Dayan Ka Inteqam Novel By Farhad Farooq – Last Episode 6

0

ڈائن کا انتقام از فریاد فاروق – آخری قسط نمبر 6

–**–**–

 

شاہ صاحب کے عین سامنے دھواں سا ہواں اور
دیکھتے ہی دیکھتے دھواں ایک عورت میں تبدیل ہوگیا
سائرہ
فائزہ منہ سے بے اختیار نکلا
سب ایک بار اسے دیکھ کر ڈر گئے
سارہ اور عائشہ حریم سے چمٹ گئی جبکہ کنول فائزہ کو
بھابی یہ اتنی خوب۔۔۔خوبصورت یہ ڈائن ت۔۔تو نہیں لگ رہی
عائشہ مشکل سے بولی
سائرہ کی چوٹی اب لہرانے لگی اس کے ناخن لمبے نوکیلے ہوگئے پاؤں الٹے ہوگئے
لل لو بن گئی ڈائن
سارہ بولی
حریم نے سارہ اور عائشہ کا ہاتھ مضبوطی پکڑ لیا
رک جاؤ شاہ
سائرہ نے اونچی آواز میں کہا مگر شاہ صاحب اپنی دھن اور تیز بجاتا جارہے تھے
میں نے کہا رک جاؤ
سائرہ چلائی مگر شاہ صاحب تو جیسے کچھ سن نہ رہے ہو اچانک سے سائرہ کی چوٹی کو آگ لگ گئی سائرہ نے اپنے دونوں ہاتھ زور سے کان پہ دبا لیے اور زمین گر گئی سائرہ چلانا چارہی تھی پر اس کی آواز گلے سے باہر نہیں آرہی تھی سائرہ درد سے تڑپنے لگی
یہ امی کہاں رہ گئیں ابھی تک آئیں کیوں نہیں
حریم نے اس طرف دیکھا جس طرف رفعت گئی تھی
پاپا یہ شاہ صاحب رک کیوں نہیں رہے وہ کتنی تکلیف میں ہے
علیان نے انور سے دھیمے سے کہا
بیٹا وہ ڈائن ہے تمھیں نظر نہیں آرہا اور شاہ صاحب اسے ختم کردیں گیں آج
انور نے بھی دھیمی آواز میں کہا
تبھی سائرہ نے سارہ کو دیکھا ایک لمحے کے لیے جیسے وہ اپنا درد بھول گئی اس کی آنکھوں میں ایک چمک آگئی
بھابھی یہ مجھے کیوں دیکھ رہی ہے اور اس کے بالوں کو آگ لگی تو جل کیوں نہیں رہے
سارہ نے حریم سے سرگوشی کی
تبھی شاہ صاحب کے عین سامنے سائرہ کے پیچھے دھواں سا اٹھا اور ایک دھماکہ جیسی خوفناک آواز ہوئی پورا گھر جیسے ہل سا گیا سب گرتے گرتے بچے سارہ عائشہ اور کنول زور سے چلائیں یہ کیا ہوا مما کنول فائزہ سے ڈر کے چمٹ گئی
اب سائرہ کے پیچھے ایک اور عورت کھڑی تھی سب اسے دیکھ کر حیران رہ گئے
اس نے کالی ساڑھی پہن رکھی تھی مگر ایک بڑی چادر سے چہرے پہ بہت بڑا گھونگھٹ تھا وہ اپنا چہرا چھپا رہی تھی اس کے ناخن بھی سارہ کی طرح بہت نوکیلے تھے مگر وہ بہت میلے کچیلے اور ان پہ خون لگا ہوا تھا اس ڈائن کے پاؤں بھی الٹے تھے
یہ دھن بجانا بند کر بڈھے
وہ ڈائن بھاری مگر بہت خوفناک آواز میں بولی جیسے اس نے اپنی آواز بدلی
شاہ صاحب دھن بجاتے جارہے تھے
تو نے سنا نہیں کیا میں نے کیا کہا روک اسے روک اسے مجھے سائرہ سمجھنے کی بھول مت کرنا
ڈائن نے دھمکی دی تھی
شاہ صاحب نے کچھ نے سن اس ڈائن نے اپنا ہاتھ آگے کیا تو اس کا بازو لمبا ہونے لگا اگلے لمحے ڈائن کا ہاتھ شاہ صاحب کے گلے پہ تھا دھن شاہ صاحب کے ہاتھوں سے نیچے گرگئی مگر ان کے مرید دھن بجاتے جارہے تھے ڈائن نے اپنا سر ہلایا اس کی چادر سے ایک لمبی کالی چوٹی لہراتی ہوئی باہر آئی اور اگلے لمحے میں سارے مرید ایک ساتھ اس کی چوٹی میں جکڑے تھے جیسے انھیں چوٹی سے نہیں ایک رسی سے باندھ دیا گیا ہو ڈائن نے ہاتھ اوپر کیا اس کا بازو اور لبا ہوگیا اور شاہ صاحب کو فضا میں اٹھا لیا جیسے وہ گوشت کے بجاۓ روئی سے بنے ہوں نہیں نہیں فائزہ اونچی آواز میں بولی
چھوڑ دو شاہ صاحب کو سب ایک ساتھ ڈر کے بولے تھے
سائرہ کی چوٹی پہ لگی آگ بجھنے لگی
ڈائن نے شاہ صاحب کو بہت اونچا اٹھایا وہ کچھ پڑھنے کی کوشش کررہے تھے مگر ڈاین ان کا گلا زور سے دبایا گھر کے سارے افراد کے چہروں پہ ڈر کا سایہ بیٹھا تھا ڈائن کا بازو اور لمبا ہوتا جارہا تھا
تمھاری دشمنی ہم سے ہمیں ختم کرو نہ شاہ صاحب نے تمھارا کیا بگاڑا ہے
انور نے اونچی آواز میں کہا
چھوڑ دوں لو چھوڑ دیا ڈائن نے کہا اور اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا شاہ صاحب اگلے لمحے زمین پہ گرے اور ان کا سر ان کے اپنے صندوق سے ٹکرایا اور وہ بےہوش ہوگئے
نہیں سب ایک ساتھ چلاۓ ڈائن نے سر ہلایا اور اس کی چوٹی لہراتی بیرونی گیٹ کے پاس گئی تینوں اس کی چوٹی سے گرے باہر کی طرف بھاگے
اب ڈائن واپس مڑی اس کی نظر سبھی افراد پہ تھی سب کے دل زور زور سے دھڑک رہے تھے سب پسینے سے شرابور ہوچکے تھے
کک کوئی اپنی جگہ سے نہ ہلے یہ سائن اس حصار کے اندر نہیں آپاۓ گی
انور نے زمین پر بنے حصار کی طرف اشارہ کیا
تم لوگوں کو کیا لگتا ہے یہ معمولی سا دائرہ مجھے روکے گا ایک ڈائن کو
ڈائن نے قہقہہ لگا کر کہا
ہاہاہا
ڈائن نے اپنی چوٹی کی طرف دیکھا اس کی چوٹی اڑتی ہوئی سارہ کی طرف گئی
نہیںںںں
سارہ زور سے چلائی
مگر اگلے لمحے ڈائن درد سے چلائی اس کی چوٹی پوری طاقت سے کھینچ لی ہو جیسے کسی نے سائرہ اب کھڑی ہوچکی تھی اور اس نے اپنی چوٹی سے دوسری ڈائن کی چوٹی کو جکڑ کے پوری طاقت سے کھینچا تھا
بب۔۔بے وقوف ڈائن یہ کیا کررہی ہو چھوڑو مجھے
ڈائن درد سے تڑپی تھی
پہلے تم مجھے اپنا یہ چھپا ہوا چہرہ دیکھاؤ اور بتاؤ مجھے میری زندگی میں آگ کیوں لگائی
سائرہ کرخت لہجے میں بولی
کیا بکواس کررہی ہو روائن میں نے تمھارا کیا بگاڑا ہے
ڈائن نے درد سے کہا
میں اچھی طرح جانتی ہوں تم نے ہی اکیس سال پہلے میری ساس اور ذیشان کی جان لی تھی بتا مجھے کیوں کیا تم نے یہ سب سائرہ نے چوٹی کو اور زور سے کھینچا
سائرہ غصے سے دھاڑی
چھوڑ ورنہ اچھا نہیں ہوگا تیرے لیے روائن
ڈائن نے دھمکاتے لہجے میں کہا
کیا ہورہا ہے یہاں سب میرا دماغ ختم ہوجاۓ گا ایسا لگ رہا ہے جیسے سٹارپلس کا کوئی نظر ڈرامہ چل رہا ہے کبھی ڈائن دشمن بن کر وار کر رہی ہے تو کبھی ہمیں سیو کررہی ہے ہو کیا رہا ہے میرے ساتھ حریم نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما
یہ امی جی کہاں رہ گئیں اتنا شور ہنگامہ سن کر بھی کک کہیں وہ کسی
حریم کے دماغ میں طرح کے خیال آنے لگے
دیکھ روائن اب میرا وار ڈائن نے غصہ سے کہا اور اپنا ایک ہاتھ آگے کیا تو ناخن لمبا ہوگیا اس نے اپنے ناخن سے سائرہ کی چوٹی پہ وار کیا سائرہ نے درد سے چوٹی پیچھے کرلی ڈائن اب آزاد ہوگئی تھی
میں نے تو سوچا تھا ہم دونوں مل کر ان لوگوں کو ختم کریں گیں مگر اب پہلے مجھے تمھیں ختم کرنا ہوگا روائن ویسے بھی میرا کوئی پرانا حساب چکانا ہے
سائن نے سائرہ کے سامنے کھڑے ہوکر کہا دونوں ڈائنیں آمنے سامنے تھی اور ایک دوسرے کو بھوکی شیرنی کی نظروں سے دیکھ رہیں تھیں
ڈائن نے غصے سے سائرہ کو دیکھا اور اس پر حملہ کرنے کے لیے اس کی طرف اپنی چوٹی لہرائی مگر سائرہ فضا میں قلابازیاں کھاتے ہوۓ پیچھے ہوگئی
چھپ کر کیا وار کرتی ہے قائل ہمت ہے تو اپنا چہرہ دکھا
سائرہ نے کہا
چہرہ تو تیرا اب میں بگاڑوں گیں
ڈائن نے کہا اس سے پہلے کے سائرہ کچھ سمجھتی ڈائن نے سائرہ کو اپنی چوٹی میں مظبوطی سے جکڑ لیا اور سائرہ کے بالکل قریب آگئی
ڈائن نے دونوں ہاتھ آگے کیے اور پاگلوں کی طرح اپنے نوکیلے ناخنوں سے سائرہ کے چہرے وار کرنے لگی سائرہ کا چہرہ لہولہان ہوچکا تھا سارہ کنول اور عائشہ نے اس منظر کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلیں
سائرہ نے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بنائیں اور پوری قوت سے ڈائن کے پیٹ میں ماری ڈاین چلاتی ہوئی بہت دور جاگری مگر اس نے اپنا گھونگھٹ پکڑ لیا شاید اسے ڈر تھا کہ اس کا چہرہ نظر آجاۓ گا سائرہ نے آنکھیں بند کرکے کھلیں تو اس کے چہرے کے سارے زخم غائب ہوگئے
بھول مت ڈائن میں ایک روائن ہوں یہ چوٹیں یہ وار میرا کیا بگاڑا لیں گیں
سائرہ نے کہا
ڈائن نے اپنا گھونگھٹ ٹھیک کیا سائرہ کو دیکھتے ہوۓ اٹھ کھڑی ہوئی
پاپا
علیان نے انور کو اشارے سے کچھ پوچھا انور نے ہاں میں سر ہلایا علیان آہستہ سے ایک طرف چلا گیا کسی کا دھیان اس کی طرف نہ گیا
لگتا ہے یہ ڈائن اپنا چہرہ دیکھانا نہیں چاہتی اس لیے اس نے گھونگھٹ کافی نیچے تک کیا ہوا ہے مجھے اس کے چہرے سے یہ نقاب ہٹانا ہوگا اس کے بعد یہ اپنے ہوش ایک لمحے کے لیے کھو بیٹھے گی اور یہی موقع ہوگا اس پہ وار کرنے کا
سائرہ نے سوچا
ڈائن شاید انتظار میں تھی کہ سائرہ اس پر حملہ کرے گی اگلے لمحے سائرہ دھواں بن کر غائب ہوگئی
بھابھی یہ ڈائنیں ایک دوسرے کے ساتھ الجھی ہوئیں ہیں موقع اچھا ہم یہاں سے بھاگ جاتے ہیں
عائشہ نے دھیرے سے کہا
نہیں عائشہ وہ ڈائن ہے کہیں بھی آسکتی ہیں
فائزہ نے عائشہ کو کہا
مگر اس حصار میں ہم اب کب تک کھڑے رہیں گیں اور اس ڈائن کی چوٹی پہلے بھی یہاں آنے والی تھی وہ تو بھلا ہو اس دوسری والی کا کہ مجھے بچا لیا
سارہ نے کہا
علیان گیا ہوا ہے کچھ لینے تب تک بس ان ڈائنوں کو الجھا کے رکھنا ہے
انور نے بتایا
علیان کہاں گئے ہیں
حریم نے پوچھا
میں نے اسے اوپر بھیجا ہے تاکہ وہ زم زم زنوبہ کا سلیمانی خنجر اور بندوق لے آۓ
انور نے کہا
مگر پاپا جی امی اتنی دیر سے گئیں ہیں ابھی تک آئیں کیوں نہیں
حریم نے پوچھا
او مائی گاڈ بھائی ہم نے بھابھی کی طرف تو دھیان نہیں دیا
فائزہ نے کہا
کہاں گئی ہو روائن
ڈاین چلائی تو اب کا دھیان اس کی طرف ہوا
میں جانتی ہوں تم یہیں کہیں ہو کیونکہ ایک ڈائن کبھی یوں جنگ درمیان میں چھوڑ کر نہیں بھاگتی سامنے آؤ تم
تبھی سائرہ ڈائن کے عین نیچے نمودار ہوئی اور ہاتھ کرکے پیچھے سے اس کا گھونگھٹ کھینچے ہی لگی تھی کہ تبھی ایک کڑاکے دار دھماکے کی آواز سی ہوئی سائرہ کی پیٹھ میں گولی لگی تھی جو علیان نے چلائی تھی
سائرہ درد سے چلاتے ہوۓ پیچھے گر گئی
ڈائن تیزی سے پیچھے مڑی
اور علیان کے پاس یہ دیکھ کر فوراً پیچھے کی طرف اڑتی ہوئی دیوار پہ چڑھ گئی
انور تیزی سے علیان کی طرف آیا اور اس کے ہاتھ سے زم زم کے پانی کی شیشی لے لی
سائرہ نے اپنی آنکھیں بند کرکے کھولیں اور اس کی پیٹھ پہ موجود زخم غائب ہوگیا سائرہ نے بھی سیدھی سامنے کی طرف دیکھتا اور ایک لمحے میں وہ سامنے دیوار پہ چڑھ گئی اب سائرہ اور ڈائن دونوں علیان اور انور کو دیکھ رہی تھیں سائرہ کی نظروں میں آگ بھڑک رہی تھی انور نے دیر نہ کرتے ہوۓ جلدی سے شیشی کھولی اور پانی سامنے ڈائن کی طرف پھینکا پانی سارا اس کے اوپر گیا وہ چلاتی ہوئی نیچے گر گئی اس کے جسم سے دھوئیں نکلنے لگے وہ تڑپنے لگی جیسے ایک سانپ
سائرہ جلدی سے دھواں بن کر غائب ہوگئی علیان اور انور چاروں طرف نظریں دوڑانے لگے تبھی علیان کے ہاتھ سے بندوق اور خنجر گرگئے سائرہ نے اس اپنی چوٹی میں باندھ لیا تھا اور اپنی چوٹی فضا میں کرلی اور خود بھی زمین سے تین فیٹ اونچی ہوگئی علیان اس کی چوٹی میں تھا
علیان
سب چلائے حریم بھاگتی ہوئی سائرہ کی طرف آئی سائرہ نے اپنے ناخن حریم کی طرف کیے حریم رک گئی
چھوڑ دو علیان کو سائرہ
انور نے اونچی آواز میں کہا
سائرہ نے اپنی چوٹی اور سخت کی علیان نے خود کو چھڑانے کی ناممکن کوشش کی
دیکھو چھوڑو میرے بچے کو تم ایسا کچھ نہیں کرو گی
انور نے کہا
ہمارے بھائی کو چھوڑ دو پلیز
عائشہ اور سارہ روتے ہوۓ کہنے لگی
دیکھو سائرہ ہم لوگ آرام سے بات کرسکتے ہیں پلیز علیان کو چھوڑ دو
فائزہ نے کہا
دیکھیے پلیز علیان کو چھوڑ دیجیے پلیز انھیں چھوڑ دیجیے
حریم نے ہاتھ جوڑے
بالکل اسی طرح بالکل اسی طرح گڑگڑائی میں روئی تھی پر تم لوگ میرے بچوں کو میرے آنکھوں کے سامنے مجھ سے دور لے گئے کتنا روئی تھی تڑپی تھی میں پر کسی کو رحم نہیں آیا آج سب کا حساب ہوگا آج اس بیگ خاندان چراغ مٹے کا آج تم دیکھو گے ڈائن کا انتقام
سائرہ نے چیخ کر کہا
دیکھو سائرہ تم ایسا نہیں کرسکتی
انور نے کہا
میں کیا کرسکتی ہوں یہ تو تم لوگ اب دیکھو گے سائرہ نے اپنا پورا منہ کھولا علیان کے چہرے سے ایک سفید سی روشنی نکلی اور سائرہ کے منہ کے اندر جانے لگی
علیان تو درد سے تڑپنے لگا
چھچ چھوڑ دو مجھے نہیں
حریم سمیت سب کا چہرہ آنسؤں سے تر ہوچکا تھا
تم اس کو نہیں مار سکتی سائرہ یہ ناممکن ہے
انور بولا
کیوں نہیں مار سکتی میں اسے ہاں
سائرہ نے پوچھا تھا
کیونکہ علیان تمھارا بیٹا ہے
سب گونجتی ہوئی آواز کی طرف مڑے جو کہ رفائزہ کی تھی
مم مطلب
حریم نے کہا
کیا بکواس ہے یہ
سائرہ چیختی ہوئی آواز میں بولی
ہاں سائرہ علیان ہی تمھارا بیٹا شایان ہے ہم نے اکیس سال پہلے تمھارے بچوں کو نہیں ختم کیا تھا بلکہ زندہ رکھا تم سے چھپا کر اور ان کا نام کاشان سے علیان رکھ دیا
جھوٹ بول رہی ہو تم اسے بچانا چاہتی ہونا
سائرہ نے ہچکچاتی آواز میں کہا
نہیں سائرہ تمھیں یقین نہیں آرہا تو تم وہ ڈائن بندھن کرو نہ جس سے یہ ثابت ہوجاۓ گا پلیز
فائزہ نے تیز تیز کہا
سائرہ نے اپنی دونوں آنکھیں بند کیں اور کچھ پڑھنے لگی او پھر آنکھیں کھول دیں اگر یہ میرا خون ہوا تو جیسے ہی مجھے چوٹ لگی گی اسے خود بخود لگے گی سائرہ نے اپنا دایاں ناخن اپنے ہاتھ پہ مارا اس کے ہاتھ سے کالا خون بہنے لگا اس نے علیان کی طرف دیکھا تو دنگ رہ گئی کیونکہ خون اس کے ہاتھ سے بھی بہہ رہا تھا
کاشان ہو تم میرے بچے سائرہ نے نیچے دیکھا اور زمین پہ آگئی اور اس نے اپنی چوٹی نیچے کی اور علیان کو چھوڑ دیا
حریم علیان کی طرف دوڑی اور اس سے لپٹ گئی باقی سب بھی علیان کے پاس آئے
سائرہ وہیں پتھر بنے کھڑی تھی
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں ابو میں کس کا بیٹا ہوں
علیان نے انور سے پوچھا
ہاں بیٹا یہ سچ ہے تم میرے نہیں سائرہ کے بیٹے ہو انور نے نے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا
سائرہ تیزی سے چلتی ہوئی انور کے قریب آئی اگر میرا بیٹا کاشان زندہ
ہے تو بتاؤ میری بیٹی سا۔۔سارہ کدھر ہے سائرہ نے جلدی سے پوچھا
فائزہ نے اپنا ہاتھ سارہ کی طرف کیا یہ رہی تمھاری بیٹی
مم۔۔۔میری بیٹی سائرہ نے سارہ کو پکڑ کر اسے گلے سے لگا لیا
تت۔ ۔تم میری بچی ہو میری سارہ میری بیٹی زندہ ہے زندہ ہے میری بچی مجھے تمھارے ماتھے پہ یہ نشان دیکھ کر پہلے ہی لگا تھق
جبکہ سارہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ یہاں ہو کیا رہا
تبھی دوسری سائن اٹھی اور اس نے اپنی چوٹی سے علیان کو پکڑنا چاہا مگر سارہ نے تیزی سے اس کی چوٹی ہاتھ میں پکڑ کر کھینچی ڈائن چلاتی ہوئی گرگئی اور اس کے چہرے سے گھونگھٹ ہٹ گیا
سب کی نظر جیسے ہی اس کے چہرے پر پڑی سب کے ہوش اڑ گئے کسی کو اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہورہا تھا اسے دیکھ کر
نن۔۔۔نہیں یہ نہی۔۔نہیں ہوسکتا یہ۔۔میری آنکھوں کا دھوکا ہے بس
امییی۔۔۔۔
عائشہ نے لمبی آواز میں کہا
چاچی آپ
حریم نے دونوں ہاتھ حیرت سے منہ پہ رکھتے ہوۓ کہا
کیونکہ یہ ڈائن کوئی اور نہیں عروسہ تھی
عروسہ تم
فائزہ نے کہا
ہاں میں عروسہ دی ڈائن
نہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے یہ۔۔۔یہ نہیں ہوسکتا چاچی کیسے
علیان خود پر یقین نہ کرتے ہوۓ بولا
او مائی گاڈ ہاؤ اٹس پاسیبل
سارہ کا سر چکرانے لگا
عروسہ مامی ڈائن نہیں ہوسکتیں وہ تو اتنی کیوٹ۔۔۔۔
کنول نے کہا
عروسہ نے اپنی چادر دور پھینک دی
ہاں میں ایک ڈائن ہوں جو دیوار چڑھ سکتی ہے انسان کھاتی اپنے نوکیلے ناخنوں سے دل نکال لیتی ہے جس کا ایک سایہ ایک بار جہاں پر جاۓ وہاں سب کچھ تہس نہس ہوجاتا ہے ایک ڈائن ہوں میں۔اور ایسی سائن ہوں جو نو گھر چھوڑ کر نہیں سیدھا اپنے ہی گھر پر حملہ کرتی ہے
عروسہ کیوں کیا تم نے یہ سب کیوں آئی تھی ہماری زندگی میں
فائزہ نے کہا
میں کوئی پیدائشی طور پہ ڈائن نہیں فائزہ بلکہ مجھے ڈائن بنادیا تم لوگوں نے جب ہم لوگ بہت امیر نہ تھے تو کوئی غریب بھ نہ تھے اتنا اچھا چھوٹا سا کاروبار تھا ہمارا پر وہ سارا بزنس پیسہ انور کے نام تھا میرے اور عاقب کے پاس کیا تھا پھٹی کوٹی تک نہ تھی جبکہ محنت دونوں بھائی کرتے پھر بھی سب کچھ اس انور کے نام مجھے کچھ لینا ہوتا کچھ چاہیے ہوتا ان کے آگے ہاتھ پھیلانے پڑتے اور گھر کی تو ساری ملکیت تو رفعت کے پاس تھی نہ میرے پاس تو اپنے لاکر کی چابیاں تک نہ تھیں اور پھر جب سائرہ اور ذیشان کی شادی کے بعد سائرہ نے سب کچھ انور اور ذیشان کے نام کردیا اور مجھے اینڈ عاقب کو کیا ملا کچھ بھی نہیں مجھے اور عاقب کو بہت غصہ آیا ہم تب کچھ نہیں کرسکے اس لیے جب رفعت پریگنینٹ ہوئی تو میں نے اسے ایسی دوائی دودھ میں ملا کے دی کہ اس کا بچہ گر جاۓ اور پھر کبھی دوبارہ کبھی ماں نہ بن پاۓ اور ان دونوں کے مرنے کے بعد سب کچھ ہمارا ہوجاۓ لیکن نہیں عاقب کو تو اپنے بھائی کو مار نہیں سکتا تھا پھر ایک اماوس کی رات کو میں نے چھت پر دیکھا کہ سائرہ کی دا پندرہ فٹ چوٹی لہرا رہی تھی اور اس کی آنکھیں سفید میں اسے دیکھتے سمجھ گئی کہ یہ ڈاین کیونکہ میں نے ڈائن ک بارے میں بہت سن رکھا تھا اور پھر میرے دماغ میں ایک نیا خیال آیا میں نے ایک کالے جادوگر سے مل کر اسے سائرہ کے بارے میں بتایا اس نے آنکھوں کا رنگ سن کر سمجھ لیا کہ وہ روائن ہے اور اس نے مجھے بتایا کہ رائن کے پاس ایک رو۔منکا ہوتا ہے جو بھی اس کو حاصل کرکے کھاکے وہ ہزار سال تک جیتا ہے یہ سن کر تو جیسے میری آنکھوں میں چمک آگئی میں ان اس جادوگر کو اتنے پیسے دیے کہ وہ مجھے طاقتور بننے کا کوئی راستہ بتا دے
اس نے مجھے طاقتور تو کیا ایک ڈائن بننے کا ہی طریقہ بتا دیا اور سب کچھ جاننے کے بعد میں نے اس جادوگر بیچارے کی سپاری دلوا کر اسے ہی مروا ڈالا
اس کے بتاۓ گئے طریقے کہ مطابق مجھے روز رات کو دو بجے ایک زندہ معصوم بچے کی گردنے کاٹ کر شیطان کی مورتی کے سامنے قربانی دینی ہے اور اس کا خون پینا ہے
پھر روز رات کو ثاقب کہیں سے مجھے ایک بچہ لادیتا
پہلے پہل مجھے یہ مشکل لگا کیونکہ ایک بچے کا خون پینا مشکل تھا پر کیا کریں لالچ چیز ہی ایسی ہے اور چھ مہینوں کے اندر ہی میں ایک ڈائن بن گئی میں نے ایک چال سوچی ایک رات کو میں نے اپنے ساس سسر کی جان لے لی اور سائرہ کو ڈائن ثابت کردیا اور پھر ذیشان کو مار دیا تاکہ یہ لوگ اسے مار ڈالیں اور ڈائن منکا مجھے مل جاۓ مگر نہیں اس ڈائن سائرہ نے پہلے ہی منکا اپنے بیٹے کو دےدیا تھا اور یہ بات مجھے اس کا پتھر بننے کے بعد معلوم ہوئی اور پھر مجھے پتا چلا کہ رفعت انور سائرہ کے بچوں ختم نہیں کررہے بلکہ اسے زندہ رکھیں گیں ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا
اور پھر مجھے ایک اور بات معلوم ہوئی کہ رو منکا مجھے تب ہی ملے گا جب علیان بائیس سال کا ہوگا پر اس سے پہلے مجھے اس کی شادی نہیں ہونے دینی اور پھر میں نے علیان کے سپنوں میں اسے ڈرانا شروع کردیا ایک دن اس بڈھے شاہ کو پتا چل گیا کہ علیان کی شادی سے ڈائن کو فایدہ ہوگا تو رفعت کو اس کی شادی کی جلدی پڑگئی علیان کے لیے لڑکی بھی آگئی ثنا پر میں نے موقع دیکھ کر اسے ختم کردیا اور پھر اس غار میں جاکر بابے کو بھی ختم کردیا لیکن آخری وقت پہ یہ حریم آگئی اور تم لوگوں نے اس علیان کی شادی کروا دی اور اس وجہ سے جو سائرہ پچیس سال بعد آنے والی تھی وہ ایکسویں سال واپس آگئی اور اب مجھے وہ رو۔منکا ہر حالت میں چاہیے
فائزہ آگے بڑھی اور ایک زور دار تمانچہ عروسہ کے منہ پہ ماردیا
لعنت ہے تجھ پر کمینی لعنت ہے تجھ پر تم تو انسان ہوکے ڈائن سے بھی بری نکلی تھو
فائزہ کی اس بات پر عروسہ کا پارہ ساتویں آسمان پر پہنچ گیا اس نے غصے سے زور سے فائزہ کا گلے سے پکڑ لیا
امیی
کنول چلائی
سائرہ نے اپنا سر ہلایا اور اپنی چوٹی زور سے عروسہ کے بازو پہ ماری عروسہ نے ہاتھ پیچھے کرلیا فائزہ کھانستے ہوئے بھاگ کر پیچھے آئی
اسے تو میں دیکھتی ہوں میرا سب کچھ کھا گئی تو چھوڑوں گیں نہیں میں تمھیں
سائرہ آگے بڑھتے ہوۓ انور کو اشارہ کیا اور خود عوراہ کے پاس جاکر اس کی گردن سے پکڑ اسے فضا میں بلند کرکے پوری قوت سے زمین پر پٹخ دیا
عروسہ بھی تیزی سے کھڑی ہوگئی اور اپنی چوٹی سے سائرہ کو پکڑنے کی کوشش کی مگر سائرہ نے ہوا میں بہت اونچا جمپ لےلیا
تبھی عروسہ کی پیٹھ میں انور نے زور سے سلیمانی خنجر گھونپ دیا
آآآآآ
عروسہ کی چیخوں سے پورا گھر گونج اٹھا
عروسہ دھڑم سے پیچھے گری اور خنجر اس کے اندر پیوست ہوگیا
یی۔۔یہ۔۔اچ۔۔اچھ۔۔۔اچھا نہیں کیا تت۔۔۔تم لوگوں نے م۔۔میں نہیں۔۔مارسکتی تبھی عروسہ نے اپنی دائیں آنکھ میں زور سے ناخن مارا سب کا یہ منظر دیکھ کلیجہ منہ کو گیا پر سائرہ غصے سے اسے دیکھ رہی تھی
میں روائن منکا لوگیں اس سائن کے آنکھ کے وار سے تو روائن سے بھی بڑی ڈائن مر سکتی ہے تو تیرا بیٹا کیا چیز ہے عروسہ نے اپنی آنکھ علیان کی طرف پھینکی مگر تبھی سائرہ تیزی سے علیان اور عروسہ کے درمیان آگئی اور وہ آنکھ سائرہ سے ٹکرائی
نہیںںںں
اپنا وار خالی دیکھ کر عروسہ زور سے چلائی تبھی عروسہ کے پورے جسم کو آگ لگئی وہ چلانے لگی تڑپنے لگی اب کےلئے یہ منظر بہت خوفناک تھا اور دیکھتے دیکھتے عروسہ جل کر راکھ ہوگئی اور اس کی راکھ غائب ہوگئی
تبھی سائرہ بھی زمین گر گئی سب اس کی طرف لپکے
کک کیا ہوا سائرہ
فائزہ نے ہڑبڑاتے ہوۓ کہا
مجھے معاف کردو اب لوگ پلیز مجھے معا۔۔معاف کردینا مم۔۔میرا آخر۔مآخری وق۔۔۔وقت آگیا ہے
انور بھائی مم۔۔میرے بچون کا خیال رکھنا مجھے معاف کردینا
نہیں نہیں سائرہ تم معافی کیوں مانگ رہی ہم نے تمھارے ساتھ بیت غلط کیا ہمیں معاف کردو کچھ نہیں ہوگا تمھیں
فائزہ کے رخسار آنسؤں پٹکنے لگے
علیان سارہ مجھے معاف کردو بس آج ہوے میری ایک خواہش پوری کردو مم۔۔میں برسوں سے تمھارے۔۔منہ سے ماں۔۔۔لفظ۔۔سن۔۔سننے کےلئے تڑپ رہی تھی آ۔۔آج بس میر یہ حسرت پوری کردو
سائرہ مشکل سے الفاظ نکال رہی تھی وہ بہت تکلیف میں تھی اس وقت
ہاں امی آپ میری امی ہو میری امی
سارہ سائرہ سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی علیان کے آنسؤں تمھم نہیں رہے تھے
امی ہمیں معاف کردیں علیان نے کہا
نن۔۔نہیں تم لوگ مم۔۔مجھے معاف کرنا ۔۔۔اور رف۔۔رفعت کچن۔۔۔میں بےہوش پڑ۔۔پڑی ہے اس پر عروسہ ن۔۔نن نے حملہ کیا تھا اسے بچا لینا
حر۔۔حریم
جی جی آنٹی
میر۔۔میرے عل۔۔علیان ک۔۔کا۔۔خی۔۔ال۔۔رکھن۔۔۔
اور سائرہ کی سانسیں دم توڑ گئیں
نہیںںںں نہیںںں سارہ اور رفعت زور زور سے دھاڑیں مار کر رو رہیں تھی جبکہ باقی سب کی حالت بھ کچھ ٹھیک نہیں تھی
______________________________________________________
ارے شیطان رک جاؤ کہاں بھاگی جارہی ہو تیار ہوجاؤ جلدی سے
حریم اپنی چھ سال کی بیٹی پری کو پکڑنے کی ناکام کوشش کررہی تھی جبکہ وہ ہاتھ آن کا نام نہیں لے رہی تھی
پاپا۔۔۔پاپا آگئے پاپا آگئے
پری علیان کی طرف بھاگتے ہوۓ گئی علیان نے بھی جھک کر اسے اٹھا لیا
ارے کیا ہوا میری پری کو کیوں بھاگ رہی ہے
پاپا دیکھو نہ مجھے مما نیلی فراک پہنانا چاہتی ہیں جبکہ مجھے وہ بالکل پسند نہیں مجھے وہ اپنا بلیک لہنگا ہی پہننا ہے
پری نے منہ بنا کر کہا
ارے کیوں پریشاں کر رہی ہوں میری شہزادی کو حریم
دیکھیے نہ آپ کی شہزادی بھی نہ آپ کی طرف نخریلی ہے کل ضد کرکے وہ وہ فراک لی اور آج نہ پہننے کی صد لگا کر بیٹھی ہے
حریم نے شکایتی لہجے سے کہا
تو کیا ہوگیا جو ہماری پری کا دل کرے گا وہ وہی پہنے گی تم اسے بلیک لہنگا ہی پہنا دو ویسے بھی ہم عالیہ اور ریان ہی امریکہ سے آرہے ہیں نہ کوئی اور تو نہیں
علیان نے مسکراتے ہوۓ کہا
ٹھیک ہے آپ تو ویسے بھی بس میرے بچی کو اپنی طرح بگاڑ ہی رہے ہیں
حریم نے ناک چڑاتے ہوۓ کہا
ارے میری پیارہ وائف ناراضگی چھوڑو اور اسے تیار کردو اب
علیان نے پری کو بیڈ پر بیٹھایا
اوکے جی
حریم نے مسکرا کر کہا
ٹھیک میں بھی چینج کرکے آتا ہوں علیان کمرے سے باہر چلا گیا
حریم نے پری کو تیار کیا ٹھیک پری بیٹا ناؤ یو آر ریڈی آپ یہیں رہو میں پانی پی کے آتی ہوں حریم کمرے سے باہر چلی گئی
پری نے حریم کے باہر جاتے ہی اپنی ٹوائز کپرڈ کے پاس گئی یہ میری فیورٹ ڈال اس کپرڈ کے اوپر کس نے رکھ دی اف اتنی اونچی ہے میں کیسے اتاروں اس کو
پری نے دو٬تین جمپ مارے مگر وہ بہت اونچی جگہ رکھی تھی
اف مجھ سے نہیں ہوگا یہ پری نے آنکھیں بند کرکے ایک لمبا سانس لیا مگر اس آنکھیں کھولتے ہی ان کا رنگ بدل سفید ہوگیا اس کے ناخن لمبے نیلے اور چوٹی بہت بڑی ہوگئی پھر اس کی چوٹی خود ہی اوپر گئی اور اس کی گڑیا کو نیچے لے آئی اور پھر اس کے چوٹی آنکھیں اور ناخن نارمل ہوگئے
پری نے گڑیا اٹھا لی
واہ میرے پاس تو میجک
تبھی حریم واپس آئی
او پری بیٹا آپ نے یہ ڈول اوپر سے کیے اٹھا لی
میجک سے مما
پری نے چٹکی بجاتے ہوۓ کہا
چلو شیطان تم بھی نا حریم کی نظر پاس پڑے ٹول پر پڑی مگر وہ حقیقت سے انجان تھی

 

–**–**–
ختم شد

——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: