Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 3

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – قسط نمبر 3

–**–**–

 

یہ میڈیسن چاۓ میں ملا دینا اسے پیتے ہی علیان بےہوش ہوجاۓ گا اور ہم اس کو ڈائن کلپنیت میں لے جائیں گیں
ثاقب نے عروسہ کے ہاتھ میں میڈیسن تھماتے ہوۓ کہا
مگر یہ ٹھیک تو رہے گا نہ ہم اس کے ساتھ کچھ غلط تو نہیں کررہے نہ
عروسہ کو ڈر لگ رہا تھا
نہیں عروسہ علیان کےلیے ہمیں یہ کرنا ہوگا تم جلدی کرو انور بھائی اور رفعت بھابھی بھی آتے ہوگیں
ثاقب نے کہا
ہاں ٹھیک ہے میں چلتی ہوں عروسہ کہہ کر کمرے سے چلتی بنی
تھوڑی دیر میں رفعت اور انور بھی کمرے میں آگئے
کیا ہوا ثاقب کام ہوا یا نہیں
انور نے آتے ساتھ سوال کیا
ہاں بھائی بس عروسہ گئی ہوئی ہے
ثاقب نے جواب دیا
ٹھیک ہے مگر باقی کے بچوں کا کیا
رفعت نے کہا
آپ ان کی فکر نہ کریں بھابھی وہ صبح ہی گھومنے نکل گئے تھے
لو ہوگیا کام
عروسہ کی آواز آئی سب پیچھے مڑے
سب آجاؤ علیان بےہوش ہوگیا ہے
عروسہ نے کہا تو سب اس کے ساتھ چل پڑے
___________________________
او رو یہ بات ہے
حبیب نے ساری بات سننے کے بعد کہا
پر مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ وہ ڈائن تھی کون اور یہاں سلیمانی کتابوں کو لینے کیوں آئی تھی اسے پتا کیسے چلا
حبیب نے دماغ پہ زور ڈالتے ہوۓ کہا
ایک منٹ پاپا کہیں وہ ڈائن ہی تو نہیں تھی
انیس نے کہا
نہیں تم نے مجھے بتایا کہ وہ بولی تھی میں ایک ڈائن ہوں اگر وہ روائن ہوتی تو ضرور بتاتی
حبیب نے کہا
تو کیا پتا یہ روائن کسی اور مقصد کےلیے آئی ہو یا وہ بتانا نہ چاہتی ہو
انیس نے کہا
نہیں ایک ڈائن ہمیشہ اپنی طاقت ضرور بتاتی ہے تم نے اس کے ناخن دیکھے تھے کس رنگ کے تھے
ہاں پاپا اس کے ناخن کالے تھے
او تو وہ روائن نہیں تھی جہاں تک میں روائن کو جانتا ہوں اس کے ناخن نیلے ہوتے ہیں
حبیب نے کہا
تو پھر اب ہم اسے کیاے ڈھونڈے گیں
انیس نے کہا
چلو میرے ساتھ اوپر لیب میں کچھ دیکھتے ہیں وہاں
حبیب نے کہا اور لائبریری سے باہر نکل دیا انیس بھی حبیب کے پیچھے چل
جیسے ہی انیس اور حبیب اوپر پہنچے لیب کو دیکھ کر دونوں کے رنگ اڑ گئے
___________________________
لو پہنچ گئے ہم غار کے پاس جنگل میں ثاقب نے گاڑی کو بریک لگاتے ہوۓ کہا
چلیں سب باہر نکلیں ثاقب نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکلا رفعت انور اور عروسہ بھی باہر آگئے
انور اور ثاقب نے بےہوش علیان کو باہر نکالا
اور اسے کندھے پہ اٹھا لیا چلو غار میں
انور نے کہا
دھیان سے رفعت نے کہا
اور سب غار کی طرف چل دیے جیسے ہی اب غار میں داخل ہوۓ تو اندر مشعل اور موم بتیاں جل رہیں تھیں سامنے ایک بہت بڑے شیشے میں ایک لکڑی اور شیشے سے بنا تابوت رکھا گیا تھا جس میں ایک پتھر کی مورتی تھی
اور ایک طرف ایک عمل زمین پر آنکھیں بند کیے بیٹھے تھے
عامل کے سر کے بہت لمبے اور سفید بال تھے داڑھی مونچھیں بھی بالکل سفید اور عامل نے لمبا کالا کرتا پہن رکھا تھی جو اس کے ٹخنوں تک آرہا تھا
سلام بابا جی ثاقب اور انور نے دور سے کہا عمل نے آنکھیں کھول دیں
آگئے تم لوگ میں کل رات ہی یہاں آگیا تھا
عامل نے کہا
ہاں باباجی اور ہم علیان کو ساتھ لاۓ ہیں
ثاقب نے کہا
ٹھیک ہے اسے میرے سامنے زمین پہ لیٹا دو
ثاقب اور انور نے علیان کو احتیاط سے زمین پہ لیٹا دیا
اب سب پیچھے ہٹ جاؤ
عامل نے اشارہ کرتے ہوۓ کہا
سب ایک طرف ہوکر کھڑے ہوگئے
عامل اٹھا اور اپنے رکھیں ہوئی موم بتیاں اٹھائیں اور علیان کے چاروں طرف رکھ کر انھیں روشن کردیا
اور واپس آنکھیں بند کرکے بیٹھ کے کچھ پڑھنے لگا
کہ اتنی دیر میں باہر زور سے ہوا چلنے لگی اور پورے آسمان پر کالے بادل چھا گئے اور بہت تیز طوفان آنے لگا
یہ کیا ہورہا انور جی
رفعت اچانک اس طوفان سے ڈر گئی
بھابھی مجھے لگتا ہے بابا کوئی ایسا منتر پڑھ رہے ہیں کہ ایک طوفان آۓ اور ڈائن کو تابوت سمیت ہی اڑا لے جاۓ
عروسہ نے کہا
تم تو چپ ہی رہو
ثاقب نے کہا
عامل نے آنکھیں کھول دیں
تمھارا شک ٹھیک ہے اس ڈائن کا سایہ علیان پر ہے
اس ڈائن کو بہت غصہ آرہا ہے جس وجہ سے یہ طوفان آرہا ہے
عامل نے کہا
مگر بابا یہ تو پتھرکی بنی ہوئی ہے
انور نے کہا
یہ پتھر کی ضرور ہے مگر بہت جلدی یہ باہر آنے والی ہے مگر اس کی طاقتیں ابھی سے ہی باہر آنا شروع ہوچکی ہیں
بابا نے کہا
نہیں بابا ہم نہیں چاہتے یہ دوبارہ واپس آۓ ہم نے بڑی مشکل سے اس ڈائن سے پیچھا چھڑایا تھا
رفعت نے کہا
اس ڈائن کا سایہ علیان پر ہے اور یہ اس کو لے کر ہی جاۓ گی
بابا نے کہا
مگر بابا کوئی تو طریقہ ہوگا نہ علیان کو بچانے کا
ثاقب نے کہا
ایک ہی طریقہ ہے کل ہی علیان کا نکاح کل بارہ بجنے سے پہلے کسی ایسی لڑکی سے کرادیا جاۓ جس کے سر پر اس کے ماں باپ کا سایہ نہ ہو
مطلب ایک یتیم لڑکی سے
عروسہ نے کہا
ہاں وہ بھی کل بارہ بجنے سے پہلے
لو بھابھی یہاں تو نہ چٹ نہ پٹ اور نکاح فٹافٹ
عروسہ اوپر دیکھتے ہوۓ بولی
ٹھیک ہے اب ہم سب کو یہاں سے جانا ہوگا موسم زیادہ خراب ہوگیا تو مشکل ہوگا
انور بیگ نے کہا
ہاں انورجی آپ بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں
رفعت نے بھی ہاں میں ہاں ملائی
بابا جی آپ نے نہیں چلنا کیا
ثاقب نے پوچھا
ارے وہ بابا جی ہیں چٹکی بجائیں گیں اور گھر پہنچ جائیں گیں عروسہ نے کہا تو ثاقب نے عروسہ کو گھورا
سوری
عروسہ بولی
نہیں تم لوگ جاؤ میں یہاں رک کر اس ڈائن کاکوئی اور بندوبست سوچتا ہوں ہے
___________________________
پورا کا پورا لیب خالی تھی سواۓ ٹیبلز کے اور کچھ نہیں تھا
او مائی گاڈ
انیس کے منہ سے بےساختہ نکلا
یہ سب کیسے ہوا
حبیب سر پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ بولا
سوری پاپا یہ سب میری غلطی کو وجہ سے ہوا میں حصار بنانا اور لاک کرنا دونوں بھول گیا تھا
انیس نے شرمندہ ہوتے ہوۓ کہا
تم جانتے ہو انیس تم نے کتنی بڑی غلطی کردی اب ہم کسی کالی طاقت کسی مخلوق سامنا نہیں کرپائیں گیں
حبیب کی آواز میں غصہ اور پریشانی دونوں تھے
جی پاپا میں سلیمانی کتابونں کو ٹھیک کرنے کے چکر میں یہ بھول گیا
انیس نے کہا
اٹس اوکے اب مجھے کچھ اور کرنا پڑے گا
حبیب نے کہا
کیا پاپا
مجھے قبرستان جاکر چلہ کاٹنا ہوگا تین دن تک
حبیب نے کہا
جی پاپا
تم تب تک پورا خیال رکھنا جس طرح آج میری غیر موجودگی مہں ڈائن نے وار کیا آگے سے کوئی اور بھی وار کرسکتا ہے تمھیں بہت ہوشیار رہنا ہوگا
حبیب نے انیسے کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا
جی پاپا میں ایسا ہی کی کروں گا
انیس نے کہا
___________________________
ایک دن میں شادی وہ بھی ایک یتیم لڑکی سے یہ سب کیسے ہوگا
رفعت نے کہا
ہاں بھابھی یہی تو مجھے بھی سمجھ میں نہی آرہا ایک دن آخر کیسے ہوسکتا ہے اور لڑکی کہاں سے آۓ گی
عروسہ نے کہا
اور علیان سے کیا کہیں گیں کہ کیوں اس کی شادی اتنی جلدی کروا رہے ہیں
ثاقب نے بھی کنفیوژن سے کہا
علیان کا تو ہم کچھ نہ کچھ کرلیں گیں اور نکاح کا انتظام بھی کرلیں گیں مگر مین مسئلہ ہے لڑکی کا اوپر سے لڑکی بھی یتیم ہو
انور نے حل تو سوچ لیا مگر لڑکی کا کچھ نہیں ہوپارہا تھا
میں تو کہتی ہوں نیٹ پہ اشتہار ڈال دیتے ہیں بیگ خاندان کے بڑے بیٹے کےلیے لڑکی کی ارجنٹ ضرورت ہے
عروسہ نے مشورہ دیا
نہیں عروسہ اس طرح تو ہماری خاندان میں بدنامی ہوجاۓ گی اور میری بہنوں کو تو تم جانتی ہو
ثاقب نے کہا
ہمیں اسی گاؤں میں ہی کسی اچھی سی لڑکی کو دیکھ لیتے ہیں نا
رفعت نے کہا
ٹھیک ہے میں علیان کو کسی طرح مناتا ہوں تم لوگ تب تک لڑکی ڈھونڈو
انور نے کہا اور کمرے سے نکل گیا
____________________________
کیا شادی
علیان شادی کا نام سن کر اچھل پڑا
لیکن پاپا اتنی جلدی امپوسیبل
دیکھ بیٹا تیری بھلائی کےلیے ہمیں کل ہی تمھاری شادی کروانی ہوگی
انور نے کہا
نہیں پاپا اتنی جلدی شادی بنا کسی کو بتاۓ نہ ہی رشتہ دیکھا
میں شادی نہیں کرسکتا
علیان نے صاف انکار کردیا
لیکن بیٹا تمھارے ستاروں کے مطابق کل تک تمھاری شادی نہ ہوئی تو تمھاری زندگی پہ بہت بڑی مصیبت آجاۓ گی
لیکن پاپا میں ان ستاروں عامل وغیرہ کو نہیں مانتا اور کچھ نہیں ہوگا مجھے
علیان کی طرف سے انکار تھا
علیان ہم تمھارے ماں باپ ہیں اور اگر تمھیں ایک خروچ بھی آئی تو ہم کیسے جئیں گیں جانتے ہو تم
انور نے اموشنل ہوتے ہوۓ کہا
مگر پاپا میں شادی کےلیے ابھی تیار نہیں ہوں اور بغیر رسموں رواج کے اس طرح اچانک
علیان ابھی بھی نہیں مان رہا تھا
بیٹا ہم کون سا کہہ رہے ہیں ہم رسموں رواج سے شادی نہیں کریں گیں کل ایک بار تمھارا نکاح ہوجاۓ اور مصیبت ٹل جاۓ تو تمھاری شہر جاکر شادی کریں گیں میرا بھی تو اکلوتا بیٹا ہے میری بھی خواہش ہے تمھاری خوشیاں دیکھنے کی پر میں تیرے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں شادی کرلے
انور نے کہا
ٹھیک ہے پاپا میں تیار ہوں
علیان نے دل سہ نہ سہی مگر شادی کےلیے ہاں کر ہی دی
___________________________
ہاۓ ایسکیوزمی
پورا بیگ خاندان اس انجانی آواز پہ مڑا
سامنے ایک خوبصورت لڑکی نیلی شلوار قمیض سر پہ دوپٹہ اوڑھے ہائی ہیلز گلابی ہونٹ بڑی سنہری آنکھیں اور ہاتھ میں ایک سوٹ کیس
سب کی نظریں ایک لمحے کےلیے اس پر ٹک سی گئیں
آپ کون
عروسہ نے آئی بروز اچکاتے ہوۓ پوچھا
جی میں ثنا
ثنا نے جواب دیا
یہاں کیوں آئی ہیں محترمہ
عروسہ نے سوال کیا
جی وہ مجھے ایڈ ملا تھا کہ آپ کو ایک ایسی لڑکی کے رشتے کی ضرورت ہے جس کے پیرنٹس کی ڈیتھ ہوگئی ہو
ثنا نے بتایا
او اچھا آپ کھڑی کیوں ہیں آئیے نہ بیٹھیے
رفعت جلدی سے صوفے سے کھڑے ہوتے ہوئی بولی
ثاقب اور انور بھی کھڑے ہوگئے
جی
ثنا چلتی ہوئی آئی اور رفعت کے سامنے والے صوفے کے پاس کھڑی ہوگئی
ارے بیٹا کھڑی کیوں ہو بیٹھ جاؤ نہ
انور نے کہا
انکل وہ بڑے کھڑے ہیں تو میں کیسے بیٹھ جاؤں
او اچھا سب مسکرا کر بیٹھ گئے
ثنا بھی بیٹھ گئی
رفعت نے عروسہ کو اشارہ کیا
جی میں ابھی آتی
عروسہ کہتے ہوۓ چلی گئی
ہاں تو بیٹا کچھ اپنے بارے میں بتاؤ
دراصل میں امریکہ سے ایک ویک پہلے آئی ہوں میرے پیرنٹس کی کچھ عرسہ پہلے ایک ایکسڈینٹ میں موت ہوگئی میں بچپین سے امریکہ رہی ہوں مام ڈیڈ کے بعد اس دنیا میں میرا کوئی نہیں تھا تو میں اکیلی ہی اپنے پاپا کا بزنس ہینڈل کرنے لگی بٹ انکل آپ کو تو پتہ ہے آجکل کے دور میں ایک لڑکی کا اکیلا رہنا مشکل ہے میں نے سوچا شادی کرلوں پر اپنے ہی ملک سے اور ایک ویک سے یہاں آئی ہوں
ثنا چپ ہوگئی
عروسہ چائے سموسے لے آئی
تو بیٹا کیا خیال ہے تمھارا شادی کے بعد کا کہاں رہنا چاہتی ہو
ثاقب نے سوال کیا
انکل میں شادی کے بعد سب کچھ اپنے ہسبینڈ کے نام کردوں گیں اور مجھے گھر کے سارے کام آتے ہیں امریکہ میں نے کوئی سروینٹ وغیرہ کام پہ نہیں رکھا ہوا میں آپ کے بارے میں سب کچھ معلوم کروانے کے بعد ہی یہاں آئی ہوں اچھا ہوگا آپ میرے بارے میں بھی سب کچھ پتا کروالیں
ثنا نے سب کچھ تفصیل سے بتا دیا
بھابھی لڑکی تو اچھی ہے اور لاٹری بھی رشتہ ڈن کردو
عروسہ نے سرگوشی کی
تم ٹھیک کہہ رہی ہو شاید انور سے کہہ کر اس کا سب نکلواتے ہیں اور ڈن کردیتے ہیں لڑکی بھی بہت خوبصورت ہے
رفعت نے بھی آہستہ سے کہا
تو ٹھیک ہے آپ اوپر جائیں گیسٹ روم میں آرام کریں تب تک ہم آپ کو اپنا فیصلہ سنا دیں گیں
____________________________
نکاح کی تیاریاں چل رہیں تھیں بیگ خاندان نے ثنا کے بارے میں سب کچھ معلوم کرنے کے بعد رشتہ ڈن کردیا تھا اور نکاح آج دن گیارہ تیس پہ رکھ دیا گیا تھا سارا گھر سجایا گیا تھا اور گاؤں کے کچھ لوگوں کق بلایا گیا تھا
یار حریم تیرا شہزادہ تو تیرا ہونے سے پہلے ہی پرایا ہوگیا
علینہ نے حریم سے کہا علینہ اور حریم دونوں یہاں کام کےلیے آئیں ہوئیں تھیں
حریم آنا تو نہیں چاہتی تھی مگر خالہ نے زبردستی بھیج ہی دیا
چپ کر یار یہ بھی کوئی لڑکا ہے ڈفر سا مجھے تو کوئی خوبصورت لڑکا چاہیے
حریم نے سیڑھیاں اترتے ہوۓ جواب دیا
اچھا اور کل تو بڑا کہہ رہی تھی آگیا میرے خوابوں کا شہزادہ دلبرراجہ
علینہ نے طنزیہ کہا
اچھا تو تیرا کدھر گیا
حریم نے سیڑھیوں پہ ہی رک کر پوچھا
میرا تو یہاں کہیں ہوگا تو چل نہ
علینہ نے کہا
حریم نے جیسے ہی سیڑھیوں پہ ایک قدم بڑھایا اس کا پاؤں لڑکھڑایا اور حریم نیچے گرتی چلی گئج حریم نے آنکھیں بند کرلیں تھیں مگر اگلے ہی لمحے وہ کسی کے بازؤں میں تھی حریم نے آنکھیں کھولیں تو وہ علیان تھا دونوں کی نظریں ایک دوسرے کے چہرے پہ ٹک سی گئیں
اوہو
علینہ کی آواز پہ دونوں ہوش میں آۓ اور کھڑے ہوگئے
حریم دوسری طرف جانے لگی
انسان تھینکس ہی بول دیتا ہے
علیان نے کہا
تھینکس کس بات کا تم نے حساب برابر کیا ہے ایک بار میں نے بھی تمھیں بچایا ہے
حریم نے پرسوں رات کی طرف اشارہ کیا
یاداشت بڑی تیز ہے آپ کی علیان نے کہا
بادام نہیں کھاتی پھر بھی
حریم کہتے ہوۓ چل دی
___________________________
ثنا تم تیار رفعت نے جیڈے ہی روم کا دروازہ کھولا ثنا بیڈ پہ لہنگا پہن کہ بیٹھ تھی مگر تیار نہیں ہوئی تھی
کیا ہوا ثنا تم ابھی تک تیار نہیں ہوئی
رفعت نے ثنا سے پوچھا
آنٹی میری ہمیشہ سے خواہش تھی کہ مجھے میری مام تیار کریں اور یہاں آپ میری مام ہے تو کیا آپ مجھے
ثنا نے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا
ہاں ہاں بیٹا کیوں نہیں
رفعت کو ثنا پر بےحد پیار آیا
چلو میں تمھیں تیار کردیتی ہوں رفعت نے کہا اور ثنا کو آئینے کے سامنے بیٹھا کر اسے تیار کرنے لگی کچھ دیر میں ثنا تیار ہوگئی
ماشااللہ کتنی خوبصورت لگ رہی ہے میری بیٹی رفعت نے کہا
ثنا اسچ میں بہت حسین لگ تہی تھی اس کے گورے چہرے پہ لال گال بہت سج رہے تھے
تھینکس مام کیا میں آپ کو مام بلا سکتی ہوں
ثنا نے رفعت کو کہا
ہاں بالکل بیٹا تم بلاؤ مجھے مام میں تمھاری ماں ہی ہوں نا
رفعت نے مسکراتے ہوۓ کہا تو ثنا خوشی سے اٹھ کر اس کے گلے لگ گئی
اب تم کمرے میں رہنا ابھی دس بج رہے ہیں میں اقر عروسہ تمھیں گیارہ بجے لینے آجائیں گیں
رفعت نے کہا
جی مام
رفعت کمرے سے باہر چلی
گئی
___________________________
ثنا خود کو شیشے میں دیکھ رہی تھی کہ اچانک اس کے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر آئی لڑکی نے اندر آتے ہی روم لاک کردیا ثنا اسے اچانک دیکھ کے ڈر گئ
ہو آر یو
ثنا نے سوال کیا
تیری موت
لڑکی نے جواب دیا
واٹ کیا بکواس کررہی ہو تم
ثنا نے کہا
تبھی لڑکی کی آنکھیں سفید ہوگئیں اس کے ناخن لمبے کالے ہو گئے اور کے چھوٹے سے کھلے ہوۓ بال چوٹی میں تبدیل ہوگئے
ثنا خوف سے چلانے لگی تھی کہ ڈائن نے اپنی چوٹی سے ثنا کا گلا مظبوطی سے جکڑ لیا
ثنا کو آواز حلق میں رہ گئی
ڈائن نے چوٹی سے ثنا کو اونچا اٹھایا اور دھواں بن کر غائب ہوگئی اس کے ساتھ ہی ثنا بھی غائب ہوگئی
گیارہ پندرہ پر جیسے ہی عروسہ اور رفعت ثنا کو کمرے میں لینے آئیں دنگ رہ گئیں
ثنا اپنے کمرے میں نہیں تھی
یہ کہا گئی بھابھی
عروسہ کے چہرے پہ پریشانی کی شکن آگئیں
واش روم میں ہوگی شاید تم چیک کرو
رفعت نے کہا
عروسہ نے واش روم چیک کیا تو ڈور اوپن تھا
نہیں بھابھی یہاں بھی نہیں ہے
تو کہاں گئی یہ لڑکی
رفعت کا دل زور زور سے دھڑکھنے لگا
بھابھی کہیں یہ بھاگ تو نہیں گئی
عروسہ نے کہا
چپ کرو عروسہ دیکھو یہیں کہیں ہوگی
چلو بھابھی باہر دیکھتے ہیں
عروسہ کمرے سے باہر نکلی
___________________________
پاپا چلہ کاٹنے گئے ہیں تب تک میں کچھ پتہ کرنے کی کوشش کرتا ہوں
انیس بیٹھے بیٹھے بور ہوا تو لائبریری میں آگیا
سلیمانی کتابیں نہیں ہیں نہ کچھ لیب میں ہے کروں تو کروں کیا آخر
انیس دماغ پہ زور ڈالتے ہوۓ بولا
انیس نے راز_اے_ڈائن کو کھولا اور پھر سے سلیمانی کتابوں کے بارے مہں پڑھنے لگا مگر کافی دیر پڑھنے کے بعد نیس کق کچھ پتا نہ چل سکا تو اچانک انیس کو کچھ یاد آیا
سی سی ٹی وی
جب پورے گھر میں کیمرے لگے ہوۓ ہیں تو اس ڈائن کا چہرہ ضرور نظر آیا ہوگا اس طرح ہم اس کو ڈھونڈ سکتے ہیں
انیس نے سوچا اور لائبریری سے باہر نکل گیا
__________________________
نہیں بھابھی پوری حویلی میں پتا کرلیا ہے لیکن ثنا کہیں بھی نہیں ہے اور نہ کسی نے نوکر اس کو دیکھا
ثاقب نے کمرے میں داخل ہوتے ہی بتایا
تو پھر کہاں جا سکتی ہےیہ لڑکی انور جی رفعت آنسوں صاف کرتے ہوۓ انور سے بولی
کہیں اسے پتا تو نہیں چل گیا کہ علیان پر ایک ڈائن کا سایہ ہے
عروسہ نے کہا
گیارہ بج کر پچیس منٹ ہوگئے ہیں اور ثنا لاپتہ ہے ہمیں کسی طرح بھی علیان کی شادی کروانی ہے ورنہ اس ڈائن کا سایہ ہمارے علیان سے کبھی نہیں جاۓ گا
رفعت نے بےچینی سے کہا
تو اب کچھ نہیں ہوسکتا شادی نہیں ہوگی کیا
عروسہ نے کہا
نہیں یہ شادی ہوگی
رفعت نے آواز میں سختی لاتے ہوۓ کہا
کیا مطلب بھابھی دولہن تو گئی اب کس سے
ثنا نے ناسمجھتے ہوۓ کہا
ہم ابھی یہاں پر کسی ایسی لڑکی کو ڈھونڈیں گیں جو بنا ماں باپ کے ہو اور اس کی شادی علیان سے کردیں گیں
رفعت نے کہا تو سب کو جھٹکا لگا
کک کیا مطلب تمھارا رفعت
انور نے کہا
مطلب آپ کو سمجھ آگیا بس جلدی سے لڑکی ڈھونڈیں ہمارے پاس تیس منٹ ہیں میں اپنے بچے کو کچھ نہیں ہونے دوں گیں
رفعت نے کہا
مگر بھابھی
ثاقب کے بولنے سے پہلے رفعت نے اسے ٹوک دیا
اگرمگر کچھ نہیں ہمیں لڑکی چاہیے
رفعت نے اتنا کہا تھا کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک لڑکی اندر داخل ہوئی
جی دولہن کہاں ہے مجھے انھیں مہندی لگانی ہے
اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑاتے ہوۓ کہا
دیکھو بیٹا دولہن کو چھوڑو تم کسی ایسی لڑکی کو جانتی ہو جس کے ماں باپ نہ ہوں
رفعت سیدھا اس کے پاس آکے دروازہ بند کرتے ہوۓ اس کے ہاتھ تھام کر بولی
جی آنٹی
وہ رفعت کا منہ تاکنے لگی
دیکھو تم میرے سوالا کا جواب دو
رفعت نے کہا
ہاں آنٹی میری خالہ کی بیٹی حریم ہے جس کے والدین پچپین میں ہی گزر گئے تھے
علینہ نے کہا
کیا سچ میں وہ کہاں ہے بیٹا
رفعت کے چہرے پہ امید کی کرن سی آگئی
جی نیچے ہی ہے وہ
چلو مجھے لے چلو رفعت اوتاولی ہوکر بولی
مگر………. سب نے بولنا چاہا رفعت نے ہاتھ اٹھا کر روک دیا اور علینہ کو لےکر کمرے سے نکل گئی
علینہ کو ابھی تک کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے
____________________________
عامل بابا اپنا کام نمٹا کر جانے کےلیے اٹھ کر کھڑے ہوۓ ہی تھے کہ تبھی اس نے دیکھا کہ ایک عورت دوسری طرف منہ کرکے کھڑی ہے
کون ہو تم
عامل نے کہا
عورت پیچھے کی طرف مڑی
ارے بیٹا تم یہاں کوئی کام تھا کیا
عامل نے ایسے کہاں جیسے وہ اس کو اچھی طرح جانتا ہو
کام تو ہے نا تمھاری جان چاہیے
وہ ہنستے ہوۓ بولی
کیا مطلب
عامل نے کہا
مطلب یہ…… عورت نے اتنا کہہ کر بازو کھولے اس کے ناخن لمبے کالے ہوگئے اس کی آنکھیں سفید پاؤں الٹے ہوگئے بال ایک لمبی چوٹی میں تبدیل ہوگئے
تت تم ڈائن ہو
عامل کا جسم کانپنے لگا
عامل نے آنکھیں بند کرکے منتر پڑھنا شروع کیا تھا کہ ڈائن نے اپنا ہاتھ آگے کیا اس کے ناخن بےحد لمبے ہوگئے اور وہ عامل کے پیٹ میں پیوست ہوگئے پوری غار عامل کی چیخوں سے گونج اٹھی
___________________________
دیکھوں بیٹا میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بیٹے کو بچا لو ہمارے پاس وقت بےحد کم ہے
رفعت حریم کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوۓ بولی
مگر آنٹی آپ میری بات بھی تو امجھیں میں کک۔۔ کیسے کوئی بھی مجھے آکے کہے کہ شادی کرلو تو میں کرلوں
حریم کو کچھ سمجھ ہی نہیں آرہی تھی
رفعت کافی دیر سے اس کے سامنے روۓ جارہی تھی اور ایک چیز کی ہی رٹ لگا رکھی تھی میرے بیٹے سے شادی کرلو
دیکھو بیٹا وقت بہت کم ے اگر آج بارہ سے پہلے میرے بیٹے کی شادی نہیں ہوئی تو اس کا زندہ رہنا ناممکن ہے تم پلیز میرے بیٹے سے شادی کرلوں میں تمھارے پاؤں پڑتی ہوں
رفعت کے آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ رہا تھا اور وہ حریم کے سامنے گرگڑاۓ جارہی تھی
حریم اور رفعت کے سوا کمرے میں کوئی نہیں تھا
ٹھک… ٹھیک ہے آنٹی میں آپ کے بیٹے سے شادی کروں گی
حریم نے فیصلہ سنا دیا
سچ میں تم میرے بیٹے سے شادی کروگی رفعت کو تو اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا
رفعت نے اپنے لیے دوبارہ پوچھا
ہاں آنٹی اگر میری وجہ سے کسی کی زندگی بچ سکتی ہے تو میں ایسا ضرور کروں گیں
حریم نے کہا
مجھے سمجھ نہیں آرہی میں تمھارا احسان کیسے اتاروں ابھی وقت بہت کم ہے میں نے ثنا کےلیے تین لہنگے منگواۓ تھے تاکہ کچھ مسئلہ ہوجاۓ لہنگے میں تو کام آئیں
ٹھیک ہے آنٹی میں بس پانچ منٹ میں آئی
____________________________
وہ دولہن بنے بیٹھی تھی اس نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس طرح اچانک اس کی شادی ہوجاۓ گی
اس کے نکاح کو تین گھنٹے ہوچکے تھے کسی طرح اس کا نکاح ہوگیا تھا اس کی خالہ ریحانہ نے آکر وویلا مچایا تھا مگر ایک چیک نے اس کا منہ بند کردیا تھا اور وہ جاچکی تھی اور علینہ کو زبردستی ساتھ لے گئی تھی نکاح کے وقت علیان کو کچھ بولنے کا موقع نہیں دیا گیا تھا وہ بہت کچھ جاننا چاہتا تھا کہ ثنا کی جگہ حریم مگر رفعت نے اسے نکاح کےلیے مجبور کردیا تھا اس وقت حریم کے ساتھ کمرے میں سارہ اور عائشہ موجود تھیں جنہیں خود سمجھ نہیں آرہا تھا کہ سب کیا ہوا ہے
___________________________
جی ہیلو انیس سپیکنگ
انیس نے کال رسیو کرتے ہی کہا
دیکھیے مسٹر انیس میں انسپیکٹر افتخار بول رہا ہوں کیا میری حبیب سے بات ہوسکتی ہے
دوسری طرف سے آواز
جی میں ان کا بیٹا بول رہا ہوں انیس قریشی پاپا تو کسی کام کےلیے شہر سے باہر گئے ہوۓ ہیں
انیس نے جواب دیا
جی وہ کب تک آجائیں گیں ہمیں ان سے کچھ ضروری کام تھا
افتخار صاحب نے پوچھا
جی پرسوں تک آجائیں گئیں خیریت ہے نا
انیس نے کہا
جی خیریت ہے ہمارے پاس ایک ایسا کیس آیا کہ ہم الجھ گئے ہیں سوچا آپ کے ابو ایکس سائنٹیسٹ ہیں تو بات کرلیتے ہیں
افتخار نے بتایا
جی ویسے سائنٹیسٹ تو میں بھی ہوں پاپا کی غیر ذمہ داری میں میں ہی سب سنبھالتا ہوں آپ چاہیں تو مجھ سے ڈسکس کرسکتے ہیں
انیس ویسے تو ان سب کیسز سے دور رہتا مگر اس بار اسے کچھ اور بھی شک تھا
ٹھیک ہے انیس صاحب تو آج شام پانچ بجے چاۓ پر ملتے ہیں
انسپیکٹر افتخار نے کہا
اوکے سر گڈ باۓ خدا حافظ
انیس نے جواب دیا
____________________________
بھابھی بھابھی
سارہ کی آواز پر حریم سوچوں کی دنیا اے باہر آئی
جی جی
حریم نے کہا
کیا ہوا بھابھی کہاں گم ہیں اتنی دیر
سارہ نے سوال کیا
کہیں نہیں
حریم نے نظریں چراتے ہوۓ جواب دیا
او ہو اپنے دولہے جی کے انتظار میں کھو ہی گئیں
عائشہ نے شریر لہجے سے کہا
سارہ نے عائشہ کو گھورا
سوچ رہی ہوں یہ سب کتنی جلدی ہوگیا نا
حریم نے یوں ہی کھوۓ کھوۓ لہجے میں کہا
ہاں بھابھی یہ بات تو ہے ایک لڑکی کے کتنے ارمان ہوتے ہیں کتنی خواہشیں ہوتی ہیں نہ پر یہاں تو سب کچھ ایسے ہوا نہ کہ کسی کی کچھ سمجھ میں ہی نہیں آیا
سارہ نے ایک لمبا سانس لے کر کہا
ہاں بھابھی پر آپ فکر نہ کریں سب کچھ ٹھیک ہوجاۓ گا اور آپ جس طرح چاہتی تھیں اس طرح شادی بھی ہوگی
عائشہ حریم کو بازوں میں سمیٹ کر دلاسہ دیا
ہاں ضرور
حریم نے عائشہ کے کندھے پہ سر رکھ دیا
اتنے میں کمرے کا ڈور کھلا اور رفعت اندر داخل ہوئی
کیسی ہو حریم بیٹا
رفعت نے عائشہ اور سارہ کو اشارہ کیا دونوں اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئیں
رفعت نے دروازہ بند کردیا
اور حریم کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی
دیکھو حریم بیٹا آج جو تم نے مجھ پر احسان کیا ہے نا یہ میں زندگی بھر نہیں بھلا پاؤں گیں تم نے آج میرے بیٹے کی جان بچائی ہے سچ کہوں تو ایک پل کےلیے میں نے امید ہی چھوڑ دی تھی مگر پھر خدا نے یہاں تم کو فرشتہ بنا کر بھیج دیا
دیکھو حریم ہم آج اکیس سال بعد یہاں صرف ایک بزنس ڈیل کےلیے آۓ تھے ہمارے تو وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ یہاں آکر ہمارے ساتھ اتنا سب کچھ ہوجاۓ گا میرے بیٹے کی زندگی میں ایک بہت بڑا سایہ تھا جو آج شادی کے بعد ہٹ گیا میں جانتی ہوں بیٹا اس وقت تم پر کیابیت رہی ہوگی
رفعت نے اتنا کہہ کر حریم کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے
دیکھو بیٹا میں تمھاری جنم دینے والی ماں نہیں ہوں پر تم سے ایک وعدہ کرتی ہوں میں تمھیں ایک ماں سے زیادہ پیار کروں گیں تمھیں کبھی میرے گھر میں کوئی پریشانی ہو کوئی تکلیف ہو تم سب سے پہلے مجھے آکر بتاؤ گی ساس نہیں ماں سمجھ کے بلکہ ایک دوست سمجھ کر میں تم سے ایک وعدہ کرتی ہوں تمھیں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہونے دوں گیں یہ وعدہ ہے تم سے میرا حریم اور امید ہے تم بھی ایک اچھی بیٹی بن کر دکھاؤں گی
حریم ابھی تک سر جھکاۓ بیٹھی تھی
جی ماں آپ فکر نہ کریں میں آپ کی ساری امیدوں پر پورا اتروں گیں
حریم نے اسی طرح سر جھکاۓ جواب دیا
ٹھیک ہے بیٹا اب تم آرام کرو
رفعت نے اٹھ کر حریم کے سر کا بوسہ لیا اور چلی گئی جاری ہے

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: