Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 4

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – قسط نمبر 4

–**–**–

 

رفعت کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی کمرے کا دروازہ دوبارہ کھلا حریم نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو وہ علیان تھا حریم نے نظریں جھکا لیں
علیان آکر حریم کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا
حریم
علیان حریم سے مخاطب ہوا
دیکھو حریم میں نا آج بہت نروس ہوچکا ہوں مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ کیسے سب کچھ اچانک ہوا امی کہتی ہیں مجھ پر ایک سایہ تھا جو شادی کے بعد ہی مجھ سے ہٹ سکتا تھا سچ بتاؤں تو میں بہت نروس ہوچکا ہوں مجھے پتا ہے تم نے بھی میرے لیے اپنی زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ لیا ہے میں تمھارا اس احسان کےلیے ہمیشہ شکر گزار رہوں گا کہ آج میری زندگی تمھاری وجہ سے ہے مجھے شاید ہماری قسمت میں یہی لکھا تھا پر اب شاید ہمیں ایک نئی زندگی کی شروعات کرنی چاہیے اب تک کیا ہوا کیوں ہوا شاید سب کچھ اچھے کےلیے ہی ہوا پر اب تم میرا آنے والی زندگی میں ساتھ دوگی نا حریم
ہم ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہیں گیں اور سب سے پہلی بات بھروسہ کیونکہ بھروسے کے بنا کوئی رشتہ ممکن نہیں اور مجھے پورا یقین ہے تم کبھی کچھ غلط نہیں کروگی میرے بھروسے پہ پورا اترو گی کیا تم ہمیشہ کے لیے میرا ہاتھ تھام کے رکھو گی علیان نے اپنا ہاتھ حریم کی طرف بڑھایا
____________________________
دیکھیے مسٹر انیس ہم نے بہت سے ایسے کیس دیکھے ہیں جو بہت حیران کن ہوتے ہیں مگر اس کیس کو لے کر ہم الجھ سے گئے ہیں
انسپیکٹر افتخار نے چاۓ کا سیپ لیتے ہوۓ کہا
کیا مطلب انسپیکٹر صاحب کچھ بات کھل کر بتائیں
انیس نے کچھ نا سمجھتے ہوۓ کہا
دیکھیں مسٹر انیس ہمیں اب تک چار لاشیں ایسی ملی ہیں جو ہوتی تو نوجوان لوگوں کی ہیں مگر بالکل بوڑھی ہوچکی ہوتیں ہیں پوسٹ مارٹم کے مطابق ان کی باڈی سے ساری انرجی نکال لی جاتی ہے وہ بھی اس طرح کے کہ پورے جسم پر کوئی نشان کوئی انجکشن یا اائنسی ٹیکنیک استعمال کیے بغیر اور ایک ایسی لاش بھی ملی ہے جس کے پیٹ میں اتنے لمبے اور نوکیلے ناخن ملے ہیں جو ڈی_این_اے کے اس دنیا میں کسی جانور یا انسان کے نہیں ہوسکتے ہیں ہم نے اس کیس پر ریسرچ کےلیے لندن سے ایک خصوصی ایجنٹ کو خفیہ طور پر بلایا تھا مگر اس کی اپنی موت بہت بھیانک طریقے سے ہوگئی کہ کوئی خونی درندہ ہی ایسا کرسکتا ہے اس ایجنٹ کے جسم کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا گیا
اسپیکٹر افتخار خاموش ہوگیا جبکہ انیس کو پوری بات سمجھ آچکی تھی اور وہ جان گیا تھا ان سب کہ پیچھے کس کا ہاتھ ہے
یہ کیس تو بڑا ہی خطرناک ہے آپ ایک کام کیجیے جو ناخن آپ کو ملے ہیں آج شام کو میرے لیب بھیجوا دیں میں جلد ہی بتا لگا لوں گا کہ وہ ناخن ہے کس کا
انیس کہہ کر کھڑا ہوگیا اور اس کے ساتھ ہی انسپیکڑ افتخار بھی کھڑے ہوگئے
____________________________
ہاں میں آپ سے وعدہ کرتی ہوں آپ کے یقین کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچاؤں گیں آپ کا ساتھ دوں گیں اب آپ کے سوا میرا کوئی نہیں ہے
حریم نے علیان کا ہاتھ پکڑ کر جواب دیا علیان اور حریم دونوں کے چہرے پہ مسکان آگئی ایک نئی مسکان
____________________________
ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا اور یہاں چاروں طرف سناٹا پھیلا ہوا تھا آسم پر چاند چمک رہا تھا تبھی سے ایک عجیب سی روشنی کی بہت بڑی کرن لگی جو اس تابوت پر پڑی اچانک سے وہ ایک پتھر سے عورت میں بدل گئی اس نے اپنی آنکھیں کھولیں وہ آج ایک بہت لمبی نیند کے بعد جاگی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھ تابوت پر مارے تابوت کا اوپر کا شیشہ ٹوٹ گیا اور وہ اڑ کر ہوا میں کھڑی ہوگئی اور اگلے لمثے چھلانگ لگا کے زمین پہ کھڑی ہوگئی اس نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں تو ان کی سیاہی ختم ہوگئی اس کی آنکھیں سفید ہوگئیں اس کے پاؤں پیچھ کی طرف مڑ گئے اس کے کھلے ہوۓ بال ایک چوٹی میں تبدیل ہوگئے
میں آگئی ہوں بیگ خاندان واپس آگئی ہوں اب شروع ہوگی انتقام اور نفرت کی اصلی جنگ
ہاہاہا اس نے ایک زور دار قہقہ لگایا اور اپنے قدم آگے بڑھنے لگی مگر جیسے ہی شیشے کے پاس گئی اسے ایک جھٹکا لگا اور وہ پیچھے گرگئی
او تو یہ معمولی سا شیشہ مجھے روکے گا ایک روائن کے وہ اٹھ کر دوبارہ کھڑی ہوئی اور چند قدم پیچھے ہٹ کر بجلی کی رفتار سے بھاگتے ہوۓ آگے آئی اس بار وہ شیشے کے ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوۓ بھاگتی چلی گئی
وہ آزاد ہوچکی تھی
____________________________
او بھائی بڑے خوش لگ رہے ہو لگتا ہے رات کافی اچھی گزری ہوں
ریان نے علیان کو مسکراتے دیکھ شرارت سے کہا
ویسے تمھیں دوسرے کے چہرے تاکنے کے بجاۓ پیکنگ کرنی چاہیے کیونکہ آج گھر واپس جانا ہے
علیان نے کہا
ہاں وہ تو ہے پر بھابھی جسگ گئیں ہیں یا نہیں
ریان نے پوچھا
جی بھابھی جاگ گئیں مگر دیور ابھی تک سوۓ ہوے ہیں شاید
حریم نے اونچا سا کہا تو ریان پیچھے مڑا جہاں حریم ہاتھ باندھ کر مسکرا رہی
او سوری بھابھی میں نے آپ کو دیکھا ہی نہیں
اچھا اب دیکھ لیا نہ اب اپنا سامان پیک کرلیں دیور جی پھر ہمیں گھر کےلیے نکلنا ہے
حریم نے کہا
اوکے بھابھی ابھی گیا
___________________________
سب واپسی کےلیے نکل چکے تھے اور اس بار ایک گاڑی ایکسٹرا تھی ریان اور سارہ نے علیان اور حریم فرنٹ پہ تھے اور عائشہ بیک سیٹ پہ
تو بھابھی کیسے لگے آپ کو ہمارے بھائی
عائشہ نے حریم کو مخاطب کیا
ہاں بس ٹھیک ہی ہیں
حریم نے علیان کو تنگ کرنے کےلیے کہا
او اچھا تو اب میں بس ٹھیک ہی ہوں
علیان نے حریم کو دیکھے بنا ہی کہا
تو اور کیا اپنے آپ کو سپر مین سمجھتے ہیں
حریم نے کہا
نہیں سپر مین سے بھی بیسٹ ہوں میں تو
علیان نے تھوڑا چوڑا ہوکر کہا
بس بس زیادہ چوڑے نہ ہوں گاڑی سے باہر گر جائیں گیں
حریم نے کہا تو علیقن اور عائشہ دونوں ہنسنے لگے
تو اس کا مطلب ایک رات میں ہی ایک دوسرے کے ساتھ کافی گھل مل گئے ہیں
عائشہ نے مسکراتے ہوۓ کہا
تبھی حریم کو ایسا لگا جیسے گاڑی چھت کے اوپر کچھ گرا ہو
مجھے ایسا لگا جیسے اوپر کچھ گرا ہو
حریم نے کہا
وہم ہوگا بھابھی
عائشہ نے کہا
ہاں شاید
حریم نے سوچا وہم ہی ہے۔
____________________________
پتہ نہیں اس ڈائن کا چہرہ میرے دماغ سے کیسے غائب ہوگیا باقی سب تو اچھے سے یاد ہے بس یہ ڈوائن کا چہرہ بالکل دھندلا دھندلا سا یاد ہے
انیس نے دماغ پہ دباؤ ڈالتے ہوۓ سوچا
ایک بار اسپیکٹر افتخار انکل مجھے اس ڈائن کا ناخن بھیج دیں اس کے بعد اس ڈائن تک پہنچنا بہت آسان ہے
پر اس کا چہرہ کیوں میرے دماغ سے مٹ چکا ہے تبھی ڈور بیل بجی انیس جلدی سے مین گیٹ پر گیا تق سامنے ایک حوالدار کھڑا تھا
جی کہیے
انیس نے اس سے پوچھا
جی مجھے اسپیکٹر افتخار نے یہ ناخن دینے بھیجا ہے اس کے ہاتھ میں ایک پیکٹ تھا جس میں پانی تھا اور اندر ایک سات آٹھ انچ کا ناخن رکھا گیا تھا
انسپیکٹر نے کہا کہ آپ کو جلدی سے یہ دے کر واپس آنا ہے کیونکہ خونی نہاہت ہی شاطر ہے حوالدار نے پیکٹ انیس کو دیا اور چلتا بنا
انیس نے ڈور بند کیذ اور اندر آگیا
افتخار انکل نے کہا تھا ناخن کافی بڑے مگر یہ اتنے بڑے تو نہیں
انیس نے سوچا
____________________________
نہیں یہ نہیں ہوسکتا نہیں ہوسکتا
سائرہ غصے سے چلاتے ہوۓ بولی
وہ جیسے ہی غار سے باہر آئی تھی اس کی چوٹی چھوٹے بالوں میں تبدیل ہوگئی اس کی آنکھیں نارمل ہوگئیں اور اس کے ناخن بھی نارمل ہوچکے تھے اور بار کوشش کرنے کےباوجود وہ کچھ نہیں کرپارہی تھی
میری طاقتیں نہیں جاسکتیں مجھے میرے اپنوں کو بچانا ہے انھیں اصلی خطرے کے بارے میں بتانا ہے
سائرہ نے بہت کوشش کی مگر وہ ڈائن نہیں بن پارہی تھی
اگر طاقتیں نہیں تو کیا ہوا میں پھر بھی وہاں جاؤں میں اپنا انتقام لےکر رہوں گیں
سائرہ غصے سے چلاتے ہوئے جنگل سے باہر کے راستے کی طرف بھاگنے لگی وہ ڈائن تھی اور اس کے بھاگنے کی رفتار بہت تیز تھی مگر آج وہ ڈائن نہیں تھی پر اس کا انتقام اور غصہ اسے بہت طاقت دے رہا کچھ دیر میں وہ جنگل سے باہر آگئی اور بھاگتے بھاگتے بیگ حویلی تک پہنچ گئی
سائرہ نے کچھ دیر رک سانس لیا اور بھاگ کے حویلی کے بڑے دروازے تک پہنچی جہاں دو چوکیدار کھڑے تھے
سس۔۔۔سنیے۔۔۔۔مم۔۔مجھ
۔ے رف۔۔۔رفعت بیگ سے ملنا
سائرہ کو بہت تیز سانس چڑھ گیا تھا
جی وہ تو کچھ دیر پہلے یہاں ڈے نکل گئے ہیں اسلام آباد کےلیے چوکیدار نے بتایا
کیا
سائرہ نے حیرانی سے کہا
میڈم آپ کون اور آپ کی حالت خراب لگ رہی ہے میں پانی لاتا ہوں تبھی چوکیدار کی نظر سائرہ کے پاؤں پر پڑی اور وہ دنگ رہ گیا
سائرہ جنگل سے ننگے پاؤں بھاگ کر آئی تھی اور اس کے پاؤں لہولہان ہوچکے تھے
میڈم آپ کے پیر تو خون سے بھرے میں ابھی پانی لے کر آتا ہوں چوکیدار پانی لینے گیا مگر سائرہ پھر سے ایک طرف بھاگنے لگی.
ثاقب پارٹی ختم ہونے کے بعد رات کو دو بجے نشے میں دھت ٹیرس پر آیا اور گرتے پڑتے ایک کرسی پر بیٹھ گیا
تبھی اسے ایک طرف ایک لڑکی دکھی جس کی پیٹھ ثاقب کی طرف تھی اس نے لال ساڑھی پہنی تھی اور اس کے لمبے گھنے بال چمک تھے وہ ہائی ہیلز سینڈلز میں تھی
اووو لال ساڑھی والی کون ہے رے تو
ثاقب نے کرسی سے اٹھتے ہوئے ایک شرابی کی طرح کہا
لڑکی نے کوئی جواب نہ دیا ثاقب چلتے ہۓ اس کے پاس گیا
بتا نہ رے حسینہ کون ہے تو شرماتی کیوں ہے
ثاقب اس جے قریب جاکر پیچھے سے بولا اور اگلے لنحے وہ پیچھے مڑی تو ثاقب کا تو جیسے سارہ نشہ اتر گیا ہو
آنکھیں سفید کرکے یہ سائرہ کھڑی تھی
کیا ہوا جی آپ شرما گئے آؤ میرے پاس آؤ
سائرہ نے ہاتھ آگے بڑھایا
نن۔۔ نہیں تت
۔۔۔ تم مر گئی تھی لگ۔۔۔لگتا مجھے کچھ شیادہ چڑھ گئی
ثاقب خود کو جھنجھورتے ہوۓ بولا
سائرہ ثاقب کی طرف بڑھنے لگی ثاقب اپنے قدم پیچھے کرنے لگا
دد۔۔۔دور رہو مجھ سے میں بتارہوں
ثاقب نے پیچھے ہوتے ہوۓ انگلی دیکھاتے ہؤے کہا
سائرہ نے اپنی آنکھیں بند کرکیں کھولیں تو اس کے بال چوٹی میں بدک گئے اس کی لال ساڑھی کالی ہوگئی اس کے سینڈلز غائب ہوگئے اور پاؤں پیچھے کی طرف مڑ گئے اس کے چھوٹے سے ناخن نہایت لمبے نیلے ناخنوں میں تبدیل ہوگئے
سائرہ نے سر ہلایا اور اپنی چوٹی میں ثاقب کو جکڑ لیا
اور اوپر فضا میں اٹھا لیا
مم مجھے چھوڑ دو مجھے جانے دو
ثاقب کا سارہ نشہ ختم ہوگیا تھا
کبھی نہیں ایک موقع دیا تھا میں نے تم سب لوگوں کو ااکیس سال پہلے مگر نہیں لالچ اور دھوکہ تمھاری فطرت میں ہے
سائرہ غصے سے چلا کر بولی
مجھے معاف کردو معاف کردو تم جو کہو گی میں کروں گا مم معاف کردو مجھے
ثاقب نے گڑگڑاتے ہوۓ کہا
روئی میں بھی تھی گڑگڑائی میں بھی تھی پر تم میں سے کسی کو مجھ رحم نہیں آیا میں چلاتی رہی مگر تم نے مجھے تو کیا میرے معصوم پچوں کو ختم کردیا پر اب نہیں تم لوگ میرا بدلہ دیکھو گے ایک ڈائن کا ایک روائن کا انتقام اب تم سب لوگوں کی موت آچکی ہے
سائرہ نے غصے سے کہا اور اپنا ہاتھ آگے کیا سارہ کا ہاتھ لمبا ہتا چلا گیا سائرہ نے اپنے نوکیلے ناخن ثاوب کے سینے میں گاڑ دیے
ثاقب بہت بری طرح سے چلانے اور تڑپنے لگا سائرہ نے ثاقب کا دل نکالا اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑ کر غائب ہوگئی ثاقب کی لاش ٹیرس سے نیچے گر گئی
____________________________
انیس نے ناخن کتاب کے اوپر رکھا اور پھر اس پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھنے لگا اور پھر آنکھیں کھول دیں
اب بتاؤ مجھے یہ ناخن جس ڈائن کا بھی ہے وہ ڈائن اس وقت کہاں پر ہے
انیس نے کتاب سے ہاتھ ہٹایا اور ناخن اٹھا لیا اور کتاب کو کھولا
او تو وہاں ہے یہ ڈائن
انیس نے
پڑھتے ہی کہا
مجھے جلدی سے وہاں جانا ہوگا اور اس ڈائن کو قید کرکے یہاں لانا پڑے گا
انیس نے من میں کہا اور ایک طرف رکھی ہوئی الماری سے ایک پانی کی شیشی ایک دھاگہ اور ایک تیرکمان لے لی
اب مجھے جانا ہوگا اس گھر میں
انیس لائبریری سے باہر آگیا
____________________________
ثاقب کی موت کو آج تیسرا دن تھا
نہیں یہ کیا ہوا بھابھی کیا ہوگیا یہ وہ ڈائن کھاگئی میرے ثاقب کو
پورے بیگ خاندان کو صدمہ لگا تھا عروسہ ابھی بھی دھاڑے مارمار کے رو رہی تھی رفعت اسے سنبھال رہی تھی عائشہ تو باپ کی موت سے صدمے سے اپنے ہوش و حواس ہی کھوچکی تھی ریان بھی بری طرح صدمے میں تھا علیان اور انور باقی کام سنبھالنے میں لگے تھے حریم اس اچانک موت سے بہت سہم اور ڈر گئی تھی کیونکہ اس کی شادی کے فنکشن کی رات ہی اس کا ایک سسر دنیا سے چلا گیا تھا انور کی بہن فائزہ بھی اپنی بیٹی کے ساتھ دبئی سے آگئی تھی
یہ لیں امی پانی پی لیں
حریم نے عروسہ کو پانی دیتے ہوۓ کہا
رفعت نے پانی کا گلاس پکڑا اور عروسہ کو پلایا
امی ایک بات پوچھوں
حریم نے تھوڑا جھجھک کر پوچھا
ہاں بیٹا پوچھو
رفعت نے پیار سے کہا
امی یہ عروسہ چاچی باربار کسے ڈائن کہہ رہی ہیں
کک۔۔کچھ نہیں بیٹا وہ ایسے تم نیچے جاؤ میں آتی ہوں
رفعت نے کہا
حریم کمرےسے باہر آگئی
ہونہہ کوئی بات تو ہے جو یہ سب چھپا رہے ہیں
حریم نے من ہی من کہا اور نیچے کی طرف چل دی
___________________________
یہ تو بس شروعات ہے بیگ خاندان تمھیں تمھارے گناہوں کی سزا تو میں ایسے تڑپا تڑپا کردوں گی نا کہ تمھاری روح کانپ جاۓ گی تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ جب ایک روائن کا قہر گرتا ہے تو کیا ہوتا ہے اب تم میں سے کوئی بھی نہیں بچے گا کوئی بھی نہیں
سائرہ غصے سے چلا چلا کر بول رہی تھی
پر پہلے مجھے یہ پتا کرنا ہے کہ وہ ڈائن کون ہے جس نے اکیس سال پہلے میرے ساس سسر اور شوہر کو کھایا تھا اور اس کی سزا اکیس سال تک میں نے بھگتی اس کی وجہ سے میں نے اپنے بچے کھو دیے اور اس دن غار میں اس نے اس بڈھے کو بھی مار دیا تھا
ضرور وہ ڈائن انھیں میں سے کوئی ہے پر کون ہوسکتی ہے وہ
____________________________
بابا جی کا فون نہیں لگ رہا ہے انھوں نے رو کہا تھا علیان کی شادی کے بعد وہ ڈائن ہمیشہ کےلیے پتھر بن جاۓ گی
رفعت نے باربار فون ملاتے ہوۓ کہا
کہیں آپ لوگوں نے شادی میں تو کوئی دیری تو نہیں کردی
فائزہ نے کہا
نہیں فائزہ میں نے بارہ بجنے سے پہلے خود شادی کرائی تھی علیان اور حریم کی
رفعت نے موبائل رکھتے ہوۓ کہا
تو پھر کیا پتا یہ کام ڈائن کا نہ ہو
فائزہ بولی
نہیں یہ کام ایک ڈائن کا ہی ہے تمھیں یاد ہےنہ پچیس سال پہلے اس نے بالکل اسی طرح سب کو مارا تھا
انور نے فائزہ سے کہا
تو اب ہم کیا کریں گیں وہ ڈائن یہاں آچکی ہے اور اس کا قہر ہم پر ٹوٹ پڑا تو
رفعت نے سہم کر کہا
بھابھی کیوں نہ ہم آج ہی یہ ملک چھوڑ کر چلیں جائیں
فائزہ نے کہا
کیا مطلب فائزہ پہلے تو گھر میں اتنا کچھ چل رہا ہے ہم کیسے۔۔
انور نے جواب دیا
نہیں انورجی فائزہ بالکل ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے
رفعت نے کہا
پر رفعت ہم کیسے جائیں گیں اور بچوں سے کیا کہیں گیں
انور نے کہا
اب وقت آگیا ہے کہ ہم انھیں سب سچ بتا ہی دیں
رفعت نے سنجیدگی سے کہا
کک۔۔کیا
فائزہ بولی
ہاں اب ہمیں انھیں سب بتائیں گیں چلو
رفعت نے کہا
___________________________
کیا بات ہے امی آپ نے ہم سب کو یہاں کیوں بلایا ہے
علیان نے کہا
علیان حریم سارہ عائشہ اور ب
باقی سب یہاں موجود تھے
دیکھو علیان آج نہ ہم نے تم سب کو ایک بہت بڑا سچ بتانے کےلیے بلایا ہے
رفعت نے کہا
کیسا سچ ماں
سارہ نے پوچھا
ٹھیک ہے اب میری بات غور سے سنو
بات ہے آج سے اکیس سال پہلے کی جب ہمارے پاس اتنی دولت عیش کچھ بھی نہیں تھا ہماری زندگی بس معمولی سی ایک چھوٹے سے گھر میں گزر رہی تھی تمھارے پاپا لوگ تین بھائی تھے انور جی ثاقب اور سب سے چھوٹا ذیشان
ذیشان سب سے چھوٹا تھا اور لاڈلا بھی اس نے ضد کی کہ اسے شہر جاکے پڑھنا ہے ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں تھے مگر پھر بھی جیسے تیسے ہم نے اس کو بھیج دیا اور اس کے خرچے بھی اٹھانے لگے
مگر شہر جاکر ایک بہت امیر لڑکی سائرہ کو ذیشان سے پیار ہوگیا اور ذیشان کو اس سے وہ لڑکی ذیشان سے شادی کرنا چاہتی تھی اس کے ماں باپ اس دنیا سے گزر گئے تھے اور اسے اس کے ماموں نے پالا
تھا ہم نے ذیشان کی اس لڑکی سے شادی کرانے سے انکار کردیا کیونکہ اس کی خواہش تھی کہ ذیشان شادی کے بعد اس کے ساتھ رہے بلکہ پوری فیملی کیونکہ وہ ایک پوری ہنسے خوشی فیملی چاہتی تھی جو اس کے ساتھ رہے
ہم اور امی ابو پہلے تو نہیں مانے پر آخرکار ہم نے اس کی اور ذیشان کی شادی کرا ہی دی اور اس کی بڑی سی حویلی میں چلے گئے اس نے شادی کے بعد اپنا تیس فیصد بزنس انورجی کے نام کردیا اور باقی ذیشان کے نام کردیا ہم بہت خوش تھے اس زندگی سے پر ہمیں کیا پتا تھا کہ وہ لڑکی لڑکی نہیں ڈائن نکلے گی ڈائن
رفعت چپ ہوگئی
اور فائزہ نے بولنا شروع کردیا
ہاں اس ڈائن نے ہمارے ابو اور امی کو مار دیا اور ہم ہت تو جیسے صدمہ ٹوٹ پڑا ہم بہت روۓ ہمیں ابو کی لاش کے پاس ایک بہت بڑا بال ملا رفعت بھابھی نے اس بال کو اپنے ساتھ رکھ لیا اور ان کی ایک دوست زنوبہ جو کہ ایک ریدواشی تھی اس کو دیا اس نے ہمیں بتایا کہ یہ بال ایک ڈائن کا ہے تو ہمارے پیروں تلے سے تو جیسے زمین نکل گئی ہم نے زنوبہ کو سائرہ کی تصویر دی تو اگلے دن ہی اس نے ہمیں بتادیا کہ سائرہ ایک ڈائن ہے
پر جیسے ہی ہم حویلی پہنچے ہم پر ایک اور قیامت ٹوٹی اس ڈائن نے ذیشان کو بھی مار دیا تھا ہم نے گورأ زنوبہ کو فون کرکے بلا لیا زنوبہ نے ڈائن سے سچ اگلوانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانی اور زنوبہ نے ایک گلاس میں پانی دم کرکے جیسے ہی اس پر پھینکا وہ چلاتی ہوئی دیوار پر چڑھ گئی اس کے بال ایک بہت لمبی چوٹی میں بدل گئے تھے اس کی آنکھیں سفید اور ناخن نوکیلے اور لمبے نیلے ہوگئے تھے زنوبہ نے کچھ دیر کےلیے اس ڈائن کو بالکل بےبس کردیا وہ دیوار سے نیچے گرگئی انوربھائی اور ثاقب بھائی اس کو گھسیٹ کر حویلی سے باہر لے آۓ مگر وہ اپنا جرم نہیں مان رہی تھی اور بس چلاۓ جارہی
میں نے کچھ نہیں کیا
کچھ نہیں کیا
اور پھر انور بھائی اور ثاقب نے اس ڈائن کو ایک پیڑ کے ساتھ باندھ دیا اور اس کے چاروں طرف زنوبہ کہ کہنے پر موم بتیا رکھ کر انھیں روشن کیا اور پھر ہم نے اس ڈائن کو جلا کر اسے پتھر کا بنا دیا کیونکہ ڈائن کبھی نہیں مرتی پر اس ڈائن کا سایہ جاتے جاتے علیان پر پڑ گیا
فائزہ لبا سانس لے کر رک گئی
اور رفعت نے بتانا شروع کردیا
اس کے بعد اس پتھر کی ڈائن کو تابوت میں بند کرکے اس کو گاؤں کے پیچھے جنگل میں ایک غار کے اندر گھڑا کھود کر اس تابوت کو وہاں دفن کردیا پر اس ڈائن کا سایہ میرے علیان پر پڑ چکا تھا اور ڈائن ہمیشہ کےلیے پتھر کی نہیں بنتی اور اس ڈائن کا سایہ ہٹانے کےلیے ہمیں حریم سے علیان کی شادی کرانا پڑگئی مگر وہ ڈائن پھر بھی واپس آگئی اور اس نے ثاقب کی جان لےلی
رفعت چپ ہوگئی
سب بات کو بڑے غور سے سن رہے تھے اور حریم سمیت کسی کو یقین نہیں آرہا تھا
پر اس سب پر یقین کرنا بہت ہی مشکل ہے
حریم نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
ہاں پر یہ سچ ہے
علیان بولا
کیونکہ مجھے بھی ایسی ہی عورت اپنے خواب میں دیکھائی دیتی ہے جو میں نے ریان سارہ اور عائشہ کو بتایا ہے
علیان نے کہا
تو اب ہم کیا کریں گیں
عائشہ نے کہا
وہی جو میں چاہوں گیں سب اس آواز کی طرف مڑے تو پیچھے سائرہ کھڑی تھی
رفعت فائزہ اور انور کے تو رنگ ہی اڑ گئے جب کہ باقی سب آنکھیں پھاڑ کہ دیکھ رہے تھے کہ یہ کون ہے
تم کون ہو
علیان نے پوچھا
وہی ڈائن جس کے بارے میں تمھاری ماں تمھیں بتا رہی تھی
سائرہ نے کہا
کک۔۔کیوں آ۔۔۔آئی ہو تم
رفعت مشکل سے بولی تھی
میری سوچ سے بھی زیادی کمیںنے نکلے تم لوگ تو
سائرہ چلتے ہوۓ رفعت کے پاس آئی
ساری بات تو بتادی یہ بھی بتا دیتی کہ اس ڈائن کے دو بچے بھی تھے اور انھیں بھی تم بےرحموں نے ختم کردیا
سائرہ نے حقارت سے کہا
کیا بکواس کررہی ہو تم اقر تم اندر کیسے آئی
علیان نے غصے سے کہا
چپ رہو تم تو
سائرہ نے چلا کر کہا
ہاں بتاؤ نہ انھیں میرے بچوں کو کیسے بےرحمی سے ختم کردیا تھا اور تم لوگوں نے تو اسے ہی مار دیا جو تمھاری مدد کےلیے آئی تھی زنوبہ۔۔۔

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: