Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 11

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

نشا ۔۔۔۔ تم بات تو کرو ۔۔ واسم سے۔۔ ارسل کی بے چارگی سے بھری آواز نشا کے کان سے لگے فون سے ابھری تھی۔۔۔
سوہا ننگے پاوں ٹیرس پر آٸ تھی۔۔۔ اور نشا کو بلکل خبر نہیں تھی۔۔۔ وہ ارسل سے بات کرنے میں مگن تھی۔۔ اتنا اندھیرا تھا بڑی مشکل سے وہ یہ دیکھ پاٸ تھی کہ کوٸ اور بھی ٹیرس پر موجود ہے۔۔۔
ارسل آپ کو میری بات سمجھ کیوں نہیں آتی۔۔۔ واسم۔۔۔ سے بات کرنا بہت مشکل اور اگر کروں بھی تو تب بھی شاٸد وہ اپنی ہی کریں گے۔۔۔ نشا کی باقاعدہ رونے والی آواز تھی۔۔۔اس کی آواز سے اس کے اندر کے کرب کا باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔
وہ بلکل آغا جان جیسا ہی ہے۔۔ اپنی کرنے والا ۔۔۔ غصے والا۔۔۔میری کوٸ عزت نہیں رہے گی۔۔۔ سب کے سامنے۔۔۔
نشا کی بات پر ۔۔ سوہا کی آنکھوں میں اس دن کی منظر در آیا جب واسم اس لڑکی سے زبردستی کر رہا تھا۔۔۔ اس دن واقعی میں اس کے چہرے پر غضب ناک غصہ تھا۔۔۔
وہ ۔۔ پرفیکٹ ہے۔۔۔ میرے پاس اس سے شادی سے انکار کا کوٸ جواز ہی نہیں۔۔۔ نشا نے روہانسی آواز میں کہا۔۔۔
افف ۔۔۔ نشا تم کتنی معصوم ہو۔۔۔ وہ بلکل بھی پرفیکٹ نہیں ہے۔۔۔ بلکہ تم جیسی پیاری لڑکی کے تو قابل ہی نہیں ہے۔۔۔۔ سوہا نے لب کچلتے ترس کی نگاہیں نشا کی پشت پر بکھرے بالوں پر ڈالی۔۔۔
جواز میں ہوں تو۔۔۔ ارسل نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔ جب کے آواز میں پریشانی اور وصل کے دکھ کا تاثر شامل تھا۔۔۔
نہیں۔ ایسے میری اور میرے ماں باپ۔۔ کی عزت۔۔۔ نشا رونے لگی تھی۔۔۔
دیکھو۔۔۔ آغا جان پھپھو کے بعد سے اب محبت کی شادی کے بہت خلاف ہیں۔۔وہ روتی ہوٸ آواز میں ارسل کو سمجھا رہی تھی۔۔۔
یار۔۔۔ ایک تو تم ہمت بھی نہیں دکھاتی۔۔ ارسل نے مجبور ہو کر چڑ کر کہا۔۔۔
ایسی ہمت سے کیا فاٸدہ جو میرے ماں باپ کا سر آغا جان کے آگے جھکا دے۔۔ بہت مدھم سی آواز تھی نشا کی۔۔۔ جس میں وہ ارسل کو بہت کچھ باور کروا گٸ تھی۔۔۔
تم مجھے بھول کیوں نہیں جاتے۔۔۔ وہ چیخنے کے سے انداز میں ارسل پر اپنا غم نکال رہی تھی۔۔۔
کوشش کی تھی۔۔۔ آسان نہیں۔۔۔ وہ شاٸد صبر کی آخری منزل پر تھا۔۔ آواز میں بہت حد تک نمی در آٸ تھی۔۔۔
ممکن تو ہے نہ۔۔۔ نشا اس کی آواز سن کر اور رو دی تھی۔۔۔ با مشکل وہ بھاری ہوتی آواز سے یہ الفاظ ادا کر سکی تھی۔۔۔
مجھے بھول جاٶ ارسل۔۔۔ پلیز۔۔۔ آنکھوں کو بری طرح رگڑتے ہوۓ اس نے کہا۔۔۔ اور فون بند کر کے تیزی سے اپنے کمرے میں چلی گٸ تھی۔۔۔۔
سوہا وہیں کھڑی تھی۔۔۔ بے حس و حرکت۔۔۔
******************
او۔۔۔۔ میرا۔۔۔ بچہ۔۔۔ آو۔۔ آٶ۔۔ آغا جان نے اخبار کو فولڈ کرتے ہوۓ گرم جوشی سے سوہا کو کہا۔۔۔ ان کے خبرو چہرے پر محبت بھری مسکراہٹ بکھر گٸ تھی۔۔۔
وہ سو کر آج جلدی اٹھ گٸ تھی۔۔ آغا جان لان میں بیٹھے تھے۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں سفاری سوٹ پہنے۔۔ سلیقے سے گرے بال بناۓ وہ نکھرے نکھرے سے بارعب انداز میں اخبار پڑھ رہے تھے۔۔۔ سفدر ان کے سامنے سلیقے سے چاۓ رکھ رہا تھا۔۔۔
کیسا ہے میرا بچہ۔۔۔ آغا جان نے محبت سے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ ڈھیلے ڈھالے سے ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔ آغا جان نے اچٹتی سی نظر سوہا کے لباس پر ڈالی تھی۔۔۔
جی۔۔ بلکل ٹھیک۔۔ وہ مسکراتی ہوٸ ان کے پاس پڑی کرسی پر بیٹھ گٸ۔۔۔ اسے بھی یہ بات محسوس ہوٸ کہ آغا جان نے اس کے لباس کو نوٹ کیا تھا۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ سٹڈی ۔۔ جاری رکھنے کا ارداہ ہے آپکا۔۔۔ وہ اب محبت سے سوہا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہہ رہے تھے۔۔۔۔
جی ۔۔ پر پہلے پاکستان گھومنا چاہتی ہوں اور کچھ وقت مما اور آپکے ساتھ گزارنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔ سوہا نے جھکے ہو سر کو اٹھا کر ۔۔۔ مسکراتے ہوۓ آغا جان کو کہا۔۔۔
معصوم سی مسکراہٹ۔۔۔ اور من موہنی سی صورت ۔۔ آغا جان کے دل میں گھر کر گٸ۔۔۔
ارے۔۔۔ واہ یہ بھی بہت اچھی بات ہے بیٹا۔۔۔ انھوں نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
واسم۔۔۔۔ واسم۔۔۔۔ آغا جان نے مین گیٹ سے دا خل ہوتے واسم کو آواز دی۔۔۔
وہ شاٸد ابھی ابھی جاگنگ سے لوٹا تھا۔۔۔ ٹریک سوٹ میں ملبوس۔۔۔ اپنی مخصوص مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ وہ پورچ سے گزرتا ہوا ان کے پاس آیا تھا۔۔۔ اور بیٹھتے ہی جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا اور سوالیہ نظروں سے آغا جان کی طرف دیکھا۔۔۔
بال پسینے سے بھیگے ہوۓ اور بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ مظبوط بازو کے بال بھی پسینے سے بھیگے ہوۓ تھے۔۔۔ شرٹ ہلکے ہلکے پسینے کے قطروں سے کہیں کہیں سے بھیگی ہوٸ تھی۔۔۔
جی ۔۔۔ آغا جان۔۔۔ پانی کا گلاس منہ سے لگانے سے پہلے اس نے کہا۔۔۔
سوہا کو ساتھ لے کرجاٶ اسلام آباد۔۔۔ اسے شاپنگ کرواٶ۔۔۔ آغا جان نے مسکراتے ہوۓ۔۔۔ واسم کو حکم دیا۔۔۔
کپڑے وغیرہ لے کر آٶ میر بچہ۔۔۔ اب وہ سوہا کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہہ رہے تھے۔۔۔ لہجہ ایسا تھا ۔۔ جیسے کہہ رہے ہوں ۔۔ کل سے اس مغربی لباس میں نظر نہ آنا۔۔۔
سوہا نے بس سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھاہی تھی۔۔۔ لیکن ان کے چہرے پر محبت کے سوا کچھ نہیں تھا۔۔۔
جی بلکل ۔۔۔ سوہا آپ تیار ہو جاٶ ۔۔۔ بارہ بجے تک نکلتے ہیں۔۔ واسم نے فورا سر تسلیم خم کیا تھا۔۔۔ اور سوہا کی طرف دیکھ کر پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔
پھر وہ اخبار اٹھا کر سیاست پر آغا جان سے بحث کرنے لگا۔۔۔
سوہا کچھ دیر تو وہاں بیٹھی رہی۔۔۔ پھر آغا جان سے اجازت لے کر اٹھ گٸ تھی۔۔۔
*********************
سوہا۔۔۔ سوہا۔۔۔ وہ سیڑھیاں چڑھتی اوپر جا رہی تھی۔۔ جب عقب سے واسم کی آواز سناٸ دی تھی۔۔۔
جی ۔۔۔ وہ کمر کو تھوڑا سا خم دے کر مڑی تھی۔۔ وہ اسی ٹریک سوٹ میں ملبوس تھا اب تک۔۔۔ بل بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ لیکن پسینہ خشک ہو چکا تھا۔۔۔۔وہ مسکراتا ہوا دو دو سیڑھیاں پھلانگتا اس تک پہنچا تھا۔۔۔
سوہا ۔۔۔ ایک کام کرو گی میرا۔۔ لبوں کی بھینچتے ہوۓ ۔۔ ماتھے پر مسکراہٹ دباتے ہوۓ واسم نے کہا تھا۔۔۔ جب کے اس کے ہاتھوں کی انگلیاں آہستہ آہستہ وہ ماتھے پر پھیر رہا تھا۔۔۔
جی بولیں۔۔۔ حیرانگی سے واسم کی طرف دیکھا۔۔۔ اسے کیا کام پڑ گیا مجھ سے وہ تھوڑا سا الجھن کا شکار ہوٸ تھی۔۔۔
وہ۔۔۔ تم۔۔۔ تم۔۔ نشا کو بھی ساتھ جانے کے لیے کہو۔۔۔ وہ تھواڑا سا خجل سا ہو کر گردن کے پیچھے خارش کر رہا تھا۔۔۔ لیکن لب ابھی بھی مسکرا رہے تھے۔۔ اور آنکھوں میں شرارت تھی۔۔۔
نشا۔۔۔ سوہا کو ایک دم سے عجیب سے احساس نے گھیرا۔۔۔ اس کے ذہن میں رات کا سارا منظر گھوم گیا تھا۔۔۔اس نے بہت مشکل سے اپنے چہرے کو نارمل رکھا۔
ہم۔م۔م۔م۔ تم کہو کہ مجھے شاپنگ میں تمھاری مدد چاہیے۔۔۔ وہ شوخ سے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔ انداز التجا والا ہی تھا۔۔ لیکن اس کی آنکھوں کی چمک نشا کے لیے چاہت کا ثبوت تھی۔۔۔
حالت تو دیکھو۔۔۔ محترم کی۔۔۔ مجھے اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے استعمال کررہے ہیں۔۔۔ سوہا کو عجیب سے احساس نے گھیرا تھا۔۔
اوکے۔۔۔ پر کیا وہ میری بات پر راضی ہو جاۓ گی۔۔۔۔ سوہا نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا۔۔۔
اوہ۔۔ راضی ہو جاۓ گی۔۔۔ ضرور ہو گی۔۔۔ میرا مت بتانا کہ میں نے کہا ہے یہ سب ۔۔۔ اب وہ بچوں کی طرح ریکوسٹ کر رہا تھا اس سے۔۔۔ بڑی بڑی آنکھوں کو سکیڑ کر وہ اسے التجا کے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ کہتی ہوں۔۔ سوہا کی گھٹی سی آواز نکلی تھی۔۔۔اس نے زبردستی چہرٕے پر مسکراہٹ سجاتے ہوۓ کہا۔۔۔
گڈ ۔۔۔ گرل۔۔۔ واسم نے اس کے گال پر ہلکی سی چپت لگاٸ تھی انداز ایسا تھا جیسے وہ کوٸ چھوٹی سی بچی ہو۔۔۔۔
وہ تیزی سے وہاں سے سیڑھیاں اتر گیا تھا اور سوہا پر سوچ انداز میں وہیں کھڑی تھی۔۔۔
*****************
سوہا۔۔ تم آگے بیٹھو۔۔۔ نشا نے سنجیدہ سی شکل بنا کر اسے کہا۔۔۔
واسم ۔۔ کار کا دروازہ کھولے کھڑا مسکرا رہا تھا۔۔۔ نشا کی بات پر اس کی مسکراہٹ ایک دم سے غاٸب ہوٸ تھی ۔۔۔
سوہا بڑی مشکل سے نشا کو نورین کی مدد سے راضی کر سکی تھی۔۔۔ واسم کے ساتھ جانے کا سن کر وہ بہت دیر بہانے کرتی رہی مختلف پھر جب نورین نے سختی سے کہا کہ جاۓگی نشا تم جا کر تیاری پکڑو سوہا۔۔۔ تو بے دلی سے نشا اٹھ گٸ تھی۔۔۔
نشا سپاٹ چہرے کے ساتھ کار کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔
سوہا۔۔۔ واسم نے اپنے جزبات کو قابو میں لاتے ہوۓ۔۔۔ چہرے پر زبردستی مسکراہٹ سجا کر سوہا کو فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔ جبکہ ماتھے پر ہلکے سے ناگواری کے بل واضح تھے۔۔۔
نشا کے یوں کہنے پر پتا نہیں کیوں سوہا کے سامنے اسے اپنی تزلیل کا احساس ہوا تھا۔۔۔۔ اسے ایک دم سے پہلے نشا کے رویے پر غصہ آ یا لیکن پھر اسے اس کے انداز میں بری طرح کچھ بات کھلنے لگی تھی۔۔۔۔
جی۔۔۔سوہا دونوں کی شکلیں دیکھتی ہوٸ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گٸ تھی۔۔۔ واسم اس کے ساتھ آ کر بیٹھا تھا اور بیک مرر اب وہ نشا پر سیٹ کر کےاس گہری آنکھوں سے کھوج رہا تھا۔۔۔شاٸد اسے نشا کے جس رویے کا احساس آج ہو رہا تھا۔۔۔ سوہا کو پہلے دن ہی ہو چکا تھا۔۔
اور رات سوہاکو نشا کی باتیں سن کر اپنے تمام وہمات کی تصدیق مل گٸ تھی۔۔۔ جو اسے تھے کہ نشا اپنے اور واسم کے رشتے سے خوش نہیں ہے۔۔۔
وہ خاموشی سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔ لب بھینچے ہوۓ تھے۔۔۔ سٹیرنگ پر اس کے ہاتھوں کی گرفت اتنی مظبوط تھی کہ اس کے ھاتھ کی رگیں ابھر رہی تھیں۔۔۔
آنکھیں سکیڑ کر کبھی کبھی وہ نشا پر نظر ڈال رہا تھا۔۔ اور کبھی سامنے سڑک پر۔۔۔۔
نشا اس کی بار بار اپنے پر پڑتی نظر سے بے نٕیاز کھڑکی سے باہر دیکھنے میں مصروف تھی۔۔۔
کتنی عجیب بات ہے کہ میں دونوں کے بارے میں جانتی ہوں۔۔۔ سوہا نے کار کی سیٹ کی پشت سے سر ٹکا دیا۔۔۔
ایک بد کردار ہے۔۔۔ اور دوسرا عشق میں گرفتار۔۔۔۔
وہ اب باہر پاکستان کی خوبصورتی دیکھنے میں مصروف ہو گٸ تھی۔۔۔
***********
10
سوہا ۔۔۔ اور لو ۔۔۔ واسم نے پیزے کا ایک اور پیس سوہا کی پلیٹ میں رکھا تھا۔۔
وہ بچوں کی طرح سوہا کو ٹریٹ کر رہا تھا جس پر سوہا کو چڑ ہو رہی تھی پوری شاپنگ میں بھی وہ ایسے ہی کرتا رہا تھا۔۔۔
وہ شاپنگ کے بعد اب فارغ ہوۓ تھے۔۔۔ اور اب پیزاکھا رہے تھے۔۔
نشا نے بہت اچھے طریقے سے اس کی شاپنگ میں مدد کی تھی۔۔۔ اس نے بہت سے پاکستانی ڈریس لیے تھے ۔۔۔ کتنے عرصے بعد وہ یہ بڑے بڑے دوپٹوں والے سوٹ دیکھ رہے تھی۔۔۔
نشا مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔۔
وہ پیزا کھانے کے بعد گاڑی کی طرف جا رہے تھے۔۔ جب واسم نے سختی سے کہا تھا۔۔ وہ لب بھینچ کر رکا تھا۔۔۔ رات کے آٹھ بج رہے تھے۔۔۔
وہ دونوں ایک دم سے رکی تھیں۔۔۔ نشا لب کچلنے لگی تھی۔۔۔
سوہا تم جا کر گاڑی میں بیٹھو ہم آتے ہیں۔۔۔ واسم نے گاڑی کی چابی سوہا کی طرف بڑھاٸ۔۔۔
نشا کیا کوٸ پرابلم ہے۔۔ سوہا کے تھوڑا سا دور جاتے ہی واس اب بلکل نشا کے سامنے آ کر ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔ چہرے پر بلا کی سختی او ر ماتھے پر ناسمجھی کے بل تھے۔۔
نہ۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ نشا نے ایک دم سے ہاتھ مسلتے ہوۓ خود کو نارمل ظاہر کیا۔۔۔ واسم کی بارعب آواز نے ایک ہی جست میں اس کی ہمت پر پانی پھیر دیا تھا۔۔۔
پھر یہ اس طرح کی بے رخی۔۔۔ کیا ناراض ہو مجھ سے۔۔۔ آواز میں تو نرمی آ گٸ تھی ۔۔ پر ماتھے کے بل ہنوز قاٸم تھے۔۔۔
نہ۔۔نہیں ایسی کوٸ بات نہیں۔۔ نشا کی ساری ہمت ہوا ہو چکی تھی۔۔۔ وہ ارد گرد بچاٶ کی طرح دیکھنے لگی۔۔۔
مجھ سے کوٸ شکاٸت ہے۔۔۔ کیا میں تم سے بات نہیں کرتا رہا ۔ انگلینڈ جا کر اس بات کا غصہ ہے تمہیں۔۔۔ واسم بار بار اپنے مختلف اندازے لگا کر اس کی بے رخی جاننے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔ اس کہ آواز میں بے چینی تھی۔۔۔ اب وہ ہاتھ پینٹ کی جیبوں میں ڈالے کھڑا تھا۔۔۔
ایسا کچھ نہیں بس میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں تھی۔۔۔ نشا اب جان چھڑوانا چاہتی تھی اس سے۔۔۔ اس کے ہاتھ میں پکڑا موباٸل وابریٹ کرنے لگا تھا۔۔۔ اس کی جان پر بن گٸ تھی۔۔۔ کیونکہ وہ کب سے ارسل کے کسی بھی مسیج کا جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔
ڈاکٹر کے پاس چلیں۔۔۔ واسم اب تھوڑا سا جھک کر اس کے چہرے پر دیکھ رہا تھا۔۔۔
نہ نہیں۔۔۔ ضرورت نہیں۔۔۔ نشا نے بے چینی سے ہوا سے اڑتے بالوں کو سمیٹا۔۔۔
اوکے۔۔۔ پھر مسکرا کر دیکھو۔۔۔ ایک دفعہ میں پریشان ہو گیاتھا۔۔۔ ان واسم کی آنکھوں میں پھر وہی چمک تھی۔۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی۔۔۔
سوہا دور کھڑی دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ وہ کار سے کچھ فاصلے پر کھڑی تھی۔۔۔
اس شخص ۔۔ کی درست میں ہر چیز ہے۔ ۔۔۔ یہ ایک نشا ہے جو اس لڑکے سے اتنا پیار کرتی ہے پھر بھی اس کی نہیں ہو پا رہی اس کے ڈر سے اب پتا نہیں بے چاری کو کس کس طرح وے حراساں کر رہا ہوگا۔۔۔۔اپنے پیروں کو وہ زمین کی سطح پر داٸیں باٸیں گھوماتی ہوٸ سوچ رہی تھی۔۔۔
اچانک اپنے پاٶں کے پاس سڑک پر پڑا ایک سم کارڈ اس نے اٹھایا تھا۔۔۔
اتنی دیر میں ۔۔واسم نشا کے ساتھ مسکراتا ہوا گاڑی کی طرف آ رہا تھا۔۔۔ وہ بھی آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ گاڑی کی طرف جانےلگی۔۔
****************
نشا نشا ۔۔۔ تم ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑو گی۔۔
سوہا اپنے کمرے میں جا رہی تھی ۔۔ جب نورین کی آواز پر رک گٸ جو نشا کے کمرے سے آ رہی تھی۔۔۔
پتہ ہے تمہیں آج صاٸمہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ کیا مسٸلہ ہے نشا کو۔۔ اتنی مشکل سے اس کے ذہن کو بدلہ ہے میں نے۔۔۔ نورین دانت پیستے ہوۓ نشا کے کندھے کو ہلاتی ہوٸ بولی۔۔۔
مما مجھے واسم سےشای نہیں کرنی۔۔۔ نشا نے سپاٹ چہرے اور ساکن آنکھوں کو ایک غیر مرٸ نقطے پر جماتے ہوۓ کہا۔۔۔
تم سے تمھاری رضامندی کسی نے نہیں پوچھی۔۔۔ نورین اب غصے سے اس کے ساتھ بیٹھ کر بولی ۔۔۔
مما یہ ظلم ہے۔۔۔ نشا نے روہانسی آواز اور ڈبڈباتی آنکھوں سمیت کہا۔۔۔
نہیں صرف تمھارا دماغ خراب کر رکھا ہے اس لڑکے نے اور کچھ نہیں۔۔ نورین نے سخت لہجے میں کہا پر اس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا۔۔۔ جانتی تھیں بیٹی کی ایسی شکل ان کا دل پگھلا دے گی۔۔۔
مما آپ ایک دفعہ بابا سے تو بات کریں۔۔۔ نشا اب اٹھ کر نورین کے گھٹنے پکڑ کر بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
وہ بھی یہی کہیں گے جو میں کہہ رہی ہوں۔۔۔ ہنوز اسی انداز سے نورین نے کہا۔۔۔
ہم بہت خوش ہیں تمھارے رشتے سے۔۔۔ وہ نظریں چرا کر بولیں ۔۔ وہ نشا کے چہرے کو قطع نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔۔
زندگی آپ نے نہیں میں نے گزرانی ہے میری خوشی۔۔۔ زیادہ ضروری ہے۔۔ نشا نے تھوڑی سختی سے کہا۔۔ اور اٹھ کر کھڑی ہو گٸ۔۔۔
تم نا سمجھ ہو۔۔۔ شادی ہو جاۓ ایک دفعہ بھول جاٶ گی تم سب۔۔۔نورین بیڈ سے اٹھی تھی۔۔۔
سوہا تیزی سے دروازے سے دور ہوٸ اور اپنے کمرے میں چلی گٸ۔۔۔
********-**–**********
وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھی۔۔۔ اور بار بار نورین اور نشا کی باتیں اس کے ذہن میں گونج رہی تھیں۔۔۔
اسےنشا کی تکلیف محسوس ہونے لگے تھی۔۔۔ کیسے ماں باپ ہیں ۔۔۔دنیا کی ہر چیز بچپن سے قدموں میں لا کر رکھتے ہیں۔۔۔ پر زندگی کہ اس موڑ پر آ کر ان سے ان کی خوشی چھین لیتے ہیں ۔۔ کم از کم یہ لوگ ایک دفعہ اس لڑکے سے مل تو لیں۔۔۔ یقینا وہ واسم سے بہت اچھا ہو گا ۔۔۔ واسم تو نشا کے قابل بھی نہیں۔۔۔ نشا بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔ اور واسم وہ تو حوس کا پجاری ہے بہت جلد اس کا نشا سے بھی دل بھر جاۓ گا وہ اسے بھی چھوڑ دے گا ۔۔۔
کیا کروں ۔۔ کیا کروں۔۔۔ اپنے لب کچلتے ہوۓ سوچا۔۔۔ پھر ایک دم سے کچھ ذہن میں آتے ہی وہ اپنے بیگ سے کل والی سم تلاش کر رہی تھی۔۔۔
جلدی سے لیپ ٹاپ سے وہ ساری واسم کی تصاویر اس نے موباٸل میں ٹرانسفر کی تھیں۔۔۔
**********—************
موباٸل کی لاٸٹ اور مسیج کی ٹون پر اس نے بیڈ کے ساٸیڈ میز سے موباٸل اٹھایا تھا۔۔۔ ایک نظر گھڑی پر ڈالی رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔ آنکھوں کو ملتے ہوۓ اس نے فون کو اٹھایا تھا اور اپنی آنکھوں کو کھولا تھا۔۔۔ کچھ مس کالز بھی آ چکی تھیں اس نمبر سے۔۔
کوٸ واٹس ایپ مسیج تھا۔۔۔کوٸ انجان نمبر تھا ۔۔۔ جیسے ہی اس نے مسیج کھولا۔۔۔ تو آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گٸ تھیں۔۔۔ وہ چار تصاویر تھیں۔۔۔
جلدی سے اب اس کےہاتھ مطلوبہ نمبر ڈاٸل کر رہاتھا۔
ہیلو۔۔۔ واسم کی غصے سے بھری آواز نے ایک دفعہ تو سوہا کا دل دہلا دیا تھا۔۔۔
وہ واٸز چینجر انسٹال کر چکی تھی۔۔۔ اس لیے تھوڑی دیر میں ہی وہ اپنے کانپتے ہاتھوں پر قابو پا چکی تھی۔۔۔
کون ہو تم۔۔۔ وہ غرا رہا تھا۔۔۔ اور یہ تصاویر تمھارے پاس کہاں سے آٸیں۔۔۔ بارعب آواز تھی۔۔۔ واسم کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
یوں سمجھ لو۔۔ میں وہ واحد ہوں جو تمھاری اصل حقیقت جانتی ہوں۔۔۔ کہ تم کیا ہو۔۔۔بڑے نارمل انداز میں قہقہ لگا کر سوہا نے کہا۔۔۔
بکواس بند کرو۔۔۔ تم کچھ نہیں جانتی۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ اس آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
تصاویر میں وہ اور کیرن ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔۔ اور کیرن کا لباس اتنا نیچے تھا کہ نہ ہونے کے برابر تھا۔۔۔ واسم نے اسے کندھوں سے پکڑ رکھا تھا۔۔۔ تصاویر بہت دور سے زوم کر کے لی گٸ تھیں۔۔۔ تصاویر حقیقت کے بلکل برعکس کہانی پیش کر رہی تھی اگر کوٸ اسے دیکھ لے تو وہ یہی سمجھے گا کہ واسم نے لڑکی کو پکڑا ہوا ہے۔۔۔اور ایسے ہی چار نازیبا منظر کی تصاویر تھیں۔۔
کیا چاہتی ہو تم۔۔۔ تم وہی ہو جو لندن میں میرا پیچھا بھی کرتی تھی۔۔۔ واسم نے آنکھیں سکیڑ کر دھیمے مگر غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
ہاں ۔۔ وہی ہوں۔۔۔ میں چاہتی ہوں تم۔۔۔ نشا سے شادی کے لیے انکار کر دو۔۔۔ دو ٹوک الفاظ میں وہ مزے سے بولی۔۔۔
جسٹ شٹ اپ۔۔۔ کیا بکواس ہے یہ۔۔۔ کون ہو تم۔۔۔ اور میرا نمبر کیسے آیا تمھارے پاس واسم نے دھاڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔ غصے سے اس کی گردن کی رگیں باہر کو واضح ہو گٸ تھیں۔۔۔
جیسے بھی۔۔ آیا ہو۔۔ یہ بتانا میں نہیں چاہتی۔۔۔ بس جو میں نے کہا وہ کرو۔۔ بڑے مزے سے سوہا نے کہا۔۔۔
نہیں کرتا۔۔۔ واسم نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ تو اگلا نمبر نشا کا اور تمھارے دادا کا ہو گا۔۔۔ جن کو یہ فوٹو جاۓ گی۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ کون ہو سیدھے سے بتاٶ۔۔۔ اگر میں اپنے طریقے سے تم تک پہنچ گیا تو چھوڑوں گا نہیں تمہیں۔۔۔ واسم کا غصہ اب آسمان کو چھونے لگا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: