Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 14

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

کیا مصیبت ہے اس نمبر پر اب کال بھی نہیں لگ رہی ہے۔۔۔واسم نے فون اٹھا کر مارا تھا۔۔۔ فون اچھلتا ہوا بنا آواز کیے بیڈ پر ڈھیر ہو گیا تھا۔۔۔
وہ بار بار اس نمبر پر کال کر رہا تھا۔۔۔ نمبر تھا کہ بند تھا۔۔۔ اب کال بھی ٹریس نہیں ہو سکتی تھی۔ بکھرے بالوں میں ایک دفعہ پھر سے ہاتھ پھیرا۔۔۔
واسم ابھی بھی نکاح والے شلوار قمیض میں ملبوس تھا۔۔۔ بال بکھر ے ہوۓ تھے۔ آنکھیں تین دن سے جاگ جاگ کر خواب ناک شکل اختیار کر چکی تھیں۔۔ دماغ شل ہوا پڑا تھا۔۔۔ وہ چاہتا تھا اب لڑکی اسے کال کرے لیکن اب اس کی طرف سے مکمل خاموشی تھی۔۔۔
کیا اسے اب سوہا سے ہونے والے اس کے نکاح کی خبر نہیں ہوٸ۔۔۔ وہ سمجھتی ہو گی بس نشا کا پتا صاف کر دیا ۔۔سگریٹ منہ میں دباۓ وہ گہری سوچ میں گم اس لڑکی کی کھوج میں لگا تھا۔۔۔
اسے یہ خبر نہیں کہ نکاح میرا پھر بھی ہو گیا ہے۔۔۔ ایک طنزیہ سی مسکراہٹ تھی جو اس کے لبوں پر پھیل گٸ تھی۔۔۔ جب کے آنکھیں اداس تھی۔۔۔
سوچتے سوچتے اچانک پھر سے نشا کی ناگواری اور نفرت بھری شکل سامنے آ گٸ۔۔۔ دل کر رہا تھا سب کچھ تحس نحس کر دے بس۔ ۔۔۔
کیسے پتہ چلے کہ وہ کون تھی۔۔۔جس نے میری زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا۔۔۔ بار بار سگریٹ کی راکھ کو ایش ٹرے میں غصے سے جھاڑ رہا تھا۔۔۔
میں اسے ہر حال میں تلاش کر کے ہی رہوں گا۔۔۔ نچلا خشک ہونٹ منہ کے اندر کیا تو اس پر جیسے مرہم سا لگا ہو۔۔۔ وہ تپ رہا تھا بخار میں۔۔۔لیکن ذہن تھا کہ گردش کر رہا تھا۔۔۔
اسے سب کے سامنے لے کر آوں گا۔۔۔ نشا کے سامنے۔۔۔آغا جان۔۔۔ کے سامنے۔۔۔
آنکھوں سے ننید تو کوسوں دور تھی۔۔۔ پر بخار نے نڈھال کر رکھا تھا۔۔۔
**************
تمہیں پتہ ہے آج میں کتنا خوش ہوں۔۔۔ ارسل نے چہکتی آواز میں کہا۔۔۔
تم خوش نہیں ہو کیا۔۔۔ ۔ ۔کچھ دیر خاموشی کے بعد ارسل نے کہا۔۔۔کیونکہ نشا چپ چپ سی تھی۔۔۔
میں۔۔۔۔ ہاں ۔۔۔ میں خوش ہوں۔۔۔ پر واسم کے ساتھ۔۔۔ وہ لب کچلتے ہوۓ کہہ گٸ۔۔۔واسم دو دن سے اپنے کمرے میں بند تھا اور نورین نے اسے بتایا تھا وہ بخار میں تپ رہا ہے۔
تمھارے پاس کیا شورٹی ہے کہ واسم جو کہہ رہا ہے وہ بلکل ٹھیک ہے۔۔۔ دکھ مجھے بھی ہو رہا ہے۔۔۔ لیکن تم نے کچھ غلط نہیں کیا۔۔۔ دھیمی سی آواز میں ارسل نے اسے اس کو گلٹ سے نکالنے کو کوشش کی۔۔۔
ہاں ۔۔۔ لیکن۔۔ وہ ایسا نہیں ہے۔۔۔ میں جانتی ہوں اسے بچپن سے۔۔۔ بہت گھٹی سی آواز میں کہا۔۔۔ وہ ٹیرس پر کھڑی تھی۔۔ اور ہوا اس کے بال آڑا رہی تھی جن کو وہ بار بار ہوتھوں سے پیچھے کر رہی تھی۔۔۔
میں یہ رشتہ ختم کرنا چاہتی تھی پر یوں نہیں جیسے ہوا۔۔۔ وہ تھوڑی سی روہانسی ہو رہی تھی ۔۔ کیونکہ اس کی وجہ سے دونوں فیملیز میں کھچ سی پڑ گٸ تھی۔۔۔ صاٸمہ اور میرب نے بلکل بات کرنا چھوڑ دیا تھا اس سے اور نورین سے۔۔۔
پر وہ چار سال باہر رہا ہے نشا ۔۔کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔ کیا پتہ اب ایسی ایکٹو یٹیز ہو گٸ ہوں اس کی۔۔ باہر کا ماحول بھی تو ایسا ہی ہوتا۔۔۔ ارسل اسے دلیل دے رہا تھا۔۔۔
شاٸد تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ نشا نے گہری سانس لے کر اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی۔۔
دیکھوتم نے جو بھی کیا بلکل ٹھیک کیا تمھیں پریشان ہونے اداس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔ ارسل نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
وہ محبت کرتا تھا تم سے تم نہیں ۔۔ اگر تم ایسا رشتہ اس کے ساتھ رکھتی تو یہ غلط ہوتا ۔۔ وہ دھیرے دھیرے اپنی میٹھی باتوں سے اس کے اندر کی شرمندگی کو کم کر رہا تھا۔۔۔
تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔۔ نشا نے دھیمی مگر پرسکون آواز میں کہا۔۔۔
ہم اب ریلکس ہو جاٶ۔۔۔ ارسل کی آواز میں پھر سے خوشی کا رس گھل گیا تھا۔۔۔
چلو پھر مجھے بتاٶ میں کب لے کر آٶں ۔۔۔ مما بابا کو۔۔۔۔ تھوڑے شوخ انداز میں کہا۔۔۔ نشا کے دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو گٸیں۔۔۔ لب مسکرا دیے تھے۔۔۔
ابھی کچھ دن نہیں۔۔۔ لیکن اچانک پھر سے گھر کے ماحول کے بارے میں سوچ کر اس کے ہونٹوں سے ہنسی غاٸب ہو گٸ تھی۔۔۔
*************
مما میں کیا کروں گی جا کر۔۔۔ سوہا نے بچوں کی طرح شکل بنا کر کہا۔۔۔
واسم کی طبیعت کا پوچھو گی اور کیا کرو گی۔۔۔ بیوی ہو تم اس کی عشرت نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا جو بستر سے نکلنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
مما میں کوٸ بیوی ویوی نہیں ہوں اس کی بس صرف نکاح ہی تو ہوا ہے ہمارا جس میں نہ تو میں خوش ہوں اور نہ وہ خوش ہے۔۔ سوہا نے کمبل دوبارہ سر تک تان لیا تھا۔۔۔
پھر بھی سوہا ۔۔۔ صاٸمہ بھی آ کر کہہ کر گٸ ہے۔۔کہ سوہا سے کہو واسم کی طبیعت کا پوچھ کر آۓ۔۔۔ آج دوسرا دن ہے وہ بخار میں تپ رہا ہے۔۔۔ عشرت نے پھر سے سوہا کے سر سے کمبل کھینچ لیا تھا۔۔۔ اب وہ ماتھے پر بل ڈالے اس سے کہہ رہی تھیں۔۔۔
مما آپ نے کہا نکاح کر لو میں نے کر لیا ۔۔۔ اب یہ فارمیلی ٹیز نہیں ہوں گی مجھ سے۔۔۔ سوہا چڑ کر اٹھ بیٹھی تھی اور گود میں ہاتھ رکھ کر خفگی سے سر پر کھڑی عشرت کی طرف دیکھا ۔۔۔ جو اسے گھور رہی تھیں۔۔۔
سوہا ۔۔۔ سوہا۔۔ تم سمجھ کیوں نہیں رہی۔۔۔ میں جانتی ہوں یہ نکاح عارضی ہے تم جانتی ہو۔۔۔ لیکن سب تو نہیں جانتے۔۔۔ عشرت نے اب کی بار تھوڑا نرمی سے کہا اور پاس بیٹھ گیں ۔۔۔
اوکے۔۔۔۔۔ چلیں پھر آپ ساتھ چلیں میرے ۔۔۔ مجھے اکیلے جانا عجیب لگ رہا ہے۔۔۔ سوہا نے کمبل ایک طرف کیا۔۔۔ اور انگلی کھڑی کر کے خبردار کرنے کے انداز میں عشرت سے کہا۔۔۔
توبہ ہے تم سے ۔۔۔ چلو۔۔۔ اپنا حلیہ درست کرو پہلے کیا بھوت بنی گھومتی رہتی ہو۔۔۔ عشرت نے ہاں میں سر ہلایا اور اسے باتھ روم کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔۔۔ سوہا کو بال کھول کر سونے کی عادت تھی ۔۔ بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ اپنے مخصوص انداز میں ڈھیلے ڈھالے ٹریوزر شرٹ میں ملبوس تھی۔۔۔
وہ بچوں کہ طرح ہونٹ باہر کو نکالتی بے دلی سے واش روم کی طرف بڑھی۔۔۔ جبکہ عشرت اس کے کپڑے نکال رہی تھی۔۔
انھوں نے سوہا کو تو یہ کہہ کر رام کر دیا تھا کہ تمھاری شادی میں واسم سے نہیں کروں گی۔۔ لیکن دل میں وہ ایسا بلکل نہیں چاہتی تھیں۔۔۔ وہ اس رشتے سے بہت خوش تھیں۔۔۔
کیسی طبیعت ہے واسم ۔۔ عشرت نے واسم کے کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔ اس کے پیچھے جز بز سی ہوتی سوہا تھی۔۔
واسم کمبل اوڑھے بیڈ پر نیم دراز تھا۔۔۔ بکھرے بال شیو اور بڑھ گٸ تھی۔۔۔ آنکھیں تھکی سی تھیں۔۔۔ ان کو دیکھتے ہی وہ بازو کا سہارا لے کر اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔
اس دن کے بعد آج واسم کو سوہا نظر آٸ تھی۔۔۔ ہکلے سے زرد رنگ کے قیمض شلوار میں اس کی دھودھیا رنگت دمک رہی تھی۔۔۔ اونچی پونی میں بال باندھے وہ چھوٹی سی لگ رہی تھی۔۔۔ واسم کے دل کو کسی عجیب سے احساس نے گھیرا۔۔۔ سوہا بچی سی لگی اسے۔۔۔ اسے خود پر ہی غصہ آنے لگا کیوں نکاح کیا اس سے۔۔۔ یہ بھی کیا سوچتی ہو گی اب میرے بارے میں۔۔
اب بہتر ہے پھپھو۔۔۔ وہ ایک اچٹتی سی نظر سوہا پر ڈال کر پر سوچ انداز میں گویا ہوا۔۔
خاموشی۔۔۔ خاموشی۔۔۔
تینوں نفوس کمرے میں خاموش سر جھکاۓ ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔
واسم ۔۔۔ عشرت نے ہمت کی اور بات شروع کی۔۔۔ دھیما سا لہجہ تھا۔۔۔
جو بھی ہوا۔۔۔ جیسے بھی ہوا۔۔۔مجھے خود بہت افسوس ہے۔۔ وہ ٹھہر ٹھہر کے الفاظ ادا کر رہی تھیں۔۔
۔لیکن یہ سب زندگی کا حصہ ہے۔۔۔ خوشی غم۔۔۔ زندگی کسی ایک شخص پر ختم نہیں ہوا کرتی۔۔زندگی ہمت سے حوصلے سے آگے بڑھنے کا نام ہے۔۔۔ عشرت بول رہی تھی اور واسم لب بھینچے ضبط کا دامن پکڑے سن رہا تھا۔۔۔
مجھے دیکھو سب کچھ گنوا دیا تھا اپنا۔۔۔ لیکن جی رہی تھی ۔۔۔ اور جی رہی ہوں۔۔۔ صبر کیا اور اللہ نے میری خوشیاں سوہا کی صورت میں میری جھولی میں ڈال دیں۔۔۔ عشرت نے محبت سے ساتھ بیٹھی سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔ سوہا نے زبردستی ہونٹوں پر مسکراہٹ سجاٸ۔۔۔
سوہا سے یہاں بیٹھنا اب مشکل ہو رہا تھا۔ وہ بے چین سی بیٹھی تھی اس نے بس کمرے میں داخل ہوتے ہی واسم پر ایک نظر ڈالی تھی۔۔ اب تو وہ نظریں کبھی جھکا رہی تھی تو کببھی ارد گرد کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی۔۔۔ کتنی حیرت کی بات تھی اسے یہاں آۓ دو ماہ سے زیادہ ہو گۓ تھے لیکن وہ کبھی واسم کے کمرے میں نہیں آٸ تھی۔۔۔ یہ کمرہ بھی بلکل اس کے لندن والے فلیٹ کی طرح خوبصورت تھا۔۔۔ہر چیز واسم کے پر ذوق ہونے کی گواہی دے رہی تھی۔۔
تمہیں بھی ہمت کرنی ہو گی۔۔۔ عشرت واسم کو حوصلہ دے رہی تھیں۔۔۔ اور وہ لب بھینچے چہرے پر کرب سجاۓ بس دھیرے سے سر ہلا رہا تھا۔۔۔
جی پھپھو۔۔ آپ ایسے پریشان نہ ہوں۔۔۔ایک دم سے واسم نے لمبی سانس لی تھی یہ وہ الفاظ تھے جو تقریبا اسے دو دن سے ہر کوٸ بول رہا تھا۔۔۔ وہ اب چڑ سا گیا تھا کوٸ بھی اس کے اندر کی حالت سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔ وہ اب خود کو زبردستی عشرت کے سامنے نارمل ظاہر کر رہا تھا۔۔۔
یہ آپکی بھتیجی کا انفیکشن نہیں ہے۔ ۔۔۔ یہ واٸرل انفیکشن ہے۔۔۔ واسم نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔ لیکن قہقہ ایسا تھا جس میں اس کے دل کا درد شامل تھا۔۔۔وہ پھپھو پر یہ ظاہر کر رہا تھا وہ نارمل ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔۔۔ وہ کڑھ رہا تھا۔۔اندر ہی اندر گھل رہا تھا بظاہر تو سب اس سے پیار جتا رہے تھے لیکن واسم کو لگتا تھا سب کے دل میں ابھی بھی اس کو لے کر شک باقی ہے۔۔
مجھے سب پتہ ہے یہ کونسا انفیکشن ہے۔۔۔ عشرت نے خفگی سے واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
اچھا چلیں بس کریں ۔۔۔ میری بیوی کے سامنے ہی لگی ہوٸ ہیں آپ۔۔۔ واسم نے شرارت سے عشرت کو چھیڑا۔۔۔ اور لبوں کی مسکراہٹ کو دبا کر ایک نظر سوہا پر ڈالی۔۔۔۔
سوہا نے چونک کر واسم کی طرف دیکھا ۔۔ وہ عشرت کے ساتھ مل کر ہنسنے میں مصروف تھا۔۔
چلو جی محترم نے تین راتوں میں مجھے بیوی مان بھی لیا۔۔۔ یہ ہوتے مرد۔۔ کل تک نشا کے پیچھے مرا جا رہا تھا۔۔۔ سوہا نے دانت پیستے ہوۓ سوچا۔۔۔
13
اچھا چلو تم اور سوہا باتیں کرو میں تمھارے لیے اپنے ہاتھوں سے سوپ بنا کر لاتی ہوں۔۔۔ اپنی آنکھوں کے نم کونوں کو ہاتھوں سے پونچھتے ہوۓ وہ خوشی سے کہتے ہوۓ صوفے سے اٹھی تھیں۔۔۔ واسم کی آخری بات نے انھیں خوش کر دیا تھا۔۔
مما۔۔۔۔ سوہا نے گھور کر عشرت کی طرف دیکھا۔۔۔ جیسے کہہ رہی
ہو مت جاٸیں کہاں جا رہی ہیں مجھے یوں واسم کے پاس اکیلا چھوڑ کر۔۔
لیکن عشرت اس کے گھورنے کو بے نیازی سے دیکھتے ہوۓ باہرجا چکی تھیں۔۔۔
سوہا پریشان سی ہو گٸ تھی۔۔۔ ایک نۓ رشتے سے آج وہ پہلی دفعہ واسم کے ساتھ یوں بیٹھی ہوٸ تھی۔۔ اسےعجیب سا احساس ہو رہا تھا۔۔۔ وہ بھی خاموش تھا۔۔۔ سوہا کو بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بات کرے۔۔۔ پتہ نہیں اتنا بولتی تھی وہ پر اس کے سامنے گھگی کیوں بندھ جاتی تھی۔۔۔
سوہا۔۔۔ آٸ۔۔۔ ایم ۔۔۔ ریلی۔۔۔ سوری۔۔۔ واسم کی بھاری آواز نے کمرےمیں موجود خاموشی کے راج کو ختم کیا تھا۔۔۔ ۔
سوہا نے پلکوں کی گری ہوٸ جھالر اٹھا کر ایک اچٹتی سی نظر واسم پر ڈالی تھی۔۔
وہ بہت سنجیدہ سی شکل اور تھکے سے انداز میں بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
یہ جو کچھ بھی ہوا اس میں تم بلاوجہ پھنس گٸ ہو۔۔۔ واسم نے بیڈ ساٸڈ میز پر پڑے گلاس کو دھیرے سے گھمایا تھا جب کی نظریں بھی گلاس میں موجود تھوڑے سے پانی میں بنتی لہروں پر ٹکی تھی۔۔۔اس کی آواز میں درد تھا۔۔۔
دیکھو میں ہر گز نشا کی یہ فضول شرط کا شکار تمہیں نہ ہونے دیتا ۔۔۔ پر مجھے خود کچھ بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔
وہ بول رہا تھا۔۔۔ اور اسے ایک عجیب سا احساس گھیر رہا تھا۔۔۔ جو بھی تھا شاٸد واسم نشا سے سچی محبت ہی کرتا تھا۔۔۔
سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا۔۔اور آغا جان۔۔۔ واسم نے لبوں پر زبان پھیری اور ایک نظر سامنے بیٹھی اس لڑکی پر ڈالی جو اب اس کے نکاح میں تھی۔۔۔ معصوم سی چھوٹی سی۔۔۔ نازک سی پریشان حال بیٹھی ہوٸ تھی۔۔۔
تم بہت چھوٹی ہو تم پر پتہ نہیں کیا اثر ہوا ہوگا۔۔۔ تم کس ذہنی اذیت سے گزری ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔۔۔ واسم نے پھر سے کہا اب کی بار اس کی آواز میں بلا کی شرمندگی تھی۔۔۔
اگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔۔۔واسم نے ٹوٹے سے لہجے میں کہا۔۔۔
سوہا نے چونک کر دیکھا ۔۔۔ واسم گردن نیچے گر کر لٹے پٹے مسافر کی طرح بیٹھا ہوا تھا۔۔۔
نہ ۔۔۔نہیں ایسی کوٸ بات نہیں۔۔۔ سوہا ایک دم سے خجل سی ہوی تھی۔۔۔
یہ لو۔۔۔ بھٸ تمھارا گرما گرم سوپ۔۔ عشرت کمرے میں آ رہی تھی اور پیچھے پیچھے رانی ٹرالی چلاتی آ رہی تھی۔۔۔
سوہا نے شکر کا سانس لیا۔۔۔ واسم مسکرا رہا تھا۔۔۔ پھیکی سی مسکراہٹ۔۔۔ عشرت کی نظریں دونوں کو محبت سے جانچ رہی تھیں کہ دونوں میں کوٸ بات ہوٸ بھی کہ نہیں۔۔۔
سوہا جلدی سے اجازت مانگتی وہاں سے باہر نکل آٸ تھی۔۔
*****************
تم نے مجھ سے بات کرنا کیوں چھوڑ دیا۔۔۔محب نے بازو رکھ کر راستہ روکا تھا۔۔۔
میرب تیزی سی اوپر سوہا کے کمرے میں آرہی تھی ایک دم سے رکی تھی۔۔۔
میں پہلے کب کرتی تھی تم سے بات۔۔۔ روکھے سے انداز میں میرب نے کہا اور زینے کی گرل کو ناخن سے رگڑا۔۔۔
چلو۔۔۔ بات نہیں کرتی تھی۔۔۔ لڑتی تو تھی نہ۔۔۔ محب نے مسکراتے ہوۓ ہلکے پھلکے سے انداز میں کہا۔۔
ان دونوں کی نوک جھونک سارا دن چلتی تھی۔۔ محب کو تو چین نہیں آتا تھا جب تک وہ اسے تنگ نا کر لے۔۔۔۔۔ اور اب اس دن کے بعد وہ سب آپس میں بات نہیں کرتے تھے۔۔۔
یار بڑوں کی بات ہے۔۔۔اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔ تم ایک ہفتے سے مجھ سے بات نہیں کر رہی میں جہاں جاتا ہوں۔۔۔ وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی ہو۔۔۔ محب اسے راستے سے نکلنے نہیں دے رہے تھا۔۔۔ پتہ نہیں کیوں لیکن اس سے میرب کی بے رخی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔۔۔
میرا دل نہیں کرتا نہ تم سے بات کرنے کو اور نہ نشا آپی سے۔۔۔ نہ چچی ۔۔ کسی سے بھی نہیں۔۔۔میرے بھاٸ کی حالت دیکھی ہے۔۔۔ وہ تیزی سے دانت پیستے ہوۓ کہہ رہی تھی اور آخری فقرے پر اس کی آنکھیں ڈبڈبا گٸ تھیں۔۔۔
میرب اس میں میرا کیا قصور ہے۔۔۔ میں تو خود واسم بھاٸ کی طرف ہوں۔۔۔ بچارگی سے کہا۔۔۔
اچھا تو جو باقی نشا نے اور چچی نے کیا وہ۔۔۔ بھول جاٶں کیا۔۔۔ میرب نے ماتھے پر بل ڈال کر کہا۔۔۔
میرب صرف نشا آپی نے کیا ہم میں سے کوٸ بھی اس فیصلے سے خوش نہیں ہے۔۔۔ محب کو اب غصہ آ گیا تھا۔۔۔
آ۔۔ ہاں۔۔۔ خوش نہیں ہیں۔۔۔ تو آج نشا کو جو کچھ لوگ دیکھنے آ رہے وہ کیا ہے۔۔۔ میرب نے اپنے مخصوص انداز میں چھوٹی سی ناک چڑھا کر کہا۔۔۔ لیکن اس دفعہ چہرے پر شوخی نہیں بھاٸ کی محبت کی اداسی تھی جو اب اپنے کمرے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا تھا۔۔۔
تو میرب اب ان کی بھی تو کرنی ہے نہ کہیں اور ۔۔۔ محب نے بڑے التجا والے انداز میں کہا۔۔۔ جب کے نظریں میرب کے ناراض سے چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔
کیسے کہہ دے اس پاگل سی لڑکی کو ۔۔ کہ وہ یوں جب منہ پھولا کر اس سے ناراض ہو جاتی ہے تو اس کے دل کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔۔۔
اور وہ تو خود اس دن سے باہر نہیں نکلی ہیں کمرے سے ۔۔۔ اب وہ نشا کی صفاٸ دے رہا تھا ۔۔۔
شاٸد شرمندہ ہیں اپنے کیے پر۔۔۔ تھوڑے سنجیدہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
کمرے سے تو ہر کسی نے نکلنا چھوڑا ہوا ہے۔۔۔ میرب نے سختی سے کہا اور زور سے اس کے بازو کو ہٹا کر اوپر بھاگ گٸ۔۔۔
میرب۔۔۔ میرب۔۔۔ عقب سے محب بار بار پکارتا ہی رہ گیا۔۔۔
********-**************
آغا جان مہمان آ گۓ ہیں۔۔۔ عون شرمندہ سی شکل لیے آغا جان کے پاس ان کے کمرے میں کھڑا تھا۔۔۔
میری طبیعت کچھ بہتر نہیں ہے۔۔۔ تم لوگ دیکھ لو لوگوں کو پرکھ لو۔۔۔ اچھے لگیں تو جلدی شادی کر دو۔۔۔ وہ ٹھہرے ٹھہرے لہجے میں گویا ہوۓ اور اپنا چشمہ اتار کر میز پر رکھ چھوڑا۔۔۔
آغا جان آپ کے بنا۔۔۔ ایسے کیسے۔۔۔ عون نے جھجکتے ہوۓ التجا کے انداز میں کہا۔۔۔
صاٸمہ نے بھی آنے سے منع کر دیا۔۔۔ ۔عون نے دھیمی سی آواز میں کہا۔۔۔
ارے بھٸ زوجیج ہے نہ وہاں۔۔۔ آغا جان نے تھوڑی ناگواری سے کہا۔۔۔
لیکن آغا جان آپ تو نہیں ہیں نہ۔۔۔ عون کی آواز اب بھیگی ہوٸ تھی۔۔۔ وہ بھی اس دن سے اداس ہی تھے۔۔۔ بس زوجیج نے ان کا ساتھ دیا تھا۔۔۔ باقی سب نے بات کرنا چھوڑا ہوا تھا۔۔۔وہ بھی کیا کرتے نشا جوان اولاد تھی ان کی اور جوان اولاد جب ضد پر آ جاۓ تو ماں باپ کو تھوڑا ڈھیلا ہونا پڑتا ہے ۔۔ نہیں تو بچے جزبات میں آ کر غلط راہ چن لیتے ہیں۔۔۔ وہ مجبور تھے۔۔۔ بیٹی تھی ان کی۔۔۔
بیٹی کا معاملا ہے۔۔۔ آغا جان ۔۔۔ اب باقاعدہ ان کی آنکھیں نم تھیں۔۔۔
تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔ آغا جان نے ایک گہری سانس لی اور چشمہ پھر سے اٹھا لیا۔۔
***************
ننگے پاٶں وہ ٹھنڈے ٹیرس پر باہر آٸ تھی۔۔۔ کمرے میں تھوڑی سی گھٹن بڑھ گٸ تھی۔۔۔ گرمی کا موسم ابھی ختم ہو رہا تھا اور سردی کی آمد آمد ہی تھی۔۔۔۔
آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ آگے آٸ اور گرل پر بازو ٹکا کر رات کی رانی کی مہک کو ناک کے نتھنوں سےزور زور سے سانس لیتے ہوۓ دل میں اتارا
نیچے لان پر نظر پڑی تو پھر تھم سی گٸ تھی۔۔۔ واسم لان میں کرسی پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
آج وہ دو ہفتے بعد اسے نظر آیا تھا۔۔۔ وہ سگریٹ پی رہا تھا رات کے دو بج رہے تھے۔۔۔ اور وہ جاگ رہا تھا۔۔۔ لان میں موجود مدھم سی روشنی میں وہ صاف نظر آ رہا تھا۔۔ سگریٹ ہاتھ میں تھی
افف کیا حال بنا لیا اس نے اپنا ۔۔۔ بال اور شیو دونوں بڑھے ہوۓ تھے۔۔۔ بال بکھرے ہوۓ تھے۔۔۔ ٹی شرٹ اور ٹریوزر پہنا ہوا تھا۔۔۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اور دوسری پر ٹانگیں رکھے کسی گہری سوچ میں تھا۔۔۔
آج ارسل نشا کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنا گیا تھا۔۔۔
صاٸمہ۔۔۔ میرب۔۔۔ اور واسم کے علاوہ باقی سب لوگ تقریب میں مو جود تھے۔
نشا اتنی خوش تھی۔۔۔ ایسی خوشی اس نے پاکستان آنے کے بعد اب دیکھی تھی اس کے چہرے پر۔۔۔
وہ خود بھی نشا کی خوشی میں خوش تھی تب تک جب تک واسم پر نظر نہیں پڑی تھی۔۔۔
اب پتا نہیں کیوں واسم کی حالت اسے گھٹن کا شکار کر رہی تھی۔۔۔ اسے نہیں پتہ وہ کیوں اسے بس دیکھے جا رہی تھی۔۔۔ کیا کوٸ کسی سے ایسے بھی محبت کرتا۔۔۔ وہ حیران سی واسم کو دیکھنے میں مگن تھی جب اچانک واسم نے چہرہ اوپر کر کے اسے دیکھا تھا۔
افف ۔۔ وہ ایک دم سے ۔ جھینپ گٸ تھی۔۔۔ جلدی سے دوسری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔
اور وہ اب اسی کی طرف دیکھے جا رہا تھا۔۔۔
سوہا نے ہاتھ دھیرے سے ھلایا تھا۔۔۔ وہ مسکرا دیا تھا۔۔۔
سوہا کا دل عجیب طرح سے دھڑکا تھا۔۔ فورا تیزی سے وہ خود سے ہی پریشان ہوتی ہوٸ کمرے میں آ گٸ تھی۔۔۔
کتنے دن بعد تو وہ لان کی تازہ ہوا میں آیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اگر آج نا نکلتا تو پھر شاٸد کبھی نہ نکل پاتا۔۔۔
بوجھل آنکھیں اور بوجھل دل لیے وہ سگریٹ پر سگریٹ پھونک رہا تھا۔۔۔اور میرب اور شزا بھابھی کی باتیں سوچ رہا تھا۔۔۔
وہ دونوں اسے نشا کی تصویریں دکھا رہی تھیں ۔۔ کہ دیکھو وہ کتنی خوش ہے۔۔۔ اور ایک تم ہو جو خود کو ختم کرنے پر تل گۓ ہو۔۔۔ اس کی وجہ سے ان تین ہفتوں میں اس سے جڑا ہر رشتہ پریشان ہو چکا تھا۔۔۔ میرب رو رہی تھی اور اسے نارمل رہنے کا کہہ رہی تھی۔۔
انھیں سوچوں میں گم اچانک کسی کی نظروں کی تپش محسوس ہوٸ تھی۔۔۔
ایک دم سے سر اٹھا کر دیکھا تو سوہا کھڑی تھی۔۔ وہی معصوم سا چہرہ نازک سا سراپا لیے۔۔۔
تو واسم زوجیج یہ ہے تمھاری شریک حیات ۔۔۔ نشا نہیں۔۔۔ لیکن اس سے میری ذہنی ہم آہنگی۔۔۔ ہنہ۔۔۔ کیا سوچ رہے ہو ایک تلخ سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر آ گٸ تھی۔۔۔
ذہنی ہم آہنگی تو میری نشا کے ساتھ بھی نہیں تھی۔۔۔
وہ دیکھ سوہا کی طرف رہا تھا لیکن اپنی سوچوں میں مگن تھا۔۔۔
جب سوہا نے اسے ہاتھ ہلایا۔۔۔
واسم کو اس کی اس حرکت پر ایک دم سے ہنسی آ گٸ تھی۔۔ وہ دھیرے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: