوگیا اس کا باپ ایک مزدور تھا بیٹی کو پالنے لگا مگر بیٹی سے بہت پیار کرتا تھا جب حریم سات سال کی ہوئی تو باپ کا سایہ بھی سر پہ نہ رہا حریم کے ماں باپ کے بعد اس کی اس دنیا میں بس ایک خالہ ریحانہ ہی تھی جس نے اپنے شوہر باسط کے کہنے پہ حریم کو پاس رکھ لیا تھا مگر ہمیشہ اسے کوستی اور نفرت کرتی ریحانہ کی اپنی بھی ایک ہی بیٹی تھی علینہ جو حریم کو اپنی بہن مانتی اور ہمیشہ حریم کا ساتھ دیتی تھی حریم جانتی تھی خالہ اسے اس کی باپ کی تھوڑی سی سات مرلہ جگہ حریم کے نام تھی اس وجہ پال رہی ہے حریم کو پڑھائی کا شروع سے بہت شوق تھا حریم نے میٹرک کے بعد ایک سال تو سکالرشپ پہ پڑھا مگر آگے کی تعلیم کےلئے نہ پیسے تھے اور نہ اجازت اور اپنی زندگی کام کاج اور خالہ کی ڈانٹ میں گزار رہی تھی
____________________________
او واؤ حویلی اندر سے بھی کافی شاندار ہے عائشہ اندر آتے ہی پورے حویلی کو اوپر سے نیچے دیکھتے ہوۓ بولی
حویلی اندر سے کافی بڑی تھی اندرونی حال میں بہت بڑے بڑے صوفے رکھے ہوۓ تھے سامنے دونوں اوپر جانے کےلیے سیڑھیاں تھیں ایک طرف بہت سی تصیریں لگی ہوئی تھیں
علیان چلتا ہوا تصویروں کے پاس پہنچا اور انھیں غور سے دیکھنے لگا
سب سے پہلے نمبر ایک بزرگ اور بوڑھی عورت کی تصویر لگی تھی جو پرانے زمانے میں بنائی جاتیں تھیں علیان سمجھ گیا یہ اس کے پڑدادا پڑدادی کی تصویر ہے اس سے اگلی تصویر علیان کے دادا دادی کی تھی اس سے اگلی تصویر میں علیان کے پاپا اور امی کی تصویر تھی مگر اس اے اگلی تصویر دیکھ کر علیان حیران ہوگیا اس تصویر میں ایک عورت ایک بچہ گود میں لیے کھڑی تھی اس عورت نے کالی ساڑھی پہن رکھی تھی اور مسکرا رہی تھی ایک لمحے کےلیے علیان کو لگا اس مے پلکیں جھپکائیں مگر اگلے لمیے وہم سمجھ لیا یہ عورت کچھ جانی پہچانی سی لگ رہی ہے
ہاں یہ عورت تو وہی جس کی اس پتھر جیسی غار میں تصویر لگی ہوئی تھی
____________________________
ڈائن کا خون سلیمانی کتابوں پر ڈائن کا خون ڈال دیا جاۓ تو وہ ٹھیک ہوسکتی ہیں یسس
انیس کے منہ سے خوشی سے بےساختہ نکلا
ڈائن کا خون ضرور اوپر لیب میں ہوگا میں ابھی جاکر دیکھتا ہوں انیس لائبریری سے نکلا اور باہر سیڑھیاں چڑھ کر اوپر لیب میں آگیا لیب کو لاک لگا تھا انیس نے چابی نکالی اور لاک کھول کر اندر داخل ہوگیا
یہ سامنے جو لوہے کی الماری ہے ضرور اس میں ہوگا
انیس جلدی سے الماری کے پاس گیا اسے کھولا الماری کے اندر بہت سی شیشیاں پڑی تھی جن میں مختلف چیزوں کا خون تھا اور کیمیکلز تھے سب شیشیوں پر لکھا گیا تھا کہ کس میں کیا رکھا گیا ہے انیس ڈائن کے خون والی شیشی تلاش کرنے لگا
تھڑی محنت کے بعد انیس کو شیشی مل گئی انیس نے شیشی نکالی اور الماری بند کردی اور جلدی سے لیب سے باہر نکلا اقر جلدی میں لیب لاک کرنا بھول گیا جو اس نے سب
سے بڑی غلطی کردی تھی
__________________________
امی یہ تصویر کس کی ہے
علیان نے تصویر کو دیکھتے ہوۓ پوچھا
رفعت عروسہ کوکچھ سمجھا رہی تھی علیان کے آواز دیتے ہی پیچھے مڑی اور علیان کو تصویر دیکھتے ہوۓ ایسے ڈر گئی جیسے اسے کوئی بڑا راز پتا چلا گیا ہو
رفعت اور عروسہ دونوں تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئیں علیان کی طرف آئیں
ارے یہ تصویر یہ یہ یہاں کس نے لگا دی ہمیں نہیں پتا یہ تصویر کس کی ہے
عروسہ جلدی جلدی بولی
کیا مطلب چاچی کہ آپ کو نہیں پتا یہ تصویر میں نے پہلی بھی دیکھی جب ہم گاؤں آرہے تھے راستے پر ایک غار جیسی چیز میں
علیان نے پوچھا
دراصل عروسہ کا مطلب ہے کہ ہم اتنے سالوں سے یہاں نہیں آۓ تو کسی نے لگا دی ہوگی تم جاؤ جاکر فریش ہوکے آرام کرو تھک گئے ہوگے اسے میں ہٹوا دیتی ہوں
رفعت نے کہا
جی امی علیان کہتا ہو چل دیا
بھابھی یہ تو ڈائن گھر تک بھی پہنچ گیا مجھے تو ڈر لگ رہا ہے اسے کچھ پتا نہ چل جاۓ
عروسہ ہاتھ گھماتے ہوۓ بولی
کچھ نہیں ہوگا پہلے اس ڈائن کی تصویر یہاں سے ہٹوا دو
رفعت حقارت سے تصویرکو دیکھتے ہوۓ بولی اور چل دی
اوۓ ادھر آؤ
عروسہ نے ایک نوکر کو بلایا جو کچن کی طرف جارہا تھا
جی مالکن
وہ چلتا ہوا عروسہ کے پاس آیا اور ادب سے بولا
یہ اس کبوتری میرا مطلب لڑکی کی تصویر یہاں سے ہٹا دو اور اس کی کوئی بھی تصویر اگر مجھے حویلی میں نظر آئی تو تمھاری نوکری ٹاٹا باۓ باۓ ہوجاۓ گی سمجھے
عروسہ حکم چلاتے ہوۓ بولی
جی مالکن آپ کو اس کی کوئی تصویر یہاں نظر نہیں آۓ گی اس نے کہہ کر تصویر اتاری اور ایک طرف چل دیا
اف یہ ڈائن بھی نہ اکیس سال پہلے چل بسی مگر ابھی تک اس کا خوف نہیں گیا دل کرتا ہے اس پتھر کو جاکر توڑ ہی دیتی ہوں
عروسہ نے کہا
کس کو توڑنے کا سوچ رہی ہیں آپ
ثاقب نے عروسہ کو پیچھے سے بازوں میں سمیٹتے ہوۓ شرارت سے پوچھا
عروسہ نے خود کو چھڑایا اور ثاقب کہ سر پہ ہاتھ مارتے ہوۓ بولی آپ کے اس سر کو جس میں دماغ ہی نہیں ہے
عروسہ کہتے ہوئے چلی گئی
عجیب عورت ہے بھئی
___________________________
انیس نیچے لائبریری میں آیا اور شیشی ایک میز پہ رکھ کے دوسرے کمرے میں گیا اور سلیمانی کتابیں لے آیا
اب میں ان سب کو ٹھیک کرتا ہوں
انیس نے کہا اور پانچوں کتابیں کھول کر میز پہ رکھ دیں شیشی کھولی اور سبھی کتابوں پر ایک ایک خون کا قطرہ ڈالا
کچھ دیر میں ساری کتابوں پر آہستہ آہستہ حروف آنے لگ گئے
او تھینکس گاڈ یہ ٹھیک ہو گئیں پاپا کو میسج کردیتا ہوں
انیس جیسے ہی موبائل اٹھانے کےلیے پیچھے مڑنے لگا ااے ایسا لگا جیسے کسی چیز نے مظبوطی سے اس کا پیٹ جکڑ لیا انیس نے دیکھا تو وہ ڈائن کی چوٹی تھی انیس کو ذور سے پیچھے کھینچا
انیس کے سامنے ایک ڈائن کھڑی تھی جس نے اپنی چوٹی ڈے انیس کو جکڑ رکھا تھا
کون ہو تم
انیس کے حلق سے مشکل سے آواز نکلی
اندھے ہو میں ایک ڈائن ہوں
ڈائن نے جواب دیا
یہ مصیبت اب کہاں سے آگئی
انیس نے سوچا
انیس اس پہلے کے کچھ بولتا ڈائن نے اپنی چوٹی گھمائی اور انیس زور سے دیوار کے ساتھ لگا اور اس کے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا
___________________________
کیا سوچ رہی ہو رفعت
انور کمرے میں داخل ہوا تو رفعت کھڑکی پاس کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی
سوچ رہی ہوں کہ جس کام کےلیے ہم یہاں آۓ ہیں اس کو جلدی سے نمٹا کر یہاں سے چلتے بنیں
رفعت نے اسی طرح چاند کو دیکھتے ہی جواب دیا
اچھا اس بات کو اکیس سال گزر گئے پھر بھی ابھی تک ڈر لگتا ہے
انور رفعت کے ساتھ آکے کھڑا ہوگیا
کیا کروں انور جی وہ منظر تھا ہی اتنا بھیانک آج بھی سوچتی ہوں تو آنکھوں کے سامنے آنے لگتا ہے(الٹے پاؤں سفید آنکھیں لمبی چوٹی گنگنانا دیوار پہ چڑھنا)اس نے کہا تھا کہ وہ واپس آجاۓ گی
پر اب وہ نہیں آسکتی وہ پتھر کی بن چکی ہے اور تابوت میں قید ہے
انور نے رفعت کے کندھے پہ ہاتھ رکھا
ہاں مگر اس کےلیے واپس آنا بھی تو کوئی مشکل نہیں ہے نا
رفعت کے چہرے سے پریشانی صاف نظر آرہ تھی
ہاں مگر ہم نے تو اسے ہی ختم کردیا ہے جو اسے واپس لاسکتا تھا
انور کے چہرے پہ شیطانی مسکراہٹ آگئی
رفعت بھی ہلکا سا مسکرا دی
___________________
رات کا ایک بج رہا تھا علیان گہری نیند میں سورہا تھا کہ تبھی اسے کسی کے گنگنانے کی آواز آتی ہے
آ۔۔۔جا۔۔۔آجا
علیان آنکھیں کھولتا ہے اور بیڈ سے نیچے اتر جر جوتے پہنتا کر کمرے کا دروازہ کھول کے باہر نکلتا ہے اور ایک طرف چلنے لگا سیڑھیوں کے پاس پہنچ گیا علیان اپنے ہوش میں نہیں تھا علیان نے ایک قدم بڑھایا اور گرنے ہی والا تھا کہ کسی نے اس کا ہاتھ تھام کے زور سے پیچھے کھینچا
____________________________
انیس کو ہوش آیا تو وہ جلدی سے اٹھا انیس کے سر سے کافی خون بہہ چکا تھا انیس جلدی سے میز کے پاس آیا مگر اگلے ہی لمحے انیس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ساری سلیمانی کتابیں غائب تھیں
ارے یہ کیا ہوا مجھ سے
انیس بہت گھبرا گیا اور جلدی سے اپنا موبائل اٹھا کر حبیب کو فون لگایا تیسری رنگ پر فون اٹھا لیا گیا
ہیلو پاپا آپ کہاں ہیں
ہاں بیٹا کیا ہوا تم بہت پریشان لگ رہے ہو
دوسری طرف سےحبیب کی آواز آئی
پاپا آپ جلدی سے گھر آئیں بہت بڑی پرابلم ہوگئی ہے
انیس نے جلدی سے کہا
ٹھیک ہے بیٹا میں آدھے گھنٹے میں پہنچ رہا ہوں فکر نہ کرنا
ٹھیک ہے پاپا
انیس نے کہہ کر کال کاٹ دی
یہ سلیمانی کتابیں کیسے غائب ہوگئیں انھیں تو ہمارے علاوہ کوئی ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تو کوئی لے کیسے گیا
ابھی میں اپنے سر پہ کچھ مرہم وغیرہ لگا لیتا ہوں انیس گیا اور ڈریس چینج کرکے سر پہ ایک پٹی کرکے میڈیسن کھالیں اور واپس لائبریری میں آگیا
جب سلیمانی کتابوں کو ایک نیک انسان ہاتھ نہیں لگا سکتا تو ایک دائن کیسے لے گئی شاید راز_اے_ڈائن میں کچھ لکھا ہو اس بارے میں
انیس سوچتے ہوۓ راز_اے_ڈائن کی طرف آیا اور پھر سے اسے پڑھنے لگا تھوڑی دیر بعد اسے اس کے سوال کا جواب مل ہی گیا
جب سلیمانی کتابوں پر ڈائن کا خون ڈالا جاتا ہے تو ناپاک ہوجاتی ہیں کیونکہ ڈائن کا خون کالا اور غلیظ ہوتا ہے اس وجہ سے کچھ دیر تک سلیمانی کتابیں ناپاک ہوجاتی ہیں اور ان کو کوئی بھی چھو سکتا ہے
انیس یہ پڑھتے ہی دنگ رہ گیا
مجھے پہلے ہی ان کتابوں کے بارے میں پورا پڑھ لینا چاہیے اب کیا ہوگا
____________________________
علیان کو جیسے ہوش سا آگیا ہو علیان فورأ پیچھے ہٹا اور اپنے سامنے ایک لڑکی کو دیکھ کر حیران رہ گیا
مم میں یہاں کک کیسے میں تو سس سو رہا تھا اور تت تم کون ہو
علیان پریشان اور بوکھلا سا گیا تھا
جی میرا نا حریم ہے آپ یہاں سے گرنے لگے تھے تو میں نے بچا لیا اور میں یہاں کام کےلیے آئی ہوں مجھے شام کو عروسہ آنٹی نے بلوایا تھا
حریم نے نظریں جھکاتے ہوۓ معصومیت سے جواب دیا
اچھا پر میں یہاں
علیان کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ یہں کیسے آیا
مجھے لگتا ہے آپ کو نیند میں چلنے کی بیماری ہے
حریم نے جھکی نظروں سے جواب دیا
ہاں شاید تھینک یو
علیان کہتا ہوا واپس کمرے میں آگیا
یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ آجکل تو کچھ زیادہ ہی
علیان کو غصہ اور کنفیوژن دونوں ہو رہے تھے
یا پھر میں ہی کچھ زیادہ سوچنے لگا ہوں مجھے شاید دوبارہ ٹھنڈے پانی سے نہاکر سونا چاہیے ورنہ آج وہ لڑکی نہ ہوتی تو میں تو اوپر ہی پہنچ گیا ہوتا
کیا ہے ڈائن کی سچائی کون ہے ڈائن کیا ہے علیان سے اس کا رشتہ
پڑھیے اگلی قسط میں؟

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: