Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 19

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 19

–**–**–

مجھے معلوم ہے وہ کبھی نہیں آٸیں گے تم ہار جاٶ گے۔۔۔ سوہا نے بچوں کی طرح اداس سی شکل بنا کر کہا۔۔۔ بڑی بڑی آنکھوں میں اداسی در آٸی تھی۔۔۔
ارے ۔۔۔ آپ کو کیا پتا۔۔۔ بس پندرہ سے بیس منٹ۔۔۔ محب نے بڑے انداز سے کالر چڑھایا اور شرارت سے آنکھ دبا کر کہا۔۔۔
*****************
میسج ٹون پر ایک ہاتھ سے موباٸل اٹھایا تھا۔۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ میں سگریٹ سلگ رہا تھا۔۔۔
جیسے ہی محب کا میسج کھلا تو۔۔۔ آنکھیں خیرہ کر دینے والے انداز میں کھڑی سوہا کو دیکھ کر دل عجیب ہی طرز سے مچلا تھا۔۔۔ سگریٹ کا ہوش ہی نہ رہا ۔۔ وہ ایسی ہوش ربا لگ رہی تھی۔۔۔
خود با خود ہی انگلیاں اس کی تصویر کو زوم کر رہی تھیں۔۔۔
وہ مسکرا رہی تھی گالوں کے گڑھے۔۔۔ دمکتی رنگت۔۔۔ بھرے بھرے ہونٹ۔۔ معصوم سا چہرہ۔۔۔ گھنے بال۔ ۔۔۔ گداز سا سراپا۔۔۔ نازک سی کلاٸیاں۔۔۔ وہ ایک تکمیل حسن کا شہکار لگ رہی تھی۔۔
کسی کا بھی دل مچل مچل جانے کو ہوتا کہ اس کی ایک جھلک سے آنکھیں ٹھنڈی ہو جاٸیں۔۔۔ وہ تو پھر اس کا محرم اسکا شوہر ٹھہرا۔۔۔ ۔
وہ جو پورے ارادے سے بیٹھا تھا کہ باہر نہیں جاۓ گا۔۔ اب کھڑا اپنے ڈریسنگ روم میں کپڑے انتخاب کر رہا تھا۔۔۔۔
****************
چلیں نکالیں پانچ ہزار۔۔۔ محب کی سرگوشی نے اس کے دل کی دھڑکن کو ہی ایک پل کے لیے تھمنے پر مجبور کر دیا تھا۔۔۔
کہاں۔۔۔ بس مدھم سی گھٹی سی آواز سوہا کی نکلی تھی۔۔۔۔
وہ میرب اور کچھ لڑکیوں سے باتیں کرنے میں مصروف تھی جب محب نے اس کے کان میں سرگوشی کی۔۔۔
پیچھے پلٹ کر دکھیے راجکماری جی۔۔۔ محب نے مسکراہٹ لبوں میں دبا کر شرارت سے کہا۔۔۔
وہ دھیرے سے نا یقینی کے عالم میں مڑی تھی۔۔۔ اور پھر ۔ ۔۔ ساکن ہو گٸ تھی۔۔۔وہ طلسم ہی تو پھونک رہا تھا۔۔ وہ جادوگر تھا ۔۔
میرون راٶ سلک کے کرتے سفید شلوار میں۔۔۔ بکھرے سے بالوں کو شاٸد ہاتھوں کو گیلا کر کے ہی سنوارا تھا۔۔کچھ ماتھے پر پھر ڈھلکے ہوۓ تھے۔۔۔ کرتے کے بازو فولڈ کر رکھے تھے۔۔۔ کرتے کے دو بٹن کھول رکھے تھے ۔۔ آنکھیں کچھ ادھ کھلی سی خواب ناک سی تھیں۔۔۔ شاٸد وہ آ کر سویا ہی نہ تھا۔۔ بڑے انداز سے وہ چلتا ہوا لان کی طرف آ رہا تھا۔۔۔
اور اس کو یوں یک ٹک دیکھنے والی وہ اکیلی ہی نہ تھی۔۔۔ سارے گھر والے ہی منہ کھولے حیران شکل بناۓ اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔ بس محب۔۔۔میرب ۔۔۔ اور سوہا کے لب مسکرا رہے تھے کیونکہ یہ وہ تین نفوس تھے جو واسم کے آنے کی وجہ جانتے تھے۔۔۔
وہ محب کودیکھ کر خجل سا ہوا۔۔۔ پھر آغا جان کے ساتھ جا کر بغل گیر ہوا۔۔۔
تو میری جان ہے میرے چیتے۔۔۔۔ آغا جان نے آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا۔۔۔
وہ بھی ہلکے سے مسکرا دیا تھا۔۔۔ اب باری باری زوجیج عون اور رضا نے اسے گلے لگایا تھا۔۔۔ ۔
سب سے مل کر گردن پر خارش کرتا ہوا وہ چور نظر سے سوہا کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔
کہاں ہے۔۔۔ ارد گرد دیکھا ابھی تو سامنے تھی۔۔۔ ابھی کہاں گٸ۔۔۔ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر بھنویں اچکا کر دیکھ ہی رہا تھا جب پیچھے سے کندھے پر کسی نے ہاتھ مارا۔۔
یہاں ۔۔۔ جناب۔ محب کی شرارت بھری آواز عقب سے سناٸ دی۔۔
پیچھے پلٹا تو میرب اور محب سوہا کے ساتھ کھڑے تھے ان دونوں کی آنکھیں تو شرارت سے چمک رہی تھیں ۔۔۔ جب کہ وہ پلکوں کی جھالر گراۓ۔۔۔ گلابی ہوتے گالوں کو لیے کھڑی تھی۔۔۔
واسم نے ایک بھر پور نظر ڈالی۔۔۔ دل کو جیسے راحت ملی ہو۔۔۔
تاڑیے گا بعد میں آپکی ہی ہیں ۔۔ پہلے میرا پانچ ہزار نکالیں۔۔۔ محب نے واسم کو کندھا مارا۔۔۔
کیا مطلب کون سے پانچ ہزار۔۔۔ مصنوعی رعب سے کہا۔۔۔ جبکہ سوہا کی گھبراٸ لجاٸ سی حالت پر مسکراہٹ پہلے ہی ہونٹوں پر در آٸ تھی جس کو دبانے کی کوشش وہ اب کر رہا تھا۔۔۔
آپکی ۔۔۔ یہ جو ایک عدد مسز ہیں۔۔۔ ان کو لگتا تھا ۔۔ کہ آپ باہر نہیں آٸیں گے۔۔۔ محب نے شرارت سے کہا۔۔۔
اور میں ٹھہرا ایک محبت والا دل رکھنے والا مرد۔۔۔ بڑے انداز میں دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔
میں نہ کہا رنج نہ کریں راجکماری صاحبہ۔۔۔ راجکمار آٸیں گے۔۔۔ آٸیں گے۔۔۔ بس میں نے ان کو بیس منٹ کا کہا تھا پر آپ دس منٹ ہی آ گۓ۔۔۔ آخری بات پر محب نے کچھ اس انداز سے کان کھجایا کہ چاروں ہی ہنس پڑے۔۔۔
واسم نے ہنستے ہنستے گہری نظروں سے سوہا کو دیکھا تھا۔۔۔ وہ واقعی آج بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔۔۔
میرب دونوں کی بلاٸیں لے رہی تھی۔۔۔ اس نے آج پورے سات ماہ بعد اپنے بھاٸ کو ہنستے دیکھا تھا۔۔۔
نشا کو نورین اور عشرت سٹیج پر لا رہی تھیں۔۔۔ جیسے ہی اسے سٹیج پر بیٹھایا تھا واسم کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غاٸب ہوٸ تھی۔۔۔
میں کسی زانی اور شرابی سے شادی نہیں کر سکتی۔۔۔ نشا کے کہے ہوۓ الفاظ اس کے ذہن میں ہتھوڑے چلا رہے تھے۔۔۔
اسکا خود ساختہ گلٹ جو تھوڑی دیر کے محب کی شرارتوں اور سوہا کے حسن کی وجہ سے دب گیا تھا ایک دم سے پھر سے اجاگر ہو گیا تھا۔۔ وہ ساکت کھڑا تھا۔۔۔ پھر ایک دم سے تیز تیز قدم اٹھاتا وہ وہاں سے چلا گیا تھا۔۔۔
**************
دلہن۔۔۔ میں محبت کی شادی کے سخت خلاف رہی ہمیشہ۔۔۔۔ صدف بارعب آواز میں کہہ رہی تھی۔۔
لیکن ارسل کیونکہ میری اکلوتی اولاد ہے۔۔ اس کی محبت اور چاہت کے آگے مجھے سر جھکانا ہی پڑا۔۔۔ ان کے لہجے میں آج بھی کھردرا پن تھا۔۔۔
نشا سر جھکاۓ ۔۔ پھولوں کی مسہری کے سجے بیڈ پر بیٹھی تھی۔۔
بس تم ہمارے خاندان کے طور طریقے سیکھ لینا۔۔۔ وہ بھنویں اچکا کر اس کا جاٸزہ لے رہی تھیں۔۔
جی۔۔۔ مدھم سی آواز میں نشا نے کہا تھا۔۔۔ پر نظریں ابھی بھی جھکی ہوٸ تھیں۔۔۔
پھر آپ صبح سات بجے ناشتے کی میز پر آ جاۓ گا میں انتظار کروں گی۔۔۔صدف اپنی ساڑھی کا پلو سنبھالتی ہوٸ اٹھی تھی۔۔
سپاٹ چہرہ ۔۔۔ غصیلی آنکھیں۔۔اور بارعب انداز تھا ان کا۔۔۔
وہ کمرے سے جیسے ہی نکلی۔۔۔ نشا نے سینے پر ہاتھ رکھ کر گہرا سانس لیا۔۔۔ کیا چیز ہیں یہ۔۔۔ وہ ابھی پانی تلاش کر ہی رہی تھی کہ دروازہ کھلا تھا۔۔۔
ارسل اپنے پورے جلوے لیے مسکراتا ہوا آرہا تھا۔۔۔ نشا کو پا لینے کی خوشی اس کے چہرے پر تھی۔۔۔
نشا نے مسکراتے ہوۓ سر جھکا لیا۔۔
ارسل اب پاس آ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ تو ۔۔۔ وہ خوشی سے تھوڑا خجل ہو رہا تھا۔ ۔۔
تھوڑی دیر خاموشی رہی۔۔۔
یار بہت کچھ سوچا تھا۔۔۔ سب بھول گیا۔۔۔ ار سل نے ہونٹوں پہ زبان پھیر کر ہنستے ہوۓ کہا۔۔
نشا ہلکے سے مسکراٸ تھی۔۔۔
ہمم۔م۔م۔ پہلے تو یہ منہ دکھاٸ۔۔۔ وہ اب اپنی جیب سے ایک ڈبیہ نکال رہا تھا۔۔۔
یہ۔۔یہ وہ اب ڈبیہ کو کھول کر اس میں سے گولڈ کا برسیلٹ نکال رہا تھا۔۔
یہ کیا ہوتا ویسے ۔۔۔ وہ اب بریسلٹ کو گھوما کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
نشا نے چہرہ اوپر کیا۔۔۔ اور مسکراہٹ دباٸ۔۔۔۔
یہ یقینا اپکی مما جان کی پسند ہو گی اس لیے آپکو یہ تک نہیں پتہ کہ یہ ہے کیا۔۔۔ نشا نے خفگی سے کہا۔۔۔
ارے یار۔۔۔ اچھا میں جج کرتا ہوں یہ کیا ہے۔۔۔ وہ ہونٹوں پر انگلی رکھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ گلے میں یہ آ نہیں سکتا۔۔۔ نشا اس کے انداز پر کھلکھلا کر ہنسی تھی۔۔۔
پاوں۔۔۔۔ ہاں ۔۔ آٸ تھنک یہ پازیب ہے ۔۔ وہ خوش ہو کر بولا۔۔۔
غلط بلکل غلط ۔۔۔ نشا نے ہنستے ہوۓ اپنی کلاٸ آگے کی۔۔۔
اوہ۔۔۔ نیکسٹ یہی بولنے والا تھا میں۔۔۔ ارسل نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔۔
بہت خوبصورت ہے۔ ۔۔۔ نشا نے پیار سے دیکھا۔۔۔
ہاۓ۔۔۔ بس آپکی یہی ادا۔۔۔ ارسل نے شرارت سے دل پر ہاتھ رکھا۔۔۔
نشا دھیرے سے مسکرا دی۔۔۔
مما آٸیں تھی۔۔۔ ارسل اب شیروانی کے اوپر والے کوٹ کو اتار رہا تھا۔۔
جی۔۔۔ نشانے دوپٹے کے پلو کو پیچھے کرتے ہوۓ کہا۔۔۔
نشا مما۔۔۔ ایسی ہی ہیں لیکن وہ دل کی بہت اچھی ہیں مجھ سے بہت محبت کرتی ہیں۔۔۔ وہ شیروانی کو سلیقے سے صوفے پر رکھتے ہوۓ واپس بیڈ لر بیٹھتے ہوۓ بولا۔۔۔۔
جی۔۔۔ نشا نے سر جھکا لیا تھا۔۔۔
اور میں ان سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔ ارسل نے نشا کا مہندی سے بھرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا۔۔
انھوں نے ہمیشہ میری خوشی کے لیے اپنی خوشی کو بالاۓ طاق رکھا ہے۔۔۔وہ آہستہ آہستہ اپنے ہاتھ سے اس کے ہاتھ کو تھپک رہا تھا۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم بھی ان سے اتنی ہی محبت کرو جتنی میں۔۔۔ ارسل نے آہستہ سے نشا کا چہرہ اوپر اٹھایا۔۔۔ اور اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا۔۔۔
کرو گی نہ۔۔ وہ دوبارہ محبت سے پوچھ رہا تھا۔۔۔
جی۔۔۔نشا نے بھی محبت سے جواب دیا۔۔۔
اور کیا وہ مجھ سے اتنی ہی محبت کریں گی جتنی آپ کرتے۔۔۔ نشا نے لب کچلتے ہوۓ سوال کیا کیونکہ اسے ان کا رویہ عجیب سا لگتا تھا جسے ارسل ماننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔
ارے۔۔۔۔ جان ارسل۔۔۔ جتنی محبت میں تم سے کرتا ہوں اتنی کوٸ اور نہیں کر سکتا۔۔۔ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھتا ہوا وہ تھوڑا آگے ہوا تھا۔۔۔
جی ۔۔۔ جی۔۔۔۔ نشا کی کھنکتی ہوٸ ہنسی پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔۔۔
*****************
ہار گۓ تھے واسم مجھ سے۔۔۔ سوہا نے ناک سکیڑ کر میرب سے کہا۔۔
سب لوگ لاونج میں اکٹھے بیٹھے تھے آج اتنے دن بعد۔۔۔ نشا کی شادی کو دو ہفتے ہو گۓ تھے۔۔ واسم شادی پر نہیں آیا تھا۔۔۔وہ اسلام آباد چلا گیا تھا۔۔۔ اس کی نب بنک میں ریجنل مینجر کے طور پر ملازمت ہو گٸ تھی۔۔۔آج اسی کی خوشی میں سب اکھٹے ہوۓ تھے۔۔۔ رضا کی فیملی بھی تھی۔۔ واسم آج بہت خوش لگ رہا تھا۔۔۔
ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔ میرب نے حیران ہو کر کہا۔۔۔
ہوا ہے۔۔۔ پوچھ لو ان سے۔۔۔ سوہا نے مسکراتے ہوۓ واسم کی طرف اشارہ کیا جو اب مسکراہٹ دبا رہا تھا۔۔۔
سوہا میرب کو براٸٹن میں ہوٸ ساٸیکل ریس کے بارٕے میں بتا رہی تھی۔۔۔ لیکن میرب حیران ہو رہی تھی اور یقین نہیں کر رہی تھی۔۔۔
نا ممکن۔۔۔ میرب نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
کیوں بھٸ۔۔۔ سوہا نے حیران ہو کر کہا۔۔۔
17
ایک منٹ میں آتی ہوں۔۔۔ میرب سوہا کو اشارہ کرتی اٹھ کر گٸ۔۔۔
بڑے سارے اپنی باتوں میں مصروف تھے۔۔ ناٸل اور محب گیم کھیل رہے تھے۔۔۔
یہ دیکھیں۔۔۔ میرب کچھ دیر بعد ایک تصویر ہاتھ میں پکڑے لاٸ تھی اور سوہا کی آنکھوں کے آگے کر دی۔۔
تصویر میں واسم ساٸیکل ریس کے فاتح کے طور پر کھڑا تھا ڈسٹرکٹ لیول کی ریس تھی کوٸ۔۔۔ سوہا حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
جی۔۔۔۔۔ ساٸیکل ریس کے چیمپن رہے چکے ہیں جناب ۔۔۔ میں مان ہی نہیں سکتی۔۔۔ میرب ہنستے ہوۓ بیٹھی تھی۔۔۔
واسم نے سوہا کی طرف دیکھا اور اس کی شکل دیکھ کر اس نے قہقہ لگایا تھا۔۔۔
آپ جان بوجھ کر ہارے تھے اس دن ۔۔ سوہا نے مسیج کیا۔۔۔
واسم نے مسکراتے ہوۓ مسیج پڑھا۔۔۔
نہیں۔۔۔ مختصر جواب لکھا۔۔۔
ہاں کہتے تو زیادہ خوشی ہوتی مجھے۔۔۔ سوہا نے شرارت سے لب دانتوں میں دبا کر واسم کی طرف دیکھا اور مسیج کیا۔۔۔
میرب اب پرانی تصویریں دیکھنے میں مصروف ہو گٸ تھی۔۔۔
مجھے نہیں کہنے میں ہو رہی ہے۔۔۔ واسم نے جوابی مسیج کیا۔۔۔
تو ٹھیک ہے مجھے آپکی خوشی زیادہ عزیز ہے۔۔۔ سوہا نے پیار سے مسکرا کر واسم کی طرف دیکھتے ہوۓ مسیج سنڈ کیا۔
واسم جب اسلام آباد میں تھا ۔۔ ان کی تب سے فون پر بات شروع ہو چکی تھی۔۔۔
آٸ ۔۔۔ لو۔۔۔یو۔۔۔ سوہا نے ہمت کر کے بلش ہوتے ہوۓ آج لکھ ہی دیا۔۔۔ بولنے کی تو کبھی شاٸد ہمت نہ ہو پاتی۔۔۔
وہ تھوڑی دیر دھڑکتے دل کے ساتھ جواب کا انتظار کرتی رہی پر دوبارہ کوٸ مسیج نہیں آیا۔۔۔ نظر اٹھا کر واسم کی طرف دیکھا تو وہ مسکراہٹ دباۓ شرارت سے اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
آپ کچھ نہیں کہیں گے۔۔۔ خفگی والی شکل بنا کر مسیج کیا۔۔۔
کیا ۔۔۔
بڑے آرام سے واسم نے مسکراہٹ دبا کر لکھا۔۔۔
اس کا جواب جو میں نے لکھا۔۔۔
پھر سے خفا سی شکل بناٸ۔۔
ایسے تو نہیں دوں گا میں ۔۔۔ شرارت آنکھوں میں چمکی تھی واسم کی
پھر کیسے۔۔ ہنوز خفا شکل کے ساتھ لکھا۔۔۔
لان میں آٶ گی تو۔۔۔ واسم نے شرات بھر کے آنکھوں میں سوہا کو دیکھا تھا۔۔
مسیج پڑھ کر وہ جھینپ گٸ تھی۔۔ دل میں جیسے کرنٹ سا لگا۔۔۔
سب کیا کہیں گے۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر جواب لکھا۔۔۔
سب خوش ہی ہوں گے۔۔۔ واسم نے مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ۔۔
رخصتی نہیں ہوٸ ابھی جناب۔۔ سوہا نے چھوٹی سی ناک سکیڑ کر لکھا۔۔۔
میں کونسا کمرے میں بلا رہا۔۔۔ واسم نے بھر پور نظر ڈال کر کہا۔۔۔
وہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوۓ مسیج پر بات کر رہے تھے۔۔
اوکے۔۔۔ کب۔۔۔ سوہا نے بلش ہوتے ہوۓ لکھا۔۔
ابھی۔۔۔ واسم نے شرارت سے دیکھا ۔۔۔
سب میں سے اٹھ کر۔۔۔ سوہا نے حیرانی سے منہ کھول کر دیکھا۔۔۔
اسکا مطلب تم جواب نہیں سننا چاہتی۔۔۔ واسم نے مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
چاہتی ہوں۔۔۔ سوہا کے گال تپ گۓ تھے اب کی بار نظر اٹھا کر واسم کی طرف نہیں دیکھا۔۔۔
پھر چلو ۔۔۔ جاٶ۔ واسم نے اٹھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: