Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 12

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

کیا چاہتی کیا ہو ۔۔۔ واسم نے اپنے غصے پر قابو پا کر اس سے پوچھا۔۔۔ لیکن آواز میں ابھی بھی سختی برقرار تھی۔۔۔
واسم کا دماغ ایک دم سے گھوم گیا تھا۔۔۔ اب وہ چاہتا تھا تھوڑا تحمل سے بات کر کے جج کرے کہ آخر یہ ہے کون ۔۔۔
بتا تو چکی ہوں۔۔۔۔ نشا کو چھوڑنا ہے۔۔۔ سوہا نے چونگم چباتے ہوۓ کہا۔۔۔ اور بیڈ پر سیدھے لیٹ کر چھت کو گھورتے ہوۓ۔۔۔ ایک لمبی سانس لی۔۔
تم کیرن کے لیے کام کرتی ہو۔۔۔ واسم نے پر سوچ انداز میں اسے کھوجنے کے لیے کہا۔۔۔ وہ اب سگریٹ جلا رہا تھا۔۔۔ آنکھیں ایک دم سے پریشانی کی وجہ سے بوجھل سی ہو گٸ تھیں۔۔۔
نہیں بلکل نہیں۔۔۔میں کسی کے لیے کام نہیں کرتی۔۔۔ بس جو کام برا لگے اس کے خلاف کام کرتی ہوں۔۔۔ اپنے بال کہ لٹ کو انگلی میں گھوماتے ہوۓ وہ واسم کو تنگ کر کے مزہ لے رہی تھی۔۔۔
خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔ کہ جو بھی کرتا پھرے کسی کو خبر تک نہ ہو گی۔۔۔اللہ نے نشا کو بچانے کے لیے مجھے وسیلہ بنایا ہے۔۔۔ اس نےذہن میں سوچ کر اپنے تھوڑا تھوڑا ڈرتے دل کو تسلی بخشی۔۔۔
دیکھو تم جو بھی ہو یہ جانتی ہو یہ سب غلط ہے۔۔۔ واسم نے سگریٹ کا کش لگایا پھر اسی ہاتھ کو مخصوص انداز میں ما تھے پر پھیرا۔۔۔
یہ جھوٹی تصاویر غلط فہمی کا شکار کر سکتی ہیں کسی کو بھی۔۔۔وہ اب ہوامیں سگریٹ کے دھویں کو چھوڑ رہا تھا۔۔۔
اچھا تو پھر یہ بھی کہہ دو تم سگریٹ بھی نہیں پیتے۔۔۔ تمھارے گھروالوں کو تویہ بات بھی نہیں معلوم۔۔ سوہا نے آنکھیں سکیڑ کر اور چھوٹی سی ناک چڑھا کر کہا۔۔۔
واسم نے غصے سے ہاتھ میں پکڑے سگریٹ کو ایش ٹرے میں رگڑ ڈالا۔۔۔ یہ کون ہے آخر۔۔۔ اس کا دماغ شل ہو رہا تھا۔۔۔ بالوں کو ہاتھوں کی انگلیوں سے جکڑنے کے سے انداز میں پکڑا۔۔۔
اور خوب کہی جناب یہ تصاویر غلط فہمی کا شکار کریں گی۔۔۔ ارے یہ تو اس گھناٶنی حقیقت کو سب کے سامنے لاٸیں گی۔۔ جس سے سب لوگ انجان ہیں۔۔۔ اور آپ جیسے کو فرشتہ بنانے پر تلے ہوۓ ہیں۔۔۔ وہ باز نہیں آ رہی تھی واسم کا پارہ چڑھانے پر تلی ہوٸ تھی۔۔
تم جو بھی کہو لیکن تم یہ بہت غلط کر رہی ہو۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ واسم کا بس نہیں چل رہا تھا کہ فون میں سے ہاتھ نکال کر وہ اس لڑکی کا گلا دبوچ ڈالے
صیح غلط کے بارے میں تو میں نہیں جانتی۔۔ ہاں اتنا ضرور جانتی ہوں کہ ایک معصوم لڑکی کو تم سے بچا رہی ہوں۔۔۔ بڑے عزم کے سوتھ گویا ہوٸ۔۔۔
میں شادی سے انکار نہیں کروں گا۔۔۔واسم نے غرانے کے انداز میں کہا۔۔۔وہ جو نشا کو اپنے دل میں بھی چھپا کر رکھتا تھا ۔۔۔ اس نے تو کبھی اپنے دوستوں تک کو نشا کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔۔۔ تو یہ کون تھی جو اس کے اور نشا کے تعلق کو با خوبی جانتی تھی۔۔۔
میں تمہیں وقت دیتی ہوں۔۔ بڑے انداز سے سوہا نے کہا۔۔۔۔ جب کے نظریں اپنے گداز ہاتھوں کے ناخنوں کو جانچ رہی تھیں۔۔۔
اچھی طرح سوچ لو۔۔ نہیں تو تمھارا پردہ سب کے سامنے فاش کر دوں گی۔۔۔ دو ٹوک الفاظ میں واسم کو ڈراوا دیا اور چونگم کو پاس پڑے کوڑا دان میں اچھال دیا۔۔۔
کرو۔۔۔ شوق سے کرو۔۔۔ اس سے پہلے میں تمھارا پردہ فاش کر دوں گا۔۔ اور پھر جو تمھارا حشر کروں گا دنیا دیکھے گی۔۔۔ واسم کی برداشت ختم ہو چکی تھی فون بند کر کے اس نے زور سے بیڈپر اچھالا اور سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔۔۔
****************
ہیلو۔۔ہاں کیا پتہ چلا۔۔ ماتھے پر بل ڈالے پریشان سی صورت لیے وہ فون پر نوید سے پوچھ رہا تھا۔۔ آنکھیں رات تین بجے سے جاگنے اور اب شام چار بجے تک نوید کی کال کا بے تابی سے انتظار کرنے میں سرخ ہو چکی تھیں۔۔۔
وہ کیرن نہیں ہو سکتی۔۔ نوید نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔
بلکہ میں تو تم سے یہ کہوں گا وہ کیرن ہے ہی نہیں۔۔۔وہ تو ادھر لندن میں ہی ایک فرم میں بہت اچھی پوسٹ پر جاب کررہی ہے۔۔۔ نوید آج سارا دن کیرن کے بارے میں کھوج کر کے آخر اس تک پہنچ ہی گیا تھا۔۔۔ لیکن وہ تو بہت ریلکس تھی بلکہ واسم کا حال پوچھ رہی تھی اس سے۔۔۔
پھر کون ہو سکتاہے۔۔۔ وہ بہت دیر میرا پیچھا بھی کرتی رہی تھی۔۔ میں نے بہت ہلکا لیا اسے۔۔۔ واسم نے پریشانی میں اپنے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ہاتھوں کے پنجے سے پکڑ کر پیچھے کیا۔۔۔
اس دن پارک میں جب وہ پلٹ کر بھاگی تھی۔۔۔ مجھے تب ہی اسے پکڑ لینا چاہیے تھا۔۔۔ واسم افسوس سے گویا ہوا۔۔۔ آواز میں تجسس اور کرب کا ملا جلا تاثر تھا۔۔۔۔ جو بھی تھی۔۔۔ وہ اس کے بہت حساس رشتے پر حملہ آور ہوٸ تھی۔۔۔ نشا اس کی پہلی چاہت تھی۔۔۔ وہ اس کے بنا جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
لیکن یار میری تصاویر کیرن کے ساتھ ہیں۔۔۔ میرا سارا شک اسی پر جاتا ہے۔۔۔ اپنے ہونٹوں پر تجسس کے انداز میں انگلی رگڑتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔ ہونٹ بار بار سگریٹ پینے کی وجہ سے خشک ہو گۓ تھے۔۔۔
پر مجھے نہیں لگتا وہ کیرن ہے۔ تمھارا پاکستان والا نمبر تو میرے پاس بھی نہیں تھا۔۔۔ تو تم خود سوچ لو اس کے پاس کیسے آ سکتا ہے۔۔۔ نوید نے پھر سے اس کی سوچ کو رد کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
جو بھی ہے مجھے ابھی بھی اسی پر شک ہے۔۔۔ تم بس اس پر نظر رکھو۔۔۔ واسم پھر وہی بات کرتے ہوۓ لمبی سانس لے کر بیڈ پر ڈھے سا گیا۔۔۔
یار تم بھی عجیب چیز ہو واسم تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ کیرن نے یہ حرکت کی تھی تمھارے ساتھ تمھارے فلیٹ میں جا کر۔۔۔ نوید اسے ڈانٹنے کے انداز میں کہہ رہا تھا۔۔۔
اور وہ تھا کہ تجسس بھری سوچ میں بار بار اس لڑکی کے سراپے کے بارے میں سوچ رہا تھا جو اس دن پارک میں اسے دیکھ کر بھاگی تھی۔۔۔
***************
ارے آغا جان اتنی جلدی۔۔۔ تھوڑا سا رک جاٸیں۔۔ نورین کے بھاٸ آ جاٸیں باہر سے۔۔۔ عون نے پریشان سی شکل بنا کر کہا۔۔۔لیکن باپ کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھا۔۔۔
کوٸ بات نہیں۔۔ واسم ابھی صرف نکاح کرنے کا کہہ رہا ہے۔۔ آغا جان اپنے مخصوص بارعب انداز میں بولے۔۔۔ سب بڑے گردنیں جھکاۓ بیٹھے تھے۔۔۔
شادی تھوڑی نہ ہے۔۔۔ سادگی سے نکاح کریں گے۔۔۔ بس
رخصتی چند ماہ بعد جب نورین کے بھاٸ آٸیں گے تب کر لیں گے۔۔۔ آغا جان نے بہت پرسکون لہجے میں کہا۔۔۔
واسم نے آج ان سے اپنے اور نشا کے نکاح کی خواہش کی تھی۔۔۔۔۔۔ اس نے آغا جان سے کہا کہ وہ نکاح کے بعد اسلام آباد جا کر کسی بنک میں جاب کرنا چاہتا۔۔۔ اور آغا جان تو پہلے بھی لاڈلے پوتے کی ہر جاٸز فرماٸش پر خوش ہو جاتے تھے۔۔۔ اور اب بھی وہ اس بات پر بے حد خوش تھے۔۔
آغا جان جو بھی ہےپر آپ نے واسم کو بہت سر چڑھا رکھا ہے۔۔۔ ۔ زوجیج نے بھی عون کا ساتھ دیا تھا۔۔۔ ایک نظر عون پر ڈالی جس نے زوجیج کی بات پر سر تاٸید میں ہلا دیا تھا۔
اب یہ نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔۔۔ اس نے۔۔ میں اس بات پر بلکل بٕھی متفق نہیں ہوں۔۔۔ جب شادی ہو گی تب نکاح بھی ہو جاۓ گا۔۔۔ انھوں نے ہاتھوں کو ہوا میں چلاتے ہوۓ اپنے مخصوص انداز میں کہا۔۔۔ وہ تھوڑا کم دبتے تھے آغا جان سے۔۔۔
ارے کہاں آجکل تو ایسا ہی ہوتا ہےپہلے نکاح ہو جاتا یےبعد میں سال دو سال بعد رخصتی۔۔۔ صاٸمہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ بھی واسم کی خواہش پر خوش تھی۔۔۔
چلو کوٸ جاٸز رشتہ تو ہوتا ہے نہ۔۔۔ یہ منگنی تھوڑی کوٸ جاٸزہ رشتہ ہوا۔۔۔ وہ بڑے وثوق سے نورین کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔ پر نورین سپاٹ چہرہ لیے بیٹھی تھی۔۔۔ وہ نشا کی حالت سے پریشان ہوٸ بیٹھی تھی۔۔۔
آغا جان معزرت لیکن ابھی تو نشا بھی اس اچانک خبر پر ذہنی طور پر تیار نہیں ہے۔۔ نورین نے لب کچلتے ہوۓ تھوڑا جھجکتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
صبح سے کمرے میں بند بس روۓ ہی جا رہی ہے ۔۔۔ وہ اپنی بیٹی کی پریشانی میں خود بھی روہانسی ہو رہی تھیں۔۔۔
کیوں ۔۔۔ ایسا کیوں ہے۔۔۔ اچانک آغا جان کے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔۔۔
بچیاں تو بہت خوش ہوتی ہیں اپنی اس طرح کی رسموں پر۔۔۔ وہ تھوڑے الجھے لہجےمیں گویا ہوۓ۔۔
اس کی رخصتی تھوڑی نہ کر رہے ہم ۔۔بس نکاح ہی ہے۔۔وہ اپنی بات منوا کر ہی دم لینے والوں میں سے تھے۔۔۔
بس ایک عشرت تھی جو چپ کر کے بیٹھی تھی وہ اس وقت کسی ایک بھابھی کا ساتھ نہیں دینا چاہتی تھی۔۔ پر وہ دل سے واسم کی اس خواہش پر خوش تھی۔۔۔
۔رخصتی تک کر لے اپنے ذہن کو اچھی طرح تیار۔۔۔ اب آغا جان قہقہ لگا رہے تھے۔۔ تاکہ سب لوگ اب راضی ہو جاٸیں ان کی اس بات پر۔۔۔ انھوں نے ہمیشہ کی طرح سب بڑوں کو اکٹھا کیا تھا اپنے کمرے میں۔۔۔ اور اپنا حکم صادر کیا تھا۔۔۔
لیکن آغاجان۔۔۔۔نورین نے پھر سے لب کچلتے ہوۓ ابھی بات ہی شروع کی تھی۔۔۔
اب بس۔۔۔سب اٹھو اور جا کر کل شام کی نکاح کی تقریب کی تیاری کرو۔۔۔ ہاتھ کے اشارے اور ماتھے کے بلوں نے سب کو چپ کر کے اٹھنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
***************
ارے تم تو الٹ ہی چل پڑے۔۔۔ سوہا نے بڑے شوخ سے انداز میں کہا۔۔۔ جبکہ اس کے ہاتھ لیپ ٹاپ سے اس کی تصاویر مٹانے میں مصروف تھے۔۔۔
نشا کی حالت ابھی ابھی وہ دیکھ کر آ رہی تھی۔۔۔ وہ برے طریقے سے نڈھال ہو چکی تھی۔۔۔ سوہا کا دل کٹ کر رہ گیا تھا۔۔۔ وہ اس کی مدد کرنا چاہتی تھی لیکن یہاں تو معاملا ہی الٹ گیا تھا۔۔۔ واسم نے نکاح کرنے کا شور ڈال دیا تھا۔۔۔
میں نے تمہیں کہا کہ شادی سے انکار کر دو۔۔ تم نے تو ارجینٹ بیس پر۔۔ نکاح ہی رکھ چھوڑا نشا کے ساتھ۔۔۔ بڑا لہک کر گویا ہوٸ تھی وہ۔۔۔ تھوڑا ٹپوری سا انداز اپنایا تھا اس نے تاکہ واسم کو اس پر بلکل شک نا گزرے۔۔۔۔
میں کسی سے نہیں ڈرتا۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ وہ کار ڈراٸیو کرتے ہوۓ بولا۔۔۔ جبکہ سوہا کی باتوں کا غصہ وہ سٹیرنگ پر اتار رہا تھا۔۔۔
اپنے کردار کی اصلیت لوگوں کے سامنے آنے سے بھی نہیں ڈرتے۔۔ سوہا نے پھر سے بڑے چڑانے والے انداز میں کہا۔۔۔ جبکہ اب وہ لیپ ٹاپ بند کر رہی تھی ساری تصاویر وہ اپنے لیپ ٹاپ سے مٹا چکی تھی۔۔۔ وہ کوٸ بھی ایسا
11
ثبوت نہیں رکھنا چاہتی تھی جس کی وجہ سے اس پر واسم کا شک جاۓ۔۔۔
میرے کردار میں ایسا کوٸ جھول نہیں ہے۔۔۔ جو میں لوگوں سے ڈرتا پھروں۔۔ وہ واقعی اس کی اس بات پر چڑ گیا تھا پوری قوت سے ہارن پر ہاتھ مارا۔۔ ہارن نے تڑپ کر ہولناک آواز نکالی تھی۔۔
واہ ۔۔ واہ۔۔۔ آپ جھول کی بات کرتے ہیں۔۔۔ محترم یہاں تو پوری چادر ہی تار تار ہے۔۔ سوہا نے قہقہ لگا کر اسے اور جلایا تھا۔۔۔
تم نے جو کرنا ہےکرو۔ میرے گھر والے اور نشا سب کو مجھ پر بھروسہ ہے۔۔ ۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں غم اور غصے سے بوجھل ہو کر اب چیتے کی سی ہو گٸ تھیں ۔۔۔ ایسا چیتا جو اس فون والی لڑکی کو چیر پھاڑ دینا چاہتا ہو۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔م۔ بھروسہ۔۔۔۔۔اندھا اعتماد۔۔۔ مسٹر واسم یہ سب باتیں تب تک ہیں جب تک سب کے سامنے تمھاری اصلیت نہیں آ جاتی۔۔۔ سوہا اب کیمرے میں واسم کی تصاویر مٹا رہی تھی۔۔۔ بار بار اس کا انگوٹھا ڈلیٹ کی آپشن کو دبا رہا تھا۔۔۔
تم ایسا کرو تم اصلیت لے ہی آو سامنے۔۔ کیونکہ کل شام کو میں نشا سے نکاح کر رہا ہوں ۔۔ اور میں جانتا ہوں وہ مجھ سے اتنی محبت کرتی ہےکہ کبھی میرے خلاف غلط بات پر یقین نہیں کرے گی۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ موڑا کاٹا وہ فل سپیڈ میں گاڑی کو بھاگا رہا تھا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے۔۔۔ پھر دیکھ لیتے ہیں مسٹر واسم ۔۔ کہ تمھاری نشا۔۔ اوہ غلط کہہ گٸ ۔۔۔ سوہا کھلکھلا کر ہنسی اور واسم کے تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی۔۔۔
تمھاری وہ کبٕی نہیں ہو گی۔۔۔ بڑے وثوق سے کہا۔۔۔
نشا عون تمھاری اصلیت جاننےکے بعد تم سے شادی نہیں کرے گی۔۔۔ جسٹ ویٹ اینڈ واچ۔۔۔ بڑے رک رک کر وہ بولی تھی اور اس سے پہلے کے واسم بولتا وہ کال کاٹ چکی تھی۔۔۔
******************
ہاں نمبر پتہ چلا کس کا ہے۔۔۔ وہ میز پر ہاتھ رکھ کر سامنے والے لڑکے سے بولا۔۔
سر یہ کوٸ رفاقت ہے۔۔۔ لیکن ان کی تو دو ماہ پہلے کار حادثے میں ڈیتھ ہو چکی ہے۔۔۔ بہت ساری سم کارڈ ان کے نام پر اشو تھیں۔۔۔ یہ نمبر بھی ان میں سے ایک ہے۔۔۔ لڑکے نے اپنے سامنے پڑے سسٹم کے کی بورڈ پر انگلیاں چلاتے ہوۓ کہا۔۔۔
واسم نے ایک دم سے لب کچلے۔۔۔ پھر پر سوچ انداز میں ارد گرد دیکھا۔۔۔
اچھا تم ایسا کرو۔۔۔۔ ان کے گھر کا ایڈریس دو مجھے۔۔۔ میں خود پتہ کرتا ہوں۔۔۔ واسم نے اپنا موباٸل نکالتے ہوۓ کہا۔۔۔
اور اب جب اس نمبر سے کال اۓ گی تو اس کو ٹریس کرنا ہے۔۔۔ واسم اسے کہتا ہوا اٹھا اور اس سے مصحافہ کرتا ہوا باہر نکل گیا۔۔
****************
یہ واسم نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔ آغا جان نے غرانے کے انداز میں پاس کھڑے عون سے کہا۔۔۔ جو کے موباٸل کی سکرین سامنے کر کے کھڑا تھا۔۔ جس میں واسم کی نازیبا تصویر دیکھ کر آغا جان ہل گۓ تھے۔۔۔
آغا جان یہ واسم ہی ہے۔۔۔ عون نے دانت پیستے ہوۓ آغا جان سے کہا اور ناگواری کی نظر واسم پر ڈالی۔۔۔
یہ کیا تم ہو واسم ۔۔۔ آغا جان اب واسم کے سامنے کھڑے دھاڑ رہے تھے۔۔۔ جبکہ وہ سر جھکاۓ سرخ انکھیں لیے کھڑا تھا۔۔بولو۔۔۔ سچ سچ ۔۔۔ تم ہو کیا یہ ۔۔ بولو۔۔۔ چپ کیوں کھڑے ہو۔۔۔ آغا جان اب اور زور سے دھاڑے تھے سب لوگ کانپ گۓ تھے۔۔۔ سواۓ سوہا کہ جو ہونٹوں پر ہاتھ رکھے آنکھیں واسم پر مرکوز کیے سارا تماشہ دیکھ رہی تھی۔۔۔
آغا جان یہ میں ہی ہوں۔۔۔ واسم نے مدھم سے لہجے میں کہتے ہوۓ چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔ بال بکھرے۔ ۔۔ آنکھیں سرخ۔۔۔ لہجہ پریشان۔۔۔
آغا جان کا ایک زناٹے دار تھپڑ پہلی دفعہ واسم کے گال کی زینت بنا تھا۔۔۔ سب لوگوں کے منہ کھل گۓ تھے۔۔۔
پر آپ میری بات سنیں۔۔۔ اس تصویر میں جو کچھ بھی ہے۔۔۔ وہ سب غلط ہے۔۔۔ میں نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا ہے۔۔۔ واسم اب آگے ہو کر آغا جان کو التجا کے لہجے میں اپنی صفاٸ دے رہا تھا۔۔۔
آپکو اپنے واسم پر اعتبار ہے نہ۔۔۔ کرنا پڑے گا اعتبار۔۔۔ وہ بھیگی سی آواز میں ان کے آگے آیا جب کے آغا جان نے ناگواری سے چہرے کا رخ موڑ لیا۔۔
میں آپ کی بات نوید سے کرواتا ہوں۔۔ وہ تیزی سے اپنے موباٸل کو جیب سے نکالنے لگا۔۔۔
آغا جان اس کے علاوہ بھی بہت سی تصاویر ہیں۔۔۔ جن میں محترم سگریٹ اور شراب نوشی فرما رہے ہیں۔۔۔ عون پھر دانت پیستے ہوۓ بولے۔۔۔
غلط جھوٹ ہے سب ۔۔۔ صرف سگریٹ والی بات سچ ہے۔۔۔ ہاں سگریٹ میں پیتا ہوں۔۔۔ لیکن شراب اور عورت ان کے قریب بھی نہیں گیا ہوں۔۔۔ وہ تیزی سے عون کی طرف بڑھا اور اپنی سچاٸ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی لیکن وہ بھی چہرے کا رخ موڑ چکے تھے۔۔
زوجیج تو سر پکڑ کر ایک طرف بیٹھے تھے۔۔۔ جبکہ صاٸمہ بار بار اپنے آنسو رگڑ رہی تھی۔۔۔ ان سب میں واحد وہ تھی جو ابھی بھی دل سے اپنے بیٹے کی پاک دامنی کی گواہی دینے کو تیار تھیں۔۔۔
برخوردار ۔۔تصویر میں تم عورت کے ہی قریب ہو۔۔۔ نورین نے اپنا حصہ ڈالنا ضروری سمجھا۔۔۔ نشا نے چونک کر اپنی ماں کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ جو واسم کے گن گاتی نہیں تھکتی تھیں۔۔۔
واسم۔۔۔۔ واسم۔۔ ۔۔۔ کون کرے تمھاری بات پر یقین۔۔۔ آغا جان نے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔۔۔ جو واسم نے ان کے بازوٶں پر رکھے تھے۔۔۔
واسم ایک دم سے ڈھے سا گیا ۔۔۔ اس نے بے یقینی سے اپنے دادا کی طرف دیکھا۔۔۔ جب وہی ہی یقین نہیں کر رہے باقی رہ کون گیا۔۔۔
آغا جان آپ۔۔۔ آپ کریں۔۔ یقین ۔ یہ ساری تصاویر غلط ہیں۔۔۔ یہ لڑکی مجھے اپنے جال میں پھنسا رہی ہے۔۔۔ وہ ایک دفعہ پھر ہمت کر کے اپنی صفاٸ میں بولا۔۔۔
بڑی کہی ۔۔۔ چھوٹے نواب۔۔۔ لڑکی تمھارے گھر میں۔۔۔برہنا۔۔۔ تمھارے ساتھ کھڑی ہے۔۔۔ تم نے اسے کندھوں سے پکڑ رکھا ہے۔۔۔
نورین پھر ناگواری سے گویا ہوٸ تھی۔۔
تم کہتے ہو یہ اس کی چال ہے۔۔۔ انھوں نے غصے سے سر ایک طرف مارا۔۔۔
چچی آپ بات کو غلط رنگ دے رہی ہیں۔۔۔ بابا۔۔۔ بابا۔۔۔ یہ سب غلط ہے۔۔ وہ ایک دم صوفے پر بیٹھے زوجیج کی طرف بڑھا اور ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر نیچے بیٹھ گیا۔۔۔۔
پر وہ تو ساکت بیٹھے تھے۔۔۔ وہ نظریں چرا گۓ۔۔۔
آغا جان آپ یہ نوید سے بات کریں ۔۔۔ واسم نے جلدی سے نوید کا نمبر ملا کر آغا جان کے آگے کیا۔۔۔
جو انھوں نے کچھ پر سوچ انداز میں پکڑ لیا۔۔۔ اور کان کو لگایا۔۔
کچھ دیر وہ خاموشی سے نوید کی بات سنتے رہے۔۔۔ پھر گہری سانس خارج کی اور فون واسم کی طرف بڑھا دیا۔۔۔
پھر سر جھکا کر بیٹھ گۓ۔۔۔ کچھ دیر بلکل خاموشی رہی۔۔۔ سب لوگ آغا جان پر نظریں جما کر بیٹھے ہوۓ تھے۔۔۔
میں نے نوید کی بات بھی سنی ہے۔۔۔ اور واسم پر مجھے پورا بھروسہ ہے۔۔۔ واسم سب کچھ سچ کہہ رہا ہے۔۔ نکاح بلکل بھی نہیں رکے گا۔۔۔ آج شام کو واسم اور نشا کا نکاح ہو گا۔۔۔ آغا جان رک رک کر پر دو ٹوک لہجے میں بولے۔۔۔
واسم کے لب ایک دم سے مسکرا دۓ تھے۔۔۔
نشا اور سوہا کی آنکھیں ایک دم سے بے یقینی سے پھیل گٸ تھیں۔۔۔
آغا جان لیکن اب میں واسم سے شادی ہر گز نہیں کروں گی۔۔۔ نشا تھوڑی دیر سب کی طرف دیکھتی رہی لیکن کوٸ کچھ نہیں بولا پھر لب کچلتی ہوٸ آگے آٸ اور مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔
واسم نے ایک دم چونک کر نشا کی طرف دیکھا۔۔۔
تم سے کسی نے رضامندی لی۔۔۔ آغا جان نے سختی سے کہا۔۔۔ اور گھور کر نشا کی طرف دیکھا۔۔۔
آغا جان اب میرا دل راضی نہیں ہے۔۔۔ میں یہ شادی نہیں کروں گی۔۔۔ نشا نے دو ٹوک لہجے میں کہا۔۔۔ واسم کی بات نے اسے بہت ہمت دے دی تھی۔۔۔ یہ ہی وہ موقع تھا جب اسے کوشش کرنی تھی اپنے اور ارسل کے لیے۔۔۔
اگر آپ لوگوں نے زبردستی کی تو میں نکاح خواں کے سامنے انکار کر دوں گی۔۔۔ وہ اور سختی سے بولی۔۔۔
سب لوگ اسے حیران ہو کر دیکھ رہے تھے۔۔۔
نشا تم بیٹا واسم کے لیے اپنا دل برا مت کرو۔۔۔ یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔ میری خود نوید سے بات ہوٸ ہے۔۔۔ وہ لڑکی اچھی نہیں تھی۔۔۔ آغا جان نے تھوڑے دھیمے لہجے میں نشا کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا۔۔۔
آغا جان یہ صرف آپکی واسم کے لیے محبت بول رہی ہے۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔یہ۔۔۔ سب لوگ بھی آپ کے ڈر سے چپ ہیں۔۔۔ لیکن ان سب کا تو کچھ بھی نہیں جاۓ گا۔۔۔ نشا اب روہانسی ہو گٸ تھی۔۔۔
نشا بیٹا ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں سب تمھاری بھلاٸ چاہتے ہیں۔۔۔ آغا جان پھر پیار سے اسے قاٸل کرتے ہوۓ بولے۔۔۔
اچھا۔۔ یہ بھلاٸ میرے ساتھ ہی کیوں۔۔۔ اگر واسم اتنا ہی اچھا ہے تو آپ اپنی نواسی کا نکاح کریں اس سے۔۔۔ نشا چیختے ہوۓ بولی۔۔۔
سوہا کی کریں اس سے شادی تو میں مانوں ۔۔۔ آپ اپنی نواسی کی کریں گے ایسے بدکردار سے شادی۔۔ وہ دھاڑ رہی تھی اور سب منہ کھولے پھٹی آنکھوں سے بس اسے دیکھ ہی رہے تھے۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: