Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 2

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

یار کیا چیز ہے یہ۔۔۔ واسم نے اردو زبان میں ساتھ بیٹھے نوید سے کہا۔۔۔ تاکہ گاڑی کی پیچھلی سیٹ پر بیٹھی کیرن کو سمجھ نہ آۓ۔۔
وہ لوگ کلب سے واپس جا رہے تھے۔۔ ساری پارٹی میں کیرن واسم کے سر پر سوار رہی۔۔۔ واسم کو الجھن ہوتی رہی۔
کیرن کو یونیورسٹی میں ان کا گروپ میں شامل ہوۓ ابھی کچھ ہی دن ہوۓ تھے۔۔۔
نوید کا قہقہ گاڑی میں گونجا تھا۔۔۔ لیکن اس نے جواب کوٸی نہیں دیا۔۔۔ وہ اپنی ہنسی دباتے ہوۓ ڈراٸیو کر رہا تھا۔۔۔۔
پیچھے بیٹھی کیرن نہ سمجھی کی کیفیت میں بار بار دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔
اس کو بتا دیا ہے کہ۔۔ مجھےکوٸی انٹرسٹ نہیں۔۔۔ پھر بھی میرے گلے کا ہار بن رہی ہے۔۔۔ واسم اب تھوڑا چڑ کر بول رہا تھا۔۔۔وجہیہ پیشانی پر ناگواری کے بل تھے۔۔۔ اور چہرہ تھوڑا غصے کا تاثر پیش کرنے لگا تھا۔۔۔
ویسے پاگل تو ۔۔تو ہے۔۔ دیکھ تو کیسی خوبصورت ہے۔۔۔ نوید نے آنکھوں میں شرارت لاتے ہوۓ کہا۔۔۔ کبھی وہ ساتھ بیٹھے واسم کو دیکھ رہا تھا تو کبھی سامنے سڑک پر۔۔۔
تمھاری جگہ مجھے اتنی لفٹ کراتی ۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔ میں ۔۔تو۔۔ معنی خیز انداز میں کہا۔۔۔۔ وہ اب پھر سے قہقہ لگا رہا تھا۔۔۔
چل اب بکواس بند کر۔۔۔ اور اسے اچھی طرح سمجھا دے۔۔۔ مجھے یہ سب بلکل پسند نہیں ہے۔۔۔واسم اب جیب سے کچھ نکال رہا تھا۔۔۔
ارے یار سمجھا دوں گا۔۔ کہ بھٸ یہ جو واسم زوجیج ہیں نہ یہ ایک باکردار لڑکے ہیں۔۔۔ ان کے اوپر بلکل گندی نظر نا رکھی جاۓ۔۔۔مابدولت صرف دور دور سے ہی حسیناٶں پر اپنے جلوے دیکھا کر ظلم ڈھاتے ہیں۔۔۔نوید نے لہک لہک کر کہا۔۔۔ اور پھر سے قہقہ لگایا۔۔۔
واسم اب سگریٹ سلگا رہا تھا۔۔۔۔
ان جناب کو تو بڑی مشکل سے ہم سگریٹ تک لاۓ ہیں۔۔۔ لڑکی تک آتے آتے پتہ نہیں کتنا عرصہ لگے گا۔۔۔ نوید نے سٹیرنگ موڑا تھا۔۔۔ اور کن اکھیوں سے واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
لڑکی تک بہت پہلے پہنچ گیا تھا میں۔۔۔ اب اسی تک ہی رہنا چاہتا ہوں ۔۔۔ سیدھا منہ کر کے گاڑی چلا۔۔۔ واسم اپنی ہنسی دباتے ہوۓ مصنوعی رعب سے بولا۔۔۔۔
واسم کی اس بات پر نوید منہ کھول کر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔ ایسے جیسے کہہ رہا ہوا سچ کہہ رہے ہو کیا۔۔۔
تو یار۔۔۔ جو ایک دفعہ لڑکی تک پہنچ جاۓ۔۔۔ پھر اسے کاہے کا ڈر۔۔۔ ہینڈل کرنی تو آتی ہے نہ۔۔۔ نوید شرارت سے بولا۔۔۔
واسم نے مسکرا کر دیکھا تھا۔۔۔ اور ہوا میں افسوس سے ایسے سر مارا کہ جیسے کہہ رہا ہو ۔۔ تیرا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔
میں وہ والے پہنچنے کی بات نہیں کر رہا ہوں۔۔۔ واسم نے مسکراہٹ دباٸی ۔
۔محبت کی بات کر رہاہوں ۔۔۔ لیکن یہ معرفت کی باتیں ہے تیری سمجھ میں نہیں آٸیں گی۔۔۔ تو گاڑی چلا اور جلدی پہنچا مجھے ۔۔۔ آغا جی سے بات کرنی ہوتی رات کو۔۔
کیا باتیں کر رہے تم لوگ۔۔ پیچھے بیٹھی کیرن کو بلکل سمجھ نہیں آ رہی تھی ان کی اردو زبان کی ۔۔ وہ بار بار دونوں سے یہی پوچھے جا رہی تھی۔۔۔۔
یہ کہہ رہا ہے۔۔۔ کیرن کے ساتھ بہت مزہ آیا اسے۔۔۔ کچھ اور وقت مل جاتا تو۔۔۔ نوید نے شرارت سے آنکھ دباتے ہوۓ ۔۔ ساتھ بیٹھے واسم کو دیکھا۔۔
اور پھر دونوں قہقہ لگا رہے تھے۔۔۔ اور وہ ناراض ہو رہی تھی پیچھے بیٹھی۔۔۔
***********
تم نے اس کو سر پر چڑھا رکھا ہے۔۔۔ سوزی اچھل اچھل کر سوہا کو مارنے کے لیے آ رہی تھی۔۔ جس کو بڑی مشکل سے پیٹر پکڑ کر کھڑا تھا۔۔۔ اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا۔۔ وہ تڑپ تڑپ کے پیٹر کے بازوٶں سے نکل کر سوہا پر جھپٹنا چاہ رہی تھی۔۔۔
سوہا کہاں لے کر گٸ تھی تم سارا کھانا۔۔ اکبر جو کمر پر ہاتھ رکھے اور ماتھے پہ بل ڈالے کھڑا تھا ایک دم سے مڑ کر سوہا پر دھاڑ رہا تھا۔۔۔ جو بڑے آرام سے چیونگم چبانے میں مصروف تھی۔۔۔ اکبر کے یوں بولنے پر وہ تھوڑا سا سٹپٹاٸی تھی۔۔۔
ان کو تو پہلے ہی پتا تھا ۔۔۔ میں سارا کھانا کھا سکتی ہوں۔۔۔ وہ کندھے اچکا کر بولی۔۔۔
مجھے بھوک لگی تھی پتہ ہی نہ چلا سارا کھانا کھا گٸ میں۔۔۔ بڑے پریم سے بولی اور منہ سے چیونگم کا غبارہ بنا کر پھوڑ ڈالا۔۔۔
سوزی اس کی اس حرکت پر جل بھن کر ہی تو رہ گٸ تھی۔۔۔
جھوٹ بولتا ہے ۔۔ تمھارا یہ باسٹڈ لڑکی۔۔۔ اتنا سارا کھانا یہ کیسے کھا سکتا ہے۔۔۔ سوزی اب روہانسی ہو رہی تھی۔۔۔
پیٹر سرخ چہرہ لیے کبھی اسے دیکھ رہا تھا تو کبھی اپنی ماں کو۔۔۔
تو زلیل کرنا نہیں چھوڑے گی نہ۔۔۔اکبر نے زور سے سوہا کے بازو کو جھٹکا دیا۔۔۔
تیرا میں بندوبست کرتا ہوں۔۔۔ لندن میں کروا رہا ہوں تمھارا ایڈمیشن۔۔ وہاں ہاسٹل میں رہے گی۔۔۔اکبر انگلی کو اس کی آنکھوں کے سامنے نچا نچا کر بات کر رہے تھے۔۔۔
تو میری جان کو بھی سکون ہوگا۔۔۔ روز کی چک چک سے میں تنگ آ چکا ہوں۔۔۔ وہ اب پھولی سانسوں سمیت۔۔ کرسی پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔
اب فورا پنے کمرے میں جاٶ۔۔۔ اکبر نے تھوڑے دھیمے لہجے میں کہا۔۔۔ کیونکہ اسے پتہ تھا اس کے اتنا چیخنے کا بھی کوٸی فاٸدہ نہی ہو گا۔۔۔
وہ تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتی ہوٸی اوپر آ گٸ۔۔۔
لیکن اکبر اور سوزی کے لڑنے کی مدھم آوازیں اسے ادھر بھی سناٸی دے رہی تھیں۔۔۔ وہ ٹیرس کی طرف بڑھ گٸ تھی۔۔۔
اور پھر سے کیمرے کی مدد سے دیکھنا شروع کردیا۔۔۔
روز کی بہن مسکرا کر کچھ کھا رہی تھی۔۔ اس کے سامنے ایک حبشی عورت بیٹھی تھی۔۔۔ جو اس سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ شاٸید کوٸی میڈ رکھی ہو گی روز نے۔۔۔ اس کے لب بھی مسکرادیے تھے۔۔۔
****—***********———–**–*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-*-
آپ۔۔ آپ یہاں بھی پہنچ گۓ۔۔۔ نشا نے غصے سے آنکھیں نکال کر ارسل کی طرف دکھا۔۔ اور اپنے سامنے رکھی کتاب کو بند کیا۔۔۔ جب کے اس کا ایک ہاتھ بند کی ہوٸ کتاب کے اندر ہی تھا۔۔
ردا آج یونیورسٹی نہیں آٸی تھی۔۔ وہ اکیلی آٸ تھی۔۔ اور ارسل سے بچنے کی خاطر اب وہ لاٸبریری میں آ کر بیٹھی تھی۔۔۔ لیکن وہ یہاں بھی آ دھمکا تھا۔۔۔
کیوں ۔۔ لاٸبریری آٸ تھنک سب سٹوڈنٹس کے لیے ہے۔۔ کوٸ بھی آ سکتا ہے۔۔۔ وہ بڑے پریم سے ایک ہاتھ سے کرسی کھینچتا ہوا اس کے بلکل سامنے بیٹھ گیا تھا۔۔
آ سکتا ہے ۔۔ لیکن آ کر پھر کسی اور کو ڈسٹرب نہیں کر سکتا۔۔۔ نشا نے اپنے چہرے پر ناگواری کے تاثرات لا کر کہا۔۔۔
آپ جاٸیں یہاں سے۔۔۔ نشا نے سختی سے کہا اور خود پھر سے کتاب کھول کراس پر نظریں جما دی تھیں۔۔
صبح سے تمھارا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔۔ دل بے چین سا تھا۔۔ اول نمبر کا ڈھیٹ تھا وہ۔۔ بڑے مزے سے تھوڑا سا آگے ہو کر سرگوشی کے انداز میں بولا۔۔۔۔
تو اب دیکھ لیا نہ۔۔ تو جاٸیں اب چین آ ہی گیا ہو گا کافی دیر سے میرے آگے تشریف فرما ہیں آپ۔۔ نشا نے لاٸبریری کے داخلی دروازے کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔ جب کے چہرے پر بلا کی سختی تھی۔
ارے ۔۔ ابھی کہاں۔۔۔ اس چہرے کو تو ساری عمر بھی بیٹھ کر یوں دیکھتا رہوں تو کافی نہیں ہے۔۔۔ ارسل نے بڑے ریلکس انداز میں کرسی سے ٹیک لگاٸی۔۔ جبکہ آنکھیں محبت سے لبریز تھیں۔۔
ویسے آپ لاہور میں تو ہاسٹل میں رہتی ہیں نہ۔۔تو ویسے کس شہر سے ہے آ پکا تعلق۔۔۔ وہ اس کے غصے کو یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ اب اس سے اگلا سوال پوچھ رہا تھا۔۔
آپ سے مطلب۔۔۔ نشا نے سپاٹ چہرے اور کھا جانے والی آنکھوں سے ارسل کو دیکھا۔۔
مجھے لگتا ہےآپ خود تو میری جان نہیں چھوڑیں گے مجھے ہی اٹھ کر جانا پڑے گا یہاں سے۔۔ وہ جلدی سے اپنی کتابیں سمیٹنے لگی تھی۔۔
ارے۔۔ارے۔۔ نہیں۔۔ میں جاتا ہوں۔۔ ارسل ایک دم سے اٹھا تھا۔۔ آپ کیوں تکلیف کر رہی ہیں۔۔۔ وہ جلدی سے لاٸبریری کے داخلی دروازے کی طرف جا رہا تھا۔۔
*******************
جی۔۔جی۔۔ آغا جان۔۔۔ وہ مسکراتے ہوۓ فون کان کو لگا کر بولا تھا۔۔ ایک نظر سامنے گھڑی پر دیکھا۔۔۔ آغا جان کے سونے کا وقت تھا۔۔ اور سونے سےپہلے وہ واسم سے لازمی بات کرتے تھے۔۔
نہیں۔۔۔ بلکل ٹھیک ہوں۔۔ ابھی ضرورت نہیں ہے۔۔ جب ہو گی تب لوں گا پھر آپ سے۔۔۔ وہ ریموٹ اٹھا کر سامنے چلتے بڑے سے ٹی وی کی آواز آہستہ کر رہا تھا۔۔
ہلکے پھلکے سے ٹرایوزر اور ٹی شرٹ پہنے وہ ہلکے پھلکے ہی انداز میں بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جب آغا جان کی کال آٸ تھی۔۔
اچھا کیسے ہیں سب ۔۔ مما بابا۔۔ پھپھو۔۔۔ ٹھیک ہیں کیا سب۔۔
مسکراتے ہوۓ خوش دلی سے پوچھا۔۔
نہیں ۔۔ نہیں آغا جان اس کے بارے میں پوچھنے کی کوشش نہیں کر رہا۔۔ آغا جان کی اگلی بات کے جواب پر وہ بلش ہوا تھا۔۔ واسم کے جاندار قہقے سے پورا کمرہ گونج اٹھا تھا۔۔
آ ہاں۔۔۔ بس آغا جان ۔۔ لاسٹ ایر ہے ۔۔ پھر انشااللہ آپ کے پاس ہوں گا۔۔۔ وہ اب اپنے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔۔۔
وہ اپنے دادا کا بے انتہا لاڈلا تھا۔۔۔ فیروز احمد۔۔۔ صبح شام اپنے پوتے کی خیریت معلوم کرتے رہتے تھے۔۔
اپنے بستر پر لیٹنے کے بعد ۔۔ اب وہ چھت کو گھور کر مسکرا رہا تھا۔۔ اسے سامنے ایک چہرہ مسکرا رہا تھا۔۔
×××××××××××××
بابا اب آپ رو کیوں رہے ہیں ۔۔ آپ کی مرضی سے ہی تو جا رہی ہوں ۔۔ لندن۔۔۔ اور دور تھوڑی نہ ہے۔۔ جب دل چاہے آ جایا کروں گی۔۔۔سوہا نے اکبر کے گلے میں باہیں ڈال کر کہا۔۔۔۔لیکن چہرہ جیسے ہی ان کے کندھے سے لگنے کی وجہ سے دوسری طرف گیا تو ہنستے چہرے پر ایک دم سے اداسی در آٸ تھی۔۔۔
بس کیا کروں بہت مجبور ہوں۔۔ ان کی آواز بھیگی ہوٸی تھی۔۔ آنکھوں میں آنسو لیے لب دھیرے سے مسکراۓتھے۔۔۔
سوزین پیٹر کو زبردستی گھر میں لے آٸ تھی ۔ اب اکبر چاہتے تھے کہ سوہا یہاں نہیں رہے۔۔ پیٹر کو وہ پسند نہیں کرتے تھے۔۔ لیکن سوزین کو چھوڑ نہیں سکتے تھے۔۔۔
اب مجھے جانا ہے ۔۔ بابا۔۔۔ اس نے گھڑی پر ٹاٸم دیکھا اور ایرپورٹ کی طرف جاتے ہوۓ لوگوں کو۔ جو ایک دوسرےکے ساتھ باتوں میں مصروف اپنے اپنے لگیج کی ٹرالی کو زمین پر گھسیٹتے ہوۓ چیکنگ آٸریا کی طرف جا رہے تھے۔۔۔ ہر شخص اپنی زندگی سے خوش نظر آ رہا تھا۔۔۔
2
سوہا اکبر سے الگ ہوٸ اور دھیرے سے مسکراٸی تو گالوں کے گھڑے واضح ہو گۓ۔۔ آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی۔۔
معصوم کم سن سا چہرہ۔۔ روشن آنکھیں۔۔ سنہری بال ۔۔۔پر اندر سے ٹوٹی ہوٸ بکھری ہوٸ سہمی ہوٸ بچی ایک بروکن چاٸلڈ تھی وہ۔۔۔ ماں باپ کی علیحدگی کے بعد دربدر بھٹکتی ہوٸ بچی تھی وہ۔۔
مظبوطی سے اپنے بیگ کے کو پکڑا اور گھسیٹتے ہوۓ آگے چل پڑی۔۔۔ اسے معلوم تھا۔۔۔ اکبر رو رہے ہوں گے۔۔۔ لیکن وہ ایک مظبوط لڑکی بنتی تھی ان کے سامنے۔۔
بابا کیا مجبوری۔۔۔ آپ مجھے میری ماں سے لڑ کر مجھے چھین کر لے آۓ۔۔ لیکن پھر وہ محبت کبھی نہ دے سکے جو دینی چاہیے تھے۔۔۔ دل سے ایک ٹیس سی اٹھی تھی۔۔۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔
مڑ کر اپنے باپ کو دیکھنے کی اس میں ہمت نہیں تھی۔۔۔ وہ بھاری بھاری قدم اٹھاتی جا رہی تھی۔۔۔
میں آج تک در بدر بھٹکتی رہی ہوں۔۔ کبھی پاکستان چچا کے رحم وکرم پر۔۔۔ تو کبھی بورڈنگ۔۔۔ تو اب ہاسٹل۔۔ اگر مجھے یوں ہی آپ نے اپنے آپ سے دور رکھنا تھا۔۔ تو مجھے میری ماں سے الگ کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔۔۔ آنسوٶں کا گولا سا تھا جو اٹک گیا تھا گلے میں۔۔۔۔
مجھے تو ان کا چہرہ تک یاد نہیں۔۔۔ وہ ارد گرد گزرتی عورتوں کے چہرے غورغور سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
ان کو میں یاد بھی ہوں گی کہ نہیں۔۔۔ شاٸد وہ بھی آپ کی طرح۔۔ اب اپنے شوہر اور بچوں میں مصروف ہوں گی۔۔۔ اکیلی ہوں تو ہم تینوں میں سے صرف میں۔۔۔ اس نے گالوں پر نمی کو محسوس کیا۔۔۔
میرا کوٸ نہیں ہے۔۔۔ اس دنیا میں۔۔۔ ماں باپ کے ہوتے ہوۓ بھی میں اکیلی ہوں۔۔۔ جہاز اڑان بھر رہا تھا۔۔۔ اس نے سیٹ کی پشت کے ساتھ سر ٹکایا اور نیچے کی طرف دیکھا۔۔۔
*******************
ہیلو۔۔ فون میں سے اس کی میٹھی سے آواز ابھری تھی۔۔ نشا کمرے میں آٸی تو فون کی بل نے سارے کمرے کو سر پر اٹھا رکھاتھا۔۔ فون کی سکرین پر ایک انجان نمبر چمک رہا تھا۔۔۔
روح کی تسکین ہے آپکی آواز۔۔۔ ارسل کی آواز پر وہ ایک دم چونکی تھی۔۔۔
کہ۔۔کون۔۔ آواز میں تھوڑا انجان تاثر لاتے ہوۓ کہا لیکن دل دھک سے سوچ رہا تھا۔۔۔اس کے پاس میرا نمبر کیسے پہنچا۔۔۔ وہ گڑ بڑا گٸ تھی۔۔۔
جناب۔۔۔ اب ایسے تو مت بولیں کہ آپ نے ہمیں پہچانا ہی نہیں۔۔ آواز محبت میں ڈوبی ہوٸ تھی۔۔
وہ یونیورسٹی میں اسکا اتنا سر کھاتا تھا۔۔ کہہ اس کی آوز اور لہجہ اس کے لیے کیسے اجنبی ہو سکتا تھا۔۔۔
آپ کے پاس میرا نمبر کیسے آیا۔۔۔ آواز میں تھوڑی سختی کا تاثر لاتے ہوۓ نشا نے کہا۔۔۔ جب کے ماتھے پہ ہلکے سے پسینے کے قطرے نمودار تھے۔۔
تلاش کرنے نکلو تو خدا بھی مل جاۓ۔۔ یہ تو آپکا نمبر تھا۔۔۔ بڑے پریم سے اور ادا سے ارسل نے کہا۔۔۔
دیکھیں ۔۔ آپ پلیز میرا پیچھا چھوڑ دیں ۔۔ میں بلکل بھی آپ میں انٹرسٹڈ نہیں ہوں۔۔ نشا نے دو ٹوک الفاظ میں کہا۔۔۔اور دوپٹے کے پلو سے پسینا صاف کیا۔۔
چلیں میں جاٸز طریقہ استعمال کر لیتا ہوں ۔۔ میں اپنے گھر والوں کو آپ کے گھر بھیجنا چاہتا ہوں ۔۔ وہ دھیرے سے معدب لہجے میں گویا ہوا۔۔
نہیں ۔۔ میں راضی نہیں ہوں۔۔۔ آپ کا شکریہ مت بھجیے گا۔۔۔ آپکو مایوسی ہی ہو گی۔۔۔ وہ تیزی سے بول رہی تھی۔۔۔ دل عجیب طریقے سے اس کی زبان کا ساتھ نا دینے پر تلا ہوا تھا۔۔
اتنا کہتے ہی اس نے فورا فون رکھ دیا تھا۔۔ فون کو سویچ آف کیا اور خود بیڈ پر بیٹھتی چلی گٸ۔۔۔
ارسل کو یوں دو ٹوک الفاظ میں منع کرنے سے دل عجیب طرح سے اداس ہواتھا۔۔
********************
ہر دفعہ کی طرح ۔۔۔ ٹاپ آف لسٹ۔۔۔ واسم ۔ ۔۔۔ لسٹ سے نظریں ہٹا کر پینٹ کی جیبوں پر ہاتھ مارتے ہوۓ نوید نے کہا۔۔
اور سب جو لسٹ دیکھنے کے کوشش میں لگے تھے۔۔ ایک دم سے پیچھے کھڑے واسم کی طرف مڑے تھے۔۔۔
واٶ۔۔ تب تو ٹریٹ بنتی ہے۔۔ واسم کی طرف۔۔۔ کیرن پر جوش ہو گٸ تھی۔۔۔ آنکھوں میں محبت بھری چمک لاتے ہوۓ بولی۔۔۔
ساراگروپ زور سے چلانے لگا تھا۔۔۔ ایک دم سب واسم کو گلے لگا رہے تھے۔۔۔ جوش میں آ کر کیرن بھی آگے بڑھی تھی۔۔۔ اور واسم کے ساتھ بغل گیر ہوٸ گٸ تھی۔۔
واسم سٹپٹا کر کیرن سے الگ ہوا تھا۔۔۔لب ایک دم بھینچ لیے تھے۔۔ اور چہرہ بھی سخت ہو گیا تھا۔۔۔
لیکن سب لوگ اتنے جوش اور باتوں میں مصروف تھے کہ کسی نے کیرن کے علاوہ اس بات کا نوٹس نہیں لیا تھا۔۔ اس کا چہرہ ایک دم سے سفید سے زرد ہوا تھا۔۔۔ وہ فورا اردگرد دیکھنے لگی تھی۔۔۔
وہ شرمندہ سی ہو کر ایک طرف ہوٸ تھی۔۔۔ باقی سب لڑکیوں کو شاٸد واسم کی لمٹس کا پتا تھا اس لیے کوٸ لڑکی بھی اسکے گلے نہیں لگی تھی۔۔۔
واسم نے کن اکھیوں سے ۔۔ کیرن کی طرف دیکھا پھر اس کی شرمندگی ختم کرنے کو فوار چہرے پر مسکراہٹ سجا کر بولا۔۔
بلکل بلکل ۔۔ حاضر ہے۔۔ یہ ناچیز ۔۔ چلیں کدھر جانا پسند کریں گے سب ۔۔۔ وہ گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر بولا تھا۔۔۔
کیرن کانوں کے پیچھے بال کرتی ہوٸی شرمندہ سی ہو کر مسکراٸ تھی۔۔
*****************
تمھارا کیمرہ ہے۔۔۔ رچا نے پر جوش ہو کر پوچھا۔۔۔ وہ اس کے بلکل قریب کھڑی تھی۔۔
ہم۔م۔م۔م۔ میرے۔۔۔۔ بابا نے اس دفعہ برتھ ڈے پر گفٹ کیا ہے۔۔۔ وہ مسکرا کر کیمرے کو نیچے کرتی ہوٸ بولی۔۔ سورج کی کرنیں اس کے سہنری بالوں پر پڑ رہی تھی۔۔
اسے دو ہفتے ہو گۓ تھے۔۔ لندن آۓ ہوۓ۔۔ اس کا کنگ کالج آف لندن میں ایڈمیشن ہو گیا تھا۔۔ وہ کمیونکیشن فوٹوگرافی۔۔ پڑھ رہی تھی۔۔ کالج جانا آ جانا بہت مصروف دن گزرے تھے۔۔۔ آج ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں اس نے اپنا کیمرہ نکالا تھا۔۔
رچا اس کی روم فیلو تھی۔۔ وہ بہت اچھی شوخ سی لڑکی تھی جس سے چند دنوں میں ہی اس کی اچھی ہیلو ہاۓ ہو چکی تھی۔۔
کافی پیو گی۔۔۔ رچا نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ ٹیرس کی گرل پر کمر ٹکایاۓ سوہا کی طرف رخ کر کے کھڑی تھی۔۔۔
ہاں کیوں نہیں وہ بھی تمھارے ہاتھ کی۔۔ ضرور پیوٶں گی۔۔۔ سوہا نے گہری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر کہا۔۔۔
ہاسٹل کی آٹھویں فلور کے کمرے کے ٹیرس پر وہ اپنا کیمرہ لیے کھڑی تھی۔۔۔ ہوا بالوں کو اڑا رہی تھی۔۔۔ سفید رنگ کی ہاف بازو کی ٹی شرٹ۔۔اور جینز کی پینٹ میں ملبوس ۔۔ وہ معصوم سی گڑیا لگ رہی تھی۔۔۔
رچا مسکراتی ہوٸ ۔۔ کافی بنانے کی غرض سے اندر کی طرف گٸ۔۔
سوہا نے لب بھینچتے ہوۓ دوبارہ سےرخ دوسری طرف کیا اور کیمرے کو گھماتے ہوۓ۔۔۔ اس نے کیمرے کو اپنی آنکھ پر رکھا اور دوسری آنکھ دھیرے سےبند کیا وہ اس کے لینز کے فوکس کو زوم کر رہی تھی۔۔۔
سڑک پر ٹریفک تھی۔۔ بڑی بڑی عمارتیں۔۔۔ ان کے ہاسٹل کے بلکل سامنے۔۔۔ بہت بڑی عمارت تھی۔۔ جن میں رہاٸشی پر ستاٸش۔۔ فلیٹ تھے۔۔۔
اب اس کا کیمرے کا رخ اس طرف تھا۔۔۔ بلکل سامنے۔۔ ایک جگہ فلیٹ کی کھلی کھڑکی میں ہلتے پردے پر اس کا کیمرہ رک سا گیا تھا۔۔
کوٸ لڑکا تھا۔۔۔ اپنے حلیے سے وہ پاکستانی لگ رہا تھا۔۔ وہ کسی سے فون پر بات کر رہا تھا۔۔۔ دھیرے سے مسکرا رہا تھا۔۔۔
سوہا بلا وجہ اسے دیکھنے میں مگن ہو گٸ تھی۔۔۔ اتنے مغربی چہروں میں ایک ایشیاٸ چہرہ دیکھنے کو ملا تھا۔۔ وہ کرتا پہنے ہوۓ تھا جس کی وجہ سے اسے اس کے پاکستانی ہونے کا گمان ہوا۔۔۔
کچھ تھا اس کی شخصیت میں کہ وہ اس کی حرکات دیکھنے میں مگن ہو چکی تھی۔۔۔
اب وہ فون کو بند کر چکا تھا۔۔۔ اور صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔۔۔ بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کرتے ہوۓ اس نے تھکے سے انداز میں صوفے کی پشت سے سر ٹکایا تھا۔۔۔
کتنا خوبصورت فلیٹ تھا۔۔۔ ہر چیز۔۔۔ اپنی مثال آپ تھی۔۔ بلکل اس میں رہنے والے اس شخص کی طرح ۔۔۔
وہ صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا۔۔
سوہا نے مختلف اطراف سے اس کی تصاویر بنا ڈالی تھیں۔۔۔اس کو کچھ احساس نہ ہوا کہ وہ ایسا کیوں کر رہی ہے۔۔۔ ایک عجیب سحر زدہ سی شخصیت تھی اس کی۔۔۔
ہاں ہر خوبصورت چیز کو دور سے اپنے کیمرے میں محفوظ کر لینا اس کی عادت تھی۔۔اور اب بھی اپنی عادت سے ہی مجبور ہو کر اس کی ہرادا میں تصاویر اتار رہی تھی۔۔۔
وہ بڑی مگن ہو کر ان تصاویر کو زوم کر کے دیکھ رہی تھی۔۔اس کی آنکھیں۔۔ چمک رہی تھیں ویسے ہی جیسے ہر دفعہ کسی خوبصورت منظر کو دیکھ کر چمکتی ہیں۔۔۔ وہ اس کے لیے ایک خبصورت منظر ہی تو تھا۔۔۔
رچا نے اس کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا تھا۔۔ وہ ایک دم سے چونک سی گٸ تھی۔۔۔
۔۔ ردا ہاتھ میں کافی کے دو مگ پکڑے کھڑی تھی۔۔۔ چہرے پر اس کے چونکنے کی وجہ جاننے کا تاثر تھا۔۔۔
تمہیں کیا ہوا۔۔ رچا نےتھوڑا پریشان سا ہو کر پوچھا تھا۔۔۔ اور مگ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔
کہ۔۔کچھ نہیں۔۔۔ بہت خوبصورت ہے ۔۔ لندن ۔۔ اس نے مگ ہاتھ میں لیتے ہوۓ کہا۔۔۔ نظروں میں اس لڑکے کا چہرہ لہرا گیا تھا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: