Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 18

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

مجھے براٸٹن نہیں گھوماٶ گی۔۔۔ واسم نے سوہا کے کمرے پر نظر دوڑا کر اب اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
وہ لوگ دوپہر کو براٸٹن پہنچے تھے۔۔ اکبر کے ساتھ کافی دیر باتیں کی۔۔۔ اکبر سوہا اور واسم کے رشتے سے بہت خوش تھے۔۔ ان کے ہر ہر انداز سے خوشی جھلک رہی تھی۔۔۔
سوہا اب واسم کی فرماٸش پر اسے اپنے کمرے میں لے کر آٸ تھی۔۔۔
بلکل ۔۔ گھوماٶں گی۔۔۔ لیکن ایک شرط پر۔۔ سوہا نے شرارت سے دیکھا۔۔۔ واسم کمر پر دونوں ہاتھ رکھے کمرے کا جاٸزہ لینے میں مصروف تھا۔۔۔
کیا شرط۔۔۔ سوالیہ نظروں سے سوہا کی طرف دیکھا۔۔۔ لیکن لب اس کی شرارت سے بھری آنکھوں کو دیکھ کر مسکرا دیے تھے۔۔۔
ساٸیکل پر گھومنا ہو گا۔۔۔ سوہا نے ۔۔ شرارت سے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔۔
ساٸیکل ۔۔۔ واسم نے حیرانی سے ہنستے ہوۓ اس کی طرف دیکھا۔۔۔
جی۔۔۔ وہ پر جوش انداز میں بولی۔۔۔
اسے رات سے واسم الگ ہی انداز میں لگ رہا تھا اسے بہت اچھا لگ رہا تھا سب واسم کا یوں اس کے ساتھ ہنسنا بولنا۔۔۔ یا شاٸد اس کے دل سے اس کے لیے ساری بدگمانی چھٹ گٸ تھی۔۔۔
تم چلاتی ہو ساٸیکل ۔۔۔ واسم مسکراہٹ دباۓ بے یقینی سے آنکھیں سکیڑے سوہا کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ اسے اپنا سکول کا دور یاد آ گیا وہ ہمیشہ ساٸیکل ریس کا فاتح ہوتا تھا۔۔۔
جی بلکل ۔۔۔ اور ۔۔ بہت دفعہ ساٸیکل ریس بھی جیت چکی ہوں۔۔۔سوہا نے بچوں کی طرح گردن اکڑا کر کہا۔۔۔
واسم کو خوشگوار حیرت ہوٸ۔۔۔ ہلکا سا قہقہ لگایا۔۔۔
ویری گڈ۔۔۔ اچھا لگا سن کے۔۔۔واسم نے سینے پر ہاتھ باندھ کر پر شوق نظروں سے اس لڑکی کو دیکھا کیا تھی وہ پرت در پرت کھل رہی تھی اور ہر دفعہ وہ حیران ہی ہوتا تھا۔۔۔ اور اس کا اندازہ غلط ہی ہوتا تھا اس کے بارے میں۔۔۔
شروع میں وہ اسے کم بولنے والی بدمزاج سی لڑکی سمجھا تھا۔۔۔ لیکن جس طرح گھر میں اس نے سب کے دل جیتے۔۔۔ آغا جان اور رضا چچا کی برسوں کی ناراضگی ختم کی ۔۔۔ اسے اچھا لگا۔۔۔
پھر اسے لگا کہ وہ اس کے لیے اپنے دل میں اچھے خیالات نہیں رکھتی۔۔۔ لیکن رات جس محبت سے وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ وہ بھی اسے حیرت میں مبتلا کر گیا تھا۔۔
اور پھر وہ سمجھتا تھا وہ ایک نازک سی لڑکی ہے ۔۔۔ لیکن اس نے تو یہ بتا کر حیران کر دیا کے وہ ساٸیکل ریس ون کر چکی ہے۔۔۔
واہ۔۔۔ تو ۔۔۔ آج میرے ساتھ بھی ریس ہو جاۓ۔۔۔ واسم نے معنی خیز نظروں سے اپنے سامنے کھڑی اس من موہنی صورت والی لڑکی کو دیکھا۔۔۔
ہار جاٸیں گے۔۔۔ سوہا نے اپنے دونوں ہاتھ کمر کے پیچھے باندھ کر غرور سے کہا۔۔۔
اس کے اس انداز پر واسم کا قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔
ہنس کیوں رہے ہیں۔۔۔ سوہا نے خفگی سے دیکھا۔۔۔ ایسے لگا جیسے واسم اس کی بات کو مزاق سمجھ رہا ہو۔۔۔
اتنا اعتماد اچھا نہیں ہوتا۔۔ مسکراہٹ دباتے ہوۓ ۔۔ اس کے قریب آ کر کہا۔۔۔
وہ واسم کی نظروں سے جھینپ گٸ تھی۔۔۔ پھر بڑی ادا سے اس کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اب ہے تو کیا کروں۔۔۔ شرارت سے نچلے لب کے کونے کو دانتوں میں دبایا۔۔۔
چلیں پھر۔۔۔ واسم نے شرٹ کے کف اوپر چڑھاتے ہوۓ شرارت سے کہا۔۔۔
جی بلکل۔۔ میں ساٸیکل کا انتظام کرتی ہوں آپ آ جاٸیں۔۔۔
براٸٹن کی شفاف سڑک پر بہت تیزی سے ساٸیکل چل رہے تھے۔۔۔
وہ جو سکول سے لے کر کالج لیول تک جیتتی رہی تھی۔۔۔ واسم کی رفتار پر دھک سی رہ گٸ۔۔۔
افف۔۔۔ وہ اور تیزی سے ساٸیکل چلانے لگی جوش سے دونوں لبوں کو منہ کے اندر دیے وہ اپنی پوری طاقت لگا رہی تھی۔۔۔
واسم کی ہنسی بند نہیں ہو رہی تھی۔۔۔ وہ اس سے پیچھے تھی
واسم نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔ زور سے ساٸیکل چلانے سے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
واسم نے قہقہ لگایا ۔۔۔ اور پیڈل پر اپنی رفتار کو کم کرنا شروع کر دیا۔۔۔ اس کے لب مسکراہٹ دبا رہے تھے۔۔۔
وہ اس تک پہنچ چکی تھی۔۔۔ اور پھر آگے نکل گٸ۔۔۔ پیچھے مڑ کر واسم کو زبان نکال کر بچوں کی طرح چڑایا۔۔
واسم نے اس کی معصومیت پر جاندار قہقہ لگایا۔۔۔
وہ جیت کی جگہ پر کھڑی اپنی سانس بحال کر رہی تھی۔۔۔ چہرے پر جیت جانے کا غرور تھا۔۔۔ چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔۔
بال تھوڑے بکھر کر اور تھوڑے پسینے سے گردن سے چپک گۓ تھے۔۔۔
واسم مسکراتا ہوا پاس پہنچا تھا۔۔۔
ساٸیکل سےنیچے اترا۔۔۔ اور مسکراہٹ دبا کر پر جوش انداز میں کھڑی سوہا کو دیکھا۔۔۔
دیکھا ۔۔۔ ہار گۓ نہ۔۔۔ سوہا نے خوشی اور جوش کے ملے جلے تاثر میں کہا۔۔۔
ہاں ۔۔۔ سچ میں ہار گیا۔۔۔۔۔واسم نے بھر پور نظر اس کے چہرے پر ڈالی اور معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔
***************
فارام پاکستان۔۔۔ ایک بوڑھی عورت نے واسم کا کندھا ہلایا۔۔۔
وہ پاکستان جانے کے لیے لندن اٸر پورٹ پر بیٹھے تھے۔۔۔ جب ساتھ بیٹھی ایک بوڑھی سے عورت نے واسم کا کندھا ہلا کر اس سے پوچھا۔۔ وہ کافی دیر سے دونوں کو غور سے پر شوق نگاہوں سے دیکھ رہی تھی۔۔
جی۔۔۔ جی ۔۔۔ پاکستان ۔۔ واسم نے مسکرا کر کہا۔۔۔ اور پوری طرح اس عورت کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
ساتھ بیٹھی سوہا بھی گردن موڑ کر متوجہ ہوٸ۔۔۔
میں ۔۔ وی۔۔۔ پاکستان ۔۔ تو ۔۔ آں۔۔۔ عورت نے خوش ہو کر پنجابی میں کہا۔۔۔ چہرے پر خوشی تھی۔۔۔
واسم نے مسکرا کر سر ہلایا۔۔۔
پتر تیری بڈھی اے۔۔۔ عورت نے پر شوق نظروں سے سوہا کی طرف دیکھ کر واسم سے پوچھا۔۔۔
جی۔۔۔ واسم نے مسکراتے ہوۓ مختصر جواب دیا۔۔۔
اچھا۔۔۔ چوکھی ۔۔۔ سونی ۔۔ جوڑی پت ۔۔۔ اللہ پاگ لاوے۔۔۔ عورت نے خوش ہو کر دعا دی۔۔۔
واسم نے مسکرا کر آمین کہا۔۔۔ اور مسکرا کر ایک نظر اپنے ساتھ بیٹھی سوہا پر ڈالی۔۔۔ اور حیران سا ہوا۔۔۔
وہ تو ماتھے پر بل ڈالے خفا سے انداز میں منہ پھلاۓ ہوٸ تھی۔۔۔
تمہیں کیا ہوا۔۔۔ واسم نے حیران ہو کر اس کی طرف دیکھا جو خفا سی بیٹھی تھی۔۔۔
اس عورت نے کہا یہ بوڑھی ہے آپ نے کہا ہاں۔۔۔ میں بوڑھی ہوں کیا۔۔۔ خفگی سے کہا۔۔۔ اسے پوری بات میں سے اسی لفظ کی بس سمجھ آٸ تھی۔۔۔
واسم نے جاندار قہقہ لگایا۔۔۔ وہ ہنسے جا رہا تھا۔۔۔ آنکھوں کے کونوں میں ہلکی سی نمی آ گٸ۔۔۔
اب ہنس کیوں رہے۔۔۔ وہ اور خفا ہوٸ۔۔۔
بڈھی کا مطلب ۔۔۔ بیوی۔۔۔ یہ کچھ پنجابی لوگ بولتے ایسے۔۔۔ واسم نے بہت مشکل سے ہنسی روکی۔۔
انھوں نے پوچھا مجھ سے کہ یہ بیوی تمھاری۔۔۔ واسم نے لبوں پر مسکراہٹ لا کر کہا۔۔۔
اوہ ۔۔۔ اچھا۔۔۔ اچھا۔۔ سمجھنے کے انداز میں سوہا نے سر ہلایا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ بیوی تو ہو نا۔۔۔ واسم نے ایک بھر پور نظر ڈالی۔۔۔
اب ایک معصومیت کا اندازہ اس کا باقی رہ گیا تھا سوہا کے بارے میں۔۔۔ جو ابھی تک قاٸم تھا۔۔ واسم کو اس کا معصوم سا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔۔۔
جی۔۔۔ سوہا نے اس کی نظروں کے بدلے انداز کو محسوس کیا تو بلش سی ہوگٸ تھی۔۔۔ جھینپ کے ارد گرد دیکھا۔۔۔
تو پھر آپ کیا میرے بڈھے ہوۓ۔۔۔ تھوڑی دیر پر سوچ انداز میں بیٹھے رہنے کے بعد اس نے سنجیدہ سی شکل بنا کر واسم سے پوچھا۔۔
واسم کا پر زور قہقہ ہوا میں گونجا۔۔۔ وہ بس ہنسے جارہا۔۔۔
اور سوہا اس کے دانت دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔ آج اتنے مہینوں بعد وہ اس کے چہرے پر یہ زندگی سے بھرپور ہنسی دیکھ رہی تھی۔۔۔وہ شخص آنکھوں کے رستے اس کے دل میں اتر کر روح میں سما گیا تھا۔۔۔
**************
کیا مسٸلہ ہے تمہیں۔۔۔ میرب نے محب کے کندھے کو زور سے جھٹکا دے کر اپنی طرف موڑا۔۔۔
کچھ نہیں ۔۔۔ مجھے کیا ہونا ہے۔۔۔ سنجیدہ سے انداز میں محب نے کہا۔۔۔ پھرسے مٹھاٸ کے ٹوکرے ترتیب دینے لگا۔۔۔
وہ ۔۔وہ۔۔۔ اریبہ۔۔ کیوں اتنی فری ہو رہی تم سے۔۔۔ میرب نے منہ پھولا کر جھجکتے ہوۓ خفا سے انداز میں محب پر رعب جھاڑا۔۔۔
آج شام کو نشا کی مہندی تھی۔۔۔ اریبہ محب کی خالہ زاد تھی۔۔۔ میرب اور صاٸمہ نے تو منہ پھلا رکھا تھا اور کسی کام کو ہاتھ نہیں لگا رہی تھیں۔۔۔ اریبہ بھاگ بھاگ کر محب کے ساتھ کام کروا رہی تھی۔۔۔ سوہا تو آج صبح ہی پاکستان پہنچی تھی تو وہ ابھی تک سو رہی تھی۔۔۔ میرب کو اب اریبہ اور محب کو ہنستے ہوۓ باتیں کرتے دیکھ کر جلن ہو رہی تھی۔۔
فری کب ہو رہی میری بہن کی مہندی آج وہ مدد کر رہی میری۔۔۔۔۔اب اکیلا اتنا کام کیسے کروں ۔۔ اور کچھ کام ہوتے ہی لڑکیوں کے کرنے کے ہیں۔۔۔ محب نے معنی خیز انداز میں اس کی طرف دیکھ کر کہا۔۔۔جبکہ چہرہ ابھی بھی خفا سا تھا۔۔۔۔
وہ کیوں کر رہی بھلا وہ تو مہمان ہے۔۔۔ میرب نے شرمندہ ہو کر کہا۔۔۔
تو گھر والے جب نہیں کریں گے تو مہمان ہی کریں گے۔ محب نے معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔اور خفگی بھری بھر پور نظر میرب پر ڈالی۔۔۔
روکو ۔۔ کہو اسے آرام سے بیٹھے۔۔۔ میں کر لوں گی۔۔۔ تھوڑی خجل سی ہو کر بولی۔۔۔
سچ۔۔۔ محب نے محبت بھری بھر پور نظر ڈالی۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔۔ میرب نے شرماتے ہوۓ کہا۔
جو حکم آپکا۔۔۔ محب کی آنکھیں پھر سے چمکنے لگیں تھی۔۔۔ سینے پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا جھکنے کے انداز میں کہا۔۔۔
میرب نے اس کے اس انداز پر منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسی روکی۔۔۔۔
*****************
واہ کیا لگ رہی ہیں آپ قسم سے۔۔۔ فلیٹ ہو گیا میں تو۔۔۔ محب نے بڑے انداز میں لہک کر سوہا کی تعریف کی۔۔۔
وہ بڑے نک سک سے تیار ہوٸ تھی۔۔۔ جامنی رنگ کے غرارے پر سرخ رنگ کی جامہ ور کی کرتی پہنے۔۔۔ بڑا سا سبز رنگ کا بنارسی دوپٹہ کندھوں پر ڈالے۔۔۔ ماتھے پر ماتھا پٹی لگاۓ۔۔۔ بالوں کو سیدھی مانگ نکال کر کرل ڈال کر کندھوں پر گراۓ۔۔۔ دمکتی رنگت لیے وہ کو ٸ راج کماری لگ رہی تھی۔۔۔
واسم بھاٸ کو مارنے کے ارادے ہیں کیا۔۔ محب نے شرارت سے آنکھ دبا کر سوہا سے کہا۔۔۔
وہ یہاں ہوں گے تو نہ۔۔۔۔ سوہا نے بے دلی سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔ مہندی شروع ہو چکی تھی سب موجود تھے۔۔۔ وہ اتنے دل سے واسم کے لیے تیار ہوٸ تھی اور وہ تھا کہ اپنے کمرے میں بند تھا۔۔۔ صاٸمہ کو بھی آغا جان لے آۓ تھے سب تھے بس وہ نہیں تھا ۔۔۔
16
ارے یہ بھی کوٸ بات ہوٸ ابھی رکیں ذرا ۔۔۔ محب نے جلدی سے جیب میں ہاتھ ڈالا اور اپنا فون نکالا۔۔۔
سیدھی کھڑی ہو جاٸیں ذرا۔۔۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے سوہا کو سیدھے ہونے کا کہا اور خود اس پر اپنے موباٸل کا کیمرہ سیٹ کیا۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہو۔۔۔ سوہا سیدھے ہوتے ہوۓ حیران ہو کر بولی۔۔۔
بس چپ ہنسیں تھوڑا سا ۔ محب نے انگلی لبوں پر رکھ کر سوہا کو چپ رہنے کا کہا۔۔۔ اور اس کی تصویر بنا ڈالی۔۔۔
واہ واہ ۔۔۔ یہ جو ڈمپل ہیں نہ آپ کے۔۔۔ ابھی دیکھیں چراغ رگڑتا ہوں اور کیسے باہر آتے آپ کے جن صاحب۔۔ محب اب سوہا کی تصویریں واسم کے نمبر پر بھیج رہا تھا۔۔۔
نہیں آٸیں گے وہ۔۔۔ سوہا نے منہ پھلا کر مایوسی سے کہا۔۔۔
چلیں لگی شرط۔۔۔ محب نے شرارت سے کہا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: