Deed e Qalab Novel by Huma Waqas – Episode 20

0
دیدِ قلب از ہما وقاص – قسط نمبر 20

–**–**–

تمہیں معلوم ہے تم کیوں اچھی لگتی مجھے۔۔۔ رات کی رانی کی خوشبو۔۔۔ لان کی گھاس کی ٹھنڈک کا احساس اور سامنے بیٹھے واسم کی آواز کا سحر۔۔۔ سب کچھ فسوں خیز تھا۔۔ دل میں اتر کر روح میں سراٸیت کر جانے والا۔۔۔
وہ سامنے کرسی پر ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھا تھا۔۔۔ وہی مخصوص انداز بال تھوڑے بکھرے سے۔۔۔ شرٹ کے بازو کف سے فولڈ کیے ہوۓ۔۔۔ مڑی ہوٸ پلکوں کی جھالر والی خواب ناک گہری بولتی اس کے وجود میں گڑتی آنکھیں۔۔۔ اور اس سے اٹھنے والی وہ مخصوص خوشبو۔۔۔ وہ اس کے سامنے ایک پجاری کی طرح بیٹھی تھی۔۔۔ جس کے پتھر کے صنم میں کہیں سے جان آ گٸ ہو جیسے۔۔۔
۔ اپنی معصومیت کی وجہ سی۔۔۔ تم بہت معصوم ہو۔۔ واسم گہری مسکراہٹ لیے کہہ رہا تھا۔۔۔
مجھے شاطر۔۔۔ دھوکے باز ۔۔۔ اور جھوٹے لوگوں سے بے حد نفرت ہے۔۔۔ واسم نے چہرے پر تھوڑی سختی لاتے ہوۓ کہا۔۔۔ اس کے جبڑے تھوڑے سختی سے باہر کو ابھرے لگنے لگے تھے۔۔۔ ذہن میں وہی نہ معلوم لڑکی گھوم گٸ تھی۔۔۔
سوہا کا دل ایک لمحے کو ہلکا سا لرزا۔۔۔پھر دل کے کسی کونے سے آواز آٸ۔۔۔ واسم کو کبھی خبر نہیں ہو گی کہ وہ میں تھی۔ ۔۔ میرے اور رچا کے علاوہ کوٸ بھی تو نہیں ایسا جو اس راز سے واقف ہو۔۔۔
مجھے لگتا تھا کہ میں نشا کے بنا شاٸد جی ہی نہیں سکوں گا۔۔۔ واسم نے نظریں جھکا کر اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔۔۔لیکن میں غلط تھا۔۔۔ واسم نے لبوں پر زبان پھیری۔۔۔ اور ایک محبت بھری نظر سامنے بیٹھی اس نازک اندام سی لڑکی پر ڈالی جو ان چند مہینوں میں اسے اپنا بنا گٸ تھی۔۔۔
میرے نشا کے بعد جی جانے کی ایک وجہ تم بھی ہو۔۔۔ تمھارے ساتھ کا یہ انوکھا سا احساس بھی ہے۔۔۔ مجھے نہیں پتہ کب کیسے لیکن میرے دل کو تمہیں دیکھنے سے تسکین ملنے لگی۔۔۔ واسم کی نظروں میں بے پناہ پیار تھا۔۔۔
سوہا حیرانگی سے اس کے طلسم کا شکار ہو رہی تھی۔۔
یہ احساسات نشا کی محبت کے احساسات سے بہت مختلف ہیں۔۔۔ شاٸد ہمارے رشتے کی پاکیزگی ہے۔۔۔ ایک دم کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر وہ پیچھے ہوا۔۔۔
سوہا نے مسکرا کر پلکوں کی جھالر اٹھا کر اس پر ایک نظر ڈالی تھی۔۔۔پھر گرا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی۔۔۔
آج سے پہلے میں نے کبھی یہ نہیں سوچا تھا میں یوں بیٹھ کر تمھارے سامنے کبھی تمہیں اپنے سچے ہونے کی دلیل دوں گا ۔۔۔ مجھے لگتاتھا تم بھی مجھے چھوڑ دو گی نشا کی طرح ۔۔۔ اچانک واسم کے چہرے پر کرب کی لکیریں واضح ہو گٸ تھیں
لیکن آج دینی پڑے گی۔۔۔ وہ دھیرٕے سے مسکرایا تھا۔۔۔۔ گہری آنکھیں تھوڑی سی سکیڑ کر اس کی طرف دیکھا۔۔۔ پھر گردن پر اپنے مخصوص انداز میں ہاتھ پھیرا شاٸد وہ لفظوں کو ترتیب دے رہا تھا۔۔۔
میں ۔۔ ویسا بلکل نہیں ہوں ۔۔۔ جیسے آٹھ ماہ پہلے مجھ پر الزامات لگے۔۔۔ واسم کا چہرہ ایک دم سے سخت اور شرمندہ سا نظر آنے لگا۔۔
سوہا کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ۔۔۔ اس نے گھبرا کر ارد گرد دیکھا ایسے جیسے اس کی چوری نہ پکڑی جاۓ۔۔
وہ لڑکی دھوکے سے جھوٹ بول کر میرے فلیٹ میں آٸ تھی۔۔۔اور ان تصاویر میں میں نہیں وہ مجھ سے زبردستی کر رہی تھی۔۔ واسم نے دانت پیستے ہوۓ کہا تھا۔۔۔
اس کے بعد بلکل خاموشی ہو گٸ تھی۔۔
میرے دل کو یقین ہے آپ پر۔۔ ۔۔ سوہا کی مدھر سی آواز نے جیسے خاموشی کو چیرا تھا۔۔۔
اور مجھے تمھارا یقین تمھاری محبت میں نظر آتا ہے۔۔۔واسم نے محبت سے دیکھا۔۔۔ ایک جاندار مسکراہٹ اس کے لبوں کا حصار کیے ہوۓ تھے۔۔۔ اور آنکھیں فرط محبت سے لبریز تھیں۔۔۔
مجھے کبھی بھی دھوکا مت دینا۔۔۔ مان بھری نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔
اور اب تمھارے اس مسیج کا جواب ۔۔۔واسم نے مسکراہٹ ہونٹوں میں دباٸ۔۔۔۔
سوہا کے لبوں پر بھی شریر سی مسکراہٹ پھیل گٸ تھی۔۔
آٸ لو یو ٹو۔۔۔ بہت بھیگے ہوۓ لہجے میں کہا۔۔۔
سوہا کے گال گلابی ہو گۓ۔۔۔ پلکیں من من بھاری ہو کر گالوں پر لرزنے لگیں ۔۔مسکرانے سے گالوں گڑھے واضح ہو گۓ۔۔
وہ اس رات اس لمحے کا سب سے دلکش حصہ لگ رہی تھی۔۔ واسم اس کو یک ٹک دیکھ رہا تھا۔۔۔ خاموشی میں بس دلوں کے دھڑکنے کی آوازیں تھی۔۔۔
افف۔۔۔ اب ایسے بیٹھی رہو گی تو آغا جان سے کہہ کر آج ہی رخصتی کروا لوں گا۔۔۔ واسم نے مدھوش سی آواز میں کہا۔۔۔
سوہا اور چھوٸ موٸ کی طرح سمٹ سی گٸ تھی۔۔۔ مصنوعی خفگی سے واسم کی طرف دیکھا۔۔۔
چلو اب تم جاٶ۔۔۔ رات بہت ہو گٸ ہے۔۔۔ ہونٹوں میں سگریٹ دبا کر پیار سے کہا۔۔۔۔
سگریٹ مت پیا کریں۔۔۔ محبت اور خفگی سے کہا۔۔۔
واسم نے جلدی سے سگریٹ منہ سے نکالی اور ہاتھ میں پکڑ کر ہاتھ کو ہوا میں اتنی زور سے جھٹکا دیا جیسے کہ سگریٹ دور پھینک دیا ہوا ۔۔۔
سوہا نے بچوں کی طرح پر جوش ہو کر دیکھا۔۔۔
لیکن واسم نے پھر سے ہاتھ میں ہی موجود سگریٹ منہ میں رکھا اور جاندار قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔
ایک بات اور ۔۔۔ مجھے شوہر پر حکم چلانے والی بیوی بلکل نہیں پسند ۔۔۔ منہ کے اندر سگریٹ رکھ کر کہا۔۔۔ تھوڑی خفگی سے دیکھا۔۔۔
سوہا نے منہ پھلا لیا۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے کی باتوں پر جو چہرہ کھل سا گیا تھا اب وہ خفا سی شکل بنا کر کھڑی تھی۔
سگریٹ ہی تو پیتا ہوں ایک یار۔۔۔ اس کی خفا سی شکل دیکھی تو فورا واسم نے بچوں جیسی شکل بنا کر کہا۔۔
لیکن وہ خفا سی شکل بنا کر چل دی۔۔۔
****-**************
یہ کون محترم ہیں گھر میں بہت آتے ہیں۔۔۔ اپنے کمرے کی طرف جاتے ہوے نشا نے ارسل کی طرف تھوڑا سا رخ موڑ کر کہا۔۔
یہ۔۔ امی کا مشیر خاص سمجھو۔۔۔ ارسل نے مسکراتے ہوۓ ۔۔ کار کی چابی کو جیب میں رکھا۔۔
وہ ابھی باہر سے کھانا کھا کر گھر لوٹے تھے۔۔ نشا کی آج بہت زیادہ ضد کے بعد وہ صدف سے بامشکل اجازت لے کر باہر ڈنر کے لیے گۓ تھے۔۔۔ صدف کو باہر جا کر کھانا کھانے سے خود بھی چڑ تھی اور دوسروں کو بھی نہیں جانے دیتی تھیں۔۔۔ اب جب وہ رات کو لوٹے تو رات کے دس بج رہے تھے۔۔۔ جب وہ لوگ لاونج میں سے گزرے تو عادل اور صدف بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔ عادل اکثر گھر میں دندناتا نظر آتا تھا۔۔۔
مطلب ۔۔۔نشا نے بھنویں اچکا کر پوچھا اور کمرے میں آتے ہی دوپٹہ اتار کر ایک طرف پھینکا۔۔
میری امی کی دوست کا بیٹا ہے ۔۔ امی نے منہ بولا بیٹا بنا رکھا ہے۔۔۔ ارسل نے مسکراتے ہوۓ کہا اور بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ ہمارے گھر کا ماحول ایسا بلکل نہیں ۔۔ نشا نے چوڑیاں اتار کر سنگہار میز کے دراز میں رکھیں۔۔۔
ہم کسی بھی غیر مرد کو یوں گھر میں نہیں آنے دیتے۔۔۔ وہ اب میک اپ ریمور سے چہر ے کا مساج کر رہی تھی۔۔
ارے یار عادل بہت اچھا ہے۔۔۔ ارسل بلکل اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہوا۔۔۔
ہم۔م۔م۔ اچھا ہو گا ۔۔۔ نشا نے ناگواری سے کندھے اچکاۓ ۔۔کیونکہ اس کو تو وہ بلکل اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔ صدف ۔۔۔ ارسل اور اظہر سب اسے گھر کے فرد کی طرح ٹریٹ کرتے تھے۔۔۔شادی میں بھی وہ آگے آگے تھا۔۔۔ لیکن نشا کو وہ بلکل اچھا نہیں لگتا تھا۔۔۔
تم اپنا دیور ہی سمجھو اسے۔۔۔ ارسل نے اس کر گرد باہیں حاٸل کر کے کہا۔۔ اب دونوں کا سراپہ سامنے لگے آٸینے میں نظر آ رہا تھا۔۔۔
ہم۔م۔م۔۔۔ نشا نے پر سوچ انداز میں کہا۔۔۔
گھر والوں سے ملنے جانا ہے مجھے۔۔ مجھے یاد آ رہے ہیں سب مما کی بھی آج کال آٸ تھی۔۔۔۔۔۔۔ نشا نے اداس سی شکل بنا کر کہا۔۔
مما جان سے اجازت لے آٶ پھر چلتے ہیں۔۔۔ ارسل نے اس کے کندھے پر چہرہ ٹکا کر کہا۔۔
اجازت ۔۔ بتا دیتے ہیں نہ ویسے ہی۔۔ اجازت لینا ضروری ہے کیا۔۔۔ نشا کو ایک دم سے اس بات پر الجھن سی ہوٸ اپنے ہاتھوں سے ارسل کے اپنی کمر کے گرد حاٸل بازو کو الگ کیا اور خفا سی شکل بنا کر سیدھی ہوٸ۔۔۔
یار بڑی ہیں ہماری۔۔۔ ارسل نے پھر سے کمر کے گرد بازو حاٸل کیے اور پیار سے نشا کو پھر سے قریب کیا۔۔۔اور اس کے بالوں کو اپنی انگلیوں سے سنوارا۔
جبکہ نشا کے ماتھے پر اب نا گواری کے بل تھے۔۔۔ پورے دو ماہ ہو گۓ تھے شادی کو اور وہ ان دو ماہ میں بس تین دفعہ اسفند میر ولاز جا سکی تھی۔۔۔ صدف کو بہو کا میکے بار بار جانا پسند نہیں تھا۔۔۔
اوکے۔۔۔ آپ ساتھ چلیں اجازت بھی آپ ہی لیں گے۔۔۔ نشا نے غصے سے اپنا آپ ارسل سے الگ کیا اور واش روم کا دروازہ زور سے مار کر اندر چلی گٸ۔۔۔
**********************
اکبر کو کہو۔۔ آ جاۓ۔۔۔ آغا جان نے چشمہ تھوڑا نیچے کر کے سامنے بیٹھی عشرت کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔۔۔
بابا۔۔۔ عشرت حیران سی شکل بناکر بس اتنا ہی کہہ سکی۔۔۔
بیٹا جو بھی ہے اس کی بیٹی کی رخصتی ہے اس کا ہونا ضروری ہے۔۔۔ آغا جان نے گہری سانس لی جیسے اکبر کے دیے گۓ سارے دکھوں کو اپنے سینے سے باہر نکالا ہو۔۔
بابا ۔۔ وہ کبھی نہیں آۓ گا۔۔۔ عشرت نے ہاتھوں کو مسلتے ہوۓ کہا۔۔۔
سوہا اور واسم کی شادی کے دن رکھ دۓ گے تھے۔۔۔ واسم نے خود شادی کی خواہش ظاہر کی تھی۔۔۔ وہ اسلام آباد میں ہوتا تھا اب ۔۔سوہا کی بھی کلاسز شروع ہونے والی تھی۔۔۔ آغا جان نے جب کہا کہ وہ بھی تمھارے ساتھ اسلام آباد والے گھر میں ہی رہے گی۔۔۔ تو واسم نے کہا پھر آپ میری رخصتی کروا دیں۔۔۔ اب آغا جان چاہتے تھے کہ اکبر آ کر اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے رخصت کرے۔۔۔۔
چلو ۔۔ ہمارا تو فرض ہے اسے بتاٸیں۔۔ بے شک اس نے اب سوہا کی ساری ذمہ داری ہمیں سونپ دی ہے لیکن پھر بھی اس کی رخصتی پر اس کا ہونا بہت ضروری ہے۔۔۔ آغا جان نے پر سوچ انداز میں دل بڑا کرتے ہوۓ اپنی بیٹی کی طرف دیکھا۔۔۔
جی بابا۔۔۔ عشرت نے سر نیچے جھکا لیا۔۔۔
میں آج ہی فون کر دیتی ہوں ۔۔۔ وہ بے چین سی کر کہہ رہی تھیں۔۔۔ کیونکہ ان کو بھی پتا تھا ۔۔۔ اکبر کا آنا بہت مشکل ہے۔۔۔
جیتی رہو بیٹا ۔۔۔ اللہ تمھاری بیٹی کو شادی کے بعد اتنی خوشیاں دے کہ تم اس کی خوشی میں اپنے سارے غم بھول
18
جاٶ۔۔۔ آغا جان نے مسکراتے ہوۓ کہا۔۔
آمین بابا۔۔۔ عشرت نے آنسو سے بھری آنکھیں اٹھا کر دیکھا۔۔۔
*********************
ہم۔م۔م۔ بولو۔۔۔ ایک ہاتھ سےسٹیرنگ کو پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے کان کو موباٸل لگاتے ہوۓ واسم نے کہا۔۔۔
آپ کہاں ہے۔۔۔ خفگی سے بھری آواز تھی سوہا کی۔۔۔
بنک۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر مختصر جواب دیا۔۔۔ جب کے آنکھیں سڑک پر مرکوز تھیں۔۔۔
مطلب۔۔۔ غصے اور روہانسی شکل میں کہا۔۔۔
مطلب کیا بنک سے واپس اسلام آباد والے گھر جا رہا ہوں۔۔۔ مسکراہٹ دبا کر ۔۔آنکھوں میں شرارت بھر کر کہا۔۔۔
کل مہندی ہے ہماری۔۔۔ آواز تقریبا رونے والی تھی۔۔۔ اور غصے والا لہجہ تھا۔۔
ہم۔م۔م مجھے پتہ ہے۔۔۔ اس کو چڑانے کے لیے لاپرواہی کے انداز میں واسم نے کہا۔۔۔
تو آپ ابھی اسلام آباد ہی ہیں۔۔۔ پھر چڑ کر سوہا نے کہا۔۔۔
ہم تو آ جاٶں گا نہ مہندی کی رات۔۔۔ بہت مشکل سے وہ اپنے امڈنے والے قہقے کو روکے ہوۓ تھا۔۔
کیا۔۔۔ مطلب آج بھی آپ نہیں آٸیں گے۔۔۔ بھاری سی آواز نکلی تھی سوہا کی ۔۔۔
اسے سچ میں رونا ہی آ گیا تھا۔۔ دو ماہ ہونے کو آۓ تھے وہ اداس ہو گٸ تھی واسم کو دیکھے بنا۔۔۔ اور وہ بات بھی بہت کم کرتا تھا۔۔۔ بنک میں ہوتا سارا دن اور رات کو تھوڑی دیر بات ہوتی پھر وہ تھک کر سو جاتا تھا۔۔۔ اور اب وہ بے چینی سے اس کا انتظار کر رہی تھی کل سے لیکن آج جب مہندی کو ایک دن رہ گیا تھا شام ہونے کو آٸ تھی لیکن وہ نہیں آ یا تھا۔۔۔
کیا کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ واسم نے لاپرواہی والے لہجے میں کہا۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔ آپکو شادی کی خوشی ہی نہیں ہے۔۔۔ وہ اب با قاعدہ رو رہی تھی۔۔۔
تو شادی خوشی کا نام ہی کب ہے۔۔ محترمہ۔۔۔شادی تو قید کا
دوسرا نام ہے۔۔۔ مسکراہٹ دباٸ۔۔۔
تو پھر کیوں کہہ کر گۓ تھے ۔۔ آپ آغا جان سے شادی کا۔۔۔ خفگی اور غصے سے کہا۔۔۔ آواز آنسوٶں سے بھاری ہو رہی تھی۔۔۔
اس کا دل اب واسم کی دید کو ترسا پڑا تھا۔۔۔ اور وہ تھا ظالم آج بھی نہیں آ رہا تھا۔۔۔
میں نے تو ایسا کچھ بھی نہیں کہا ان سے۔۔ واسم نے حیران سا لہجہ اپناتے ہوۓ کہا۔۔۔
تو پھر کیوں کر رہے ہیں شادی۔۔ نہ کریں نہ ۔۔ میں بھی اپنی سٹڈی شروع کر دوں۔۔۔ اپنے گالوں سے زور سے آنسو رگڑے۔ ۔۔ اور ناراض سے لہجہ اپنایا۔۔۔
تو اب کر لینا نہ اسلام آباد آ کر شادی کے بعد۔۔۔ مسکراہٹ ہونٹوں پر سجاٸ۔۔۔ اسے وہ روتی اس کےلیے تڑپتی جان سے بھی زیادہ پیاری لگ رہی تھی۔۔۔
نہیں مجھے نہیں کرنی شادی۔۔۔ غصے سے کہا۔۔۔
واسم کا قہقہ فضا میں گونجا تھا۔۔۔ اس نے مین گیٹ پر بیٹھے گارڈ کو دروازہ کھولنےکا اشارہ کیا۔۔۔
مجھے کیوں بتا رہی ہو۔۔۔ آغا جان سے کہو یہ سب ۔۔۔ واسم نے لاپرواہی سے کہہ کر اسے اور چڑایا۔۔۔اب وہ پورچ میں گاڑی پارک کر رہا تھا۔۔۔
ٹھیک ہے انھی کو کہتی ہوں ۔۔۔ وہ اور غصے میں آ گٸ تھی۔۔۔
ہم ۔۔۔ جاٶ جاٶ۔۔ کہو ان سے میں بھی انھی کے پاس تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔ واسم نے شرارت سے کہا۔۔۔ اور آخری بات پر قہقہ لگاتا ہوا اب وہ لان میں بیٹھے آ غا جان کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
دیکھنا چاہتا ہوں کیسے منع کرتی ہو تم۔۔۔ گھمبیر اور بھاری آواز میں کہا۔۔۔
سوہا نے ایک دم خوشی میں فون بند کیا اور ننگے پاٶں بھاگتی ہوٸ ٹیرس کی طرف آٸ تھی۔۔۔
وہ دشمن جان۔۔۔ اپنے سارے جلوں سمیت آغا جان کے ساتھ بغل گیر تھا۔۔۔ جیسے ہی وہ ٹیرس پر آٸ واسم نے شرارت بھری نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔
پیلے جوڑے میں روٸ روٸ سی وہ من موہنی صورت اس کے دل میں اتر رہی تھی۔۔۔
وہ مسکرا رہی تھی لیکن پھر بھی روۓ جا رہی تھی۔۔۔
*********
کومیل بھاٸ یار یہ بھاری والی نہیں۔۔۔ کم کام والی یار چاہیے تھی۔۔۔ واسم نے خفا سی شکل بنا کر کومیل کی طرف دیکھا۔۔۔
وہ آج شیروانی اٹھانے گۓ تو واسم کو شیروانی بلکل پسند نہیں آ رہی تھی۔۔۔سیاہ رنگ کی بہت خوبصورت شیروانی تھی لیکن اس پر کام زیادہ تھا۔۔۔ واسم اب بچوں کی طرح کومیل کو خفا سی شکل بنا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارے یار آج کل یہی چل رہی ہیں۔۔۔ اور سوہا کا لہنگا بھی اتنا بھاری ہے۔۔۔ اس کے ساتھ کپل میں یہی اچھی لگے گی میرے بھاٸ۔۔۔ کومیل نے اسے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔۔۔
اچھا چلیں ٹھیک ہے۔۔۔ اب وہ مما کچھ بتا رہی تھیں ۔۔۔۔واسم نے پر سوچ انداز میں ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔ ہاں۔۔
وہ منہ دکھاٸ کی رنگ۔۔۔ وہ ڈاٸمنڈ رنگ لینی مجھے۔۔واسم نے پرسوچ انداز میں سوہا کے نازک مخروطی انگلیوں والے ہاتھوں کو سوچتے ہوۓ کہا۔۔
ہاں چلو جولیر سے بات ہو گٸ ہے میری۔۔ اس کے بعد بس وہی لینی ہے۔۔ کومیل نے گاڑی میں سارے شاپنگ بیگ رکھتے ہوۓ کہا۔۔۔۔
جولیر کی شاپ سے باہر نکل کر وہ مسکراتے ہوۓ گاڑی کی طرف بڑھے۔۔ واسم کے ہاتھ میں ڈاٸمنڈ رنگ کا پیکٹ تھا۔۔۔
کومیل نے ڈراٸیونگ سیٹ سنبھالی اور واسم اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔
واسم نے اپنے سامنے گاڑی کے کیبنٹ کو کھولا اور رنگ والا پیکٹ ایک خاکی رنگ کے پڑے لفافے کے اوپر رکھ دیا۔۔۔
اور کیبنٹ بند کر دیا۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: