Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 10

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

کتنی معصوم ہے۔۔۔ نشا کے چہرے کا طواف کرتے ہوۓ اس نے سوچا تھا۔۔۔ جب کے اس کاہاتھ چمچ بے دلی سے چاولوں کی پلیٹ میں داٸیں باٸیں گھوما رہا تھا۔۔۔
دوپہر کے کھانے میں بہت اہتمام کیا گیا تھا۔۔۔ وسیع و عریض۔۔۔ ڈاٸنگ میز پر سارا خاندان براجمان تھا۔۔۔
اور یہ محترم ۔۔۔ اب نظر اٹھا کر بڑے سلیقے سے کھانا کھاتے واسم کی طرف دیکھا۔۔۔ سفید ۔ ۔۔۔ قمیض شلوار پہنے ۔۔ تازہ تازہ شاٸد نہا کر آیا تھا۔۔۔ بال ابھی ہلکے سے گیلے تھے۔۔ بڑی بڑی خواب ناک آنکھیں جن میں ابھی لندن سے واپسی کے سفر کی تھکان تھی۔۔ مڑی ہوٸ گہری کالی پالکیں۔۔ اور ہلکی سی بھڑی ہوٸ شیو۔۔۔
کیا چیز تھا یہ شخص۔۔۔ ہر طرف سے نوازا ہی تھا خدا نے اسے۔۔۔ صورت۔۔۔ ذہانت۔۔۔ پیسہ۔۔۔ قسمت۔۔۔ اور پھر یہ پری جیسا پیکر رکھنے والی نشا۔۔ سوہا کو سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔ اس کے دل کو کس چیز کہ گھٹن نے جکڑ لیا تھا۔۔۔
سوہا۔۔۔ تم کھانا نہیں کھا رہی۔۔۔ بتاٶ اگر یہ نہیں پسند تو کچھ اور بنا دیں۔۔ آغا جان نے محبت سے لبریز لہجے میں کہا۔۔۔
سوہا آپی۔۔۔ فاسٹ فوڈ۔۔ چلے گا۔۔۔ محب نے سوہا کو آنکھ مارتے ہوۓ ۔۔۔کہا۔۔۔
چپ کر نالاٸق۔۔۔ آغا جان نے ۔۔ گھور کر محب کی طرف دیکھا۔۔۔ان کو فاسٹ فوڈ سے سخت چڑ تھی۔۔۔
واسم اب تم آ گۓ ہو اس کو تو سیدھا کر دے ۔۔۔ کومیل کے بس کا نہیں یہ ۔۔۔ اب اس کو بھی باہر جانا پڑھنے ۔۔ پر میرا دل نہیں مانتا اس نالاٸق کو اکیلے بھیجنے کو۔۔۔ آغا جان نے التجا کےانداز میں اپنے سب سے سوبر پوتے کو کہا۔۔۔
پہلے یہ خود کو تو سدھار لیں۔۔۔ اللہ توبہ۔۔۔ کسی کو خبر ہی نہیں یہاں ۔۔ کہ ان کے محترم سپوت وہاں کیا کیا گل کھلاتے ہیں۔۔۔ سوہا کے دماغ کی پھرکی پھر سے گھوم گٸ تھی۔۔۔
اور خیر سے یہاں بھی یہی کچھ کرتے ہیں پر سب سے چھپ کے۔۔۔ ۔۔ دل تو کر رہا ابھی اسی وقت اس کے پول کھول دوں میں۔۔۔ سوہا نے دانت پیسے واسم اسے نشا کو بار بار دیکھتا ہوا زہر لگ رہا تھا۔۔۔
جو یہاں۔۔ خاندان کا مثالی نمونہ بنے بیٹھے ہیں۔۔۔ اصل حقیقت صرف میں ہی جانتی ہوں۔۔۔
نہ۔۔ نہیں آغا جان۔۔ میں کھا رہی ہوں۔۔۔ آغا جان کے دوبارہ کہنے پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آٸ تھی۔۔۔
آغا جان۔۔۔ بہت کم کھاتی۔۔ اور بہت کم بولتی ہے۔۔۔ آپکی نواسی۔۔۔ واسم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوہا زبردستی چہرے پر مسکراہٹ لاٸ۔۔۔ اب سب لوگ اسے محبت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور نشا کے سوا ہر کوٸ اسے مفید مشورے دے رہا تھا۔۔۔ بس وہ تھی کہ بے دلی سی بیٹھی تھی۔۔۔
میں نہ تو کم کھاتی ہوں ۔نہ کم بولتی ہو۔۔۔ سوہا نے دانت پیستے ہوۓ سوچا۔۔۔ ابھی تو وہ الجھن کا شکار تھی۔۔۔ اپنے دل کی حالت سمجھنے سے بلکل قاصر تھی وہ۔۔۔ کیا اسے نشا پر ترس آنے لگا تھا۔۔۔ کہیں نشا کی یہ عجیب سی حالت اس لیے تو نہیں کہ واسم نے اسے بھی حراساں کر رکھا ہو۔۔۔ افف۔۔۔وہ ایک دم سے چمچ پیلٹ ر رکھ کر پانی کا گلاس چڑھانے لگی۔۔۔
****************
آغا جان نے کرواٸ تھی شادی میری لیکن اس دفعہ چھوڑ کے آنے والی میں تھی۔۔۔ عشرت کی مدھم سی آواز ابھری تھی۔۔۔ بس چند ماہ کی شادی تھی۔۔۔ پھر دوبارہ میں اپنے بابا کے گھر میں ہی تھی۔۔۔ میری شاٸد قسمت ہی ایسی تھی۔۔۔ نازو سے پلی تھی لیکن قسمت نے زندگی کی سختی کی دھول چٹا دی۔۔۔عشرت روہانسی ہو گٸ تھیں۔۔
سوہا آج عشرت کے ساتھ سو رہی تھی۔۔ عشرت کے بازو پہ سر رکھے وہ ممتا کی چھاٶں میں پرسکون آنکھیں موندے لیٹے ہوٸ تھی
کیا چیز ہوتی ہے۔۔ یہ ماں۔۔۔ کتنا سکون ہے ماں کہ آغوش میں اس نے اپنی زندگی کے اتنے سال گزار دیے تھے لیکن ایسی تسکین کبھی نہ پاٸ تھی۔۔۔ دل چاہتا تھا وہ اپنی زندگی کے سارے ماہ و سال واپس لے آۓ۔۔۔ اور کم عمری میں اپنی ماں کے پاس آۓ۔۔۔ ماں باپ کے بنا رہنے کی وجہ سے بروکن چاٸلڈ ہونے کی وجہ سے اس کی شخصیت میں کتنےخلا تھے جو پر نہیں ہوۓ تھے۔۔۔ اس نے بہت کچھ ایسا دیکھ لیا تھا جو اسے زندگی کی بس تلخی ہی دکھاتا رہا۔۔۔
عشرت کہ انگلیاں محبت سے اس کے بالوں کو سنوار رہی تھیں۔۔ کبھی کبھی جوش میں آ کر وہ اس کے سر پر بوسہ بھی کر رہی تھیں۔۔۔ اور سوہا ان کے لبوں کی گرماہٹ پر مسکرا دیتی۔۔۔
مما میں ۔۔۔ یہی سمجھتی رہی کہ آپ اپنی زندگی میں مصروف ہوں گٸ بابا کی طرح۔۔۔ مجھے بھول گٸ ہوں گی۔۔ سوہا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
نہیں۔۔۔ ان سالوں میں ایک پل بھی ایسا نہیں تھا جب میں تمھیں یاد نہ کرتی ہوں۔۔۔ میرب اور نشا کو جب بھی دیکھتی تھی۔۔ بس تمھارا ہی خیال ستاتا تھا مجھے۔۔۔ عشرت کی آواز پھر سے آنسٶں میں تر تھی۔۔۔
مما ۔۔ نشا کیا ایسی ہی ہے۔۔ چپ چپ سی۔۔۔ دماغ پھر سے بھٹک کر واسم کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔ سر تھوڑا سا اوپر اٹھا کر اس نے اپنے ہاتھ پر ٹکا کر عشرت سے سوال کیا۔۔۔
نہ۔۔نہیں تو۔۔۔ بلکل ایس نہیں ہے۔۔۔ ویسے ہی واسم سے شرماتی ہے۔۔۔ عشرت نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
مجھے ایسے لگا جیسے وہ خوش نہیں ہے۔۔۔ اس نے پھر سے مدھم سی آواز میں اپنی بات کو دھرایا۔۔۔
لو بھلا وہ کیوں خوش نہیں ہوگی۔۔۔ تمہیں نہیں پتہ چار سال پہلے واسم نے ضد کر کے نشا سے منگنی کی ۔۔۔ بہت پسند کرتا ہے اسے۔۔۔عشرت اب اپنے لاڈلے بھتیجے کی محبت میں بول رہی تھیں۔۔۔
اچھا۔۔۔ سوہا کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ۔۔۔اس نے پھر سے عشرت کے سینے پر سر رکھ دیا تھا۔۔
****************
مما آپ نے مجھے کیا بنا دیا۔۔۔ سوہا حیرانیگی سے سنگہار میز کے آگے کھڑی خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ آج سے پہلے کبھی ایسے تیار نہیں ہوٸ تھی۔۔ بلکہ اسے تو یہ پاکستانی بناٶ سنگہار آتا ہی نہیں تھا۔۔۔
سیاہ رنگ کی لمبی پیروں تک جاتی کلیوں والی فراک پہنے۔۔۔ کمر تک آتے۔۔ جدید کٹنگ کے سیدھے سنہری بال کھولے۔۔۔ سرخ کم خواب کی تلے کے کام والی شال کو فولڈ کر کے ایک طرف کندھے پر لٹکاۓ۔۔۔ کانوں میں سنہری جھمکی جس کے نیچے سرخ موتی لٹک رہے تھے۔۔ پہنے ۔۔۔ سفید رنگت پر ہلکا سا جازب نظر سنگہار کر کے وہ کسی ماوارٸ دنیا کی دوشیزہ لگ رہی تھی۔۔۔
کیوں اتنی تو پیاری لگ رہی ہے میری بیٹی ۔۔۔ کسی کی نظر نہ لگے۔۔۔عشرت نے آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو اپنی ہیتھیلوں میں لے لیا تھا۔۔ اور محبت پاش نظروں سے دیکھا۔۔۔
آغا جان نے۔۔۔ آج سوہا کو متعارف کروانے کے لیے بہت بڑی خاندانی تقریب رکھی تھی۔۔۔ جب اکبر دھوکے سے سوہا کو اپنے ساتھ لے گیا تھا۔۔ تو آغا جان نے اسے تلاش کرنے کی جان توڑ محنت کی تھی۔۔۔ اپنی لاڈلی اکلوتی بیٹی کی تکلیف ان سے دیکھی نہیں جاتی تھی۔۔۔ اور آج جب اتنے سالوں بعد اکبر نے خود اپنی رضامندی سے سوہا کو بھیج دیا تھا۔۔۔ تو وہ بہت خوش تھے۔۔۔ اور اپنی بیٹی کی خوشی دیکھ کر وہ سرشار تھے۔۔۔ سوہا کے آنے کے ایک دن بعد ہی شام کو یہ تقریب رکھی گٸ تھی۔۔۔
پھپھو۔۔۔ آ جاٸیں اب۔۔۔ واسم نے دروازہ کھول کر کہا تھا۔۔۔ اور سوہا پر نظر پڑتے ہی وہ حیران سا ہو کر رک گیا تھا۔۔۔ وہ آج کتنی مختلف اور بڑی سی لگ رہی تھی۔۔ وہ تو اس دن سے اسے چھوٹی سی بچی ہی سمجھ رہا تھا۔۔۔ آج وہ اپنے سارے جلوے لیے کھڑی ایک مکمل حسن کی تصویر لگ رہی تھی۔۔۔
یہ کون ہے۔۔۔ یہ ہماری چھوٹی سی پیاری سی ۔۔ سوہا تو نہیں لگ رہی۔۔۔ شرارت سے سر کھجاتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔ جبکہ ہونٹ مسکراہٹ کو دبا رہے تھے۔۔۔
سوہا ۔۔ واسم کی بے ساختہ تعریف پر جھینپ گٸ تھی۔۔۔ خجل سی ہو کر اس نے عشرت کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ خود بھی تو سیاہ کوٹ پینٹ پہنے ۔۔۔ غضب ڈھا رہا تھا۔۔۔ اور وہ جو ملگجے سے حلیے میں بھی کتنوں پر بازی لے جاتا تھا نک سک سے تیار ہو کر تو بجلیاں گرانے لگتا تھا۔۔
پھپھو۔۔ ہو بہو۔۔ آپ جیسی ہے ۔۔ سچ میں۔۔ اب وہ عشرت کے کندھوں پر ہاتھ رکھے سوہا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
عشرت نے مسکراتے ہوۓ واسم کے ہاتھ پر چپت لگاٸ جو اس وقت ان کے کندھے پر تھا۔۔۔ پھر دونوں قہقہ لگانے لگے۔۔۔
سوہا بس مسکرا ہی رہی تھی۔۔۔
چلیں اب انتظار کر رہے سب سوہا کا۔۔ لب بھینچتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔
بلکل بلکل۔۔۔ چلو بیٹا۔۔۔ عشرت نے محبت سے سوہا کے گرد بازو حاٸل کیے تھے۔۔۔
جیسے ہی وہ لان میں داخل ہوٸ تھی۔۔۔ اس پر پھولوں کی بارش ہوٸ تھی۔۔۔ لان کا منظر اتنا خوبصورت تھا۔۔۔ وہ بس دیکھتی ہی رہ گٸ تھی۔۔۔ ہر طرف پھول اور قمقوں کی قطاریں تھیں۔۔۔ ان کے خاندان اور آغا جان کے دوستوں کے بہت سے لوگ جمع تھے۔۔۔ سب اس کی طرف محبت سے دیکھ رہے تھے۔۔۔ اس سے باری باری مل رہے تھے۔۔۔ کچھ کانوں میں باتیں کر رہے تھے۔۔۔
محب اور میرب چہک رہے تھے۔۔۔ شزا اپنے بڑے بیٹے کو سنبھال رہی تھی اور اب دوسرے کی آمد نے اسے نڈھال کر رکھا تھا۔۔۔ عشرت ۔۔ صاٸمہ اور نورین مختلف لوگوں کے ساتھ باتوں میں مصروف تھیں۔۔۔
نشا زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ۔۔۔ واسم کی نظروں سے پریشان چند کزنز کے درمیان بے دلی سی کھڑی تھی۔۔
سوہا کو آغا جان نے بغل میں دبایا ہوا تھا۔۔ کبھی اپنے کسی دوست کے پاس لے کر جا رہے تھے اسے اور کبھی کسی دوست کے پاس۔۔۔
وہ حیران ہو کر اتنی محبتوں کو سمیٹ رہی تھی اس نے تو کبھی سوچا بھ نہیں تھا اس کی زند گی ایک دن یوں پلٹا کھا جاۓ گی۔۔۔
سوہا نے کیک کاٹا تھا ہر طرف تالیوں کی گونج تھی۔۔۔ قہقے تھے۔۔۔ محبت تھی۔۔ مدھم سی موسیقی تھی۔۔۔
****************
ارے ارے وہ لاسٹ والا بریک اپ تو ایسے ہوا تھا میرا۔۔۔۔ اس میں میرا کوٸ قصور نہیں تھا۔۔۔ بھٸ۔۔۔ محب نے شرارت سے کہا۔۔
بڑے سارے کھانا کھانے کے بعد ایک طرف بیٹھ گۓ تھے۔۔ اور بچہ پارٹی ایک طرف گپوں میں مصروف تھے۔۔۔ محب اپنے آخری بریک اپ کا قصہ لہک لہک کر سنا رہا تھا۔۔
میں نے اسے کال کی ۔۔۔ میں نے کہا۔۔۔ زارا کہاں ہو تم۔۔ جان
9
محب بڑی سنجیدہ شکل بنا کر کہ رہا تھا۔۔۔
کہنے لگی۔۔۔ جان ۔۔۔ میں ۔۔ تو۔۔ پنکی کے ساتھ ہوں۔۔۔ محب نے لڑکی کے انداز میں کہا۔۔
بس وہ دن اور آج کا دن ۔۔۔ پھر کبھی نہیں ملا میں اس سے چھوڑ دیا میں نے اس جھوٹی کو۔۔۔ محب نے منہ پھولا کر بچوں کی طرح کہا۔۔
لو بھلا ۔۔۔ اتنی سی بات پر چھوڑ دیا بچاری کو۔۔ اور تمہیں کیسے پتہ لگا وہ جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔ میرب نے ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
ارے بھٸ۔۔۔ پنکی تو اس وقت میرے ساتھ بیٹھی تھی۔۔۔ محب نے آنکھ ماری اور سب کے قہقے ہوا میں گونجے تھے۔۔۔
وہ ہسنتے ہنستے ارد گرد دیکھنے لگی تھی۔۔۔ کل سے آٸ تھی تو سو ہی رہی تھی۔۔۔ لان تو آج دیکھ رہی تھی۔۔۔ اسفند میر ولاز بہت ہی بڑا اور خوبصورت تھا۔۔۔
وہ سب میں سے اٹھ کر آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ ایک طرف آٸ تھی۔۔۔ بہت بڑا لان تھا۔۔۔ وہ چلتے چلتے سنان سے گوشے میں آ گٸ تھی۔۔۔ گیلی سی بھاری سی ہوا چل رہی تھی۔۔۔ نرم گھاس سے ٹھنڈک کا احساس اسے اپنے کھلے جوتوں میں ہو رہا تھا۔۔۔
فراک اور جولیری اسے الجھن کا شکار کر رہی تھیں۔۔
سب کا شور مدھم سا پڑ گیا تھا۔۔۔ یہاں پر تو روشنی بھی ہلکی ہو گٸ تھی۔۔ رات کی رانی کی مہک اتنی بھلی لگ رہی تھی وہ تھوڑا سا اور آگے آٸ تھی۔۔۔
افف اس کی جان ہی تو نکل گٸ تھی۔۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر اس نے اپنے سانس کو بحال کیا تھا۔۔
واسم کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ اس کو دیکھ کر جلدی سے اس نے سگریٹ نیچے پھینکا تھا۔۔۔ اور اس پر پاٶں رکھ دیا تھا۔۔وہ خجل سا ہو گیا تھا۔۔۔ اور گردن پر خارش کر کے خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔ میں ۔۔ فرسٹ ٹاٸم پی رہا تھا۔۔۔ بلکل اچھی نہیں ہے۔۔۔ خجل سے لہجے میں جھوٹ بول کر وہ اسے بھی دوسروں کی طرح بیوقوف بنا رہا تھا۔۔
سوہا کے ذہن میں اس کی وہ ساری تصاویر گھوم گٸ جن میں وہ سگریٹ پی رہا تھا۔۔۔ اس نے گھنٹوں ان تصاویر کو دیکھا تھا۔۔ ازبر سی ہو گٸ تھیں۔۔۔ سوہا نے بامشکل اپنی ہنسی کو دبایا تھا۔۔۔
میں نے کبھی نہیں پی پہلے۔۔۔ وہ اب اس کے قریب آ گیا تھا۔۔۔ جیب سے چیونگم نکال کر ایک اپنے منہ میں رکھی اور ایک سوہا کی طرف بڑھا دی ۔۔
سوہا نے دھیرے سے ہاتھ بڑھا کر چیونگم پکڑی ۔۔ اور کھول کر منہ میں ڈالی۔۔۔
آپ فکر نہ کریں بہت سی باتوں کی طرح یہ بھی نہیں بتاٶں گی کسی کو۔۔۔ سوہا مسکراہٹ دبا رہی تھی۔۔۔ گالوں کے گڑھے اور آنکھوں کی چمک بڑھ گٸ تھی۔۔۔ جھوٹا بھی ہے۔۔۔ ارے بھٸ وہ کون سی براٸ ہے جو اس شخص میں نہیں ہے۔۔۔ اور سارے گھر والے ہیں کہ اسے فرشتہ سمجھتے ہیں۔۔۔ توبہ ہی ویسے۔۔۔ وہ واسم کے ساتھ ہلکے ہلکے قدم ملاتی چل رہی تھی۔۔۔ اور دل میں سوچ رہی تھی۔۔۔
بہت سی باتیں۔۔۔ واسم نے چونک کر سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
میرا مطلب مجھے عادت نہیں ۔۔ باتیں کرنے کی۔۔۔ سوہا ایک دم سے گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
اوہ ہاں ۔۔۔ وہ تو میں جانتا ہوں تم بہت کم بولتی ہو۔۔۔ واسم نے ہلکا سا قہقہ لگایا تھا۔۔۔ وہ ہی خبصورت موتیوں سے دانت۔۔ جازب نظر ۔۔ مسکراہٹ۔۔۔چمکتی آنکھیں ۔۔۔ آج تو شیو بھی کر لی تھی اس نے۔۔۔ سوہا کچھ لمحے اس پر سے نظر نہ ہٹاسکی۔۔۔
جی ۔۔جی۔۔۔ ایسا ہی ہے۔۔۔ وہ شرمندہ سی ہوٸ۔۔۔ وہ کسی اور کا ہے ۔۔۔ دل نے سوہا کو سرزنش کیا۔۔۔
تو بتاٶ۔۔۔ پاکستان کہاں کہاں گھومنا چاہتی ہو۔۔۔ بندہ حاضر ہے۔۔ واسم چلتے چلتے ایک دم سے آگ آیا اور سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکا۔۔۔
جہاں جہاں بھی آپ لے جاٸیں۔۔۔ مدھم سی آواز میں کہا تھا۔۔
سب لوگ انھیں اشارے کر رہ تھے۔۔۔
سوہا آپی ۔۔۔ واسم بھاٸ آ جاٸیں۔۔۔ کچھ کھیلتے ہیں۔۔۔
*******************
پلیز ۔۔۔ ارسل بات سمجھا کریں نہ۔۔۔۔ میں بہت مجبور ہوں۔۔۔
اپنے کانوں میں پڑتی آواز پر سوہا نے اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ کر دیکھا تھا۔۔۔
رات کی دو بج رہے تھے اور اسے نیند نہیں آ رہی تھی۔۔۔ آج وہ اپنے کمرے سوٸ تھی۔۔۔ ٹیرس پر نکلی تو ساتھ والے کمرٕے سے بھی کوٸ ٹیرس پر تھا۔۔ اس کی طرف پیٹھ تھی۔۔۔
غور سے دیکھنے پر اسے پتہ چلا وہ نشا تھی۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: