Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 13

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

نشا یہ کیا بکواس کر رہی ہو۔۔۔ عون اپنی جگہ سے تیزی سے اٹھ کرآۓ تھے اور نشا کو کندھے سے پکڑ کر اس کا رخ اپنی طرف موڑا۔۔۔
بابا یہ بکواس نہیں ہے۔۔۔ وہ اپنے ہوش وحواس کھوۓ ہوۓ لگ رہی تھی۔۔۔
واسم ساکن حالت میں کھڑا تھا باقی سب سوہا سمیت منہ کھولے بے یقینی کی حالت میں کھڑے نشا کی ہمت کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
آغا جان اپنی بیٹی کی بیٹی کو کیا اس آگ میں جھونکیں گے۔۔۔جس میں وہ مجھے جھونکنا چاہتے ہیں۔۔۔ نشا چیخ رہی تھی۔۔۔آواز رونے کی وجہ سے بھاری ہو رہی تھی انداز ضدی سا تھا۔۔۔
بتاٸیں آغا جان کیا میری جگہ سوہا ہوتی آپکی نواسی آپکی اکلوتی بیٹی کی اکلوتی نشانی۔۔۔کیا واسم کی حقیقت پتہ چلنے کے بعد بھی آپ اس کی شادی واسم سے کروا دیتے۔۔۔ وہ اب پھر رخ آغا جان کی طرف موڑ چکی تھی۔۔۔ جو دانت پیسے برداشت کی آخری حد پر تھے۔۔۔
سب لوگ آغا جان سمیت خاموش ہو گۓ تھے۔۔۔ سب کی نظریں اب آغا جان پر ٹکی ہوٸ تھیں۔۔۔
سوہا پھٹی پھٹی آنکھوں سے کبھی نشا کو دیکھ رہی تھی تو کبھی آغا جان کو۔۔۔
ہاں۔۔۔۔کر دیتا۔۔۔ مجھے واسم پر اعتماد ہے۔۔۔وہ میری پرچھاٸ ہے وہ کبھی بھی غلط حرکت نہیں کر سکتا ہے۔۔۔ آغا جان نے دھیمے مگر غرانے کے سے انداز میں کہا۔
تو پھر میں کیا ہوں آغا جان ۔۔۔ کیا میں آپکی کچھ نہیں لگتی۔۔۔ نشا پھر سے سوالیہ نظروں سے آغا جان کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ ارسل کی محبت سر چڑھ کر بول رہی تھی۔۔۔ بلکہ آج تو وہ بول ہی نہیں رہی تھی۔۔۔ اس میں تو آج کہیں ارسل ہی بول رہا تھا۔۔۔
تم بھی مجھے اتنی ہی پیاری ہو جتنا کے واسم۔ ۔۔ آغا جان نے ضبط کرتے ہوۓ نرم لہجے میں کہا۔۔۔
نہیں آغا جان میں آپکو پیاری نہیں ہوں۔۔۔ وہ روٹھے سے انداز میں بولی۔۔ آنکھوں سے لگاتار آنسو بہہ رہے تھے۔۔۔
اگر آج آپ مجھے سوہا کے برابر سمجھتے ہیں تو سوہا کا نکاح واسم سے کریں۔۔۔ میں دیکھتی ہوں آپ کرتے ہیں کیا۔۔۔ اور کیا اس بات پر آپکی بیٹی اور نواسسی مانتی ہیں کیا۔۔۔ نشا نے دو ٹوک لہجے میں تیزی سے کہا۔۔۔
سوہا کی تو جیسے جان پر بن گٸ تھی۔۔۔ وہ پریشان سی ہو کر ارد گرد یکھنے لگی تھی۔۔۔ پھر لب کچلتے پہلے واسم کی طرف دیکھا جو ساکت اور بے یقینی سے نشا پر نظریں مرکوز کر کے کھڑا تھا۔۔۔ اور پھر آغا جان کی طرف جنھوں نے ضبط سے مٹھیاں بند کی ہوٸ تھیں۔۔۔ جبڑے ایسے انداز میں باہر کو نکلے ہوۓ تھے۔۔۔جیسے کہ وہ ضبط کی آخری زینے پر کھڑے ہوں۔۔۔
تھوڑی دیر کے لیے ہولناک سی خاموشی چھا گٸ تھی۔۔۔ جس کے سحر کو آغا جان کی گرج دار آواز نے ہی توڑا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔اب میں بھی اگر تمھارا دادا ہوں تو۔۔۔ سوہا کا نکاح واسم سے ہی ہوگا ۔۔۔آج شام۔۔ وہ گرجتے ہوۓ نشا کے سر پر ہاتھ رکھ کر بولے۔۔۔ نشا نے ایک دم سے سکون سے آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔ اور جو آنسو ابھی پلکوں پر اٹکے ہوۓ تھے وہ بھی نچڑ کر گال پر بہہ گۓ تھے۔۔۔
سوہا اور عشرت کے علاوہ سب لوگ یہاں سے چلے جاٸیں۔۔۔ اسی وقت۔۔۔ بہت بارعب اور اونچی آواز میں آغا جان نے کہا تھا۔۔۔
سب لوگوں کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔۔۔ بے یقینی کی حالت میں کھڑے تھے۔۔۔
آغا جان میں سمجھاتا ہوں نشا کو نادان ہے بچی ہے گھبرا گٸ ہے واسم کی اس بات سے۔۔۔ عون جلدی سے آگے بڑھے تھے اور معدب انداز میں کہا۔۔۔
عون ۔۔۔ آغا جان نے ہاتھ آگے کر عون کو بڑھنے سے روک دیا۔۔۔
تمھاری بیٹی نے میری محبت کو آزمانے کی شرط رکھ ڈالی ہے۔ بہت ہی گھمبیر پر دکھ سے بھرا لہجہ تھا آغا جان کا۔۔۔
اب اس سے آگے اور کیا ہو گا ۔۔تم سب چلے جاٶ۔ یہاں سے۔۔۔ وہ بے رخی سے آواز کو اونچا کرتے ہوۓ بولے۔۔
سب لوگ جیسے ایک دم سے ہوش میں آۓ تھے۔۔۔کومیل واسم کو ایسے ہی ساکت حالت میں کندھے سے پکڑ کر لے کر جا رہا تھا اس کی حیران اور پریشان نظر صرف نشا کے چہرے پر ٹکی تھی۔۔۔ اس کا دل بری طرح ٹوٹا تھا۔۔۔
سب لوگ باہر جا چکے تھے اب وہاں صرف تین لوگ موجود تھے۔۔۔ ٹوٹے اور بکھرے سے آغا جان۔۔۔ باپ اور واسم کی محبت میں تر چہرہ لیے کھڑی عشرت اور بری طرح لب کچلتی ہاتھوں کو ملتی ۔۔۔ ماتھے پر پسینے کے بوندیں لیے سوہا اکبر۔۔۔
عشرت میری عزت اور مان اب تمھارے اور سوہا کے ہاتھ میں ہے۔۔۔ آغا جان سر نیچے کیے دھیرے سے بولے۔۔۔ آواز میں تھکاوٹ تھی۔۔۔ مان ٹوٹنے کی کرچیاں تھی۔۔۔
واسم کے کردار کی ضمانت میں دیتا ہوں۔۔۔ واسم میری پرچھاٸ ہے۔۔۔ وہ اب تھوڑا سا چہرہ اٹھا کر عشرت کی طرف دیکھ رہے تھے لیکن سوہا کی طرف دیکھنے کی ہمت ابھی نہیں تھی ان میں۔۔۔
وہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا ہے۔۔۔اور سوہا مجھے بہت پیاری ہے۔۔۔ آغا جان نے اپنا بھاری ہاتھ سوہا کے سر پر رکھا تھا۔۔۔ میں اس اچانک کے جوڑ کو اپنی ضد نہیں بلکہ اللہ کی رضا مان کر دل سے قبول کرتا ہوں۔۔۔ بہت مدھم سی آواز اور دکھ بھرا لہجہ تھا۔۔۔
سوہا کہ الفاظ ان کے لہجے کو محسوس کر کے اندر ہی گھٹ کر رہ گے تھے۔۔۔ دراصل وہ ابھی تک سمجھ ہی نہ پاٸ تھی یہ آخر کو ہو کیا گیا تھا۔۔۔
سوہا کو سمجھاٶ۔۔۔ آغا جان نے سوہا کے سر سے دھیرے سے اپنا ہاتھ اٹھایا۔۔۔ اور عشرت کی طرف دیکھتے ہوۓ تھکے سے لہجے میں کہا اور لونگ روم سے نکل گۓ۔۔۔
اور وہ ویسے ہی کھڑی تھی ساکت ۔۔۔ حیران۔۔۔ پریشان۔۔۔
******************
مما میں واسم سے شادی نہیں کر سکتی ۔۔۔ پر سوچ سے انداز میں سوہا نے کہا تھا۔۔۔ پر لہجہ پر عزم تھا۔۔۔
سوہا میرے بابا نے میرے حوالے سے بہت دکھ اٹھاۓ ہیں۔۔۔ بیٹا میں اپنی طرف سے ان کو مزید دکھ نہیں دینا چاہتی ہوں۔۔۔ عشرت نے سوہا کا چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔ اور ایک التجا بھری نظر سوہا پر ڈالی تھی۔۔۔
تم میرا مان میرا بھرم رکھ لو ان کے سامنے۔۔۔ وہ دھیرے سے بولیں اور محبت سے سوہا کی من موہنی سی صورت کو اپنی ہتھیلیوں میں بھر لیا تھا۔۔۔
مما پلیز۔۔۔ آپ میں۔۔۔ آغا جان میں اور ماموں ممانی میں کوٸ فرق نہیں۔۔۔ سوہا نے ناگواری سے عشرت کے ہاتھوں کو جھٹکا تھا۔۔۔
آپ سب خود غرض ہیں بس اپنی انا میں جینے والے۔۔۔ سوہا کے ماتھے پربل پڑ گۓ تھے ۔۔۔
سوہا پلیز میں تمھارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔ تمہیں اپنی ممتا کا واسطہ دیتی ہوں۔۔۔ تم واسم سے نکاح کر لو۔۔۔ عشرت تو اب باقاعدہ اس کے آگے ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گٸ تھیں۔۔۔ جن کو جلدی سے سوہا نے اپنے ہاتھوں سے الگ کر دیا تھا۔۔
مما یہ کیا کر رہی ہیں آپ۔۔۔ مجھے ایموشنل بلیک میل کر رہی ہیں آپ۔۔۔ لہجے میں ابھی بھی سختی تھی۔۔۔
دیکھو ابھی صرف نکاح ہے۔۔۔ اور رخصتی چند ماہ بعد ہوگی۔۔۔یا پھر سال بعد۔۔۔ تب تک معاملہ ٹھنڈا ہو جاۓ گا۔۔ وہ اب پھر سے سوہا کو قاٸل کر رہی تھیں اور اسے ایسے لالچ دے رہی تھیں جیسے کسی بچی کو لالچ دیتے تھے پرانے زمانے میں۔۔۔جب اس کی چھوٹی سی عمر میں شادی کرنی ہوتی تھی۔۔۔
میں خود آغا جان سے اور واسم سے بات کروں گی۔۔۔ تمھاری علیحدگی کروا دوں گی میں واسم سے ۔۔۔۔اگر تب تک بھی تمھیں واسم میں کوٸ براٸ نظر آٸ تو۔۔۔ وہ گڑ بڑا کر کہہ رہی تھیں بس یہ چاہتی تھیں کہ کہیں کسی طرح سوہا بس راضی ہو جاۓ۔۔۔
بس اس وقت کے لیے میرا مان رکھ لو۔۔۔ مجھے میرے بابا کے سامنے رسوا نا کرنا۔۔۔ اس دفعہ اپنی طرف سے میں ان کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہتی ہوں۔۔۔ عشرت روہانسی سی ہو گٸ تھیں۔۔۔
کہہ تو صیح رہی ہیں ابھی کون سا باقاعدہ شادی ہو رہی ہے۔۔ سوہا نے پر سوچ انداز میں ان کے آنسو صاف کیے۔۔۔۔
اگر میرے نکاح کرنے سے نشا کا راستہ صاف ہو جاتا ہے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہوگی۔۔۔ سوہا نے لب کچلے۔۔۔
واسم سے شادی میں بھی ہر گز نہیں کروں گی۔۔۔ پرعزم انداز میں سوچا۔۔۔
مما ۔۔۔ سوہا نے ہاتھ سے عشرت کا چہرہ اوپر کیا تھا۔۔۔
مما میں کروں گی نکاح۔۔۔ مدھم سی گھٹی سی آواز تھی۔۔۔۔
عشرت کے لب مسکرا دۓ تھے۔۔۔
*************
میں نے بچپن سے لے کر آج تک تمھاری ہر خواہش کے آگے سر کو جھکایا ہے۔۔آغا جان کی بھاری آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا۔۔
بے حس و حرکت ۔۔ واسم تھکا ہوا چہرہ اور ٹوٹا ہوا دل لیے آغا جان کےبلکل ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
آغا جان کے وسیع و عریض بیڈ روم میں لگے بڑے سے صوفے کی ایک طرف وہ بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
آج بھی سب کے خلاف ہو کر میں تمھارے ساتھ کھڑا ہوا۔۔ پھر سے آغا جان کی بھاری مگر دھیمی سی آواز ابھری۔۔۔ واسم ویسے ہی سر جھکاۓ۔۔۔ ماتم کنعان تھا۔۔۔
آج تمھیں مجھے مان دینا ہو گا۔۔ آج تمہیں میری خواہش کا ویسے ہی احترام کرنا ہو گا جیسے میں ہمیشہ سے تمھاری خوہش کو پورا کرتا آیا ہوں۔۔۔ آغا جان نے اب واسم کے مظبوط کندھے پر اپنا بھاری ہاتھ رکھا۔۔۔
میں آج شام کو نشا سے نہیں بلکہ اپنی نواسی سوہا اکبر سے تمھارا نکاح کرنے جا رہا ہوں۔۔۔ آغا جان لب بھینچے اس کے درد کو محسوس کرتے ہوۓ کہہ رہے تھے انھیں اندازاہ تھا کہ واسم کس کرب سے گزر رہا ہے۔۔۔ اس کی کتنی خواہش شامل تھی نشا سے شادی میں۔۔۔
مجھے امید ہے ہمیشہ کی طرح تم میرا سر نیچا نہیں ہونے دو گے۔۔۔ میرے مان میری عزت کے بھرم کی ڈور اب تمھارے ہاتھ میں ہے۔۔۔ وہ اب واسم کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے کر بولے۔۔۔
آغا جان بس ایک آخری کوشش ۔۔۔۔ واسم نے چہرہ اوپر اٹھایا تھا۔۔۔ آغا جان نے تڑپ کر اسے سینے سے لگایا تھا۔۔۔
*****************
مجھے نشا سی بات کرنی ہے۔۔۔ وہ نشا کے کمرے میں آیا تھا۔۔ وہ اور نورین خاموش بیٹھی تھیں۔۔۔
نورین واسم سے نظریں چراتی باہر نکل گٸ تھیں۔۔۔
تمہیں ۔۔۔ مجھ پر میری محبت پر اتنا سا بھی بھروسہ نہیں ہے۔۔۔وہ اب نشا کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا تھا۔۔۔ ٹوٹا ہوا بکھرا ہوا لہجہ تھا۔۔۔
نہیں ہے۔۔ نشا نے سر جھکاۓ سختی سے کہا۔۔۔ وہ واسم سے نظر نہیں ملانا چاہتی تھی۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ وہ جو بھی کر رہی ہے خود غرض ہو کر کر رہی ہے۔۔۔
12
پر وہ بھی کیا کرتی وہ بری طرح اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو چکی تھی۔۔۔
نشا میں بے قصور ہوں ۔۔ میں نے آج تک تمھارے سوا کسی لڑکی کے بارے میں سوچا تک نہیں ہے۔۔۔ واسم اس کے جھکے سر کو دیکھتے ہوۓ ماتم کنعان لہجے میں گویا ہوا۔۔۔
تم نے زنا کیا ہے۔۔۔ نشا نے ناگوار آواز میں اور سخت نگاہیں واسم پر ڈالتے ہوۓ کہا
واسم کو اس کے اس فقرے نے کاٹ کر رکھ دیا تھا۔۔۔اس نے تڑپ کر نشا ک طرف دیکھا جس نے پھر سے نظر پھیر لی تھی۔۔
ان تصویروں کے ساتھ لکھا ہوا تھا۔۔ کہ تم نے اس لڑکی کے ساتھ زبردستی کی اور۔۔۔ نشا ناگواری سے کہتی کہتی رک گٸ اور رخ دوسری طرف پھیر لیا۔۔۔
میں ایک زانی ۔۔۔ اور شرابی شخص سے کبھی بھی شادی نہیں کر سکتی ہوں۔۔۔ آواز بہت مدھم تھی لیکن لہجہ بہت کاٹ دار تھا۔۔۔
افف ۔۔۔ واسم کے تو جیسے تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی۔۔۔
مجھے کیا کرنا ہوگا اپنی سچاٸ ثابت کرنے کے لیے۔۔۔۔ ایک جھٹکے سے اس نے نشا کا بازو پکڑ کر رخ اپنی طرف موڑا تھا۔۔۔
سوہا سے نکاح۔۔۔ نشا نے واسم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا۔۔۔
****************
ہلکے سے کرمزی رنگ کے ریشمی جوڑے کو زیب تن کیے۔۔ ہلکا سا میک اپ کیے۔۔۔ بھرے بھرے ہونٹوں پر گلابی رنگ کی لپ سٹک کو مزین کیے۔۔۔ عشرت کے زیور کو گلے اور کانوں میں سجاۓ۔۔۔سر پر بڑے سلیقے سے دوپٹہ سجاۓ۔۔ وہ سپاٹ چہرے کے ساتھ سنگہار میز کے سٹول پر بیٹھی سوچوں کے سمندر میں غرق تھی۔۔۔
ساری عمر حوس زدہ مردوں سے نفرت کرتی رہی اور آج ایک ایسے ہی شخص کی زندگی کا اہم رکن بننے جا رہی ہوں۔۔ ایسے شخص کی دلہن بن کر اس کے نکاح میں آنے کے لیے بیٹھی ہوں جس کی اصل گھناٶنی حقیقت سے میں با خوبی واقف ہوں۔۔۔ ہلکے سے دوپٹہ سیدھا کرنے کو جو ہاتھ اٹھایا۔۔۔ تو کلاٸ میں کانچ کی چوڑیوں نے پر سکون کمرے کی خاموشی میں خلل ڈال دیا۔۔۔
بلکہ اس کی حقیقت سب کے سامنے لانے والی میں خود ہی ہوں۔۔۔ لبوں کو ایک دوسرے کے اندر پیوست کیا تو لالی لگے گالوں کے گھڑے واضح ہو کر خوبصورتی کو اور بڑھانے لگے۔۔۔
وہ سم بھی توڑ ڈالی تھی نہیں تو اسے دھمکی ۔۔۔۔ لیکن اب کس بات سے اسے دھماکاتی۔۔ ایک دم سے کچھ خیال آنے پر پہلے اٹھنے لگی تھی۔۔ پھر اگلا خیال آتے ہی چوڑیوں سے بھرے ہاتھ زور سے گود میں گرے تھے۔۔۔ چھن کی آواز سے کمرہ گونج اٹھا تھا۔۔۔
نکاح ہی ہے رخصتی تھوڑی نہ ہے۔۔۔ مجھے ڈرنے کی ضرورت ہر گز نہیں ہے۔۔۔ میرا مقصد نشا کو اور اس کے پیار کو ملانا تھا۔۔۔ اگر وہ میری اس قربا نی سے مل جاتے ہیں تو اس عارضی نکاح کرنے میں حرج ہی کیا ہے۔۔۔ اس نے خود کو سمجھا کر دل کو تسلی دی جو انجانے خوف سے لرز رہا تھا۔۔۔۔
ویسے بھی تو مما نے کہا ہے وہ واسم سے بات کریں گی اور وہ مجھے چھوڑ دے گا۔۔۔ اسے میرے جیسی کم عمر لڑکیاں پسند بھی نہیں ہیں۔۔۔ اپنے سراپے کو سامنے شیشے میں دیکھتے ہوۓ سوچا۔۔۔ آج تو اتنی چھوٹی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔ وہ اب رخ بدل بدل کر خود کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
********************
مبارک ہو۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ واسم کے ارد گرد سے اٹھتی آوازیں جب کانوں میں پڑی تو وہ جیسے ایک دم سے ہوش میں آیا۔۔۔
اس کو کومیل نے کھڑا کیا تھا۔۔۔ اب مختلف مرد باری باری اس سے بغل گیر ہو رہے تھے۔۔۔ اور ہر ایک کان کے قریب ہو کر مبارک ہو کی صدا لگاتا دور ہو رہا تھا۔۔۔
وہ سپاٹ چہرہ لیے کھڑا تھا۔۔۔ کریم رنگ کی بوسکی قمیض شلوار میں ۔۔ گلے میں پھولوں کی مالا ۔۔۔ بڑھی ہوٸ شیو۔۔۔ بھاری آنکھوں ۔۔ مڑی ہوٸ پلکوں۔۔۔ دکھ سے خشک ہوۓ خوبرو ہونٹ۔۔۔اور پیشانی پر ناگواری کے بل لیے کھڑا تھا۔۔۔
لوگ اس کی حالت سے یکسر بے نیاز باتوں میں مگن قہقے لگا رہا تھے۔۔۔
واسم بیٹھ جاٶ ۔۔۔ واسم۔۔۔ کومیل اب اس کے کان میں سر گوشی کر رہا تھا۔۔۔ وہ ویسے ہی ساکت کھڑا تھا۔۔۔ سب لوگ مبارک باد دینے کے بعد واپس اپنی اپنی جگہ پر جا چکے تھے۔۔۔
وسیع و عریض لان میں خوبصورت انتظام اسفند ولاز کی شان بڑھا رہا تھا۔۔
گھر والوں میں سے کسی کے بھی چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی۔۔۔ آج تو میرب اور محب بھی رو رو کر آنکھیں سجاۓ پھر رہے تھے۔۔۔
سب لوگ چپ چپ سے تھے۔۔۔ نشا کے علاوہ سب نیچے تھے۔۔۔ ایک دوسرے سے نظریں چراتے ۔۔۔ صاٸمہ کا رو رو کر برا حال تھا بار بار اپنی آنکھیں رگڑ رہی تھیں۔۔۔ بیٹے کی اتنی چاہت کے باوجود وہ اس لڑکی کو نہیں پا سکا تھا۔۔۔ جس کو وہ چاہتا تھا۔۔۔
عشرت اور شزا سوہا کو کندھوں سے پکڑ کر سٹیج کی طرف لا رہی تھیں۔۔۔ نکاح ہو چکا تھا ۔۔آغا جان کے حکم پر اب سوہا کو واسم کے ساتھ بیٹھانا تھا۔۔۔
آہستہ آہستہ چلتے ہوۓ سوہا نے سامنے دیکھا تھا۔۔۔وہ کوہ قاف کے شہزادوں کا مات دے دینے والا آج اپنی یک طرفہ محبت لٹاۓ۔۔ ایسے مسافر کی طرح بیٹھا تھا جس کا سارا سامان کوٸ لوٹ کر لے گیا ہو۔۔۔
اسے سٹیج کے پاس لا کر روک دیا گیا تھا۔۔۔ اتنا بھاری سوٹ تھا اور اتنا بھاری کام کا دوپٹہ کہ سوہا کے کندھے شل ہو گۓ تھے۔۔۔ اسے کہاں عادت تھی اس طرح کے کپڑوں کی۔۔۔
واسم۔۔۔ سوہا کا ہاتھ پکڑ کر سٹیج پر لاٶ ۔۔ کومیل نے دو دفعہ سرگوشی کی واسم کے کان میں۔۔۔ واسم ساکت سا بیٹھا تھا پھر جب تیسری دفعہ کومیل نے اس کا کندھا ہلا کر کہا۔۔۔
واسم نے تڑپ کر کومیل کی طرف دیکھا۔۔۔
اٹھو شاباش۔۔۔ کومیل نے پھر سے سر گوشی کی ۔ اور اس کے کندھے پر بڑے بھاٸ ہونے کے ناطے صبر اور برداشت کی تھپکی دی۔۔۔
سب مہمان دیکھ رہے ہیں یار اٹھو۔۔۔ کومیل نے دانت پیس کر کہا۔۔۔ واسم ایک جھٹکے سے سپاٹ چہرہ لیے اٹھا تھا ۔۔۔ پھر آگے بڑھ کر اپنی مظبوط ہتھیلی سوہا کے آگے پھیلا دی تھی۔۔
سوہا نے ایک نظر اس کی گہری لکیروں والی شفاف اور مظبوط ہتھیلی پر ڈالی پھر اپنا گداز سا مخروطی انگلیوں والا سفید ہاتھ اس کی ہتھیلی پر رکھ دیا۔۔۔ واسم نے زور سے پکڑا کر اسے تیزی سے اوپر چڑھایا تھا۔۔۔ خود پیچھے بھی نہ ہوا۔۔۔ سوہا ایک دم سے بری طرح اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔۔۔
افف اتنی گرم ہتھیلی تھی۔۔۔ سوہا کا ہاتھ ایک دم سے جیسے تپ گیا تھا۔۔ اسے کیا ٹمپریچر ہوا ہے۔۔ سوہا کے ذہن میں فورا خیال ابھرا۔۔۔
وہ اب اس کے پہلو میں بیٹھ چکی تھی ۔۔۔ واسم کے جسم سے نکلنے والی گرماٸش اسے بار بار یہ سوچنے پر مجبور کر رہی تھی کہ واسم کو بہت تیز بخار ہے۔۔۔
سب کے چہروں پر اب ہلکی ہلکی مسکراہٹ بکھر گٸ تھی۔۔۔
صاٸمہ سٹیج پر آٸ اور دونوں پر سے پیسے وارنے شروع کر دیے ۔۔۔ مدھم مدھم سی سرگوشیاں لوگوں کی بھیڑ سے ابھرنا شروع ہو گٸ تھیں۔۔۔
کیا جوڑی ہے۔۔۔ بہت اچھے لگ رہے ایک ساتھ۔۔۔چاند سورج کی جوڑی ہے۔ ۔۔۔ لڑکی کچھ چھوٹی نہیں لڑکے سے۔۔۔ کتنا کیوٹ کپل ہے۔۔۔ پرفیکٹ ہیں ایک دوسرے کے ساتھ ۔۔۔
کیمروں کی پڑتی رشنیوں کی تو جیسے بارش ہونے لگی تھی۔۔۔ سب لوگ ان کی تصاویر اتار رہے تھے۔۔۔
جب ایک دم سے سب نے چونک کے دیکھا تھا۔۔۔ آغا جان نشا کا ہاتھ پکڑے اسے لان میں لے کر آ رہے تھے۔۔۔ نشا سر جھکاۓ ان کے ساتھ ساتھ چلی آ رہی تھی۔۔۔ جب کے آغا جان کا چہرہ بھی واسم کی طرح سپاٹ تھا۔۔۔
آغا جان نے نشا کو سٹیج کے بلکل سامنے لا کر کھڑا کیا۔۔۔اور اس کا بازو چھوڑ دیا۔۔۔۔
نشا نے ایک نظر واسم اور سوہا پر ڈالی تھی۔۔ پھر جلدی سے نظریں چرا کر ایک طرف ہو گٸ تھی۔۔
واسم نے ایک تڑپتی نظر نشا پر ڈالی تھی۔۔۔ کرب سے آنکھیں لال سی ہو گٸ تھیں۔۔۔
نشا کچھ دیروہاں رکی پھر واسم کی نظروں سے بچنے کے لیے وہاں سے چلی گٸ۔۔۔
آغا جان۔۔۔ زوجیج ۔۔۔ عون ۔۔۔ نورین۔۔۔ صاٸمہ ۔۔ عشرت ۔۔۔ سب شرمندہ شرمندہ سے لوگوں کو وضاحتیں دے رہے تھے۔۔۔ کہ نشا کی جگہ سوہا کیوں ہے۔۔
سب کو یہی کہا کہ آغا جان کی خواہش تھی کہ سوہا ہی واسم کی دلہن بنے۔۔ آغا جان نے ساری بات اپنے سر پر لے لی تھی۔۔۔
****************
سوہا مجھے غلط ہر گز مت سمجھنا۔۔۔کہ میں خود پیچھے ہو گٸ اور تمھیں کنویں میں دھکیل دیا۔۔۔ نشا اسے کے سامنے سر جھکاۓ کھڑی تھی۔۔۔
تقریب ختم ہونے پر ابھی سوہا کمرے میں آٸ ہی تھی ۔۔ رات کا ایک بج گیا تھا۔۔۔ آتے ہی اس نے جلدی سے زیور اتارنے شروع کیے تھے وہ اتنی دیر اسطرح بندھ کے بیٹھے رہنے سے بری طرح تھک چکی تھی۔ ۔۔ابھی وہ زیور اتار ہی رہی تھی کہ نشا اس کے کمرے میں پہنچ گٸ تھی۔۔۔
واسم کے ساتھ میرا بچپن گزرا ہے۔۔۔ میں اسے جانتی ہوں۔۔۔ وہ مسلتے ہاتھوں کے ساتھ سوہا سے کہہ رہی تھی۔۔۔
میں نے اس کے بد کردار ہونے کے شک پر اسے نہیں چھوڑا۔۔۔۔ اسے چھوڑنے کی اصل وجہ کچھ اور ہے۔۔۔ وہ شرمندہ سی نظرآ رہی تھی۔۔۔
نشا تم کیوں شرمندہ ہوتی ہو۔۔۔ تم سب نہیں جانتی لیکن میں جانتی ہوں وہ سب سچ ہے جس کی بناپر تم نے اسے چھوڑا ہے۔۔۔ سوہا بظاہر خاموش بیٹھی لیکن دل میں وہی اٶٹ پٹانگ سوچے جا رہی تھی۔۔۔ اپنی طرف سے اس وقت وہ خود کو وہ ماہان ہستی سمجھ رہی تھی جس نے نشا جیسی مجبور لڑکی کو خود قربانی دے کر اس کے پیار سے ملا دیا تھا۔۔۔
میں اپنے اور واسم کے رشتے کو کبھی دل سے قبول کر ہی نہیں سکی۔۔۔ میں اس سے شادی کرنے پر کبھی بھی راضی نہیں تھی۔۔۔ نشا لب کچلتے بڑے دھیرے دھیرے سے اس سپر ومن کو وہ سب بتا رہی تھی جو وہ پہلے سے باخوبی اندازے لگا چکی تھی۔۔۔ یہ بھی بھلا ہو نشا کی دفعہ وہ اندازے سب درست لگا بیٹھی تھی۔۔۔ ویسے تو اندازے ہمیشہ ہی درست ہوتے تھے ۔۔۔ اس سپر لیڈی کے نشانہ چوکہ تو بس واسم دفعہ ۔۔۔ جس سے وہ بلکل انجان بازی پر بازی کھیلتی ہی چلی گٸ۔۔۔
12
واسم ایسا بلکل نہیں جیسا وہ تصویریں بیان کرتی ہیں۔۔۔ وہ درست کہہ رہا ہے کسی نے بہت بری طرح اسے پھنسایا ہے۔۔۔ نشا اب اس واسم کےلیے دل سے قاٸل کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
افف۔۔۔ سب بچی کو گردانتے مجھے۔۔۔ سوہا کو چڑ سی ہونے لگی۔۔۔
واسم سے شادی سے انکار صرف اور صرف میری خود غرضی تھی۔۔۔ نشا نے اب اس کے آگے ہاتھ جوڑ لیے تھے جن کو اس نے اٹھ کر تیزی سے پکڑ لیا تھا۔۔۔
پلیز تم صاف دل سے واسم کو اپنا لو۔۔۔
اور ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔ نشا تیزی سے کمرے سے باہر نکل گٸ تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: