Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Episode 5

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – قسط نمبر 5

–**–**–

 

تبھی سائرہ کو لگا جیسے اس کی طاقتیں جارہی ہوں
او نہیں مجھے اس طرح یہاں نہیں آنا چاہیے تھا اب میں کیا کروں
سائرہ نے من ہی من کہا
مجھے ان سب کے دماغ سے وہ لمحہ مٹادینا چاہیے جب میں یہاں آئی تھی
سائرہ نے گنگنانا شروع کردیا
سب ایک جگہ جم گئے سب کی پیشانی سے کالا سا دھواں نکلا اور سائرہ کے پاس آگیا سائرہ غائب ہوگئی اور سب واپس ٹھیک ہوگئے
___________________________
یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ کیوں میری طاقتیں آ جا رہی ہیں
سائرہ ایک بہت بڑی بلڈنگ کے اوپر کھڑی تھی
تبھی ایک بہت بڑا کوا اڑتا ہوا آیا یہ کوا عام کوؤں کی نسبت بہت بڑا اور اس کی چونچ چھوٹی تھی کوا سائرہ کے سامنے فضا میں رک گیا
کال کوے تم
سائرہ اسے دیکھتے ہی بولی
ہاں میں راوئن
کال کوے نے بولا تو انسانی زبان سنائی دی
تم یہاں کیوں آۓ ہو
سائرہ نے پوچھا
میں تمھیں یہ بتانے آیا ہوں روائن کہ اس وقت ڈائن نگری کی راوئن صرف تم ہی ہو اور تم جادو نگری کی اگلی ملکہ بنو گی مگر تم یہاں انسانوں کی دنیا میں کیا کررہی ہو
کال کوے نے کہا
تم اچھی طرح جانتے ہو کال کوے مجھے ملکہ بننے کا کوئی لالچ نہیں اور میں اپنی زندگی کا ایک مقصد پورا کرکے ڈائن نگری آجاؤں گیں
سائرہ نے جواب دیا
ٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضی میرا فرض تھا تمھیں بتانا کائیں کائیں
کال کوے نے کائیں کائیں کرتے ہوۓ کہا
مجھے یہ بتاؤ میری طاقتیں کیوں نہیں صحیح طرح سے میرا ساتھ دے رہیں
سائرہ نے پوچھا
وہ اس لیے روائن کیونکہ تم نے کئی سالوں سے کسی انسان کو نہیں کھایا اور نہ کسی کا خون پیا اگر تم طاقتور ہونا چاہتی تو یہ سب کرنا پڑے گا
کوے نے جواب دیا
نہیں میں یہ نہیں کرسکتی کیونکہ ذیشان سے نکاح کے وقت میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اب انسانوں کی طرح رہوں گیں اور اپنی طاقتیں ختم کردوں گیں
سائرہ نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا
تو پھر اب تمھیں اپنی طاقتوں کی کیا ضرورت پڑ گئی
کال کوے نے سوالیہ لہجے سے کہا
کیونکہ مجھے اپنا بدلہ لینا ہے ان لوگوں سے جنہوں نے میری زندگی اجاڑ دی تھی میرا سب کچھ ختم کردیا
سائرہ نے نفرت سے کہا
تو پھر انھی میں سے کسی کو مار کر اس کی طاقت کھالو
کال کوے نے مشورہ دیا
شاید تم صحیح کررہے ہو
سائرہ نے مسکرا کے کہا
ٹھیک میں چلتا ہوں کائیں کائیں
کال کوا کہہ کر اسی طرف واپس اڑ گیا جس طرف سے آیا تھا
____________________________
تو اب ہم کیا کریں گیں
عائشہ نے پوچھا
اب ہم میں سے کوئی بھی اس گھر سے باہر نہیں جائے گا کیونکہ ہم نے گھر کے چاروں طرف ایک حصار بنادیا ہے جس سے وہ ڈائن گھر کے اندر آسکے گی
رفعت نے جواب میں کہا
مگر کب تک امی کب تک ایسا رہے گا
علیان نے کہا
تب تک جب تک شاہ صاحب چلہ کاٹ کر واپس نہیں آتے ان کے واپس آتے ہی ڈائن کا سایہ ہمیشہ کےلئے ختم
انور نے کہا
اب تم سب جاسکتے ہو
فائزہ نے کہا
کیا لگتا ہے بھابھی آپ کو کہ یہ بچے ہماری بات مانیں گیں
فائزہ نے شکی لہجے سے کہا
مان تو لیں گیں بس تم یہ دھیان رکھنا کہ پوری حقیقت کسی کو نہیں پتا چلنی چاہیے
رفعت نے جواب دیا
ٹھیک ہے بھابھی
___________________________
ارے شاہ صاحب آپ اتنی جلدی آگئے آپ تو کل آنے والے تھے نا
رفعت نے شاہ صاحب کو ادیکھ کر دوپٹہ اوڑھتے ہوۓ کہا
ہاں بھابھی شاہ صاحب کل کے بجاۓ ہمآج ہی آگئے اپنا کام مکمل کرکے
فائزہ نے کہا
میں یہ بتانے آیا ہوں کہ اس گھر پر ایک نہیں دو دو ڈائنوں کا سایہ ہے
شاہ صاحب نے کہا
کیا۔۔
رفعت اور فائزہ نے یک زبان بولا
کیا مطلب شاہ صاحب دو دو ڈائنیں
رفعت کے تو رنگ اڑ گئے
ہاں رفعت بیٹا سارہ کا اس گھر پہ سایہ نہیں صرف اس گھر سے انتقام ہے ثنا اور بابا کو مارنے والی ڈائن کوئی اور ہے کیونکہ سائرہ کسی بےقصور کی جان نہیں لے سکتی
شاہ صاحب نے واضح طور پہ بتایا
کیا مطلب شاہ صاحب ڈائن ایک ہی ہے سائرہ اور بےقصوروں کی جان کیوں نہیں لے سکتی وہ تو اپنے شوہر کو ہی کھا گئی
رفعت نے تیزتیز کہا
نہیں سائرہ نے کسی کی جان نہیں لی تھی وہ بےقصور تھی اصلی ڈائن کوئی اور ہے میں نے اپنے پورے علم سے یہ معلوم کیا ہے
شاہ صاحب نے کہا
کیا بھابھی یہ کیسے ہوسکتا ہے
فائزہ نے سرگوشی کرتے ہوۓ کہا
تت تو شاہ صاحب آپ کو پتا ہے وہ ڈائن کون ہے
رفعت نے پوچھا
نہیں اس کے بارے میں پتا کرنا آسان نہیں کیونکہ وہ کوئی ثبوت یا جادو نہیں چھوڑتی
شاہ صاحب نے کہا
تو اس ڈائن کا پتا ہم کیسے چلائیں گیں
فائزہ نے پوچھا
میں کل شام کو پوری تیاری سے آؤں گا آپ کی اس ڈائن سے پیچھا چھوٹ جاۓ گا پر تب تک کوئی سے باہر نہیں جانا چاہیے یہ خیال رکھنا
شاہ صاحب نے سختی سے کہا
ٹھیک ہے شاہ صاحب ہم ایسا ہی کریں گیں
رفعت نے کہا
___________________________
تو اس کا مطلب سائرہ بےقصور تھی
انور پوری بات سننے کے بعد بولا
ہاں بھائی ہم سے بہت بڑی غلطی سرزد ہوگئی سائرہ کے باربار کہنے کے باوجود ہم نے اس پر یقین نہیں کیا
فائزہ نے ندامت سے کہا
ہاں انو جی کتنا چلائی گڑگڑائی تھی بار بار کہہ رہی تھی ڈائن کوئی اور ہے پر ہم نے یقین ہی نہیں کیا
رفعت نے کہا
ہاں رفعت ہمیں تو زنوبہ نے بھی کہا تھا کہ اس کو شک ہے سائرہ بےقصور ہے انور نے کہا
مجھے لگتا ہم نے اس کے ساتھ غلط کیا ہمارے پاس سب کچھ اسی کی ہی وجہ سے تو ہے ورنہ پہلے ہماری حثیت ہی کیا تھی
فائزہ نے کہا
اب جو ہوگیا سو ہوگیا اب پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں
انور نے کہا
ہاں ہمیں اس سے معافی مانگ لینی چاہیے
رفعت نے کہا
کیا وہ ہمیں معاف کردے گی
فائزہ نے پوچھا
شاید۔۔۔
رفعت کچھ بولنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کے چپ ہوگئی
___________________________
انیس نے ایک بہت بڑے بنگلہ کے سامنے گاڑی روک دی
روشنی اس بنگلے میں گئی ہے مطلب وہ ڈائن اس وقت اسی گھر میں ہے
انیس نے من ہی من کہا اور گاڑی سے اترا
اپنا سارا سامان احتیاط سے لیے اور بنگلے کا جائزہ لینے لگا
بیگ سٹیٹ مینٹ
انیس نے بورڈ پڑھا
اس کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا یہاں کوئی اچھی خاصی فیملی رہتی ہے
انیس آگے گیا تو گیٹ پر دو گارڈز کھڑے تھے
سنیے یہاں کوئی ثاقب بیگ رہتے ہیں
انیس نے ایک گارڈ سے پوچھا انیس نے پیچھے بورڈ کے نیچلے حصے پی
پہ لکھے نام پڑھ لیے تھے اور اب اندر جانے کے لیے یہی طریقہ تھا
گارڈ نے انیس کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا
ہاں ان کا تو پانچ دن ہوۓ چھت سے گرنے کی وجہ سے انتقال ہوگیا ہے
گارڈ نے کہا
او گارڈ انیس نے سوچا اور پاکٹ سے ایک کارڈ نے نکالا
میں سی۔بی۔آئی آفیسر انیس ہوں ان کے مارڈر کی ریسرچ کے لیے آیا ہوں
انیس نے کارڈ دکھاتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے آپ چاہیے
___________________________
واؤ یار یہ اتنا ہینڈسم لڑکا کون ہے
سارہ نے انیس کو دیکھتے ہی عائشہ سے پوچھا
پتا نہیں یار میں تو خود اسے گھر میں پہلی بار دیکھ رہی ہوں
عائشہ نے کہا
ہاں پاپا سے کچھ بات کررہا ہے
عائشہ نے کہا
مجھے بھی نظر آرہا ہے
ہاں مسٹر انور سر میں ہوں سی۔بی۔آئی پروفیسر انیس
انیس نے کہا
ثاقب بیگ آپ کے کیا لگتے تھے
انیس نے پوچھا
جی میں ان کا بڑا بھائی ہوں
انور نے بتایا
آپ کی کسی سے کوئی بزنس وغیرہ یا ذاتی دشمنی ہے یا آپ کے بھائی کی کسی کے ساتھ کوئی دشمنی وغیرہ
انیس نے تشویش کرتے ہوۓ پوچھا مگر اس کی نظریں یہاں وہاں دوڑ رہی تھی
نہیں ایسا تو کچھ نہیں تھا ثاقب کے تو بہت اچھے تعلقات تھے اب سے ہاں کبھی کبھی شراب پی لیتا تھا تھوڑی
انور نے جواباً بتایا
اتنے میں رفعت اور فائزہ سیڑھیاں اترتی ہوئی نیچے آئیں اور ان کے پیچھے سارہ عائشہ
یہ کون
انیس نے پیچھے اشارہ کیا
انور پیچھے مڑا یہ میری وائف ہیں رفعت بیگ اور یہ میری چھوٹی بہن فائزہ بیگ میری بیٹی سارہ اور بھتیجی عائشہ
انور نے سب کے بارے میں بتایا
انیس نے رفعت کو غور سے دیکھا
ایسا لگتا ہے انھیں میں نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے
انیس نے غور سے دیکھتے ہوۓ دماغ پہ زور ڈالا
رفعت فورأ ایک طرف ہوئی جیسے چھپنے کی کوشش کی ہو
دیکھیے مسٹر انیس ہمیں تو ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ یہاں کوئی سی۔بی۔آئی آفیر آرہے ہیں
دراصل ہمارا کام ہی کچھ ایسا ہے کہ ہر جگہ بغیر بتاۓ پہنچنا پڑتا ہے
انیس نے کہا
تو آپ اکیلے آگئے وہ بھی ان معمولی ہتھیاروں کے ساتھ
انور نے شکی لہجے میں کہا
نہیں یہ ہتھیار کتنے قیمتی ہیں آپ سوچ نہیں سکتے
انیس نے مسکراتے ہوۓ کہا
جی
انور نے اثبات میں سر ہلایا
مجھے آپ کے پورے گھر کو دیکھنا ہے اگر آپ کی اجازت ہو تو
انیس نے کہا
جی بالکل ضرور
انور نے سائیڈ پہ ہوتے ہوۓ کہا انیس سامنے سیڑھیوں کی طرف چل دیا اور اس کے ساتھ انور بھی
____________________________
اب ہوگا اس گھر پر میرا آخری وار ایک ہی وار میں سب کو ختم کردوں گیں میں
سائرہ نے بلند آواز میں کہا
سائرہ نے بلڈنگ سے چھلانگ لگادی اور اگلے لمحے وہ زمین پہ تھی
نن نہیں یی۔ی۔ی۔ی
سائرہ کو ایک بہت اونچی چیخ سنائی دی سائرہ نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سامنے ایک لڑکی کھڑی تھی جس نے سائرہ کو چھلانگ لگاتے دیکھ لیا
تم نے چالیس منزلہ عمارت سے چھلانگ لگائی اور تت تم بالکل ٹھیک ہو
لڑکی پسینے صاف کرکے کپکپاتے ہوۓ بولی
سائرہ نے فوراً آنکھیں بند کیں اور دھوئیں میں تبدیل ہوکے غائب ہوگئی لڑکی بےہوش ہوکر گر گئی
____________________________
یہ دیوار پہ پاؤں کے نشان کیسے وہ بھی الٹے قسم کے
انیس نے انور کے روم کے سامنے دیوار پر دیکھ کر کہا انور اور رفعت ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے کہ یہ سب کب ہوا
انور اور رفعت ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگ گئے کہ یہ سب کب ہوا کیونکہ وہ بھول چکے تھے کہ سائرہ یہاں آئی تھی
او تو واقعی ڈائن اسی گھر میں پر کیا ان لوگوں کو پتا ہے اس بارے میں انیس نشانات کو غور سے دیکھتے ہوۓ بولا
کہیں یہاں کوئی ڈائن وغیرہ تو نہیں ہے نا
انیس نے کہا تو رفعت اور انور جیسے اچھل ہی پڑے
مم۔مطلب
انور نے پوچھا
کچھ نہیں میں کل آؤں گا میری ڈیوٹی کا ٹائم ختم ہوگیا ہے
انیس نے ہینڈ واچ دیکھتے ہوۓ کہا
____________________________
جب تمھیں منع کیا تھا کہ گھر سے باہر مت جانا تو کیوں گئی تم
کنول کے گھر آتے ہی فائزہ اس پر برس پڑی
سوری امی مجھے وہ ایک فرینڈ سے ملنا تھا
کنول نے شرمندگی سے کہا
ارے کیا فائزہ بچی ہے وہ کیوں غصہ کررہی ہے
رفعت نے فائزہ کو کہا
بھابھی منع کیا تھا نہ اس کو پھر بھی یہ باہر گئی اب پوچھیے اس سے کہ یہ بےہوش کیسے ہوئی۔تھی
فائزہ نے کہا
کیا بےہوش
رفعت حیرانگی سے بولی
ہاں بےہوش وہ تو اچھا ہوا سارہ کی دوست نے اسے پہچان لیا اینڈ فون کرکے بتایا اور علیان اسے گھر لے آیا
امی مجھے معاف کردیں میں نے آپ کی ڈائن والی بات نہیں مانی پر آج میں نے سچ میں اسے دیکھا اور پھر کنول نے ساری بات بتا دی
دیکھا بھابھی وہ ڈائن بے گناہ نہیں ہے آج اس نے میری بچی کو ڈرایا اگر وہ ہم سے بدلہ لینے آئی ہے تو ہمارے بچوں نے اس کا کیا بگاڑا
فائزہ نے رفعت سے کہا
پر فائزہ اتفاق بھی تو ہوسکتا ہے نہ کیا پتا وہ اس بلڈنگ پر پہلے سے ہو ویسے بھی ڈائن اونچی جگہوں پر رہتی ہیں
رفعت نے کہا
نہیں رفعت مجھے نہیں لگتا کہ یہ سب اتفاق ہے انور نے کہا
مگر کوئی ڈائن کا اصلی روپ دیکھ لے تو وہ زندہ نہیں رہتا پر سائرہ نے ایسا کچھ نہیں کیا اور پھر وہ کنول اپنے دشمن کے بچی کو زندہ رکھے گی
رفعت نے دلیل دی
__________________________
آخر اس گھر میں ہوکیا رہا ہے پہلے اچانک سے یہ لوگ شادی کروا دیتے ہیں کہ سایہ ختم ہوجاۓ پھر ایک سائن کی کہانی بتاتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آرہا یہاں ہوتا کیا ہے اور علیان بھی مجھے کچھ نہیں بتا رہا
حریم عالیہ سے فون پر بات کررہی تھی
دیکھو حریم تم زیادہ کنفیوز نہ ہو ہوگا ان کے ساتھ کچھ ایسا اور ڈائن کے بارے میں جو کچھ انھوں نے کہا وہ سچ ہے کیونکہ اکیس سال پہلے پورے گاؤں کے سامنے انھوں نے اسے جلایا تھا امی کو بھی اس بات کا پتا ہے بس تم دھیان سے رہنا اور زیادہ ٹینشن نہ لو اب ٹھیک ہوجاۓ گا
عالیہ نے دوسری طرف سے کہا
ہاں عالیہ شاید تم ٹھیک کہہ رہی ہو
حریم نے کہا
تبھی تیز تیز قدموں کی آواز آئی
عالیہ میں تم سے بعد میں بات کرتی ہوں
حریم نے جلدی سے کہا
مگر حریم۔۔
عالیہ کے کچھ کہنے سے پہلے حریم نے کال کاٹ دی اور آہستہ سے کمرے سے باہر نکل
اور دائیں طرف مڑی حریم کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا سانس نیچے ہی رہ گیا
سامنے ایک بہت لمبی چوٹی لہرا رہی تھی جو رفعت کے کمرے سے باہر آرہی تھی
ات۔۔اتنے لمبی چوٹی ام۔۔امی کے کمرے سے باہر مطلب امی یا ابو کہیں کسی مصیبت میں تو
نن۔نہیں تبھی چوٹی دھواں بن گئی
حریم فورأ رفعت کے کمرے کی طرف بھاگی حریم جیسے ہی رفعت کے کمرے میں گئی دیکھا کہ رفعت تو صحیح سلامت آئینہ کے سامنے کھڑی اور کمرے میں کوئی نہیں تھا
ام۔۔امی میں نے وہ یی۔۔یہاں
حریم اندر جاتے ہی ہڑبڑاتے ہوۓ بولی
کیا ہوا حریم بیٹا تم اتنی پریشان کیا ہوا اب خیریت ہے نا
رفعت حریم کو اس طرح دیکھ کر خود ڈر گئی
میں نے وہ آپ کے کمرے سے حریم نے ساری بات بتا دی
ارے نہیں بیٹا یہاں تو کوئی نہیں تھا میں ابھی واش روم سے باہر آئی ہوں تمھیں کچھ وہم ہوا ہوگا ویسے بھی اس گھر میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے تو یہ سب ہونا ہی ہے تم جاؤ جاکر آرام کرو
رفعت نے حریم کو سمجھایا
ٹھیک ہے امی میں چلتی ہوں
مجھے ایسا کیوں لگتا ہے کہ وہ میرا وہم نہیں تھا اچھی طرح دیکھا تھا میں نے
حریم نے کمرے کی طرف آتے ہوۓ سوچنے لگی
میں نے کل سنا تھا جب شاہ صاحب آۓ تھے انھوں نے خود کہا تھا یہاں ایک نہیں دو دو ڈائن ہیں اب مجھے ہی کچھ کرنا ہے
____________________________
یہ کیا بچگانہ حرکت کی ہے تم نے انیس
ہاں پاپا پر ڈائن اس گھر کے اندر ہے میں نے خود وہاں ڈائن کے پیروں کے نشان دیکھے ہیں
انیس نے حبیب کو سمجھانے کی کوشش کی
پر انیس ایک فیک کارڈ اور سی۔بی۔آئی آفیسر بننے کی کیا ضرورت تھی کتنی عزت ہے شہر ہماری اگر کسی کو پتا چل گیا تو کیا رہ جاۓ گا
حبیب نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ آرام سے کہا
جی پاپا پر اس وقت ڈائن کو پکڑنا ضروری ہے عزت بعد میں پہلے ہم ریدواشی ہیں اور یہ بات آپ نے ہی سکھائی ہے مجھے
پر تمھارا طریقہ ٹھیک نہیں تھا اب میں ان لوگوں سے بات کرکے سب سچ بتا دوں گا
حبیب نے کہا
پاپا وہ ڈائن ایک انسان کی جان لے چکی ہے
کیا ایک انسان کی جان
ہاں پاپا مسٹر ثاقب بیگ کو رات وقت دل نکال کر ان کی لاش کو ٹیرس نیچے پھینکا گیا اور اس طرح وار ڈائن ہی کرتی ہے
او ایم جی پھر تو کچھ کرنا پڑے گا
حبیب نے کچھ سوچتے ہوۓ کہا
____________________________
ساری تیاریاں ہوگئیں ہیں نا فائزہ
رفعت نے فائزہ سے کہا
ہاں بھابھی جی جو کچھ شاہ صاحب نے کہا تھا سب کچھ آگیا ہے اور کل سے پھر کوئی بھی گھر سے باہر نہیں گیا
فائزہ نے تسلی بتایا
اور عروسہ۔۔
ہاں بھابھی وہ ںیچاری تو صدمے میں ہے ابھی تک کسی سے بات تک نہیں کرری خود کو کمرے میں قید ہی کرلیا ہے
فائزہ نے بتایا
ہاں تم جاؤ اس سے بات کرو کچھ تیار کرو شاہ صاحب بس آتے ہونگیں تب تک میں حریم کو دیکھ آؤں
رفعت نے کان میں بالی پہنتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے بھابھی فائزہ کہہ کر کمرے سے باہر چلی گئی
___________________________
شاہ۔صاحب آپ کے پاس یہ بین جیسی چیز
انور نے بین جو تعجب سے دیکھتے ہوۓ پوچھا
کیسی
شاہ صاحب اپنے تین مریدوں کے ساتھ آۓ تھے شاہ صاحب اپنے ساتھ بڑا لکڑی کا صندوق لاۓ تھے جس میں وہ اپنا سامان لاۓ تھے
عروسہ کو چھوڑ کر سارے لوگ ہال میں ایک طرف کھڑے تھے شاہ صاحب ہال کے بیچوں بیچ ایک بہت بڑا حصار باندھ کر مریدہ کے ساتھ بیٹھے تھے
یہ بین نہیں انور صاحب ڈائن دھن ہے
شاہ۔صاحب نے جواب دیا
ڈائن دھن مطلب
انور نے کچھ نہ سمجھتے ہوۓ پوچھا
یہ ایسی دھن ہے جس کے بجاتے ہی ہر وہ ڈائن یہاں کھینچی چلی آئے گی جو پہلے اس گھر میں آچکی ہے
واہ ڈائن ہے کہ ناگن
حریم نے کہا
او پھر تو وہ گانا بھی گاۓ گی
میں تیری دشمن تو میرا
سارہ نے ہنستے ہوۓ کہا
رفعت نے سارہ کو گھورا
یہ سرخ راکھ لو اور اپنے چاروں طرف حصار بنا کے اس میں کھڑے ہوجاؤ کچھ بھی ہو باہر مت نکلنا اس سے
شاہ صاحب نے صندوق ایک پوٹلی نکالی
جی شاہ۔صاحب علیان نے آگے بڑھ کر پوٹلی لےلی
لو صندور بھی آگیا
سارہ نے مزاق اڑایا
شاہ صاحب نے آنکھیں بند کی ڈائن دھن اٹھائی اور بجانا شروع کردی اس میں سے ایک بہت ہی کشش جیسی آواز نکل رہی تھی
واؤ وٹ آ بیوٹیفل میوزک
سارہ نے کہا
رفعت نے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
____________________________سائرہ عمارت پر ہی بیٹھی تھی کہ اس کے کانوں میں ایک دھن بجنے لگی
سائرہ نے کانوں پہ زور سے ہاتھ رکھ لیے
نن نہیں یہ ڈائن دھن کون بجا رہا ہے او نہیں یہ دھن مجھے اپنی طرف کھینچ رہی ہے
سائرہ اپنے کانوں پہ ہاتھ دباتے ہوئے بولی تبھی سائرہ بلڈنگ سے نیچے زور سے زمین پر گر گئی مگر وہ ڈائن تھی اس لیے اسے کچھ نہیں ہوا سائرہ کی چوٹی اب لمبی ہوتی جارہی تھی ناخن بےحد کالے اور نوکیلے اور آنکھیں ڈارک ہوگئیں
نہیں میری آنکھیں سفید ہونے کے بجاۓ سنہری ہوگئیں مطلب مجھے ہر حالت میں جانا پڑے گا سائرہ زمین پہ لوٹ رہی تھی
سائرہ نے ایک بہت بڑی چیخ ماری اور کھڑی ہوگئی
بلا رہے ہیں نہ مجھے وہ لوگ تو آج ہی ان سب کا قصہ تمام کردوں گیں آج سب کا حساب لوں گیں میں آج میرا میرے شوہر میرے بچوں سب کا انتقام لوں گیں میں ایک ہی وار میں سب کو ختم کردوں گیں میں تم لوگوں نے ایک ڈائن کو نہیں روائن کو للکارا ہے اور اس کا حساب تو تمھیں دینا ہی پڑے گا آرہی ہوں میں تمھاری موت بن کر
___________________________
شاہ صاحب کے مرید بھی اب دھن بجانا شروع ہوگئے تھے
تبھی حریم کی نظر رفعت پر پڑی رفعت کو جیسے چکر آرہے تھے رفعت گرنے والی تھی کہ حریم نے آگے بڑھ کے رفعت کو تھام لیا سب رفعت کی طرف متوجہ ہوۓ
کیا ہوا امی
علیان نے پوچھا
کچھ نہیں تھوڑی کمزوری سی ہورہی ہے دیر رات تک جاگتی رہی تھی میں پانی پینے جاتی ہوں
رفعت نے کہا
چلیے امی میں آپ کے ساتھ چلتی ہوں حریم نے کہا
نہیں بیٹا تم رکو اسی حصار میں سے باہر نہ نکلنا میں آتی ہوں
رفعت مسکرا کر کچن کی طرف چلی گئی

 

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: