Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 16

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

کوٸ ضرورت نہیں ہے۔۔۔ آنے کی بارش میں واسم کو میں نے کہا ہے لیکن وہ نالاٸق کسی کی سنتا ہی کب ہے شاٸد تمھاری بات مان جاۓ۔۔۔ آغا جان فون پر غصے میں سوہا کو کہہ رہے تھے۔۔۔
یونیورسٹی کا کام ختم کرتے کرتے کافی وقت لگ گیا تھا اب جب وہ مری کے لیے واپس لوٹ رہے تھے تو شام ہو گٸ تھی اور بارش شروع ہو چکی تھی۔۔۔ آغا جان واسم کو بار بار فون کر رہے تھےاور آنے سے منع کر رہے تھے۔۔۔ لیکن واسم نہیں مان رہا تھا۔۔۔
آغا جان میں کوشش کرتی ہوں۔۔۔ مدھم سی آواز میں سوہا نے کہا اور کن اکھیوں سے ساتھ بیٹھے واسم کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ جو سنجیدہ چہرہ لیے ڈراٸیو میں مصروف تھا۔۔۔
آغا جان۔۔۔ کہہ رہے ۔۔ آج رات۔۔۔ سوہا نے ابھی بات شروع ہی کی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا میں پہنچ جاٶں گا ۔۔۔ رات تک گھر۔۔۔ واسم نے بیچ میں ہی اس کی بات کو کاٹ دیا ماتھے پر تھوڑی دیر کے لیے بل آۓ تھے۔۔۔پھر وہ تھوڑی دیر بعد ریلکس انداز میں گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔
ڈھیٹ کہیں کا پتہ نہیں خود کو سمجھتا کیا ہے۔۔۔ سوہا کو اس کی بلا وجہ کی اس ضد پر غصہ آ رہا تھا اور کچھ ضرورت سے زیادہ ہی تیز ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔۔
بارش بھی ہو رہی اور راستے بھی خراب ہیں رات رکنے میں کیا حرج ہے۔۔۔ تھوک نگل کر سوہا نے ایک دفعہ پھر سے کوشش کی شاٸد وہ مان ہی جاۓ۔۔۔
کار تم ڈراٸیو کر رہی ہو کیا جو اتنی پریشان ہو رہی ۔۔ سختی سے کہا جبڑے غصے سے باہر کو واضح ہو گۓ تھے۔۔۔
یہ تمھارا مسٸلہ نہیں ہے چپ سے بیٹھ جاٶ۔۔۔ بڑے رعب سے ڈانٹنے کے انداز میں کہا۔۔۔
وہ رات تک گھر پہنچ جانا چاہتا تھا۔۔۔ سوہا کے ساتھ ابھی صرف نکاح ہی ہوا تھا رخصتی نہیں ۔۔۔ ایسے اس کے ساتھ اکیلے رات باہر گزارنا اسے عجیب سا لگ رہا تھا اس بات کے بعد ۔۔۔سب کے دل میں اس کو لے کر کے پہلے ہی شک ہے۔۔۔ بس وہ نہیں چاہتا تھا کہ کل جب وہ صبح گھر پہنچے تو سب کی عجیب سی نظروں کا سامنا کرنا پڑے۔۔۔
ہمارا ابھی نکاح ہوا ہے رخصتی نہیں۔۔۔ میں رات تمھارے ساتھ باہر نہیں رک سکتا۔۔۔ دو ٹوک انداز میں اس نے سوہا کو کہا تھا کیونکہ اس کے ڈانٹنے پر وہ بچوں کی طرح خفا ہو کر بیٹھ گٸ تھی۔۔۔
سوہا نے چونک کر واسم کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ اور اس کے الفاظوں پر غور کیا تھا۔۔۔
واہ کیا اصول ہیں اس شخص کے جس کے ساتھ جاٸز ہے رات نہیں گزار سکتا۔۔۔ اور باقی ہر رات کے لیے نٸ لڑکی ۔۔۔ واہ مسٹر واسم واہ۔۔۔
اور وہ بلکل ٹھیک کہہ رہا تھا ۔۔ وہ صیح سلامت رات دس بجے تک گھر میں تھے۔۔۔ گاڑی پورچ میں رکی تھی۔۔۔ اور سوہا عجلت میں بیگ اٹھا کر گاڑی سے نکلی تھی۔۔۔ اور تیز بارش سے بچتی ہوٸ داخلی دروازے کی طرف بڑھی۔۔۔
****************
چلیں یہ اب نیا مسٸلہ۔۔۔ میرے سر۔۔۔ واسم نے زور سے ہاتھ میں پکڑی شرٹ اٹھا کر ایک طرف پھینکی۔۔ غصے سے ماتھے پر بل پڑ گۓ تھے۔۔۔
نشا کی شادی کے دن قریب آ گۓ تھے۔۔۔ اسے پھر سے اس لڑکی کو کھوجنےکے جنون نے پاگل کر دیا تھا۔۔۔اسے ابھی بھی کیرن پر ہی شک تھا وہ بزات خود کیر ن سے ملنا چاہتا تھا۔۔۔اس کے لیے وہ بس کچھ دن کے لیے لندن جا رہا تھا۔۔۔ اور صاٸمہ نے آ کر یہ بتا دیا تھا کہ سوہا بھی تمھارے ساتھ جا رہی ہے کومیل اس کی بھی سیٹ کروا کر آیا ہے تمھارے ساتھ۔۔۔۔
میں اپنے کام سے جا رہا ہوں امی۔۔۔ وہ چڑا کھڑا تھا ۔۔چہرے پر ناگواری تھی۔۔۔
تو کیا ہے وہ کونسا تمھارے کام میں خلل پیداکرے گی اس کے بھی کچھ کاغذات ہیں ۔۔۔ یونیورسٹی والوں نے مانگے ہیں وہ لینے جانے اس نے ۔۔۔ اور آغا جان سے ذکر نا کرنا وہ اکبر سے بھی ملنے جاۓ گی۔۔۔ آخری بات صاٸمہ نے تھوڑی سرگوشی کے انداز میں کہی۔۔۔
چلو جی۔۔۔ ٹانگوں پر ہاتھ مارتا ہوا وہ غصے سے بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔ وہ سکون سے جانا چاہتا تھا اور اب سوہا بھی ایک ذمہ داری کی طرح اس کے ساتھ چپکی رہے گی۔۔۔
تو کیا ہوا۔۔۔ تم کون سا غیر ہو اس کے لیے۔۔۔ اچھا اب یہ اس طرح کی صورت لیے نیچے آٶ گے تو عشرت کے دل میں کیا آۓ گی۔۔۔ صاٸمہ نے خفگی سے اس کی طرف دیکھا اور باہر چلی گٸ۔۔۔
جب کے وہ اب چہرے پر بلا کا غصہ سجاۓ۔۔۔ سگریٹ جلا رہا تھا۔۔۔
***************
مجھے کچھ کام ہے لندن میں ۔۔۔ دو دن تم ساتھ رکو گی یا پھر گھر جاٶ گی سیدھا۔۔۔ اگر رک سکو تو پھر اکھٹے چلے جاٸیں گے براٸٹن۔۔۔ وہ جہاز میں سوہا کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا اسے کہہ رہا تھا۔۔۔ چہرے پر اب ناگواری کے آثار کچھ کم تھے۔۔۔
ہم۔م۔م۔ نو پرابلم رک جاٶں گی۔۔۔ سوہا نے مختصر سا جواب دیا اور ایک نظر واسم کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ میگزین پڑھنے میں مصروف تھا ۔۔۔ اسے پچھلی دفعہ کے سفر کی باتیں یاد آنے لگی تھیں ۔۔۔ وہ کتنی باتیں کرتا تھا اس کے ساتھ اور جب سے ان کا نکاح ہوا تھا وہ اب چپ سادھے رکھتا تھا۔۔۔سوہا کو پہلے اس کے زیادہ بولنے سے الجھن ہوتی تھی اور اب اس کے کچھ بھی نہ بولنے پر بھی بے چینی سی تھی۔۔۔
سوہا نے جہاز کی سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا۔۔۔ اور آنکھیں موند لی تھیں۔۔۔
**************
کچھ چاہیے تو بتا دو۔۔۔ میں باہر جا رہا ہوں۔۔۔ واسم پوری تیاری میں اس کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
جب وہ لوگ لندن پہنچے تھے دن کے گیارہ بج رہے تھے۔۔۔ آتے ہی اپنے اپنے کمر ے میں وہ سو گۓ تھے۔۔۔اب وہ اٹھ کر چار بجے باہر آٸ تو وہ کہیں نکل رہا تھا۔۔۔
نہیں ۔۔۔ وہ اس کی تیاری کو غور سے دیکھ رہی تھی وہ بڑے دن بعد سلیقے سے تیار ہوا تھا۔۔۔ سفید رنگ کی ڈریس شرٹ پر سرخ ٹاٸ لگاۓ سلیقے سے بال بناۓ ۔۔۔وہ نکھرا نکھرا سا دل کو بھا رہا تھا۔۔۔
وہ دروازےکی طرف بڑھا تو سوہا نے پیچھے سے آواز دی۔۔۔
اچھا سنیں ۔۔۔ یہاں میری بھی ایک فرینڈ رہتی۔۔ کیا میں اس سے ملنے چلی جاٶں۔۔۔ سوہا پہلی دفعہ اس سے کسی چیز کی اجازت لے رہی تھی۔۔۔ واسم کے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ آٸ ۔۔۔
میں شام تک واپس آ جاٶں گی۔۔۔ پھر بچوں کی طرح کہا۔۔۔ من موہنی سی صورت اور معصوم سی ہو گٸ۔۔
یار۔۔۔ یہ ۔۔۔ واسم کے لب مسکرا دیے تھے۔۔۔ واسم کو اس کے اجازت مانگنے کے انداز پر ہنسی آ گٸ تھی۔۔۔
میں ڈراپ کر دوں۔۔۔ واسم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہ۔۔نہیں۔۔۔ میں خود چلی جاٶں گی۔۔۔ واکنگ ڈسٹنس ہے۔۔۔ وہ ایک دم سے گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
اوکے۔۔۔ میں پھر چلتا ہوں ۔۔ یہ سپیر کیز رکھ لو۔۔۔ واسم نے فلیٹ کی اضافی چابیاں اس کی طرف بڑھاٸ۔۔۔
جی۔۔۔ لب کو بھینچ کر سوہا نے چابیاں پکڑ لیں۔۔۔
اتنے مہینوں بعد وہ رچا سے ملنے جا رہی تھی۔۔۔ وہ خوش تھی۔۔۔
تم پاگل ہو سوہا۔۔۔ تم کیوں ہر پراٸ آگ میں کود پڑتی ہو۔۔۔رچا نے اس کی پوری بات سننے کے بعد ماتھے پر بل ڈ ال کر سامنے بیٹھی سوہا سے کہا۔۔
تمہیں کیا ضرورت تھی اپنی کزن کی ہیلپ کی۔۔ یہ اس کی جنگ تھی وہ کیسے بھی لڑتی۔۔۔وہ اب بڑی بہنوں کی طرح اسے ڈانٹ رہی تھی۔۔
کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ واسم کو کبھی پتہ نہیں لگ سکتا وہ کون تھی۔۔۔ میں نے کوٸ سراغ ہی نہیں چھوڑا۔۔۔ کچھ دیر تو سوہا واقعی اس کی باتوں سے پریشان ہو کر لب کچلنے لگی تھی لیکن پھر اس کو اور خود کو ریلکس کیا۔۔۔ سم توڑ دی تھی اس کی وہ والی ساری تصویریں ڈیلیٹ کر دی تھیں۔۔۔کیمرے سے ۔۔۔فون سے۔۔۔ اور ہاں۔۔۔ لیپ ٹاپ میں چند جو اس کی بہت فیورٹ تھیں ان کا فولڈر اس نے ہاٸیڈ کر کے لیپ ٹاپ میں رکھا ہوا تھا۔۔۔
پھر بھی ساری زندگی اس کے ساتھ گزارنے جا رہی ہو۔۔ رچا کی آواز پر ایک دم سے وہ اپنی سوچوں سےباہر آٸ۔۔۔
کس نے کہا۔۔۔ نہیں تو۔۔۔ ہم دونوں میں کوٸ ایسی بات ہی نہیں ہے۔۔ بہت جلد شادی سے پہلے ہی علیحد گی ہو جاۓ گی ہمارے بیچ۔۔ سوہا نے دل کو سرزنش کیا جو اونچی اونچی نہیں کی صداٸیں لگا رہا تھا۔۔۔ اور گردن اکڑا کر رچا کو کہا۔۔۔
اچھا چلو نہ اب کچھ کھانا نہیں کہیں چلتے ہیں۔۔۔ اتنے دن بعد مل رہے۔۔۔ سوہا نے جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر بچوں کی طرح اسکا بازو کھینچا ۔۔۔
رچا جو اس کی بیوقوفیوں پر خفا سی شکل بنا کر بیٹھی تھی اس کے اس انداز پر مسکرا دی۔۔
******************
رکو رکو۔۔۔۔ رچا ۔۔۔ یہ واسم ہے ۔۔۔ اور اس کے ساتھ وہی لڑکی۔۔۔ سوہا نے زور سے رچا کا کندھا ہلا کر گھٹی سی آواز میں کہا۔۔
وہ کھانا کھا کر ابھی باہر نکلی تھی۔۔۔ جب سوہا نے سامنے سے آتے واسم اور کیرن کو پہچان لیا تھا ۔۔۔ سوہا نے ایک دم سے رخ موڑ کر رچا کی طرف کیا تھا اس سے پہلے کہ واسم کی نظر اس پر پڑتی۔۔۔
سوہا کے تن بدن میں جیسے آگ لگ گٸ تھی۔۔۔ تو جناب اس لیے اتنا تیار ہوۓ تھے۔۔۔ کیسے رو رو کر صفاٸیاں دے رہا تھا تب ۔۔۔ پتہ نہیں کیوں اسے غصہ آ رہا تھا واسم کو یوں اس کے ساتھ دیکھ کر وہ کسی ہوٹل میں گۓ تھے ۔۔۔ رچا نے اسےبتایا ۔۔۔ کیونکہ وہ تو رخ موڑے کھڑی تھی۔۔
تم جاٶ۔۔۔ ان کے پیچھے۔۔۔ جاٶ نہ۔۔۔ ریکارڈنگ کر کے لانا ہاں سب۔۔۔ اس نے جلدی جلدی رچا کے ہاتھ میں اس کا فون دے کر اسے دھکے کی سی شکل میں بھیجا۔۔۔
سوہا تم نہیں سیدھی ہو سکتی۔۔۔ رچا نے خفگی کی سی شکل بنا کر کہا۔۔۔
ارے یار جاٶ نہ تمہیں واسم نہیں پہچانتا جہاں بھی بیٹھیں بس ریکارڈنگ آن کر کے بیٹھ جانا اوکے۔۔۔ سوہا بے چینی میں لب بری طرح کچل رہی تھی۔۔۔ اور رچا کو دھکے دے کر بھیج رہی تھی جو اس کی فرماٸش پر بے زار سی شکل بنا کر کھڑی تھی۔۔۔
رچا ان کے بلکل ساتھ والے ٹیبل پر آ کر بیٹھ گٸ تھی اور جلدی سے ریکارڈنگ آن کی۔۔۔
تو آ ہی گٸ میری یاد۔۔۔ کیرن نے مسکراہٹ لبوں پر سجاتے ہوۓ کہا اور کرسی کو میز سے پیچھے کرتی ہوٸ اس پر بیٹھ گٸ۔۔۔
تم نے بھولنے ہی کب دیا۔۔۔ جو تم نے میرے ساتھ کیا۔۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا۔۔۔
کیرن نے زور سے قہقہ لگایا تھا۔۔۔ ارے یار میں نے اس دن
15
صرف کوشش کی تھی تمھاری قربت پانے کی ۔۔۔ پر ناکام ہی تو رہی اس میں کیا برا کر دیا تھا میں نے۔۔۔
ویسے اب بھی اکثر سوچتی ہوں ۔۔۔ میں نے تم جیسا مظبوط
مرد نہیں دیکھا آج تک اپنی زندگی میں۔۔۔ میں نے اس دن اتنی کوشش کی لیکن تم نے مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا۔۔۔ وہ پھر سے مدہوش سی آواز میں کہہ رہی تھی۔۔۔
اور اسی بات کا بدلہ تم نے وہ جھوٹی تصویریں بھیج کر لیا۔۔۔ واسم غرانے کے انداز میں بولا۔۔۔
ہاں میں نے تمھارے ساتھ زبردستی کی تھی اس دن ۔۔ میں
تمھاری قربت پانا چاہتی تھی۔ کیاکرتی تم سے محبت ہو گٸ تھی۔۔۔۔ کیرن پر سوچ انداز میں بولی۔۔۔
لیکن اس دن تم نے اس بات پر جو مجھے تھپڑ مارا تھا۔۔۔ وہ تھپڑ میرے دل پر لگا۔۔۔ اس کے بعد میں نے کبھی تم تک آنے کی کوشش نہیں کی۔۔۔ کیرن پر سکون انداز میں ٹھہر ٹھہر کر بول رہی تھی۔۔۔
واسم نے اپنے موباٸل سے اس کی اور اپنی وہ تصویریں نکال کر اس کے سامنے کی۔۔۔
مجھے ان تصویروں کے بارے میں بلکل نہیں پتہ ہے۔۔۔ نہ میں نے تمہیں بلیک میل کیا۔۔۔ میری بات کا یقین کرو۔۔۔ کیرن حیرانی سے وہ تصاویر دیکھتے ہوۓ بولی۔۔۔
پھر یہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔ واسم کی بے چینی اور بڑھ گٸ تھی۔۔۔ کیونکہ کیرن ٹھیک کہہ رہی تھی وہ یہ نہیں تھی۔۔۔ اور جب بھی واسم اس لڑکی کے سراپے کو یاد کرتا وہ کیرن جیسا بلکل نہیں تھا وہ تو کوٸ لمبے قد کی لڑکی تھی جبکہ کیرن کا قد چھوٹا تھا۔۔۔
یہ تو میں بھی نہیں جانتی۔۔ لیکن اتنا ضرور کر سکتی ہوں ۔۔ کہ تمھارے گھر والوں کو جا کر تمھاری سچاٸ خود بتا دوں۔۔۔ کیرن نے اس کی پریشانی کم کرنے کے لیے اپنے بھر پور ساتھ کی پیش کش کی۔۔۔
نہیں۔۔۔ اس کی ضرورت نہیں اب۔۔۔۔۔ واسم نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔ کیرن اگر آ کر یہ سب کہہ بھی دے پھر بھی کسی کو کیا یقین آۓ ۔۔۔ وہ تو یہی سمجھیں گے کہہ میں خرید لایا ہوں اسے۔۔۔
وہ بے دلی سے وہاں سے اٹھا تھا۔۔۔ لگتا ہے وہ کبھی نہیں مجھے ملے گی۔۔۔ تیز تیز قدم اٹھاتا وہ وہاں سے جا رہا تھا۔۔۔
****************
مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گٸ ہے۔۔۔ لب کچلتی سوہا کوٸ بیسویں دفعہ وہ ریکارڈنگ سن رہی تھی۔۔۔ اس کا رنگ زرد تھا۔۔۔ ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔ آنکھیں پھٹی پھٹی سی تھی۔۔۔ اس نے واسم کو غلط سمجھا۔۔۔ نہ صرف سمجھا بلکہ سب کے سامنے اسے زلیل اور رسوا بھی کر دیا۔۔۔۔
افف خدایا ۔۔۔ کیا کر دیا میں نے ۔۔۔ سوہا اب باقاعدہ رونے لگی تھی۔۔۔ آنکھوں کے آگے سے سارے منظر گھوم گۓ تھے۔۔۔
لیکن سوہا انجانے میں ہوا نہ سب ایسے مت رو۔۔۔ رچا اسے گلے لگاۓ تسلی دے رہی تھی۔۔۔
نہیں ۔۔تم نہیں جانتی میں نے کیا کر دیا۔۔۔ وہ بچوں کی طرح رو دی تھی۔۔۔
تو تمھارے رونے سے اب کیا ہو گا۔۔۔ تم جا کر بول دو اسے۔۔ رچا نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نہ۔۔۔ نہیں۔۔۔ وہ مجھے ۔۔ افف ۔۔ تمھیں نہیں پتہ۔ ۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔ میں اسے کبھی نہیں بتاٶں گی۔۔۔ واسم کی ساری باتیں ذہن میں آ رہی تھیں۔۔۔
میں اگر تم تک پہنچ گیا نہ تو حشر کر دوں گا تمھارا۔۔۔ واسم کی غصیلی آواز اس کے ذہن میں گونج رہی تھی۔۔۔ اور سوہا کا جسم کانپ گیا تھا۔۔۔
تو پھر ۔۔۔ چپ رہو نہ یوں ہی چلا جاۓ گا۔۔۔ اسے تھوڑی کبھی پتہ چلے گا سب۔۔۔ اب ریلکس ہو جاٶ اور گھر جاٶ۔۔۔ وہ شاٸد پہنچ گیا ہو گا۔۔ رچا اسے تسلی دے رہی تھی ۔۔ رات ہو چکی تھی۔۔۔ اسے اب واقعی جانا چاہیے تھا واسم انتظار کر رہا ہوگا۔۔۔
وہ لڑکھڑاتی ہوٸ اٹھی تھی اور بیگ کندھے پر ڈالتی مریل قدموں سے چل پڑی تھی۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 3

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: