Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 15

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

آج کہاں میرا بچہ۔۔۔آغا جان نے بڑی خوش دلی سے سوہا کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔
وہ اپنے مخصوص انداز میں صبح صبح لان میں چاۓ اور اخبار کے ساتھ لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔ جب سوہا جوگرز پاٶں میں پہنے ۔۔۔ وہاں آٸ۔۔۔
جاگنگ آغا جان۔۔۔ مسکراتے ہوۓ کہا اور سر ان کے آگے کر دیا جس پر شفقت سے انھوں نے اپنا بھاری ہاتھ پھیرا۔۔۔
ارے واہ آپ جاگنگ بھی کرتی ہیں۔۔۔ بڑی ہی محبت بھری مسکراہٹ اور آنکھوں میں شرارت لا کر وہ بولے تھے۔۔۔
جب سے سوہا کا نکاح واسم سے ہوا تھا آغا جان کی سوہا کے لیے محبت اور شفقت گہری ہو گٸ تھی۔۔ اب تو جب تک کھانے کے میز پر سوہا نہیں آ جاتی تھی وہ کھانا نہیں شروع کرتے تھے۔۔۔
جی۔۔۔۔ اور کل سے آپ بھی جاٸیں گے۔۔۔ سوہا مسکراتی ہوٸ گویا ہوٸ۔۔۔ گالوں کےگڑھے گہرے ہوۓ ۔۔۔ تو آغا جان بھی اس کی پیاری صورت پر مسکرا دیۓ۔۔
ارے مجھ سے کہاں بھاگا جاتا ہے۔۔ چاۓ کا کپ ختم کر کے ایک طرف رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
دیکھیں تو کتنے موٹے ہو گۓ ہیں آپ۔۔۔ چلیں اٹھیں۔۔ بلکہ آج سے ہی چلیں۔۔۔ اب وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر بچوں کہ طرح ضد کر رہی تھی۔۔۔
ارے ارے۔۔۔ آغا جان کا قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔۔
ہاں تو ابھی آج آہستہ آہستہ واک کرنا شروع کریں نہ۔۔۔ پھر جاگنگ پر بھی آ جاٸیں گے۔۔۔ وہ ان کو اٹھانے پر بضد ہو گٸ تھی۔۔ اور وہ تھے کہ ہنسے جا رہے تھے۔۔۔
ایک شرط پر جاٶں گا۔۔۔ جاٶ پہلے اپنے میاں کو بھی لے کر آٶ۔۔۔ وہ ایک دم سے بڑے جوش میں اٹھے تھے۔۔۔ اور آنکھیں کچھ سوچ کر چمک اٹھی تھیں۔۔۔ لب شرارتی سی مسکراہٹ کو دبا رہے تھے۔۔۔
میاں۔۔۔ سوہا نے پہلی دفعہ سنے گۓ اس لفظ کو منہ ٹیڑھا سا کر کے دھرایا۔۔۔
اس کے انداز پر آغا جان نے پھر سے جاندار قہقہ لگایا تھا۔۔۔
ارے بھٸ تمھارا ہیزبینڈ۔۔۔ واسم۔۔۔۔ اس کو بھی لے کر آٶ۔۔۔ انھوں نے اس کے کندھے پر تھپکی کے انداز میں ہاتھ مارا ۔۔
سوہا ضرورت سے زیادہ ہی ہل گٸ۔۔۔ تھوک نگل کر بچاری سی شکل بنا کر آغا جان کی طرف دیکھا ۔۔۔
آغا جان یہ کیسی شرط ہوٸ بھلا۔۔ خفگی کے انداز میں کہا۔۔۔ وہ تو سارا دن واسم سے بچتی پھرتی رہتی تھی۔۔۔ پتہ نہیں جب بھی وہ سامنے آتا تھا۔۔۔ دل کو کچھ عجیب سا ہی ہونے لگتا تھا۔۔۔ اسے اپنے دل کی اس حالت سے عجیب سی الجھن ہونے لگی تھی۔۔۔ اس لیے وہ کوشش کرتی تھی کم سے کم وہ واسم کے سامنے جاۓ۔۔۔ ویسے تو واسم کے سوا باقی سب لوگ اب کافی نارمل ہو چکے تھے۔۔۔ ان کے رشتے کو دل سے قبول کر چکے تھے۔۔۔ پر وہ خود سے اور واسم سے چھپتی ہی رہتی تھی۔۔۔
یہی شرط ہے جناب جاٸیں پہلے واسم کو لے کر آٸیں پھر چلتے ہیں ہم بھی ۔۔۔ آغا جان بڑے انداز میں اسے پھنسا کر ہنس رہے تھے۔۔۔
اچھا تو یہ بات ہے۔۔۔ اس کا مطلب تو یہی ہو آپ جانا ہی نہیں چاہتے۔۔۔ سوہا نے جان خلاصی چاہی۔۔۔
اب تم اپنے ارادے سے پیچھے ہٹ رہی ہو میں نے تو صرف شرط رکھی تھی۔۔۔ آغا جان نے خفا سی شکل بنا کر کہا۔۔۔ اور پھر سے کرسی کی طرف مایوس سی شکل بنا کر بڑھے۔۔۔
اچھا چلیں پھر آپ بھی چلیں میرے ساتھ۔۔۔ سوہا نے ایک دم سے انھیں بازو سے تھاما تھا۔۔۔
اوہ ہو۔۔ چلو چلتا ہوں۔۔۔ وہ پہلے خفا سے ہوۓ پھر مسکرا کر راضی ہو گۓ۔۔۔
چلو ناک کرو دروازہ۔۔۔ آغا جان نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔۔۔ وہ دونوں اب واسم کے کمرے کے دروازے کے آگے کھڑے تھے۔۔۔
سوہا نے آہستہ سے اپنے داٸیں ہاتھ کی نرم مخروطی انگلیوں کو لکڑی کے دروازے پر مارا۔۔۔
وہ لب کچلتی اور آغا جان پر جوش سے کھڑے تھے۔۔۔ لیکن اندر تو کسی قسم کا کوٸ خلل نہ پیدا ہوا تھا اس دستک کے بعد
ارے بھٸ زور سے بجا ڈالو ایسے تھوڑی نہ آنکھ کھلے گی صاحب زادے کی۔۔۔ آغا جان نے پھر اسی جوش میں سرگوشی کی۔۔۔
وہ اپنے واسم کو پھر سے زندگی کی طرف لانا چاہتے تھے۔۔۔ وہ اس کو یہ باور کروانا چاہتے تھے کہ وہ صرف زبانی کلامی ہی اس پر یقین کا دعوی نہیں کر رہے بلکہ دل سے اس پر اس کے مظبوط کردار پر یقین کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن وہ تو ایسے سب سے بدگمان ہو بیٹھا تھا کہ کسی سے بھی بات ہی نہیں کرتا تھا۔۔۔ بس چپ چپ سا رہنے لگا تھا۔۔۔
سوہا نے پوری قوت لگا کر دروازہ بجا ڈالا تھا۔۔۔ لب بھینچے ہوۓ تھے۔۔۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی لیکن آغا جان تو ایسے پیچھے کھڑے تھے۔۔ جیسے کہ وہ بھاگ نا جاۓ کام پورا ہونے سے پہلے۔۔۔
ایک دم سے دروازہ کھولا تھا۔۔۔ اور وہ آنکھیں ملتا۔۔۔ بکھرے بال اور بڑھی ہوٸ شیو والا مجنوں سامنے کھڑا تھا۔۔۔
واسم کی بھنویں اپنی جگہ سے تھوڑی سی اوپر ہوٸ تھیں۔۔۔ نا سمجھی کی حالت میں ہونٹوں کا زاویہ بھی تھوڑا بدل گیا تھا اور آنکھیں بھی سکیڑ چکا تھا۔۔۔
کیا ہوا آپ دونوں کو۔۔۔۔ ابھی ابھی نیند سے جاگنے کی وجہ سے آواز دگنی بھاری ہو چکی تھی۔۔۔
تمھاری بیوی کہہ رہی تھی مجھے کہ واک پر چلیں ۔۔ میں نے کہا میں تو واسم کے بنا کہیں نہں جاتا۔۔۔ آغا جان نے زبردستی سنجیدہ سی شکل بنا کر کہا جبکہ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں۔۔۔
چلو شاباش جلدی سے آ جاٶ۔۔۔ آغا جان اس کی بے زار شکل سے بے نیازی برتتے ہوۓ گویا ہوۓ۔۔۔آواز میں تھوڑا رعب بھی آ گیا تھا۔۔۔
آغاجان میرا بلکل دل نہیں ہے۔۔۔ وہ دھیمی سی آواز میں بے زار سی شکل بنا کر بولا۔۔۔ سامنے کھڑی سوہا پر بس ایک نظر ڈالی اور پھر نظر چرا گیا۔۔۔
نخرے دیکھو ۔۔۔ سوہا نے دل ہی دل میں دانت پیستے ہوۓ سوچا ۔۔ جبکہ دل اتنے دن بعد اس کو یوں اتنے قریب سے دیکھ کر عجیب طرح سے لرزنے سا لگا تھا۔۔۔
بہت دن سے سوہا کا یوں واسم سے چھپنا واسم کو بہت کچھ باور کروا رہا تھا۔۔۔ اسے یوں محسوس ہوتا تھا سوہا بھی اس پر یقین نہیں کرتی۔۔۔ وہ اس رشتے کو قبول نہیں کر رہی ۔۔۔
ارے بھٸ یہ کیا بات ہوٸ۔۔۔ سوہا پھر میرا جانا بھی کنسل ۔۔۔ میں موٹا ہی ٹھیک ہوں۔۔۔ آ غا جان نے سچ میں خفا سے انداز سے کہا۔۔۔
اچھا رکیں ۔۔۔ واسم نے آغا جان کو مڑتے دیکھ کر ایک دم سے کہا۔۔۔
میں آتا ہوں۔۔۔ چلیں آپ لوگ نیچے۔۔۔ وہ خجل سا ہو کر اپنی گردن پر خارش کرتا ہوا بولا۔۔۔
******************
ہماری بات کبھی نہیں مانتے تھے۔۔۔ واسم نے ایک نظر بینچ پر بیٹھے آغا جان پر ڈالی اور پھر سوہا کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔
آغا جان تھوڑی سی واک کرنے کے بعد پارک میں لگے ایک بینچ پر اپنی پھولی سانسوں کو بحال کرنے میں لگے تھے۔۔۔
میری بھی کہاں مان رہے تھے۔۔۔ سوہا دھیرے دھیرے واسم کے قدم سے قدم ملا کر چل رہی تھی۔۔۔
لیکن پھر بھی تم پارک تک تو لے آٸ نہ۔۔۔ واسم بھی اب رک گیا تھا اور ایک بھر پور نظر سامنے کھڑی سوہا پر ڈالی۔۔
ہلکے گلابی رنگ کے شلوار قمیض میں اس کا چہرہ بھی گلابی ہی لگ رہا تھا۔۔۔ مخصوص سنہری لمبے بالوں کی اونچی سی پونی ۔۔ صاف شفاف چہرہ۔۔۔ اور گال کے گڑھے۔۔۔ وہی معصومیت۔۔۔ شفاف آنکھیں۔۔۔
ہم وہ تو لے آٸ۔۔۔ پر اور کچھ بھی ابھی باقی ہے۔۔۔ نچلے ہونٹ کے ایک کونے کو دانتوں میں دبا کر کہا۔۔۔
کیا۔۔ واسم نے تجسس میں آ کر سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوۓ کہا
رضا ماموں ۔۔ اور پھپھو کو گھر بلانا چاہتی ہوں۔۔۔ آغا جان اور ان کی برسوں کی ناراضگی ختم کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
سوہا نے واسم کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔۔ پر جلد ہی فورا اس کی خیرہ کر دینے والی آنکھوں کے سحر سے بچنے کے لیے نظریں پھیر لیں۔۔۔
وہ ملگجے سے حلیے میں بھی آفت ڈھا رہا تھا۔۔۔ ڈھیلے ڈھالے ٹرایوزر شرٹ میں بڑھی ہوٸ شیو بڑھے ہوۓ بال بادامی خواب ناک آنکھیں جو گھنی پلکوں کے نیند سے بھاری ہونے کی وجہ سے با مشکل آنکھوں کے پٹ کھولے ہوۓ تھیں۔۔وہی لب جو پہلے گہری خوبصورت مسکراہٹ سجاۓ رکھتے تھے اب اکثر ایک دوسرے میں پیوست ہی نظر آتے تھے
دماغ نہیں نہیں چیخ رہا تھا۔۔ جبکے دل تھا کہ اس شخص کی چاہت کے لیے ہمکنے لگا تھا۔۔
ہم۔م۔م۔ کیا ہو تم۔۔۔ ایک دم سے پر سوچ انداز میں واسم نے کہا۔۔ وہ بہت غور سے مگر سنجیدہ شکل بنا کر سوہا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ سوہا نے نا سمجھی حالت میں کہا۔۔۔
میرا مطلب ۔۔۔ تم وہ نہیں ہو ۔۔ جو مجھے لگتا تھا ۔۔ تھا۔۔ واسم کا چہرہ اور لہجہ ہنوز وہی تھا۔۔۔
مہ۔۔میں سمجھی نہیں۔۔۔ سوہا گڑ بڑا سی گٸ تھی واسم کے اس انداز سے۔۔۔
تم بہت اچھی ہو۔۔۔ کچھ دیر کی خاموشی کی بعد لب بھینچے واسم نے کہا تھا
سوہا ایک دم سے اس کی تعریف پر گڑ بڑا سی گٸ تھی۔۔۔
افف دل نادان کے خون کی ترسیل کی رفتار ایک دم سے جیسے بڑھ گٸ تھی۔۔۔ ہاتھ بھیگ سے گۓ تھے۔۔
لیکن وہ تو نارمل ہی کھڑا تھا اس کو پاگل کرنے کے بعد بھی۔۔۔
کیا سب لڑکیاں اس کی انھیں باتوں میں آ جاتی ہوں گی ۔۔۔ ایک دم سے دل کو سرزنش کرنے کے بعد دماغ نے آخر پھر سے اپنی دھاک بیٹھا ہی دی تھی۔۔۔
وہ خاموشی سے واسم کو وہیں چھوڑ کر آغا جان کی طرف جا رہی تھی۔۔۔
****************
مجھے آنٹی کا رویہ کچھ اکھڑا اکھڑا سا لگتا ہے اپنے ساتھ۔۔۔ نشا نے بے چین سی شکل بنا کر ارسل سے کہا۔۔ایک کان کو فون لگاۓ وہ پریشان سی بیڈ پر بیٹھی ہوٸ تھی۔۔۔
نہیں ۔۔۔ تو ۔۔ ایسا کچھ نہیں۔۔۔ ارسل نے اس کے وہم کی نفی کی۔۔۔
ارسل کیا آنٹی مشکل سے راضی ہوٸ ہیں اس رشتے پر۔۔۔ نشا کی سوٸ پھر بھی وہیں اٹکی تھی۔۔۔ بیڈ کی چادر کے ڈیزاین پر انگلی پھیرتے ہوۓ وہ اداس سے لہجے میں گویا ہوٸ۔۔۔
ارے۔۔ کیا سوچے جا رہی ہو۔۔ ارسل نے خوش مزاجی سے اس کی بات کی پھر سے تردید کر دی۔۔۔
ارسل جو میں پوچھ رہی ہوں اس کا جواب دو ۔۔ نشا نے تھوڑی خفگی اور ضد میں کہا۔۔۔
ارسل کی مما کا رویہ اسے نسبت کے دن بھی ایسا ہی لگا تھا روکھا سا بے دل سا اور پرسوں جب وہ لوگ شادی کے دن رکھنے آۓ تھے تب بھی ایسا ہی تھا۔۔۔ نشا کا دل بجھ سا گیا تھا ۔۔۔ اسے شاٸد صاٸمہ کی بھرپور چاہت کی عادت تھی اس لیے ایسا لگتا تھا اسے۔۔۔
آہاں۔۔۔ تھوڑی مشکل ہوٸ ۔۔ تھی۔۔۔ لیکن وہ مجھ سے بہت
14
محبت کرتی ہیں ۔۔۔ اور ان کو ماننا پڑا۔۔۔ ارسل نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔
ارسل وہ دل سے راضی ابھی بھی نہیں ہیں۔۔۔نشا نےگھٹی سی آواز میں اپنا خوف ظاہر کیا۔۔۔۔
ارے ۔۔۔۔جان ارسل ۔۔۔ تم آٶ گی نہ تو آ کر دل میں بھی گھس جاٶ گی ان کے فکر نہ کرو ۔۔ ارسل نے ہنستے ہوۓ کہا۔۔۔
تم نے میرا دل دماغ سب کچھ اپنے قبضے میں کر رکھا ہے نہ بس بہت ہو گا تمھارے لیے۔۔۔ میں تمہیں پیار ہی اتنا دوں گا تم کسی اور کے رویے کے بارے میں سوچ ہی نہیں پاٶ گی۔۔۔ محبت بھرے الفاظ محبت بھرے لہجے میں ارسل نے بولے تھے۔۔۔
ہم۔م۔م۔ نشا نے بے دلی سے جواب دیا۔۔۔
تم بس مجھے یہ بتاٶ کہ شادی کی تیاری کیسی جا رہی ہے۔۔ارسل نے اس کا موڈ بہتر کرنے کے لیے جلدی سے باتوں کا رخ موڑ لیا تھا۔۔
******************
تمہیں کیا ہو رہا ہے۔۔ میرب کچن سے باہر نکلنے لگی تھی جب اچانک محب آگے آ گیا تھا اور ایسے قدم بڑھا رہا تھا کہ میرب کو قدم پیچھے لے کر جانے پڑ رہے تھے۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ ہنوز وہی ڈھیٹ پن ۔۔ جو پورے ایک مہینے سے اپناۓ ہوۓ تھا۔۔۔ جب سے نشا اور واسم کا رشتہ ختم ہوا تھا ۔۔ میرب نے اس سے بھی تھوڑی بات کرنا کم کر دی تھی۔۔۔لیکن وہ مخصوص شرارتیں کر کر کے اس کا دل جیتنے کی کوشش میں لگا رہتا تھا۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے پھر کیا۔۔ میرب کے ہاتھ میں ٹرے پکڑی تھی جس میں اس نے شزا کے لیے گرم گرم یخنی کی پلیٹ رکھی ہوٸ تھی۔۔۔
جی بلکل بلکل ٹھیک ہے۔۔۔بس دل کا حال پتلا ہے ذارا ۔۔۔ وہ دل پر ہاتھ رکھ کر میرب کی طرف اک ادا سے جھکا تھا۔۔۔
نہیں مجھے دماغ بھی خراب ہی لگ رہا ہے ۔۔۔ میرب نے اس کی اس ادا پر امڈ آنے والی ہنسی کو با مشکل روکا۔۔۔
اچھا ۔۔۔۔ جاٶ ذرا پھر مرحا کی تصویر تو بنا کر لا دو۔۔۔ کومیل کے کل رات کو بیٹی ہوٸ تھی۔۔۔ اہل کومیل ۔۔۔۔ایک تین سال کے بیٹے کے بعد یہ اب مرحا کومیل۔۔۔۔ شزا اور کومیل کا دوسرا بچہ تھی۔۔
میں تو اگر کومیل بھاٸ کے کمرے کے پاس بھی جاتا ہوں تو ۔۔ تاٸ جان۔۔۔ ہٹلر کی طرح گھورتی ہیں قسم سے۔۔۔ جان ہی نکل جاتی ہے۔۔۔ محب نے سینے پر ہاتھ رکھ کر ڈرنے کی پوری ایکٹنگ کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
صاٸمہ نے اپنی قطع تعلقی ابھی بھی ختم نہیں کی تھی۔۔۔وہ ہنوز ابھی بھی اپنے بیٹے کی حالت دیکھ دیکھ کر دل برا کرتی رہتی تھیں اور یہی وجہ تھی وہ نورین سے اور اس کے بچوں سے روکھی روکھی سی رہتی تھیں۔۔۔ اب شزا کے بیٹی ہوٸ تھی۔۔۔ لیکن انھوں نے نورین کو اوپر بتانا تک گوارا نہیں کیا تھا۔۔۔
پہلے بتاٶ کس نے مانگی ہے۔۔۔ میرب نے آنکھوں کو سکیڑ کر محب کی طرف دیکھتے ہوۓ پوچھا۔۔۔
ہم۔۔م۔۔۔م۔۔۔م۔۔۔کسی نے نہیں ۔۔۔ مجھے دیکھنی ہے۔۔۔ لب بھینچ کر اس پر انگلی رکھتے ہوۓ ۔۔۔ محب نے جھوٹ بولا۔۔۔
جھوٹ ۔۔۔ نشا آپی نے کہا ہے نہ۔۔۔ میرب نے انگلی کھڑی کر کے اپنی بات کی تاٸید چاہی۔۔۔
ارے نہیں تو۔۔۔ مجھے دیکھنی ہے۔۔۔ بھتیجی ہے میری چاچو ہوں اسکا۔۔۔ان فیوچر رشتہ ڈبل بھی ہو سکتا ۔۔۔ محب نے محبت بھری نظروں سے میرب کی طرف دیکھا۔۔۔ اور شرارت سے لبوں کی مسکراہٹ کو دبایا۔۔
کیا مطلب اس بات کا۔۔۔ میرب ایک دم سے جھینپ سی گٸ ۔۔۔ پر زبردستی کی سختی چہرے پر سجا کر بولی۔۔۔
مطلب ۔۔۔ کیا ۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔۔۔ جاٶ یہ تصویر بنا کر لاٶ۔۔۔۔ ایک دم سے محب نے خجل سا ہو کر ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔ اور اپنا موباٸل میرب کی طرف بڑھایا۔۔۔۔۔
میرے پاس ہے موباٸل بنا کر سنڈ کر دوں گی۔۔۔ میرب نے اپنے مخصوص انداز میں ناک چڑھایا۔۔۔
اوہ گڈ۔۔۔ بڑے مزے سے محب نے واپس فون کو اپنی پینٹ کی جیب میں گھسایا۔۔۔
اور اس کی ادا پر تھوڑا سا شیر ہوا لگ رہا تھا میرب کا غصہ تھوڑا کم ہو رہا ہے اب۔۔۔
اچھا پھر اب کہاں جا رہی ہو۔۔۔ روکو تو ذرا۔۔۔ محب کی نظروں سے بچنے کے لیے میرب مسکراہٹ دباتی ایک طرف سے تیزی سے نکلنے لگی تو محب پھر سے آگے آ گیا تھا ۔۔۔ شرارت اور محبت سے بھری آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
جی ۔۔ مما۔۔۔ میرب نے چہرہ اوپر کرکے ایسے دیکھ کر آواز لگاٸ۔۔ جیسے کہ صاٸمہ پیچھے کھڑی ہو۔۔۔
محب ایک دم سے خوف زردہ ہو کر سیدھا ہوا ۔۔۔
میرب قہقہ لگاتی وہاں سے نکل گٸ پیچھے کوٸ نہیں تھا۔۔۔
محب نے بدلہ لینےکے انداز میں شرارت سے منہ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔ میرب اسے زبان نکال کر ناک چڑھا کر کومیل کے کمرے کی طرف بڑھ گٸ۔۔۔
****************
آغا جان۔۔۔ میں اس کو کہاں ۔۔۔ واسم نے کوفت سے آ غا جان کی طرف دیکھا۔۔۔آنکھوں میں ۔۔۔ چہرے پر۔۔۔ بیزاری ہی تھی۔۔۔
آغا جان واسم کے کمرے میں آۓ تھے صبح صبح۔۔۔
سوہا کو ایڈمیشن فارم جما کرانے تھے اسلام آباد یونیورسٹی میں اور آغا جان واسم کو اسے ساتھ لے کر جانے کے لیے کہہ رہے تھے۔۔۔
تمھارا ہی فرض ہے یہ ۔۔۔ آغا جان نے غصے اور خفگی میں کہا۔۔۔
اچھا ۔۔۔ لے کر جاتا ہوں۔۔۔ واسم نے بے دلی سے کہا۔۔۔
اور یہ حلیہ بھی درست کرو برخوردار کیا بنا رکھا ہے۔۔۔ شیو کرو کٹنگ کرواٶ ۔۔۔ آ غا جان نے ناگواری سے واسم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
جی ۔۔۔ ضرور ۔۔۔ واسم نے گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ شرمندہ سے انداز میں کہا۔۔۔
جلدی آٶ باہر سوہا انتظار کر رہی ہے۔۔۔ آغا جا ن حکم صادر کرتے ہوۓ کمرے سے باہر نکل گۓ۔۔۔
****************
بیٹھو۔۔ واسم نے گاڑی کی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تھا۔۔۔
تازہ تازہ شیو کر کے سلیقے سے بنے ہوۓ گیلے بال جو کچھ کچھ ماتھے پر گرے ہوۓ تھے۔۔۔ بڑی بڑی مڑی ہوٸ پلکوں والی آنکھیں۔۔ جن کو اپنے مخصوص انداز میں سکیڑ رکھا تھا۔۔۔اور سپاٹ ہونٹ ۔۔۔۔ ہلکے سے سبز رنگ کی چیک والی ڈریس شرٹ کے بازو کے کف فولڈ کیے ہوۓ ۔۔ مردانہ سینٹ کی خوشبو کے ساتھ سگریٹ کی مہک کے ملی جلی خوشبو مہکاتے وہ سوہا کی بے ترتیب ہوتی دھڑکنوں سے بلکل بے خبر تھا۔۔۔
وہ ۔۔۔ اپنے کاغزات والی فاٸل اور بیگ کے ساتھ ساتھ اپنا دل سنبھالتی ہوٸ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔۔۔
محترم اب سنجیدہ شکل بناۓ ۔۔ اس کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے گاڑی سٹارٹ کر رہے تھے۔۔۔
خاموش۔۔۔ خاموش۔۔۔ خوموش۔۔۔ گاڑی میں مدھم سی انگلش کی موسیقی اور سوہا کے دل کے دھڑکنے کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا۔۔۔
سارا سفر وہ یوں ہی اپنے چہرے پر سنجیدگی سجاۓ ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔۔
گھر والے پتہ نہیں کیوں زبردستی کروا رہے ہیں میرے اور اس کے ساتھ۔۔۔ وہ مجھ سے کوٸ آٹھ دس سال چھوٹی ہے۔۔۔ اس کے بھی کچھ خواب ہوں گے۔۔۔ اسی لیے وہ مجھ سے گھبراٸ گھبراٸ رہتی ہے۔۔۔ مجھے تو لگتا ہے مجھے اسے اس زبردستی کے رشتے سے آزاد کرنا ہی پڑے گا۔۔۔ دونوں لبوں ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیے واسم اپنی سوچوں میں مگن گاڑی چلانے میں مصروف تھا۔۔۔
دل واسم کی دید کو بار بار بے قرار ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بار بار واسم کی طرف چوری چوری دیکھ رہی تھی۔۔۔ دل کو بہت سمجھانے پر بھی وہ نہیں مان رہا تھا۔۔۔
کیا مصیبت ہے۔۔۔ اپنی طرف سے تو سوہا نے آواز آہستہ رکھی پر دل کو ڈانٹنے کی آواز اتنی اونچی ہوٸ کہ گاڑی کی خاموشی میں واسم کو بھی سناٸ دے گٸ۔۔۔
ہم۔م۔م۔ کیا ہوا۔۔ واسم نے بھنویں اچکا کر سوالیہ نظروں سے ساتھ بیٹھی سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ سوہا نے خجل سی ہو کر لبوں پر زبان کو پھیرا۔۔۔
کچھ تو ہے تم نے کہا کیا مصیبت ہے۔۔۔ کچھ گھر تو نہیں بھول آٸ۔۔۔ اب تو اسلام آباد پہنچ گۓ ہیں ہم۔۔۔۔ واسم نے پریشان سی شکل بنا کر مدھم سے لہجے میں پوچھا۔۔۔
نہ نہیں۔۔۔ ایسی کوٸ بات نہیں۔۔۔ سوہا جز بز سی ہوٸ۔۔۔ اسے خود ابھی اپنی حالت پر اور دل کی بے تابی پر غصہ آ رہا تھا۔۔۔
بس ایک فاٸل چاہیے جس میں ضرورت کے ڈاکیومنٹس لگا کر سبمٹ کروانے ہیں۔۔ مدھم سی آواز میں نچلے لب کے ایک کونے کو دانتوں میں دبا کر کہا۔۔۔
ٹھیک ہے وہ میں لے دیتا ہوں۔۔۔۔ واسم نے کار کا سٹیرنگ موڑتے ہوۓ۔۔۔ سنجیدہ سے لہجے میں کہا۔۔۔
سوہا نے فضول ڈاکیومنٹس الگ کرنا شروع کیے۔۔۔
ہوسٹل کا ایڈمیشن فارم کچھ فوٹو گرافی پر ملنے والے سرٹیفکیٹ۔۔۔ ان سب کو واپس لفافے میں رکھا اور باقی ضروری ڈاکیومنٹس کو ترتیب دینے لگی۔۔۔ تب تک واسم فاٸل لے کر آ چکا تھا۔۔۔
اس نے فاٸل میں ضروری ڈاکیومنٹس لگاۓ۔۔۔ اور غیر ضروری والے کا لفافہ واسم کی گاڑی کے کیبنٹ میں رکھ دیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: