Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 17

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

کیا ہوا ۔۔۔ آنسو سے تر چہرہ لیے سوہا دروازے کے آگے کھڑی تھی۔۔۔ واسم واقعی فلیٹ میں پہلے سے موجود تھا ۔۔ مخصوص انداز میں صوفے پر بیٹھا وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔۔سوہا کو یوں روتا دیکھ کر وہ پریشان ہو کر اٹھا تھا۔۔۔
سوہا۔۔۔ کیا ہوا بتاٶ تو۔۔۔ وہ بچوں کی طرح ہچکیوں میں رو دی تھی۔۔۔لیکن زبان گنگ تھی ۔۔۔
میں نے تم جیسا مظبوط مرد نہیں دیکھا۔۔۔ کیرن کی آواز اس کے ذہن میں گونجی تھی۔۔۔
یار پریشان کر رہی ہو مجھے۔۔ کچھ ہوا باہر تمھارے ساتھ ۔۔۔ وہ اب سوہا کا ہاتھ پکڑ کر آگے لا رہا تھا۔۔۔ دل میں عجیب سے وسوسے آنے لگے تھے ۔۔۔
بولو۔۔ باہر کچھ ہوا ہے۔۔ واسم نے اس کا نیچے جھکا چہرہ اٹھایا۔۔۔
سوہا نے بچوں کی طرح نہیں میں سر ہلا دیا۔۔۔ کیسے بتاٶں سب ۔۔ دل تھا کہ لرز رہا تھا۔۔۔ واسم کے کرب میں گزرے دنوں کے سارے منظر آنکھوں کے آگے گھوم رہے تھے…
تو پھر کیوں رو رہی ہو۔۔۔ اب کی بار واسم نے لہجہ اور نرم کیا۔۔۔ وہ سوہا کے بلکل سامنے کھڑا تھا۔۔۔
واسم۔۔۔ سوہا نے چہرہ اوپر اٹھایا۔۔۔ وہ بری طرح نچلے ہونٹ کو دانتوں میں کچل رہی تھی۔۔۔ وہ ہم تن گوش کھڑا تھا۔۔۔
سوہا ۔۔ کے آنسو ۔۔۔ نکل آۓ پر الفاظ نہ ادا ہو سکے۔۔۔
افف ۔۔ سوہا ہوا کیا ہے۔۔۔ میری طرف دیکھو۔۔۔ کیا ہوا تمہیں۔۔۔ سوہا کے پھر سے جھکتے چہرے کو واسم نے اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا تھا۔۔۔ اتنا اپناٸیت بھرا لمس تھا۔۔
بابا ۔۔۔ یاد آ رہے۔۔ بڑی مشکل سے گھٹی سی آواز میں سوہا نے جھوٹ بولا تھا۔۔۔ کیسے بتا دے اسے کہ اس کی زندگی برباد کرنے والی اس سے اسکی محبت چھیننے والی بنا تحقیق کے اس پر الزام لگانے والی۔۔۔ کوٸ اور نہیں اس کے نکاح میں آنے والی اس کی یہ پھپھو زاد ہے۔۔۔ نہیں میں واسم کو کچھ بھی نہیں بتاٶں گی۔۔۔
کیا ہوا۔۔۔ انکل کی طبیعت ٹھیک ہے نہ۔۔۔ وہ اب پریشان ہو کر سوہا سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ ٹھیک ہیں۔۔۔ آنسوٶں سے رندھی ہوٸ آواز میں کہا۔۔۔ اور آنسو پھر سے نکل آۓ ۔۔۔
وہ بلکل بچی سی لگ رہی تھی ۔۔ معصوم سی ۔۔ سہمی ہوٸ ڈری ہوٸ واسم نے آج سے پہلے اسے اس طرح کی حالت میں اسے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ اس کی ناک اور گال سرخ ہو گۓ تھے ۔۔۔ پلکیں رونے کہ وجہ سے بھیگ کر اور پیاری لگ رہی تھیں۔۔۔
واسم نے آگے بڑھ کے اسے سینے سے لگا لیا تھا۔۔۔
افف۔۔۔ جسم میں جیسے جادو کی سوٸیاں سی چبھ گٸ ہوں جیسے سوہا نے آنکھیں زور سے بند کر لیں۔۔۔ واسم کے دل کی دھڑکن سناٸ دینے لگی تھی۔۔۔ پہلی دفعہ وہ اس کے اتنا قریب ہوا تو جیسے روح نے یہ جانا ۔۔۔ یہی تو وہ ہے۔۔ جس کے جسم کے کسی حصے سے اللہ نے اس کے وجود کو سینچا ہے۔۔۔ وہ اسی وجود کا حصہ ہے۔۔۔ ایسے لگا جیسے اس کے اندر کا خالی پن مکمل سا ہو گیا ہو۔۔۔
ایک دم سے اسے دلاسہ دینے کو سینے سے تو لگا بیٹھا تھا۔۔لیکن جیسے ہی اس کے وجود کو باہوں میں سمیٹا ایک عجیب سے احساس نے گھراٶ کیا تھا۔۔۔ وہ بلکل ساکن سا ہو گیا تھا۔۔۔
اس نے آج سے پہلے کسی سے بھی یہ جسارت نہیں کی تھی تو آج سوہا کو کن جزبات کی رو میں بہہ کر سینے سے لگا بیٹھا تھا۔۔۔ ایک دم سے اپنے اس بے باک پن کا احساس ہوا تھا۔۔ اور اس کے اور اپنے رشتے کا احساس ہوا تھا۔۔۔
دھیرے سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔ خجل سا اگر وہ تھا تو جز بز سی وہ بھی تھی۔۔۔ دونوں ایک دوسرے سے نظریں چرا رہے تھے۔۔۔
سوہا۔۔۔۔ صبح چلیں گے ۔۔ ۔ براٸٹن ۔۔۔ واسم نے بہت مشکل سے الفاظ ادا کیے۔۔۔ دل عجیب سے احساس سے دو چار ہوا تھا۔۔۔
بیٹھ جاٶ۔۔۔ تھوڑی دیر بعد واسم نے خود کو سنبھالا تھا۔۔۔ اور سوہا کو بیٹھنے کے لیے کہا۔۔۔
سوہا کے آنسو اب تھم گۓ تھے۔۔۔
وہ تو ایک انجان سے احساس کی آشناٸ سے دوچار ہوٸ تھی۔۔۔ ہوش کہاں تھا اسے۔۔۔ وہ جو سامنے بیٹھا تھا اس کے ۔۔ اس نے اسے آج وہ احساس دیا تھا جس کو وہ برسوں ترسی تھی۔۔۔ اتنی چاہت اتنی محبت اتنی اپناٸت بھرا لمس کسی نے بھی تو نہ دیا تھا اسے ۔۔
مجھے سچ سچ بتاٶ ۔۔۔ کیا ہوا ہے باہر تمھارے ساتھ۔۔۔ واسم اب خود کو نارمل کر چکا تھا۔۔ اسے سوہا کی بابا والی بات پر ابھی بھی یقین نہیں آیا تھا۔۔۔
کچھ نہیں۔۔۔ بس ڈر گٸ ہوں۔۔۔ بابا پاس جانا چاہتی مدھم سی آواز میں کہا۔۔۔ اور آنکھیں اوپر اٹھا کر دیکھا۔۔۔
افف ۔۔۔ واسم کی آنکھیں۔۔۔ آج پہلی دفعہ اس نے ان آنکھوں کے اندر جھانک کر دیکھا تھا۔۔۔ یہ تو طلسم پھونک رہی تھیں۔۔ اور وہ ساکن ہو گٸ تھی۔۔۔
ابھی دل کو اس سے الگ کرنے کے بعد بڑی مشکل سے سنبھال پایا تھا۔۔۔ کہ اس نے آنکھیں اٹھا کر دل کو اور ہی لزت سے آشانا کر دیا تھا۔۔۔ ایک عجیب ہی احساس تھا۔۔۔ واسم کا دل جسے سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔ جیسے وہ اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ نشا نے کبھی ایک پل کے لیے بھی اسے یوں نہیں دیکھا تھا۔۔۔اس لیے آج سے پہلے کبھی آنکھوں کی زبان پڑھنے کا اتفاق ہی نہ ہوا تھا اسے ۔۔۔ آج ہو رہا تھا۔۔۔
کتنی ہی لمحے یوں گزرے تھے۔۔۔ موباٸل کی رنگ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس لے آٸ تھی۔۔۔ واسم نے خجل سا ہو کر ارد گرد دیکھا۔۔۔ اور جلدی سے فون کو اٹھا کر کان کو لگایا۔۔۔
سوہا نے دھیرے سے بکھرے بالوں کو کانوں کے پیچھے کیا۔۔۔ لبوں کو ایک دوسرے کے سنگ پیوست کیا تو گڑھے جلدی سے گالوں کی زینت بننے کو حاضر ہو گۓ۔۔۔۔۔
واسم فون پر بات کرتے ہوۓ کن اکھیوں سے سوہا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔
فون بند کیا ۔۔۔ لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ اور ایک گہری سانس لی خود کو نارمل رکھنے کو۔۔۔
میرا خیال ہے سو جانا چاہیے۔۔۔ واسم کی بھیگی سی بھاری سی آواز نے لاونج کی خاموشی کو توڑا تھا۔۔۔
سوہا ہنوز گود میں ہاتھ رکھے ساکن بیٹھی تھی۔۔۔
واسم۔۔۔
جیسے ہی واسم نے اپنے کمرے کی طرف رخ موڑا تو مدھم سی آواز میں سوہا نے پکارا۔۔۔جیسے کچھ کہنے کی ہمت جمع کر رہی ہو۔۔۔ لیکن زبان پر تو قفل لگ گۓ تھے اس کی قربت کے وہ خود غرض سی ہو گٸ۔۔۔ اس نے اگر کچھ بھی بتا دیا تو واسم اسے چھوڑ دے گا۔۔۔۔ خوف سے آنکھیں پھیل سی گٸیں۔۔۔
واسم ایک پل کو رکا تھا ۔۔ پھر پلٹا۔۔۔ بولا کچھ بھی نہیں۔۔۔
سوہا نے آہستہ سے سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔
واسم۔۔۔ آہستہ سے قدم اٹھاتا اپنے کمرے کی طرف آ گیا تھا۔۔۔
دونوں الگ الگ کمرے۔۔۔ الگ الگ نفوس ۔۔۔ لیکن حالت زار مشترکہ تھی۔۔۔ کروٹ وہ بھی بدل رہی تھی۔۔ کروٹ وہ بھی بدل رہا تھا۔۔۔ بوجھ اس کے دل پر بھی دھوکے کا تھا۔۔۔ بوجھ اس کے دل پر بھی توہمت کا تھا۔۔۔ اپنے ہی وجود کے کسی حصے کو چھونے کا احساس اس کو بھی تھا ۔۔ تو وجود کی گرماٸش کی سوٸیاں دوسرے کو بھی چبھ گٸ تھیں۔۔۔
****************
پونی کے لیے بالوں کو ہاتھوں سے جکڑا ۔۔۔لیکن پھر ایک دم سے چھوڑ دیا۔۔۔ بال آبشار کی طرح پوری کمر کو ڈھک گۓ تھے۔۔وہ براٸٹن کے لیے نکل رہے تھے۔۔۔ سوہا سنگہار شیشے کے آگے کھڑی تھی۔۔۔
بار بار رات کا گزرا لمحہ دل کو گدگدا رہا تھا۔۔
اس نے خود کو سامنے لگے سنگہار شیشے میں دیکھا۔۔۔ وہ شرم سے گلابی ہو رہی تھی۔۔۔ ہاں واسم ہی وہ ہے جو اس کے خوابوں کا شہزادا تھا۔۔۔ فربہ اندام۔۔ مظبوط کردار کا مالک ۔۔۔ جو اپنی حوس پر قابو پا سکتا ہے۔۔۔ ایسا ہی تو کوٸ اس کا دل چاہتا تھا۔۔۔ جسے بس روح سے پیار ہو۔۔ جسم کی طلب نہ ہو۔۔۔ واسم ایسا ہی تھا۔۔ روح سے چاہنے والا ۔۔۔ ہاں شاٸد یہی وجہ تھی کہ اس کا دل شروع سے اس کی دید کو بے تاب رہتا تھا۔۔ وہ اس کے قلب کی تسکین تھا۔۔۔ اسے تو تب سے ہی محبت ہو گٸ تھی شاٸد جب سے اسے دیکھا تھا۔۔
لبوں کو گلوس سے رنگا تو بھرے بھرے سے لب پنکھڑی کا سا گمان دینے لگے۔۔۔ سفید رنگ کی ڈھیلی سی ٹی شرٹ اور جینز پہن کر آج بال اس نے باندھے نہیں تھے۔۔۔ کندھوں پر گرے گہنے بال اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا رہے تھے
چلیں۔۔۔ واسم شیشے کی دیوار کے پار عمارت کا بغور جاٸزہ لے رہا تھا جب عقب سے سوہا کی مدھم سی آواز ابھری۔۔۔
وہ یہی سوچ میں محو تھا۔۔۔ کہ جو کوٸ بھی تھی وہ سامنے والی عمارت سے ہی اس کی تصویریں بنانے میں کامیاب ہوٸ تھی۔۔۔ بڑے سے بورڈ پر ہوسٹل کا نام زیر لب دھرایا تھا واسم نے ۔۔ ہیری بن گرلز ہاسٹل۔۔۔ سوہا کی آواز پر وہ خیالوں سے باہر آیا تھا۔۔
پلٹا اور جیسے پتھر کا ہو گیا۔۔۔ ایک پل کے لیے تو آنکھ نا جھپک سکا یوں کھلے بالوں کو شانوں پر بکھراۓ وہ سحر زدہ کر دینے کی حد تک دل کو بھا گٸ تھی۔۔۔ واسم نے اپنی حالت سے پریشان ہو کر جلدی سے نظریں چراٸیں تھی۔۔۔
کیا اس کو چھونے سے کو ٸ جادو ہو گیا تھا ۔ آج سے پہلے اس کو دیکھنے کا ڈھنگ یہ تو نہ تھا اس کی آنکھوں کا ۔۔۔
چلو۔۔۔ مسکرا کر سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: